Translater

14 جون 2025

ڈپلومیسی یا ڈبل گیم ؟

امریکہ نے صرف دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی کھل کر تعریف کی ہے ۔بلکہ پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر کو امریکہ مدعو کیا ہے ۔اس سے ٹھیک پہلے عاصم منیر نے ایک بیان دیا تھا جسے بھارت نے جموں وکشمیر میں ہوئے ہوئے 22 اپریل کے آتنکی حملے سے جوڑ کر دیکھا گیا ۔دراصل آپریشن سندور کی شروعات کے ساتھ ہی یہ دیکھاجارہا ہے کہ پاکستان کو لے کر امریکہ کے ٹرمپ انتظامیہ کا رخ کچھ بدلا ہواہے ۔گزشتہ بدھوارکو یہ کافی واضح ہو گیا ہے کہ سرحد پر دہشت گردی کے اشور پر امریکہ کا رویہ بدلا ہوا ہے ۔پچھلے کچھ گھنٹوں میں امریکی حکومت نے تین سطحوں پر ایسے اشارے دیے ہیں جو بھارت کی پریشانیوں کو بڑھاتے ہیں۔پہلا امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ کے چیف مائیکل کوریلا نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان ایک زبردست شریک کار ہے ۔14 جون کو امریکی سینا دیوس کی پریڈ میں پاکستانی فوج کے چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا ۔تیسرا وائٹ ہاو¿س نے اشارے دئیے ہیں کہ کشمیر کو لیکر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کرسکتے ہیں ۔امریکی سینٹ کام کے چیف جنرل مائیکل کریلا نے امریکی سرکار کے قانونی باڈی کمیٹی آن آرمڈ سروس کی ایک سماعت میں کئی باتیں کہیں ہیں کہ ہمیں بھارت پاکستان دونوں کے ساتھ رشتہ بنا کر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ہم ایسا نظریہ نہیں رکھ سکتے ہیںکہ اگر بھارت کے ساتھ رشتے رکھنا ہے تو ہم پاکستان کے ساتھ نہیں رکھ سکتے ۔پاکستان کے ساتھ ہماری کافی زبردست ساجھیداری ہے ۔پاکستان نے آئی ایس خورستان کے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی ہے ۔او ر ہزاروں آتنکیوں کو مارا ہے ۔امریکہ کے ساتھ اطلاعات شیئر کی ہیں اور بڑے آتنکیوں کو پکڑنے میں مدد کی ہے ۔سینٹ کام چیف نے عاصم منیر کا بھی ذکر کرتے ہوئے تعریف کی ہے کیسے سب سے پہلے انہوں نے شریف اللہ کی گرفتاری کی اطلاع ان کو دی ۔انہوںنے پاکستان سرکار کی اس دلیل پر مہرلگائی کہ دہشت گردی کیخلاف لڑائی جو لمبے عرصہ سے لڑی جارہی ہے اس میں بھی وہ متاثر ہوا ہے ۔یہ بیان اس بیان کے بعد ہی اطلاعات آئی کہ پاکستانی فوفی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی فوجی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔یہ تقریب 14 جون یعنی آج ہے ۔یہ وہی منیر ہیں جنہوںنے 16 اپریل کو اسلام آباد میں ایک تقریر میں کشمیر کو پاکستان کو اپنی اپنی لائیف لائن بتایا تھا ۔انہوں نے ٹو نیشن تھیوری کی بھی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ ہندوو¿ں سے الگ ہیں اور منیر کے اس بھڑکاو¿ بیان کے بعد ہی 22 اپریل کو بیسرن پہلگام میں آٹنکی حملہ ہوا جس میں 26 بے قصور سیاح شہید ہو گئے تھے ۔آخر امریکہ کیا کرنا چاہتا ہے ؟ عاصم منیر جیسے متنازعہ شخص کو بلانا بھارت کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے ۔حالانکہ آ ج بھارت عالمی طور پر سرخیوں پر ہے ۔ایک نظریہ ہے کہ امریکہ کا عاصم منیر کو بلانا اور پاکستان کو غیر متوقع کے طور پر ساجھیدار کہنا بھلے ہی حکمت عملی ہوسکتی ہے لیکن بھارت کے لئے یہ صاف اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب اس خطہ میں توازن بنا کر چلنا چاہتا ہے اس سے بھارت کی نوتھرڈ پارٹی پالیسی کو چنوتی ملتی ہے ۔حالانکہ دونوںملکوں سے رشتے بنائے رکھنا امریکہ کی پرانی پالیسی رہی ہے ۔پھر بھی یہ قدم ڈپلومیٹک طور سے بھارت کے لئے پریشانی کا باعث ضرور ہے ۔ٹینشن نہیں لیکن چوکسی ضروری ہے ۔امریکہ کی منشاءاور نظریہ پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔فیلڈ یعنی فیلڈ مارشل منیر کے بیان پہلگام آتنکی حملے سے جڑا ہے ۔اس لئے سوال یہ اٹھتا ہے کہ صرف امریکہ کی یہ ڈپلومیسی ہے یا ڈبل گیم ؟ (انل نریندر)

