Translater

20 دسمبر 2014

عالمی دہشت گردی کتاب میں نیا باب، اسکولوں کو نشانہ بنانا!

بین الاقوامی دہشت گردی کی کتاب میں ایک نیا باب جڑ گیا ہے ، یہ ہے آتنک وادیوں کے ذریعے اسکولوں کو نشانہ بنانا۔ ہم اوپر والے سے دعاکرتے ہیں کہ پیشاور آرمی اسکول میں جو قتل عام ہوا وہ پھر کبھی نہ دوہرایا جائے لیکن اس میں ہمیں شبہ ہے کہ ان جہادیوں کی نظر میں یہ کوئی برا کام نہیں ہے۔ کیونکہ حملہ آور طالبان کو اس پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ الٹے اسے وہ جائز ٹھہرا رہے ہیں۔ خیر ہم اپنی بات کریں ۔ کیا بھارت ایسے حملے کے لئے تیار ہے؟ پاکستان کے پیشاور میں دائرے سے ہٹ کر اسکولی بچوں کو نشانہ بنائے جانے سے بھارت سکتے میں ہے۔ وزارت داخلہ نے اسکولوں اور ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ وہیں ماہرین دہشت گرد تنظیموں کو حملہ کرنے کے بدلتے طریقے پر حکومت اور عوام کو خبردار کردیا ہے۔دکھ سے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ابھی تک بھارت کی اس سمت میں کوئی خاص تیاری نہیں دکھائی پڑتی۔ اسکولوں میں حفاظت کے نام پر کوئی قدم نہیں دکھائی پڑتا۔ وہاں نہ تو ٹھیک طرح سے سکیورٹی گارڈ تعینات ہوتے ہیں اور نہ ہی آنے جانے والوں کی کوئی چیکنگ ہوتی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تو یہ جانچ بھی نہیں کی جاتی کہ بچوں کو جو شخص لینے آیا ہے وہ واقعی اس کے والدین ہیں یا قریبی رشتے دار ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں کچھ تنظیمیں ایسی ہیں جو پاکستانی دہشت گرد جہادی تنظیموں کی طرز پر اس طرح کے حملے کوا نجام دے سکتی ہیں۔ بی ایس ایف کے سابق ڈائریکٹر جنرل پرکاش سنگھ فرماتے ہیں کہ بڑھتے دہشت گردانہ خطرے سے نمٹنے کا طریقہ محض خفیہ مشینری کی چستی اور جدید پولیس مشینری ضروری ہے۔ آپ سبھی اسکولوں ،اسپتالوں میں سکیورٹی دستیاب نہیں کراسکتے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار بھی انٹرنل سکیورٹی کے معاملے میں یوپی اے سرکار کے ہی طریقے پر چل رہی ہے اور زبانی جمع خر چ کررہی ہے۔ اسمارٹ پولیس کی بات کرنے والی مودی سرکار نے پولیس کو جدید ترین اور خفیہ مشینری کی مضبوط کی سمت میں اتنے مہینوں میں اقتدار میں آنے کے بعد بھی ایک بھی قدم آگے نہیں بڑھایا ہے۔ ریٹائرڈ میجر جنرل افسر کریم کا کہنا تھا کہ بھارت میں کچھ جہادی تنظیمیں ایسی ہیں جو اس طرح کی کارروائی کو انجام دے سکتی ہیں۔ حالانکہ بھارت میں سرگرم ایسی تنظیموں کے پاس جدید ترین ہتھیار اور بڑی طاقت نہیں ہے مگر یہ تنظیمیں اسکولوں اور ہسپتالوں میں چھوٹے سطح پر دہشت گردانہ واقعات کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کریم کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی جس طرح بڑا چیلنج بن رہی ہے اس حساب سے اس نے نمٹنے کی تیاری نہیں ہے۔ ادھر وزارت داخلہ کے ذرائع نے مانا ہے کہ سرکار نے اسکولوں ، اسپتالوں کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کی پہل شروع کردی ہے۔ ہزاروں پولیس ملازم اور وی آئی پی شخصیات کی سکیورٹی میں لگے ہوئے ہیں ان کو کم کرکے پولیس کانسٹیبلوں کو اسکولوں ،اسپتالوں میں تعینات کرنا چاہئے۔ اسکولوں کے انتظامیہ کو چست کرنا ہوگا، جو اسکول موٹی موٹی فیس لیتے ہیں انہیں اپنے خرچ پر سکیورٹی گارڈ رکھنے ہوں گے۔ اس سنگین چیلنج سے بلا تاخیر نمٹنے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

کب تک پاکستان دوہرا رخ اپنائے گا؟

پیشاور اسکول میں گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہونے والی صبح یقینی طور سے پاکستانیوں کو رات سے بھی زیادہ کالی محسوس ہوئی ہوگی۔ اس لئے کہ زیادہ تر اسکولی بچوں کو جس دن دفنانا پڑا وہ دن کسی بھی ملک کے لئے کبھی نہ بھولنے والا ہوگا۔ اس کانڈ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔پاکستان کے ساتھ کیسے بھی رشتے ہوں لیکن آج ہم سبھی پاکستان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس واقعے کے بعد پاکستان ان دہشت گرد تنظیموں کے تئیں اپنے نظریئے اور پالیسی میں تبدیلی لائے گا؟ کیا یہ دکھ اور یہ وابستگی پاکستان کی سرزمیں سے ان دہشت گرد عناصر کو ختم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے جو گاہے بگائے پاکستان ہی نہیں باہر کے بھی بے قصور شہریوں کو مارتے رہتے ہیں؟ ابھی بچوں کے قتل عام کو24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے پاکستان کا آتنک واد کو لیکر دوہرا چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ پاکستان کی ایک عدالت نے جمعرات کو لشکر طیبہ کے آپریشن کمانڈر ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ زکی الرحمن لکھوی کو اس لئے ضمانت دے دی کیونکہ وکیلوں کی ہڑتال کے چلتے سرکاری وکیل مقدمے کی سماعت کے لئے عدالت نہیں پہنچے تھے۔ تازہ اطلا ع کے مطابق پاکستان سرکار نے لکھوی کو ایم پی او کے تحت 3 مہینے تک جیل میں ہی رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس کی اطلاع بھارت سرکار کو بھی دے دی ہے۔بدقسمتی دکھئے وکیل پیشاور کے اسکول میں آتنکیوں کے ذریعے بچوں اور لوگوں کے قتل کے احتجاج میں ہڑتال پر تھے۔ 54 سالہ لکھوی اور دیگر 6 نے وکیلوں کی ہڑتال کے درمیان ضمانت کی عرضی دی تھی۔ پیشاور کے حملے کو 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد سب سے خوفناک قومی ٹریجڈی بتایا جارہا ہے جس سے وہاں عام لوگوں کی سیاسی پارٹیوں سے ناراضگی اور ناامیدی کو لاچاری کی علامت مانا جاسکتا ہے۔ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ پاک وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے کٹر سیاسی حریف عمران خاں سمیت سبھی سیاسی پارٹیوں کو ایک ساتھ آکر اس حملے کی نہ صرف مذمت کرنی پڑی بلکہ انہیں پاکستان کی سرزمیں سے دہشت گردوں کا پوری طرح صفایا کرنے کا وعدہ بھی کرنا پڑا۔ پاکستان کیلئے یہ واقعی امتحان کی گھڑی ہے لیکن کیا پاکستان حقیقت میں دہشت گردی کو پوری طرح سے ختم کرنے کے لئے تیار ہے؟ نواز شریف نے حملے کے فوراً بعد دہشت گردی سے متعلق معاملوں میں پھانسی پرلگی سزا پر روک ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ پھانسی نہ دینے کا 6 سال پرانا فیصلہ پلٹ دیا گیا ہے۔ ایسے دہشت گردوں کے خلاف دیتھ وارنٹ دو دن میں جاری ہوں گے۔800 دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ حکومت نے اچھے برے طالبان کا فرق بھی ختم کردیا ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ طالبان سے بات چیت نہیں ہوگی صرف کارروائی ہوگی اور تب تک جاری رہے گی جب تک ایک بھی آتنکی زندہ رہے گا۔ نواز اور پاک فوج دہشت گردوں پر کارروائی کرنا چاہتے ہیں یا صرف طالبان پر؟ کیونکہ آج بھی دنیا کے دو سب سے بڑے آتنکی سرغنہ حافظ سعید اور داؤد ابراہیم اسی کی سرپرستی میں پھل پھول رہے ہیں۔ پاک سرکار آج بھی انہیں جن سیوک مانتی ہے۔ اگر واقعی پاکستان کی سرکار اورفوج دہشت گردی سے نجات چاہتی ہے تو پہلے اسے حافظ سعید اور داؤد ابراہیم اور لکھوی جیسے سرغناؤں سے نجات پانی ہوگی۔ اگرچہ پاکستان سرکار اور فوج حافظ سعید وغیرہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی تو پھر اس کا سیدھا مطلب ہوگا کہ اچھے برے دہشت گردوں میں فرق نہ کرنے کا جو یقین دلایا ہے اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ نواز شریف دہشت گردوں کے صفائے کا وعدہ کرتے ہیں اور ممبئی حملے کے لئے ذمہ دار مانے جانے والے آتنکی سرغنہ حافظ سعید بھارت کو دھمکانے میں لگا ہوا ہے۔ حافظ سعید پر کارروائی تو دور کی بات اس نے اس حملے کے بعد ایک بار پھر سے بھارت کو دھمکی دی ہے اور پاکستان میں اسے کوئی روک بھی نہیں رہا ہے۔ کیا پاکستان یہ تسلیم کرنے کو تیار ہے کہ آتنکی حملہ کہیں بھی ہو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بار بار پاکستان کے دوہرے چہرے کے ثبوت ملتے ہیں ، امید کی جاتی ہے پاکستان اپنے دوہرے چہرے کو بدلے گا اور جو وعدہ کیا ہے اسے بھی نبھائے گا؟
(انل نریندر)

