25 فروری 2012

ٹیم انڈیا میں دراڑیں

آسٹریلیا کے دورہ پر گئی ٹیم انڈیا نہ صرف ہار رہی ہے بلکہ بکھر بھی رہی ہے۔ بیشک بی سی سی آئی اور ٹیم کے ترجمان یہ کہیں کہ ٹیم انڈیا کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن ٹیم میں کھلاڑیوں کی آپسی رسہ کشی منظر عام پر آگئی ہے۔ مہندر سنگھ دھونی اور ویریندر سہواگ کے درمیان اختلافات بڑھتے جارہے ہیں جس سے ٹیم کی پرفارمنس پر اثر پڑ رہا ہے۔ ٹیم نے جیتنے کے بجائے ہارنے میں جستجو بنا رکھی ہے۔مشکل سے ایک میچ جیتتے ہیں اور پھر ہار کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اب خبر آئی ہے کہ منگل کے روز سری لنکا کے خلاف میچ XIکو لیکر دونوں کھلاڑیوں میں اختلافات تھے انگریزی نیوز چینل ٹائمس ناؤ کے مطابق دونوں کھلاڑیوں نے الگ الگ ٹیم طے کی تھی لیکن آخر کار ویرو کی فہرست والے کھلاڑی ہی میدان پر اترے۔ قابل غور ہے کہ ٹیم انڈیا میں آپسی اختلافات کی خبریں پچھلے کچھ دنوں سے آرہی ہیں۔ چینل کے مطابق دھونی کی XI میں روہت شرما کا نام تھا وہ روہت کو سری لنکا کے خلاف اتارنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف سہواگ تینوں سینئرز (سچن) گمبھیر اور خود سہواگ بھی ٹیم میں کھیلنا چاہتے تھے۔ کچھ وقت پہلے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے خاص دوستوں و سابق کرکٹروں نے باتوں باتوں میں بتایا تھا کہ کس طرح ٹیم میں گروپ بازی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا تھا اکثر ان کی ٹیم انڈیا کے کپتان سے بات ہوتی رہتی ہے۔ اب لگتا ہے کہ ٹیم انڈیا میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ رہی سہی کسر اس نئی باری کی پالیسی نے پوری کردی ہے۔ جب تک گیری کرسٹن ٹیم کے کوچ ہوا کرتے تھے وہ پوری ٹیم کو ساتھ جوڑ کر رکھتے تھے کیونکہ وہ خود ایک دم نوجوان تھے لہٰذا سینئر جونیئر کھلاڑیوں کے درمیان ایک اچھی کڑی کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ اگر کوئی اختلاف کی حالت بنتی بھی تو وہ فوراً اسے سنبھال لیا کرتے تھے۔ اب لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بدقسمتی سے یہ کام اب کپتان مہندر سنگھ دھونی کی کرپارہے ہیں۔ نئے کوچ فلیچر گیٹی کی طرح ٹیم کو متحد رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔
فلیچر خود 64 سال کے ہیں تجربہ کار تو ہیں لیکن قریب 10 مہینے سے ٹیم سے وابستہ ہیں اور یہ وقت ٹیم انڈیا کا پچھلے دو دہائیوں میں سب سے زیادہ خراب چل رہا ہے۔ کسی بھی پہلو سے وہ ٹیم کے کام آتے نہیں دکھائی پڑ رہے ہیں۔ نہ تو وہ ٹیم انڈیا کے لئے مشعل راہ ثابت ہورہے ہیں اور نہ ہی ایک اچھے منتظم۔ اس لئے ٹیم عجیب و غریب تجربات اور بحران کے دور سے گذر رہی ہے۔ حکمت عملی نہیں بن پارہی ہے اور سبھی کھلاڑی ایک الگ ذہنی حالات سے دوچار ہیں۔ روٹیشن کی پالیسی پر چھڑے تنازعے سے لگتا ہے کہ ٹیم میں شخصیت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ اسی پالیسی سے صاف جھلکتا ہے کہ اس کے ذریعے سینئروں کے ساتھ بھدا مذاق کیا جارہا ہے۔ سینئروں کی بات کریں تو سابق کپتان کپل دیو نے ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر کو اس کی ناکامیوں پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ سچن کو اب سنیاس لینے کا اعلان کردینا چاہئے۔ کپل نے کہا پچھلے تین مہینوں میں جو ہم نے دیکھا ہے اسے دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ سچن کو ورلڈ کپ کے بعد یا اس سے پہلے سچن کو سنیاس لینے کا اعلان کردینا چاہئے تھا۔ کرکٹ یا کوئی بھی کھیل اس معاملے میں بہت الگ ہوتا ہے جب تک آپ جیتتے رہتے ہیں یا اچھا کھیل دکھاتے ہیں سب ٹھیک ٹھاک رہتا ہے اور جیسے ہی آپ ہارنا شروع کرتے ہیں تو ایسی ساری باتیں ہونے لگتی ہیں۔
  Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, Vir Arjun

