03 نومبر 2018

امیّ اگر میں زندہ رہا تو......!

آتنکی حملہ ہو گیا ہے.....دانتے واڑہ میں آئے تھے الیکشن کوریج کے لئے لیکن ..........ایک راستے تھے گذر رہے تھے،فوجی ہمارے ساتھ تھے......اچانک نکسلیوں نے گھیر لیا۔امی اگر میں زندہ بچا تو غنیمت ہے.....امی میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں .......ہو سکتا ہے کہ میں حملے میں مارا جائوں .......حالات صحیح نہیں ہیں،پتہ نہیں کیوں موت کو سامنے دیکھتے ہوئے ڈر نہیں لگ رہا ہے.......بچنا مشکل ہے۔یہاں پر 6,7جوان چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔یہ لفظ دور درشن کے اسسٹینٹ کیمرہ مین مور مکٹ شرما کے ہیں،جو منگوار کو ہوئے نکسلی حملے میں دانتے واڑہ کے جنگلوں میں پھنس گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہاں قریب 40منٹ تک فائرنگ ہوتی رہی ایسی خوفناک آوازیں میں نے تو صرف فلموں میں ہی سنی تھیں اور ان آوازوں سے پورا جنگل گونج رہا ہے۔معلوم ہو کہ نکسلی حملہ میں موکٹ کے ساتھی کیمرہ مین اچھوتا نند کی موت ہو گئی تھی۔دونوں ایک ہی بائک پر سوار تھے۔موکٹ نے بتایا کہ پتلا راستہ ہونے کے سبب ہمیں بائک سے جانا پڑا تھا اچانک گولا باری شروع ہوگئی ۔میں سڑک کے کنارے کھڈ میں چلا گیا۔میں نے سوچا اچھوتا نند مارا گیا ہے میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔ان پلوں کو کیمرے میں قید  کر لوں ۔میں موبائل سے شوٹ کرنے لگا جہاں پر میں لیٹا ہوا تھا۔وہاں لال چینٹیوں کا جھنڈ تھا۔چینٹیاں میرے جسم پر رینگنے لگیں ۔اس لئے مجھے بیچ میں ہی ویڈیو بند کرنا پڑا۔حملے میں دو جوان شہید ہو گئے تھے۔ اور دور درشن کے کیمرہ مین اچھوتا نند شاہو کی بھی موت ہو گئی تھی۔ بھارت میں ڈیوٹی کے دوران صحافیوں کی زندگی پر خطرہ اب ایک عام بات ہو گئی ہے۔آئے دن کسی پترکار پر حملہ یا قتل واقعات ثبوت ہیں کہ صحافت کرنا اور سچی خبریں نکالنا خطرہ بھرا کام ہو گیا ہے۔یقینی طور سے ہمارے بہادر جوانوں کی جان بھی دیش کے لئے بے حد قیمتی ہے اور مائووادیوں کے حملہ میں دو لوگوں کی شہادت دکھ دینے والی واردات ہے لیکن ایک صحافی جس کا غیر جانب داری سے صرف واقعات کو درج کرنا تھا۔اس کی جان جانے کی اہمت بھی کم نہیں ۔اسی واردات میں ایک اور صحافی کی جان کسی طرح بچ سکی ۔یہ سب تب ہوا جب ماووادیوں کی جانب سے باقاعدہ ایک خط جاری کر کہا گیا تھا کہ بستر کے کسی بھی حصہ میں رپورٹنگ کے لئے پترکار آسکتے ہیں انہیں کسی بھی علاقہ میں آنے جانے سے نہیں روکا جائے گا لیکن تاج حملہ میں کیمرہ سنبھالے جس پترکار کی موت ہوئی ہے اس کی شناخت بھی مشکل نہیں تھی پھر بھی اسے نشانہ بنایا گیا آخر اس سے مائووادیوں کو کیا حاصل ہوا۔کہا جا سکتا ہے کہ جب جنگ یا حملہ کی صورت حال ہوتی ہے اس وقت ہتھیار چلانے والے صرف اس بات کو یاد رکھتے ہیں کہ وہ دشمن کا سامنا کر رہے ہیں۔ بھارت میں صحافیوں کو اس طرح کے خطرے کا سامنا صرف ماوئوادیوں کو متاثر یا کشمیر کے شورش زدہ علاقوں میں جنگ یا تشدد کے واقعات کے دوران ہی نہیں کرنا پڑتا بلکہ دوسرے عام طور پر ٹھیک ٹھا ک دکھائی دینے والے شہروں اور دور دراز کے دیہی علاقوں میں بھی کرپٹ یا مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کے بارے میں خبریں نکلانے والے صحافیوں کو بھی کبھی سیدھے حملہ میں تو کبھی حادثہ کی شکل میں مار دیا گیا ہے۔جوانوں کے ساتھ میڈیا ملازمین کا اس طرح جانا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ہم شہید ہونے والے جوانوں اور دور درشن کیمرہ مین کے شہید ہونے اپنی شردھانجلی دیتے ہیں ایک طرف صحافی بے تکے تشدد کا شکار ہو گیا۔وہ تو محص اپنی ڈیوٹی ہی کر رہا تھا۔

(انل نریندر)

روح کانپنے والی بربریت سے ہوا ہاشم پورہ میں قتل عام!

دہلی ہائی کورٹ نے 31سال پہلے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے میرٹھ کے ہاشم پورہ قتل عام کے معاملے میں پی اے سی کے 16سابق جوانوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے بدھ کو قتل عام کی پولس کے ذریعہ بے قصور لوگوں کی سازش کے تحت قتل اور ٹارگیٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے کو پلٹ دیا۔جس میں ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔1987میں ہاشم پورہ میں اقلیتی فرقہ کے 42لوگوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔جسٹس ایس مرلی دھر ،جسٹس ونودگوئل نے کہا اس بات کو نظر انداز نہیں کیا سکتا کہ متوفی  اقلیتی فرقہ کے لوگ تھے۔یہ واردات قانون کی تعمیل کروانے کے لئے بنی فورس میں موجود مذہبی جانب داری کا انکشاف کرتی ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل کے ذریعہ جرائم کی وجہ ثابت کر پانے اور بچائو  فریق کی دلیل کو مستر د کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے صاف کہا کہ متاثرین کو سچائی جاننے کا حق ہے۔یہ انصاف کے حق کا اہم جز ہے۔اس معاملے میں پی اے سی نے روح کانپنے والی بربریت سے قتل عام کیا اور متوفین کے رشتہ داروں کو اندھیرے میں رکھا۔31سال لمبے انتظار میں متوفین کے رشتہ داروں کا بھروسہ سسٹم اور سرکار نے کمزور کیا۔22مئی1987کو ان کے رشتہ دار گئے اور لوٹ کر کبھی نہیں آئے اور ان کی لاشوں کو نہر کے پانی سے نکالا گیااور وہ بھی رشتہ داروں کو نہیں ملی۔وہیں امید کی جاسکتی ہے کہ سرکار مناسب قدم اُٹھائے گی۔جس سے قانون کی تعمیل کروانے والی ایجنسیوں کی جوابدہی ایسے معاملوں میں طے ہو سکے۔ہائی کورٹ نے2018میں آئی روپورٹ جس میں بھارت میں پولس نظام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ پولس فورس میں مسلم فرقہ کی نمائندگی محض 2.5فیصد ہی ہے۔روپورٹ کے مطابق 64فیصد مسلمانوں نے مانا ہے کہ پولس کو دیکھ کر انہیں ڈر لگتا ہے یہ ڈر پولس کو ایک غیر جانب دار ایجنسی کی شکل میں ناکام بتاتا ہے۔عدالت نے کہا کہ متاثرین کو پی اے سی نے غیر قانونی طورنے یرغمال بنایا۔ٹرک میں ان کو مارا بھرا اور دو الگ الگ جگہ لئے گئے جہاں لے جا کر ان کو گولیاں ماریں ۔یہ حقائق سپریم کورٹ کو مطمئن کرنے کے لئے کافی ہیں۔ متاثرین کو غیرقانونی طور سے حراست میں لیا گیا تھا۔اور یہ حراستی ہلاکتوں کا معاملہ ہے جہاں ہمارا آئینی نظام انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو موثر سزا نہیں دلا سکا۔دو سال چلا مقدمے میں موجود خاموشیوں کو دکھاتا ہے۔اور متاثرین کو انصاف دلانے میں جانب داری دکھاتا ہے۔ہاشم پورہ کانڈ میں دہلی ہائی کور ٹ کے فیصلے سے متاثر رشتہ داروں کے زخموں پر کچھ مرہم ضرور لگا ہے لیکن زخم ابھی بھی گہرے ہیں۔یہاں کے متاثرین کا درد آج بھی تازہ دکھائی دیتا ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو جیسے ہی نچلی عدالت کا فیصلہ پلٹتے ہوئے 16سابق پولس والوں کو عمر قید کی سزا سنائی متاثرین کی آنکھوں سے آنسو چھلک اُٹھے ان آنسووں میں اپنوں کو کھونے کا غم تھا۔تو فیصلے کو لیکر تھوڑا سکون بھی ملا ۔حالانکہ نم آنکھوں سے کچھ متاثرین نے کہا قصورواروں کو پھانسی کی سزا ملتی تو زیادہ سکون ملتا۔

(انل نریندر)

02 نومبر 2018

انڈیا کی آئرن لیڈی اندرا گاندھی!

