Translater

19 مارچ 2016

عشرت جہاں معاملے میں گم ہوئی فائلوں کی تحقیقات

عشرت جہاں مڈ بھیڑ معاملے میں سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ حلف نامہ بدلنے کے پیچھے اصلی اسباب کی جانچ پڑتال اور معاملے سے وابستہ فائلوں کا گم ہوجانا ایک بہت سنگین معاملہ ہے اور اس کی جانچ ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ تحقیقات کی ذمہ داری وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سکریٹری بی۔ کے۔ پرساد کو سونپی گئی ہے۔ پچھلے ہفتے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں اس معاملے کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا تھا۔ بی ۔ کے۔ پرساد عشرت جہاں سے وابستہ دستاویزات گم ہونے کے لئے ذمہ دار افسر کی پہچان بھی کریں گے اور انہی گمشدہ دستاویزات میں حلف نامہ بدلنے جانے کے پیچھے سچائی چھپی ہوئی ہے۔ ان دستاویزات کو محفوظ رکھنے کے لئے ذمہ دار افسران کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ اندیشہ ہے کہ ان دستاویزات کو جان بوجھ کر اور سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اس لئے غائب کیا گیا تاکہ دیش کے سامنے سچائی نہ آسکے۔ان دستاویزات کاغائب ہونا اس شبے کو اور زیادہ گہرا کرنے والا ہے کہ حلف نامہ ذاتی سیاسی اغراض سے بدلا گیا۔ کسی معاملے میں حلف نامہ بدلا جانا کوئی نئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن جب کوئی حلف نامہ دو ماہ کے اندر بدلا جائے اور وہ پہلے کے بالکل الٹ ہو تو پھر اسے ٹھیک نہیں مانا جاسکتا۔ دوسرے حلف نامے میں حقائق کمزور کئے گئے عشرت سمیت 4 لوگ 15 جون2004ء کو احمد آباد پولیس کے ساتھ مڈ بھیڑ میں مارے گئے تھے۔ راجناتھ سنگھ کے مطابق اس معاملے میں مرکزی سرکار نے پچھلے حلف نامے میں عشرت جہاں کو دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کی ممبر بتایا گیا تھا لیکن دوسرے حلف نامے میں اس حقیقت کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے الزام لگایا تھا کہ یہ گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کو پھنسانے کی سازش تھی۔ پہلے حلف نامے میں اسے لشکر کا آتنکی بتایا گیا، لیکن دوسرے میں نہ صرف اس سے انکار کیا گیا بلکہ اس متعلقہ تمام معلومات بھی ہٹا لی گئیں۔ حلف نامہ بدلے جانے سے متعلق دستاویزات کا غائب ہونا اس لئے کہیں زیادہ سنگین ہے کیونکہ عشرت مڈ بھیڑ معاملے ابھی عدالت کے سامنے زیر سماعت ہے۔ عشرت جہاں مڈ بھیڑ معاملے میں حلف نامہ بدلنے کو لیکر اس وقت کے داخلہ سکریٹری کا یہ کہنا ایک بڑی سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حلف نامے میں تبدیلی کی کارروائی سے انہیں دور رکھا گیا اور دوسرا حلف نامہ خود چدمبرم نے لکھوایاتھا۔ بیشک چدمبرم بھلے ہی بڑے وکیل ہوں لیکن بطور مرکزی وزیر داخلہ ان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ حلف نامہ خود ہی لکھیں گے اور ادھر سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ان پر کئے جارہے حملے کے جواب میں مانا کہ اس معاملے سے وابستہ دستاویزات (حلف نامے) میں معمولی تبدیلی کی گئی تھی۔تبدیل شدہ حلف نامہ کو سابق ہوم سکریٹری جی کے پلئی نے تین بار دیکھا تھا جو اب غائب ہے۔ پی چدمبرم کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اس معاملے سے متعلق فائلوں کے غائب ہونے کی جانچ کے لئے اعلی سطحی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ اس پورے معاملے کی جانچ اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ سچائی سامنے آسکے۔ اگر چدمبرم پر لگے الزامات میں ذرا بھی سچائی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے وہ کام کیا جو ان سے بالکل بھی توقع نہیں تھی اور جس سے انٹرنل سکیورٹی مشینری کے ساتھ کھلواڑ ہوا۔ اس سے بڑی بدقسمتی کوئی اور نہیں ہوسکتی کہ مرکزی وزیر داخلہ کے سطح پرایسے کام کئے گئے جس سے دہشت گرد تنظیموں کے مفاد پورے ہوں۔ سیاسی نفع نقصان کے لئے دیش کی سلامتی تک سے کھلواڑ کیا گیا۔ یہ قابل قبول نہیں ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ جانچ کمیٹی سنجیدگی سے سچائی کو سامنے لانے میں کامیاب ہوگی تاکہ دیش کو بھی پتہ چلے کہ ووٹ بینک پالیٹکس کے لئے کوئی بھی سیاسی پارٹی کس حد تک گر سکتی ہے۔
(انل نریندر)

یادو سنگھ کی گرفتاری سے کیا پوری سچائی سامنے آ پائے گی

کالی کمائی کے کبیر یادو سنگھ معاملے میں سی بی آئی کے لئے منگل کا دن کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ سی بی آئی اگر اس معاملے میں چارج شیٹ عدالت میں پیش نہیں کرپاتی تو 89 دنوں سے جیل میں بند راجندر سنگھ یادو سنگھ کو ضمانت مل سکتی تھی۔ کسی بھی ملزم کو90 دنوں کے اندر چارج شیٹ کورٹ میں پیش کرنی ہوتی ہے، ایسا نہ ہونے پر ملزم کو قانون کی باریکیوں کا فائدہ ملتا ہے اور قاعدے کے مطابق اسے کورٹ سے ضمانت مل جاتی ہے۔ یادو سنگھ معاملے میں بھی شاید ایسا ہی ہوتا اگر سی بی آئی منگل کے روز اسپیشل جج جی شری دیوی کی کورٹ میں چارج شیٹ پیش نہ کرتی۔ دراصل یادو سنگھ کے سب سے قریبی رہے نوئیڈا اتھارٹی کے ہی اسسٹنٹ پروجیکٹ انجینئر راجندر سنگھ کو 18 دسمبر 2015 ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کالی کمائی کے کبیر کے نام سے مشہور نوئیڈا اتھارٹی اورجمنا ایکسپریس وے کے متعلق چیف انجینئر یادو سنگھ اور گھوٹالے میں ان کے ساتھیوں کے خلاف سی بی آئی نے منگلوار کو پہلی چارج شیٹ میں پولیس نے بتایا کہ یادو سنگھ نے جعلسازی کرکے محض 8 دن میں 954 کروڑ روپے کے ٹھیکے دے ڈالے۔ ان میں انڈر گراؤنڈ کیبل ورک کا ٹھیکہ بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ روپے کا لین دین یادو سنگھ کی بیوی کسم لتا کے ذریعے ہی کیا جاتا تھا۔ اس لئے سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں کسم لتا کے ساتھ کئی ٹھیکیداروں کو بھی ملزم بنایا ہے۔ یادو سنگھ کو سی بی آئی نے 3 فروری 2016 ء کو نئی دہلی میں واقع ہیڈ کوارٹر میں پوچھ تاچھ کے لئے بلایا تھا اس کے بعد شام کو وہیں انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے یادو سنگھ پر ایک سرکاری خزانے کے بیجا استعمال کے تحت مجرمانہ سازش اور جعلسازی کے علاوہ کرپشن انسداد ایکٹ کے تحت اور عہدے کا بیجا استعمال کرنے اور رشوت کا الزام لگایا ہے۔ سی بی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ یادو سنگھ کی بیوی کسم لتا کے نام سے غیر قانونی ادائیگی لی گئی۔ کسم لتا کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا لیکن جانچ کے دوران ان کے سرگرم رول کے بعد ان کے نام کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ جانچ میں پتہ چلا ہے نوئیڈا میں ایک منظم مشینری کام کررہی ہے جس میں رشوت اندر سے لیکر نیچے تک دی گئی۔ قاعدوں کی خلاف ورزی کرکے ٹھیکہ دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ راجندر سنگھ نے ڈائری بنائی تھی جس میں کمیشن کی پوری تفصیلات اور افسران کے درمیان تقسیم کا ریکارڈ رکھا گیا۔یادو سنگھ اینڈ گروہ بغیر سیاسی سرپرستی کے یہ گھوٹالہ نہیں کرسکتے تھے۔
(انل نریندر)

18 مارچ 2016

جاوید اختر کا اویسی کو کرارا جواب

سیاسی پارٹیوں کے12 اور 5 نامزد ممبران کے لئے راجیہ سبھا کی کارروائی میں حصہ لینے کا منگل کا دن آخری تھا۔ اس موقعہ پر نامزد مصنف و راجیہ سبھا ممبر جاوید اختر نے بہت زور دار الوداعی تقریر کی۔ جاوید اختر نے اپنے خطاب میں حیدر آباد کے ایم پی اسدالدین اویسی کو کرارا جواب دیا۔ انہوں نے بھارت ماتا کی جے بولنے سے انکار کرنے والے اویسی کے بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ایوان میں تین بار ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے۔ اختر نے اویسی کا نام لئے بغیر کہا آندھرا پردیش میں ایک شخص ہے، جوکوئی قومی لیڈر بھی نہیں ہے ریاستی سطح کا لیڈر بھی نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر ’بھارت ماتا کی جے‘ نہیں بولوں گا کیونکہ آئین میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے۔ وہ بتائیں کہ آئین میں شیروانی اور ٹوپی پہننے کی بات کہاں لکھی ہے؟ بات یہ نہیں ہے کہ ’بھارت ماتا کی جے ‘ بولنا میرا فرض ہے یا نہیں ، بات یہ ہے کہ ’بھارت ماتا کی جے‘ بولنا میرا حق ہے۔میں کہتا ہوں کہ ’بھارت ماتا کی جے ،بھارت ماتا کی جے، بھارت ماتا کی جے‘ اویسی کا نام لئے بغیر جاوید نے کہا ان کی حیثیت قومی لیڈر کی تو چھوڑیئے گمنام شہر یا محلہ سے زیادہ نہیں ہے۔ اویسی نے ایتوار کو مہاراشٹر کے لاتور ضلع میں ایک ریلی میں کہا تھا کہ میری گردن پر چاقو بھی رکھ دیں گے توبھی میں ’بھارت ماتا کی جے‘ نہیں بولوں گا۔
اویسی اپنے بیان پر زیادہ دیر نہیں ٹک سکے۔ بھارت ماتا کی جے بولنے پر گردن تک داؤ پر لگا دینے والے ایم آئی ایم کے لیڈر اسد الدین اویسی کے منہ سے اب ’جے ہند‘ نکلنے لگا ہے۔محمد اویسی کے متنازعہ بیان پر اسلام آباد اور ہائی کورٹ میں آئی پی سی کی دفعہ 124(A) (ملکی بغاوت سے متعلق) کے تحت کارروائی کی مانگ کو لیکر ایک مفاد عامہ کی اپیل دائر ہوئی ہے۔ لہٰذا اویسی کا رخ بدلا اور عدالت پر بھروسہ جتاتے ہوئے کہا انصاف ملے گا۔ جے ہند، وزیر انسانی وسائل ترقی اسمرتی ایرانی نے آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے لیڈر اسد الدین اویسی کے بھارت ماتا کی جے نہ بولنے کے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ماتا کی جے کار یہاں (بھارت میں) نہیں ہوگی تو اور کہا ہوگی؟
(انل نریندر)

مہاراشٹر کے سابق نائب وزیراعلی بھجبل گرفتار

کروڑوں روپے کے مہاراشٹر ایوان گھوٹالے میں ریاست کے سابق نائب وزیر اعلی چھگن بھجبل کی گرفتاری کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کو ظاہرکرتی ہے۔ حال کے برسوں میں کئی اعلی سطحی لیڈروں کی گرفتاری یہ اشارہ بھی دیتی ہے کہ آپ اپنی پوزیشن، رتبے سے اب بچ نہیں سکتے۔ چھگن بھجبل کوئی عام لیڈر نہیں ہیں۔ مہاراشٹر جیسے اہمیت کے حامل صوبے کے سابق نائب وزیر اعلی ہیں، منی لانڈرنگ کے کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پہلے این سی پی لیڈر سے کئی گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی اور پھر انہیں گرفتار کرلیا۔ دہلی کے مہاراشٹر سدن کی تعمیر میں مبینہ گھوٹالے کے سلسلے میں بھجبل کو 17 مارچ تک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی حراست میں بھیج دیا گیا۔ اس معاملے میں ان کے بھتیجے اور سابق ایم پی سمیر بھجبل کو پہلے ہی گرفتار کر جیل بھیجا جاچکا ہے۔ بیٹے پنکج سے بھی پوچھ تاچھ ہوچکی ہے۔ بھجبل اور دیگر لوگوں کے خلاف پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے جانچ جاری ہے۔ مہاراشٹر کے انسداد کرپشن بیورو نے چھگن بھجبل ، پنکج، سمیراور دیگر کے خلاف مہاراشٹر اسدن گھوٹالے میں چارج شیٹ داخل کی۔ 
نئے مہاراشٹر سدن کی تعمیر 100 کروڑ روپے کی لاگت سے کی گئی تھی۔ بھاجپا ایم پی کرٹ سومیا کی شکایت کے بعد انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھجبل کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھجبل خاندان کی ممبئی اور نوی ممبئی میں دو پراپرٹی سیل کرکے 114 کروڑ روپے کی برآمدگی کی ہے۔چھگن بھجبل پیر کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دفتر میں پوچھ تاچھ کے لئے ہنسے ہوئے داخل ہوئے تھے لیکن منگلوار کو کورٹ میں پیشی کے دوران ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بھجبل نے الزام لگایا کہ وہ بی جے پی کی قیادت والی ریاستی سرکار کے بدلے کی سیاست کا شکارہوئے ہیں۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق بھجبل نے پیشی کے دوران روتے ہوئے کہا میرے خلاف کچھ بھی نہیں ہے، میں نے ان کے سارے سوالوں کا جواب دے دیا ہے، میں نے 50 سال تک سماج کی سیوا کی ہے لیکن انہوں نے مجھے گرفتار کیا ہے۔ اچھا کام کرنا کیا جرم ہے؟ بتادیں چھگن کے بیٹے پنکج کے نام پر ناسک میں 100 کروڑ روپے کا بنگلہ ہے۔ پنے میں بھی کروڑوں کی جائیداد ہے بھجبل پر دہلی میں مہاراشٹر سدن کی تعمیر میں رشتے داروں کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے۔ انہوں نے 52 کروڑ روپے کا ٹھیکہ152 کروڑ روپے میں دیا۔
بچپن میں چھگن بھجبل ممبئی کے مام کھالا سبزی منڈی میں اپنی ماں کے ساتھ سبزی اور پھل بیچا کرتے تھے۔مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کے بعد وہ پہلے بال ٹھاکرے کی شیو سینا سے جڑے اور1991 ء میں کانگریس میں چلے گئے۔بعد میں شرد پوار کی پارٹی این سی پی میں شامل ہوگئے۔چھگن بھجبل کی گرفتاری سے صاف سندیش ہے کہ کوئی کتنا بڑا لیڈر ہو مگر قانون کے سامنے وہ ایک ملزم ہے۔
(انل نریندر)

17 مارچ 2016

کنہیا وگینگ کو جے این یو سے نکالنے کی سفارش

9 فروری کو افضل گروہ کی گن گان پروگرام کی جانچ کرانے والی جے این یو کی ہائی سطحی کمیٹی نے کنہیا کمار، عمر خالد، انربان بھٹا چاریہ سمیت پانچ طلباء کو یونیورسٹی سے نکالنے کی سفارش کا خیرمقدم ہے اگر جے این یو جیسی بڑی یونیورسٹی کو بچانا ہے تو ایسے دیش مخالف ، انڈیا ہیٹر کلب کے نیتاؤں کو نکال کر باہر کرناانتہائی ضروری ہے۔ پانچ نفری کمیٹی نے جمعہ کو اپنی رپورٹ وائس چانسلر کو سونپی ہے اس کے بعد پیر کو وائس چانسلر نے سبھی محکموں کے شعبہ کے سربراہوں کے ساتھ میٹنگ کی اور کمیٹی کی سفارشوں کو ان کے سامنے رکھا۔ ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی کی رپورٹ نے 21طلباء کو یونیورسٹی کے قاعدے قانون توڑنے کا قصوروار پایا گیا ہے۔ ان میں جے این یو ۔ ایس یو کے صدر کنہیا کمار تو ہے ہی ساتھ ہی جے این یو۔ ایس یومیں کے جوائنٹ سیکریٹری اے بی پی کے سورو شرما بھی شامل ہے۔ پراکٹر آفس کی طرف سے طلباء کو وجہ بتاؤ نوٹس دے دیئے گئے ہیں اور انہیں 48 گھنٹے کے اندر جواب دینا ہوگا۔اس کے بعد ہی سفارش پر فیصلہ دیا جائے گا۔ ادھر دیش کے ایک فوجی نے ملک مخالف نعروں کے ملزم کنہیا کمار کو جواب دیا ہے ۔ راجوری نے سینا کے اندر کام کررہے فوجی نے وسنت کنج تھانہ صدر جمہوریہ وزیراعظم کو کنہیا کے خلاف ایک خط بھیجا ہے۔ فوج کے حولدار سدھیر کمار یادو نے کنہیا کو فوج لے کر دیئے گئے بیان پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پوچھا ہے کہ مہیلا دیوس پر ہی ریپ کی بات کیوں یاد آئی۔ سدھیر کمار نے کہا ہے کہ کنہیا نے پہلے سپریم کورٹ کے خلاف بولا ۔پھر دیش کے خلاف بولا۔ اب فوج کے خلاف بول رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیوں کنہیا کو مہیلا دیوس کے دن ہی عورتوں سے آبروریزی کی بات یاد آئی ہے؟ اس سے فوج کا حوصلہ گرا ہے کنہیا کے بیان دل کو ٹھیس پہنچانے والا ہے ہم دیش کے لئے سیوا کرتے ہیں۔ اور ہمارے معذور بھائیوں کا درد کبھی سمجھا ہے؟ محض خبروں میں رہنے کے لئے یہ ایک روایت بن گئی ہے۔ سدھیر نے کہا ہے کہ گولی کھا سکتا ہوں۔ گالی نہیں کھا سکتا۔ شدید گرمی میں ڈور سکتا ہوں۔ برف کی چادر اوڑھ سکتا ہوں۔ لیکن گالی برداشت نہیں کرسکتا۔ ادھر کنہیا کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لئے ریٹائرڈ صوبے دار میجر چودھری کلدیپ سنگھ نے عرضی دائر کی ہے انہوں نے کنہیا پر فوجیوں کے ضمیر کو ٹھیس پہنچانے اور ملک کی بغاوت کا الزام لگایا ہے۔ بریلی چھاؤنی نے صدر بازار کے باشندے سدھیر چودھری کلدیپ سنگھ کو دیگر فوجیو ں کے ساتھ ضلع عدالت میں پہنچے ایڈیشنل چیف جسٹس میٹروں پولٹین کی پانچ نفری عدالت میں اپیل دائر کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ فوجی ہر حالت میں ڈیوٹی کو بالا تر مانتے ہیں اور دیش کی سلامتی کے لئے اپنی جان کو داؤں پر لگا دیتا ہے۔ کنہیا نے اپنے بیان سے فوجیوں کا حوصلہ گرانے کی کوشش کی ہے یہ حرکت ملک کی بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اس لئے مناسب دفعات میں مقدمہ درج کر کارروائی کی جائے۔ اے سی جی ایم پانچ کی موجودگی میں عدالت میں اس پر سماعت ہوئی۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اگر جے این یو کو بچانا ہے تو اس ہیڈ انڈیا گینگ کو باہر کر مستقبل میں ایسا دوبارہ نہ ہو۔ انتظامیہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کو یقینی بناناچاہئے۔
(انل نریندر)

اور اب پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی فوج

کچھ دن پہلے لداخ میں دراندازی کے بعد اب چینی فوج کی سرگرمیاں پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں ہونا تشویش کا موضوع ہے چینی فوجی یہاں کچھ تعمیراتی کام کررہے ہیں ذرائع کے مطابق فوج نے نارتھ کشمیر کے نوگاؤں سیکٹر کے سامنے واقع محاذی چوکیوں پر چین کی پیپلز لبریشن آرمی( پی ایل اے) کے سینئرافسران کو دیکھا ہے۔ افسران کو کچھ ماہر 46ارب ڈالر کی لاگت سے چین کے ذریعے بنائے جارہے چین پاکستان اقتصادی گلیارے( سی پی ای سی) کے حصہ کی شکل میں دیکھ رہے ہیں اس کے تحت کراچی سے گوادر بندرگاہ کوقراقرم شاہراہ کے راستے چین سے جوڑا جائے گا۔ قراقرم چین کے ناجائز قبضے والے علاقے میں آتی ہے۔ اس علاقے میں چین سرکارکی بالادستی والی چائنا گوجھاؤ بہاؤ گروپ کمپنی لیٹی 970 میگاواٹ کی جھلم پروجیکٹ بنارہا ہے۔ پاکستان کی نیت میں کھوٹ ہے ، وہ پاک گلگت اور بلوچستان میں اپنی پیڈ بڑھا کر اسے اپنا پانچواں صوبہ بنانا چارہا ہے خبر تو یہ بھی ہے کہ چین بی او کے میں اپنی فوج کی تین ڈویژنوں کو بنانے جارہا ہے۔ اس سے چینی مفادات کی حفاظت ہوگی۔ اور بھارت پر دباؤ پڑے گا۔ تیس ہزار ملازم ہو ں گے۔ تین نئی ڈویژنوں میں جنہیں چینی کمپنیوں کے ذریعے بنائے گئے ٹھکانوں میں اس کے آس پاس تعینات کیاجائے گا۔ اس سے چین کشمیر کے شمالی حصے میں اپنی موجودگی کو جائز ٹھہرانے کے سوال پر کوئی سیدھا جواب نہیں دیا۔ اور کہا ہے کہ اسے اس بات کا دکھ ہے کہ میڈیا حقیقی کنٹرول لائن پر بھارت کی طرف سے دراندازی کی خبروں کو رہ رہ کر اچھالتا رہتا ہے، چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان لوگونگ نے بیجنگ میں اخبار نویسیوں کو بتایا ہے کہ پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں نوگام سیکٹر میں پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں کے بارے میں کہا ہے کہ آپ نے جس واقعہ کا تذکرہ کیاہے میں نے اس کے بارے میں نہیں سنا۔ سرحد میں ایسی کوئی چیز نہیں ہوئی چین پاکستان اقتصادی کورو ڈور بلوچستان کے گوادر بندرگاہ سے مکران ساحل ہو کر لاہور اسلام آباد کو جوڑتا ہے۔ خیال رہے کہ تازہ پروجیکٹ گلگت بلوچستان ہوتے ہوئے یہ قرا قرم شاہراہ کو جوڑے گا اور چین کے علاقے میں شمسنگ میں ختم ہوگا۔ اس سے چین کی پیڈ صرف پاکستانی مقبوضہ کشمیر تک ہی نہیں بلکہ بلوچستان سمیت تقریبا اپنے سے زیادہ پاکستان میں ہوجاتی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بھارت اسے روکنے میں لاچار ہے ہم صرف اعتراض ہی جتا سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

16 مارچ 2016

مودی اور نتیش کی نئی کیمسٹری بہار کو بدل سکتی ہے

سنیچر کو دیش کی سیاست میں ایک واقعہ لیک سے ہٹ کر رونما ہوا۔ بہار میں اتفاقاً ایک سرکاری پروگرام میں ایک دوسرے کے کٹر مخالف رہے وزیر اعظم نریندر مودی اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے درمیان ایک نئی کیمسٹری دیکھنے کو ملی۔ گنگا کے کنارے پر کھیتوں کے درمیان بنے وسیع اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سی ایم نتیش کمار کے قدموں کی کھنک بس کچھ پل کے لئے لگی اس کے بعد تو پی ایم اور سی ایم کی کیمسٹری نے لوگوں کو محسوس کرادیا جو سیاسی چٹخاروں کا ذائقہ لینے آئے تھے۔ اسٹیج پر دونوں نیتا مسلسل باتیں کرتے رہے بیچ بیچ میں مسکراتے بھی رہے اور مائک پر آکر بہار کی ترقی کے لئے ایک آواز ہوگئے۔بات چیت کی پہل مودی نے کی نتیش جیسے اس کا انتظار ہی کررہے تھے۔ اسٹیج پر موجود دیگر سرکردہ لیڈر و میدان میں موجود لوگوں کو شاید ایسی امیدنہیں تھی لیکن سیاست کسی کی پرواہ کب کرتی ہے، نتیش بولنے کھڑے ہوئے تو پرجوش نوجوان بھاجپائیوں کے گروپ نے ہوٹنگ شروع کردی اور موی۔ مودی کے نعرے لگانے لگے۔نتیش تھوڑا پریشان سے ہوئے اسے بھانپ کر پی ایم مودی خود کھڑے ہوئے اور اشارہ کرکے شور وغل بند کرایا ۔ کیونکہ پروگرام سرکاری تھا اور پروٹوکول کے مطابق آئیڈیالوجی کو درکنار کرنے کے باوجود وزیراعلی کا وزیر اعظم کے ساتھ رہنا ضروری تھااور دونوں ساتھ ساتھ بھی تھے۔ دونوں شخصیتوں نے ایک دوسرے کے احترام میں جو ضمیرکا مظاہرہ کیا اس سے سیاست میں کچھ بھی ہوسکتا ہے والی کہاوت صحیح ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جہاں ایک طرف پی ایم نے نتیش اور ان کی گڈ گورننس کی جم کر تعریف کی وہیں نتیش نے بھی مودی کے گنگان میں کوئی کنجوسی نہیں برتی، تو کیا یہ مانا جائے کہ اس کیمسٹری سے دیش کی نئی سیاست کروٹ لے گی؟ کہنا مشکل ہے حالانکہ دونوں لیڈروں کی لمحہ جاتی جگل بندی کے پیچھے صرف اپنا کام نکالنے کی چالاکی پوشیدہ ہے۔ جہاں بھاجپا کو راجیہ سبھا میں کئی اہم بل پاس کرانے کی چنوتی ہے اور انہیں چھوٹی پارٹیوں کی مدد کی ضرورت ہے وہیں نتیش کو بھی بہار کی ترقی کے لئے مرکزی سرکار کی مدد کی ضرورت ہے۔ دونوں نیتا اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف سخت رویہ دل میں رکھ کر صوبے کے ہائی وے پر نئی دوڑا جاسکتا۔ سیاسی اختلاف کو درکنار کرکے ہی ترقی کے نئے باب کھولے جاسکتے ہیں۔ ساتھ ہی جنتا کا بھلا کرنے کیلئے مرکز اور ریاستی سرکاروں کو مل کر ساتھ چلنا ہوگا اور یہ راستہ بہار نے دیش کو دکھا دیا ہے۔
(انل نریندر)

مالیہ جیسے ول فل ڈیفالٹروں پر کسے گا شکنجہ

بینکوں کا قرض نہ لوٹانے میں کس نے وجے مالیہ کی مدد کی اور کس کی مدد سے مالیہ دیش سے فرار ہونے میں کامیاب رہا اس پر ان دنوں کانگریس اور بی جے پی میں تو تو مے مے جاری ہے لیکن ہمیں لگتا ہے کہ یہ محض ڈرامے بازی ہے۔17 بینکوں کے 9 ہزار کروڑروپے سے زیادہ کا قرض دار مالیہ کو سسٹم سے وابستہ ہر شخص نے مدد کی۔ کانگریس اور بی جے پی سمیت کئی سیاسی پارٹیوں نے افسروں اور عدالتوں و میڈیا نے وہ جنتا دل(ایس) کی حمایت سے دو بار چنے گئے۔ میڈیا کے بارے میں تو مالیہ نے خود ٹوئٹ کرکے کہا کہ آج جو جرنلسٹ میرے خلاف بول رہے ہیں ان کی کبھی میں نے مددکی تھی۔یہ سب کاغذوں میں ہے۔ ہم تو چاہیں گے کہ وجے مالیہ ایسے صحافیوں کو بے نقاب کریں اور بتائیں کہ کس کس نے ان سے کیا کیا مدد لی، سہولیات لیں۔ خیر سوال اب یہ ہے کہ مالیہ جیسے قرض داروں پر نکیل کسی کیسے جائے؟ شیئر بازار کے ریگولیٹر سے بھی( سکیورٹیز اینڈ ایکسپوز ایکسچینج بورڈ آف انڈیا) نے جان بوجھ کر قرض نہ چکائے جانے والوں پر شکنجہ کسنے کے لئے جن گائیڈ لائنس کا اعلان کیا ہے، وہ ضروری تو ہیں ہی وجے مالیہ معاملے کے پس منظر میں اب ایسی کوئی پہل ضروری ہی ہے۔ سیبی نے جان بوجھ کر قرض نہ چکانے والوں کی نکیل کسنے کے لئے ایسے لوگوں کو پونجی بازار سے شیئر یابانڈ کے ذریعے رقم اکٹھا کرنے سے روکنے کے لئے فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسے لوگ اب اندراج شدہ کمپنیوں کے ڈائریکٹر بورڈ میں شامل نہیں ہوسکیں گے۔ سیبی کے نئے قاعدے کے مطابق دیوالیہ قرار دی گئی کمپنیاں اب کسی دیگر کمپنیوں کو اپنے کنٹرول میں نہیں لے سکیں گی۔یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس قرض چکانے کی حیثیت تو ہوتی ہے لیکن وہ خودکو دیوالیہ بتا کر جان بوجھ کر قرض نہیں چکاتے۔ بینکوں اور سرکار کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ قرض کی وصولی پر دھیان دیں۔ اگر مالیہ ملک نہیں لوٹتا تو ایسا کرنا شاید آسان نہیں ہوگا۔انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 18 مارچ کی پیشی کے لئے انہیں نوٹس بھیجا ہے۔ مالیہ نہیں آتے تو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ان کا پاسپورٹ منسوخ کرانے اور گرفتاری وارنٹ کے لئے کورٹ جاسکتا ہے۔ مالیہ پر سروس ٹیکس محکمہ کا 115 کروڑ روپے بقایا ہے۔ مالیہ اور ان کے کئی سینئر افسران کو اس معاملے میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ بھارت نہ لوٹنے پر ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ذریعے ان کی حوالگی کرائی جاسکتی ہے۔اگر مالیہ بھارت نہیں لوٹتے ہیں تو بینک ان کی ساری املاک قرق کرنے کے معاملے پر ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کے لئے کورٹ جاسکتے ہیں۔ان کی ملکیت والی کمپنیوں پر انہیں بورڈ سے ہٹانے کے لئے یہ دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ بھارت میں مالیہ کی املاک کی قیمت اچھی خاصی ہے اس طرح یہاں کا زیادہ تر کاروبار ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ مالیہ کی کسی کمپنی کے ذریعے اسے پیسے بھیجنے کے جائز طریقے پر ریزرو بینک بھی روک لگا سکتا ہے۔ ویسے بتا دیں کہ کون ہے ول فل ڈیفارٹر۔ حیثیت ہونے اور کافی نقدی کے بہاؤ کے باوجود قرض نہ چکانے والے۔ ڈیفالٹر کمپنی کو ملے قرض کو کسی دوسری جگہ لگا دینے والے اور گمنام پراپرٹی خریدنے کے نام پر قرض لیکر اس کا استعمال نہ کرنے والے یا پراپرٹی بیچ دینے والے۔ قرض لینے کے لئے غلط یا جھوٹے ریکارڈ پیش کرنے والے۔ بینک کی جانکاری کے بغیر قرض لیکر خریدی گئی پراپرٹی کو بیچ ڈالنے والے ۔ این پی اے لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ تازہ اندازے کے مطابق یہ رقم4 لاکھ کروڑ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اس وجہ سے بینک نقصان میں آگئے ہیں۔دیر سویر وجے مالیہ کو قانون کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ سیبی کے نئے اقدامات کر خیر مقدم ہے۔
(انل نریندر)

15 مارچ 2016

پرشانت کشور کی پناہ میں راہل گاندھی

کانگریس کا وار روم کھل چکا ہے۔ اب راہل گاندھی مشہور چناؤ ماہر پرشانت کشور کی پناہ میں آچکے ہیں۔ کانگریس نے اگلے سال اترپردیش و پنجاب میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے پارٹی کی حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ دار پرشانت کشور کو سونپی ہے۔کشور نے عام چناؤ میں نریندر مودی این ڈی اے ، بھاجپا اور اسمبلی چناؤ میں جنتا دل (یو) ، آر جے ڈی ، کانگریس اتحاد کی جیت میں اہم رول نبھایا تھا۔ مانا جارہا ہے کہ ان دونوں ریاستوں میں پرشانت کشور کی اگنی پریکشا ہوگی۔ راہل نے کچھ وقت پہلے اترپردیش کے کانگریسی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کی تھی جن میں پرشانت کشور بھی موجود تھے۔اس میں وسیع غور و خوض ہوا کہ سیاسی طور سے سب سے اہم ریاست اترپردیش میں زمینی حالات کو کیسے بدلا جائے؟ حالانکہ اترپردیش کے ووٹروں کی ذہنیت بہار کے ووٹروں سے ملتی جلتی ہے لیکن پنجاب کے ووٹروں کی نبض ٹٹولنا تھوڑا الگ ہے اس لئے پرشانت کشور نے ذمہ داری ملتے ہی ریاست میں پہلے دور کا سروے کروا کر ووٹروں کا مزاج جاننے کی کوشش کی ہے۔ پنجاب کی سیاست کے لئے گزشتہ دنوں پنجاب کے تمام بڑے لیڈر نئی دہلی راہل گاندھی سے ملنے پہنچے۔ پنجاب کی نئی سیاست پر خوب غور وخوض ہوا خاص طور سے یہاں رہ رہے کانگریس کے خیمے کے نئے مشیر اور سیاسی حکمت عملی ساز پرشانت کشور بھی شامل ہوئے۔ پچھلی ایک دہائی سے پنجاب میں اقتدار سے باہرکانگریس کو اب پرشانت کشور کا ہی سہارا ہے ایسے میں کانگریس کے لئے یہ چناؤ بہت اہم بن چکا ہے۔ بہرحال اس میٹنگ کا پہلا مقصد تو سبھی لیڈروں کو پرشانت سے ملاقات کرنا تھا۔ راہل نے لگاتار دو ناکامیوں کے بعد اب جیت حاصل کرنے کی حکمت عملی بنانے کے لئے پنجاب کے لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کے لئے میٹنگ بلائی تھی۔ یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب پردیش کانگریس نیتا آپ نیتا اروند کیجریوال کی جارحانہ کمپین اسکیم اور ورکروں کے ذریعے ووٹروں تک پہنچنے کی ان کی حکمت عملی سے لگاتار ہوشیار ہورہے ہیں۔ کشور سے بہار چناؤ میں ورکروں کا اثر دار طریقے سے استعمال کیا تھا۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے دستک دینے سے کانگریس کی پریشانی بڑھ گئی ہے حالانکہ ابھی اسمبلی چناؤ ہونے میں دیر ہے لیکن اترپردیش اور پنجاب کی سیاست کی الجھنوں کو سلجھانے میں راہل گاندھی سنجیدگی سے لگے ہوئے ہیں۔ اب وہ پرشانت کشور کی پناہ میں پہنچ گئے ہیں دیکھیں ان دونوں ریاستوں میں پرشانت کشور کیا گل کھلاتے ہیں۔
(انل نریندر)

آسام اور مغربی بنگال میں دراندازوں کا اشو

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں آسام اور مغربی بنگال دو ایسی ریاستیں ہیں جن کی حدود بنگلہ دیش سے ملتی ہیں۔ دونوں ریاستوں میں پہلے مرحلے کے چناؤ کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان ریاستوں میں بنگلہ دیش سے ناجائز گھس پیٹھ کا اشو پھر سے گرمانے لگا ہے۔ بھاجپا نے آسام میں تو مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے اس کے اشارے دے دئے ہیں۔ بھاجپا جہاں آسام میں دراندازوں کو باہر نکالنے کی بات کررہی ہے وہیں ممتا پانچ سال سے زیادہ وقت سے رہ رہے ناجائز پرواسیوں کو شہریت دینے کی بات کررہی ہے۔ بنگلہ دیشی پرواسیوں کی وجہ سے آسام میں کئی بار دنگے ہوچکے ہیں۔کئی ضلعوں میں رائے شماری میں تبدیلی کا الزام لگایا جارہا ہے۔ آل آسام اسٹوڈنٹ یونین سمیت کئی تنظیمیں ناجائز رہائش کے خلاف تحریک چلا رہی ہیں۔ آسام میں بھاجپا نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ ریاست میں اقتدار میں آئی تو غیر قانونی طریقے سے بسے پرواسی لوگوں کی شہریت چھین لے گی۔ریاست میں بھاجپا کے چناؤ منتظم ہمانشو وشو شرما نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش کے ناجائز پرواسیوں کو نکال باہر کرنے کی کوشش کرے گی ساتھ ہی سال1951 سے 1971 کے درمیان آنے والے کو رہنے کی اجازت تو دی جائے گی لیکن انہیں شہریت کے لئے پھر سے درخواست دینی ہوگی۔ ساتھ ہی صاف کیا کہ آسامی مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے گی۔ وہیں آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ بھاجپا کی مخالفت کررہی ہے۔ الزام لگایا کہ بنگلہ دیشی کے نام پر سازشیں رچی جارہی ہیں۔ کل 2 کروڑ ووٹروں میں سے10 فیصدی ایسے ہیں جو 1951 کے بعد ریاست میں آکر بسے ہیں۔ آسام اسمبلی چناؤ میں کل128 سیٹیں اور 1.98 فیصد کے قریب ووٹر ہیں۔ ایک موٹے اندازے کے مطابق 40 لاکھ کے قریب ناجائز بنگلہ دیشیوں کے آسام میں ہونے کا اندازہ ہے۔ مغربی بنگال میں مرشد آباد 24 مارچ اور ساؤتھ پرگنا ، ندیا بیر بھوم، جنا پور ضلع گھس پیٹھ کا شکارہیں۔ ان اضلاع میں مسلم فرقے کا فیصلہ کن رول ہے اور زیادہ تر اضلاع میں آبادی ایک تہائی سے زیادہ ہے۔ دیدی ہے دکھائی بنگلہ دیشیوں پر خاص ممتا مالدہ میں ہوئے تشدد اورریاست میں قانون و نظم کے اشو پر گھری ممتا بنرجی نے بھی چناؤ اعلان سے پہلے ہی ناجائز گھس پیٹھیوں کے اشو کو ہوا دے دی ہے۔ انہوں نے 24 فروری کو مانگ کی کہ ان بنگلہ دیشیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے جو پانچ سال سے زیادہ عرصے سے دیش میں رہ رہے ہیں
۔ممتا نے ضلع حکام کو شہریت دینے کے اختیار کو بھی پھر سے بحال کرنے کی مانگ کی ہے۔ بتا دیں کہ 1981ء میں زبردست گھس پیٹھ کے پیش نظر ضلع حکام سے یہ اختیار واپس لے لیا گیا تھا۔بھاجپا بنگلہ دیشی دراندازوں کے تئیں سخت رہی ہے اور اس چناؤ میں پارٹی اسے اہم اشو مان رہی ہے۔ بھاجپا صدر امت شاہ نے بھی مغربی بنگال میں منعقدہ پہلی ریلی میں اس اشو کو زور شور سے اٹھایا تھا۔ پارٹی کا کہنا ہے پہلے لیفٹ اوراب ممتا ووٹ بینک کے تحت ناجائز گھس پیٹھیوں کو شہ دے رہی ہیں۔ بلا شبہ آنے والے اسمبلی چناؤ میں ان دونوں ہی ریاستوں میں یہ بڑا اشو ہوگا۔
(انل نریندر)

13 مارچ 2016

نیتا جی کے پوتے چندر بوس دیں گے ممتا کو چنوتی

مغربی بنگال میں مضبوط اور مقبول لیڈر شپ کی کمی سے لڑ رہی بی جے پی نے اب نیتا جی سبھاش چندر بوس کے خاندان کا سہارا لیا ہے۔ پارٹی نے نیتا جی سبھاش بوس کے پوتے چندر کمار بوس کو وزیر اعلی ممتا بنرجی کے خلاف چناؤ میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پہلی بارالیکشن کمیٹی سے پہلے ہی کسی امیدوار کے نام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اعلان مرکزی انسانی وسائل وزیر اسمرتی ایرانی کا ہے۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کا اسمبلی حلقہ بھوانی پور سے سبھاش چندر بوس کے پوتے چندر کمار بوس کو کھڑا کرنا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ بیشک ممتا کو ان کے گھر پر ہرانا آسان نہیں ہوگا پھر بھی یہ دلچسپ مقابلہ ضرور ہونے والا ہے۔ ویسے یہ بتا دیں کہ مغربی بنگال اسمبلی چناؤ سے پہلے مسلسل اوپینین پول کا دور جاری ہے۔ اب تک کہ زیادہ اوپینین پول نے حکمراں ترنمول کانگریس کی اقتدار میں واپسی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ وہیں انٹیلی جنس بیورو کی معمولاتی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس مرتبہ اسمبلی چناؤ میں پچھلے چناؤ کے مقابلے حکمراں ترنمول کانگریس کی سیٹیں گھٹ سکتی ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے ریاست کے محکمہ داخلہ کو بھیجی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بار ترنمول کانگریس کو 294 سیٹوں والی اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ 170 سے175 نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں۔آئی بی ہر بار چناؤ سے پہلے اس طرح کی رپورٹ دیتی ہے۔ وہیں توجہ دینی والی بات یہ ہے کہ گزشتہ اسمبلی چناؤ سے پہلے انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ میں لیفٹ پارٹیوں کو 160 سے زائد سیٹیں ملنے کا دعوی کیا تھا، لیکن لیفٹ پارٹیوں کو محض 62 سیٹیں ہی ملیں تھیں۔ 294 نشستوں والی مغربی بنگال اسمبلی کے لئے 4 سے5 مئی تک 6 مراحل میں اسمبلی چناؤ ہوں گے۔ دیش میں جنسی تناسب میں گراوٹ درج ہورہی ہے دوسری خوشخبری کی بات یہ ہے کہ مغربی بنگال میں بھلے ہی جنسی تناسب 1 ہزار مردوں پر 947 خواتین ہوں لیکن قومی تناسب 908 ہو لیکن ریاست کی 294 اسمبلی نشستوں میں سے 11 ایسی ہیں جہاں مردوں سے زیادہ خواتین ووٹر ہیں۔ اس بار چناوی مہا سمر میں اترنے والے امیدواروں کی داستاں آدھی آبادی لکھے گی کیونکہ 6.55 کروڑ ووٹر والی مغربی بنگال میں خواتین ووٹروں کی تعداد 3.16 کروڑ رہے۔ کانگریس۔ لیفٹ اتحاد ، ترنمول کانگریس و بھاجپا مقابلہ سہ رخی ہونے کا امکان ہے۔ ایسے میں چناوی اشوز کے ساتھ چہرہ بھی اہم ہوگا۔ نیتا جی کی یاد مغربی بنگال کی عوام کے دلوں میں راج کرتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے نیتا جی کا پورا کنبہ دو بار مل چکا ہے۔اب اسی خاندان سے چندر کمار بوس کو ممتا کے خلاف اتارا جارہا ہے۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ اس کا اثر زیادہ اچھا رہے گا۔
(انل نریندر)

مئی جون میں ہوسکتے ہیں 13 وارڈوں کے ضمنی میونسپل چناؤ

دہلی میں ایم سی ڈی کے ضمنی چناؤ طے ہوگئے ہیں حالانکہ ان انتخابات کا اتنا اثر راجدھانی کی سیاست پر براہ راست تو نہیں پڑتا لیکن پھر بھی دہلی کے عوام کے موڈ کو تھوڑا بھانپا جاسکتا ہے۔ ایم سی ڈی میں اشوز الگ ہوتے ہیں اور امیدوار کی شخصی ساکھ اور پبلک رابطے سے بہت فرق پڑتا ہے۔ جہاں یہ عام آدمی پارٹی ، کانگریس و بھاجپا تینوں کے لئے ایک چیلنج ہے وہیں ان ضمنی انتخابات میں چناؤ لڑنے کو لیکر نیتا تھوڑے الجھن میں ہیں۔ وہ طے نہیں کرپا رہے ہیں کہ وہ چناؤ لڑیں یا نہ لڑیں۔ 2014ء اور اس کے بعد 2015ء میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں جیت کر ممبر اسمبلی بنے کارپوریشن کونسلروں کے وارڈ خالی ہونے کی وجہ سے13 سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہونے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ دہلی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے بعد کبھی بھی چناؤ کا اعلان ہوسکتا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ چناؤ مئی کے وسط یا پھر آخر میں ہوسکتے ہیں۔ نیتاؤں میں الجھن کی وجہ بھی تقریباً صاف ہے کیونکہ اگلے سال اپریل میں پھر سے ایم سی ڈی چناؤ ہونے ہیں ایسے میں نیتا ضمنی چناؤ لڑنا گھاٹے کا سودہ مان رہے ہیں کیونکہ ضمنی چناؤ جیت کر کونسلر بننے والوں کی میعاد ایک سال سے بھی کم ہوگی۔ قریب ایک سال پہلے دہلی اسمبلی چناؤ میں عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں ملی کراری شکست کو بی جے پی بھلا نہیں پا رہی ہوگی۔ حالانکہ بی جے پی پردیش پردھان ستیش اپادھیائے کا کہنا ہے کہ پارٹی ہر طرح کے چناؤکو لیکر سنجیدہ رہتی ہے۔بائی الیکشن(ضمنی چناؤ) کے لئے تیاریاں جاری ہیں۔ رہی امیدواروں کے نام کو اعلان کرنے کی بات ،تو چناؤ کی تاریخ آتے ہیں اس کے بارے میں اعلان کردیا جائے گا۔ تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ 2017ء میں ہونے ہیں اس سے پہلے ان 13 سیٹوں پر ہونے والے ضمنی چناؤ سیاسی پارٹیوں کے لئے بھی سیمی فائنل جیسا ہوگا۔
اس میں عام آدمی پارٹی کو کامیابی ملتی ہے تو اس سے بی جے پی کو خاصا نقصان ہوگا۔ اگر بی جے پی اسکور کرتی ہے تو عام آدمی پارٹی پچھڑ سکتی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے تال تھوک کر اترنے کا من بنا لیا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو پارٹی نے اس کارپوریشن کے 13 وارڈروں میں ہونے والے ضمنی چناؤ میں اترنے کا فیصلہ لے لیا ہے۔ پارٹی ان ضمنی چناؤ میں کسی بھی طرح کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتی۔ اصلی ڈر بھاجپا سے زیادہ کانگریس کو ہے کیونکہ کانگریس کا دہلی میں کوئی وجود نہیں باقی رہا۔ بیشک کانگریس پچھلے کچھ عرصے سے کافی سرگرم ہے پر یہ ووٹروں میں کتنا اثر ڈالتی ہے اس پر سوالیہ نشان ہے۔ غور طلب ہے کہ دہلی میں مکمل اکثریت حاصل کرنے کے بعد کیجریوال حکومت ضمنی چناؤ کرانا چاہتی تھی لیکن اس دوران بورڈ کے امتحانات کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔ پارٹی نے کورٹ میں بھی کہا تھا کیونکہ پوری کارپوریشن کے چناؤ میں ابھی وقت بچا ہے اس لئے پارٹی نے تینوں کارپوریشنوں کے ایک ساتھ چناؤ کرانے کو کہا تھا۔ کورٹ نے 3 ماہ کے اندر چناؤ کرانے کا حکم دیا تھا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...