19 مئی 2012

شاہ رخ خان پھر پھنسے تنازعے میں

آئی پی ایل یعنی انڈین پریمیر لیگ ابھی اسٹنگ آپریشن کا صدمہ جھیل رہی تھی کہ ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ معاملہ فلم سپر اسٹار کنگ خان سے متعلق ہے۔ کولکتہ نائٹ رائڈرز کے مالک شاہ رخ خان مہاراشٹر کرکٹ ایسوسی ایشن کے حکام سے مبینہ طور پر بھڑ گئے۔ معاملہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے۔ شاہ رخ خان اپنے بچوں کے ساتھ کولکتہ نائٹ رائڈرز بنام ممبئی انڈینس میچ کے اختتام پر وانکھڑے اسٹیڈیم پہنچے اور اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملنے ڈریسنگ روم کی طرف چلے گئے۔ ان کے ساتھ آئے بچے میدان میں جانے کی کوشش کرنے لگے تو سکیورٹی ملازمین نے انہیں روک دیا۔ شاہ رخ خان کو جب اس کا پتہ چلا تو وہ باہر آکر سکیورٹی گارڈوں سے بھڑ گئے اور آپس میں کہا سنی شروع ہوگئی۔ ایم سی اے کے حکام نے انہیں بتایا کہ وہ میدان میں نہیں جا سکتے۔ اس پر شاہ رخ نے کہا کہ میں ٹیم کا مالک ہوں اور مجھے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ شاہ رخ اور ایم سی اے افسر سے بحث ہورہی تھی تبھی یوسف پٹھان بیچ میں بچاؤ کرنے پہنچ گئے۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر اقبال شیخ نے موقعہ کی نزاکت سمجھی اور وہ شاہ رخ کو سمجھا بجھا کر اپنی گاڑی میں بٹھا کر اسٹیڈیم سے لے گئے۔ ایم سی اے کی جمعہ کو ہوئی میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ شاہ رخ خان پانچ سال تک اسٹیڈیم میں داخل نہیں ہوسکیں گے تاہم بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلانے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ شاہ رخ کے اسٹیڈیم میں جانے پر پابندی کے بارے میں بی سی سی آئی آخری فیصلہ کرے گی۔بہرحال پولیس نے اسٹیڈیم میں ہوئے جھگڑے میں دونوں نے ایک دوسرے پر الزام لگایا ہے۔ایم سی اے نے شاہ رخ کے خلاف مرین ڈرائیو تھانے میں رپورٹ درج کرا دی ہے۔ ادھر شاہ رخ کا کہنا ہے کہ وہ نشے کی حالت میں نہیں تھے اور ایم سی اے کے حکام نے ان کے بچوں کے ساتھ بدتمیزی کی۔شاہ رخ خان نے آناً فاناً میں بلائی گئی پریس کانفرنس میں کہا کہ میں اس بات سے انکار نہیں کروں گا کہ میں نے گالی دی لیکن یہ سب تب شروع ہوا جب ایک شخص پیچھے سے آیا اور مراٹھی میں کچھ ایسا بیہودہ لفظ استعمال کیا جسے میں دوہرانا نہیں چاہتا۔ میں نے شراب نہیں پی رکھی تھی۔ میں اپنے بچوں کو لینے گیا تھا اور میرے بچوں کے ساتھ سکیورٹی حکام نے ہاتھا پائی کی تھی جس کے بعد میرا ایم سی اے حکام کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ سکیورٹی کے نام پر بچوں کے ساتھ ہاتھا پائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ معاف کرنے لائق بات نہیں ہے، انہیں مجھ سے معافی مانگی چاہئے۔ معاملہ پیچیدہ ہے ،یہ ٹھیک ہے کہ ایک سیلیبریٹی حیثیت ہونے کے سبب فلمی ستاروں کی چھوٹی سی بات ہیڈ لائنز بن جاتی ہے لیکن فلمی ستاروں کو بھی اس کا احساس ہونا چاہئے کہ وہ کیا کررہے ہیں اور اس کے کیا نتیجے ہوں گے۔ کچھ فلمی ستارے اپنے آپ کو دیش کے آئین سے اوپر مانتے ہیں اور ہر جگہ اپنی چلانا چاہتے ہیں۔ پولیس اور شاہ رخ کے بیانوں میں بہت فرق ہے۔ معاملہ درج ہوچکا ہے اور چھان بین سے ہی پتہ چلے گا کہ آخر ہوا کیا؟ اس معاملے میں ایک اور نقصان شاہ رخ کو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی ٹیم نے ممبئی کی ٹیم کو ہرایا تھا، سچن کو ہرایا تھا۔ شاہ رخ ممبئی کے خلاف ہی میدان میں اتر گئے۔ آخر شاہ رخ آج جو بھی ہیں وہ ممبئی کی وجہ سے ہیں، ممبئی فلم انڈسٹری کی وجہ سے ہیں۔ ایک ٹوئٹ پرآیا ہے کہ شاہ رخ خان کو اپنی ٹیم کا نام 'کولکتہ نائٹ رائڈرز' سے بدل کر 'کولکتہ نائٹ فائٹر' رکھ لینا چاہئے۔

