Translater

25 ستمبر 2015

دہلی میں گورننس کا مسئلہ ہے :سپریم کورٹ کا سخت ریمارکس

جس دن سے جناب اروند کیجریوال نے دوسری مرتبہ وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالا ہے تبھی سے مرکزی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنرسے سوائے ٹکراؤ کے اور کچھ نہیں کیا۔ہربات میں تنازعہ کھڑا کرنا بیکار کے تنازعوں میں الجھا رہنا، وزیر اعظم کو کوسنا ،بس یہی سب کچھ کیا ہے۔ شاید تمام عمر آندولن کاری رہے ہیں انہیں صرف یہی راستہ راس آتا ہے۔ نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ دہلی کی عوام کا عام آدمی پارٹی سے پوری طرح سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ اس کے کئی اشارے بھی ملے ہیں۔ سب سے تازہ اشارے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین کے چناؤ تھے جس میں ان کی اسٹوڈینٹ ونگ کو کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ روز روز نئے تنازعے پیدا کرنے سے عزت مآب سپریم کورٹ بھی تنگ آگئی ہے اس نے پیر کو مرکزی حکومت اور دہلی حکومت کے درمیان جاری رسہ کشی پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ دونوں کے درمیان جاری ٹکراؤ سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔ دہلی میں حکمرانی سسٹم کو لیکر کورٹ نے کہا کہ اسے مرکز اور دہلی سرکار کے درمیان ٹکراؤ کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو پیش آرہی گورننس کی پریشانی کا پتہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دہلی کی عوام گورننس کے مسئلے کا سامنا کررہے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے اس مسئلے میں دخل دینے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ وقت آنے پر عوام ان کے کام کاج کو دیکھ کر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس گوپال گوڑ کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ دہلی میں حکومت اور انتظامیہ کولیکر مسئلہ ہے اور کئی معاملوں کو لیکر مرکز اور دہلی سرکار کے درمیان اتفاق رائے نہیں بن پایا۔ اخباروں میں اس سے متعلق خبریں بھری پڑی ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ دونوں حکومتیں آمنے سامنے بیٹھ کربات چیت کریں۔ بنچ نے کہا کہ اگرحکومت کو لیکر کمی ہے تو عام جنتا وقت آنے پر اس کے کام کاج کو دیکھتے ہوئے اپنا فیصلہ کرے گی۔ عدالت نے یہ تبصرہ ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کیا ہے۔ عرضی گزار کے وکیل سدھارتھ لوتھرا نے ڈویژن کے سامنے کہا کہ دہلی میں حکومت نظام صحیح نہی ہے اس وجہ سے لوگوں کو کئی سنگین پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عرضی میں کورٹ سے اپیل کی گئی کہ مرکز اور دہلی سرکار کو یہ ہدایت دی جائے کہ وہ اپنا کام اس طرح سے کریں کہ لوگوں کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ دونوں آئینی ذمہ داریوں کو پوری نہیں کررہی ہیں۔ لوگ ڈینگو سے مررہے ہیں اور دونوں حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کررہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے یہ سخت ریمارکس اروند کیجریوال اور ان کی حکومت کی کارگزاری کو صحیح بیان کرتی ہے۔ آئے دن لیفٹیننٹ گورنر یا وزارت داخلہ سے الجھنے کے سوائے اس سرکار نے کیا ہی کیا ہے۔ اگر وزارت داخلہ یا لیفٹیننٹ گورنر اتنے ہی اڑنگے باز تھے تو محترمہ شیلا دیکشت نے 15 سال اتنا اچھا انتظامیہ کیسے چلایا؟ ان کے وقت میں بھی این ڈی اے سرکار ہوا کرتی تھی لیکن شیلا جی اس وقت کے وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی سے مل کر اپنے سب کام کروا لیا کرتی تھیں ان کی نیت کام کرانے کی تھی فضول تنازعے کھڑے کرنے کی نہیں تھی۔ امید کرتے ہیں کیجریوال اپنے رویئے کو بدلیں گے اور اپنے حکومت کو ٹھیک ٹھاک طریقے سے دہلی کی عوام کی بھلائی کی طرف لگائیں گے اور ان تنازعوں سے کچھ حاصل ہونا والا نہیں ہے۔
(انل نریندر)

