Translater

22 دسمبر 2018

سجن کیس کے دوررس نتائج ہوں گے

کانگریس کے سئنیر لیڈر سجن کمار کو عمر قید کی سزا ملنے کے بعد بھی ان کی مشکلیں کم نہیں ہوئیں ہیں انہیں بے شک نچلی عدالتوں سے راحت ملتی رہی ہے اور پہلے معاملے میں انہیں کسی مقدمے میں ہائی کورٹ سے سزا ملی ہے لیکن ابھی انہیں کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ایک دوسرے معاملے میں بھی چشم دید گواہ نے عدالت کے سامنے ان کی پہچان کی تھی اور اب اس معاملے میں بھی جلد فیصلہ آدسکتا ہے ۔سجن کمار پر قریب آدھا درجن معاملے چل رہے ہیں ۔سجن سے پہلے کانگریس کے ہی سورگیہ سرکردہ لیڈر ایچ کے ایل بھگت بھی ایک گواہ کے بیان کے بعد جیل بھیجے گئے تھے لیکن ان کے دیہانت ہونے کے سبب مقدمے کو بند کرنا پڑا ۔نو مبر 84دنگوں کے بعد سے ہی سابق ایم پی سجن کمار ،جگدیش ٹائٹلر اور سورگیہ بھگت کا نام ملزمان کے طور پر خاص طور سے لیا جا تا رہا ہے ۔سجن کمار کا رتبہ اتنا بڑا رہا ہے کہ جب سی بی آئی انہیں گرفتار کرنے مادی پور میں ان کے گھر گئی تھی تو جم کر ہنگامہ ہوا تھا اس کے بعد سے کبھی بھی سی بی آئی یا پولیس انہیں گرفتار کرنے کی ہمت نہ کر پائی ان کے خلاف دہلی چھاﺅنی علاقہ کے علاوہ سلطانپوری ،منگولپوری،نانگلوئی وغیرہ علاقوں میں ہوئے دنگوں کے معاملے زیر سماعت ہیں امکان جتایا جا رہا ہے اگلے برس یعنی 2019میں سبھی مقدمات کے فیصلے آجائیں گے جس طرح ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلہ کو پلٹتے ہوئے سجن کمار کو سزا سنائی ہے اس کا دیگر معاملوں میں بھی اثر پڑے گا ابھی تک سجن کمار کو شبہ کا فائدہ ملتا رہا ہے ۔لیکن آگے اس کا امکان کم ہے حالانکہ عدالت کا فیصلہ گواہوں اور دستاویزات کی بنیاد پر کرنا ہوتا ہے لیکن اب سجن و دیگر ملزمان کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ویسے یہ بتا دیں کہ 84کے دنگوں کے معاملے میں پہلی بار مجرمانہ سازش کے تحت ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے اور سزا سنائی گئی ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ اب تک نہ تو دہلی پولس نے اور نہ ہی سی بی آئی نے کسی بھی ملزم پردنگوں کو انجام دینے کے لئے مجرمانہ سازش کا الزام لگایا تھا معاملے میں سی بی آئی کی جانب سے پیروی کر رہے مخصوص وکیل صفائی اور سینئر وکیل آر ایس چیما نے بتایا کہ آئی پی سی کی دفعہ 120Bکا الزام لگانا ہی سجن کمار کی سزا یقینی کرنے میں اہم رول رہا ہے ۔دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے یہ پہلا معاملہ ہے جن دنگوں کی سازش کو ریموٹ کنٹرول کرنے والوں کو سزا ہوئی ہے ۔یہاں تک کہ سی بی آئی نے بھی چارج شیٹ میں قصورواروں کے خلاف مجرمانہ سازش کا الزام نہیں لگایا ہے چیما نے بتایا کہ پولس اور سی بی آئی نے تو سجن و دیگر پر صرف دنگا کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا تھا ۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے دوررس نتائج ہوں گے۔

(انل نریندر)

