Translater

29 مارچ 2025

کیا اسٹالن اپوزیشن کا چہرہ بننا چاہتے ہیں؟

لوک سبھا سیٹوں کی حلقہ حد بندی کے سلسلے میں چنئی میں منعقدہ میٹنگ میں سات ریاستوں ،تمل ناڈو ،تلنگانہ ،آندھرا پردیش،کرناٹک ،پنجاب اور اڈیشہ کے لیڈروں نے شرکت کی ۔چنئی میں ہوئی میٹنگ میں وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن ،کیرل کے وزیراعلیٰ پنا رائی وجین تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی ،پنجاب کے بھگونت سنگھ مان اور کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار وغیرہ شامل ہوئے ۔اسٹالن نے کہا صرف تبھی سچا فیڈرل ڈھانچہ بن سکتا ہے جب ریاست مختاری سے کام کریں گی ۔اور ہم تبھی ترقی کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ایک پرستاو¿ بھی پاس کیا گیا لیکن لوک سبھا سیٹوں کی حد بندی اگلے 25 سال کے لئے ملتوی کی جانی چاہیے ۔اسٹالن نے یہ بھی کہا کہ اگر نئے سرے سے مرم شماری کی بنیاد پر کی جاتی ہے تو اس کا ساو¿تھ کی ریاستوں پر بہت زیادہ اثرپڑے گا ۔انہوں نے کہا ہم دوبارہ سے ریاست کی تشکیل کی مخالفت کرتے ہیں کیوں کہ جن ریاستوں نے سماجی بہبود کے پروگراموں کے ذریعے سے اپنی آبادی کو کنٹرول میں رکھا ہے انہیں لوک سبھا میں نمائندگی کے لحاظ سے نقصان ہوگا ۔میٹنگ میں پرستاو¿ پاس کیا گیا کہ مرکزی سرکار سے مانگ کی جائے کہ 25 سال تک حد بندی کو روکا جائے اور اس کا اعلان وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعے پارلیمنٹ میں کیا جاناچاہیے ۔چناو¿ حلقہ کی دوبارہ تشکیل کو شفاف طریقہ سے کیا جانا چاہےے۔سال 1971 کی مردم شماری کے طریقہ پر پارلیمانی سیٹوں کی تعداد برقرار رکھی جانی چاہیے ۔اسٹالن خود کو قومی سطح پر بی جے پی کیخلاف ایک سیاسی لیڈر کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اس کا احساس ہونے سے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے حصہ نہیں لیا ۔اسٹالن پورے دیش کو اپنی اہمیت دکھانے کے لئے اس طرح کے کام کررہے ہیں ۔وہ انڈی الائنس کی طرح اپنی میٹنگ میں سب کو اہمیت دکھا کر خود کی ساکھ کر اوپر اٹھانا چاہتے ہیں ۔حال ہی میں ممتا بنرجی کو انڈیا اتحاد کی لیڈر کی شکل میں آگے بڑھانے کی مانگ اٹھ رہی ہے ۔فی الحال اسٹالن بھی خود کو قومی سطح پر آگے بڑھانے کا کام کررہے ہیں ۔ (انل نریندر)

کرنال کامرا کا معاملہ !

