Translater

23 جولائی 2011

کیش فار ووٹ معاملے میں سہیل ہندوستانی کی گرفتاری اہم


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 23th July 2011
انل نریندر
سپریم کورٹ کی سختی کے بعد نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بدھ کے روز اس معاملے میں اہم رول نبھانے والے سہیل ہندوستانی کو گرفتار کرلیا۔ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ورکر رہ چکے سہیل اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس نے سنجیو سکسینہ کے ساتھ مل کر تین بھاجپا ایم پی کو رشوت دینے میں اہم کردار نبھایا تھا۔ کرائم برانچ نے سہیل ہندوستانی کو بدھوار کی صبح پوچھ تاچھ کے لئے بلایا تھا۔ تقریباً 7 گھنٹے تک چلی اس پوچھ تاچھ کے بعد اسے حراست میں لیا گیا۔ سہیل کے رویئے سے پولیس افسران بھی حیران ہیں۔ دراصل اس نے پولیس کے ہر سوال کا حاضری جوابی کے انداز میں جواب دیا۔ اس دوران اس کے چہرے پر کوئی شکن نہیں تھی۔ کرائم برانچ کے ایک افسر نے بتایا کہ ایک گلدستہ لے کر کرائم برانچ کے دفتر میں پہنچے سہیل نے اپنے خاندانی پس منظر اور اس کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ راجستھان کے ٹونک ضلع سے 15 برس پہلے جن پتھ ہوٹل میں آکر رکا تھا۔ اس کے بعد اس نے موتیوں کا کاروبار شروع کیا۔ اس دوران اس کا رابطہ کئی بڑ ے لوگوں و نیتاؤں سے ہوا۔ اسی کے چلتے وہ کچھ برس پہلے بھاجپا کے یوا مورچہ میں شامل ہوا۔ اس کے بعد اس نے پارٹی میں کافی اچھی پکڑ بنا لی۔ پوچھ تاچھ کے لئے جانے سے پہلے سہیل نے کیش فار ووٹ معاملے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ و سونیا گاندھی کا نام لیکر انہیں بھی اس معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔ سہیل نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ مجھے امر سنگھ اور احمد پٹیل (سونیا گاندھی کے سیاسی سکریٹری) کے فون آئے تھے۔ وزیر اعظم کے قریبی لوگوں سے اور 10 جن پتھ سے بھی مجھے فون آئے۔ لیکن سہیل نے فون کرنے والوں کے نام نہیں بتائے۔ پوچھ تاچھ میں یہ دعوی کیا کہ اس کا رول اعتماد کے ووٹ کے دوران بی جے پی ایم پی کی خریدو فروخت کی کوشش کا پردہ فاش کرنے تک ہی محدود تھا۔ سہیل ہندوستانی کا اصلی نام سہیل احمد ہے۔ اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سیاست کے گلیاروں میں لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ سابقہ راجستھان سرکار کے کچھ سیاستدانوں سے بھی اس کے اچھے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں سہیل کی اچھی پکڑ بتائی جاتی ہے۔ سہیل کی گرفتاری کے بعد اب اس معاملے میں سماج وادی پارٹی کے سابق سکریٹری جنرل امر سنگھ پر گاج گر سکتی ہے۔ اور تازہ واقع میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے امر سنگھ سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ وزارت داخلہ نے دہلی پولیس کو امر سنگھ سمیت دو موجودہ اور دو سابق ممبران پارلیمنٹ سے پوچھ تاچھ کی اجازت دے دی تھی۔ وزارت نے یہ فیصلہ بدھوار کی دیر شام وزیر داخلہ پی چدمبرم سے پولیس کمشنر بی کے گپتا کی ملاقات کے بعد کیا ہے۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا امر سنگھ کے علاوہ سماجوادی پارٹی کے ایم پی ریوتی رمن سنگھ اور بھاجپا کے سابق ایم پی چھگن سنگھ کلستے اور مہاویر بھگوٹاسے بھی اس معاملے میں پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ سہیل نے بتایا تھا کہ امر سنگھ اور احمد پٹیل نے سرکار بچانے کے لئے ان سے رابطہ قائم کیا تھا۔ ان لوگوں نے ان بھاجپا ممبران پارلیمنٹ کی خریدوفروخت کرنے میں مدد کرنے کو کہا تھا جو کمزور یا مجبوری میں پھنسے ہوئے ہوں اور جن کے خلاف کوئی مقدمہ چل رہا ہو۔ اس کے عوض میں ان ممبران پارلیمنٹ کو پانچ کروڑ روپے دئے جائیں گے۔ سرکار بچانے کے عمل میں اس سے کن لوگوں نے رابطہ قائم کیا تھا اس کی پوری تفصیل مل جائے گی۔ اس کے لئے اس کے فون کال ریکارڈ کی جانچ کی جاسکتی ہے۔ پولیس کو اس معاملے میں امر سنگھ کے ڈرائیور سنجے سنگھ کی بھی تلاش ہے جو اب تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین اور نائب صدر حامد انصاری نے دہلی پولیس کو کیش فار ووٹ معاملے میں جانچ آگے بڑھانے میں ممبران پارلیمنٹ سے ممکنہ پوچھ تاچھ کی اجازت دے دی ہے۔ سیاستدانوں، اقتدار کے گلیاروں اور نامی گرامی ہستیوں کے ارد گرد گھوم کر خدمات دینے میں ماہر سہیل ہندوستانی کی گرفتاری کے بعد اب کئی لیڈروں کو مصیبتیں بڑھ سکتی ہیں، این ڈی اے حکومت کے وقت وزیر اعظم کے دفتر میں خدمات دینے اور بعد میں بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کے قریبی مانے جانے والے سدھیندر کلکرنی تک اس کی عام پہنچ تھی۔حالانکہ بھاجپا ترجمانوں نے ابھی اس پر کوئی رد عمل تک ظاہر نہیں کیا ہے۔ لیکن اگر یہ معاملہ آگے بڑھتا ہے تو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اس مسئلے کا طول پکڑنا یقینی ہے۔ فی الحال بھاجپا اس معاملے کی جانچ اور قصورواروں کو سزا دینے کے بیان تک ہی محدود ہے۔ سہیل ہندوستانی کے ذریعے 12 اگست 2008 کو اس وقت کے لوک سبھا اسپیکر کو لکھے خط کے مطابق اس نے سدھیندر کلکرنی کے ذریعے رکھی گئی تجویز کو مان کر پارلیمنٹ کی مبینہ خریدو فروخت اجاگر کرنے میں تعاون دیا تھا۔ اس کے مطابق کانگریس کے بڑے نیتاؤں کے اشاروں پر سرکار بچانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ خط میں بتایا گیا ہے کہ اس کے لئے انڈیا اسلامک سینٹر میں سہیل ہندوستانی نے پہلے سپا کے اس وقت کے ایم پی ادے پرتاپ سنگھ سے رابطہ قائم کیا ، پھر انہیں اپنے پاس اپوزیشن کے ممبران کی فہرست ہونے کی جانکاری دی۔ اور ادے نے اس کے لئے سپا ایم پی کنور ریوتی رمن سنگھ اور راجیہ سبھا میں سپا کے اس وقت کے قومی جنرل سکریٹری امر سنگھ سے رابطہ قائم کرنے کی صلاح دی۔ جاتے جاتے ادے سہیل کا نمبر بھی لیتے گئے۔ اس سے پہلے سہیل ہریانہ کیڈر کے آئی اے ایس افسر اور وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کے قریبی ایس پی گپتا سے ملا تھا۔ خط کے مطابق گپتا کو بھی سہیل ہندوستانی نے اپوزیشن کے بکاؤ ممبران کی فہرست ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔ گپتا نے بھی اس کے بارے میں انہیں وزیر اعلی ہڈا اور کانگریسی لیڈروں سے ملانے کی یقین دہانی کرائی ۔ سمجھا جارہا ہے کہ اس معاملے کودہلی پولیس اور عدالت کے سامنے رکھ کر سہیل ہندوستانی سیاست میں بڑا بھونچال لا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق راجیہ سبھا کے چیئر مین اور لوک سبھا کے اسپیکر دونوں میں دہلی پولیس کو کیش فار ووٹ معاملے کی جانچ آگے بڑھانے کی ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ اس سے صاف ہے کہ آنے والے وقت میں سپا کے ایم پی ریوتی رمن سنگھ اور سابق سکریٹری جنرل امر سنگھ کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ اس معاملے میں ابھی بھاجپا ، لیفٹ پارٹی ، جنتا دل (یو) سمیت دیگر پارٹیاں پولیس کی جانچ پر پوری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ایک بار پھر ’’کیش فار ووٹ‘‘ معاملے کی گونج سنائی دینے کے آثار ہیں۔ اس معاملے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی پہلے سے گرتی ساکھ اور گرنے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن سارا دارومدار دہلی پولیس کی جانچ اور عدالتوں کے رویئے پر منحصر کرتا ہے۔