بھارت کو ہندو راشٹرگھوشت کرنا چاہیے تھا:جسٹس سین

میگھالیہ ہائی کورٹ نے قومی شہریت رجسٹر (این آر سی)سے متعلق ایک فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کی تاریخ ،تقسیم اور اس دوران ہندوﺅں و سکھوں وغیرہ پر ہوئے مضامین کا حوالہ دیا عدالت نے کہا کہ پاکستان میں خود کو اسلامی ملک اعلان کیا ہے ۔جسٹس ایس آر سین نے آگے کہا کہ وہیں بھارت کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہوئی تھی ۔اسے بھی ہندو راسٹر گھوشت ہونا چاہیے تھا ۔لیکن وہ سیکولر بنا رہا ۔کسی کو بھارت کو دوسرا اسلامی ملک بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ،ورنہ وہ دن دنیا کے لئے قیامت خیز ہوگا ۔انہیں یقین ہے کہ موجودہ حکومت معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے ضروری قدم اُٹھائے گی اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ملکی مفاد کودھیان میں رکھتے ہوئے پورا تعاون دیں گی عدالت نے مرکزی حکومت سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ قانون بنائے جس میں پاکستان ،بنگلہ دیش ،افغانستان سے آنے والے ہندو ،سکھ ،جین،بدوھ، پارسی ، عیسائی،کھاسی،وغیرہ فرقہ کو بغیر کسی سوال و دستاویز کے بھارت کی شہریت دی جائے ان کے لئے کٹ آف ڈیٹ نہ ہو ۔یہی وصول بیرونی ملک سے آنے والے ہندوستانی نژاد ہندوﺅں اور سکھوں کے لئے اپنایا جائے حالانکہ عدالت نے کہا کہ بھارت میں پیڑھیوں سے رہ رہے اور وہاں کے قانون کی تعمیل کر رہے مسلم بھائی بہنوں کے خلاف نہیں ہے انہیں بھی پر امن طریقہ سے رہنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔جسٹس ایس آر سین نے استغاثہ رانا کے مقامی رہایشی سرٹیفکٹ سے متعلق عرضی کا نپٹارا کرتے ہوئے یہ ریماکس دئے اس دوران کورٹ نے آسام این آر سی کارروائی کو بھی الزام پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے غیر ملکی ہندوستانی بن گئے ہیں اور بنیادی ہندوستانی ہو گئے ہیں جو تکلیف دہ ہے ۔عدالت نے کہا کہ سرکار سبھی شہریوں کے لئے یکساں قانون بنائے اور اس کی تعمیل پر سبھی پابند ہوں جو بھی ہندوستانی قانون اور آئین کی مخالفت کرتا ہے اسے دیش کا شہری نہیں مانا جا سکتا ۔کورٹ نے فیصلے کی کواپی وزیر اعظم ،وزیر داخلہ،وزیر قانون اور گورنر کوبھیجنے کا حکم دیا ہے ۔میگھالیہ کے جسٹس سین کی بھارت کو ہندو راسٹر بنانے سے متعلق رائے نے سیاسی کھلبلی مچا دی ہے ۔اپنے متنازع تبصرے کے لئے موضوع بحث رہنے والے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے عدالت کی حمایت کی ہے ۔دوسری طرف نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ اور آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے اسے مسترد کر دیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گری راج سنگھ نے کہا کہ جج کے تبصرے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے انہوںنے کہا کہ کئی لوگ اس بارے میں مانگ اُٹھاتے رہے ہیں جنا نے مذہب کی بنیاد پر بٹوارہ کیا تھا یقینی طور پر لوگ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرتے رہے ہیں۔وہیں فاروق عداللہ نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اپنی پسند کی باتیں کہہ سکتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ایم پی اسدالدین اویسی نے اسے نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے ۔انہوںنے جج کی رائے زنی پر کہا کہ بھارت اسلامی ملک نہیں بنے گا ۔
(انل نریندر)
سجن کیس کے دوررس نتائج ہوں گے !
کانگریس کے سئنیر لیڈر سجن کمار کو عمر قید کی سزا ملنے کے بعد بھی ان کی مشکلیں کم نہیں ہوئیں ہیں انہیں بے شک نچلی عدالتوں سے راحت ملتی رہی ہے اور پہلے معاملے میں انہیں کسی مقدمے میں ہائی کورٹ سے سزا ملی ہے لیکن ابھی انہیں کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ایک دوسرے معاملے میں بھی چشم دید گواہ نے عدالت کے سامنے ان کی پہچان کی تھی اور اب اس معاملے میں بھی جلد فیصلہ آدسکتا ہے ۔سجن کمار پر قریب آدھا درجن معاملے چل رہے ہیں ۔سجن سے پہلے کانگریس کے ہی سورگیہ سرکردہ لیڈر ایچ کے ایل بھگت بھی ایک گواہ کے بیان کے بعد جیل بھیجے گئے تھے لیکن ان کے دیہانت ہونے کے سبب مقدمے کو بند کرنا پڑا ۔نو مبر 84دنگوں کے بعد سے ہی سابق ایم پی سجن کمار ،جگدیش ٹائٹلر اور سورگیہ بھگت کا نام ملزمان کے طور پر خاص طور سے لیا جا تا رہا ہے ۔سجن کمار کا رتبہ اتنا بڑا رہا ہے کہ جب سی بی آئی انہیں گرفتار کرنے مادی پور میں ان کے گھر گئی تھی تو جم کر ہنگامہ ہوا تھا اس کے بعد سے کبھی بھی سی بی آئی یا پولیس انہیں گرفتار کرنے کی ہمت نہ کر پائی ان کے خلاف دہلی چھاﺅنی علاقہ کے علاوہ سلطانپوری ،منگولپوری،نانگلوئی وغیرہ علاقوں میں ہوئے دنگوں کے معاملے زیر سماعت ہیں امکان جتایا جا رہا ہے اگلے برس یعنی 2019میں سبھی مقدمات کے فیصلے آجائیں گے جس طرح ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلہ کو پلٹتے ہوئے سجن کمار کو سزا سنائی ہے اس کا دیگر معاملوں میں بھی اثر پڑے گا ابھی تک سجن کمار کو شبہ کا فائدہ ملتا رہا ہے ۔لیکن آگے اس کا امکان کم ہے حالانکہ عدالت کا فیصلہ گواہوں اور دستاویزات کی بنیاد پر کرنا ہوتا ہے لیکن اب سجن و دیگر ملزمان کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ویسے یہ بتا دیں کہ 84کے دنگوں کے معاملے میں پہلی بار مجرمانہ سازش کے تحت ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے اور سزا سنائی گئی ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ اب تک نہ تو دہلی پولس نے اور نہ ہی سی بی آئی نے کسی بھی ملزم پردنگوں کو انجام دینے کے لئے مجرمانہ سازش کا الزام لگایا تھا معاملے میں سی بی آئی کی جانب سے پیروی کر رہے مخصوص وکیل صفائی اور سینئر وکیل آر ایس چیما نے بتایا کہ آئی پی سی کی دفعہ 120Bکا الزام لگانا ہی سجن کمار کی سزا یقینی کرنے میں اہم رول رہا ہے ۔دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے یہ پہلا معاملہ ہے جن دنگوں کی سازش کو ریموٹ کنٹرول کرنے والوں کو سزا ہوئی ہے ۔یہاں تک کہ سی بی آئی نے بھی چارج شیٹ میں قصورواروں کے خلاف مجرمانہ سازش کا الزام نہیں لگایا ہے چیما نے بتایا کہ پولس اور سی بی آئی نے تو سجن و دیگر پر صرف دنگا کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا تھا ۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے دوررس نتائج ہوں گے۔

(انل نریندر)

20 دسمبر 2018

موبائل میسجنگ بنا سیاسی کمپین کا اہم ذریعہ

مائکرو سافٹ کے فاﺅنڈر بلگیٹس نے اپنی کامیابی کے بعد آسان الفاظ میں بیان کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کا سیدھا سیدھا فارمولہ ہے اچھی کمنیوکیشن اسکل ۔گیٹس کا کہنا کہ اگر اس سے لکھنے اور بولنے میں صحیح ہے تو وہ کسی بھی پیشے میں کامیاب ہونے کی قابلیت رکھتا ہے موبائل میسجنگ پچھلے کچھ عرصے سے سیاسی کمپین کا اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہے ۔امریکہ کے کیلیفورنیا ریاست کے لیفٹ نینٹ گورنر عہدہ کا چناﺅ لڑئیں ایلینا کولکس نے سین فرینسکو میں اپنے گھر پر ہر سیکنڈ ایک ووٹر سے رابطہ کرتی ہیں ۔ٹیکس میسج کے لوگوں تک پہنچانے کا نیا طریقہ بن گیا ہے امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی زیادہ تر ریاستوں میں قابض ہونے کے باوجود پارٹی کمیٹی نے اس برس نو کروڑ چالیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں کے موبائل نمبر خریدے ہیں سیاسی مسودے کی اپیل نایاب ہے ووٹر کے کسی کام میں دخل دئے بنا اس سے رابطہ قائم ہو سکتا ہے ۔شخصی رابطہ کے دوران کئی لوگوں سے ملاقات نہیں ہو پاتی لیکن ٹیکسٹ میسج سے تیزی سے دور دراز علاقوں میں بیٹھے لوگوں سے رابطے قائم ہو جاتے ہیں کئی حکمت عملی سازوں کا خیال ہے کہ جہاں ہم نے ای میل ان باکس اور سوشل میڈیا پر میسج کی بھرمار تو اپنالیا ہے وہیں ٹیکسٹ میسج شخصی اور مدعو پر مبنی سوال کے ذریعہ ہے ۔مارکیٹنگ فرم موبائل اسکوائب کے مطابق 90فیصد میسج حاصل ہونے کے تین منٹ کے اندر پڑھ لئے جاتے ہیں حالانکہ کئی لوگ سیاسی مہموں میں نظر انداز بھی ہو جاتے ہیں امریکہ کے کئی رپبلیکن سیاست داں کی مہم میں مدد کر رہی فرم اوپینیین سی سیم کے فاﺅنڈر گیرٹ لوسنگ کا کہنا ہے کہ دیگر مقامات پر شور شرابا جھیلنے کے بجائے لوگ ٹیکسٹ میسج پسند کرتے ہیں اور ان کا پلیٹ فارم 17مہاوروں کی فہرست استعمال کرتا ہے اور منفی جواب والے لوگ خود باہر ہو جاتے ہیں ۔سرمایہ لگانے والی فرموں نے اے سیل جیسے پلیٹ فارم میں اربوں روپئے لگائے ہیں ۔ان میسجنگ کی بڑھتی مقبولیت کا ثبوت ہے لیکن کئی لوگ مانتے ہیں کہ کنجومر کی شکایتوں کے سبب سیاسی ٹیکسٹنگ کی شروعات سنہرے دور میں تبدیل ہو سکتی ہے حکومت ہند نے خبر دار کیا ہے کہ واٹس ایپ میں کئی بڑھکاﺅ سندیش بھی بھیجے جا رہے ہیں ایسے بھڑکاﺅ سندیش دینے والوں اور بھیجنے والوں کی شخصی پہچان اور ان کے مقام کے بارے میں جانکاری مانگی جا رہی ہے ۔واٹس ایپ کا بے جا استعمال روکنے کے لئے بھارت سرکار اور کمپنی دونوں پریشان ہیں ۔خیر کسی بھی ایسی سہولت کے بے جا استعمال کرنے والے ہوتے ہیں لیکن اس سے یہ سہولت غلط نہیں ہو جاتی ۔آنے والے دنوں میں خاص کر انتخابات میں یہ واٹس ایپ کمپین کا بڑا ذریعہ بن جائے گا ۔اس کے آثار آج ہی سے نظر آنے لگے ہیں ۔

(انل نریندر)

لوک سبھا چناﺅ دیکھ گہلوت اورکملناتھ کے سر پر تاج

کانگریس صدر راہل گاندھی نے دوراندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے راجستھان اور مدھیہ پردیش کے اوزرائے اعلیٰ کے نام پر مہر لگائی ہے بیشک ان کے انتخاب میں کچھ وقت لگا لیکن راہل گاندھی بطور کانگریس صدر اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں تو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کو لیکر تجربے کار لیڈر کملناتھ کے نام کا اعلان جمعرات کی رات ہی کر دیا گیا تھا راجستھان میں دو بار وزیر اعلیٰ رہے اشوک گہلوت کا انتخاب کانگریس کے مشن 2019کو دیکھ کر کیا گیا ہے ۔اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ میں کون چنا جائے گا یہ سسپینس 2دن بنا رہا آخر میں راہل کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے اس کے پیچھے مشن 2019کی چھاپ صاف نظر آرہی ہے اور راہل گاندھی کے اس فیصلے کا اثر چار ماہ بعد ہونے والے لوک سبھا چناﺅ میں دکھائی دے گا یہی وجہ رہی کہ راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے سبھی دعوے دار ریاستوں سے وابسطہ لیڈروں اور ورکروں سے بات چیت کر نئے نیتا کا انتخاب کیا اسکولی دنوں میں جادو گری کر کے دوستوں کو چونکانے والے گہلوت کو کملناتھ کی طرح سیاست کا جادو گر کہا جاتا ہے جو کانگریس کو مشکل سے مشکل حالات سے نکال لاتے ہیں دونوں ہی نیتا اشوک گہلوت اور کمل ناتھ نہرو گاندھی کے خاندان کے قریبی رہے ہیں ۔کملناتھ کی بات کریں تو وہ گاندھی پریوار کی تین پیڑھیوں سے کام کر چکے ہیں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی تو کملناتھ کو اپنا تیسرا بیٹا مانتی تھیں تو ان کے چھوٹے بیٹے سنجے گاندھی کے وہ اسکولی دوست تھے وہ راہل گاندھی کے بھی قریبی مانے جاتے ہیں دون اسکول میں پڑھائی کے دوران سنجے گاندھی کے دوست بنے تھے اور وہیں سے سیاست میں داخل ہونے کی بنیاد تیار ہوئی ایک بار اندرا گاندھی چھندواڑا کے لئے چناﺅ کمپین کرنے آئیں تھیں اندرا نے تب ووٹروں سے چناﺅی ریلی میں کہا تھا کہ کملناتھ ان کے تیسرے بیٹے ہیں ۔کملناتھ چھندواڑا سے مسلسل نو بار لوک سبھا کے ایم پی رہ چکے ہیں سنجے گاندھی اور کملناتھ کی دوستی اسکول کے زمانے سے ہی مشہور تھی دونوں کا سپنا تھا کہ دیش میں چھوٹی کار کی تیاری میں وسیع پیمانے پر پروڈکشن کرنا تھا اوریہیں سے ماروتی کا جنم ہوا تھا ۔امرجنسی کے بعد کملناتھ کو گرفتار کیا گیا تب وہ سنجے گاندھی کے لئے جج سے بدتمیزی کر بیٹھے تھے اس کے بعد انہیں تہاڑ جیل جانا پڑا لیکن اس سے اندرا گاندھی کی نظروں میں ان کا قد بڑھ گیا تھا ۔کملناتھ اور گہلوت کو کمان دینے کے پیچھے تجربے کے ساتھ سیٹوں کا حساب کتاب بھی لگانا مانا جا رہا ہے ۔دونوں ریاستوں میں کانگریس کو اکثریت کے لئے دوسری پارٹیوں آزاد ممبران پر انحصار کو دیکھتے ہوئے انتظامی تجربے کو زیادہ فائدہ مند مانا گیا ۔ہم کملناتھ اور شری اشوک گہلوت کو وزیر اعلیٰ بننے پر بدھائی دیتے ہیں ۔

(انل نریندر)

19 دسمبر 2018

ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ :سجن کمار کو تا حیات عمر قید

1984کے سکھ مخالف دنگوں کے معاملہ مےں دہلی ہائی کورٹ کا تارےخی فےصلہ آےا ہے ۔اس نے نچلی عدالت کے فےصلے کو پلٹتے ہوئے کانگرےس لےڈ ر سجن کمار کو دنگا بھڑکا نے اور سازش رچنے کے معاملے مےں قصوروار ٹھہراکر تاحےات عمر قےد کی سزا سنائی ۔سجن کو 31دسمبر 2018تک خود سپردگی کرنا ہے آپ کو بتادےں کہ 34سال کے بعد عدالت نے سجن کمار کو سز ا سنا ئی ہے ۔جبکہ اس سے پہلے انھےں بری کردےا گےا تھا ۔درا اصل سی بی آئی نے ےکم نومبر 1984کے دہلی چھاو ¿نی کے راج نگر علاقے مےں پانچ سکھوں کے قتل معاملہ مےں سجن کمار کو بری کئے جانے کے نچلی عدالت کے فےصلے کو ہائی کورٹ مےں چنوتی دی تھی ۔پےر کو جسٹس اےس مرلی دھر وجسٹس ونود کمار گوئل نے ےہ تارےخی فےصلہ سناتے ہوئے کہاکہ سی بی آئی ثبوت شبہ سے پرے ہےں کہ سجن کمار مشتعل بھےڑ کے نےتا تھے انھوں نے بھےڑ کو سکھوں کے قتل کے لئے اکسانے مےں سرگرم ساجھےداری نبھائی کورٹ نے مانا کہ ملزم سےاسی سرپرستی کا فائدہ اٹھاکر بچ نکلے او رسزا دےنے مےں تےن دہائی کی دےری ہوئی ججوں نے کہا کہ متاثرےن کو بھروسہ دےنا ضروری ہے کہ کورٹ کے سامنے چنوتےوں کے باجود سچائی کی جےت ہوگی انصاف ہوگا عدالت نے قصورواروں کو حوالات تک پہچانے کےلئے چشم دےد گواہوں ،جگدےش کور اور اس کے رشتہ دار جگدےش سنگھ اور اےک عورت نرپرت کو رکی ہمت کو سراہا عدالت نے اس معاملہ مےں نچلی عدالت سے قصوروار پانچ دےگر افراد کی اپےل بھی خارج کردی ۔مقدمہ سے پہلے کانگرےس کونسلر کھوکر ،رےٹائرڈ بحرےہ افسر کےپٹن بھاگمل اور گردھاری لال کوعمر قےد کی سزادی تھی ۔وہےں سابق ممبر اسمبلی مہندر ےادو اور کشن کھوکر کو تےن تےن سال قےد کی سزاسنائی تھی ۔ہائی کورٹ نے پانچوں افراد کی سزا برقرار رکھی ہے ساتھ ہی ےادو اور کھوکر کو نئے الزامات مےں قصوروار ٹھہراکر دی گئی سزا کو بڑھا کر دس دس سال کردےا ۔سجن سمےت سبھی قصورواروںکو اےک اےک لاکھ کا جرمانہ بھی لگاےا گےا ۔جسٹس مرلی دھر اور جسٹس گوئل نے فےصلہ مےں کہا اےک سے چار نومبر تک پورے دہلی مےں 2733سکھوں کو بے رحمی سے مار دےا گےا گھا ان کے گھروں کو تباہ کردےا گےا تھا دےش کے باقی حصوںمےں بھی ہزاروں سکھ مارے گئے تھے اس تباہ کن ٹرےجڈی کے جرائم پےشہ کے بڑے گروپ کو سےاسی سرپرستی کا فائدہ ملا اور چانچ اےجنسےوں سے بھی مدد ملی پھر مخالف دنگوں کے بارے مےں ہائی کور ٹ نے کہا ےہ الگ طرےقہ کا عجب معاملہ ہے اور عدالتوں کو اےسے معاملوں الگ نظرےہ سے دےکھنی کی ضرورت ہے بےنچ نے بےن الا قوام سطح پر ہوئے قتل عام کے معاملوں کا حوالہ ےہ دےا کہ عدالت نے دوسری جنگ عظےم کا بھی ذکر کرتے ہوئے بےن الاقوام ملٹری اتھارٹی نے اس طرح کے معاملوں کو انسانےت کے خلاف جرم قرار دےا تھا ۔روم انٹر نےشنل کرمنل کورٹ نے بھی قتل و بد فعلی جےسے معاملات کو انسانےت کے خلاف جرم بتاےا ہے ۔عدالت نے اپنے فےصلہ مےں دہلی وپنجاب مےں ہوئے سکھ مخالف دنگوں کے ساتھ دےگر قتل عام کا بھی ذکر کےا عدالت نے کہا اسی طرح کا قتل عام 1993مےں ممبئی مےں 2002مےں گجرات ڈ،2008مےں اڑےسہ ،اور 2013کے مظفر نگر مےں بھی ہوا تھا جو اقلےتی فرقہ کے خلاف ہوئے جو سنگےن جرم ہے اس طرح کے معاملوں مےں سےاستدانوں کو قانون کے رکھوالوں کی ہی سرپرستی رہتی ہے ۔انسانےت کے خلاف جرم ےا قتل عام گھرےلوجرم کا حصہ ہے ۔اسے فورًا دور کرنے کی ضرورت ہے فےصلہ پڑھ رہے جسٹس اےس مرلی دھر کا گلا بھر آےا اور آنکھےں نم ہوگئی انھوںنے خود کو سنبھالتے ہوئے آنکھےں پونچھےں اور پورا فےصلہ پڑھا انھوں نے اس جرم کو اسنانےت کے خلاف قتل قرار دےتے ہوئے قصورواروں کو جےسی ہی سزا سنائی تو کورٹ مےں موجود متاثرےن روپڑے متاثرےن کے رشتہ داروں نے کہا کہ آخر کا انھےں انصاف ملا ہے ۔سجن کمار کی سخت سزا کا ےہ فےصلہ کئی پےغام دےتا ہے ۔فساد متاثرےن کنبوں کو انصاف ملنے مےں بھلے ہی 34سال لگ گئے ہوں لےکن فےصلہ سے ےہ واضح ہوگےا ہے کہ قانون سے اوپر کوئی نہےں ہے چاہئے وہ کتنا ہی طاقتور سےاستداںکےوں نہ ہوں ۔31اکتوبر 1984کو اس وسوقت کے وزےراعظم اندراگاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے خلاف ےکطرفہ جنگےں ہوئے تھے جس سے دہلی مےں قتل عام کا رےکارڈ بنادےاتھا اےک مہےنہ کے اندر ہوئی دونوں سزا نے متاثرےن خاندانوں کو انصافی نظام سے ٹوٹتی نےند کو قائم رکھا ہے دنےا مےں بھی ےہ پےغام گےا ہے کہ بھارت عدلےہ نظام مےں دےر سوےر ہی صحےح انصاف ملتا ہے ۔جن دنگا متاثرےن نے بلوائےں کو بھڑکانے والوں کے خلاف بولنے کی ہمت دکھائی اور دھمکےں دباو ¿ کے درمےان پےچےدہ قانو ن کے تحت لڑائی لڑنے کا حوصلہ دےا ۔اور اسی کا نتےجہ ہے سجن کمار جےسے نےتاکو سزا کے انجام تک پہونچاےا جاسکا ۔چاہئے سکھ مخالف دنگےں ہوں ےاگجرات کے دنگےں ہو ےا پھر مظفر نگر کے دنگےں ہو ں ےہ وقت کے سماعت پر اےک بڑا داغ ہے ۔ان دنگوں نے دنےا بھر مےں بھارت کی ساکھ کو بھاری دھکا پہونچاےا اےسے مےں سجن کمار ہی نہےں بلکہ دنگےں کی سازش رچنے والے ملزم کو انصاف کے شکنجے مےں لاےا جانا چاہئے ۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2018

رافیل پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ؟

رافیل سودے میں کرپشن کے الزامات سے گھر ی مودی سرکار کے لئے جمع کی صبح اچھی خبر لے کر آئی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو کلین چٹ دیتے ہوئے چھتیس جنگی جہاز خریدنے کے لئے فرانس کے ساتھ ہوئے سودے کی جانچ کی مانگ کرنے والی چاروں عرضیوں کو خارج کر دیا ہے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی بنچ نے کہا کہ سی اے جی نے رافیل کی قیمت کو آڈیٹ کیا پھر پی اے سی نے سی اے جی رپورٹ جانچی ۔سودے میں بلا شبہ کوئی وجہ نہیں دکھائی دی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے 21ویں صفحہ پر 25ویں نقطہ (جواگ سیگمینٹ )میں لکھا ہے کہ کورٹ کو سونپے گئے دستاویزات کے مطابق سرکار نے جنگی جہاز کی قیمت سی اے جی کو بتائی تھی جس کی رپورٹ پارلیمنٹ کی پی اے سی نے دیکھی تھی ۔قومی سلامتی کے پیش نظر رپورٹ کے محدود حصہ ہی پارلیمنٹ میں رکھے گئے سپریم کورٹ کے سامنے تین اہم الزام تھے ۔پہلا خرید کی کارروائی الزام -سرکار نے سودا کرنے کے لئے خانہ پوری کی تعمیل نہیں کی فیصلہ-ہمیں فیصلے کے عمل پر شبہ کا موقع نہیں ملا ۔کارروائی میں معمولی گڑبڑی بھی ہوئی ہو تو یہ معاہدہ ختم کرنے یا مفصل جانچ کی بنیاد نہیں بنتا ۔دوسرا-رافیل کی قیمت الزام-طے قیمت سے زیادہ دکھائی گئی ہے ۔یہ پبلک حقائق ہیں ۔فیصلہ-قیمت سی اے جی کو بتائی گئی سی اے جی رپورٹ کو پی اے سی نے جانچا اس کا ایک حصہ پارلیمنٹ میں رکھا گیا یہاں پبلک ڈومین میں ہے ۔قیمتوں کا موازنہ کورٹ کا کام نہیں ہے ۔تیسرا-آپسیٹ پارٹنر -الزام-ریلائنس ائرو اسٹرکچر لمیڈیڈ کو فائدہ پہنچایا ۔فیصلہ-رکارڈ میں ایسا کچھ نہیں ملا جو یہ دکھائے کہ سرکار نے کسی کو فائدہ پہنچایا ۔انڈین آفسیٹ پارٹنر چننے کا متابادل بھارت سرکار کے پاس ہے یا نہیں جمع کو سپریم کورٹ کا فیصلہ بھاجپا کے لئے راحت لے کر آیا تین ریاستوں میں ہار سے مایوس بھاجپا کو ڈر ستا رہا تھا کہ کہیں اس اشو کو 2019کے عام چناﺅ تک کھینچا گیا تو ان کے لئے اور مودی سرکار کے لئے مشکلیں کھڑی ہو جائیں گی ۔اب پارٹی کو فیصلے کے بعد لگا کہ مودی سرکار کی ساکھ کو خراب کرنے والا ایک دھبہ ہٹ گیا ہے ۔رافیل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھاجپا کے لئے سنجیونی سے کم نہیں ۔پارٹی کے لیڈروں کے چہرے کھل گئے ۔پارٹی نے فورا ہی اشو پر کمپین کی یوجنا بھی طے کر دی ۔صبح وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں واقع اپنے کیبن میں اپنے سئنیر لیڈروں کی میٹنگ کر تبادلہ خیال کیا تو امت شاہ نے دل بل کے ساتھ بھاپا ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کر کے مفصل سے کانگریس صدر راہل گاندھی کے بیانوں کو جھوٹا ٹھہرایا اور دیش سے معافی مانگنے کی بات کہی شام ہوتے ہوتے پارلیمنٹ میں کانگریس نے پانسا پلٹنے کی نیت سے تنازع کو نئی شکل دے ڈالی کانگریس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے سرکار پر جم کر تنقید کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ قیمتیں سی اے جی کی رپورٹ میں درج ہیں پھر یہ رپورٹ سی اے جی کے سامنے رکھی گئی ۔یہ جانکاری حکومت نے سپریم کورٹ کو دی اسی بنیاد پر عدالت نے اپنا فیصلہ دیا میرے استاد پی اے سی کے چیرمین ملکا ارجن گھڑگے ہیں ان کے پوچھئے رپورٹ ان کے سامنے کب آئی ؟اس کے بعد گھڑگے نے کہا کہ پی اے سی میں سی اے جی رپورٹنہیں آئی پھر راہل نے کہا کہ کھڑگے یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے یہ رپورٹ دیکھی نہیں ہے تو کیا پی ایم مودی نے پی ایم او میں کوئی اور پی اے سی بنا رکھی ہے یا شاید فرانس میں چلتی ہوگی سرکار نے اداروں کی ایسی کی تیسی کر رکھی ہے خیر ہم یہ صرف کہہ رہے ہیں کہ معاملہ 30ہزار کروڑ روپئے کی چوری کا ہے مودی رافیل سودے میں متنازع ڈھنگ میں 36جنگی جہازوں کی خرید سے متعلق عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کی مانگ کر رہے عرضی گذار یشونت سنہا ،ارن شوری،پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ کو جمع کے فیصلے کو انتہائی تکلیف دہ بھر ا بتایا مگر کہا کہ اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ سپریم کورٹ نے رافیل سودے میں مودی سرکار کو کلین چٹ دے دی ہے انہوںنے کہا کہ سرکار نے سپریم کورٹ کو جھوٹی جانکاری دے کر جس طرح سے گمراہ کیا وہ دیش کے ساتھ دھوکہ ہے سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ایک بنیاد یہ بھی بتائی کہ مرکزی سرکار نے سی اے جی سے جنگی جہاز کی قیمتیں شئیر نہیں کیں جس کے بعد سی اے جی نے پی اے سی کو رپورٹ دے دی اور پھر پی اے سی نے پارلیمنٹ کے سامنے رافیل سودے کی جانکار ی دے دی ہے ۔جو اب سامنے نہیں لائی جا سکتی ان کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں پتا کہ سی اے جی کو قیمت کی تفصیل ملی ہے یا نہیں ؟لیکن باقی ساری باتیں جھوٹ ہیں ۔سی اے جی کی طرف سے پی اے سی کو کوئی رپورٹ دی گئی ہے نہ ہی پی اے سی نے ایسے کسی دستاویز کا حصہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھا اور نہ ہی رافیل سودے کے سلسلے میں ایسی کوئی اطلاع یا روپورٹ نہیں سامنے لائی ہے ۔سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ 32کے تحت اپنے عدلیہ جائزہ کے دائرے کو بنیاد بنا کر عرضی خارج کی ہے ۔سرکار کو کوئی کلین چٹ نہیں ملی ۔رافیل سودے میں کرپشن کے سنگین الزام دیش واسیوں کو تب تک گمراہ کرتے رہیں گے جب تک اس معاملے کی منصفانہ جانچ کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہ ہو جائے ۔دیش کی خاطر ہم اس معاملے کو جاری رکھیں گے ۔صاف ہے کہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے پر نظر ثانی کی مانگ ہوگی ۔یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔یہ تو ٹریلر ہے پکچر آنا باقی ہے ۔

(انل نریندر)

16 دسمبر 2018

شکتی کانت داس کے سر پر کانٹوں کا تاج

ٹکراﺅ اور تمام طرح کے تنازعات کے درمیان ارجت پٹیل کے استعفی کے فورا بعد مقرر کئے گئے ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے گورنر شکتی کانت داس نے کانٹوں بھرا تاج پہنا ہے ۔رگھو رام راجن اور ارجت پٹیل کی شکل میں وہ بھاری اشخاص کے بعد سرکار نے ایک ایسے شخص کو گورنر کے عہدے کے لئے چنا ہے ،جو معاشی امور کے سیکریٹری و مالیاتی کمیشن کے ممبر رہ چکے ہیں اور سرکار کے کام کاج سے بخوبی واقف ہیں شکتی کانت داس نے نوٹ بندی کے وقت ریزرو بینک اور سرکار کے درمیان سالسی کا کردار نبھایا تھا تب میڈیا سے مخاطب ہونے کا ذمہ انہیں کا تھا اس کے بعد جی ایس ٹی کا مسودہ تیار کرنے سے لے کر اس پر ریاستوں کی رضامندی حاصل کرنے اور جی ایس ٹی سے وابسطہ حصاص ترین وسائل میں بھی ان کی سرگرمی تھی اس کا یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی لاگو کرنے میں ان کی بھی رضا مندی تھی ؟اگر تھی تو ان کے نتائج تو اچھے نہیں نکلے۔آج دیش میں ہزاروں کاروباری ،نوجوان بے روزگار ہیں دھندے چوپٹ ہو گئے ہیں اور لاکھوں لوگ روٹی تک کے لئے محتاج ہیں پھر یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مالی تنگی سے گذر رہی مرکزی سرکار ریزرو بینک سے مالی مدد چاہتی ہے ارجت پٹیل کے استعفی کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ مودی سرکار کی ہر مانگ کو منظور کرنے کو تیار نہیں تھے ۔شکتی کانت داس کے سامنے سب سے پہلا کام ریزرو بینک کی مختاری کو بچاتے ہوئے اس کی وزارت مالیات کے درمیان چلے آرہے ٹکراﺅ کو کم کرنا ہوگا اسی کے چلتے ارجت پٹیل نے اپنی میعاد پوری ہونے نو مہینے پہلے ہی استعفی دے دیا ہے ۔اور اسی کے سبب سابق گورنر رگھو رام راجن کی معیاد نہیں بڑھائی گئی یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ شکتی کانت داس رگھو رام راجن کی طرح سے پرفیشنل بینکر یا ماہر اقتصادیات نہیں ہیں وہ 1980بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں اور اس ناتے وہ دیش کے مختلف اداروں میں تال میل بٹھانے اور مالی معاملوں کو صلاحیت کے ساتھ چلانے کا کام کر چکے ہیں جب بھی ارجت پٹیل سے وزارت مالیہ کے رشتوں میں ٹکراﺅ آیا وہ ایک سنکٹ موچک بن کر کھڑے رہے چاہے یوی پی اے سرکار کے وزیر خزانہ پی چتمبرم کے عہد میں آئی ہو ۔2008کی مندی کا سوال ہو یا موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی 2016میں نوٹ بندی کا سوال ہو ہر مشکل میں وہ سرکار کے ساتھ کھڑے رہے ۔شکتی کانت داس نے ایسے نازک دور میں عہدہ سنبھالا ہے جب کچھ ہی مہینوں بعد 2019کے لوک سبھا چناﺅ ہونے والے ہیں ۔امید کی جاتی ہے کہ وہ سب سے پہلے ریزرو بینک کی مختاری بر قرار رکھیں گے اور دیش کے مفاد کو بالا تر رکھیں گے ۔مودی سرکار کے ربر اسٹیمپ نہیں بنیں گے اور کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھائیں گے جو دیش کے مفاد میں نہ ہو ۔

(انل نریندر)

سشما سوراج جی ہمیں یہاں سے نکالو

ہاتھ جو ڑ کے ونتی ہے ماجی سانو اے تھو کڈو لے آﺅ ۔نرک تو بی ماڈی زندگی کر انہیں آ اتھے ۔سڈی کوئی سوگندھا اتھے ۔کمپنی نو کہدآں تاں سانو دوجی کمپنی ویچ چلے جاں لئی کہہ دیں دے ۔جنہاں دے تے انہاں وی ماڑے حال نے ۔کوئی سنن والا نہیں ۔یہ بات گورایاں کے 29سال کے ایک شخص اوتا ر سنگھ نے روزنامہ ہندی بھاسکر کے رپوٹر سے فون پر کہی اوتار سنگھ دو سال سے سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں پھنسا ہوا ہے ۔ہوشیار پور کے ایک شخص ششی نے بتایا کہ اگر سفارتخانے جاتے ہیں تو وہاں کہا جاتا ہے کمپنی ہاتھ کھڑے کرتی ہے تو آپ کو انڈیا بھیجا جا سکتا ہے ۔سعودی عرب کے شہر ریاض ،جمبو ،کسین کے شہروں میں پھنسے پنجاب کے لڑکوں کی اتنی بد حالی ہے کہ سن کر بھی دکھ ہوتا ہے اوتار سنگھ بتاتا ہے کہ (انہیں کے الفاظ میں )لیبر کوڈ کو ہی لے لیں لوکل پولس تک سب آگے پیش ہوئے وے دیکھ لیاں لیکن او وی سڈی نہیں سندے ۔ہن ناں سڈے کو کوئی پاسپورٹ ہے تے نا ہی اقاما (ایک طرح کا پاس یا ویزا)کوئی میڈیکل کارڈ وی سڈے کول نہیں ۔بہت برا حال ہے ۔ویزا لے کر کے اسی سے باہر جاتے ہیں تو پولس پکڑ لیںدی ہے دسیے ایک کمرے میں وچ اسیں پندرہ پندرہ بندے رہ رہاں پتہ نہیں کیڈے ویل سانو کونڈ چھڑکے لے جاویں اتکے داں پرن سمندری ہیں تیں وانی خراب ہنڈ کر کے کسی نو لکوا ہمکا ہے کسی دی کوئی بیماری لگی ہے ۔میڈیکل ختم ہنڈ کر کے اسی اپنا علاج ہی خود کروا سکدے ۔اسی سارے توہاڈے ہاتھ جوڑدیں آں کہ سڈی گل سشما سوراج جی کول پہنچاواں ۔بس اواں تو علاوہ ہور کوئی مہارا نہیں سڈے کول سعودی عرب میں سائپرس کی جیے اینڈ پی کنسٹرکشن کمپنی سے بھارت کے تین ہزار سے زیادہ شہری کام کر رہے تھے ۔ان میں سے تقریبا بارہ سو لڑکے پنجاب کے الگ الگ ضلعوں کے ہیں ۔اور ان میں سے پانچ سو سے چھ سو لڑکے جالندھر ،ہوشیار پور کے بلویندر نے بتایا کہ وہ 2008میں جالندھر کے ایک ایجنٹ کے ذریعہ دبئی جے اینڈ پی میں کام کرنے گیا تھا ۔2012میں کمپنی کے نئے پروجکٹ کے چلتے وہ سعودی عرب آگیا تھا تین سال تک کمپنی کی طر ف سے میڈیکل کارڈ اقاما (ویزا)اور سیلری ٹائم پر دی جا رہی تھی مگر ایک سال سے وہ کام کر رہے ہیں جس کے بدلے نہ تو سیلری دی جا رہی تھی نہ ہی میڈیکل کارڈ بنایا جا رہا ہے ۔ریاض میں پھنسے زیادہ تر لڑکوں کے پاس نہ تو پاسپورٹ ہے اور نہ ہی ویزا اگر بغیر اقاما کے باہر جاتے ہیں تو پولس پکڑ لیتی ہے کمپنی اقاما بنانے کے لئے 8ہزار ریال (1.50)لاکھ روپئے مانگتی ہے دوسری کمپنی میں تو بارہ گھنٹے کام کرواتے ہیں اور پانچ گھنٹے کے پیسے دیے جاتے ہیں پہلے سے کام کر رہی لیبر کو کئی مہینے سے تنخواہ بھی نہیں ملی ہے انہیں کیسے بچایا جا سکتا ہے ؟سرکار یا تو بھیجنے والے ایجنٹوں کو پکڑے یا پھر ان کمپنیوں کو مجبور کرئے کہ وہ ان پھنسے ہوئے لڑکوں کو بچائے ۔سشما جی کو انہیں بچانا ہوگا ۔

(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...