رحم کی اپیلوں کے نپٹارے میں اتنی تاخیر کیوں؟

موت کی سزا کا سامنا کررہے قصورواروں کی رحم کی عرضیوں پر فیصلہ کرنے میں مرکز اور ریاستی حکومت کی جانب سے ہورہی تاخیر پر سپریم کورٹ سخت ہوگئی ہے۔جسٹس جی ۔ایس سنگھوی اور جسٹس ایس۔جے مکھ اپادھیائے کی ایک ڈویژن بنچ نے کہا کہ سبھی ریاستوں کے داخلہ سکریٹری اپنی اپنی ریاستوں کی سبھی رحم کی عرضیوں کے معاملے میں مرکز کو تین دن کے اندر رپورٹ بھیجیں جس کے بعد مرکز اسے اس کے سامنے پیش کرے گا۔ عدالت ہذا نے یہ بھی صاف کردیا کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے ریکارڈ نہیں بھیجے جاتے تو جو کچھ بھی ہوگا اس کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔بنچ نے یہ بھی کہا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ رحم کی عرضیاں 11 سال بعد نپٹائی جاتی ہیں جو بہت طویل عرصہ ہے۔ بنچ نے مرکزی حکومت کی اس دلیل کو سرے سے مسترد کردیا کہ قصوروار قیدیوں کی جانب سے بار بار عرضیاں داخل کرنے کے چلتے فیصلے میں تاخیر ہوئی ہے۔ حالانکہ بنچ نے کہا دوبارہ عرضی دائر کرنے پر کوئی روک نہیں ہے۔ عدالت پنجاب کے آتنک وادی دویندر پال سنگھ کھلر کی جانب سے دائر ایک عرضی پر سماعت کررہی تھی۔ تہاڑ جیل کی ویب سائٹ پر31 دسمبر2011ء تک کے اعدادو شمار کے مطابق جیل میں فی الحال 24 سزا یافتہ قیدی ہیں جنہیں پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ ان میں23 مرد ، ایک خاتون ہے۔ ان میں خاص ہیں تندور کانڈ، لاجپت نگر بم دھماکہ، پارلیمنٹ پر حملہ، رائے سینا بلاسٹ، لال قلعہ پر حملہ وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت28 مجرموں نے صدر کے پاس معافی کی اپیل کررکھی ہے۔
صدر کے پاس 19 معاملوں میں رحم کی عرضیاں زیر التوا ہیں انہیں سپریم کورٹ سے پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے جس کے بعد صدر کے پاس آئین کی دفعہ 72 کے تحت ان مجرموں نے رحم کی عرضی داخل کررکھی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ یوپی کے معاملے ہیں۔ اترپردیش کے چھ معاملے زیر التوا ہیں جبکہ کرناٹک کے چارمعاملوں میں فیصلہ آنا ہے۔ ایک تو ایسا معاملہ ہے جس میں رحم کی عرضی 1999ء سے زیر التوا ہے۔ ہریانہ سے متعلق اس معاملے میں دھرم پال نامی مجرم پر پانچ لوگوں کے قتل کا مقدمہ ثابت ہوچکا ہے۔ دھرمپال جب ریپ کیس میں ضمانت پر تھا جب اس نے پانچ لوگوں کو قتل کردیا تھا۔ تاملناڈو کی عدالت میں بم دھماکہ کر ایک شخص کو مارنے کے معاملے میں پھانسی کی سزا پائے شیخ میرن، سیلوم رادھا کرشن کا مقدمہ 2000ء سے زیر التوا ہے۔ التوا کے معاملوں میں سرخیوں میں چھایا رہا سونیا اور انجیو کا بھی معاملہ شامل ہے۔ سونیا نے اپنے سوتیلے بھائی اور اس کے پورے خاندان کو موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ مرنے والوں میں 45 دن ، ڈھائی سال اور چار سال کے بچے بھی شامل تھے۔ اتنا ہی نہیں سونیا نے اپنے ماں ، باپ، بہن کو بھی مار دیا تھا۔ بھارت کے آئین کی دفعہ72 میں دی گئی قانونی سہولت کے تحت دیش کے صدر کو کسی بھی قصوروار کو سپریم کورٹ کے ذریعے دی گئی موت کی سزا کو معاف کرنے یا اس میں تبدیلی کرنے کا مخصوص اختیار ہے۔ دفعہ161 کے تحت ایسا ہی اختیار کسی بھی ریاست کے گورنر کو بھی ملا ہوا ہے۔ سیاسی اسباب سے رحم کی عرضیوں کے نپٹارے کی بات تو پھر بھی سمجھ میں آتی ہے لیکن عام مجرم سونیا وغیرہ کی عرضی کے نپٹارے میں اتنا وقت لگا جو سمجھ سے باہر ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mercy Petitione, Supreme Court, Vir Arjun

24 فروری 2012

چناؤ کمیشن کے اختیارات میں کٹوتی کا ارادہ

اترپردیش چناؤ میں دیگر پارٹیوں کے خلاف زور آزمائش کررہی کانگریس کا ایک مورچہ چناؤ کمیشن کے خلاف بھی نظر آرہا ہے۔ دراصل کانگریس پارٹی کانپور کے ضلع افسر کی جانب سے پارٹی سکریٹری جنرل راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات سے سخت نالاں ہیں۔ پارٹی جہاں اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی وہیں چناؤ کمیشن کے دائرہ اختیار کو بھی کترنے کی تیاری کررہی ہے۔ بتاتے ہیں کہ کیبنٹ گروپ کی میٹنگ میں چناؤ ضابطے کو چناؤ کمیشن کے دائرہ اختیار سے ہٹانے کا ایجنڈا تیار ہورہا ہے۔ اس سے پہلے مرکزی وزیر سلمان خورشید اور دوسرے وزیر بینی پرساد ورما بھی چناؤ ضابطے کے معاملے میں چناؤ کمیشن کو درپردہ طور پر چیلنج کرچکے ہیں۔ ابتدائی دور میں چناؤ کمیشن بھلے ہی بسپا اور اکالی دل کے لیڈروں کے نشانے پر رہا ہو لیکن اب لڑائی چناؤ کمیشن بنام کانگریس ہوگئی ہے۔ کانگریس کے اب نشانے پر چیف الیکشن کمشنر ایس۔ وائی قریشی ہیں۔ ویسے چیف الیکشن کمشنر نے اپنے اکھڑ رویئے سے ایک بار پھر ٹی این شیشن کی یاد دلادی ہے۔ ایک دور میں جس طرح سے چیف الیکشن کمشنر شیشن نے اپنی دھاک سے تمام پارٹیوں کو چناؤ کمیشن کی طاقت دکھا دی تھی کچھ اسی طرح کا کام قریشی کررہے ہیں۔ شاید یہ ہی بات کانگریس کے بڑے لیڈروں کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔ ایسے میں چناؤ کمیشن کے پر کترنے کی چپ چاپ تیاریوں کی خبر سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے دو دن پہلے خلاصہ کیا تھا کہ مرکزی سرکار ماڈل چناؤ ضابطہ وغیرہ کے معاملے میں چناؤ کمیشن کے اختیار کو کم کرنے کی پہل کرنے والی ہے۔ اس خبر میں قریشی کی رائے بھی بتادی گئی تھی قریشی نے کہا کہ اگر سرکار ایسی کوئی کوشش کرے گی تو اسے چناؤ ضابطے کی تعمیل کرانا اور مشکل کام ہوجائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا چناؤ کمیشن کے اختیارات کو کم کرنے کی کوئی کوشش جنتا پسند نہیں کرے گی۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ سرکار کی ایسی کوشش سراسر سیاسی بے شرمی ہے۔ ایسا اس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ حال ہی میں چناؤ کمیشن نے وزیر قانون سلمان خورشید کو بھی چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی کے معاملے میں کٹہرے میں کھڑا کردیا تھا۔ اس پر انہیں معافی بھی مانگنی پڑی تھی۔ ایک اور معاملے میں مرکزی وزیر بینی پرساد ورما بھی پھنسے ہیں۔ راہل گاندھی بھی کانپور میں چناؤ ضابطے کو ٹھینگا دکھا کر پھنس گئے ہیں۔ اسی چڑ کو اترانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کے منموہن سرکار کیا واقعی ایسا کوئی قدم اٹھانے کے بارے میں غور کررہی ہے؟ اگر سوچ رہی ہے تواس کا نظریہ غلط ہے۔ چناؤ کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اس کا کام آزادانہ، منصفانہ اور صاف ستھرے چناؤ کرانا ہے اور ایسا وہ کر بھی رہا ہے۔ ایسا نہیں کہ چیف الیکشن کمیشنر ایس۔ وائی قریشی خاص طور پر کانگریس کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں ان کے نشانے پر سبھی پارٹیاں ہیں جو چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت کی مضبوطی کی ایک بڑی وجہ ہے آزادانہ اور منصفانہ چناؤ ۔ اس کام میں سب سے اہم کردار چناؤ کمیشن کا ہے۔جنتا چناؤ کمیشن کے اختیارات میں کٹوتی منظور نہیں کرسکتی بہتر ہے سرکار اگر ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے ترک کر دے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Rahul Gandhi, S.Y. Qureshi, Salman Khursheed, Vir Arjun

