06 اگست 2011

ایک بار پھر بھاجپا ہوئی بے نقاب

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 6th August 2011
انل نریندر
مہنگائی اور بدعنوانی جیسے برننگ اشوز پر یہ سرکار اور یہ پارلیمنٹ کتنی سنجیدہ ہے یہ ہمیں پچھلے دو دن میں لوک سبھا کے اندر چھائے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ حکمراں اور اپوزیشن کے بیچ یہ نورا کشتی بھارت کی جنتا کو بیوقوف بنانے کیلئے محض ایک ڈرامہ تھا۔ دراصل صاف ہے کہ کانگریس پارٹی اور بڑی اپوزیشن پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی میں ایک خفیہ سمجھوتہ ہوگیا تھا۔ اس سمجھوتے کے تحت بھاجپا سے سرکار نے یقین دہانی لی تھی کہ آپ تقریر کریں گے ۔ بس اس سے کچھ زیادہ نہیں۔ آخر میں ایک ریزولوشن پاس کردیا جائے گا جس میں مہنگائی پر گہری تشویش جتائی جائے گی اور یقین دہانی کرائی جائے گی کہ سرکار اس سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ ہے اور ہوا بھی یہی، تقریروں کے بعد بڑھتی مہنگائی پر ممبران پارلیمنٹ کی تشویش سے اتفاق کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ وہ اسے قابو کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ ایوان میں بعد میں اس سلسلے میں پیش پرستاؤ کو بابلند آواز سے پاس کردیا گیا۔ اس پرستاؤ میں قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے افراط زر کو روکنے کے لئے فوری موثر قدم اٹھانے کی اپیل کی گئی تاکہ عام آدمی کو راحت مل سکے۔
ووٹ تقسیم سے پہلے سپا، بسپا اور آر جے ڈی کے ممبر وزیر مالیات کے جواب سے مطمئن نہ ہونے کا بہانہ بنا کر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ اس کے بعد ایوان نے کمیونسٹ پارٹی کے گورو داس داس گپتا کی جانب سے پرستاؤ میں پیش ایک ترمیم کو 51 کے مقابلے 320 ووٹوں سے نامنظور کردیا۔ جس پر لیفٹ پارٹیاں انا ڈی ایم کے اور بیجو جنتا دل کے ممبربھی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے صرف لیفٹ پارٹی کے ہی ممبر تھے تو چاہتے تھے کہ ریزولوشن میں مہنگائی روکنے میں سرکار کی ناکامی کے لئے مذمت کی جائے لیکن بھاجپا کو ایسا کرنا ضروری نہیں لگا۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے پہلے بڑی بڑی دھمکیاں دینے والی بھاجپا ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی اور بھاجپا کے ذریعے اپنائے گئے رویئے عام جنتا اپنے آپ کو ٹھگا محسوس کررہی ہے۔ مہنگائی پر سرکار کو پانی پی پی کر کوسنے والی بھاجپا نے پارلیمنٹ میں سرکار کو مہنگائی کے معاملے میں گھیرنے کے لئے ووٹ کے تقاضے والے قاعدے184 کے تحت لوک سبھا میں بحث کی مانگ کی۔ حکومت نے تھوڑا ہاں نہ کے بعد اس مانگ کو مان لیا۔ اب باری اپوزیشن کی تھی، وہ پوری طاقت اور دلائل کے ساتھ حکومت کو پارلیمنٹ میں گھیرتی لیکن بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا اپنی ذمہ داری کو پوری کرنے میں بحث کے پہلے دن ہی پوری طرح ناکام رہی۔ وہیں رہی سہی کسر اس نے دوسرے دن پوری کردی۔ پارلیمانی قواعد کے تحت اگر کوئی بحث قاعدہ184 کے تحت کرائی جاتی ہے تو بحث کے آخر میں کسی بھی ایک ایم پی کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ ووٹ کی تقسیم کی باقاعدہ مانگ کرے لیکن بھاجپا نے جہاں پہلے دن سے ہی نہ تو مہنگائی کے مسئلے پر سرکار کو گھیرنے میں دلچسپی دکھائی اور نہ ہی بحث کے آخر میں کراس ووٹنگ کی مانگ کی۔ آئین کے مطابق اگر قاعدہ184 کے تحت کسی بحث میں حکمراں فریق کو منہ کی کھانی پڑتی ہے تو اس پر اخلاقی دباؤ بنتا ہے اور اخلاقی بنیاد پر اس سرکار کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں بچتا۔ بھاجپا نے کراس ووٹنگ کی مانگ نہ کرکے ایک طرح سے اس سرکار کو بنے رہنے کا کام کیا ہے اور یہ سب اس خفیہ سمجھوتے کے تحت کیا گیا ہے جو کانگریس پارٹی کے حکمت عملی سازوں نے بھاجپا کے نیتاؤں سے کی تھی۔ اگر بھاجپا چاہتی تھی وہ اس موقعے پر لیفٹ پارٹیوں اور دیگر چھوٹی پارٹیوں سے مل کر ان کی حمایت کافائدہ اٹھاتے ہوئے اگر کراس ووٹنگ کی مانگ کرتی تو کافی امکان یہ بنتا کہ سرکار دباؤمیں کچھ ٹھوس قدم اٹھانے کو مجبور ہوتی جس کا سیدھا فائدہ عام جنتا کو ملتا۔
آخر کار اس کا فائدہ اپوزیشن پارٹیوں کو ہی ملتا ہے۔ ایسے میں جب بھاجپا بار بار لوگوں کے سامنے کانگریس کے متبادل کی شکل میں ابھرنا چاہتی ہے تو اس کے ذریعے پارلیمنٹ میں اپنایا گیا رویہ اس کی توقعات پر ایک طرح کا دھکا لگنا ثابت ہو سکتا ہے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Parliament, Price Rise, Vir Arjun

عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے مہنگائی پر نورا کشتی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 6th August 2011
انل نریندر
جمہوریت میں جب جنتا کی منتخب کردہ حکومت بے شرم ہوجائے جسے کسی ساکھ و عزت کی فکر ہو نہ روایت کی اور نہ ہی پراپرٹی آف گورنینز کی تو یہ ہی حال ہوتا ہے جو آج ہندوستان میں ہورہا ہے۔ اس حکومت کو نہ تو جنتا کی پرواہ ہے اور نہ اقتدار سے ہٹنے کی۔ اقتدار میں بنے رہنے کیلئے اسے صرف پارلیمنٹ کے ایوان لوک سبھا میں اپنا نمبروں کا کھیل صحیح رکھنا ہوتا ہے۔ اور پچھلے دو دنوں کی کارروائی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ حکمراں پارٹی کے منیجر اس کام میں ماہر ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کو کیسے پٹا کر رکھنا ہے ایک بار پھر انہوں نے ثابت کردیا ہے۔ رہی بیچاری بھارت کی مرتی، پستی جنتا ، تو وہ اب اگلے چناؤ تک بے سہارا ہے۔
مہنگائی جیسے برننگ اشو پر جو 95 فیصد جنتا کو براہ راست متاثر کرتا ہے اس سرکار اور پارلیمنٹ کا کیا رویہ ہے؟پارلیمنٹ میں مہنگائی کو لیکر ہوئی بحث کو دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر آسانی سے پہنچا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی مبینہ سنجیدہ بحث میں دیش کو کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔ اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تقریر کرنے سے مہنگائی قابو میں آسکتی تو ایسا نہ جانے کب سے ہوجاتا۔ مہنگائی پر بحث تقریباً ہر اجلاس میں ہوئی لیکن نتیجہ صفر کا صفر رہا۔الٹا مہنگائی بڑھتی گئی۔ سرکار کے پاس ہر بار کوئی نہ کوئی دلیل ضرور آجاتی ہے جس سے وہ اپنی خامیوں کو چھپا سکے۔ کبھی کمزور مانسون کو سبب بتایا جاتا ہے تو کبھی بین الاقوامی مالی حالت کو ،تو کبھی بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو۔ یہ سرکار تو جنتا کو بیوقوف بنانے کے لئے ہر بحث کے بعد نئی تعویل کا اعلان کردیتی ہے ۔ اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ مرکزی حکومت ان اسباب کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتی ہے جو حقیقت میں مہنگائی کے سبب ہیں۔ جب انہیں مانیں گے ہی نہیں تو اصلاحات کیسے ہوں گی؟ ہمارے ممبران پارلیمنٹ کا حال تو یہ ہے کہ وہ مہنگائی جیسے مسئلے پر وہ اتنا ہلکا پھلکا برتاؤ کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ میں تعطل کو توڑنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہوئی سیاسی ڈیل کا اثر ایوان میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مہنگائی پر سرکار کی تابڑ توڑ کھنچائی کرنا تو دور رہا اپوزیشن ممبران نے ایوان میں آنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ دو روز پہلے تک مہنگائی کو لیکر سرکار پر نشانہ لگانے میں مشغول ممبران پارلیمنٹ نے بحث کے دوران ندارد ہوکر اس مسئلے پر اپنی غیر سنجیدگی سے عام آدمی کو ایک بار پھر روبرو کرادیا ہے۔
مہنگائی پر نمبروں کا جال بن کر ایوان کے ریکارڈ میں اپنی تقریر درج کرا رہے مقررین کو چھوڑ کر باقی جو پارلیمنٹ میں موجود تھے ان میں سے بہت سے تو آپسی گپ شپ میں مشغول تھے۔ ایک سپا ایم پی شیلندر کمار نے تو ایوان میں اس نظارے پر تنقید بھی کردی۔ انہوں نے ایوان میں کم ممبران کی موجودگی پر مایوسی جتائی اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ اہم مسئلوں پر بحث میں بریک دے کر سرکار نے مہنگائی پر اپنی کھوکھلی سنجیدگی کا اظہار ضرور کردیا ہے۔ ممبران کی بات تو چھوڑیئے اپوزیشن پارٹیوں کے بڑے نیتا تک پورے وقت ایوان میں موجود نہیں رہے۔ لمبے چوڑے مہنگائی کے بنیادی اسباب سے منہ ہی چرایا جارہا ہو تو پھر اس پر لگام کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔ لیفٹ پارٹیوں سے نہ تو اس یوپی اے سرکار سے اور نہ ہی اس بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے۔ اب تو اس سرکار کو ہی لائسنس مل گیا ہے کہ وہ منمانی کرے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Parliament, Price Rise, Vir Arjun

05 اگست 2011

کیا مایاوتی اسمبلی بھنگ کرنے جارہی ہیں؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 5th August 2011
انل نریندر
اترپردیش کی وزیر اعلی محترمہ مایاوتی نے میڈیارپورٹوں کے مطابق اپنا سرکاری بنگلہ چھوڑدیا ہے اور وہ سابق وزیر اعظم کی حیثیت سے ملے اپنے دوسرے بنگلے میں منتقل ہوگئی ہیں۔ اس خبر کے بعد سیاسی قیاس آرائیوں کادور شروع ہوگیا ہے۔ لوگ اپنے اپنے ڈھنگ سے وزیر اعلی مایاوتی کے گھر بدلنے کا تجزیہ کررہے ہیں۔ بہن جی اب 13 مال ایونیو رہنے چلی گئی ہیں۔ مایاوتی نے کالی داس مارگ والا سی ایم کا مکان حالانکہ چھوڑا نہیں۔ وہ یہاں پر اپنا سرکاری کام کاج جاری رکھیں گی لیکن رہنے کے لئے وہ 13 مال ایوینیو کا ہی استعمال کریں گی۔ اس سے پہلے 2003ء میں بھی بہن جی نے اسی طرح گھر بدلنے کے بعد25 اگست 2003 ء کو امبیڈکر پارک میں پریورتن ریلی کے بعد وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ 13 مئی کو مکمل اکثریت سے برسر اقتدار آنے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب وزیر اعلی مایاوتی اپنی سابقہ رہائش گاہ میں چلی گئی ہیں۔ کیا 5 اگست(آج) سے شروع ہورہا اسمبلی کا اجلاس اس حکومت کا آخری اجلاس ہوگا؟ کیا بہن جی کا مکان شفٹ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اترپردیش میں بہت جلد اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں؟ اس نقطہ نظر سے ریاست کے سیاسی مستقبل کے لئے اگلے 15-20 دن بیحد اہم ہیں۔ مایاوتی حکومت چوطرفہ دباؤ میں ہے۔ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹروائی ایس سچان اور این آر ایم گھوٹالہ کی سی بی آئی جانچ کے احکام کے ساتھ ایک طرح سے یوپی میں سیاست کی نئی بساط بچھ گئی ہے۔ ہائیکورٹ نے بھی سبھی معاملوں کو سی بی آئی کو سونپتے ہوئے جانچ پوری کرنے کیلئے تین مہینے کا وقت دیا ہے۔ یعنی اسمبلی چناؤ کے پہلے سی بی آئی کی رپورٹ کورٹ میں ہوگی۔ سی بی آئی جانچ کی آنچ وزیر اعلی کے دفتر تک پہنچنا مانی جارہی ہے۔ اس کی وجہ شاید وزیراعلی کا وہ فیصلہ ہے جس کے سبب2010ء میں صحت و خاندانی بہبود کو الگ الگ وزراء کے حوالے کیا گیا تھا۔ لیکن ڈاکٹر بی پی سنگھ کے قتل کے بعد اپریل میں واپس لیتے ہوئے پھر اسے صحت و خاندانی بہبود بنا دیا گیا۔ محکمے کے بٹوارے کے بعد ہلچل تیز ہوئی اور دو سی ایم او ، ایک ڈپٹی سی ایم او کا قتل کردیا گیا۔ اب بہن جی کے سامنے اس سے نمٹنے کی چنوتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سی بی آئی کی جانچ کس سمت میں اور کہاں تک پہنچتی ہے۔ ایسا ماننا مشکل نہیں ہے کہ سی بی آئی کی تیز چال اور این ایچ آر ایم و پریوار کلیان پروگرام میں دھاندلی کے الزامات، سی ایم او اور ڈپٹی سی ایم او کے قتل میں اپنے قریبیوں کو پھنستا دیکھ کر مایاوتی کی حکمت عملی اسمبلی بھنگ کرنے کی ہو؟ موجودہ حالات 2003 ء سے بھی زیادہ خراب ہیں جب بسپا ۔ بھاجپا کی مایاوتی سرکار پر تاج کوریڈور کے گھوٹالے کا پھندہ کس رہا تھا۔ مایاوتی نے تب ایک ریلی بلا کر 25 اگست2003 ء کو اچانک اسمبلی بھنگ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ حالانکہ سرکار میں شامل بھاجپا نے پہلے ہی گورنر کو حمایت واپسی کا خط بھیج دیاتھا۔ موجودہ بسپا سرکار کے پاس اکثریت ہے اور وہ مانسون اجلاس میں اکثریت سے اسمبلی کو بھنگ کرنے کی سفارش کو پاس کرا سکتی ہیں۔ پارٹی نے چناؤ کی تیاریاں پہلے ہی پوری کرلی ہیں۔ زیادہ تر سیٹوں پر امیدواروں کی نشاندہی کرنے کا کام پورا ہوچکا ہے۔ چناؤ کمیشن صاف کرچکا ہے کہ اسے پانچ ریاستوں کے چناؤ کرانے ہیں اور وہ ان ریاستوں میں ایک ساتھ چناؤ کرانا چاہتا ہے۔ اگر مایاوتی اگست میں اسمبلی بھنگ کرتی ہیں تو انہیں میونسپل چناؤ سے ہی نجات مل جائے گی، جو وہ نہیں چاہتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی کی پدیاتراؤں کے دوسرے و تیسرے مرحلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ جس کی کانگریسیوں میں بہت بحث اور جوش پایا جاتا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun

04 اگست 2011

ووٹنگ قاعدے کے تحت بحث کا جوا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 4th August 2011
انل نریندر
یسا کہ امید تھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے پارلیمنٹ میں یوپی اے حکومت پر ہلا بول دیا ہے۔ اور بدعنوانی و مہنگائی کے مسئلے پر مرکز میں حکمراں کانگریس لیڈر شپ والی یوپی اے سرکار کو گھیرنے میں لگی بھاجپا نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو چاروں طرف سے گھیرنے کا پورا پلان بنا لیا ہے۔ بھاجپا نے ان پر مانسون اجلاس کا ماحول خراب کرنے کا بھی الزام لگا دیا ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے ہی پہل کرتے ہوئے اپوزیشن کے سلسلے میں جو غیر ضروری بیان دیا ہے اس کے پیچھے اس کا واحد مقصد اپوزیشن کو مشتعل کرنا اور پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنا لگتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ارون جیٹلی نے منموہن سنگھ اور پی چدمبرم پر تلخ حملے کئے۔ جیٹلی کا کہنا ہے اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے معاملے میں سابق وزیر مواصلات اے راجہ اور وزیر اعظم منموہن سنگھ و ان کے دفتر کے درمیان 18 مرتبہ خط و کتابت ہوئی ۔ اس خط و کتابت کے ذریعے راجہ نے وزیر اعظم کو اسپیکٹرم معاملے میں اپنی وزارت کے فیصلے اور پالیسی سے پوری طرح واقف کرایا تھا۔ اس لئے وزیر اعظم یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے کہ انہیں کچھ پتہ نہیں تھا۔ سشما سوراج نے وزیر اعظم پر پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے پارلیمنٹ میں مہنگائی اور بدعنوانی کے مسئلوں پر ووٹنگ کرانے والے قواعد کے تحت بحث کرانے کا نوٹس دے گی۔ سشما نے کہا کہ این ڈی اے بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلوں پر لوک سبھا میں قاعدہ 184 اور راجیہ سبھا میں قاعدہ167 کے تحت نوٹس دے گی۔
بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلوں پر کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کو پارلیمنٹ میں گھیرنے کے لئے بھاجپا اور اس کی لیڈر شپ والے این ڈی اے نے ووٹنگ قاعدے کے تحت بحث کرانے کی تجویز لوک سبھا سکریٹریٹ کو بھیج دی ہے۔ بھاجپا چاہتی ہے کہ بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلے پر ایوان میں صرف بحث ہی نہیں بلکہ ووٹنگ بھی کرائی جائے تاکہ ان مسئلوں پر یہ صاف ہوسکے کہ کون سرکار کے ساتھ ہے اور کون سرکار کے خلاف ہے۔ یہ داؤ چل کر بھاجپا کانگریس کے ساتھ اس کی اتحادیوں کو بھی بے نقاب کرنا چاہتی ہے۔ بھاجپا کا تجزیہ ہے کہ بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلوں پر ووٹنگ ہوئی تو یوپی اے سرکار پھنس سکتی ہے۔ حکومت کو باہر سے حمایت دینے والی سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا ان مسئلوں پر نظریہ صاف ہے۔ سپا کے رام گوپال یادو نے کہا کہ بدعنوانی پر اب حکومت بھاگ نہیں سکتی۔ اسے پارلیمنٹ کا سامنا کرنا ہوگا اور دیش کی عوام کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ بسپا کی جانب سے مورچہ ستیش مشرا نے سنبھالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی سب سے بڑا اشو ہے اس کے خلاف ان کی پارٹی پائیدار لوک پال سے کم راضی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انا ڈی ایم کے، بیجو جنتا دل، راشٹریہ جنتادل اور جنتا دل سیکولر اور لوکدل جیسی چھوٹی موٹی پارٹیوں نے بھی اپنے انداز میں حکومت کو آنکھیں دکھائی ہیں۔ کانگریس ممبر چپ چاپ سنتے اور دیکھتے رہے۔ مجبوراً ایوان کے پہلے دن چیئرمین کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ کو دیکھتے ہوئے بھاجپا مہنگائی اور بدعنوانی پر کانگریس سپا اور بسپا کے اتحاد کو پھر سے اجاگر کرنا چاہتی ہے ۔ سپا اور بسپا نے اگر کانگریس کو حمایت دی تو بھاجپا ۔سپا ،بسپا اور کانگریس اتحاد کو اشو بنائے گی۔ اگر سپا اور بسپا نے ووٹنگ کے وقت کانگریس کا ساتھ نہیں دیا اور یوپی اے پارٹیوں نے بھی الگ الگ سر اور تیور دکھائے تب ایسے میں یوپی اے حکومت کی فضیحت ہوسکتی ہے۔ لیفٹ پارٹیوں کا موقف پہلے ہی واضح ہے کہ وہ سرکار کی جم کر مخالفت کریں گے۔ بھاجپا نے ان ساری باتوں کو بھی دھیان میں رکھ کر یہ داؤ چلا ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ سرکار ووٹنگ والے قاعدے کے تحت کسی بھی بحث کو تیار ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اگر بھاجپا کی مانگ نہیں مانی گئی تو پارٹی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر یہ ہی سندیش دے گی کہ سرکار بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہے، اس لئے صرف بحث کر اشو کو ٹال رہی ہے۔ بھاجپا کی جانب سے بدعنوانی پر قاعدہ184 کے تحت بحث کرانے کے لئے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے تجویز بھیجی تھی۔ مہنگائی پر بھاجپا نیتا یشونت سنہا اور این ڈی اے کے کارگذار کنوینر شرد یادو نے تجویز رکھی ہے۔ اب سرکار نے ووٹ قاعدے کے تحت بحث کرانا قبول کرلیا ہے۔ دیکھیں اس جوئے میں وہ کتنی کامیاب رہتی ہے؟ 
Tags: Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Parliament, Sushma Swaraj, Vir Arjun

