Translater

13 دسمبر 2014

تبدیلی مذہب نے بی جے پی کو دھرم سنکٹ میں ڈالا!

آگرہ میں ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر جو کچھ ہوا اس نے طول تو پکڑا ہی تھا خاص کر اس لئے کہ جو مسلم مبینہ طور پر ہندو دھرم میں لوٹے وہ ہی سوال کھڑے کررہے ہیں۔سنسد سے لیکر سڑک تک اسے لیکر سوال اٹھ رہے ہیں۔ راجیہ سبھا میں اس بات پر اتنا ہنگامہ ہوا کہ مرکزی سرکار نے اس سے دامن جھاڑتے ہوئے کہا کہ یہ راجیہ سرکار کا معاملہ ہے۔ غور طلب ہے کہ آگرہ میں سوموار کو ’’گھرواپسی‘‘ کے نام پر قریب 60 مسلم پریواروں کا تبدیلی مذہب کرایا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ’’گھر واپسی‘‘ کا یہ انعقاد جلدبازی میں اور دکھاوے کے لئے کیا گیا۔ آر ایس ایس اور بجرنگ دل نے دعوی کیا کہ یہ اپنی مرضی سے ہندوبنے ہیں لیکن اگلے ہی دن میڈیا میں ان پریواروں کے کچھ ممبرا ن نے کہا کہ تبدیلی مذہب کا یہ ناٹک انہیں طرح طرح کے لالچ دیکر کرایا گیا ہے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ انہیں ادھار کارڈ اور پلاٹ جیسی سہولیات دستیاب کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جو بھی ہو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت میں ایک وقت میں بہت سے لوگوں کو زور زبردستی سے اسلام قبول کرایاگیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی تمام مسلم یہ قبول کرتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد ہندو تھے لیکن ان کی’’ گھر واپسی‘‘ کبھی بھی آسان نہیں رہی۔ ایک کڑوی سچائی یہ بھی ہے کہ غریبوں کی خدمت کے نام پر سرگرم عیسائی مشنریوں نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو طرح طرح کے لالچ دے کر عیسائی بنایا۔ یہ کام تو ابھی بھی نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں چل رہا ہے۔ان حقائق کے باوجود ہندو تنظیمیں ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر ایسا کچھ کریں جس سے تنازع پیدا ہو، صحیح نہیں مانا جاسکتا۔ عبادت کا طریقہ ایک شخصی معاملہ ہے جہاں نہ تو زور زبردستی چلنی چاہئے اور نہ ہی لالچ وغیرہ۔اس سے بھاجپا کو فائدہ نہیں ہونے والا ہے الٹا نقصان ہی ہوگا۔ وکاس کے نعرے پر اپنی پہچان بنانے میں جٹی بی جے پی کو تبدیلی مذہب کے معاملے میں زیادہ فائدہ نہیں ہونے والا۔ پارٹی کو لگ رہا ہے کہ اس سے اسکا ایجنڈا پٹری سے اتر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی کوشش ہے کہ یہ معاملہ جلد نپٹنا چاہئے۔ تبدیلی مذہب کا ایک ایسا ہی پروگرام 25 دسمبر کو علیگڑھ میں منعقدہ کیا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ وہاں کئی عیسائی خاندان اپنی مرضی سے ہندو دھرم اپنائیں گے۔تبدیلی مذہب بیحد حساس معاملہ ہے ہمارے دیش میں کسی بھی شخص کو کوئی بھی دھرم اپنانے کی آزادی آئین سے ملی ہوئی ہے۔ کوئی چاہے تو وہ اپنا دھرم بدل سکتا ہے لیکن اس کے لئے کچھ قانونی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ دھرم بدلنے سے پہلے اس بات کی اطلاع باقاعدہ انتظامیہ کو دینی ہوتی ہے۔ دباؤ کا لالچ دیکر تبدیلی مذہب قانون کے خلاف ہے۔اترپردیش میں چونکہ چناؤ ہونے والے ہیں ایسے میں راجیہ کی کچھ مخالف پارٹیوں کو لگتا ہے کہ انہیں سیاسی طور پر اس سے فائدہ ہوگا۔ ہمارا تو بس اتنا کہنا ہے کہ جو کچھ ہو وہ دیش کے قانون کے تحت ہی ہو۔
(انل نریندر)

امریکی سینیٹ نے سی آئی اے کو کٹہرے میں کھڑا کیا!

یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 9/11 کے بعد امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے گوانٹاناموبے کے نام سے مشہور جیل میں بہت بربر طریقے سے گرفتار مبینہ دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ کی۔ اس پر کئی فلمیں بھی بن گئی ہیں۔ میں نے ایسی فلمیں دیکھی ہیں اور دیکھنے پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اب امریکی سینیٹ نے سی آئی اے کو9/11 کے بعد بربر طریقے سے پوچھ تاچھ کا ملزم ٹھہرایا ہے۔امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس خدمات سے متعلقہ پارلیمانی کمیٹی نے اس شخص کی تصدیق کردی ہے جس کے بارے میں کافی الزام لگ رہے تھے۔ کمیٹی نے کہا کہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور اقتدار میں سی آئی اے نے دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے لوگوں پر پوچھ تاچھ کے دوران تشدد کیا اور اس کے کچھ طریقے بہت ہی ظالمانہ تھے۔چونکانے والا پہلو یہ بھی ہے کہ سی آئی اے نے امریکی سنسد اور سرکار دونوں سے یہ بات چھپائی اور ہمیشہ یہی دعوی کیا کہ اس کے طریقے پوری طرح انسانی تھے۔ سینیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے ملک کو بربر طریقے سے پوچھ تاچھ کے بارے میں گمراہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پوچھ تاچھ بہت ہی خراب ڈھنگ سے کی گئی اور اس کے ذریعے جو جانکاری جٹائی بھی گئی وہ بھروسے کے قابل نہیں تھی۔9/11 کے بعد کچھ گرفتاریوں اور پوچھ تاچھ کے پروگرام کی جب بہت زیادہ تنقید ہوئی تو صدر براک اوبامہ نے اس کو بند کرنے کا حکم دیا۔ امریکہ کے سابق نائب صدر ڈک چینی نے سی آئی اے کے سمرتھن میں کہا کہ دیش کی حفاظت کے لئے کچھ سختی برتنا ضروری ہے اور اس سختی سے بہت اہم جانکاریاں حاصل ہوئیں۔ اسی جانکاری کی وجہ سے اسامہ بن لادن کو ختم کیا جاسکا تھا۔ حالانکہ سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی نے اس بات کو غلط قراردیا ہے اور ذیادتیاں کرنے سے اہم جانکاری ہاتھ لگی ہے یا لادن تک پہنچنے میں ایسے طریقوں کا کوئی عمل دخل ہے۔ رپورٹ پر رد عمل میں اقوام متحدہ نے امریکہ سے کہا ہے کہ مجرم افسران پر مقدمہ چلایا جائے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بین انڈرسن نے کہا کہ رپورٹ سے صاف ہے کہ بش انتظامیہ کے دوران نیتیاں اس طرح سے بنائی گئیں جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔ادھر سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے زور دے کر غلطیوں کے باوجود القاعدہ کے مشکوکوں کے خلاف استعمال کئے گئے طریقوں سے حملے رکے اور امریکیوں کی جانیں بچیں۔ اوبامہ نے راشٹرپتی بننے کے بعد 2009ء میں اس طرح کے پوچھ تاچھ پروگرام پر روک لگا دی تھی اور گوانتاناموبے کو بند کرنے کے حکم دے دئے تھے۔اس پوچھ تاچھ میں قیدیوں کے سر کو پانی میں ڈبونا، انہیں بے عزت کرنا اور سونے نہ دینے جیسے طریقے شامل تھے۔ ڈیموکریٹ ممبر کی اکثریت والی سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی نے کئی سالوں کی ریسرچ کے بعد اس رپورٹ کو تیار کیا ہے۔ امریکہ میں بھی اس رپورٹ کو لیکر کافی وبال ہورہا ہے۔ حالانکہ دوسری طرف ہمارے سامنے آئی ایس جیسی تنظیمیں بھی ہیں جو کھلے عام لوگوں کا سر قلم کررہے ہیں اور انہیں دکھا بھی رہے ہیں۔جب دہشت گرد لوگوں کے سر کاٹنے کا ویڈیو نشر کررہے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ سی آئی اے کی سرگرمیوں کے تئیں بھی لوگوں میں سمرتھن بھاؤ پیدا ہو۔لیکن امریکہ ایک تہذیب یافتہ دیش ہے اور آئی ایس ایک بربر آتنک وادی سنگٹھن ، پوچھ تاچھ کے طریقے بھی تہذیبی ہونے چاہئیں۔ کم سے کم امریکہ سے تو یہی امید کی جاتی ہے۔
(انل نریندر)

