Translater

30 مئی 2015

بہار اور مغربی بنگال میں اگر آج چناؤ ہوں تو... !

بھارتیہ جنتا پارٹی کے اچھے دن کا نعرہ مودی سرکار کے آنے کے ایک سال بعد بھی بہار اور مغربی بنگال کی عوام کو راس نہیں آرہا ہے۔ کم سے کم اے بی پی نیوز نیلسن کے تازہ سروے کے مطابق پہلے بات کرتے ہیں بہار کی۔ اس سروے کے مطابق بہار جہاں اسی برس اسمبلی چناؤ ہونے ہیں اگر آج چناؤ کرا دئے جائیں تو جنتا دل (یو) 127 سیٹیں لے کرسرکار بنا لے گی۔ بھاجپا کو 112 اور دیگر کو4 سیٹیں ملیں گی۔ اے بی پی نیلسن کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جے ڈی یو اتحاد جس میں آر جے ڈی اور کانگریس شامل ہیں کو بھاری فائدہ ملتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ بھاجپااتحاد میںآر ایل پی اور لوک جن شکتی پارٹی شامل ہے، کو نقصان ہو سکتا ہے۔ چناوی تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا ہے کیونکہ دونوں اتحاد کے درمیان فرق کافی کم ہے اور آخری مرحلے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی اتحاد بننے اور ٹوٹنے کے امکانات پر بھی چناؤ پنڈتوں نے حساب کتاب بٹھایا ہے۔ ریاست میں زیادہ تر لوگوں نے نتیش کمار کے کام کو سراہا ہے اور انہیں سب سے مقبول لیڈر مانا ہے جبکہ مقبولیت کے معاملے میں سشیل مودی ، لالو پرساد یادو، جتن رام مانجھی ، رام ولاس پاسوان، شتروگھن سنہا کے مقابلے نتیش کمار 52 فیصد لوگوں کی پہلی پسند ہیں۔ وہیں نریندر مودی اور نتیش کمار دونوں کی مقبولیت کے معاملے میں پی ایم پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ کل ملا کر کانگریس اگر اکیلے چناؤ لڑتی ہے تو اسے نقصان ہوگا اور یہی حالت بی جے پی کے ساتھ ہے۔ اکیلے چناؤ لڑنے پر اسے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔فی الحال اکیلے نتیش کمار کو فائدہ ہورہا ہے اور بھاجپا کو موجودہ حالات میں نقصان ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں سروے کے مطابق اگر ابھی وہاں اسمبلی چناؤ کرا دئے جائیں تو ممتا کی آندھی میں کانگریس لیفٹ پارٹیاں پہلے سے زیادہ حاشیئے پر چلی جائیں گی جبکہ بی جے پی محض اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب ہوپائے گی۔ اگر چناؤ ہوئے تو294 سیٹوں والی مغربی بنگال اسمبلی میں حکمراں ترنمول کانگریس 198 سیٹوں کے ساتھ واپسی کرے گی، کانگریس دوسرے نمبر پر بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئے گی اور وہ40 سیٹیں جیت سکتی ہے۔ تین دہائی سے زیادہ وقت تک حکومت کرکے پچھلے اسمبلی چناؤ میں اقتدار گنوانے والی لیفٹ پارٹیوں کی کارکردگی اس بار اور زیادہ خراب رہنے کے آثار ہیں۔ انہیں محض36 سیٹیں ہی ملنے کا اندازہ ہے۔ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کا کنول صرف 12سیٹوں پر کھل سکتا ہے۔آزاد اور دیگر کے کھاتے میں8 سیٹیں جا سکتی ہیں۔ اوپینین پول کے مطابق پچھلے اسمبلی چناؤ کے مقابلے ممتا کو ابھی14 سیٹوں کا فائدہ ملتا نظر آرہا ہے۔ یہ ٹھیک ہے یہ محض ایک سروے ہے اور اس کے نتائج سے نا اتفاقی ہوسکتے۔ابھی چناؤ دور ہیں لیکن ان دونوں ریاستوں میں حکمراں پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کی عوام میں مقبولیت کا تو پتہ لگتا ہے۔ بی جے پی اور خاص طور سے پارٹی صدر امت شاہ کیلئے چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

این جی او اور وزارت داخلہ میں چندے کو لیکر ٹھنی!

