انجینئروں کے قتل سے پہلے ایک ڈاکٹر کو بھی زر فدیہ کے لئے دھمکانے اور ان کے گھر کے قریب گولی مارنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ ابھی نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو اقتدار سنبھالے کچھ ہی دن ہوئے ہیں اور کسی طرح کا نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہوگا لیکن اس سے اتنا تو ثابت ہورہا ہے کہ اگر نتیش بابو نے بلا تاخیر ریاست میں قانون و نظم بہتر نہیں کیا اور قتل کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر سبھی یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ بہار میں ایک بار پھر جنگل راج لوٹ رہا ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے ان واقعات کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے۔ پیر کے روز محکمہ داخلہ کی جائزہ میٹنگ میں انہوں نے پولیس کے اعلی افسران سے دو ٹوک الفاظ میں کہا سرکار قانون کا راج قائم کرنے کے لئے عہد بند ہے۔ ہر حال میں جرائم کے واقعات پر لگام لگائیں۔ وزیر اعلی اتنے ناراض تھے کہ انہوں نے محکمہ داخلہ کے پریزنٹیشن کو بھی نہیں دیکھا۔ ظاہر ہے نتیش کمار کے ساتھ ہی لالو پرسادکو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ انہیں یہ مینڈینڈ ترقی اور گڈ گورننس کے لئے ملا ہے۔ جنگل راج کے لئے نہیں۔ اتحادی سرکار کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ وہ جرائم پیشہ اور پھروتی مانگنے والے خطرناک گروہ کا خاتمہ کریں۔ اسی سے ان کی ساکھ بھی جڑی ہوئی ہے۔
Translater
31 دسمبر 2015
جنگل راج کی یاد دلاتا بہار میں قانون و نظم
انجینئروں کے قتل سے پہلے ایک ڈاکٹر کو بھی زر فدیہ کے لئے دھمکانے اور ان کے گھر کے قریب گولی مارنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ ابھی نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو اقتدار سنبھالے کچھ ہی دن ہوئے ہیں اور کسی طرح کا نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہوگا لیکن اس سے اتنا تو ثابت ہورہا ہے کہ اگر نتیش بابو نے بلا تاخیر ریاست میں قانون و نظم بہتر نہیں کیا اور قتل کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر سبھی یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ بہار میں ایک بار پھر جنگل راج لوٹ رہا ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے ان واقعات کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے۔ پیر کے روز محکمہ داخلہ کی جائزہ میٹنگ میں انہوں نے پولیس کے اعلی افسران سے دو ٹوک الفاظ میں کہا سرکار قانون کا راج قائم کرنے کے لئے عہد بند ہے۔ ہر حال میں جرائم کے واقعات پر لگام لگائیں۔ وزیر اعلی اتنے ناراض تھے کہ انہوں نے محکمہ داخلہ کے پریزنٹیشن کو بھی نہیں دیکھا۔ ظاہر ہے نتیش کمار کے ساتھ ہی لالو پرسادکو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ انہیں یہ مینڈینڈ ترقی اور گڈ گورننس کے لئے ملا ہے۔ جنگل راج کے لئے نہیں۔ اتحادی سرکار کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ وہ جرائم پیشہ اور پھروتی مانگنے والے خطرناک گروہ کا خاتمہ کریں۔ اسی سے ان کی ساکھ بھی جڑی ہوئی ہے۔
ملائم سنگھ یادو بنام اکھلیش یادو
ایٹہ کے پارٹی ایم ایل اے رامیشور یادو کے بیٹے سبوت یادو کو بھی ایتوار کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے پارٹی سے نکال دیاگیا ہے۔ 18 سال پہلے شروع ہوا سیفئی مہتسوپریش میں حکمراں یادو پریوار کا خاندانی جلسہ مانا جاتا ہے جس کی افتتاحی تقریب میں خاندان کے سبھی ممبران موجود رہتے ہیں۔ پچھلے بار بھی وزیر اعلی اکھلیش یادو اپنی ممبر پارلیمنٹ بیوی ڈمپل اور بچوں کے ساتھ موجود تھے۔یہ تقریب 11 جنوری تک چلے گی جس میں پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خاں اور غزل گو پنہاز مسانی اور بالی ووڈ کے بہت سے ایکٹر اپنے پروگرام پیش کریں گے اور کئی طرح کے کلچرل پروگرام بھی ہوں گے۔ دراصل پارٹی لیڈر شپ ریاست کی 74 ضلع پنچایتوں کے پردھانوں کے عہدے جیتنے کے لئے یہ ممکنہ داؤ چل رہی ہے۔ پارٹی نے ابھی تک69 ضلعوں کے لئے امیدوار اعلان کر دئے ہیں۔ سہارنپور ضلع میں پارٹی کے لیڈر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایسے میں لیڈر شپ کو اس ضلع میں چناؤ میں جیت حاصل کرنے کو لیکر شش و پنج بنا ہوا ہے۔ ادھر پارٹی کے ذریعے اعلان کردہ امیدواروں کو لیکر زیادہ تر اضلاع میں سبھی ممبر اسمبلی اور دیگر ذمہ دار لیڈر ہی کھل کر بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ اور ممبر اسمبلی اور نیتا اپنی بیوی بیٹے، بھائی بھتیجوں کو چناؤ لڑوانے کی جگت بٹھانے میں لگے ہیں۔ضلعوں میں بغاوت اس قدر بڑھ رہی ہے کہ اسمبلی پارٹی کے اعلان کردہ امیدواروں اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ مار پیٹ تک پر اتر آئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو کی بار بار کی گئی نصیحتوں کے باوجود سماجوادیوں کا خیمہ گروپ بندی کا شکار ہے۔ ملائم کی ہدایت پر شیو پال کارروائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کا سیدھا اثر اکھلیش سرکار کی کارگزاریوں پر رہا ہے۔
30 دسمبر 2015
تنازعات سے شروع ہوا برس اور تنازعوں میں ہی ختم ہوا
کھودا پہاڑ نکلی چوہیا، وہ بھی مری ہوئی
29 دسمبر 2015
روس ہمیشہ بھارت کا بھروسے مند دوست رہا ہے
ہر سال نابالغ بچے بچیاں ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ ہوتے ہیں
27 دسمبر 2015
پرانے بھروسے مند روس سے رشتوں میں نیا باب!
(انل نریندر)
بدمعاشوں کا بڑھتا حوصلہ: کورٹ میں فائرنگ
26 دسمبر 2015
بے لگام کیرتی آزاد کا یہی حشر ہونا تھا
16 سال کی عمر میں بھی اب سخت سزا!
25 دسمبر 2015
کثیر شادی کیلئے قرآن کی غلط تشریح نہ کریں: عدالت
بدرپور پاور پلانٹ بند کرنے سے بلیک آؤٹ کا مسئلہ
24 دسمبر 2015
روہتک کا نربھیاکانڈ
بڑوانی میں 40 مریضوں کی آنکھوں کی روشنی جانے کا ذمہ دار کون
bing yahoo promo code
23 دسمبر 2015
The US bends, provided the bender has the Guts
The US bends provided the bender has the guts to do so. I am talking about the US and Russia. Since the Russian President Vladimir Putin has come to the Party in Syria-Iraq against the Islamic State the dice is overturning slowly. The attacks on IS are increasing. So far the US maintained its insistence that President Bashar-Al-Assad of Syria will have to step down for the sake of peace in the region. On the other hand Putin insisted that Assad will continue and will take over the command against IS. At last US had to bow to Russia on Assad issue. US Foreign Secretary John Kerry accepted the prolonged demand of Russia that the future of President Assad’s should be decided only by the people of Syria. Muslim nations’ front against IS seems to be a little visible now with some Muslim Nations having decided finally to fight the IS, terror in the entire world in the name of Islam. 34 nations under the leadership of Saudi Arabia have declared to form a military alliance against the IS. The combined operation command of the alliance will be set up in Riyadh, the capital city of Saudi Arabia. Briefing the formation of Islamic Military Alliance, the official communication agency of Saudi Arabia said that the alliance was needed because it is must to face terrorism at all stages and it needs cooperation at various levels. Rival of Saudi Arabia and Shiiite Iran is not involved in this military alliance of Muslim Nations. It is notable that Iran’s policy is quite different from Sunni Nations. It supports the regime of Shia President of Syria, Basher-al-Assad and has sent its forces in Syria to support Asad. It keeps supporting Shia Hudi rebels in Yemen while Saudi Arabia is conducting military expeditions against them. Pakistan, Turkey, Maldives, Malaysia, UAE, Egypt and Qatar are included in this Islamic Nations alliance. Libya and Yemen facing civil war are also included in it. African Muslim-majority nations like Mali, Chad, Somalia and Nigeria are also included in the alliance. However Pakistan is surprised as to how Saudi Arabia has included its name in the military alliance of 34 Muslim nations without seeking its consent? As per Dawn’s report Pakistan;s Foreign Secretary Ezaaz Chowdhary said that he is surprised with the news that Saudi Arabia has included Pakistan in the alliance. This is not the first instance when Saudi Arabia has included Pakistan without its consent.
(ANIL NARENDRA)
کرکٹ کی خاطر ڈی ڈی سی اے کی شدھی کرنا ضروری ہے
واڈرا کے بعد اب ہڈا کا نمبر ہے
اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر انڈین نیشنل لوک دل نے بھاری احتجاج کیا تھا۔ بھاجپا نے اقتدار میں آتے ہی جانچ ویجی لنس کو سونپ دی ہے۔ لمبی جانچ کے بعد ویجی لنس نے اس میں کافی بے قاعدگیاں پائی ہیں۔ اس کے بعد رپورٹ اے جی کو سونپ دی ہے۔انہوں نے رپورٹ پر کارروائی کی ہے سال 2012 ء میں ہڈا سرکار نے پنچکولہ میں انڈسٹریل پلانٹ الاٹمنٹ کے لئے درخواستیں مانگی تھیں۔ اس کے لئے 582 لوگوں نے درخواستیں دی تھیں۔ ویجی لنس کی جانچ کے مطابق اس وقت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور ہڈا ، بی پی تنیجا کے قاعدے کے مطابق دستاویزات فائل نہیں کئے۔ اس کی جگہ 13 لوگوں کی لسٹ دے دی گئی اور اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین سے ان ناموں کو فائنل کرنے کے لئے کہا۔ جانچ میں درخواست میں بھی گڑ بڑی کی گئی ہے۔ اے جی بلدیو راج مہاجن نے کہا کہ پلاٹ الاٹمنٹ کے لئے نئی پالیسی کی منظوری چیئرمین بھوپندر سنگھ ہڈا نے دی تھی۔ اسی سے ہڈا نے اپنے قریبیوں کو پلاٹ بانٹے۔ یہ ہی ان کے خلاف ایف آئی آر کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ بتادیں ہریانہ سرکار سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کے خلاف الزامات کی جانچ پہلے سے ہی کررہی ہے۔ واڈرا کی لین ڈیل کے بعد پلاٹ الاٹمنٹ کے الزامات میں بھوپندر سنگھ ہڈا کو گھیرنے کی تیاری ہے۔ بیشک ہریانہ سرکار قانون کے مطابق کام کررہی ہے لیکن کانگریسیوں کا تو یہی کہنا ہے کہ یہ سیاسی اغراض پر مبنی بدلے کی کارروائی ہے۔
22 دسمبر 2015
عدم رواداری پر شاہ رخ کا تبصرہ فلم ’دل والے‘ کوبھاری پڑا
جج پاردیوالا پر مقدمہ چلانے کی عرضی
21 دسمبر 2015
Women Revolution in Saudi Arabia
Women revolution has really started in Saudi Arabia. For the first time in the history of the country women have been allowed to take part in any election. The women voters casted their votes in local election and also contested as a candidate. This achievement of Saudi women cannot be imagined in countries like India, starting their independence with the maximum franchise. In Saudi Arabia, included in the queue of rich countries of the world, women are not yet allowed to drive alone. Even for voting they had to come with male member of their family to cast their vote and stand in the queues exclusively formed for them. It’s surprising that less than 10 per cent women could be registered as voters. Arabia regime with a population of 2 crore and 10 lakhs has only 11 lakh 90 thousand women voters. The first result came from Mecca, the holiest place for Muslims. Mecca’s Mayor Osama-al-Bar told that Salma Bin Hijab-al-Otibi has won in the nearby village. As such she has become the first elected public representative of the country. As per local media 17 women have been elected. One seat from the second largest city of Saudi Arabia, Jeddah was won by one woman candidate Lama-al-Suleman. 7000 candidates including 979 women contested in the elections held for 2100 seats of the country. Saudi Arabia enjoys a regency. Only local bodies go to polls here. Elections were held for the first time in 2005. 1.31 lakh females applied for registration as compared to 13.5 lakh male voters. After the election results Saudi Arabia Cinema Committee has declared that cinema theatres will be opened in the country shortly. In capital city Riyadh a MoU was signed for making it. Many organizations in the country had started a movement to start cinema. There is no such thing like parliament in Saudi regency till now. Though, one-third members are nominated by the Ministry of Local Bodies in 284-member Advisory Committee. Therefore, if some female candidates succeeded in winning the election, some of them may also get a chance to be included in the Advisory Committee. At present when the representatives of Saudi Regime go on foreign tours they do not take even their wives with them. It does not mean that Saudi females are not sensitive to their rights. One woman worker was arrested recently when she tried to drive alone violating the Shariat laws. If the rulers having such narrow mindedness give some freedom to the females, it will be surely defined as Women Revolution.
- Anil Narendra
20 دسمبر 2015
سپریم کورٹ کے ذریعے لوک آیکت تقرری، اکھلیش سرکار کیلئے کرارا جواب
القاعدہ سے جڑے آتنکیوں کی گرفتاری دہلی پولیس کی بڑی کامیابی
دراصل ثناء الحق ہی مولانا عاصم عمر نامی آتنکی ہے جسے القاعدہ چیف ایمن الظواہری نے خود اے کیو آئی ایس کا امیر (چیف) مقرر کیا تھا۔یہ جانکاری ان دو گرفتاری آتنکیوں سے ملی ہے۔ ان دونوں کو ثناء الحق نے بھارت میں جہادی تیار کرنے کا ذمہ دیا تھا۔ پکڑے گئے آتنکیوں نے بھی پاکستان اور افغانستان میں تربیت لی تھی۔ جس طرح انہوں نے غیر قانونی طریقے سے اتنی آسانی سے سرحد پار کی اور ٹریننگ لے کر وہاں سے واپس لوٹے اس پر ہماری خفیہ ایجنسیاں و سرحد پر سکیورٹی کے لئے تعینات جوانوں کی چستی پر بھی سوال اٹھتے ہیں؟ دونوں آتنکی کرسمس اور نئے سال کے موقعہ پر دہلی میں دہشت پھیلانے کی سازش رچ رہے تھے۔ ان آتنکیوں سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سنبھل یوپی میں کئی اور ریکروٹ موجود ہیں۔اسپیشل پولیس کمشنر اروند دیپ کا کہنا ہے کہ سنبھل سے جلد ہی کچھ اور نوجوانوں کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ 9/11 حملے سے امریکہ کو ہلا دینے والی آتنکی تنظیم القاعدہ اب اپنی حکمت عملی بدل رہی ہے۔اب اسے لگتا ہے کہ عرب دیشوں کے لوگوں کو دوسرے دیشوں میں بھیج کر وہ آتنکی حملے نہیں کرواسکتا ہے اس وجہ سے اس نے جن دیشوں میں القاعدہ کو آتنکی حملہ کرنا ہے وہ اپنی فرنچائزی بنا رہا ہے۔خفیہ ایجنسیوں نے بھی یہ مانا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے چلتے بھی القاعدہ آتنکی حملوں کے لئے اپنی حکمت عملی بدل رہا ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے یہ تشویش جتائی جارہی ہے کہ القاعدہ اور آئی ایس بھارت میں بھی اپنا جال پھیلانے کی تاک میں ہیں۔فکر کا موضوع یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں سے کہاں چوک ہوئی کہ پاکستان اور افغانستان نے القاعدہ کے کیمپوں میں تربیت حاصل کر آتنکیوں کے بارے میں انہیں کیوں بھنک تک نہیں ملی؟ آتنک واد سے نمٹنے کے مقصد سے باڈر سکیورٹی فورس ، ریاستوں کی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے بیچ صحیح تال میل قائم کرنے کے لئے ایک مرکزی نظام بنانے کی کوشش کی تو گئی ہے پر اس سمت میں ابھی تک کامیابی نہیں مل پائی۔ دہلی پولیس کو مبارکباد کے ان کی سرگرمی کی وجہ سے ایک بار پھر دہلی بچ گئی اور اس سے بھی بڑی بات ہے کہ القاعدہ کے منصوبوں پر پانی پھر گیا۔
19 دسمبر 2015
ڈی ڈی سی اے: کرکٹ کا کامن ویلتھ گھوٹالہ
امریکہ جھکتا ہے بس جھکانے والا چاہئے
18 دسمبر 2015
’نربھیہ‘ کانڈ کے تازہ ہوگئے زخم
پختہ معلومات اور ثبوت پر ہی سی بی آئی نے مارے چھاپے
17 دسمبر 2015
راجندر کمار پر چھاپے، ہائے توبہ کیوں؟
جب شرد پوار کے سپنے کو سونیا نے چکنا چور کردیا!
16 دسمبر 2015
سعودی عرب میں خواتین انقلاب
ایک طرف ٹھنڈا دوسری طرف گھنا کہرہ
چشم دید افراد نے فوراً پولیس کو خبردی۔ اطلاع ملتے ہی موقع پر پی سی آر وین پہنچی۔ پولیس معاملے کی چھان بین کررہی تھی کہ رفیع مارگ کی طرف سے ریل بھون کی طرف جارہی ایک گاڑی حادثے سے بچنے کی کوشش میں بے قابو ہوکر پی سی آر وین سے ٹکراگئی۔ اس کے بعد بھی وہ وہیں نہیں رکی اور ماروتی زیناور آلٹو کو ٹکر مارتے ہوئے آگے نکل گئی۔ اس دوران ایک گاڑی کی چپیٹ میں دو موٹر سائیکل آگئیں۔ حادثے میں پی سی آر وین میں موجود اے ایس آئی زخمی ہوگئے۔ اوڈی کار میں بیٹھی دو عورتوں دو دیگر لوگوں کو بھی چوٹیں لگیں۔ آلٹو ڈرائیور ریحان کے مطابق حادثے کے بعد اوڈی کار کا گیئر بیگ کھل گیا۔ اس سے ڈرائیور کو چوٹ نہیں آئی اور وہ گاڑی کو چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ گاڑی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ آٹو ڈرائیور نے بتایا کہ سمجھ میں نہیں آیااچانک یہ کار کہاں سے آگئی۔ گاڑی ڈرائیور کو دیر رات گاڑی چلانے میں خاص دھیان رکھنا ہوگا، رفتار پر قابو ہونا چاہئے کیونکہ چاندنی بہت کم ہوگی۔
15 دسمبر 2015
مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر روک
امریکی عوام اوبامہ کہ آئی ایس سے مقابلہ کرنے کی قوت ارادی پر شبہ ظاہر کررہے ہیں۔ صدر سے جس سختی کی امید کی جارہی ہے وہ عوام کو دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ وہاں کے ایک مسلح سروس کے افسر نے کہا کہ آئی ایس سے نمٹنے کے لئے سخت حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس پر اوبامہ نے کچھ نہیں کہا۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کمپین کے دوران دھماکو بیان دیتے ہوئے کیلیفورنیا قتل عام کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پوری طرح سے روک لگانے کی مانگ کرڈالی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا جب تک ہمارے دیش کے نمائندے یہ نہیں پتہ لگا لیتے کہ کیا کچھ چل رہا ہے، تب تک امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پوری طرح سے روک لگا دی جائے۔ ان کا یہ اشتعال انگیز بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب محض ایک دن پہلے ہی اوبامہ نے دیش میں اینٹری کیلئے مذہبی جانچوں کو خارج کرنے کی بات کہی تھی اور ٹرمپ نے ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں کے دعویداروں کے ساتھ مل کر کٹر پسند اسلام کو خاص خطرے کی شکل میں نشاندہی نہ کرنے پر اوبامہ کی زبردست تنقید کی ہے۔ 9/11 کے بعد طالبان کے صفائے کیلئے جس طرح امریکہ نے افغانستان اور پھر عراق پر حملے کئے ان سے القاعدہ تو ختم نہیں ہوا لیکن دہشت گردی بڑھتی چلی گئی اور آج اس نے سب سے خطرناک شکل میں آئی ایس کی شکل اختیار کرلی ہے۔ امریکہ کو دہشت گردی سے تبھی فکر ہوتی ہے جب امریکی زمین پر کوئی آتنکی واقع ہوتا ہے۔ ان اسباب پر تو وہ دھیان نہیں دیتا جس کی وجہ سے حالات اتنے بگڑے اور بگڑتے جارہے ہیں۔ سارا غصہ مسلمانوں پر نکال دیتا ہے۔ مٹھی بھر دہشت گردوں کی وجہ سے پورے مذہب کو قصوروار نہیں مانا جاسکتا۔
بدقسمتی تو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مانگ امریکہ میں زور پکڑتی جارہی ہی۔ پیرس میں بھی مساجد میں پولیس کے چھاپے شروع ہوگئے ہیں۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ مسلم مذہب کے پیشوا یا یوں کہئے علماء مولانا دہشت گردی کے خلاف زور شور سے آوازیں اٹھائیں۔ ان کے ہمدردوں پر سخت نظر رکھیں، ان پر سختی کی جائے ناکہ پورے فرقے کو قصوروارٹھہرایا جائے یا اسلام کو ہی خطرہ بتایا جائے۔ اگر ایسا ماحول بنتا ہے تو بلا شبہ آئی ایس کے اثر میں آنے والے لڑکوں کو صحیح راستے پر لانے میں بھی کافی مدد ملے گی۔ اسلام کو بدنام ہونے سے بچانے کا خاص کام اسلامک مذہبی پیشواؤں کا ہے ۔
لشکر کی خودکش حملہ آور تھی عشرت جہاں
عشرت جہاں کیس پر گجرات کے اس وقت کے وزیر داخلہ امت شاہ اور گجرات پولیس کے کردار پر سوال اٹھے تھے۔ لشکر طیبہ نے بھی عشرت جہاں کو اپنی ویب سائٹ پر شہید کر درجہ دیا تھا۔ اب ممبئی پر26/11 آتنکی حملے کے ماسٹر مائنڈ لشکر طیبہ کے آتنکی ڈیوڈ ہیڈلی نے عشرت کے بارے میں بڑا خلاصہ کرکے اس کی تصدیق کی ہے کہ عشرت جہاں لشکر طیبہ کی آتنکی تھی۔ غور طلب ہے کہ ممبئی کی ایک عدالت نے ڈیوڈ ہیڈلی کو بدھوار کو معافی دے دی تھی اور اسے 26/11 ممبئی آتنکی حملے کے معاملے میں سرکاری گواہ بنایا ہے۔ ہیڈلی نے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے ) کو بتایا کہ2004 میں احمد آباد میں ماری گئی ممبئی کی لڑکی عشرت جہاں لشکرطیبہ کی فدائی حملہ آور تھی۔ اس خلاصے سے گجرات پولیس کے اس دعوے کی تصدیق ہوئی ہے جس میں عشرت کو دہشت گرد قراردیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ہیڈلی نے امریکہ میں یہ اطلاع این آئی اے اور محکمہ قانون کی چار پارلیمانی ٹیم کے ساتھ شیئر کی ہے۔ ہیڈلی نے بتایا تھا کہ عشرت جہاں لشکر کی فدائی دستے کی ممبر تھی جسے لشکر کے مزمل نام کے دہشت گرد نے اپنے دستے میں شامل کیا تھا۔عشرت جہاں کے انکاؤنٹر کو لیکر دیش میں بڑا تنازعہ چھڑ گیا تھا ہیڈلی کے اس انکشاف سے اس اشو پر چل رہی سیاست پر ڈراپ سین ہونا چاہئے لیکن اس سے شبہ ہے کہ یہ خود ساختہ سیکولر لیڈر اس تنازعے کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ یہ بات ڈیوڈ ہیڈلی نے کہی ہے جسے اس معاملے میں غیر جانبدار مانا جانا چاہئے۔
10 دسمبر 2015
سونیا ۔راہل گاندھی عدالت میں حاضر ہوں
ان دہشت گرد تنظیموں کے سلیپر سیل
ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط
سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