12 دسمبر 2014

روس سے بھارت کی خصوصی نیوکلیائی سانجھے داری ،صدر پتن کا خیر مقدم ہے!

ہندوستان کے ساتھ رشتوں کو خصوصی نیوکلیائی سانجھے داری قرار دیتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پتن نے منگل کو اپنے دورۂ ہند سے پہلے بھارت ۔ روس رشتوں میں گرمجوشی کو ختم ہونے کو غلط ثابت کرنے کے ارادے سے ہندوستان دورے پر تشریف لائے۔ ہم صدر پتن کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ روس ایک بھروسے مند اور وقت پر کھرا اترنے والا دیش ہے۔ جس نے ہندوستان کو کبھی بھی مایوس نہیں کیا۔ ہاں پچھلے کچھ دنوں سے دونوں ملکوں کے دہائیوں پرانے رشتوں پر سنکٹ کے بادل ضرور آئے ہیں۔بھارت کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی صدر پتن کو ایک اہم ذمہ داری کا بوجھ کا احساس ہو رہا ہوگا کہ دونوں ملکوں کے دہائیوں پرانے رشتے پر خدشات کے بادلوں کو کیسے دور کیا جائے؟ یوکرین معاملے میں امریکہ سمیت مغربی ممالک نے روس پر جو اقتصادی پابندیاں لگائی ہیں وہ پریشان کرنے والی ہیں۔ پیٹرول کی قیمت پر بھاری گراوٹ نے اس چبھن کو ایسے درد میں تبدیل کردیا ہے جس سے راحت کا راستہ فوری نکالنا پتن کے لئے ضروری بن گیا تھا۔ چیلنجوں کی ان گھڑیوں میں نظر اپنوں کو ہی تلاشتی ہے۔ بھارت سے بہتر اور پرکھا ہوا دوست کون ہوسکتا ہے روس کے لئے۔روس نے نہ صرف بھارت کے ڈیفنس سازو سامان کا سب سے بڑا بازار بن گیا ہے بلکہ ترقی کے پانچ سالہ منصوبے تک ہم نے اس کے تجربوں کو شیئر کیا تھا۔ اس رشتے کی اصل آزمائش1971ء میں پاکستان سے جنگ کے دوران ہوئی تھی ، جب ہمیں ڈرانے کیلئے امریکہ کے بھیجے بحری جنگی بیڑے سوینت فلیٹ کے جواب میں روس نے اپنے جگی جہاز اتارنے کا اعلان کردیا تھا۔ روس سے اب تک ہمارے رشتوں کی بنیاد ڈیفنس سازو سامان جنگی جہازوں اور دیگر جہازوں کی خرید پر ٹکی تھی وہ پروڈیوسر تھااور ہم اس کے سب سے بڑے خریدار ہوا کرتے تھے لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ ہم اب خریدار سے پروڈکٹ کرنے والے بن گئے ہیں اور اسی حیثیت میں آگے بھی بڑھنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ’میک اِن انڈیا‘ مہم سے اس کا آغاز کردیا ہے۔صدر پتن نے اسے بھانپ لیا ہے اور اس لمحے میں وہ مشترکہ ڈیفنس پروڈکشن کو آگے بڑھائے۔ روس پیٹرول اور گیس کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے اور بھارت کی توانائی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اہل ہے۔ ایٹمی بھٹیوں کے سودے میں سکیورٹی سے متعلق ہمارے قانون پر امریکہ اور مغربی دیشوں کو بھلے ہی پریشانی ہو لیکن روس کو کبھی بھی پریشانی نہیں ہوئی۔ پتن بھارت میں نیوکلیائی بجلی کی سیریز بنانے کا خواہشمند ہے۔ روس کے اشتراک سے بنے کڈن کلم بجلی گھر کی ایک یونٹ سے پروڈکشن شروع ہوگئی ہے جبکہ دوسری یونٹ شروع ہونے والی ہے۔ وزیر اعظم مودی کو پتن کے دورے کے دوران اس بات پر بھی توجہ مرکوز کرنے ہوگی کہ 26 جنوری کو امریکہ کے صدر مسٹر براک اوبامہ تشریف لا رہے ہیں۔ روس اورا مریکہ میں بھارت کے رشتوں کو متوازن بنانے کی چنوتی ہوگی۔ ویسے ہمیں یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ امریکہ پر ہم اتنا بھروسہ نہیں کرسکتے جتنا روس پر کرتے ہیں۔ہم پتن صاحب کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

افسوس نربھیا کانڈ سے کوئی سبق نہیں لیا!

یہ دوسری نربھیا ہے جس کی جان بچ گئی ۔ ورنہ16 دسمبر 2012ء کی اس خوفناک رات کی طرح اس نربھیا کے ساتھ بھی رونگٹے کھڑے کردینے والی حیوانیت کا مظاہرہ ہوسکتا تھا۔دل دہلادینے والا یہ واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق گوڑ گاؤں کی فائننس کمپنی میں ملازم یہ لڑکی ذرا سی ہوشیاری سے بچ گئی۔ یہ انکشاف جانچ کے دوران سامنے آیا ہے۔ کیب میں آبروریزی کی واردات کو انجام دینے سے پہلے ملزم شیو کمار یادو نے لڑکی کو اس قدر پیٹا تھا کہ اس کا منہ سوجھ گیا۔ملزم نے16 دسمبر2012ء کی اس رات نربھیا جیسا حال بنانے کی لڑکی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے جسم میں لوہے کا سریا ڈال دے گا۔ ملزم شیو کمار نے لڑکی کو قتل کرنے کی دھمکی دی لیکن لڑکی نے ہوشیاری دکھائی اور اس وقت وہ چنگل سے بچنے کیلئے روتے بلکتے ہوئے جیسے تیسے جھانسہ دیکر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ واقعہ بتاتا ہے کہ دو برس پہلے چلتی بس میں نربھیا کے ساتھ ہوئے ذیادتی کے بعد بنے سخت قانون کے باوجود حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس شرمناک واقعہ کے بعد بیشک پولیس نے 48 گھنٹوں کے اندر ہی ملزم کو پکڑ لیا، مگر اصلی اشو تو عورتوں کی سلامتی کا ہے جسے لیکر پولیس اور انتظامیہ و ہمارا سماج ناکام رہا ہے۔ دہلی میں عورتوں کے خلاف جرائم میں الٹے اضافہ ہورہا ہے۔ دہلی پولیس روز ایسے 40 مقدمات درج کرتی ہے۔ پولیس اسٹیشنوں میں ہر دن کم سے کم 4 معاملے آبروریزی کے آ رہے ہیں جبکہ چھیڑ چھاڑ ، جنسی ہراسانی، گھریلو مارپیٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تازہ اعدادو شمار کے مطابق اس سال15 نومبر تک عورتوں کے خلاف جرائم کے اب تک 1323 معاملے درج ہوئے جبکہ اسی دوران پچھلے سال یہ تعداد11479 تھی۔ 
مرکزی وزیر مملکت داخلہ ہری بھائی چودھری نے راجیہ سبھا میں اٹھے ایک سوال کے جواب میں ان اعدادو شمار کو رکھا ہے۔ اس لحاظ سے اگر دہلی کو ریپ کیپٹل کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ جب بھی ہوئی خوفناک واقعہ رونما ہوتا ہے خاص کر آبروریزی ، تو عام لوگ ہی نہیں ذمہ دار بلکہ سرکاری عہدوں پر بیٹھے لوگ بھی لاپروائی کے انداز میں آجاتے ہیں۔نربھیا گینگ ریپ کانڈ میں جو غصہ آبروریزوں کے خلاف نظر آیا تھا ویسا ہی غصہ آج ملزم کیب ڈرائیور اور کیب کمپنی اوبر کے خلاف دکھائی پڑرہا ہے۔ لیکن کم ہی لوگوں کی توجہ اس طرف گئی ہے۔ دو سال کی اس میعاد میں سڑکوں کو لڑکیوں کے لئے محفوظ بنانے کے نقطہ نظر سے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا جاسکا۔ پولیس اور انتظامیہ مشینری کا نظریہ الٹا بگڑا ہوا دکھائی پڑتا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کئی ملکوں میں اپنی خدمات دینے والی اوبر کمپنی کی جس ٹیکسی میں جو بربریت دکھائی گئی اس میں جی پی ایس سسٹم تو چھوڑیئے اس کے پاس دہلی میں ٹیکسی چلانے کا پرمٹ تک نہیں تھا۔ اس لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر بدفعلی کرنے والا شیو کمار اس سے پہلے بھی اپنی ٹیکسی میں بدفعلی کے معاملے میں جیل کی ہوا کھا چکا ہے اس کے باوجود کمپنی نے اسے پھر رکھ لیا؟ بیشک محکمہ ٹرانسپورٹ نے اوبر کی ٹیکسیوں پر دہلی میں روک لگادی ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ اب تک نیشنل پرمٹ کے نام سے کاروبار کرتی ہے۔ پچھلے ایک دہائی میں راجدھانی میں چلتی گاڑی میں بدفعلی کے کئی واقعات ہوچکے ہیں جن میں 2010ء کا ڈھولاکنواں معاملہ بھی ہے جس میں اسی برس اکتوبر میں پانچ لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے۔ اس واردات کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ بدفعلی کے معاملے میں سزائے موت جیسا سخت قانون بھی عورتوں کو محفوظ نہیں بنا سکا۔لیکن صرف پولیس انتظامیہ کو الزام دینے سے سخت سے سخت قانون بنانے سے معاملہ حل ہونے والا نہیں۔ جب تک سماج اسے روکنے کے لئے آگے نہیں آتا ایسے معاملات ہوتے رہیں گے۔ کچھ ٹھوس کرنا ہوگا کیونکہ اکیلے دہلی میں ہی نہیں بلکہ تمام میٹرو شہروں میں عورتیں نوکری کے لئے راتوں میں اکیلے سفر کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ تکلیف سے کہنا پڑتا ہے کہ نربھیا کانڈ سے بھی دہلی میں حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
(انل نریندر)

11 دسمبر 2014

اب ٹیم انڈیا میں بدلے گا 65 برس پرانا پلاننگ کمیشن!

کانگریس حکمراں ریاستوں کے رسمی احتجاج کے باوجود نریندر مودی حکومت نے پلاننگ کمیشن کا ڈھانچہ بدلنے کی سمت میں فیصلہ کرلیا ہے۔ پلاننگ کمیشن اپنی عمر کا 65 واں سال شاید پار نہ کرپائے۔ پہلے وزرائے اعلی کی میٹنگ میں پھر اخباری کانفرنس میں وزیر مالیات ارون جیٹلی نے پلاننگ کمیشن کے بے جواز کو جس طرح سے پیش کیا ہے اس سے شاید ہی کوئی متفق ہو۔ قلیل المدتی ترقی کے لئے پلان بنانے کیلئے اور ریاستوں و مرکز کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کیلئے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے س ادارے کی تشکیل کی تھی۔ اس نے ابتدا میں کچھ دہائیوں تک بیشک ترقی کے کام میں اہم کردار نبھایا تھا لیکن یوپی اے سرکار کے پچھلے10 سال میں اسے مرکز کی ایک ایجنسی کی شکل میں کام کرتے ہوئے زیادہ دیکھا گیا جہاں مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں سے امتیاز برتنا شروع کردیا تھا۔ ریاستوں کا پیسہ ریاستوں کی ترقی کے لئے دیتے ہوئے بھی یہ پلاننگ کمیشن ایسے پیش آتا تھا جیسے کوئی احسان کررہا ہو۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پلاننگ کمیشن کو ٹیم انڈیا کی طرح بدلنے کی خانہ پوری کردی ہے اور اس کا سبھی وزرائے اعلی نے خیر مقدم کیا ہے۔ وزرائے اعلی کی عام رائے تھی کہ پلاننگ کمیشن کو ایسے ادارے کی شکل دی جائے جس میں ریاستوں کی مناسب سانجھے داری ہو اور ان کی ضرورتیں ادارے کے فیصلوں میں جھلکیں۔ موجودہ پلاننگ کمیشن کے ڈھانچے کی اسکیم ہم نے 50کی دہائی میں اس وقت سوویت روس میں رائج سسٹم سے لیا تھا جو کہ دہلی کی ہدایت اور کنٹرول سسٹم پر منحصر تھی۔ اس سسٹم کی سب سے بڑی جو خامیاں تھیں ان میں ریاستوں کو اپنا موقف رکھنے کی گنجائش اور ان کی خاص ضرورتوں پر توجہ دینے کی گنجائش انتہائی محدود تھی۔ 90 کی دہائی میں اقتصادی اصلاحات کے دور کے بعد دیش کی وقت کے ساتھ بڑھتی ضروریات سے قدم سے قدم ملا کر چلنے میں پلاننگ کمیشن مسلسل ناکامی کی طرف مائل رہا۔ 10 برسوں تک اس پلاننگ کمیشن کے چیئرمین رہ چکے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی رائے دی تھی کہ بازار پر انحصار اور آج کی اصلاحاتی اور کھلی معیشت کے ساتھ ساتھ تال میل بٹھانے کیلئے پلاننگ کمیشن کو اپنے طرز فکر میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حالیہ برسوں میں گجرات، مہاراشٹر، بہار ، ہریانہ یا کچھ دیگر ریاستوں نے توقع سے بہتر اقتصادی ترقی حاصل کی ہے۔ وہ تو مرکزیت کے ساتھ اور پلاننگ کمیشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ان ریاستوں کی حکومتوں کی کوشش کے بوتے پر ممکن ہوئی ہے کیونکہ وزیراعلی رہتے ہوئے خود نریندر مودی نے پلاننگ کمیشن کے جانبدارانہ رویئے کو قریب سے محسوس کیا تھا۔ لہٰذا اس کے موجودہ خاکے میں تبدیلی لانے کے ان کا عزم جائز ہو سکتا ہے۔ پلاننگ کمیشن کی جگہ نئے اداروں میں ریاستوں کی سانجھے داری زیادہ ہوگی۔ مرکز کے ساتھ ریاستوں کی حکومتوں کو بھی پلان بنانے میں حصہ داری کا موقعہ ملے گا۔ مالی معاملوں میں بھی ریاستوں کے نظریئے اور ضرورتوں کا خیال رکھا جائے گا۔ نئے ادارے کا ڈھانچہ ایسا ہوگا جس میں مرکز، ریاستیں اور کمیشن ایک ٹیم کی شکل میں کام کریں گی۔ کوئی بھی تبدیلی بہتر نتیجے لانے کے لئے ہونی چاہئے کسی کو کمتر بتانے کے لئے نہیں۔ پلاننگ کمیشن کی جگہ کوئی بھی ادارہ بنے وہ مستقبل میں آنکھ بند کر کام نہیں ہوپائے گا۔
(انل نریندر)

کیجریوال کیخلاف ’عام‘ آدمی پارٹی میں بغاوت!

چناؤ میں ہر پارٹی میں باغیوں کی فوج پریشانی کا سبب بنتی ہے اور یہ سبھی پارٹیوں میں ہوتا آیا ہے لیکن عام آدمی پارٹی کے اندر اروند کیجریوال اینڈ کمپنی کیلئے یہ بغاوت خاصی درد سر بنی ہوئی ہے۔ کیجریوال کیلئے اس سے نمٹنے کی چنوتی ہے۔ امیدواروں کی دوسری فہرست میں جن سابق ممبران کے نام نہیں ہیں ان کا نام بھی کٹنا تقریباً طے مانا جارہا ہے۔ ایسے میں باغیوں کی فوج میں کچھ اور لوگ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی سے استعفیٰ دیکر شاذیہ علمی بھاجپا کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہیں۔ ’آپ‘ میں شاذیہ ایک واحد مسلم خاتون تھیں۔ شاذیہ کے جانے کے بعد عام آدمی پارٹی میں اب کوئی جانا پہچانا مسلم چہرہ نہیں ہے۔ ’آپ‘ کے بانی ممبر اشونی اوپادھیائے بھی بھاجپا میں شامل ہوچکے ہیں۔ بھاجپا نے اشونی کو ترجمان بنا کر کیجریوال کے خلاف تلوار چلانے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔جنگپورہ سے اسی پارٹی کے سابق ممبر اسمبلی اور اسمبلی اسپیکر ایم ایس دھیر بھی بھاجپا میں لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے بھی کیجریوال کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ امبیڈکر نگر سے عام آدمی پارٹی کے سابق ممبر اسمبلی اشوک بھاجپا میں شامل ہوچکے ہیں وہ بالمیکی سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری طرف آپ سے وابستہ کرن سنگھ نے کیجریوال کے خلاف ایک مہینے تک جنتر منتر پر مون برت رکھا۔ کرن سنگھ سینکڑوں پرانے ورکروں کے ساتھ اروند کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ ’آپ‘ سے انکار پر عام آدمی سینا کی تشکیل کرنے اولے پربھات کمار بھی مسلسل کیجریوال پر سنگین الزام لگاتے ہوئے نکتہ چینی کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی سے معطل لکشمی نگر سے سابق ایم ایل اے ونود کمار بنی نے تو کیجریوال کے خلاف نئی دہلی اسمبلی سیٹ سے چناؤ لڑنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ حالانکہ پٹیل نگر سے ٹکٹ کٹنے کے بعد ابھی وینا آنند نے کیجریوال کے خلاف منہ نہیں کھولا لیکن ذرائع کی مانیں تو جن سابق ممبران کے نام امیداوروں کی دوسری فہرست میں شامل نہیں کئے گئے ان کا ٹکٹ کٹنا تقریباً طے مانا جارہا ہے۔ بہرحال ٹکٹ کٹنے پر کچھ اور سابق ممبر اسمبلی بھی بھاجپا میں آسکتے ہیں۔ اگر وہ بھاجپا میں شامل نہیں ہوتے تو کیجریوال کے خلاف ضرور مخالفانہ پروپگنڈہ کریں گے جس کا فائدہ بھاجپا کو ہوسکتا ہے۔ ’آپ‘ پارٹی کے ذرائع کا دعوی ہے جن سابق ممبران کے ٹکٹ کیجریوال کاٹ رہے ہیں ان کے پاس ان کے خلاف کافی ثبوت اور مواد ہے جس کا استعمال وہ اس وقت کریں گے جب یہ سابق ممبر اسمبلی کیجریوال پر حملہ کریں گے۔ کیجریوال اینڈ کمپنی کی پارٹی اس بغاوت سے زیادہ فکر مند نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی اور کیجریوال کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان باغیوں کی فوج سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ باغیوں کی فہرست اور لمبی ہوسکتی ہے جب باقی لوگوں کا ٹکٹ کٹنے کا اعلان ہوگا۔ ابھی چناؤ دور ہیں دیکھیں پولنگ کی تاریخ اعلان ہونے پر کیا حالات بنتے ہیں؟ لڑائی بھاجپا اور عام آدمی پارٹی کے درمیان ہوگی۔ کانگریس ابھی تک کہیں بھی سین میں نہیں ہے۔
(انل نریندر)

10 دسمبر 2014

لوک عدالتوں نے ایک دن میں سوا کروڑ مقدمے نپٹاکر ورلڈ ریکارڈ بنایا!

دیش بھر کی تمام عدالتوں میں سنیچر کے روز لگی دوسری قومی لوک عدالت نے ایک ہی دن میں 1.25 کروڑ سے زیادہ مقدمات کو نپٹاکر ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ قومی جوڈیشیل سروس اتھارٹی کے مطابق اس مہم میں ایک ہی دن میں دیش میں التوا میں پڑے مقدمات میں 9 فیصدی کی گراوٹ آئی ہے۔ اس کے علاوہ لوک عدالت نے ٹرانسپورٹ حادثات میں تین ہزار کروڑ روپے کے دعوؤں کو بھی نپٹایا ہے۔ پچھلے سال شروع ہوئی قومی لوک عدالت نے دیش بھر کے71.50 لاکھ مقدمات کا نپٹارا کیا گیا تھا۔ اتھارٹی کے مطابق ایک دن میں اتنے زیادہ مقدمات کا نپٹارا آج تک کسی بھی دیش میں نہیں ہوا۔ جن معاملوں میں سب سے زیادہ نپٹان ہوا ان میں بینک قرضوں کی وصولی، سڑک حادثے، چیک باؤنس اورخاندانی معاملے وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ لوک عدالت میں ان معاملوں کو لیاگیا جو طویل عرصے سے التوا میں تھے۔ مقدمہ داخل کرنے کی پہلے کی حالات میں تھے۔لوک عدالت کے ذریعے سپریم کورٹ کے سامنے رکھے گئے53 معاملوں میں سے 28 کا فیصلہ ہوا۔ سنیچر کی صبح سپریم کورٹ کمپلیکس میں دوسری لوک عدالت کا آغاز جسٹس اے ۔آر دوی نے کیا۔ اس موقع پر جسٹس دوے صاحب نے اپیل کی کہ لوگ اپنی ضد کو چھوڑ کر فراخدلی دکھاتے ہوئے معاملوں کا تصفیہ کریں۔ راجدھانی دہلی میں لوک عدالت نے التوا میں پڑے 62 ہزار مقدموں کا نپٹارا کیا۔ آپسی بات چیت کے ذریعے لوک عدالت میں ڈائریکٹ ٹیکس کے مقدمات میں قریب65 کروڑ روپے کی معاہدہ رقم بھی دی گئی ہے۔ ان مقدمات میں دیوانی، چیک باؤنس، بجلی، ٹریفک، سڑک حادثے، چھوٹے موٹے مجرمانہ و جہیزی معاملے بھی شامل تھے۔دہلی ہائی کورٹ ضلع عدالتوں پٹیالہ ہاؤس ، تیس ہزاری، کڑکڑ ڈوما، روہنی، ساکیت و دوارکا میں تقریباً90 ہزار معاملوں کی سماعت ہوئی۔ ان میں سے61951 مقدموں کا نپٹارا آپسی بات چیت اور سمجھوتہ رقم کے تبادلے کے ساتھ ہوگیا۔ جن معاملوں میں دونوں فریقوں میں رضامندی نہیں ہو پائی انہیں واپس متعلقہ عدالتوں میں سماعت کیلئے منتقل کردیا گیا۔ سنیچر کو مختلف عدالتوں میں 201 جج بیٹھے اور 26 کروڑ53 لاکھ روپے کی سمجھوتہ رقم دی گئی۔ دیوانی اور سڑک حادثوں کے مقدمات میں یہ پیسہ لیا اور دیا گیا۔ سپریم کورٹ کی اس پہل کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ دیش میں کروڑوں مقدمات التوا میں پڑے ہیں۔ تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہے ان میں سے زیادہ تر مقدمے خاندانی جھگڑے اور چوری وغیرہ کے ہوتے ہیں جن کا نپٹارا ایک دو پیشی میں ہوسکتا ہے۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بند ہیں یا تو وہ چوری کے مقدمے میں یا موبائل چوری یا چھوٹے چھوٹے جرائم میں ملوث تھے۔ ان کی جیل کے اندر کبھی اتنی لمبی تاریخ ہوجاتی ہے جتنی سزا نہیں ہوتی اتنے وقفے تک رہنے سے ان کے روابط خطرناک جرائم پیشہ سے قائم ہوجاتے ہیں اور ان کی اصلاح ہونے کی بجائے وہ شاطر بدمعاش بن کر نکلتے ہیں۔ سپریم کورٹ کو اس مسئلے پر بھی بلا تاخیر توجہ دینی ہوگی۔
(انل نریندر)

مزدوروں کی ہڑتال سے پی ایم مودی کے’ میک اِن انڈیا‘ کو دھکا لگے گا!

جس طرح سے مختلف سیکٹروں کے مزدور ہڑتال پر جانے کیلئے آمادہ ہیں اس سے جہاں دیش میں پروڈکشن پر اثر پڑتا ہے وہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی ’میک اِن انڈیا‘ مہم کو بھی دھکا لگ سکتا ہے۔ پچھلے دنوں بینکوں کی ہڑتال نے پوری معیشت کو دھکا پہنچایا۔ اب اگر لاکھوں مزدور ہڑتال کے پلان پر عملی جامہ پہنادیں تو پبلک اور پروڈکشن کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان میں کوئلہ بندرگاہ ،ڈیفنس پروڈکشن کارخانے اور ریل میں کام کرنے والے بچہ مزدور 11 دسمبر کو بڑی ہڑتال کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ بینک نے 2 دسمبر سے 5 دسمبر تک الگ الگ شہروں میں ہڑتال کی تھی۔ممبئی میں ہڑتال ٹالنے کیلئے پیر کو ڈپٹی چیف لیبر کمشنر نے بینکوں کی یونین کی میٹنگ بلائی لیکن وہ بے نتیجہ رہی۔دوسرے سیکٹروں کے ملازمین ایف ڈی آئی، بزنس اور سرکار کی مزدور مخالف پالیسیوں کے خلاف ہڑتال کرنا چاہتے ہیں۔ اس بار کی ہڑتال بڑی ہوسکتی ہے کیونکہ سبھی سیاسی پارٹیوں کی مزدور تنظیمیں ایک ساتھ آگئی ہیں۔ اس کے بڑھنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں کئی سیکٹروں کے مزدور شامل ہوسکتے ہیں۔ کوئلہ مزدور یونینوں نے دہلی میں دوسری انجمنوں سے کہا ہے کہ وہ کوئلہ پروڈکشن ٹھپ کرنے پر غور کررہی ہیں۔ وہیں بندرگاہ پر کام کاج کرنے والے 46 ہزار مزدوروں کی تنظیم کہہ رہی ہے کہ وہ مال کی ڈھلائی اور اترائی بند کرسکتے ہیں۔ڈیفنس پروڈکشن کی انجمنیں بھی ہڑتال پر جانے کی تیاری میں ہیں۔ دوسری تنظیمیں بھی اس کے ساتھ ہیں۔ ڈاک محکمے کے ملازمین نے بھی اسی طرح سے تعاون دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ہڑتال کو لیکر دہلی میں مسلسل میٹنگیں ہورہی ہیں۔11 دسمبر کو ہڑتال کی تاریخ طے کرنے کے لئے ساری مزدور فیڈریشن کی بڑی میٹنگ دہلی میں رکھی گئی ہے۔ نئے محنت اور روزگار وزیر ونڈارو دتہ کی مزدور یونینوں کے ساتھ پہلے دور کی بات چیت ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے تو وزیر کی اپیل کو بھی نامنظور کردیا ہے۔ 
مودی سرکار کے خلاف ملک گیر مظاہرے نہیں کئے جائیں انٹیک کے چیئرمین سنجیوا ریڈی کہتے ہیں کہ سرکار کے مزدور مخالف چہرے کو عوام کے بیچ مل کر اجاگر کیا جائے گا۔ اس کے ایک نیتا گوروداس داس گپتا اور سیٹو کے لیڈر تپن سین کا کہناہے کہ سڑک پر نہیں پارلیمنٹ میں مزدوروں کی آواز بلند کی جائے گی۔ کوئلہ مزدوروں کا معاملہ پچھلے دنوں مارکسوادی پارٹی کے ایم پی تپن سین نے راجیہ سبھا میں بھی اٹھایاتھا۔ وہیں ایم ایم ایس کے سکریٹری جنرل ایم۔ ایس سدھو نے کہا کہ ریل ملازم بے میعادی ہڑتال پر جانے کی تیاری کررہے ہیں اور کوئلہ بندرگاہ ڈیفنس پروڈکشن، کارخانوں اور ڈاک سمیت کئی سینکڑوں کی مزدور یونینیں ساتھ ہیں اس لئے اس بار کی ہڑتال اب تک کی سب سے بڑی ہوگی۔ امید کی جاتی ہے کہ وقت رہتے مودی حکومت ہڑتال کو ٹالنے اور مزدوروں کی انجمنوں کی جائز مانگوں پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ہڑتالوں سے چوطرفہ نقصان ہوتا ہے، فائدہ کسی کو نہیں ہوتا۔
(انل نریندر)

09 دسمبر 2014

اوبامہ کے دورہ ہند سے پہلے تیز ہوئے آتنکی حملے!

کشمیر میں جمعہ کو ہوئے خوفناک دہشت گردانہ حملوں سے اس وقت ملک بھر میں پوری طرح الرٹ ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی مانیں تو اب راجدھانی دہلی پر آتنک وادی حملے کا خطرہ منڈرارہا ہے۔ جموں و کشمیر میں دو مرحلوں میں ہوئی پولننگ سے آتنک وادی بوکھلا گئے ہیں۔ جہاں جہاں حملے تیز کر لوگوں کے حوصلے پست کرنے میں لگ گئے ہیں اس کے ساتھ ہی ان کی کوشش ہے کہ عام لوگوں کو اتنا خوفزدہ کردیا جائے تاکہ وہ پولنگ مراکز پر پہنچنے میں ہچکچائیں۔ اگلے مرحلے کی پولنگ9 دسمبر کو ہے اور وزیراعظم نریندر مودی پیرکو کشمیر پہنچے۔اس سے پہلے بری فوج کے سربراہ جنرل دلبیرسنگھ سہاگ نے شہیدجوانوں کو شردھانجلی پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کی قربانی ذائع نہیں جائے گی۔ فوجی حکام کے ساتھ میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ دراندازوں کو کسی بھی حالت میں سرحد پار نہ کرنے دی جائے گی اورانہیں کنٹرول لائن پر ہی مار گرادیا جائے۔ وادی میں امن اور جمہوریت کے ماحول کو بگاڑنے کی ہر ممکنہ سازش کو پوری طاقت سے ناکام کیا جائے۔ پوری میں مارے گئے آتنک وادیوں کے پاس سے برآمد سامان کی جانچ پڑتال سے پتا چلا ہے کہ سامان پاکستان میں تیار کیا گیا تھا۔ بھارت کے پاس اس بات کے بھی پختہ ثبوت ہیں کہ لشکر طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین چاہتے ہیں کہ وادی کے ساتھ ہی دیش کے دیگر حصوں میں دہشت گردانہ واقعات بڑھیں۔ کشمیر کے بعد ان کا سب سے بڑا نشانہ ہندوستان کی راجدھانی دہلی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی مانیں تودہلی میں بڑے آتنک وادی حملے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔ خطرہ کتنا بڑا ہے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے نارتھ ڈسٹک نے اس خطرے سے نمٹنے کے لئے اب تک سب سے بڑے حفاظتی انتظامات کے تحت اسپیشل کمانڈو کو اتاردیا ہے۔ اے۔کے47 اور ایم ۔ پی5 جیسے جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح اس ٹیم کا ایکشن منٹ میں نہیں بلکہ سکنڈروں میں ہوگا۔ آتنکی حملہ ہونے پر ان کے پاس سیدھے گولی مارنے کے آدیش ہیں۔ جموں و کشمیر میں جمعہ کو ہوئے حملوں کو دیکھتے ہوئے بیحد سنجیدگی سے اس لئے بھی لیا جارہا ہے کیونکہ یومیہ جمہوریہ پر امریکی صدر براک اوبامہ تشریف لا رہے ہیں اور آتنک وادیوں اور ان کے سرغناؤں کی اوبامہ کے دورہ ہند سے پہلے دہلی کو دہلانے کا منصوبہ ہے۔ خفیہ محکموں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدر کے دورۂ ہند سے پہلے دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ دہلی میں ممبئی میں 26/11 جیسی واردات کو انجام دے سکتے ہیں جس سے اوبامہ کو بھارت آنے سے روکا جاسکے۔ ہماری سکیورٹی ایجنسیاں خفیہ ایجنسیوں کو اگلے کچھ دنوں تک کلی طور پر چوکس رہنا ہوگا۔کنٹرول لائن کشمیر وادی اور نئی دہلی اور تینوں مقامات پر حملے ہوسکتے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں مقامی لوگ آتنک واد سے جڑ رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ جمعہ کو تابڑ توڑ حملوں میں جموں و کشمیر میں پچھلے 7-8 برسوں میں ایک بھی حملہ نہیں ہوا تھا لیکن اب ایک دن میں ہی چار حملے کردئے گئے اور اتنے سکیورٹی جوانوں کی موت بھی نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان دراندازی کرانے پر تلا ہوا ہے۔ حکومت کی طرف سے سخت جواب دینا ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے بری فوج کے جنرل سہاگ کو ہر طرح کی جوابی کارروائی کرنے کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔
(انل نریندر)

کرپشن اور رشوت خوری میں کمی آئی ہے!

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی چناؤ مہم کے دوران ہندوستان کے شہریوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو ملک میں کرپشن اور سرکار میں شفافیت ان کی سب سے زیادہ چلی ہوگی۔ یہ تشفی کی بات ہے کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان دونوں مسئلوں پر حکومت ابھی تک کھری اتری ہے۔ دیش میں کرپشن کم ہوا ہے۔ کرپشن کے سطح کا تجزیہ کرنے والے ادارے ٹرانسپیرینسی انٹر نیشنل انڈیا کے کرپشن ٹیلی میں بھارت کی رینکنگ میں بہتری دکھائی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے سرکاری سیکٹر میں رشوت خوری میں کمی آئی ہے۔ پبلک سیکٹر میں بھی کرپشن کم ہوا ہے۔ کرپشن متعین انڈیکس میں بھارت کے پائیدان میں بہتری خاص طور سے دو ذرائع ورلڈ اکنامک فارم اور ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی فہرست پر مبنی رہا۔ رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے بھارت میں کام کاج کو لیکر کرپشن اور رشوت خوری کے ٹرینڈ میں جہاں کمی آئی ہے وہیں لوگوں میں اس کے تئیں بیداری بھی بڑھی ہے۔پبلک سیکٹر میں کام کاج میں بھی شفافیت دیکھنے کو ملی ہے۔ دنیا کے سب سے کم کرپٹ دیش ہیں ڈینمارک، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، سوئڈن، ناروے، سوئٹزرلینڈ، سنگاپور، نیدر لینڈ، لیگزمبرگ اور کینیڈا سب سے کم کرپٹ دیش ڈینمارک نے اپنے یہاں رشوت خوری روکنے کے لئے سخت قدم بنائے ہوئے ہیں۔ اس سال نومبر میں وہاں پبلک رجسٹر سسٹم کی شروعات کی گئی ہے اس کے تحت ٹیکس کمپنی سے فیضیاب ہونے والے لوگوں کی فہرست عام کردی جاتی ہے۔ کرپشن کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ ایک اسٹڈی کے مطابق امیراور غریب ملکوں میں کام کررہیں ملٹی نیشنل کمپنیاں اقتصادی ترقی کے ہر سطح پر رشوت دینے میں آگے رہی ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے بھی ہندوستان میں افسر شاہی میں ٹال مٹول ختم کرنے کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کی ہے۔ اس سے کچھ دن پہلے ہی انہوں نے مودی کو مین آف ایکشن کہا تھا۔بہر حال اوبامہ نے کہا کہ یہ ایک طویل المدت پلان ہے ہر کوئی دیکھے گا کہ وزیر اعظم مودی اپنی کوششوں میں کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔ اوبامہ نے ایک کاروباری گول میز کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے بھارت کے اندر افسرشاہی کے اندر کرپشن کو ختم کرنے کی اپنی قوت ارادی ظاہرکرکے مجھے کافی متاثر کیا ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہمارا سب سے مضبوط پڑوسی اور حریف چین پچھلے سال کے مقابلے 20 پائیدان نیچے کھسک کر 100 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے حالانکہ اس کی حالت میں بہتری کا سہرہ سرکار کو نہیں بلکہ عدلیہ اور دیگر پبلک اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی دیا جانا چاہئے۔ اس اصلاحتی عمل کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کرپشن اور رشوت خوری سے متعلق تمام بلوں اور کارروائیوں کو بروقت ڈھنگ سے عمل میں لایا جائے۔ حالانکہ کرپشن پر فیصلہ کن حملہ تبھی ہوسکتا ہے جب ہماری سیاست مالی معاملوں میں بھی شفافیت لا سکے گی۔ کل ملاکر یہ اچھی خبر ہے کہ ہندوستان میں کرپشن کی سطح میں گراوٹ آئی ہے۔
(انل نریندر)

07 دسمبر 2014

ہند۔پاک میں جنگ کراسکتی ہیں یہ آتنکی تنظیمیں!

امریکہ کے سکیورٹی محکمے پینٹاگن نے بڑا نپا تلا تبصرہ کیا ہے۔اس کے ایک سینئر کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان پر اس بات کے لئے دباؤبنائے رکھناچاہئے کہ وہ اپنے سرحدی علاقے میں سبھی آتنکی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ کمانڈر نے ساتھ ہی شدت پسند آتنکوادی تنظیموں کو لیکر بھی تشویش جتائی ہے۔ یہ تنظیمیں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک اور لڑائی کرا سکتی ہیں۔ امریکی اورسیز کمان کے لئے مقرر ایڈمرل ہیرس نے سینیٹ کی مسلح سروس کمیٹی کے ممبران سے کہا کہ امریکہ کو یہ یقینی کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں کہ پاکستان اپنی سرحد میں سبھی آتنکی گروپوں کے خلاف کارروائی کرے۔ اصلیت تو یہ ہے کہ پاکستان ہر طرح سے ممکنہ مدد ان آتنکی تنظیموں کو دے رہا ہے۔ ممبئی کے آتنکی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور اب امریکہ کی آتنکی فہرست تک میں درج لشکر طیبہ کے چیف حافظ محمدسعید پاکستان سرکار کی سرپرستی میں نہ صرف محفوظ ہے بلکہ نواز شریف سرکار اسے اپنا جال پھیلانے میں ہر ممکن مدد دے رہی ہے۔ پاکستان کی ہر ریلی میں بھارت کے خلاف زہر اگلنے والا حافظ سعید نے جمعرات سے لاہور میں اپنی تنظیم جماعت الدعوی کا دوروزہ جلسہ کیا تھا جس میں لوگوں کو پہنچانے کیلئے نواز شریف سرکار نے دو اسپیشل ریل گاڑیاں چلائیں۔ کیونکہ یہ محض اتفاق ہے کہ جمعہ کو یہ جلسہ شروع ہوتا ہے اور جمعہ کو ہی جموں و کشمیر میں آتنک وادیوں نے چار تابڑتوڑ حملے کر پورے کشمیر کو دہلا دیا۔ چار حملوں میں فوج کے ایک بڑے افسر سمیت11 سکیورٹی جوان شہید ہوگئے اور کل 8 آتنک وادیوں کو ہماری سکیورٹی فورسز نے مار گرایا ہے۔ یہ حملے وزیر اعظم نریندر مودی کے کشمیر دورہ سے ٹھیک3 دن پہلے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کشمیر میں بھاری پولنگ سے پاکستان اور اس کی پالتو جہادی تنظیمیں بوکھلا گئی ہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر چناؤ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ دراصل وہ کشمیری عوام کے ذریعے گولی کے بدلی ووٹ کو اپنی پسند مان رہے ہیں۔ یہ باتیں نہ تو پاکستان کو ہضم ہورہی ہیں اور نہ ہی ان جہادی تنظیموں کو۔ جس ڈھنگ سے نواز شریف سرکار نے حیدر آباد اور کراچی سے چلنی والی دو اسپیشل گاڑیوں کو چلایا ہے اس سے اس کا دوہرا کردار اجاگر ہوتا ہے۔ حافظ سعید بھارت کا مجرم تو ہے جس کے خلاف سینکڑوں پختہ ثبوت دونوں امریکہ اور پاکستان کو سونپے جاچکے ہیں لیکن پاکستان انہیں ناکافی مانتا ہے۔ اب تو اپنی کرتوت سے پاکستان امریکہ کی بھی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔کیونکہ امریکہ نے سعید کی جماعت الدعوی کو آتنکی تنظیم قرار دے دیا ہے۔ہم نہیں سمجھ پا رہے کہ امریکہ نے حافظ سعید کو پکڑنے کیلئے کوئی کارروائی آج تک کیوں نہیں کی جبکہ وہ امریکہ کی انتہائی مطلوب فہرست میں ہے۔ پاکستان کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہاں چنی ہوئی نواز شریف کی سرکار اسلام آباد تک ہی محدود ہے۔ دراصل اندرونی رسہ کشی سے لڑ رہے شریف خود اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ انہیں اپنا اقتدار بچانے کیلئے آتنکی تنظیموں اور ان کے سرغناؤں پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ آتنکی تنظیموں کا استعمال پاک فوج اور آئی ایس آئی اچھی طرح جانتی ہے۔ پینٹاگن کی وارننگ اس لئے بھی ایک طرح سے کھری اترتی ہے کہ اگر پاکستان نے ان پر (جہادی تنظیموں) پر قابو نہیں پایا تو ممکن ہے کہ ان کے لگاتار حملوں سے بھارت ۔ پاک جنگ نہ چھڑ جائے۔
(انل نریندر)

مودی کا مشن نارتھ ایسٹ: بھگوا انقلاب!

وزیر اعظم نریندر مودی آج کل نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں اپنی ساری توجہ مرکوز کررہے ہیں۔ مودی کی خواہش کہ دیش کی ان ریاستوں میں بھگوا انقلاب لانے کی ہے۔پیر کے روز ایک عوامی ریلی میں جب انہوں نے اپنے اس ارادے کا انکشاف تریپورہ کے لیفٹ وزیر اعلی منک سرکار کے سامنے کیاتو ایک بار سناٹا چھا گیا۔ لیکن مودی نے فوراً صاف کیا کہ بھگوان انقلاب سے ان کی مراد توانائی انقلاب سے ہے۔ مشرقی ریاستوں میں توانائی کا کثیر ذخیرہ ہے اور مرکزی سرکار یہاں کی ریاستوں کے ساتھ مل کر اس علاقے کو ہندوستان کا اہم برقی ہب بنانے کو تیار ہے۔ او این جی سی گیس سے چلنے والی تریپورہ پاور کمپنی کی دوسری یونٹ کا افتتاح کرنے کے موقعہ پر وزیر اعظم مودی اپنے رنگ میں دکھائی دئے۔ وہ پچھلے تین دنوں سے نارتھ ایسٹ ریاستوں میں ہی رہی۔ یہ شاید پہلا موقعہ ہے جب دیش کے وزیر اعظم مسلسل تین دن تک ان ریاستوں کے دورے پر ہوں۔ کچھ لوگ اسے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس حصے میں اپنے پاؤں جمانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ کے بعد اگرتلہ میں جس طرح کی بھیڑ اکھٹی ہوئی اسے دیکھ کر مودی کے بھگوا انقلاب کی اپیل کا دوسرا ہی مطلب نکالا جارہا ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے دوران مودی بھاجپا کے سینئر لیڈروں کے ساتھ یہاں آچکے تھے اور لوگوں سے جڑے اہم ایشوز کو سلجھانے کیلئے کئی اعلانات بھی کئے تھے۔ اس سے خطے کے لوگ خاصے گد گد ہوئے جس کا نتیجہ نارتھ ایسٹ میں بھاجپا کی شاندار کارکردگی کی شکل میں سامنے آیا۔ آسام میں کل 14 لوگ سبھا سیٹوں میں سے آدھی یعنی7 سیٹیں بھاجپاکو ملیں۔بھاجپا کی اس کامیابی کی وجہ یوپی اے سرکار کے خلاف لوگوں میں ناراضگی تھی۔ بنگلہ دیشی دراندازی اروناچل پردیش میں بن رہے تھرمل پاور پروجیکٹ جیسے اشوز پر ریاست کی کانگریس سرکار کی ناکامی بھی ایک بڑی وجہ تھی۔ مودی نے نارتھ ایسٹ کی ریاستوں کیلے ’’ایکٹ ایسٹ‘‘ کانیا نعرہ بھی دیا ہے۔ مشرقی ریاستوں میں جاپان کی مدد سے انڈسٹریل کوریڈور بنایا جائے گا جو بنگلہ دیش سے لیکر میانمار تک پھیلا ہوگا۔ اس بارے میں مودی کا دورہ جاپان کے دوران معاہدہ ہوا تھا۔ مودی نے مشرقی ریاستوں کی ترقی کے لئے ہندوستانی پرچم میں چار رنگوں کی بنیاد پر چار طرح کا انقلاب لانے کی صلاح دی تھی۔ اس میں ہرا رنگ ذرعی انقلاب کی علامت ہے، سفید رنگ تلقین کو لیکر ہے، یعنی دودھ انقلاب سے کیا جاسکتا ہے، اسی طرح مودی نے بھگوان رنگ کو برقی انقلاب اور اشوک چکر میں استعمال نیلے رنگ کو آبی انقلاب سے جوڑا۔ ریاستی حکومت نے مرکز سے خطے میں ریل نیٹورک بنانے، بنگلہ دیش کے چٹ گاؤں میں بندرگاہ سے ریاست کو جوڑنے سمیت کئی پروجیکٹوں کی مانگ بھی کی تھی۔ بہرحال ناجائز دراندازی اور زمین ٹرانسفر سمجھوتہ بنیادی باشندوں کے مفاد کی حفاظت جیسے جذباتی اشو ہیں جسے نظرانداز کر کوئی بھی پارٹی یہاں اپنی بنیاد بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا بھاجپا خاص کر مودی کو بلا تاخیر ان اشوز پر پہل کرنی چاہئے تاکہ ایک طرف یہاں کی عوام کی مایوسی دور ہو اور وہ بھاجپا کی طرف راغب ہوسکیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...