مودی سرکار نے غیر سرکاری انجمنوں (این جی او) پر شکنجہ کسنا شروع کردیا ہے۔ یہ دیش کی پہلی حکومت ہے جس نے بیرونی چندے کے بارے میں شفافیت نہ برتنے اور غیر ملکی چندہ قانون ایکٹ (ایف سی آر اے) کی صحیح طریقے سے تعمیل نہ کرنے کے لئے 9 ہزار سے زیادہ این جی او پر نکیل کس دی ہے۔ زیادہ تر کے کھاتے سیل بند کردئے گئے ہیں۔ غیر ملکی چندہ لینے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں سرکار نے کہا کہ ایک سال میں 164 ملکوں سے 11878 کروڑ روپے غیر سرکاری انجمنوں کے پاس آئے۔ ان انجمنوں نے یا تو اس کا ذکر انکم ٹیکس ریٹرن میں نہیں کیا تھا پھر اپنے اعلان کردہ کام کے دائرہ کار سے باہر جاکر پیسہ خرچ کیا۔ وزارت داخلہ نے 30 ہزار سے زیادہ این جی او کو ایک سی آر اے قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں نوٹس جاری کئے ہیں۔ 9 ہزار سے زیادہ این جی او پر پابندی لگادی ہے۔ کئی غیر سرکاری انجمنوں کا نام لیکر سرکار نے پارلیمنٹ میں تحریری طور پر دعوی کیا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں سے ان کے خلاف منفی رپورٹیں ملی ہیں سب سے زیادہ پیسے امریکہ سے آئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر برطانیہ اور پھر جرمنی کے عطیہ کنندگان رہے ہیں۔ دیش میں ہر سال قریب ڈھائی ہزار کروڑ روپے کا غیر ملکی چندہ غیر سرکاری انجمنوں کے کھاتے میں آرہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں یا منافع کمانے والی انجمنوں کو چندہ دینے کے الزام میں سرکار نے فورڈ فاؤنڈیشن کو نگرانی لسٹ میں رکھا۔ غیر سرکاری انجمنوں کا الزام ہے کہ انہوں نے مودی سرکار کی پالیسیوں مثلاً اراضی تحویل بل ، سماجی سروکاروں ، منریگا، تعلیم، ہیلتھ وغیرہ اشوز میں کٹوتی کے خلاف سڑک سے پارلیمنٹ تک تحریک چلائی اس لئے سرکار ان سے ناراض ہے۔ سرکار اسے ایف سی آر اے کی دفعہ 3 کے سب سیکشن 5(1) کی خلاف ورزی مان بیٹھی ہے کیونکہ یہ دفعہ سیاسی طریقہ کار پر غیر ملکی چندے کا استعمال کو ممنوع کرتی ہے۔ ان میں ایک تنظیم ہے ’گرین پیس‘۔ مرکزی سرکار میں گرین پیس کا غیر ملکی چندہ رجسٹریشن منسوخ کرنے کے اپنے فیصلے کا بچاؤ کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں منگلوار کو کہا کہ اس غیر سرکاری انجمن نے متعلقہ اپنے اختیارات کو بتائے بغیر غیر ملکی گرانٹ کا استعمال کرنے کے لئے پانچ کھاتے کھول دئے تھے۔ وزارت داخلہ نے جسٹس راجیو شکدھر کے سامنے پیش حلف نامے میں الزام لگایا کہ گرین پیس نے اپنی غیر ملکی گرانٹس کو گھریلو گرانڈ کے ساتھ ملا کر غیر ملکی چندہ ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کی خلاف ورزی کی ہے۔ ادھر گرین پیس نے وزارت داخلہ پر میڈیا کو ہتھیار بنا کر گرین پیس انڈیا کو بدنام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ این جی او نے کہا ہے کہ ہم وزارت داخلہ کو قانونی نوٹس بھیج رہے ہیں۔ جس میں وزارت سے غیر مشروط معافی مانگنے اور بے بنیاد الزامات واپس لینے کی مانگ کی گئی تھی۔ ہمارا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سرکار سختی سے نمٹے۔ ساتھ ہی خفیہ ایجنسیوں سے ان کے سلسلے میں جو منفی رپورٹیں ہیں ان کا خلاصہ بھی رکھے۔
(انل نریندر)

28 مئی 2015

IS plans to buy Atom Bomb from Pakistan

A terror suicide attack during Friday prayer at a Shia mosque in Saudi Arabia is shocking.  Usually Saudi Arabia is believed to be a safe country where terror attacks are rare. In a fresh incident 21 persons died in this suicide attack in East Katik province of Saudi Arabia on Friday while more than 60 people were injured.  Many of the injured are serious.  Terrorist set-up Islamic State has claimed the responsibility of the attack. An eye witness told that a suicide assailant destroyed himself in Imam Ali mosque at Al Quadil village which caused a huge blast in the mosque. About 150 people were present in the mosque at the time of the incident. Saudi Arabia government is also aware of the intentions of all Sunni extremist organizations including Islamic State (IS).  The government already feared that efforts may be put to enhance the racial clash by attacking on Shias in Saudi Arabia. The government has told that it has tracked the cell of about 65 strong terrorists and disabled them. Shias participate 10 to 15 per cent in total population of Saudi Arabia. Shias populate mostly in two oasis districts Gulf Beach and Al Sahsa of Katik province. There is serious news relating to IS. Islamic State (IS) has claimed that it is nearing to buy atom bomb from Pakistan and it will attack on United States. IS captured Photo journalist John Katley has written in an article for the magazine of the organization that situations are more favourable to get atom bomb than last year. Katley was captured two years ago and he is being used for propagating its threats worldwide. Katley has written in an article named ‘The Perfect Storm’ that Islamic State has billion dollars in banks and it will achieve atom bomb very soon by bribing corrupt Pakistani officials. But it is more dangerous thing that this article says that this bomb will be smuggled to United States. IS started from Iraq-Syria has turned today into a danger for the entire world. Its heat is being experienced by the countries of Western Asia including Europe and America. The situation may worsen, if western countries do not take any action.  IS intends to bring the entire area once under the Islamic rulers in the history within the khilafat. Besides, this organization marching ahead on the mission of establishing Islamic rule in Europe and America also has become a challenge for the entire world. We expect that Pakistan will secure its atomic weapons and won’t let it go to the Islamic State in any circumstances. The US too will have to put pressure on Pakistan.

- Anil Narendra

مودی سرکار کا ایک برس!کارنامے اور چیلنج

دھوم دھام سے آئی مودی سرکار نے ایک سال پورا کرلیا ہے۔ ایک برس کے کارنامے بتانے کیلئے بھاجپا 26 مئی سے31 مئی تک دیش بھر میں ریلیاں منعقد کررہی ہے۔کچھ بڑے لیڈروں کے علاوہ بی جے پی ایم پی بھی پانچ ہزار ریلیاں کریں گے۔ جن کلیان فیسٹول کے تحت دیش بھر میں 200 ریلیاں ہوں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان سبھی پروگراموں کے ذریعے بھاجپا کے نیتا و وزیر اعظم نریندر مودی عام آدمی کو یہ یقین دلا پانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں کہ مودی سرکار نے ایک برس میں حقیقت میں تمام کام کردکھائے ہیں؟ یہ سوال اس لئے کیونکہ عام جنتا نے مودی سرکار سے ضرورت سے زیادہ امیدیں لگا رکھی تھیں اور کیونکہ وہ سبھی پوری نہیں ہوئیں اس لئے ایک بے چینی سی بھی محسوس کی جارہی ہے۔ جن سنگ کے آئیڈیا لوجسٹ دین دیال اپادھیائے کے آبائی وطن متھرا میں ہوئی ریلی میں خود کو دیش کا پرنسپل ٹرسٹی اور سنتری بتا کر یہی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مودی سرکار کے آنے سے حکومت کے طور طریقے بدل گئے ہیں۔
مودی سرکار کے ایک سال کے عہد میں ایک جائزہ سامنے آیا ہے۔’’اسٹاوانی‘‘کے ذریعے کئے گئے اس سروے کے مطابق قریب تین چوتھائی لوگ مودی سرکار کے کام کاج سے مطمئن ہیں۔ وہیں میٹرو شہروں کے 82 فیصد اور غیر میٹرو شہروں کے 74 فیصدی لوگوں کا خیال ہے کہ اقتصادی ترقی کے محاذ پر سرکار صحیح سمت میں بڑھ رہی ہے۔ پچھلے ایک سال میں کرپشن کا کوئی ہائی پروفائل معاملہ سامنے نہ آنے کے سبب بھی لوگوں کے دل میں مودی حکومت کے تئیں مثبت تاثر قائم ہوا ہے۔ وہیں صفائی کے مسئلے پر میٹرو شہروں کے 86 فیصد لوگوں نے سرکار کو صد فیصد نمبر دئے ہیں۔ امیدوں کے برعکس مودی نے فوج کے لئے ایک رینک ایک پنشن یا پھر کسانوں سے متعلق بڑے اعلانات تو نہیں کئے تھے لیکن یہ جتانے کی کوشش کی کہ ان کی حکومت غریبوں اور ترقی کے فائدوں سے محروموں کے لئے فکر مند ہے۔ امکان ایسا اس لئے ہے کیونکہ زمین ایکوائر قانون ترمیم کو لیکر پارلیمنٹ اور اس کے باہر سرکار اور اپوزیشن کے درمیان جاری ٹکراؤ سے سرکار کی ساکھ پر اثر پڑا ہے لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ مودی سرکار نے رسوئی گیس کیلئے نقد سبسڈی ، جن دھن یوجنا، سماجی پنشن سے لیکر آدھار کارڈ اور چھوٹے کاروباریوں کے لئے کرنسی بینک کا قیام جیسی پہل کی ہیں جو اسے سیدھے نچلے طبقے سے جوڑتی ہیں۔ حالانکہ مودی سرکار کا سب سے بڑا کارنامہ تو یہی ہے کہ اس پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا ہے اور جس وجہ سے یوپی اے اور خاص طور پر کانگریس کی اتنی درگتی ہوگئی کہ اسے منظور شدہ اپوزیشن پارٹی کے درجے لائق سیٹیں بھی نہیں مل پائیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی لال فیتاشاہی کو کم کرنے اور گڈ گورننس لانے کے وعدے کے ساتھ بھاری اکثریت سے اقتدار میں آئے تھے۔ انہوں نے اپنی چناؤ مہم کے دوران ترقی میں آنے والی انتظامی اڑچنوں کو دور کرنے کے وعدے کئے تھے۔ ایسے میں دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس دوران ان میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔ ایک نظر ان وعدوں پر ڈالتے ہیں جو ایک برس میں مودی نے پورے کئے ہیں۔ 
انتظامیہ میں شفافیت لانے میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ریاستی سرکاروں کے وسائل کا الاٹمنٹ بڑھا دیا ہے۔ اب ریاستی حکومتیں فیصلہ کرسکتی ہیں کہ وہ ترقی کے جس پروجیکٹ پر جتنا چاہے خرچ کرسکتی ہیں۔ پلاننگ کمیشن کی جگہ پر نیتی آیوگ بے شک بن گیا ہے لیکن اس کا رول اب تک واضح نہیں ہوا ہے۔ پہلے کوئی صنعت لگانے میں کئی فارم بھرنے پڑتے تھے اب صنعتی پالیسی اور پروسسنگ محکمے نے ان سب کو جوڑ کر ایک فارم بنا دیا ہے ،وہ بھی ’’ای ۔فارم‘‘ کی شکل میں۔ ایسے بہت سے قانون تھے جو بوسیدہ ہوچکے تھے اور جن سے فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہوا کرتا تھا۔ انہیں بدلنے یا ہٹانے کی ضرورت تھی۔ مودی سرکار نے ایسے قوانین کی پہچان کی ہے تاکہ انہیں ہٹایا جاسکے۔ ایسے بھی کئی وعدے ہیں جو اب تک پورے نہیں ہوسکے۔اقتدار کی لا مرکزیت کا وعدہ پورا نہیں ہوا ہے۔ یہ ایک لمبا کام ہے۔ 
ریاستی حکمتوں کو زیادہ اختیارات دینے کے لئے آئین میں کافی ترمیم کرنی ہوگی۔ مودی ’ون مین بینڈ ‘ ہیں۔ اقتدار کی لامرکزیت کھوتی جارہی ہے اور یہ کافی حد تک صحیح ہے ۔ اس سے ایک فائدہ ضرور ہے کہ جس کام پر توجہ دینی ہو جلد ہوجاتا ہے لیکن نقصان یہ ہے کئی لوگ طاقتور محسوس نہیں کرتے۔اس کمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی ریاستی سرکاریں مرکز سے غیر متفق ہیں اس کو دور کرنے کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ مالی سیکٹر میں کچھ اصلاحات ہونی تھیں جو نہیں ہوپائیں۔ 
لیبر اور متعلقہ سیکٹر میں اصلاحات ہونا تھا جو اب تک نہیں ہوسکا ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ سرکار کے اس پورے ایک برس کا مرکز خود وزیر اعظم نریندر مودی ہی رہے ہیں جو ایک مضبوط لیڈر بن کر ابھرے ہیں۔ لہٰذا سرکار کے کام کاج میں چاہے وہ ’’سوچھتاابھیان‘‘ ہو یا پھر ’’میک ان انڈیا‘‘ ان پر سیدھے ان کی چھاپ دکھائی پڑتی ہے۔ اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ سرکار کے سامنے چیلنج بھی کم نہیں ہیں۔ مثلاً جہاں دیش کے 60 کروڑ لوگوں کیلئے ٹوائلٹ کا انتظام اب بھی بڑی چنوتی ہے وہیں 18 ملکوں کے دورے کر عالمی لیڈر کی شکل میں سامنے آنے کے باوجود پی ایم کی پہل سرمایہ کاروں کو خاص بھارت کی طرف راغب نہیں کرسکی۔ اچھے دن کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے مودی نے کہا کہ عام لوگوں کے لئے برے دن گئے اور برا کرنے والوں کے اور برے دن آئیں گے۔ 
انہیں دھیان رکھنا ہوگا کہ پچھلی سرکار کی ناکامیوں پر ایک حد تک ہی بات کی جاسکتی ہے۔ آخر جنتا ان کی سرکار کے کام کاج کو ہی کسوٹی پر پرکھے گی۔ مودی سرکار کے سامنے ایک بڑی چنوتی ان تمام اسکیموں کے نتیجے عام آدمی تک پہنچانے کی بھی ہے جو پچھلے سال میں شروع کی گئی ہیں۔بلا شبہ مودی سرکار نے کئی ایسے منصوبے شروع کئے ہیں جو عام جنتا کے مفادات کی تکمیل کرنے والے ہیں لیکن ان کے نتیجے آنے باقی ہیں۔
(انل نریندر)