بہار چناؤ :ترقی پر حاوی ہوتے ذات اور سماجی تجزیئے

ایسا اس بار بھی بہار اسمبلی چناؤ میں نہیں لگتا کہ ترقی اور ذات پات اور سماجی تجزیوں پرحاوی ہوگی۔ترقی کی بات کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ بٹوارے سے تو کم سے کم یہی لگتا ہے کہ آخرکار اسے بھی پریوار واد اور ذات پات جوڑ توڑ کے سامنے جھکنا پڑا ہے۔ بہار میں سیاسی زمین کی ذات پات کی حقیقت کوترقی کے نام پر توڑنے کا خطرہ بھاجپا نے قطعی نہیں اٹھایا۔ سیاسی حریف مہاگٹھ بندھن میں مضبوط یادو ۔مسلم تجزیئے کو دیکھتے ہوئے بھاجپا نے بھی اس بار دلت ، مہا دلت تجزیہ کرنے کے ساتھ یادو میں بھی سیند لگانے کی کوشش کی ہے۔ بھاجپا نے اب تک 160 میں سے153 سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔پارٹی کے اندازے کے مطابق اس میں 30 راجپوت،22 یادو،19 ویشیہ،18 بھوم یار، 14برہمن، 6 کشواہا اور3 کائستھ،3 کرمی، 2 مسلمان کے ساتھ 21 درجہ فہرست اور1 شیڈول قبائل کا امیدوار شامل ہے۔ پارٹی نے انتہائی پسماندہ طبقے سے امیدوار بنائے ہیں۔ اس میں دانگی،چندرونشی، نیشاد، نیتیا، چھانو، کائستھ و گنگورا فرقے کے امیدوار شامل ہیں۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب بھاجپا نے اتنی بڑی تعداد میں یادو امیدوار اتارے ہیں۔ پارٹی کا دعوی ہے کہ یہ امیدوار لالو یادو کے ووٹ بینک میں سیندلگانے میں کامیاب رہیں گے۔ پارٹی اپنے دو ساتھیوں رام ولاس پاسوان و جیتن رام مانجھی کے ساتھ مہا دلت کارڈ کھیلنے جارہی ہے۔ اوپیندر کشواہا گوڑ ،یادوپسماندہ طبقے میں این ڈی اے کی مدد کریں گے۔ پارٹی کے اندر بڑے لیڈروں کی ناراضگی نہ رہے اس لئے ان کے رشتے داروں کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ ایم پی سی پی ٹھاکرو اشونی چوبے کیساتھ پارٹی کے کئی لیڈروں کے بیٹے اور دیگر رشتے داروں کو چناوی دنگل میں اتارا گیا ہے۔ پاٹلی پتر کی لڑائی میں بھاجپا اپنے برہماستر کا استعمال پوری شدت سے کرنے پر کچھ حد تک مجبور ہی۔ کانٹے کی اس لڑائی میں بھاجپا اپنا حکم کا اکا یعنی پردھان منتری نریندر مودی کا بھرپور استعمال کرے گی۔ بھاجپا یا این ڈی اے کے چناؤ کمپین کے مرکز میں تو نریندر مودی پہلے ہی ہیں اب پانچ مرحلوں کے بہار اسمبلی چناؤ کے دوران ہر طرف نریندر مودی ہی کا جاپ رہے گا۔ممکن ہے 2 اکتوبر سے ہر دوسرے دن وہ بہار میں کسی نہ کسی اسمبلی حلقے میں چناوی ریلی کو خطاب کریں گے۔ یہ تقریباً طے ہوچکا ہے کہ وہ20 سے22 ریلیاں کریں گے۔ بھاجپا میں شروع سے ہی یہ حکمت عملی تھی کہ بہار اسمبلی چناؤ کسی وزیر اعلی کے چہرے کو آگے کئے بغیر مودی کے نام پر ہی چناؤ لڑا جائے گا۔ چناؤ اعلان سے پہلے جس طرح مودی کی علاقائی ریلیوں میں جوش دکھائی دیا تھا اس کے بعد بہار بھاجپا نے مودی سے زیادہ وقت دینے کی مانگ کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مودی بہار چناؤ کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے حامی بھر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق 2 اکتوبر کو پہلی ریلی کر سکتے ہیں دوررس اثر چھوڑنے والی۔ بہار چناؤپر نہ صرف بھاجپا کا بلکہ مودی کا سیاسی مستقبل بھی کافی حد تک ٹکا ہوا ہے۔ تازہ سرووں کے مطابق اس بار کانٹے کی ٹکر ہے۔ اس ٹکر میں فی الحال نتیش لالو گٹھ بندھن حاوی ہے۔ بھاجپا کو امید ہے ذات پات تجزیوں کے مطابق ٹکٹوں کے بٹوارے کے وقت نریندر مودی کی ریلیاں بھاجپا کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔ دراصل بھاجپا کو لگ رہا ہے کہ بہار میں نریندر مودی ہی سب سے بڑے فیکٹر ہیں۔ پاٹلی پتر کی جنگ کو ہر حالت میں جتانے کا بیڑا وزیر اعظم اپنے کاندھوں پر اٹھانے پر راضی ہوگئے ہیں اس لئے لوک سبھا چناؤ کے بعد مودی کا کسی بھی ریاست کے چناؤ میںیہ اب تک کی سب سے سنجیدہ کمپین مہم ہوگی۔
(انل نریندر)