عرش سے فرش تک کنگ فشر کا پانچ سالہ سفر

ساتواں آسمان چھونے کے انداز میں دھماکیدار آغاز کرنے والی کنگ فشر ایئر لائنس محض پانچ چھ سال میں ہی جس طرح دیوالیہ کے دہانے پر آکھڑی ہوئی ہے، یہ داستاں جہاز رانی صنعت ہی نہیں بلکہ پوری کارپوریٹ دنیا اور دیش میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ سال 2005ء میں کنگ فشر کی لاؤنچنگ کے وقت اس کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر امید کی جارہی تھی کہ آنے والے وقت میں یہ کمپنی گھریلو پرواز صنعت کی سمت کی بدل کر رکھ دے گی۔ اپنے الگ طریق�ۂ کار اور اپنی حدود کے دم پر کنگ فشر نے اس وقت گھریلو جہاز رانی صنعت کے آسمان پر چھائی انڈین ایئرلائنس اور جیٹ ایئر ویز کو سخت ٹکر دے کر بازار میں اپنا الگ مقام بنالیا تھا۔ مسافروں کے کرایے کی ٹکڑ لیتے ہوئے اپنی رعایتی پیشکش پر کنگ فشر کافی کم وقت میں بہت سے لوگوں کی من پسند ایئرلائنس بن گئی تھی۔ایسی دمدار شروعات کرنے کے باوجود آج کنگ فشر ایئرلائنس کنگالی کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ اس کے پیچھے شراب بنانے کے سب سے بڑے صنعت کار وجے مالیا کا ہاتھ ہے۔ دونوں کامیابی میں بھی اور کنگالی کے دور میں بھی شان و شوکت سے زندگی بسر کرنے والے وجے مالیہ کے بہت سے کاروبار ہیں۔ ایک زمانے میں وہ سرگرم سیاست میں آکر اس سیکٹر کے بھی کنگ بننا چاہتے تھے لیکن راجیہ سبھا کے ممبر ہونے کے علاوہ انہیں اس سیکٹر میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ 18 دسمبر1955 ء میں پیدا ہوئے وجے مالیہ کی ساکھ ایک گلیمر پسند پلے بوائے کی بنی ہوئی ہے۔ ویسے کئی کھیلوں کے پرموشن میں ان کا خاصہ تعاون رہا ہے۔ 2007ء میں انہوں نے فارمولہ ون اسپائی کار ٹیم نیدر لینڈ سے 88 ملین یورو کی خریدی تھی، بعد میں اس کا نام بدل کر فورس انڈیا فارمولہ ون رکھا گیا۔ 2004ء میں مالیہ نے ٹیپو سلطان کی تلوار لندن سے ایک لاکھ 75 ہزار پاؤنڈ میں نیلامی سے خرید لی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا تھا دیش کی عزت کے لئے وہ ٹیپو سلطان کی تلوار دیش میں لائے ہیں۔ اسی طرح مارچ2009ء میں مالیہ نے نیویارک میں ہوئی ایک نیلامی میں مہاتما گاندھی کے نجی استعمال کی کچھ چیزوں کے لئے 3 ملین ڈالر کی بولی لگا دی تھی۔ مہنگی گھڑیاں ، مہنگی کاروں کے خاص شوقین مالیہ ایسے شخص ہیں جو صنعت سے زیادہ اپنی رنگین مجاز زندگی جینے کے لئے ہمیشہ بحث کا موضوع بنے رہتے ہیں۔ وہ فیشن ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی ،گڈ ٹائمس کے بھی مالک ہیں۔ ان کا سالانہ کلینڈر جس میں ملک و بیرون ملک کی خوبصورت اور نیم عریاں ماڈلوں کو دکھایا جاتا ہے ،کافی سرخیوں میں رہتا ہے۔ آج کنگ فشر کی جو بھی حالت ہوئی ہے اس سے مسلسل خسارے میں ڈوب رہے ہندوستانی جہاز رانی سیکٹر کے بحران کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس نجی کمپنی نے گذشتہ چار پانچ دنوں میں اپنی درجنوں پروازیں منسوخ کردی ہیں اور کنگالی کی طرف بڑھ رہی یہ کمپنی اپنے ملازمین کو تنخواہ تک نہیں دے پارہی ہے۔
گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران اس کے آدھے سے زیادہ پائلٹ نوکری چھوڑکر جا چکے ہیں۔ کنگ فشرکی جو حالت ہے اس کے لئے وہ خود تو ذمہ دار ہے ہی مگر ہماری جہاز رانی پالیسی بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ ناسور کتنا پرانا ہے یہ تو اس سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ڈی جی سی اے آج بھی 1937ء کے قاعدوں سے جہاز رانی کمپنیوں کو چلا رہی ہے۔ کہیں کچھ تو گڑ بڑ ضرور ہے اور پھر خسارے میں صرف کنگ فشر ہی نہیں ہے سرکاری جہاز کمپنی ایئر انڈیا تو سفید ہاتھی ثابت ہورہی ہے۔ اب اگر جہاز رانی سیکٹر کو بحران سے جلدی نہیں نکالا گیا تواس میں مزید گراوٹ طے ہے ۔ اس کا اثر درپردہ طور سے صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں پر بھی پڑے گا جن کا اکثر ہم دم بھرتے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kingfisher, Vijay Mallaya, Vir Arjun