27 مئی 2015

نیتا جی سبھاش چندر بوس سے وابستہ فائلیں عام کریں

نیتا جی سبھاش چندر بوس کے موت کے معمے کو لیکر دیش بھر میں چھڑی بحث کے درمیان انکشاف ہوا ہے کہ ان سے وابستہ 64 فائلیں کولکتہ میں ہی رکھی ہوئی ہیں۔ نیتا جی کے وارث و پڑپوتے ابھیجیت رائے کا کہنا ہے کہ 1947 سے لیکر 1968 تک کی گئی جاسوسی و دیگرچیزوں سے وابستہ فائلیں مغربی بنگال سرکار کے پاس رکھی ہیں۔ دراصل پچھلے دنوں نیتا جی و ان کے خاندان سے متعلق لوگوں کی 20 سال تک جاسوسی کرانے کے انکشاف کے بعد ان سے وابستہ فائلوں کو عام کئے جانے کی مانگ تیزی سے اٹھنے لگی ہے۔ ابھیجیت رائے نے بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں میں جن دو فائلیوں کے سبب دیش میں سنسنی پھیلی ہے وہ کولکتہ میں لارڈ سنہا روڈ پر واقع اسپیشل برانچ کے دفتر میں ایک لاکر میں بند ہیں۔ اسی دفتر میں ایک دوسرے لاکر میں 62 دیگر فائلیں بھی ہیں جنہیں ابھی سامنے نہیں لایاگیا۔ سبھاش چندر بوس پر کتاب لکھنے والے انوج دھر نے بھی اس حقائق کی حمایت کی ہے۔دھر کا کہنا ہے چٹرجی کمیشن کی اسٹیٹس رپورٹ میں بھی اس کا ذکر کیا گیا تھا۔ غور طلب ہے کہ پچھلے سال فروری میں مغربی بنگال حکومت نے اطلاع کے حق کی بنیاد پرمانگی گئی جانکاری میں کہا تھا کہ اس کے پاس نیتا جی سے وابستہ کوئی فائل نہیں ہے جو فائلیں تھیں وہ سامنے لائی جاچکی ہیں۔ نیتا جی کے ایک اور بھتیجے چندر کمار بوس ریاستی سرکار کی خاموشی سے حیران ہیں۔ انہوں نے کہا یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی کے بھائی سوریہ بوس سے بیرون ملک میں ملنے کیلئے اپنے مصروف ترین پروگرام میں سے 40 منٹ نکالتے ہیں اور ان کی مانگ سنتے ہیں لیکن وزیر اعلی ممتا بنرجی اس برنگ اشو پر بیان تک نہیں دے سکی ہیں۔ بھاجپا نے مغربی بنگال سرکار سے کہا ہے کہ وہ ریاست کے وزارت داخلہ میں پڑی نیتا جی سے متعلق فائلوں کو سامنے لائیں۔ نیتا جی کے لاپتہ ہونے سے وابستہ اور مرکز کے پاس موجود فائلوں کو عام کرنے پر غور و خوض کے لئے ایک کثیر وزارتی کمیٹی بنانے کے بعد بھاجپا نے ممتا سرکار پر دباؤ بناتے ہوئے رائے زنی دی ہے ۔ غور طلب ہے کہ نیتا جی کے پڑ پوتے چندر کمار بوس نے دعوی کیا ہے کہ ان کے خاندان کے 23 افراد وزیر اعلی کو 6 بار خط لکھ کر اس کی مانگ کرچکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کانگریس کیوں سبھاش چندر بوس کے ماضی گذشتہ کو سامنے لانے سے ڈر رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ کانگریس سرکار کو پتہ تھا کہ اگر بوس جہاز حادثے میں نہیں مارے گئے تھے تو وہ کسی غیر ملکی جیل میں ہوں گے۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے کنبے کے ممبر چندر بوس نے فائلوں کو عام کرنے پر غور کرنے کیلئے مرکز کے قدم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہم نے جواہر لال نہرو سے لیکر منموہن سنگھ تک سبھی وزرائے اعظم کو فائلیں عام کرنے کے لئے خطوط لکھے لیکن کسی نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی لیکن ان کے بڑے بھائی سوریہ سے ملنے کے24 گھنٹے کے اندر مودی نے کارروائی کی جسے لیکر ہم خوش ہیں۔نیتا جی سے متعلق ہر معلومات کو عام کیا جائے یہ دیش کی مانگ ہے۔
(انل نریندر)