اسٹینڈ اپ کامیڈین کرنال کامرا کی کامیڈی کے دوران گائے گئے ایک گانے پر بھاری تنازعہ چھڑ گیا ہے ۔کامرا کے اس گیت سے مہاراشٹرکے نائب وزیراعلیٰ اور شیو سینا چیف ایکناتھ شندے طنز کو مبینہ طور پر انہیں غدار بتایا اس سے خفا شیو سینا کے ورکروں نے ممبئی کے اس ہوٹل میں بنے اسٹوڈیومیں توڑ پھوڑ کی جہاں یہ کامیڈی شوٹ کی گئی ۔مہاراشٹرکے اقتدار میں شامل شیو سینا بی جے پی اور این سی پی نے کرنال کامرا کیخلاف مورچہ کھول دیا ہے ۔وزیراعلیٰ دیوندر فڑنویس نے کہا کہ کامرا کو معافی مانگنی چاہیے ۔وہیں اپوزیشن اسے اظہار رائے کی آزادی بتا رہا ہے ۔بتاتے ہیں کامرا کا یہ ویڈیو دو فروری کو شوٹ کیا گیا تھا اس میں دل تو پاگل ہے کی دھن پر مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے پر مبینہ طور پر طنز کیا گیا ہے جو اتوار کو سامنے آیا اس کے بعد شیو سینا کے ورکروں نے واویلا کیا جہاں یہ شوٹ کیا گیا تھا اس میں جاکر توڑ پھوڑ کی ۔اور پیر کی صبح پولیس نے دو ایف آئی آر درج کیں ۔پہلی کرنال کامرا پر شندے کی بے عزتی کی دوسری اسٹوڈیو میں توڑ پھوڑ ۔شیو سینا ورکروں پر کرنال کامرا سے منگلوار کو پوچھ تاچھ کے لئے ممبئی پولیس کے سامنے پیش نہیں ہوئے یہی نہیں انہوں نے صاف کہا تھا کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے ۔ہاں اگر عدالت کہے گی تو معافی مانگ سکتے ہیں۔وہیں ایکناتھ شندے نے کہا کسی پر مذاقیہ طنز کرنا غلط نہیں ہے ۔لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔کرنال کامرا نے جو کیا ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سپاری کو لے کر ایسا کیا ۔طنز کرتے وقت ایک مہذب ماحول بنایا رکھا جانا چاہیے نہیں تو ایکشن کا رد عمل بھی ہوتا ہے ۔تنازعہ کے درمیان کامرا نے دوسرا پروڑی گیت بھی شوشل میڈیا پر ڈالا ۔پروڈی کے بول ہم ہوں گے کامیاب۔۔۔ کامرا نے نئی پروڑی میںنتھو رام اور آسا رام کو جو ڑ کر دقیانوشی ،بے روزگاری اور غریبی کے ساتھ سنگھ کے برتاو¿ پر بھی طنز کیا ہے ۔ادھر سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا کرنال کامرا نے جو کہا وہ سچ ہے اور اس نے عوام کے جذبات کو سامنے لائے ہیں اس لئے میں ان کی حمایت کرتا ہوں ۔کامرا کے اسٹوڈیو میں توڑ پھوڑ شیو سینکوں نے نہیں کی تھی اور نا ہی شیو سینا کا اس توڑ پھوڑ سے کوئی تعلق ہے ۔ممکن ہے غداروں کے ایک گروپ کے ورکروں نے کیا ہے ۔یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی 36 سالہ کامیرا کے تبصرے چھتیس لاکھ بار سے زیادہ دیکھے جاچکے ہیں اور شوشل میڈیا پر زبردست وائرل ہو رہے ہیں ۔بیان میں کامرا نے اس تبصرے کے لئے کہا ہے یہ پہلے اجیت پوار کہہ چکے ہیں ۔میں بھیڑ سے نہیں ڈرتا اور پلنگ کے نیچے چھپ کر معاملہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار نہیںکروں گا ۔کامرانے میڈیا کو بھی نشانہ بناتے ہوئے تبصرہ کیا ہے کہ ایماندار ی سے اس تماشہ کے رپورٹنگ کریں ۔یاد رکھیں پریس کی آزادی کے معاملے میں بھارت 159 ویں مقام پر ہے ۔شندے نے طنز کی حد طے کرنے کی بات کہتے ہوئے اسے کسی کیخلاف بولنے کی سپاری لینے جیسا قرار دیا ۔پیروڈی میں کسی خاص کو مخاطب نہیں کیا گیا ہے ۔اس لئے اس قدر طول دینا اچھا نہیں ہوتا ۔اور سیاسی پارٹیوں کی حالیہ نسل میں برداشت کی قدر ختم ہو چکی ہے ۔کوئی بھی نکتہ چینی یا طنز یا مسخرے برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے ۔پریس یا اظہار رائے کی آزدی پر قصیدہ خوانی کرنا آسان ہے مگر یہ مثبت اور ایمرجنسی جیسے ماحول میں رچا جارہا ہے ۔جب بولنے ،لکھنے،گانے ،اداکاری پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔بہرحال تضاد کے نتیجے میں بلوا قانون کو ہاتھ میں لینا بھی سرکار مخالف کام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ (انل نریندر)

