Translater

31 دسمبر 2015

جنگل راج کی یاد دلاتا بہار میں قانون و نظم

قریب ڈیڑھ مہینے پہلے پانچویں بار بہار کی کمان سنبھالنے والے گڈ گورننس بابو عرف نتیش کمار کی رہنمائی میں مہا گٹھ بندھن کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ریاست میں بگڑتے قانون و نظم کا بن گیا ہے جو کہ لالو کے دور کے بہار میں جنگل راج کی یاد تازہ کرتا ہے۔ بہار میں پچھلے چار دنوں میں 3 قتل ہوچکے ہیں۔ بہار کے ویشالی ضلع میں ایک ٹیلی کمیونی کیشن انجینئر کی لاش ملی ہے۔ انکت جھا(42 سال ) نامی اس شخص کی گلا کاٹی لاش ملی تھی۔ پچھلے 4 دنوں میں یہ تیسرے انجینئرکا قتل ہے۔ دو دن پہلے دربھنگہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں دو انجینئروں کا دن دہاڑے قتل کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کو نتیش کمار کو آڑے ہاتھوں لینے کا موقعہ مل گیا۔ کہا جارہا ہے کہ ان تینوں کا قتل رنگ داری(زرفدیہ) نہ دئے جانے کے سبب ہوا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے گڈ گورننس بابو کے دعوؤں کی پول کھولتی ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ ریاست میں 2005 سے سڑک پروجیکٹس سے وابستہ اس پرائیویٹ کمپنی نے رنگ داری کو لیکر اس کے انجینئروں کو دھمکائے جانے کی نہ صرف شکایتیں کی تھیں بلکہ جس جگہ اس کا کام چل رہا ہے وہاں کچھ سکیورٹی ملازم بھی تعینات کئے گئے تھے جنہیں بعد میں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ اس واردات میں نومبر 2003ء میں قومی شاہراہ اتھارٹی کے ہونہارانجینئر ستندر دوبے کے قتل کی یاد دلا دی ہے، جنہیں بدمعاشوں نے سڑک تعمیرات میں کرپشن کے خلاف وزیر اعظم کے دفتر کو شکایت کرنے کے سبب نشانہ بنایا تھا۔
انجینئروں کے قتل سے پہلے ایک ڈاکٹر کو بھی زر فدیہ کے لئے دھمکانے اور ان کے گھر کے قریب گولی مارنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ ابھی نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو اقتدار سنبھالے کچھ ہی دن ہوئے ہیں اور کسی طرح کا نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہوگا لیکن اس سے اتنا تو ثابت ہورہا ہے کہ اگر نتیش بابو نے بلا تاخیر ریاست میں قانون و نظم بہتر نہیں کیا اور قتل کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر سبھی یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ بہار میں ایک بار پھر جنگل راج لوٹ رہا ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے ان واقعات کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے۔ پیر کے روز محکمہ داخلہ کی جائزہ میٹنگ میں انہوں نے پولیس کے اعلی افسران سے دو ٹوک الفاظ میں کہا سرکار قانون کا راج قائم کرنے کے لئے عہد بند ہے۔ ہر حال میں جرائم کے واقعات پر لگام لگائیں۔ وزیر اعلی اتنے ناراض تھے کہ انہوں نے محکمہ داخلہ کے پریزنٹیشن کو بھی نہیں دیکھا۔ ظاہر ہے نتیش کمار کے ساتھ ہی لالو پرسادکو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ انہیں یہ مینڈینڈ ترقی اور گڈ گورننس کے لئے ملا ہے۔ جنگل راج کے لئے نہیں۔ اتحادی سرکار کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ وہ جرائم پیشہ اور پھروتی مانگنے والے خطرناک گروہ کا خاتمہ کریں۔ اسی سے ان کی ساکھ بھی جڑی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

ملائم سنگھ یادو بنام اکھلیش یادو

اترپردیش میں حکمراں پارٹی سماجوادی پارٹی کے اندر کھینچ تان بڑھتی جارہی ہے۔ ایک طرف باپ بیٹے یعنی ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو میں ٹکراؤ چل رہا ہے تو دوسری طرف ورکر اور چھٹ بھیا نیتا اعلی کمان سے بغاوتی سر دکھانے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ بیچارے اکھلیش آدھا کام کرتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ان کی ٹانگ کھینچ لیتا ہے۔ ملائم اور اکھلیش میں ٹکراؤ کا یہ عالم ہے کہ سپا چیف کے آبائی گاؤں سیفئی میں سالانہ ہونے والا کلچرل فیسٹول سے بھی اس مرتبہ وزیر اعلی اکھلیش یادو غائب رہے۔ حالانکہ مکھیہ منتری کے سیفئی مہا اتسو افتتاحی تقریب میں نہ پہنچنے کے بارے میں سرکاری طور سے تو کوئی جانکاری نہیں دی گئی لیکن پارٹی ذرائع کی مانیں تو اکھلیش پارٹی کے پردیش صدر بھی ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ ان کے قریبی سمجھے جانے والے دو مسلم نوجوان لیڈر سنیل یادو اور سجن اور آنند بھدوریہ کے نکال دئے جانے سے صاف ہے کہ سجن سپا چھاتر سبھا کے قومی پردھان تھے جبکہ بھدوریہ لوہیا واہنی کے قومی صدر رہ چکے ہیں۔
ایٹہ کے پارٹی ایم ایل اے رامیشور یادو کے بیٹے سبوت یادو کو بھی ایتوار کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے پارٹی سے نکال دیاگیا ہے۔ 18 سال پہلے شروع ہوا سیفئی مہتسوپریش میں حکمراں یادو پریوار کا خاندانی جلسہ مانا جاتا ہے جس کی افتتاحی تقریب میں خاندان کے سبھی ممبران موجود رہتے ہیں۔ پچھلے بار بھی وزیر اعلی اکھلیش یادو اپنی ممبر پارلیمنٹ بیوی ڈمپل اور بچوں کے ساتھ موجود تھے۔یہ تقریب 11 جنوری تک چلے گی جس میں پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خاں اور غزل گو پنہاز مسانی اور بالی ووڈ کے بہت سے ایکٹر اپنے پروگرام پیش کریں گے اور کئی طرح کے کلچرل پروگرام بھی ہوں گے۔ دراصل پارٹی لیڈر شپ ریاست کی 74 ضلع پنچایتوں کے پردھانوں کے عہدے جیتنے کے لئے یہ ممکنہ داؤ چل رہی ہے۔ پارٹی نے ابھی تک69 ضلعوں کے لئے امیدوار اعلان کر دئے ہیں۔ سہارنپور ضلع میں پارٹی کے لیڈر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایسے میں لیڈر شپ کو اس ضلع میں چناؤ میں جیت حاصل کرنے کو لیکر شش و پنج بنا ہوا ہے۔ ادھر پارٹی کے ذریعے اعلان کردہ امیدواروں کو لیکر زیادہ تر اضلاع میں سبھی ممبر اسمبلی اور دیگر ذمہ دار لیڈر ہی کھل کر بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ اور ممبر اسمبلی اور نیتا اپنی بیوی بیٹے، بھائی بھتیجوں کو چناؤ لڑوانے کی جگت بٹھانے میں لگے ہیں۔ضلعوں میں بغاوت اس قدر بڑھ رہی ہے کہ اسمبلی پارٹی کے اعلان کردہ امیدواروں اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ مار پیٹ تک پر اتر آئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو کی بار بار کی گئی نصیحتوں کے باوجود سماجوادیوں کا خیمہ گروپ بندی کا شکار ہے۔ ملائم کی ہدایت پر شیو پال کارروائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کا سیدھا اثر اکھلیش سرکار کی کارگزاریوں پر رہا ہے۔
(انل نریندر)

30 دسمبر 2015

تنازعات سے شروع ہوا برس اور تنازعوں میں ہی ختم ہوا

سال 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں ملی کراری ہار کے بعد کانگریس کو بیشک اس سال بہار میں اتحاد کے ساتھ اقتدار میں سانجھے داری کانگریس کے لئے بیشک ایک امید کی کرن ضرور نظر آئی لیکن اسے چھوڑ دیں تو یہ برس پارٹی کیلئے جدوجہد بھرا رہا۔ اس سال کا خاتمہ دونوں کانگریس صدر اور نائب صدر کیلئے اچھا نہیں رہا۔ دہلی اسمبلی چناؤ میں اروند کیجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی کی آندھی نے بھاری جیت حاصل کی تھی۔ کانگریس کیلئے راحت کی بات صرف اتنی تھی کہ بھاجپا بھی بری طرح سے شکست خوار ہوئی۔ سال کے ابتدا میں 56 دن کی اپنی پراسرار چھٹیاں گزارنے کے باوجود راہل گاندھی نے پارٹی میں اپنی اہمیت بنائے رکھی اور سونیا گاندھی کانگریس پارٹی کی کمان راہل گاندھی کی مرضی کے مطابق کبھی بھی انہیں سونپنے کوتیار دکھائی دیں۔ لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کو 44 سیٹوں تک محدودکردینے والے وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے ماں بیٹا ہوا بنے رہے۔ سرکار اور حکمراں بھاجپا بالواسطہ غیر بالواسطہ طور پر گاندھی خاندان کو نشانہ بناتے رہے۔ اس سال کے دوران راہل نے آگے آکر مورچہ سنبھالا اور وہ مودی اور ان کے حکومت کے طریقے و پالیسیوں کے تیز ترار تنقید کرنے والے لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ راہل نے مودی کی سرکار کو سوٹ بوٹ کی سرکار کی تشبیح دے کر حکمراں پارٹی کو بے چین کردیا۔ سال کے ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ جانے پر پارٹی کے اخبار نیشنل ہیرالڈ معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کا حکم سونیا ۔ راہل گاندھی کے لئے ایک غیر متوقعہ جھٹکا تھا۔ راہل نے اسے سوفیصدی سیاسی رقابت کہہ کر مسترد کردیا۔ وہیں بھاجپا نیتاؤں نے اسے ایک قومی پارٹی کے اعلی سطحی کرپشن اور اس کے زوال پر توجہ واپس لے کر زبردست جھٹکا دیا۔ سال کے آخر ہوتے ہوتے سونیا گاندھی کے لئے اپنی ہی پارٹی کی میگزین ’’کانگریس درشن‘‘ شرمندگی کا سبب بن گئی۔ کانگریس پارٹی پیر کو اس وقت الجھن کی میں پڑ گئی جب ممبئی زونل کانگرسی کمیٹی کی طرف سے شائع اس میگزین میں پنڈت جواہر لال نہرو کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے گا اور سونیا گاندھی کے والدکو فاسسوادی فوجی بتاتے ہوئے متنازعہ رائے زنی کی گئی۔ تنازعہ ہونے پر میگزین ’’کانگریس درشن‘‘ کے مدیراور ممبئی کانگریس کمیٹی کے صدر سنجے نروپم نے معافی مانگی اور اداریہ کے چیف سدھیر جوشی کو برخاست کردیا گیا۔ کانگریس کے ترجمان ٹام وڈکن نے صفائی دی کہ یہ ہمارا ماؤتھ پیس نہیں ہے اور نہ ہی میگزین کانگریس کی ہے۔ یہ سب پارٹی کے 31 ویں یوم تاسیس پر ہوا۔ ’’کانگریس درشن‘‘ کے ہندی ایڈیشن میں شائع ایک آرٹیکل میں کشمیر، چین اور تبت کی حالت کے لئے نہرو پر الزام منڈ دیاگیا ہے۔ ایک دوسرا آرٹیکل سونیاکے بارے میں ہے اس میں سونیا کی شروعاتی زندگی کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے ان کی ایئر ہوسٹس بننے کی خواہش کے بارے میں لکھاگیا ہے۔ بتایا گیا ہے وہ کس طرح تیزی سے پارٹی صدر کے عہدے پر پہنچیں۔ لکھا ہے سونیا نے 1997ء میں کانگریس کی پرائمری ممبر شپ کے طور پر رجسٹریشن کرایا تھا اور 62 دنوں میں ہی وہ پارٹی کی صدر بن گئیں۔ انہوں نے سرکار بنانے کی ناکامی کوشش کی تھی۔ ان کے والد اسٹیفنو مایونوکے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ وہ دوسری جنگی عظیم میں ہاری اٹلی کے فوج کے ممبر تھے۔ وہ سابق فاسسوادی فوجی تھے۔ 2015ء کا آخر ہوتے ہوتے یہ ایک ایسا تنازعہ ہے جو 2016ء میں بھی جاری رہے گا اور سونیا اور راہل کو کرکری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیشنل ہیرالڈ کیس، رابرٹ واڈرا کی زمین سودے آنے والے سال میں گاندھی واڈرا پریوار کو ستاتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

کھودا پہاڑ نکلی چوہیا، وہ بھی مری ہوئی

کھودا پہاڑ اور نکلی چوہیا وہ بھی مری ہوئی۔ یہ حال ہوا ہے دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی کا جو پچھلے کئی دنوں سے مرکزی وزیر ارون جیٹلی کو ڈی ڈی سی اے گھوٹالے میں ملوث ہونے کا الزام لگا رہے تھے۔ پچھلے کئی دنوں سے کیجریوال اینڈ کمپنی نے نہ تو وزیر اعظم کو چھوڑااورنہ ارون جیٹلی کو۔ نکلا کیا؟ دہلی و ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) کے معاملوں میں دہلی سرکار کی خود جانچ کمیٹی نے اپنی رپورٹ دے دی ہے اس سرکاری رپورٹ میں مرکزی وزیر ارون جیٹلی کا نام کہیں بھی نہیں ہے۔ دہلی سرکار کے ویجی لنس محکمے کے پرنسپل سکریٹری چیتن سانگھی کی رہنمائی والی تین نفری کمیٹی کی 237 ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے ڈی ڈی سی اے پر بڑی تعداد میں الزامات کودیکھتے ہوئے بی سی سی آئی کو اس کرکٹ ادارے کو فوراً معطل کیا جائے۔ رپورٹ میں جیٹلی کا تذکرہ کئے بغیر کمیٹی ڈی ڈی سی اے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں کئی ریمارکس دئے گئے ہیں۔ جیٹلی 1999ء سے2013ء کے درمیان جب ڈی ڈی سی اے کے چیئرمین تھے تو یوپی اے عہد میں سنگین دھوکہ دھڑی کی جانچ دفتر کے ذریعے کی گئی ۔ جانچ میں بھی ارون جیٹلی کے خلاف کچھ نہیں پایا گیا تھا۔ بھاجپا نے ریاستی سرکار کے ذریعے قائم تین نفری جانچ کمیٹی میں ارون جیٹلی کا نام نہ آنے کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی سرکار پر اوچھی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ پارٹی نے کہا کہ رپورٹ آنے کے بعد یا تو کیجریوال ایمانداری سے عدالت میں اپنی غلطی مانتے ہوئے معافی مانگیں یا پھر ہتک عزت کے طور پر 10 کروڑ روپے کا جرمانہ بھرنے کو تیار رہیں۔ رپورٹ سے صاف ہوگیا ہے کہ پورے معاملے میں وزیر اعلی اروند کیجریوال جھوٹی سیاست کرتے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اروند کیجریوال کو نہ تو عہدے کی ساکھ کی فکر ہے اور نہ ہی اپنے بھروسے کی۔ جس دن سے انہوں نے عہدہ سنبھالا ہے ایسے ہی الٹے سیدھے الزام لگاتے آرہے ہیں۔ زبان تو بالکل سڑک چھاپ اسٹائل کی ہے۔ انگریزی میں کہاوت ہے ’شوٹ اینڈ اسکوٹ‘ یعنی الزام لگاؤ اور بھاگ جاؤ۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری پر بھی اسی طرح کے الزامات کی بوچھار کی گئی تھی۔ جب معاملہ عدالت میں الزامات ثابت کرنے کا آیا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔ آخرمیں گڈ کری سے معافی مانگنی پڑی۔ اس معاملے میں بھی یہ ہی ہوگا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے لیکن شاید شری کیجریوال کولگتا ہو کہ ان کے حمایتیوں کو اسی طرح کی زبان پسند ہے۔ ان کا ایک واحد مقصد جھوٹے الزام لگا کر مودی سرکار کو بدنام کرنے کا لگتا ہے۔ اس چکر میں وہ اپنے جتنا نقصان کررہے ہیں اس کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔
(انل نریندر)

29 دسمبر 2015

روس ہمیشہ بھارت کا بھروسے مند دوست رہا ہے

عالمی پس منظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کا روس دورہ اہمیت سے کم نہیں مانا جاسکتا۔ آج نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن اس وقت دنیا کے سب سے دو بڑے قد آور لیڈر ہیں جنہوں نے اپنی کڑی محنت اور پختہ عزم کا کئی بار ثبوت دیا ہے۔ اس لحاظ سے وزیر اعظم مودی نے صحیح ہی کہا ہے کہ میں اور پوتن ایک جیسے ہیں۔ پی ایم نے پوتن اور اپنے سیاسی سفر کے درمیان یکسانیت بتاتے ہوئے کہا کہ پوتن نے بھی 2000 ء میں کمان سنبھالی تھی اور میں نے2001 ء میں۔ میں نے پی ایم اٹل بہاری واجپئی کے ڈیلیگیشن کا حصہ بن کر بطور وزیر اعلی روس کا دورہ کیا تھا وہ میری اور پوتن کے درمیان پہلی ملاقات تھی۔ جب بھی میں روس جاتا ہوں میرے دماغ میں یہ خیال آتا ہے کہ میں نے اس دورہ میں تھوڑی دیر کردی۔ دوسرا مجھ میں تھوڑی ہچکچاہٹ بھی ہے۔ مگر میں اس بات سے بھی خوش ہوں کہ ایک دوست کے گھر جارہا ہوں۔ مشکل گھڑی میں ملی روس کی سپورٹ پر مودی کا کہنا ہے کہ بھارت کو کبھی یہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں پڑی کہ روس کچھ معاملوں پر ہمیں حمایت دے گا یا نہیں۔ روس بھارت کا ایک مضبوط اور بھروسے مند دوست رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان صحیح معنوں میں فوجی سانجھے داری ہے۔ بھارت اور روس کے درمیان ثقافتی رشتوں کی لمبی تاریخ رہی ہے۔ روس مشکلات کے وقت ہمیشہ بھارت کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ نیوز ایجنسی’عطرطاس‘ نے پوتن کے حوالے سے کہا کہ باہمی رشتے سبھی میدانوں میں بڑھ رہے ہیں جس میں عالمی سیاست ،اقتصادی ، انسانی اہمیت کے حامل سیکٹر شامل ہیں۔ تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ سوویت یونین کے بکھراؤ کے بعد امریکہ دنیا کا سب سے طاقتور دیش بن گیا۔ امریکہ کی عادت ہے کہ وہ عالمی سیاست میں اپنا دبدبہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ کبھی کبھی بھارت بھی اس کے زیر اثر آجاتا ہے لیکن اپنے مفادات کے مطابق عالمی سیاست کو چلانا چاہتا ہے۔ بھارت پر وہ اسی حکمت عملی کے تحت ناجائز و جائز دباؤ ڈالتا رہتا ہے۔ امریکی برتریت کو توڑنے کا صحیح طریقے ہے روس اور بھارت و جاپان قریب آئیں اور مشترکہ خارجہ پالیسی اپنائیں۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ولادیمیر پوتن پہلے ایسے روسی صدر بنے ہیں جو اپنی بات رکھنے سے نہیں کتراتے۔ انہوں نے مشرقی وسطیٰ میں شام اور بشرالاسد کو لیکر امریکہ کو اس کی حکمت عملی کی حمایت کرنے پر مجبور کیا۔ امریکہ میں صدر براک اوبامہ کا عہد ختم ہونے والا ہے ، نئے صدر کے چناؤ کے بعد پتہ چلے گا کہ امریکہ کیسے بین الاقوامی سیاست کرتا ہے۔ اس لحاظ سے مودی کا روس دورہ خاص اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ ہم پی ایم مودی کو اس کامیاب روس دورہ پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ دونوں دیشوں کے آپسی رشتوں میں نئی مضبوطی آئے گی۔
(انل نریندر)

ہر سال نابالغ بچے بچیاں ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ ہوتے ہیں

اپنوں کی تلاش میں قریب20 برسوں کے بعد گیتا بھارت لوٹی تو دہلی سے اندور تک خوشیاں منائی جانیں لگیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت وزیر اعلی اروندکیجریوال نے نہ صرف گیتا بلکہ اس کے ساتھ آئے ایدی فاؤنڈیشن کے ممبران سے گیتا کے پاکستان میں رہائش کے بارے میں تفصیلات سنیں۔ گیتا تو خوش نصیب ہے اور ہائی پروفائل کیس ہونے کے سبب اسے اپنے رشتے داروں سے ملوانے کیلئے بھارت سرکار و پورا دیش ساتھ کھڑا ہوگیالیکن آج بھی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی سینکڑوں گیتا گمشدگی کے اندھیروں میں کھوئی ہوئی ہیں۔ ان کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے۔ خاندان در در کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں اور ڈھونڈنے میں لگے ہیں۔ ایک رضاکار تنظیم ’نو سرشٹھی‘ نے بچوں کی گمشدگی سے متعلق معلومات کیلئے اطلاعات حق (آرٹی آئی) کا سہارا لیا ہے۔جواب میں دہلی پولیس نے بتایا کہ پچھلے برس 1 جنوری سے31 دسمبر 2014ء کے درمیان 18 برس کی عمر تک کے 3409 گمشدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی رہی ہے۔ گذشتہ برس2050 لڑکیاں لا پتہ ہوئی ہیں جبکہ 1359 لڑکے لاپتہ ہوئے۔بچوں کی گمشدگی کے معاملے میں دوسرے تیسرے اور چوتھے نمبر پر باہری اور مشرقی دہلی اضلاع رہے جہاں سلسلہ وار 418 ،400 اور 334 نابالغ بچیاں لاپتہ ہوئیں۔راحت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے 1164 لڑکیوں، 843 لڑکوں کو برآمد کرنے میں کامیابی پائی لیکن ابھی بھی 886 لڑکیاں اور 516 لڑکے سمیت 1402 نابالغ بچے بچیاں لاپتہ ہیں۔ان کی تلاش میں دہلی پولیس نے ’’آپریشن ملاپ‘‘ سے لیکر کئی دیگر مہم چلائی ہیں۔ حالانکہ آر ٹی آئی میں صرف7 اضلاع میں نابالغ بچوں کی گمشدگی سے متعلق اعدادو شمار دئے گئے ہیں۔ سماجی رضاکار تنظیم نے بتایا کہ ساؤتھ دہلی سمیت کئی اضلاع نے کوئی جواب نہیں دیا۔ویسٹ دہلی میں گزشتہ برس گمشدہ 323 لڑکیوں کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا۔اسی طرح باہری دہلی میں 256 ، ساؤتھ ایسٹ دہلی میں 198، مشرقی دہلی 146، ساؤتھ ویسٹ میں 178 اور نارتھ دہلی 92 ، سینٹرل دہلی سے21 لاپتہ لڑکیوں کا کوئی سراغ نہیں لگ پایا۔ آج دیش میں کئی ایسے گروہ ہیں جو نابالغ لڑکے لڑکیوں کا اغوا کرلیتے ہیں۔ لڑکیوں کو یا تو بیچ دیا جاتا ہے یا پھر انہیں جسم فروشی میں جھونک دیا جاتا ہے، لڑکوں کو جرائم کی دنیا میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ گروہ ہر وقت ایسے بچوں کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی بچوں کو اکیلا پاتے ہیں اٹھا لے جاتے ہیں۔ کچھ گروہ چھوٹے بچوں کو ٹافی، مٹھائی و کھلونوں کا لالچ دے کر اٹھا لے جاتے ہیں۔ پولیس تو اپنا کام کررہی ہے لیکن ماں باپ، سماج کو بھی زیادہ بیدار ہونا پڑے گا۔ بچے کہاں ہیں، کہاں کھیل رہے ہیں، انجانے لوگوں کے ساتھ کہیں بھی جانے سے روکا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2015

پرانے بھروسے مند روس سے رشتوں میں نیا باب!

روس ایک ایسا ملک ہے جس نے ہندوستان کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے۔ کئی موقعے آئے جب بھارت اپنے آپ کو اکیلا محسوس کررہا تھا۔ پہلے سوویت یونین اور پھر بعد میں روس نے بھارت کو تنہا ہونے سے وزیر اعظم نریندر مودی کے روس دورے سے پرانے دوست کے ساتھ نئے رشتوں میں تازگی آگئی ہے۔ آج ایک طاقتور اور بااثر دیش کے طور پر ابھر رہے روس کے صدر ودلایمیر پوتن کی قیادت میں نئی توانائی ملی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کی طرح پوتن بھی دلیر لیڈر ہیں جو کوئی بھی قدم اٹھانے سے نہیں گھبراتے،ضرورت کے حساب سے جو بھی قدم روس کے مفاد میں ہو اٹھا لیتے ہیں، چاہے کسی کو پسند آئے یا نہیں۔یہ بھی صحیح ہے سوویت یونین کی تقسیم کے بعد امریکہ آج ترجیحات کے حساب سے اول ہوگیا ہے۔ بھارت ۔ روس کی دوستی پرانی اور آج بھی برقرار ہے۔ وزیر اعظم مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 16ویں ہند۔ روس چوٹی کانفرنس کے موقعے پر ڈیفنس اور نیوکلیائی سمجھوتوں سمیت کل16 معاہدوں پر دستخط کئے۔ معاہدوں کے بارے میں غور کریں تو وہ مودی کے ’’میک ان انڈیا‘‘ کے پیش نظر بھارت میں اقتصادی خاکے کو مضبوطی دیتے ہیں۔ سب سے پہلے اہم یہ ہے کہ جو بھی سمجھوتے بھارت اور روس کے درمیان ہوئے ہیں ڈیفنس توانائی اور تجارت سے وابستہ ہیں۔ توانائی کے حامل ملک بھارت کے لئے نیوکلیائی بھٹیوں کے قیام میں بھارت کو توانائی بڑھانے میں مدد دے گا۔ بھارت کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے وہیں ڈیفنس سیکٹر میں کامیودوف 226 ہیلی کاپٹر کا دیش میں بننے اور ایس۔400 ہوائی ڈیفنس تکنیک پانے کے ساتھ ساتھ نیوکلیائی ضروریات کے لئے ہوئے معاہدے ہماری ڈیفنس صلاحیت کو بڑھاوا دیں گے۔ آج بھی ہمارے ڈیفنس سیکٹر میں سب سے زیادہ انحصار روسی سازرو سامان پر ہے۔ اسپیئر پارٹس بھی بھارت کیلئے ضروری ہیں۔ جہاں تک کاروبار کی بات ہے تو کاروبار بھی 10 بلین ڈالر سے بڑھ کر 30 بلین ڈالر کا نشانہ رکھا گیا ہے۔ روسی کمپنیاں بھارت میں اپنا کاروبار بڑھائیں گی جس سے نہ صرف دیش میں اقتصادی ترقی ہوگی بلکہ نئے روزگار کے مواقعے ملیں گے۔ ان معاہدوں کی عالمی پس منظر میں کہیں زیادہ اہمیت ہے۔ ہندوستانی بر صغیر سے رہ کر وسطی ایشیا کی جغرافیائی نیوکلیائی حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں اس میں بھارت۔ روس دوستی کی اپنی ہی اہمیت ہے۔ چین کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لئے نریندر مودی نے جو ہند۔ روس اور جاپان سے ملا کر ایک گروپ بنایا اس میں ضرور مدد کرے گا اورآئی ایس کے بڑھتے اثر کو روکنے میں روس ۔بھارت کا اتفاق دہشت گردی انسداد کمپین میں مدد کرے گا۔روس کے لئے بھارت کیحمایت اس وقت پوتن کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے شام میں مداخلت سے مغربی ممالک خاص کر امریکہ ناراض ہیں۔ مودی کی موجودگی اور پائیدار اجتماعیت اور کثیر المقاصد دنیا کے سانجھے دار اور بھارت کی قدم بقدم ترقی طے کرنے میں جس طرح روس کی نشاندہی کی ہے، اس سے نہ صرف یقینی طور پر بلکہ ہند۔روس کی پرانی دوستی تازہ ہوئی ہے جبکہ دنیا کے اس وقت دو سب سے بڑے نیتاؤں نے مل کر ساری دنیا کو نیا اشارہ دیا ہے۔ مودی کا کامیاب دورہ روس کی سراہنا کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

بدمعاشوں کا بڑھتا حوصلہ: کورٹ میں فائرنگ

آج کل ان مافیہ اور بدمعاشوں کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ یہ اب عدالت کے اندر بھی گولہ باری سے نہیں ڈرتے۔راجدھانی میں اپنی نوعیت کی پہلی واردات میں مجسٹریٹ کے سامنے قتل ہوگیا۔گھناؤنے جرائم میں لڑکوں کو بالغوں کی طرح سزا دینے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون پاس ہونے کے ٹھیک24 گھنٹے بعد 4 نابالغوں نے اس ہمت بھری واردات کو کڑکڑ ڈوما عدالت میں انجام دے ڈالا۔ بدھ کے روز کڑکڑ ڈوما کورٹ میں رونگٹے کھڑے کردینے والی اس واردات میں ہتھیاروں سے مسلح بدمعاشوں نے کٹہرے میں کھڑے ایک بدمعاش پر گولیوں کی بوچھار کردی۔ بدمعاش کو بچانے کے چکر میں دہلی پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل رام کنور مینا شہید ہوگیا۔واردات کے بعد ملزمان نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن دو بدمعاشوں کو کورٹ روم میں ہی لوگوں نے دبوچ لیا اور پیٹ پیٹ کر ادھ مرا کردیا۔ دیگر دو بدمعاشوں کو وکیلوں نے گھیر کر پولیس کے حوالے کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چاروں ملزم نابالغ ہیں۔ کڑکڑ ڈوما کورٹ کی چھٹی منزل پر73 نمبر کورٹ کے میٹرو پولیٹن کرمنل مجسٹریٹ سنیل گپتا کی عدالت میں بدنام زمانہ بدمعاش عرفان عرف چھینو پہلوان کی پیشی تھی۔ اس درمیان ایک لڑکا وہیں پر کھڑا رہا ، تینوں نے عرفان کی طرف تابڑ توڑ گولیاں برسانی شروع کردی۔ چھینو نے خود کو بچانے کے لئے مینا کو ڈھال بنا لیا۔ مینا کے پانچ گولیاں لگیں جبکہ خود چھینو کو تین گولیاں لگیں۔ اس دوران ایک گولی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سنیل گپتا کے پاس سے بھی گزرنی اور وہ کورٹ سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔کچھ سال پہلے انبالہ میں دھماکو سامان سے لدی ایک سرکار برآمد ہوئی تھی، چھان بین سے پتہ چلا کہ کار سے کڑکڑ ڈوما کورٹ کی بلڈنگ اڑانے کی سازش تھی۔ سازش تب متعلقہ عدالت میں چل رہے سکھ دنگوں سے جڑی تھی۔تب عدالت کی سکیورٹی بیحد سخت کی گئی تھی۔ جگہ جگہ بنکر بناکر کمانڈو تعینات کئے گئے۔ چپے چپے پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے۔ ڈی سی پی سطح کے افسر کو کورٹ کی سکیورٹی کا انچارج بنایا گیا۔ کورٹ کے لئے پولیس چوکی بھی ہے اس کے باوجود کورٹ میں ہتھیار جانا، فائرنگ اور قتل کی واردات سے عدالتوں کی حفاظت پر کئی سنگین سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ کورٹ کے باہر مضبوط سکیورٹی انتظام ہونا چاہئے، کورٹ کے اندر جو بھی پولیس والا و دیگر ملازم ہوتے ہیں انہیں چست رہنا پڑے گا کیونکہ ان کی زیادہ توجہ مقدمات میں ملائی کاٹنے پر ہوتی ہے۔ان سے سکیورٹی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ان کی جگہ ایسے ملازمین کی تعیناتی ہونی چاہئے جو اپنی ڈیوٹی ذمہ داری اور چستی کے ساتھ نبھائیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس چوکی کا اسٹاف بھی بڑھانے کی سخت ضرورت ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اب بدمعاشوں کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ انہیں وردی (یونیفارم) کا بھی خوف نہیں رہا۔ نہ ہی عدالت میں مجسٹریٹ کا۔ تکلیف دہ پہلویہ بھی ہے کہ حملہ آور نابالغ تھے۔ شکر ہے مجسٹریٹ صاحب اس حملے میں بچ گئے۔ ہم شہید تیسری بٹالین کے کانسٹیبل رام کنور مینا کی شہادت کو سلام کرتے ہیں اور ان کے خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
(انل نریندر)

26 دسمبر 2015

بے لگام کیرتی آزاد کا یہی حشر ہونا تھا

آخر کار بے لگام دربھنگہ سے چن کر آئے ایم پی کیرتی آزاد کو پارٹی ڈسپلن شکنی اور ہدایت کو نظرانداز کرنے و اپنی سرکار اور پارٹی کیلئے مشکلیں کھڑا کرنے کے الزام میں پارٹی کی ابتدائی ممبر شپ سے فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ انہیں خط لکھ کر پارٹی نے بتایا ہے کہ وہ پچھلے کچھ برسوں سے مسلسل اپوزیشن کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن کر نہ صرف اپنی ہی سینئر لیڈر شپ پر بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں بلکہ پارلیمنٹ اور سرکار کی بھی کرکری کرا رہے ہیں۔ کیرتی آزاد کو ڈی ڈی سی اے کی ورکنگ کمیٹی سے بیشک شکایت ہوسکتی ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا لیکن اس کی آڑ میں انہوں نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو زبردستی نشانہ بنانے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ ارون جیٹلی کو یوپی اے سرکار کے عہد میں ہی کلین چٹ مل چکی ہے۔ آج تک کیرتی آزاد نے ایک بھی ایسا دستاویز پیش نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ ارون جیٹلی سیدھے طور سے ڈی ڈی سی اے گھوٹالے سے وابستہ ہوں یا پھر انہوں نے کوئی پیسے کا گھوٹالہ کیا ہو۔ آج کیرتی آزاد جو کچھ بھی کرررہے ہیں ان میں ان کی جیٹلی کے تئیں نجی تلخی زیادہ جھلکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دیگر سیاسی اسباب (ذاتی دشمنی) سے حساب کتاب کرنے میں جٹے ہیں۔ جس طرح سے اروند کیجریوال اور کیرتی آزاد ایک آواز میں بول رہے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ اندر خانے ملے ہوئے ہیں۔ سوال یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کیجریوال کو ڈی ڈی سی اے سے متعلق یہ دستاویز کس نے دئے ہیں؟اروند کیجریوال کیرتی آزادکو پارٹی سے معطل کرنے پر ہائے توبہ مچا رہے ہیں کیا وہ بتائیں گے کہ ان کی پارٹی میں باغیوں سے کیا برتاؤہوتا ہے؟ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن کو کس طرح گالیاں دے کر بے عزت کرکے نکالا تھا، شاید وہ بھول گئے ہیں۔ آج عام آدمی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے لئے کیرتی آزاد آنکھوں کا تارا بن گئے ہیں۔ پہلے تنظیم سکریٹری جنرل رام لال اور پھر خود بھاجپا قومی صدر امت شاہ کو سمجھانے کے باوجود کیرتی آزاد نے پریس کانفرنس بھی کی تھی اور لوک سبھا میں وزیر مالیات کے بیان پر چپ رہنے کے بجائے ایس آئی ٹی جانچ کی مانگ بھی کر ڈالی ہے۔ شاہ اور خود وزیر اعظم نریندر مودی جیٹلی پر بھروسہ اور ان کے پیچھے کھڑا ہونے کی بات کرچکے ہیں لیکن کیرتی آزاد کا رخ بغاوتی بنا ہوا ہے۔ کیرتی آزاد کو لکھے خط میں پارٹی نے کہا کہ ان کے برتاؤ کی وجہ سے پارٹی کی کرکری ہوئی ہے۔ یہ تو سبھی مانیں گے کہ ڈسپلن شکنی سبھی پارٹی اور شخص خاص کے لئے ضروری ہے، لیکن کیرتی نے اس کی خلاف ورزی کی ہے جس سے یہ اندیشہ پختہ ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے ہاتھ مہرہ بن گئے ہیں۔ کیرتی آزاد کو پارٹی سے اس لئے معطل کیاگیا ہے کہ انہوں نے وارننگ کے باوجود بار بار پارٹی ڈسپلن شکنی کی ہے نہ کہ اس لئے کہ وہ کرپشن کو بے نقاب کررہے ہیں۔ ارون جیٹلی بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ڈی ڈی سی اے میں اگر کوئی کرپشن یا بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو اس کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے پانچ دیگر لیڈروں کے خلاف باقاعدہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں دیوانی اور فوجداری اور ہتک عزت کے مقدمے درج کرائے ہیں اور نقصان کی تکمیل کے طور پر10 کروڑ روپے کی مانگ کی ہے۔ اگر دہلی کے وزیر اعلی اور کیرتی آزاد کے پاس جیٹلی کے کرپشن کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں تو عدالت میں ثابت کریں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ یوں ایک عزت دار اور سینئر لیڈر کو بے عزت کرنے سے باز آئیں۔
(انل نریندر)

16 سال کی عمر میں بھی اب سخت سزا!

آخر کار دیش اوردنیا کو دہلا دینے والے گھناؤنے نربھیہ کانڈ جیسے جرائم میں نابالغوں کے شامل ہونے پر ان کے خلاف بالغ جرائم پیشہ افراد جیسا برتاؤ کرنے سے متعلق بل منگل کے روز راجیہ سبھا میں پاس کردیا۔لوک سبھا پہلے ہی اس کو پاس کرچکی تھی۔ بیشک جوینائل جسٹس ایکٹ نام سے مقبول ہوا یہ بل جن حالات میں پاس ہوا اس پر تشفی ظاہر نہیں کی جاسکتی۔ لوک سبھا میں اس بل کو دو اجلاس پہلے اسی برس مئی میں پاس کردیا گیا تھا لیکن کانگریس کی ضد اور زبردستی کی سیاست کے سبب سخت قانون کی کمی میں ایتوار کو ہی نربھیہ کے نابالغ ماسٹر مائنڈ قصوروار کو اصلاح گھر سے مجبوراً رہا کرنا پڑا۔ جب وہ رہا ہوگیا اور نربھیہ کے والدین نے موثر ڈھنگ سے اس کے خلاف احتجاج کیا تب جاکر کانگریس اور دیگر پارٹیوں کو ہوش آیا۔ انہوں نے آناً فاناً میں نیا بل پاس کروادیا۔ اس سیشن میں بھی یہ بل تین بار فہرست میں درج کیاگیا لیکن اپوزیشن پارٹی اور خاص کر کانگریسی ہنگامہ کرتے رہے۔ یہ سارے دیش کے لئے نہایت شرم کی بات ہے کہ ہم سیاست کے سبب دیش کو اور زیادہ شرمسار کرنے والے دہلی کے اجتماعی گینگ ریپ معاملے میں شامل رہے نابالغ کی رہائی ہوگئی۔ اس بل کے قانون بننے پر 7 سال یا اس سے زیادہ سزا کی سہولت گھناؤنے جرائم میں 16 سال سے اوپر کے لڑکوں پر بھی بالغ مجرموں کی طرح مقدمہ چلے گا۔ جن جرائم میں 7 سال یا اس سے زیادہ کی سزا کی سہولت ہے انہیں گھناؤنے جرائم کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ اس بل میں گھناؤنے جرائم کرنے والے 16 سے18 سال کے لڑکوں کے خلاف بالغوں کی طرح مقدمہ چلانے کی سہولت ہوگئی ہے۔ اس میں قتل ،بدفعلی، اغوا اور ڈکیتی، تیزابی حملے جیسے جرائم کو گھناؤنے جرائم میں شمارکیا گیا ہے حالانکہ ان جرائم کے قصوروار نابالغ کو زیادہ سے زیادہ 7 اور10 سال کی سزا ہوگی۔ بل کو پیش کرتے ہوئے خواتین و اطفال بہبود ترقی محترمہ مینکا گاندھی نے کہا کہ اس کا مقصد نابالغوں کے ذریعے کئے جانے والے جرائم سے نمٹنا ہے۔ اس سے ہی انہیں صحیح راستے پر لانے کے قدم بھی اٹھائے گئے ہیں۔ جوینائل جسٹس بورڈ یہ فیصلہ کرے گا کہ آبروریزی اورقتل جیسے سنگین معاملوں میں نابالغ کے شامل ہونے کے پیچھے منشا کیا تھی؟ بورڈ طے کرے گا کہ یہ حرکت بالغ ذہنیت سے کی گئی یا بچپنے میں، کچھ ترمیم بھی کی گئی ہیں لیکن سبھی مسترد ہوگئیں۔ ویسے بتا دیں کہ کچھ دیگر ممالک میں اس بارے میں قانون ہے۔ چین میں 14 سال سے کم عمر کے لڑکوں سے پوچھ تاچھ نہیں کی جاسکتی۔15 سال سے کم عمر کے لڑکوں کو حراست میں بھی نہیں رکھا جاسکتا۔ پاکستان میں 18 سال سے کم عمر کے لڑکوں کو حراست میں نہیں لیا جاتا۔ سری لنکا میں 16 سال سے کم عمر کے لڑکوں کی گرفتاری نہیں کی جاسکتی، ایسے ہی بنگلہ دیش میں بھی گرفتاری پر روک ہے۔ بھارت میں گزرتے برس یعنی 2014ء میں نابالغوں کے خلاف دیش بھر میں38565 معاملے درج ہوئے۔ یہ جانکاری وزیر مملکت ہری بھائی پارتھی بھائی چودھری نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔ جوینائل جسٹس ایکٹ میں ترمیم وقت کی ضرورت تھی۔ اگر وقت رہتے پورا کیا جاتا تو دیش میں کہیں زیادہ تشفی ہوتی۔ تین سال گزرنے کے بعد میں نربھیہ کے ملزم کورٹ کچہری میں پھنسے ہوئے ہیں۔ قانون تو بن گیا ٹھیک ہے لیکن جب تک ہم اپنے دیش کا عدلیہ نظام بہتر نہیں کرتے معاملوں میں نہ تو متاثرہ کو انصاف ملے گا اور نہ ہی دوسروں کے لئے سبق۔ پھر سماج بھی اپنی ذمہ داریوں سے بچ نہیں سکتا۔ سارا قصور پولیس اور انتظامیہ کا یہ کہنا بھی غلط ہے۔ صاف ہے کہیں نہ کہیں سماج کو بھی اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اس طرح جرائم پر روک لگانے کیلئیکنبہ جاتی سشح پر بھی احتجاج برتنے اور موضوع ماحول کو بہتر بنانا انتہائی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2015

کثیر شادی کیلئے قرآن کی غلط تشریح نہ کریں: عدالت

ویسے تو ہمارے مسلم سماج میں بہت بیداری آچکی ہے اور عام طور پر ہمارے زیادہ تر مسلمان بھائی ایک ہی شادی کرتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کم پڑھے لکھے پسماندہ طبقے سے جڑے مسلمان آج بھی ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں۔ اور ایسا کرنے کے لئے قرآن شریف کا غلط سہارا لیتے ہیں۔ حال ہی میں گجرات ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں ایک اہم تبصرہ کیا۔ گجرات ہائی کورٹ نے کڑے الفاظ میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کیلئے مسلم مردوں کے ذریعے قرآن شریف کی غلط تشریح کی جارہی ہے اور یہ لوگ مفاد پرستی کی وجہ سے کثیر شادیوں کی شق کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ جسٹس جے۔ وی پاردیوالا نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے جب ملک کامن سول کوڈ کو اپنانے کیونکہ ایسی گنجائشات آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس نے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ494 سے جڑے آرڈر سناتے ہوئے یہ تبصرے کئے۔آئی پی سی کی یہ دفعہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے سے جڑی ہے۔ اپیل کنندہ جعفر عباس مرچنڈ نے ہائی کورٹ سے رجوع کرکے اس کے خلاف اس کی بیوی کے ذریعے درج کرائی گئی ایف آئی آر کو خراج کرنے کی گزارش کی تھی۔ بیوی نے الزام لگایا تھا کہ جعفر نے اس کی مرضی کے بنا کسی دیگر خاتون سے شادی کی ہے۔ایف آئی آر میں جعفر کی پتنی نے اس کے خلاف آئی پی سی کے دفعہ 494 (شوہر یا بیوی کے زندہ رہتے ہوئے دوبارہ شادی کرنا)کا حوالہ دیا۔ حالانکہ جعفر نے اپنی اپیل میں دعوی کیا تھا کہ مسلم پرسنل لاء مسلمانوں کو چار بار شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اسی لئے اس کے خلاف دائر ایف آئی آر جانچ کے دائرے میں نہیں آتی۔جسٹس پاردیوالا نے اپنے آرڈر میں کہا مسلمان مرد ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے لئے قرآن کی غلط تشریح کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں جب کثیر شادی کی اجازت دی گئی تھی تو اس کی ایک مناسب وجہ تھی۔ آج جب مرد اس گنجائش کا استعمال کرتے ہیں تو وہ ایسا مفاد کی وجہ سے کرتے رہیں۔ کثیر شادی کا قرآن میں صرف ایک بار ذکر کیا گیا ہے اوریہ شرط کثیر شادی کے بارے میں ہے۔ عدالت نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ وہ ایک بیوی کے ساتھ غلط سلوک کرے۔ اسے گھر سے باہر نکال دے، جہاں وہ بیاہ کر آئی تھی اور اس کے بعد دوسری شادی کرلے۔ حالانکہ ایسی حالت سے نمٹنے کے لئے دیش میں کوئی قانون نہیں ہے اس دیش میں کوئی کامن سول کوڈ نہیں ہے۔ عدالت نے اپنے آرڈر میں کہا جدید پرگتی شیل سوچ کی بنیادپر بھارت کو اس رسم کو ختم کرنا چاہئے اور کامن سول کوڈ قائم کرنا چاہئے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے دوسری جانب کہا کہ دیش کے مسلمان عدالتوں کا سنمان کرتے ہیں لیکن شرعی معاملوں میں عدالتوں کی دخل اندازی غیرضروری ہے جسے کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ لاء بورڈ کے سکریٹری و اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ قانون بنانا عدالتوں کا کام نہیں ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ مسلم پرسنل لاء میں بدلاؤ کئے جانے کی ضرورت ہے، غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کی عزت کرتے ہیں لیکن عدالتوں کو اپنی حد پار کرنے کی جو کوشش کی جارہی ہے وہ فکر کا موضوع ہے۔دیش میں اس وقت مسلمانوں کو بے وجہ پریشان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو قابل مذمت ہے۔مولانا نے سپریم کورٹ کے مسلم پرسنل لاء کے طلاق و کثیر شادی کے معاملے کی سنوائی کرنے کے فیصلے پر کہا کہ قانون بنانا عدالتوں کا کام نہیں ہے۔ آئین کے مطابق دیش کے مسلمانوں کو جو حق دئے گئے ہیں ان کی خلاف ورزی کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔
(انل نریندر)

بدرپور پاور پلانٹ بند کرنے سے بلیک آؤٹ کا مسئلہ

کبھی کبھار جلد بازی اور دباؤ میں لیاگیا فیصلہ بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ اب دہلی سرکار اور اس کے پالوشن کنٹرول مشن کا بھی حال ایسا ہی ہونے والا ہے۔این جی ٹی (نیشنل گرین ٹریبیونل) اور دہلی ہائی کورٹ کے سخت رخ کے بعد کیجریوال سرکار نے بدرپور اور راج گھاٹ تھرمل پلانٹ کو بند کرنے کا فیصلہ تو جلدی میں لے لیا ، پراین ٹی پی سی کی رپورٹ تو ایک الگ خوفناک تصویر پیش کررہی ہے۔ حال میں بدرپور تھرمل پاور پلانٹ کو نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن (این ٹی پی سی) کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ یہ پاور اسٹیشن 759 میگا واٹ کی صلاحیت والا ہے۔ابھی حال میں یہاں پر قریب550 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہورہی ہے۔ حالانکہ دہلی سرکار کی نظر میں یہاں سے 250 سے 300 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہورہی ہے۔ اس بات کے مدنظر دہلی سرکار نے پالوشن کنٹرول مشن کے تحت بدر پور پاور پلانٹ کو بند کرنے کا فیصلہ لے لیا۔اس کے فیصلے سے لگتا ہے کہ سرکار کی سوچ یہ ہے کہ اتنی بجلی باہر سے خرید لیں گے۔ اس کے بجٹ پر اتنا اثر نہیں پڑے گا کہ سرکار اسے برداشت نہ کرسکے۔ یعنی سرکار کی نظر میں اسے بند کرنا کوئی زیادہ مشکل فیصلہ نہیں ہے۔ 4 نومبر کو اس بارے میں منعقد پریس کانفرنس میں دہلی سرکار کے چیف سکریٹری کے۔ کے۔ شرما نے بھی کہا تھا کہ بدر پور تھرمل پلانٹ کو بند کرنے سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی کرلی جائے گی۔ سرکار کی اس نیتی کو دیکھتے ہوئے دہلی پالوشن کنٹرول بورڈ نے بدرپور تھرمل پاور پلانٹ کو نوٹس جاری کر پوچھا تھا کہ آپ کے تھرمل اسٹیشن سے دہلی آلودہ ہورہی ہے، کیوں نہ 15 مارچ 2016 ء تک اسے بند کردیا جائے؟ اس پر این ٹی پی سی نے جمعرات کو اپنا جواب بھیج دیا ہے۔ پاور اسٹیشن کی جانب سے جواب میں کہا گیا ہے کہ اس پلانٹ کی وجہ سے آلودگی نہیں پھیل رہی ہے۔ پلانٹ میں آلودگی سے نمٹنے کے پورے انتظام ہیں۔ اس کے بعد بھی این ٹی پی سی اسے بند کیا تو دہلی میں بجلی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ قلت آئی لینڈنگ سسٹم کی وجہ سے ہوگی۔ دراصل 30 اور31 جولائی 2012ء کو اتر بھارت میں گرڈ فیل ہوجانے کے بعد دہلی نے گھنٹوں کا بلیک آؤٹ دیکھاتھا۔اگر سرکار پھر بھی اپنے فیصلے پر قائم رہی تو دہلی کو سال 2012ء کی طرح ہی بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ دہلی سرکار پہلے تو یہ جانکاری حاصل کرے کہ یہ تھرمل پلانٹ کیا واقعی میں آلودگی کے لئے ذمہ دار ہے؟ کیا یہ آلودگی کنٹرول کے ضوابط پر عمل کررہا ہے؟ اگر نہیں تو کیااسے اور سخت کیا جاسکتا ہے؟ اسے بند کرنے سے پہلے متبادل انتظام کرنا ہی بہتر ہوگا۔
(انل نریندر)

24 دسمبر 2015

روہتک کا نربھیاکانڈ

ہریانہ کے روہتک شہر میں نیپالی لڑکی سے اجتماعی آبروریزی میں ایک بار پھر دہلی کے وسنت وہار نربھیا کانڈ کی یاد تازہ کردی ہے۔ فروری 2015کو شام 5 بجے گاؤں گڈی کھیری کے موڑ پر ڈھابے میں نیپال لڑکے سمیت 5ملزم شراب پی رہے تھے تبھی حسار روڈ پر جارہی نیپالی لڑکی کو دیکھا لڑکوں شیرو، سنیل ، ماڈا ، پون ، پدم لڑکی کو اٹھا کر گاؤں کے موڑ پر بنی ایک کوٹھری میں لے گئے اس کے بعد انہوں نے وہاں دولڑکوں منویر اور سومویر دیگر کو وہاں بلا لیا سبھی نے شراب پی اور سبھی نے لڑکی کے ساتھ بدفعلی کی۔ لڑکی کو ڈیڑھ کلومیٹر دور سنسان کمرے میں لے گئے اور پھر وہاں اس سے بدفعلی کی ۔ رات کھلنے کے ڈر سے لڑکی سے سر میں اینٹ مار کر اس کو مارڈالا اوراس کے جسم میں نوکیلے پتھر ڈال دیئے۔ روہتک کی اے ڈی جے سیما سگنل نے اسے سب سے زیادہ گھناؤنا کیس بتایا اور ساتھ ہی کہا میں عورت ہوں اس لڑکی کی چیخیں سن سکتی ہوں جو ان درندوں نے اس لڑکی سے کیا اس کے لئے ان کو پھانسی بھی کم ہے۔معاشرہ کتنا آگے بڑھ رہا ہے جتنی ترقی ہوئی ہیں ہم دماغی طور سے اتنے ہی پیچھے چلے گئے ہیں۔ سماج میں بڑے سطح پر مردوں میں اتنی دبنگی آرہی ہیں مرد سمجھتے ہیں کہ ان حرکتوں سے عورتوں کو دبایا جاسکتا ہے لیکن آج سماج کو پیغام دینا ہے کہ عورتیں کمزور نہیں ہے وہ کسی کے سامنے دبنے اورجھکنے سے انکار کرتی ہیں۔ نربھیا یا دامنی بننے سے بھی منع کرتی ہیں۔ انہیں اپنی پہچان پر فخر ہے کہ کسی بھی قیمت پر اسے چھوڑنے پر بھی تیار نہیں ہے۔ شرمندگی عورتوں کی نہیں ان مردوں کی ہونی چاہئے جو ایسی حرکتیں کرتے ہیں اس طرح کے جرم جسم سے کو نہیں روح کو چوٹ پہنچاتے ہیں جسم کے تو نہیں لیکن اس فیصلے سے روح کے زخم مٹانے کی کوشش کررہی ہوں۔ یہ بتانے کی کوشش کررہی ہوں کہ عورت بے بس نہیں ہے۔ آج فیصلے میں ڈھیل رکھتی ہوں تو عورت سے موت کے بعد بھی ناانصافی ہوگی جس طرح سے اس واقعہ کو انجام دیا گیا اس میں پھانسی کی سزا بھی کم ہے۔ سزا سنائے جانے سے پہلے رائے زنی ایڈیشنل جج محترمہ سنگل نے فاسٹ ٹریک کورٹ میں یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔ ساتویں قصورواروں کو پھانسی کی سزا سنائی ممکن ہے کہ سرکاری وکیل کی مانیں تو دیش میں کسی بھی کورٹ میں قتل اور اجتماعی آبروریزی کے 7قصورواروں کو ایک ساتھ پھانسی کی سزا نہیں سنائی۔ متوفی کی بہن نے فیصلے کے بعد کہا ہے کہ پھانسی کی سزا سنائے جانے سے راحت تو ملی ہیں لیکن چین اس دن ملے گا جب ان ساتویں کو پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔
(انل نریندر)

بڑوانی میں 40 مریضوں کی آنکھوں کی روشنی جانے کا ذمہ دار کون

ہیلتھ سروس کے معاملے میں پہلے سے ہی لچر مدھیہ پردیش پر کچھ وقت پہلے ایک اور داغ لگ گیا ہے۔ بڑوانی میں ہوئے آنکھ پھوڑ کانڈ نے ریاست ہی نہیں پورے دیش کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابتدائی جانچ میں 63لوگوں کی آنکھ کی روشنی چلی گئی اور ایک وجہ تھی گٹھیا دوائیوں کا استعمال۔ لوگوں کی آنکھوں کی روشنی چھیننے والا مدھیہ پردیش کا محکمہ صحت کٹگھرے میں تو ہے ساتھ ہی وہاں کے وزیر صحت نروتم مشرا عوام کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ا پنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش میں ہے ان کی دلیل ہے کہ بھوپال سے دوا کی خرید نہیں ہوتی ہے جب تلخ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے سرکاری ہسپتالوں میں 80 فیصدی خریداری بھوپال سے ہوتی ہیں۔ اس کی تصدیق محکمہ صحت کے چیف میڈیکل آفیسر کرتے ہیں ان کا دعوی ہے کہ خریدی گئی دوا کمپنی کاانتخاب اورادائیگی بھوپال سے ہی ہوتی ہیں۔ سچ کون بول رہا ہے وزیر صحت نروتم مشرا یا ضلع کے سی ایم ایچ او؟ حکومت نے ریاست کے ڈاکٹروں کو مارکٹینگ افسر بنا رکھا ہے اور آپریشن کے لئے نشانے دیئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں پر آپریشن کا ٹارگیٹ پورا کرنے کااسقدر دباؤ رہتا ہے 15 منٹ میں دو دومریضوں کے آپریشن ہوجاتے ہیں اس دوران چھوٹی جگہ پر آلات اور آپریشن تھیٹر کے اندر پیوند کاری میں بھول ہونے کااندیشہ رہتا ہے کیونکہ اس وقت ڈاکٹر کی زیادہ توجہ مریضوں پر رہتی ہے۔ آنکھوں کے آپریشن گاؤں میں کیمپ لگا کر نہیں کئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کو ٹارگیٹ 6500 آپریشن مہینہ کو پورا کرناہوتا ہے۔ سرکار نے پچھلے مہینے ہی 400 دواؤں کو اچانک فہرست میں ڈال دیا تھا اس میں وہ دوائیاں بھی تھی جن کا استعمال بڑوانی میں کیاگیا ہے بتایاجاتا ہے کہ ضلعوں میں دوا لینے کے بعد تین دن کے اندر ان کی سرکاری لیپ سے جانچ کرانی ہوتی ہے اور رپورٹ کی جانکاری باقاعدہ اسپتال کو بھیجی جاتی ہیں لیکن افسروں کو اس کی فکر نہیں ہے بڑوانی معاملے میں بھی یہی ہوا ہے تب تک جانچ رپورٹ آتی تب تک مریضوں کو دوا دی جاچکی تھی حالانکہ سرکار خود کو بچاتے ہوئے 17 دواؤں کو بلیک لسٹ کردیا ہے خیال رہے کہ بڑوانی ضلع کے سرکاری کیمپ میں موتیا بند کا آپریشن ہونے کے بعد اروندوں ہسپتال میں علاج کرا رہے مریضوں کو غلط دوا دینے کے سبب اپنی آنکھوں کی روشنی گنوانی پڑی۔ ایمس کے ماہرین چشم امراض کی ٹیم نے صاف کردیا ہے کہ 40 مریضوں کی آنکھوں کی روشنی اب نہیں آسکتی ہے انہوں نے بتایا کہ آنکھوں میں ڈالی گئی دوا معیاری نہیں تھی۔ بڑوانی کے آنکھوں کے کیمپ کے متاثروں کو بے شک وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اپنی مرضی سے ہر متاثرہ شخص کو دو لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کی منظوری دے دی ہے لیکن اس سے ان کی آنکھوں کی روشنی تو نہیں لوٹے گی۔
(انل نریندر)

bing yahoo promo code

Choicedelhi.in is offering bing yahoo promo code Worth $200 For new Bing Ad accounts. It works worldwide. You  can use it new ad account which has Postpaid or prepaid payment method.

After completing your billing and adding payment method credit card or debit card You can use this coupon.

We are also providing Adwords Coupons and many other internet marketing solutions and web designing services .


Price of each coupon is $15 . More details about this offer call me at +91-8586875020 Email me at ceo@speakmeme.com skype id speakmeme

SUBMIT YOUR INQUIRY HERE SUBMIT

23 دسمبر 2015

The US bends, provided the bender has the Guts

The US bends provided the bender has the guts to do so.  I am talking about the US and Russia.  Since the Russian President Vladimir Putin has come to the Party in Syria-Iraq against the Islamic State the dice is overturning slowly.  The attacks on IS are increasing.  So far the US maintained its insistence that President Bashar-Al-Assad of Syria will have to step down for the sake of peace in the region.  On the other hand Putin insisted that Assad will continue and will take over the command against IS.  At last US had to bow to Russia on Assad issue.  US Foreign Secretary John Kerry accepted the prolonged demand of Russia that the future of President Assad’s should be decided only by the people of Syria.  Muslim nations’ front against IS seems to be a little visible now with some Muslim Nations having decided finally to fight the IS, terror in the entire world in the name of Islam.  34 nations under the leadership of Saudi Arabia have declared to form a military alliance against the IS.  The combined operation command of the alliance will be set up in Riyadh, the capital city of Saudi Arabia.  Briefing the formation of Islamic Military Alliance, the official communication agency of Saudi Arabia said that the alliance was needed because it is must to face terrorism at all stages and it needs cooperation at various levels.  Rival of Saudi Arabia and Shiiite Iran is not involved in this military alliance of Muslim Nations.  It is notable that Iran’s policy is quite different from Sunni Nations.  It supports the regime of Shia President of Syria, Basher-al-Assad and has sent its forces in Syria to support Asad.  It keeps supporting Shia Hudi rebels in Yemen while Saudi Arabia is conducting military expeditions against them.  Pakistan, Turkey, Maldives, Malaysia, UAE, Egypt and Qatar are included in this Islamic Nations alliance.  Libya and Yemen facing civil war are also included in it.  African Muslim-majority nations like Mali, Chad, Somalia and Nigeria are also included in the alliance.  However Pakistan is surprised as to how Saudi Arabia has included its name in the military alliance of 34 Muslim nations without seeking its consent?  As per Dawn’s report Pakistan;s Foreign Secretary Ezaaz Chowdhary said that he is surprised with the news that Saudi Arabia has included Pakistan in the alliance.  This is not the first instance when Saudi Arabia has included Pakistan without its consent.

(ANIL NARENDRA)

کرکٹ کی خاطر ڈی ڈی سی اے کی شدھی کرنا ضروری ہے

سابق کرکٹر اور بھاجپا کے ایم پی کیرتی آزادنے ایتوار کو اپنی سرخیوں میں چھائی پریس کانفرنس کر دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) گھوٹالے کے بارے میں جو انکشاف کئے ہیں وہ بیشک پرانے ہوں ، ہاں انہیں اتنی آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ آزاد نے اپنی دلیلوں کی حمایت میں کئی ایسے ثبوت اور دستاویز پیش کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے گڑبڑیاں تو ہوئی ہیں۔ مثلاً 14 ایسی کمپنیوں کو لاکھوں روپے ادا کیا جانا ، جن کا پتہ اور جانکاری یا تو ادھوری تھی یا غلط تھی۔ ان میں سے کئی کمپنیوں کے پاس پین کارڈ جیسی بنیادی ضروری دستاویز تک نہیں تھے۔ اسی طرح پرنٹر کا کرایہ 3 ہزار روپے فی یوم اور لیٹ ٹاپ کا کرایہ16 ہزار روپے فی یوم دئے جانے کے بھی ثبوت پیش کئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں تعمیرات کرنے والی کمپنیوں کوایک سے زیادہ بار ادائیگی کئے جانے اور ایک ہی پتے اور ایک ہی فون نمبر والی کمپنیوں کو بھی ادائیگی کی گئی اور اس سلسلے میں ویڈیو دستاویز بھی پیش کئے گئے۔ کیرتی آزاد نے اس بارے میں بھی ثبوت پیش کئے ہیں کہ اسٹیڈیم کی تعمیر 24 کروڑ روپے خرچ ہونے تھے لیکن 130 کروڑ روپے خرچ کئے گئے اس کے باوجود کام پورا نہیں ہوسکا۔ آزاد کے مطابق سچ تویہ ہے کہ پچھلے 10 برسوں کے دوران 400 کروڑ سے زیادہ کی ہیرا پھیری ہوئی ہے۔ ریجنل ڈائریکٹر اے۔ کے چترویدی اور دہلی کے کمپنی رجسٹرار ڈی بندواپادھیائے نے اس کی جانچ کے نام پر صرف لیپا پوتی کی تھی۔ کیرتی آزاد نے یہ بھی صاف کیا کہ ان کی لڑائی کسی شخص خاص سے نہیں بلکہ ڈی ڈی سی اے میں ہوئے کرپشن سے ہے۔ ادھر ڈی ڈی سی اے کیرتی آزاد کے ذریعے لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو بے بنیاد بتایا۔ اس کے چیئرمین ایس پی بنسل نے کیرتی آزاد اور سابق کرکٹر بشن سنگھ بیدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شخصی فائدے کے لئے ڈی ڈی سی اے پر فرضی الزامات لگائے جارہے ہیں۔ ان کا ڈی ڈی سی اے اور کسی شخص خاص سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کیرتی آزاد آج سے نہیں برسوں سے ڈی ڈی سی اے میں بدعنوانی کا اشو اٹھاتے رہے ہیں۔اب عام آدمی پارٹی نے اپنا الو سیدھا کرنے کی غرض سے آزاد کے اشو کو ہائیجیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈی ڈی سی اے میں دھاندلی اگر ہے تو کتنی ہے اس کا فیصلہ یا تو ہائی کورٹ کر سکتی ہے یا پھر کوئی آزاد تفتیشی ایجنسی۔ پہلی نظر میں ہمیں تو کیرتی آزاد کے الزامات میں دم لگتا ہے۔ سیاست کو درکنار رکھیں اور صاف ستھری کرکٹ کی خاطر ڈی ڈی سی اے کا شدھی کرن ضروری ہے۔
(انل نریندر)

واڈرا کے بعد اب ہڈا کا نمبر ہے

کانگریس کے لیڈروں کو گھیرنے کی حکمت عملی آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب لگتا ہے کہ ہریانہ کے سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کی باری ہے۔ پنچکولہ میں انڈسٹریل پلاٹ الاٹمنٹ گھوٹالے میں ہریانہ ویجی لنس محکمے نے سابق وزیراعلی بھوپندر سنگھ ہڈا سمیت 3 افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ ہڈا پر 14 چہیتوں اور رشتے داروں کو قواعد کو بالائے طاق رکھ کر پلاٹ الاٹ کرنے کا الزام ہے۔ یہ کارروائی ویجی لنس کی جانچ کر ایڈوکیٹ بلدیو راج مہاجن کی سفارش پر ہوئی ہے۔ وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی سفارش بھی کردی ہے۔ اسٹیٹ ویجی لنس بیورو کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ایف آئی آر میں بھوپندر سنگھ ہڈا کا نام نہیں ہے لیکن 13 فائدہ پانے والوں کے علاوہ ناگل اتھارٹی کے اس وقت کے چیف فائننس کمشنر ایس سی بنسل اور افسر بی بی تنیجا کے نام بھی شامل ہیں۔ کھٹر نے کہا کہ پلاٹ الاٹمنٹ معاملے میں قانون اپنا کام کرے گا اور اپنے مطابق کارروائی کرے گا۔ وہیں بھوپندر سنگھ ہڈا نے اسے سیاسی رقابت سے کی گئی کارروائی بتایا۔ملزمان پر عہدے کا بیجا استعمال کرنے، دھوکہ دھڑی، جعلسازی، کم قیمت سے پلاٹ کا الاٹمنٹ سمیت11 الزامات ہیں۔ ہڈا کے ساتھ سبھی کے خلاف 8 دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ 
اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر انڈین نیشنل لوک دل نے بھاری احتجاج کیا تھا۔ بھاجپا نے اقتدار میں آتے ہی جانچ ویجی لنس کو سونپ دی ہے۔ لمبی جانچ کے بعد ویجی لنس نے اس میں کافی بے قاعدگیاں پائی ہیں۔ اس کے بعد رپورٹ اے جی کو سونپ دی ہے۔انہوں نے رپورٹ پر کارروائی کی ہے سال 2012 ء میں ہڈا سرکار نے پنچکولہ میں انڈسٹریل پلانٹ الاٹمنٹ کے لئے درخواستیں مانگی تھیں۔ اس کے لئے 582 لوگوں نے درخواستیں دی تھیں۔ ویجی لنس کی جانچ کے مطابق اس وقت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور ہڈا ، بی پی تنیجا کے قاعدے کے مطابق دستاویزات فائل نہیں کئے۔ اس کی جگہ 13 لوگوں کی لسٹ دے دی گئی اور اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین سے ان ناموں کو فائنل کرنے کے لئے کہا۔ جانچ میں درخواست میں بھی گڑ بڑی کی گئی ہے۔ اے جی بلدیو راج مہاجن نے کہا کہ پلاٹ الاٹمنٹ کے لئے نئی پالیسی کی منظوری چیئرمین بھوپندر سنگھ ہڈا نے دی تھی۔ اسی سے ہڈا نے اپنے قریبیوں کو پلاٹ بانٹے۔ یہ ہی ان کے خلاف ایف آئی آر کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ بتادیں ہریانہ سرکار سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کے خلاف الزامات کی جانچ پہلے سے ہی کررہی ہے۔ واڈرا کی لین ڈیل کے بعد پلاٹ الاٹمنٹ کے الزامات میں بھوپندر سنگھ ہڈا کو گھیرنے کی تیاری ہے۔ بیشک ہریانہ سرکار قانون کے مطابق کام کررہی ہے لیکن کانگریسیوں کا تو یہی کہنا ہے کہ یہ سیاسی اغراض پر مبنی بدلے کی کارروائی ہے۔
(انل نریندر)

22 دسمبر 2015

عدم رواداری پر شاہ رخ کا تبصرہ فلم ’دل والے‘ کوبھاری پڑا

ملک میں عدم رواداری پر بالی ووڈ اداکاری شاہ رخ خان کو بیان دینا بھاری پڑ گیا ہے۔ دیش کے کئی سرکردہ لوگوں نے ان کے خیالات پر برا مانا ہے اور اب یہ احتجاج ان کی تازہ ریلیز ہوئی فلم ’دل والے‘ پر اثر ڈالتا دکھائی پڑ رہا ہے۔شاہ رخ۔ کاجول کی جوڑی والی فلم ’دل والے‘ اور سنجے لیلا بھنسالی کی پیریڈ فلم ’باجی راؤ مستانی‘ کی ریلیز کے پہلے ہی دن الگ الگ اسباب سے ہندو تنظیموں کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور گجرات سمیت کئی ریاستوں میں ’دل والے‘ کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ ممبئی میں ہندو سینا کے 5 ورکروں کو دادر میں واقع ایک مال میں گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے حراست میں لینا پڑا۔ یہ لوگ شاہ رخ خان کے عدم رواداری پر کئے گئے تبصرے کے احتجاج میں ’دل والے‘ فلم دکھانے پر روک لگانے کی کوشش کررہے تھے۔ مال کے باہر ان مظاہرین نے ’شاہ رخ خان مردہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے۔ حالانکہ ممبئی پولیس موقعہ پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو بھگادیا۔ مدھیہ پردیش میں الگ الگ ہندو تنظیموں نے بھوپال ، اندور، جبلپور سمیت کئی شہروں میں فلم کی جم کر مخالفت کی ۔بھوپال میں ہندو متر منڈل کے ورکروں نے جوتی ٹاکیز کے سامنے مظاہرہ کیا وہیں شیوپوری ضلع میں مظاہرین نے دو سنیما گھروں میں فلم کی ریلیز رکوا دی۔ اسی طرح جبلپور ضلع میں احتجاج کے چلتے تین سنیما گھروں میں فلم کو روکنا پڑا۔اندور میں فلم کی مخالفت کرنے والی ہندو تنظیم کے چیف راجیش شیروڈکر کو پولیس نے گرفتار بھی کیا۔ اس دوران ممبئی ہائی کورٹ نے ’باجی راؤ مستانی‘ دکھانے پر التوا حکم دینے سے انکار کردیا۔حالانکہ عدالت نے مہاراشٹر سرکار سینسر بورڈ کے چیئرمین اور فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سنجے لیلابھنسالی اور تینوں اہم اداکاروں رنویر سنگھ، پرینکا چوپڑہ اور دیپکا پڈوکون کو نوٹس دے کر جواب مانگا ہے۔ پنے کے ایک ورکر ہیمنت پاٹل نے بھنسالی پر حقائق کیساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا ہے۔ دوسری طرف این سی پی لیڈر اجیت پوار نے کہا اگر بھاجپا کو ’باجی راؤ مستانی‘ فلم پر کوئی اعتراض ہے تو اسے یہ معاملہ سینسر بورڈ کے پاس لے جاناچاہئے تھا۔ گجرات میں ہندو راشٹر سینا کے ورکروں نے ملٹی پلیکس تھیٹر اور سنیما گھروں میں ’دل والے‘ کے پوسٹر اتار دئے۔ ورکروں نے احمد آباد، صورت اوربڑودہ، بھلسار، مہسانہ اور راجکوٹ سمیت کئی شہروں میں فلم کی مخالفت کی اور شاہ رخ خان کے خلاف نعرے بازی کی۔ یہی حال کانپور، بنارس اور ہریانہ کے جند میں بھی رہا۔ کانپور میں ہندو یووا واہنی کے ورکروں نے شاہ رخ کا پتلا جلا کر احتجاج کیا تو بنارس میں کانشی ودیا پیٹھ کے طلبا نے نعرے بازی کرنے کے ساتھ ساتھ ’دل والے‘ کے پوسٹر جلائے اور ان پر جوتے چپل برسائے۔ ادھر جند میں بھی فلم کی جم کر مخالفت ہوئی۔ اسی طرح 7 ریاستوں میں ’دل والے‘ کی ریلیز کی مخالفت ہوئی۔ اس کی وجہ سے فلم کی اوپنگ پر اثر پڑا۔ جہاں تک فلم کا سوال ہے اس کے بارے میں تجزیہ نگار بتا رہے ہیں کہ اس میں تھوڑی سی توڑ موڑ کر باتیں کہی گئی ہیں۔ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ فلمی ستاروں کو بہت سوچ سمجھ کر سیاسی بیان دینا چاہئے، خاص کر جب آپ کی کامیابی میں سب کا ہاتھ ہے۔ بتا دیں شاہ رخ خان نے اپنی 50 ویں سالگرہ پر ایک چینل سے بات چیت میں کہا تھا کہ دیش میں عدم رواداری کا ماحول بڑھ رہا ہے۔ اگر مجھے کہا جاتا ہے تو ایک علامتی طور پر میں بھی ایوارڈ لوٹا سکتا ہوں۔ دیش میں تیزی سے کٹرتا بڑھی ہے۔ ان کے اس بیان کے فوراً بعد اگلے دن ہی لشکر طیبہ کے چیف حافظ سعید نے بیان جاری کر کہہ دیا کہ اگر شاہ رخ خان سمیت تمام ہندوستان کے مسلمان بھارت میں گھٹن محسوس کررہے ہیں تو وہ پاکستان جاسکتے ہیں۔ بیان دیتے ہی شاہ رخ کو سمجھ میں آگیا کہ اہوں نے غلطی کردی۔ چالاک شاہ رخ نے موقعے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے 16 دسمبر کو معافی مانگ لی لیکن تب تک شاید دیرہوچکی تھی۔ نتیجے سامنے ہیں۔
(انل نریندر)

جج پاردیوالا پر مقدمہ چلانے کی عرضی

گجرات ہائی کورٹ کے عزت مآب جج جے ۔ بی پاردیوالا کو ایک رائے زنی انہیں اتنی بھاری پڑے گی کہ شاید انہوں نے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ نوبت اب ان کے خلاف امپیچمنٹ (ایوان میں مقدمہ)چلانے تک آگئی ہے۔ہوا یہ ہے کہ ہاردک پٹیل معاملے میں ریزرویشن کے خلاف متنازعہ تبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اگر مجھے پوچھا جائے کہ کونسی دو باتیں ہیں جنہوں نے دیش کو برباد کیا ہے یا صحیح سمت میں دیش کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہے تب میرا جواب ہوگا پہلا ریزرویشن اور دوسرا کرپشن۔ہمارا آئین بنا تھا تب ریزرویشن 10 سال کے لئے رکھا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے آزادی کے 65 سال بعد بھی ریزرویشن بنا ہوا ہے۔ یہ معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھاتے ہوئے سپا کے ممبران نے جمعہ کے روزچیئرمین حامد انصاری کے سامنے ایک عرضی پیش کی تھی کہ ہاردک پٹیل معاملے میں ریزرویشن کے خلاف مبینہ تبصرے کے لئے گجرات ہائی کورٹ کے جج جے ۔ بی پاردیوالا کے خلاف امپیچمنٹ چلائی جانی چاہئے۔ ممبران پارلیمنٹ نے الزام لگایا ہے کہ ہاردک پٹیل کے خلاف ایک مخصوص مجرمانہ معاملے کے بارے میں داخل عرضی پر فیصلہ دیتے ہوئے توہین آمیز ریمارکس کا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ جج نے یہ بھی تشریح کی کہ جب ہمارا آئین بنایا گیا تھا تب سمجھا گیا تھا کہ ریزرویشن 10 سال کے لئے ہی رہے گا لیکن بدقسمتی سے یہ آزادی کے 65 سال بعد بھی جاری ہے۔ ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ 10 برس کی میعاد سیاسی ریزرویشن کے لئے بڑھائی گئی تھی جو مرکز اور ریاستی اسمبلیوں میں درجہ فہرست ذاتوں اور شیڈول قبائل برادریوں کے لئے نمائندگی ہے نہ کہ تعلیم اور روزگار کے سیکٹر میں ریزرویشن کے سلسلے میں ۔ عرضی کے مطابق یہ تکلیف دہ ہے کہ جسٹس پاردیوالا درجہ فہرست برادریوں اور شیڈول جاتیوں کے لئے پالیسی سے متعلق یہ آئینی تقاضے سے الگ ہے۔ ممبران نے کہا کہ کیونکہ جج کے تبصرے کو عدلیہ کی کارروائی میں جگہ ملی ہے یہ چیز غیرآئینی ہے اور بھارت کے آئین کے تئیں عدم وفاداری کے برابر ہے جو امپیچمنٹ کے لئے ایک بنیاد تیار کرتی ہے۔ ممبران نے راجیہ سبھا کے چیئرمین حامد انصاری سے جسٹس پاردیوالا کے خلافامپیچمنٹ کی کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی ہے اور ساتھ ہی ضروری دستاویز بھی نتھی کئے ہیں۔ گجرات سرکار نے دلیل دی کہ پیراگراف۔62 میں کی گئی رائے زنیوں کو معاملے سے ہٹایا جائے جسے ہائی کورٹ نے منظور کرلیا اور متنازعہ پیراگراف کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اب امپیچمنٹ کا ریزولیوشن کا آگے کیا ہوگا؟ سینئر وکیل کے ۔ ٹی۔ ایس ۔تلسی نے کہا کہ امپیچمٹ عرضی دی جاچکی ہے۔ جب تک جج پارلیمنٹ کو لکھ کر نہیں دیتے کہ تبصرہ ہٹا لیا ہے تب تک کارروائی چلے گی۔ آئین کے ماہر سبھاش کشپ کا کہنا ہے کہ امپیچمنٹ ریزولوشن دو ہی صورتوں میں ختم ہوگا۔ پارلیمنٹ ریزولوشن واپس لے یا چیئرمین جج کی تحریری یقین دہانی سے مطمئن ہوں۔ ممبران کی عرضی پر دستخط کرے والوں میں کئی سینئر ایم پی ہیں۔ ان میں آنند شرما، دگوجے سنگھ، اشونی کمار، بی جے پی کے ہری پرساد،پی ایل پنیہ، راجیو شکلا، امبیکا سونی، آسکر فرنانڈیز(سبھی کانگریس) ڈی راجا (ماکپا) کے ایچ بال گوپال (بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی) شرد یادو (جنتادل یو) ایس سی مشرا و نریندر کمار کشپ (بی ایس پی) ترچیوشیوا(ڈی ایم کے) و ڈی پی ترپاٹھی (این سی پی) راجیہ سبھا میں ایسے ریزولوشن پیش کرنے کیلئے کم سے کم 100 ممبران پارلیمنٹ کی دستخط ضروری ہیں۔ لوک سبھا میں ضروری تعداد100 ہے جبکہ راجیہ سبھا میں تو ایک طرح سے راستہ صاف ہے۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2015

Women Revolution in Saudi Arabia

Women revolution has really started in Saudi Arabia. For the first time in the history of the country women have been allowed to take part in any election. The  women voters casted their votes in local election and also contested as a candidate. This achievement of Saudi women cannot be imagined in countries like India, starting their independence with the maximum franchise. In Saudi Arabia, included in the queue of rich countries of the world, women are not yet allowed to drive alone. Even for voting they had to come with male member of their family to cast their vote and stand in the queues exclusively formed for them. It’s surprising that less than 10 per cent women could be registered as voters. Arabia regime with a population of 2 crore and 10 lakhs has only 11 lakh 90 thousand women voters. The first result came from Mecca, the holiest place for Muslims. Mecca’s Mayor Osama-al-Bar told that Salma Bin Hijab-al-Otibi has won in the nearby village. As such she has become the first elected public representative of the country. As per local media 17 women have been elected. One seat from the second largest city of Saudi Arabia, Jeddah was won by one woman candidate Lama-al-Suleman. 7000 candidates including 979 women contested in the elections held for 2100 seats of the country. Saudi Arabia enjoys a regency. Only local bodies go to polls here. Elections were held for the first time in 2005. 1.31 lakh females applied for registration as compared to 13.5 lakh male voters. After the election results Saudi Arabia Cinema Committee has declared that cinema theatres will be opened in the country shortly. In capital city Riyadh a MoU was signed for making it. Many organizations in the country had started a movement to start cinema. There is no such thing like parliament in Saudi regency till now. Though, one-third members are nominated by the Ministry of Local Bodies in 284-member Advisory Committee. Therefore, if some female candidates succeeded in winning the election, some of them may also get a chance to be included in the Advisory Committee. At present when the representatives of Saudi Regime go on foreign tours they do not take even their wives with them. It does not mean that Saudi females are not sensitive to their rights. One woman worker was arrested recently when  she tried to drive alone violating the Shariat laws. If the rulers having such narrow mindedness give some freedom to the females, it will be surely defined as Women Revolution.

 

-        Anil Narendra

 

 

20 دسمبر 2015

سپریم کورٹ کے ذریعے لوک آیکت تقرری، اکھلیش سرکار کیلئے کرارا جواب

لوک آیکت کی تقرری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اترپردیش سرکار کو ایک ناقابل یقین جھٹکا دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ سپریم کورٹ کے بار بار کہنے کے بعد بھی جب اکھلیش سرکار نے لوک آیکت مقرر نہیں کیا تو عدالت نے بدھوار کو اپنے آئینی اختیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے سبکدوش جج وریندر سنگھ کو آن اسپاٹ لوک آیکت مقرر کردیا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب لوک آیکت کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ نے اپنے آئینی اختیار کا استعمال کیا ہے۔ جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس این وی رمن کی بنچ نے لوک آیکت کے لئے پانچ مجوزہ ناموں کی فہرست میں بنا کسی دیری ان میں سے ایک جج وریندر سنگھ کو چن لیا پر اس تقرری پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ یوپی سرکار نے سپریم کورٹ کو جو نام تجویز کئے ان پر الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ان سے منظوری نہ لئے جانے سے خفا ہوگئے۔ انہوں نے اس بارے میں گورنر رام نائک کو خط لکھا جس کی کاپی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی بھیجا ہے۔ راج بھون نے ان کے خط کی کافی چیف منسٹر اکھلیش یادو کو بھیج کر سرکار کا نظریہ پوچھا ہے۔ پورے معاملے میں چیف جسٹس کی سرگرمی کی دو وجہیں مانی جارہی ہیں۔ پہلی یہ کہ انہوں نے سرکار کے سامنے غیر جانبداری کا سوال رکھا تھا کہ تجویز شدہ لوک آیکت وریندر سنگھ یادو ایک کیبنٹ منتری کے رشتے دار ہیں اور ان کا بیٹا ایس پی کا ضلع ادھیکش ہے۔حالانکہ خود وریندر سنگھ بیٹے کے ایس پی سے تعلق کو قبول کررہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ بیٹے کا اپنا فیصلہ ہے۔دوسری وجہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ان کے کردار پر سوال اٹھنا ہے۔ سپریم کورٹ نے 15 دسمبر کو کہا تھا کہ اگر بدھوار تک سرکار لوک آیکت مقرر نہیں کرتی ہے تو کورٹ یہ مان لے گی کہ گورنر اور سی ایم اپنی ڈیوٹی میں ناکام رہے۔ سپریم کورٹ کسی بھی معاملے میں مکمل انصاف کرنے کیلئے اپنا حکم منوانے کیلئے قانون نہ ہونے کی حالت میں قانون کے روپ میں حکم دینے کیلئے کسی بھی کورٹ میں حاضری یقینی کرنے، کسی دستاویز ڈھونڈھنے یا پیش کرنے، جانچ شروع کرنے اور اپنی ہتک عزت پر سزا دینے کے لئے دفعہ142 کے تحت احکامات پاس کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے لوک آیکت چننے کیلئے میعاد مقرر کردئے جانے کے باوجود یوپی سرکار جس طرح اپنے فرائض کو نبھانے میں ناکام رہی وہ عدالت کی نافرمانی کی وجہ سے افسوسناک تھی۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے جب ہائی کورٹ نے ریاستی لوک سیوا آیوگ کے متنازعہ چیئرمین کی تقرری کو غیر آئینی قراردیا تھا، جس کے بعد سرکار کو انہیں ہٹانا پڑا تھا۔ اس کے بعد اب نئے لوک آیکت کے لئے خود عدالت عظمیٰ کا آگے آنا سرکار کے کام کاج اور ارادے پر منفی نکتہ چینی تو ہے ہی۔
(انل نریندر)

القاعدہ سے جڑے آتنکیوں کی گرفتاری دہلی پولیس کی بڑی کامیابی

القاعدہ سے جڑے دو خونخوار آتنکیوں کی گرفتاری یقینی طور سے دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی بڑی حصولیابی کہی جائے گی۔ گرفتار آتنکیوں میں محمد آصف کو بھارت میں جہادی تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ عبدالرحمن نام کا دوسرا آتنکی اڑیسہ کے ٹانگی علاقے میں ایک مدرسہ چلاتا تھا اور اس کے ذریعے جہادی تیار کرنے کی مہم میں جٹا ہوا تھا۔ ان دونوں کی شروعاتی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ پشچمی اترپردیش کا رہنے والا ثناء الحق ہی وہ شخص ہے جو القاعدہ کا دکشن ایشیائی ونگ کا سرغنہ ہے۔
دراصل ثناء الحق ہی مولانا عاصم عمر نامی آتنکی ہے جسے القاعدہ چیف ایمن الظواہری نے خود اے کیو آئی ایس کا امیر (چیف) مقرر کیا تھا۔یہ جانکاری ان دو گرفتاری آتنکیوں سے ملی ہے۔ ان دونوں کو ثناء الحق نے بھارت میں جہادی تیار کرنے کا ذمہ دیا تھا۔ پکڑے گئے آتنکیوں نے بھی پاکستان اور افغانستان میں تربیت لی تھی۔ جس طرح انہوں نے غیر قانونی طریقے سے اتنی آسانی سے سرحد پار کی اور ٹریننگ لے کر وہاں سے واپس لوٹے اس پر ہماری خفیہ ایجنسیاں و سرحد پر سکیورٹی کے لئے تعینات جوانوں کی چستی پر بھی سوال اٹھتے ہیں؟ دونوں آتنکی کرسمس اور نئے سال کے موقعہ پر دہلی میں دہشت پھیلانے کی سازش رچ رہے تھے۔ ان آتنکیوں سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سنبھل یوپی میں کئی اور ریکروٹ موجود ہیں۔اسپیشل پولیس کمشنر اروند دیپ کا کہنا ہے کہ سنبھل سے جلد ہی کچھ اور نوجوانوں کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ 9/11 حملے سے امریکہ کو ہلا دینے والی آتنکی تنظیم القاعدہ اب اپنی حکمت عملی بدل رہی ہے۔اب اسے لگتا ہے کہ عرب دیشوں کے لوگوں کو دوسرے دیشوں میں بھیج کر وہ آتنکی حملے نہیں کرواسکتا ہے اس وجہ سے اس نے جن دیشوں میں القاعدہ کو آتنکی حملہ کرنا ہے وہ اپنی فرنچائزی بنا رہا ہے۔خفیہ ایجنسیوں نے بھی یہ مانا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے چلتے بھی القاعدہ آتنکی حملوں کے لئے اپنی حکمت عملی بدل رہا ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے یہ تشویش جتائی جارہی ہے کہ القاعدہ اور آئی ایس بھارت میں بھی اپنا جال پھیلانے کی تاک میں ہیں۔فکر کا موضوع یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں سے کہاں چوک ہوئی کہ پاکستان اور افغانستان نے القاعدہ کے کیمپوں میں تربیت حاصل کر آتنکیوں کے بارے میں انہیں کیوں بھنک تک نہیں ملی؟ آتنک واد سے نمٹنے کے مقصد سے باڈر سکیورٹی فورس ، ریاستوں کی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے بیچ صحیح تال میل قائم کرنے کے لئے ایک مرکزی نظام بنانے کی کوشش کی تو گئی ہے پر اس سمت میں ابھی تک کامیابی نہیں مل پائی۔ دہلی پولیس کو مبارکباد کے ان کی سرگرمی کی وجہ سے ایک بار پھر دہلی بچ گئی اور اس سے بھی بڑی بات ہے کہ القاعدہ کے منصوبوں پر پانی پھر گیا۔
(انل نریندر)

19 دسمبر 2015

ڈی ڈی سی اے: کرکٹ کا کامن ویلتھ گھوٹالہ

گذشتہ دو دنوں سے یا کہیں کہ دہلی سچیوالیہ میں سی بی آئی کے چھاپے سے ناراض و بوکھلائی عام آدمی پارٹی نے جمعرات کو مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی پر سیدھا حملہ بول دیا ہے۔ پارٹی نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کر دہلی و ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن(ڈی ڈی سی اے) میں بڑے مالی گھوٹالے اور گڑبڑیوں کے الزام دوہرائے، جس کے 2013ء تک صدر ارون جیٹلی تھے۔وزیر اعلی اروند کیجیریوال نے بھی ٹوئٹ کے ذریعے ہلا بولا اور جیٹلی کے استعفے کی مانگ کرڈالی۔پریس کانفرنس میں ڈی ڈی سی اے کو کرکٹ کا کامن ویلتھ گھوٹالہ قراردیا گیا۔ میں قارئین کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ آخر ڈی ڈی سی اے کا معاملہ کیا ہے۔ مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) کے 14 سال تک چیف رہے۔ سابق کرکٹر کیرتی آزاد، بشن سنگھ بیدی، گوتم گمبھیر جیسی نامی ہستیوں نے ڈی ڈی سی اے میں پھیلی بدعنوانی کو لیکر کیجریوال سے تمام شکایتیں کی تھیں۔ فیروز شاہ کوٹلہ میدان کی تعمیر نو پر خرچ ہوئے114 کروڑ پر بھی سوالیہ نشان لگے ہیں۔اس کا شروعاتی بجٹ24 کروڑ تھا۔ ڈی ڈی سی اے نے کوٹلہ میدان کی تعمیر سال2002ء سے2007 کے درمیان کرائی تھی۔ ڈی ڈی سی اے پر یہاں تک الزام لگایا گیا ہے کہ رنجی ٹرافی سیزن کے دوران کھلاڑیوں کو پرانی گیندوں سے کھیلنے کے لئے مجبور کیا گیا۔ تمام کھلاڑیوں کو دوسال سے میچ فیس بھی نہیں دی گئی ہے۔ اس کے چلتے تمام کھلاڑیوں کو دیگر راجیوں میں کھیلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ دہلی سرکار کی جانچ رپورٹ میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ کھلاڑیوں کے چناؤ میں ڈی ڈی سی اے غلط رخ اپنائے ہوئے ہے۔ ڈی ڈی سی اے کی سبھی سرگرمیوں میں جوابدہی شفافیت نہیں دکھائی دیتی۔ دہلی سرکار کی جانچ کمیٹی نے ان الزامات کی بنیاد پر جو سفارش کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ڈی ڈی سی اے کے افسران و منتظمین کے خلاف بدعنوانی مخالف ایکٹ 1988 کے تحت دہلی سرکار کے ذریعے ویجی لنس جانچ کرائی جانی چاہئے۔سپریم کورٹ کے ذریعے قائم جسٹس لوڈھا کمیٹی کے ذریعے بھی ڈی ڈی سی اے کے کام کرنے کے طریقے کو سدھارنے کے لئے اختیار دیا جانا چاہئے۔ اتنا ہی نہیں ڈی ڈی سی اے کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لایا جانا چاہئے تاکہ عام جنتا یہ جان سکے کہ ڈی ڈی سی اے کس بنیاد پر فیصلے لے رہی ہے اور روپیہ کہاں اور کتنا استعمال ہورہا ہے؟ کانگریسی نیتا دگوجے سنگھ نے مانگ کی ہے کہ مشترکہ سنسدیہ کمیٹی سے معاملے کی جانچ کرائی جانی چاہئے اور اس کا صدر بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد کو بنایا جانا چاہئے۔ ادھر کیرتی آزاد نے ڈی ڈی سی اے میں بھرشٹاچار پر جلد اور خلاصے کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ادھر ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ کیجریوال جھوٹ اور بدنامی میں یقین کرتے ہیں اور انماد کی حدیں چھونے والی زبان بولتے ہیں۔
(انل نریندر)

امریکہ جھکتا ہے بس جھکانے والا چاہئے

امریکہ جھکتا ہے بس جھکانے والا چاہئے، میں بات کررہا ہوں امریکہ اور روس کی۔ جب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن سیریا ۔ عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف میدان میں اترے ہیں، دھیرے دھیرے پانسہ پلٹ رہا ہے۔ آئی ایس پر چوطرفہ حملے بڑھ رہے ہیں۔ اب تک امریکہ اس ضد پر قائم تھا کہ سیریا میں راشٹرپتی اسد کو امن قائم کرنے کیلئے عہدے سے ہٹنا ہوگا۔دوسری جانب پوتن اس بات پر اڑے تھے کہ اسد اپنے عہدے پر بنے رہیں گے اور وہی آئی ایس کے خلاف مہم کی کمان سنبھالیں گے۔ آخر کار سیریا معاملے میں امریکہ کو روس کے سامنے جھکنا ہی پڑا۔امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے روس کی لمبے وقت سے چلی آرہی اس مانگ کو مان لیا کہ راشٹرپتی بشرالاسد کے مستقبل کا فیصلہ سیریا کے لوگوں کو کرنے دینا چاہئے۔ ادھر آئی ایس کے خلاف اب تو مسلم دیشوں کا بھی مورچہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام کے نام پر دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلا رہے آتنکیوں کو سبق سکھانے کے لئے مسلم دیشوں نے کمر کس لی ہے۔سعودی عرب کی لیڈر شپ میں34 دیشوں نے آتنک واد کے خلاف فوجی گٹھ بندھن بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس گٹھ بندھن کی مشترکہ کمان سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں قائم ہوگی۔ اسلامک فوجی گٹھ بندھن بنانے کی جانکاری دیتے ہوئے سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے کہا کہ اس گٹھ بندھن کی ضرورت اس لئے پڑی کیونکہ ہر طرف سے آتنک واد کا سامنا کرنا ضروری ہے اور اس کیلئے مختلف سطحوں پر تعاون کی ضرورت ہے۔آتنک کے خلاف مسلم دیشوں کے فوجی گٹھ بندھن میں سعودی عرب کے زبردست مخالف اور شیعہ اکثریتی ایران شامل نہیں ہے۔ بتادیں کہ ایران کی نیتی سنی اکثریتی دیشوں سے الگ ہے۔ وہ سیریا کے شیعہ راشٹرپتی بشرالاسد کے اقتدار کی حمایت کرتا ہے اور ان کے حق میں اس نے اپنی سینائیں بھی بھیجی ہیں۔ وہیں یمن میں بھی وہ شیعہ ہوتیوں کا سمرتھن کررہا ہے جبکہ ان کے خلاف سعودی عرب فوجی مہم چلا رہا ہے۔ ان اسلامک دیشوں کے گٹھ بندھن میں پاکستان ، ترکی ، مالدیپ، ملیشیا، یو اے ای، مصر اور قطر شامل ہیں وہیں خانہ جنگی سے جھوجھ رہے لیبیا اور یمن کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ آتنک کا سامنا کررہے افریقی مسلم اکثریتی ملک مثلاً، مالی، چاڈ، صومالیہ و نائیجریا بھی گٹھ بندھن میں شامل ہیں۔ پاکستان بہرحال اس بات سے حیران ضرورت ہے کہ سعودی عرب میں اس 34 دیشوں کے فوجی گٹھ بندھن میں اس کی مرضی لئے بنا اس کا نام کیسے شامل کرلیا؟ ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خارجہ سکریٹری اعجاز چودھری نے کہا کہ وہ اس خبر سے حیران ہیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کو گٹھ بندھن میں شامل کیا ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں جب سعودی نے اسلام آباد کی مرضی کے بنا اسے گٹھ بندھن میں شامل کیا ہو۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2015

’نربھیہ‘ کانڈ کے تازہ ہوگئے زخم

جیوتی سنگھ عرف نربھیہ کانڈ ساؤتھ دہلی میں آج سے تین سال دو دن پہلے 16 دسمبر 2012ء کو رونما ہوا تھا۔ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ چلتی بس میں اجتماعی آبروریزی کا شکار ہوئی ’نربھیہ ‘ کے بالغ ملزمان کو بڑی عدالت کے ذریعے سزا دئے جانے پر بھی اب کبھی بھی کوئی بحث نہیں سنائی دیتی۔ بہرحال اس گھناؤنے غیر انسانی کانڈ کا ماسٹر مائنڈ نابالغ مجرم ضرور خبروں میں ہے۔ 16 دسمبر کے بعد بھڑکی تحریک اور تب سرکار اور عدالت کے رخ سے لگا تھا کہ اب تو کچھ صورت بدلے گی لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ نربھیہ کے ساتھ کی گئی اجتماعی حیوانیت اور بربریت آمیز آبروریزی سانحہ سن کر خوف تاری کردینے والی یادیں ابھی لوگوں کے ذہن سے دور نہیں ہوئیں تھیں کہ تین دن میں راجدھانی میں دو معصوموں کو حیوانیت کا شکار بنائے جانے کے واقعہ نے پھر وہ زخم تازہ کردیا ہے کہ جوئنائل عدالت کے قواعد کے مطابق اطفال اصلاح گھر میں رکھے جانے کے اس ماسٹر مائنڈ نابالغ کی تین سال کی میعاد پوری ہونے والی ہے۔ اسے اگلے ایتوار کو رہا کردیا جائے گا لیکن مرکزی سرکار اس کی ابھی رہائی کے حق میں نہیں ہے۔سرکار نہیں چاہتی کہ آدھے ادھورے انتظام کے درمیان اس خطرناک مجرم کو سماج میں چھوڑدیا جائے۔ وسنت وہار کے اس قتل کانڈ کے معاملے میں قصوروار لڑکے کی رہائی کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا اور اس سے پہلے وزارت داخلہ نے ہائی کورٹ کو ایک سیل بمہر لفافے میں نابالغ سے منسلک خفیہ بیورو (آئی بی) کی رپورٹ کورٹ میں پیش کی ہے۔مرکز نے دلیل دی کہ باز آبادکاری کیلئے ابھی تک کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں بنا ہے اور اس کے لئے تیار منصوبے میں کئی اہم باتیں ندارد ہیں۔ رہائی سے پہلے ان خامیوں کو پورا کیا جانا ضروری ہے۔ نابالغ کی رہائی کا احتجاج کررہے بھاجپا نیتا اور عرضی گزار ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے چیف جسٹس جی۔ روہنی اور جسٹس جینت ناتھ کی بنچ سے کہا کہ اس معاملے میں ایسا حکم پاس کیا جائے جو نظیر بنے۔ انہوں نے کہا بھلے ہی نابالغ اصلاح گھر میں زیادہ سے زیادہ تین سال وقت گزار چکا ہے لیکن قانون کے تحت اسے دو سال تک رکھا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آئی بی و بازآبادکاری کو لیکر تیار رپورٹ پر غور کرنے کے بعد ہی جلد ہی اس معاملے پر مفصل فیصلہ دیں گے۔ دوسری طرف حکومت نے لوک سبھا میں تشویش ظاہر کی کہ بیتے 10 سال میں لڑکوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے واقعات میں تقریباً 50 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ ریاستوں اور مرکزوں سے اکھٹے کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق2005ء میں جہاں 25601 لڑکیوں سے جرائم ہوئے وہیں2014 میں یہ تعداد بڑھ کر38586 ہوگئی ہے۔ ایک بڑا باعث تشویش سوال یہ بھی ہے کہ جن جرائم پیشہ لڑکوں کو رہا کیا جاتا ہے انہیں کھلے سماج میں کس شکل میں سونپا جاتا ہے جب نربھیہ معاملے میں اتنی خامیاں چھوڑ دی گئی ہوں تو باقی معاملوں میں اس کا کیا رویہ ہوگا، اس کا آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

پختہ معلومات اور ثبوت پر ہی سی بی آئی نے مارے چھاپے

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار کے ساتھ ساتھ دو دیگر جرائم پیشہ سے سی بی آئی نے بدھوار کو بھی 9 گھنٹے تک لمبی پوچھ تاچھ کی۔ یہ افسرراجندر کمار کون ہیں؟ 48 سالہ راجندر کمار وزیر اعلی کے پرنسپل سکریٹری ہیں۔ آئی آئی ٹی کھڑگ پور سے بی ٹیک کرنے والے راجندر 1989ء بیج کے آئی ایس افسر ہیں۔ اسی سال فروری میں کیجریوال کے پرنسپل سکریٹری کی حیثیت سے مقرر ہوئے راجندر کمار وزیر اعلی کے قریبی اور بھروسے مند افسران میں سے ایک ہیں۔ کیجریوال نے لیفٹیننٹ گورنر کی صلاح کو درکنار کرتے ہوئے ان پر الزامات کے باوجود انہیں اپنا پرنسپل سکریٹری بنایا۔بتایا جاتا ہے کہ آئی آئی ٹی کی پڑھائی کے وقت سے ہی دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ راجندر کمار کے خلاف انسداد کرپشن برانچ (اے سی بی) کے پاس 7 شکایتیں 2012ء سے آئی ہوئی ہیں۔ برانچ نے ایک شکایت ویٹ کمشنر کو بھیجی ہے اور ایک سی بی آئی کو جانچ کیلئے بھیجی تھی۔اسی شکایت پر چھاپے ماری ہوئی ہے جو دہلی ڈائیلاگ کمیشن کے ممبر سکریٹری رہے آشیش جوشی نے کی تھی۔شیلا دیکشت کے عہد میں او سی این جی گاڑی فٹنس گھوٹالے کی جانچ کررہی ہے اس میں بھی اے سی بی نے راجندر کمار کا نام پوچ تاچھ کئے جانے والی فہرست میں شامل کیا تھا ۔کیجریوال کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار کافی وقت سے سی بی آئی کے نشانے پر تھے۔رنجیت سنہا جب سی بی آئی ڈائریکٹر تھے تبھی راجندر کمار کو شکنجے میں لانے کا پلان بن چکا تھا لیکن کن ہی اسباب سے یہ معاملہ ٹلتا رہا۔ دہلی سرکار کے ایک افسر نے ہندی روزنامہ’دینک بھاسکر‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق شیلا دیکشت سرکار کے عہد میں بھی راجندر کمار کو لیکر کارروائی کی بات کہی تھی۔ اس وقت کے وزیر تعلیم اروندر سنگھ لولی نے بھی شیلا جی سے راجندر کمار کو ہٹانے کی مانگ کی تھی لیکن معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں سی بی آئی نے راجندر کمار کی 3 ہزار سے زیادہ فون کال ریکارڈ کی ہیں۔ اتنا ہی نہیں راجندر کمار کے بیج کے قریب 15 آئی اے ایس افسر اور دہلی سرکار کے 35 افسران سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ ان سے ملے ثبوت کی بنیاد پر سی بی آئی نے منگلوار کو چھاپے مارے۔ جانچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ راجندر کمار کے ای میل میں کئی پختہ ثبوت ہیں لیکن انہیں کھولنے میں وہ تعاون نہیں دے رہے ہیں۔ اب سی بی آئی ایکسپرٹ کے ذریعے ای میل کھلوانے جارہی ہے۔ جب سی بی آئی سے پوچھا گیا کہ راجندر کمار نے جو گڑبڑیاں کی ہیں وہ دوسرے محکموں میں رہتے ہوئے کی تھیں تو پھر اب بطور سی ایم کے پرنسپل سکریٹری کے دفتر میں چھاپے کیوں مارے گئے؟ اس پر سی بی آئی کا کہنا ہے کیونکہ ہمیں پختہ جانکاری ملی تھی کہ کارروائی سے بچنے کیلئے راجندر کمار نے اہم فائلیں اسی دفتر میں چھپا رکھی ہیں۔راجندر کمار پر کارروائی کی ایک کوشش کچھ ماہ پہلے بھی ہوئی تھی لیکن اس وقت لیفٹیننٹ گورنر اور کیجریوال کے درمیان چل رہی رسہ کشی انتہا پر تھی ۔ اینٹی کرپشن محکمے نے وزارت داخلہ سے اجازت بھی مانگی تھی ۔وزارت داخلہ کے ایک افسر کے مطابق تب وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ بنا ٹھوس ثبوت کے کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی صلاح دی تھی کہ اگر شکایت ابتدائی طور سے صحیح لگ رہی ہے تو معاملے کی جانچ کسی مرکزی ایجنسی سے کروائی جائے جس سے یہ خدشہ نہ ہو کہ اینٹی کرپشن محکمہ کسی کے کہنے پر کام کررہا ہے۔ پچھلے چار دنوں میں راجندر کمار کے دفتر ۔گھر سمیت کل14 ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کا پلان بن چکا تھا۔سی بی آئی کی لسٹ میں کل 7 لوگ تھے جہاں چھاپے مارے جانے تھے۔ سی بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی نگرانی میں 4 ڈی ایس پی سطح کے افسر اس کے کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ صبح ہوتے ہی 30 گاڑیوں نے ایک ساتھ 14 ٹھکانوں کیلئے کوچ کردیا۔ ان میں راجندر کمار کے علاوہ انٹیلی جنٹ انڈیا کمیونی کیشن کے سابق ایم ڈی اے۔کے ۔دگل، جی ۔کے نندا، ایس کوشک، سندیپ کماراور اینڈیور پرائیویٹ کمپنی کے دنیش گپتا شامل ہیں۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق چھاپے میں ان کے ہاتھ بہت ہی پختہ ثبوت لگے ہیں جو آنے والے وقت میں بڑے خلاصے کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گڑ بڑی کے تار شیلا دیکشت سرکار تک پہنچ رہے ہیں لہٰذا آنے والے وقت میں شیلا سرکار کے اور افسروں سے بھی پوچھ تاچھ ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

17 دسمبر 2015

راجندر کمار پر چھاپے، ہائے توبہ کیوں؟

منگل کی صبح ہی سے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ہلا مچایا ہوا ہے کہ سی بی آئی نے میرے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتادیں کہ منگل کی صبح سی بی آئی نے وزیر اعلی کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ راجندر کمار کے خلاف دہلی ڈائیلاگ کمیشن کے سابق ممبر آشیش جوشی نے شکایت درج کرائی تھی اس کے بعد سی بی آئی نے معاملے کی جانچ کی اور پہلی نظر میں انہیں کروڑوں روپے کے ناجائز لین دین اور غلط طریقے سے نا پسندیدہ لوگوں کی حمایت کرنے کا معاملہ دکھائی دیا۔ الزام ہے کہ راجندر کمار نے اپنے عہدے کا بیجا استعمال کیا۔ انہوں نے برسوں سے ایک ہی کمپنی کو دہلی سرکار کے ٹینڈردئے اور دلائے۔ ذرائع نے بتایا کہ آشیش جوشی سے شکایت ملنے کے بعد کئی سطح پر اس شکایت کی چھان بین کی گئی۔ جانچ کے دوران کئی محکموں اور دوسرے ذرائع سے معلومات اکھٹی کی گئیں۔ جب پختہ جانکاری سامنے آئی تو وارنٹ لیکر منگلوار کو چھاپہ مارا گیا۔ راجندر کمار کے گھر اور دفتر پر بھی چھاپہ ڈالا گیا۔ چھاپوں میں کاغذات، فائلیں، کمپیوٹرسے وابستہ چیزوں کو قبضے میں لے لیا گیاکچھ کی جانچ موقعے پر ہی کی گئی۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ضرورت کے حساب سے قانونی خانہ پوری کر کسی سے بھی پوچھ تاچھ کی جاسکتی ہے، کہیں بھی چھاپہ مارا جاسکتا ہے۔ ایک افسر کا کہنا ہے راجندر کمار سی ایم کے پرنسپل سکریٹری ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سی ایم آفس ہیں لیکن اسے بنیاد بنا کر کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ چھاپے ماری کی یہ کارروائی کورٹ سے وارنٹ لیکر کی گئی لیکن سی ایم کیجریوال نے اس کے فوراً بعد ٹوئٹ کرکے کہا کہ میرے دفتر پر چھاپہ مارا گیا ہے اور میری فائلیں دیکھی جارہی ہیں۔ یہاں تک بھی رکتے تب بھی بات تھی لیکن انہوں نے تو اس کے لئے سیدھا پی ایم کو نشانہ بنایا۔ الزام لگایا کہ پرنسپل سکریٹری کی فائلیں دیکھنے کے بہانے سی بی آئی ان کی فائلیں دیکھ رہی ہے۔ سلسلہ وار ٹوئٹ کرکے کیجریوال نے لکھا کہ مودی مجھے سیاسی طور پرہینڈل نہیں کرپائے تو انہوں نے یہ بزدلانہ کام کیا ہے۔ مودی بزدل اور ذہنی مریض ہیں۔سی بی آئی جھوٹ بول رہی ہے میرے آفس پر چھاپہ مارا گیا ہے راجندر کے بہانے میرے دفتر میں ساری فائلیں پڑھی گئی ہیں اگر راجندر کے خلاف سی بی آئی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو کیوں نہیں مجھ سے شیئر کیا گیا؟ میں ان کے خلاف ایکشن لیتا۔ شام ہوتے ہوتے انہوں نے وزیر مالیات ارون جیٹلی کو بھی نشانے پر لے لیا۔ انہوں نے ارون جیٹلی کے خلاف ڈی ڈی سی اے میں گھوٹالے کا ثبوت ہونے کا دعوی کرتے کرتے الزام لگایا کہ سی بی آئی اس سے جڑی فائلیں ڈھونڈنے آئی تھی۔ اس پر حیرت نہیں کہ اروند کیجیریوال آپے سے باہر ہوگئے بلکہ پارلیمنٹ میں بھی اس کو لیکر خوب ہنگامہ ہوا۔ ہنگامہ اب پارلیمنٹ کی نیت بن گئی ہے کوئی بھی معاملہ ہو وہ پارلیمنٹ میں رکاوٹ ڈالنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ شری کیجریوال کو یہ اچھی طرح سے معلوم ہے کہ راجندر کمار پر کرپشن کے الزام پرانے ہیں۔ یہ جانکاری ہوتے ہوئے بھی انہوں نے ایسے داغی افسر کو اپنا پرنسپل سکریٹری کیوں بنایا؟ کیا انہوں نے یہ جان بوجھ کر کیا تاکہ ان کے چانکیہ کہلائے جانے والے اس افسر کو بچایا جاسکے۔ ویسے اس سے پہلے بھی کرپشن کے الزامات کا سامنا کررہے مختلف لیڈروں اور افسروں کے خلاف بھی سی بی آئی اسی طرح کی کارروائی کر چکی ہے۔ جب بھی ایسی کارروائی ہوتی ہے اپوزیشن سرکار پر سی بی آئی کے بیجا استعمال کے الزام لگا دیتی ہے۔ یہ عجیب ہے کہ جب سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو کسی بھی سطح کے افسر کے خلاف کارروائی سے پہلے سرکار اجازت لینے کا قاعدہ ختم کیا تھا تو اسے کیجریوال نے اپنی جیت بتایا تھا لیکن اب وہی یہ رونا رو رہے ہیں کہ جانچ ایجنسی نے ان کے پرنسپل سکریٹری پر چھاپے سے پہلے انہیں کیوں نہیں مطلع کیا۔آخر میں کیا ایک وزیر اعلی کو دیش کے وزیر اعظم کے تئیں اس طرح کی سڑک چھاپ زبان اور لفظوں کا استعمال کرنا چاہئے؟ لیکن سڑک چھاپ سیاست کرتے کرتے عزت مآب وزیر اعلی موصوف ، وقت اور خوشگوار زبان لگتا ہے بھول گئے ہیں۔
(انل نریندر)

جب شرد پوار کے سپنے کو سونیا نے چکنا چور کردیا!

عام طور پر مانا جاتا ہے کہ مراٹھا لیڈر شرد پوار ایک بہت شاطر سیاستداں ہیں۔ وہ کب کون سی چال چل دیں، کب کیا کہہ دیں کوئی نہیں بتا سکتا لیکن ایسے شاطر لیڈر کو بھی سونیا گاندھی نے مات دے دی ہے۔ شرد پوار نے اپنی کتاب ’’لائف آن مائی ٹرمس ان گراس روٹ اینڈ کوریڈورس آف پاور‘ ‘میں شرد بابو نے چونکانے والا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ شرد پوار نے دعوی کیا ہے 10 جن پتھ کے خودساختہ وفاداروں نے سونیا گاندھی کو اس بات کیلئے رضامند کیا تھا کہ 1991ء میں شرد پوار کے بجائے پی وی نرسمہاراؤ کو وزیر اعظم بنایا جائے کیونکہ گاندھی خاندان کسی ایسے شخص کو وزیر اعظم نہیں بنانا چاہتا تھا جو آزاد خیال رکھتا ہو۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر نے کہا وفاداروں میں سورگیہ ارجن سنگھ خودبھی وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار تھے اور انہوں نے پوار کے بجائے راؤ کو چننے کا فیصلہ لینے میں سونیا گاندھی کو راضی کرنے میں چالاکی سے چال چلی۔ راؤ کی کیبنٹ میں پوار وزیر دفاع تھے۔ پوار کی کتاب کو ان کی75 ویں سالگرہ تقریب میں باقاعدہ طور سے سونیا گاندھی، وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر اور نائب صدر کی موجودگی میں ریلیز کیا گیا ۔ انہوں نے کہا بڑے عہدے کے لئے ان کے نام پر غور نہ صرف مہاراشٹر میں بلکہ پارٹی کے اندر بھی چل رہا تھا۔ وہ کافی ہوشیار تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کافی کچھ جنتا پر منحصر کرتا ہے۔ جہاں سونیا گاندھی رہتی ہیں اپنی کتاب میں پوار نے لکھا ہے کہ پی وی نرسمہاراؤ بھلے ہی سینئر لیڈر تھے لیکن چناؤ سے پہلے صحت کی وجہ سے وہ قومی اسٹیم کی سیاست سے الگ تھے۔ ان کے لمبے تجربے کو دیکھتے ہوئے انہیں واپس لانے کے مشورے دئے گئے۔ پوار نے لکھا کہ سونیا گاندھی کے وفاداروں نے سونیا گاندھی کو یقین دلایا کہ نرسمہاراؤ کی حمایت کرنا ٹھیک رہے گا کیونکہ وہ بوڑھے ہیں اور ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں ہے اس لئے پوار کے بجائے راؤ کو چنا گیا جنہیں 35 سے زیادہ ووٹوں کی بڑھت ملی۔ شرد پوار نے ایک دوسرے باب میں 1977ء میں اٹل بہاری سرکار کے خلاف عدم اعتمادتحریک پاس ہونے کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا ہے۔ کتاب سے صاف جھلکتا ہے کہ شرد پوار کے وزیر اعظم بننے کے سپنے کو سونیا گاندھی نے بھانجی مار دی اور ان کا ارمان پورا ہوتے ہوتے رہ گیا۔کہتے ہیں نہ کہ سیاست میں نہ کوئی کسی کا سگا نہیں، دوست کب دشمن بن جائے کہا نہیں جاسکتا۔ ذاتی مفاد ہی بالاتر ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

16 دسمبر 2015

سعودی عرب میں خواتین انقلاب

سعودی عر ب میں واقعی خواتین انقلاب کا آغاز ہوگیا ہے اور دیش کی تاریخ میں پہلی بار عورتوں کو کسی چناؤ میں حصہ لینے کی اجازت ملی ہے۔ مقامی انتخابات میں پہلی بار خواتین ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور بطور امیدوار چناؤ میں بھی اتریں۔ اپنی آزادی کی شروعات ہی سب سے پہلے ووٹ کے حق کے ساتھ کرنے والے بھارت جیسے ملکوں میں سعودی خواتین کے اس کارنامے کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ دنیا کے امیر ملکوں کی صوبائی انتخابات میں کھڑے ہونے والی خواتین کو اکیلے گاڑی چلانے کی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔ ووٹ ڈالنے کیلئے انہیں اپنے گھر کے کسی مرد ممبر کے ساتھ آنا پڑا اور اپنے لئے الگ سے بنی قطاروں میں کھڑے ہوکر ووٹ ڈالنا پڑا۔ سب سے عجیب و غریب بات یہ ہے کہ بطور ووٹر 10 فیصد سے بھی کم خواتین کا رجسٹریشن ہو سکا۔ 2 کروڑ10 لاکھ کی آبادی والی ارب راج شاہی میں صرف 11 لاکھ90 ہزار خواتین ووٹر ہیں ۔پہلا نتیجہ مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام مکہ سے آیا۔ مکہ کے میئر اوسامہ البار نے بتایا کہ پاس کے گاؤں مدرکا میں سلمہ بنت حزب الاوتیبی نے جیت حاصل کی ہے۔ اسی کے ساتھ دیش کی پہلی منتخبہ نمائندہ بن گئی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق17 عورتیں چنی گئی ہیں۔ سعودی عرب کے دوسرے سب سے بڑے شہر جدہ کی ایک سیٹ پر خاتون امیدوار لایا السلیمان نے جیتی ہے۔ دیش بھر میں 2100 سیٹوں کے لئے ہوئے چناؤ میں 7 ہزار امیدوار تھے ان میں 979 خواتین تھیں۔ سعودی عرب میں راج شاہی ہے، یہاں صرف بلدیاتی چناؤ ہی ہوتے ہیں۔ 2005 ء میں پہلی بار چناؤ ہوئے تھے۔13.5 لاکھ مرد ووٹروں کے مقابلے 1.31 لاکھ خواتین نے ووٹنگ کے لئے رجسٹریشن کرایا۔ چناؤ نتائج کے بعد سعودی عرب سنیما کمیٹی نے اعلان کیا کہ دیش میں جلد سنیما گھر کھلیں گے۔ راجدھانی ریاض میں اسے بنانے کیلئے معاہدے پر سائن کیا گیا ہے۔ دیش میں لمبے وقت سے کئی تنظیموں نے سنیما لانے کیلئے تحریک چھیڑرکھی تھی۔ سمندری راج شاہی میں پارلیمنٹ جیسی کوئی چیز آج بھی نہیں ہے۔ ہاں 284 ممبران پر مشتمل مشاورتی کونسل میں ایک تہائی ممبروں کی نامزدگی مقامی بلدیاتی وزارت کے ذریعے کی جاتی ہے لہٰذا کچھ مہلا امیدوار چناؤ جیتنے میں کامیاب رہیں تو شاید ان میں سے کچھ کو مشاورتی کونسل میں شامل ہونے کا موقعہ مل جائے۔ ابھی تو حالت یہ ہے کہ سعودی اقتدار اعلی میں نمائندے جب غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں تو ساتھ میں اپنی بیویوں تک کو نہیں لے جاتے۔ اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ سعودی خواتین کو کوئی اختیار دینا نہیں ہے۔ایک خاتون رضاکار نے شرعیہ قانون کی خلاف ورزی کرکے سڑک پر اکیلے گاڑی چلانے کی کوشش کی تو اسے گرفتار کرلیا۔ ایسے تنگ نظریئے والے حکمرانوں کا خواتین کو تھوڑی آزادی دینا مہلا انقلاب ہی کہا جائے گا۔
(انل نریندر)

ایک طرف ٹھنڈا دوسری طرف گھنا کہرہ

بڑھتی آلودگی سے پریشان دہلی کے شہریوں کے لئے ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ پہاڑوں پر جاری برفباری کا سیدھا اثر دہلی پر پڑ رہا ہے۔ تیز ہواؤں کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں آئی ریکارڈ گراوٹ نے اچانک سنیچر کو نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ عالم یہ ہے کہ اسکولی بچوں سے لیکر آفس جانے والے تک سبھی لوگ سردی میں ٹھٹر رہے ہیں۔ سنیچروار کا دن سیزن کا سب سے ٹھنڈا رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی کا کم از کم درجہ حرارت5 ڈگری تک گر کر11 ڈگری سیلسیس پر آگیا۔ وہیں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بھی22 ڈگری سے گھٹ کر18 ڈگری سیلسیس تک رہ گیا۔ محکمہ موسم کے مطابق صبح گھنے کہرے کے ساتھ ہوگی وہیں ہفتے کے آخر تک کم از کم 8 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ ماہرین موسمیات ڈی پی یادو نے بتایا کہ پہاڑوں میں برفباری کی وجہ سے ٹھنڈ اور سرد ہواؤں کا اثر بھی بڑھے گا۔ 20 دسمبر کے بعد ٹھنڈ اور بڑھے گی ایک تو ٹھنڈ اور ٹھنڈی ہواؤں نے دہلی کے شہریوں کو پریشان کررکھا ہے رہی سہی کثر اس کہرے نے نکال دی ہے۔ کئی علاقوں میں صبح میں دھند کی سطح 300 سے بڑھ کر 600 میٹر کے درمیان درج کی گئی ہے۔ رفتار اور دھند کے چلتے جمعہ کی رات 15 منٹ میں دو کا حادثے ہوگئے۔ان میں 6 گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں۔ راشٹرپتی بھون کے پاس جمعہ کی رات ایک کے بعد ایک پانچ کاریں اور دو موٹر سائیکل آپس میں ٹکراگئیں۔ حادثے میں دہلی پولیس کا ایک اے ایس آئی اور دو عورتوں سمیت 5 لوگ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دیر رات قریب پونے 12 بجے ریل بھون کے پاس راج پتھ سے رفیع مارگ کی طرف جارہی ہونڈا سٹی تیز رفتار کے سبب کار ڈرائیور نے رفیع مارگ ریڈ لائٹ پر ایس ایکس4 کار کو ٹکر ماردی۔ ٹکر اتنی زور دار تھی کہ ہونڈا سٹی اچھل کر فٹ پاتھ پر گر پڑی۔
چشم دید افراد نے فوراً پولیس کو خبردی۔ اطلاع ملتے ہی موقع پر پی سی آر وین پہنچی۔ پولیس معاملے کی چھان بین کررہی تھی کہ رفیع مارگ کی طرف سے ریل بھون کی طرف جارہی ایک گاڑی حادثے سے بچنے کی کوشش میں بے قابو ہوکر پی سی آر وین سے ٹکراگئی۔ اس کے بعد بھی وہ وہیں نہیں رکی اور ماروتی زیناور آلٹو کو ٹکر مارتے ہوئے آگے نکل گئی۔ اس دوران ایک گاڑی کی چپیٹ میں دو موٹر سائیکل آگئیں۔ حادثے میں پی سی آر وین میں موجود اے ایس آئی زخمی ہوگئے۔ اوڈی کار میں بیٹھی دو عورتوں دو دیگر لوگوں کو بھی چوٹیں لگیں۔ آلٹو ڈرائیور ریحان کے مطابق حادثے کے بعد اوڈی کار کا گیئر بیگ کھل گیا۔ اس سے ڈرائیور کو چوٹ نہیں آئی اور وہ گاڑی کو چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ گاڑی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ آٹو ڈرائیور نے بتایا کہ سمجھ میں نہیں آیااچانک یہ کار کہاں سے آگئی۔ گاڑی ڈرائیور کو دیر رات گاڑی چلانے میں خاص دھیان رکھنا ہوگا، رفتار پر قابو ہونا چاہئے کیونکہ چاندنی بہت کم ہوگی۔
(انل نریندر)

15 دسمبر 2015

مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر روک

جب سے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) نے پیرس اور اس کے بعد امریکہ کے شہر کیلیفورنیا میں جو دہشت ناک واقعہ ہوا اس کے بعد سے امریکہ میں ایک ایسا طوفان سا آگیا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر براک اوبامہ ہیں تو دوسری طرف امریکہ کے صدر عہدے کیلئے ری پبلکن پارٹی کے امیدواربننے کے مضبوط دعویدار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
امریکی عوام اوبامہ کہ آئی ایس سے مقابلہ کرنے کی قوت ارادی پر شبہ ظاہر کررہے ہیں۔ صدر سے جس سختی کی امید کی جارہی ہے وہ عوام کو دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ وہاں کے ایک مسلح سروس کے افسر نے کہا کہ آئی ایس سے نمٹنے کے لئے سخت حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس پر اوبامہ نے کچھ نہیں کہا۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کمپین کے دوران دھماکو بیان دیتے ہوئے کیلیفورنیا قتل عام کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پوری طرح سے روک لگانے کی مانگ کرڈالی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا جب تک ہمارے دیش کے نمائندے یہ نہیں پتہ لگا لیتے کہ کیا کچھ چل رہا ہے، تب تک امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پوری طرح سے روک لگا دی جائے۔ ان کا یہ اشتعال انگیز بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب محض ایک دن پہلے ہی اوبامہ نے دیش میں اینٹری کیلئے مذہبی جانچوں کو خارج کرنے کی بات کہی تھی اور ٹرمپ نے ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں کے دعویداروں کے ساتھ مل کر کٹر پسند اسلام کو خاص خطرے کی شکل میں نشاندہی نہ کرنے پر اوبامہ کی زبردست تنقید کی ہے۔ 9/11 کے بعد طالبان کے صفائے کیلئے جس طرح امریکہ نے افغانستان اور پھر عراق پر حملے کئے ان سے القاعدہ تو ختم نہیں ہوا لیکن دہشت گردی بڑھتی چلی گئی اور آج اس نے سب سے خطرناک شکل میں آئی ایس کی شکل اختیار کرلی ہے۔ امریکہ کو دہشت گردی سے تبھی فکر ہوتی ہے جب امریکی زمین پر کوئی آتنکی واقع ہوتا ہے۔ ان اسباب پر تو وہ دھیان نہیں دیتا جس کی وجہ سے حالات اتنے بگڑے اور بگڑتے جارہے ہیں۔ سارا غصہ مسلمانوں پر نکال دیتا ہے۔ مٹھی بھر دہشت گردوں کی وجہ سے پورے مذہب کو قصوروار نہیں مانا جاسکتا۔
بدقسمتی تو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مانگ امریکہ میں زور پکڑتی جارہی ہی۔ پیرس میں بھی مساجد میں پولیس کے چھاپے شروع ہوگئے ہیں۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ مسلم مذہب کے پیشوا یا یوں کہئے علماء مولانا دہشت گردی کے خلاف زور شور سے آوازیں اٹھائیں۔ ان کے ہمدردوں پر سخت نظر رکھیں، ان پر سختی کی جائے ناکہ پورے فرقے کو قصوروارٹھہرایا جائے یا اسلام کو ہی خطرہ بتایا جائے۔ اگر ایسا ماحول بنتا ہے تو بلا شبہ آئی ایس کے اثر میں آنے والے لڑکوں کو صحیح راستے پر لانے میں بھی کافی مدد ملے گی۔ اسلام کو بدنام ہونے سے بچانے کا خاص کام اسلامک مذہبی پیشواؤں کا ہے ۔
(انل نریندر)

لشکر کی خودکش حملہ آور تھی عشرت جہاں

2004 میں عشرت جہاں مڈبھیڑ معاملے کے بعد جو بھی تنازعہ شروع ہوا تھا وہ آج تک چلتا آرہا ہے۔ دیش کے تمام خودساختہ دانشور (فرضی صحافی) اسے فرضی انکاؤنٹر بتانے پر تلے ہوئے تھے اور آج بھی ہیں۔ وہ یہ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ ممبئی سے لگے علاقے ٹھانے اور مندرا کی باشندہ عشرت جہاں 2004 کو جاوید شیخ عرف پرگیش پلئی اور پاکستان کے دو لڑکوں امجد علی و ذیشان جوہر عبدالغنی کے ساتھ احمد آباد گھومنے آئی تھی اور پولیس نے ان چاروں کو احمد آباد کے باہری علاقے میں ایک فرضی مڈ بھیڑ کرکے مار ڈالا تھا۔ اس کے خاندان والوں نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ طالبہ تھی۔ عشرت جہاں کی ماں شمیمہ کوثر نے گجرات آئی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ اس کی بیٹی جاوید شیخ کے عطر کے کاروبار میں سیلس گرل کے طور پر کام کیا کرتی تھی جبکہ گجرات پولیس نے کہا تھا کہ احمد آباد میں مارے گئے دہشت گرد ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی پر حملہ کرنے کے ارادے سے وہاں پہنچے تھے۔
عشرت جہاں کیس پر گجرات کے اس وقت کے وزیر داخلہ امت شاہ اور گجرات پولیس کے کردار پر سوال اٹھے تھے۔ لشکر طیبہ نے بھی عشرت جہاں کو اپنی ویب سائٹ پر شہید کر درجہ دیا تھا۔ اب ممبئی پر26/11 آتنکی حملے کے ماسٹر مائنڈ لشکر طیبہ کے آتنکی ڈیوڈ ہیڈلی نے عشرت کے بارے میں بڑا خلاصہ کرکے اس کی تصدیق کی ہے کہ عشرت جہاں لشکر طیبہ کی آتنکی تھی۔ غور طلب ہے کہ ممبئی کی ایک عدالت نے ڈیوڈ ہیڈلی کو بدھوار کو معافی دے دی تھی اور اسے 26/11 ممبئی آتنکی حملے کے معاملے میں سرکاری گواہ بنایا ہے۔ ہیڈلی نے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے ) کو بتایا کہ2004 میں احمد آباد میں ماری گئی ممبئی کی لڑکی عشرت جہاں لشکرطیبہ کی فدائی حملہ آور تھی۔ اس خلاصے سے گجرات پولیس کے اس دعوے کی تصدیق ہوئی ہے جس میں عشرت کو دہشت گرد قراردیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ہیڈلی نے امریکہ میں یہ اطلاع این آئی اے اور محکمہ قانون کی چار پارلیمانی ٹیم کے ساتھ شیئر کی ہے۔ ہیڈلی نے بتایا تھا کہ عشرت جہاں لشکر کی فدائی دستے کی ممبر تھی جسے لشکر کے مزمل نام کے دہشت گرد نے اپنے دستے میں شامل کیا تھا۔عشرت جہاں کے انکاؤنٹر کو لیکر دیش میں بڑا تنازعہ چھڑ گیا تھا ہیڈلی کے اس انکشاف سے اس اشو پر چل رہی سیاست پر ڈراپ سین ہونا چاہئے لیکن اس سے شبہ ہے کہ یہ خود ساختہ سیکولر لیڈر اس تنازعے کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ یہ بات ڈیوڈ ہیڈلی نے کہی ہے جسے اس معاملے میں غیر جانبدار مانا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

10 دسمبر 2015

سونیا ۔راہل گاندھی عدالت میں حاضر ہوں

آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے وابستہ انگریزی اخبار ’’نیشنل ہیرالڈ‘‘ کی اربوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کے معاملے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب راہل گاندھی ،خزانچی موتی لال ووہرا، آسکر فرنانڈیز سمیت7 لوگوں کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ ہائی کورٹ نے ان سبھی کے خلاف ٹرائیل کورٹ کے ذریعے جاری سمن کو صحیح مانتے ہوئے ان کی عرضی خارج کردی۔ عدالت نے صاف کیا کہ سبھی ایک قومی سیاسی پارٹی سے وابستہ ہیں اور ان پر لگے جرائم کے الزامات کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ان کے مشتبہ برتاؤ کی سچائی کا پتہ لگانے کے لئے جانچ ضروری ہے۔ معاملے کی سماعت منگلوار کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے طے کی تھی۔ عدالت میں سونیا اور راہل گاندھی کی طرف سے وکیل پیش ہوئے اور انہوں نے منگلوار کو چھوٹ دینے کی عرضی داخل کی تھی ، عدالت نے اسے قبول کرلیا ہے۔ اب عدالت نے تمام ملزمان کو19 دسمبر کو شخصی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی ہے، جسے کانگریس نیتاؤں کے وکیلوں نے منظور کرلیا ہے اور عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ19 دسمبر دوپہر3 بجے سبھی ملزمان عدالت میں پیش ہوں گے۔ نیشنل ہیرالڈ کو شائع کرنے والی کمپنی ’دی ایسوسی ایٹڈ جرنل لمیٹڈ‘ کا قیام 1938 ء میں ہوا تھا۔ دیش کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے ذریعے یہ اخبار شروع کیا گیا تھا۔ یہ اکتوبر 2008ء میں بند ہوگیا۔ ایک نئی کمپنی ’ینگ انڈیا‘ نے 2010ء میں اس کو ایکوائر کرلیا۔ اس اکوائر کے پیچھے کی کہانی بھی خاصی دلچسپ ہے۔ بتاتے ہیں کہ نیشنل ہیرالڈ نے 90 کروڑ کا قرض آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے لینے کا حوالہ دیتے ہوئے ’ینگ انڈیا‘ پرائیویٹ لمیٹڈ کو 50 لاکھ میں بیچ دیا۔ دلچسپ یہ بھی ہے کہ ’ینگ انڈیا‘ کمپنی میں سونیا اور راہل گاندھی کے 76 فیصدی شیئر ہیں۔ اس طرح ان دونوں کا اس کمپنی پر مالکانہ حق ہے۔نچلی عدالت نے 26 جون 2014ء کو بھاجپا نیتا سبرامنیم سوامی کی عرضی پر کیس درج کیا تھا۔ سوامی کا الزام ہے کہ ایسوسی ایٹڈ جرنل لمیٹڈ کی املاک لینے کے لئے کانگریس پارٹی نے جو 90 کروڑ روپے بطور قرض لیا تھا وہ بھی غیر قانونی ہے۔ سبرامنیم سوامی ہی اس معاملے کو عدالت لے کر گئے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں جو عرضی دائر کی ہے اس میں الزام لگایا گیا کہ سونیا گاندھی ۔ راہل گاندھی نے کانگریس پارٹی سے قرض لینے کے نام پر نیشنل ہیرلڈ کی 2 ہزار کروڑ روپے کی پراپرٹی ضبط کرلی ہے۔ کانگریس نیتاؤں کی طرف سے پیش ہوئے کپل سبل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو برسوں سے ڈونیشن ملتا رہا ہے۔ پارٹی اسے جیسے چاہے خرچ کرسکتی ہے۔ کوئی دیگر اس کے علاوہ سوال نہیں اٹھا سکتا۔ سوامی کے علاوہ اب تک کسی نے سوال نہیں اٹھایا۔ اب تک پارٹی کو جو بھی ڈونیشن ملا تھا وہ سرکاری قواعد کے مطابق ملا تھا۔ یہ انکم تھی اور انکم غیر منقولہ جائیداد اور دوسری طرف سوامی نے اس 90 کروڑ روپے کے معاملے میں حوالہ کاروبار پر بھی شبہ ظاہر کیا ہے۔ سوامی کا یہ بھی الزام ہے کہ یہ سب کچھ دہلی میں بہادرشاہ ظفر مارگ پر واقع ہیرالڈ ہاؤس کی 1600 کروڑ روپے کی بلڈنگ پر قبضہ کرنے کے لئے کیا گیا۔ سوامی نے یہ بھی کہا کہ سازش کے تحت ’ینگ انڈیا‘ کمپنی کو اے جے ایل املاک کا حق دیا گیا ہے۔ ہیرالڈ ہاؤس کو فی الحال پاسپورٹ آفس کے لئے کرائے پر دیا گیا ہے جس سے کئی لاکھوں کا کرایہ وصولہ جارہا ہے۔ سوامی کا کہنا ہے کہ ہیرالڈ ہاؤس کو مرکزی سرکار نے اخبار چلانے کے لئے زمین دی تھی اس لحاظ سے اسے کمرشل مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ کانگریس پورے معاملے کو سیاسی رقابت سے دیکھ رہی ہے اور پارلیمنٹ سے سڑکوں تک مظاہرے اور نعرے لگا رہی ہے۔ منگلوار کو تو پارلیمنٹ بھی نہیں چلنے دی۔ ہماراسوال ہے کہ اس معاملے میں مودی سرکار کا کیا لینا دینا ہے؟ یہ ایک مجرمانہ مقدمہ ہے جو ایک شخص نے دائر کیا ہے۔ ان سب حرکتوں سے بہتر ہوگا کہ کانگریس عدالت میں لڑے اور ثابت کرے کہ یہ جھوٹا معاملہ ہے۔ دوسری طرف اب معاملہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔ دیکھیں عدالت میں کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

ان دہشت گرد تنظیموں کے سلیپر سیل

اگر عالمی دہشت گردی پچھلے کچھ برسوں میں اتنی خوفناک شکل اختیار کرگئی ہے تو اس کے پیچھے ایک خاص وجہ ہے ان کا اپنا نیٹورک بنانا۔ اسلامک اسٹیٹ ہو، القاعدہ ہو، لشکر طیبہ ہو انہوں نے اپنے سلیپر سیل بنانے میں بھاری کامیابی پائی ہے۔ برسوں پہلے یہ ایسے یکساں نظریئے والے لڑکوں کی بھرتی کیا کرتے تھے۔ انہیں ٹریننگ دیتے ہیں، پیسے دیتے ہیں اور انہیں مختلف ملکوں کے شہروں میں چھپے رہنے کو کہتے ہیں۔ انہیں وقت آنے پر سرگرم کردیا جاتا ہے۔ سلیپر سیل دہشت کاوہ چہرہ ہے جو آپ کے اورہمارے بیچوں بیچ رہتا ہے لیکن وہ اپنی اصل پہچان اتنی اچھی طرح چھپاتا ہے کہ ہم اسے پہچان نہیں پاتے۔ وہ عام انسان کی طرح نوکری پیشہ یا کاروباری کوئی بھی ہوسکتا ہے لیکن دہشت کے آقاؤں کا پیغام ملتے ہی دہشت گردی کی واردات کو انجام دینے چل پڑتا ہے۔ یہ لوگ بیرونی ملک سے آئے دہشت گردوں کی رہائی سے لیکر ٹوہ لینے تک میں مدد کرتے ہیں۔ اس کے بدلے آتنکی تنظیم انہیں قیمت چکاتی ہے یا پھر قوم کے نام پر ورغلاتے ہیں۔ عراق اور شام میں اپنی جڑیں جما چکی آئی ایس دنیا بھر میں ایسے ہی سلیپرسیل بناتی جارہی ہے۔ پیرس اور امریکہ میں حملے اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ انہی سلیپرسیل کے ذریعے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) پوری دنیا میں اپنے پاؤں پھیلانے میں کامیاب ہے۔ ایک نئی بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ان سلیپر سیلوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ پیرس اور کیلیفورنیا حملوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بیحد خوبصورت ہیں لیکن بیحد خطرناک اور کم عمر کی ہیں لیکن ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ پہچان ہے دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گرد البغدادی کی لیڈی برگیڈ کی۔ یہ ایسی ہلاکو گارڈز ہیں جنہیں بے قصوروں کا خون بہانے میں مزہ آتا ہے۔ انہیں بھی ہتھیار چلانے سے لیکر بم دھماکے تک کی سخت ٹریننگ دی جاتی ہے۔ جو لڑکیاں ان کے کام نہیں آتیں انہیں آئی ایس اپنے لڑکوں کی حوس بجھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ آئی ایس جیسی دہشت گرد تنظیم نے اپنے سلیپر سیل سرگرم کرنے کے لئے انٹر نیٹ کا استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔ کورڈ زبان میں یہ ایسے پیغام بھیجتے ہیں جو پہلی نظر میں نارمل لگتے ہیں اور آپ ان پر غور نہیں کریں گے لیکن الفاظ کے اندر سمبلوں میں وہ کوڈ یافتہ پیغام لکھاہوگا۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ ان آتنکی تنظیموں کے پاس تربیت یافتہ انٹر نیٹ ماہر بھی موجود ہیں جو اس تکنیک کو اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ دنیا کی زیادہ تر خفیہ ایجنسیوں نے ایسے پیغامات کو پکڑنے میں کامیابی تو پا لی ہے لیکن ابھی تک پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ماڈرن دہشت گردی میں ان سلیپر سیل کا بہت بڑا کردار ہوگیا ہے۔
(انل نریندر)

ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط

سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ...