Translater

27 اکتوبر 2012

واڈراکو ڈیل بحال کرنا ٹیڑھی کھیرثابت ہورہی ہے


رابرٹ واڈرا۔ ڈی ایل ایف سمجھوتے کے تحت گوڑ گاؤں کے شکوہ پور گاؤں کی ساڑے تین ایکڑ زمین کی منتقلی کرکے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل چکبندی ڈاکٹر اشوک کھیمکا نے ہریانہ حکومت کو بری طرح سے پھنسا دیا ہے۔ منتقلی منسوخ کرنے کے بجائے گوڑ گاؤں کے ڈپٹی کمشنر ٹی سی مینا نے رجسٹری کو صحیح مانتے ہوئے ہریانہ سرکار کو خط لکھ کر اس بارے میں ہدایتیں مانگی ہیں۔ گوڑ گاؤں کے ڈی سی نے چیف سکریٹری اور ایڈیشنل چیف سکریٹری کولکھے خط میں کہا ہے کیونکہ ریاست بھر میں اسسٹنٹ چکبندی افسر ہی منتقل کررہے ہیں اور ایسے ہزاروں زمینوں کی منتقلی کئے ہوئے ہیں اس لئے واڈرا کے ذریعے ڈی ایل ایف کو بیچی گئی زمین کی 20 ستمبر کو کی گئی داخل خارج کارروائی صحیح ہے۔ اکیلے شکوہ پور گاؤں میں اسی طرح کے 150 منتقلی معاون چکبندی افسر نے کئے ہیں۔ انہیں یہ اختیار بھی سرکار نے دیا ہے اس لئے ان کا مارگ درشن کریں۔ ڈپٹی کمشنر مینا نے کہا ڈائریکٹر جنرل چکبندی کے ذریعے 15 اکتوبر کو جاری داخل خارج منسوخ کرنے کے احکامات مل گئے ہیں لیکن ان کی تعمیل نہیں کی گئی ہے کیونکہ ریاست میں اسی طرح کی داخل خارج چکبندی افسر کررہے ہیں اس لئے ڈی ایل ایف کو منتقل کی گئی زمین منسوخ کردی گئی تو ہزاروں قانونی تنازعے کھڑے ہوجائیں گے۔ دراصل واڈرا ڈی ایل ایف ڈیل کی زمین کی منتقلی منسوخ کرنے کے احکامات کے بعد بحث میں آئے ہریانہ کیڈر کے سینئر آئی اے ایس افسر ڈاکٹر اشوک کھیمکا اپنے تبادلے سے ایک دن پہلے وزارت کے ایسے کئی قانون بنا گئے جو اب ریاستی حکومت کے لئے گلے کی پھانس بن گئے ہیں۔10 اکتوبر کو بنائے گئے ان قوائد پر عمل سے نہ صرف ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے اثاثے کا پتہ لگ سکے گا بلکہ کالی کمائی سے یا بینامی پراپرٹی خریدنے والوں پر نکیل کسی جاسکے گی۔انہوں نے یہ قوائد سبھی ضلع افسروں کو بھیج دئے ہیں اور عام جنتا کو بتانے کے لئے انہیں ہریانہ حکومت کو نوٹی فائی کرنے کے لئے بھیج دیا ہے۔ اسپیکٹر جنرل آف رجسٹریشن کی حیثیت سے ڈاکٹر اشوک کھیمکا نے رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ69(A) کے تحت ملے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پہلی بار ہریانہ میں ’دی ہریانہ رجسٹریشن رولز2012 ‘ بنائے ہیں۔اشوک کھیمکا نے قبول کیا ہے کہ انہوں نے یہ رجسٹریشن قوائد نوٹیفائی کردئے ہیں۔افسروں کو ان کی تعمیل کرنے کے لئے میرا نوٹیفکیشن کافی ہے جبکہ عام جانتا کے لئے سرکار کے ذریعے سرکاری گزٹ سے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے۔ اشوک کھیمکا نے اب یہ کہہ کر ہریانہ کے ساتھ ساتھ مرکزی سرکار کے لئے بھی پریشانی بڑھا دی ہے ان کے احکامات کو لیکر بنی کمیٹی کا مقصد کرپشن کو چھپانا ہے اور واڈرا کو بچانا ہے۔ اشوک کھیمکا کے مطابق چکبندی ڈائریکٹر جنرل کے احکامات کے خلاف صرف ہائی کورٹ میں ہی سماعت ہوسکتی ہے لیکن ایسا کچھ کرنے کے بجائے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کھیمکا نے کہا کہ مجھے اس کمیٹی کے دائرہ اختیار کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے لیکن اتنا جانتا ہوں کہ یہ کمیٹی ہائی کورٹ کے دائرہ اختیارپر قبضہ کررہی ہے۔ اشوک کھیمکا نے جاتے جاتے ایسا پیچ پھنسا دیا ہے جو ہریانہ سرکار کے لئے کھولنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔
(انل نریندر)