24 ستمبر 2015

ڈائن اور کالا جادو کا خوف : اندھوشواس یا حقیقت

آئے دن یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلاں گاؤں میں ایک عورت کو مار دیا کیونکہ گاؤں والے سمجھتے تھے کہ وہ ایک ڈائن ہے اور کالا جادو کرتی ہے۔ کالا جادو صرف بھارت میں ہی نہیں دنیا کے کئی ملکوں میں کئے جانے کی بھی خبریں ہیں۔ تقریباً ہر مذہب میں اس کا کسی نہ کسی شکل میں ذکر ہے۔بھارت میں اسے تانترک علاج بھی کہا جاتا ہے۔ تانترک بڑی تعداد میں ہمارے دیش میں موجود ہیں لیکن نتیجے کی چاہ چاہے وہ غریب ہو یا امیر ہو ان تانترکوں کی طرف راغب ہوتے ہیں اور بلی کی بھی خبریں آتی رہتی ہیں۔2014ء میں بھارت کی 13 ریاستوں میں ڈائن ٹھہراکر تقریباً160 قتل ہوئے ہیں ان میں سے32 معاملے اکیلے اڑیسہ کا ہیں اور یہ اعدادو شمار سرکاری ہیں۔ حالیہ برسوں میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔سال2000 سے اب تک2300 لوگوں جن میں زیادہ تر تعداد عورتوں کی ہے ایسے معاملوں میں مارے گئے ہیں۔ اگست میں ہی جھارکھنڈ کے ایک گاؤں میں پانچ عورتوں کو ان کے گھر سے گھسیٹتے ہوئے باہر لایا گیا اور ڈائن بتاکر ان کو اجتماعی طور پر ہلاک کردیا گیا۔ اس معاملے میں اب تک 27 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گاؤں کی پنچایتیں مبینہ ڈائنوں کو مارنے سے لیکر ان کی آبروریزی کرنے ، اجتماعی اذیتیں دئے جانے اورزہریلے کھانے دینے جیسی سزائیں سناتے ہیں۔ ایک شخص جب جنگل میں جان بچانے کے لئے چھپا ہوا تھا تب اسے اپنے گھروالوں کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ وہ کچھ گھنٹے اس کی زندگی کے سب سے ڈراونے اور طویل گھنٹے ہیں۔ گنیتا نام کے شخص نے پوری رات جنگل کی تاریکی میں گزاری۔ اگلی صبح پاس کے ایک گاؤں کے باشندے نے اسے تلاش کیا اورگنیتا کو پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس افسر نے بتایا کہ اس معاملے میں 10 لوگوں کو اب تک گرفتار کرلیا ہے۔گنیتاکو پولیس کی جانچ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ بغیر کسی اسکولی تعلیم اور کنبے کے مستقبل کو اندھیرے میں دیکھائی پڑتا ہے۔بلا تاخیر مشرا جو کے ایک مقامی این جی او کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ہیں ، کو اس شخص کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے نہ کبھی یہ شخص پہلے جیسی زندگی جی سکے گا اور نہ ہی کبھی واپس لوٹ کر اپنے گاؤں جاسکے گا۔گنیتا جانتا ہے کے ایک سال بعد 18 سال کا ہوجانے پراسے گھر جانا ہے۔ اس نے بتایا میں کام کرنا شروع کروں گا اور میں اور میرا چھوٹا بھائی یہاں سے دور کسی جگہ پر جاکر رہنے لگیں گے۔17 سال کے گنیتا منڈا کی حالت میں بہتری تو ہے لیکن آج بھی اسے اپنے گھروالوں کی چیخ سنائی دیتی ہے۔ گنیتا کے خاندان کو ڈائن قرار دے کر مار ڈالا گیا تھا۔ گزشتہ جولائی کچھ لوگوں کے ایک گروپ نے گھر میں گھس کر گنیتا کے گھر والوں پر حملہ کردیا۔ حادثے میں اس کے ماں باپ اور چار بھائی بہن مارے گئے۔ گاؤں والوں کے مطابق گینتا کی ماں ایک ڈائن تھی۔مقامی بچوں میں پھیل رہی بیماری کا الزام گنیتا کی ماں پر لگا کر پورے خاندان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ حملہ اپنی نوعیت کا اکیلا معاملہ نہیں ہے۔ ہر سال بھارت کے دیہات میں ایسے کئی معاملے سامنے آتے ہیں۔ اندھوشواس اور ناواقفیت کے سبب ہورہے ایسے واقعات کو روکنے کے لئے مقامی انتظامیہ کی ناکامی باعث تشویش ہے۔ گنیتا نے بتایاکے وہ میری ماں پر چھوٹے بچوں پر کالا جادو کرنے کا الزام لگا رہے تھے۔ اڑیسہ میں پچھلے سال ایک قانون بھی پاس کیا گیا جس میں ڈائن پرتھا کے سبب ہورہی اموات کو روکنے اور اس معاملے میں ہورہے جرائم کو کم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ دیگر ریاستوں میں بھی اس طرح کے قانون ہیں۔ آسام میں پچھلے مہینے ہی ایک نیا قانون نافذ کیا گیا جس میں کسی کوڈائن کہنے پر جیل کی سزا اور جرمانہ ہے۔ صرف قانون بنانے سے مسئلے کاحل شاید ہی ہو۔ اندھوشواس سے نمٹنے کے لئے بہترتعلیم اور بیداری کی ضرورت ہے۔ مہذبی پیشواؤں کو بھی اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ دیہاتی آنچل میں بہتر تعلیم سے بیداری بڑھے گی اور اس دقیانوسی کاخاتمہ بھی ہوسکے گا۔
(انل نریندر)