چین کا پہلی بار اعتراف حملے کی پشت پر پاکستانی دہشت گرد

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 4th August 2011
انل نریندر
ہند، امریکہ ، برطانیہ، اسپین، روس سمیت تمام ملکوں کے بعد اب شاید پہلی مرتبہ چینی حکومت نے بھی اپنے یہاں ہوئے تشدد کے پیچھے پاکستان میں پھل پھول رہی دہشت گرد تنظیموں کا ہاتھ ہونے کی بات کہی ہے۔ چین کے سرحدی صوبے زنجیانگ میں سنیچر کے روز رمضان سے قبل کم سے کم تین دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ زنجیانگ کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی اوغور مسلمانوں کی ہے۔ بنیادی طور پر مسلم اکثریتی علاقہ ہے لیکن چینی حکومت نے بڑی تعداد میں ہانونشی چینیوں کو یہاں بسا کر انہیں اقلیت میں بدل دیا ہے۔ اس علاقے کے بنیادی باشندے مسلمانوں میں اس بات کو لیکر کافی ناراضگی اور کئی لوگ اپنی تہذیب کی حفاظت کے لئے چین سے آزاد ہونے کی مانگ پر اڑے ہوئے ہیں۔ ایسی ہی ایک انتہا پسند تنظیم مشرقی ترکستان اسلامی تحریک ہے۔ جس کے ممبران پر سنیچر اور ایتوار کی دہشت گردی کی واردات میں شامل ہونے کا شبہ جتایا جاتا ہے۔ اس تنظیم کا خاص مرکز پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں ہے اور چینی ذرائع کا دعوی ہے کہ واردات کرنے والوں میں دھماکہ خیز مادہ بنانے کی ٹریننگ پاکستانی دہشت گردی کے کیمپوں میں لی ہے۔ چین کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے انتہا پسند کیمپوں میں ٹریننگ لینے والوں کو القاعدہ سے بھی حمایت ملتی ہے اور اس کے پیچھے القاعدہ بھی ہے۔ ان حملوں میں قریب 20 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ یہ الزام ایسے وقت لگایا گیا ہے جب پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے ان دنوں چین کا خفیہ دورہ کرنے کی خبریںآرہی ہیں۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نیوز کے مطابق قراگر سٹی حکومت کا کہنا ہے کہ سنیچر اور ایتوار کو ہوئے ان حملوں میں پاکستانی تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے ٹریننگ لینے والے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔ اس حملے کے بعد پکڑے گئے مشتبہ افراد نے قبول کیا ہے کہ حملہ آوروں کے سرغنوں نے انہی کیمپوں میں بم اور ہتھیار بنانے کی ٹریننگ لی ۔ وہ مذہبی نظریات کے تھے اور جہاد حمایتی بتائے جارہے تھے۔ زنجیانگ علاقے میں چین اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ سرحدیں ہیں۔ یہاں سے قراقرم شاہراہ کے راستے چین اور پاکستان کے درمیان کافی تجارت ہوتی ہے۔ زنجیانگ کے مغربی قراگر میں زیادہ تر مسلم اوغور آبادی ہے۔ وہاں چینی نژاد کے لوگوں کو آنے جانے سے اکثر فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔دونوں کے درمیان 2009 میں ہوئے جھگڑے میں 200 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔
ہم امید کرتے ہیں کہ اب تو چین کی آنکھیں کھلیں گی۔ آج تک چین ہمیشہ پاکستان کا حمایتی رہا ہے اور ہمیشہ سے یہ ہی کہتا رہا ہے پاکستان دہشت گردی کا جنم داتا نہیں ہے بلکہ خود شکار ہے۔ بیشک کچھ حد تک یہ صحیح بھی ہے۔ آج یہ اسلامی جہادی تنظیم پاکستانی حکومت اور فوج کے کنٹرول سے باہر ہے۔ پاکستانی فوج میں اتنا دم نہیں ہے کہ وہ ان کو روک سکے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس کے بیج کس نے بوئے ہیں؟ خود پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے ہمیشہ ان تنظیموں کی حمایت کی ہے۔ جب تک بھارت اور امریکہ ان جہادیوں کے نشانے پر تھے تب تک چین خاموش تھا اور عالمی اسٹیج پر پاکستان کا ساتھ دیتا تھا۔ اب جب خود پر آ پڑی ہے تو ہائے توبہ مچا رہا ہے۔فی الحال زنجیانگ میں دہشت گردی کا خطرہ زیادہ نہیں بڑھا ہے لیکن یہ پھیل سکتا ہے۔ چین میں اولمپک کھیلوں کے کچھ وقت پہلے بڑے پیمانے پر تشدد پھیل چکا تھا اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں ان جہادیوں کے حملے اور تیز ہوسکتے ہیں۔ فی الحال چین کو افغانستان میں امریکی مصیبت سے اپنا فائدہ دکھائی دے رہا ہے۔ ہندوستان کے آتنک واد سے نمٹنے میں آرہی اڑچن سے چین کو مزہ آرہا ہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ خود اس آگ سے زیادہ دن بچا نہیں رہ سکے گا۔ چین کے مفاد میں ہوگا کہ وہ پاکستان سے سختی سے پیش آئے اور اسے دہشت گردی کو فروغ دینے سے روکے۔ پاکستان کے سب سے زیادہ قریب چین ہے اور چین کے کہنے کا اس پر اثر ہوگا۔ چین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چینی سامراجیہ کا اہم حصہ ہانونشی چینیوں کے راج کو مانتا ہے۔ دوسری نسلوں اور تہذیبوں کے لوگ چاہے وہ تبتی ہوں یا اوغور ہوں ، وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ چین کو اپنے ٹریک ریکارڈ کو بھی دیکھنا چاہئے۔ وہ دیش میں ایک بڑی آبادی والے مسلم فرقے سے برابری کا برتاؤ نہیں کرتا۔ زنجیانگ صوبے میں بھی اکثر ملازمتوں میں اوغور نہیں لکھا ہوتا۔وہاں کے مسلمانوں کو کچلنے کی جگہ ان کی بنیادی پریشانیوں پر زیادہ توجہ ہونی چاہئے۔ القاعدہ اور دہشت گرد تنظیموں کو ہمیشہ دبے کچلے مسلمانوں سے ہمدردی ملتی ہے۔ 
Tags: Anil Narendra, China, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