اس جان لیوا ڈینگو مچھر سے کیسے نمٹیں؟


کروڑوں اربوں کے مالک فلم پروڈیوسر یش چوپڑہ نے شاید کبھی تصور نہ کیا ہوگا ایک چھوٹا سا مچھر ان کی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے لیکن اس مچھر نے ایک ڈنک مار کر بالی ووڈ کی ایک بڑی ہستی کو ہمیشہ کے لئے سلادیا۔ویسے ممبئی مہا نگر پالیکا انتظامیہ کی طرف سے لیلاوتی ہسپتال کو نوٹس بھیج دیا گیا ہے جس میں یش چوپڑہ کے موت کے اسباب کی رپورٹ مانگی گئی ہے۔ ہسپتال نے 24 گھنٹے کے اندر یش چوپڑہ کی ڈینگو سے ہوئی موت کی جانکاری انتظامیہ کو نہیں دی جو اسے دینی چاہئے تھی۔ ڈینگو کا اثر اتنا بڑھ گیا ہے کہ راجدھانی دہلی میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد730 سے اوپر پہنچ چکی ہے اور یہ جان لیوا بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ایسے میں ڈینگو بخار اور اس کے بچاؤ کو ہلکے سے لینا آپ کی جان کو آفت میں ڈال سکتا ہے۔ ہر شخص کہیں پر بھی اس مچھر کا شکار ہوسکتا ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے ڈینگو سے ڈریں نہیں بلکہ اس کے بچاؤ کے طریقے اپنائیں۔اگر یہ بخار کسی کو ہوتا ہے تو بغیر گھبرائے ڈاکٹر کو دکھائیں اور خیال رکھیں۔ ڈاکٹر کے پاس جانے میں دیری نہ ہو۔ ڈینگو بخار سے پہلے دن پتہ چل جاتا ہے کہ اگر بخار ہے تو پلیٹ لیٹس کی جانچ کراتے ہیں اور جب تک پلیٹ لیٹس25 ہزار سے نیچے نہ جائے تب تک ہسپتال میں بھرتی ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی پلیٹ لیٹس چڑھانے کی ضرورت ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن اپنی سطح پر مچھروں کو روکنے کے لئے کوشش کررہی ہے لیکن سبھی کو اس طرف خاص توجہ دینی ہوگی۔ کچھ اور احتیاطی قدم بھی بتائے ہیں۔کولر کے پانی کو روز صاف کرنا، گھر میں لگے گملوں اور برتن میں پانی جمع نہ کریں، کولر میں جمع پانی سے ہی ڈینگو مچھروں کے پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اپنے گھروں کے آس پاس گدھوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ سوتے وقت مچھر دانی کے علاوہ آل آؤٹ یا کوائل ضرور جلائیں۔ بخار ہوتے ہیں ڈاکٹرکو دکھائیں۔ بیچ بیچ میں پانی سڑک پر کیچڑ سے بچیں اور گھر میں رقیق چیزیں کھائیں۔ شگر اور موٹاپا ہونے اور بچوں اور زیادہ عمر کے مریضوں ، حاملہ اور گوردو ں کے مریضوں کو ڈینگو کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ راجدھانی میں اونچی عمارتوں میں ڈینگو مچھر کی پیداوار زیادہ پائی گئی ہے۔ جگہ جگہ ہورہی تعمیرات کے سبب مچھروں میں اضافہ ہورہا ہے۔ کامن ویلتھ گیمز پروجیکٹ اور مسلسل ہورہی ترقیاتی سرگرمیوں کے سبب وہاں مچھروں کی پیداوار بڑھ رہی ہے ۔دہلی کا محکمہ صحت اب ان عمارتوں کی چھتوں کا معائنہ کرواکر وہاں رکھی ٹنکیوں کی جانچ کرے گا۔ امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر کے کے اگروال کا کہنا ہے کہ ہر ڈینگو خطرناک نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر معاملے میں پلیٹ لیٹس کی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈینگو می اگر خون بہنا شروع ہوجائے تو فوراً اس کی جانچ کرائیں اور خون کے خلیوں میں اس کا اثر نہ پہنچ پائے۔ غور طلب ہے ڈینگو ہوتے ہی مریضوں کے رشتے دار پلیٹ لیٹس کے لئے پریشان ہوجاتے ہیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کی مانگ پر فوراً25 سے40 ہزار روپے میں پلیٹ لیٹس چڑھائے جارہے ہیں۔ ڈینگو کا مچھر تو کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہورہا ہے۔
(انل نریندر)

26 اکتوبر 2012

تنازعوں کے چلتے گڈکری کو عہدہ چھوڑ پارٹی بچانی چاہئے


بھاجپا پردھان نتن گڈکری کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ گڈکری پر مہاراشٹر میں پی ڈبلیو ڈی وزیررہتے ہوئے خود کی کمپنیوں کو اقتصادی فائدہ پہنچانے کا نیا الزام سامنے آیا ہے۔ وہ مہاراشٹر کی شیو سینا بھاجپا کی سرکار میں 1995 سے1999ء تک وزیر تھے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق گڈکری کی کمپنی پورتی پاور اینڈ شوگر لمیٹڈ نے کئی گھپلے کئے۔ ان میں غلط طریقے سے پیسہ جمع کرنے سے لیکرکمپنی کے بارے میں دی گئی معلومات فرضی ہونا شامل ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پورتی کے زیادہ تر سرمایہ کار اور قرض آئی آر بی گروپ کی جانب سے دئے گئے۔گڈکری مہاراشٹر سرکار میں پی ڈبلیو ڈی وزیر تھے تب آئی آر بی گروپ کو کئی ٹھیکے دئے گئے تھے۔ پورتی کی شیئر ہولڈر کمپنیوں کے پتے بھی فرضی ہیں ان میں سے پانچ کمپنیوں کے پتے دراصل ممبئی کی جھگی بستیوں کے ہیں۔ نتن گڈکری نے اپنی صفائی میں کہا کہ مہاراشٹر سرکار میں پی ڈبلیو ڈی وزیر رہتے ہوئے پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی بات بے بنیاد ہے۔ میں خود پر لگے ان الزامات کی کسی بھی جانچ کے لئے تیار ہوں۔ مرکزی کارپوریٹ امور کے وزیر ویرپا موئلی نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کرائی جائے گی۔ انکشاف کے بعد بھاجپا کے ایم پی رام جیٹھ ملانی نے گڈکری سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے لیکن راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی گڈکری کے بچاؤ میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے سرکار چاہے تو جانچ کروالے۔ سامنے آئے نئے حقائق کے بعد یہ شبہ گہرا ہونا میں سمجھتا ہوں جو فطری ہی ہے۔ کہیں نہ کہیں کچھ گڑ بڑی ضرور ہے۔ یہ محض عام بات نہیں جان پڑتی کے کسی کمپنی کے ڈائریکٹر جھگی بستیوں میں رہ رہے ہوں؟ نتن گڈکری کا یہ کہنا کے جس پورتی گروپ کے سرمایہ کاروں کے پتے فرضی پائے گئے ہیں وہ اسے 14 ماہ پہلے چھوڑ چکے ہیں۔ ان کی صفائی کا واضح جواب نہیں مانا جاسکتا اس لئے اور بھی نہیں کیونکہ اب ان فیصلوں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں جو گڈکری نے مہاراشٹر کے پی ڈبلیو ڈی وزیر رہتے وقت کئے تھے۔ کوئی بھی یہ کیسے مان سکتا ہے کہ انہوں نے بطورپی ڈبلیو ڈی وزیر جس کمپنی کو ٹھیکے دئے اسی نے انہیں بعد میں کروڑوں کا قرض دیا۔ یہ اچھی بات ہے خود گڈکری اپنے پر لگے الزامات کی جانچ کی بات کررہے ہیں لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا انہیں اپنے عہدے پر بنا رہنا چاہئے؟ آخر یہ ہی تو مانگ بھاجپا کے نیتا کانگریسی نیتاؤں سے کررہے تھے۔ اب بھاجپا پردھان پربھی اسی داغ کے الزام لگ رہے ہیں جیسے کانگریسی نیتاؤں اور وزرا پر لگے ہیں۔ بھاجپا اس کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتی کہ سیاست میں اتر چکی ٹیم کجریوال تو یہ ہی ثابت کرنے پر آمادہ ہے کہ سیاسی حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ کانگریس ۔بھاجپا دونوں ہی ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ بیشک بھاجپا کی سینئر لیڈرشپ گڈکری کے بچاؤ میں اتر آئی ہے لیکن ہمیں اس میں شبہ ہے کہ وہ عام جنتا کو سمجھانے میں کامیاب ہوں گے۔ گڈکری پر لگے الزامات کے پیچھے کانگریس ہے اور یہ بھاجپا کو بدنام کرنے کیلئے ایک سیاسی چال ہے۔ عوام اب بیدار ہوچکی ہے لیکن بڑے غور سے دیکھ رہی ہے کہ سیاسی پارٹیاں کس طرح کرپشن سے لڑنے کا دکھاوا کررہی ہیں۔سیاسی پارٹیوں کے اس برتاؤ سے جنتا میں سیاسی پارٹیوں کے تئیں غلط فہمیاں پیدا ہورہی ہیں۔ نتن گڈکری کے پیچھے آر ایس ایس پوری طرح کھڑی ہوئی ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ آر ایس ایس اپنے اصولوں کو بھول چکی ہے اور اب اس کے لئے بھی ذاتی مفاد زیادہ اہم ہوچکا ہے۔ بطور پردھان نتن گڈکری کو کبھی بھی بھاجپا میں قبول نہیں کیا گیا اور اب تو رہی سہی کثر بھی پوری ہوچکی ہے۔ آخر کب تک سنگھ کے ذریعے لادے گئے اس بوجھ کو اٹھاتی رہے گی۔ خود نتن گڈکری کو چاہئے کہ وہ بھاجپا پردھانی سے استعفیٰ دے دیں اور یہ کہیں کہ وہ کسی بھی آزادانہ جانچ کے لئے تیار ہیں اور جب تک جانچ پوری نہیں ہوتی وہ اس عہدے پر نہیں رہیں گے۔ اس سے کانگریس پر بھی دباؤ بڑے گا تب بھاجپا کہہ سکتی ہے کہ دیکھو ہم نے تو یہ کر دکھایا ہے اب آپ کی باری ہے۔ تبھی بھاجپا ’پارٹی ود دی ڈیفنس‘ ثابت ہوگی۔
(انل نریندر)

