Translater

18 نومبر 2017

نوٹ بندی کے بعد تین گنا بڑھا ہے سائبر کرائم

بینک کارڈ اور ای وائلٹ کے استعمال کے دوران ہونے والی مالی دھوکہ دھڑی کوروکنے کے لئے حکومت نے ان سائبر کرائم کو روکنے کے لئے سخت قدم اٹھانے کی بات کہی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پیر کو بینک کارڈ اور ای وائلٹ میں دھوکہ دھڑی روکنے کے لئے سرویلانس بڑھانے اور قانونی ڈھانچہ تیار کرنے پر زور دیا ہے۔ میٹنگ میں وزیر داخلہ کو جانکاری دی گئی ہے کہ سائبر کرائم کو لیکر بھی قدم اٹھائے جارہے ہیں جس سے ان کی جوابدہی اور ذمہ داری طے کی جاسکے۔ پچھلے تین برسوں میں 144496 سائبر حملہ کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ 2016-17 میں 23902 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کے 4853 معاملہ سامنے آئے۔ نوٹ بندی کے بعد ڈیجیٹل لین دین کے ساتھ سائبر کرائم میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستانی کمرشل انڈسٹریل منڈل(ایسوچیم) کے علاوہ نوئیڈا کے سائبر کرائم انویسٹی گیشن سینٹر کے اعدادو شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ سائبر کرائم کے ماہرین کا کہنا ہے بھارت میں ابھی سائبر کرائم سے نمٹنے کیلئے وسائل اور عام جنتا میں اس کی بیداری کی بیحد کمی ہے۔ ایسے میں ڈیجیٹل انڈیا کا سپنا تعبیر کرنا ہے تو وسائل کے ساتھ عام جنتا میں بیداری کو بڑھانا بیحد ضروری ہے۔ نوٹ بندی کے بعد ڈیبیٹ؍ کریڈٹ کارڈ سے ٹرانزیکشن میں تیزی آئی ہے۔ اسی کا فائدہ سائبر جرائم پیشہ نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے ڈیبیٹ؍ کریڈٹ کارڈ کلونگ اور اپ گریڈیشن کے نام پر جانکاری اکٹھی کر ٹھگی کو انجام دیا ہے۔ کچھ معاملوں میں ان جرائم پیشہ کا ساتھ بینک ملازم نے بھی دیا ہے۔ کچھ معاملے ایسے ہیں جو بینک کی ملی بھگت بغیر ممکن نہیں ہوسکتے۔ 
سائبر کرائم انویسٹی گیشن سینٹر کے اعدادو شمار کچھ اس طرح ہیں۔ 2015ء میں 560 سائبر کرائم، 2016 میں یہ بڑھ کر 639 ہوگئے اور 2017 میں یہ تین گنا بڑھ کر 1803 ہوگئے۔ ڈیبٹ ؍کریڈٹ کارڈ سے وابستہ جرائم کی تفصیل ہے۔ 2015 میں 378 ،2016 میں 139 اور 2017 میں 6591 اعدادو شمار ثابت کرتے ہیں کہ نوٹ بندی کے بعد سائبر کرمنل نے ہمارے کمزور سسٹم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں تین گنا اضافہ کردیا ہے۔اسے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ دیش بھر میں سائبر کرائم سے نمٹنے کے لئے وسائل اور پولیس ٹریننگ کی بڑھوتری ہو جیسے ڈیجیٹل انڈیا کی سمت میں دیش بڑھ رہا ہے وہیں دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ جنتا کو دھوکہ دھڑی سے لوٹنے والوں پر کوئی لگام نہیں لگ رہی ہے۔ جنتا کی گاڑھی کمائی منٹوں میں صاف ہوجاتی ہے۔ اس کی بھرپائی کرنے کو کوئی بھی بینک و دیگر پورا کرنے سے صاف بچ جاتے ہیں۔
(انل نریندر)

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایشیائی دورہ سے کیا حاصل کیا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایشیا کے پانچ ملکوں کے دورہ سے ڈپلومیٹک مبصر ان کے رویئے کو سمجھنے میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو ٹرمپ کے دورہ سے ہوئے بڑے فائدہ کی بات پر یقین رکھتے ہوں لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ امریکہ کو بھی اس کا کچھ فائدہ ہو۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹرمپ جہاں کہیں بھی گئے وہاں ان کا خیر مقدم کسی شہنشاہ کی طرح ہوا۔ بیشک ٹرمپ کو اپنی تعریف اچھی لگتی ہو، خاص کر گھریلو محاذ پر ہورہی نکتہ چینیوں کے پیش نظر غیر ملکی زمین پر اگر ٹرمپ کا شاہی خیر مقدم کیا جاتا ہے تو وہ ایک زیر وقار مہمان کی طرح پیش آتے ہیں۔ انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے پریشان کرنے والے اشو سے ٹرمپ کنارہ کرچکے ہیں۔ نارتھ کوریا نے صدر ٹرمپ کو بوڑھا اور سٹھیا ہوا کہہ کر بار بار مذاق اڑایا توٹرمپ نے جواب میں کم جونگ ان کو ناٹا اور موٹا کہا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ایشیا کے جن ملکوں کے دورہ پر ٹرمپ گئے ان نیتاؤں نے سادگی اور بڑے ادب سے میزبانی کی۔ جاپان کے وزیر اعظم شینجوآبے نے کہا گولف کھیلنے کے لئے ٹرمپ ان کے پسندیدہ ساتھی ہیں۔ ساؤتھ کوریا کے صدر نے ٹرمپ سے کہا کہ وہ امریکہ کو پہلے سے مہان بنا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ سولکی نیشنل اسمبلی مون نے ٹرمپ کو عالمی لیڈر کہہ کر متعارف کرایا۔ ہنوئی میں خیر مقدمی تقریر کے بعد ٹرمپ ویتنام کے صدر کے بغل میں کھڑے ہوئے لیکن انہوں نے اظہار آزادی، انسانی حقوق رضاکاروں اور بلاگروں کی گرفتاری پر کچھ نہیں کہا۔بیجنگ میں وہ صدر شی جنگ پنگ کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہوں نے تنقید میں ایک لفظ نہیں کہا۔ حالانکہ چین کا دورہ ٹرمپ کے لئے تھوڑا الگ ضرور رہا۔ چین میں بھی شی جنگ پنگ ٹرمپ کی تعریف نہیں کررہے تھے بلکہ وہاں اس کا الٹا ہو رہا تھا۔ چین میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا کہ ٹرمپ کو تعریف ملی ہو۔ بیجنگ میں اس کا کوئی موقعہ بھی نہیں تھا کہ انہیں عالمی لیڈر کہہ کر بلایا جائے۔ واقف کاروں کے مطابق ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ چین کے ساتھ الجھنے سے خراب نتیجے ہوسکتے ہیں لیکن ان دونوں لیڈروں کے چہرے پر جو مسکراہٹ دکھائی دی اس کے پیچھے تگڑی سودے بازی چل رہی تھی۔ اس کا انداز اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ نے ساؤتھ چائنا سی کے اشو پر جوں کے توں پوزیشن بنائے رکھنے کی پیشکش کی ہے۔ حالانکہ ساؤتھ چائنا سی کے اشو پر امریکہ نے ابھی کوئی موقف نہیں اپنایا ہے لیکن بغیر کسی روک ٹوک کے آنے جانے کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ چین کو چھوڑ کر باقی دیشوں نے ٹرمپ کا زور دار خیر مقدم کیا۔
(انل نریندر)