12 جون 2025

پاک کو الگ تھلگ کرنے میں ہم ناکام رہے !

آپریشن سندور کے دوران گزری 9 مئی کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے (آئی ایم ایف ) نے پاکستان کو بیل آو¿ٹ پیکج کی شکل میں ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دے دی ۔آپریشن سندور کے ٹھیک بعد ورلڈ بینک نے پاکستان کو 40 بلین ڈالر دینے کا فیصلہ لیا ۔۔۔پھر ایشین ڈولپمنٹ بینک نے پاکستان کو 800 ملین ڈالر دے دیے ۔کچھ دن پہلے 4 جون کو پاکستان کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طالبان پر پابندی کمیٹی کے چیئرمین اور دہشت گردی انسداد کمیٹی کے وائس چیئرمین چنا گیا ۔پاکستان کے سلسلے میں ہوئی سبھی ڈولپمنٹ کو کانگریس نیتا پون کھیڑا نے سامنے رکھا ہے ۔اور بھارت کی خارجہ پالیسی کے زوال سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے عالمی برادری پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں ۔پاکستان ان معاملوں کو ایک بڑی کامیابی کی شکل میں پیش کررہا ہے ۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا میں ان کے دیش کے لئے یہ فخر کی بات ہے ۔انہوںنے ایکس پر کئے ایک پوسٹ میں لکھا ہے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں اہم ترین تقرریاں بھی متاثر کرتی ہیں ۔اور عالمی برادری کو پاکستان کی دہشت گردی مخالف کوششوں پر پورا بھروسہ ہے ۔شریف کا کہنا ہے پاکستان ان دیشوں میں سے ایک ہے اور دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے ۔دہشت گردی کے سبب اب تک دیش میں 90 ہزار لوگوں کی جان جاچکی ہے ۔دیش کو 150 بلین ڈالر سے زیادہ کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے ۔بھارت نے اسے لے کر خاصہ اعتراض جتایا ہے جموں وکشمیر کے پہلگام میں گزری 22 اپریل کو بے قصور سیاحوں پر ہوئے حملے کے لئے پاکستان ذمہ دار ہے ۔اس سے پہلے بھی الگ الگ محاذوں پر 2016 میں اری میں ہمارے فوجیوں پر حملہ ،2019 میں پلوامہ ،اور پھر 2008 میں ممبئی کے ہوٹلوں پر حملے یہ سب ثابت کرتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان ہے ۔ان کی فوج اور خفیہ ایجنسی ان میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے ۔آپریشن سندور بھارت کو مجبوری میں کرنا پڑا ۔3-4 دن کی لڑائی کے بعد ہندوستانی ممبران پارلیمنٹ کے ایم پیز کو سات الگ الگ نمائندہ وفد نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے ممبر ملکوں کا دورہ کیا ۔پی آئی بی کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق اس دورہ کا مقصد آپریشن سندور اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بھارت کی مسلسل لڑائی کے بارے میں ممبر ممالک کو واقف کرانا تھا جہاں ایک طرف اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے ممبران کے سامنے سرحد پار سے دہشت گردی کا مدعا اٹھا کر پاکستان کو گھیرنے کی کوشش میں سرکار جٹارہی تھی ۔