بدھوار 31اکتوبر کو اندرا گاندھی کی 34ویں برسی تھی ۔یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ سوائے کانگریس پارٹی کے ان کی برسی چنندا اخباروں میں اشتہارات تھے ان اخباروں  نے ان کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں شائع کیا ۔ساری توجہ سردار پٹیل کی وسیع مورتی پر لگی رہی یہ وقت بھی ہو سکتا ہے ۔بھاجپا سرکار اندرا جی کو یا د تک کرنا نہیں چاہتی اور انہیں بھلانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔اندرا بھارت کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے پس منظر میں بھی بے حد اہم شخصیت تھیں ۔صرف اس لئے نہیں کہ وہ بھارت کی پہلی ایسی طاقتور خاتون وزیر اعظم تھیں جن کے بلند حوصلے کے آگے پوری دنیا نے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔وہ ان کے بلند حوصلے ہی تھے جن کی بدولت بنگلہ دیش ایک آزاد ملک کی شکل میں وجود میں آیا ۔بھارت نے ان کی حکومت میں پہلی بار خلا میں جھنڈا اسکوائڈرن لیڈر راکیش شرما کی شکل کی شکل میں تھا ۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے پنجاب میں پھیلی انتہا پسندی کو کچلنے کے لئے سخت فیصلہ لیتے ہوئے مشکل سے مشکل قدم اُٹھانے سے پرہیز نہیں کیا ۔بیشک ان کے فیصلے کے لئے انہیں اپنی جان کی قیمت چکانی پڑی۔وہ اندرا ہی تھیں جنہوں نے بھارت کو نیو کلیائی طاقت کفیل بنانے کی طرف بڑھایا سیاسی سطح پر چل رہی ان کی کئی اشو کو لیکر تنقید ہوتی تھی لیکن ان کے سیاسی حریف بھی سخت فیصلہ لینے کی قابلیت کو در کنار نہیں کرتے تھے۔ یہی چیزیں ہیں جو انہیں آئرن لیڈی کے طور پر بنائے ہوئی تھی۔1971میں بھارت پاک کے درمیان جنگ اور اندرا گاندھی کے ہمت والے فیصلے کو پوری دنیا یوں ہی نہیں یاد کرتی1971کی لڑائی کے بعد دنیا کے نقشے پر بنگلہ دیش کا عروج ہوا ۔پاکستان کی سرکار نے مشرقی پاکستان کے لوگوں اور نیتائوں نے بھارت سے مدد مانگی ۔اندرا گاندھی کی رہنمائی والی کانگریس سرکار نے مدد دینے کا فیصلہ کیا۔اندرا گاندھی نے صبوتوں کا حوالہ دے کر بتایا کہ بھارت سرکار کا فیصلہ دلائل پر مبنی تھا ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خاموشی کا مطلب ہی نہیں تھا۔مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستا ن کی فوج بے رحمانہ طریقے پر ظلم ڈھا رہی تھی پاکستان  کہ اپنی ہی فوج اپنے شہریوں کو نشانہ بنا رہی تھی ۔فوج کے جوانوں کو ہزاروں بنگلہ عورتوں کی آبرو ریزی کی اور قتل کیا۔ساری دنیا تماشا دیکھتی رہی ۔اپنے فیصلے کا بچائو کرتے ہوئے اندرا جی نے سوال کرنے والے سے پوچھا کہ جب جرمنی میں ہٹلر کھلے عام یہودیوں کا قتل کر رہا تھا،مرد عورتوں یہاں تک کہ بچوں کو گیس چیمبروں میں بھیج کر مار رہا تھا اس وقت مغربی ممالک خاموش تو نہیں بیٹھے ۔دوسرے دیش ہٹلر کے خلاف کھڑے ہوئے کچھ اسی طرح مشرقی پاکستان میں حالات بن چکے تھے ۔اور ان کے سامنے مداخلت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔آج ایودھیا میں رام مندر کا اشو چھایا ہوا ہے آج اگر اندرا جی ہوتیں تو وہ رام مندر بنانے کا سخت فیصلہ لیتیں ۔جب انہوں نے پاکستا میں ہندوستانی فوج بھیجی ۔انہوں نے ووٹ بینک کی سیاست کو در کنار کر دیا ۔اور بھارت کے مفاد میں تھا وہ فیصلہ کیا۔وہ انسانیت کے مفاد میں تھا۔بیشک اندرا جی نے امرجنسی لگانے،آپریشن ،بلو اسٹار جیسی غلطیاں کیں جس کے نتیجے می ضروری ایکشن لینے میں کبھی پرہیز نہیں کیا۔ایسی آئرن لیڈی کی قربانی کو بھلایا نہیں جا سکتا ۔بیشک آج ان کی یادوں کو بھلانے کی پوری کوشش ہو رہی ہے۔لیکن دیش کی جنتا اندا جی کو کبھی بھلا نہیں سکتی پتہ نہیں کہ بھارت کو کبھی دوسری آئرن لیڈی نصیب ہوگی یا نہیں ہم اندرا جی کی 34ویں برسی پر انہیں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔

(انل نریندر)

