Translater
18 مارچ 2022
ووٹ فیصدبڑھا ،پھر بھی اقتدار سے دورسپا!
اتر پردیش اسمبلی چناو¿ نتیجوں میں سماجوادی پارٹی اکثریت سے کافی دور رہی لیکن جنتا کا دل جیتنے میں کامیاب رہی ۔ پہلی بار 1993میں پارٹی کو 17.94فیصدی ووٹ ملے تھے ۔تب بسپا کے ساتھ مل کر سپا سرکار بنی تھی لیکن اس مرتبہ اب تک سب سے زیا دہ 32فیصد ووٹ ملنے کے بعد بھی اسے اقتدار سے دور رہنا پڑ رہا ہے۔ اس کے بعد 1996میں 13ویں اسمبلی چنا و¿ 21.80فیصدی ووٹ ،2002میں 25.37فیصد،2007میں 25.45اور 2012میں 29.15جبکہ 2017کے چنا و¿ میں سپا کو 21.82فیصدی ووٹ ملے تھے ۔ سپا نے اس مرتبہ مہنگائی ، آوارہ جانوروں ،پرانی پینشن بحالی ،اور بے روزگاری جیسے اشو اٹھائے تھے لیکن اس کو بہت زیادہ فائدہ نہیں ملا ۔ سپا صدر اکھلیش یادو نے کسان آندولن سے ملی زمین کا فائدہ اٹھانے کیلئے آ ر ایل ڈی کا ساتھ لیا تھا۔کئی بار جینت چودھری کے قدم ڈگمگائے اس کے بعد بھاجپا کو 2014,2017اور 2019میں رتھ کی ریس سے آگے نکلنے کیلئے اکھلیش وجے رتھ پر سوار ہوئے شروعات میں لگا تھا کہ اکھلیش و جینت کی جوڑی بھاجپا کیلئے مشکلیں کھڑی کر سکتی ہیں لیکن پی ایم مودی اور سی ایم یوگی نے ان کے وجے رتھ پر بریک لگا دیا ۔یوگی آدتیہ ناتھ کی آندھی میں سپا ،اور آر ایل ڈی ٹک نہیں پائے ۔
(انل نریندر)
اتراکھنڈ میں بی جے پی نے تاریخ بنائی !
الگ صوبے کے طور پر اپنے وجود میں آنے کے بعد سے ہی دیش کی پہاڑی ریاست اترا کھنڈ جہاں کانگریس اور بی جے پی میں باری باری سے اقتدار بدلتا رہا ہے لیکن اس بار اس ریاست نے اپنے بل پر کانگریس کو ہرا کر وہاں بی جے پی کو دوبارہ مو قع دیکر تاریخ رقم کر دی ہے۔ اترا کھنڈ میںبھاجپا نے جس ریاستی چہرے اور وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے نام پر چنا و¿ لڑا تھا وہ چناو¿ خود ہی ہار گئے ہیں ۔ بی جے پی کو صاف مینڈٹ کے باوجود دھامی کی ہار کے پیچھلے پارٹی کی آپسی کھینچا تانی مانا جا رہا ہے۔ دھامی کی ہار نے ایک بار پھر اتراکھنڈ کے اسی ریکارڈ کو برقرار رکھا جس میں وزیر اعلیٰ بطور سی ایم امیدوار ہارتے رہے ہیں ۔ دھامی کے علاوہ دو اور بڑے چہرے سابق وزیر اعلیٰ اور سر کردہ کانگریس لیڈر ہریش راو¿ت اور عآپ کے امیدوار کرنل اجے کوٹھیال کو ہار کا سامنا کر نا پڑا ۔ جو اپنی اپنی پارٹیوں سے وزیر اعلیٰ کے دعوے دار مانے جا رہے تھے ۔ کھٹیما میں دھامی اپنی ہیٹ ٹرک لگانے سے چوک گئے وہیں ہریش راوت لال کنواں سے تو کوٹھیال کنگوتری سیٹ سے ہار گئے ۔ بی جے پی کو یہاں تقریبا ً 44فیصدی ووٹ ملے اور کانگریس کو 38فیصدی ملے لیکن دونو ں پارٹیوں میں محض 6فیصد ووٹوں کے فرق نے سیٹوں کی شکل میں دونوں کے فرق کی کھائی کافی چوڑی کردی ۔ وہیں جیت کی گنجائش ہوتے ہوئے بھی اگر کانگریس پہاڑی ریاست کو فتح کرنے سے چوکی تو اس کی بڑی وجہ ریاستی کانگریسی نیتاو¿ں میں آپسی گروپ بند ی اور اپوزیشن کو ہرانے سے زیا دہ اپنوں کو ہرانے کیلئے کوشش رہی ۔ اب بی جے پی دھامی کو ہی وزیر اعلیٰ بناتی ہے یا پھر کوئی نیا چہرہ لاتی ہے اس پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
(انل نریند)
میزائل حملہ کرنے والا تھا پاکستان !
9مارچ کو بھار ت کا ایک غیر مسلح میزائل غلطی سے چل گیا اور پاکستان کے اندر جا گرا ۔یہ منو علاقے میں گرا شروع میں تو پاکستانی فوج نے اسے بھارت کا حملہ مانا اور جوابی میزائل داغنے کی تیار ی کر لی تھی۔ لیکن عین وقت پر اس نے ارادہ بدل دیا ۔ اس کی دو وجوہا ت تھیں ۔پہلی اس میزائل پر کوئی جنگی ہتھیار نہیں لگا تھا ۔ دوسری پہلی بار میں لگ رہا تھا کہ جان بوجھ کر فائر نہیں کیا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے دونو ملکوں کے پاس ہاٹ لائن مو جودہے،لیکن ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے ہاٹ لائن پر بھی پاکستان کو اس کی جانکار نہیں دی تھی ۔انگریزی اخبار ’بلوم برگ ‘کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے جوابی حملے کی تیاری کر لی تھی ،مگر پھر وہ رک گیا۔پاکستانی فوج کے ذمہ دار افسروں کو محسوس ہو گیا تھا کہ کچھ گڑبڑی ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ افسروں نے جوابی کاروائی ٹال دی ،پاکستان کے افسروں کا دعویٰ ہے کہ میزائل سرسہ سے فائر ہوا ۔ یہ امبالہ سے داغا گیا ۔بھارت اور پاکستان کے میلٹری کمانڈرس کے درمیان اس طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے مکینزم مو جود ہے ۔ دونوں ملکوں کے کمانڈر ہاٹ لائن پر رابطہ قائم کرتے ہیں ۔پاکستان اس بات سے حیران ہے کہ بھارت نے اس کا استعمال کیوں نہیں کیا؟بھارت نے ہاٹ لائن پر بات کرنے کے بجائے کچھ دیر کیلئے میزائل سسٹم ہی بند کر دیا ۔تاکہ کوئی اور میزائل غلطی سے فائر نہ ہو جائے ۔ پاکستان نے پریس بریفنگ میں اس معاملے کی جانکاری دی تھی۔اب بھار ت نے 11مارچ کو مانا کہ میزائل غلطی سے فائر ہو گیا ،ہندوستانی میزائل کے تکنیکی خرابی کے سبب پاکستان میں کریش ہو جانے کو لیکر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹنیوں گٹریس سے بھی بات کی اور میزائل کے تباہ ہونے کے بارے میں جانکاری دی اور کہا کہ یہ جہاز حادثہ یا سیکورٹی کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور پائیداری کیلئے بھارت کی کوتاہی کو دکھا تا ہے۔اور اس کی یہ حرکت غیر ذمہ دارانہ تھی اس واقعے کو اقوام سیکورٹی کونسل سمیت بین الاقوامی برادری کے ذریعے اٹھا نے کی ضرور ت تھی ۔ پاکستان اس معاملے پر بھارت سے اقوام متحدہ سے جانچ کرانے کی مانگ کر رہا ہے۔تسلی کی بات یہ ہے کہ امریکہ نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں گرا میزائل ایک اتفاقی طور پر چل جانے کے علاوہ کوئی دوسری وجہ نظر نہیں آتی ۔ اور یہ حادثہ افسوس ناک ہے۔اور دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کے سبب پیش آیا تھا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان پرائس نے اخبار نویسوں کو بتایا جیسا کہ ہماری ہندوستانی ساتھیوں سے بھی سنا ہے یہ واقعہ غلطی کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اس واقعے کے سلسلے میں ہندوستانی وزارت دفاع سے ہی صحیح اصلیت معلوم ہو سکے گی۔ہم اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے ۔ بھار ت سرکار نے معاملے کی کورٹ آف انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔تاکہ ایسا واقعہ پھر دوبارہ نہیں ہو پائے ۔
(انل نریندر)
17 مارچ 2022
ایم سی ڈی چنا و ¿ میں وی وی پیٹ ای وی ایم کیوں نہیں ؟
دہلی ہائی کورٹ نے ریاستی الیکشن کمیشن سے پوچھا ہے کہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے آنے والے چنا و¿ کیلئے وی وی پیٹ ای وی ایم کا استعمال کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ جسٹس ریکھا پلی کی بینچ نے اسٹیٹ چنا و¿ کمیشن کے وکیل سے اس مسئلے پر حکم لینے کیلئے کہا اور معاملے کو 22مارچ کو آگے کی سماعت کیلئے فہرست میں شامل کرلیا ۔ہائی کورٹ عام آدمی پارٹی کی ایک عر ضی پر سماعت کر رہی جو سوربھ بھاردواج نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی کے الیکشن کمیشن کو آنے والے ایم سی ڈی چنا و¿ ایسی ای وی ایم کے ساتھ چنا و¿ کرانے کی درخواست کی ہے جو ووٹ ملان کی پرچی (وی وی پیٹ ) کے ساتھ ہو ۔ بنا وی وی پیٹ والی پرانی ای وی ایم کا استعمال سبرامنیم سوامی بنام بھارت کے چنا و¿ قانون (2018) میں سپریم کورٹ کے ذریعے جاری ہدایتوں کی خلاف ورزی ہے ۔ جس میں یہ مانا گیا تھا کہ ای وی ایم میں پولنگ ملان پرچی سسٹم کا ہونا اور عمل ایک صحت مند اور منصفانہ چنا و¿ کیلئے ضروری ضرورت ہے ۔ عآپ کی طرف سے سینئر وکیل راہل مہرا پیش ہوئے تھے ۔ راہل نے کہا کہ وی وی پیٹ اور ای وی ایم مشینوں کی پختگی کا پتہ لگانا اور کسی بھی چھیڑ چھاڑ کو خارج کرنا تقریباًایک طرح سے ضرور ی ہو جاتا ہے۔
(انل نریندر)
34مسلم امیدوار جیت کر اتر پردیش اسمبلی میں پہنچے !
اتر پر دیش اسمبلی میں اس مر تبہ مسلم امیدواروں کی تعد اد پچھلی مر تبہ کے مقابلے بڑھی ہے۔ پچھلے چنا و¿ سے اس مرتبہ 10مسلم امیدوار زیادہ کامیاب ہوئے اور کامیاب ہونے والے مسلم امید واروں کی تعدا د 34ہو گئی ہے اور سبھی منتخب ممبر اسمبلی سپا اتحاد کے ہیں ۔ پچھلے اسمبلی چنا و¿ میں 24مسلمان چن کر اسمبلی میں پہونچے تھے ۔سیاسی واقف کاروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ زیادہ مسلم امیدواروں کے کامیاب ہونے کے سوال پر وہ کہتے ہیں کہ جس پارٹی کا بنیادی ووٹ بینک مضبوط ہوتاہے اسی پارٹی کا مسلم امیدوار کامیاب ہوتاہے ۔ کوئی بھی مسلم امیدوار صرف مسلم ووٹروں کے سہارے نہیں جیت سکتا،بلکہ اسے پارٹی کا بنیادی ووٹ بینک بھی چاہیے ۔ جیسے سپا کا ووٹ بینک یادو ہے ۔ اگرکسی مسلم اکثریتی سیٹ پر امیدوار کو یادو ووٹ مل جائے تو وہ مسلم یادو اتحاد سے چنا و¿ میں کامیاب ہو سکتاہے ۔اس مرتبہ مسلمانوں نے متحد ہو کر صرف سپا کو ووٹ دیا کیوں کہ انہیں لگتا تھا کہ اگر بھاجپا کو ہرانا ہے تو اس کا مقابلہ صرف سپا ہی کر سکتی ہے۔ کانگریس پارٹی کی بات کریں تو اس کا اپنا ووٹ بینک بھی نہیں ہے تو اس کے مسلم امیدوار جیتنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ مسلمانوں کا رہنما ہونے کا دعویٰ کرنے والے اتحادالمسلمین کے چنا و¿ میں بری طرح سے ہار نے کے سوال کا جواب تھا کہ اتر پر دیش کے مسلمانوں کو یہ اچھی طرح سے معلوم ہے کہ صرف مسلم ووٹ بینک کے سہارے کوئی بھی چنا و¿ نہیں جیت سکتا ۔ اس لئے وہ اسد الدین اویسی کی باتوں میں نہیں آئے اور ان کی پارٹی کے امیدواروں کو بالکل نظر انداز کر دیا ۔ مسلمان انکی ریلیوں میں تو خوب جمع ہوئے لیکن یہ بھیڑ ووٹ میں تبدیل نہیں ہو پائی جس کا نتیجہ ہے کہ اترپردیش میں اس بار کے اسمبلی چنا و¿ میں اویسی کے پارٹی کو صر ف 0.49فیصد ووٹ ملا ۔ویسے مسلم ووٹ بینک کی بات کریں تو اس بار کے اسمبلی چنا و¿ میں مسلم اکثریتی بو تھوں پر بھاجپا کو پچھلی بار سے چا ر گنا زیادہ ووٹ ملے ہیں ۔ تین طلاق قانون سرکاری اسکیموں فائدہ پانے والوں کا اثر اس چنا و¿ کے دوران دیکھنے کو ملا ۔عورتوں نے حفاظت کے نا م پر بھی بھاجپا کو ووٹ دیا ۔یوگی جی نے جو غنڈوں پر جو نکیل کسی ا س کا اثر عورتوں پر خاصہ ہوا ۔ مودی یوگی جوڑی نے اترپر دیش میں سبھی طبقوں پر اثر ڈالا ۔ پہلے سے زیادہ مسلم امیدواروں کا اسمبلی میں آنا اچھی بات ہے۔ جنتا زیادہ وہ مین اسٹریم سے جوڑیں گے اتنا ہی فائدہ تمام مسلمانو ں کو ہوگا ۔ اپنے ووٹروں کی خدمت زیادہ مضبوطی سے کریں گے ۔
(انل نریندر)
16 مارچ 2022
اجتماعی طور سے 81لوگوں کو سزائے موت دی گئی!
سعودی عرب نے قطر اور دہشت گروپوں سے وابستگی سمیت مختلف کرائم کیلئے قصور وار ٹھہرائے گئے 81لو گوں کو سنیچر کے روز سزائے موت دے دی گئی ۔ سعودی عرب کی جدید تاریخ میں ایک دن میں اجتماعی طور سے سب سے زیادہ لوگوں کو موت کی سزا دینے کا یہ پہلا معاملہ ہے۔ اس سے پہلے جنوری 1980میں مکہ کی بڑی مسجد سے متعلق یر غمال معاملے میں قصور وار ٹھہرائے گئے 63شدت پسندوں کو موت کی سزا دی گئی تھی ۔ حالاں کہ یہ صاف نہیں ہے کہ سرکار نے موت کی سزا کیلئے سنیچر کا دن کیوں چنا۔ حالاں کہ یہ واقعہ ایسے وقت ہوا جب دنیا کی پوری توجہ یوکرین -روس جنگ پر لگی ہوئی ہے۔ کورونا وائرس کے دوران سبھی سعودی عرب میں موت کی سزا کی تعداد میں کمی آئی تھی ۔حالاںکہ شاہ سلمان اور ان کے بیٹے شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کے دور حکومت میں معاملوں کے قصور وار قیدیوں کا سز قلم کرنا جاری رکھا ۔ سرکار زیر کنٹرول سعودی خبر رساں ایجنسی نے سنیچر کو دی گئی موت کی سزاو¿ ں کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ ان میں مر دوں عورتوں اور بچوں کے قتل سمیت مختلف جرائم کے قصوروار شامل تھے ۔ ایجنسی کا کہنا تھا کہ ملزمان کو وکیل رکھنے کی سہولت دی گئی تھی ۔ عدالتی کاروائی دوران سعودی قانون کے تحت ان کے مکمل حقوق کی گارنٹی دی گئی ۔ ان میں سے کئی جو گھناو¿ نے جرائم کے قصور وار پائے گئے تھے کچھ واردات میں بڑی تعداد میں شہر ی اور قانونی افسر مارے گئے تھے ۔ یہ پور ی دنیا کی مضبوطی کیلئے خطرہ پیدا کرنے والے دہشت گرد اور شدت پسند نظریات کے خلاف سرکار سخت رخ اپنا نا جاری رکھے گی ۔ موت کی سزا پائے لوگوں میں القاعدہ ،اسلامک اسٹیٹ ،یمن حوثی باغیوں کے حمایتی تھے ۔ بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ سرکا ر کو اقتدار بحال کرنے کی کوشش میں سنی قیادت والا اتحا د وہیں ایسایمن سے 2015سے ایران حمایتی حوثی باغیوں سے لڑ رہی ہے یہ نہیں بتایا گیا کہ اجتماعی سزائے موت کس جگہ دی گئی ۔
(انل نریندر)
شروع ہو گئی ہے 2024چنا و ¿کی دوڑ !
جن پانچ ریاستوں کی چنا و¿ نتیجے آئے ہیں ان کا اثر محض ان ریاستوں میں سرکار بنا نے تک محدود نہیں رہنے والا ہے ،بلکہ یہاں سے ریس شروع ہوتی ہے۔ 2024کے لوک سبھا چنا و¿ کیلئے ان ریاستوں کی سہارے اب سارا جوڑ ،گھٹا و¿ لو ک سبھا چنا و¿ کیلئے شروع ہونا طے ہے ۔ حالاںکہ اس درمیان گجرات ، ہماچل پر دیش ،کر ناٹک ،مدھیہ پر دیش ،راجستھان اور چھتیس گڑھ ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ بھی ہوں گے لیکن نظر 2024پر ہی ہوگی۔ ان پانچ ریاستوں کے نتیجے اس لئے بھی اہم ہیں کہ جن ریاستوں سے 102لوک سبھا سیٹیں آتیں ہیں اور بی جے پی کو مر کز میں 300کے پار پہنچانے میں ان ریاستوں کا چہتا رول تھا ۔اپوزیشن نے ان ریاستوں کے ذریعے پس منظر میں تبدیلی کی امید لگا رکھی تھی لیکن اب وہ نئی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں گے ۔ بی جے پی کیلئے تشفی کی بات یہ نہیں ہے کہ اس نے سب سے زیا دہ 90اسمبلی سیٹ والی ریاست میں اپنی واپسی کرلی ہے بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنا ایسا ایک مضبوط ووٹ بینک تیار کرلیا ہے جو اپوزیشن کے کسی بھی طرح کے اتحاد سے متاثر نہیں ہو رہا ۔ اس بار بھی مودی اور یوگی کے چہرے کے آگے بی جے پی کے خلاف سبھی فیکٹر بے اثر ثابت ہو گئے اور یہی سے یوگی آدتیہ ناتھ کی مقبولیت کے پائے دان نریندر مودی کے بعد نمبر دو پر پوزیشن میں آنے کی بحث چھڑ گئی ہے۔ پنجاب میں کانگریس کا اقتدار سے بے دخل ہونا اتنی بڑی بات نہیں ہے جنتی بڑی بات عآپ کا وہاں اقتدار میں آنا ہے ۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی ایک ریاستی پارٹی جو کسی دوسری ریاست میں سرکا ر بنانے جا رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کی جیت کی اہمیت اتنی نہیں ہے ہے اس نے پنجاب جیت لیا ہے ۔بلکہ یہ ہے کہ وہ کانگریس کا متبادل بن رہی ہے۔دہلی کے بعد پنجاب میں پارٹی کا فروغ دکھائی دیا ہے ۔ 2024کے پیش نظر اب عام آدمی پارٹی گجرات کا ٹارگیٹ طے کر رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کا یہ فروغ کانگریس کو زیادہ نقصان پہچائے گا ۔ اروند کیجریوال کی کوشش بھی 2024کے چنا و¿ میں چہر ا بننے کا ہوگا۔اترا کھنڈ بھی 2024کے نظریہ سے بی جے پی کو راحت دینے والا ہے ۔ پچھلے دو لوک سبھا چناو¿ سے بی جے پی یہاں سبھی پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرتی ہے آرہی ہے۔ اس بار چنا و¿ کے پہلے آخری چھ مہینوں میں پارٹی کو اپنے دو وزیر اعلیٰ بدلنے کے بعد پشکر دھامی بٹھانا۔ اس اثر چنا و¿ پر پڑنا تھا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
(انل نریندر)
15 مارچ 2022
پاکستانی سرحد میں ہندوستانی میزائل گرا !
ایک سنسنی خیز حادثے میں چھوڑا گیا ہندوستانی سپر سونک میزائل پاکستان میں بد قسمتی سے جا گرا یہ سرحد کے 125کلو میٹر اندر کھانےوال ضلع میں گرا تھا ۔حالاںکہ اس میں کسی طرح کا دھماکہ نہ ہونے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ بھارت سرکار نے اس حادثے کے معاملے میں اپنی غلطی مان لی ہے۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ اس سنگین غلطی کو لیکر مر کزی حکومت نے سخت مو قف لیتے ہوئے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ یعنی کو رٹ آف انکوائری کے احکامات دیئے ہیں۔ ساتھ ہی واقعے پر ہندوستان کی طرف سے اس کی ہوائی حدود میں داخل ہوئی اور میا چنے گاو¿ں کے پاس گری ۔ بھارت کے وزارت دعاع نے جمعہ کی دیر شام اس بارے سرکاری بیان کے ذریعے پوزیشن کو صاف کیا اس میں بتایا گیا کہ 9مارچ 2022کو معمولاتی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی گڑبڑی ہو گئی اور ایک میزائل غلطی سے چل گئی ۔یہ واردات کافی افسوس ناک ہے لیکن راحت کی بات یہ ہے کہ اس سے جان مال کا نقصا ن نہیں ہوا ۔ پاکستان کی طرف سے معاملے کو طول دینے کی کوشش کے تحت وہاں کے وزیر خارجہ محمود قریشی کی طرف سے بیان میں الزام لگایا کہ اس سے سعودی ،قطر ایئر لائنس اور دوسری گھریلوں اڑانوں کو نقصان پہنچ سکتا تھا ۔ آگے کا فیصلہ بھار ت کے رویہ کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا ۔ انہوں نے اس بارے میں اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبر ملکوں کے سفیروں کو بلاکر جانکاری لی ۔ ہندوستانی سپر سونک میزائل 40ہزار فٹ کی اونچائی پر تھا اور مسافر پروازیں 35سے 42ہزار فٹ کی اونچائی کے درمیان رہتی ہیں ۔ ایسے میں یہ مسافروں کی حفاظت کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی تھی ۔ شکر ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہو پایا اور معاملہ ٹھنڈا ہو گیا۔
(انل نریندر)
عآپ پارٹی کا قومی فلک پر عروج !
آئی آئی ٹی اور انکم ٹیکس افسر اور آندولن کاری کے بعد اب مسلسل تین مرتبہ سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سیاسی دنگل کے بڑے کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں۔ سیا ست کے مو جودہ پس منظر میں کئی علاقائی پارٹیوں نے ایک ریا ست کے باہر دوسری ریاستوں میں سرکار بنانے کی کئی کو شش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئیں ۔ لیکن گزشتہ ایک دہائی کی سیا ست میں عآ پ کے چیف اروند کیجریوال نے 2013,2015اور پھر 2019میں دہلی میں سرکار بنائی اب پنجاب میں زبردست اکثریت کے ساتھ عآپ مو جودہ پہلی علاقائی پارٹی ہے جس نے دوسری ریاست میں سرکار بنائی ہے۔ روایتی سیا ست کو توڑ تے ہوئے وہ ایک ایسی علاقائی پارٹی بن گئی ہے،جس کی ایک ساتھ دو ریاستوں میں سرکاریں ہوں گی ۔ وہ بھی محض تنظیم کے دس سالوں سے بھی کم عرصے کے اندر۔موجودہ دور میں بھاجپا اور کانگریس کے بعد اب ایسی تیسری پارٹی ہو جائے گی جس کی ایک ریاست سے زیادہ ریاستوں میںسرکاریں ہوں گی لیکن عآپ کی جیت کے معنی اتنے تک محدود نہیں ہے ۔بلکہ اس میں کئی اور سندیش بھی چھپے ہیں جو بھاجپا اور کانگریس دونوں کی طرف اہم ترین اشارہ کرتے ہیں ۔ سیا سی واقف کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جیت سے عآپ کو پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ راجیہ سبھا میں اس کی طاقت بڑھے گی۔ پنجاب سے راجیہ سبھا کی ساتھ سیٹیں ہیں جن میں سے پانچ سیٹوں کیلئے دو مرحلوں میں اسی مہینے کے آخر تک چنا و¿ ہیں ، اگر عآپ کی سیٹیں 90سے 100کے درمیان رہتے ہیں تو ساری سیٹیں وہ جیت سکتی ہے دہلی سے تین سیٹیں اس کی پہلے سے ہی ہے ۔ اس طرح آٹھ سیٹیں اس کی راجیہ سبھا میں ہو جائیں گی ۔ دو سیٹیں پنجاب میں خالی ہوں گی اس طرح آنے والے دنوں میں راجیہ سبھا میں عآپ ، بھاجپا ،کانگریس،ترنمول کانگریس ،اور ڈی ایم کے کے ساتھ سب سے زیادہ ممبروں والی پارٹیوں میں شمار ہو سکتی ہے۔ عآ پ کی جیت کانگریس کی ناکامی ہے تو بھاجپا کی مسلسل کامیابی یاترا کیلئے بھی ایک چنوتی ہے۔ چنا و¿ نتیجے دکھاتے ہیں کہ میدان میں بھاجپا اور کانگریس مقابلے میں ہیں وہاں لوگ بھاجپا کو تر جیح دے رہے ہیں اور کانگریس کو مسترد کر رہے ہیں۔ جبکہ جہاں کو ئی علاقائی پارٹی متبادل کی شکل میں ہیں اسے موقع دے رہے ہیں۔پنجاب میں یہی ہوا ۔بنگال میں ایسا ہی دیکھا گیا ،اتر پر دیش میں بھی اگر دیکھیں تو بھلے ہی سرکار بھاجپا بنا رہی ہو لیکن بڑی علاقائی جماعت سماجوادی پارٹی کی پر فارمنس پچھلے چنا و¿ سے بہتر ہوئی ہے۔ پنجاب میں عآپ کی سرکار بننے سے آنے والے وقت میں سب سے زیادہ اثر ہر یانہ کی سیاست پر پڑ سکتاہے۔دہلی اور پنجاب کے درمیان یہ ریاست عآ پ کا اگلا نشانہ ہو سکتی ہے۔ دہلی پنجاب کی سیاست ہر یا نہ کو متاثر بھی کر تی ہے۔ پنجاب ایک مکمل ریاست ہے وہاں اقتدار ملنے سے پارٹی کی اپنی طاقت بڑھے گی ۔ اسے دیگر چھوٹی ریاستوں گوا،اترا کھنڈ ،ہماچل وغیرہ میں بھی نئے سرے سے حکمت عملی بنانے کا موقع ملے گا۔ چناو¿ کی بات کریں تو دہلی میونسپل چنا و¿ عآپ کے نشانے پر ہوں گے۔
(انل نریندر)
14 مارچ 2022
عمران خان پھر مشکل میں پھنسے!
پاکستان کے بڑے انگریزی اخبار ڈون کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج کل کافی دباو¿ میں ہیں ۔جیسے جیسے سیاسی حالات وہاں تیزی سے بدل رہے ہیں اپوزیشن حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد تجویز کو قطعی شکل دیتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ۔یہ بات بھی صاف ہو رہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سرکار اپنے اب تک کے سب سے سنگین مشکل دور میں ہے ۔پی ٹی آئی سرکار فیڈرل سطح پر تو گرمی محسوس کررہی ہے ۔پنجاب صوبہ میں بھی اس کے آگے ایک بری چنوتی کھڑی ہو گئی ہے ۔پیر کو باغی لیڈر جہانگیر خان کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب عمران خان کے قریبی ساتھی اور پنجاب کے سابق سینئر وزیر عبدالعلیم خان ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔باغی خیمہ کے ساتھ ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے علیم خان نے عمران حکومت سے اپنے غرور کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔جہانگیر خان تارین گروپ کی بڑھتی طاقت کو بڑھتے دیکھتے ہوئے اگر اس نے پنجاب کی عثمان بجوار سرکار سے حمایت واپس لے لی تو مزید مشکل میں پڑ سکتی ہے ۔مرکزاور پنجاب سرکار کے خلاف ایک ساتھ ماحول کی گرمی پیدا ہونا کوئی اتفاق نہیں ہے ۔اپوزیشن اسمبلیوں میں نمبرون کی طاقت اور رال پنڈی سے اسلام آباد تک پی پی پی کے لمبے مارچ کے ذریعے سرکار پر زیادہ دباو¿ بنانا چاہتی ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے چیلسی میں جو اشتعال انگیز تقریر کی اسے ان بڑھتے دباو¿ کا ہی نتیجہ مانا جا رہا ہے وزیراعظم نئے حریفوں کے خلاف جس تلخ زبان کا استعمال کیا وہ اس اونچے عہدے پر بیٹھے شخص کے لئے قطعی مناسب نہ تھا ۔پھر یوکرین پر حملے کے حوالے سے انہوں نے ایک ایسے وقت پر یوروپی فیڈریشن اور امریکہ کی تنقید کر ڈالی جب مغربی ممالک اور روس کے درمیان توازن بٹھانے کی ضرورت ہے ۔ایک وزیراعظم کا یوں قابل اعتراض حملہ کرنا پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے ۔وزیراعظم کو سمجھنا چاہیے ان کے ذریعے بولے جانے والے ہر جملے کو ملک کی پالیسی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔اس لئے اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے انہیں خاص طور پر احتیاط برتنی چاہیے ۔
(انل نریندر)
پابندیوں کا اثر روسی شہریوں پر بھی !
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد مغربی ممالک کے ذریعے لگائی گئی پابندیوں کی آنچ عام آدمی محسوس کرنے لگا ہے ۔دیش میں پیمنٹ سسٹم اب کام نہیں کررہا ہے ۔نقدی نکالنے کو لیکر بھی لوگوں کو دقتیں آرہی ہیں ۔ایک روسی باشندے نے بتایا ایپل پے ٹھیک سے کام نہیں کررہا ہے اس کے علاوہ ایک سپر مارکیٹ نے بھی فی شخص سامان خرید کی تعداد محدود کر دی ہے ۔ایپل پے نے اعلان کیا ہے کہ وہ روس میں اپنے آئی فون و دیگر سامان کی فروخت بند کر رہا ہے ۔ساتھ ہی ایپل پے جیسی سہولیات کوبھی محدود کرے گا ۔بڑی تعداد میں غیر ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوںنے روس میں اپنے کاروبار بند کرد ئیے ہیں کئی لوگوں کا کہنا ہے ان قدموں سے ان کی روزمرہ کی زندگی پرکافی اثر پڑ رہا ہے ۔دیش کی کرنسی روبل کو غیر ملکی کرنسی میں بدلنے میں مشکلات آرہی ہیں ۔اے ٹی ایم کے باہر لمبی لمبی لائنیں ہیں کئی بینک کے پے کارڈ کو اے ٹی ایم قبول نہیں کررہے ہیں ۔اور ان سے پیسہ نکلنابند ہے ۔کھانے پینے کے سامان کی کمی ہونے کے علاوہ چیزوں کے دام بے تحاشہ بڑھ گئے ہیں ۔اپوزیشن لیڈریولیا گالوینا نے فیس بک پوسٹ میں لکھا دام بڑھنے کے مسئلے کا سامنا کررہے ہیں پنشن بھی رکی ہوئی ہے ۔دوائیاں اور میڈیکل ساز و سامان کی کمی ہورہی ہے ۔ہم 1990کو اب کم خراب وقت کے طور پر یاد کرتے ہیں لیکن اب ہم اس سے زیادہ خراب حالات سے گزررہے ہیں ۔لیکن میرا سوال ہے کس لئے کہ دیش میں بڑی تعداد میں لوگ جنگ کے خلاف ہیں اور روکنے کے لئے مظاہرے کررہے ہیں ۔
(انل نریندر)
راہل اور پرینکا گاندھی کی لیڈر شپ پر سوالیہ نشان!
پانچ ریاستوں میں ہوئے چناو¿ میں کانگریس کا صفایا ہونے کے بعد پارٹی کی مشکلات اور بڑھیں گی ۔ان نتائج کے بعد راہل گاندھی اور پرینکا کی لیڈرشپ پر سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں ۔کانگریس حکمراں پنجاب بھی ہاتھ سے نکلنے کے بعد پارٹی کے مستقبل کو لیکر طرح طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔پانچ ریاستوں میں سے چار میں بھاجپا اور ایک میں عآپ کی جیت نے کانگریس کی مشکلات بڑھا دی ہیں ۔جمعرات کو نتائج کے بعد کانگریس خیمے میں خاموشی چھا گئی اس کے بعد پنجاب میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران کو جھٹکا لگنے سے بے چینی اور بڑھ گئی ہے ۔پچھلے کئی مہینہ سے خاص کر پنجاب اور اتراکھنڈ میں چل رہی گروپ بندی آخر کار پارٹی کو لے ڈوبی ہے ۔یوپی پنجاب اور اتراکھنڈ ،منی پورسے لے کر گوا میں بہتر پرفارمنس کی کرن نظر نہیں آئی ۔یوپی اور پنجاب میں پارٹی بری طرح ناکام رہی ۔دیش کی سب سے پرانی پارٹی کے چناوی ہار پر لیڈر شپ پر سوالیہ نشان اٹھنا فطری ہی ہے ۔کانگریس کی سیکریٹری جنرل پرینکا گاندھی مسلسل یوپی نا چھوڑنے کی بات کہہ رہی تھیں ۔جس امید اور حکمت عملی کے ساتھ چناوی مہم کا تانہ بانہ چنا تھا اسے لوگوں نے مسترد کر دیا ۔پرینکا چناوی لٹمس ٹیسٹ میں فیل ثابت ہوئی ہیں ۔پارٹی میں اتنی بھی سیٹ نہیں دلا سکیں جتنی پچھلی اسمبلی میں تھیں ۔یوپی میں یہ کانگریس کی اب تک کی سب سے خراب پرفارمنس رہی ۔پرینکا گاندھی چناو¿ مہم میں زور وشور سے اتریں اور محنت بھی کی لیکن مشیروں اور حکمت عملی سازو ں سے گھرنے کے سبب چناو¿ پرفارمنس ہوا ہوائی ہو گئیں ۔پرینکا کے ارد گرد جو چہرے دکھائی دے رہے تھے ان کی چمک بھی کوئی کمال نہیں دکھا سکی ۔بتاتے ہیں مشیروں اور پارٹی نیتاو¿ں کے درمیان تال میل کی کمی نے بھی کانگریس کی کھلی اڑوائی ۔پرینکا گاندھی نے اتر پردیش میں قریب 167ریلیاں اور روڈ شو کئے قریب 42جگہوں پر یہ روڈ شو ہوئے ۔ریاست کی 403ممبر اسمبلی میں سے 240اسمبلی حلقوں میں ورچوئل رویلیوں کے ذریعے سے ووٹروں سے رابطہ قائم کیاگیا ۔پانچ ریاستوں کے نتائج آنے کے بعد کانگریس کے باغی خیمہ میں کانگریس کے مستقل صدر بنانے کی پھر زور پکڑے گی ۔حالانکہ پارٹی ستمبر تک چناو¿ کرانے کا اعلان کر چکی ہے لیکن چناوی نتائج راہل گاندھی کے صدر بننے میں روڑا بنیں گے ۔راہل حمایتی لیڈر ان کے کمان سنبھالنے کا انتظار کررہے ہیں ۔وہیں یہ خیمہ پرینکا گاندھی واڈرا میں پارٹی کا مستقبل دیکھ رہا تھا ۔مگر انہوں نے بھی مایوس کیا ہے ۔نتائج آنے کے بعد راہل اور پرینکا لیڈر شپ پر سوال اٹھنا شروع ہو سکتے ہیں ۔باغی لیڈران کی بیان بازی اور سرگرمی بڑھنا طے ہے ۔کچھ نیتاو¿ں کے پارٹی چھوڑنے اور کچھ کو کنارہ کرنے کے بعد جس گروپ 23میں خاموشی دکھائی دے رہی تھی ۔اب کچھ نئے ممبران کے نام بھی جڑنے کا امکان ہے ۔ایسے میں نتائج نے راہل پرینکا نے لیڈرشپ کے سامنے خود کو ثابت کرنے کی چنوتی ہے ۔راہل گاندھی کو اگر صدر بھی بنا دیا جائے تو ان کی سب سے پہلی اور مشکل پرکشا گجرات میں ہوگی ۔جہاں سال کے آخری میں چناو¿ ہونے ہیں ۔نئے صدر کے سامنے ایک اور چنوتی پنجاب ہے جہاں آپ کے ہاتھوں گنوائی زمین پر لوک سبھا چناو¿ میں بہتر پرفارمنس کرنی ہوگی ۔دہلی میں گنوانے والی کانگریس پارٹی آج تک واپسی نہیں کر پائی ۔راہل گاندھی کے سامنے ایک اور چنوتی یوپی کے بلدیاتی اداروں میں چناو¿ لڑنے کے طور پر ہوگی ۔جہاں یہ 2019کا چناو¿ ہارے ہیں پارٹی کا جو خیمہ راہل کے بدلے پرینکا گاندھی میں مستقبل دیکھ رہا تھا ۔انہیں بھی ان نتائج نے مایوس کر دیا ہے ۔راہل گاندھی کی راہ میں اڑنگا ڈالیں گے یہ نتائج اور لٹمس ٹیسٹ میں پرینکا کی رپورٹ بھی نگیٹو آئی ہے ۔
(انل نریندر)
13 مارچ 2022
ایسے گھو ٹالے ہو رہے ہیںکون سرمایہ لگائے گا!
دہلی کی ایک عدالت نے نیشنل اسٹاک اسکسچنج کو لوکیشن گھوٹالے میں بدھوار کے روز سی بی آئی کو جانچ میںسست روی کیلئے پھٹکار لگائی ۔عدالت نے مزید کہا کہ ایسے گھوٹالے ہوتے رہے تو بھارت میں کو ن سرمایہ کاری کرے گا ؟دیش کی ساکھ داو¿ پر ہے عدالت نے ساتھ ہی این ایس پی میں گروپ آپریٹنگ افسر اور سابق ایم ڈی کے مشیر آنند سبرامنیم کو 14دن کی جوڈیشل حراست میں بھیج دیا ۔جانچ ٹیم نے سبرامنیم کو ہمالیہ یوگی بتایا ہے ۔جو سابق سی ای او چترا کو مشورہ دیتا تھا۔ اسپیشل جج سنجیو اگروال نے پوچھا ،کیا اس کی جانچ سالوں چلتی رہے گی؟ ہمارا بھروسہ ہی ختم ہو جائےگا ۔ سرمایہ چین چلے جائیں گے۔ لوگ بھارت میں پیسہ یہ سونچ کر لگا تے ہیں کہ این ایس ای غیر جانب دار ہے ۔ آپ جانچ بہت ہلکے میں لے رہے ہیں آنند کو 24فروری کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ ا س کی تقرری و پانچ کروڑ روپے تخواہ بھتے کیلئے قواعد سے کھلواڑ کا بھی الزام ہے ۔ سی بی آئی کی طرف سے عدالت میں پیش وکیل نے کہا کہ اس معاملے میں قیدی حکام کے رول کی جانچ کر رہے ہیں۔30لوگوں کی اسپیشل ٹیم جانچ کر رہی ہے۔ جس میں سینئر افسران بھی شامل ہیں۔
(انل نریندر)
میونسپل چناو ¿ کی تاریخ ٹلنے پر سیاسی سنگرام!
دہلی میونسپل کارپوریشن کے چنا و¿ کو لیکر بدھوار کو اچانک ریاستی الیکشن کمیشن نے تاریخوں کا اعلان ٹال دیا ۔اور پریس کانفرنس سے ٹھیک آدھے گھنٹے پہلے مر کزی حکومت کا لیفٹیمنٹ گورنر کی طرف سے ایک تجویز ریاستی چناو¿ کمشنر کو ملی اس کے بعد ہی چنا و¿ کے اعلان کو اگلے فیصلے تک ٹال دیا گیا ۔ دہلی اسٹیٹ الیکشن کمشنر ایس کے سریواستو نے بتایا شاید مر کزی سرکار تینوں کارپوریشنوں کو ملا کر ایک نئی کارپوریشن تشکیل کر نا چاہتی ہے ۔ اور مجھے شام ساڑھے چار بجے مر کزی سرکار سے پیغام ملا ہے اسلئے میں ابھی ایم سی ڈی چنا و¿ کی تاریخوں کا اعلان کرنے سے قاصر ہوں اس سے پہلے اسٹیٹ الیکشن کمشنر سریواستو شام 5بجے پریس کانفرنس میں تاریخوں کا اعلان کرنے والے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اب انہیں چنا و¿ کی تاریخ ڈکلیئر کرنے میں پانچ سے سات اور لگ سکتے ہیں۔ ہمیں 18 مئی سے پہلے چنا و¿ کرانا ہے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم چناو¿ ملتوی کررہے ہیں اور ابھی وقت ہے طے میعاد کے اندر چنا و¿ ہوں گے ۔ نارتھ اور ساو¿تھ ایم سی ڈی میں64وارڈ ہیں اور آدھے وارڈ عورتوں کیلئے محفوظ کر دئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ درج فہرست برادریوں کے امیدواروں کیلئے وارڈ ریزرو ہے ۔ایم سی ڈی چنا و¿ کی تاریخوں کے ٹالے جانے سے سیا سی گرمی انتہا پر پہنچ گئی ہے اور سیا سی میدان تیار ہو گیا ہے ۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پر بھاجپا پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھاجپا چنا و¿ سے بھاگ گئی چنا و¿ ٹال دیا اور ہار مان لی۔ اپنے ٹویٹ میں کیجریوال نے کہا کہ دہلی والے خوب غصے میں ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کی ہمت کیسے وہ چنا و¿ نہ کرائیں ؟اب ان کی ضمانت ضبط کرائیں گے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عا م آدمی پارٹی کے انٹر نل سروے میں سامنے آیا ہے ابھی تک 272میں 250سیٹ ہماری آ رہی تھی لیکن اب 260سے زیادہ آئیں گی ۔ ایم سی ڈی میں 15کے کرپشن سے جنتا بہت دکھی ہے اور اسی ڈر سے بھاجپا چنا و¿ سے بھاگ رہی ہے۔ وہیں دوسری طرف جوابی حملہ کرتے ہوئے بھاجپا دہلی پر دیش صدر آدیش گپتا نے کہا کہ بھاجپا کبھی چناو¿ سے نہیں بچتی اور ہما ری تنظیم ہمیشہ چناو¿ کیلئے تیار رہتی ہے ۔ 10سال پہلے سابقہ ایم سی ڈی کو تقسیم کر تین کارپوریشنوں میں بدل دیا گیا تھا لیکن دس سال بعد سیاسی پارٹیوں و جنتا نے محسوس کیا کہ اس سے انتظامیہ اور مالی دشواریاں بڑھ گئی ہیں ۔ گزشتہ سات سال سے مسلسل کارپوریشن کا فنڈ روک کر عام آدمی پارٹی سرکار میں کار پوریشنوں کو مالی طور سے پنگو بناکر کمزور کیا ہے ۔ اس لئے کارپوریشن کے نظام میں اصلاح کے مقصد سے مرکزی سرکار نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا ۔ وہیں بھاجپا نیتا ہریش کھرانا نے دعویٰ کیا کہ چنا و¿ آج ہوں یا کل ہوں جب بھی ہوں ہمیں جیتیں گے ۔ ادھر دہلی کانگریس کے صدر انل چودھری نے کہاکہ بھاجپا اور عآپ کارپوریشن میں اپنی مکانی ہار کو دیکھتے ہوئے چنا و¿ کا ٹالنا چاہتے ہیں۔ اور پارٹی چاہتی ہے کہ ایم سی ڈی کے چنا و¿ طے وقت پر ہوں ،چودھری کا کہنا تھا کہ کانگریس ہر ضلع میں ورکروں سے میٹنگ کر رہی ہے ۔ جس میں بھار تعدا د میں لوگ شامل ہو رہے ہیں ۔بھاجپا اور عام آدمی پارٹی سرکار میں راجدھانی کے ماحول کا بگاڑ کر ہندو مسلم طبقوں میں فرقہ وارانہ نفرت اور دنگا پھیلا کر دہلی کو پہلے بار فساد میں جھونک دیا ۔ واضح ہو کہ 22مئی تک چنا و¿ کرانے ضرور ی ہیں ۔ تینوں ایم سی ڈی کیلئے کل ملاکر ابھی 272وارڈ ہیں۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...