23 فروری 2012

امریکہ کا ریزولیوشن:بلوچستان ایک آزاد ملک بنے



Published On 23rd February 2012
انل نریندر

امریکہ نے اب نیا واویلا کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے شورش زدہ جنوبی بلوچستان صوبے میں حق ارادیت کے اختیار کایہ ایک نیا تنازعہ امریکہ کے تین ممبران پارلیمنٹ نے ایوان نمائندگان میں ایک ریزولیوشن پیش کرکے کھڑا کردیا ہے۔ ری پبلکن ایم پی ڈین روہیرا بیکر اور دیگر ممبران نے ریزولیوشن پیش کرتے ہوئے کہا فی الحال پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان بٹے بلوچ شہریوں کو حقِ خود ارادیت اور اپنی سرداری ملک کا اختیار ہونا چاہئے۔ انہیں خود کا اپنا معیار طے کرنے کا موقعہ ملنا چاہئے۔ خارجی امور کی ایوان کی ایک سب کمیٹی کے چیئرمین روہیرا بیکر نے پچھلے ہفتے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے میں کانگریس میں ایک مباحثے کا انعقاد کیا تھا۔ممبر پارلیمنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جو سیاسی اور نسلی امتیاز سہہ رہے ہیں وہ بہت سنگین ہے۔ حالات اس لئے بھی اور زیادہ بگڑ گئے ہیں کیونکہ امریکہ اسلام آباد میں ان کو کچلنے والوں کو اقتصادی مدد دے رہا ہے، ہتھیار بیچ رہا ہے۔ بلوچستان فی الحال تو پاکستان کا حصہ ہے لیکن پاکستان بننے کے ساتھ ہی اس کو آزاد دیش بنانے کی مانگ شروع ہوگئی تھی۔ بلوچستان کے جنوب مغرب میں واقع ایران کی سرحد ہے جس سے ملحق یہ علاقہ سب سے شورش زدہ مانا جارہا ہے۔ مغربی حصہ افغانستان سے لگا ہوا ہے اور باقی پاکستان سے۔ بلوچ کی آزادی کی جنگ میں امریکہ اور نیٹو کی حمایت حاصل ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کے 2013ء تک بلوچستان ایک آزاد ملک بن جائے۔
ہماری رائے میں بیشک بلوچستان ایک شورشزدہ علاقہ ہے اور وہاں پاکستان کھلے عام انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ تازہ مثال عبدالکبیر نامی ایک شخص کا دعوی ہے کہ اس کا بیٹا 2009ء میں غائب ہوگیا تھا اس کی لاش نومبر 2011ء میں ملی ہے۔ عبدالکبیربلوچ کا 29 سالہ بیٹا عبدالجلیل ریکی 13 فروری2009ء کو لاپتہ ہوگیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس کا اغوا کیا تھا۔گذرے سال 22 نومبر کو ایرانی سرحد سے ملحق پاکستانی علاقے مند میں عبدالجلیل ریکی کی گلی سڑی لاش ملی تھی۔ عبدالکبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو تین گولیاں سینے میں لگی تھیں اور اس کی پیٹ کا کوئی حصہ خالی نہیں تھا جہاں لوہے کو گرم کرکے اور سگریٹ سے اس کی پیٹ کو داغا نہ گیا ہو۔ عبدالکبیر بلوچ کا قصور اتنا تھا کہ وہ پاکستانی فوج و آئی ایس آئی کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں 14 ہزار کے قریب لوگ ابھی بھی غائب ہیں جن میں 200 سے زائد خواتین ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کا ریکارڈ بہت خراب ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ اس میں مداخلت کرے اور اسے دیش سے الگ کرنے کی سازش چھوڑ دے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ دراصل امریکہ کی اصل نیت ایران میں خفیہ نظر رکھنے کی ہے اور اسی مقصد کے حصول کے لئے وہ بلوچستان میں اپنا اڈہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بلوچ کی عوام حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کے لئے ریزولیوشن پیش کرکے دباؤ بنانا چاہتا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں ایک افسر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ ہماری زمین کا استعمال کرنا چاہتا ہے جس کی ہم قطعی اجازت نہیں دے سکتے۔ پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے دو افسران اور سیاسی حلقوں کے زیادہ تر افسران نے تصدیق کی ہے کہ امریکی سفارتکار اور فوجی لیڈروں نے بلوچستان میں ایرانی سرحد کے پاس اپنے ایجنٹوں کو اپنی سرگرمیاں چلانے کی اجازت مانگی تھی۔ یہ انکشاف پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں پر بلوچستان میں اغوا اور زیادتیوں کے بارے میں امریکی ایوان نمائندگان میں ریزولیوشن پیش ہونے کے فوراً بعد ہواہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی یعنی نچلے ایوان نے بھی بلوچستان سے متعلق امریکی ریزولیوشن کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کی کٹر پنتھی تنظیموں کے سب سے بڑے گروپ نے پیر کو ایک زبردست مظاہرہ کیا۔ اس میں لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید بھی شامل ہیں جس نے پابندی کے باوجود فیڈرل راجدھانی اسلام آباد میں تقریر کی۔ امریکی ریزولیوشن کی پاکستانی حکومت اور فوج اور عوام سبھی مل کر مخالفت کررہے ہیں۔ سبھی کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملوں میں براہ راست مداخلت ہے اور اس کی اصل وجہ اور ہی ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

کیاراہل گاندھی اب گرفتار ہوں گے؟



Published On 23rd February 2012
انل نریندر

کانگریس کے سکریٹری جنرل یووراج راہل گاندھی چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی کے معاملے میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ تین دن تک جاری رسہ کشی کے بعد پیر کے روز 35 کلو میٹر لمبا روڈ شو نکال کر راہل گاندھی ضلع انتظامیہ کے نشانے پر آگئے ہیں۔ انتظامیہ نے اسے چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی مانتے ہوئے چھاؤنی تھانے میں راہل اور کانگریس ضلع پردھان مہیش دیکشت سمیت 40 کے خلاف دفعہ188,283 اور290 کے تحت ایک ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ اس معاملے میں جو ایف آئی آر درج ہوئی ہے اس میں ایسی دفعات لگائی گئی ہیں جس میں گرفتاری کا خطرہ ہے۔ لہٰذا راہل گاندھی بھی گرفتارکئے جاسکتے ہیں اس سے بچنے کے لئے انہیں پیشگی ضمانت لینی پڑ سکتی ہے۔ اس معاملے کولیکر سیاسی کھینچ تان کا بڑھنا فطری ہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کسی بھی طرح کا غیر قانونی کام روڈ شو میں نہیں ہوا اور جائز چناؤ مہم جمہوری اختیار کا بنیادی حصہ ہے۔ ایسے میں اترپردیش سرکار منمانی نہیں کرسکتی۔ یوپی کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بسپا حکومت کے اشارے پر کی گئی ہے۔ ڈی ایم نے پورے معاملے کی جانکاری متعلقہ چناؤ افسر و مبصر اور انتظامیہ کو دے دی تھی۔ کانگریس کی ضلع یونٹ نے روڈ شو کے لئے انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی لیکن ضلع افسر نے اس کو مسترد کردیا تھا۔ کانگریس کے سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کے تیور تلخ ہوگئے ہیں انہوں نے کل میڈیا سے کہا کہ وزیر اعلی مایاوتی کے اشارے پر ضلع انتظامیہ ان کی پارٹی کے خلاف فریب میں لگا ہوا ہے۔راہل گاندھی نے لکھنؤ میں کامیاب روڈ شو کیا تھا اس سے کانگریس کی ہوا بنی تھی۔ اسی کو لیکر کانپور انتظامیہ کو لکھنؤ سے احکامات دئے گئے تھے کہ کسی بھی حالت میں کانپور میں لکھنؤ جیسا کامیاب روڈ شو نہ ہوپائے۔ اس کے باوجود یہ روڈ شو کامیاب ہوگیا اس سے چڑھ کر انتظامیہ نے تمام مجرمانہ دفعات میں مقدمہ درج کیا ہے۔ کانگریس کو چیلنج کیا ہے کہ اگر حکام نے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کیا تو انہیں مہنگا پڑے گا۔ جن دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں ملزموں کو چھ مہینے کی سزا ہوسکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاملے میں راہل اور ان کے ساتھیوں کو پیشگی ضمانت لینی پڑے گی ورنہ گرفتاری کا خطرہ بنا رہے گا۔ خبر آئی ہے کہ آر پار کی لڑائی کے لئے تیار کانگریس راہل کے خلاف درج ایف آئی آر کو خارج کرانے کیلئے ہائی کورٹ تک جائے گی کیونکہ معاملہ اب سیاسی بن گیا ہے اس لئے بھاجپا بھی اس میں کود پڑی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان شاہنواز حسین کا کہنا ہے کہ کانگریسی نیتاؤں کی عادت بن گئی ہے کہ بار بار چناؤ کمیشن کے ضابطوں کو ٹھینگا دکھانا۔ پہلے وزیر قانون سلمان خورشید نے کارنامہ انجام دیا اس کے بعد مرکزی وزیر بینی پرساد ورما نے چناؤ ضابطے کی دھجیاں اڑائیں اور اب کانپور میں راہل گاندھی نے روڈ شو کے نام پر چناؤ کمیشن کے ضابطے توڑے۔ اس پر انتظامیہ نے کارروائی کی تو کانگریس داداگری پر اتر آئی ہے۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ معاملہ اب آگے بڑھے گا دیکھیں کیا ہوتا ہے؟
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

22 فروری 2012

ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد کی چنوتی سے



Published On 22nd February 2012
انل نریندر

یہ دکھ کی بات ہے کہ دہشت گردی سے موثر ڈھنگ سے لڑنے کے لئے تیار کئے جارہے نیشنل کاؤنٹر ٹیریرزم سینٹر (این سی ٹی سی) پر سیاسی گرہن لگ گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سلامتی کی کیبنٹ کمیٹی (سی سی اے) نے اس سال11 جنوری کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے طاقتور قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ یہ ایجنسی یکم مارچ2012ء کو وجود میں آجائے گی۔ یہ دہشت گردی کے خطروں کا پتہ لگانے کے علاوہ تلاشی آپریشن شبے کی بنیادپر لوگوں کو گرفتار کرسکے گی۔ اس کو یہ اختیارات غیر قانونی سرگرمی انسداد قانون کے تحت حاصل ہوں گے۔ دہشت گردی کی سازش کا پتہ لگانا، دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کا پتہ لگانا اس کا مقصد ہے۔ یہ سی بی آئی ، این آئی اے نیٹ گریٹ سمیت ساتوں سینٹرل مسلح فورسز سے اطلاعات حاصل کرسکے گی۔ اس کا سربراہ ڈائریکٹر کہہ لائے گا جو انٹیلی جنس بیورو ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مساوی عہدے کا ہوگا۔ این سی ٹی سی اطلاع اکٹھا کرنے کے لئے دوسری ایجنسی پر منحصر کرے گا۔ آدھے درجن سے زیادہ غیر کانگریسی وزرائے اعلی نے اس مرکز کے قیام پر اعتراض ظاہر کیا ہے اور اندیشہ جتایا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کھڑے کئے جارہے اس یونیفائڈ کمان کا کہیں قتل نہ ہوجائے۔ اس مجوزہ دہشت گردی انسداد مرکز کو ریاستوں کے معاملوں میں مداخلت اور آئین کی مریادا کی خلاف ورزی بتایا جارہا ہے اس پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ این سی ٹی سی نام سے بحث میں آئے اس قومی آتنک واد انسداد مرکز کے خلاف ٹھیک اس وقت آواز بلند ہورہی ہے جب اس کے باقاعدہ کام کرنے کا وقت قریب آگیا ہے۔ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے۔ یکم مارچ سے سرگرم ہونے جارہے این سی ٹی سی کے خلاف ریاستی حکومتوں کی سرگرمی یکایک بڑھ گئی ہے۔ چند دن پہلے تک صرف ممتا بنرجی، نوین پٹنائک کو ہی یہ مرکز راس نہیں آرہا تھا لیکن اب سارے بھاجپا حکمراں وزرائے اعلی اور تملناڈو کی وزیر اعلی کو بھی یہ لگنے لگا ہے کہ ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ ہونے جارہا ہے۔ ہماری رائے میں اس مرکز کا احتجاج کرنے والوں کی دلیلوں میں بھی دم ہے۔ کچھ معنوں میں تو یہ پوٹا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ 
بغیر ریاستوں کو اطلاع دئے اس میں کسی کو بھی گرفتار کرنے کی سہولت ہے۔ اس سے ریاستوں کا خوفزدہ ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ اس یوپی اے سرکار اور خاص کر وزیر داخلہ پی چدمبرم کی ساکھ اتنی گر چکی ہے کہ ان پر اب کوئی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ اگر یہ کرنا ہی تھا تو پوٹا کیوں ہٹایا؟ 26/11 حملوں کے بعد دیش میں ایک ماحول ایسا بنا تھا کہ اگر اسی وقت اس مرکز کو قائم کرلیا جاتا تو شاید اتنا احتجاج نہ ہوتا۔ ادھر یوپی اے سرکار سوتی رہی اور اتنے سال گزر گئے اب آکر اسے ہوش آیا ہے۔ اس احتجاج کی اصلیت میں ریاستوں کی یہ مشکل ہے کہ مرکزی حکومت اس قانون کے تحت اپنا سیاسی ایجنڈا ان پر ٹھونپ سکتی ہے۔ یہ دہشت گردی انسداد نظام مرکز کے خفیہ محکمے انٹیلی جنس بیورو کے تحت چلے گا۔ ان ریاستوں کو اندیشہ ہے کہ سی بی آئی کی طرح اسے بھی کہیں مرکز کی اقتدار پر قابض پارٹی کے مفاد کا ذریعہ نہ بنا دیا جائے۔ ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد سے۔
Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Mamta Banerjee, NCTC, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

جوالہ مکھی کے ڈھیر پر بیٹھا مشرقی وسطیٰ



Published On 22nd February 2012
انل نریندر

مغربی ایشیا ایک بار پھر جنگ کی جوالہ مکھی کے ڈھیر پر کھڑا ہوتا جارہا ہے۔ نیوکلیائی چھڑیں بنانے میں لگے ایران نے جہاں اپنے جنگی بیڑے جدہ بندرگاہ سے شام کے ساحل کے قریب تعینات کردئے ہیں۔ وہیں ایرانی ریولیوشنری گارڈ ز نے دوروزہ زمینی فوجی جنگی مشقیں شروع کر امریکہ اور پڑوسی اسرائیل جیسے کٹر مخالفوں کو منہ توڑ جواب دینے کی تیاری کرلی ہے۔ ادھر برطانیہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہ جنگی بیڑے ایران نے سوئس سمندر کے راستے بھومدے ساگر کے کنارے بسے شام بھیجے ہیں تاکہ اس کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر کسی طرح کا حملوں کا جواب دے سکیں۔ ادھر نارتھ کوریا نے بھی فوجی مشقوں کی صورت میں حملے کی وارننگ دے ڈالی ہے۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی اِرنا نے دیش کے بحریہ کے چیف ایڈمرل حبیب اللہ سیاری کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران بھومدے ساگر میں اپنے جنگی بیڑے تعینات کرکے مخالفین کو علاقے میں اپنی طاقت کا احساس کرادیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی بحریہ اسلامی انقلاب کے بعد دوسری بار سوئس دریا کے راستے بھومدے ساگر تک پہنچی ہے۔ایران کے ریولوشنری گارڈز کا کہنا ہے کہ اس نے ممکنہ باہری خطروں سے دیش کی حفاظت کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے لئے دو روزہ ایک زمینی مشق شروع کردی ہے۔ یہ ریولوشنری گارڈز ایران کی سب سے طاقتور فوجی یونٹ ہے۔ غور طلب ہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔
امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کل ہی ایران کو سخت وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے ہرموز آبی معاہدہ توڑا یا نیوکلیائی ہتھیار بنائے تو اس کے خلاف کارروائی کے ہر متبادل کھلے ہیں۔ پینیٹا نے کہا ہم صاف کرچکے ہیں کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنا سکتا، ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے کہ وہ بین الاقوامی کاروبار کے اہم آبی راستے ہرموز آبی معاہدے کو توڑے۔ اس علاقے سے دنیا کے پانچویں حصے کا تیل کاروبار ہوتا ہے۔ یہ بین الاقوامی آبی خطہ ہے ہم ایران کو اسے بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
قابل غور ہے کہ امریکہ نے عراقی تیل ذخائر کو ہڑپنے کے لئے کویت کے ذریعے عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کو خطرناک کیمیاوی ہتھیار ختم کرنے کے بہانے سے نیست و نابود کردیا تھا جبکہ جان و مال اور تیل کنوؤں کی بھاری تباہی کے باوجود عراق میں ایسا کوئی ہتھیار نہیں ملا۔ ایران کو ڈر ستا رہا ہے کہ امریکہ اس کے نیوکلیائی پلانٹس میں خطرناک ہتھیار بنانے کے الزام کے بہانے اسرائیل کے تعاون سے اس پر کبھی بھی چڑھائی کر سکتا ہے۔ ایران نے بھی ایسے کسی طرح کے حملے کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ ادھر خلیج فارس میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان برطانیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ایران کے نیوکلیائی اداروں کو تباہ کرنے کے لئے پہلے کوئی حملہ کرنے کی منفی پہل نہ کرے اور ایسا کرنا اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے مشہور اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ دراصل لیون پینیٹا سے بات چیت کے بعد ہمارے ایک صحافی نے لکھا ہے پینٹاگان کے چیف کا یہ ماننا ہے کہ اس بات کا ٹھوس اندیشہ ہے کہ اپریل، مئی یا جون کے مہینے میں اسرائیل سرکار ایران پر حملہ کرے گی۔ مشرقی وسطیٰ جوالہ مکھی کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Egypt, Iran, Israil, Middle East, Syria, USA, Vir Arjun

21 فروری 2012

مہاراشٹر کے منی چناؤ میں بھگوا بھاری پڑا


Published On 21st February 2012
انل نریندر
مہاراشٹر کے 10 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی حالانکہ قومی سیاست میں اتنی اہمیت نہ ہو لیکن اس کا اثر ضرور پڑے گا۔ مہاراشٹر میں تو خیر یہ ایک طرح سے اسمبلی منی چناؤضرور مانا جاسکتا ہے ان انتخابات کے نتیجوں سے جہاں شیو سینا ۔ بھاجپا محاذ خوش ہوگا وہیں یہ کانگریس ۔ این سی پی محاذ کے لئے ایک جھٹکا ہے۔دیش کی آدھے سے زیادہ ریاستوں کے سالانہ بجٹ والی ملک کی سب سے بڑی میونسپل کارپوریشن ممبئی مہانگر پالیکا(بی ایم سی) کے اقتدار کے بالکل قریب پہنچ کر شیو سینا نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ چناؤ ہوا ہوائی دوروں سے نہیں بلکہ ووٹروں کو پولنگ مرکزوں پر لے جاکر جیتے جاتے ہیں۔ 10 میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ میں شیو سینا۔بھاجپا محاذ نے پانچ شہروں میں بھگوا پرچم لہرایا ہے۔ کانگریس اور این سی پی کو چار چہروں میں ہی کامیابی ملی ہے۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا کی غیر متوقع طور سے ناسک میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ شیو سینا اور بھاجپا و آر پی آئی نے مل کر227 سیٹوں والی بی ایم سی میں 107 سیٹیں جیت کر سب سے بڑے محاذ کے طور پر کامیابی درج کرائی۔ کانگریس اور این سی پی نے پہلی بار یہاں مل کر چناؤ لڑا اور منہ کی کھائی۔ چناؤ نتائج آتے ہی کانگریس پارٹی میں رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ پارٹی کے لیڈر ایک دوسرے پر ہار کار ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں۔ ممبئی کانگریس یونٹ کے پردھان کرپا شنکر کا مقامی ایم پی سنجے نروپم اور پریہ دت کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ کرپا شنکر سنگھ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے سرپر ہار کار ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پورا چناؤ شری چوہان کی لیڈر شپ میں لڑا گیا تھا تو پھر وہی ہار کے ذمہ دار مانے جانے چاہئیں جبکہ دہلی میں بیٹھے کانگریس کے دوسرے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ممبئی کو غیرمراٹھی لیڈروں کے حوالے کرنے کا خمیازہ اٹھانا پڑا ہے۔ مراٹھی مانش کے نام سے شیو سینا اور ایم این ایس جیسی پارٹیاں کامیاب رہی ہیں ان کا خیال ہے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مراٹھی لیڈر شپ کو ممبئی میں پنپنے نہیں دیا گیا۔ اسی وقت ممبئی کے دو کانگریسی لیڈر ہیں اور دونوں کرپا شنکر اور سنجے نروپم نارتھ انڈیا کے ہیں۔ مرلی دیوڑا راجستھان سے ہیں تو پریہ دت پنجاب سے ہیں۔ ایسے میں مراٹھا ووٹ کس وجہ سے کانگریس کو ملتا؟ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ممبئی کی ہار کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ اعلی کمان نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر حصوں میں ہار کے اسباب کی جانچ کے لئے ممبئی کانگریس کمیٹی، پردیش کانگریس کمیٹی اور وزیر اعلی سے الگ الگ رپورٹ مانگی ہے۔ پارٹی کا ایک گروپ آپسی گروپ بندی مان رہا ہے۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے بطور وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو صوبے میں بھیجے جانے کے فیصلے کو ریاست کی سیاست میں سرگرم اثر رکھنے والے تمام لیڈر ابھی تک پچا نہیں پائے ہیں۔ کانگریس این سی پی کے درمیان بہتر تال میل نہ رہنے کو بھی ہار کا سبب مانا جارہا ہے۔ سابق وزیر اعلی اشوک چوہان ، ولاس راؤ دیشمکھ کے الگ الگ خیمے میں صوبے میں پرتھوی راج چوہان کے کردار کو صحیح دل سے نہیں قبول کرپائے۔ تنازعات کے گھیرے میں آئے کرپا شنکر جیسے نیتاؤں کا بچاؤ بھی پارٹی کے حق میں نہیں گیا۔ چناؤ کے دوران صدر کے بیٹے راجندر سنگھ شیخاوت سے کروڑوں روپے ملنا بھی پارٹی کو تنازعوں میں ڈال دیا ہے۔ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے چناؤ میں پوری طاقت جھونکی تھی۔ ان پر مخالفین چٹکی بھی لے رہے تھے کہ وہ گلی کوچوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ نتیجے یوپی چناؤ کے دوران آئے ہیں لہٰذا پارٹی کے لئے یہ ایک مزید جھٹکا ہے۔ حالانکہ پارٹی نے اس بات سے انکار کیا کہ چناؤ نتیجوں کا اثر یوپی کے چناؤمیں پڑے گا۔پارٹی نے کہا راہل گاندھی کی کوششوں اور یوپی کے چناؤ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ انچارج موہن پرکاش نے کہا کہ یہ اسمبلی چناؤ نہیں تھا بلکہ مقامی بلدیاتی چناؤ تھا جہاں نتیجے مقامی اسباب پر منحصر کرتے ہیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Maharashtra, MNS, Shiv Sena, Vir Arjun

امریکی پارلیمنٹ کو اڑانے کی سازش ناکام بنائی


Published On 21st February 2012
انل نریندرامریکہ نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا ہے کہ وہ9/11 آتنکی حملے کے بعد کتنا چوکس ہے۔ اس کا دہشت گردی مخالف آپریشن تب رنگ لایا جب ایس بی آئی نے امریکی پارلیمنٹ (کیپیٹل ہل) کو اڑانے کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ امریکہ کے محکمہ انصاف کے مطابق خودکش حملہ کرکے امریکی پارلیمنٹ کو اڑانے کی سازش رچنے والے ماسکو کے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ 29 سالہ امین الخلیفی کے طور پر اس کی پہچان کی گئی ہے۔ خلیفی کو امریکی پارلیمنٹ کے پارکنگ لاٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ خلیفی ایک بموں سے بھری جیکٹ پہن کر ہاتھ میں مشین گن لے کر امریکی پارلیمنٹ کو اڑانا چاہتا تھا۔ اسے یہ نہیں معلوم تھا جو بموں سے لدی وردی اس کو دی گئی اور جو ہتھیار دئے گئے وہ سب نقلی تھے۔ دراصل ایف بی آئی نے ایک اسٹنگ آپریشن کے تحت پہلے سے ہی اپنے ایک ایجنٹ کو القاعدہ کے اس گروہ میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔ وہی انڈر کور ایجنٹ القاعدہ کا ورکر بن کر خلیفی کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا رہا۔ اسی نے خلیفی کو یہ نقلی ہتھیار دئے جب وہ اپنے پلان کے مطابق کیپیٹل ہل کی پارکنگ ایریا میں پہنچا تو اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ امریکہ کی ایف بی آئی اور جوائنٹ ٹریریزم ٹاسک فورس کا یہ مشترکہ آپریشن کامیاب رہا۔ خلیفی کو اجتماعی تباہی کے ہتھیار کا استعمال کرکے پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے اور عام جنتا پر گولہ باری کرنے کی کوشش کا ملزم بنایا گیا ہے۔ امریکی اٹارنی نال میکس برائٹ نے کہا خلیفی کو لگ رہا تھا کہ وہ القاعدہ کے لئے کام کررہا ہے لیکن وہ القاعدہ کا فرضی آپریشن چلا رہی ایف بی آئی کے شکنجے میں پھنس چکا تھا۔ خلیفی کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو اسے عمر قید کی سزا مل سکتی ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق خلیفی 1999ء میں ویزا پر امریکہ آیا تھا لیکن ویزا کی میعاد ختم ہونے کے باوجود وہ یہاں ٹکا رہا۔ اس نے کبھی بھی امریکہ کی شہریت حاصل کرنے کے لئے درخواست نہیں دی تھی۔ ایف بی آئی کے جنوری 2011ء کے حلف نامے میں بتایا گیا ہے کہ ایک مصدقہ ذرائع نے اسے بتایا کہ خلیفی نے ورجینیا کے ایک گھر میں کچھ لوگوں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ایک شخص نے اسے اے کے ۔47 دو ریوالور اور دھماکوں سامان دئے۔ خلیفی نے ہتھیار لیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے۔ہمیں جنگ کے لئے تیار ہوجانا چاہئے۔ خلیفی کو ایک ریستوراں پر بھی حملہ کرنا تھا لیکن پچھلے ماہ اس نے اپنی اسکیم بدل دی اور اس نے پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ کرنے کی منشا ظاہر کی۔ ا س نے مغربی ورجینیا میں باقاعدہ حملے کی ریہرسل بھی کی تھی۔ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے لئے اس نے17 فروری کا دن چنا تھا۔ پچھلے ماہ اس نے کیپیٹل ہل کے آس پاس چکر لگا کر موزوں جگہ کی تلاش بھی کرلی تھی لیکن اسے حملے سے پہلے ہی دھرلیا گیا۔ امریکہ کی سکیورٹی اور خفیہ مشینری کتنی مضبوط ہے یہ ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے۔
9/11, America, Anil Narendra, Daily Pratap, Terrorist, USA, Vir Arjun

19 فروری 2012

یوپی کے ہیلتھ مشن گھوٹالے نے لی ساتویں بلی


Published On 19th February 2012
انل نریندراترپردیش میں ہوا 5700 کروڑ روپے کا نیشنل رورل ہیلتھ مشن (این آر ایچ ایم) گھوٹالہ ایک کے بعد ایک زندگی لے رہا ہے۔ محکمہ صحت کے 7 فروری سے لاپتہ خزانچی مہندر شرما 50 سال ، کی خون سے لت پت لاش بدھوار کی رات لکھیم پور ضلع سے برآمد ہوئی ہے۔ بمشکل 24 گھنٹے گذرے کے جمعرات کی رات دہلی کے کاروباری سردار رنجیت سنگھ (50 سال ) نے لکھنؤ کے ایک ہوٹل میں نشیلی گولیاں کھا کر خودکشی کرلی۔ بدھ کو ہی سی بی آئی نے این آر ایچ ایم گھوٹالے کے سلسلے میں ان سے لمبی پوچھ تاچھ کی تھی۔ ان کی لاش کے پاس دو صفحات کا خود کشی نامہ ملا ہے۔ اس 5700 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں پہلے کئی لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ 20 اکتوبر 2010ء کو لکھنؤ کے محکمہ خاندانی بہبود کے سی ایم او ڈاکٹر ونود آریہ کو دن دہاڑے مار ڈالا گیا۔ اسی محکمے کے دوسرے سی ایم او ڈاکٹر وی پی سنگھ کو 2 اپریل 2011ء کو قتل کردیا گیا۔ ڈاکٹر آریہ کے قتل کے بعد ڈاکٹر سنگھ اسی محکمے کے تھے۔ فروری2011ء میں سی ایم او بنے تھے۔ ان قتلوں کے الزام میں گرفتار ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر سچان جون2011ء میں مشتبہ حالت میں لکھنؤ کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ سنیل کمار ورما جو این آر ایچ ایم کے پروجیکٹ منیجر تھے نے جنوری2011ء میں لکھنؤ میں اپنے گھر میں خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ بنارس میں ڈپٹی سی ایم او سلیش یادو کی پچھلے مہینے ایک سڑک حادثے میں موت ہوگئی تھی۔ اس گھوٹالے میں ریاستی حکومت کے دو وزراء اننت کمارمشر، بابو سنگھ کشواہا کے نام آنے پر انہیں عہدے سے ہٹنا پڑا۔ این آر ایچ ایم گھوٹالے کی جانچ جس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ٹھیک اسی طرح سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ سی بی آئی کا شکنجہ جب کھیری کے افسروں پر کسنے لگا تو ان کے دل کے مطابق کام پورا نہ کرنے پر دسگواں سی ایم سی کے سینئر کلرک مہندر شرما کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ الزامات کے گھیرے میں محکمے کے سربراہ سمیت کئی میڈیکل افسر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ کلرک یونین کے پردھان پر بھی رشتے داروں نے نشانہ لگاتے ہوئے سمجھوتہ کرانے کے لئے دباؤ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ خاندان والوں نے پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کی مانگ کی ہے تاکہ سازش اجاگر ہوسکے۔ این آر ایچ ایم گھوٹالے سے وابستہ چھٹی موت کو سی بی آئی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اس نے صاف کردیا ہے کہ محکمہ صحت کے خزانچی مہندر شرما کے قتل کی اترپردیش سی آئی ڈی جانچ کررہی ہے اور ہماری اس پر نظر ہے۔ ضرورت پڑنے پر وہ اسے اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔ ادھر مایا کیبنٹ سے ہٹائے گئے وزیر بابو سنگھ کشواہا نے کہا کہ قتلوں کے پیچھے مایاوتی، ان کے وزیر نسیم الدین ، کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر، داخلہ سکریٹری کنور فتح بہادر و آئی اے ایس افسروں کی سانٹھ گانٹھ ہے۔ میں نے اس سازش کے بارے میں مایاوتی کو بتایا تو انہوں نے مجھے دھمکایا اور زبان بند رکھنے کو کہا۔ پتہ نہیں اس گھوٹالے کو لیکر ابھی کتنی جانیں اور جائیں گی؟ اب تک ہوئی اموات میں سے پانچ کا قتل کیا گیا ، ایک نے خودکشی کی اور تین مشتبہ حالت میں مارے گئے ہیں۔
Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Dr. Sachan, NRHM, Uttar Pradesh, Vir Arjun

کانگریس کے نئے اینگری ینگ مین راہل گاندھی


Published On 19th February 2012
انل نریندراترپردیش اسمبلی چناؤ مہم کے دوران ہم نے کانگریس کے یووراج راہل گاندھی کے کئی انداز دیکھ لئے ہیں۔ کہاں تو ایک خاموش مہذب چہرہ جو دلتوں کے گھر روٹی پانی کھا پی کر ان کے درد کو سمجھنے والا، نرم گو مزاج کا تھا اور کہاں وہ اب داڑھی بڑھا کر فلمی انداز میں اسٹیج پر کاغذ پھاڑ رہے ہیں۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ راہل کا غصہ تھوڑا اور بڑھنے کے ساتھ ہی نہ صرف نظر آنے لگا ہے بلکہ ان کے تیوروں میں بھی جارحیت آگئی ہے۔ یہاں تک کہ اب وہ اسٹیج سے ہی پارٹیوں کے وعدوں کے کاغذ پھاڑ کر اپنا غصہ کھلے عام لوگوں میں احساس کرانے لگے ہیں۔ شاید وہ یوپی کے نوجوانوں کو بہلانا پھسلانا چاہتے ہیں۔ ''خاموش مزاجی تمہیں جینے نہیں دے گی، اس دور میں جینا ہے تو کہرام مچادو''ان کے اسی تیور پر کانگریس نے انہیں ''اینگری ینگ مین'' کے لقب سے نواز دیا ہے۔ راہل کانگریس کے ''یووراج '' تو ہیں ساتھ ہی ساتھ وہ کانگریس پارٹی کے چناوی مہم کے اکیلے سپر اسٹار بھی ہیں۔ ویسے بھی اس بار گاندھی خاندان نے بھی اپنی پوری طاقت چناؤ میں جھونک دی ہے۔ محترمہ سونیا گاندھی ،راہل ،پرینکا و رابرٹ وڈیرا سبھی اس بار میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ اتنی طاقت تو گاندھی خاندان نے شاید پہلے کبھی نہ جھونکی ہو۔ خیر کانگریس کو راہل کے کرشمے کا انتظار ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یوپی میں جیسے جیسے چناؤ کے مرحلے ختم ہورہے ہیں کانگریس کا حوصلہ اور جذبہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ 

کانگریس تو اب دعوی کررہی ہے کہ اترپردیش میں چناؤ اب صرف راہل بنام دیگر تک رہ گیا ہے۔ اس لئے سپا بسپا سے لیکر بھاجپا تک کے لیڈر اپنی تقریروں میں صرف راہل گاندھی پر ہی نشانہ لگا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ راہل بابا نے تو خواب ہی پا لیا ہے کہ اس چناؤ میں کانگریس کو اپنے دم پر تاج تک پہنچالیں گے اور ایسے میں جب جب رکاوٹیں دکھائی پڑتی ہیں تو انہیں غصہ آجاتا ہے۔ اب اس غصے کو بھنانے کا سیاسی پن بھی انہوں نے سیکھ لیا ہے اس لئے اب وہ جب اینگری نوجوان لیڈر کے تیور دکھاتے ہیں تو سامنے بیٹھے لوگ خوب تالیاں بجاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی اس دن لکھنؤ کی ایک چناوی ریلی میں ہوا۔ ڈی اے وی کالج کے میدان میں منعقدہ چناؤ ریلی میں ہلکی داڑھی والے راہل گاندھی نے مائک تھاما اور اس کے بعد وہ کسی بالی ووڈ ہیرو کی طرح بول پڑے۔ چہرے پر غصے کے انداز کو لیکر وہ بولے کے سپا ،بسپا نے سالوں سے صرف وعدے کئے ہیں حقیقت میں کچھ نہیں کیا۔ اسی کے چلتے آپ کے حالات بدتر ہوئے ہیں۔ میرے ہاتھ میں سپا کی چناوی فہرست ہے یہ ہی کہ چناؤ جیتے تو سڑک دیں گے، بجلی دیں گے، روزگار دیں گے۔ اگر روزگار نہیں دے پائے تو بڑھی ہوئی بے روزگاری بھتہ دیں گے۔ یہ وہی لسٹ ہے جو پچھلے چناؤ میں بھی سپا نے آپ لوگوں کو دی تھی۔ آپ لوگوں کو کام چاہئے وعدے کی لسٹ کی ضرورت نہیں۔ ایسے میں سپا کی یہ فہرست میں پھاڑ رہا ہوں۔ یہ کہہ کر انہوں نے ہیرو گری کے انداز میں ہاتھ میں لیا کاغذ پھاڑ کر نیچے پھینک دیا۔ راہل کے اس ایکشن پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ بھاجپا کے قومی صدر نتن گڈکری نے کہا کہ ایسا کرکے راہل نے اپنا بچپنا دکھایا ہے۔ یہ ہی لگتا ہے کہ انہیں ابھی سیاسی سوجھ بوجھ نہیں ہے۔ سب سے اچھا تبصرہ سپا کے یوپی پردھان اکھلیش یادو کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل کا غصہ ایک ڈرامہ ہے اور اسٹنٹ ہے ،کبھی پرچہ پھاڑتے ہیں تو کبھی لوگوں کو اپنی ریلی سے چلے جانے کو کہتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی دن وہ اسٹیج سے کود جائیں۔ راہل گاندھی کے یہ تیور کیا رنگ دکھاتے ہیں اس کا پتہ تو ووٹوں کی گنتی پر ہی چلے گا۔
Akhilesh Yadav, Angry Young Man, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Priyanka Gandhi Vadra, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, Vir Arjun