17 نومبر 2017

چتر کوٹ کی ہار بھاجپا کیلئے ویک اپ کال

مدھیہ پردیش کی چترکوٹ اسمبلی سیٹ پر کانگریس کی کامیابی بھاجپا کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ کانگریس امیدوار نیلانشو چترویدی نے بھاجپا کے شنکر دیال ترپاٹھی کو14133 ووٹ سے ہرایا۔ تین ضمنی چناؤ میں کانگریس کی لگاتار دوسری اور سب سے بڑی جیت ہے اسی سال اٹیر میں مہنت کٹارے857 ووٹوں سے جیتے تھے۔2013ء میں مودی لہر کے باوجود کانگریس امیدوار کامیاب رہے تھے۔ 1956 میں پردیش کی تشکیل کے بعدسے چترکوٹ کانگریس کا گڑھ رہا ہے۔ یہ سیٹ 61 برسوں میں تین بار ہی کانگریس کے ہاتھ سے نکلی ہے۔ 1977 ء میں جنتا پارٹی سے رامانند سنگھ کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے بعد ایک بار بسپا سے گنیش بسری ممبر اسمبلی رہے۔اس نے 2008ء میں گیہوار سے یہ سیٹ جیتی تھی۔چترکوٹ اسمبلی ضمنی چناؤ کے نتیجے نے2018ء میں بھاجپا کے 200 سیٹیں پار لگانے کے ٹارگیٹ کو چنوتی دے دی ہے۔ بھاجپا سرکار کے عہد میں 2003ء کے بعد کانگریس کو چترکوٹ میں یہ اب تک کی سب سے زیادہ ووٹوں سے جیت ملی ہے۔ اس کے علاوہ حلقہ کے ذات پات تجزیوں نے بھی کانگریس کا ساتھ دیا۔ برہمن ووٹ دونوں امیدواروں کے درمیان بٹے لیکن دلت اور قبائلیوں کا کانگریس کی طرف زیادہ جھکاؤ رہا۔ رہی سہی کثر چھتریوں نے پوری کردی۔ چترکوٹ کے پچھلے دو چناؤ میں بھاجپا اور کانگریس نے بسلسلہ سریندر سنگھ گہیوار اور پریم سنگھ کو امیدوار بنایاتھا حالانکہ چترکوٹ سیٹ پہلے بھی کانگریس کے پاس تھی اس لئے اسے بھاجپا کی کوئی بڑی ہار نہیں ماننا چاہئے لیکن جس طرح یہ سیٹ دونوں پارٹیوں کے لئے ناک کا سوال بن چکی تھی اسے دیکھتے ہوئے بھاجپا کو خاصی مایوسی ہوئی ہے۔ وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان تین دن تک چتر کوٹ میں ڈٹے ہوئے تھے وہیں اترپردیش سے لگی اس اسمبلی سیٹ میں کمپین کے لئے اترپردیش کے نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ نے بھی جم کر چناؤ کمپین کی تھی۔ چناؤنتیجے کے بعد مقامی لوگوں نے کھل کر کہا کہ وہ شیو راج سنگھ چوہان سرکار سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے بھاجپا کو بھی محض وعدے کرنے اور نعرے دینے والی پارٹی بتایا۔ بیشک مرکزی سرکار اب بھی یہ ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی دیش کی ترقی اور کرپشن سے نجات کے لئے ضروری قدم ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ ان دونوں فیصلوں کے چلتے لاکھوں لوگ بے روز گار ہوگئے۔ لوگوں کے کام دھندے بند ہوچکے ہیں۔ جنتا کی ناراضگی صاف دکھائی دے رہی ہے لیکن بھاجپا اگر اس ناراضگی پر توجہ نہیں دیتی تو اسے اور مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ شیو راج سنگھ چوہان کے لئے ویک اپ کال بھی ہے۔
(انل نریندر)