اور یہ جنگ اسلام کے تحفظ کیلئے جہادی لڑ رہے ہیں

پاکستان کے لئے دہشت گردوں کے خلاف چلائی جارہی مہم ’ضرب غضب‘ کافی مہنگی ثابت ہورہی ہے۔ پیشاور میں 11 ہزار فوجی تو صرف اسکولوں کی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ پیشاور میں ہی ایک فوجی اسکول پر 16 دسمبر 2014ء کو دہشت گردوں نے 7گھنٹے تک134 طلبا سمیت150 لوگوں کو مار ڈالا تھا۔ پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں بتایا تھا کہ طالبان کے خلاف آپریشن پر قریب82.62 ارب پاکستانی روپے خرچ ہوں گے تو صرف بے گھر لوگوں کو بچانے پر ہی تقریباً83.48 ارب پاکستانی روپے کا خرچہ آئے گا۔ ایسے میں پاکستان نے امریکہ سے مدد 15 فیصدی بڑھانے کی گزارش کی ہے۔ امریکہ پچھلے 12 برسوں میں پاکستان کو28 ارب ڈالر (تقریباً2922 ارب پاکستانی روپے) کی مدد کرچکا ہے۔پچھلے ہفتے پاکستان کے سب سے بڑے شہر پیشاور میں واقع پاکستانی ایئرفورس کے اڈے پر پاکستانی دہشت گردوں نے زبردست حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک کیپٹن سمیت 29 لوگوں کی موت ہونے کی خبر ہے۔ ایئر بیس کے علاوہ دہشت گردوں نے وہاں کی ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا۔ فوج نے بھی جوابی کاروائی میں 13 دہشت گردوں کو مار گرایا تھا۔ بتا دیں کہ فوجی اسکول حملے کے بعد یہ دوسرا بڑا حملہ تھا۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان محمد خراسانی نے ای میل کے ذریعے بتایا کہ ہماری فدائی یونٹ نے یہ حملہ کیا ہے۔ وہیں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوا نے ٹوئٹ کیا اور آتنکی الگ الگ گروپ بنا کر ایئر بیس میں گھسے تھے۔ انہوں نے کیمپ کے اندر بنی مسجد میں نماز ادا کررہے 16 لوگوں کو مار ڈالا تھا۔ جوابی کارروائی میں سکیورٹی فورس نے بھی 13 آتنکیوں کو مار ڈالا۔ یہ حملہ پاکستان کے فوجی تنصیبات میں ہوئے بڑے آتنکی حملوں میں سے ایک ہے۔ جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کے گروپ نے پہلے سکیورٹی چوکی پر حملہ بولا اس کے بعد ایئر بیس میں گھس گئے اور جم کر فائرننگ شروع کردی۔ پاکستان کے کسی فوجی تنصیب میں ہوئے اس بڑے حملے میں دھماکے سے بھری جیکٹ پہنے اور ہاتھ سے چلائے جانے وائے گرینیٹ مور ٹار اور اے کے 47 رائفلوں سے مسلح تھے۔ خراسانہ نے دعوی کیا کہ دہشت گردوں نے قریب80 سکیورٹی ملازمین کو گھیر لیا جن میں سے 50 تو مارے گئے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو پائی تھی۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا دیش سے صفایا کردیا جائے گا۔ پیشاور میں گھماسان جنگ ہورہی ہے۔ شہر کے دو بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ وہاں رک رک کر فائرنگ کی آوازیں راتوں رات سنی جاتی ہیں۔ شہر میں کشیدگی بنی ہوئی ہے اور ہر جگہ سکیورٹی فورس تعینات ہے۔ بڑے دکھ سے پوچھنا پڑتا ہے کہ اسلام کے تحفظ کیلئے یہ کیسی جنگ ہے۔ جہاد ہے جس میں اسکول کے معصوم بچوں کو مسجد میں نماز پڑھ رہے مسلمانوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے؟
(انل نریندر)

23 ستمبر 2015

تشدد کے درمیان نیپال بنا سیکولر مملکت جمہوریہ

آخرکار 7 برسوں کی جدوجہد کے بعد نیپال کو اپنا نیا سیکولر ، جمہوری اور مملکت آئین مل گیا ہے۔نیپال میں ایتوار کو نیا آئین نافذ ہوگیا۔ یہ دن نیپال کیلئے یادگار ضرور رہے گا کیونکہ اسی دن اس دیش نے وہ آئین نافذ کیا جس کا انتظار اسے دہائیوں سے تھا۔ یہ نیپال کا پہلا آئین ہے جسے کانسٹیٹیوشنل اسمبلییعنی چنے ہوئے نمائندے نے تیار کیا ہے۔ آئین کی تشکیل میں حالانکہ تنازعہ تعطل اور تاخیر کافی ہوئی لیکن اس آئین نے دنیا کے ایک واحد ہندو دیش کو سیکولر مملکت میں بدل دیا اور اس میں فیڈرلازم کو بھی شامل کیا گیا ہے، تو یہ کوئی چھوٹا کارنامہ نہیں ہے۔ آخر جمہوریت میں ہی وہ آواز ہے جسے سبھی کو اظہار آزادی ملتی ہے۔ آئین نافذ ہونے کے ساتھ ہی نیپال میں ہوئی نئی صبح کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ حالانکہ اس کو بنانے میں کافی محنت و مشقت کرنی پڑی۔پبلک ریفرنڈم میں آئین میں نیپال کو اعلانیہ طور پر ہندو دیش بنانے کی وکالت کی گئی تھی لیکن لیڈروں اور اہم پارٹیوں نے اس کو نظر انداز کر سیکولر دیش کا اعلان کردیا۔ اس کی زبردست مخالفت ہورہی ہے۔ 
بھارت سے ملحق علاقوں کے مدھیشیوں کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ ان کی الگ پردیش بنانے کی مانگ کو ان سنا کردیا گیا۔ ساتھ ہی جنوبی نیپال میں مقیم چارو جن جاتیوں کے مطالبات کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ کثیر پارٹی جمہوریت میں اس وقت مدھیشیوں کی آواز کافی مضبوط ہے۔ اس مضبوط آواز کو دبا کر نیپال سب کے ساتھ انصاف کیسے کرسکتا ہے اور سب کا وکاس کیسے پورا کرے گا۔ یہ چیلنج سامنے ہے۔ اب تک کے تشدد میں 40 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ تشدد کی آگ امید کی جاتی ہے عنقریب شانت ہوجائے گی۔پڑوسی کے ناطے اگر نیپال شورش میں رہتا ہے تو اس کا اثر تو ہم پر بھی پڑے گا۔ آئین میں نیپالی کو قومی زبان بنایاگیا ہے اور گائے قومی جانور ہوگی۔ راجیوں کو اپنی زبان چننے کی آزادی دی گئی ہے ساتھ ہی کمزور طبقات کو ریزرویشن کے ساتھ ساتھ ہی خاص رعایت کی بھی سہولت کا خیر مقدم لائق تحسین ہے۔ نیپال سیاسی طور سے ایک مضبوط دیش ہے جس میں پڑوسی چین کا کافی دخل ہے۔ پاکستان بھی نیپال میں دخل اندازی کرتا رہتا ہے وہیں آئی ایس آئی کی موجودگی بھی ہے۔ نیپال میں یہ اہم واقعہ بھارت کیلئے پریشان کرنے والا اس لئے بھی ہے کہ احتجاجی مظاہرے جن علاقوں میں ہورہے ہیں وہ بھارت سے لگے ہوئے علاقے ہیں۔نئے آئین کے ذریعے نیپال کو ترقی کی نئی عبارت لکھنے کا جو موقعہ ملا ہے اسے وہ تحریکوں اور عدم استحکام کے ذریعے گنوا نہ دیں، اس کا خیال رکھنا ہوگا۔ نیپال کی عوام کو بہت بہت مبارکباد۔
(انل نریندر)

بہار اسمبلی چناؤ کمپین کی جھلکیاں

بہار میں اسمبلی چناؤ کمپین آہستہ آہستہ شباب پر پہنچنے لگی ہے ۔ بہتری کے لئے اتری بھاجپا کے سامنے چنوتیوں کا پہاڑ ہے تو نتیش لالو اتحاد کے سامنے بھی مصیبتیں کم نہیں ہیں۔ دونوں اتحاد میں جم کر بغاوت بھی ہورہی ہے۔ دونوں کی سردردی بڑھانے کیلئے سپا سمیت 6پارٹیوں نے تیسرا مورچے کا اعلان کردیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اسدالدین اویسی اپنی ہی ہانگ رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور بھاجپا سمیت دوسرے مہا گٹھ بندھن کے ذریعے اسمبلی چناؤ کی کشتی پار کرنے میں جٹے ہیں ۔ وہیں بہوجن سماج پارٹی بغیر کسی اتحاد کے اکیلے اپنے بوتے پر چناؤ لڑ رہی ہے۔لوک سبھا چناؤ کے بعد اچھے نتیجوں کی امیدیں لگائی جارہی ہیں۔پارٹی کو بہار میں بہتر نتیجے آنے کی امید ہے۔ خاندانوں میں بغاوت انتہا پر ہے۔ سیاست میں رشتوں کی گہما گہمی اس بار نئے ریکارڈ بنانے کی تیاری میں ہے۔ بہار چناؤ میں مہا گٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد سپا کی وہاں سبھی سیٹوں پر چناؤ لڑنے کی تیاریوں کے بیچ پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو کے پوتے تیج پرتاپ یادو نے کہا ہے کہ اگر پارٹی کی اجازت ہوئی تو وہ وہاں جائیں گے اور ضرورت پڑی تو سسر لالو پرساد یادو کے خلاف بھی چناؤ کمپین کرنے سے قباحت نہیں کریں گے۔ اسی برس فروری میں لالو کی لڑکی راج لکشمی سے ان کی شادی ہوئی ہے۔ 
سیاست میں ہم نے اکثر دیکھا ہے رشتے داری کی بھی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی میں ٹکٹ بٹوارے کو لیکر رام ولاس پاسوان کے کنبے میں بھی خانہ جنگی کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ بھائی، بھتیجہ اور بھانجے کی بیوی کو ٹکٹ دینے کے بعد اب پاسوان کے دو داماد ٹکٹ کے لئے گھمسان مچا رہے ہیں۔ پاسوان کے بڑے داماد و دلت سینا کے پردیش صدر انل کمار سادھو نے تو یہاں تک دھمکی دے دی ہے کہ اگر انہیں ٹکٹ نہیں ملا تو ان کی قیادت میں دلت سینا بہار کی اسمبلی کی سبھی 243 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی۔ ادھر اویسی جسے بھاجپا کا ایجنٹ مہا گٹھ بندھن بتا رہا ہے، نے نتیش۔ لالو مہا گٹھ بندھن پر زبردست حملہ بولا ہے۔
انہوں نے کہا اس سیکولر مہا گٹھ بندھن میں دم نہیں ہے۔ ساتھ ہی بھاجپا کے ساتھ کسی خفیہ معاہدے سے انکار کیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اویسی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی بہار کے سیمانچل علاقے میں چناؤ جیتنے کو لیکر کافی سنجیدہ ہے۔ آر جے ڈی چیف اور سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو نے ریاستی اسمبلی چناؤ میں این ڈی اے کی طرف سے وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار اعلان نہ کئے جانے پر بھاجپا پر طنز کرتے ہوئے اسے بغیر سر والا چکن قراردیا ہے۔ بھاجپا بنا سر والے چکن کی طرح بھاگ رہی ہے۔ مرکزی سرکار کے غیر ملکی سرمایہ کاری ماڈل کے پہئے کے نیچے کسان ، غریب ، مزدور، دلت کچلنے جا رہا ہے۔ بہار چناؤ کمپین آہستہ آہستہ شباب پر پہنچ رہی ہے۔
(انل نریندر)