ایودھیا میں رام مندر تعمیر عدالت کی ترجیح نہیں

یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ سپریم کورٹ نے ایودھیا معاملے کی سماعت جنوری تک ٹال دی ہے۔رام بھگتوں کو امید تھی کہ جیسا عدالت نے کہا کہ وہ ایودھیا معاملے کی سماعت روز مرہ کرئے گی اس امید پر عدالت نے پانی پھیر دیا ہے۔جنوری میں سپریم کی نئی بنچ یہ طے کرئے گی کہ اس معاملے کی سماعت کب ہو؟چیف جسٹس کی سربراہی والی پنچ کی طرف سے جس طرح کہا گیا یہ متعلقہ بنچ ہی طے کرئے گی کہ معاملے کی سماعت جنوری ، فروری،اور مارچ یا اپریل میں کب ہوگی۔اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اس تنازع کا جلد حل نکالنے میں سپریم کورٹ کی ترجیحات میں نہیں ہے۔کیا اس بات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ ایودھیا پر الہ آبادہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگائے ہوئے سات سال گزر چکے ہیں پھر بھی معاملے پر سماعت جلد سے جلد ہونی چاہئے اس میں جلد انصاف کی کوئی صورت نہیں بن رہی ہے۔صاف ہے کہ ایودھیا معاملہ عدالت کو فورا جلدی یومیہ سماعت کے لائق نہیں لگا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ایودھیا معاملے پر عام چنائو سے پہلے فیصلہ آنے کا امکان ختم ہوگیا لگتا ہے۔اس معاملے میں یہ فیصلہ مایوس کن ہے سپریم کورٹ کے پاس معاملہ سات برسوں سے زیادہ عرصے تک لٹکا ہوا ہے۔ایودھیا مسئلے کا حل آج پورا دیش چاہتا ہے اور وہ بھی جلدی۔سادھو سنتوں کو لے کر وی ایچ پی وغیرہ کا بیان آرہا ہے سرکار فورا آرڈیننس لا کر مندر تعمیر کا راستہ ہموار کرئے اور بعد میں اسے بل کی شکل میں پیش کر پارلیمٹ میں قانون بنا دے۔اپورزیشن پارٹیوں نے سیاسی حکمت عملی کے تحت کہنا شروع کر دیا ہے کہ سرکار کو کسی نے آرڈنینس لانے سے روکا نہیں ؟مودی سرکار و بھاجپا کے لئے عجب صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔وہ فورا کوئی قدم نہیں اُٹھاتی ہے تو پانچ ریاستوں کے اسمبلی چنائو میں اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑئے گا ۔اگر سرکار معاملہ اُٹھاتی ہے تو اسے سپریم کورٹ کو نذر انداز کرنا ہوگا ۔اپوزیشن کو لگتا ہے کہ اس کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہے۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ بغیر تعاون ایسا کوئی قانوں ممکن نہیں ہے جو ایودھیا میں رام مند ر کی تعمیر کا راستہ صاف کرئے ۔اگر وہ بھی بن جاتا ہے تو اسے عدالت میں چنوتی دی جا سکتی ہے اس کے ساتھ ہی رام مند ر کا راستہ صاف کرنے کے لئے ایودھیا تنازع کا حل آپسی رضامندی سے نکلے اگر ایسی کوئی کوشش ایمانداری سے ہو سکتے تو ایودھیا معاملے کی سماعت ٹالنے کو ایک موقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اچھا تو 
یہی ہوگا کہ آپسی رضامندی اور بھائی چارگی کے راستے سے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ہو۔

(انل نریندر)


01 نومبر 2018

سرکار بینکوں کیساتھ ٹوئٹنی۔20 کھیلنا بند کرے

آہستہ آہستہ یہ واضح ہوجارہا ہے کہ بھارت سرکار اور ریزرو بینک کے درمیان رشتے خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ریزرو بینک بھی سی بی آئی کی طرح سرکاری چنگل سے آزاد ہونا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ریزرو بینک کی پالیسیوں اور کام کاج کے طریقوں کی تنقید کھل کر شروع ہوگئی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے ڈپٹی گورنر ورل آچاریہ نے بینکوں کی مختاری کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار بینکوں کے ساتھ ٹوئٹنی۔ 20 میچ کھیلنا بند کردے ورنہ اس کے تباہ کن نتائج ہوسکتے ہیں۔ سی بی آئی میں جس وقت مرکزی سرکار کی مداخلت کو لیکر زلزلہ آیا ٹھیک اسی وقت بینکوں کی مختاری پر آچاریہ کی صلاح اہم ترین مانی جارہی ہے۔ بینکوں اور وزرا کے گٹھ جوڑ کی اکثر شکایتیں آتی رہتی ہیں۔ بڑھتے این پی اے اور بینکوں کا پیسہ لیکر بیرون ملک بھاگے مالی مجرموں کے ساتھ نیتاؤں افسروں کے رشتے پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ ایسے میں بینکوں کے لئے آزادی کی مانگ اٹھا کر آچاریہ نے یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ اگر بینک اپنے مطابق کام کریں تو حالات تبھی بہتر ہوسکتے ہیں ورنہ تباہ کن نتائج کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اے ڈی شراف میموریل لیکچر میں آچاریہ نے کہا جو مرکزی سرکار سینٹرل بینکوں کی آزادی کی قدر نہیں کرتی اسے دیر سویر مالی بازاروں کی ناراضگی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ اہم ترین ریگولیٹری اداروں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ تباہ کن ہوتا ہے۔ ادھر بھارت کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) راجیو مہرشی نے بینکوں کے موجودہ این پی اے کے بحران میں ریزرو بینک کے کردار کو لیکر سوال اٹھایا ہے۔ مہرشی نے پوچھا کہ جب بینک بھاری مقدار میں قرض دے رہے تھے جس سے اثاثہ اور دین داریوں میں عدم توازن پیدا ہوا اور قرض پھنس گئے تو بینکنگ سیکٹر ریگولیٹری آربی آئی کا کیا کررہا تھا؟ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق بینکنگ سیکٹر کی غیر ویریفائی راشی (این پی اے) یعنی پھنسا قرض 2017-18 کے اختتام پر 9.61 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ آر بی آئی گورنر ارجیت پٹیل کو ایک بار پھر پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اس بار انہیں آئی ایل اینڈ ایف ایس سنکٹ پر جواب دینا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق یہ میٹنگ کسی بھی وقت ہوسکتی ہے۔ پارلیمنٹ کی مالی معاملوں کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کانگریس کے سینئر لیڈر ویرپا موئلی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کمیٹی آئی ایل اینڈ ایف ایس معاملہ کو دیکھے گی۔ یہ دوسری بار ہوگا جب ایک سال میں ہی پٹیل کو دوسری بار پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ بتادیں اس سے پہلے جون میں پنجاب نیشنل بینک جعلسازی کے معاملہ میں جواب دینے کے لئے بلایا گیا تھا۔ سرکار اور ریزرو بینک میں اختلافات و ٹکراؤ بڑھتا جارہا ہے یہ نہ تو آر بی آئی نہ سرکار اور نہ ہی دیش کے لئے اچھا اشارہ ہے۔
(انل نریندر)

سری لنکا میں اس وقت دو وزیر اعظم ہیں

پڑوسی دیش سری لنکا کی سیاسی صورتحال دھماکہ خیز بن گئی ہے۔ وہاں اقتدار کی لڑائی سے نہ صرف سری لنکا ہی بلکہ پورے خطہ میں حالات خراب ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس وقت وہاں دو دو وزیر اعظم ہیں۔صدر میتری پالا سری سینا نے جمعہ کو رنل وکرم سنگھے کو برخاست کر مہندر راج پکشے کو وزیراعظم کا حلف دلادیا۔ ایتوار کو صدر نے دیش کے سامنے اپنے فیصلہ کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش کی وہیں راج پکش نے دیش میں جلد پارلیمانی چناؤ کرانے کی بات کہی ہے۔ راجپکش کو چین کا حمایتی مانا جاتا ہے۔ صدر شی جن پنگ تو انہیں مبارکباد بھی دے چکے ہیں۔ سری لنکا کے صدر کے فیصلہ کو جھٹکا دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے اسپیکر جے سوریہ نے رنل وکرم سنگھے کو دیش کے وزیر اعظم کی شکل میں منظوری دے کر بحران کھڑا کردیا ہے۔ اس طرح اس وقت سری لنکا کے دو وزیر اعظم ہیں۔ اسپیکر جے سوریہ نے کہا کہ وکرم سنگھے کو جمہوریت مضبوط کرنے اور گڈ گورننس کے لئے مینڈیڈ ملا ہے۔ اسپیکر کے موقف سے برخاست وزیر اعظم وکرم سنگھے کے دعوی کو طاقت ملی ہے۔ صدر میتری پالا سری سینا کے ذریعے وزیر اعظم رنل وکرم سنگھے کو عہدہ سے ہٹانے ،پارلیمنٹ کو آنے والی16 نومبر تک ملتوی رکھنے اور مہندرا راج پکش کو چپ چاپ وزیر اعظم کے عہدہ کا حلف دلانے جیسے تابڑ توڑ فیصلہ لینے سے دیش میں آئینی بحران تو پیدا ہوہی گیا ہے ہند مہا ساگر کے جزیرہ نما دیش میں پیدا ہوئے اس سیاسی عدم استحکام میں بھارت سمیت بین الاقوامی برادری کو فکر مند کردیا ہے۔ حالانکہ پارلیمنٹ کے اسپیکر وکرم سنگھے کو ہی وزیر اعظم بنا کر انہیں تھوڑی طاقت ضرور دے دی ہے لیکن حالات تو تب واضح ہوں گے جب راج پکش کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کو کہا جائے گا۔ وکرم سنگھے کو بھارت حمایتی بتایا جاتا ہے جبکہ کچھ سال پہلے تک ایک ہی پارٹی میں رہے سری سینا اور راج پکش کی چین سے نزدیکی ہے۔ سال2015 میں راج پکش کو ہراکر سری سینا راشٹرپتی بنے تھے۔ بھارت کے تئیں ان دونوں کے رویئے کا پتہ اسی سے چلتا ہے کہ سری سینا نے جہاں پچھلے دنوں بھارت پر اپنے قتل کی سازش رچنے کا الزام لگایا تھا حالانکہ بعد میں وہ اس الزام سے مکر گئے، وہیں راج پکش اس سے پہلے اپنی ہار کے لئے بھارت کو ذمہ دار ٹھہرا چکے ہیں۔ لیکن سری لنکا کے موجودہ حالات کا سبب یہ نہیں کہ اس کے پیچھے اپنی پرانی تلخی بھلا کر سری سینا اور راجپکش ایک ساتھ دیش کے اقتدار میں رہنے کی ہوس بھی ہوسکتی ہے۔ سری سینا نے پارلیمنٹ ملتوی اس لئے کی ہے تاکہ اس دوران راج پکش ضروری اکثریت جٹا سکیں۔ حالانکہ سری لنکا کے آئین میں کی گئی ترمیم کے بعد وزیر اعظم کو عہدہ سے ہٹانے کا اختیار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی پارٹیوں نے بھی وکرم سنگھے کی حمایت کی بات کہی ہے۔ سری لنکا میں تیزی سے بدلے واقعات کے دوران اپنی ساکھ کھو چکے سری سینا سے صرف امید کی جاسکتی ہے کہ وہ آئین کی تعمیل کریں گے اور بھارت کے لئے ایک پائیدار اور بھارت کے تئیں حمایتی حکومت ضروری ہے۔ 
(انل نریندر)

31 اکتوبر 2018

کورٹ ایسے فیصلے نہ دے جو لاگو نہ ہوسکیں: امت شاہ

بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ سنیچر کو کیرل کے کنور میں تھے انہوں نے سبریمالا مندر میں ہر عمر کی عورتوں کے داخلہ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو ایسے فیصلے نہیں لینے چاہئیں جن پرعمل نہ ہوسکے۔ عدالت کوفیصلہ لیتے وقت لوگوں کے مذہبی جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ امت شاہ نے تشدد پر مبنی مظاہروں میں شامل ہونے کے الزام میں اندھادھند بھکتوں کی گرفتاریوں پر کیرل سرکارپر تلخ نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں کیرل کی کمیونسٹ سرکار مندروں اور ہندوؤں کی روایت کو تباہ کرنے کی سازش رچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کیرل میں ان دنوں آستھا اور حکمرانی کے درمیان لڑائی چل رہی ہے۔ بھاجپا اور سنگھ پریوار سے جڑے لوگوں سمیت ایپا بنے دو ہزار سے زیادہ بھکتوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ سبھی عمر کی عورتوں کو مندر میں داخلہ کی اجازت دئے جانے پر سپریم کورٹ کے حکم کی تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو ایسے فیصلہ نہیں دینے چاہئیں جو لوگوں کی مذہبی عقیدت کے خلاف ہوں اور جنہیں لاگو نہ کیا جاسکے۔ کنور کی ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ جیسے جلیکٹو ،مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکٹروں پرپابندی اور دہی ہانڈی میں دخل اندازہ وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ کیرل کے وزیر اعلی نے سنیچر کو ہی شاہ کے بیان پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا شاہ کا بیان سپریم کورٹ ،آئین اور دیش کے عدلیہ سسٹم پر حملہ ہے۔ شاہ کا کہنا ہے کورٹ کو محض وہی حکم دینا چاہئے جو لاگو ہوسکے۔ اس سے لگتا ہے کہ آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق کو لاگو نہیں کیا جانا چاہئے۔ بسپاصدر مایاوتی نے امت شاہ پر سپریم کورٹ کو لیکر غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کا الزام لگاتے ہوئے ایتوار کو کہا کہ غرور سے بھرے حکمراں پارٹی کے نیتا کے تبصرے کو عدالت کو نوٹس میں لینا چاہئے۔ مایاوتی نے کہا کہ کیرل کے کنور میں شاہ کا سپریم کورٹ کو ہدایت بھرا بیان دینا انتہائی مذمت کے لائق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ پبلک بیانوں سے صاف ہے کہ دیش کی جمہوریت خطرہ میں ہے۔ سی بی آئی، سی بی سی اور ای ڈی و ریزرو بینک جیسے دیش کے اہم مختارادارو ں میں سنگین بحران کا جو دور چل رہا ہے وہ اسی طرح کے غلط سرکاری نظریئے اور غرور کا نتیجہ ہے۔وہیں کانگریس کے سکریٹری جنرل اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ سبریمالا مندر معاملہ کو لیکر دئے گئے بیان پر امت شاہ کے خلاف فوراً قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔ امت شاہ نے کہا کہ ایپا کے شردھالوؤں کا دمن کسی بھی قیمت پر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لیفٹ حکومت مندروں کے خلاف سازش رچ رہی ہے۔ کیرل میں ایمرجنسی جیسے حالات بن رہے ہیں۔
(انل نریندر)

میٹ تاجر معین قریشی کا کیا ہے سی بی آئی سے لنک

دیش کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی میں جو دنگل جاری ہے اس کے تار کہیں نہ کہیں میٹ کاروباری معین قریشی سے جڑتے ہیں آخر کون ہے یہ معین قریشی؟ جانے مانے دون اسکول اور سینٹ اسٹیفن کالج میں پڑھے لکھے اترپردیش کے رام پور کے باشندے معین قریشی حالانکہ دہلی میں برسوں سے سرگرم تھے لیکن ایک خاص حلقہ کے باہر ان کا نام تب سرخیوں میں آیا جب سال2014 میں محکمہ انکم نے ان کے چھترپور گھر، رامپور اور دوسری پراپرٹیز پر چھاپہ مارے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان جگہوں پر حکام کو نہ صرف کروڑوں روپے نقد ملے بلکہ قریشی اور دوسرے اہم لوگوں کی بات چیت کے ٹیپ بھی برآمد ہوئے جو شاید میٹ ایکسپورٹ اور مبینہ حوالہ آپریٹر نے خود ہی ریکارڈ کئے تھے۔ پالیسی ۔ پیرالیسس اور گھوٹالوں کے کئی طرح کے الزام جھیل رہی یوپی اے 2 سرکار کو ایک خفیہ غیر ملکی ایجنسی نے دوبئی سے ایک غیر ملکی بینک میں کروڑوں روپے کی منی ٹرانسفر کی اطلاع دی تھی ساتھ میں یہ بھی آگاہ کیا کہ پیسہ بھیجنے والا یہ شخص ایک ہندوستانی ہے۔ اکبر پور کی اسی چناوی ریلی میں نریندر مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹی وی چینل نے بتایا کہ مرکزی سرکار کے چار وزیر اس میٹ ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ اس حوالہ کانڈ کے کاروبار۔۔ مودی کی اس تقریر میں جس بات کا ذکر نہیں آیا تھا ۔۔۔ چھاپہ سے پہلے ہوئی بات چیت کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ سی بی آئی کے اعلی افسر کارپوریٹ دنیا کے جانے مانے لوگ معین قریشی کے رابطہ میں ہیں۔ معین قریشی نے 90 کی دہائی میں اترپردیش کے رامپورمیں ایک قصائی کی دکان سے اپنا کاروبار شروع کیا تھا۔ قریشی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کچھ برسوں میں ہی دہلی کے سیاستدانوں اور افسروں میں اپنی گہری پہچان بنا ڈالی اور پھر شروع ہوا لین دین اور فکسنگ کا گورکھ دھندہ۔ چند برسوں میں قریشی بھارت کے سب سے بڑے میٹ کاروباری بن گئے۔ قریشی نے 25 الگ الگ کمپنیاں کھولیں جن میں ایک کنسٹرکشن کمپنی اور سیشن کمپنی بھی شامل ہے۔ معین قریشی کے والد منشی مجید رامپور ضلع کی ایک مشہور شخصیت ہیں۔ رامپور میں ان کی کوٹھی کو منیش مجیدکے نام سے ہی علاقہ کی پہچان ہے۔ قریشی کے والد کا افیم کا بڑا کاروبار تھا۔ افیم کے کاروبار سے مجید نے بے پناہ دولت بنائی۔ بعد میں وہ دیگر دھندوں میں لگ گئے۔ پیسے کی طاقت پر ہی معین قریشی کی تعلیم دیش کے بڑے نامی گرامی اسکول اور کالجوں میں ہوئی۔ چار برس پہلے سی بی آئی کے اس وقت کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کی ایک ڈائری میں اس معاملہ کا پردہ فاش ہوا تھا۔ قریشی کے تار سی بی آئی سے کتنے گہرے جڑے ہیں۔ عام چناؤ ہونے کے وقت یہ سیاسی اشو بھی بنا۔ بھاجپا نے اس معاملہ سے جوڑتے ہوئے قریشی کی کمپنی کو حوالہ سے جوڑا تھا۔ اس کے بعد یہ معاملہ خاموش نہیں ہوا اور بھاجپا کے عہد میں 2017 میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے معین قریشی کے خلاف معاملہ درج کیا تو سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر اے پی سنگھ کا نام سامنے آیا۔ سی بی آئی کے نمبر دو مانے جانے والے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش آستھانہ تنازعہ صاف طور پر میٹ ایکسپورٹر معین قریشی سے جڑے معاملہ میں تیسرا شکار ہیں۔ پہلے2014 میں انکم ٹیکس نے کارروائی کے دوران قریشی کی رنجیت سنہا۔ اے پی سنگھ کی نزدیکیوں کا انکشاف ہوا تھا۔ قریشی کے خلاف پی ایم ایل اے کی جانچ کررہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چارج شیٹ میں لکھا ہے قریشی رنجیت سنہا اور اے پی سنگھ کے لئے ملزمان سے اگائی کرتا تھا۔ اے پی سنگھ رنجیت سنہا سے پہلے سی بی آئی کے ڈائریکٹر تھے۔ ایک افسر نے حیرانی جتائی کہ اتنے سال بعد بھی معین قریشی کی سی بی آئی میں پیٹ ویسی ہی بنی ہوئی ہے۔ دراصل سی بی آئی نے اپریل 2017 میں سابق ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے خلاف کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالہ میں اڑچن ڈالنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی تھی۔ الزام ہے کہ قریشی گھوٹالہ کے ملزمان کے بنگلوں پر جاکر لین دین طے کرتا تھا۔ سی بی آئی ریکارڈ کے مطابق بنگلوں میں مہمانوں کی اینٹری رجسٹر میں ڈیفنس سودے سے جڑے سنجیو نندا ایر، ایم جی ایف زمین گھوٹالہ کے ملزم کو نیروپرساد سمیت کوئلہ گھوٹالہ کے ملزمان تھے۔ ریکارڈ کے مطابق قریشی نے چناؤ سے 15 مہینے میں تقریباً 70 بار ملزمان سے ملاقات کروائی۔ مکیش گپتا نام کے ایک تاجر کو جیل سے چھڑانے کے لئے قریشی نے سنہا کو پیشگی طور پر ایک کروڑ روپے دئے تھے۔ سی بی آئی کا دعوی ہے کہ معاملہ میں نجات پانے کے لئے جون 2018 میں ٹی ڈی پی کے راجیہ سبھا ممبر رمیش سے بات کی تھی۔ رمیش نے سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما سے بات کی تھی اس کے بعد سی بی آئی کے فون آنے بند ہوگئے۔ثنا کو لگا کہ اس کے خلاف فائل بند ہوگئی ہے۔ سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے سپریم کورٹ کو قریشی کی پول کھولتے ہوئے سی بی آئی سے رشتوں کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ قریشی کے سابق ڈائریکٹر اے پی سنگھ سے گہرے تعلقات تھے۔ ای ڈی چارج شیٹ کے مطابق قریشی سنگھ کے لئے ملزمان سے اگوائی کرتا تھا۔ قریشی سے برآمد بی بی ایم میسنجر سے سی بی آئی کے اندر چل رہا گڑ بڑ معاملہ اجاگر ہوا ہے۔ معین قریشی پورے ملک میں یہ کام کرنے والے اکیلے شخص تھے اور اس مال کو پروسسنگ کے بعد چین، جرمنی اور دوسرے ملکوں میں ایکسپورٹ کرتے تھے۔جس میں انہوں نے کروڑوں کمائے۔ چند برس پہلے ہوئی معین قریشی کی بیٹی کی شادی بھی تب خبروں میں آئی تھی جب فنکشن میں گانے کو بلائے گئے پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خاں کو واپسی میں محصول انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے روک لیا تھا۔ سو یہ ہیں معین قریشی کی کہانی۔
(انل نریندر)