22 جولائی 2011

ہلیری کلنٹن کاکامیاب بھارت دورہ؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 22nd July 2011
انل نریندر
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا بھارت دورہ امریکی نقطہ نظر سے بہت کامیاب رہا ہے۔ ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی امریکہ نے ہندوستان کو پاکستان اسپانسر دہشت گرد ی پر ہمدردی کے کچھ لفظ کہہ کر اپنا پلا جھاڑ لیا۔ ہلیری کلنٹن کا دورہ ممبئی تازہ بم دھماکوں کے فوراً بعد ہوا ہے اس لئے بھی بھارت کے پاس پاک اسپانسر دہشت گردی کو ختم کرنے پر امریکہ کی کھلی حمایت پانا ضروری تھا، وقت بھی تھا لیکن پاکستان امریکہ کی مجبوری ہے۔آج بھی وہ پاکستان پر کچھ حد تک منحصر ہے۔ جب تک امریکہ افغانستان میں موجود ہے تب تک امریکہ پاکستان سے نہیں بگاڑے گا۔ یونہی لڑتا جھگڑتا رہے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان نوٹنکی جاری رہے گی۔ وقت کی پکار تھی کے ہلیری پاکستان کو سخت پیغام دیتیں لیکن دہشت گردی پر کڑک مزاجی دکھا رہا امریکہ دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہوں کو لیکر سنبھل کر بات کرتا نظر آیا۔ بھارت دورے پر تشریف لائیں ہلیری کلنٹن نے منگل کے روز کہا تھا کہ پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھانے کے لئے جتنا ممکن ہوسکا اتنا دباؤ بنایا جائے گا۔ لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ حیدر آباد ہاؤس میں ہلیری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے کی یقین دہانی تو کرائی وہیں یہ کہنے سے بھی نہیں چوکیں کہ اس لڑائی میں پاکستان بھی امریکہ کا اہم ساتھی ہے۔ امریکہ بھارت پر پاکستان سے امن مذاکرات جاری رکھنے کا اکثر دباؤ بناتا رہتا ہے۔ اس کے نقطہ نظر سے ہلیری نے یہ کہہ کر کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری بات چیت سے ہم خوش ہیں، امریکی موقف میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اہم ساتھی ہے۔ دہشت گردوں نے مسجدوں ، سرکاری عمارتوں پر حملہ کرکے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو موت کی نیند سلایا ہے۔ یہ دلیل دے کر کلنٹن نے بھارت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ امریکہ کا دوہرا چہرہ ایک بار پھر بھارت کے سامنے آگیا ہے۔ وہ دوہرے پیمانے رکھتا ہے۔ اس کے لئے ان کے اپنے مفادات بالاتر ہیں۔ امریکہ نے سول ایٹمی معاہدے کو پوری طرح لاگو کرنے کی یقین دہانی کے ذریعے ہندوستان کو بھلے ہی راحت دینے کی کوشش کی ہے لیکن نیوکلیائی حادثہ قانون پر اختلافات کے اشارے بھی دے دئے ہیں۔ ہلیری نے منگل کو کہا کہ بھارت کے ساتھ سول ایٹمی معاہدے کو مکمل طور سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ لیکن ایٹمی حادثے سے ہونے والے نقصان کی تکمیل کے معاملے میں بھارت کو اپنے قانون کو بین الاقوامی قواعد کے مطابق کھرا اتارنا ہوگا۔ ہلیری نے کہا کہ بھارت کو اپنے معاوضے قانون کو بین الاقوامی قواعد کے مطابق کرنے کیلئے یو این کنونشن کی تصدیق کی خانہ پوری کرنی ہوگی۔
گذشتہ روز ہلیری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان سے ممبئی حملے کے سازشیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ کہنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی کہ پاکستان کے سلسلے میں امریکہ اور بھارت کیا کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک حد ہوتی ہے، اس کا سیدھا مطلب ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان پر اس کے لئے دباؤ بنانے کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتابلکہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی سرگرمیوں پر روک لگائے اور بھارت مخالف سرگرمیوں کو ترک کرے۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاک اسپانسر دہشت گردی کی لڑائی میں امریکہ بھارت کا ساتھ دے گا تو وہ غلط فہمی میں ہے اور ہلیری نے اسے صاف کردیا ہے کہ ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی پڑے گی۔بیشک پاکستانی فوج اپنے مغربی حصے میں طالبان سے لڑنے کی نوٹنکی کر رہی ہو لیکن مشرقی حصے میں تو اس کی مدد سے دہشت گردی کے کیمپ چل رہے ہیں۔ بھارت پر حملے کئے جاتے ہیں، کیا امریکہ کو اس کی جانکاری نہیں ہے؟ سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ انجان بن جاتا ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ اس کے سامنے اس کے اپنے باہمی مفادات ترجیح رکھتے ہیں۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں پاکستان، بھارت کے خلاف کیا کرتا ہے؟ امریکہ کے اس رویئے سے بار بار باآور ہونے کے باوجود یہ ہی موقف رہا ہے کہ بھارت ان دہشت گردی کے اڈوں کو تباہ نہ کرے۔ اگر امریکہ کا دباؤ نہ ہوتا تو شاید اب تک بھارت کم سے کم کچھ دہشت گرد کیمپوں پر سرجیکل اسٹرائک کر ہی دیتا۔ کب تک بھارتیہ لیڈر یہ امید پالے رکھیں گے کہ پاکستان کی آتنک وادی پالیسیوں پر امریکہ ہماری حمایت کرے گا؟ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ بھارت کی پاکستان کے تئیں پالیسی آخر کیا ہے؟ کبھی اس کو گالی دیتا ہے تو کبھی دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے؟ کیا یہ محض اپنے امریکی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ہوتا ہے ۔ امریکہ کی ترجیحات واضح ہیں۔ ہمیں اپنی پوزیشن سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنی جلدی یہ بات ہندوستانی لیڈروں کو سمجھ میں آجائے اتنا ہی دیش کے لئے اچھا ہوگا۔ کل ملاکر ہلیری کلنٹن کا دورۂ بھارت امریکی نقطہ نظر سے کامیاب رہا ہے اور بھارت کو ایک بار پھر جھنجھنا تھما دیا گیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, America, Hillary Clinton, India, Pakistan, Terrorist,