03 اگست 2011

دھمکیوں پر اترے منموہن سنگھ پہلے ہی دن چت

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 3rd August 2011
انل نریندر
 پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہوگیا ہے۔ اس میں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا دور دورہ شروع ہونا طے لگتا ہے۔ پہلے دن سے ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ عام طور پر سادہ طبیعت اور خوش مزاج وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بوکھلاہٹ میں اپوزیشن پر سیدھا حملہ بول دیا۔ پیر سے مانسون اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی وزیر اعظم نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کہا ہمیں کسی بھی مسئلے پر بحث کرانے کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ ہم ہر مسئلے پر بحث کرانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اس سے آگے وزیر اعظم نے جو کہا وہ ضرور سمجھ سے باہر ہے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا ہمارے پاس اپوزیشن خیموں کو شرمندہ کرنے والے بہت سے راز ہیں۔ وزیر اعظم کے اس حملے سے اپوزیشن بپھر گئی ہے۔ بھاجپا نیتا سشما سوراج نے کہا کہ ایک طرف تو پرنب مکھرجی، پون بنسل اور راجیو شکلا جیسے حکومت کے نمائندے پارلیمنٹ کو ٹھیک ٹھاک چلانے کی اپیل کررہے ہیں وہیں ان کے لیڈر دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ بھاجپا نیتا سے اس بارے میں پوچھا گیا تو نقوی نے کہا کہ پارلیمنٹ چلے اور سبھی کام کاج ٹھیک ٹھاک چلے ایسی ہماری خواہش ہے۔ لیکن سرکار ٹکراؤ اور غرور کے موڈ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں (وزیر اعظم کو) گڑھے مردے اکھاڑنے دیجئے، پھر دیکھیں گے۔ پہلے ہی دن سرکار ایک ایسی جانب سے چاروں خانے چت ہوگئی جہاں سے اسے شاید کبھی امید نہ ہوگی۔
ٹیم انا نے سرکار پر حملہ بول دیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دوسری پاری کا مانسون اجلاس کا پہلا دن ایسا ہوگا کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ گاندھی وادی لیڈر انا ہزارے فریق نے پیر کو دعوی کیا کہ مرکزی وزیر کپل سبل کے پارلیمانی حلقے سمیت ناگپور ،وردھا اور امراوتی کے ووٹروں نے لوک پال بل کے سرکاری مسودے کو نامنظور کردیا اور سماجی رضاکاروں کے عوامی لوک پال بل کی حمایت کی ہے۔ انا نے دعوی کیا کہ سبل کے چناؤ حلقے کے 85 فیصدی ووٹر انا ہزارے کے جن لوک پال بل کے حق میں ہیں اور 82 فیصدی ووٹر چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے میں لایا جائے۔ انا نے کہا یہ ایک اہم مثال ہے جو ملک کے شہریوں کو صحیح لوک شاہی کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ ریفرنڈم ہے کہ سوشل آڈٹ بہت ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پورے دیش میں اسی طرح کا ریفرنڈم ہو۔ نتیجے بتاتے ہیں کہ کپل سبل کے چناؤ حلقے میں 85 فیصد لوگ پارلیمنٹ کے اندر ممبران کے برتاؤ اور 86 فیصدی لوگ بڑی عدالتوں کو مجوزہ لوک پال کے دائرے میں رکھنے کے حق میں ہیں۔ سوال نامے کے ذریعے 83 فیصد ووٹروں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں لوک پال بل پر ممبران کو اپنی پارٹی کے رخ کے بجائے توقعات کے مطابق ووٹ کرانا چاہئے۔
ٹیلی کام گھوٹالے میں ایک بار پھر وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام سامنے آیا ہے۔ پیر کو ہی ملزم شاہد بلوا کی جانب سے دی گئی دلیل میں ان کے وکیلوں نے کہا کہ پی ایم کو ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کارروائی کے بارے میں پوری معلومات تھی۔ بلوا نے اس وقت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اور سالیسٹر جنرل واہن وتی کا نام بھی لیا کہ انہیں بھی الاٹمنٹ کی بات چیت کی پوری جانکاری تھی۔ بلوا نے اپنی دلیل کو پختہ کرنے کے لئے اے راجہ کے اس خط کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے وزیر اعظم کو لکھا تھا۔ بلوا نے سی بی آئی پر جانبدارانہ رویہ اپنانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ وہ ٹاٹا کو بچانے کی کوشش میں دیگر لوگوں پر ہاتھ ڈال رہی ہے۔ بلوا کے وکیلوں نے یہاں تک کہا کہ یہ اسپیکٹرم الاٹمنٹ پالیسی سرکار کی تھی اور یہ ہی وجہ ہے کہ کہیں بھی اس کی مخالفت نہیں کی گئی۔ ہر قدم پر اسے اجازت ملتی گئی۔ نہ تو وزیر اعظم اور نہ ہی اس وقت کے وزیر مواصلات نے کسی مرحلے پر یہ کہا ہے کہ اس پالیسی سے سرکار کو نقصان ہوگا۔ پھر وہ کٹہرے میں کیوں ہیں؟
اس مانسون اجلاس کا آغاز ہنگامی ہوا ہے۔ اس وقت تو پوری اپوزیشن اپنے اپنے اسباب سے کانگریس پارٹی اور سرکار سے ناراض ہے۔ یہ اجلاس ٹھیک سے نکل جائے یہ وزیر اعظم اور ان کے سپہ سالاروں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر دونوں ہی جگہوں پر سرکار کے خلاف مورچہ گرم ہے۔ دیکھیں سرکار کیسے اس سے نمٹتی ہے؟
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, BJP, CBI, Congress, Daily Pratap, DMK, Manmohan Singh, Shahid Balwa, Tata Teleservices, Vir Arjun

دہلی کو جگانے کی غرض سے شرم مارچ یعنی سلٹ واک

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 3rd August 2011
انل نریندر
اس سال کے آغاز میں کینیڈا میں پہلے سلٹ واک کا آغاز کیا گیا تھا۔ کینیڈا کے پولیس ملازمین کے ذریعے خواتین کو صلاح دی گئی تھی کہ وہ اسکرٹ جیسے کپڑے نہ پہنیں۔ انگریزی میں اس کو بے شرمی کہا جاتا ہے۔ اس تبصرے کے بعد کینیڈا کی نیورسٹیوں کے طالبات نے سلٹ واک کا انعقاد کیا تھا۔ ایتوار کو نئی دہلی میں اسی طرز پر ایک سلٹ واک کی گئی ۔ اس میں بری تعداد میں غیرملکی خواتین بھی شامل ہوئیں۔ ہندوستان میں کیونکہ بہت سے لوگ ’’سلٹ ‘‘ لفظ سے بہت زیادہ واقف نہیں ہیں اس لئے اسے سلٹ واک یعنی ’بے شرمی مورچہ ‘ کا نام دیا گیا۔ اس پیدل یاترا کے لئے صبح 10 بجے سے ہی جنتر منتر پر لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ منتظمین کو امید تھی کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ آکر دیش کی آبروریزی کے واقعات بھری راجدھانی دہلی میں اپنی حمایت اس پروٹیسٹ مارچ کو دیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے زیادہ تعداد میں لوگ نہیں آئے اور واک کے لئے سات۔ آٹھ سو لوگ ہی جمع ہو پائے۔ ان میں بھی خاصی تعداد میں غیر ملکی تھے۔ دہلی کے طلباء سے لیکر دوسرے شہروں سے دہلی گھومنے آئی لڑکیوں نے بھی واک میں حصہ لیا۔ واک میں شامل لوگوں نے تختیاں لی ہوئی تھیں جن میں ’سوچ بدلو، کپڑے نہیں‘ ’ہمیں بھی ہے عزت سے جینے کا حق‘، ’شرم کرو شرمندہ نہیں‘ جیسے نعرے لکھے تھے۔ جنترمنتر پہنچ کر اسمتا تھیٹر گروپ کے لوگوں نے ایک نکڑ ناٹک بھی کیا۔ واک کے ذریعے نوجوانوں نے بتایا کہ یہ بے شرمی مورچہ ان بے شرموں کے خلاف ہے جو لڑکیوں کو پریشان کرتے ہیں اور ان لوگوں کے خلاف بھی جو متاثرہ کو ہی ملزم بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ سلٹ واک میں جہاں لڑکیاں اپنے حق کی لڑائی لڑنے پہنچی تھیں وہیں ایسی خواتین بھی تھیں جنہیں اپنی بیٹی کے مستقبل کی فکر یہاں کھینچ لائی تھی۔ اپنی بچیوں کے ساتھ آئیں ان عورتوں کا کہنا تھا کہ جب ہماری بیٹیاں بڑی ہو جائیں گی تب انہیں اپنے حق اور سنمان کی مانگ کے لئے سلٹ واک میں نہ نکلنا پڑے، اس لئے ہم آج ہی آواز اٹھا رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جب یہ بڑی ہوجائیں تو ہم انہیں اس لئے کہیں آنے جانے سے نہ ٹوکیں کہ کہیں کوئی انہیں چھیڑ نہ دے یا کہیں ان کے ساتھ آبروریزی نہ ہوجائے۔
’بے شرمی مورچہ‘ کی کنوینرنیشالا سنگھ نے کہا کہ لڑکیاں اس طرح سے کپڑے پہنتی ہیں انہیں اس سے جوڑ کر کس کس طرح کا برتاؤ جھیلنا پڑتا ہے، ان پر کس طرح کی چھینٹا کشی ہوتی ہے، چاہے بس ہو یا کوئی بازار ہو یا اپنے کالج انہیں باتوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے یہاں سلٹ واک کا انعقاد کیا گیا۔ انہوں نے کہالینگک برابری ، لینگک نظریات والی اور متاثرہ کو ہی ملزم ٹھہرانے کے مسئلے پر آواز اٹھانا ہی آج کے مظاہرے کا مقصد تھا۔ اپنے ہاتھ میں ’اپنی سوچ بدلو کپڑے نہیں ‘ تحریری تختے لئے شامل ہوئی آکانکشا نے کہا کہ والدین بھی گھر سے نکلنے کے وقت کہتے ہیں کہ بس میں جانا ہے تو ٹھیک سے کپڑے پہن کے جاؤ، بھلا یہ کوئی بات ہوئی؟ اپنے بچوں کو گود میں لئے ایک احتجاجی خاتون نے کہا کہ وہ مظاہرے میں اس لئے شامل ہونے آئی ہے تاکہ مستقبل میں اس کی بیٹی کے ساتھ بھی اسی قسم کا برتاؤ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ سماج کی ذہنیت بدلنے کا ہے۔ سماج میں دوہری ذہنیت کا نمونہ ہی ہے کہ پہننے اوڑھنے کی نصیحتیں صرف لڑکیوں کو ہی دی جاتی ہیں۔
 Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Slut Walk, Vir Arjun