22 ستمبر 2015

فائلیں تو کھل گئیں لیکن نیتا جی کی موت کی گتھی نہ سلجھی

نیتا جی سبھاش چند ر بوس سے متعلق سبھی فائلوں کو عام کرنے میں بیشک ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس سرکار نے ایک ہمت افزا قدم اٹھایا ہے لیکن اس کے مقصد پر قیاس آرائیاں ہونا فطری ہی ہے۔ اس قدم کے پیچھے مقصد کیا واقعی نیتا جی سے منسلک معمہ خاص کر ان کے آخری دنوں سے وابستہ معموں سے پردہ ہٹے گا یا یہ ممتا کی ایک سیاسی چال ہے، کیونکہ مغربی بنگال اسمبلی چناؤ کے لئے صرف 6ماہ باقی ہے؟ 121744 صفحات والی 64 فائلیں کولکتہ کے پولیس میوزیم میں رکھے جانے کے بعد اس قدم کو ممتا نے تاریخی قرار دیا ان فائلوں سے یہ اشارہ تو ملتا ہے کہ وہ شاید 1945کے بعد بھی زندہ تھے لیکن ان میں نیتا جی کی آخری دنوں کے بارے میں یا ان کی موت کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ایسے میں آج بھی ان کی موت کی گتھی بے سلجھی ہے۔ اس سے اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کہیں یہ فائلیں کھودا پہاڑ نکلا چوہیا والی کہاوت تو نہیں ہے۔ قاعدے سے آزادی کے بعد ہی سبھاش چندر بوس سے وابستہ خفیہ معلومات عام ہوجانی چاہئے تھی لیکن ایسا نہ کرکے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے نیتا جی کے بارے میں برطانوی دور کی پالیسی کو قائم رکھا۔ ان کی دلیل تھی کہ نیتا جی کی سچائی سامنے آنے سے کئی دیشوں سے ہمارے رشتے خراب ہوں گے۔ اسی سے یہ خیال پیدا ہوا کہ نہرو جی کے نیتا جی کے ساتھ رشتے خوشگوار نہیں تھے۔ اور وہ ان سے منسلک سچ کو بتانا نہیں چاہتے تھے یہ اس لئے بھی کہنا پڑتا ہے کہ 1945میں تائیوان میں ہوئے ہوائی حادثے میں سبھاش چندر بوس کی موت کی اطلاع پر دیش نے نہ صرف پوری طرح یقین نہیں کیا بلکہ آزادی کے دور کی وہ اکلوتی شخصیت تھی جن کے بھیس بدل کر لوٹنے کے بارے میں متعدد کہانیاں وقتا فوقتا سامنے آتی رہی ہیں۔ جن کی سچائی کی بھی کبھی تصدیق نہیں ہوپائی۔ نیتا جی کا سچ جاننے کے لئے تین کوششیں بھی ہوئی۔ ان میں سے مکھر جی کمیشن کا نتیجہ تھا کہ ان کی موت 1945میں ہوائی حادثے میں نہیں ہوئی تھی۔ اب مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی نے بھی کہا ہے کہ ان فائلوں کو پڑھنے سے ایسا لگتا ہے کہ سبھاش چندر بوس 1945 کے بعد بھی زندہ تھے۔ ان کا دیہانت کب اور کیسے ہوا؟ کیا ان کی موت کسی سازش کاحصہ تھی؟ کیاانہوں نے بھارت میں گمنامی کی زندگی گزاری؟ کیا اس وقت کے حکمرانوں نے نیتا جی کو نظرانداز کیا اور وہ ان کے رشتے داروں سے چوکنا تھے ان سوالوں کے جواب کا ہمیں ان فائلوں سے نہیں مل پایا؟ ممکن ہے کہ سبھی سوالوں کا صحیح جواب شاید مرکزی سرکار کے پاس موجودہ فائلوں سے ملیں۔ ممتا بنرجی نے اب گیند مرکزی سرکار کے پالے میں ڈال دی ہے۔ ممتا کاکہنا ہے کہ ہم نے شروعات کی ہے لوگوں کو سچائی معلوم ہونی چاہئے۔ مرکز کو بھی اپنے پاس موجود نیتا جی سے متعلق فائلیں عام کرنی چاہئے انہوں نے مرکز پر سوال داغتے ہوئے کہا کہ اس سے کچھ پوشیدہ نہیں رہے تو اس فائلوں کو عام کیوں نہیں کرتے؟ ممتا نے کہا کے آج کا دن تاریخی ہے ہماری سرکار نے نیتا جی سے متعلق سبھی فائلوں کو عام کردیا ہے۔ لیفٹ فرنٹ سرکار نے اپنے34 برسوں کے عہد میں یہ نہیں کیا۔ ممتا کو اب اقتدار میں 4برس سے زیادہ ہوگئے ہیں اور اس سے پہلے 34سال جیوتی باسو لیفٹ فرنٹ کی حکومت رہی ہے۔ اس دوران اس کی جانچ کیوں نہیں ہوئی۔ اس کا بھی جواب جنتا کو چاہئے؟ سب سے اہم اشو ہے کہ نیتا جی کا سچ دیش اسے جاننا چاہتا ہے اس لئے مرکز کو بھی تمام دوسری تشویشات کو درکنار کراس کے پاس موجود سبھی فائلوں پر سے خفگی پر سے پردہ ہٹا دیناچاہئے۔ اپنے اس داؤں سے ممتا نے جہاں بھاجپا کے سیاسی ایجنڈے کو اپنے نام کرلیا ہے۔ وہی مودی سرکار پر کیندر کے پاس پڑی نیتا جی کے بارے میں 130 فائلوں کو سامنے لانے کے لئے سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ نیتا جی کے تئیں اس وقت اور اس کے بعد جو حکمرانوں کا نظریہ ا ور رویہ دیش اور عہد اور حالات کے حساب سے شاید موزوں ہوسکتا تھا۔ لیکن اب اس کا کوئی مطلب نہیں کہ اسی بہانے سچائی پر پردہ پڑا رہے سیاسی پارٹیاں اور عام جنتا کی سنجیدگی پر کوئی شبہ اب نہیں ہوناچاہئے۔
(انل نریندر)

پاکستان دنیا کا سب سے خطرناک دیش ہے

دی انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کاکہناہے کہ سال 2014میں نیوز میڈیا کے لئے پاکستان دنیا کا سب سے خطرناک دیش ثابت ہواہے۔ایمنٹسی انٹر نیشنل کے مطابق سال 2008 سے 2014کے بیچ پاکستان میں 34صحافی مارے گئے۔ وزیراعظم نواز شریف کی اس یقین دہانی کے باوجود صحافیوں کو بھرپور سیکورٹی دی جائے گی۔ ان پر حملے جاری ہیں گزشتہ دنوں پاکستان کے میڈیا ملازمین پر بڑھتے حملوں کے بیچ بندوقچیوں نے پاکستان کے ایک بڑے صحافی کو ان کے گھر کے باہر ہی مار ڈالاتھا۔جیو نیوز اور سما ٹی وی سمیت مختلف نیوز چینلوں سے وابستہ رہے 42 سالہ آفتاب عالم بدھوار 9 ستمبر کو اپنے بچوں کو گھر چھوڑ کر شہر کے نارتھ سیکٹر سی( کراچی) علاقے میں اپنی کار سے جارہے تھے تبھی موٹر سائیکل سوار دو بندوقچیوں نے انہیں گولی کانشانہ بنایا۔ عالم کے سرگردن اورسینے میں کئی گولیاں لگی اس کے بعد فورا ہی عباسی شہید ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرو ں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ سینئر پولیس افسر منیر شیح نے بتایا کہ یہ نشانہ بنا کر قتل کرنے کامعاملہ ظاہر ہوتا ہے اسی ہفتے ایک دن کے اندر صحافیوں و میڈیا ملازمین پر تین الگ الگ حملے ہوئے جن میں دو افراد مارے گئے اور دوبری طرح زخمی ہوئے۔ کراچی میں جیو نیوز کی وین پر ہوئے حملے میں ایک سٹیلائٹ انجینئر مارا گیا جب کہ ڈرائیور بری طرح زخمی ہوگیا۔ اس واردات کے چند گھنٹوں کے اندر اسی شہر میں جیو نیوز کے ہی صحافی آفتاب عالم کو مار ڈالا گیا۔ ادھر پشاور میں پی ٹی سے وابستہ صحافی کو ایک نامعلوم بندوقچی نے اڑا دیا۔ سال 2008میں جب سے پاکستان میں جمہوریت کی دوبارہ بحالی ہوئی ہیں، پاکستانی میڈیا نے فوج اور قومی سیکورٹی ایجنسیوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کارناموں کا باہمت خلاصہ کیا ہے اس کا خمیازہ بھی اسے بھگتنا پڑا ہے۔ جیو نیوز نے جب یہ انکشاف کیا کہ اس کے اسٹار اینکر حامد میر پر 2014میں ہوئے قاتلانہ حملے کے پیچھے آئی ایس آئی کاہاتھ تھا تو افسران جیو نیوز کو بند کرنے تک کی دھمکی دے دی تھی۔ پاکستانی طالبان جیسے آتنکی گروپوں کے نشانے پر پتر کار ہیں اور کئی پاکستانی صحافی یہ مانتے ہیں کہ نوکری سے نکالے جانے اورمارے جانے کے خوف سے وہ کافی کاٹ چھانٹ کر خبر بناتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے وعدہ کیا ہے کہ کراچی کو جرائم پیشہ اور دہشت گروپوں سے آزاد کرانے کا کام جاری ہے اور اگلے دو سال کے اندر یہ شہر پوری طرح سے محفوظ ہوجائے گا۔ شریف اس سے بہتر کرسکتے ہیں۔ دوسال کاوقت ایک لمبا انتظار ہے اور صرف آتنکی ہی پریس کی آزادی کے لئے خطرہ نہیں ہے جب تک صحافی کو دھمکانے والے فوجی افسر، آئی ایس آئی اور دیگر ایجنسیوں کی ذمے داری طے نہیں ہوتی تب تک نواز شریف کے وعدے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
(انل نریندر)

20 ستمبر 2015

غلام کشمیر میں چین کی تعمیر شدہ سرنگوں کی شروعات

پاکستان کا آج تمام دنیا میں دوست نمبر ون ہے چین۔چین بھی پاکستانی کو حقیقی بھائی کہتا ہے۔پاک مقبوضہ کشمیر میں پاکستان نے ہزاروں مربع میل چین کو بیچ دیا ہے۔ آج کی تاریخ میں پی او کے میں 5 ہزار سے زیادہ چینی فوجی کام کررہے ہیں اور تعینات ہیں۔ادھر بھارت۔ پاک سرحد پر پاک لگاتارفائرننگ کررہا ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہا ہے تو ادھر لداخ کے علاقے میں چین گھس رہا ہے۔ کیا ہے محض اتفاق ہے یا دونوں بھائیوں کی سوچی سمجھی سازش؟ غلام کشمیر کے گلگت۔ بلتستان علاقے میں پاکستان نے چین کے تعاون سے پانچ سرنگوں کی تعمیر کی ہے۔
تقریباً27.5 کروڑ ڈالر کی لاگت سے بنی ان پانچ سرنگوں کو پاکستان۔چین میتری سرنگ کا نام دیا گیا ہے۔ ان سرنگوں کے ذریعے پاکستان گلگت۔ بلتستان کے راستے چین سے اسٹریٹیجک سڑک مارک سے جڑ گیا ہے۔ پانچوں سرنگوں کی لمبائی 7 کلو میٹر ہے جو24 کلو میٹر لمبی قراقرم شاہراہ پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے سوموار کوپاک کو چین سے جوڑنے والی ان پانچ سرنگوں کا افتتاح کیا۔ ان سرنگوں کو چین کے تعاون سے تین سال میں تیار کیا گیا ہے۔ ان کے ذریعے پاکستان نے اتر میں واقع قراقرم شاہراہ کے قریب گلگت۔ بلتستان علاقے کے ہوجاویلی میں واقع اٹاباد جھیل سے آواجاہی بحال ہوسکے گی۔ اس کے46 ارب ڈالر کی لاگت والے چین ۔ پاکستان اندرونی گلیار پروجیکٹ سے جوڑا جائے گا۔ 
ریڈیو پاکستان کے مطابق ان سرنگوں کی تعمیر24 کلو میٹر لمبے قراقرم شاہراہ کا حصہ ہے جس میں 2 بڑے اور78 چھوٹے پل بھی شامل ہیں۔ ان سرنگوں کی تعمیر نیشنل ہائیوے اتھارٹی نے چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے تعاون سے کی ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان سڑک راستے سے رابطہ بھی بحال ہوجائے گا۔کے کے ایچ کو 46 بلین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے اہمیت کے حامل پاکستان ۔چین معاشی گلیارے سے بھی جوڑنے کی اسکیم ہے۔ بھارت گلگت۔بلتستان علاقے کو اپنا حصہ مانتا ہے اور یہاں کسی بھی طرح کی تعمیر یا سرگرمی کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ بھارت کے لئے ان اہم علاقوں میں چین کی موجودگی خطرہ پیدا کرتی ہے۔ اس سے بھارت کو دوہری مار ہے ایک تو پاکستان بھاری ہوجاتا ہے اور دوسرا چین کبھی بھی ہمیں دھمکاسکتا ہے۔ بھارت نے ابھی تک پی او کے علاقے کے بارے میں کوئی ٹھوس حکمت عملی تیار نہیں کی ہے۔ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ اب وہاں چین بھی گھس گیا ہے۔ ہماری سردردی اور بڑھ گئی ہیں۔
(انل نریندر)

اور اب بھرشٹاچار کے الزام میں دو جج گرفتار

بھارت میں بھرشٹاچار کی جڑیں اتنی گہری ہوچکی ہیں کہ کوئی بھی ایسا میدان نہیں بچا جو اس کی چپیٹ میں نہ آیا ہو۔ چاہے وہ عدلیہ ہو اور چاہے وہ افسر شاہی ہو۔پہلے بار کرتے ہیں نچلی عدلیہ کی۔ گجرات میں نچلی عدالت کے دو ججوں کو گجرات ہائیکورٹ کے ویجی لنس ڈپارٹمنٹ نے بھرشٹاچار مخالف ایکٹ کے تحت گرفتار کیا ہے۔ ان دونوں کو سال2014 میں عدالت میں تقرری کے دوران معاملوں کے نپٹارہ کرنے کے لئے رشوت لینے کے الزام میں گزشتہ ہفتے سسپنڈ کردیا گیا تھا۔ 
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ فرسٹ کلاس رینک کے دونوں ججوں اے ڈی آچاریہ اور ٹی ڈی انعامدار کو ولساڑ کی ایک عدالت نے شکروار کو14دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔یہ دونوں من موافق فیصلہ سنانے کیلئے پیسے کے لین دین پر چرچا کرتے ہوئے مبینہ طور پر کیمرے میں قید کئے گئے تھے۔ ہائی کورٹ کی ویجی لنس بینچ نے واپی کے وکیل جگت پٹیل کی شکایت پر معاملے میں جانچ شروع کی تھی۔ ہائی کورٹ میں پٹیل نے الزام لگایا تھا کہ یہ دونوں جج بھرشٹاچار میں شامل ہیں۔ پٹیل کی شکایت کے مطابق دونوں ججوں کے عدالتی کمرے میں خفیہ کیمرے لگائے گئے تھے جس میں فروری سے اپریل 2014 کے تینوں مہینوں کی ان کی سرگرمیاں ریکارڈ کرلی۔ ریکارڈنگ میں انہیں فون پر وکیلوں سے اور لوگوں سے معقول حکم سنانے کیلئے پیسے کے لین سین پر بات چیت کرتے سنا گیا۔ دونوں کو تب سسپینڈ کیا گیا جب ویجی لنس سیل نے 10 لوگوں کے ساتھ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ ان لوگوں میں ایک اسٹینوگرافر اور ایک کلرک اور 8 وکیل شامل ہیں جنہوں نے رشوت کے ذریعے کرپادرشٹی حاصل کی۔ ادھر راجستھان کے جے پور میں بھرشٹاچار مخالفت بیورو نے اب تک کا سب سے بڑا رشوت کانڈ کا خلاصہ کرتے ہوئے بدھوار کو ادے پور میں مائننگ محکمے کے ایک اے ڈی جی ایچ کو ڈھائی کروڑ کی رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ اے سی پی نے ان کے ساتھ دو اور بچولیوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ ان کے گھروں سے نوٹوں سے بھرے بیگ ملے ہیں جن کے بارے میں تینوں سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ اسی درمیان تازہ واقعات میں ادے پور واقعہ مائننگ محکمے کے دفتر سے ہی محکمے کے ای ڈی جی ایم پنکج گہلوت کو ڈھائی کروڑ کی رشوت لیتے پکڑا ہے۔ ہر جگہ ہر محکمے میں بھرشٹاچاری اس لئے بچے رہتے ہیں کیونکہ جس سسٹم کو ان کے خلاف سرگرم ہونا چاہئے وہ خود بھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔جب پورا کا پورا سسٹم کی کرپٹ ہو تو دیش سے بھرشٹاچار کیسے ختم ہوگا۔ چاہے وہ جج ہوں، نوکر شاہ ہو ، راج نیتا تو ہیں ہی۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...