گورکھا مسئلے کا حل ایک نئی سمت فراہم کر سکتا ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 22th July 2011
انل نریندر
مغربی بنگال حکومت، مرکزی حکومت اور گورکھا جن مکتی مورچہ کے درمیان ہوا سمجھوتہ دارجلنگ علاقے میں بحالی امن کا ایک تاریخی قدم ہے۔ لیفٹ فرنٹ نے اس علاقے سے کبھی انصاف نہیں کیا اور ہمیشہ اسے کچلنے کی ہی کوشش کی لیکن ممتا بنرجی نے اقتدار سنبھالتے ہی پہاڑی خطے کے اس پیچیدہ مسئلے کو سلجھا دیا ہے۔ یقینی طور سے یہ ان کا لائق تحسین کارنامہ ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مشکل سیاسی چیلنج کا فوری طور پرحل نکالنے میں جو کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی قابلیت کا ایک ثبوت دیا ہے۔ گورکھا لوگوں کے لئے الگ ریاست کی مانگ تین دہائیوں سے مغربی بنگال کی سیاست میں اتھل پتھل مچاتی رہی ہے لیکن الگ ریاست کے لئے مغربی بنگال کا بٹوارہ ایسا حساس مسئلہ تھا جسے کسی میں چھونے کی ہمت نہیں تھی۔ 23 سال پہلے ایسا ہی ایک سمجھوتہ اس وقت کے گورکھا مکتی مورچہ کے ساتھ ہوا تھا جس میں دارجلنگ گورکھا پہاڑی کونسل بنائی گئی تھی اور سبھاش گھیشنگ کو اس کا لیڈر بنایا گیا تھا۔ حالانکہ یہ بھی ایک مختار کونسل تھی اور اس میں دارجلنگ ،کلنگ پونگ اور کرسیانگ کے علاقے شامل کئے گئے تھے لیکن اس کے اختیارات محدود تھے۔ لیفٹ فرنٹ نے اس 42 نفری کونسل میں ایک تہائی ممبروں کو نامزد کرنے کا حق اپنے پاس رکھ لیا تھا جسے لیکر کھینچ تان رہتی تھی۔ ممتا بنرجی نے نئے سسٹم کو گورکھا لینڈ علاقائی انتظامیہ کا نام دیکر گورکھالوگوں کے جذبات کو کافی حد تک مطمئن کیا ہے۔ اس وقت عارضی طور پر اس میں وہی علاقے رکھے گئے ہیں جو سبھاش گھیشنگ کی پہلی کونسل میں تھے۔ تازہ سہ فریقی سمجھوتے کے بعد کونسل کی بہ نسبت جی ٹی اے کے پاس زیادہ اختیار ہوں گے۔ پریشد کے ممبران کی تعداد 50 کرنے کی سہولت رکھی گئی ہے اور نامزد کئے جانے والے ممبروں کی تعداد گھٹا کر پانچ کردی گئی ہے۔مختاریت کی کنجی سے کسی علاقائی یا سالمیت کے معاملے کے حل کی یہ دیش میں پہلی مثال نہیں ہے۔ اس میں بوڈولینڈ علاقائی کونسل کو اس سے زیادہ مختاری حاصل ہے۔
یہ بات صاف ہے کہ تین قومیں یعنی کھاسی، جیوتیا اور گورا کونسل کے بارے میں بھی یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان بلدیاتی اداروں کو انتظامی کاموں کے علاوہ کچھ حد تک عدلیہ اختیار بھی حاصل ہیں لیکن ممتا کے فارمولے میں بھی ایک پیچ پھنس سکتا ہے۔ بیشک ایک کمیٹی ضرور بنائی گئی ہے جو تراہی اور سلی گوڑی کے گورکھا اکثریتی حصوں کو نئے سسٹم کا حصہ بنانے کی مانگ کرے گی۔ لیکن یہ پیچ یہیں پھنس سکتا ہے۔ ان علاقوں کے بنگالی، قبائلی اور دیگر گورکھا فرقے کے لوگ اس سسٹم کے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جہاں نئے سسٹم کو لیکر گورکھا فرقہ کے لوگ آتش بازیاں چھوڑ رہے تھے اسی وقت سلی گوری اور تراہی علاقوں کے حصوں میں ہڑتال اور بند کیا جارہا تھا۔ چناؤ میں منہ کی کھانے کے بعد لیفٹ فرنٹ سیاسی روٹیاں سینکنے کے فراق میں ہیں اور اسے بنگال کا بٹوارہ بتا رہی ہیں۔ حالانکہ ممتا بنرجی نے گورکھا لینڈ انتظامیہ کے اعلان کے وقت صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ ریاست کی تقسیم کسی بھی حالت میں نہیں کی جائے گی۔ گورکھا علاقائی انتظامیہ ایسی درمیانی راہ نکالنے کا تجربہ ہے جسے الگ ریاست کی مانگ اٹھا رہے تلنگانہ، ودربھ جیسی تحریکوں کا حل نکل سکتا ہے۔ ویسے بھی دیکھا جائے الگ ریاست بنانے سے اور ریاستوں کا بٹوارہ کرنے سے تو یہ راستہ کہیں بہتر ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Mamta Banerjee, P. Chidambaram, West Bengal, Gorkhaland,

21 جولائی 2011

کیش فار ووٹ معاملہ: امر سنگھ پر کستا شکنجہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 21th July 2011
انل نریندر
یوپی اے I حکومت کو بچانے کے لئے مبینہ طور سے ممبران پارلیمنٹ کے بارے میں خریدنے کے الزام کی جانچ کے سلسلے میں دہلی پولیس کی جانب سے گرفتار کردہ سنجیو سکسینہ کوپیر کے روز اسپیشل جج سنگیتا ڈھینگراسہگل کی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے پولیس کو پختہ جانکاری حاصل کرنے کیلئے سکسینہ کو تین دن کے لئے پولیس ریمانڈ میں دے دیا۔ غور طلب ہے کہ یوپی اے I سرکار کے عہد میں جب لیفٹ پارٹیوں کے حمایت واپس لینے کے بعد منموہن سنگھ نے لوک سبھا میں اپنی اکثریت ثابت کی تبھی ممبران کی خریدو فروخت کا الزام لگا تھا۔ اسی کڑی میں 22 جولائی 2008 کو اعتماد کے ووٹ سے ایک دن پہلے 3 بھاجپا ممبران پارلیمنٹ کو مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے دئے گئے تھے۔ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ 22 جولائی کو سماج وادی پارٹی کے اس وقت کے جنرل سکریٹری امر سنگھ نے بھاجپا ایم پی پھگن سنگھ کلستے اور اشوک ارگل کا سنجیو سے تعارف کروایا تھا۔ دعوی کیا گیا ہے کہ سنجیو سکسینہ سے پارلیمانی کمیٹی کو بھی غلط جانکاری دے کر حقائق سے بھٹکانے کی کوشش کی۔ الزام ہے کہ سنجیو نے ہی بھاجپا ایم پی کو ایک کروڑ روپے دئے تھے۔ اس معاملے میں بھاجپا کے سابق ایم پی مہاویر سنگھ بھگوٹا اور پھگن سنگھ کے بیان درج کئے جاچکے ہیں۔ اشوک ارگل کا بیان لیا جانا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری کے بعد ابتدائی پوچھ تاچھ میں سنجیو سکسینہ نے بغیر کسی جھجھک کے امر سنگھ کے ساتھ اپنے قریبی رشتوں کی بات کہی ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ سنگھ کے سکریٹری کی شکل میں کام کرتا تھا۔ وکیل دفاع نے عدالت کو بتایا کہ امر سنگھ کے ڈرائیور سنجے سنگھ کی تلاش جاری ہے۔
سنجے کا بیان اس معاملے میں کافی اہم مانا جاتا ہے کیونکہ وہ ہی اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے کہ وہ سنجیو سکسینہ بھاجپا ایم پی کی رہائش گاہ پر ایک کروڑ روپے لیکر دینے گئے تھے۔ امر سنگھ 20 جولائی 2008 کو سنجیو سکسینہ کو اپنا سکریٹری بتاتے ہوئے بھاجپا ایم پی اشوک ارگل سے ملوایا۔ سکسینہ نے لودھی اسٹریٹ میں واقع رہائش گاہ پر ارگل کو ایک کروڑ روپے دئے تھے۔ پھگن سنگھ کلستے اور مہاویر سنگھ بھگوٹا نے بھی سکسینہ کی پہچان کرلی ہے۔ پولیس نے چھان بین کرکے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ یہ پیسہ کس کے یوپی کے بینک کھاتے سے نکالا گیا۔ دراصل نوٹوں کی گڈی پر بینک کا لیبل چپکا رہ گیا تھا۔ اب کس کھاتے سے یہ پیسہ نکالا گیا یہ پتہ لگانے کی کوشش جاری ہے۔ 3 کروڑ یکمشت نہیں نکالا گیا یہ تھوڑا تھوڑا کر کے نکالا گیا۔
شری امر سنگھ پر پولیس کا شکنجہ کستا جارہا ہے۔ سنجیو سکسینہ نے تو سیدھا الزام لگا ہی دیا ہے کہ یہ پیسہ امر سنگھ نے انہیں دیا تھا۔ اگر ڈرائیو سنجے بھی مل جاتا ہے اور وہ بھی یہ کہہ دیتا ہے کہ سنجیو سکسینہ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور وہ سنجیو کے ساتھ موجود تھا جب بھاجپا کے ایم پی کے لئے ایک کروڑ روپے لے کر گئے تھے، تو معاملہ مزید سنگین ہوجائے گا۔ سرکار اور انتظامیہ نے تو معاملے کو لٹکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ لیکن جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کو کچھ نہ کرنے پر سخت پھٹکار لگائی تھی تب جاکر دہلی پولیس حرکت میں آئی اور سنجیو سکسینہ کی گرفتاری ہوئی۔ یہ معاملہ بہت سنگین بن سکتا ہے۔ اس میں کئی بڑی ہستیاں شامل ہوسکتی ہیں۔ اپنے عہد کے آخری دور میں لڑکھڑانے والی یوپی اے I سرکار کے لئے ایک نیا درد سر کھڑا ہوسکتا ہے۔ اپنے ساتھی رہے سنجیو سکسینہ کی گرفتاری سے بوکھلائے امر سنگھ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کو خبردار کیا ہے اگر قانون کے ہاتھ ان تک پہنچے تو وہ سب کا پردہ فاش کردیں گے۔ الزام یہ ہے کہ کانگریس کے کچھ حکمت عملی سازوں کے کہنے پر امر سنگھ نے بھاجپا ممبران پارلیمنٹ کو رشوت دی تھی جنہوں نے اپنی پارٹی کے وھپ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یوپی اے حکومت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تب جاکر منموہن سنگھ حکومت بچ پائی تھی۔ لیکن اس جانچ میں تین سال کی ڈھلائی برتنے کے سپریم کورٹ پھٹکار کے بعدپولیس حرکت میں آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امرسنگھ کانگریس کے رویئے سے ان دنوں خاصے ناراض چل رہے ہیں اور انہیں اس بات کا درد ہے کہ آڑے وقت میں کانگریسی ان سے کام نکلوا لیتے ہیں اور بعد میں بھول جاتے ہیں۔ حال ہی میں امر سنگھ نے کانگریس کے ہی حکمت عملی سازوں کے کہنے پر ٹیم انا ہزارے کے سب سے لائق وکیل شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن کے کچے چٹھے کھولنے میں بھی مدد کی تھی۔ لیکن اس کے بعد بھی قانونی شکنجہ ان کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ اب انہوں نے کانگریس لیڈروں کو صاف وارننگ دے دی ہے کہ اگر دہلی پولیس ان کے دروازے پر چڑھی تو پھر وہ کسی کو بھی نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ ان کے پاس جو بھی خفیہ معلومات یا اطلاعات ہیں وہ انہیں عام کردیں گے۔
Tags: Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Congress, Daily Pratap, Samajwadi Party, UPA, Vir Arjun