دھونی کی تنقید کرنے والے پہلے اپنا کیریئردیکھیں

مہندر سنگھ دھونی کے ٹیم انڈیا کی ٹی۔20 ٹیم میں بنے رہنے پرخوب بحث ہورہی ہے۔ کچھ سابق ہندوستانی کرکٹروں نے جن میں اجیت اگرکر بھی شامل ہیں، نے دھونی کے ٹی۔20 کے مستقبل پر سوال اٹھائے ہیں۔ کئی سابق کھلاڑیوں یہاں تک کہ وی وی ایس لکشمن بھی دھونی کے ٹی۔20 کیریئر پر سوال کھڑے کئے ہوئے ہیں۔ کیپٹن کول مہندر سنگھ دھونی نے ٹی۔20 سے سنیاس لینے کولیکر اٹھے سوال اور تنقیدوں کا اسی نرم اور مضبوط آواز سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہر کسی کی زندگی کے بارے میں اپنی رائے ہوتی ہے۔36 سالہ مہندر سنگھ دھونی حالانکہ دو بار ورلڈ کپ ونر ٹیم کے کپتان رہے ہیں۔ ان تنقیدوں سے ذرا پریشان نہیں دکھائی پڑتے۔ دھونی نے نوجوان ٹیم انڈیا کے کپتان کے طور پر 2007 ء میں شروعاتی ورلڈ کپ ٹی۔20 اور پھر 2011 ون ڈے ورلڈ کپ جیتا تھا وہیں ٹیم کے موجودہ کپتان وراٹ کوہلی اور کوچ روی شاستری دھونی کے حق میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ 2019ء کے ورلڈ کپ تک انہیں ٹیم کے لئے ضروری مانتے ہیں۔ کوہلی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دھونی کی عمر 35 برس سے زیادہ ہے اس لئے ان پر سوال نہیں اٹھائے جاسکتے۔ جبکہ ٹیم کے لئے اب بھی ان کی پرفارمینس اچھی ہے۔ کپتان کی بات کافی حد تک صحیح بھی ہے، کیونکہ ورلڈ ٹوئنٹی مقابلوں میں پچھلے تین برس میں دھونی کا اوسط اور اسٹرائک ریٹ اور ان کے کیریئر کی شروعات 9 برس کے مقابلوں سے بہتر ہے ۔ حالانکہ یہ بھی صحیح ہے کہ دھونی اب پہلے کی طرح آتے ہی تابڑ توڑ بلے بازی نہیں کرپاتے۔ جس کی ٹی۔ ٹوئنٹی میں ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بیٹنگ آڈر میں ان کی جگہ طے نہیں ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ دھونی اب آتے ہی بڑے شاٹ نہیں لگا پاتے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ۔ٹوئینٹی سیریز سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف مقابلوں میں بھی ایسا دیکھنے کو ملا ہے۔100 سے زیادہ کی اسٹرائک ریٹ سے پہلے دھونی اوسطاً تیز گیندے کھیلا کرتے تھے۔ حالانکہ آخر تک ٹیکے رہے تو ان کا اسٹرائک ریٹ 125 سے زیادہ ہوتا ہے لیکن ٹی ۔ٹوئینٹی میں زیادہ بار یہ ضروری ہوتا ہے کہ آتے ہی بلے باز لمبے شاٹ کھیلے۔ دھونی نے اپنے پچھلے تین سال میں 33 ٹی۔ ٹوئینٹی بین الاقوامی میچوں میں 140 سے زیادہ کا اسٹرائک ریٹ سے رن بنائے اور اس سے پہلے 2006 سے 2014 کے درمیان انہوں نے محض 2010 میں اس سے زیادہ کی اسٹرائک ریٹ سے رن بنائے تھے۔ ٹیم انڈیا کے کوچ روی شاستری نے کہا ہے کہ دھونی پر کمینٹ کرنے سے پہلے لوگوں کو اپنے کیریئر کو بھی دیکھنا چاہئے۔ اس سابق کپتان میں کافی کرکٹ بچی ہے اور یہ ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کھلاڑی کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا ویکٹ کے پیچھے اور بلے سے نکلی صلاحیت اور سمجھداری میں دھونی سے بہتر کوئی نہیں ہے۔
(انل نریندر)

16 نومبر 2017

میں شیوبھکت ہوں، سچائی میں یقین رکھتا ہوں

گجرات اسمبلی چناؤ میں دیگر ریاستوں کی طرح اقتدار کی چابی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے یہی وجہ ہے کہ کانگریس اور بھاجپا دونوں انہیں اپنے خیمے میں لانے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ بیشک اگر نوجوانوں سے ان کی پسند کے لیڈر کی بات کریں تو اب بھی ایک دہائی تک ریاست کے وزیر اعلی رہے اور اب دیش کے وزیر اعظم نریندر مودی کا پلڑا ہی بھاری نظر آتا ہے۔ وہیں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی محنت رنگ لاتی دکھائی دے رہی ہے اور ریاست کے نوجوانوں میں ان کے تئیں رغبت بڑھی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں راہل گاندھی کی مقبولیت بڑھی ہے اور وہ باتیں بھی بہت ڈھنگ کی کررہے ہیں۔ گجرات کے پالن پور میں پارٹی ورکروں سے راہل گاندھی نے ایک بڑی اچھی بات کہی۔ انہوں نے ان کو سمجھایا کہ بی جے پی اور نریندر مودی سے ہمارے اختلافات ہیں اس لئے ہم ان کی مخالفت کریں گے ، لیکن وزیر اعظم کے عہدہ کی بے حرمتی نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے بھی کانگریس کی ایک ریلی میں نریندر مودی مردہ باد کا نعرہ لگانے پر وہ لوگوں کو ٹوک چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ مودی ہمارے سیاسی حریف ہیں اس لئے ہم ان سے لڑیں گے اور انہیں ہٹائیں گے لیکن ’مردہ باد‘ جیسے لفظ ہم کسی کے لئے نہیں کہیں گے۔ لمبے عرصے بعد دیش کی سیاست میں کسی نے ایسی بار کہی ہے۔ یوں کہیں ایسی بات کہنے کی ضرورت ہوئی ہے ورنہ دیش میں حریفوں کی عزت کرنے کا سیاسی کلچر ہمیشہ رہا ہے۔ کانگریس کی ہی نیتا اندرا گاندھی کے عہد میں حریف سیاسی لیڈروں کو جیل تک بھیج دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود چناؤ لڑنے اور جیتنے کے بعد بھی کسی بڑے نیتا نے اندرا جی کے لئے نازیبا باتیں نہیں کہیں۔ مگر پچھلے کچھ عرصے سے دیش میں ہی نہیں عالمی سطح پر جارحانہ بیانات والی سیاست کا چلن بڑھتا جارہا ہے۔ اس کے اثرسے حریفوں کے تئیں تلخ اور سستے تبصروں کو اچھی بات کی شکل میں لیا جانے لگا۔ مانا جاتا ہے کہ عام جنتا میں ایسے نیتا کی جلد ہی دھاک بن جاتی ہے۔ حالانکہ ایسے نیتا کی دھاک اترتے بھی زیادہ وقت نہیں لگتا۔ کانگریس میں بھی ایسے نیتاؤں کی کمی نہیں ہے جو ایسی زبان کے استعمال کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اکثر وہ ایسے بیانوں سے سیاسی پارا بڑھاتے جارہے ہیں مگر راہل گاندھی نے اب اپنا موقف بتا کر نہ صرف اپنی پارٹی کے ایسے نیتاؤں کو آگاہ کیا ہے بلکہ دیش کے سیاسی کلچر میں بھی بہتری لانے کی ایک اہم ترین پہل کی ہے۔ ادھر مندروں میں درشن سے جڑے بی جے پی کے سوالوں پر راہل گاندھی نے کہا کہ وہ شیو بھکت ہیں اور سچائی میں یقین رکھتے ہیں۔ بی جے پی جو بھی بولے میں اپنی سچائی میں یقین رکھتا ہوں۔ گجرات اسمبلی چناؤ سے پہلے راہل گاندھی کے لگاتار مندر جانے پربی جے پی نے سوال اٹھائے ہیں۔
(انل نریندر)

نارتھ کوریا اندر سے کیسا ہے

دنیا میں اگر کوئی ملک سب سے بڑے بند دروازے کے پیچھے جیتا ہے تو وہ ہے نارتھ کوریا۔ باہری دنیا سے اس کا رابطہ نہ کے برابر ہے۔ وہاں کے عام لوگ باہر نہیں جاسکتے اور باہر کے لوگ آسانی سے اندر نہیں داخل ہوسکتے لیکن کچھ لوگ خطروں سے کھیل کر نارتھ کوریا سے بھاگنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ نارتھ کوریا میں زندگی کیسی ہے۔وہ باہری دنیا سے کتنا الگ ہے۔ نارتھ کوریا کی کونسی بات ہے انہی آج بھی یاد آتی ہے۔ نارتھ کوریا سے بھاگ کر نکلنے والی ایک خاتون نے بتایا بچپن سے ہی ہمارا برین واش کیا جاتا ہے کہ امریکی بھیڑیا ہوتے ہیں۔ میں کافی وقت تک یہی سوچتی تھی کہ امریکہ میں رہنے والے سبھی لوگ خطرناک ، مطلبی اور پیلی آنکھوں والے ہوتے ہیں۔ ایک دوسری خاتون نے بتایا کہ اسے بہت وقت تک لگتا رہا کہ امریکہ اور ساؤتھ کوریا میں رہنے والوں کی چھاتی پر گھنے وال ہوتے ہیں۔ وہاں رہ چکے ایک لڑکے نے بتایا کہ نارتھ کوریا میں ہر ہفتے ریگولر کریٹک کے نام سے ایک پروگرام ہوا کرتاتھا جس میں خود کو محاسبہ کرنے کوکہا جاتا تھا اور ساتھ ہی دوسرے کے غلط برتاؤ کی جانکاری بھی دینی ہوا کرتی تھی۔ نارتھ کوریا کے بارے میں کوئی ایک بات جو آپ دوسروں کو بتانا چاہتے ہیں، جواب میں ایک خاتون کہتی ہے کہ سبھی کے اندر ایک ہی طرح کا دل اور جذبات ہوتے ہیں میں چاہتی ہوں کہ باقی لوگ ہمیں بھی اپنی طرح سمجھیں۔ ایک لڑکے نے بتایا کہ جب ہمیں ٹھنڈلگتی ہے تو ہم کوٹ پہن لیتے ہیں اسی طرح جب ہم اکیلے ہوتے ہیں تو ہمیں پیار چاہئے۔ ایک دوسرے لڑکے نے بتایا کہ نارتھ کوریا کے لوگوں کو آزادی کے لئے لڑنا پڑتا ہے اور وہ اس آزادی کو بڑی شدت سے چاہتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ لوگ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ نارتھ کوریا میں کم جونگ کی حکومت ہے۔ اس دیش کے بارے میں بہت کم جانکاری باہر نکل کر آتی ہیں۔ نارتھ کوریا اپنے نیوکلیائی پروگرام میں لگاتار توسیع کررہا ہے جس کے چلتے اسے کئی اقتصادی پابندیاں جھیلنی پڑ رہی ہیں۔ امریکہ نارتھ کوریا کو عالمی برادری سے الگ تھلگ کردینا چاہتا ہے ایسے میں وہاں کے شہریوں کا کیا نظریہ ہے اور وہاں کی زندگی کے رنگ کیسے ہیں، یہ جاننا ہمیشہ ہی دلچسپ رہتا ہے۔ ایک لڑکے نے بتایا کہ میں بھارت اور امریکہ کے بارے میں سوچتا ہوں ، میں نے ہندوستانی فلموں میں دیکھا ہے کہ ان میں لوگ بہت زیادہ ڈانس کرتے ہیں، یہ سب مجھے کول لگتا ہے۔ مجھے ان لوگوں سے جلن ہوتی ہے۔
(انل نریندر)

15 نومبر 2017

ہماچل میں بمپر ووٹنگ کس کے حق میں جائے گی

ہماچل پردیش میں اسمبلی چناؤ کیلئے اس بار بمپر ووٹنگ ہوئی ہے،خاص کر صوبے کی 20 سیٹوں پر۔ ان وی آئی پی نشستوں پربھاری پولنگ سے چناؤ لڑ رہے امیدواروں کی دھڑکن بڑھ گئی ہے۔ کانٹے کی ٹکر والی ان سیٹوں پر 2012 کے چناؤ سے زیادہ پولنگ کے کئی سیاسی معنی نکالے جا رہے ہیں۔ رائے دہندگان نے سرکردہ لیڈروں کے ساتھ سیاسی پنڈتوں کوبھی الجھن میں ضرور ڈال دیا ہے۔ وزیر اعلی ویربھدر سنگھ کے بیٹے وکرم آدتیہ سنگھ کی سیٹ شملہ دیہات میں اس بار ریکارڈ 13 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ہوئی ہے۔ پہلی بار چناوی میدان میں اترے وکرم آدتیہ سنگھ کا مقابلہ ویر بھدر سنگھ کے خاص رہے پرمود شرما سے ہے۔ ویربھدر اور پریم کمار دھومل کی سیٹوں پر بھی بھاری پولنگ ہوئی ہے۔ دونوں لیڈر نئی سیٹوں سے اترے ہیں۔ وزیر سدھیر شرما، جی ایس بالی، مکیش اگنی ہوتری اور کول سنگھ ٹھاکر کی سیٹوں پر اس بار زیادہ پولنگ ہوئی ہے۔ بلاسپور، منڈی، جوگندر نگر، شاہ پور، نودان، شملہ شہر اور ناہن میں بھی پہلے سے زیادہ ووٹ پڑے ہیں۔ ان میں کانٹے کی ٹکر مانی جارہی ہے۔ ادھر پالمپور، سراج، بنجار، ٹھیوک اور سولن بھی ریاست کی اہم ترین سیٹوں میں شمار رہی ہے لیکن ان سیٹوں پر پولنگ پہلے سے کم ہوئی ہے، کیا ہماچل میں کانگریس سال2012 کی اپنی کارکردگی کو دوہرائے گی یا بھاجپا اقتدار پر سوار ہوگی؟ ریکارڈ توڑ پولنگ کے بعد بھاجپا چار فیصدسے زیادہ سیٹوں پر جیت کا دعوی کررہی ہے۔ وہیں کانگریس اپنے رینک میں تبدیلی کرنے کے لئے مشن رپیٹ کا راگ الاپ رہی ہے، دونوں بھاجپا ۔ کانگریس پارٹیوں میں سے کوئی بھی سال 1990 سے لیکر اب ت پردیش میں دوبارہ اقتدار پر قابض نہیں ہوا ہے۔ چناوی تھکان کے باوجود جہاں امیدوار اپنی اپنی جیت کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں اور پولنگ کے نمبر اکھٹے کررہے ہیں۔ ہماچل میں ریکارڈ توڑ پولنگ ہونے سے کئی سرکردہ شخصیتوں کی لاج داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ویسے تو اس بار پورے پردیش میں ہی بھاری پولنگ درج کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود 20 اسمبلی سیٹوں پر بمپر ووٹنگ ہوئی ہے۔ ان سیٹوں پر زیادہ ووٹنگ سرکار کے حق میں جائے گی یا پھر مخالفت میں یہ تو آنے والی 18 دسمبر کو مشینوں کی سیل ٹوٹنے کے بعد ہی پتہ چل پائے گا۔ بمپر ووٹنگ مودی لہر کے حق میں ہے یا مودی لہر کی مخالفت میں یہ پتا چلے گا اگلے مہینے۔ بھاجپا ہماچل میں 50 سیٹیں حاصل کرنے کا دعوی کررہی ہے۔ پچھلے اعدادو شمار بتا رہے ہیں کہ بھاجپا اس سے پہلے کبھی 50 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی تھی۔ووٹ اب ای وی ایم میں بند ہے اور 18 دسمبر تک لمبے انتظارکے بعد پتہ چلے گا کون جیتا کون ہارا ہے۔
(انل نریندر)

اپنے اپنے سروے میں جیت کا دعوی

ہماچل میں پولنگ کے بعد اب گجرات اسمبلی چناؤ کے لئے کمپین تیز ہوگئی ہے۔ اپنے اپنے الگ کرائے گئے سروے میں دونوں بڑی پارٹیاں بھاجپا۔ کانگریس اپنی جیت کا دعوی کررہی ہیں۔ گجرات بھاجپا رابطہ مہم کے ذریعے رائے دہندگان تک پورے گجرات میں وزیر اعظم نریندر مودی کا پیغام پہنچا رہی ہے۔ کانگریس 14 نومبر سے رابطہ مہم شروع کر ایک کروڑووٹروں کو جوڑنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ چناوی دنگل میں یہ دونوں ہی پارٹیاں جیت کا دعوی کررہی ہیں۔ بھاجپا کے انٹرنل سروے میں پارٹی کو 120 سے 130 سیٹیں اورکانگریس کو50 سے60 سیٹیں گجرات میں ملنے کا دعوی کیا جارہا ہے جبکہ کانگریس کے سروے میں بھاجپاکو 60-70 اور پارٹی کو 110 سے 120 سیٹیں ملنے کی بات کہی گئی ہے۔ ایک نئے آزادانہ سروے میں بھاجپا کو 121 ، کانگریس کو 58 سیٹیں ملنے کا اندازہ ظاہرکیا گیا ہے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیراعظم مودی کی ریلیوں اور پارٹی داروں کی حمایت کے اعلان کے بعد تصویر بدلے گی۔ کانگریس چناؤ کمپین کمیٹی کے چیئرمین ارجن موٹھواڑیا کا کہنا ہے کہ بھاجپا میڈیا میں خوب کمپین کررہی ہے، لیکن زمین پر کانگریس مضبوط ہے۔ کانگریس نیتا ریاست میں اب تک 275 چوٹی بڑی ریلیاں کرچکے ہیں۔ دیہی علاقوں کے ساتھ اس بار کانگریس کو احمد آباد و سورت جیسے شہروں میں بھی اچھی تعداد میں سیٹیں ملیں گی۔ موٹھواڑیا کا دعوی ہے کہ کسان، نوجوان، کاروباری اور خواتین کانگریس کی حمایت کریں گی۔ پارٹی کو 110 سے120 سیٹیں مل رہی ہیں۔راہل گاندھی کو مل رہی عوامی حمایت سے کانگریس حوصلہ افزا ہے۔ وہیں گجرات بھاجپا کے ترجمان و سابق ممبر اسمبلی بھرت پانڈیہ کا کہنا ہے کہ مرکز کی یوپی اے سرکار نے ریاست کے ساتھ ہمیشہ ناانصافی کی ہے۔ مودی حکومت نے جن دھن، میک ان انڈیا، اسٹارٹ اپ، مدرا، اجولہ یوجنا سے کروڑوں عورتوں اور نوجوانوں کی قسمت بدل دی ہے۔ ڈیجیٹل لین دین سے کرپشن پر لگام لگی ہے۔ کانگریس راج میں 12 لاکھ کروڑ روپے کے کرپشن کے معاملے اجاگر ہوئے لیکن مودی سرکار پر ایک بھی الزام نہیں لگا ہے۔ وسیع رابطہ مہم سے لوگ خود جوش کے ساتھ جڑ رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی ریلیوں کے بعد پردیش کا ماحول بدلے گا۔ ادھر سٹے بازوں کا اپنا تجزیہ جاری ہے۔ پچھلے گجرات کے چناؤ ہوں یا پھر لوک سبھا چناؤ ہوں ، سٹہ بازوں کے بھاؤ اور داؤ تقریباً90 فیصد تک صحیح رہے ہیں۔ سیاسی پنڈت سٹہ بازار کے بھاؤ کو چناؤ کا ٹرینڈ سیٹر بھی مانتے ہیں۔ گجرات کو لیکر پوزیشن کیا رہے گی یہ فی الحال دعوے سے نہیں کہاجاسکتا لیکن سٹہ بازار کے کھلاڑی میدان میں ڈٹ گئے ہیں اور ان کی نگاہ ہرروز ڈبے سے نکلنے والے بھاؤ پر لگی رہتی ہے۔ دیش بھر کی نظریں وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات پر لگی ہوئی ہیں۔گجرات میں وزیر اعظم نریندر مودی، بھاجپا پردھان امت شاہ اور کئی مرکزی وزرا چناؤ کمپین میں لگے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم اب تک تین بار دورہ کر چکے ہیں۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی بھی لگاتار ریلیاں اور روڈ شو کررہے ہیں۔ تعجب اس بات کا ہے کہ ابھی چناوی ٹکٹ اعلان نہیں ہو پائے ہیں لیکن سنیچر کی رات ڈبہ کھلنے پر پونٹروں نے کمل کے پھول والی بھاجپا کو 104سے107 سیٹیں ملنے کا بھاؤ دیا ہے جبکہ دوسری طرف پنجے والی کانگریس کو 71 سے74 سیٹوں کا بھاؤ دیا گیا ہے۔ پارٹیدار نیتا ہاردک پٹیل کے ذریعے کانگریس کی حمایت میں واضح رخ اپنانے سے بھی ووٹر مشکل میں نظر آتا ہے۔ ہماچل میں پولنگ کے بعد پونٹروں نے بھاجپا کے کھاتے میں 48 سے50 سیٹیں اور کانگریس کے کھاتے میں 16سے 18 سیٹوں کا اندازہ لگایا ہے لیکن ابھی پولنگ میں کئی دن بچے ہیں پوزیشن میں تبدیلی بھی آسکتی ہے۔ ویسے بتادیں کہ پچھلے گجرات چناؤ ہوں یا پھر لوک سبھا چناؤ ہوں سٹہ بازوں کے بھاؤ و داؤ تقریباً90 فیصد صحیح رہے ہیں۔ سیاسی پنڈت سٹہ بازار کے بھاؤ کو چناؤ کا ٹرینڈ سیٹر بھی مانتے ہیں۔
(انل نریندر)

14 نومبر 2017

آڈ ۔ایون شرائط کے ساتھ نافذ کرنا مشکل

آڈ ۔ ایون لاگو کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں اس معاملہ میں سماعت کرنے کے دوران این جی ٹی کے چیئرمین سوتنتر کمار نے سنیچر کی صبح دہلی سرکار پر کئی سوال داغے۔ سرکار جریح کے دوران بیک فٹ پر نظر آئی۔ این جی ٹی نے پوچھا کیا ایل جی کی اجازت لی ہے؟ آپ دو پہیہ کو چھوٹ دے رہے ہیں کیا آپ کو پتہ ہے اگر 500 کاروں کو ہٹا دیا جائے اور 1000 دو پہیہ گاڑیوں کو چھوٹ دے دی جائے تو کار سے زیادہ آلودگی دو پہیہ گاڑیوں سے ہوگی۔ این جی ٹی نے سوال کیا آپ نے دو پہیہ گاڑیوں کو کس بنیادپرچھوٹ دی ہے؟ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ دوپہیہ سے 30 فیصدی آلودگی پیداہوتی ہے آپ بتائیں یوجنا کے دوران کتنی ڈی ٹی سی بسیں سڑکوں پر ہوں گی اور کتنی بسیں ڈپو میں خراب کھڑی ہیں۔
این جی ٹی نے دہلی سرکار سے پوچھا کہ آپ نے اب تک ہیلی کاپٹرسے بارش کیوں نہیں کروائی؟ جب کہا جاتا ہے تبھی سوچتے ہو ۔ دہلی سرکار پارکنگ بڑھانے سے متعلق فیصلے (چار گنا) پر نظرثانی کرے۔ پیسے بڑھانے سے آلودگی کے مسئلہ کا حل نہیں ہوگا۔ صرف لوگوں پر اقتصادی بوجھ پڑے گا۔ این جی ٹی نے پوچھا کہ اتنے وقت سے آلودگی تھی آپ نے کیا کیا؟ این جی ٹی نے سخت شرطیں دہلی سرکار کے سامنے رکھیں ۔ یہ تھیں شرطیں: سرکار اسکیم کو لاگو کرنے کے لئے آزاد ہے، لیکن ہوائی آلودگی کی ایمرجنسی صورتحال کے دوران اسے کئی طرح کی چھوٹ کے ساتھ لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ آڈ ۔ایون سسٹم کے دائرے میں دو پہیہ (موٹر سائیکل) ، مہلا ڈرائیور، وی آئی پی والی گاڑی سمیت دیگر سبھی گاڑیوں کو بھی لایا جائے۔ سرکار کچھ شرطوں کو پورا کرسکتی ہے تو آڈ۔ ایون سسٹم لاگو کیا جاسکتا ہے۔ این جی ٹی کی سخت شرطوں کو دہلی سرکار پورا نہیں کرپاتی اس لئے اس نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ کئی وجوہات تھیں: مہلا سیکورٹی بڑا اشو ہے۔ دہلی میں 1.06 کروڑ گاڑیاں ہیں۔ ابھی 25 سے زیادہ کیٹگری میں چھوٹ دینے کے بعد قریب 25 لاکھ گاڑیاں آڈ ۔ایون کے دائرے میں آ رہی تھیں۔ آڈ۔ ایون سے قریب12.50 لاکھ گاڑیاں سڑک سے ہٹتیں ، لیکن شرط مانی تو 25 لاکھ کے ساتھ 60 لاکھ دوپہیہ اسکوٹر بھی زد میں آجائیں گے یعنی روزانہ 30 لاکھ ٹووہیلر ہٹیں گے اس سے نمٹنے کے لئے ٹرانسپورٹ سسٹم نہیں ہے۔ دہلی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے حالت خراب ہے۔10 ہزار سے زیادہ بسیں ہیں جو کم ہیں۔ کرایہ بڑھنے، پارکنگ فیس چار گنا ہونے سے میٹرو رائڈر شپ گھٹ رہی ہے ایسے میں صرف پبلک ٹرانسپورٹ کے سہارے آڈ۔ ایون اسکیم کو لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی میں 8 لاکھ سے زیادہ ٹو وہیلر گاڑیاں ہیں۔ ایک کروڑ سے زیادہ کل گاڑیاں ہیں اس وجہ سے دہلی سرکار نے آڈ۔ایون کا فیصلہ واپس لے لیا۔
(انل نریندر)

کونسا دیش کتنا دھارمک ہے

دنیا کی سب سے بڑی آبادی عیسائی مذہب کو مانتی ہے۔ اسلام اس معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ کوئی بھی مذہب نہ ماننے والے تیسرے نمبر ہیں لیکن سرکاری طور پر دنیا میں سب سے زیادہ ممالک کا مذہب اسلام ہے یہ جانکاری ایک تحقیقی سینٹر کے ذریعے 199 ملکوں کے مذہب کی بنیاد پر کی گئی اسٹڈی میں سامنے آئی ہے۔ اس میں ان دیشوں کے آئین اور قانون کا مطالع کیا گیا ہے۔ ان میں مذہب کو لیکر تقاضوں اور مذہب کو ماننے والے، حمایتی یا سیکولر ممالک کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق دنیا میں43 دیش ایسے ہیں جنہوں نے سرکاری طور پر خود کو مذہبی دیش اعلان کیا ہوا ہے۔ ان میں سے27 نے خود کو اسلامک اور 13 نے عیسائی دیش بتایا ہے۔ خود کو مذہبی قرار دے چکے 43 ملکوں کے علاوہ 50 دیش ایسے بھی ہیں جن کا آئین مذہب کو مانیتا نہیں دیتا لیکن حمایت ضرور کرتا ہے۔
ان میں عیسائی مذہب کے ممالک کی تعداد زیادہ ہے۔ بھارت ،نیپال سمیت 106 ملکوں نے خود کو سیکولر اعلان کیا ہے۔ دنیا میں عیسائیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے لیکن مذہبی ملکوں میں اسلام سے پیچھے ہے۔ اسلامی مملکت کی تعداد عیسائی مملکت سے دو گنا ہے۔ ان میں سنی،شیعہ اسلام یا صرف اسلام ماننے والے شامل ہیں۔ دیگر مذاہب سے امتیاز کرنے والے ممالک میں اسلام رائج ہے۔ مالدیپ موریتینیا میں شہریوں کے لئے اسلام کی تعمیل ضروری ہے۔لیپسٹین، مالٹا، موناعیسائی ممالک ہیں لیکن عام مذہب کو بھی سبھی فائدے ملتے ہیں۔ یردن اسلامی ملک ہے یہا ں دیگر مذاہب کے لوگوں کو سرکاری اسکیم کے فائدے نہیں ملتے۔ غیر مسلموں کو پراپرٹی سے لیکر شادی تک کی جانکاری حکومت کو دینی پڑتی ہے۔ اسلام چھوڑ کر دوسرا مذہب اپنانے والوں پر نگرانی ہوتی ہے۔ چین ، کیوبا، نارتھ کوریا کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے لیکن سختی ہے۔ ان میں ویتنام ، قزاقستان،قرغستان، ترکمانستان بھی ہیں۔ یہاں مذہبی اجتماع پر سخت کنٹرول ہے۔ چین میں صرف پانچ انجمنوں کو مذہبی سرگرمیوں کی آزادی ہے۔ بھوٹان اور کمبوڈیا نے خود کو سرکاری طور پر بودھ ملک قرار دے رکھا ہے لیکن لاؤس بودھ مذہب کا سب سے بڑا حمایتی ہے اس کے آئین میں لکھا ہے سرکاری بودھ دھرم اور دیگر مذاہب کے جائز سرگرمیوں کا سنمان اور سکیورٹی کرتا ہے۔ خانہ جنگی جھیل رہے شام اسلام اکثریتی تو ہے لیکن سرکاری طور پر وہ ایک اسلامی ملک نہیں ہے۔
(انل نریندر)

12 نومبر 2017

گیارہویں کے طالبعلم نے پردیومن کو مارا

گوروگرام میں رائن انٹر نیشنل اسکول کے ایک بچے پردیومن کے قتل کے معاملہ میں سی بی آئی نے جوتازہ انکشاف کیا ہے وہ چونکانے والا ہے۔ رائن انٹرنیشنل اسکول کے طالبعلم پردیومن کے قتل کے ٹھیک دو مہینے بعد کیس میں نیا موڑ آگیا ہے۔ سی بی آئی نے پولیس کی ہر تھیوری کو مسترد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اسکول کے گیارہویں کے ہی ایک طالبعلم نے پرینٹس ٹیچر میٹنگ اور امتحان ٹلوانے کے لئے پردیومن کا قتل کیا۔ ملزم 16 سالہ طالبعلم کو منگلوار کی رات ساڑھے گیارہ بجے حراست میں لے لیا گیا۔ اس کو جوئنائل کورٹ نے تین دن کے ریمانڈ پر سونپ دیا۔ سی بی آئی کے مطابق اس نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ اس سے پہلے ہریانہ پولیس نے اسکول بس کے کنڈیکٹر اشوک کمار کو قتل کا ملزم بنایا تھا۔ ہریانہ پولیس نے دو اشوک کمار کو ایک طرح سے قاتل بھی قراردے دیاتھا۔ پولیس نے کنڈیکٹر کے اقبال نامہ کے ساتھ یہ نتیجہ پیش کیا تھا کہ اس نے بچے کا جنسی استحصال کرنے کے ارادے سے اسے پکڑا اور ناکام رہنے پر بچے کو گلا کاٹ کے مارڈالا۔ اس سے سماج میں غصہ پھیلنا فطری ہی ہے لیکن تب بھی کئی لوگوں نے پولیس کے نتیجے پر سوال اٹھائے تھے یہاں تک کہ خود پردیومن کے والد نے کہا تھا کہ پولیس نے جس شخص کو اہم ملزم بنایا ہے وہ اصلی مجرم کو بچانے کی کوشش ہے۔ آخر سی بی آئی کو کنڈیکٹر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ سوچئے اتنے دنوں تک اشوک کمار اور اسکے خاندان پر کیا گزری ہوگی؟ اس نے جوبھی جنسی اور ذہنی اذیت جھیلی ہے اس کی تکمیل کیا اس سسٹم میں ممکن ہے؟ حکام کے مطابق طالبعلم نے امتحان اور پی ٹی ایم کو ٹلوانے کے لئے اس واردات کو انجام دیا لیکن زیادہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اس منظم قتل میں نشانہ پر پردیومن نہیں تھا۔ پوچھ تاچھ کے دوران ملزم طالبعلم نے بتایا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ میں پوری طرح سے زیرو ہوگیا تھا اور میں نے اسے مار ڈالا۔ تشویش کا باعث یہ بھی ہے کہ گیارہویں میں پڑھ رہا ایک لڑکا صرف اس لئے بچے کی جان لے لیتا ہے کہ اسے ڈر ہے کہ وہ کہیں فیل نہ ہوجائے۔ امتحان ٹلوانے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوگیا یہ کیسا تعلیمی نظام ہے جو ایک بچے کو اچھی انسانیت نہیں بلکہ نمبر لانے والی مشین بنانے چاہتا ہے۔ اب نئے قانون کے تحت ملزم طالبعلم کو ممکنہ طور پر بالغوں کے برابر مانا جائے لیکن جانچ کے دوران ایسے اشارے بھی سامنے آئے ہیں اور موقعہ واردات کے آس پاس ملزم طالبعلم کے علاوہ کئی لوگ موجود تھے۔ اگر ایسا ہے تو اسکول مینجمنٹ بھی کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے۔ اس نے جانچ بوجھ کر معاملہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔
(انل نریندر)

فلم’ ’پدما وتی‘‘ پر واویلا

آج کے دور میں کوئی شبہ نہیں کہ سنیما سماج کا عکس ہے۔ ہمارے سامنے کئی ایسی فلمیں ہیں جن میں ہمارے سماج کی تشکیل کو بہت ہی اہل طریقے سے دکھایا گیا ہے اور سنیما جانے والوں نے اس کی تعریف بھی کی ہے۔ مثال کے طور پر عامر خاں کی ’’دنگل ‘‘ کو ہی لے لیجئے ،اس میں اور سلمان کی ’’سلطان‘‘ فلم میں ہریانہ کے سماجی کلچر کو بہت بہترین طریقے سے پردے پر اتارا گیا ہے۔ وہیں ’’پنک‘‘ جیسی فلم میں خواتین کے تئیں ہورہے سماجی امتیاز کوبہترین طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ اگرچہ ہم بات کریں سنجے لیلا بھنسالی کی تو ’’ہم دل دے چکے صنم‘‘، ’’دیوداس‘‘، ’بلیک‘‘، ’’باجی راؤ مستانی‘‘ جیسی کامیاب فلموں کو ہدایت دی ہے لیکن ان کی تازہ فلم ’’پدماوتی‘‘ تنازعوں میں پھنس گئی ہے۔ دسمبر کو ریلیز ہونے جارہی فلم ’’پدماوتی‘‘ کو لیکر راجستھان کے سابق راج گھرانے ایک ساتھ مخالفت میں اتر آئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فلم میں رانی پدماوتی کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ ادھر راجپوت کرن سینا نے سنیما ہال مالکوں کو خط لکھ کر ’پدماوتی‘ کو نہ دکھانے کی درخواست کی ہے۔ راجستھان فلم ڈسٹریبیوٹرس نے طے کیا ہے کہ جب تک تنازعہ سلجھ نہیں جاتا تب تک ’پدماوتی‘ کو دکھایا نہیں جائے گا۔ جے پور راج گھرانے کی ریا کمار کا کہنا ہے کہ ہم رانی پدماوتی کی بہادری اور قربانی کی کہانیوں کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں جہاں ہزاروں عورتوں کے ساتھ عصمت کو بچانے کے لئے تحریک کی تھی اسے کیسے ڈریم سیکوینس کا نام دے کر پریم کتھا بتا سکتے ہیں۔ فلم میں تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کئے جانے کے الزامات کے بعد اب فلم پر پابندی لگانے کی مانگ کو لیکر سوشل میڈیا میں بھی مہم چلائی جارہی ہے۔ اس میں فیس بک پر پروفائل فریم ’میں احتجاج کرتا ہوں‘ کو لوگ بڑھ چڑھ کر اپنی فوٹو کے ساتھ فیس بک پر لگا رہے ہیں۔ فلم کے احتجاج میں راجپوت سماج کے سڑک پر احتجاج کے بعد اب ڈیجیٹل مخالفت بھی شروع ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ پر بھی فلم کے خلاف کئی گروپ بنائے گئے ہیں۔ مختلف فرقوں کی مخالفت کے چلتے سنجے لیلا بھنسالی اور ان کی ٹیم پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ پچھلے ہفتے چتوڑگڑھ میں اس فلم کی مخالفت میں بازار بند رکھے گئے تھے۔ اس میں مختلف سماجی اور کاروباری اداروں نے فلم پدماوتی کے خلاف و حمایت میں مظاہرہ کیا۔ بھنسالی کی فلم کی مخالفت ان کے حق میں بھی جا سکتی ہے۔ اس احتجاج کے سبب فلم مباحثہ میں آگئی ہے اور فلم کی دبا کر پبلسٹی ہورہی ہے جو عام طور پر فلم نہ بھی دیکھتا ہو وہ بھی اب بے چینی سے اسے دیکھنے جائے گا۔ اگر واقعی ہی فلم میں تاریخ کوتوڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے تو یہ قابل مذمت ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...