بابا رام دیو کا مرکزاور ریاستی حکومت سے بڑھتا ٹکڑاؤ


بابا رام دیو کے اثاثوں اور ان کے گورو شنکر دیو کے غائب ہونے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی منظوری کو لیکر بابا اور سرکار میں ٹکڑاؤ بڑھ گیا ہے۔بابا کے نشانے پر اب دونوں مرکز اور اتراکھنڈ کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو سونیا گاندھی کا روبو بتانے ،رابرٹ واڈرا کو سرکاری داماد بتانے، مرکزی سرکار پر ایف ڈی آئی وغیرہ کے معاملے میں سیدھے حملے کئے جانے سے مرکزی سرکار بابا سے بری طرح چڑھی ہوئی ہے۔ رام دیو کے گورو سوامی شنکر دیو کو اب سی بی آئی ڈھونڈے گی۔ان کے گورو کو ڈھونڈنے کے بہانے رام دیو کی جانچ کرے گی۔ فرضی پاسپورٹ ، فرضی مارک شیٹ کو لیکر ان کے ساتھی آچاریہ بالکرشن پر پہلے ہی مقدمہ درج کرچکی ہے، جس کی جانچ جاری ہے۔ خیال رہے آچاریہ کو جیل میں بھیجا گیا تھا بعد میں ان کی نینی تال ہائی کورٹ سے ضمانت ہوگئی تھی۔ سوامی رام دیو کے گورو شنکر دیو پانچ سال پہلے 14 جولائی 2007ء کو اچانک اپنے کنکھل کے آشرم دویہ یوگ مندر کرپالو باغ سے غائب ہوگئے تھے۔ دو دن بعد 16 جون 2007ء کو آچاریہ بالکرشن نے اپنے گورو کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ تب بابا رام دیو بیرون ملک تھے ، بیرون ملک سے لوٹنے کے بعد گورو کی گمشدگی کو لیکر پریس کانفرنس کی تھی مگر پولیس ان کے گورو کو تلاشنے میں ناکام رہی اور اس سال اپریل 2012 کو گمشدگی کی قطعی رپورٹ لگا دی تھی۔ اس کے بعد بابا رام دیو کے مخالف سنت سمیتی کے ممبر آچاریہ پرمود کرشن نے سی بی آئی سے رام دیو کے اثاثوں اور ان کے گورو کے غائب ہونے کی مانگ کو لیکر اتراکھنڈ کے گورنر کو میمورنڈم دیا تھا۔ 
وزیر اعلی وجے بہوگنا نے دہلی میں مرکزی سرکار کے کئی لیڈروں سے تبادلہ خیالات کے بعد بابا رام دیو کے اثاثوں اور ان کے گورو کی گمشدگی معاملے کی جانچ کرانے کی سی بی آئی سے سفارش کی تھی۔ یہیں سے بابا کی مشکلیں بڑھ گئیں۔ محکمہ انکم ٹیکس کے بعد سروس ٹیکس محکمے نے بھی بابا رام دیو کے ٹرسٹ کو چھوٹ کے دائرے میں ماننے سے انکار کردیا تھا۔ گذشتہ پانچ برسوں میں اس کی ممبر شپ فیس کی شکل میں ملی رقم قریب پونے آٹھ کروڑ روپے کا سروس ٹیکس مانگا گیا۔ اس سے پہلے بابا کے ذریعے دیش بھر میں لگائے جانے والے یوگ کیمپوں پر کروڑوں کا سروس ٹیکس کا نوٹس بھیجا گیا تھا۔ بابا رام دیو کے ٹرسٹ پتنجلی یوگ پیٹھ کی عارضی اور مستقل ممبر شپ کو لینے پر تمام طرح کی سہولتیں ملی ہوئی ہیں۔ ممبروں کو ادارے کے ہری دوار میں واقع بڑے کمپلیکس میں رہنے، کھانے کے علاوہ دیگر کیمپوں میں حصہ لینے کی اجازت ملتی ہے۔ سہولیات ممبر شپ کے حساب سے فراہم کرائی جاتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ 11 لاکھ روپے میں عمر بھر کی ممبر شپ دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پتنجلی آیوروید دھرم کی تمام زمین و اثاثے کا بابا کی ہی کمپنیوں کو کرائے ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دویہ فارمیسی کو بھی گودام ، دفتر وغیرہ کے لئے کرائے پر دیاگیا ہے۔ بابا کے ذریعے دیش بھر میں منعقد کئے جانے والے یوگ کیمپ سے ہوئی آمدنی پر4.9 کروڑ روپے سروس ٹیکس ڈیمانڈ نکالی گئی ہے۔ سوامی رام دیو نے مرکز اور ریاستی سرکار پر بدلے کے جذبے سے خود کے خلاف کارروائی کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ وہ دبنے والے نہیں ہیں ان کی لڑائی جاری رہے گی۔
(انل نریندر)