27 مارچ 2025

مذہنی بنیاد پر ریزرویشن غیر آئینی:سنگھ

کرناٹک کے ٹھیکوں میں 4 فیصدی مسلم ریزرویشن اور اورنگ زیب کی قبر کو لیکر چھڑے تنازعہ کے درمیان آر ایس ایس نے دوٹوک کہا ہے کے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن غیر آئینی ہے ۔ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مرتب آئین میں بھی اسے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ساتھ ہی باہری حملہ آوروں کی قصیدہ خوانی کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کے کہا جہاریانہ جیسی ذھنت رکھنے والے لوگ دیش کے لئے خطرہ ہیں دیش کی تہذیب کے خلاف چلنے والا اورنگ ذیب ماڈل نہیں ہو سکتا ۔سرکار آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری ہوز بولے نے کہا سنگھ کی آل انڈیا نمائندہ سبھا کی میٹنگ کے آخری دن پریس کانفرنس میں ہوز بولے نے کہا کے آزاد بھارت کے لوگوں کو سوچنا ہوگا دیش کی تاریخ ،مٹی ،کلچر اور ریواےت کے خلاف چلنے والے غیر ملکی حملہ آوروں کو اپنا ماڈل بنانا ہے یا ہیروں کو سمان دینا ہے ۔دیش کا ماڈل وہی ہو سکتا ہے جو بھارت کی تاریخ ،کلچر،و روایت کے ساتھ چلے ۔اورنگ ذیب اس فریم میں فٹ نہیں بیٹھتا اس میں اس کے بھائی داراشکو فٹ بیٹھتے ہیں جنہیں گنگا جمنی تہذیب کی بات کرنے والو ں نے کبھی آگے نہیں کیا ۔ان لوگوں نے سماجی بھائی چارہ میں یقین کرنے والے داراشکوکی جگہ ارونگ ذیب کے تاریخی قصیدے پڑھے ۔سرکار ٹھیکوں میں مسلمانوں کو 4 فیصد ریزرویشن دینے کے کرناٹک سرکار کے فیصلے پر سنگھ نے کہا آئین مذہبی منیاد پر کوٹے کی اجازت نہیں دیتا۔ہوز بولے اس بار پر زور دیا کے عدالتوں نے ایسے ریزرویشن کی تقاضوں کو مسترد کیا۔ (انل نریندر)

گروک و اے آئی بحث!