دھونی کو بھجن کے مذاق والے اشتہار میں کام نہیں کرنا چاہئے تھا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 21th July 2011
انل نریندر
دیش کی دو شراب بنانے والی کمپنیوں نے ٹیم انڈیا کے دو کھلاڑیوں میں بلا وجہ کا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ میکڈوول کمپنی اور رائل اسٹیج ان دونوں شراب کمپنیوں میں بیچ بازار میں وسکی برانڈس کو لیکر دوڑ مچی ہوئی ہے۔ آف اسپنر ہر بھجن سنگھ نے وجے مالیا کی بالا دستی والی کمپنی یو بی اسپریٹر کو ایک ٹی وی اشتہار کو لیکر قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ اس اشتہار میں ہندوستانی کمپنی مہندر سنگھ دھونی کو ان کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ قانونی نوٹس ہربھجن سنگھ کے ماں اوتار کور نے اپنے وکیلوں کے ذریعے بھجوایا ہے۔ ہربھجن کے وکیلوں نے قانونی نوٹس میں دعوی کیا ہے کہ یہ اس آف اسپنر اور اس کے خاندان و سکھ فرقے کا کمرشل مذاق ہے۔ ان میں سے ایک وکیل نے کہا کہ کرکٹر ہی نہیں اس کا خاندان بھی اس اشتہار سے پریشان ہیں۔ اس اشتہار کیلئے نوٹس بھیجتے ہوئے بھجی کی ماں اوتار کور کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اشتہارات سے ٹیم انڈیا میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور انہیں ملک مخالف قرار دیا جاسکتا ہے۔ نوٹس میں کمپنی سے ہربھجن سنگھ کے خاندان سے بڑے اخبارات اورٹی وی چینلوں کو عام طور پر معافی مانگنے اور انہیں نوٹس ملنے کے تین دن کے اندر اشتہار ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ’’ میرا موکل آپ کو فوراً نوٹس بھیج کر اپنی غلطی تسلیم کرکے اس میں اصلاح کرنے کا موقع دے رہا ہے اس میں ناکام رہنے پر ہمارے پاس مناسب قانونی کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچے گا۔ جس میں ہتک عزت کا دعوی اور اس طرح کے دیوانی و مجرمانہ کارروائی بھی شامل ہے۔‘‘ اس نوٹس کی لاگت کیلئے کرکٹ کے خاندان نے ایک لاکھ روپے کے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ہربھجن اور دھونی دو الگ الگ برانڈ کا اشتہارکرتے ہیں۔ بھارتیہ کپتان میکڈوول نمبرون پلیٹینیم کے اشتہار میں مبینہ طور پر ہربھجن کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہربھجن رائل اسٹیج کا اشتہار کرتا ہے کہ رائل اسٹیج اور میکڈوول نمبرون دونوں کے درمیان بازار میں وسکی برانڈ کو لیکر مقابلہ ہے۔ یہ اشتہار حالانکہ سوڈا برانڈ کا ہے۔ ہربھجن کے رائل اسٹیج اشتہار کی خاص لائن ہے ’’ہیو آئی میڈ اٹ لارچ‘‘ دھونی نے میکڈوول کے لئے جو اشتہار کیا ہے اس میں ہربھجن جیسا نظر آنے والا شخص کہتا ہے ’’ہیو آئی میڈ اٹ لارچ‘‘ جبکہ دھونی کہتا ہے کہ ’’اگر زندگی میں کچھ کرنا ہے تو لانگ لارچ چھوڑو کچھ الگ کرو یار‘‘ دھونی کے اشتہار میں ہربھجن کی طرح نظر آنے والا شخص بال بیرنگ فیکٹری میں کام کرتا ہے اور بڑی بنانے کی کوشش میں وہ لوہے کی بال کو بہت بڑی بنا دیتا ہے تو اس کے والد اس تھپڑ مار دیتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ہربھجن کے والد کی بال بیرنگ بنانے کی فیکٹریاں ہوا کرتی تھیں جہاں ہربھجن بھی کام کیا کرتا تھا۔ شراب بنانے والوں نے بلا وجہ ان دو کھلاڑیوں میں اختلاف پیدا کروا دیا ہے۔ میری رائے میں مہندر سنگھ دھونی کو یہ اشتہار کرنے سے منع کردینا چاہئے تھا۔ جب انہوں نے دیکھا ہوگا کہ اس میں بھجی کے کریکٹر والا شخص ہے اور ہربھجن کا مذاق اڑانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ادھر وجے مالیا کہتے ہیں کہ ہم اشتہار بند نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی ترمیم کریں گے۔
Tags: Anil Narendra, Cricket Match, Dhoni, Harbhajan Singh