ہاتھی مورتی گھوٹالہ 9 لاکھ کی مورتی90 لاکھ میں

اترپردیش میں اس وقت کی وزیر اعلی کے عہد میں ہوئے گھوٹالوں کی پرتیں کھلنے لگی ہیں۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے منگل کے روز میڈیا کو بتایا یادگاروں وپارکوں کی تعمیر اور ان میں لگے ہاتھیوں کی مورتیوں و دیگر مورتیوں کو لگانے میں پانچ ہزار نہیں بلکہ40 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔لکھنؤ کے امبیڈکر پارک میں لگی ہاتھی کی مورتیوں کو بنوانے و انہیں لگوانے میں کروڑوں روپے کی سرکاری پیسہ کی بندربانٹ کی گئی ہے۔آگرہ کے ایک سنگتراش کی شکایت پر حضرت گنج پولیس تھانے نے اس معاملے میں دھوکہ دھڑی ، غبن، دھمکی دینے کی رپورٹ درج کرائی ہے۔ ہاتھی کی مورتیوں کی ادائیگی کے معاملے میں ملزم لکھنؤ ماربل کے مالک ادتیہ اگروال کے وبھوتھی کھنڈ میں واقع دفتر پر ایتوار کے روز جانچ کرنے پہنچی پولیس کی ٹیم کو کئی اہم دستاویز ہاتھ لگے ہیں جن میں دعوی کیا جارہا ہے کہ مایاوتی سرکار نے 9لاکھ روپے کی مورتی کے لئے90 لاکھ روپے ادا کئے۔ جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ ہاتھی کی مورتیوں کی تعمیر کے لئے پی ڈبلیو ڈی نے کسی بھی طریقے سے ٹنڈر نہیں مانگے تھے۔ اس کے لئے نہ تو کوئی ٹنڈر جاری کیا گیا اور نہ ہی کسی اخبار میں اشتہار نکال کر مشتہر کیا گیا۔ چہیتوں کو ٹھیکہ دینے کے لئے صرف کوٹیشن کی بنیاد پر چپ چاپ طریقے سے کروڑوں کے ٹنڈر پاس کردئے گئے۔ اب پولیس انہی حقائق کی بنیاد پر اس گھوٹالے میں نامزد افسروں اور ان کے رشتے داروں کی پراپرٹی کی تفصیلات ٹٹولنے میں لگ گئی ہے۔ ڈی آئی جی لکھنؤ کی ہدایت پر پولیس کی تین ٹیمیں اسٹیٹ تعمیراتی کارپوریشن ،تحصیل آفس اور پاسپورٹ دفتر میں جانچ کرنے پہنچی ہیں۔ ٹیم نے جب اسٹیٹ تعمیراتی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹراروند کمار گپتا سے پوچھا کہ سرکاری کام کے لئے بغیر کوئی ٹنڈر جاری کئے ہی آخر کوٹیشن کی بنیاد پر کروڑوں کا کام کیسے دے دیا گیا۔ اس کے لئے کسی بھی اخبار میں کوئی اشتہار شائع نہ کراکر چپ چاپ طریقے سے یہ کھیل کھیلا گیا؟ اس پر منیجنگ ڈائریکٹر کوئی جواب نہیں دے سکے۔ پولیس کی دوسری ٹیم تحصیل دفتر میں اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ گھوٹالے میں نامزد 8 افسران و ملازمین و ان کے رشتے داروں کے پاس کتنی پراپرٹی ہے؟ غور طلب ہے کہ آگرہ کے فتحپور سیکری گاؤں پورہ کے باشندے مدن لال نے ایتوار کو وبھوتی کھنڈ تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ لکھنؤ ماربلس کے مالک ودیہ اگروال کے رشتے دار ادتیہ اگروال نے پتھر ہاتھی کی مورتی بنانے کے لئے 48 لاکھ روپے دینے کو کہا تھا انہیں 1 لاکھ روپے ایڈوانس دینے کے بعد 6 لاکھ56 ہزار روپے اور دے دئے گئے۔ منگل کے روز وزیر اعلی اکھلیش یادو نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یادگاروں و پارکوں کی تعمیر میں مورتیوں میں تو گھوٹالہ ہوا ہی ساتھ ہی ان یادگاروں اور پارکوں میں لگائے گئے کھجور کے پیڑوں کی خرید میں بھی گڑ بڑی کی بات پتہ چلی ہے۔وسیع پیمانے پر ہوئی ان پیڑوں کی اناپ شناپ خرید کی ساری تفصیل اکٹھی کرائی جارہی ہے۔ تعمیر کی لاگت میں زمین کی قیمت کا تخمینہ اور یادگاروں و پارکوں میں بنی کئی عمارتوں و مہنگے پتھروں کی باؤنڈری کو کئی بار توڑا جانا شامل ہے۔ سارا حساب کتاب جلد سامنے آجائے گا۔ بسپا عہد میں ہوئے گھوٹالوں کی پرتیں اب آہستہ آہستہ کھلنے لگی ہیں۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Lucknow, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun 

18 مئی 2012

2جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں آخری ملزم اے راجہ کی ضمانت