02 اگست 2011

برے پھنسے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 2nd August 2011
انل نریندر
ویسے توجنتا پارٹی کے پردھان ڈاکٹر سبرامنیم سوامی ہمیشہ سے تنازعات میں گھرے رہتے ہیں لیکن اس بار انہوں نے ایک ایسی حرکت کردی ہے جس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ ہارورڈ جیسی ادارے سے تعلیم یافتہ اقتصادی معاملوں کے ماہر ڈاکٹر سوامی نے ایک اخبار میں اپنے مضمون میں تجویز پیش کی ہے کہ دیش کے ہندوؤں کو آتنک وادی حرکتوں پر مل کر رد عمل کا اظہارکرنا چاہئے۔ سوامی نے لکھا تھا ’’ہمیں ایک مجموعی نکتہ نظر کی ضرورت ہے کیونکہ ہندوؤں کو اسلامی دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اپنی ہندو وراثت کو قبول کرتا ہے تو ہم ہندو اسے روشن خیال ہندو سماج کے حصے کے طور پر قبول کرسکتے ہیں، جو کہ ہندوستان ہے۔ دیگر لوگ جو اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں یا جو غیر ملکی نظریئے کے ذریعے ہندوستانی شہریت لئے ہوئے ہیں وہ بھارت میں تو رہ سکتے ہیں لیکن انہیں ووٹ کا حق نہیں دیا جاناچاہئے۔یعنی منتخب نمائندے بھی وہ نہیں بن سکتے‘‘۔ مسلمان اور غیر ہندوؤں سے ووٹ دینے کا حق چھیننے کی وکالت کرنے والے اس مضمون کو لیکر اختلاف بڑھ رہا ہے۔ ڈاکٹر سوامی نے یہ مضمون ممبئی میں سلسلہ وار دھماکوں کے تین دن بعد 16 جون کو ممبئی کے اخبار’ ڈی این اے‘ میں لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی تھی کہ بھارت کو ہندو راشٹر گھوشت کردینا چاہئے اور یہاں غیر ہندوؤں سے ووٹ دینے کاحق چھین لینا چاہئے تبھی دہشت گردی سے سختی سے نمٹا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوںیا غیر ہندو فرقے کے لوگوں کو ووٹ دینے کا حق تبھی ملنا چاہئے جب وہ فخر سے مانیں کہ ان کے آباواجداد ہندو تھے۔
مسٹر سوامی کے اس مضمون پر واویلا کھڑا ہورہا ہے۔ مسلمانوں کے ووٹ کرنے کے حق کو منسوخ کرنے کی تجویز دیتے سبرامنیم سوامی کے اس مضمون کو بیحد ٹھیس پہنچانے والا مانتے ہوئے قومی اقلیتی کمیشن نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ2 اگست کو یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ جنتا پارٹی کے نیتا پر کیا کارروائی کرے۔ کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ نے بتایا کہ کمیشن نے اس مضمون پر غور کیا ہے اور وہ اس کا پورا جائزہ لینے میں لگا ہے۔حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ اس مضمون کو ممبران کو تقسیم کردیا گیا ہے۔ کمیشن نے اسے بیحد ٹھیس پہنچانے والا پایا ہے۔ اب اس کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ اس سے آئی پی سی کی دفعہ کی کن کن شقوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ مہاراشٹر اقلیتی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ابراہیم متھائی نے ممبئی کے پولیس چیف اروپ پٹنائک کو خط لکھ کر ڈاکٹر سوامی کے خلاف کیس درج کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کی مانگ کی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں بھی سوامی کے خلاف آوازاٹھنے لگی ہے۔ وہاں کے قریب ڈھائی سو طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خط لکھ کر سوامی سے سبھی تعلقات توڑنے کی مانگ کی ہے۔ سوامی ہارورڈ یونیورسٹی میں معاشیات مضمون پڑھاتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر سوامی آئے دن متنازعہ بیان دیتے رہتے ہیں لیکن اس مرتبہ انہوں نے کچھ زیادہ ہی تلخ بیان دیا ہے۔ کوئی بھی مہذب سماج ایسی دلیلیں قبول نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر سوامی جیسے دانشور سے اس طرح کی حرکت کی امید نہیں تھی۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Mumbai, Subramaniam Swamy, Vir Arjun

چندولیہ نے نیرا راڈیا اور رتن ٹاٹا کو گھسیٹا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 2nd August 2011
انل نریندر
ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے میں ملزم سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے پرائیویٹ سکریٹری رہے آر کے چندولیہ نے خصوصی عدالت میں سی بی آئی پر الزام لگایا ہے کہ جانچ ایجنسی ان کے خلاف گواہی دینے کیلئے گواہوں پر ناجائز دباؤ بنا رہی ہے۔ سی بی آئی انہیں جھوٹے معاملے میں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔ سنیچر کے روز پٹیالہ ہاؤس میں سی بی آئی کی او پی سینی کی اسپیشل عدالت میں چندولیہ کی جانب سے جرح پوری کر لی ہے۔ آج سوان ٹیلی کام کے پرموٹر شاہد عثمان بلوا نے اپنے بچاؤ میں دلیلیں دی ہوں گی۔ چندولیہ کے وکیل وجے اگروال نے کہا کہ چندولیہ کی گرفتاری کے وقت سی بی آئی کے پاس ان کے خلاف کوئی چشم دید گواہ نہ تھا اور نہ ہی جانچ ایجنسی نے کسی بھی گواہ کو پیش کیا۔ اس طرح اس سال 2 فروری کو ہوئی ان کی گرفتاری دراصل غیر قانونی تھی۔ اگروال نے کہا کہ جن لوگوں کو چھوڑا گیا یا جنہیں گواہ بنایا جارہا ہے انہیں خصوصی عدالت میں ملزم کے طور پر کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ جمعہ کے روز اسپیکٹرم معاملے میں چندولیہ نے اپنی دلیل میں خود کو بے قصور بتایا اور کہا کہ انہوں نے تو صرف اپنے باس کی ہدایات پر عمل کیا تھا۔ ساتھ ہی نیرا راڈیا اوررتن ٹاٹا کو بھی معاملے میں گھسیٹ لیا۔ چندولیہ کے وکیل نے سی بی آئی کے اسپیشل جج جسٹس اوپی سینی نے کہا کہ راجہ کے مبینہ ساتھی اسیر ودرم اچاری نے مبینہ طور پر کلیگنر ٹی وی کو ٹاٹا اسکائی، ڈی ٹی ایس میں لانے کی سازش رچی تھی اور اس کے لئے راجہ اور نیرا راڈیا کے بیچ رابطے کا کام کیا۔ اس میں نیرا راڈیا کوملزم بنایا جانا چاہئے۔ دلیل کے دوران چندولیہ کے وکیل نے کہا کہ بات چیت کے دوران نیرا نے جب سمجھوتے کے سلسلے میں بات کی تو آچاریہ نے ان سے کہیں بھی نہیں پوچھا کہ وہ کس بارے میں بات کررہی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اچاری کو راجہ کی طرف سے کئے جارہے کلیگنر ٹی وی اور ٹاٹا کے بیچ سمجھوتے کے بارے میں جانکاری تھی ۔ اس کو دیکھتے ہوئے ٹاٹا نیرا اور اچاری سمیت کلیگنر ٹی وی کو اس معاملے میں ملزم بنایا جانا چاہئے۔ ٹا ٹا اور نیرا راڈیا بڑے لوگ ہیں اور سی بی آئی انہیں چھو تک نہیں پارہی ہے لیکن اچاری کو کیوں نہیں؟ چندولیہ نے کہا کہ وہ تو روز مرہ کے کام کاج میں اے راجہ کی مدد کرنے والے افسر تھے۔ ان کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل کے باس اے راجہ تھے اور چندولیہ نے تو صرف ان کی ہدایات کی تعمیل کی۔ باس کی ہدایات کی تعمیل کرنے کے لئے ایک معاون مانے جاتے تھے کیا وہ چندولیہ اپنی باس سے سوال کر سکتے تھے؟ چندولیہ نے کہا کہ وہ ڈی ایم کے کلیگنر ٹی وی یا کسی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی سے وابستہ شخص نہیں ہیں۔ انہوں نے سی بی آئی کو چنوتی دی بھی وہ بھی ثبوت کی شکل میں کوئی دستاویز پیش کریں جس پر انہوں نے دستخط کئے ہوں۔
اب تک مختلف گواہوں پر نظر ڈالیں تو ایک الگ تصویر سامنے آتی ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں خود اے راجہ کی۔ راجہ نے 25-7-2011 کو وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا نام گھسیٹا۔ اور ملزم سوان، یونیٹیک کی حصے داری کم کئے جانے کے بارے میں جانتے تھے۔ 26-7-11 کو اٹارنی جنرل جی ای واہن وتی( اس وقت کے سالیسٹر جنرل) پر راجہ نے الزام لگایا کہ ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کی پالیسی میں راجہ کی تبدیلیوں کو منظوری دی۔ نیرا راڈیا کے ٹیپ آؤٹ ہونے سے ٹو جی گھوٹالے میں نیتاؤں، صنعت کاروں، صحافیوں کے کھیل کی ڈراؤنی تصویر سامنے آگئی۔ ان ٹیپوں سے پتہ چلا کہ وہ ٹاٹا اور امبانی جیسی کمپنیوں کے لئے لابنگ کا کام کیا کرتی تھی۔ ٹاٹا گروپ کی سبھی 90 کمپنیوں کا اشتہار اور پبلک رلیشن کا کام نیرا راڈیا کی کمپنی ویشنوی کمیونی کیشن کے پاس تھا۔ 27-7-11 سدھارتھ بہورا نے بھارتیہ ریزرو بینک کے گورنر ڈی سبا راؤ پر الزام لگایا کہ انہوں نے اسپیکٹرم لائسنس فیس کا جائزہ نہیں لیا اور معاملہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج او پی سینی اس معاملے سے کیسے نمٹتے ہیں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Manmohan Singh, Neera Radia, P. Chidambaram, Swan Telecom, Tata Teleservices, Unitech Wireless, Vir Arjun

31 جولائی 2011

کانگریس پر یدی یروپا کی وداعی بھاری پڑسکتی ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 31st July 2011
انل نریندر
 کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدی یروپا کے استعفے سے کانگریس نے بھلے ہی ظاہری طور پرخوشی کا اظہار کیا ہولیکن اندرونی طور پر اسے بھاری تشویش ضرور ہوگی۔ اب تک کانگریس کے اپنے کئی وزیر اور وزراء اعلی کو یدی یروپا کی آڑ میں بچا رکھا تھا اور انہی کے نام پر وہ اپنے گھوٹالوں کو انصاف پر مبنی ٹھہرا رہی تھی لیکن یدی یروپا کے استعفے کے بعد کانگریس کے کئی وکٹ گرنے کا خطرہ منڈرانے لگا ہے۔ راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت اپنوں کو فائدہ دلانے کے الزام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت اور ان کے سینئر وزیر راجکمار چوہان پہلے سے ہی لوک آیکت کے نشانے پر ہیں۔ ایسے میں جب بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا نے اپنے محض ایک داغی وزیراعلی ہٹا دیا تو کانگریس کے اوپر بھی ایسے داغیوں پر کارروائی کرنے کا دباؤ ضرور بڑھے گا۔ یکم اگست سے شروع ہورہے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اپوزیشن جارحانہ ہو سکتی ہے۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے استعفے کی مانگ اٹھ سکتی ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم لائسنس الاٹمنٹ گھوٹالے کے الزام میں جیل میں بند سابق وزیر مواصلات اے راجہ نے عدالت میں مورچہ کھول دیا ہے۔ راجہ کے علاوہ سابق ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بیہورہ کے بیان نے بھی سرکار کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ حکومت کو اس معاملے میں صفائی دینی پڑ رہی ہے۔ بیہورہ نے کہا کہ دسمبر2007 ء میں لائسنس فیس کو لیکر ہوئی میٹنگ میں ریزرو بینک کے گورنر سبا راؤ اور اس وقت کے وزیر مالیات پی چدمبرم موجود تھے۔ بیہورہ کے اس بیان پر مرکزی وزیر مواصلات کپل سبل کو صفائی دینی پڑی۔ اپوزیشن اب ان سبھی بیانات اور اطلاعات کو اکٹھے کرنے میں جٹ گئی ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر اور پی اے سی کے چیئرمین ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے پہلے ہی چدمبرم کے خلاف مورچہ کھولا ہوا ہے ۔ وہ چدمبرم کو بھی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کا حصے دار بتاتے ہیں، ان کے استعفے کی مانگ کررہے ہیں۔ حالانکہ سرکار اس سلسلے میں حالات کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے آپریشن ڈمیج کنٹرول میں جٹ گئی ہے۔ اس کے لئے زمین تحویل ترمیم بل ، لوکپال بل سمیت دیگر بل پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کی حکمت عملی بنائی جارہی ہے تاکہ اپوزیشن کی دھار کو کمزور کیا جاسکے۔ یدی یروپا کے استعفے کے بعد اب کانگریس کے پاس کوئی اور ایسی بھاجپا کی مثال نہیں بچی جس سے وہ اپنا بچاؤ کرسکے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Karnataka, Lokayukta, Vir Arjun, Yadyurappa