گروک اے آئی تم کیسی زبان کا استعمال کرتے ہواس طریقہ کیسا ہے؟ گروک اے آئی کا جواب:مجھے مشکل چیزو کو آسان الفاظ میں توڑنا پسند ہے تاکے سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔کبھی کبھی میں ہلکہ مزاق یا انوخا نظریہ جوڑتا ہوں ۔ایلن مسک کی کمپنی کا بنایا آرٹیفیشئل انٹلیجنس جیٹ بار گروک اے آئی گزشتہ دنوں سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔کوئی لیڈر ہو یا عام انسان ،گروک اے آئی تقریباً سب کو جواب دیتا نظر آ رہا ہے۔مگر گروک اے آئی جیسے اور جس زبان میں جواب دے رہا ہے وی کئی لوگوں کو حیرت زدہ کر رہا ہے ۔کچھ موقع پر گروک اے آئی حقائق کو صحیح سے بتاتا نظر آ رہا ہے ۔کئی بار غلطی بھی کرتا ہے ۔اور کئی بار گالیوں کا استعمال بھی کرتا ہے۔گروک اے آئی کیا دوسرے جیٹ باکس سے الگ ہے ؟اور وہ سرخیوں میں کیوں ہے ؟گروک نام کہاںسے آیا اور مسک نے اس پر کیا کہا ہے ؟گروک اے آئی چیٹ باٹ ہے یعنی آپ کو اگر کسی سوال کا جواب جاننا ہے تو ایکس پر ٹیگ کرکے یا پھر گروک اے آئی کی ویب سائٹ پر جاکر پوچھ سکتے ہیں ۔آپ کو گروک بات چیت کی طرح جواب دے گا ۔چیٹ باٹ طوطے کی طرح ہوتے ہیں طوطے ہماری نقل کر سکتے ہیں اور کچھ موقع پر وپورا مطلب سمجھے بغیر سنے گئے الفاظ کو دھوڑی بہت سمجھ کے ساتھ دہرا سکتے ہیں ۔چیٹ باٹ بھی ایسا ہی کرتے ہیں ۔لیکن کہیں بہتر سمجھ کے ساتھ چیٹ باٹ اے آئی کی ایک ہی طرح کی کسم ہے جنہیں بڑی زبان موڈل یعنی ایل ایل ایم کی شکل میں جانا جاتا ہے کافی زیادہ ڈیٹا کے ساتھ ان موڈیولس کو ٹرینڈ کیا جاتا ہے ۔گروک اے آئی چیٹ بار نومبر 2023 میں لانچ کیا گیا تھا ۔ایلن مسک نے کہا تھا گروک کو تنز پسند ہے اور ہلکا پھلکا مزاق کرتے ہوئے جواب دے گا ۔دوسرے اے آئی سسٹم جیسے جوابات کو دینے سے بجتا ہے۔گروک ان کو بھی جواب دیتا ہے جو زیادہ تفصیل سے ان کی وجہ بھی بن رہے ہیں ۔کیوں کی اس میں سوال پوچھنے کے لئے کہیں باہر نہیں جانا پڑتا ۔ایکس کی فیڈ کو اسکرول کرتے ہوئے بس ایک ٹوئٹ اور گروک جواب دے دیاگا۔بدنام ہوکر زیادہ نام کمایا۔گروک اے آئی کے معاملے میں اس کہاوت کو سچ کرتے نظر آتے ہیں ۔گروک اپنے جوابوں میں گالیوں تک کا استعمال بھی کر رہا ہے ۔پھر چاہے بہار کے نیتا تیج پرتاپ یادو ہوں ۔بھارتی میڈیا کے چینلوں کے اینکر ہوں یا پھر ایلن مسک یا ڈونالڈ ٹرمپ بھی کیوں نہ ہوں۔پی ایم کے انٹرویو ڈگری سے جڑے سوالوں پر بھی گروک اے آئی جواب دے رہا ہے ۔اور اس پر تنازعو ں پر روشنی ڈال رہا ہے۔مثال کے لئے ایک یوزر نے پوچھا کیا راہل گاندھی پی ایم بن سکتے ہیں ؟اس پر گروک نے ابھی لوک سبھا کی سیٹوں کی پوزیشن بتاتے ہوئے اس نے جواب میں دلائل کا ذکر کیا ۔ایکس پر عام یوزر جیسے بات کرتے ہیں ۔گروک ڈیش اے آئی جیسے جواب دے رہا ۔کئی مرتبہ یہ حد پار کرتا نظر آتا ہے ۔تو کئی بار صحیح پختہ جواب دے رہا ہے۔گروک ڈیش اے آئی کے علاوہ کئی اور چیٹ بار ہیں جیسے --- جی پی ٹی ،ڈیپ سیک ہیں ۔مگر یہ تکنیکی طور پر اتنے جدید یا عقل مند نہیں ہیں ۔جتنے نئے اے آئی چیٹ باٹ ہیں ۔چنوتیاں پھلے ہی ہوں مگر اے آئی الگ الگ پلیٹ فارم تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور لوگوں کے درمیان اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ایلن مسک گروک کو گوگل کے متابادل کی طرح پیش کر رہے ہیں۔ایسے ہی دوسرے چیٹ باٹ بھی کر رہے ہیں۔ (انل نریندر)

25 مارچ 2025

منی پور کا مشکل دور جلد ختم ہوگا!

بصد احترام سپریم کورٹ کا دیش شکر گزار ہے کے آخر کسی نے تو جلتے منی پور کی حالت پر مرہم لگانے کی کوشش کی ہے ۔منی پور پچھلے 2 برسوں سے جل رہا ہے اور دیش کی لیڈر شپ نے اتنا ضروری نہیں سمجھا کے وہ اس گڑ بڑ زدہ علاقہ میں امن قائم کرے ۔اب سپریم کورٹ کے جج بی آر گوائی کی قیادت میں 6 ججوں کی ٹیم خود منی پور گئی اور وہاں کے حالات کا جائزہ لیا ۔ٹیم نے منی پور کے تشدد متاثرہ علاقوں میں جاکر لوگوں سے حالات جانے جسٹس گوائی ،جسٹس وکرم ناتھ ،جسٹس ایم ایم سردیش اور جسٹس کے وہ وشواناتھن نے نسلی تشدد سے متاثر منی پور کے چراماندپور ضلع کا دورہ کیا اور اندورونی علاقوں میں جاکر بے گھر لوگوں سے ملاقات کی ٹیم نے ضلع کے منی سیکیٹریٹ سے ایک لیگل کیمپ،ایک میڈیکل کیمپ اور ایک قانونی ہیلتھ کلینک کا بھی ورچول افتتاح بھی کیا ۔ٹیم نے وہاں موجود بے سہارا لوگوں سے بات کی اور انکا دکھ درد سمجھنے کی کوشش کی ۔اس کے علاوہ منی پور ہائی کورٹ کے جیف جسٹس ڈی کرشن کمار اور جسٹس پلمئی بھی موجود تھے ۔مئی 2023 سے متئی اور ککی فرقوں کے درمیان نسلی تشدد میں اب تک 250 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں ۔جج بی آر گوائی نے امید جتائی ہے نسلی لڑائی سے متاثرہ منی پور میں موجودہ مشکل دور ادلیہ اور قانون سازیہ افسر شاہی کی مدد سے جلد سے جلد ختم ہو سارا دیش چاہتا ہے کے منی پور میں جو آگ برسوں سے لگی ہوئی ہے وہ ختم ہو ۔امید کی جاتی ہے کے سپریم کورٹ کے جج صاحیبان کے اس ٹیم کے دورہ کے بعد منی پور میں امن کی واپسی ہو پائی گی ۔(انل نریندر)

ایکس نے مرکزی حکومت پر کیا مقدمہ!

ایک طرف ایلن مسک کی کمپنیاں اسٹار لنک اور ٹیسلہ بھارت میں انٹری کے لئے قدم بڑھا رہی ہیں۔دوسری طرف ان کی کمپنی ایکس نے کرناٹک ہائی کورٹ میں بھارت سرکار کے خلاف ایک عرضی دائر کر دی ہے ۔اس عرضی میں ایکس نے کہا کے بھارت سرکار غیر قانونی طریقہ سے ویب سائٹ سے میٹر ہٹانے کا حکم دے رہی ہے ۔مزید کہا کے انگینت سرکاری افسروں کو اب یہ اختیار مل گیا ہے کے وہ کنٹینٹ ہٹانے کا حکم دے سکیں ۔ایکس نے کورٹ سے اس پر روک لگانے کی مانگ کی ہے ۔ساتھ ہی یہ بھی کہا کے حکومت نے ایک ویب سائٹ بنائی ہے ۔سہیوگ پورٹل ،جس سے سرکار کے الگ الگ انجنسیاں کنٹینٹ ہٹانے کا حکم دے سکین ہیں ۔ایکس کا کہنا ہے کے یہ ویب سائٹ بھی قانون کے خلاف ہیں اور اس سے جڑنے سے ایکس نے منا کر دیا ہے ۔اپنی عرضی میں انہوںنے مانگ کی ہے کے اس سے نہ جڑنے سے ایکس کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو ۔قانون ماہرین کا خیال ہے کے یہ ایک اہم کیس ہے ،جس سے سرکار کی انٹر نیٹ پر کنٹینٹ ہٹانے کے پاوور کے اہم اشو پر فیصلہ ہوگا۔ایکس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)ایکٹ کے مرکزی کی تشریح خاص طور سے اس کے ذریعہ دفعہ 19 (3)(B)کے استعمال پر تشویش جتائی ۔جس کے بارے میں مسک نے دلیل ہے کے یہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ورضی ہے اور ڈیجیٹل اسٹیٹ پر اظہار رائے کی آزادی کو کم کرتا ہے ۔بعد میں الزام لگایا ہے کے سرکار دفعہ 69 A میں تشریح شدہ قانونی کارروائی کو درکنار کرتے ہوئے،ایک برابر میٹر بلاکیڈ مکینزم بنانے کے لئے اس دفعہ کا استعمال کر رہی ہے ۔ایکس نے دعویٰ کیا ہے کے یہ نظریہ شریا سنگھل معاملے میں سپریم کورٹ کے 2015 کے فیصلے پر نزات پیدا کر تا ہے ۔جس میں رائے دی گئی تھی کے میٹر کو صرف مناسب قانونی کارروائی یہ دفعہ 69 اے کے تحت قانونی شکل میں تشریح کی جا سکتی ہے ۔اپنی عرضی میں ایکس نے یہ بھی کہا ہے کے خانہ پوری کی تعمیل کئے بغیر منمانے ڈھنگ سے سینسر شپ کی کوشش کی جا رہی ہے ۔کنٹینٹ بلاک کے لئے پیرلل سسٹم کا استعمال کر ہی ہے ۔امریکی عرب پتی ایلن مسک کی کمپنی کی دلیل ہے کے آئی ٹی ایکٹ دفعہ 79 (3)قانون سرکار کو آزادانہ طور سے کنٹینٹ بلاک کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔سرکار طے کارروائی کے تعمیل کرنے کی بدلے دفعہ 79 (3 )بی کا غیر قانونی طریقے سے استعمال کر رہی ہے ۔یہ آن لائن اظہار رائے کی آزادی کو کمزور کرتا ہے ۔مقدمہ دائر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کے کمپنی کسی غیر قانونی کنٹینٹ کو روکنے کے لئے سرکاری کی طرف سے بنائے سہیوگ پورٹل کا حصہ نہیں بننا چاہتی ہے ۔کنٹینٹ ہٹانے سے وابستہ کئی اور اشو بھی ہیں جو عدالتوں کے سامنے ہیں ۔جیسے سپریم کورٹ میں بھی ایک عرضی لٹکی پڑی ہے جس میں عرضی گزاروں کا یہ کہنا ہے کے دفعہ 69 A کے تحت قوائد میں دی گئی خانہ پوری کی خلاف ورضی کرکے سرکار کنٹینٹ ہٹانے کا حکم دیتی ہے ۔دیکھتے ہیں کرناٹک ہائی کورٹ میں یہ کیسے کیسے آگے بڑھتا ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...