19 دسمبر 2014

یہ ہے دہشت گردی کا سب سے خوفناک چہرہ!

یکایک جہادی دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اور اب پیشاور میں دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ کشمیر میں تو آئے دن اس طرح کے حملے ہوتے ہی رہتے ہیں۔ کیا یہ حملے ایک تنظیم کروا رہی ہے؟ کیا سڈنی اور پیشاور کے حملوں میں کوئی یکسانیت ہے؟ ویسے تو ہمارے کشمیر میں پچھلے 26 برسوں میں دہشت گردی 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جان لے چکی ہے لیکن پاکستان کے پیشاور آرمی اسکول میں جس طرح گھس پر بچوں کو لائن میں کھڑا کر دہشت گردوں نے گولیوں سے بھونا ہے ،وہ رونگٹے کھڑے کرنے والا منظر تھا۔ کچھ بچوں کے سر بھی کاٹ دئے گئے۔ واردات کے وقت اسکول میں 1100 سے زائد بچے تھے۔ بچوں کو مارنے والی یہ وہی تنظیم ہے جس نے ملالہ کے سر میں گولی ماری تھی۔بزدلی کی حدیں پار کرتے ہوئے طالبان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے ہمارے کنبوں کو اجاڑدیا ہے اس لئے ہم نے پاک فوج کے بچوں پر یہ حملہ کیا ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ انہوں نے ہمیں کتنا تڑپایا ہے۔ پاکستانی تاریخ میں کسی بھی اسکول پر ہوئے حملے میں یہ سب سے بڑا اور بربریت آمیز حملہ تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ پوری دنیا کو جھنجھوڑ ڈالا ہے۔ پاکستان فوج نے پاکستانی طالبان اور نارتھ وزیرستان کے دہشت گردوں کے خلاف ’’ضرب عود‘‘ نام کا فوجی آپریشن چلایا ہوا ہے۔ اسی سال جون میں شروع ہوئی اس کارروائی کے تحت اب تک 1600 سے زائد دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔ اسی کے جواب میں پاکستانی طالبان نے اس قتلِ عام کو انجام دیا ہے۔ پاک فوج کی کارروائی سے دہشت گردوں میں بوکھلاہٹ تھی۔ خاص طور پر وہ فوج سے بدلہ لینے کے فراق میں تھے۔ فوج کے کیمپ پر حملہ کرنے کے لئے انہیں زیادہ تیاری کے ساتھ جانا پڑتا اس لئے انہوں نے پیشاور کے اس آرمی اسکول میں پڑھ رہے فوجیوں و عام لوگوں کے بچوں کو نشانہ بنایا۔ویسے بھی بچے آسانی سے نشانہ بن سکتے ہیں اور اس آرمی اسکول میں کوئی مضبوط سکیورٹی انتظام نہیں تھے۔ 
محض دو تین سکیورٹی گارڈ تھے وہ بھی بغیر ہتھیار کے تھے۔ پاکستان میں دہشت گردانہ واقعات پر نظر ڈالیں تو واقف کاروں کا کہنا ہے کہ پیشاور میں حملے ملالہ یوسف زئی کو2014ء کا نوبل انعام دئے جانے کا بدلہ بھی ہوسکتا ہے۔ بچوں کی اسکولی تعلیم کیلئے مہم چلا رہی ملالہ پر2012ء میں انہی پاکستانی طالبان نے حملہ کیا تھا۔ حال ہی میں طالبان نے ملالہ کو نوبل انعام دئے جانے کی مخالفت بھی کی تھی۔ بتادیں کہ پیشاور خیبر پختون خواہ صوبے کی راجدھانی ہے اس صوبے میں پاکستان کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کی حکومت ہے جس کے سربراہ کرکٹر سے لیڈر بنے عمران خاں ہیں۔عمران خاں سے ستمبر میں نواز حکومت سے کہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ جنگ بندی کریں اور انہیں اپنا دفتر کھولنے کی اجازت دیں۔ پاکستان میں طالبان کے تئیں نرم رویہ رکھنے کے الزام میں عمران خاں کو طالبان خاں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حملہ دہشت گردی کا سب سے خوفناک چہرہ ہے جس نے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا۔