وہیں پاکستان کو اس اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے دہشت گردی انسداد کمیٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا ۔انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے ڈپلومیٹک ایڈیٹر سبھاجیت رائے نے لکھا ہے کہ شاید انہیں اسباب سے بھارت میں عجب بے چینی کے حالات نظر آرہے ہیں ۔راجستھان کے پولیس سیکورٹی اینڈ کریمنل جسٹس کے انٹرنیشنل افیئرس کے اسسٹنٹ پروفیسر ونے کوڈہ کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے دیش کو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل جیسے ادارے میں کوئی بھی جگہ یا ذمہ داری دینا صرف ڈپلومیٹک سیاسی حساسیت نہیں بلکہ اس پورے ڈھانچہ کی خامی کو اجاگر کرتا ہے ۔پاکستان کو ان ایجنسیوں کا حصہ بنانا اسی دیش کو دہشت گردی پر نگرانی کی ذمہ داری سونپنے جیسا ہے ۔جس پر خود دہشت گردی کو پناہ دینے اس کو پیدا کرنے اور اسے خارجہ پالیسی کے ہتھیار کی شکل میں استعمال کرنے کے سنگین الزام ہیں ۔یہ بھارت کے لئے ہی نہیں بلکہ عالمی دہشت گردی انسداد ڈھانچہ کے بھروسہ کے لئے بھی ایک تشویش کا موضوع ہے ۔پاکستان کی دہشت گردی پر دوہری پالیسی کوئی نیا اشو نہیں ہے یہ تاریخی حقائق اور بین الاقوامی دستاویزوں میں صاف طور سے بھی درج ہے چاہے وہ اقوام متحدہ کے ذریعے ممنوعہ دہشت گردوں کو پناہ دینا ہو جیسے اسامہ بلادین یا حافظ سعید یا پھر لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیموں کو کھلی حمایت دینا ہو۔پاکستان نے مسلسل دہشت گردی کو اپنی سرکاری پالیسی کا ایک ہتھیار بنایا ہے ۔خاص طور سے بھارت کیخلاف جے این یو میں اسسٹنٹ پروفیسر نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ یہ خبر بھارت کے لئے تشویش پیدا کرنے والی ہے ۔ایسی تقرریاں اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے مستقل نمائندہ ملکوں کی طرف سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی ہوتی ہے ۔اور ہری جھنڈی کا مطلب ہے یہ اعتراف کرنا تھا پاکستان دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ہماری کوشش رہی ہے دہشت گردی پھیلانے میں پاکستان کا بڑا رول رہا ہے لیکن بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے مستقل ممبر ایسا شاید نہیں مانتے جہاں اقوام متحدہ کے ذریعے پاکستان کو سرٹیفکیٹ دینا اس کا بڑا کارنامہ رہا ہے وہیں یہ بھارت کی بڑی ناکامی مانی جائے گی کہ ہمارے دیش کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر ناکارہ ثابت ہوئی ہے ۔ (انل نریندر)

10 جون 2025

مسک بنام ٹرمپ بنام اڈانی!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج کل بڑے صند کاروں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہوئے ہیں ۔پہلے بات کرتے ہیں ایلن مسک کی دنیا کے سب سے بڑے امیر شخص میں سے ایک ایلن مسک اور سب سے طاقتور لیڈروں میں شمار امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان زبردست ٹکراﺅ ہو گیا ہے ۔دونوں کے درمیان نہ اتفاقی اب پوری طرح زبانی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے ۔انٹر نیٹ میڈیا پلیٹ فارم پر ان میں آپس میں تلواریں کھنچی ہوئی ہیں ۔مسک کی طرف سے ٹرمپ کے بار بار ٹیکس بل کی تنقید کئے جانے پر ٹرمپ نے بیحد ناراضگی جتائی ۔انہوںنے فیڈرل حکومت کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہونے والے ایلن مسک کے کاروباری صودوں کو لیکر دھمکی دے ڈالی ہے ۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر دھمکی دیتے ہوئے لکھا اگر بجٹ میں بچت کرنی ہے تو اس کا سب سے آسان طرےقہ ایلن مسک پر کو ملنے والی عربوں ڈالر کی سبسڈی اور کنٹریکٹ ختم کر دئے جائیں ۔فی الحال تو ٹرمپ اور مسک کے جھگڑے کے بعد مسک کی کمپنی ٹیسلہ کے شئیر جمعرات کو 14 فیصدی تک گر گئے حالانکہ یہ جنگ ایک طرفہ نہیں تھی ۔ٹرمپ کے حملہ کے بعد مسک نے ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے تک کی بات کر ڈالی مسک نے پلٹوار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا میں نہ ہوتا تو ٹرمپ چناﺅ ہار جاتے انہوںنے ٹرمپ پر بے وفائی کا الزام بھی لگاہا ۔یہی نہیں ایلن مسک نے کہ اب نئی پارٹی بنانے کا وقت آ گیا ہے جو 80 فیصد لوگوں کی نمائندگی کرے اس ٹکراﺅ کا سیدھا اثر امریکہ کی سیاست اور خلائی پروگراموں اور عالمی تکنیکی دنیا پر بھی پڑ سکتا ہے ۔ادھر ٹرمپ اور ان کی ایجنسیاں بھارت کے بڑے صنعت کار گوتم اڈانی کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑی ہوئی ہیں امریکی اخبار دا وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی تازا رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کی امریکی کمیشن میں جانچ کر رہا ہے کے کیا ہندوستانی کاروباری گوتم اڈانی کی کمپنیوں نے بندرگاہ کے راستے میں ایرانی ایل پی جی گیس کی درآمد کی تھی حلانکہ اڈانی انٹر پراس نے ایک بیان میں اس رپورٹ کو بے بنیاد اور نقصان پہنچانے والی بتایا ہے کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا ہمیں اس معاملے پر امریکی حکام کی جانب سے کی گئی کسی جانچ کے بارے میں جانکاری نہیں ہے ۔میگزین نے بتایا گجرات کے بھدرا بندرگاہ اور خلیج فارس کے درمیان چلنے والے ٹینکروں میں کچھ ایسے عشارے نظر آئے ہیں ،جو ماحرین کے مطابق پابندیوں سے بچنے والے جہازوں میں عام ہوتے ہیں ۔اخبار میں یہ بھی کہا کے امریکہ محکمہ انصاف اڈانی گروپ کی بڑی کمپنی اڈانی انٹر پرائیسز کو مال بھیجنے کے لئے استعمال کئے جا رہے کئی ایل پی جی ٹینکروں کی آمد رفت کا جائزہ لے رہاہے یہ جانچ ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مہا مئی میں ایران سے تیل اور پیٹرو کمیکل سامان کی خرید پوری طرح سے روکنے کا حکم دیا تھا لیکن اڈانی پر امریکہ میں دھوکہ دھٹی اور رشوت کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا ۔اخبار میں لکھا ہے بکلن میں امریکی اٹورنی آفس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اڈانی کے لئے مسلہ ثابت ہو سکتی ہے ۔وال اسٹریٹ کے مطابق پچھلے سال کی شروعات میں امریکی ایجنسیوں نے مدرا بندرگاہ سے خرلیچہ فارس جانے والے جہازوں کی آمد وفت کو جانچا تھا اور جہازوں کو پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کے ایسے جہازوں میں دیکھا گیا ہے جو آمد رفت کے دوران اپنی پہنچ کے بارے میں صاف نہیں بتاتے اڈانی گروپ نے ممبئی اسٹاک ایکس جینچ کی جانکاری دی ہے ۔اڈانی گروپ کی کمپنیوں ایرانی ایل پی جی کے درمیان تعلقات کا الزام لگانے والی میگزین وال اسٹریٹ کی رپورٹ کو بے بنیاد اور نقصان پہنچانے والی بتایا ہے ۔اڈانی جان بوجھ کر کسی بھی طرح کی پابندیوں سے بچنے یا ایرانی ایل پی جی سے جڑے کاروبار میں ملوث ہونے سے صاف انکار کرتا ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...