بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعہ کے درمیان نیپال نے ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کرکے ایک طرح سے ناگزیر حالات پیدا کردیئے ہیں۔ اس نئے نقشے میں لیپولیکھ، کالا پانی وغیرہ کو نیپالی علاقے میں دکھایاگیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جو نیا تنازعہ کھڑا ہوا ہے اس کی کئی وجہ ایک نئی سڑک ہے جو لیپولیکھ کے کالاپانی خطے سے ہوتے ہوئے جاتی ہے۔ بھارت کے وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے پچھلے دنوں اس سڑک کا افتتاح کیاتھا۔ اس علاقے پر دونوں دیش اپنا دعویٰ کرنے ہیں کہ یہ ان کا ہے۔ کورونا جیسی وبا میں بھی چین اپنے منصوبوں سے باز نہیں آرہا ہے اور بھارت کو گھیرنے کا کوئی موقع وہ نہیں چھوڑ رہا ہے۔ بھارت کو پریشان کرنے کے لئے ڈریگن نے نیا پینترا نیپال کو مہرا بناکر چکا ہے چین کی سازش کورونا وبا میں بھارت چاروں طرف سے پریشنای کرنے کی ہے۔ اس کی ناپاک حرکتوں میں پاکستان کے بعد اب نیپال کٹھ پتلی کی طرح ناچ رہا ہے۔ نیپال کے تازہ موڈ کے پیچھے چین کا ہاتھ ہے۔ نیال سرکار کے موجودہ تیور سے یہ صاف ہے کہ نیال اس وقت چین کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے۔ بھارت کے ساتھ نیپال چین کے اشارے پر سرحد کے مسئلے پر طول دے رہا ہے۔ بھارت کو کوشش کرنی ہوگی کہ نیپال کو منایا جائے اور اسے پوری طرح چین کے ہاتھوں میں نہ جانے دیں۔ چین کی سازش کو ناکام کرنا ہوگا۔ (انل نریندر)
Translater
23 مئی 2020
20سال کے سب سے طاقتور طوفان امفان!
یہ ہمارے دیش میں کیاہورہا ہے؟ لگتاہے کسی کی بددعا لگ گئی ہے۔ ایک طرف کورونا کی وبا تو دوسری طرف ایک مہینے میں تین تین زلزلوں کا آنا، رہی سہی کسر بدھ وار کو مغربی بنگال میں آئے خوفناک سائکلونک طوفان امفان نے پوری کردی۔ پورا ملک پہلے ہی کورونا وائرس سے لڑرہاہے۔ اب اوڈیشہ، مغربی بنگال کے کچھ سمندری علاقوں میں زبردست طوفان کا آجانا مشکلوں کے درمیان ایک اور آفت جیسا ہے۔ 20میں سب سے طاقتور طوفان امفان نے بڑی تباہی مچائی ہے۔ سوپر سائکلونک طوفان190کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ساحل سے ٹکرایا۔ اس دوران اوڈیشہ میں بھی بھاری بارش ہوئی اور تیز آندھیاں چلیں۔ اس سے مغربی بنگال میں 10، اوڈیشہ میں کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔ اترپردیش کے غازی پور، اعظم گڑھ میں آندھی طوفان کے ساتھ بارش میں درجنوں پیڑ اور بجلی کے کھمبے گرگئے۔ اور اس سے بھاری قیمت چکانی پڑی۔ مغربی بنگال میں بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق پچھلی دودہائیوں میں کئی وجوہات سے موسم کے بے کنٹرول ہونے سے طوفانوں کا سلسلہ بڑھا ہے۔ اور یہ اچھی بات ہے ہم نے اپنے پرانے تجربوں سے سیکھا ہے ہماری تیاری ایسے طوفانوں کے لئے تیار رہی۔ اس لئے نقصان بھی کم ہوا۔ ساری دنیا کا جو موسم بدل رہا ہے۔ بہرحال وہ سبھی کے لئے باعث تشویش ہے۔ (انل نریندر)
اقتصادی پیکیج: اعدادوشمار کا مایہ جال
حکومت ہند کے ذریعے 20لاکھ کروڑ کے اقتصادی پیکیج کی ملک وبیرون ملک نکتہ چینی ہورہی ہے۔ کئیی سیاسی پارٹیوں نے اسے نمبروں کی بازی گری قرار دیا ہے۔ وہیں کریڈٹ سوئس ویلتھ منیجمنٹ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سرکار کے 20لاکھ کروڑ روپے کی شکل میں اقتصادی پیکیج میں معیشت کے لئے طویل المدت مدد کی کمی ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ دیش کی ترقی شرح اضافے کو بحال کرنے کے لئے کافی نہ ہو۔ وزیراعظم نریندرمودی نے کورونا وائر وبا کے اقتصادی اثر کو کم کرنے کے لئے دیش کو خود انحصار بھارت مہم کے لئے 20لاکھ کروڑ روپے کی ڈوز دی تھی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پانچ قسطوں میں اس پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ ایڈیٹنگ ایجنسی فم یوشن نے کہاکہ پیکیج کی قریب آدھی رقم سرکاری خزانے کے قدموں سے وابستہ ہے۔ جس کا اعلان پہلے کیا جاچکا ہے۔ ساتھ ہی اس میں ریزرو بینک کی کرنسی راحت والی اعلانات کو معیشت پر پڑنے والے تخمینے کو بھی جوڑ دیاگیا۔ یعنی پہلے کئے گئے اعلانات کی نئے سرے سے پیکنگ کرکے پی ایم نے دیش کے مالیاتی اداروں کے لئے حالات کے خطرے میں کمی آئے گی۔ لیکن اس سے کووڈ۔19کا منفی اثر پوری طرح ختم نہیں ہوگا۔ سیاسی پارٹیوں نے اس اسکیم کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کانگریس نے اس 20لاکھ کروڑ کے اقتصادی پیکیج کے دعوو¿ں کو نمبروں کی بازی گری اور دیش کے ساتھ دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ غریب مزدور کسان اور کاروباری سے لے کر صنعت کسی کو سرکار نے کچھ نہیں دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما کے مطابق پی ایم کے اعلان صرف ہوائی اعلانات ہیں۔ اور اس سے صاف ہے کہ معیشت کو پٹری پر لانے کی سرکار کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ اسے پیکیج کہنا مضحکہ خیز ہے اور کوئی ماہر اقتصادیات بھی اسے تسلیم نہیں کرے گا۔ کیونکہ اس میں راحت اور مدد نہیں قرض کا انتظام ہے۔ لیفٹ پارٹیوں نے اس اقتصادی پیکیج کو گمراہ کرنے والا اور اعدادوشمار کا مایہ جال قرار دیا ہے۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے کئی ٹوئیٹ کرکے کہا یہ گمراہ کن ہے۔ مرکز کے ذریعہ آئینی سسٹم کے تحت ریاستوں کو منتقل کی جانے والی رقم اور ریزرو بینک آف انڈیا کے وسائل بڑھانے کے فیصلے کو مودی سرکار ریاستوں کو دی گئی مدد کی شکل میں دکھا رہی ہے۔ سرکار پچھلے پانچ دنوں سے نمبروں کا مایہ جال دکھارہی ہے اور اس بھاری بحران میں غریبوں، غیر محفوظ لوگوں کے لئے کچھ بھی نہیں کررہی ہے۔ پاپولرفرنٹ آف انڈیا نے ایک میٹنگ میں پاس پرستاو¿ میں کہاکہ وزیراعظم کا 20لاکھ کروڑ روپے کا حوصلہ افزا پیکیج دیش کے سامنے آنے والے اصلی مسئلوں کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ محض خانہ پری اور بڑے کاروباریوں کے لئے ہے۔ لاک ڈاو¿ن پیکیج کے بہانے سرکار بھاجپا کے پسندیدہ کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے نجی کرن کے خفیہ ایجنڈے کو لاگو کررہی ہے۔ مختلف معیشتوں کے ذریعے پیکیج کے جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ سرکار نے پچھلے منصوبوں اور اعلانات کو نئے پیکیج کی شکل میں شامل کرکے دیش کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اس میں مایوسی کے علاوہ کچھ ٹھوس نظرنہیں آتا۔ (انل نریندر)
22 مئی 2020
سرپر گٹھری گود میں معصوم بچہ
لاک ڈاؤن کے چلتے دیش کے الگ الگ حصوں میں پھنسے پرواسی مزدوروں کے صبر کا باندھ ٹوٹنے لگا ہے اور اب وہ مشتعل ہونے لگے ہیں۔ پیرکو ایسی ہی تصویریں تین ریاستوں سے سامنے آئیں۔ گجرات میں لگاتار پانچویں بار پرواسی مزدوروں کا ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ یہاں احمد آباد میں سینکڑوں کی تعداد میں پیدل چل کر گھر کے لئے نکلے مزدوروں کو پولیس نے روکا تو وہ بھڑک گئے اور پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا۔ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ اس جھگڑے میں دوپولیس والے بھی زخمی ہوگئے۔ ادھر راجکوٹ میں ٹرین کا وقت بدلنے کے بعد سڑک پر پتھر بازی کر گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں پولیس نے 29لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ راجکوٹ رینج کے ڈی آئی جی سندیپ سنگھ نے بتایا کہ اتوار کو یوپی اور بہار کی دو شرمک ٹرینوں کے منسوخ ہونے کی اطلاع کے بعد مزدور بھڑک گئے اور پتھر بازی کی۔ وہیں کرنال ہائی وے پر یوپی بہار اور دوسری ریاستوں کے مزدور اکٹھا ہوجانے سے حالات بے قابو ہوگئے۔ توڑ پھوڑ کررہے مزدوروں کو قابو کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے۔ جوائنٹ کمشنر امت وشکرما نے بتایا مزدوروں کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انہیں جلد گھر پہنچوایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ لیبر کالونی کے چار۔ پانچ سو مزدور سڑک پر اترے تھے۔ واردات میں دوگاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ 100مشتبہ لوگوں کو حراست میں لیاگیا۔ کرنال ہائی وے کے کنڈلی میں مزدوروں کا کہنا تھا کہ اب بھوکے پیٹ نہیں رہا جاتا۔ دوہزار مزدوروں نے الزام لگایا کہ افسران کہہ رہے ہیں 50بسیں لگائی جارہی ہیں لیکن صرف 10بسوں کا انتظام کیاگیا۔ اترپردیش کے غازی آباد میں ہزاروں کی بھیڑ اسپیشل ٹرین کے لئے رجسٹریشن کرانے میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن سے پہلے جو پیسہ تھا وہ سب ختم ہوگیا اور سب کچھ بک گیا۔ جس میں موبائل، زیور، منگل سوتر بھی بک گیا۔ البتہ اب یہ اپنے دیش جانے کے لئے بے چین ہیں۔ اس کے لئے بارڈر آڑے آرہے ہیں۔ جس وجہ سے یہ مزدور گھاٹ ندی کے ذریعے انبالہ کی حد میں داخل ہورہے ہیں۔ تھوڑی سی چوک ان کے ساتھ ساتھ معصوموں کی بھی جان لے سکتی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔ انبالہ پہنچے مزدوروں نے اسی طرح کا درد بیان کیا۔ کہا روزانہ 50سے70کلومیٹر سفر کرتے ہیں۔ اور جہاں پناہ ملتی ہے وہیں کھلے آسمان کے نیچے سوجاتے ہیں۔
(انل نریندر)
اظہار رائے کی آزادی کا اصول ہے صحافت کی آزادی
سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ صحافت کی آزادی آئین میں دیئے گئے بولنے اور اظہار رائے کی آزادی کا اخلاقی اختیار اصل بنیاد ہے۔ بڑی عدالت نے یہ بھی کہاکہ بھارت کی آزادی اس وقت تک محفوظ ہے جب تک اقتدار کے سامنے صحافی کسی بدلے کی کارروائی کا خوف مانے بنا اپنی بات کہہ سکتا ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندر چور، جسٹس ایم آرشاہ کی بینچ نے یہ سخت رائے زنی ریپبلک ٹی وی کے مدیر ارنب گوسوامی کے معاملے میں کہی۔ اس نے کہا ایک صحافی کے خلاف ایک ہی واقعہ کے سلسلے میں بہت سے مجرمانہ مقدمے دائر نہیں کئے جاسکتے۔ اسے کئی ریاستوں میں راحت کے لئے چکر لگانے کے لئے مجبور کرنا صحافت کی آزادی کا گلا گھونٹنا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس وقت عارضی راحت دی جب عدالت نے پال گھر میں دو سادھوؤں اور تین تین افراد کے ذریعے پیٹ پیٹ کر قتل کے واقعہ سے متعلق پروگرام کے سلسلے میں ناگپور میں درج ایف آئی آر کے علاوہ باقی سبھی جگہ معاملے منسوخ کردیئے لیکن اس کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے سے انکار کردیا۔ ناگپور میں درج ایف آئی آر ممبئی میں منتقل کردی گئی۔ جس کی جانچ ممبئی پولیس کررہی تھی۔ عدالت کی بینچ نے 56صفحات کے فیصلے میں کہاکہ یہ ایف آئی آر منسوخ کرانے کے لئے ارنب گوسوامی کو نوڈل عدالت کے پاس جانا ہوگا۔ حالانکہ بینچ نے گوسوامی کو کسی طرح کی سزا سے متعلق تین ہفتے کی سرپرستی فراہم کردی ہے۔ جسٹس چور نے فیصلے میں کہادفعہ 19 (ایک) (اے) کے تحت صحافیوں کو بولنے واظہار رائے کی آزادی کے لئے ملے حق اعلیٰ سطح کے ہیں۔ لیکن یہ لامحدود نہیں۔ اس نے کہا میڈیا کو بھی مناسب پابندیوں کے دائرے میں رہ کر ہی جواب دہ ہیں۔ بینچ نے کہا حالانکہ ایک پترکار کے بولنے اور اظہار رائے کی آزادی بالاتر پائیدان پر نہیں ہیں۔ لیکن بطور سماعت ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے پہلے کا وجود دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر میڈیا کو ایک نظریہ اپنانے کے لئے مجبور کیاگیا تو شہریوں کی آزادی کا وجود نہیں بچے گا۔
(انل نریندر)
الزام در الزام تراشی کے دورمیں پستا بے بس مزدور
لاک ڈاؤن میںپھنسے مزدوروں کی واپسی کے لئے بسوں پر سیاسی مہابھارت چھڑ گیا ہے۔ اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار اور کانگریس کے درمیان جم کر تنازع شروع ہوا۔ خطوط کا دور چلتا رہا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس تنازعہ کے چلتے مزدور گھر جانے سے لٹکے پڑے ہیں اور بسیں بارڈر کھڑی ہیں۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ بسیں یوپی کی سرحد پر ہیں۔ انتظامیہ انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دے رہاہے۔ وہیں یوپی سرکار نے کہاکہ جو فہرست کانگریس نے 1049گاڑیوں کی سونپی تھی اس میں آٹو، ایمبولینس، ٹرک اور پرائیویٹ کار کے نمبر ہیں۔ دراصل کانگریس نے ان گاڑیوں کی فہرست یوپی سرکار کو سونپی تھی۔ اس میں 879بسیں ہیں۔ اس کے علاوہ 31نمبر آٹو اور ایک ایک ایمبولینس اور ٹرک دو ڈی سی ایم ٹاٹا 59اسکول بسیں ہیں۔ 297گاڑیوں کے کاغذات پورے نہیں ہیں۔ ان میں 79گاڑیوں کی فٹنس اور 140کا بیمہ نہیں ہے۔ وہیں 78گاڑیوں کی فٹنس اور بیمہ دونوں نہیں ہیں۔ اس پر کانگریس نے موقع پر آکر بسیں دیکھنے کی چونوتی دی۔ ان سب کے بیچ بے بس مزدور یا تو پیدل گھر جانے کو مجبور ہیں یا مدد کے بھٹک رہے ہیں۔ پرینکا نے سی ایم یوپی آدتیہ ناتھ کو ٹوئیٹ کیا جانچ میں صحیح ملی 879 بسیں تو چلنے دیجئے بھلے ہی ان پر بھاجپا کا بینر، پوسٹر لگوادیں۔ پرینکا واڈرا نے کہاکہ یوپی سرکار نے حد کردی ہے جب سیاسی پیچیدگیوں کے چلتے پرواسی بھائی بہنوں کی مدد کرنے کا موقع ملا تو دنیا بھر کی ساری مشکلات سامنے رکھ دیں۔ یوگی جی ہمارے سوابھیمان کو بہت ٹھکرائیے کیونکہ اس سیاسی کھلواڑ میں تین دن ضائع ہوچکے ہیں اور ان ہی تین دنوں میں ہمارے دیش واسی سڑکوں پر چلتے ہوئے دم توڑرہے ہیں۔ ایک دودن میں دوسونئی بسیں دستیاب کرادیں گے۔
ادھر ڈپٹی وزیراعلیٰ دنیش شرما نے کہاکہ کانگریس محض رکاوٹ ڈالنا اور جنتا کو گمراہ کرنا جانتی ہے۔ یہ مجرمانہ حرکت ہے۔ سرکار کے ترجمان اور کیبنٹ وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہاکہ راہل اور پرینکا کی کانگریس جعل ساز پارٹی ہے۔ وزیر پانی ڈاکٹر مہندر سنگھ نے کہاکہ پرینکا واڈرا نے بسیں چلانے کے نام پر مزدوروں کے ساتھ بھدا اور شرمناک مذاق کیا ہے۔ کانگریس کی طرف سے یوپی کے سرکردہ لیڈر پرمود تیواری نے کہاکہ یوپی سرکار جھوٹ بول رہی ہے اور صرف پریس کانفرنس ہی کررہی ہے۔ جبکہ ہم سے لسٹ میں گڑبڑی شیئر نہیں کی۔ ہمیں دیں اور ہم ان کی جانچ کروالیتے ہیں اور سرکار الزام تراشیوں کا کھیل کھیل رہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ نے کہاکہ بھاجپا بسوں کو لے کر غلط الزام لگارہی ہے۔ ایک بار سب بسوں کو لائن میں کھڑا کرنے دیں تب پتہ چل جائے گا کہ کون صحیح بول رہا ہے اور کون جھوٹ۔ ان خطوط کے کھیل میں بے چارہ مزدور پس رہا ہے اور وہ پیدل چلنے کو مجبور ہے۔ راستے میں اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
( انل نریندر)
20 مئی 2020
پانچ لاکھ تک کی سیکورٹی لے رہے ہیں پرائیویٹ ہسپتال
دلی میں کورونا کا علاج کئی پرائیویٹ اسپتالوں میں پیسے لے کر کئے جارہے ہیں۔ یہ خرچ مریضوں کو ہی بھرنا پڑرہا ہے۔ ان اسپتالوں نے پیمنٹ وصولنے کے لئے اپنی قاعدے اور شرائط طے کردیئے ہیں۔ کسی اسپتال میں سیکورٹی کے نام پر پانچ لاکھ روپے جمع کرائے جارہے ہیں۔ کہیں تین لاکھ روپے ڈپازٹ ہورہے ہیں کچھ اسپتالوں میں سیکورٹی کا کوئی پیکیج فکس نہیں ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ پہلے کے مقابلے مریض ٹھیک ہوکر گھر پہنچ چکے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے اشوک کمار گپتا کا علاج گنگا رام ہسپتال میں ہوا۔ وہاں پانچ لاکھ روپے ڈپازٹ کرائے گئے۔ جبکہ اپولوں میں یہ ڈپازٹ تین لاکھ روپے ہے۔ حالانکہ میکس نے ابھی تک علاج کے لئے کوئی ڈپازٹ رقم متعین نہیں کی ہے۔ لیکن رقم باری باری وصولی جارہی ہے۔ کئی دنوں تک سرکاری اسپتالوں کے چکر کاٹنے کے بعد گپتا داخل ہوئے تھے۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی مہینوں سے مریضوں کو آسانی سے بھرتی نہیں کیاجارہا ہے۔ پانچ پرائیویٹ سینٹروں میں علاج چل رہا ہے۔ اور بیڈ بھی ملے ہوئے ہیں۔ دلی میں جس طرح کورونا کے مریض بڑھ رہے ہیں یہ پریشانی آگے اور بھی بڑھے گی۔ سرکار کو چوکس رہنا چاہئے۔ تاکہ کسی ہنگامی صورت حال سے آسانی سے نپٹا جاسکے۔
(انل نریندر)
معیشت میں آنے والا ہے طوفان
یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے دیش میں اپوزیشن کو اتنا کمزور کردیاگیا ہے کہ وہ کچھ بھی بات کرے، یا آگاہ کرے چاہے وہ کتنے ہی ضروری کیوں نہ ہوں حکمراں فریق ہوا میں اڑادیتا ہے۔ یہی نہیں خبردار کرنے والے اپوزیشن کے لیڈر کو یا تو بدھو کہہ کر مذاق میں ٹال دیا جاتا ہے یا اپنے غرور میں اسے نظرانداز کردیاجاتا ہے۔ میں بات کررہا ہوں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی جنہوں نے اس سال فروری میں خبردار کیا تھا کہ دیش میں کورونا آچکا ہے۔ سرکار بلا تاخیر اس پر توجہ دینی ہوگی۔ اور ملکی شہریوں کی حفاظت کے لئے قدم اٹھانے چاہئیں لیکن سرکار نے ان کی وارننگ کو ہوا میں اڑادیا۔ آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ کورونا نے ملک میں اتنی خوفناک شکل اختیار کرلی ہے کہ اس کو روکنا تو دور بلکہ انفیکشن کے مریضوں کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں اور لوگوں کی جان مال پر پڑرہی ہے اس کا سب سے زیادہ اثر ہماری معیشت پر پڑے گا۔ راہل گاندھی نے کورونا وائرس وبا میں مصیبت کا سامنا کررہے غریبوں، کسانوں، مزدوروں تک نیائے یوجنا کے طرز پر مدد پہنچانے کی مانگ کرتے ہوئے پی ایم نریندرمودی سرکار سے درخواست کی کہ وہ مالی پیکیج پر دوبارہ نظرثانی کرے اور سیدھے لوگوں کے کھاتے میں پیسہ ڈالے۔ لاک ڈاؤن کو سمجھ داری وہوشیاری کے ساتھ کھولنے کی ضرورت ہے۔ بزرگوں وسنگین بیماریوں میں مبتلا لوگوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ راہل گاندھی نے ویڈیولنک کے ذریعے اخبار نویسوں سے کہاکہ جو پیکیج ہونا چاہئے تھا وہ قرض کا پیکیج نہیں ہونا چاہئے تھا میں اس کو لے کر مایوس ہوں۔ آج کسانوں، مزدوروں غریبوں کے کھاتے میں سیدھے پیسہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ آپ سرکار کو قرض دیجئے لیکن بھارت ماتا کو اپنے بچوں کے ساتھ ساہوکار کا کام نہیں کرنا چاہئے سیدھے ان کی جیب میں پیسہ جانا چاہئے۔ آج ان طبقوں کو قرض کی ضرورت نہیں پیسے کی ضرورت ہے۔ اس لئے نریندرمودی جی کو مالی پیکیج پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے سنا ہے کہ پیسے نہ دینے کی وجہ ریٹنگ ہے۔ اور کہاجارہا ہے کہ اس سے مالی خسارہ بڑھ جائے گا۔ توباہر کی ریٹنگ ایجنسیاں دیش کی ریٹنگ کم کردیں گی۔ ہماری ریٹنگ مزدور کسان اور چھوٹے کاروباریوں سے سے بنتی اس لئے ریٹنگ کے بارے میں مت سوچئے انہیں پیسہ دیجئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا سے مزید اور اقتصادی نقصان ہونے کا امکان ہے جو کورونا سے بھی بڑا ہوسکتا ہے۔ آپ نیائے کا نام کچھ اور رکھ لیجئے لیکن کچھ اگلے مہینوں کے لئے اسے لاگو کیجئے۔ غور طلب ہے پچھلے لوک سبھا چناؤ کہ وقت کانگریس نے اپنے چناؤ منشور میں وعدہ کیا تھا کہ سرکار بننے پر وہ کم ازکم آمدنی گارنٹی یوجنا لاگو کرتے ہوئے ہر غریب خاندان کو 72ہزار روپے سالانہ مالی مدد دے گی۔ اس وقت راہل گاندھی کانگریس کے صدر ہوتے تھے۔ سرکار کی تنقید فی الحال نہ کرنے کے اپنے موقف پر کہا کہ یہ وقت کسی کو غلط بتانے کا نہیں ہے بلکہ یہ وقت مسئلے کے حل کا ہے۔ کورونا بحران میں مانگ اور سپلائی دونوں بند ہیں۔ سرکار کو دونوں کو رفتار دینی ہوگی جو قرض پیکیج کی بات ہے اس سے مانگ کھلنے والی نہیںہے کیونکہ بغیر پیسے کے لوگ خرید کیسے کریں گے؟
(انل نریندر)
لاک ڈاؤن۔4
کورونا مریضوں کی بڑھتی تعداد اور انفیکشن پھیلنے کے خطرے کو دیکھتے ہوئے مرکزی سرکار کی جانب سے لاک ڈاؤن۔4 پر کوئی تعجب نہیں ہوا۔ مہاراشٹر، تامل ناڈو، پنجاب جیسی اہم ترین ریاستوں میں جب اپنے یہاں لاک ڈاؤن کو 31مئی تک کے لئے بڑھادیا تب مرکزی حکومت کے لئے لاک ڈاؤن بڑھانے کا اعلان محض خانہ پری رہ گیا تھا۔ اس چوتھے لاک ڈاؤن کنٹین منٹ زون کو چھوڑ کر باقی علاقوں میں سبھی طرح کی اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔ حالانکہ مال، سنیما ہال، ریسٹورنٹ، ہوٹل، میٹرو، ریل اور ہوائی خدمات پر پابندی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔ اس مرتبہ ریڈ، اورنج اور گرین زون کی تشریح وہی رہے گی۔ لیکن اس کے تحت آنے والے علاقے کو طے کرنے کی ذمے داری ریاستوں کو سونپ دی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے کے لئے جاری گائیڈ لائنز میں وزارت داخلہ نے صاف کردیا ہے کہ خاص طورپر ممنوعہ سرگرمیوں کو چھوڑ کر دیگر سرگرمیوں کو چھوٹ ہوگی۔ آمد ورفت کو آسان کرنے کا وقت کا مطالبہ تھا۔ کیونکہ اس کے بغیر کاروباری، مالیاتی کاموں کو طاقت ملنے والی نہیں یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر معیشت کا نقصان بڑھنے کے ساتھ ساتھ روزی روٹی کا مسئلہ بھی پریشان کن ہوتا جارہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح دیش کے مختلف حصوں میں لاکھوں کی تعداد میں مزدور اپنے گاؤں لوٹ رہے ہیں۔ سڑکوں پر دم توڑ رہے ہیں۔ ان کو گھر پہنچانے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔ لیکن ٹریفک پابندی پر اس میں رکاوٹ آرہی ہے۔ لاک ڈاؤن۔4میں ریل، ہوائی سفر پر لگی پابندی نہیں ہٹی ہے۔ ہم اس کے پیچھے کئی وجوہات سمجھ سکتے ہیں۔ ہمیں چوکس رہنا ہوگاتاکہ کورونا انفیکشن زیادہ نہ پھیلے جس طرح لاکھوں مزدور سڑکوں پر ٹرکوںا ور ٹیمپو سے جارہے تھے اس سے جسمانی دوری کی تعمیل نہیں ہورہی تھی۔ اس سے ممکن ہے کہ کورونا کا انفیکشن شرح ابھی اور بڑھے۔ آج پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کے فائدے نقصان پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ دنیا کے سامنے دوطرح کے ماڈل ہیں۔ ایک لاک ڈاؤن کا جس سے سختی سے کامیاب بناکر چین نے کووڈ۔19کو قابو کیا ہے۔ وہیں دوسری طرف ساؤتھ کوریا کا ماڈل ہے جہاں صرف کنٹین منٹ زون میں لاک ڈاؤن رکھ کر اقتصادی سرگرمیوں کو نہیں روکا گیا ہے۔ سخت لاک ڈاؤن سے جہاں چین کی جی ڈی پی میں اس سال کی پہلی سہ ماہی میں 30فیصد سے زیادہ گراوٹ ہوئی ہے وہیں اس میعاد میں ساؤتھ کوریا میں یہ گراوٹ کل 6فیصد بھی نہیں ہے، جہاں ایک طرف بھارت کا سوال ہے ہم نے تو چین جیسے سخت مزاج کے ہیں اور نہ ہی ہمارے یہاں کوریا جتنی کم آبادی ہے۔ بھارت میں لاک ڈاؤن کھولنے والے حمایتی بھی جانتے ہیں کہ اس کے کھلتے ہی انفیکشن بڑھنے کا خطرہ ہے۔ بھارت کی وسیع آبادی کو آپ پوری طرح سے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ہے۔ بلکہ ناممکن نہیں ہے۔ انفیکشن پر قابو رکھنے کے ساتھ لاپرواہ لوگوں کو بھی خبردار رکھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ جو صنعتیں چل رہی ہیں انہیں اپنی پیداوار ریاست اور دیش کے مفاد میں بڑھانی ہوگی۔ اس ماحول کی تعمیر میں عام لوگوں کی بھی اہمیت ہوگی۔ انہیں یہ خیال رکھنا ہوگا کہ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں چھوٹ کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں اور وہ سبھی احتیاط برتیں جو ڈاکٹروں نے بتائی ہیں۔ ایسا نہیں ہوا تو سرکار کو پھر سے سختی کرنی پڑے گی۔
(انل نریندر)
18 مئی 2020
شراب کے ٹھیکے کھل سکتے ہیں تو مذہبی مقامات کیوں نہیں؟
ہندوستان کی خوبصورتی میں خوبی ہے کہ یہاں الگ الگ مذاہب اور برادریاں ہونے کے باوجود سب آپسی بھائی چارے سے رہتے ہیں۔ مذہبی مقامات سے جب آرتی ، اذان، گربانی، بائبل کی آوازیں آتی ہیں تو ایشور میں عقیدت رکھنے والوں کا حوصلہ مضبوط ہوتا ہے۔ کورونا وبا کے دوران لوگوں کا حوصلہ گررہا ہے۔ کیونکہ تمام مذہبی عبادت گاہیں بند ہیں۔ اس لئے مذہبی پیشواؤں کا کہنا ہے کہ شراب کے ٹھیکے کھلے ہیں اور ان پر بھیڑ دیکھ کر مذہب میں عقیدت رکھنے والے مذہبی مقامات مندروں ، گردواروں، مساجد اور چرچ کو بند دیکھ کر مایوس ہیں۔ ان پیشواؤں کا کہنا ہے کہ پرارتھنا اور دعاؤں میں اثر ہوتا ہے اور پرارتھنا اور دعائیں ہوں گی تو دیش میں آئی مشکل گھڑی کے بادل بھارت اور دنیا سے ہٹیں گے۔ اکھل بھارتیہ سنت سمیتی اور کالکامندر کے مہنت سریندر ناتھ اودھوت مہاراج کہتے ہیں کہ دھارمک مقامات میں آکر پوجا ارچنا سے شخص میں ایک ایشوریے طاقت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور مثبت سوچ بڑھتی ہے۔ ایسے ہی دلی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے منجندر سنگھ سرسا کا خیال ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو اپنی عبادت گاہوں میں آنے سے طاقت اور حوصلہ ملتا ہے اورایسے ہی فتح پوری مسجد کے مفتی مکرم کہتے ہیں کہ کچھ ضروری شرطوں کے ساتھ مذہبی عبادت گاہیں کھلنی
چاہئے۔ ہم بھی ان سے متفق ہیں ۔ جب شراب کے ٹھیکے کھل سکتے ہیں تو مذہبی مقامات کیوں نہیں؟ (انل نریندر)ر
چین جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے !
کورونا وائرس کے ایشو پر امریکہ مسلسل چین پر حملے کررہا ہے ، اب امریکہ کے قومی سلامتی مشیر رابرٹ ابدرین نے کہا کہ پچھلے 20سال میں یہ چین سے وبا آئی ہے۔ اس سلسلے کو روکا جانا چاہئے ۔ انہوں نے دنیا بھر میں ڈھائی لاکھ لوگوں سے زیادہ جان لینے والی کورونا وبا کے لئے چین کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ برین نے کہاکہ دنیا بھر کے لوگ کھڑے ہوں گے اور چین سرکار سے کہیں گے کہ ہم چین سے نکل رہی ان وبا ؤں کو برداشت نہیں کریں گے چاہے وہ جانور بازاروں سے یا پھر وہان کی لیب سے نکلی ہے۔ لیکن ثبوت بتاتے ہیں یہ لیباریٹری پشو بازار سے نکلی ہے۔ امریکہ کے نو با اثر ممبران پارلیمنٹ کے گروپ نے ایک بل پیش کیا ہے اس بل میں کہاگیا ہے کہ اگر چین کورونا وائرس انفیکشن پھیلنے کی وجوہات کی معلومات دستیاب نہیں کراتا اور اسے قابو کرنے میں تعاون نہیں دیتا تو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو چین پر پابندی لگانے کی منظوری دی جانی چاہئے۔ صدر 60دن میں کانگریس میں یہ ثابت کریں گے کہ چین نے امریکہ اور اس کے ساتھیوں یا عالمی صحت تنظیم وغیرہ سے جیسی اقوام متحدہ سے وابستہ تنظیموں کی قیادت والی کووڈ 19سے متعلق جانچ کے لئے پوری جانکاری مہیاکرائے۔ اس درمیان امریکی نیوز ویب سائٹ فارن پالیسی کے ہاتھ چونکانے والے دستاویز ہاتھ لگے ہیں۔ لیک ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ چین میں کورونا وائرس کے سبب چھ لاکھ چالیس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اس وائرس نے دوسوتیس شہروں کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔ چینی فوج کی انجینئرنگ اکیڈمی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی سے لیک ہوئے ڈاٹا میں اسپتالوں کے ساتھ متاثروں سے ملنے والے مقامات جیسے ہوٹل ، سوپر مارکیٹ، ریلوے اسٹیشن اور اسکولوں کے نام بھی شامل ہیں۔ اس ڈاٹا میں اس کی جانکاری نہیںہے کہ وائرس سے متاثر مریض ٹھیک ہوا یا اس کی موت ہوگئی جبکہ چین دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کے دیش میں صرف ہوڈ ہی ایک صوبہ جو وائرس سے متاثر نہیں ہے۔ دیش میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 83ہزار سے زیادہ پہنچی ہے۔ جبکہ رپورٹ کے مطابق چھ لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ ہے۔ پچھلے 20سال میں جو پانچ وبائیں آئی ہیں وہ ہیں۔ سارس ، ایویمن ، فلو، سوائن فلو اور اب کووڈ 19برین نے پانچویں بیماری کا نام نہیں بتایا ہے۔ ایسا ثابت ہوتا ہے کہ کووڈ 19کو لے کر ہمیشہ جھوٹ بولتا آرہا ہے اور اس کی دھیرے دھیرے پول کھل رہی ہے۔
(انل نریندر)
گھر لوٹ رہے مزدوروں کی موت کا ذمہ دار کون؟
اپنے گھروں کو لوٹ رہے مزدوروں کے ساتھ روزانہ حادثے ہورہے ہیں اب تک 139مزدوروں کی موت ہوچکی ہے۔ مختلف حادثوںمیں یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ حادثہ اترپردیش کے اوریا میں ڈی سی ایم اور ٹرک کی ٹکر کی شکل میں ہوا ۔ جس میں اب تک 26پرواسی مزدوروں کی موت ہوچکی ہے۔ ادھر مدھیہ پردیش کے ساگر میں ٹرک پلٹنے سے 8مزدوروں کی جان چلی گئی۔ اوریا میں حادثہ کتنا خطرناک تھا کہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ہائی وے پر ڈی سی ایم گاڑی کھڑی تھی تبھی ٹرک ڈرائیور چائے پینے کے لئے رکا تھا، تبھی ٹرک نے ٹکر ماردی۔ بنگال کے باشندے گڈو نے بتایا کہ کھانے کی پریشانی ہونے لگی تھی تبھی مزدوروں نے گھر لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ صبح شاید تین بجے طے ہوا کہ آگے جو ڈھابہ ملے گا وہاں رک کر روٹیاں لے لیں گے ، کچھ ڈھابے پر اترے باقی لوگ ڈی سی ایم منی ٹرک میں سوئے ہوئے تھے تبھی سے پیچھے سے ایک زور دار ٹکر ماری گئی۔ گاڑی میں سے اچھل کر دور جاگرے۔ کچھ اس کے نیچے دب گئے لوگ مدد کے لئے چلا رہے تھے لیکن رات کے اندھیرے میں کوئی سننے والا نہیں تھا۔ ڈھابہ پر محفوظ لوگوں کو باہر نکال رہے تھے۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ جانچ میں ٹرولا کے ڈرائیور کے نیند میں آنے سے حادثہ ہوگیا۔ پولیس کے مطابق اگر صبح ہونے سے پہلے وہ جاگ جاتے تو زندگی اور موت کے بیچ فاصلہ کم ہوتا اور مزدوروں کی واپسی کے لئے مناسب انتظامات بھی ہوتے۔ اس خطرناک حادثے میں ان کی جان بچ سکتی تھی۔ قاعدے سے تو مرکز اور ریاستی حکومتوں کو تبھی ہوشیار ہوجانا چاہئے تھا جب مہاراشٹر میں ٹرین کی پٹریوں پر سورہے مزدور مال گاڑی سے کٹ مرے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا ، محض خانہ پری کی ہمدردی جتاکر مالی مدد دینے کا اعلان ہوگیا ۔ نتیجہ یہ ہوا مزدوروں کے پیدل یا سائیکل سے جانے کا معاملہ تیز ہوگیا جو شرمک ٹرینیں چل رہی ہیں وہ ناکافی ثابت ہورہی ہیں۔ یہ صاف ہے کہ مزدور اپنے گھر لوٹنا چاہ رہے ہیں لیکن حکومت ٹرینوں کی سہولت نہیں دے پارہی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ نہ تو پیدل جانے والے مجبورمزدوروں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی ٹھیک ڈھنگ سے گھر بھیجنے کا انتظام کیاجارہا ہے بلکہ ان پر سرکاریں لاٹھیاں برسارہی ہیں۔ چاہے مرکزی سرکار ہو یا ریاستی حکومتیں ہوں کوئی بہتر انتظام نہیں ہے۔ آج پورے دیش کی سڑکوں پر لاکھوں مزدور گھروں کو پیدل چل پڑے ہیں ۔ ریاستوں کو اپنی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا اور تال میل قائم ہو تاکہ اس قسم کے حادثے سے بچا جاسکے۔
(انل نریندر)
17 مئی 2020
وجے مالیہ کو وطن لانے کا راستہ صاف
بھگوڑے کاروباری وجے مالیہ کا کھیل ختم ہونے والا ہے ۔قانونی داو ¿ پیج کے چلتے وجے مالیہ بھارت حوالگی سے اب تک کوئی نا کوئی قانونی جگا ڑ لگا کر بچتا رہا ہے لیکن اب اس کی قانونی متبادل ختم ہوتے جا رہے ہیں ۔وجے مالیہ کو بھارت کو سونپے جانے کے خلاف عرضی کو برطانیہ کی سپریم کور ٹ نے خارج کر دیا ہے اب برطانیہ میں اس کے تمام جو قانونی پہلو تھے وہ ختم ہو چکے ہیں اب اس کو 28دنوں میں بھارت کو سونپا جا سکتا ہے حالانکہ اس پر قطعی فیصلہ برطانیہ کے وزیر داخلہ پرتی پٹیل کو کرنا ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق کورٹ سے ملے جھٹکے کے بعد مالیہ اب یوپروپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں درخواست دے سکتا ہے اگر ایساہو سکتا ہے تو اس کے فیصلے تک بھارت کو روانگی لٹک سکتی ہے ۔واضح ہو کہ مالیہ پر الزام ہے کہ اس نے ہندوستانی بینکوں سے دس ہزار کروڑ روپئے کا قرض لیا اور بنا واپس کئے بنا بھارت سے فرار ہو گیا ۔اس پر بھارت نے جعل سازی اور منی لانڈرنگ کے مقدمہ درج ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے مالیہ نے کورونا سنکٹ پر مالی راحت پیکج کے اعلان کے لئے وزیراعظم کو بدھائی دی اور سرکار کا قرض سرکار کو قرض واپس کرنے کی بات بھی کہی تھی انہوں نے کہا انہیں میرے جیسے چھوٹے سے تعاون کنندہ کو نظر اندازنہیں کرنا چاہیے ۔جو اسٹیٹ بینک کا سارا پیسہ لوٹانا چاہتا ہے ۔مجھ سے یہ پیسہ بنا شرط لے لیجئے اور میرا معاملہ ختم کیجئے ۔وجے مالیہ پہلے بھی قرض چکانے کی بات کرتا رہا ہے اور درخواست بھی کی جس کو مودی سرکار نطر انداز کررہی ہے اب دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ برطانیہ کی طرف سے اس کی درخواست خارج ہونے پر اس کی ہوالگی کب ہوگی ۔
(انل نریندر)
کیجریوال کی اپیل پر 5لاکھ لوگوں نے دی رائے
راجدھانی کے لوگوں سے 17مئی کے بعد لا ک ڈاو ¿ن4-کے خاکے پر وزیر اعلیٰ کیجریوال نے رائے مانگی تھی اس کے 24گھنٹے کے اندر 5لاکھ 48ہزار لوگوں نے اپنی اپنی رائے رکھی اس کے علاوہ 4لاکھ 76ہزار واٹس ایپ پر اور ای میل دس ہزار سات سو اور فون پر انتالیس ہزار اور چنج اوور جی پر بائیس ہزار سات سو ملی تجاویز شامل ہیں اب سرکار نے ان تجاویز پر ماہرین سے رائے لے کر دہلی سرکار نے ایک پرستاو بنا کر مرکزی حکومت کو 15مئی کو بھیج دیا انہوں نے یہ اعلان ڈیجیٹل پریس کانفرنس میں کیا تھا ۔دہلی کے لو گ کن کن سیکٹروں میں کتنی نرمی چاہتے ہیں اس پر انہوں نے 13مئی کی شام 5بجے تک اپنی تجاویز بھیجنے کا ٹائم مقرر کیا تھا اس کے بعد لوگوں نے اپنی اپنی رائے رکھی تھی زیادہ تر لوگوں کی رائے تھی مارکیٹ پارک اور پبلک مقامات پر ڈبلیو ایچ او سے منظور سیناٹائزیشن ٹرنل قائم کریں اس کے علاوہ ورک فرام ہوم اور 50فیصد ملازمین کے لئے آڈ ایون کے حساب سے چھوٹ دی جائے ۔مال اور شاپنگ کمپلیکس کو آڈ ایونگ رجسٹریشن و سینی ٹائزیشن پروٹوکول کے حساب سے کھولنا چاہیے ۔ایسے ہی بازاروں میں ایک دن چھوڑ کر ایک دن کھولنے کی چھوٹ ہونی چاہیے اور رہائشی علاقوں میں حالات ٹھیک ناہونے تک تعمیراتی کاموں کی چھوٹ نا دی جائے ۔کوچنگ کلاسوں میں آن لائن کلاسز کی چھوٹ دی جائے ۔جم ،اسپا ،سیلون ،لگزری سامان اور تفریقی چھوٹ نا ہو اور ریستورانت میں بیٹھ کر کھانا کھانے اور بیٹھ کر کھانے کی منائی ہو زیادہ تر لوگوں نے ٹرانسپورٹ ،بجنس ،اسکول ،کالج انڈسٹری کو پٹری پر لانے کی مشورے دئیے ہیں لوگوں نے میٹرو بس ،ٹیکسی چلانے پر بھی رائے دی ہے اس کے علاوہ معیشت کو بحال کرنے کے لئے چھوٹی اور بڑے کارخانوں وغیرہ پر بھی کئی اہم مشورے دئیے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ آج آنے والا لاک ڈاو ¿ن 4-کا خاکہ کیا ہوگا ۔
(انل نریندر)
دوسرے شہر میں بھوکے مرنے سے اچھاہے اپنے گھر چل دیں
کورونا وائرس وبا کے درمیان دیش میں لاک ڈاو ¿ن نافذ ہے اور اس کی سب سے بڑی مار دیش کے کروڑوں مزدوروں پرپڑرہی ہے ۔لاک ڈاو ¿ن کا وقت بڑھتا دیکھ کر پرواسی مزدوروں کاصبر جواب دے گیا ہے وہ اب بس کسی طرح اپنے گاو ¿ں گھر پہونچنا چاہتے ہیں اس کے لئے سفرسہولت کی کمی کی پرواہ کئے بغیرکئی سوکلو میٹر پیدل چلنے کے لئے بھی تیار ہیں ۔کام بند ہونے اور پیسہ ختم ہونے سے دووقت کی روٹی اور مکان کا چڑھتا کرایہ انہیں شہر چھوڑنے پر مجبور کررہا ہے اسیے میں اب وہ کسی طر ح اپنے گھرجانا چاہتے ہیں ایک شخص گڈو پرساد اپنے کنبے اور گورکھپور جانے والے تقریباً نو ساتھیوں کے ساتھ دہلی کے آنند وہار بس اڈے پررکے تھے انہیں لگ رہا تھا کہ یہاں سے آگے جانے کے لئے کوئی بس وغیرہ مل جائےگی کسی سماج سیوی نے ان کے پریوار کو کھانا دے دیا تھا وہ لوگ کھانا کھ ارہے تھے گڈو روہتک سے بدھوار کی صبح 6بجے پیدل چلے تھے ایک بوری و کھانے کا سامان دو بیٹے بیوی کے علاوہ ساتھ میں کچھ مزدور ساتھی بھی تھے وہ روہتک میں مزدوری کاکام کرتے تھے ۔انہوں نے جو کام کیا تھا ٹھیکیدار نے جو کھانا دیاتھا اس کے پیسے کاٹ لئے اب ان کے پاس گزر بسر کے لئے کوئی پیسہ نہیں ہے اس لئے انہوں نے کہا کہ بھوکے مرنے سے تو اچھا ہے اپنے گھر چلے جائیں ۔اس لئے گھر کے لئے نکل پڑے ہیں رکتے ہوئے کسی نا کسی طرح پیدل گورکھپور چلے جائیں گے ایک ایسے ہی مزدور جو مدھیہ پردیش کے کنڈے مہو گاو ¿ں کے باشندے رامو کے چھوٹے بھائی اور ان کی بیوی دھنمنت بائی حیدرآباد میں مزدوری کرتے تھے ۔لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے ٹھیکدار نے کام بند کردیا اور یہ مزدور پریوار روزی روٹی سے محتاج ہو گیا اور وہ بھی اپنی حاملہ بیوی اور دوسال کی بیٹی کے ساتھ پیدل ہی 8سو کلو میٹر پیدل سفر پر نکل پڑے اور پیدل کچھ دور بیٹی کو گود میں رکھا جب بیوی اور بیٹی کی ہمت جواب دینے لگی تو رامو نے بانس سے ہاتھ گاڑی بنائی اور اس پر بیوی کو بٹھا دیا اور ہاتھ سے کھینچتے ہوئے بالا گھاٹ سے چل پڑے اس کے بعد جب وہ بالاگھاٹ کی لانجی سرحد پر پہونچے جہاں وہاں اعلیٰ افسر نتن بھارگو نے انہیں گاڑی سے گھر بھجوایا ایسے ہی ناجانے بہت سے پرواسی مزدوروں کو پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے ممبئی میں تومزدوروں کا تو ایک بار غصہ پھر بھڑک اٹھا ۔ناگواڑا علاقے میں سینکڑوں مزدور سڑکوں پر اتر آئے اور انہیں اپنے گھر یوپی بھیجنے کی مانگ کرنے لگے ایسے ہی گجرات کے کچ علاقے میں بھی مزدوروں کا مقامی انتظامیہ کے خلاف مظاہر ہ ہوا اور روڈ بلا ک کردیا اورپولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا یہی حال صور ت میں ہوا جب ڈھیل دی گئی تو مزدور گھروں کے لئے نکل پڑے اور لاک ڈاو ¿ن 4-میں یہ نرمی اور بڑھ سکتی ہے لیکن پرواسی مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ پتہ نہیں کہ کتنی مزدوری ملے گی اور کتنے دن میں پھر یہاں کورونا کو لیکر ڈر لگتا ہے اس لئے ہم اپنے گاو ¿ں میں ہی رہنا بہت سمجھتے ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...