ایکسپریس وے پر ایئر فورس کا فائٹر جیٹ

ہنگامی حالات میں جنگی جہازوں کو اتارنے کے لئے قومی شاہراؤں کا استعمال کرنے کے مقصد سے کئے گئے ایک تجربے کے تحت انڈین ایئر فورس کا ایک جنگی جہاز میراج 2000- جمعرات کی صبح متھرا کے قریب جمنا ایکسپریس وے پر کامیابی سے اتارا گیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب انڈین ایئر فورس کا کوئی جہاز کسی قومی شاہراہ پر اترا ہے۔ ایسا اس بات کی جانچ کرنے کیلئے کہا گیا ہے کیاکسی ہنگامی صورت میں ہوائی جہاز کو نیشنل ہائیوے پر اتارا جا سکتا ہے یا نہیں؟ بھارت سے پہلے چین و پاکستان ، سوئیڈن، جرمنی، سوئٹر لینڈ، ساؤتھ کوریا اور سنگا پور میں ایئر فورس کے لئے روڈ رن وے بنے ہیں۔ پاکستان نے2010 ء میں اسلام آباد ، لاہو موٹروے کے ایک حصے پر اپنی ایئر فورس کے لئے روڈ رن وے کی شکل میں شاہراہ بنا لی تھی۔ متھرا کے پاس مائل اسٹون۔118 کا تین کلو میٹر حصہ پلین لینڈنگ کے لئے صحیح مانا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی یہ ایکسپریس وے کے باقی حصوں سے زیادہ موٹا اور مضبوط تھا۔اسی حصے کی چوڑائی 20 میٹر تھی جو ایئر فورس کے رن وے سے بھی زیادہ پائی گئی۔ سڑک کے دونوں طرف 110 میٹر کی زمین خالی پڑی تھی اس حصے کو سیل بند کر سلامتی کے لحاظ سے ایئر فورس یا سی آئی ایس ایف کو سونپا جاسکتا ہے۔ ایئر فورس کی کوشش ہے کہ دیش میں ایسے اور نیشنل ہائی ویز کی پہچان کی جائے جن پر ضرورت پڑنے پر جنگی جہازوں کو اتارا جاسکے۔ جمنا ایکسپریس وے دیش کی سب سے اچھی قومی شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ حالانکہ اس سے کچھ دوری پر جمنا کی دوسری طرف آگرہ کو دہلی سے جوڑنے والا جو نیشنل ہائی وے 93- ہے اور دہلی کو لکھنؤ سے جوڑنے والا نیشنل ہائی وے ۔24 ہے یہ دونوں قومی شاہراہیں کسی قصبے کے گنجان راستے کی یاد دلاتی ہیں۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ جہاں ہم دیش کی کچھ قومی شاہراہوں پر ہوائی جہاز اتار سکتے ہیں وہیں بہت ساری سڑکوں پر وہ گاڑی بھی آسانی سے نہیں چلا سکتے جن کے لئے وہ سڑکیں بنی ہیں۔ اچھی سڑک بنانے کی تکنیک کوئی چاند پر راکٹ بھیجنے جیسی یا نیوکلیائی پیچیدہ اور مشکل تکنیک نہیں ہے، نہ ہی وہ بہت مہنگی ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم اچھی سڑکیں نہیں بنا پاتے تو اس کی وجہ صرف لاپروائی اور کرپشن ہے۔ سنگل انجن والا میراج۔2000 چوتھی پیڑھی کا ملٹی رول جیٹ فائٹر جہاز ہے۔ فرانس کی داسو کمپنی نے اسے بنایا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 2495 کلو میٹر یا 1550 میل فی گھنٹہ ہے۔ 1999 ء میں کارگل جنگ کے دوران پاکستانی ٹھکانوں پر بمباری کے بعد یہ جہاز سرخیوں میں آیا تھا۔ 2011ء میں تیار کمپنی کے ساتھ 50 میراج جہازوں کا جدیدی کرن کرنے کا معاہدہ ہوا تھا اس کے تحت اس سال مارچ میں کمپنی سے دو جدید ترین میراج ایئر فورس کو ملے ہیں۔ ایئر فورس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے یہ مہم آگرہ اور متھرا کے ضلع مجسٹریٹوں و پولیس سپرنٹنڈنٹ کے تال میل سے چلائی گئی۔ زمین پراترنے سے پہلے جہاز100 میٹر نیچے آیا اور پھر غوطہ کھا کر سڑک کو تقریباً چھوتا ہوا اوپر چلا گیا اس کے بعد جہاز پھر نیچے آیا اور قومی شاہراہ پر اترا۔ ہم انڈین ایئرفورس کو اس کارنامے پرمبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