حالیہ برسوں میں دیش کی سیاست میں بھونچال لانے والے 1لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے کے 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں گرفتار اہم ملزم اور جیل میں بند آخری ملزم سابق مرکزی ٹیلی کام منسٹر اے راجہ کو آخر کار عدالت سے ضمانت مل گئی۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں سوا سال گزارنے کے بعد اے راجہ باہر آکر اگلے دن ہی پارلیمنٹ میں بھی پہنچ گئے۔49 سالہ راجہ کافی خوش دکھ رہے تھے لیکن انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کھڑے نامہ نگاروں سے کوئی بات چیت نہیں کی۔ اے راجہ کو 2 فروری 2011 ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔عدالت نے اے راجہ کو 20 لاکھ روپے کے نجی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کے دو بونڈ پر ضمانت دینے کا حکم دیا۔ 
ضمانت ملنے کے بعد راجہ نے کہا کہ ان کے خلاف معاملہ جھوٹا اور من گھرنٹ ہے اور قانون کی بنیاد پر ٹکنے والا نہیں ہے۔2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں گرفتاری کے بعد ضمانت کے لئے درخواست نہ کرنا اے راجہ کی ایک سوچی سمجھی چال تھی۔ انہوں نے اس معاملے میں ملزم کم بلکہ ایک پیشہ ور وکیل کی طرح زیادہ کام کیا۔معاملے کی نزاکت اور میڈیا کے اٹینشن کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ضمانت کی عرضی نہیں دی اور پورے15 مہینے جیل میں رہے۔ راجہ کو معلوم تھا کہ سی بی آئی نے انہیں پورے کیس کی بنیاد بنا رکھا ہے اور جب بھی ضمانت کے لئے وہ درخواست کریں گے سی بی آئی یہ ہی دلیل پیش کرے گی۔ اس لئے انہوں نے سی بی آئی کو چارج شیٹ داخل کرنے دی۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے چارج شیٹ پر نوٹس لینے اور ٹرائل شروع ہونے کے بعد بھی ضمانت کی عرضی نہیں دی۔ یہاں تک کہ ڈی ایم کے ممبر پارلیمنٹ اور پارٹی سربراہ کی بیٹی کنی موجھی کی ضمانت کے بعد بھی انہوں نے درخواست نہیں دی جبکہ ممبر پارلیمنٹ کو ملی ضمانت ان کی درخواست کی ٹھونس بنیاد بن سکتی تھی۔ انہیں درخواست تب کی جب گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے معاملے کے آخری ملزم سابق ٹیلی کوم سکریٹری سدھارتھ بہرا اور پرائیویٹ سکریٹری آر کے بدھولیا کو ضمانت دے دی۔ اس پالیسی کا فائدہ یہ ہے کہ راجہ کے خلاف عدالتوں نے تبصرہ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ضمانت دیتے ہوئے سی بی آئی کورٹ نے کہا کہ راجہ ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتے کیونکہ سبھی ثبوت دستاویزوں کی شکل میں ہیں۔ راجہ کے لئے کورٹ کا یہ مثبت رویہ ہے جو ٹرائل کے دوران ان کے حق میں جائے گا۔ ویسے اے راجہ ضمانت پر ایسے وقت باہر آئے ہیں جب اسپیکٹرم گھوٹالے سے اٹھتی آنچ نے ان کے سابق ٹیلی کوم منسٹر دیاندھی مارن اور وزیر خزانہ پی چدمبرم تک کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔مارن پر الزام ہے کہ ٹیلی کوم منسٹر رہتے انہوں نے ایک دیشی ٹیلی کوم کمپنی ایئرسیل کو ملیشیا کی ایک کمپنی کے ہاتھوں بکنے پر مجبور کیا اور اس کے عوض میں اس ودیشی کمپنی سے قریب 600 کروڑ روپے رشوت کی شکل میں بٹورے۔ لیکن حال کے خلاصے تو اور بھی سنگین ہیں جن میں چدمبرم کے ساتھ ان کے بیٹے کارت چدمبرم کا بھی نام اچھلا ہے اور پتہ چلا ہے کہ اس غیر ملکی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کیلئے ملک کے سخت قانونوں کو کیسے طاق پر رکھ دیا گیا۔
پارلیمنٹ میں چدمبرم جب اپنی صفائی میں کہتے ہیں کہ' چاہے میری چھاتی میں خنجر گھونپ دو لیکن ایمانداری پر شک مت کرو' تب انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ ان کے وزیر خزانہ رہتے ایک غیر ملکی کمپنی دیش کے قانون سے کیسے کھیل گئی؟ بھارت کے قانون سے کھلواڑ کرنے اور سرکار سے دھوکہ دھڑی کرنے کے واضح ثبوتوں کے باوجود کیوں مکسنز کا لائسنس کینسل کردیا۔ اس کے خلاف مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا؟ چدمبرم نے پارلیمنٹ میں صاف انکار کردیا کہ ان کے یا پریوار کے کسی ممبر کے پاس کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کے شیئر رہے ہیں۔تب انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ ایئر سیل ،میکسنز سودے میں ان کے بیٹے کارتک چدمبرم کا نام کن حالات میں اچھلا ہے؟ اے راجہ کی ضمانت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ملزموں کے وکیل ماجد مینن کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کے کیس میں دم نہیں ہے اور وہ عدالت کی سخت جانچ جھیل نہیں پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جانچ ایجنسی کہہ رہی ہے کہ 2 جی اسپیکٹرم کو بیچنے میں 1.75 لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے لیکن کیا اس کے پاس اس کا کوئی دستاویزی ثبوت ہے۔ ابھی تک کی کارروائی میں سی بی آئی نے اس کا ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔اس سے مجھے ایک راج نیتا کی ایک بات یاد آگئی۔ نیتا نے کہا کہ اگر کوئی سیاستداں کسی بھی الزام میں جیل جانے کو تیار ہے تو وہ صاف بچ سکتا ہے۔ کہیں اے راجہ کا یہی قصہ نہ ہو۔ جیل تو وہ ہو آئے لیکن دیش کو 1.75 لاکھ کروڑ کی ریکوری میں بھی اتنی دلچسپی ہے جتنی سزا کاٹنے میں۔ کیا سی بی آئی اس رقم کو کبھی ریکور کر سکے گی؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Vir Arjun

مدھیہ پردیش کے یہ بھرشٹ افسر

اس دیش میں لگتا ہے کہ افسروں نے بھرشٹاچار کے سارے ریکارڈ تور دئے۔ مدھیہ پردیش کے بھرشٹ افسروں اور کاروباریوں کی تجوریوں سے بے پناہ پیسہ نکل رہا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے آنکڑوں پر نظر ڈالیں تو 120 کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد منظر عام پر آچکی ہے۔ یعنی ہر ماہ 100 کروڑ روپے بھرشٹوں کی جیب سے نکلے ہیں۔ انکم ٹیکس لوکایکت سمیت دوسری ایجنسیوں کے ذریعے ڈالے گئے چھاپوں میں یہ رقم منظر عام پر آئی ہے۔ انکم ٹیکس اور لوکایکت افسروں نے کہا ہے کہ اگر انہیں اور ادھیکار دے دئے جائیں تو وہ اس منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو اور بھی پکڑ سکتے ہیں جو بھرشٹ طریقے سے اکٹھا کی گئی ہے یا جس میں کالے دھن کا استعمال کیا گیا ہے۔ سال2011-12 میں مختلف ایجنسیوں کی چھاپہ مار کارروائی میں اندور، بھوپال، جبلپور اور گوالیار میں کی گئی 17 چھاپہ مار کارروائیوں میں انویسٹی گیشن ونگ نے 482 کروڑ روپے سرنڈر کرائے ہیں۔سریش بھد بنسل گروپ ، ساگر گروپ، سگریٹ گروپ،اوکھابلڈر۔جامدار، امبیکا سالویکس وغیرہ گروپوں پر کارروائی ہوئی۔ نقد اور منقولہ جائیداد 45 کروڑ کی ضبط کی گئی۔ آندھرا پردیش میں182 سروے کئے گئے۔ بھوپال میں 87 اور اندور میں 95 سروے میں باالترتیب 56 کروڑ اور 323 کروڑ روپے سرنڈر ہوئے۔ یہ سروے بیوپاریوں ، اداروں اور بزنس گروپوں پر کئے گئے۔یہ ہی اس دیش کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ جو پیسہ ترقی کے منصوبوں پر لگانا چاہئے تھا وہ ان بھرشٹ افسروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔جتنے پیسے ان افسروں نے لوٹے اس سے توپردیش میں گاؤں اور قصبوں تک 7 میٹر چوڑائی کی 3 ہزار کلو میٹر سڑک بنائی جاسکتی تھی یا فٹ پاتھوں پر رہنے والے یا غریبوں کے لئے1.20 لاکھ گھر بن سکتے ہیں۔پرائمری تعلیم کیلئے 8 ہزار اسکول کی عمارتیں بنائی جاسکتی تھیں۔ سبھی سہولیات سے آراستہ جدید 5 ہسپتال بن سکتے تھے۔پردیش میں کم سے کم ایک اچھا ہسپتال بن سکتا تھا۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun, 

17 مئی 2012

یوپی اے سرکار کا مشروط فیصلہ ٹھگا محسوس کررہے ہیں بے روزگار نوجوان

سیاسی پارٹیاں چناؤ کے دوران اکثر ایسے ایسے وعدے کردیتی ہیں جنہیں وہ بھی جانتی ہیں کہ اگر جیت گئے تو انہیں پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ سماجوادی پارٹی نے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں ایسا ہی ایک وعدہ کیا تھا۔ یہ تھا سرکار ہر بے روزگار کو بھتہ دے گی۔ سپا نے وعدہ تو کردیا تھا لیکن تبھی لگنے لگا تھا کہ جو حالت اترپردیش کے سرکاری خزانے کیہے اس میں اسے پورا کرنا بہت ٹیڑھی کھیر ہوگی۔ وہی ہوا۔ ووٹ کی خاطر چناوی ایجنڈے میں بے روزگاروں کو بھتہ دئے جانے کے وعدے سے لگتا ہے کہ ''منتری جی'' پلٹ گئے ہیں۔ بھیا جی عرف مکھیہ منتری اکھلیش یادو کے ذریعے ایک فیصلے کے بعد اسمبلی چناؤ میں سائیکل پر مہر لگانے والے بے روزگار نوجوان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ اکیلے غازی آباد میں لائن لگاکر بھتے کی خاطر نام درج کرانے کے لئے پولیس کی لاٹھیاں کھانے والے 20 ہزار بے روزگاروں میں سے زیادہ تر کے ہاتھ مایوسی لگی ہے۔ 15 مارچ کے بعد لوگوں نے روزگار کاریالہ میں رجسٹریشن کرایا ہے۔ وزیراعلی نے 15 مارچ کے بعد کرائے گئے رجسٹریشنوں کو بے روزگار بھتے کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں اہلیت اور عمر کے تعین کے ساتھ ہی ہزاروں بے روزگاروں کے ارمانوں پر پانی پھر گیا ہے۔اکیلے غازی آباد شہر میں کل رجسٹرڈ 46186 بے روزگاروں میں محض29 فیصد یعنی 13228 بے روزگاروں کو ہی بھتہ مل سکے گا۔ 32958 بے روزگاروں کو ریاستی سرکار کے اس فیصلے کے بعد فہرست سے باہر کا راستہ دیکھنا پڑے گا۔ انہیں نوکری تو شاید ہی ملے اب بھتہ بھی نہیں ملے گا۔ بیشک ریاستی سرکار سے کچھ نوجوان متاثر ہوں گے لیکن کئی لاکھ بے روزگاروں کو اس کا فائدہ بھی ہوگا۔ اترپردیش سرکار نے پردیش کے 9 لاکھ بے روزگار لڑکے لڑکیوں کو بے روزگاری بھتہ دینے کے اپنے لبھاونے پرستاؤ پر جمعہ کو مہر لگادی ہے۔ کیبنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اسکیم کا فائدہ ہائی اسکول پاس 30 سے40 برس کے لوگ ہی لے سکیں گے جو سرکاری یا غیر سرکاری ملازمت میں نہیں ہیں۔ اس برس 11013 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ بے روزگاری بھتہ پانے والوں سے وقت وقت پر کام لیا جاسکتا ہے اور کام نہ کرنے پر بھتہ روکا جاسکتا ہے۔ بے روزگاروں کو ہر سال اپنے بے روزگار ہونے یا پھر روزگار مل جانے کی اطلاع خود دینی ہوگی۔ ہر ایک بے روزگار کو ماہانہ ایک ہزار روپے کا بے روزگاری بھتہ دیا جائے گا یہ ہر تین مہینے میں ادا ہوگا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس اسکیم کا فائدہ 15 مارچ تک رجسٹرڈ ہوئے لوگوں کو ہی ملے گا اور جو بنیادی طور پر اترپردیش کے باشندے ہیں اور فی الحال بھی ریاست میں ہی رہ رہے ہیں۔ اسکیم کا فائدہ اقتصادی طور پر کمزور خاندان کے لوگ لے سکیں گے۔ کیبنٹ کے ذریعے کئے گئے فیصلے کے مطابق بے روزگار شخص کے خاندان کے ممبر کی آمدنی 36000 روپے سالانہ سے کم ہو اور اس کے والدین یا سسر ،ساس جیسے بھی حالت ہو ان کی آمدنی ایک لاکھ 50 ہزار روپے سالانہ اور اس سے کم ہو۔ خزانہ خالی ہے، اسکیم لاگو کرنا مجبوری۔ کچھ نوجوان اپنے آپ کو اس لئے ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں کیونکہ سپا نے اپنے چناوی مینی فیسٹو میں وعدہ کیا تھا کہ سرکاری نوکریوں میں بھرتی کے لئے زیادہ سے زیادہ عمر حد35 سال ہوگی اس سے زیادہ عمر کے بے روزگاروں کو ہر مہینے ایک ایک ہزار روپے بھتہ دیا جائے گا۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Daily Pratap, Samajwadi Party, Unemployment, Uttar Pradesh, Vir Arjun

آئی پی ایل 5 میں اسپاٹ فکسنگ اسٹنگ آپریشن

کرکٹ میں فکسنگ کاجن ایک بار پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ایک ٹی وی چینل انڈیا ٹی وی نے ایک اسٹنگ آپریشن کرکے آئی پی ایل کے کچھ کھلاڑیوں کے ذریعے غلط طریقے سے پیسے کے لئے اسپارٹ فکسنگ کا خلاصہ کیا۔ چینل نے دعوی کیا کہ اس نے یہ اسٹنگ آپریشن ایک سال تک کیا۔ اس آپریشن میں چینل کے رپورٹروں نے آئی پی ایل ٹیموں کے ایجنٹ بن کر کھلاڑیوں سے ملاقات کی جس میں کئی کام شامل تھے جو بھارتیہ کرکٹ بورڈ کے قواعدکی خلاف ورزی ہے۔ آئیے دیکھیں کے اس ٹیپ میں ایک کھلاڑی سے ہوئی بات چیت کیا ہے۔ جیسا کہ ٹی وی چینل نے دعوی کیا ہے۔ رپورٹر: میچ فکسنگ کے لئے کس طرح کی مثال دی گئی ہیں؟ کھلاڑی: یہ کہا جاتا ہے کہ ایک آدھ میچ فکس کرکے کافی کمائی کرسکتے ہیں۔ پھر رپورٹر: ایک نو بال یا باؤنسر سے کام چل جاتا ہے؟ کھلاڑی: ٹھیک ہے۔ رپورٹر: آپ کے لئے یہ کوئی پریشانی نہیں ہے؟ کھلاڑی: نہیں کوئی پریشانی نہیں۔ رپورٹر: 10,15,20 میچ یا پانچ میچ آپ جتنے میچ چاہو؟ کھلاڑی: ٹھیک ہے کوئی پریشانی نہیں۔ رپورٹر: ٹیسٹ لیگ یا رنجی؟ کھلاڑی: ہم۔۔۔ ایک ۔ رپورٹر: کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ کھلاڑی: ہاں ٹھیک ہے۔ رپورٹر: یہ آسان بھی ہے ہم آپ کو پورا میچ فکس کرنے کو نہیں کہہ رہے ہیں؟ کھلاڑی:ہوں۔ ۔ رپورٹر: ہم صرف اسپارٹ فکسنگ کے لئے کہہ رہے ہیں؟ کھلاڑی:۔۔۔ ہوں۔ رپورٹر: میں اس کے لئے آپ کو 50 ہزار روپے دے رہا ہوں۔ آپ کتنا چاہتے ہیں؟ کھلاڑی: اس ٹورنامنٹ کے لئے 40 ہزار ۔اس کے علاوہ چینل نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ منیش پانڈے، موہنش مشرا، منوندر بسلا نے طے سلیب سے زیادہ پیسے کے لئے ۔ ایسا کرنا بی سی سی آئی کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ سدھیندر نے نو بال پھینکنے کے لئے پیسے لئے۔ کچھ کھلاڑی ٹورنامنٹ کے دوران بھی ٹیم بدلنے کو راضی ملے۔ بی سی سی آئی نے انکینڈ(نیلامی میں شامل نہیں) کھلاڑیو ں کے لئے سلیب مقرر کیا ہوا ہے۔ وہ اس سے زیادہ پیسہ لے سکتے ہیں۔ فرنچائزی بھی انہیں ایسی پیشکش نہیں کرسکتے۔ ایسا کرنا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ مدھیہ پردیش کے گیند باز سدھیندر جان بوجھ کر نو بال پھینکنے کیلئے راضی ہوگئے اس کے لئے انہوں نے 50 ہزار روپے مانگے۔ سدھیندر آپی پی ایل 5 میں دکن چارجز کے لئے کھیلتے ہیں۔ چینل کے مطابق اندور میں کھیلے گئے ایک گھریلو میچ میں جان بوجھ کر نو بال پھینکنے کیلئے 40 ہزار روپے لئے تھے۔ شلب شریواستو ٹیم بدلنے، اسپارٹ فکسنگ کے لئے راضی نظر آئے۔ انہوں نے نو بال پھینکنے کے لئے 10 لاکھ روپے کی مانگ کی تھی۔ شلب نے بتایا کہ منیش پانڈے کی سہارا پنے ویریرس میں بنائے رکھنے کے لئے 50 لاکھ روپے کی کار دی ہے۔ شلب کے مطابق کولکتہ سے کھیلنے کے لئے من وندر بسلا نے 75 لاکھ روپے بلیک میں لئے ہیں۔ بی سی سی آئی نے سخت رویہ اپناتے ہوئے جانچ پوری ہونے تک ان مبینہ پانچ ملزم کھلاڑیوں کو فوراً معطل کردیا ہے۔ منیش مشرا ،شلب شریواستو، ٹی پی سدھیندر، امت یادو، ابھینو بالی شامل ہیں۔ جنہیں جانچ پوری ہونے تک معطل کیا گیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ اسٹنگ آپریشن اگر کچھ ثابت کرتا ہے تو بس اتنا کہ کچھ چھٹ بھئے کھلاڑی اسپارٹ فکسنگ کررہے تھے۔ اس سے پورے میچ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ رہی بات ایک ٹیم سے دوسری ٹیم بدلنے کیلئے فاضل پیسے مانگنا، بیشک قواعد کی خلاف ورزی ہے لیکن سنگین جرم نہیں۔ بلیک میں پیسہ لینا بھی اتنا بڑا جرم نہیں ہے۔ آئی پی ایل کرکٹ سے زیادہ پیسوں کا کھیل ہی ہے۔ کھلاڑی بھی چاہتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کما سکیں۔ فرنچائزی بھی کچھ چنندہ کھلاڑیوں کو ٹیم میں برقرار رکھنے کیلئے طرح طرح کے لالچ دیتے ہیں۔ اگر پنے ویریرس نے پیسے دئے ہیں تو اس کا کوئی خاص فائدہ ہوا ایسا نظر نہیں آتا۔ وہ دکن چارجز کے ساتھ پاور پوائنٹ ٹیبل میں سب سے نیچے ہیں۔ ٹی وی چینل سنسنی پھیلانے کے لئے مشہور ہیں۔ یہ اسٹنگ آپریشن بھی اسی سنسنی مہم کا حصہ ہے جس میں زیادہ سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ آئی پی ایل پانچ کو بلا وجہ بدنام کرنے کی کوشش ہے اور ناظرین میں خواہ مخواہ شک پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, IPL, Match Fixing, Vir Arjun

15 مئی 2012

پاکستان دہشت گردی جوابدہی ایکٹ 2012



Published On 15 May 2012
انل نریندر
امریکہ اور پاکستان کے رشتوں میں دراڑ بڑھتی جارہی ہے۔ امریکہ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان کے خلاف وہ ہتھیار استعمال کرنا چاہ رہا ہے اس سے پاکستان کو تکلیف پہنچے اور پاکستان کو چبھیںیہ ہے ڈالر۔اب امریکہ پاکستان پر ڈالر کے ذریعے سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ ایک نیا قانون لا رہا ہے اس کے تحت کسی امریکی کی موت میں پاک میں سرگرم انتہا پسند تنظیموں یا خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے پر امریکہ کے ذریعے پاکستان کو دی جارہی اقتصادی مدد میں کٹوتی ہوگی اور فی امریکی شہری کی قیمت 5 کروڑ ڈالر (قریب 250 کروڑ روپے) کی کٹوتی کی تجویز ہے۔ امریکہ کے کسی بھی شہری کی اگر آتنکی حملے میں موت ہوجاتی ہے تو پاکستان کو 5کروڑ ڈالر کا ہرجانہ بھرنا پڑسکتا ہے۔ یہ رقم امریکہ کے ذریعے پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی مدد سے کاٹی جائے گی۔ امریکی کانگریس میں پیش ایک بل میں یہ تجویز شامل کی گئی ہے۔ امریکی کانگریس ممبران ڈونا روہرا بیکر کی جانب سے یہ بل پیش کیا گیا ہے۔ اسے پاکستانی آتنک واد جوابدہی ایکٹ2012 کا نام دیا گیا ہے۔ اس بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے آتنک وادیوں کے گرپوں سے گہرے رشتے ہیں۔ پاک اسپانسر دہشت گرد تنظیم امریکی شہریوں کا قتل کررہی ہیں۔ امریکہ کے ہر شہری کے قتل کے بدلے پاکستان کی امدادی رقم سے کاٹی جانے والی رقم متعلقہ متاثرہ خاندان کو دی جائے گی۔ بل پیش کرتے ہوئے بیکر نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں سے آتنکوادیوں کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان کی مدد پر ہی ان آتنکیوں کی بھارت اور افغانستان پر حملہ کرنے کی ہمت ہوتی ہے۔ بل کے تحت امریکی محکمہ دفاع کو افغانستان۔ پاکستان میں مارے جانے والے ان شہریوں کی فہرست تیار کرنی ہوگی جن کی موت میں پاکستان کی آتنکی تنظیم یا آئی ایس آئی کا ہاتھ ثابت ہوگا۔ بیکر کا کہنا ہے کہ امریکہ بہت طویل عرصے سے پاکستان کو اقتصادی مدد دے رہا ہے اس کے باوجود آتنکی تنظیموں کو پاکستان کی مدد جاری ہے۔ ان کی خفیہ ایجنسیوں نے لادن کو ہم سے چھپائے رکھا لیکن اب اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے ہی الزامات کے درمیان 2011 کے آخر میں امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی مدد میں سے 70 کرور ڈالر (37.48 ارب روپے) کی کٹوتی کردی ہے۔ امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے سابق چیئرمین مائک مولن نے حال ہی میں دعوی کیا کہ ستمبر2011 ء میں آئی ایس آئی کے کہنے پر حقانی نیٹ ورک نے افغانستان میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا تھا۔ جون 2011ء میں کابل میں واقع انٹر کونٹینینٹل ہوٹل پر آتنکی حملے کے پیچھے بھی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ امریکہ مسلسل پاکستان پر بے پائلٹ جہازوں سے حملے کررہا ہے۔ حالانکہ پاکستان سرکار نے اس کی سخت مذمت کی ہے لیکن امریکہ اسے روکنے کو تیار نہیں ہے۔ ادھر پاکستان نے اس کی سرزمیں سے افغانستان میں نیٹو فورسز کے لئے ضروری سامان بھیجنے والے ٹرکوں پر روک لگادی ہے۔ اب پاکستانی حکام نے سامان بھیجنے والے ہر ٹرک اور کنٹینر پر 1100 امریکی ڈالر وصولنے کی بات رکھی ہے۔ گذتہ نومبر میں نیٹو کی جانب سے کئے گئے حملوں میں درجنوں پاکستانی فوجیوں کی موت کے بعد سپلائی لائن کو بند کردیا گیا تھا۔ بھارت کی بات کی ایک طرح سے تصدیق ہوئی ہے۔ بھارت ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ پاکستان سرکار ،فوج امریکی اقتصادی مدد کا بیجا استعمال کررہا ہے۔ وہ ان پیسوں کو اپنی آتنکی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں لگا رہا ہے۔ اس پیسے سے وہ آتنکی تنظیموں کی مدد کرتا ہے اور ان کے نشانے پر بھارت اور افغانستان اور خود امریکہ بھی ہے۔ اگر یہ بل پاس ہوجاتا ہے اور امریکہ اپنے ارادوں پر اڑیل رہتا ہے تو یقینی طور پر پاکستانی دہشت گردی نیٹ ورک کی کمر ٹوٹے گی لیکن اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ امریکہ دھمکی تودیتا ہے لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو بہانے بنا کر اس کو ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔ دیکھیں پاکستان اس تازہ ریزولیوشن پر کیا رد عمل ظاہرکرتا ہے؟
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Pakistan, Terrorist, USA, Vir Arjun

60 برس کی ہوئی ہندوستانی سنسد!



Published On 15 May 2012
انل نریندر
ہندوستانی جمہوریت کے سپریم ادارے یعنی پارلیمنٹ نے اپنے 60سال کا سفر پورا کرلیا ہے۔ 3 اپریل 1952ء کو پہلی بار اوپری ایوان یعنی راجیہ سبھا تشکیل دی گئی۔ اس کا پہلا اجلاس 13 مئی 1952 ء کو بلایا گیا۔ اسی طرح17 اپریل 1952 ء کو پہلی لوک سبھا کی تشکیل ہوئی اور پہلا اجلاس13 مئی 1952 ء کو بلایا گیا۔ ہندوستانی پارلیمنٹ کے 60 سالوں کے سفر اور کارناموں اور چیلنج کے نکتہ نظر سے ملا جلا رہا ہے۔ جب پارلیمنٹ کی تشکیل ہوئی تھی تو دیش کے عام اور غریب لوگوں کی توقعات تھی کہ آزاد بھارت میں ان کی ساری امیدیں پوری ہوجائیں گی اور اب اپنی سرکار بنی ہے جس کا پہلا فرض اپنی عوام کے تئیں سیوا ہوگا۔ ان 60 برسوں میں دیش نے بہت ترقی کی ہے۔ شہروں میں جدید بہتر سہولیات بڑھی ہیں، دیہات میں ترقی ہوئی ہے، فی شخص آمدنی بڑھی ہے۔ ریلوے، ہوائی جہاز، میٹرو جیسی سہولیات بڑھی ہیں لیکن پچھلے کچھ برسوں میں پارلیمنٹ کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ پارلیمنٹ کا وقار دن بدن گرتا جارہا ہے۔ ممبران کا برتاؤ بھی بدسے بدتر ہوتا جارہا ہے۔ آج عام جنتا پارلیمنٹ سے کچھ حد تک ناراض ہے ،مایوس ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ کی کارروائی اور ممبران کے برتاؤ کو دیکھ کر کافی دکھ ہوتا ہے۔ دیش میں اقتصادی ترقی اچھی ہوئی ہے۔ بیشک دیش نے ترقی کی لیکن اس حساب سے جمہوری دیش کی سیاست و سماج اور سسٹم اور انتظامی ڈھانچہ بہتر نہیں ہوسکا۔ عوامی لیڈروں کی دیش میں کمی ہوگئی ہے اور پارلیمنٹ میں پہلے کی طرح اب جنتا سے جڑے اشو کم اٹھتے ہیں۔ سیاست میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ سیاست میں جرائم کرن بڑھا ہے اور اس کی وجہ سے لوک سبھا میں کئی مجرمانہ نظریئے کے ایم پی بھی نظر آرہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ممبران کے برتاؤ پر آئے دن سرخیاں بنتی رہتی ہیں۔ ایک دوسرے پر چیخنا ،گھونسے بازی، کاغذات چھینناپھاڑنا،دستاویزات کو وزرا پر پھینکنا، آئے دن ایوان کا التوا ہونا ، ایک رواج سا بن گیا ہے۔ آج کی ہندوستانی پارلیمنٹ نے پچھلے برسوں میں کئی بڑے لیڈر بھی دیکھے ہیں ۔ جواہر لعل نہرو، سردار بلب بھائی پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد، اٹل بہاری واجپئی، فیروز گاندھی، چندر شیکھر، رام منوہر لوہیا، جوترمے بسو ، موہن دھاریہ، مدھولمے جیسے سرکردہ لیڈروں نے اسی پارلیمنٹ کو زینت بنایا۔ یہ سبھی لیڈر اصول پرست اور دور اندیش عوام کے صحیح نمائندہ تھے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کئی ایم پی صنعتی گھرانوں کی نمائندگی کرتے ہیں تو کئی ایم پی مافیہ گروہ کی، جو ایک دہائی سے چلے آرہے ہیں۔ ان میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے کردار اور تشکیل اور آپسی تنازعے اور پروگرام میں جو بھی تبدیلی ہوئی ہے ان سے سارا پارلیمانی کلچر بدل گیا ہے۔ ہاں بھارت اس بات پر فخر کرسکتا ہے کہ ساری کمیوں کے باوجود ہمارے دیش میں 60 برسوں میں پارلیمانی جمہوریت چلی آرہی ہے۔ ہمارے دیش میں بیلٹ سے تبدیلی اقتدار ہوتا ہے ،گولی سے نہیں۔ آزادی اور پارلیمنٹ دونوں ہی انتہائی نازک پودے ہیں۔ اگر انہیں توجہ سے نہیں سینچا گیا اور بنائے نہ رکھا جائے تو یہ جلد ہی مرجھا جاتے ہیں۔ اگر ہمیں پارلیمنٹ اور پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط بنانا ہے تو سب سے پہلے ایسا کچھ کرنا ہوگا جس سے پارلیمنٹ اور ممبران کے روایتی وقار پھرسے قائم ہوں اور پھر سے انہیں مینڈیڈ سے احترام اور پیار کی جگہ مل سکے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Parliament, Vir Arjun

13 مئی 2012

ایسے لیپا پوتی جائزے سے کانگریس کا کوئی بھلا نہیں ہوگا



Published On 13 May 2012
انل نریندر
اترپردیش میں کانگریس چناؤ ہاری اس کا جائزہ لینے کے لئے پچھلے کئی دنوں سے کانگریس میں غور و خوض چل رہا ہے۔ کئی میٹنگیں ہوئیں ، کئی کمیٹیاں بنیں لیکن آخر میں نتیجہ وہی صفر نکلا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے لیپا پوتی کرتے ہوئے پارٹی میں گروپ بندی اور ڈسپلن شکنی کو برداشت نہ کرنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہم نے سوچا تھا کہ سونیا جی پارٹی کے لئے ہار کے ذمہ دار لوگوں پر سخت کارروائی کریں گی لیکن انہوں نے ایسا نہ کرنا بہتر سمجھا اور ڈرا دھمکاکر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ ایسی وارنگ سونیا پہلے بھی دے چکی ہیں۔ براڑی میں دو سال پہلے ہوئے کانگریس اجلاس میں سونیا گاندھی نے ورکروں سے گروپ بندی چھوڑ کر کمر کسنے کو کہا تھا۔ پچھلے سال دہلی میں بھی پارٹی کے ایک اجلاس میں سونیا نے عہدے کا لالچ رکھنے والوں پر چٹکی لیتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس میں سب کا نمبر آتا ہے۔ سونیا کے قول کا کانگریسیوں پر کوئی اثر نہیں ہوا، نہ ہی انہوں نے سونیا کی بات کو سنجیدگی سے لیا۔ نتیجہ سامنے ہے ۔ کانگریس پچھلے دو سال سے بہار، یوپی، پنجاب ،گووا ہار چکی ہے۔ آندھرا پردیش میں بھی اس کی حالت خستہ ہے۔ راجستھان میں گہلوت سرکار کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن رہی ہو یا پچھلا دہلی میونسپل چناؤ ، سب جگہ کانگریس کو جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے ہیں۔ بہار یوپی میں تو چناوی کمان راہل گاندھی کے ہاتھوں میں تھی لیکن سونیا نے خود پر اور راہل پر ذمہ داری لے کر ایک نئے تنازعے کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کردیا اور اس سے پہلے کے کوئی راہل گاندھی پر انگلی اٹھائے معاملے کو ہی ختم کردیا گیا۔ یہ ٹھیک ہے جمہوری نظام کا پہیہ چناؤ ہے لیکن جس بنیاد پر چناوی کمیابی ملتی ہے اور اس کی سوچ طریقہ کار بھی معنی رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے ہی اقتدار ملتا ہے جو عوامی کام کو کرا پاتے ہیں۔ کانگریس کو یہ نظریہ وراثت میں ملا ہے پھر بھی وہ حالیہ دہائی میں اگر اس سے ڈگماتی ہوئی لگتی ہے تو اس پر اس کو سنجیدگی سے غورکرنا چاہئے لیکن خود جائزہ ایسا نہیں ہونا چاہئے جس کا کوئی مطلب نہ نکلے۔موجودہ حالات میں یہ کہنا تکلیف دہ ہے کہ کانگریس بھی اپنی کمزوری اور ہار کے اسباب پر منتھن کہنے بھر کے لئے کرتی ہے۔ حقیقی معنی میں وہ ایسا کرنے سے ہچکچاتی ہے۔ اگر کانگریس سنجیدہ ہوتی تو مختلف ریاستوں میں وقتاً فوقتاً ہوئی شکستوں اور اس کے جائزے کے لئے تشکیل کمیٹیوں کی طرف سے گنائے جانے والے اسباب ابھی تک دور نہیں کئے گئے۔یقینی طور سے کانگریس کسی سینئر لیڈر شپ کو یہ معاملوں ہے کہ پردیش میں علاقائی سطح کے اپنے اپنے گروپ ہیں اور عام ورکروں کی جگہ ان کے چاپلوس ہیں ،جس سے وہ گھرے رہتے ہیں ۔وہ عام ورکروں کے بھی نیتا ہیں ایسا نہیں مانتے۔ ممکنہ طور پر اس کی ایک وجہ نیتاؤں کے ورکروں میں جوش بھرنے کی جگہ اپنے مفادات حاوی ہوئے ہیں۔ وہ یہ مان کر چلتے ہیں کہ ووٹ ڈلوانے کے لئے گاندھی خاندان کافی ہے۔ اس کے آگے نہ تو انہیں مہنگائی کا نہ کرپشن کا اور نہ ہی بڑھی بے روزگاری کا اشو ہوتا ہے۔ ان کے سامنے بنیادی پریشانیاں جیسے بجلی پانی کے مسئلوں پر حل کے لئے لوکپال ، لوک آیکت کی تقرری ضروری ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کانگریسی چھٹ بھیا یہ بھی نہیں سمجھنا چاہتے کہ اب گاندھی خاندان کا وہ کرشمہ نہیں رہا۔ پہلے بہار اور اترپردیش میں یہ جتادیا ہے کہ گاندھی خاندان ووٹ کھینچو یا چناؤ جیتنے کی گارنٹی اب نہیں ہے۔ سارا زور لگاکر بھی گاندھی خاندان کی تین پیڑھیوں کے وارث اترپردیش کے چہیتے نہیں ہوسکے۔ بہار بے تو سرے سے راہل گاندھی کو ٹھکرا ہی دیا ہے۔ اس لئے ان کی ٹیم کے باقی لیڈروں نے کچھ ٹھوس کام ہی نہیں کئے۔ عوام میں وہ یہ بھروسہ پیدا نہیں کر سکے کہ کانگریس کو ووٹ دینے میں ہی ان کی بھلائی ہے۔ غورتو اس بات پر ہونا چاہئے کہ ٹیم راہل زمین پر کم ہوائی زیادہ کیوں ہورہی ہے؟ لیکن پارٹی صدر نے راہل گاندھی کو مرکز میں رکھ کر چناوی جائزہ نہیں لیا ۔اگر کانگریس واقعی ہی پارٹی میں اصلاح چاہتی ہے تو ہار کے صحیح اسباب پر بحث کرنے کی ہمت دکھائے اور قصوروار لیڈروں پر سخت کارروائی کرے تاکہ پارٹی کے باقی لیڈروں میں ایک خوف پیدا ہوسکے۔ کانگریس کو اگر اس سال ہونے والے گجرات، ہماچل سمیت کئی ریاستوں میں چناؤ میں فتح حاصل کرنی ہے تو اسے مرکز میں اپنی لنج پنج منموہن سرکار کی کمیوں پر غور کرنا چاہئے۔ ڈسپلن شکنی اور گروپ بندی سے پرہیز کی نصیحت کے لائق بنانے کے لئے مثالوں کو ایسی بنیاد دی جانی چاہئے تاکہ اس پر پارٹی ایمانداری سے عمل پیرا ہوسکے۔ اس لیپا پوتی جائزے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, State Elections, Vir Arjun

کیا گٹکھا اب چند مہینوں کا مہمان ہے؟



Published On 13 May 2012
انل نریندر
گٹکھاکھانے والوں کے لئے اچھی خبر نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش نے گٹکھے پر پابندی لگادی ہے۔ اب دیگر ریاستوں میں بھی مدھیہ پردیش کے نقشے قدم پر چلنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ان میں گٹکھے کا جنم داتا اترپردیش بھی شامل ہے۔ مرکزی وزارت صحت کا بھی اب یہ خیال ہے کہ وہ دن دور نہیں جب سبھی ریاستوں میں گٹکھے پر پابندی لگ جائے۔ ویسے مرکزی حکومت نے بہت پہلے ہی گٹکھے پر پابندی لگانے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا تھا۔ اب لائسنس منسوخ کر اس پر پابندی لگانے کا کام ریاستی حکومتوں کا ہے۔ مدھیہ پردیش نے اس سمت میں پہل کرکے پورے دیش میں گٹکھے پر پابندی کا راستہ کھول دیا ہے۔ مرکزی وزارت صحت کے ایک افسر نے مختلف ریاستوں سے مل رہی رپورٹوں کی بنیاد پر دعوی کیا ہے کہ گٹکھے کے اب گنتی کے چند مہینے ہی رہ گئے ہیں۔ تمباکو کنٹرول کے ڈائریکٹر عمل پشپ نے بتایا کہ مرکزی سرکار نے تو پہلے ہی گٹکھے پر پابندی کی نوٹی فکیشن جاری کردی ہے لیکن اسے لاگو تو ریاستی سرکاروں کو ہی کرنا ہے۔ مدھیہ پردیش گٹکھا پر پابندی کی وجہ سے دوسری ریاستوں پر یہ قدم اٹھانے کی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے۔ اس کا اثر بھی اب دکھائی دینے لگا ہے۔ گٹکھے لت سے دیش کے لڑکوں و بچوں کی صحت پر بھاری خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔عمل پشپ نے کہا راجستھان، جھارکھنڈ، کیرل سمیت کئی ریاستوں کے قانون محکمے نے گٹکھے پر پابندی کی کارروائی شروع کردی ہے۔ اس سمت میں سب سے مثبت بات یہ ہوئی کہ گٹکھے کی جنم داتا ریاست اترپردیش میں گٹکھا پابندی کو لیکر سرکار نے غور و خوض شروع کردیا ہے۔ مدھیہ پردیش کی طرح کیرل میں بھی جلد پابندی کا اعلان ہونے والا ہے۔ انہوں نے بتایا مرکزی وزارت صحت نے دیش کی سبھی ریاستوں کے پاس مدھیہ پردیش کے اس قدم کا نوٹی فکیشن بھیج دیا ہے ساتھ ہی سبھی ریاستیں تمباکو کنٹرول سیل میں مرکزی نمائندے کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں پابندی کولیکر دباؤ بڑھائیں۔عمل پشپ نے کہا کہ مرکزی سرکار نے فوڈ سیفی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھارٹی آف انڈیا کے نوٹی فکیشن کے ذریعے بہت پہلے ہی طے کردیا تھا کہ گٹکھا ایک خوردنی چیز ہے اس لئے اس میں تمباکو اور نکوٹین نہیں ملائے جاسکتے۔ سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے کہ گٹکھا ایک غذائی چیز ہے ۔ فلموں میں سگریٹ پینے کے مناظر کو لیکر وزارت صحت کے نوٹی فکیشن کی اڑچنیں بھی جلد ختم ہوجائیں گی۔ دوسری طرف گٹکھا کھانے والوں کا کہنا ہے کہ گٹکھا کھانا یا نہ کھانا اپنی اپنی پسند ہے اور اس میں سرکار کو کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ سرکار زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتی ہے کہ گٹکھے کے استعمال سے پیدا ہونے والے مضر اثرات کو مشتہر کرے لیکن آخری فیصلہ صارفین پر ہی چھوڑ دیا جانا چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gutkha, Madhya Pradesh, Vir Arjun