انا ہزارے تحریک پر آمادہ ،حکومت اسے ناکام کرنے کے درپے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 31st July 2011
انل نریندر
جیسا کہ اس یوپی اے سرکار سے امیدتھی وہی ہوا۔ مرکزی حکومت نے ٹیم انا کو زور کا جھٹکا دیا ہے۔کیبنٹ نے لوکپال بل مسودے کو منظوری دے دی ہے۔ جس مسودے کو پاس کیاگیا ہے اس میں انا ہزارے کی اہم سفارشوں کو یکسر درکنار کردیا گیا ہے۔ سرکاری مسودہ اور ٹیم انا کے مسودے میں سب سے بڑا فرق وزیر اعظم اور عدلیہ کو لیکر ہے۔ ٹیم انا اس بات پر زور دے رہی تھی کہ لوکپال کے بارے میں وزیر اعظم اور عدلیہ ضروری ہے جبکہ سرکاری مسودے میں وزیر اعظم اس قانون کے دائرے سے باہر رہیں گے۔ جب وہ عہدہ چھوڑیں گے تب بدعنوانی کے الزامات کی جانچ لو کپال کرسکتا ہے۔ اسی طرح عدلیہ بھی لوکپال کے دائرے سے باہر ہوگی۔ عدلیہ کی ذمہ داری کیلئے الگ بل مانسون اجلاس میں لانے کی امید حکومت نے ظاہر کی ہے۔ سرکاری مسودے میں پارلیمنٹ میں ممبران پارلیمنٹ کا برتاؤ بھی لوکپال کے دائرہ اختیار سے باہر ہوگا۔ البتہ پارلیمنٹ سے باہرکے کاموں پر لوکپال جانچ کرسکتا ہے۔ انا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے اندر بھی ممبران پارلیمنٹ کا برتاؤ لوکپال بل کے دائرے میں ہو۔ ایک بڑا اختلاف افسر شاہوں کو لیکر ہے۔ ٹیم انا کے لوکپال میں پوری افسرشاہی اس کے دائرے میں ہونی چاہئے۔ چاہے وہ مرکز کی ہو یا ریاستوں کی۔ جبکہ سرکاری لوکپال میں گروپ اے کے نیچے افسرشاہی جانچ کے دائرے سے باہر ہوگی۔ ان کے لئے الگ سسٹم ہوگا۔ اوپر کے افسران کی جانچ لوکپال کرسکتا ہے۔
ٹیم انا کے سبھی سپہ سالار حکومت کے رویئے اور مسودے سے بھڑک گئے ہیں۔ پرشانت بھوشن کا کہنا ہے جو مسودہ منظور کیا گیا ہے وہ لوکپال قانون کا نہیں بلکہ جولوکپال بل ہے۔ پرشانت کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے اس کارنامے کے خلاف پورے دیش میں گاندھی گری کریں گے۔16 اگست سے جنترمنتر میں انا ہزارے نے بھوک ہڑتال کا اعلان پہلے سے ہی کردیا ہے۔ پرشانت بھوشن نے وزیر اعظم کو لوکپال کے دائرے سے باہر رکھنے کو آئین کے منافی قراردیا ہے۔ انا نے کہا کہ سرکار نے دھوکا دیا ہے، ہم جنتا کے درمیان جائیں گے۔ ٹیم انا نے زوردیا تھا کہ کیبنٹ کے سامنے دونوں مسودے سرکاری اور انا کے رکھے جائیں تاکہ صحیح فیصلہ ہوسکے لیکن سیول سوسائٹی کا مسودہ کیبنٹ کے سامنے رکھا ہی نہیں گیا۔ صرف وزرا کا مسودہ ہی رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیر قانون سلمان خورشید کا دعوی ہے کہ اس الزام میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ٹیم انا نے لوکپال بل کے لئے 40 اہم نکتے رکھے تھے۔ اس میں سے 34 نکتوں کو بل کے مسودے میں شامل کرلیا گیا ہے۔ ٹیم انا کی کرن بیدی کہتی ہیں کہ جو بل منظور کیا گیا ہے وہ ایک دم لنگڑا لولا ہے۔ اس قانون کے دائرے سے وزیر اعظم اور عدلیہ کو باہر رکھا گیا ہے۔ ریاستوں میں بدعنوانی کے معاملے بھی اس کے دائرے میں نہیں آئیں گے۔ ریاستوں میں ضروری طور سے لوکپال مقرر کرنے کی تجویز بھی نہیں مانی گئی۔ اس طرح یہ بل دیش کے عوام کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق جیسا ہے۔ اطلاعات حق کے جانے مانے ماہر و رضاکار اروند کیجریوال نے منظور کردہ بل کی اس شق پر حیرانی ظاہر کی جس میں انتظام کیا گیا ہے کہ بدعنوانی کے معاملے کی کوئی شکایت جھوٹی نکلتی ہے تو اسے بھاری جرمانہ یا دو سال تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں شکایت کنندہ کے خلاف اتنی سخت شق بنانے سے لوگ ڈر جائیں گے۔ اس میں بدعنوانیوں کو الٹا اور طاقت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ لوکپال قانون بدعنوانی پر لگام لگانے کیلئے بنایا جارہا ہے یا بدعنوانیوں کو بچانے کیلئے بنایا جارہا ہے؟ کیجریوال نے لوکپال بل کو ’’دھوکا پال‘‘ بل قراردیا ہے۔
لوکپال کے مسودہ کی جو بھی اچھائیاں برائیاں ہیں انہیں ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تو یہ صاف ہے کہ اسے لیکر بہت تلخ اختلافات ہیں۔ ایک طرف حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان اختلاف ہے تو دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان۔ کوئی اپوزیشن پارٹی سرکار کے مسودے سے متفق نہیں ہے اور اس کا نتیجہ کل سامنے آئے گا جب بل پارلیمنٹ میں پیش ہوگا۔ پیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں یہ بتانے کے لئے کسی جیوتش کی ضرورت نہیں کہ اس بل پر بھاری ہنگامہ ہوگا اور پورا امکان یہ ہے کہ اس بل کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو سونپ دیا جائے گا۔ یعنی اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ یہ پاس ہوجائے گا۔ پورے دیش میں بدعنوانی کے خلاف ایک لہر دوڑ رہی ہے۔ جنتا چاہتی ہے کہ بدعنوانی کے خلاف بلا تاخیر کچھ ٹھوس اور سخت قدم اٹھائے جائیں۔ لوکپال بیشک ہر مرض کی دوا نہیں ہے۔ لیکن یہ بدعنوانی کے خلاف ایک طاقتور ادارہ ضرور بن سکتا ہے اور دیش میں یہ پیغام جاتا ہے کہ سرکار بدعنوانی کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہے لیکن فوری سختی فائدے اور اختلاف لوکپال پر اپنی قسم کی عام رائے نہیں بننے دے رہے ہیں۔ لوکپال پر جب دیش کے بڑے ادارے پارلیمنٹ میں بحث ہوگی تب شاید کوئی ٹھوس قدم ابھرکر سامنے آئے۔ فی الحال تو ٹیم انا اپنی تحریک کی تیاری میں لگ جائے گی اور سرکار اسے فیل کرنے میں جٹ جائے گی۔
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun