Translater

22 جون 2013

تباہی کاایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھاآپ بیتی کی زبانی

بدھوار کو ملی خبروں اورتصویروں سے لگتا ہے کہ کیدار ناتھ مندر تو محفوظ ہے لیکن اسکے آس پاس بھاری تباہی کا نظارہ دیکھاجاسکتا ہے۔ اتراکھنڈ کے وزیراعلی وجے بہوگنا نے سیلاب کے اس قدرتی اورہمالیائی ٹریجڈی سے تشبیہہ دی ہے اورکہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے مرنے اندیشہ ہے اورمیں بغیر سروے کے صحیح تعداد نہیں بتاسکتا ۔ کیدارناتھ تک سڑک راستے کوبحال کرنے میں ایک سال لگ جائے گا۔ ہماری پہلی ترجیح پھنسے لوگوں کو خاص کر دیش کے بہت سے حصوں سے آئے تیرتھ یاتریوں کو بچانے کی ہے۔ انہیں دوائیاں پہنچانے اورمتاثرین کو معاوضہ دینا ہے دیو بھومی اتراکھنڈ میں موسم توکھلا تو بربادی کے گہرے زخم دکھائی دینے لگے ۔ بادل پھٹنے کے بعد مداگنی نے خوفناک نے تباہی مچائی۔ میڈیاکے مطابق کیدار مندر سے ڈھائی کلو میٹر اوپر واقع دھار باڑی جھیل نے پوری وادی کو تباہ کردیا بھاری بارش کے سبب جھیل میں کافی پانی بھرگیا اس کے بعد یہاں ایک کلیشئر ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد جھیل کاکنارہ ٹوٹ گیا اورپوری کیدار وادی تباہ ہوگئی۔ مندر کے ایک طرف پہلے سے بھی مداگنی ندی بہتی تھی ۔ کلیشئر ٹوٹنے سے کیدار ماؤنٹ کاملبہ بھی نیچے آنے لگا۔ کیدار مندرکے مہنت روی بھٹ نے بتایا کہ جب زلزلہ آیا جب ہم نے موت کو قریب سے دیکھا۔ کیدارناتھ شمشان گھاٹ بدل گیا۔ جہاں تہاں لاشیں ملبے میں دبی ہوئی ہے۔ موسم صاف ہونے پر انتظامیہ نے فوج کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے کیدار ناتھ میں پھنسے 410 تیرتھ یاتریوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا ہے۔ جب کہ ایک ہزار سے زیادہ لوگ ابھی بھی مندر میں مدد کے لئے انتظار میں ہے۔ قدرتی آفات نے جیسے جیسے جان بچانے کے بعد تین دنوں سے کیدار ناتھ مندر کے اندر پھنسے مندر کمیٹی کے سکریٹری ویدپاٹھی سشیل بیجوال اور اجے رویندر جب ہیلی کاپٹر سے گلاب رائے میدان میں اترے تو انہیں لگا کہ انہیں نئی زندگی مل گئی ہے۔ روزنامہ ہندی ہندوستان کے وہاں ٹیم پہنچی تو اس نے جوآپ بیتی بیان کی ہے اس سے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیدارناتھ کا زیادہ تر علاقہ تباہ ہوگیا ہے۔ مندرکے اندر بھی 10لوگ مرے پڑے ہیں۔ اور کیدارناتھ نگر علاقے میں بڑی تعداد میں لوگوں کو جان گنوانی پڑی۔ سیلاب صبح 8-15 بجے آیا اور اس نے چاروں طرف کاعلاقہ گھیر لیا۔ یہ نظارہ بدل گیاچاروں طرف ہائی توبہ مچی دیکھتے ہی دیکھتے مندر بڑی تعداد میں کرمچاری اکٹھے ہوگئے۔ دہشت کے درمیان جیسے تیسے رات کاٹی تو صبح 6.25 منٹ پر یہاں پانی بھر آیا۔ تین دنوں تک مندر کے اندر بھوکے پیاسے رہے۔ اور انہوں نے بتایا کہ کیدار ناتھ میں پانی بجلی اور کمیونیکشن سہولیات ختم ہوگئی ہے۔ کیدارناتھ میں پنڈت رمیش ترویدی کاکہناہے کہ انہوں نے خوفناک تباہی کامنظر کبھی نہیں دیکھا۔ بتایا کہ 16جون کی صبح ساڑھے آٹھ بجے خوفناک قہر مندر سے چار کلو میٹر دور گاندھی سروور تیز آواز کے ساتھ پھٹا اور کیدارناتھ علاقے میں سیلاب آگیا۔ انہو ں نے بھاگ کسی طرح پہاڑی پر واقع بھیروں بابا کے مندر میں پناہ لی۔ جہاں پہلے سے کچھ یاتری رکے ہوئے تھے۔ اوردودن کے بعد ہیلی کاپٹر نے انہیں محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔ کیدارناتھ پوری طرح سے نیست ونابود ہوچکاہے۔ کئی ہوٹل ، دھرمشالائیں، ریستورینٹ اوردکانوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک بھی تباہ ہوگیا۔ پولیس ڈائریکٹر جنرل ستے برت نے بتایا رام باڑہ چوکی اور آئی آر بھی کے ایک سیکشن میں شامل پولیس والوں کابھی کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ ان کی تعداد 15بتائی جاتی ہے۔ کیدارناتھ کادرشن کرکے لوٹ رہے لکھنؤ آکاش اپادھیائے نے بتایا غوری کنڈ سے تین کلومیٹر اوپر جیسے وہ نیچے آرہے تھے۔تبھی راستے میں جھرنا ٹوٹ پڑا۔ آگے چل رہی ایک لڑکی نے جھرناپار کرنے کی کوشش کی وہ اس کی زد میں آگئی۔ اوروہ کھائی میں جاگری۔ ایسے ہی ایک شخص آکاش نے بتایا کہ اسی کے کئی ساتھی پھنسے مگران کو کسی طرح کھینچ بچا لیاگیا۔ اس کے بعد کسی طرح سے جان خطرے میں ڈال کر بچتے بچاتے سون پریاگ سے سات کلو میٹر دور ایک ہیلی بیڈ سے پہنچے۔ یہ تھی کیدارناتھ میں آئی قدرتی تباہی سے بچیں لوگوں کی آپ بیتی کی داستان جس کو سن کر عام آدمی کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بھگوان پرارتھنا کی جائے کہ جو لوگ وہاں پھنسے ہوئے ہیں وہ صحیح سلامت اپنی منزل تک پہنچ جائے۔ 
(انل نریندر)