ان دہشت گردوں کیلئے بچوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے پھر وہ آئی ایس ہو یا بوکوحرام تنظیم یا القاعدہ یاپھر طالبان یہ واقعہ پاکستان کی پوری مشینری کی کمزوری کو اجاگر کرتا ہے جس نے طالبان کو پھلنے پھولنے کا پورا موقعہ دیا۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اس حملے کو قومی ٹریجڈی بتایا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے اس پڑوسی ملک کو دہشت گردی کے اشو پرمحاسبہ کرنا چاہئے کیونکہ وہ خود بھی دہشت گردی کے مسئلے سے لڑ رہا ہے لیکن بھارت کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے والوں کو پناہ دیتا آیا ہے۔ حقیقت میں پیشاور میں ہوئے حملے سے دو دن پہلے سڈنی میں ایک سرپھرے کے ایک کیفے میں کچھ لوگوں کو یرغمال بنانے کا واقعہ بتاتا ہے کہ کیسے دہشت گردی ایک عالمی خطرہ بن گئی ہے۔ کہ کیسے ایک اکیلا دہشت گرد بھی لاکھوں لوگوں کی جان پریشانی میں ڈال سکتا ہے۔ 26 سال پہلے کشمیرمیں جو تشدد شروع ہوا وہ 50 ہزار لوگوں کی جان لے چکا ہے۔ یہ اعدادو شمار سرکاری ہیں۔ غیر سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہے۔مرے کتنے بھی ہوں یہ تو صاف ہے کشمیر میں اور دیش کے دیگر حصوں میں دہشت گردوں کا یہ موت کا ننگا ناج جاری رہے گا اور اس کے لئے صرف پاکستان ذمہ دار ہے۔ سرکاری اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ دہشت گردی کا اتنا بڑا عرصہ جس میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی ہے 7 ہزارسے زیادہ ہمارے سکیورٹی ملازمین کی قربانی لے چکا ہے۔15 ہزار سے زیادہ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گردی کا یہ ہے کہ یہ سبھی تنظیمیں اس دہشت گردی کو اسلام کے نام پر چلائی ہوئی ہیں۔ ایسے تو اور کوئی بھیڑ بکریوں کو بھی نہیں مانتا جیسے طالبانی آتنکیوں نے پیشاور عالمی اسکول میں معصوم بچوں کو مارا۔ ایسے خوفناک اور بربریت آمیز حملے کا تصور کرنا تک مشکل ہے۔ 
یہ اچھی بات ہے پاکستانی فوج نے اس خوفناک واردات کے بعد دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھنے کی بات کہی ہے لیکن اس میں شبہ ہے کہ پاکستانی فوج اور وہاں کی حکومت دہشت گردوں کے درمیان اچھے برے کا فرق کرنا بند کردے گی۔ یہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی فوج اور سرکار طالبان دہشت گردوں کے خلاف تو سرگرم ہے لیکن تمام دیگر جہادی گروپوں کو سرپرستی دینے میں لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے معاملے میں اپنی ٹال مٹول والی پالیسی کے ساتھ اپنے طرز فکر میں بھی وسیع تبدیلی جانے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو اپنی ان پالیسیوں کو بدلنے کی سخت ضرورت ہے۔ بہتر ہو کہ قومی ٹریجڈی سے گزر رہا پاکستان اب ان غلطیوں کا احساس کرے جس کے چلتے وہ ایک عدم استحکام ،شورش اور خطرناک ملک کی شکل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ پاکستان آج ایک ناکام اسٹیٹ بن گیا ہے جس کی قومی پالیسی دہشت گردی پر مبنی ہے۔
(انل نریندر)

14 دسمبر 2014

اقدام خودکشی جرم نہیں،دفعہ309 ختم ہوگی!

اقدام خودکشی اب سزا کے لائق جرم نہیں رہے گا۔ کیونکہ حکومت نے آئی پی سی کی دفعہ309 کو ہٹانے کا فیصلہ لیا ہے۔ آئینی کمیشن کی سفارش کے پیش نظر حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ اس دفعہ کو ہٹانے کے بارے میں 22 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام 4 ریاستوں نے اپنی رضامندی جتادی ہے۔ وزیر مملکت داخلہ ہری بھائی پروی چودھری نے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ ہندوستانی آئینی کمیشن نے اپنی210 ویں رپورٹ میں یہ سفارش کی ہے۔اقدام خودکشی کو سزا دینے والی دفعہ309 کو قانون کی کتاب سے خارج کردینا چاہئے۔ آئی پی سی کی اس دفعہ کو ختم کرنے کی سفارش طویل عرصے سے کی جارہی تھی۔44 سال پہلے بھی آئینی کمیشن نے اس قانون کو ختم کرنے کی تجویز رکھی تھی۔ ابھی تک خودکشی کی کوشش کرنے والے کے خلاف جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا کی سہولت تھی۔ اس اشو کے دو پہلو ہیں ۔ تمام ماہر عدلیہ مانتے رہے ہیں کہ خودکشی کرنے میں ناکام رہنے والے شخص کے لئے یہ دفعہ ایک اذیت دینے جیسی ہے۔ ایسا کرنے میں جو کامیاب ہوگیا یعنی جس نے اپنی مرضی سے موت کو گلے لگا لیا قانون اس کے خلاف توکچھ نہیں کرسکتا لیکن جو بچ گیا تو اسے پریشان کرتا ہے۔ بہت سی ذہنی اذیتوں سے گزرنے کے بعد ہی کوئی شخص خودکشی کا راستہ اپناتا ہے اس لئے اسے ذہنی مریض کے زمرے میں رکھا جانا چاہئے نہ کہ مجرم کے۔ ایسے شخص کو ہمدردی اور میڈیکل مدد درکار ہوتی ہے سزاکی نہیں۔ آئینی کمیشن نے درحقیقت اس غیر انسانی نظریئے کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی جس پر18 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام حکومتوں کی رضامندی کے بعد مرکزی حکومت نے اس پر مہر لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی کمیشن کی مرضی اور مرکزی سرکار کی انسانی پہل کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے لیکن خودکشی کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کبھی نہیں کرنی چاہئے بلکہ دفعہ309 کو ختم کرنے کے دوسرے نقصانات بھی ہیں۔ خودکشی کی کوشش کو جرم کے زمرے سے ہٹائے جانے سے اس کے پیچھے کے اسباب کی تلاش بھی مشکل ہوسکتی ہے۔ اس کا خاص طور سے قرض کی وجہ سے خودکشی کرنے والے کسانوں اور جہیزی اموات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ بہار، مدھیہ پردیش، سکم جیسی ریاستوں نے اسے ختم کرنے کی اس بنیادپر مخالفت کی ہے کہ اس سے ریاستی سرکار وں کو بلیک میل کرنے والوں اور مرتے دم تک بھوک ہڑتال کرنے اور خود سوزی کی بات کرنے والوں کے حوصلے بلند ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا قانون ایسا کوئی سسٹم رائج کرے تاکہ ایسے لوگوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ خودکشی کی کوشش کو جرم نہ ماننے کے بہت سے خطرے درپیش ہوں گے۔ دیش کے خلاف جنگ چھیڑنے والے یہ لوگ ثبوت مٹانے کی کوشش میں بھی خودکشی کی کوشش کرتے ہیں ایسے میں دفعہ309 کو ختم کرتے ہوئے سرکار کو ایسی شقوں کے بارے میں بھی غور کرنا ہوگا جس سے مجرم سماج مخالف عناصر اور آتنک وادیوں کو اس کا فائدہ نہ ملے۔
(انل نریندر)

ریو پارٹیوں کیلئے8 کروڑ کی منشیات ضبط!

یہ چونکانے والی بات ہے کہ راجدھانی دہلی میں پڑھی لکھی نوجوان نسل میں منشیات کا ٹرینڈ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ آئے دن کروڑوں روپے کی منشیات پکڑی جاتی ہیں۔ حال ہی میں نئے سال کیلئے منائی جانے والی ریو پارٹیوں میں استعمال ہونے والی منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑی گئی ہے۔ نئے سال کے موقعہ سے پہلے ہی منشیات کے سوداگروں نے ریو پارٹیوں کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس کڑی میں مشرقی دہلی ضلع کی پولیس نے ایل ایس ڈی اسٹامپ پیپر کی بڑی کھیپ کے ساتھ ایک غیر ملکی سمیت دو لوگوں کو پکڑا ہے۔ ملزمان کی پہچان نیدر لینڈ کے باشندے پیڈرو ماریہ توبر گارسیا 37 سال، کرشنا اپارٹمنٹ گارڈن، اندرا پورم کے باشندے سنی کھنہ 38 سال کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے پاس سے 1200 ایل ایس ڈی اسٹامپ پیپر برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس کی مانیں تو بین الاقوامی منڈی میں اس کی قیمت8 کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ پولیس دونوں سے پوچھ تاچھ کر معاملے کی چھان بین میں لگی ہوئی ہے۔ مشرقی ضلع پولیس کمشنر اجے کمار نے بتایا کہ ٹیم کو اطلاع ملی تھی کہ ایک بین الاقوامی ڈرگ اسمگلر پیڈرو ماریہ6 ستمبر کو ڈرگ سپلائی کے لئے دہلی آیا ہوا ہے۔ یہاں وہ اپنے کسی ممبر سے مل کر یہ ڈرگ سپلائی کرے گا۔ اس کے بعد اے ٹی ایس کی ٹیم کے انسپکٹر سنجیو پہاوا کی رہنمائی میں ایک ٹیم بنائی گئی جس نے پیڈرو اور سنی کو یمنا اسپورٹس کمپلیکس کے پاس دبوچ لیا۔ تلاشی میں دونوں کے پاس سے 1200 ایل ایس ڈی اسٹامپ پیپر ملے۔ پیڈرو نے بتایا کہ نیدرلینڈ سے ڈرگ بھارت لیکر آیا تھا۔ بھارت میں نئے سال پر ہونے والی ریو پارٹیوں میں اس ڈرگ کی کافی مانگ ہے اور اس کے منہ مانگی دام بھی ملتے ہیں۔ پیڈرو کا دہلی، گوا، ہماچل،ممبئی سمیت کئی ریاستوں میں نیٹورک پھیلا ہوا ہے۔ پولیس کی مانیں تو نئے سال پر ہونے والی ریو پارٹیوں کو دیکھتے ہوئے ان ڈرگس کو بھارت لایا گیا تھا۔ جانچ میں پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیڈرو بھارت میں ڈرگ لاکر یہاں سے چرس لے جاتا تھا۔ اس کے لئے اس کے گوروہ کے ممبر اس کی مدد کیاکرتے تھے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ بھارت میں ایل ایس ڈی کی اتنی بڑی کھیپ دوسری بار پکڑی گئی ہے۔ اب آپ کو بتاتے ہیں کہ کیا ہے ایل ایس ڈی اور کیسے کرتے ہیں اس کا نشہ؟ ایل ایس ڈی بیحد ہائی رقیق یا اسٹامپ پیپرکی شکل میں ہوتا ہے۔اس کو استعمال کرتے ہی اس سے جنسی بے چینی بڑھ جاتی ہے اور اس کا نشہ کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر ہائی پروفائل پارٹیوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ زبان پر ایل ایس ڈی ڈراپ یا اسٹامپ پیپر کو رکھا جاتا ہے بعد میں پیپر چبالیا جاتا ہے۔ ڈراپ ڈالنے کے بعد لمبے وقت تک ایل ایس ڈی کا نشہ رہتا ہے۔ واقف کاروں کی مانیں تو اس نشے کی زیادہ خوراک سے کئی بار موت بھی ہوجاتی ہے۔ ایل ایس ڈی ہائی پروفائل رقیق بیحد قیمتی ہونے کے چلتے اس کا استعمال بڑے گھرانوں کے بگڑیل لڑکے ریو پارٹیوں میں کرتے ہیں۔ بھارت میں ڈرگس کا بڑھتا استعمال ہمارے سماج کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ آج کل نوجوان نسل بڑوں کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...