Translater
20 فروری 2021
جموں کشمیر : غیر ملکی سفارت کاروں کا دورہ !
غیر ملکی سفرا ءکا ایک نمائندہ وفد بدھوار کو جموں کشمیر کے دو روزہ دورے پر پہونچا کل 22سفیروں کے اس نمائندہ وفد میں یوروپ اور افریقہ کے سفیر بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران کشمیر میں موجودہ حالات کاد ورہ لیا حال ہی میں مرکزی حکمراں انتظامیہ ضلع ڈیولپمینٹ کونسل کے چناو¿ کرائے گئے ساتھ ہی ڈیڑھ سال کی جموں کشمیر میں 4جی انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی ہے۔ یہ نمائندہ وفد بڑگام ضلعے کے کے ایک علاقے میں پنچایتی راجیہ کے شخصیتوں کے بارے میں بتایا گیا اس کی مدد سے لوگوںکی مشکلیں کیسے دور ہوجاتی ہیں ۔ بھاگم می نمائندہ وفد کے ممبران ڈی ڈی سی کے نمائندوں سے ملنے کے علاوہ کچھ مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں اس دوران انتظامی حکام کے ساتھ پنچایتی نمائندوں سے بھی ملے اس وفد کے دورے سری نگر بڑگام کے دوران کئی جگہ دکانیں بند رہیں ۔ پانچ اگست 2019کے بعد سے تیسری بار ایسا ہوا کہ تب جب غیر ملکی سفیروں کو بھارت سرکار کے آرٹیکل 370کو جموں کشمیر سے ہٹایا تھا اور خصوصی درجہ ختم کرکے لداخ اور جموں کشمیر کے دو الگ مرکزی حکمراں ریاستوںمیں بدل دیا تھا۔ اس کے بعد کرفیو لگایا گیا پابندیاں لگائیں گئیں اور موبائل سروس بند کر دی گئی اس دوران ہزاروں لوگوں و لیڈروں کو گرفتار کردیا گیا ۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ، عمر عبداللہ ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ وغیرہ شامل ہیں وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسرسیف الدین سوز نے کہا بھارت سرکار ایسے نمائندوں کو لاکر دنیا کو جھوٹ بتاتی ہے ۔ بھارت سرکار اور جموں کشمیر میں اس کے ماتحت انتظامیہ نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا ہے اور یہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے جموں کشمیر کے لوگ ٹھیک نہیں ہیں۔ بھارت سرکار نے ان غیر ملکی سفیروں کو یہاں لاکر دنیا کو گمرا ہ کرتی ہے وہیں کمیونسٹ لیڈر یوسف تاریگامی بتاتے ہیں کہ اگر غیر ملکی سفیر واقعی ہی کشمیر کے حالات جاننا چاہتے ہیں تو وہ کشمیر کے عام لوگوں سے کیوں نہیں ملتے ہیں؟ اور ایسے وقت میں غیر ملکی سفیروں کو یہاں بلایا گیا تھا آج بھی وہ یہاں آئے ہیں ۔ کئی جگہوں پر گئے کیا جاننا چاہتے ہیں وہ اگر یہاں کہ معیشت کو دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ برباد ہوچکی ہے 5اگست2019کو یہاں ٹوریزم ٹھپ پڑی ہے دوکانداروں سے ملیں طلبا سے ملیں اور کاروباریوں سے ملیں تو ان کو ریاست کے حالت کے بارے میں پتہ چلے گا ایسے دوروں سے جموں کشمیر کو جموں کشمیر کو صحیح تصویر نہ تو دیش کی تصویر سامنے نہیں آتی اور نہ ہی دنیا کے سامنے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ ایسے نمائندہ وفد آتے جاتے رہتے ہیں اور لیکن کشمیر کے حالات نہیں دیکھ پاتے ہیں اور یہاں حالات ٹھیک نہیں ہیں۔
(انل نریندر)
پنجاب میونسپل چناو ¿ میں بھاجپا کا صفایا!
تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے آندولن کے درمیان پنجاب میں سات میونسپل کارپوریشنوں اور 109میونسپلٹیوں و شہری پنچایتوں کے انتخابات میں بھاجپا کا ایک طرح سے صفایا ہوگیا ہے اور کانگریس کی شاندار کامیابی ہوئی ہے ۔ شرو منی اکالی دل،بھاجپا ، اور عآپ جیسا دعویٰ کر رہیں تھیں ویسا اچھا مظاہرہ نہیں کر پائیں کانگریس نے پردیش کے بھٹنڈہ ، ہوشیار پور ، کپورتھلا،ابوہر،بٹالہ،و پٹھان کوٹ میونسپل کارپوریشن میں جیت حاصل کی ہے کانگریس نے 7میونسپل چناو¿ میں بھی بھار ی جیت درج کی ہے ۔ شرومنی اکالی دل اور بھاجپا کی ہار کو کسان آندولن کے اثر سے جوڑا جا رہا ہے سیٹوں کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر اکالی دل اور تیسرے پر عام آدمی پارٹی اور چوتھے نمبر پر بھاجپا رہی ہے ۔ 2015میں شرو منی اکالی دل کے ساتھ مل کر چناو¿ لڑنے والی بھاجپا اس مرتبہ چوتھے نمبر پر پھسل گئی ہے ۔ پچھلی مرتبہ میونسپل چناو¿ میں بھاجپا اکالی دل کا ہی قبضہ تھا اس بار دونوں نے الگ الگ چناو¿ لڑا ، کیونکہ مرکزی قوانین پر تکرار کو لیکر دونوں ہی پارٹیاں الگ ہوچکی ہیں۔ چناو¿ نتیجوں میں یہ بات خاص رہی ہے بھاجپا کے ایم پی سنی دیول کے لوک سبھا حلقے گورداس پور کی سبھی 29سیٹوں پر کانگریس کی جیت ہوئی جبکہ شرومنی اکالی دل ایم پی ہر سمرت کور کی لوک سبھا سیٹ بھٹنڈہ سے 50سیٹوں میں سے 47میونسپل سیٹوں پر کامیابی ملی عآپ کو جالھندر میں ایک بھی سیٹ نہیں ملی جبکہ اکالی دل بھاجپا کو ایک ایک اور بسبا کو دو سیٹیں ملیں کانگریس پردیش صدر سنیل جاکھڑ نے بتایا کی پردیش کی جنتا نے بھاجپا اور شرومنی اکالی دل اور عآپ کی منفی سیاست کو مسترد کردیا ہے اور ہم نے ترقی کے ایجنڈے پر چناو¿ لڑا تھا اس جیت سے ہمارے ورکروں کو اور زیادہ سخت محنت کرنے کی تلقین ملی ہے بھارتی جنتا کی رہنمائی والی مرکزی سرکار کے خلاف جاری کسان آندولن کے پس منظر میں ان انتخابات کو نتیجہ کانگریس کے لئے حوصلہ افزا رہا کانگریس کی نظر اگلے سال ہونے والے اسمبلی چناو¿ جیتنے پر ہے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو اس جیت کے بعد بڑا مقام ملا اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگلے اسمبلی چناو¿ کیلئے کیپٹن پر ہی مکھیہ منتری کا داو¿ں کھیلا جائے گا۔ ایک بڑی سیاسی لڑائی کے سورما کے طور پر ابھر ے ہیں ۔ وہیں بھاجپا کے لئے سب سے بڑا جھٹکا گورداس پور میں ہیں جہاں پٹھان کوٹ میونسپل کارپوریشن ان کے ہاتھوں سے پوری طرح نکل گئی ان چناو¿ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کسانوں میں بھاجپا کے طئیں کے کسانوں کے اندر کتنا غصہ ہے نارتھ انڈیا میں بھی انکا اس کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ بھاجپا نہ صرف ہاری ہے بلکہ اس کا ووٹ بینک شیئر بھی گرا ہے ۔
(انل نریندر)
19 فروری 2021
مغربی بنگال کا چناوی سروے !
مغربی بنگال کولیکر چناوی سروے میں علیحدہ علیحدہ اندازے ظاہر کئے جارہے ہیں سی این ایکس کے سروے میں مغربی بنگال میں ایک بار پھر ممتا بنرجی کی واپسی ہورہی ہے وہیں سی ووٹر کے سروے میں ریاست میں بھاجپا کی سرکار بننے کا امکا ن ہے سی این ایکس کے سروے میں ممتا بنرجی کی پارٹی کو 294میں سے 151سیٹیں ملنے کی پیشین گوئی کی گئی ہے جبکہ وہیں بھاجپا کے خاطے میں 117سیٹیں آتی دکھائی دے رہی ہیں لیفٹ اور کانگریس کے خاطے میں 24سیٹیں آنے کا امکا ن ہے سی این ایکس سروے کے مطابق مغربی بنگا ل میں ابھی بھی ٹی ایم سی کا دبدبہ پارٹی میں مہا پارٹی کے 84میں 53سیٹیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں وہیں بھاجپا کو 16ایک نیوز چینل کے اوپنین پول اور دہلی کی ایک ریسرچ سروے ایجنسی سی این ایکس نے کیا ہے مغربی بنگال کے 8960لوگوں پر یہ سروے کیا گیا 23جنوری سے 7فروری کے درمیان کیاگیا ہے جس میں سی ووٹر کے مطابق سرکار بنتی نظر آرہی ہے وہیں 35لوگوں کا خیال ہے کہ ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی ریاست میں پھر سرکار بنا سکتی ہے 14فیصد لوگوں کی رائے کانگریس کے بارے میں ہے جبکہ 2فیصد لوگوں نے ریاست میں معلق اسمبلی کی آنے کی امید جتائی ہے ۔ ریاست میں 52فیصدی لوگوں کا خیال کہ ممتا بنرجی وزیر اعلیٰ کے طور پر سب سے بہترین امیدوار ہیں جبکہ بی جے پی کے طرف دلیپ گھوش 25فیصد لوگوں کی پسند ہیں ۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ سروے میں بنگا ل ٹائگر سوربھ گانگولی بہتر وزیر اعلیٰ امیدوار کی شکل میں 4لوگوں کی پسند ہیں ابھی چناو¿ میں کافی وقت ہے اور ریاست کا سیاسی منظر روزآنہ بدل رہا ہے سروے کا وقت جنتا کے رخ کو ظاہر کرتا ہے اس میں بہت تبدلی ہوگی ابھی تو اتحاد بھی نہیں بنے ہیں بس یہ مغربی بنگال میں ووٹوں کی پسند کا اشارہ ضرور ہے ابھی تو کئی سروے اور آئیں گے اس سروے پر جنتا کو زیادہ یقین ابھی نہیں ہوپارہا ہے ۔
(ان نریندر)
لوگوں کی پرائیویسی کی قیمت پیسوں سے زیادہ ہے !
سپریم کورٹ نے پیر کو واٹس ایپ سے کہا کہ آپ کی نئی پرائیویس پالیسی کے بعد ہندوستانی لوگوں میں پرائیوسی کو لیلکر کافی خدشات ہیں ۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہا کہ آپ بھلے ہی خربوں ڈالر کی کمپنی ہونگے لیکن لوگوں کیلئے پرائیویسی کی قیمت پیسوں سے زیادہ ہے ۔ چیف جسٹس نے اس پرائیویسی پالیسی کو چیلنج کردہ عرضیوں پر واٹس ایپ ، فیس بک سے جواب مانگا ہے سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کرکے کمپنی فیس بک کو یہی اشارہ دیا ہے کہ یہ کمپنیاں پرائیوسی کی حفاظت کو لیکر چوکس نہیں ہیں ۔عدالت نے سینئر وکیل شام دیوان کی اس دلیل کی بھی حمایت کی جس میں بھارت نے ڈیٹا تحفظ کو لیکر کوئی قانون نہیں ہے چیف جسٹس بوبڈے اور جسٹس بو پننا اور جسٹس ویراما سبرامنیم پر مشتمل بنچ نے ایک آواز میں کہا کہ مسٹر دیوان کی دلیل سے ہم متاثر ہیں ایسے قانون لانا چاہئے کہ واٹس ایپ اپنی نئی پرائیویس کے تحت ہندوستانیوں کا ڈاٹا شیئر کرے گا اور اس شیئر نگ کو لیکر خدشات پائے جاتے ہیں سپریم کورٹ میں یوروپ کے مقابلے میں بھارت میں پرائیویسی معایارات گرائے جانے پر واٹس ایپ سے جواب مانگا ہے اس پر اس نے کہا یوروپ میں پرائیوسی کو لیکر خاص قانون ہے اگر بھارت میں بھی ایسا ہی ہوتا تو ہم بھی تعمیل کریں گے حال ہی میں سرکار نے سوشل میڈیا پر کسان آندولن پر جھوٹی خبریں اعتراض آمیز اور تشدد بھڑکانے والے خبروں کے مواد کو لیکر ناراضگی ظاہر کی تھی ۔ راجیہ سبھا میں انفارمیشن ٹیکنا لوجی وزیر روی شنکر پرشاد نے کہا تھا کہ ہم سوشل میڈیا کا احترام کرتے اور اس نے عام آدمی کو طاقت دی ہے ڈی جی ٹل انڈیا پروگرام میں بھی سوشل میڈیا کا رول بھی کافی اہم ہے لیکن مگر اس سے کافی اہم یہ ہے کہ اگر اس سے فیک نیوز اور تشدد کو فروغ ملتا ہے تو ہم کاروائی کریں گے پھر وہ ٹویٹر ہو یا اور کوئی دوسرا پلیٹ فارم ۔
(ان نریندر)
بھارت کی سبھی ریاستوں،نیپال اور سری لنکا میں بی جے پی سرکار؟
تری پورہ کے وزیر اعلیٰ ویپلب کمار دیو کے تبصرے سے نیپال اور سری لنکا میں ہلچل ہونا فطری تھا اگرتلا میں وزیر اعلیٰ نے پارٹی کے ایک پروگرام وزیر داخلہ امت شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا بی جے پی نے صرف بھارت کے سبھی ریاستوں میں بلکہ نیپال اور سری لنکا میں بھی سرکار بنانا چاہتی ہے وزیر داخلہ جب قومی بھاجپا کے صدر تھے میں نے ایک میٹنگ میں کہا کہ صدر محترم بہت سی ریاستیں ہم لوگوں کے پاس ہوگئی ہیں ۔ اب تو اچھا ہوگیا ہے کہ اس پر صدر محترم نے کہا ارے کاہے کا اچھا ہوگیا ہے ابھی تو سری لنکا باقی ہے اور نیپال باقی ہے مطلب اس آدمی کو ۔۔۔بولتا ہے کہ دیش کا تو کر ہی لیں گے ۔ ۔۔سری لنکا ہے۔۔۔۔نیپال ہے۔۔۔وہاں بھی تو پارٹی کو لیکر جانا ہے وہاں بھی جیتنا ہے تری پورہ کے وزیر اعلیٰ دیو کے اس تبصرے پر نیپال کے وزیر اعلیٰ پردیپ شروالی نے کہا اس معاملے میں نیپال نے بھارت سرکار کے سامنے باقاعدہ اعتراض جتایا ہے نیپالی میڈیا کے مطابق بھارت میں تعینات نیپالی سفیر نلامبر آچاریہ نے سرکار کے سامنے اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ نیپال اور بھارت کے رشتوں پر نیپالی پارٹیوں نے بھی سخت احتجاج کیا ہے نیپالی کمیونسٹ پارٹی (پرچنڈ گروپ) کے مرکزی اور نیپالی تارکین وطن تال میل کمیٹی کے چیئر مین یوراج چولجائی نے بی بی سی سے کہا تریپورہ کے وزیرا علیٰ دیو کا تبصرہ نیپال کی سرداری کی توہین ہے وہ کہتے ہیں بھارتی جنتا پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے تبصرے سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کا حکمراں طبقہ نیپال کو لیکر کیا سوچتا ہے ریاست میں کیسے وہ کہہ سکتے ہیں نیپال ایک مختار ملک ہے اور اس کے بارے میں اسی کے احترام کے ساتھ کوئی رائے زنی ہونی چاہئے نیپال کو ٹارگیٹ بنا کر بی جے پی میں اتنی خود اعتمادی کیسے اور کہاں سے آتی ہے؟ یہ سوچنے کی بات ہے ہمیں لگتا ہے کہ نیپال میں ہندو آبادی اکثریت میں ہے تو کچھ بھی بول دو ؟ہماری آبادی بھلے ہی کثیر ہندو ہے لیکن اس سے ہماری سرداری کا احترام کم نہیں ہوجاتا ۔ دنیا میں کئی مسلم اکثریتی ملک ہیں لیکن وہاں تو کوئی بڑا ملک مسلم اکثریتی دیش چھوٹے مسلم اکثریتی دیش کی سرداری کی توہین اس طرح نہیں کرتا ۔ وزیر اعلیٰ وپلب دیو کا یہ بیان نیپالی میڈیا میں چھایا رہا اخبار نیا پتریکا نے 15 فروری کو اپنی شائع رپورٹ میں پوچھا تھا کہ کیا بھاجپا کہ یہ خفیہ پلان باہر آرہا ہے ؟ اور نیپال میں آر ایس ایس اپنا قدم بڑھا رہا ہے ایسے میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کا یہ تبصرہ یقینی ہے یا محض اتفاق ویر گنج میں آر ایس ایس کی ایک ریلی ہوئی جس میں تنظیم کے معاون سنچالک کلیان نکل سنگھ نالے کیا تھا ۔ اس میں تبدیلی مذہب کو لیکر تشویش جتائی گئی تھی اور ویر گنج بازار سے آر ایس ایس کے رضا کاروں نے ایک مارچ بھی نکالا تھا ویپلب دیو کے اس تبصرے کو کانگریس نے بکواس قرار دیا ہے اس نے ٹویٹ کر کے کہا کہ ان جیسے لوگوں کے بیوقوفی پر مبنی بیانات کی وجہ سے آج بھارت کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ سب سے خراب دورمیں پہونچ چکے ہیں ۔ایسے بیانوں سے لوگوں کو صرف بے وقوف بنا سکتے ہیںبابو رام بھٹا رائے کی جنتا سماجوادی پارٹی کے نیتا راج کشور کہتے ہیں کہ ویپلب دیو کو تبصرے سے کوئی بھی نیپالی خوش نہیں ہوا اور اس طرح کے تبصرے سے بھارت نیپال رشتے خرا ب ہی ہونگے۔
(ان نریندر)
18 فروری 2021
چین نے بی بی سی کا نشریہ روکا!
چین نے رپوٹنگ کی گائڈ لائنس کی خلاف ورزی کرنے کے لئے دیش میں بی بی سی ورلڈ نیوز کے نشریہ پر پابندی لگادی ہے چین کے ٹیلی ویزن و ریڈیو اتھارٹی نے اس بارے میں اعلان کیا ہے اس سے ایک ہفتہ پہلے برطانیہ نے چین سرکار کے کنٹرول والے چائنا گلوبل ٹیلی ویزن نیٹورک کے لاﺅ پروگراموں کو منسوخ کر دیا تھا ۔چین نے اقلیتی ایگور مسلمانوں کا دمن اور کورونا واچ اپ مہابھارتی پر رپورٹ کیلئے بی بی سی کی تنقید کی تھی اور برطانوی براڈ کاسٹنگ اتھارٹی کے سامنے اعتراض جتایا تھا بی بی سی نے کہا وہ چین حکومت کے ذریعے اس کے پروگراموں کی نشریات پر روک لگائے جانے سے مایوش ہے ۔چین کے ریگولیٹری ریڈیو اینڈ ٹیلی ویزن ایڈمنسٹریشن (این آر بی اے )نے عنواناتی امورکی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب پاتے ہوئے جمعرات کی رات کو وی وی سی ورلڈ نیوز کے نشریہ پر روک لگانے کا اعلان کی تھا اس کا کہنا ہے بی بی سی نے چین سے متعلق اپنی خبروں سے ریڈیو و ٹیلی ویزن اور غیر ملکی سیٹرلائٹ چینل سے جڑے قواعد کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔چین کی سرکار خبر رساں ایجنسی زن و کے مطابق این آر ٹی اے نے کہا کہ بی بی سی کا کوریج سچائی اور منصفانہ ہونا چاہیے اور اس نے چین کی قومی سلامتی اور اتحاد کو نقصان پہوچانے کی کوشش کی ہے ۔
(انل نریندر)
فوجیوں کی واپسی نہیں یہ سرینڈر ہے !
کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اتوار کو الزام لگایا گلوان وادی اور پینگونگ جھیل علاقہ سے فوجیوں کو پیچھے لے جانا اور بفر زون بنانا بھارت کے اختیارات کا سرینڈر ہے ۔انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ جب بھارت سرحد پر کئی چیلنجوں کا سامنا کررہا ہے اور وہ دو مورچوں پر جنگ جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ایسے میں ڈیفنس بجٹ میں معمولی اضافہ دیش کے ساتھ دھوکہ ہے ۔حکومت نے جمع کو زور دے کر کہا تھا کہ چین کے ساتھ فوجیوں کو مشرقی لداخ کے پینگونگ جھیل علاقہ سے پیچھے ہٹنے کو لیکر بھارت کہیں بھی نہیں جھکا انٹونی نے کہا وزیراعظم نریندر مودی کی سرکار سکورٹی کو ایسے وقت میں مناسب ترجیح نہیں دے رہی ہے جب چین جارحانہ رخ اپنائے ہوئے ہیں اور پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کو فروغ جاری ہے ۔انہوں نے کہا فوجیوں کو پیچھے ہٹنا اچھا ہے کیوں کہ اس سے کشیدگی کم ہوگی لیکن اس سے قومی سلامتی کی قیمت پر نہیں کیا جانا چاہیے ۔انٹونی نے الزام لگایا گلوان وادی اور پینگونگ جھیل سے پیچھے ہٹنا سرنڈر ہے ۔چونکہ رواتی طور سے ان علاقوں کو بھارت کنٹرول کرتا رہا ہے ۔ہم اپنے حقوق کا سرینڈر کررہے ہیں انہوں نے نشاندھی کی کہ سال 1962میں بھی گلوان وادی کے ہندوستانی سیکٹر ہونے پر جھگڑا تھا سابق وزیردفاع نے کہا فوجیوں کو پیچھے لانا اور بفر زون بنانا اپنی زمین کو سرینڈر کرنا ہے ۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا سرکار فوجیوں کی اس واپسی اور بفر زون بنانے کو اہمیت نہیں دے رہا ہے ۔انہوں نے خبردار کیا چین کسی بھی وقت پاکستان کی سیاچن میں مدد کرنے کیلئے خرافات کر سکتا ہے ۔ہم اس سرکار سے جاننا چاہتے ہیں کہ پورے بھارت چین سرحد پر سال 2020میں درمیانی اپریل سے پہلے کی حالت آجائے گی اور اس سلسلے میں سرکار کا کیا پلان ہے ۔سرکار کو سرحد پر پہلے جیسی پوزیشن بحال کرنے میں دیش اور جنتا کو بھروسہ میں لینا چاہیے ۔انہوں نے کہا سرکار کو ایسا فیصلہ لینے سے پہلے سبھی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے تبادلہ خیال کرنا چاہے وقومی سکورٹی کو ذہن میں رکھنا چاہے ۔اے کے انٹونی ان لیڈروں میں شامل ہیں جنہیں آج بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔اور ان کی بات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے ۔
(انل نریندر)
دیشا روی کون ہیں؟جن کی گرفتاری سے ڈرے ہیں ماحولیاتی رضاکار!
مرکزی زرعی قوانین کےخلاف مظاہرے بھڑکانے کے الزام میں ماحولیاتی رضاکار دیشار وی (21برس)کو گرفتار کرلیا گیا ہے انہیں دہلی پولیس کی سائبر سیل نے بنگلورو سے گرفتار کیا ۔اس کے بعد دہلی لا کر پٹیالہ ہاو¿س کورٹ میں پانچ دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا ۔عدالت میں پولیس نے دلیل دی تھی کہ مظاہروں کو ہوا دینا بھارت سرکار کے خلاف بڑی سازش کا حصہ ہے وہیں دیشا کورٹ میں رو پڑی ان کا کہناتھا کہ انہوں نے ٹول کٹ تیار نہیں کیا صرف 3فروری کو اس میں اس نے دو لائن ایڈٹ کی تھیں ۔پولیس نے ٹول کٹ معاملے میں 4فروری کو نامعلوم لوگوں پر ملک سے بغاوت کی سازش و دیگر الزامات میں آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا پولیس کے ذرائع کے مطابق دیشا روی نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ٹول کٹ ایڈٹ کئے کو وائرل کرنے میں اہم رول نبھایا تھا ۔ٹول کٹ میں 26فروری تشدد کو لیکر سائبر اسٹرائک کی بھی بات کہی گی تھی اس ٹول کٹ کیس کی دیشا روی ایک کڑی ہے ۔بتا دیں ٹول کٹ کیا ہے ؟ یہ ایک ایسا دستاویز ہوتا ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے اگر کوئی آندولن کرنا ہو تو اس دوران شوشل میڈیا پر حمایت کیسے حاصل کی جائے اور کون کون سے ہیشٹیگ کا استعمال کیا جائے تاکہ یہ ٹرینڈ کرنے لگے اگر مظاہرے کے دوران کوئی مشکل آتی ہے تو اس میں اور کہا رابطہ قائم کرنا ہے اس دوران کیا کریں ؟ اور کیا نہ کریں ۔کن باتوں کا دھیان رکھتے ہوئے احتیاط برتیں دنیا بھر میں پہچان بنا چکی سوئیڈن کی ماحولیاتی رضاکار گریٹا تھنبرگ نے 4فروری کو یہ ٹول کٹ ٹوئیٹر پر شیئر کیا تھا ۔یعنی دیشا کے مطابق انہوں نے ٹول کٹ کو ایڈٹ کیا تھا اس کے بعد اس نے کسان آندولن کو ملک و بیرون ملک کے ہر کونے میں حمایت دینے کی تجاویز ہے اس میں دعویٰ کیاگیا کہ بھار ت میں کسانوں کی حالت بہت خراب ہے ، لہذا جو جیسے مدد کر سکتا ہے کرے ۔ریلی مظاہرے کے پوسٹر و دیگر تن من دھن سے جیسے بھی ہو مدد کریں ۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ ٹول کٹ میں درج گائڈ لائنس کے مطابق یوم جمہوریہ پر تشدد ہوا ٹریکٹر ریلی میں بھیڑ کو گمراہ کیا گیا ۔ٹول کٹ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ 23فروری کے بعد ٹوئیٹ کے ذریعے طوفان کھڑا کرنا ہے ۔ہیشٹیگ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ڈیجیٹل حملہ کرنا ہے پھر 26جنوری کو آمنے سامنے کی کاروائی ۔دیشا روی بنگلورو میں مشہور کالج مانڈ فارمل کی طالبہ ہے ۔دیشا 2018میں گلوبل کلائمٹ وومنٹ شروع کرنے والی ایک ایف ایف کی معاون بانی ہے ۔دیشا روی کی ایمانداری اور ان کے عزم کا ان کے ساتھ کام کرنے والے ہمیشہ پر امن رہتی ہے دیشا نے کبھی کوئی قانون نہیں توڑا ہمارے پیڑ بچاو¿ آندولن میں حصہ لیا اس نے پوری وفاداری سے قانونی ڈھانچے میں لیکر اچھا کام کیا ایک اور ماحولیاتی رضاکار نے بتایا کہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں اس لئے خاموش ہو جائیں ہم ایک ایسے دیش میں رہ رہے ہیں جہاں عدم اتفاقی کی آواز کو دبایا جا رہا ہے ۔یہ کافی مایوس کن ہے یہ سبھی بچے ہیں جو پیڑ پودے اور ماحولیات کو بچانا چاہتے ہیں انہیں ملک دشمن کہنا کہاں کا انصاف ہے ؟ سپریم کورٹ کے مشہرو وکیل ریمبیکا جون ایک شوشل میڈیا پر پوسٹ لکھتی ہیں ،پٹیالہ کورٹ کے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے ریمانڈ دینے کے فیصلے پر بہت دکھی ہوں ایک نوجوان لڑکی کو بغیر یہ یقینی کیئے کہ ان کا وکیل دستیاب ہے کہ نہیں پانچ دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا مگر سرکار یہ مانتی ہے کہ کچھ غلط ہوا ہے تو پہلے پولیس اسٹیشن میں اس سے پوچھ تاچھ کرتی پھر انہیں کورٹ میں پیش کرنے کے لئے سیدھے دہلی کیوں لے جاناچاہے تھا ؟ ٹول کٹ اور کچھ نہیں بلکہ ایک دستاویز ہے جس کا سبھی استعمال کرتے ہیں اس کا استعمال کوئی بھی کر سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
17 فروری 2021
اکیٹرس نے 85سے زائد پورن فلمیں بیچیں!
پورن فلمیں بنانے کے الزام میں ممبئی کرائم برانچ نے گزشتہ ہفتے ماڈل ،اداکارہ گہنا سینئر کو گرفتار کیا ہے اس سے تفتیش میں سنسنی خیز معلومات سامنے آئی ہیں کرائم برانچ کے افسر نے بتایا گہنا سینئر ساو¿تھ کی فلموںمیں ایک مشہور اداکار کی گرل فرینڈ بھی رہی ہے اس پر پچاسی فلموں سے زیادہ پورن فلمیں پورن سائٹ پر اپلوڈکرنے کا الزام ہے ان میں سے کچھ مشہور ماڈل کو بھی شوٹ کیا گیا تھا شوٹنگ ممبئی میں ہوتی تھی لیکن جدید تکنیک سے غیر ملکی آئی پی ایڈریس اور سرور کا استعمال ہوا کرتا تھا شوٹنگ کیلئے20-25سال کی عمر کی لڑکیوں کا ہی انتخاب کیا جاتا تھا اور کچھ بڑی ماڈلس کو سارٹ فلموں کی شوٹنگ کیلئے بلایا گیا تھا ان سے معاہدہ بھی کرایا گیا جس کے تحت ان سے پورن سین بھی کروائے گئے نہ کرنے پرانہیں قانونی نوٹس بھیجنے کی دھمکی دی جاتی تھی ایسا پتہ چلا ہے ان پورن فلموں کے لئے گہنا نے خو د کا پروڈیکشن ہاو¿س بھی بنایا ہواتھا پورن فلموں کی شوٹنگ و اداکاروں کی فیس و دیگر خرچوں پر قریب 3لاکھ کر خر چ آتا تھا اس میں لڑکیوں کو قریب تیس ہزار روپئے دیئے جاتے تھے کورونا دور میں ایسی فلموں کی مانگ بڑھ گئی تھی ۔
(انل نریندر)
راون کے دیش میں پیٹرول سستا تو رام کے دیش میں مہنگا کیوں؟
حکومت ہند کی سرکار کے پیٹرولیم وزیر دھرمیندر پردھان نے راجیہ سبھا میں تیل کے بڑھتے داموں پر پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیئے انہوںنے تیل کی قیمتوں کا پڑوسی ملکوں سے موازنہ کرنے پر کہ ایسا کہنا صحیح نہیں ہوگا تیل کی قیمتیں ابھی سب سے زیادہ ہیں سماجوادی پارٹی کے ایم پی بشمبر پرشادنشاد نے راجیہ سبھا میں سوال پوچھا تھا کہ سیتا ماتا کی دھرتی نیپا ل میں پیٹرولیم مصنوعات سستی ہے۔ راون کے دیش سری لنکا میں بھی دام کم ہیں ۔ تو پھر رام کے دیش میں پیٹرول ڈیزل کے دام سرکار کب کم کرے گی ؟ وزیر موصوف نے کہا ایسا کہنا ٹھیک نہیں ہے ایندھن تیل کی قیمتیں ابھی سب سے زیادہ ہیں دیش میں پیٹرول اور ڈیزل کے دام ایک بین الاقوامی قیمت سسٹم کے تحت کنٹرول ہوتی ہیں۔ یہ بیکار مہم چلانے کی کوشش کی جارہی ہے کی ایندھن کی قیمتیں اب تک اونچی سطح پر ہیں ۔ پیٹرول ڈیزل کے روزآنہ دام بڑھ رہے ہیں ان داموں نے عام آدمی کی جیب اور دل میں تو آگ لگائی ہے اپوزیشن والوں کو بھی بی جے پی پر حملہ کرنے کا موقع دے دیا ہے آج دہلی میں پیٹرول 88.44روپئے فی لیٹر تو ڈیزل 78.34پیسے فی لیٹر پہونچ گیا ہے ۔ تقریباً شہر میں اس کو لیکر ناراضگی پائی جاتی ہے نیا سال پیٹرول ڈیزل وغیرہ کیلئے اچھا نہیں رہا جنوری اور فروری میں محض 16دن میں پیٹرول مہنگا ہوالیکن اتنے دنوں میں 4.33روپئے مہنگا ہوگیا ممبئی میں پیڑول 94روپئے فی لیٹر ہوگیا ہے جو میٹرو شہروںمیں سب سے زیادہ ہے پچھلے سال کیی دوسری چھ ماہ میں بھی پیٹرول کے دام خوب بڑھے تھے اور دس مہینے میں اس کے دام قریب 10روپئے فی لیٹر بڑھ چکے ہیں ۔ عآم آدمی پارٹی اور کانگریس کے نتیاو¿ں کا الزام ہے کہ عام لوگوں کے بجائے مودی سرکار صرف سرمایا داروں کے لئے کام کر رہی ہے پیٹرول کے دام بڑھنے کا اثر ٹرانسپورٹ سے لیکر صنعتوں تک پڑتا ہے اس سے بازار میں ہر چیز کے دام بڑھتے ہیں ۔ دوسری طرف بھاجپا نیتاو¿ں کا کہنا ہے عالمی بازارمیں کچلے تیل کے دام کے بڑھنے کا نتینجہ ہے پھر بھی پچھلی سرکاروں کے مقابلے میں پیٹرول ڈیزل کے داموں میں کم اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے مال بھاڑا بھی نہیں بڑھا ہے سرکار نہیں آگاہ ہوئی تو گاڑیاں کھڑی کرنے پر ٹرانسپورٹر مجبور ہونگے اپنے کاغذوں کو سرینڈر کردیں اور گاڑیوں کا لون ہوتا ہے وہ قست تک نہیں چکا پارہے ہیں کووڈ انیس کی وجہ سے دھندھا ویسے بھی چوپٹ ہوگیا ہے اب ڈیزل کے دام کی مار جھیلنی پڑ رہی ہے جب روز مرہ کے استعمال کی چیزیں بہت مہنگی ہوجائیں گی تو کمزور طبقے کی پہلے سے ٹوٹی کمر اور بھی جھک جائے گی ۔
(انل نریندر)
بی جے پی کا پنجاب میں کیا ہوگا؟
کسان آندولن کے سبب بھارتی جنتا پارٹی کے خلاف بہت سی ریاستوں میں کھل کر احتجاج ہو رہا ہے ۔ خاص کر پنجاب میں تو بھاجپا نیتاو¿ کا باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے گزشتہ 9فروری کو بی جے پی کے پنجاب صدر اشونی شرما مقامی ورکروں سے ملنے فیروز پور پہونچے تھے وہاں کوئی نہ خوش گوار واقع سے بچنے کیلئے مقامی پولس کو تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود مظاہرہ کرنے والوں نے اشونی شرما کے خلاف جم کر نعرے بازی کی جب وہ اپنی کار میں بیٹھ کر جانے لگے تھے تو نہ معلوم مظاہرین نے ان کی کار پر حملہ کردیا شرماوہاں سے محفوظ نکلنے میں کامیاب ضرور ہوئے لیکن ان کی کار کو نقصان ہوا شرما کو فضلکا ضلع کے ابوہر شہر میں بھی ایسے ہی احتجاج کا سامنہ کرنا پڑا اس سے پہلے 8فروری کو سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر وجے سانپلا اپنی پارٹی امیداواروں کے کمپین کرنے کی مہم پر نکلے تھے مظاہرین کے ایک گروپ نے ان کی کار کو روک کر نعرے بازی شروع کردی پولس نے بیچ بچاو¿ کرکے انہیں شہر سے باہر نکالا اس واقعے سے کمپین میں رکاوٹ پڑی نوواں شہر میں بی جے پی کے پردیش صدر اشونی شرما کی ایک ریلی ہونی تھی لیکن ریلی شروع ہونے سے پہلے وہاں احتجاج شروع ہوگیا پولس نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین نے ریلی کی جگہ تک جانے والی سڑک کو بند کردیا آخر میں شرما کو اپنی ریلی منسوخ کرنی پڑی ایسے ہی بھٹنڈ انمیں بھاجپا امیدوار جتن کمار ساحل اور موہن ورما کے پوسٹر ،بینر وغیرہ کو لوگوں نے کالک پوت دی ۔ دونوں اس کے خلاف پولس میں اپنی شکایت لے کر گئے پنجاب میں بلدیاتی چناو¿ میں اب بہت دن باقی نہیں رہ گئے وہیں دوسری طرف بھاجپا نیتاو¿ںکو ریاست بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ پارٹی نیتا یا تو گھروںمیں قید ہیں یا پھر وہ اپنی چناو¿ مہم خاموشی سے چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کا احتجاج کرنے والے لوگ ہر جگہ پہونچ رہے ہیں ۔ دراصل مرکزی حکومت نے پچھلے سال جون میں تین زرعی قوانین کو آرڈیننس لائی تھی تب سے ہی پنجاب میں بھاجپا نیتاو¿ں کو ایسا ہی احتجاجی مظاہرہ کا سامنا کرناپڑ رہا ہے سرکار نے ان آرڈیننس کو ستمبر میں قانونی شکل دے کر پاس کروالیا تھا اس کے بعد دہلی کے بارڈر پرا احتجاجی مظاہرہ شروع ہوگیا ۔ا سکے بعد پنجاب ریاست میں بھاجپا نیتاو¿ں کے خلاف مظاہرے ہونے شروع ہوگئے 14فروری کو بلدیاتی چناو¿ ہوچکے ہیں ۔ ان چناو¿ میں 8میونسپل کارپوریشنوں اور109میونسپلٹیوں اور نگر پنچایتوں کے ضمنی چناو¿ کرائے گئے ہیں ۔ ریاست میں سرگرم سبھی سیاسی پارٹیوں کے لئے یہ بلدیاتی چناو¿ اہم مانے جارہے ہیں ۔ کیونکہ اگلے سال کی ابتداءمیں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے ہیں ۔ اس وقت کیپٹن امریندر سنگھ کی قیادت والی کانگریس حکومت ہے اپوزیشن پارٹی کے ممبروں کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا کہ شہری پارٹی کارپوریشن چناو¿ میں آدھے سے زیادہ سیٹیوں پر اپنے امیدوار نہیں کھڑا کر پائی تصور کیجئے دیہی پنجاب میں ان کی کیا پوزیشن ہوگی ؟ اس سے لوگ کانگریسی کہہ رہے ہیں ۔ یہ عام کسانوں کا غصہ ہے یہ سرکار کسان مخالف روہیئے کے خلاف ہے ۔
(ان نریندر)
16 فروری 2021
جیش کے نشانہ پراین ایس اے ڈوبھال !
جموں میں پچھلے ہفتہ پکڑے گئے لشکر مصطفیٰ کے کمانڈر ہدایت اللہ ملک سے پوچھ تاچھ میں کئی سنسنی خیز جانکاریاں ملی ہیں ۔چھ فروری کو کشمیر کے سوپیاں کے باشندے ہدایت اللہ ایک ویڈیو میں سامنے آیا آتنکی کو یہ ویڈیو اپنے پاکستانی ہینڈلر کو بھیجنی تھی ۔جس سے وہ ڈاکٹر نام سے جانتا تھا ۔میڈیا رپورٹس میں کہا جارہا ہے ہدایت اللہ ملک نے بتایا کہ اس نے اپنے پاکستانی ہینڈلرس کے کہنے پر قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبال کے دفتر اور کچھ دیگر اہم عمارتوں کی ٹوہ لی تھی ملک کو اننت ناگ سے گرفتار کیا گیا ۔وہ جیش محمد کے فرنٹ گروپ لشکر مصفطیٰ کا چیف ہے ۔گرفتاری کے وقت اس کے پاس سے بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق ملک نے بتایا کہ وہ 24 مئی 2019کو انڈیگو کی فلائٹ سے شری نگر سے دہلی آیا تھا ۔ملک کو ڈوبھال کے دفتر سردار پٹیل بھون کے علاوہ سی آئی ایس ایف کی سکیورٹی انتظام کا ویڈیو بنایا تھا یہ ویڈیو واٹس ایپ کے ذریعے پاکستانی ہینڈلر کو بھیجنے والے تھے ۔اس نے پوچھ تاچھ میں بتایا اسے ٹوہ کا ویڈیو جس پاکستانی ہینڈلر کو بھیجناتھا ان کا نام ڈاکٹر ہے ۔2019کی گرمیوں میں ہی اس نے سانبا سیکٹر بارڈر ایریا کی ٹوہ بھی لی تھی ۔اس نے ڈاکٹر کا نام سید دار رکھا تھا ۔دراصل جیش سرغنا مسعود اظہر اپنے بھتیجے اور پلوامہ حملے کے اہم ماسٹر مائنڈ رہے عمر فاروق کی مو ت کا بدلا لینے کے فراق میں تھا ہدایت اللہ نے بتایا پلوامہ حملے کے بعد جس طرح سے پاکستان کے بالا کورٹ میں ہندوستانی فوج نے ائیر اسٹرائک کی تھی اس سے مسعود ٓظہر مایوس ہے ۔اس کا ایک بھتیجا عمر فاروق پلوامہ حملے کی سازش کا اہم ماسٹر مائنڈ تھا وہ مارچ 2019میں مڈبھیڑ میں مارا گیا تھا اس سے پہلے بھی مسعود اظہر کے دورشتہ دار پلوامہ اور اترال میں سکیوٹی فورس کے ہاتھوں مارے گئے اس کے لئے وہ اجیت ڈوبھال کو خاص ذمہ دار مانتے ہیں اس لئے وہ ڈوبھال کو راستے سے ہٹانا چاہتا ہے ۔ہماری سکیورٹی فورسز نے وقت رہتے ہدایت اللہ ملک کو گرفتار کرکے ساری سازش کا پردہ فاش کردیا ہے ۔
(انل نریندر)
جمہوریت میں اختلافی آواز کیا ملک سے بغاوت ہے ؟
سپریم کورٹ نے کانگریس ایم پی ششی تھرور اور صحافی راجدیپ سر دیسائی سمیت دیگر چھ صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر کو لیکر ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ۔معاملہ 26جنوری پر کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران ہوئے تشدد کو لیکر مبینہ طور پر گمراہ کن ٹوئیٹ کا ہے ۔چیف جسٹس ایس اے بووڑ ے کی سربراہی والی بنچ نے تھرور دیسائی مرنال پانڈے ،ظفر آغا ،ونود دوا اور اننت ناگ کی عرضی پر مرکز اور دیگر کو نوٹس جاری کرکے ان کا جواب مانگا ہے ۔بنچ نے کہا کہ وہ اس معاملے میں نوٹس نہیں جاری کررہی ہے تو تھرور کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ تب تک عرضی گزاروں کے خلاف کوئی سزا سے متعلق کاروائی نہیں ہو بنچ نے کہا اس پر کچھ نہیں ہونے جارہا ہے خطرہ کہاں ہے ؟ سبل نے عدالت کے اس ریمارکس پر بھی اعتراض جتایا اور کہا کہ دہلی پولیس کی طرف سے پیش ہوئے سالی شیٹر جنرل اور پولیس بھی ہمارے کلائنٹ کو گرفتار کرنے کیلئے پہونچ سکتی ہے معاملے کی سماعت کے دوران ان کا تحفظ کیا جائے تب سپریم کورٹ نے سرکار وکیل تشار مہتا سے پونچھا کہ کیا پولیس گرفتاری کی تیار ی کررہی ہے ؟ تشار مہتا نے کہا کہ ٹوئیٹ توہین آمیز ہے ان کے لاکھوں فالوورس ہیں ہم دکھا سکتے ہیں ان کے ٹوئیٹ کا کیا مقصد ہوگا ۔تب بنچ نے سوال کیا کیا آپ (پولیس گرفتار کرنے جارہی ہے؟ )تشار مہتا نے کہا کہ ہم آپ کے سامنے ہیں معاملے کیلئے رکھا جائے سپریم کورٹ نے کہا ہم معاملے کی سماعت دو ہفتہ بعد کریں گے اس لئے عرضی گزاروں کی گرفتاری پر روک لگاتے ہیں ۔دنیا بھر میں سب سے قابل احترام ہے جمہوریت ایک دن میڈیا نا رہے تو اخبار نہیں نکل سکتا اگر اس میں اختلافی رائے کے معاملے کی منفی رائے یقینی نا کریں ۔سرکار کا اختلاف ملک سے بغاوت نہیں ہے نا ہی بیرون ممالک کے مقبول لوگوں اور اداروں کا بھارت کی تازہ حالات کو لیکر منفی تبصرہ یا ملکی اختلافی نظریہ ہے ۔1990کی دہائی میں امریکی کانگریس میں کشمیر اور پنجاب کو لیکر اس وقت حکومت ہند کے خلاف ایک ملامتی پرستاو¿ پاس ہوتے تھے ۔لیکن جیسے ہی بھارت سرکار نے امریکہ کو سچائی بتانا شروع کی تو امریکی کانگریس سرکار کے حق میں ہوگئی اگر سرکار صحیح ہے تو سنجیدگی سے اپنا موقف بھی رکھ سکتی ہے ۔کچھ ایسے ہی سرکاری عدم رواداری کا ثبوت دیش میں بھی اختلافی آوازوں کے خلاف دیکھنے کو مل رہاہے ۔بھارت کے قوانین میں ملک سے بغاوت کی ابھی تک کوئی واضح تشریح نہیں ہے ۔خطرہ یہ ہے ملک دشمنوں کوتلاشنے کے اس نئے دھندے کو کٹر نوجوان ریاست کی موت کااتفاق مان کر سماج نے ایک نیا واویلا شروع کر سکتے ہیں ۔پی ایم کے اختلافی آوازوں کو آندولن چلانے والے اور پیسہ لگانے والے آئیڈیا لوجی یعنی غیر ملکی تباہ کن نظریات بتانا جمہوریت میںاختلافی عدم رواداری کا بنیادی جذبہ تو نہیں لگتا ۔
(انل نریندر)
یہ ہم دو ،ہمارے دو کی سرکار ہے !
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پچھلے جمعرات کو تین زرعی قوانین کو لیکر مرکزی سرکار کو گھیرتے ہوئے نیا الزام لگایا کہ یہ سرکار ہم دو ،ہمارے دو کی سرکار ہے ۔لوک سبھا میں عام بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان قوانین سے منڈیاں ختم ہو جائیں گی اورزرعی سیکٹر کچھ بڑے صنعتکاروں کے کنٹرول میں آجائے گا ۔راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کے بدھوار کو دئیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن صرف آندولن کی بات کررہی ہے لیکن قوانین کے مواد اور ان کے فائدے کے بارے میں نہیں کچھ کہہ رہی ہے ۔میں ان قوانین کے مواد اور نفع نقصان کے بارے میں بتاتا ہوں ۔انہوں نے کہا پہلا قانون کا مواد یہ ہے کہ کوئی بھی شخص دیش میں کہیں بھی اور کتنا بھی اناج سبزی ،اور پھل خرید سکتا ہے ۔اگر خریداری لا محدود ہوگی پھر منڈی میں کون جاکر خریدے گا ۔اس کا کنٹینٹ منڈیاں ختم کرنے کا ہے کانگریس نیتا نے کہا دوسرے قانون کا مواد ہے کچھ صنعتکار جتنا چاہیں اتنا اناج سبزی پھل جمع کر سکتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ دوسرے قانون کا مواد لا محدود جمع خوری شروع کرنا ہے ۔انہوں نے تیسرے قانون کے مواد کے بارے کہا جب کسان اپنی پیداوار کا صحیح دام مانگے گا تو اسے عدالت میں جانے نہین دیاجائے گا راہل نے دعویٰ کیا کہ یہ قانون کا میٹر یہ ہے کہ ان کے (سرکار کے دوستوں میں سے ایک سب سے بڑے دوست کو سارے اناج ، سبزی اور پھلوں کو بیچنے کا حق دیتا ہے ۔انہوں نے کہا ان قوانین کے بعد دیش کا زرعی سیکٹر دو چار صنعتکاروں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا ۔کچھ صنعتکار جمع خوری کریں گے اور لوگ بھوکے مر جائیں گے ۔اور دیش میں روزگار پیدا نہیں ہو پائیں گے ۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا پردھان منتری جی کہتے ہیں کہ انہوں نے متبادل دے دیا ہے اور بھوک بے روزگاری اور خودکشی کا متبادل ضرور دیا ہے ۔حکمراں فریق کے ممبران کے یہ کہنے پر کہ بجٹ پر بولیے ،راہل گاندھی نے کہا کسان بھی بجٹ کا حصہ ہے ان کا احترام کرائیے کسان آندولن کا حوالہ دیتے ہوئے راہل نے کہا یہ کسانوں کا اندولن نہیں ہے یہ دیش کا آندولن ہے ۔کسان راستہ دکھا رہا ہے ایک آواز سے پوراد یش” ہم دو ،ہمارے دو “ کی اس سرکار کےخلاف کسان آواز اٹھا رہے ہیں ۔کسان ایک انچ پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے ،کسان آپ کو ہتا دے گا،قانون واپس لینا ہی ہوگا اپنے بیان کے آخیر میں راہل گاندھی نے کہ یہ کسان آندولن میں جان گنوانے والے کسانوں کے احترام میں دو منٹ کی خاموشی رکھیں گے وہ اور تمام اپوزیشن کچھ دیرتک خاموش رہ کر شہید ہوئے کسانوں کو سردھانجلی پیش کی لیکں حکمراں فریق سے ایک بھی ایم پی کھڑا نہیں ہوا ۔کسان آندولن میں مارے گئے کسانوں کو شردھانجلی دینا ان کا سمان کرنا تھا لیکن حکمراں فریق کو اتنا بھی منظور نہیں تھا ۔راہل گاندھی کا نعرہ ہم دو ،ہمارے دو زور دار رہا ۔جب وہ بول رہے تھے حکمراں فریق کے کچھ ایم پی بول اٹھے کہ ان کے نام کھل کرکیوں ہیں لیتے ؟ آپ کھل کر نام لیں امبانی اڈانی کا ۔راہل نے جو کھل کر نہیں بولا وہ ان حکمراں فریق سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ نے کہہ ڈالا ۔
(انل نریندر)
14 فروری 2021
1.70کروڑ روپے کا لہنگا!
دہلی کے فارن پوسٹ آفس سے ڈرگس کا دھندہ کرنے والے کچھ مافیہ ڈرگس کی لین دین کو انجام دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔اسی سلسلے میں آئی ٹی او علاقہ میں (ہمارے دفتر کے سامنے)آسٹریلیا کے لئے کچھ لہنگوں کے ایک پارسل کو پکڑا گیا ہے جانچ کرنے پر ان لہنگوں میں گوٹیں اور لیس کے نیچے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کی پارٹی ڈریس بھی برآمد ہوئی ائیر کارگو کسٹم ایکسپورٹ کمشنر کاجل سنگھ نے بتایا کہ سات لہنگے تھے یہ نوئیڈا پوسٹ آفس سے دہلی کے ایک پی او بھیجے گئے تھے ۔کچھ بک کرنے والے کے بارے میں معلومات کی جا رہی ہے ۔معاملے میں بڑے سنڈیکیٹ کا خلاصہ ہو سکتا ہے ۔اس کے تار راجستھا ن سے جڑے لگ رہے ہیں ۔پارسل راجستھان سے نوئیڈا کے پتہ پر آسٹریلیا بھیجے جانے کے لئے بک کیا گیا تھا ۔اب شبہ ہے کہ کچھ اسمگلر بڑے پیمانہ پر ڈھونے والے پوسٹ آفس سے کے ذریعے سے بھی اسمگلنگ کررہے ہیں ۔ڈرگس ک ایک اورمعاملے میں چینئی سے قطر بھیجی جارہی پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کی ہشش ضبط کی گئی ہے ۔اس سنڈیکیٹ میں ایکسپورٹ اینڈ کسٹم ڈیارٹمنٹ کی ملی بھگت کی بات بھی سامنے آرہی ہے ۔اسمگلر نئے نئے طریقہ ڈھونڈنے میں لگے ہیں ۔حکام کو اور زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔
(انل نریندر)
ٹوئیٹر اور مودی سرکار میں ٹکراو ¿!
سینٹرل الیکٹرونکس انفارمیشن ٹکنالوجی و وزیرقانون روی شنکر پرساد کے مطابق بھارت میں شوشل میڈیا کمپنیوں نے دوہرے پیمانے اپنا رکھے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب امریکہ کے کیپٹل ہل پر جھگڑا ہوتا ہے تو شوشل میڈیا وہاں کے صدر تک کے اکاو¿نٹ پر روک لگا دیتی ہے جمعرات کو راجیہ سبھا میں روی شنکر پرساد نے کہا کہ کیپٹل ہل کے واقعہ کے بعد ٹوئیٹر کی کاروائی کی حمایت کرتے ہیں ۔لیکن تعجب ہے لال قلعہ کے تشدد پر ٹوئٹر کا موقف الگ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر شوشل میڈیا کو غلط جانکاری اور جھونٹی خبریں پھیلانے کے لئے استعمال کیا جائے گا تو سرکار قانونی کاروائی ضرور کرے گی ۔یوم جمہوریہ پر دہلی کی سرحدوں پر آندولن کررہے کسانوں نے ٹریکٹر پریڈ نکالی تھی جس کی وجہ سے راجدھانی کے الگ الگ حصوں میں تشدد کی وارداتیں دیکھنے کو ملی تھی لیکن سب سے زیادہ معاملہ لال قلعہ پر تشدد پر گونجا جس کے بعد سرکار نے ٹوئیٹر کو تقریباً 11سو اکاو¿نٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیاتھا سرکار کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اکاو¿نٹس خالصتانی حمایتیوں کے ہیں یا پھر کچھ ایسے لوگوں کے بھی ہیں جو کئی مہینہ سے کسان آندولن یا 26جنوری کے واقعہ کے بارے میں گمراہ کررہے ہیں ۔غلط خبریں اور جھونٹی خبریں دے رہے ہیں ۔حکومت کی ہدایت کے بعد ٹوئیٹر نے کچھ اکاو¿نٹ تو بلا ک کردئیے لیکن بعد میں کچھ کو بحال کر دیا ۔ٹوئیٹر کی طرف سے بیان میں کہا گیا کہ اس نے میڈیا سے جڑے لوگ صحافی اور سماجی کارکن اور سیاست دانوںکے اکاو¿نس پر کوئی کاروائی نہیں کی ۔بیان کے مطابق ہم اظہار رائے کی آزادی کی وکالت کرتے رہیں گے اور ہم ہندوستانی قانون کے مطابق اس کاراستہ نکال رہے ہیں لیکن وزیرشنکر پرساد نے کہا آپ جب ایک پلیٹ فارم بناتے ہیں تو آپ خود ایک قانون بناتے ہیں جس میں طے کیا جا سکے کیا صحیح ہے اور کیا غلط اگراس میں بھارت کا آئین اورقانون کی کوئی جگہ نہیں ہوگی تو یہ نہیں چلے گا ۔اور کاروائی ہوگی کانگریس ایم پی ششی تھرور نے ایک آرٹیکل میں کہا آج کا بیرونی ممالک کے اخبارات بھارت میں آندولن کررہے ہیں اور کسانوں پر زیادتی ، انٹرنیٹ پر پابندی اور صحافیوںکے خلاف ملک سے بغاوت کے معاملے بھرے پڑے ہیں ۔اس سے دیش کی شاخ خراب ہورہی ہے ۔ٹوئیٹر کے بیان پر بینگلورو سے بی جے پی ایم پی تیجسوی سوچی کہتے ہیں کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ٹوئیٹر خود کو بھارت کے قانون سے اوپر سمجھ رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ ٹوئیٹر اپنی سہولت کے مطابق چن رہا ہے ۔کونساقانون بنے گا اور کونسا نہیں اس تازہ جھگڑے کو لیکر شوشل میڈیا پر کافی رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے لوگ اس تنازعہ کو لیکر سرکار کے حق میں اور احتجاج میں پوسٹ کررہے ہیں سائبر قانون کے ماہرین کہتے ہیں کہ ٹوئیٹر کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اسے بھارت کے قانون کے حساب سے ہی چلنا پڑے گا امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کےخلاف ٹوئیٹر نے خود ہی کاروائی کی ہے جبکہ بھارت میں سرکار کو حکم جاری کرنا پڑا لیکن ٹوئیٹر نے کیا کیا پہلے اکاو¿نٹ معطل کئے پھر ان کو بحال کر دیا وہیں کانگریس کے نیتا نوجوت سنگھ سدھو نے تنازعہ پر ٹوئیٹر سنسر شپ کے اٹیک کے ساتھ لکھا کہ کیا لکھوں قلم اکڑ میں ہے کیسے لکھوں ہاتھ تانا شاہ کی پکڑ میں ہے ۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ سرکار جو کررہی ہے وہ صرف اپنی نکتہ چینیوں کو روکنے کے لئے کررہی ہے اور نکتہ چینی کرنے والوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ سرکار کےخلاف کچھ نا بول سکیں۔
(انل نریندر)
چار ریاستوں کی جاٹ لینڈ پر کانگریس کی نگاہیں!
کسان آندولن سے پیدا ناراضگی کی لہر پر سوار ہو کر کانگریس نے شمالی ہندوستان کی چار اہم ریاستوں کے جاٹس فرقہ کو اپنے حق میں کرنے کی مہم چھیڑ دی ہے ۔کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بدھوار کو اترپردیش کے سہارنپور کے چلکانہ میں منعقدہ کسانوںکی مہا پنچایت میں شامل ہوئیں یہ وہی علاقہ ہے جہاں کانگریس نے اپنا مینڈیٹ کھو دیا تھا ۔دوسری طرف راہل گاندھی بھی راجستھان کے جاٹ اکثریتی علاقوں میں ریلیوں کی شروعات کررہے ہیں ۔شری گنج ناک اور ہنومان گڑھ میں ان کی دو ریلیاں 12اور 13 فرور ی کو ہوئی ہیں ۔ہریانہ میں کانگریس اپنے روایتی جاٹ ووٹ بینک کو متحد رکھنے کے لئے سابق وزیراعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا کو میدان میں اتارے ہوئے ہے ۔پنجاب میں بھی پارٹی کی یہ ہی حکمت عملی ہے ۔جاٹ لیڈر راکیش ٹکیت کے پولیس کاروائی کے دوران رونے کے واقعہ سے پورا جاٹ فرقہ غصہ میں ہے ۔ایسے میں اجیت سنگھ اور ان کے بیٹے جینت چودھری کے راشٹریہ لوک دل اور کانگریس نے ان پر سیاسی داو¿ لگایا ہے ۔جینت چودھری بھی بلند شہر میں کسانوں کی مہا پنچایت میں شامل ہوئے کانگریس کی نظر مغربی اترپردیش کی جاٹ اکثریتی شیٹوں پر ہے یہاں 12فیصدی جاٹ ہیں ۔اور اس علاقہ کی 44اسمبلی سیٹوں میں جاٹوں کا دبدبہ ہے ۔بھاجپا نے 2017میں چناو¿ میں ان میں سے 17 سیٹیں جیتی تھی ۔اگر یہ ووٹ شیئر منتقل ہوتا ہے اور کانگریس اور آر ایل ڈی اتحاد ساتھ جاتا ہے تو اقلیتی ووٹ کے ساتھ یہ ایک مضبوط تجزیہ بن سکتا ہے دوسری طرف جاٹ ووٹوں کے کھسکنے سے بھاجپا کو بھاری نقصان ہو سکتا ہے ۔مغربی یوپی میں اسے 43.6فیصد ووٹ ملے تھے ۔ریاست کی کل 41 فیصد ووٹ سے یہ دو فیصدزیادہ تھا ۔ایک چناو¿ سروے کے مطابق پچھلے عام چناو¿ میں 70.85فیصد جاٹوں کا ووٹ بھاجپا کو ملا تھا وہیں 2014 لوک سبھا کے چناو¿ سے پہلے 20فیصد سے کم ووٹ جاٹوں نے بھاجپاکو دیا تھا راجستھان میں بھی 90 فیصد ووٹوں کے ساتھ جاٹ فرقہ سب سے بڑا نسلی گروپ ہے ۔ریاست میں 200 ممبروں والی اسمبلی میں کم سے کم 37سیٹیں جاٹ اکثریتی آبادی والی ہیں ۔مارواڈ اور روکھا حلقہ کی 31 سیٹوں پر 25 جاٹ نیتا ہی جیت کرآئے اور پارٹی اسمبلی کے ساتھ لوک سبھا میں جاٹوں کا ووٹ جوڑنا چاہتی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...