دیش ڈوب رہا ہے اور نیرو بانسری بجا رہے ہیں

آخر جن بوتل سے باہر آہی گیا ہے دس سال میں بھارت کی معیشت اپنے نچلے سطح پر آگئی ہے۔ روپے کا حال یہ ہے کہ ایک ڈالر کے بدلے 60 روپے کا ریٹ پہنچ گیا ہے۔ مالی برس 2012-13میں دیش کا جی ٹی پی گھٹ کر پانچ فیصدی ہوگیا ہے۔ یہ پانچ سال میں سب سے نچلی سطح پر ہے پندرہ روز پہلے چیف اقتصادی مشیر رگھوناتھ راجن نے تسلی دینے کی کوشش کی کہ روپے کو لے کر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیرخزانہ پی چدمبرم نے معیشت کی صحت کو لے کر بھروسہ جتایا۔ اوراشارے دیئے ہے کہ سرکار جلد ہی اقتصادی اصلاحات کو رفتار دیں گی۔ مگر ڈالر کے مقابلے جس طرح سے روپیہ دھرام سے گرا ہے اس سے سمجھاجاسکتا ہے اقتصادی حالت کتنی خراب ہے کہ محض تین مہینے روپیہ اپنے ریکارڈ کم از کم اپنی سطح پرآگیا ہے۔ کرنسی کے کمزور ہونے کاسیدھا اثر معیشت سے ہوتا ہے اوراس سے بھی کئی زیادہ بھارت کی جنتا پر گرتے روپے کااثر سیدھا کچے تیل کی درآمدات پر ہوتا ہے۔ پیرولیم پروڈکٹس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ جاتی ہے اورپہلے سے ہی مہنگائی کے بوجھ سے مررہی جنتا اور دب جاتی ہے۔ ایسا پچھلے دس سال میں پہلی بار ہوا ہے کہ معیشت کے تینوں ستون منڈی کے شکار ہوئے ہیں یہ ہے مینوپیداوار زراعت اور سروس سیکٹر پیداوار سیکٹر کامطلب ہماری معیشت میں موٹے طور پر صنعتی پیداوار سے کیاجاتا ہے پچھلی مالی سال میں یعنی 2012-13 میں سال 2011-12کے مقابلے اس سیکٹرمیں روپیٹ کر بہ مشکل ایک فیصصدی اضافہ ہوا ہے۔ یہی حال زرعی سیکٹر کاہے اس میں بھی اضافہ شرح مالی سال 2012-13میں بہ مشکل 2فیصدی رہی اس کے مقابلے 2011-12 میں زرعی سیکٹر خاصی سرخ رو دکھائی پڑی۔ یعنی اضافی شرح ساڑھے تین فیصدی سے زیادہ تھی۔ ظاہر ہے کہ معیشت میں عام آدمی کو روزگار مہیا کرانے والے ان دونوں سیکٹروں کی پتلی حالت نے سروس سیکٹر کوبھی ہانپنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس کی اضافی شرح بھی سال 2012-13کے درمیان پھسل کر رہے گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا آخر کیوں ہوا۔ معیشت کی درگتی کے سرکاری اسباب تیل کے بڑھتے دام اوردیش میں ضروری اجناس میں کی پیداوار مانگ کے مطابق نہ ہونا عالمی اقتصادی منڈی کو گنا جارہے ہیں۔ لیکن کیا ہمارا نظام بدانتظامی کے الزام سے بچ سکتا ہے؟شاید نہیں۔ پچھلی ڈھائی میں لہلاتی ہندوستانی معیشت سے مدہوش ہو کر این ڈی اے اور یوپی اے حکومتوں نے دیش کے انتظامی ڈھانچے میں جو کھلواڑکیاہے ویسی مثال کہیں نہیں ملتی۔ اس سے پیدا ہوئے کوڑھ میں کھاج دراصل فضول خرچی اور کرپشن نے کردی ہے۔ دیش کی بڑی سیاسی پارٹی عام آدمی کو پختہ روزگار دینے کے بجائے لیپ ٹاپ ، ٹی وی، منگل سوتر وظیفہ دے کر ووٹ بٹورنے میں لگے ہوئے ہے۔ انہیں سبھی وجوہات سے دیش کا مالی انتظام غوطے کھارہا ہے۔ روپیہ بار بار ڈوب رہا ہے۔ اور شیئر بازار پر سٹوری کاقبضہ ہے اوربینکوں پر بھاری مالی دباؤ ہے۔ پریشان ہوتے ہوئے بھی لوگ لبھاون سرکاری پالیسیوں پر زبردستی عمل کرنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔ مہنگائی بے لگام ہے اوراس کی شرح آسمان چھو رہی ہے۔صنعتی ترقی ٹھپ ہے اب دیکھناہے کہ چناؤ کے اس موسم میں مرکز ریاستی حکومتیں دیش کی معیشت کے بکھرے لوازمے کو بٹور کر اسے پھر سے پٹری پر لانے کے لئے واقع کوئی ٹھوس قدم اٹھا پائے گی یا ووٹوں کے چکر میں بھارت روپی روم کو جلنے کو چھوڑ کر ہمارے نیتا روپی نیروں اسی طرح چین سے بانسری بجاتے رہے گے۔
(انل نریندر)

21 جون 2013

کانگریس تنظیم اور سرکار دونوں میں راہل گاندھی کی چھاپ

کانگریس نے تنظیم اور سرکار میں ردوبدل کرکے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اب آنے والے اسمبلی انتخابات اور 2014ء میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ کے لئے تیار ہے اور پارٹی و حکومت دونوں کو سیمی فائنل اور فائنل کے لئے خود کو تیار کررہی ہے کیونکہ عام چناؤ میں ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ اس لئے فطری ہی ہے کہ کانگریس اور حکومت میں ہوئی ردوبدل کو چناوی تیاری سے جوڑیں۔ ان دونوں ردوبدل اور پانچ مہینے پہلے راہل کو پارٹی کا نائب صدر بنانا اور تنظیم میں ان کی پسندیدہ ٹیم بنا کر پارٹی نے صاف کردیا ہے کہ 2014ء کا لوک سبھا چناؤ راہل گاندھی کی ہی رہنمائی میں لڑا جائے گا۔ دونوں کے وقت میں ایک ہی سندیش ہے کے ایسے وقت جب بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا والے این ڈی اے کا کنبہ بکھر رہا ہے اور وہ اندرونی رسہ کشی اور عدم استحکام کا مورچہ بن گیا ہے۔ کانگریس کی رہنمائی والی یوپی اے حکومت متحد اور بلا تنازعہ روک ٹوک چل رہی ہے۔ کانگریس نے یہ بھی پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اسکی رہنمائی والا یوپی اے کے تئیں حکومت مطمئن ہوسکی ہے۔ تازہ تنظیمی ردوبدل میں راہل گاندھی کی چھاپ صاف دکھائی پڑتی ہے۔ حالانکہ یہ کوئی اہم تبدیلی نہیں ہے لیکن یہ شاید پہلی بار ہے کے پارٹی میں ایک شخص ایک عہدے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ دوسرے تنظیم سے لیکر کانگریس ورکنگ کمیٹی تک پارٹی کا چہرہ پہلے کی بہ نسبت نوجوان دکھائی پڑتا ہے لیکن جوتر ادتیہ سندھیہ اور سچن پائلٹ ،جتن پرساد،جتندر سنگھ جیسے نوجوان لیڈروں کو پارٹی تنظیم کے کام کاج سے نہیں جوڑا گیا ہے۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ تجربہ کار اور نوجوان سیاستدانوں کا تال میل بٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ چناؤ کی تشویش کا ہی اثر ہوگا کہ طویل عرصے بعد پارٹی میں12 جنرل سکریٹری بنائے گئے ہیں۔سکریٹریوں کی یہ شکایت دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انہیں عہدہ تو دے دیا گیا لیکن زیادہ تر کو ریاست کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی۔ ایک شخص ایک عہدے کے ساتھ تنظیم اور وزیر کے عہدے کو الگ کردیا گیا ہے تاکہ چناؤ تقسیم کے نظریئے سے نہ لڑا جائے۔ مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزادکو آندھرا پردیش کی ذمہ داری سے نجات دینے کے پیچھے یہ ہی نظریہ ہے کہ وہ آندھرا کے مسئلے کے لئے وقت نہیں نکال پارہے تھے۔ جہاں تلنگانہ اور جگموہن ریڈی کانگریس کے لئے بڑی چنوتی بن کر کھڑے ہیں۔ یہاں کی ذمہ داری دگوجے سنگھ کو دیکر پارٹی لیڈر شپ نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے کہ پہلے انہیں اترپردیش سے ہٹا دیاگیا جہاں وہ فیل ہوگئے تھے دوسرے اب آپ ان دونوں چنوتیوں پر خاص توجہ دیں کے اترپردیش میں راہل گاندھی کے قریبی گجرات کے مدوسودن مستری کو ذمہ داری دینا بھاجپا کی طرف سے اترپردیش کا انچارج امت شاہ کا جواب ہے۔ اجے ماکن کی تیز طرار ساکھ کو دیکھتے ہوئے انہیں میڈیا انچارج بنانے کی اکیلی وجہ نہیں ہے۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کو بلا تنازعہ لیڈر رہنے دینے کے لئے ماکن کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ جناردن دویدی نے میڈیاسیل لیکر بھی ان میں ہائی کمان کا بھروسہ قائم رہا۔ امبیکا سونی بھی کانگریس صدر سونیا گاندھی کی نزدیکی ہیں اور رہیں گی۔ کیبنٹ توسیع میں ان دونوں ریاستوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے جہاں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ شیش رام اولا اور گرجا ویاس راجستھان سے ہیں۔ ملیکا ارجن کھڑگے کو کرناٹک میں مکھیہ منتری عہدے کی دعویداری نہ پیش کرنے کے عوض میں انعام کے طور پر ریل وزارت دے دی گئی ہے۔ تین نئے وزرا میں ایم نچپن کو تجارت اور صنعت وزارت دی گئی ہے وہ تاملناڈو سے تعلق رکھتے ہیں۔ پچھلے دو سالوں میں گھوٹالوں پر گھوٹالوں کی بحث سے دونوں سرکار اور پارٹی کی ساکھ خراب ہوتی رہی ہے۔ پچھلے دو برسوں میں ایسا کوئی اجلاس نہیں گیا جس میں بھاری ہنگامہ نہ ہو۔ ٹو جی اسپیکٹرم، کامن ویلتھ گیم، آدرش سوسائٹی گھوٹالہ، ہیلی کاپٹر گھوٹالہ، کوئلہ گھوٹالہ اور ریلوے رشوت جیسے معاملوں میں کانگریس کی فضیحت ہوتی رہی ہے۔ اسی ماحول میں بابا رام دیو ، انا ہزارے جیسے سرگرم غیر سیاسی لیڈروں نے بھی کرپشن کے خلاف مہم چلائی۔ اروند کجریوال تو اب سیاست میں اتر چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کرپشن کے اشو پر کانگریس کو کتنا جھٹکا لگا ہے؟ حالانکہ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کو لگتا ہے کہ بھارت کی جنتا کی یاد داشت بہت کمزور ہوتی ہے وہ سال چھ مہینے میں ضروری سے ضروری اشوز کو بھلادیتی ہے۔بہرحال یہ ضرور کہا جائے گا کہ راہل گاندھی کی رہنمائی میں تنظیم اور سرکار دونوں میں نئے رنگ بھرنے کے ذریعے کچھ نیا پن کا احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔
(انل نریندر)

ایران پھر تاریخی موڑ پر کھڑا ہوا!

ایران کے چناؤنتائج تقریباً ویسے آئے ہیں جیسا کے پہلے ہی امیدکی جارہی تھی۔ نتائج سے صاف ہے کہ وہاں کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ صدر کے عہدے کے لئے ہوئے چناؤ میں 8 سال بعد ایک بار پھر اصلاح پسندوں کو کامیابی ملی ہے۔ حسن روہانی ایران کے نئے صدر ہوں گے۔ 50 فیصدی سے زائد ووٹ پاکر وہ شرط انہوں نے پوری کرلی ہے اور پہلے دور میں یہ ٹارگیٹ پورا کرلیا ہے۔ صدر کے طور پر مسلسل دو بار اپنی میعاد پوری کر چکے احمدی نژاد آئینی بندش کے سبب اس بار چناؤ نہیں لڑ سکتے تھے لیکن ان کی رخصتی ایران کی سپریم ایڈمنسٹریٹو عہدے پر فائض شخصیت کی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک دور کی رخصتی ہے جس میں ایران اپنے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کے سبب مغربی دنیا کے نشانے پر ہے۔ دوسرے پچھلے کچھ برسوں میں ایران میں شہری زیادہ تر مسلسل بندشوں میں رہے ہیں۔ اصلاح پسندوں کی جیت کے جو مطلب نکلتے ہیں پہلا کے ایران کے زیادہ تر لوگ باہری دنیا سے رشتے بہتر بنانے کے حق میں ہیں اور دوسرا وہ چاہتے ہیں کہ شہری آزادی پر لگی پابندیاں ہٹیں۔ ایران ایک بار پھر تاریخی موڑ پر کھڑا ہوگیا ہے۔ اصلاح پسند لیڈر حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے کے بعد دیش میں زبردست خوشی کا ماحول پایاجاتا ہے۔ ایک طرف جہاں سڑکوں پر لوگ خوشی میں جھومتے دیکھے گئے وہیں ایرانی شیئر اور کرنسی مارکیٹ میں تاریخی اچھال دیکھا گیا۔ ایتوار دیر رات جیسے ہی روحانی کی کامیابی کا اعلان ہوا تو ان کے ہزاروں حمایتی سڑکوں پر اتر آئے۔ یہ سلسلہ اتنے شباب پر دکھائی دیا لوگ جگہ جگہ روحانی زندہ باد کے نعرے لگاتے نظر آئے۔ مغربی میڈیا کی مانیں تو ایران کی عوام نے روحانی کی شکل میں تبدیلی کو اپنی حمایت دی ہے۔ حسن روحانی نے اپنی کامیابی کے بعد یہ رد عمل دیا ہے کہ علم اصلاح پسندی اور ترقی کی جیت کے ساتھ ملک میں کٹرپسندی اور ڈکٹیٹرشپ کے خلاف لوگوں کا یہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ جنتا میں جس طرح کا جوش پیدا ہوا ہے اس سے پتہ چلتا ہے ملک کے عوام اپنے مستقبل کو لیکر کتنی امید لگائے ہوئے ہیں۔ وہیں حسن روحانی کی کامیابی سے مغربی دنیا نے راحت کی سانس لی ہے۔ برطانیہ اور فرانس نے چناؤ نتائج کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر پھر سے بات چیت شروع ہونے کی امید جتائی ہے۔ وہیں امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے نو منتخب اصلاح پسند صدر حسن روحانی کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ ہم ایران کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور امریکہ کو امید ہے کہ نئی حکومت بین الاقوامی قوانین کی تعمیل کرے گی تاکہ اسکے جوہری پروگرام کو لیکر عالمی برادری کی تشویشات کو دور کیا جاسکے۔ حالانکہ اصلاح پسند روحانی کی جیت کے بعد اسرائیل اور مغربی دیش اب بھی شک و شبہات ظاہر کررہے ہیں۔ دراصل انہیں دیش کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو لیکر خدشہ ہے ۔ مغربی دنیا کولگتا ہے کہ متنازعہ جوہری پروگرام کو لیکر روحانی خاص بہتری نہیں لائیں گے۔ نیوکلیائی پالیسی خامنہ ای طے کریں گے نہ کے روحانی۔
(انل نریندر)

20 جون 2013

بھولے کے مندر پر آنچ نہیں آئی، باقی سب طرف تباہی

مجھے تو یقین نہیں ہورہا ہے کہ اتراکھنڈ میں ایسا سیلاب آیا، قدرت کا قہر ٹوٹا۔ پوری ریاست میں تباہی کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔ کیدارناتھ دھام سوائے مندر کے سارا تباہ ہوگیا ہے۔ میری نظروں میں ابھی وہ تصویر قائم ہے جب پچھلے سال 19 اگست2012ء کومیں اور میرے کچھ ساتھی کیدارناتھ گئے تھے۔ تین دن کے سفر میں دہلی سے نکلتے ہی بارش ہوگئی اور لوٹنے تک وہ نہیں رکی تھی۔ وہ گوروکنڈ کا ہوٹل جہاں ہم نے رات گذاری تھی ،وہ رام باڑا جہاں ہم نے کیدارناتھ جاتے وقت رک کر چائے اور پکوڑے کھائے تھے، وہ چھوٹا لوہے کا پل جس پر کھڑے ہوکر فوٹو اور ویڈیو کھینچی تھی، وہ بازار جس سے گذر کرہم مندر میں داخل ہوئے تھے، وہ ہوٹل جہاں ہم نے درشن کرکے کھانا کھایا، سبھی صاف ہوگئے۔ کتنا خوفناک منظر رہا ہوگا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہاں بچا تو صدیوں پرانا مندر ۔ مندر کے قریب رام باڑے میں ہی ایتوار کی رات بادل پھٹا تھا۔ کیدارناتھ ، رام باڑہ اور گوری کنڈ تباہ ہوگئے ہیں۔ موقعے کی ہیلی کاپٹر سے لی گئی تصویریں رونگٹے کھڑے کردینے والی ہیں۔ چشم دید گواہ کیدارناتھ میں تعینات ردرپریاگ کے پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آر ڈمری نے بتایا کہ مندر کمپلیکس ملبے اور کیچڑ سے بھرا ہوا ہے۔ کمپلیکس میں جہاں جہاں لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ مندر کے گرو گرہ میں پانی کے ساتھ ملبہ گھس گیا، مسلسل بارش اور پانی کے تیز بہاؤ سے مندر کے آس پاس کی زیادہ تر عمارتیں زمیں دوز ہوگئی ہیں۔ 7 کلو میٹر دور گوری کنڈ ،کیدارناتھ پیدل راستے پر واقع رام باڑے کا وجود ختم ہوگیا ہے۔100 سے150 دوکانوں والا یہ رام باڑہ بازار میں ہمیشہ 500 سے600 لوگ گھومتے پھرتے دکھائی پڑتے تھے۔ اس تباہی میں کتنے لوگ مرے ہیں ۔ پورے اتراکھنڈ میں 1 لاکھ سے زیادہ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔بہتوں کو پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں گئے۔ ٹی وی پر مکان تاش کے پتوں کی طرح گرتے اور بہتے دیکھ کر بڑا دکھ ہوا۔ بابا کا پرتاپ کہیں یا بابا کا چمتکار کہیں کے سب کچھ تباہ ہونے کے باوجود جوتی لنگ اور صدیوں پرانا گنبد محفوظ ہے۔3597 میٹر اونچائی پر موجود قدیم مندر کیدارناتھ میں شیو لنگ دیش کے 12 جوتی لنگ میں سے ایک ہے۔ قدیم روایتوں کے مطابق آگیات واس کے دوران پانڈوؤں نے بھگوان شنکر کو خوش کرنے کے لئے یہاں تپسیا کی تھی۔ اس دوران انہوں نے 80 فٹ اونچا بھگوان کیدارناتھ کا مندر بنوایاتھا۔ 
جب میں مندر گیا تو وہاں کی بناوٹ دیکھ کر لگا کے یہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ اس کے اندر پانڈوؤں کی مورتیاں لگی ہوئی ہیں۔ اندر لائٹ کم ہے جس سے پتہ چلتا ہے اس کو ہزاروں سال پہلے بنایا گیاتھا اور یہ ایک عجب نمونہ دکھائی پڑتا ہے۔ مندر میں داخل ہوتے ہی میں اس کی بناوٹ کا بیان نہیں کرسکتا۔ یہ محض اسی وقت محسوس کرسکتے ہیں جب صحیح معنوں میں یہاں جاکر لگتا ہے کہ آپ دیو بھومی میں آگئے ہو۔ ایسی روایت ہے کے ست یگ کال کے راج کرنے والے راجہ کیدارناتھ کے نام پر اس عظیم الشان مندر کا نام پڑا۔ اگرچہ شنکر آچاریہ نے کیدارناتھ مندر کو بنوایا اور بدلتے موسم کے سبب مندر کے کپاٹ صرف اپریل اور نومبر مہینے تک شردھالوؤں کے درشن کے لئے کھولے جاتے ہیں۔ ہر سال بھاری تعداد میں شردھالو بھگوان کیدارناتھ کے درشن کرنے کے لئے ملک و بیرون ملک سے آتے ہیں۔ کیدارناتھ یاترا بھارت کے چار بڑے دھام یاتراؤں میں سے ایک ہے۔ منداکنی ندی کے گھاٹ پر بنے اس مندر کے اندر کافی اندھیرا رہتا ہے اور چراغ کے سہارے ہی بھگوان شیو کے درشن ہوتے ہیں۔ 
مندر میں پانچ پانڈوؤں سمیت دروپدی کی بھی مورتیاں ہیں۔ چھ فٹ اونچے چوکور چبوترے پر بنے کیدارناتھ مندر کے باہر صحن میں ندی بیل گاڑی کی شکل میں براجمان ہے۔ اس حادثے کو قدرتی آفت ہی کہا جائے گا جو کلجگ میں بڑھتے کالے کارناموں کا نتیجہ ہے یا ہمارے انتظامات میں کمی کا نتیجہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ہی ہیں۔ دو مہینے پہلے پلاننگ کمیشن نے اتراکھنڈ حکومت کو خبردار کیا تھا کہ سیلاب کے پانی کی ٹھیک ٹھاک نکاسی پر خصوصی توجہ دی جائے اور موجودہ حکومت کی پالیسی میں تبدیلی لائیں۔ اتراکھنڈ میں ندیوں پربنائے جانے والے باند کو لیکر سرکار کوخبردار کیا گیا تھا۔ اس طرح کی تعمیرات ندیوں کی قدرتی انتظام میں رکاوٹ بننے والے ڈیلٹا بننا اور سیلاب کے پانی کی نکاسی کے راستے بند ہوتے ہیں۔
مئی 2013 ء کو بھیجے گئے خط میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ سرکار کو ایسی پالیسی بنانی چاہئے جس سے ندیوں کے نالے کا سسٹم تیار کرنے میں رکاوٹ نہ آئے۔ پیڑوں کی بے تحاشہ کٹائی اور غیر قانونی کھدائی کا دھندہ یہ سب ماحولیات سے چھیڑ چھاڑ ہے۔ ایک سچائی یہ بھی ہے کہ دیش میں ہر سطح پرماحولیات کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اگر نظرانداز کرنے کا یہ سلسلہ قائم رہتا ہے تو قدرتی آفات مینجمنٹ چاہے کتنا مضبوط ہواس طرح کے حالات سے بچنا مشکل ہوگا جیسا کے اترا کھنڈ اور ہماچل میں پیدا ہوئے ہیں۔ ہرکوئی اس سے واقف ہے کہ دیش بھر میں چھوٹی بڑی ندیوں کے بہاؤ میں رکاوٹ کی جارہی ہے لیکن کسی بھی سطح پر کوئی ایجنسی پہل نہیں دکھاتی جس سے ندیوں سے ہورہی چھیڑ چھاڑ کو روکا جاسکے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جائے گا کے جو بارش جون کے مہینے میں ہورہی ہے وہ عجب بات نہیں ہے۔جب سے بارش کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے تب سے لیکرآج تک کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا کے مانسون16 جون سے ہی دیش کے چپے چپے پر اپنی پکڑ بنالے۔ اب سے52 سال پہلے 1961ء میں 2 جون کو ایسا حادثہ ہوا تھا لیکن اس سال بھی مانسون کی آمد کے ساتھ کوئی تباہی نہیں ہوئی تھی۔ پورے خطے کا موسم بدل رہا ہے۔ پورب میں بنگلہ دیش، میانمار، تھائی لینڈ میں مسلسل بارش سے بھاری جان و مال کا نقصان ہوا ہے۔ پڑوسی پاکستان میں 26 جولائی سے شروع ہوکرقریب مہینے بھر چلے سیلاب نے وہاں کے پہاڑی اور ریگستانی علاقوں میں ایسی تباہی مچائی جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ اس حادثے میں متاثرہ کنبوں کو ہم کہنا چاہئیں گے کے آپ کے دکھ میں ہم بھی شامل ہیں۔ بھگوان مرنے والوں کی آتماؤں کو شانتی دے۔ اوم نمہ شوائے،ہر ہر مہادیو۔
(انل نریندر)

19 جون 2013

کانٹوں بھرے راستے پر نکلے نتیش کو خود کو ثابت کرنا ہوگا

اپنا اپنا نظریہ ہوسکتا ہے17 سال سے چلے آرہے رشتے کو بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے توڑ کر ایک بڑا سیاسی خطرہ مول لیا ہے۔ جہاں تک بھاجپا کا سوال ہے مجھے لگتا ہے کہ نریندر مودی کی ترجیح ہے کہ پارٹی کو مضبوط بنا کر اپنے دم خم پر کھڑا کرنا۔ ان کا نشانہ صاف ہے بھاجپا کو اپنی پچھلی پرفارمینس سے زیادہ بہتر ثابت کرنا۔ انہیں لگتا ہے اگر بھاجپا مضبوط ہوکر چناؤ میں ابھرے گی تو این ڈی اے وغیرہ کا سوال اٹھے گا۔ اگر بھاجپا 180 کے آس پاس لوک سبھا سیٹیں نہیں لا سکے گی تو کہاں کا اقتدار اور کہاں کا این ڈی اے۔ نریندر مودی۔ راجناتھ خیمے کا خاص نشانہ اترپردیش، بہار جیسی بڑی ریاستیں ہیں وہ نتیش کے ساتھ سرکار چلا کر جونیئر پارٹنر کی حیثیت میںآگئی تھیں۔عموماً یہ ہی ہوتا رہا ہے کہ اتحاد سے پہلے بھاجپا سینئر پارٹنر ہوتی ہے اور اتحاد کے بعد وہ سکڑ کر جونیئر پارٹنر بن جاتی ہے۔ رہا سوال نتیش کمار کا تو ان کا آگے کا راستہ کانٹوں اور چنوتیوں سے بھرا ہے۔ ساڑھے سات برس تک روز بہار کی ترقی کی نئی کہانی گڑھنے کا سہرہ لینے والے جے ڈی یو بھاجپا تک کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ لگی ہے۔ آج تک این ڈی اے کے کارناموں کو لیکر وکاس پرش کی ساکھ بنا رہے نتیش کے خلاف اب سشیل کمار مودی آمنے سامنے ہوں گے۔ نئے پس منظر میں پردیش میں سیاسی عدم استحکام کا دور لوٹنے اور بہار کی ترقی کو پٹری پرلانے کی کوششیں کمزور پڑنے کے اندیشے کے درمیان نتیش ۔لالو کی دو بڑی سیاسی چکری کے ساتھ بھاجپا کی نئی دھری بن گئی ہیں۔ نتیش اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ اقلیتوں کے 18 فیصدی ووٹ انہیں مل جائیں گے تو شاید وہ مبالغے میں ہیں۔اقلیتی ووٹ لالو پرساد یادو اور کانگریس میں بٹیں گے وہیں بڑی ذاتوں کے زیادہ تر ووٹ اب کھل کر بھاجپا کے ساتھ آجائیں گے۔برہمن، پسماندہ و انتہائی کمزور و دلت اقلیتی کارڈ کے سیاسی کھیل میں اب 40 لوک سبھا سیٹوں والی بہار ریاست میں مستقبل قریب میں ہونے والے چناؤ میں جنتادل (یو) کو اپنی موجودہ 20 سیٹوں پر قبضہ برقرار رکھنے کی نہ صرف کڑی چنوتی ہوگی بلکہ اسمبلی میں تین چوتھائی اکثریت کی جگہ آزاد ممبران کے بوتے معمولی اکثریت کے حساب کتاب سے بنی سرکار چلانا بھی نتیش کے لئے ایک مشکل امتحان ہوگا۔اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں بڑی اپوزیشن پارٹی کی شکل میں بھاجپا کی بڑی طاقت اور مضبوط رول سے نتیش پریشان رہیں گے۔ وزیر اعلی کو اب بہار میں خود اپنے بل پر اپنی زمین مضبوط کرنی ہوگی۔ وہ جانتے ہیں کہ قومی سیاست میں ان کی پوچھ تب تک ہے جب تک کے ریاست میں ان کا دبدبہ رہے گا۔ نتیش کمار۔ نریندر مودی پر اتنے جارحانہ کیوں ہیں؟ جے ڈی یو کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ سیاست میں دو طرح کی مثالیں ملتی ہیں ایک گیم چینج کرنے والا دوسرا گیم بنانے والا۔ اب تیسری طرح کا تجربہ ہے گیم بگاڑنے والا۔ نتیش مودی کا گیم بگاڑنے میں لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کیا نتیش ایسا کرپائیں گے؟ بہار میں نتیش کے اس قدم سے نئے تجزیئے بننا طے ہیں۔ نتیش کمار شاطر کھلاڑی ہیں انہوں نے سب سوچ سمجھ کرکیا ہے لیکن پھر بھی یہ ہی کہا جائے گا کہ نتیش کا آگے کا راستہ کانٹوں سے بھرا ہے اور انہیں خود کو ثابت کرنے کی چنوتی کھڑی ہوگئی ہے۔
(انل نریندر)

دہلی میٹرو میں محفوظ سفر کامسئلہ

گذشتہ منگلوار کو شاید پہلی بار ایسا ہوا ہو کہ دہلی کی مشہور میٹرو ٹرین ایک سرنگ میں ڈیڑھ گھنٹے تک پھنسی رہی اور مسافر پریشان ہوگئے۔ میٹرو ٹرین کا یوں پھنسنا تھوڑا عجب ضرور لگا کیونکہ میٹرو پر تو سارے دیش کو ناز ہے اور اس طرح کے حادثے سے اس کے بھروسے پر دھکا لگتا ہے۔ سینٹرل سکریٹریٹ سے ادیوگ بھون کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے تک سرنگ میں میٹرو اٹکی رہی۔ جانچ سے پتہ چلا ہے یہ مسئلہ میٹرو سافٹ ویئر کے سبب ہوا ہے۔ یہ نتیجہ ڈی ایم آر سی کی تین نفری جانچ کمیٹی نے اخذ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق میٹرو کوچ کوآپس میں جڑ ے ہونے کی جانکاری ٹرین کے سافٹ ویئر کے ذریعے ملتی ہے لیکن پچھلے منگلوار کو سینٹرل سکریٹریٹ سے آگے بڑھتے ہی ڈرائیور کو یہ سگنل نہیں ملا اور اس وجہ سے ایمرجنسی بریک لگانا پڑا جس کے بعد ٹرین پوری طرح سے سرنگ میں پھنس گئی۔ ٹرین میں اس وقت 1791 مسافر سوار تھے جنہیں ڈیڑھ گھنٹے تک مشقت کے بعد ٹرین سے نکالا جاسکا۔ اسے دیکھتے ہوئے ڈی ایم آر سی کے چیف منگو سنگھ نے مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لئے ہدایت جاری کی کہ سرنگ میں روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام ہو۔ قدرتی طور پر اندھیرے میں چمکنے والا پینٹ کیا جائے تاکہ اس طرح کا حادثہ ہونے پر بھی مسافروں کو سرنگ سے باہر نکلنے میں پریشانی پیش نہ آئے۔ میٹرو کے انجینئر یہ دیکھنے میں بھی لگے ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات ہونے پر بریک سسٹم کو اور پختہ کیسے کرسکتے ہیں۔ اس سافٹ ویئر میں گڑ بڑی ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 8 ڈبوں کی ٹرین میں سافٹ ویئر میں خرابی کیسے آئی۔ اس کا پتہ لگانے کے لئے جرمن کوچ کمپنی کوطلب کیا جائے گا کہ اس حادثے کے بعد منگو سنگھ نے کئی اہم فیصلے کئے۔ محفوظ سفر کے لئے پانچ قدم ضروری ہیں۔ اب اگر سرنگ میں ٹرین 10 منٹ سے زیادہ بغیر لائٹ اور صحیح وینٹی لیشن کے رکتی ہے تو میٹرو کے آپریشنل منیجر مسافروں کو فوراً باہر نکالنے کی کارروائی شروع کردیں۔ سرنگ کے اندر روشنی کے انتظام بھی اس طرح کئے جائیں کے بچاؤ کارروائی کے وقت مسافروں کو اچھی طرح سے راستہ دکھائی دے۔ اس کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر بیداری مہم بھی میٹرو چلائے گی۔ اس سے لوگوں کو بتایا جائے گا کہ ایمرجنسی میں کیا کریں۔ دہلی میٹرو کو اگردہلی کی سفری لائف لائن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس کا آغاز 24 ستمبر 2002ء کو شاہدرہ تیس ہزاری لائن سے ہوا تھا اور آج یہ کئی راستوں پر چل رہی ہے۔ سبھی ٹرینوں کی پروڈکشن ساؤتھ کوریا کی کمپنی روٹیم نے کی ہے۔ دہلی کے ٹرانسپورٹ سسٹم میں میٹرو ریل ایک اہم کڑی ہے اس سے پہلے ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر بوجھ سڑک پر تھا اور ابتدائی پلان میں چھ راستوں پر اسے چلانے کی اسکیم تھی جو آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور آج اس کا پھیلاؤ راجدھانی سے ملحق شہروں غازی آباد، فیرد آباد ، گوڑ گاؤں ، نوئیڈا تک ہونے جارہا ہے۔ دہلی میٹرو کی کامیابی کے سبب اب ہندوستان کی دیگر ریاستوں نے بھی اس طرح کی میٹرو ریل چلانے کی پلاننگ کرلی ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ میٹرو کے جنرل منیجر اور دیگر سرکاری محکموں کی طرح مسافروں کی سلامتی کے تئیں لاپرواہ نہیں ہیں اور سرنگ میں پھنسنے کے بعد مستقبل میں ایسا نہ ہو میٹرو کے افسران اس کے لئے تیاریوں میں لگ گئے ہیں۔
(انل نریندر)

18 جون 2013

جے رام رمیش کے بیان سے مچا کانگریس میں گھمسان

مرکزی دیہی ترقی وزیر جے رام رمیش ہمیشہ اپنے متنازعہ بیانات کے لئے مشہور ہیں وہ کسی نہ کسی بیان کے لئے سرخیوں میں چھائے رہتے ہیں۔ ان کے تازہ بیان سے ان کی اپنی پارٹی کانگریس میں ہائے توبہ مچ گئی ہے۔ مسٹر جے رام رمیش نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو بھارت کا پہلا پرمانی فاسی وادی قراردیا اور تسلیم کیا۔آنے والے چناؤ میں مودی کانگریس کے لئے چیلنج ثابت ہوں گے۔ کانگریس کے چیف حکمت عملی سازوں میں گنے جانے والے رمیش نے کہا کہ ہمارے لئے یقینی طور سے چنوتی پیدا کریں گے۔ وہ نہ صرف مینجمنٹ کی سطح پر چنوتی پیش کریں گے بلکہ آئیڈیالوجی کے لحاظ سے بھی چیلنج بنیں گے۔ جے رام رمیش نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ مودی وہ بھسماسور ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی گورو اڈوانی کو ہی نگل لیا۔ مودی نے گجرات میں تین چناؤ جیتے ہیں۔ بلا شبہ وہ اچھی چناؤ مہم چلاتے ہیں۔خیال ہے کہ یہ پہلی بار کانگریس کے کسی نیتا نے مودی کو چنوتی مانا ہے۔ اس سے پہلے تک عام طور پر کانگریس پارٹی نے مودی کو زیادہ توجہ نہ دیتے ہوئے یہ ہی کہا کہ ان کا اثر گجرات تک محدود ہے۔ جے رام رمیش کے ذریعے مودی کی تعریف کانگریسیوں کو نہیں بلکہ پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی و ایک اور متنازعہ بیان دینے کے لئے مشہور ستیہ ورت چترویدی نے کہا تو پھر رمیش اگر مودی کو چنوتی مانتے ہیں تو انہیں مودی کے ساتھ ہی چلے جانا چاہئے۔ کانگریس کے ترجمان شکیل احمد نے کہا جے رام رمیش کا بیان ان کا ذاتی بیان ہے۔ اس کا کانگریس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مودی این ڈی اے اور بھاجپا کے لئے چنوتی ہوسکتے ہیں کانگریس کے لئے قطعی نہیں اور کانگریس مودی کو چنوتی نہیں مانتی۔ حالانکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس کے کئی بڑے نیتا مانتے ہیں کہ جے رام رمیش کے بڑبولے پن سے پارٹی کو نقصان ہورہا ہے۔ کانگریس جے رام رمیش سے ہی نہیں بلکہ وزیر فولاد بینی پرساد ورما، سری پرکاش جیسوال، ویرپا موئلی کے بڑبولے پن سے بھی خاصی پریشان لگتی ہے۔ یہ نیتا ایسے وقت میں پارٹی کی کرکری کرا رہے ہیں جب چناؤ قریب ہے۔ بتاتے ہیں کہ جے رام کے بیان کو اعلی کمان نے بیحد سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس لئے بغیر وقت گنوائے ستیہ ورت چترویدی نے ان کے بیان پرتلخ رائے زنی کی ہے حالانکہ ذاتی طور پر کئی کانگریسی یہ مانتے ہیں کہ جے رام بیشک بڑبولے ہیں لیکن ان کے بیان میں کچھ حد تک سچائی ہے۔ لیکن جے رام نے اس کے لئے صحیح وقت نہیں چنا۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب این ڈی اے ٹوٹ کے دہانے پرکھڑا ہوا ہے۔ جنتادل (یو) خود مودی کے غبارے کی ہوا نکالنے میں لگی ہے۔ ایسے میں جے رام کا بیان مودی کو راحت دے سکتا ہے۔ کانگریس کے لوگ اس سے بھی خفا ہیں کہ جے رام نے مودی کو محض چنوتی ہی نہیں بتایا بلکہ انہیں آر ایس ایس کی بھی درپردہ طور پر تعریف کرڈالی۔ جے رام نے اپنے بیان میں یہ ضرور کہا کہ آنے والے لوک سبھا چناؤ راہل گاندھی بنام مودی کے بجائے کانگریس بنام سنگھ ہونے جارہا ہے۔ جے رام پر بھی کیبنٹ ردوبدل میں بجلی گر سکتی ہے۔رمیش کو تنظیم میں نئی ذمہ داری دی جاسکتی ہے لیکن بیان دینے سے وہاں بھی انہیں نہیں روکا جاسکتا۔
(انل نریندر)

تیل لابی کا وزیر ویرپا موئلی کو دھمکانے کاسوال

کیا اسے محض اتفاق کہا جائے کہ ادھر بھارت سرکار کے وزیر پیٹرول ویرپا موئلی سنسنی خیز انکشاف کرتے ہیں تیل اور گیس درآمد کرنے والی لابی وزیر پیٹرول کو دھمکی دیتی ہے ادھر پیٹرول کے دام میں2 روپے فی لیٹر اضافہ سنیچر کی رات سے نافذ کردیا جاتا ہے؟ حکومت ہند کے کسی وزیر کا ایسا سنسنی خیز بیان پہلے کبھی نہیں آیا جس سے پتہ لگتا ہے کہ اس سرکار کو تیل لابی بلیک میل بھی کرتی ہے۔کیبنٹ میں ردوبدل کے درمیان مودی کے اس بیان نے دیش میں ایک نیا سیاسی تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت میں موئلی نے کہا دیش کو تیل کی پیداوار میں خود کفیل بنانے سے روکنے میں ایک لابی کام کررہی ہے۔ میں پوری ذمہ داری سے یہ بات کہہ رہا ہوں یہ لابی ہر پیٹرولیم وزیر کو دھمکی دیتی ہے۔ وزارت کے حکام کو بھی فیصلہ لینے سے روکا جاتا ہے۔ یہ لابی چاہتی ہے کہ بھارت میں کچے تیل و قدرتی گیس کی پیداوار نہ بڑھے اور دیش کو درآمد پر منحصر رہنا پڑے جبکہ ہمارے دیش میں تیل اور گیس کے کافی ذخائر ہیں ہم انہیں نکال نہیں پارہے ہیں۔ موئلی کو جب اس لابی کے لوگوں کے نام بتانے کو کہا گیا تو انہوں نے اس سے منع کردیا۔ وزیر موصوف کے اس بیان پر رد عمل ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلا سوال تو یہ اٹھتا ہے کہ کون ہوسکتا ہے لابنگ کرنے والا یا والے؟ بھارت کچے تیل کا چوتھا سب سے بڑا پیدا کرنے والا ملک ہے اور خود کفیل ہونے جارہا ہے۔ موئلی کے مطابق 2030 ء تک دیش کوتوانائی سیکٹر میں خود کفیل بنانے پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ چین ، امریکہ اگلے کچھ برسوں میں تیل کی پیداوار میں خودکفیل ہونے جارہے ہیں۔ تیل پیدا کرنے والا بھارت جیسا دیش اپنا وسیع بازار نہیں کھونا چاہتا اس لئے ہوسکتا ہے موئلی کا اشارہ ان پر ہو۔ دوسرا ایل این جی درآمد کرنے والی کمپنی شیل برٹش پیٹرولیم سمیت کئی گھریلو کمپنیاں ایل این جی درآمد کرنے کا ٹرمنل لگا رہی ہیں اور اس پر اربوں ڈالر خرچ کیا جارہا ہے۔ یہ ہی نہیںیہ نہیں چاہئیں گی بھارت میں گیس کی پیداوار بڑھے۔ تیسرا امکان یہ ہے تیل درآمد کرنے والی کمپنیاں بھارت اور اپنی ضرورت کا تقریباً80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے اس لئے نہ صرف سرکاری و پرائیویٹ تیل کمپنیاں بلکہ دیگر بچولیے کمپنیوں نے بھی بہت بڑا ڈھانچہ تیار کررکھا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن نے موئلی کے بیان کو جھوٹ قراردیا ہے۔ مارکسوادی نیتا گوروداس داس گپتا نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان پر درآمد کرنے والوں کا دباؤ ہے تو وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر کی کمپنیاں ہیں دیش میں تیل اور گیس درآمد کرتی ہیں اور موئلی جس دباؤ کی بات کررہے ہیں وہ ان کی طرف سے ہی ہونا چاہئے جو کہ ممکن نہیں۔ سابق وزیر پیٹرولیم رام نائک نے کہا موئلی کو اندھیرے میں تیر نہیں چلانا چاہئے اور صاف صاف لابنگ کرنے والے کا نام بتانا چاہئے۔ مارکسوادی لیڈر اتل کمار انجان نے کہا کہ وزیر اعظم کو معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جانچ کو خصوصی ٹیم سے کروانا چاہئے۔ رام نائک نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کس مجبوری میں پانچ برسوں تک ایک ہی شخص اس عہدے پر رہا ہے؟
(انل نریندر)

16 جون 2013

مشن مودی2014ء کا راستہ لکھنؤ سے گزرتا ہے

مشن مودی2014ء کی کہانی تیار ہے اور اس کا پہیہ اترپردیش کو بنایاگیا ہے۔ مودی ۔اڈوانی معاملے کے سلجھنے کے بعد بھاجپا نیتاؤں کو اب پورا یقین ہوچلا ہے کہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ کے بعد مرکز میں بھاجپا کی قیادت میں ہی سرکار بنے گی اور اس کے بننے کی بنیاد اترپردیش سے ملنے والی ہے۔ اسی کے تحت نریندر مودی نے اپنے سپہ سالار امت شاہ کو یوہی بھاجپا کا انچارج بنوادیا ہے۔امت شاہ جب لکھنؤ پہنچے تو ان کا شاندار خیر مقدم ہوا۔ انہوں نے بھی اپنے ارادے اور مقصد کو صاف بتادیا اور بڑے بھروسے سے کہا کہ 2014ء میں مرکز میں بھاجپا کی قیادت میں این ڈی اے کی سرکار بنے گی اور اس کی مضبوط بنیاد اترپردیش سے ہی پڑے گی۔ شاہ کے خیر مقدم میں بھاجپا ورکروں کا جوش بتا رہا تھا کہ تنظیم میں اتحاد ہے اور کوئی گروپ بندی نہیں۔ شاہ کے آنے سے بھاجپا کی یوپی یونٹ میں جان پڑگئی ہے۔ لکھنؤ کی سرزمیں پر قدم رکھتے ہی امت شاہ نے اپنے ارادے ظاہر کردئے۔ وہ یوپی میں نریندر مودی کا ایجنڈہ لاگو کریں گے اور وہ بھی پوری شدت کے ساتھ۔ بھاجپا کو تیسرے پائیدان سے اوپر لانے کے لئے وہ کسی بھی خاکے پر یہاں کے لیڈروں سے کوئی بات کرنے کوتیار ہیں۔نریندر مودی کو سردار بلب بھائی پٹیل کی تشبیہ دیتے ہوئے آہنی تقویت پہنچانے کی خاطر مہم کو ہر قیمت پر کامیاب بنانے کا حکم نامہ بھی جاری کردیا۔ تیسرے مورچے کی تشکیل کے امکان کو سرے سے خارج کرتے ہوئے کہا دیش میں دو طرح کی سیاست شروع ہوچکی ہے۔ تیسرے مورچے کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ امت شاہ نے حکمراں سماج وادی پارٹی اور اپوزیشن بہوجن سماج پارٹی دونوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا مرکزی سرکار جو کچھ کررہی ہے اس میں ان دونوں کی حمایتی پارٹیوں کی ذمہ داری ہے ۔بغیر ان دونوں کی حمایت سے مرکز حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔ اکھلیش یادو کی حکومت کو للکارتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ وہ ہی نہیں بلکہ پردیش کی یوپی سرکار فرقہ پرستی کا ماحول پیدا کررہی ہے۔ سپا حکومت ووٹ بینک کی سیاست کررہی ہے اور مسلمانوں کی خوش آمدی انتہا پر پہنچ چکی ہے۔ جنتا میں ناراضگی ہے۔ اس کو بھاجپا آواز دے گی اور اس ناراضگی کو ووٹوں میں بدلے گی۔ شاہ کا کہنا ہے اترپردیش میں حالات بھاجپا کے حق میں ہیں۔ ریاست میں تبدیلی کی لہرہے ۔دہلی کا راستہ لکھنؤ سے ہی گزرتا ہے۔ نریندر مودی اور راجناتھ سنگھ کی ٹیم نے امت شاہ کو اترپردیش کی ذمہ داری دے کر بہت بڑا جوا کھیلا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ پورے دیش کے اقلیتوں کو کھلا چیلنج ہے وہیں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو بھی کھلی چنوتی ہے۔ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں اترپردیش کی خاص اہمیت ہے۔ پچھلی مرتبہ جب واجپئی حکومت اقتدار سے باہر ہوئی تھی تو اس کی ایک وجہ اترپردیش میں کم لوک سبھا سیٹوں کا آنا، مودی ۔راجناتھ کی ٹیم اس کمی کو پورا کرنا چاہتی ہے۔ امت شاہ پردیش میں بٹی ہوئی پارٹی، ورکروں میں نئی طاقت ڈالنے کے لئے کامیاب ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن دو باتیں تو صاف ہیں پہلی یہ کہ بھاجپا میں اب مودی دور کا آغاز ہوگیا ہے اور پارٹی یوپی میں پھر سے ہندوتو پر لوٹے گی۔
(انل نریندر)

ایڈورڈ اسٹون کا سنسنی خیز خلاصہ امریکہ دوسرے ملکوں کی جاسوسی میں لگا

چین کی سائبر جاسوسی کے بعد امریکہ کی جانب سے کی جارہی سب سے بڑی سائبر جاسوسی کا اشو طول پکڑتا جارہا ہے۔ کئی ایشیائی ممالک کی حکومتیں بحران میں پھنسی ہوئی ہیں کیونکہ وہ اپنا سارا کام کاج گوگل، یاہو جیسی ویب سائٹ کے ذریعے کرتی ہیں۔ امریکہ کی قومی سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے)پریزم کے پروگرام کے تحت ان کی جاسوسی کررہی ہے۔29 سالہ امریکی شہر اڈورڈ اسٹون نے برطانوی اخبار’ دی گارجین‘ اور امریکہ کے اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے ذریعے امریکہ کے خلاف دو اہم خلاصے کرکے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ امریکہ کی این ایس اے لاکھوں امریکیوں کی ٹیلیفون کال کی تفصیل اکٹھا کررہی ہے۔ امریکی حکومت کا اس بارے میں بیان آیا ہے کہ قومی سکیورٹی ایجنسی کے اس پروگرام کا مقصد ان فون کی تفصیلات اکٹھا کرنا ہے جو مشتبہ ہیں۔ اس پروگرام میں کال کرنے والے لوگوں کی بات نہیں سنی جاتی۔ اپنے شہریوں کی جاسوسی کی خفیہ مہم پریزم کو چلانے والی این ایس اے اب اپنی ساکھ بچانے میں لگی ہوئی ہے۔ این ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل کیت الیگزینڈر نے امریکی سینٹ کے سامنے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا پریزم نے دو آتنکی حملے روکے ہیں۔انہوں نے کہا اسٹون کے انکشاف سے دیش کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے اور ہمارا دیش اور شہری خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ اسٹون نے خلاصہ کیا ہے کہ این ایس اے اور ایف بی آئی جیسی خفیہ ایجنسی انٹرنیٹ اور سوشل ویب سائٹس پر نظر رکھتی ہیں۔ یہ ایجنسی فیس بک، یو ٹیوب، اسکپ ،ایپل ،پال ٹاک اور گوگل ،مائیکرو سافٹ، یاہو سمیت 9 بڑی انٹر نیٹ کمپنیوں کے سروس سے یوزرس کے بارے میں جانکاری لے رہی ہیں۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے حکام کے مطابق کیونکہ ایڈورڈاسٹون این ایس اے میں سسٹم ایڈمنسٹریٹر تھا لہٰذا این ایس اے سے وابستہ وائی فائی اطلاعات کو جاننے والے سروس تک اس کی کافی پہنچ تھی۔ یہ ہی نہیں اس کی پہنچ دیگر امریکی خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات تک ہونے سے بھی وہ لوگ انکار نہیں کرتے ہیں۔ ایک سینئر سینیٹر جو ایوان کی ہوم سکیورٹی کمیٹی کی انسداد دہشت گردی اور خفیہ کی ڈپٹی کمیٹی کے چیئرمین پیٹر کیگ نے دیشوں کے لیڈروں کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے کئی آتنکی حملوں کو روکا اور ممبئی حملے کے ملزم ڈیوڈ ہیڈلی کو پکڑوانے میں بھی مدد کی۔ ہیڈلی کے آتنکی تعلقات کا پتہ اسی قومی سکیورٹی پروگرام کے ذریعے لگا تھا۔ بھارت بھی اس نئے پروگرام سے اچھوتا نہیں رہا۔ پریزم جاسوسی پروگرام کے ذریعے ہندوستانیوں کے کمپیوٹر سے قریب6.3 ارب اطلاعات چرائی گئی ہیں۔ میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق بھارت پانچواں ملک ہے جہاں سے سب سے زیادہ پرائیویٹ اعدادو شمار اور دستاویزات کو ہیک کرکے پڑتال کی گئی ہے۔ بھارت سرکار نے یہ معاملہ امریکی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے۔ حکومت کہہ چکی ہے کہ اگر اس میں کسی ہندوستانی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو قطعی برداشت نہیں ہوگا۔ یہ معاملہ24 جون کو دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں بھی اٹھایا جائے گا۔ پریزم مہم کا انکشاف کرنے والے ایڈورڈ اسٹون کی تلاش جاری ہے۔ وہ آخری بار ہانگ کانگ میں دیکھا گیا تھا اب وہ ہوٹل سے فرار ہے۔ دو دن پہلے اس نے کہا تھا کہ اسے کسی کا ڈر نہیں اور اس نے جو کچھ کیا ہے وہ صحیح کیا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...