25 اکتوبر 2012

ابوجندال کے بعد فصیح کی گرفتاری دوسری اہم کامیابی


آتنک وادی فصیح محمود کی سعودی عرب سے حوالگی سے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ایک اہم کامیابی ملی ہے۔ انڈین مجاہدین کے مشتبہ اس آتنک وادی کی گرفتاری کو مرکزی داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے بیحد اہم بتایا ہے۔ فصیح محمود کو دہلی بم دھماکوں اور بنگلورو کے چننا سوامی اسٹیڈیم میں دھماکوں میں دہشت گردی کی واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں تلاش کیا جارہا تھا۔ فصیح کی گرفتاری اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی تعاون سے ممکن ہوسکی ہے۔ فصیح کی حوالگی میں وزارت خارجہ کو سعودی عرب سے کافی مشقت کرنی پڑی اور لمبی جدوجہد کے بعد یہ ممکن ہوپایا اور اس کی حوالگی سے جہاں بھارت اور سعودی عرب کے درمیان باہمی رشتوں کو مضبوطی ملی ہے وہیں پاکستان کو اس سے ایک صاف اشارہ بھی ملا ہے کہ فصیح محمود کی گرفتاری بھارت کے لئے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں دوسری سفارتی جیت ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ابو جندال کے بعد فصیح کو سونپ کر سعودی عرب نے خاص طور پر پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے سے اسلامی ملکوں کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ سعودی عرب میں پہلی بار فصیح محمود کے خلاف ثبوت کو ناکافی بنا کر کچھ اور دستاویزی ثبوت مانگے گئے تھے۔ لیکن حکومت کا دعوی ہے کہ سعودی حکمرانوں نے انڈین مجاہدین کے اس سرغنہ کو نہ سونپنے کا اشارہ کبھی نہیں دیا۔اعلی ترین ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے ثبوتوں کی دوسری کھیپ سونپنے کے بعد ہفتوں میں ہی ضروری خانہ پوری کردی۔ اس سے پہلے ممبئی حملوں میں اہم رول نبھانے والے ابوجندال کو سعودی عرب سے بھارت لانے میں امریکہ کا اثر کافی زیر بحث رہا۔ ذرائع مان رہے ہیں کہ جندال معاملے میں امریکہ نے جو دلچسپی دکھائی اس کا اثر فصیح معاملے میں بھی رہا۔ 28 سالہ فصیح کو دہلی پہنچنے پر ہوائی اڈے سے ہی گرفتار کیا گیا۔ وہ سعودی عرب میں پانچ ماہ سے حراست میں تھا۔آتنکی فصیح کی گرفتاری سے پولیس کو سب سے بڑی مدد انڈین مجاہدین کے اس نیٹ ورک کو توڑنے میں ملے گی جس کا تانا بانا فصیح نے قریب چار سال پہلے بنا تھا۔ پیشے سے انجینئر فصیح انڈین مجاہدین کا بانی رہا ہے اور اسی کی کوششوں سے انڈین مجاہدین تنظیم سے بڑی تعداد میں ڈاکٹر، ایم بی اے، انجینئر اور دیگر پیشہ وروں کو جوڑا گیا تھا۔ بینگلورو میں پچھلے دنوں پولیس کے ذریعے گرفتار کئے گئے لوگوں سے بھی اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے لیکن انڈین مجاہدین سے جڑے پیشہ وروں کے اس نیٹ ورک کے بارے میں بہت زیادہ معلومات خفیہ ایجنسیوں کو نہیں ہے۔ کچھ مہینے پہلے ممبئی کے 26/11 آتنکی حملوں کے چیف ابو جندال کو بھی سعودی عرب سے حوالے کروانے میں بھارت کو کامیابی ملی تھی۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو مغربی ایشیا کے عرب ممالک دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے نہیں رہ پائیں گے۔سعودی عرب اب آہستہ آہستہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تعاون دے رہا ہے اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سعودی عرب کے دشمنوں کو یہ لگ رہا ہے کہ اپنے دیش کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے دینے سے کئی خطرے ہیں۔ ایک تو اس سے عالمی برادری میں ساکھ خراب ہوتی ہے، دوسرے ایسے خطرناک آتنک وادیوں کا دیش میں بنا رہنا اس کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ بھلے ہی وہ امریکہ مخالف کسی واردات میں شامل ہوں یا نہ ہوں۔ مغربی ایشیا کے کئی ملکوں میں عوامی بغاوت میں کٹر پسندی یا آتنکی گروپوں کی حصہ داری بہت اہم رہی ہے اس لئے بھی سعودی عرب آتنک وادی رجحان والے لوگوں کو اپنے دیش میں رکھنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا یہ خوشی کی بات ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر آپسی تعاون بڑھ رہا ہے اور ایک ماحول تیار ہورہا ہے۔ مکینیکل انجینئر فصیح محمود کے بارے میں سکیورٹی ایجنسیاں جتنا اندازہ لگا رہی تھیں اس سے کہیں زیادہ اس سے پوچھ تاچھ میں خلاصے ہورہے ہیں۔ انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم نے تقریباً ایک سال پہلے فصیح کی کھل کر تعریف کی تھی۔ اس نے پاکستان میں لشکر چیف اور آئی ایس آئی سے کہا تھا کہ فصیح کا م کا بندہ ہے اور اسکی تعریف کی سب سے بڑی وجہ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ میں فصیح کا تیز طرار ہونا مانا گیا ہے۔ ابو جندال کے بعد فصیح محمود کی گرفتاری بھارت کی دہشت گردی مہم میں دوسرا بڑا کارنامہ ہے۔
(انل نریندر)

دگوجے نے کجریوال کو اور جارحانہ بننے کا موقعہ دیا


اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔ میری رائے میں کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ نے انڈیا اگینسٹ کرپشن کے اروند کیجریوال سے سیدھا سوال پوچھ کر ٹھیک نہیں کیا۔ بیشک انہوں نے جوابی حملہ کیا لیکن اس سے الٹا یوپی اے سرکار اور کانگریس لیڈرشپ کو ہی نقصان ہوسکتا ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ کانگریس پارٹی نے دگوجے کی اس مہم سے اپنے آپ کو الگ کرلیا ہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری و میڈیا محکمے کے چیئرمین جناردھن دویدی کا کہنا ہے کہ یہ سوال شری سنگھ نے اپنے سطح پر پوچھے ہیں اور اس سے پارٹی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہیں پارٹی کے دوسرے لیڈر بھی ان سوالوں کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے کیجریوال گھرنے کے بجائے زیادہ جارحانہ ہوجائیں گے۔ کیونکہ یہ سوال اتنے کمزور ہیں کہ اس سے جنتا میں یہ پیغام جائے گا کہ کانگریس اور اس کی لیڈر شپ والی سرکار کے لاکھ تلاشنے کے بعد بھی کیجریوال کے خلاف کچھ نہیں نکلا کیونکہ اگر کانگریس کے پاس کچھ مضبوط حقائق کیجریوال کے خلاف ہوتے تو دگوجے سنگھ کو ایسے سوالوں کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔ مثال کے طور پر دگوجے نے ایک سوال میں پوچھا ہے کہ اپنی سرکاری نوکری کے دوران کیجریوال 20 سال تک دہلی میں ہی کیوں ٹکے رہے؟ ان کا تبادلہ کیوں نہیں ہوا؟ اب یہ بات تو کوئی گاؤں کا دیہاتی بھی بتا دے گا کہ تبادلہ کرنا تو سرکار کے ہاتھ میں ہے اور پچھلے 15 برسوں سے دہلی میں اقتدار کانگریس کے پاس ہے اور مرکز میں بھی وہ8 سال سے راج کررہے ہیں تو سوال الٹا سرکار سے پوچھا جانا چاہئے کہ اس نے کیجریوال کا تبادلہ کیوں نہیں کیا؟ دگوجے کے کیجریوال سے سوال پوچھنے کا ایک نتیجہ یہ ضرور نکلا ہے کہ کیجریوال نے سبھی کو لپیٹ لیا ہے۔ کرپشن کو بے نقاب کرنے کی مہم میں لگے کیجریوال سے پنگا لیکر دگوجے نے خود اپنی پارٹی کے لئے بھی مصیبت مول لے لی ہے۔27 سوالوں کا تیر داغنے والے دگی راجہ کے خط پر ایتوار کو جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کیجریوال نے ایک چالاک کھلاڑی کی طرح گیند کانگریس کے پالے میں ڈال دی۔ خط کا جواب دینے کے بجائے کیجریوال نے منموہن سنگھ ، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، رابرٹ واڈرا سبھی کو اپنے نشانے پرلے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی رابرٹ واڈرا ،پردھان منتری سے کچھ سوال پوچھے ہیں پہلے انہیں ہمارے سوالوں کا جواب دینا چاہئے اس کے بعد ہم دگوجے کے سبھی سوالوں کا جواب دیں گے۔ اخباری نمائندے سے بات کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ میں دگوجے سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ واڈرا معاملے پر کھلی بحث کے لئے منموہن سنگھ ، سونیا گاندھی یا راہل گاندھی کو مشورہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کرپشن کے الزامات سے کانگریس اعلی کمان رابرٹ واڈرا جب خود کو بے داغ ثابت کردیں گے تبھی انڈین اگینسٹ کرپشن بھی ان کے خلاف اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دے گی۔ کیجریوال نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کیا دگوجے سنگھ اس بات کے لئے تیار ہیں کے ہم ایک دوسرے سے کھلے سوال پوچھیں اور جنتا بھی ہم دونوں فریق کانگریس اور ای اے سی سے نجی اور عوامی مسئلوں پر سوال پوچھنے کے لئے آزاد ہوں؟
(انل نریندر)

24 اکتوبر 2012

نوکرشاہ اب نیتاؤں کے دباؤ میں نہیںآئیں گے


ہریانہ کے سینئر آئی ایس افسر اشوک کھیمکا کو جس طرح سے پریشان کیا جارہا ہے اس سے افسر ناراض ہیں۔ بیورو کریسی اس دیش میں انتہائی طاقتور ہے اور اس کو نظرانداز کرنا سیاسی پارٹیوں اور حکومتوں کو کبھی کبھی بھاری پڑ سکتا ہے۔ سیاستداں اکثر اپنے الٹے سیدھے کام انہی افسروں کے ذریعے سے کراتے ہیں اور کسی بھی نیتا یا وزیر کی ساری پول اس کے سیکریٹریوں کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے جو گھوٹالوں کا پردہ فاش ہورہا ہے اس میں گھوٹالوں کی باریکیاں، حقائق تو افسر ہی لیک کررہے ہیں۔ اشوک کھیمکا نے دکھا دیا ہے کہ اگرافسرسیاستداں سے تعاون نہ کریں تو حکومتیں کتنی مشکلیں میں آسکتی ہیں اور جب کسی بھی گھوٹالے کا پردہ فاش ہوجاتا ہے یہ نیتا لوگ صرف اور صرف اپنا بچاؤ کرتے ہیں۔ افسر شاہوں کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم نے ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالوں میں دیکھا، کومن ویلتھ گیمس میں بھی دیکھا کے کس طرح سیاستدانوں کی توقعات کو پورا کرنے کے لئے افسروں کو مہینوں جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ افسر شاہی برادری کو سب سے پہلے اقتدار بدلنے کے اشاروں کا پتہ چل جاتا ہے۔ چناؤ سے پہلے انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ فلاں سرکار دوبارہ اقتدار میں نہیں آرہی ہے۔یہ حکومت کے ہر حکم کو ماننے سے کترانے لگتے ہیں اور اپنے ضمیر سے کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ مرکز میں یوپی اے سرکار کے بارے میں بھی دیش کی افسر برادری کو اب سرکار کے جانے کا احساس ہونے لگا ہے تبھی تو تمام اعلی افسران و پولیس افسران و خارجہ کے افسران کی انجمنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ لیڈروں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے چاہے بات حکمراں فریق کی ہو یا اپوزیشن کے لیڈر کی کیوں نہ ہو۔ یہ فیصلہ آل انڈیا سروس کے افسروں کی تینوں انجمنوں نے لیا ہے۔ تینوں انجمنوں کی تال میل کمیٹی کی سنیچر کو بھوپال میں ہوئی اس اہم میٹنگ میں ریزولیشن پاس کیا گیا۔سیاسی منصوبوں میں استعمال ہونے سے پہلے وہ بچیں گے۔ میٹنگ میںآئی ایس ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک میں تیزی سے بدل رہے سیاسی حالات سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کے نمائندوں کا دخل انتظامی کام میں اور بڑھے گا۔ آئی ایس افسر کسی ایک پارٹی کے بن کر پہلے بھی کام نہیں کرتے تھے لیکن اب اس طرف زیادہ توجہ دینی ہوگی کہ اگر حکمراں پارٹی سے جڑے لیڈر بھی افسروں کے ساتھ صحیح برتاؤ نہیں کرتے تو تینوں انجمنیں مل کر اس کی مخالفت کریں گی۔ اس ریزولیشن پر آئی اے ایس، آئی ایف ایس اور آئی پی ایس تینوں انجمنوں نے رضامندی دے دی ہے کہ آئی ایس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارون شرما نے اتنا ضرور کہا کہ ملازمت کے معاملوں پر بحث ہوئی یہ فیصلہ دیا کہ ہرتین ماہ میں اسی طرح کی تال میل کمیٹی کی میٹنگ ہوگی۔ کچھ ایجنڈا ہے جسے ابھی نہیں بتا سکتے۔
(انل نریندر)

جسٹس افتخار چودھری پاکستان کی سیاسی سمت بدلنا چاہتے ہیں


کسی بھی ملک میں کبھی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جو دیش کی سیاست کو بدلنے کی طاقت کا اظہارکرتا ہے۔ پختہ عزم سے وہ ایسے حوصلہ افزاء قدم اٹھاتا ہے جس سے دیش کی سیاست کو نئی سمت ملتی ہے۔ پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری اسی لائن میںآتے ہیں۔ انہوں نے محض پاکستان کی سپریم کورٹ کو اس کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کیا ہے بلکہ کئی ایسے معاملوں میں مداخلت کی ہے جنہیں پہلے کسی نے چھونے کی ہمت نہیں کی تھی۔ بیشک ان میں سے کچھ متنازعہ معاملے بھی ہوسکتے ہیں۔ تازہ معاملہ پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ برانچ آئی ایس آئی کی دیش کی سیاست میں مداخلت ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے جمعہ کو سرکار کے سابق فوج کے سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ اور سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کے خلاف 1990ء میں ہوئے انتخابات میں دھاندلی کے لئے سیاستدانوں کو لاکھوں روپے کی ادائیگی میں ان کے رول کے لئے قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی رہنمائی والی تین نکاتی ڈویژن بنچ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ فوج کو پاکستان کی سیاست میں دخل دینے کی عادت سے باز آنا چاہئے۔1996ء میں دائر ایک عرضی ایئر فورس کے ایک ریٹائرڈ ایئر مارشل نے دائر کی تھی۔ جسٹس چودھری نے کہا کہ اس طرح کے اداروں کی سیاست یا سیاسی سرگرمیوں ، سرکار کی تشکیل یا حکومتوں کے استحکام میں کوئی رول نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو کسی بھی صورت میں کسی خاص سیاسی پارٹی یا سیاستدانوں کی طرف جھکاؤ نہیں دکھانا چاہئے۔ حالانکہ ابھی یہ واضح نہیں ہوپایا کہ اس سسٹم سے فوج کے اختیارات محدود ہوں گے یا نہیں لیکن اس سے فوج عدالت کے درمیان ٹکراؤ کا اندیشہ ضرور بڑھ گیا ہے۔ اس معاملے میں چیف جسٹس کی ڈویژن بنچ نے سابق فوج کے سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق چیف اسد درانی کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات دئے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ 1990 ء میں عام چناؤ میں دھاندلی کے مقصد سے دونوں نے کروڑوں روپے بانٹ کر آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ ان کے قدموں سے دیش اور مسلح افواج کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ دیش کی سیاسی تاریخ کو بدل سکتا ہے۔ انگریزی اخبار’ ڈان‘ کے مطابق یہ فیصلہ صدر کے دفترمیں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کرسکتا ہے۔ ایک اور انگریزی اخبار’دی نیوز‘ نے خبر دی ہے کہ سپریم کورٹ کے سسٹم نے زرداری کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بنے رہنے یا اپنی سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ناممکن بنا دیا ہے۔ اپنے فیصلے میں بنچ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا صدارتی محل آئی ایس آئی، فوجی خفیہ یا خفیہ بیورو میں کام کررہی کسی بھی سیاسی یونٹ کو فوراً بند کردیا جائے کیونکہ ایسی کوئی بھی انجمن غیر آئینی ہے۔ بنچ کا کہنا ہے ایسی کسی یونٹ کی تشکیل کے لئے جاری کوئی بھی نوٹی فکیشن ناقابل تسلیم ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے پاک فوج کیا اس فیصلے پر عمل کرے گی؟
(انل نریندر)

23 اکتوبر 2012

سبھاش پارک میں ناجائز تعمیرات پر ہائی کورٹ کا ہمت افزاء و لائق تحسین فیصلہ


دہلی ہائی کورٹ کی اسپیشل بنچ جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس ایم ایل مہتہ اور جسٹس راجیو شکدھر نے جمعہ کو ایک افزاء فیصلہ دیا۔ معاملہ تھا دہلی کے سبھاش پارک میں ناجائز مسجد بنانے کا۔ قابل غور ہے کہ میٹرولائن بچھانے کے دورن سبھاش پارک میں ایک دیوار ملی تھی جسے ایک فرقے نے مبینہ طور سے اکبری آبادی مسجد کے باقیات قرار دیتے ہوئے وہاں راتوں رات تعمیر شروع کردی۔ اس مسئلے کو لیکر کچھ تنظیم دہلی ہائی کورٹ پہنچی اور اس ناجائز تعمیرات کو ہٹانے کی درخواست کی۔ ہائی کورٹ نے 30 جولائی کو پولیس کو یہ ناجائز تعمیرات ہٹانے کے لئے ایم سی ڈی کو فورس دستیاب کرانے کی ہدایت دی تھی لیکن ایم سی ڈی نے 31 جولائی کو ہی پولیس کو خط لکھ کر فورس دینے کی درخواست کی تاکہ عدالت کے حکم کی تعمیل ہوسکے۔ پولیس نے درخواست دے کر دلیل رکھی کہ رمضان، یومیہ آزادی کی تیاریوں کی وجہ سے پولیس فورس مصروف ہے اس لئے ایسے میں فورس مہیا کرانا ممکن نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ ان کی نظر میں پولیس کی ڈیوٹی ہے کہ وہ امن و قانون کی صورتحال بنائے رکھے اور کوئی بھی قانون نہ ٹوٹے۔ اتنا ہی نہیں پولیس نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ ناجائز مسجد گرانے کے لئے ممبر اسمبلی شعیب اقبال کو ہدایت جاری کی جائے۔ عدالت نے پولیس کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہا کہ پولیس معاملے میں ضروری فورس ایم سی ڈی کو مہیا کرائے اور یہ کارروائی جلدی کی جائے۔ ادھر مقامی ممبر اسمبلی شعیب اقبال نے عرضی دائر کرکے اے ایس آئی کے کام کا معائنہ کرنے کے لئے ایک ماہرین کی کمیٹی بنانے کی بات کہی۔ اس پر عدالت نے کہا عرضی کے ذریعے ممبر اسمبلی نے ایک بار پھر معاملے کو لمبا کھینچنے کی کوشش کی۔ عدالت اپنے 30جولائی کے حکم میں ان معاملوں پر پہلے ہی غور کرچکی ہے۔ اے ایس آئی پورے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔یہ ایک تکنیکی کام ہے اور اس پر نہ تو شبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔ شعیب اقبال کی عرضی خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں ماہرین کمیٹی یا لوکل کونسلر مقرر کئے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس معاملے میں عرضی گذار اے ایس آئی کے اوم جی کے ذریعے ان پر حملے کو لیکر سکیورٹی سسٹم کی مانگ معاملے کا نپٹارہ کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ دہلی پولیس عرضی گذار کی مانگ پر غور کرتے ہوئے اس پر مناسب کارروائی کرے۔ عدالت نے صاف کہا اے ایس آئی کے ذریعے اس جگہ کے سلسلے میں 17 جولائی کو جاری نوٹس کے تحت کارروائی کی جائے۔ اے ایس آئی نے اپنے نوٹس میں صاف طور سے کہا تھا کہ لال قلعہ، سنہری مسجد ایک محفوظ زون ہے اور اس کے آس پاس کسی بھی طرح کی تعمیر یا مرمت وغیرہ ممنوع ہے۔ سبھاش پارک میں ہوئی تعمیراسی زون میں آتی ہے اور اسے 15 دن میں ہٹایا جائے۔ اتنا ہی نہیں تعمیر کرنے والوں کے خلاف معاملہ درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔ آخر میں بنچ نے یہ بھی کہا کہ پوری متنازعہ جگہ سیل بند ہے اور وہاں کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہئے۔ بنچ نے صاف کیا کہ اگر اس جگہ پر سروے میں مسجد ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ جگہ بھی ایک تحفظاتی عمارت مانی جائے گی ایسے میں وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہم ہائی کورٹ کی بنچ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس ہمت افزاء فیصلے کی تعریف کرتے ہیں۔ سوال ایک ناجائز تعمیرات کا نہیں بلکہ قانون کی دھجیاں اڑانے کا ہے۔ ایسے راتوں رات کئی پوجا مقامات کھڑے ہوجائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو ہمت ہائی کورٹ کی بنچ نے دکھائی ہے کیا دہلی پولیس بھی ویسا ہی حوصلہ دکھائے گی؟
(انل نریندر)

اور اب کیجریوال اور ٹیم ہی کٹہرے میں کھڑی


دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے اروند کیجریوال نے جب اپنی گھوٹالے بازوں کا پردہ فاش کرنے کی مہم شروع کی تو انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ان پر بھی جوابی حملے ہوسکتے ہیں اور وہ بھی کٹہرے میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔ الزام درالزام کے اس دور میں اب کیجریوال کی ٹیم بھی نشانے پر آگئی ہے۔ گھوٹالوں کی پول کھولنے والوں میں کیجریوال کے ساتھ ساتھ ان کی ٹیم کا بہت بڑا رول رہا ہے۔ گھوٹالوں کی پول کھول مہم خاص طور پر انڈیا اگینسٹ کرپشن کے سپہ سالارہیں۔ کانگریس، این سی پی، بھاجپا سبھی پر ٹیم نے حملہ بولا ہے۔ اب ٹیم کیجریوال کے اس مہم کے لئے سیاسی پارٹیاں بھی جوابی کارروائی کرنے پر اتر آئی ہیں۔ کانگریس کے سکریٹری جنرل اور بڑبولے لیڈر دگوجے سنگھ نے سنیچر کو خود اروند کیجریوال پر ہی حملہ بول دیا اور ان پر27 سوال داغ دئے۔ سوال کیجری کی نوکری، این جی او اور تحریک سے جڑے ہیں۔ انہوں نے کچھ نجی سوال بھی پوچھے ہیں۔ حالانکہ اروند کیجریوال نے دگوجے سنگھ کے اس سوالنامے کا جواب تو نہیں دیا لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کانگریس نے کیجریوال کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ ٹیم کیجریوال کی ایک مشہور رضاکار انجلی دامانیہ انہوں نے کیجریوال کے ساتھ بھاجپا صدر نتن گڈکری پر تمام الزام لگائے۔ انجلی دامانیہ پر اب خود الزام لگ گئے ہیں اور یہ بھی سنگین ظاہرہوتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے2007ء میں کسان کی حیثیت سے ودربھ علاقے میں 7 ایکڑ زمین خریدی تھی اس کا بعد میں لینڈ یوز بدل کرانہوں نے بھاری کمائی کی۔ انہوں نے اپنے آپ کو کسان ہونے کا غلط دعوی کیا جبکہ دامانیہ نے ہی این سی پی کے لیڈر اجیت پوار اور گڈکری کو تمام الزاموں کے لئے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ ٹیم کیجریوال کے دوسرے ممبر پرشانت بھوشن جو پیشے سے وکیل ہیں، ان پر الزام ہے کہ وہ اپنی بیوی کے نام پر جو ٹرسٹ چلا رہے ہیں اس میں ہماچل میں قاعدوں کو بالائے طاق رکھ کر زمین حاصل کی ہے۔ ان کے والد شانتی بھوشن پر یوپی سرکار سے نوئیڈا میں سستی شرحوں پر فارم ہاؤس اور الہ آباد میں کم ڈیوٹی اسٹامپ دے کر ایک گھر خریدنے کا الزام ہے۔ ایک دوسرے ممبر مینک گاندھی انڈیا اگینسٹ کرپشن کی ممبئی شاخ کے چیف ہیں،ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے چچاکی کنسٹرکشن کمپنی کو جنوبی ممبئی میں زمین دلانے میں مددکی۔ مہاراشٹر سرکار کوتاہیوں کے نتیجے میں زمین کے اس سودے کو منسوخ کرچکی ہے۔ ان الزامات کے چلتے خود ٹیم کیجریوال کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ فی الحال بچاؤ کے لئے کیجریوال نے پرشانت، مینک اور انجلی پر لگے الزامات کی جانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان الزامات کی جانچ پڑتال ہائی کورٹ کے تین ریٹائرڈ جسٹس اے پی شاہ، جسٹس وی ایم ملی پلّی اور جسٹس جسپال کریں گے۔ یہ تینوں جج کیجریوال کی نئی پارٹی کے معاملوں کے لئے لوک پال کا کردار بھی نبھائیں گے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اروند کیجریوال اپنے اور اپنی ٹیم پر لگے الزامات کی سیاہی کتنی جلدی مٹا پائیں گے؟ پھر کیجریوال پر حملے تو اب شروع ہوگئے ہیں ان کی رفتار اور دھار اور تیزی سے بڑھے گی۔
(انل نریندر)

21 اکتوبر 2012

اور اب شرد پوارو منموہن سنگھ کی باری


چاروں طرف سے حملوں سے گھرتی یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی کو کوئی امید کی کرن فی الحال نظر تو نہیں آرہی ہے۔ تازہ حملہ کانگریس کی یوپی اے سرکار کو حمایت دے رہی این سی پی کے چیف شرد پوار پر ہواہے۔ ایک سابق آئی پی ایس افسر و اروندکیجریوال کے ساتھی رہے وائی پی سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مہاراشٹر کے لواسا پروجیکٹ میں گڑ بڑی کرنے میں مرکزی وزیر شرد پوار کا پورا خاندان شامل ہے۔مسٹر سنگھ مہاراشٹر کیڈر کے1985ء بیچ کے افسر رہے ہیں۔ وہ فی الحال وکالت کررہے ہیں، کا دعوی ہے کہ 2002ء میں 348 ایکڑ زمین لیک سٹی کارپوریشن کو30سال کے لئے پٹے پر دی گئی۔ یہ کمپنی ہندوستان کنسٹرکشن کی معاون کمپنی ہے۔ زمین الاٹ کرنے کا کام شرد پوار کے بھتیجے اور مہاراشٹر کے اس وقت کے وزیر آب پاشی اجیت پوار نے کیا تھا۔ پوری زمین لواسا کو 23 ہزار روپے فی ایکڑ ماہانہ کے حساب سے 30 سال کے لئے پٹے پر دی گئی۔ جب زمین ٹرانسفر کی گئی تو پوار کی بیٹی سپریہ اور ان کے شوہر سدانند کو لواسا لیک سٹی کو 10.4 فیصدی شیئر ملے۔2006ء میں سپریہ اور سدانند نے اپنے20.8 فیصد شیئر بیچ دئے۔ اس حساب سے سپریہ کو اپنے حصے کے 10.4 فیصد شیئر بیچنے کے لئے ان کو500 کروڑ روپے ملے۔ شرد پوار نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور سرے سے مسترد کردیا ہے۔ معاملہ عدالت میں چل رہا ہے ۔ امید ہے کہ عدالت میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ دوسرا معاملہ خود وزیر اعظم کو لیکر ہے۔ یہ معاملہ گھوٹالوں کا تو نہیں لیکن الزام انتہائی سنگین ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے سابق کیبنٹ سکریٹری کے این چندرشیکھر نے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ کررہی جے پی سی کے سامنے پیش ہوکر منموہن سنگھ کو ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو انہوں نے بازار قیمت 35 ہزار کروڑ روپے پراسپیکٹرم نیلامی کی صلاح دی تھی۔ وزیر اعظم نے اس صلاح کو نظرانداز کردیا۔ چندر شیکھر نے خلاصہ کیا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اسپیکٹرم الاٹمنٹ کو اینٹری فیس بازار کے دام پر دینے کی سفارش کی تھی اگر ان کی یہ رائے مانی گئی ہوتی تو دیش کے خزانے کو کئی ہزار کروڑ روپے کا منافع ہوتا۔ سابق کیبنٹ سکریٹری کے ذریعے تجویز الاٹمنٹ کی قیمت سے قریب21 گنا زیادہ ہے۔ یہ ہی نہیں چندر شیکھر نے جے پی سی میں یہ بھی کہا کہ 2008ء میں اسپیکٹرم کی نیلامی یقینی بنانے میں ناکامی کیلئے پی چدمبرم بھی ذمہ دار تھے۔ 2011ء کے متنازعہ نوٹ کے پیچھے اس وقت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کا کردار تھا۔ پی ایم او کو وزارت مالیات کے ذریعے بھیجے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ الاٹمنٹ کے وقت وزیر خزانہ پی چدمبرم’ پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کی پالیسی کے بجائے نیلامی کی کارروائی اپنانے پر زور دے سکتے تھے۔ چندر شیکھر کی تحریری سفارش کو نظرانداز کرنے کا دیش کو بہت بھاری نقصان ہوا ہے۔ ان کی سفارش نہ ماننے سے سرکار کے خزانے کو 1 لاکھ76 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کیا وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ اس کے لئے براہ راست ذمہ دار نہیں ہیں؟ کیبنٹ سکریٹری کو دیش کے افسر میں سب سے سینئر مانا جاتا ہے اگر وہ ایسا سنگین الزام لگائے تو اس کا دیش جواب چاہتا ہے۔ محض تردید کرنے ، صفائی دینے سے بات نہیں بنے گی۔ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو دیش کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جو الزام چندر شیکھر لگا رہے ہیں وہ غلط ہیں اور غلط کیوں ہیں ۔ اپنی دلیلوں کو ثابت کرنے کے لئے انہیں دستاویزی ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔ ویسے تو یہ معاملہ عدالت میں چل رہا ہے۔ عدالت شری چندر شیکھر کے بیان کو سنجیدگی سے لے گی اور مناسب کارروائی کرے گی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے جو الزام اپوزیشن وزیر اعظم، وزیر خزانہ پر لگاتی آئی ہے وہ صحیح ہیں۔
(انل نریندر)

ڈی ایل ایف کو پیمنٹ کیلئے واڈرا کے پاس 7.94 کروڑ کہاں سے آئے؟


رابرٹ واڈرا ڈی ایل ایف کی ایک متنازعہ سودے بازی دن بدن نئے سوال کھڑے کررہی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس زمین کے سودے پر نہ تو رابرٹ واڈرا اور نہ ہی ڈی ایل ایف کے ذریعے کوئی تشفی بخش جواب آیا ہے۔ نیا انکشاف کارپوریشن بینک کی طرف سے آیا ہے۔ خیال رہے کہ رابرٹ واڈرا کی کمپنی اسکائی لائٹ نے کمپنی رجسٹرار کے سامنے مالی سال 2007-08 کی آڈٹ رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ کارپوریشن بینک کی دہلی میں واقع نیو فرینڈس کالونی برانچ نے کمپنی کو اوور ڈرافٹ سہولت فراہم کی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں رابرٹ واڈرا اور ان کی ماں ایم واڈرا کے دستخط ہیں۔ یعنی کارپوریشن بینک کے اوور ڈرافٹ اکاؤنٹ سے اسکائی لائٹ کمپنی نے 7.94 کروڑ روپے نکالے اور اس سے ڈی ایل ایف کو پیسہ دیا گیا۔ جمعہ کو کارپوریشن بینک کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر اجے کمار نے بھی اس بات پر مہر لگادی کہ ان کے بینک نے واڈرا کی کمپنی کو کوئی قرضہ یا اوور ڈرافٹ کی سہولت فراہم نہیں کی ہے۔ اجے کمار کے بیان کے بعد یہ سوال مزید سنگین ہوجاتا ہے کہ آخر رابرٹ واڈرا کے پاس 7.94 کروڑروپے کی وہ کثیر رقم کہاں سے آئی جو انہوں نے اپنی کمپنی کی بیلنس شیٹ میں اوور ڈرافٹ کے ذریعے ملی ہوئی دکھائی ہے؟ اجے کمار نے احمد آباد کے پرہلاد نگر میں بینک کی برانچ کے افتتاح کے بعد اخباری نمائندوں کو بتایا واڈرا اور ڈی ایل ایف سودے بازی سے ان کے بینک کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ واڈرا کو 7.94 کروڑ روپے کے اوور ڈرافٹ کی سہولت کے بارے میں بتایا جا چکا ہے۔ بینک نے واڈرا کی ملکیت والی کمپنی اسکائی لائٹ ہاسپٹیلٹی کو کوئی قرضہ یا اوور ڈرافٹ نہیں دیا۔ اس بارے میں میڈیا میں جو کچھ چھپ رہا ہے اسے غور سے دیکھیں تو پتہ چل جائے گا یہ صرف کمپنی کی آڈٹ رپورٹ ہے۔ ویسے یہ ایک عجب اتفاق ہے کہ واڈرا ، سلمان خورشید اور نتن گڈکری کا ناک میں دم کرنے والے اروند کیجریوال اور ہریانہ کے آئی ایس افسر اشوک کھیمکا دونوں ہی آئی آئی ٹی کھڑکپور کے طالبعلم رہے ہیں۔ اروندکیجریوال بنیادی طور سے ہریانہ کے حصار کے باشندے ہیں۔ اشوک کھیمکا بنگال کے رہنے والے ہیں لیکن ہریانہ کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں دونوں نے آئی آئی ٹی کھڑکپور سے بی ٹیک کیا۔ کرپشن کے خلاف مہم چلا رہے کیجریوال اور کھیمکا کی پڑھائی میں ایک سال کا فرق تھا۔ کھیمکا ان کے سینئر ہیں۔ 7 اپریل 1965 ء کو مغربی بنگال میں پیدا کھیمکا نے 1988 میں آئی آئی ٹی سے بی ٹیک پاس کیا۔ اس کے علاوہ ایم بی اے اور کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی ہیں۔ کیجریوال نے کھڑکپور سے1989ء میں بی ٹیک کیا دونوں کے اشو اور مہم میں ایک جیسا نتیجہ ہے۔ اروند کیجریوال نے کھیمکا کے تبادلے پر ریاستی سرکار سے پوچھا کہ وہ اپنے تبادلے کی پالیسی بتائے۔ کیا واڈرا کے خلاف جانچ کا حکم دینے پر کھیمکا کا تبادلہ کیا گیا؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...