26 مئی 2015

آئی ایس کا پاکستان سے آئٹم بم خریدنے کا پلان

سعودی عرب میں ایک شیعہ مسجد پر نماز جمعہ کے دوران ایک دہشت گرد فدائین حملے نے چونکا دیا ہے۔عامطور پر سعودی عرب ایک محفوظ ملک مانا جاتا تھا جہاں کم ہی دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں۔ تازہ واقعہ سعودی عرب کے مشرقی کاتف صوبے میں جمعہ کو ہوئے اس فدائین حملے میں21 لوگوں کی موت ہوگئی تھی جبکہ60 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) نے لی ہے۔ ایک چشم دید نے بتایا الکوادی گاؤں میں واقع امام علی مسجد میں ایک فدائین حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔ اس کی وجہ سے مسجد میں ایک بڑا دھماکہ ہوا۔ واقعے کے وقت قریب150 لوگ مسجد میں موجود تھے۔ سعودی عرب سرکار بھی اسلامک اسٹیٹ سمیت تمام سنی کٹر پسند تنظیموں کے ارادوں سے واقف ہے۔ سرکار کو پہلے ہی اندیشہ تھا کہ سعودی عرب میں شیعوں پر حملے نسلی لڑائی کو بڑھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔حکومت نے بتایا کہ اس نے آئی ایس سے تعلق رکھنے والے قریب65 طاقتور دہشت گردوں کے سیل کا پتہ لگایا ہے اور انہیں ناکام کیا ہے۔ سعودی عرب نے 10 سے 15 فیصدی کل آبادی میں شیعوں کی حصہ داری ہے۔ کاتف صوبے کے دونخلستان اضلاع خلیجی ساحل الاہما میں زیادہ تر شیعہ آبادی رہتی ہے۔ آئی ایس سے متعلق ایک بڑی تشویشناک خبر آئی ہے۔ اسلامک اسٹیٹ(آئی ایس) نے دعوی کیا ہے کہ وہ پاکستان سے آئٹم بم خریدنے کے کافی قریب پہنچ گئی ہے اور اس کا حملہ وہ امریکہ پر کرے گی۔ آئی ایس کے ذریعے یرغمال فوٹو جرنلسٹ جان کیٹلی نے اس تنظیم کی میگزین کے لئے لکھے آرٹیکل میں کہا ہے کہ پچھلے سال کی بہ نسبت آئٹم بم حاصل کرنے کے حالات ابھی کافی موضوع ہیں۔ کیٹلی کو آئی ایس نے دو سال پہلے یرغمال بنا لیا تھا اور اس کا استعمال وہ اپنی دھمکیوں سے دنیا بھر میں نشر کراتارہا ہے۔کیٹلی نے ’’دی پرفیکٹ اسٹارم‘‘ نامی ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے پاس بینکوں میں اربوں ڈالر جمع ہیں اور وہ جلد ہی پاکستان کے کرپٹ افسروں کو پیسہ کھلا کر آئٹم بم حاصل کر لے گا لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اس آئٹم بم کو اسمگلنگ کے ذریعے امریکہ بھیج دیا جائے گا۔ عراق۔ شام سے شروع ہوا آئی ایس آج پوری دنیا کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ اس کی تپش یوروپ، امریکہ سمیت مغربی ایشیا ئی دیش بھی محسوس کررہے ہیں۔ ایسے میں مغربی ملکوں نے اگر کارروائی نہیں کی تو حالات بے قابو ہوجائیں گے۔ آئی ایس کی منشا تاریخ میں کبھی بھی اسلامک حکمرانوں کے ماتحت رہے پورے خطے کو خلافت کے تحت لانا ہے۔ اس کے علاوہ یوروپ اور امریکہ جیسے ملکوں میں بھی اسلامی اقتدار قائم کرنے کے پلان پر وہ آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ تنظیم پوری دنیا کے لئے ایک چیلنج بنتی جارہی ہے ہم امید کرتے ہیں پاکستان اپنے نیوکلیائی کارخانوں کی حفاظت کرے گا اور کسی بھی صورت میں انہیں اسلامک اسٹیٹ کے ہاتھ لگنے نہیں دے گا۔ امریکہ کو بھی پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔
(انل نریندر)