20 جولائی 2011

کالادھن: نگرانی سپریم کورٹ کرے یہ حکومت کو منظور نہیں


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 20th July 2011
انل نریندر
بدعنوانی اور کالا دھن کے مسئلے پر انا ہزارے اور بابا رام دیو کی چنوتیوں سے لڑ رہی منموہن حکومت کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا تھا جب سپریم کورٹ نے کالے دھن سے وابستہ سارے معاملوں کی جانچ کیلئے ایک اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل کردی تھی۔ اس خصوصی جانچ ٹیم کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس بی ۔ پی جیون ریڈی کریں گے اور ایک دوسرے ریٹائرڈ جج ایم ۔بی شاہ اس کے ممبر ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ حسن علی اور کیلاش ناتھ کپاڈیہ سمیت کالے دھن سے وابستہ سبھی معاملوں کی جانچ اس میں آگے کی کارروائی و مقدمہ چلانے کی ذمہ داری اس مخصوص ٹیم کی ہوگی۔ لیکن مرکزی حکومت کو لگتا ہے یہ منظور نہیں ہے کہ کالے دھن کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو۔ تبھی تو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس حکم پر نظرثانی کرنے کیلئے عرضی دائر کی ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو منتظمہ اختیارات میں عدلیہ کا قبضہ مانتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈمنسٹریٹو اور عدلیہ کے الگ الگ اختیارات ہیں اور بڑی عدالت کا فیصلہ ان اصولوں کے منافی ہے۔ عرضی میں آگے کہا گیا ہے کہ عدالت کا یہ کہنا سرا سر غلط ہے کہ کالا دھن واپس لانے کیلئے سرکار زور دار کوشش نہیں کررہی ہے۔ ایسا ہوتا تو سرکار اس معاملے میں اعلی اختیار یافتہ کمیٹی تشکیل نہ کرتی۔یہ ایک تاریخی معاملہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ سرکار کی عرضی پر فیصلہ کرتے وقت جہاں عدالت کو کچھ انتہائی قانونی پہلوؤں کا خیال رکھنا ہوگا وہیں عدالت سرکار سے یہ سوال بھی کرسکتی ہے کہ آخر کار عدالت کو اس طرح کا حکم کیوں پاس کرنا پڑا۔ سرکار نے بھلے ہی نظرثانی عرضی دائر کرنا ضروری سمجھا کیونکہ کیبنٹ میں کچھ اہم ماہر قانون بھی شامل ہیں لیکن اس سے سرکار کے طریقہ نظام جانچ ایجنسیوں کے تئیں اس کے رویئے اور کچھ جانچ ایجنسیوں کے کردار پر بھی بحث چھڑ سکتی ہے۔
کالا دھن کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دیش کا جائز پیسہ ناجائز طریقوں سے بیرونی ممالک میں جانا تو تشویش کا موضوع ہے ہی لیکن ساتھ میں اس کے نتائج قومی سلامتی کے معاملوں سے وابستہ ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے ، سپریم کورٹ نے جو حکم دیا تھا اس کا ابھی تک کچھ ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ دراصل یہ بالکل الٹ ہورہا ہے۔ اب تک ایس آئی ٹی تو ہوا نہیں ہے وزارت مالیات کی طرف سے تشکیل کمیٹیاں بھی کام نہیں کرپارہی ہیں۔ اور اب سرکار کے ذریعے اپیل دائر کرنے سے معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ اب یہ کمیٹیاں مقررہ وقت میں اپنی آڈٹ رپورٹ نہیں دے سکیں گی۔ جب تک سپریم کورٹ اس بارے میں اپنا فیصلہ نہیں سناتا یہ کام رکاوٹ ثابت ہوگا۔ یہ ہی حال کالی کمائی پر قائم دوسری کمیٹی کا بھی ہو گیا ہے۔ یہ کمیٹی سی بی ڈی ٹی کے چیئرمین کی سربراہی میں بنائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے حکم میں اس کمیٹی کا بھی ذکر ہے۔ اس کمیٹی کو کالے پیسے پر روک لگانے کیلئے موجودہ پن قانونوں میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بارے میں اس کوتجویز دینے کو کہا گیا تھا۔ کمیٹی نے اپنی پہلی میٹنگ میں عوام سے تجاویز مانگی تھی اور تین ہفتے میں چار ہزار تجاویز کی کاپیاں آئیں لیکن اب یہ معاملہ بھی لٹکنے کا ڈر ہے۔ سرکار سپریم کورٹ کے احکامات کو ہر حالت میں بلاک کرنے میں تلی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Black Money, Corruption, Daily Pratap, Hasan Ali Khan, Supreme Court, Vir Arjun

اس ملک میں نوکرشاہوں ،صحافیوں اور دلالوں کا اصل راج ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 20th July 2011
انل نریندر
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے نے ایک بات تو صاف کردی ہے کہ اس دیش کو عوام کے ذریعے چنے گئے نمائندے عرف ممبر پارلیمنٹ ، وزرا وغیرہ نہیں چلا رہے بلکہ صنعت کار، افسر شاہ اور دلال چلا رہے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نیراراڈیہ جیسے چالاک لوگ اتنے طاقتور نہ ہوتے جو اپنی پسند کا وزیر بھی بنوا لیتے ہیں اور اسے چنندہ وزارت بھی دلا دیتے ہیں۔نیرا راڈیہ آج مشہور ہستی ہیں، کون ہیں یہ نیرا راڈیہ؟ 1995 ء میں پہلی مرتبہ نیرا راڈیہ ہندوستان آئیں اور اس نے پہلی ملازمت سہارا گروپ میں بطور لائزن افسر کے کی تھی۔ 2001 میں نیرا نے ویشنوی کمیونی کیشن نامی کمپنی شروع کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹاٹا اور امبانی گروپ کا سارا لائزن کا کام سنبھالنے لگی۔ اچانک اپنی مشتبہ سرگرمیوں کے سبب نیرا انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی نظروں میں آ گئی۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ اس بات کی جانچ کررہا تھا کہ اچانک 10 سالوں میں نوکری کرنے والی نیرا راڈیہ 300 کروڑ روپے کی املاک کی مالک کیسے بن گئی؟ اسی جانچ میں ای ڈی نے نیرا راڈیہ کے فون ٹیپ کرنا شروع کردئے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے تقریباً104 ٹیپ اپنی ویب سائٹ پر لگائے ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے سیاستدانوں، صنعتکاروں ،افسر شاہوں ، صحافیوں کی ملی بھگت سے یہ سرکار چل رہی ہے۔ اکیلے ٹاٹا گروپ اور مکیش امبانی نیرا راڈیہ کو سال کا 30-30 کروڑ روپے بطور فیس دیتے ہیں۔آخر اتنے پیسے صنعت کار (وہ بھی ٹاٹا اور امبانی جیسے) دیتے ہیں تو کچھ تو نیرا راڈیہ انہیں عوض میں دیتی ہوگی ایسا نہیں صنعتکار ایک بھی پیسہ خرچ کرتے ؟ راڈیہ کی سرگرمیوں کی فہرست لمبی ہے۔2009 میں یوپی اے سرکارکے اقتدار میں واپسی کے بعد اے راجہ کو پھر سے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر بنوانے کے لئے نیرا راڈیہ نے کنی موجھی سمیت کئی با اثر لوگوں کے ساتھ لابنگ کی تھی۔ راڈیہ نے سی بی آئی کو دئے گئے بیان میں تسلیم کیا ہے کہ اے راجہ کو وزیر بنوانے کے لئے سبھی ممکنہ رابط پر غور کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ راجہ کو انل امبانی سے دوری بنا کر رکھنے کی صلاح دی گئی تھی۔ نیرا نے اس موضوع پر بھارتی ایئرٹیل کے چیف سنیل متل سے بھی بات چیت کی تھی۔ راڈیہ نے حال ہی میں سی بی آئی کو دئے گئے بیان میں یہ باتیں قبول کی ہیں۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کو مطلع کیا گیا کہ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے کی جانچ میں مداخلت کرنے کو لیکر سہارا گروپ کے چیف سبرتو رائے اور دو صحافیوں کے خلاف لگے الزامات کی جانچ کے سلسلے میں سی بی آئی نے کارپوریٹ لابسٹ نیرا راڈیہ اور ٹیلی ویژن چینلوں کے کچھ بڑے افسران سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ حالانکہ سی بی آئی نے کہا کہ ابھی ان ٹیلی ویژن صحافیوں اور انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے جانچ افسران کے بیچ ٹیلیفون پر ہی بات چیت کی جانچ کئے جانا باقی ہے جن سے ٹو جی اسپیکٹرم معاملے کی گہرائی میں جانے کے سلسلے میں مبینہ طور پر ان سے رابطہ قائم کیا گیا۔ یہ بیان سرکار ی وکیل کے ۔ کے وینوگوپال نے دیا ہے۔ انہوں نے سی بی آئی کے ذریعے کی گئی جانچ کے نتائج کو پڑھا۔ سی بی آئی نے بند لفافے میں اپنی رپورٹ دی ہے۔ جسٹس جی۔ ایس سنگھوی اور جسٹس اے ۔کے گانگولی کے بنچ کو یہ مطلع کیا گیا کہ سی بی آئی سبھی پہلوؤں سے الزامات کی جانچ کررہی ہے اور آزاد گواہوں اور دستاویزوں کی تلاش میں لگی ہے۔ وینو گوپال نے کہا نیرا راڈیہ سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ ان لوگوں سے ایک سے زیادہ بار پوچھ تاچھ ہوگئی ہے کیونکہ ان کے بیان میں کچھ تضاد پایا جاتا تھا۔ بڑی عدالت نے گذشتہ 6 مئی کو کہا تھا کہ پہلی نظر میں سبرتو رائے اور سہارا نیوز نیٹ ورک کے دو صحافیوں اوپیندر رائے اور سبودھ جین کے خلاف ٹو جی معاملے کی جانچ میں مداخلت کرنے کا معاملہ بنتا ہے اور عدالت نے توہین عدالت کے لئے نوٹس جاری کیا تھا۔
ادھر سی بی آئی نے پٹیالہ ہاؤس کی ایک عدالت کو بتایا کہ سرخیوں میں چھائے ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی اہم کڑی مانی جانے والی کارپوریٹ لابسٹ نیرا راڈیہ کی بات چیت والے ٹیپ معاملے سے جڑے سبھی ملزمان کو دئے جائیں گے۔ بتا دیں کہ ان ٹیپوں میں کارپوریٹ دنیا کے علاوہ میڈیا سمیت دیگر سیکٹر کے لوگوں سے بات چیت شامل ہے۔ جس کے کچھ ہی حصے باہر آ پائے ہیں۔ سی بی آئی کے ذریعے سبھی ملزمان کو یہ ٹیپ دستیاب کرانے سے کئی دیگر لوگوں کی بات چیت سے پردہ اٹھ سکتا ہے۔ دیش امید کرتا ہے کہ نیرا راڈیہ کے سارے ٹیپوں کو سامنے لایا جائے تاکہ عوام کو یہ پتہ چل سکے کہ اصل میں اس دیش پر راج کون کرتا ہے؟ جنتا یا دلال؟
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Bharti Airtel, Daily Pratap, ED, Mukesh Ambani, Neera Radia, Sunil Mittal, Tata Teleservices, Vir Arjun

19 جولائی 2011

ہم راہ سے بھٹک گئے تھے، شکریہ اور الوداع



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 19th July 2011
انل نریندر
برطانیہ کی سنسنی خیز خبروں کی علامت بن چکا ’نیوز آف دی ورلڈ‘ ایتوار کے روز تاریخ بن گیا۔ نہ صرف اس تاریخ میں کچھ واقعات خبر نویسوں کے لئے فکر میں ڈالنے والے ہیں تو کچھ شرم سے سر جھکانے والے ہیں۔ لیکن یہ خاتمہ واقعی افسوسناک ہے۔ آخری وقت میں ٹیبلائڈ نے بھی مانا ہے کہ وہ اپنی راہ سے بھٹکا ، جہاں سے واپس آنا ناممکن تھا۔ سالوں تک دنیا کے کئی ملکوں میں حکومت کرنے والے برطانیہ میں ’نیوز آف دی ورلڈ‘ ان چنندہ اخباروں میں تھا جس نے سرمایہ کاری کی لو دیکھی تو اس کے بجھنے کا بھی گوا ہ رہا۔ 168 سال پرانی تاریخ کا گواہ رہا یہ اخبار آج خود ہمیشہ کے لئے تاریخ کا حصہ بن گیا۔ اس ٹیبلائڈ کو چلانے والی کمپنی نیوز انٹرنیشنل کے چیئرمین لینس لوپارڈ نے فون ہیکنگ معاملے میں پھنسنے کے بعد اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔مارڈوک نے فون ہیکنگ کے معاملے کے سبب اس 168 سال پرانے اور قریب 75 لاکھ قارئین کے ہونے کے باوجود اس اخبار کو بند کرنا ہی بہتر سمجھا۔ اس ٹیبلائڈ کے آخری ایڈیشن کے صفحہ اول پر عنوان تھا ’’شکریہ اور الوداع‘‘ اداریہ میں کہا گیا ہے پچھلے ڈیڑھ دہائی سے یہ ٹیبلائڈ برطانیہ کے لوگوں کی ضرورت کا حصہ بن گیا تھا۔ اس اخبار نے 168 برسوں میں 6 راجاؤں کا دور دیکھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہم نے تاریخ کو دیکھا ہے اور ہم نے تاریخ بنائی، پرانے زمانے سے لیکر ڈیجیٹل دور تک ۔ آخری اداریہ میں کہا گیا ہے کہ ہم نے مہارانی وکٹوریہ کے انتقال ، ٹائٹینک جہاز کے ڈوبنے اور دوسری جنگ عظیم اور 1996 کا ورلڈ کپ جیتا۔ چاند پر پہلا شخص ، ڈائنا کی موت سمیت کئی معاملوں کو ریکارڈ کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس ٹیبلائڈ نے کئی معاملے اور سیلیبریٹی کے بارے میں چونکانے والے انکشافات کئے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ سیدھی بات ہے ہم راہ سے بھٹک گئے، میڈیا مغل روپاڈ مارڈوک کی مشہور شخصیت نے 80 سال کی عمر میں واقعی چیلنج بھرا فیصلہ کیا ہے۔ اتنی کامیاب اشاعت کے بعد چھوٹی موٹی غلطیوں کے لئے ٹیبلائڈ کو اتنا بڑا فیصلہ لینا پڑا۔ یہ فیصلہ تمام پرنٹ میڈیا کے لئے سبق ہے کہ تفتیشی صحافت کی بھی حد ہوتی ہے۔ ان حدود کو پھلانگنے کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, News Of The World, Rupert Murdoc, Vir Arjun

جب ووٹ بینک کی سیاست دیش کی سلامتی پر بھاری پڑے



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 19th July 2011
انل نریندر
تازہ ممبئی حملوں میں کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کا رد عمل ٹھیک اسی لائن پر آیا ہے جس کی ان سے امید رکھی جاسکتی ہے۔ بلکہ تعجب تو تب ہوتا جب انہیں اس تازہ بم کانڈ میں ہندو آتنکیوں کا ہاتھ نظر نہ آتا۔تبھی حیرت نہیں ہوئی جب دگوجے سنگھ نے آر ایس ایس پر نشانہ لگاتے ہوئے سنیچر کو کہا کہ ممبئی دھماکوں میں ہندو تنظیموں کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے ابھی ممبئی دھماکوں میں آر ایس ایس کا ہاتھ ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں لیکن جانچ ایجنسیوں کو سبھی نقطوں سے جانچ کرنی چاہئے۔ دگوجے سنگھ نے کہا کہ میں آر ایس ایس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ثبوت دے سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اس بات سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔ وہ دیش میں ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے ہندو تنظیموں کا ہاتھ رہا ہے۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ دگوجے سنگھ جو کہتے ہیں وہ ان کی اپنی سوچ اور حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے، کیونکہ ان کا 10 سال کا سیاسی بنواس ختم ہونے جارہا ہے اس لئے وہ اپنی جڑیں سیاست میں جمانا چاہتے ہیں اس لئے انہوں نے اینٹی ہندو لائن اپنا لی ہے تاکہ اقلیتی ووٹ بینک میں اپنی پیٹ بنا سکیں۔ لیکن جیسے ان کے متنازعہ بیانات کی کانگریس اعلی کمان حمایت کرتی ہے اس سے صاف لگتا ہے کہ دگی راجہ کو اعلی کمان کی پوری حمایت حاصل ہے۔ ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کو دگوجے سنگھ نے جس طرح سے آناً فاناً میں فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے اس میں ہمیں امید تھی شاید پارٹی ہائی کمان انہیں سخت پھٹکار لگائے اور اپنے آپ کو اس بیان سے الگ کرے۔ لیکن نہ صرف خاموشی اختیار کر سینئر لیڈر شپ نے اسے اپنی خاموش منظوری دے دی بلکہ یہ بھی جتا دیا کہ ہندو تنظیموں کی زور دار مخالفت اور اس کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دگوجے سنگھ محض مہرے ہیں۔ ابھی تک دگوجے سنگھ کے بیان پر کانگریس ٹوکا ٹاکی کیا کرتی تھی لیکن جس طرح سے کانگریس کے ترجمان شکیل احمد نے کھلے طور پر دگوجے سنگھ کی حمایت کی ہے اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ مسلم ووٹ کو پٹانے کے لئے دگوجے سنگھ آج تک جو بھی بولتے رہے ہیں وہ کانگریس لیڈر شپ کی سوچی سمجھی مرحلے وار پالیسی تھی اور ایسے بیہودہ اور بے تکے بیانات کے لئے دگوجے سنگھ کو باقاعدہ نوازا گیا۔ انہیں اس پردیش کا انچارج بنا دیا گیا جہاں کانگریس کی نظر اقلیتی ووٹ بینک پر ٹکی ہوئی ہے۔ اس وقت بھی دگوجے سنگھ اترپردیش اور آسام جیسی مسلم آبادی والے پردیشوں کے انچارج جنرل سکریٹری ہیں۔
یہ بہت شرم کی بات ہے ممبئی دھماکے جیسے مسئلے پر دگوجے سنگھ جیسے سلجھے لیڈر سیاستداں ووٹ بینک کی پالیسی کا کھیل کھیلنے سے باز نہیں آتے۔ ہمارے دیش کے نیتا مطلبی سیاست مفاد کی گھیرے میں کس حد تک گرسکتے ہیں۔ وہ لاشوں پر سیاست کرنے کے ساتھ ساتھ ان مسائل سے بھی فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتے ہیں جو قوم کے لئے شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔ ممبئی بم دھماکوں کے بعدہندوستان بین الاقوامی مورچے پر یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہ گیا کہ وہ دہشت گردی سے اپنے بلبوتے پر لڑ سکتا ہے ۔ مرکزی لیڈرشپ اس واقعات کا کیسے سیاسی فائدہ اٹھایا جائے اس کیلئے بے چین ہے اور انہیں اس بات کی بھی قطعی پرواہ نہیں کہ پاکستان جیسے دیش اس بات کا کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جہاں تک آر ایس ایس کی دیش کے تئیں وفاداری کا سوال ہے تو کانگریس کے سب سے قد آور لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو بھی آن ریکارڈ یہ کہہ چکے ہیں کہ آر ایس ایس کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کس اس طرح کے اوٹ پٹانگ بیان اگلے سال ہونے والے یوپی اسمبلی چناؤ سے وابستہ ہوسکتے ہیں۔ اس لئے بھاجپا بھی میدان میں کود پڑی ہے۔ سنیچر کو بھاجپا لیڈر شاہنوازحسین نے دگوجے کے بہانے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بھی لپیٹ لیا ہے۔ راہل سے دگوجے سنگھ کی قربت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راہل خود جو نہیں کرپاتے وہ دگوجے سنگھ سے کہلواتے ہیں۔ دیش دہشت گردی سے لڑ رہا ہے ایسے میں دگوجے سنگھ کا آر ایس ایس پر الزام لگانا سوائے گندی اور بیہودہ سیاست کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ بھاجپا کے دوسرے سینئر لیڈر مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ دگوجے سنگھ کو بحرے عرب کے کنارے لے جائیں اور ان کے جسم میں موجودہ لادن کی شیطانی روح کو بھگانے کیلئے کچھ جھاڑ پھونک کروائیں۔ دگوجے سنگھ کو زبانی ڈائریا ہوگیا ہے۔ ان کی اپنی زبان اور الفاظ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ کوئی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ دگوجے سنگھ زہریلے بیان کی چھوٹ اس امید سے دی گئی ہے تاکہ ہندو تنظیموں کو بے عزت کرنے والے ان کے بیانوں کے ذریعے مسلم سماج کے ووٹ آسانی سے حاصل کئے جاسکیں؟ کانگریس کی اس سوچ سے یہ صاف ہے کہ اس کی نظر میں مسلم سماج تب اس کا ووٹ بینک بنے گا جب اسے ہندو تنظیموں سے ڈرایا جائے گا۔
اسے بد قسمتی ہی کہا جائے گا کہ دہشت گردی جیسے حساس ترین مسئلے پر اس طرح کی گھٹیا ووٹ بینک کی سیاست ہورہی ہے۔ کیا یہ جانچ ایجنسیوں کو غلط سمت میں جانچ کرنے اور انہیں جان بوجھ کر بھٹکانے کا کام نہیں ہے؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ خود وزیر داخلہ پی چدمبرم کہہ چکے ہیں بھگوا آتنک واد دیش کے لئے ایک بڑی چنوتی بن چکا ہے۔ آتنک وادی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یہ ایک آئیڈیالوجی ہے اور یہ ممکن ہے کہ کچھ مٹھی بھر ہندو بھی اس کے شکار ہوں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ آپ سارے ہندو سماج کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں اور انہیں بدنام کریں۔ جیسا کہ آپ مٹھی بھر مسلم دہشت گردوں کے سبب پورے مسلم سماج کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ اگر دگوجے سنگھ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو جانچ ایجنسیوں کو بتائیں تاکہ وہ اس کی باریکی سے چھان بین کرسکیں۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Bomb Blast, Daily Pratap, Digvijay Singh, Hindu Terrorism, Mumbai, Terrorist, Vir Arjun

17 جولائی 2011

حکومت ہند کو دہشت گردی پر ’زیرو ٹالرینس ‘پالیسی اپنانی ہوگی

Published On 17th July 2011
 انل نریندر
وزیر اعظم منموہن سنگھ اوروزیرداخلہ چدمبرم جب یہ کہتے ہیں کہ ممبئی بم دھماکوں کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ تو عوام کو اب برا سا لگنے لگا ہے اور ایسی کوری تسلیاں سن کر اب عوام اکھڑنے لگی ہے۔منموہن سنگھ نے یہ ہی لفظ 26 نومبر 2008 ء کو بھی ممبئی کے شہریوں سے کہے تھے۔ تب سے لیکر اس حکومت نے کیا کیا ہے؟ کچھ نہیں صرف کورے وعدے۔ ممبئی کے باشندے اب ان کوری تسلیوں سے اکتا چکے ہیں۔ وہ کینڈل مورچہ، امن مورچہ سے ہیومن چین بنا بنا کر عاجز آچکے ہیں۔ عوام کہتی ہے کہ کچھ کرکے دکھاؤ۔ امریکہ سے کچھ تو سبق لو۔ القاعدہ نے 26/11 کو امریکہ پر حملہ کیا تھا اسی وقت امریکہ نے اعلان کردیا تھا کہ وہ تب تک دم نہیں لیں گے جب تک وہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو ختم نہیں کردیں گے۔ بیشک اس کام میں امریکہ کو دس سال لگے لیکن انہوں نے یہ دکھا دیا کہ وہ اپنے ارادے کے پکے ہیں، جو کہتے ہیں اسے پورا کرنے کی قوت ارادی بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دشمن کے گھر میں گھس کر دشمن کو تہس نہس کر کے ہی دم لیا۔ آدمی تجربے سے ہی سیکھتا ہے اور مستقبل میں اپنے میں بہتری لاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ برطانیہ ، اسپین اور دوسرے مغربی دیش ہر دم چوکنے رہ کر دہشت گردوں کے منصوبے کو فیل کرتے آرہے ہیں۔ یہ اس لئے کامیاب ہورہے ہیں کیونکہ انہوں نے ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ یعنی ایک بھی حملہ ہم برداشت نہیں کریں گے۔ اور ہمارے یہاں حملے پر حملے ہوتے جاتے ہیں اور ہم کوری دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے۔ عزت مآب وزیر داخلہ جی 12 مارچ1993ء سے جولائی 2011ء کے درمیان اکیلے ممبئی میں 8 بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ جن میں 682 جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداداب کراچی اور کابل میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً برابر پہنچ چکی ہے۔ اکیلے ممبئی 2005ء میں تقریباً394 لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ اسی وقفے میں کراچی میں500 اور کابل میں 520 لوگ مرے۔ اگر پورے مہاراشٹر کی تعداد جوڑی جائے تو یہ تعداد506 بن جاتی ہے۔ ممبئی کو اب دنیا میں سب سے خطرناک شہروں میں شمار کیا جانے لگا ہے اور اس کو آپ کی لچر پالیسی نے بنا دیا ہے۔ چدمبرم نے بڑے زور شور سے این آئی اے یعنی قومی جانچ ایجنسی کا اعلان کیا تھا۔ کیا کیا آپ کی اس این آئی اے نے؟ اگر 26/11 کے بعد میں ہوئے پانچ دیگر حملوں کی بات کریں تو لگتا ہے کہ آپ کی این آئی اے کچھ نہیں کرپائی۔ 26/11 کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے کے بعد دیش کے الگ الگ حصوں میں ہوئے واقعات کا سراغ ابھی تک نہیں لگایا جاسکا۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ان میں سے تین معاملوں کی جانچ این آئی اے کے ہاتھوں میں ہے۔ 13 فروری کو پنے کی جرمن بیکری، 17 اپریل کو چنئی کے چنا سوامی اسٹیڈیم میں آئی پی ایل میچ سے ٹھیک پہلے دھماکہ، پچھلے سال ستمبر کی آخر میں جامع مسجد دہلی میں گولہ باری، دہلی ہائی کورٹ میں دھماکہ اور وارانسی میں ہوئے بم دھماکوں کا معمہ ابھی تک سلجھ نہیں پایا۔ یاد کرانا چاہیں گے کہ چدمبرم صاحب آپ نے بڑے زور شور سے اعلان کیا تھا کہ این آئی اے کی تکیل وزارت داخلہ نے اس لئے کی ہے تاکہ دیش بھر میں دہشت گردی سے متعلق معاملے سلجھائے جا سکیں۔ اس ایجنسی نے جامع مسجد، وارانسی اور چنا سوامی اسٹیڈیم میں ہوئے واقعات کی گتھی سلجھانے کا بیڑا اٹھایا تھا لیکن ابھی تک کامیابی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ وہیں ہائی کورٹ اور جرمن بیکری دھماکوں کو لیکر مقامی پولیس کے ذریعے چھان بین جاری ہے مگر حالات ٹھیک نہیں ہو پارہے ہیں۔اس معاملے میں ایک شخص کی گرفتاری ہوئی ہے لیکن اے ٹی ایس واردات میں اس کے ملوث ہونے کے بارے میں مضبوطی سے ثابت نہیں کرپائی ہے۔ ان معاملوں میں جانچ کی سوئی آتنکی تنظیم انڈین مجاہدین پر گھومتی رہی ہے لیکن ابھی تک ایجنسی کو اس کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت ابھی تک حاصل نہیں کرپائی ہے۔ ایک آدھ معاملے میں اگر کوئی معاملہ عدالت جاتا ہے تو وہ بھی ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ٹھپ ہوجاتا ہے۔ بم دھماکوں کے مجرم اکثر معاملوں میں بری ہوجاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جانچ ایجنسی لچر طریقے سے ثبوت اکٹھا کرتی ہیں اور ایسے ثبوت عدالت میں پختہ طور پر ٹھہر نہیں پاتے۔ دیش میں بم دھماکوں کے مقدمے سے وابستہ وکیل بھی تصدیق کرتے ہیں کہ جانچ ایجنسیاں ثبوت حاصل کرنے کے معاملے میں اکثر ڈھیلا ڈھالا غیر پیشہ ور رویہ اختیار کرتی ہیں جس سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں اور جانچ ایجنسیوں کو کورٹ کی لتاڑ جھیلنی پڑتی ہے اور وہ پہلے کی طرح ٹال مٹول کے رویئے پر چلنے لگتی ہیں۔ ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں جب زبردستی قبول نامے کی بنیاد پر جھوٹا مقدمہ بنا دیا گیا ہو۔ یوپی اے سرکار نے ٹاڈا ہٹانے میں بہت جلد بازی کی لیکن آج تک اس کی جگہ ایسا کوئی موثر قانون نہیں بنایا گیا جس سے دہشت گردوں کو سزا دلوا سکیں۔ دیش کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے خطرہ بنے آتنک واد سے نمٹنے کے لئے آج بھی کوئی موزوں قانون دیش میں موجود نہیں ہے۔ اب تک 2005 ء سے لیکر7 دسمبر 2010ء تک چھوٹے بڑے کل ملا کر 21 آتنکی حملے ہوچکے ہیں۔
ممبئی میں تازہ بم دھماکوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ کہیں نہ کہیں ضرور ہے۔ امریکی میڈیا میں بھی یہ ہی کہا جارہا ہے۔ امریکی میڈیا نے ان دھماکوں پر لکھا ہے کہ ان دھماکوں نے پاکستان کی جانب سے آتنکیوں کے خلاف کی جارہی کارروائی کے اثر پر پھر سے سوالیہ نشان لگا دئے ہیں اور اس کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے جس نے 2008 میں بھی ممبئی میں آتنکی حملہ کروایا تھا۔ جانچ سے چاہے جو بھی پتہ چلے لیکن ایک چیز صاف ہے کہ پاکستان پر بین الاقوامی برادری کے بھاری دباؤ کے باوجود یہ سبھی گروپ ابھی بھی وہاں سے اپنی سرگرمیوں کو چلا رہے ہیں اور حکومت ہند کوئی سخت قدم اٹھانے کی جگہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے۔ بھارت سرکار اب تک ممبئی کے پچھلے حملوں میں پاکستان میں جاری مقدمے کو آگے نہیں بڑھواسکے اور قصورواروں کو سزا دلوانا تو دور رہا ،پاکستان سے بات چیت کا کیا تک ہے، یہ اپنی سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان کے چال چلن میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ آج بھی اس کی ٹیرر اسٹیٹ پالیسی ہے ۔ پاک نواز آتنکی تنظیموں کے نشانے پر آج بھی ممبئی ،دہلی اور بنگلورو جیسے بڑے شہر ہیں۔ ہم جب تک ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی پر نہیں چلتے تب تک ان دھماکوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ ایک بھی حملہ ہم اب برداشت نہیں کریں گے۔ ہمارے وزیر اعظم یا وزیر داخلہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ لشکر یا انڈین مجاہدین کا اس حملے کے پیچھے ہونے کی بات کہہ سکے یا اشارہ تک کر سکے؟ انڈین مجاہدین اور پاکستان کی لشکر طیبہ کے درمیان رشتے رہے ہیں۔ سرکار آج تک پاکستان سے ممبئی حملوں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت تک نہیں لے سکی ہے جبکہ واحد زندہ بچے دہشت گرد عامر اجمل قصاب کو سینے سے چپکائے ہوئے ہے اور افضل گورو کو بھی شوپیس بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کیوں نہیں اب افضل گورو کو پھانسی پر لٹکا دیتی تاکہ ان آتنکیوں کو ایک صاف اشارہ دیا جائے؟ آج ان جلاسوں ،ریبیٹی، گل کی یاد آتی ہے جب انہو ں نے پنجاب میں آتنکیوں کو یہ سندیش دیا تھا کہ تم ایک مارو تو ہم دس ماریں گے، گولی کا جواب گولی سے دیا جائے گا۔ یوں ہی پنجاب میں آتنک واد ختم نہیں ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ٹھوس حکمت عملی تھی۔ سرکار کی قوت ارادی تھی اور سکیورٹی فورس کو اپنے حساب سے کارروائی کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔
دیش کی جنتا اس سرکار کی آتنک واد سے نمٹنے کی ٹال مٹول کی پالیسی سے تنگ آچکی ہے۔ اگر یہ کہیں کہ جنتا ’زیرو ٹالرینس‘ پر آچکی ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ممبئی کے شہریوں کو آخر کب تک اسی طرح دہشت کے سائے میں جینا پڑے گا؟ ایک بھی دہشت گرد حملہ آخر کیوں برداشت کیا جائے؟ لوگ یہ سنتے سنتے عاجز آچکے ہیں کہ ہم ایک خطرناک پڑوس میں رہتے ہیں ان کے کان یہ سن کرپک چکے ہیں کہ ہم ان قصورواروں کو نہیں بخشیں گے۔ جنتا کو سکیورٹی کی گارنٹی چاہئے تاکہ وہ بے خوف زندگی جی سکیں۔ بیشک ان کے روٹین پر لوٹنا کچھ حد تک ضروری ہے لیکن اس کا مطلب سرکار کو یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ وہ سب طرح کی کوری بکواس ہضم کرنے کو تیار ہے۔ اگر کوئی لیڈر آتنکی حملے کا شکار ہوتا ہے تو بھی کیا سرکار کا یہ ہی رخ ہوتا؟ یہ تو بیچارے بھولے بھالے معمولی عوام ہیں جو مارے جاتے ہیں لیکن سرکار کو جنتا کے موڈ کو سمجھنا ہوگا۔ جنتا چیخ چیخ کر پکار رہی ہے ’’بس اب اور نہیں‘‘۔
Tags: 13/7, 26/11, Afzal Guru, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Indian Mujahideen, Kasab, Lashkar e Toeba, Manmohan Singh, NIA, P. Chidambaram, Pakistan, Politician, Terrorist, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...