نتیش کمار بنام لالو:مہاانضمام میں روڑا اٹکا

جنتا پریوار کے مہا ولے(بڑا انضمام)کی کوششوں کو لالو پرساد یادو نے فلیتہ لگا دیا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ بہار اسمبلی چناؤ سے پہلے آر جے ڈی اور جے ڈی یو کا انضمام ہو جائے۔ اس لئے انضمام کا معاملہ پہلے بھی ادھر میں لٹکنے کے بعد اب جنتا دل (یو) آر جے ڈی کے درمیان بہار اسمبلی چناؤ سے پہلے اتحاد پر ایک بار پھر پیچ پھنس گیا ہے۔ جمعہ کو سیٹوں کے بٹوارے پر تنازعہ ٹالنے کیلئے بلائی گئی میٹنگ میں تعطل اور بڑھ گیا ہے۔ میٹنگ میں آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے نہ صرف نتیش کمار کو وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار بنائے جانے کی مخالفت کی بلکہ مورچہ بنا کر اس میں نتیش کمار کے کٹر دشمن جتن رام مانجھی کو بھی شامل کرنے کی مانگ کرڈالی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شری ملائم سنگھ یادو کی رہائش گاہ پر ہوئی یہ میٹنگ محض آدھے گھنٹے میں ہی بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوگئی۔بھاجپا سے لڑنے کیلئے اتحادکرنے کی کوششوں پر پانی پھر گیا۔ خاص بات یہ بھی رہی کہ انضمام کے لئے سب سے زیادہ کوشش کررہے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اس میں شامل نہیں ہوئے۔ وہ آنکھ کا علاج کرا رہے ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے۔ اس دوران وہ موجود نہیں تھے۔ ایک نیتا کے مطابق میٹنگ شروع ہوتے ہیں آر جے ڈی چیف لالو یادو نے انضمام کو ٹالنے اور بہار اسمبلی چناؤ سے پہلے مورچہ بنانے کی تجویز رکھ دی۔ انہوں نے چناؤ سے پہلے کسی کو وزیر اعلی کی شکل میں پیش نہ کرنے ، مورچے میں لیفٹ پارٹیوں کانگریس کے ساتھ ساتھ نتیش کے کٹر مخالف جتن رام مانجھی کو بھی شامل کرنے کی مانگ کرڈالی۔ اتنا ہی نہیں لالو نے جے ڈی یو کے موقف کے برعکس لوک سبھا چناؤ میں کارکردگی کی بنیاد پر سیٹ بٹوارے کی تجویز رکھی۔ اس کے بعد میٹنگ محض آدھے گھنٹے میں ہی کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق نتیش کمارکو میٹنگ میں لالو کی طرف سے رکھے جانے والے پرستاؤ کی جانکاری تھی اس لئے انہوں نے پہلے ہی اس میٹنگ سے دوری بنا لی تھی۔ میٹنگ میں ملائم سنگھ کا موقف بھی رام گوپال یادو جیسا ہی تھا۔ مثلاً پارٹیوں کا انضمام بہار اسمبلی چناؤ کے بعد ہوگا۔ فی الحال تال میل کی بنیاد پر اسمبلی چناؤ لڑا جائے۔ حالانکہ ملائم چاہتے تھے کہ فی الحال آر جے ڈی اور جنتا دل (یو) کا انضمام ہوجائے اور وہ ایک پارٹی کی شکل میں بہار اسمبلی چناؤ لڑے لیکن لالو یادو کے اڑیل رویئے سے فیصلہ نہیں ہوپایا۔ اس سے نتیش کمار کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اگر بہار میں آر جے ڈی ۔جے ڈی یو نے الگ الگ چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا تو اس کا فائدہ بھاجپا کو ہوگا۔ حال ہی میں ایک ٹی وی چینل کے سروے میں بھی اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ اگر بہار میں آر جے ڈی ، جنتا دل (یو) اور کانگریس میں اتحاد نہیں ہو پایا تو بھاجپا میں واضح اکثریت آسانی سے مل جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ بہار اسمبلی چناؤ کے بعد لالو نہیں چاہتے کہ نتیش کمار وزیر اعلی بنے رہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ چناؤ کے بعد اگر آر جے ڈی ۔ جے ڈی یو کی سانجھہ حکومت بنے تو وزیر اعلی ان کی پارٹی کا نیتا ہی ہو۔
(انل نریندر)

24 مئی 2015

گیلانی کوپاسپورٹ جاری کرنے پر سیاست تیز ہوئی

کٹر پسند حریت لیڈرسید علی شاہ گیلانی کو پاسپورٹ جاری کرنے کے اشو پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ اپنی ساتھی پارٹی بی جے پی کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی نے انسانی بنیاد پر گیلانی کے لئے پاسپورٹ کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرکزی سرکار اور وزارت داخلہ سے اس کے لئے اپیل کریں گے۔ وہیں نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ اسے اشو کیوں بنایا جارہا ہے جب انہیں پہلے بھی پاسپورٹ دیا گیا ہے۔ حریت نیتا گیلانی نے سعودی عرب میں اپنی بیمار بیٹی سے ملنے کے لئے پاسپورٹ جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ کانگریس نے کہا گیلانی کو اپنی بیمار بیٹی سے ملنے جانے کیلئے پاسپورٹ جاری کرنے کی ان کی درخواست پر فیصلہ لینے کے وقت مناسب خانہ پوری کی تعمیل کی جانی چاہئے۔ کانگریس سکریٹری جنرل شکیل احمد نے سرینگر میں کہا ایک متعین کاروائی ہے جس کی کسی بھی شخص کو پاسپورٹ جاری کرنے کے دوران تعمیل کی جاتی ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ گیلانی کودیش مخالف سرگرمیوں کے لئے معافی مانگی چاہئے اور اعتراف کرنا چاہئے کہ وہ ایک ہندوستانی ہے اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہیں ہندوستانی پاسپورٹ دیا جائے گا۔ بی جے پی ترجمان خالد جہانگیر نے کہا کہ جب تک آپ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ آپ بھارت کے شہری ہیں اور بھارت کے آئین میں آپ کی وفاداری ہے تب تک آپ ہندوستانی پاسپورٹ کے لئے کیسے درخواست دے سکتے ہیں؟ اس کے علاوہ پی ایم او میں وزیر مملکت جتندر سنگھ نے کہا کہ علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی دیش مخالف سرگرمیوں کیلئے معافی مانگ کر ہندوستانی ہونا تسلیم کریں اس کے بعد ہی وہ پاسپورٹ کے حقدار ہیں۔ ادھر وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سروپ نے کہا کہ گیلانی کی طرف سے پاسپورٹ کی ادھوری درخواست ملی ہے اس میں نہ تو بایو میٹرک ہے اور نہ ہی ان کا فوٹو ہے۔ ان کے ساتھ ہی اس کے لئے ضروری فیس بھی جمع نہیں کرائی گئی ہے۔ ایسے ادھورے پاسپورٹ کی درخواست پر غور کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے پہلے مرکزی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بھی صاف کردیا تھا کہ سبھی خانہ پوری ہونے کے بعد ہی اس پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا جب بھی وزارت داخلہ کے پاس یہ معاملہ آئے گا ہم اس کے نفع نقصان کی بنیاد پر معاملے کی جانچ کریں گے۔ گیلانی اپنی بیمار بیٹی کو دیکھنے کے لئے سعودی عرب جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پاسپورٹ کے لئے آن لائن درخواست دی ہے لیکن وہ اپنے بایو میٹرک ڈاٹا اور فوٹو گراف کے لئے ابھی تک سرینگر کے زونل پاسپورٹ آفس تک نہیں گئے۔ قواعد کے مطابق درخواست دینے کے لئے شخصی طور سے پاسپورٹ دفتر جاکر بایو میٹرک اور فوٹ گراف دینے ضروری ہیں۔ گیلانی پہلے پاسپورٹ کی کارروائی کو پورا کریں گے تو پھر پاسپورٹ جاری کرنے پر غور ہوگا۔
(انل نریندر)

کیا میگی صحت کیلئے واقعی ہی نقصاندہ ہے

بچوں کے من پسند میگی نوڈلس پریشانی سے دوچار ہوچکے ہیں۔ بچوں کے ہی نہیں بڑوں کا بھی پسندیدہ بن چکے میگی نوڈلس پہلے بھی تنازعات میں گھرتے رہے ہیں۔ اترپردیش فوڈ سکیورٹی و ڈرگس ایڈمنسٹریشن(یو پی ایف ڈی) نے 10 مارچ2014 ء کو بارہ بنکی کی آواس وکاس کے ’’ایزی ڈے مال‘‘ سے میگی کے نمونے لئے تھے۔ ان کی جانچ رپورٹ 26 مارچ2014ء کو آئی جس میں ایم ایس جی نامی ذرات پائے گئے جو کہ بچوں کی صحت کیلئے نقصاندہ ہے۔ یوپی ایف ڈی اے کے مطابق روٹین ٹیسٹ کے دوران دو درجن روسٹڈ نوڈلس کے پیکٹوں سے بڑی مقدار میں لیڈ ملا ہے۔ لیڈ کی موجودگی 17.2 پی پی ایم پائی گئی جبکہ لیڈ کی مقدار 0.01 پی پی ایم سے لیکر 2.5 پی پی ایم سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ سائنسدانوں کو مونوسوڈیم گلوٹائمیٹ(ایم ایس جی) بھی بڑی مقدار میں ملی ہے۔یوپی ایف ڈی اے نے میگی کے تقریباً 2 لاکھ پیکٹ بازار سے واپس اٹھانے کیلئے احکامات دئے ہیں۔ بارہ بنکی کے ضلع رسد افسر وی کے پانڈے نے بتایا کہ جانچ رپورٹ کی بنیاد پر ہی میگی کو صحت کے لئے غیر محفوظ و نقصاندہ قراردیا گیا ہے۔ ایف ڈی ایس اے ہیڈ کوارٹر نے اس معاملے میں عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کیلئے جمعرات کے روز قانونی رائے بھی لی ہے۔ ہیڈ کوارٹر نے اس کی تصدیق کی ہے۔ وہیں لکھنؤ سمیت کئی شہروں سے میگی کے تازہ سیمپل بھی لئے گئے ہیں جن کی رپورٹ آنا باقی ہے۔ وہیں نیسلے انڈیا (میگی کے بنانے والے) کا کہنا ہے کہ وہ ان جانچ اور اس کے نتیجوں سے متفق نہیں ہیں۔سوئس کمپنی نیسلے کی ہندوستانی برانچ نے سیساملی میگی نوڈلس کے ایک کھیپ کو واپس لینے کے احکامات کو ماننے میں معزوری ظاہرکی ہے۔ جمعرات کو جاری نیسلے انڈیا نے ایک بیان میں کہا کہ اس کا پرانا اسٹاک پہلے ہی بازار سے صاف ہوچکا ہے۔کمپنی یوپی ایف ڈی اے کے احکامات سے متفق نہیں ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پچھلے سال فروری کے بیچ کے 2 لاکھ نوڈلس کے پیکٹ واپس نہیں لئے جاسکتے۔ان کے استعمال کے لئے مقررہ تاریخ پچھلے سال نومبر میں ہی بیت چکی ہے۔ اس میعاد سے پہلے ہی کمپنی بچے ہوئے اسٹاک کو ڈسٹریبیوٹروں اور خوردہ بازار سے واپس لے لیتے ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اب تک اس بیچ کے پیکٹ بازار میں بچے ہی نہیں ہیں۔ کمپنی نے دلیل دی ہے کہ اسے حال ہی میں فروخت ہوئے پیکٹ واپس لینے کا کوئی حکم نہیں ملا ہے۔ میگی نوڈلس بچوں کی صحت کے لئے نقصاندہ ہے یا نہیں یہ جاننا ضروری ہے۔ ویسے سوئس کمپنی نیسلے کے ذریعے کچھ وقت پہلے سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو بھی چل رہا تھا جس میں آئینی طریقے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ کیا میگی صحت کے لئے نقصاندہ ہے۔ ہم تو مرکزی سرکار سے متعلق وزارت سے اپیل کریں گے کہ وہ میگی کی اچھی طرح جانچ کروائیں اور دیش کو بتائیں یہ نقصاندہ ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...