30 اکتوبر 2018

چلا گیا دہلی کا شیر۔۔۔!

سابق وزیر اعلی مدن لال کھورانہ دہلی کے شیر کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ دہلی بھاجپا کے ایک محض ایسے نیتا رہے جس کے سبب بھاجپا کو اقتدار نصیب ہوا۔ سال1993 میں کھورانہ جی کے وزیر اعلی بننے کے بعد ہوئے انتخابات میں بھاجپا اقتدار میں واپسی نہیں کرپائی۔ سال 1993 کے اسمبلی انتخابات میں بھاجپا نے مدن لال کھورانہ کی قیادت میں بھاری کامیابی حاصل کی تھی اور وزیر اعلی بنے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک وقت کھورانہ جی دیش کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤسے بھی زیادہ مقبول تھے۔ جین حوالہ کانڈ معاملہ میں ان کے خلاف چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد انہوں نے خود ہی استعفیٰ دے دیا اور ان کی جگہ اس وقت کے وزیر رہے صاحب سنگھ ورما کو وزیر اعلی بنایا گیا۔ حالانکہ اڈوانی جی کے ساتھ ان کا نام حوالہ کانڈ معاملہ میں ان کا نام بھی آیا تھا لیکن ان کو پھر سے سی ایم کی گدی نصیب نہیں ہو پائی۔بھاجپا قیادت نے ان سے ناانصافی کی اور چاہتے ہوئے بھی انہیں دوبارہ اس عہدے پر نہیں بٹھایا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو دہلی میں قائم کرنے والے مدن لال کھورانہ کی زندگی دہلی سے ہی وابستہ تھی اور وہ مرکز میں وزیر بنے ہوں یا راجستھان کے گورنر دہلی کی سیاست سے دوریاں انہیں کبھی نہیں بھائیں۔ انہوں نے ایک بار یہاں تک کہہ دیا تھا کہ دہلی ان کا مندر ہے اور وہ اس کے پجاری ہیں۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جب پارٹی حاشیے پر چلی گئی تو انہوں نے اپنی محنت اور مقبولیت سے اسے صفر سے چوٹی تک پہنچایا۔ کھورانہ جی نے ہمیشہ سیدھی سیاسی لڑائی لڑی اور ان کے سامنے کانگریس ہمیشہ رہی ہے۔ مدن لال کھورانہ ایک واحد ایسے لیڈر تھے جن کی دوکانداروں اور تاجرو ں کے علاوہ ہر فرقہ میں گہری پکڑ تھی۔ کھورانہ جی کے رہتے موتی نگر اسمبلی حلقہ میں کبھی بھی کوئی پارٹی قبضہ نہیں کرپائی۔ دہلی میں ان کے علاوہ بھاجپا میں سے کوئی نیتا نہیں ہوا جس نے سبھی طبقوں میں اپنی پہچان بنائی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں دہلی کا شیر کہا جاتا تھا۔ ان کے مخالف بھی اس بات کو مانتے تھے کہ کھورانہ جیسا نیتا دہلی میں بھاجپا کو کبھی نہیں مل پایا اور وہ انہیں شیر دل کی شکل میں مانتے تھے۔ وہ 82 سال کے تھے۔ دہلی کے کیرتی نگر میں اپنے مکان میں آخری سانس لی۔مدن لال کھورانہ پچھلے تقریباً پانچ سال سے برین ہمیبرج کی وجہ سے نزہ میں تھے۔ حال ہی میں ان کے بڑے بیٹے ومل کھورانہ دل کا دورہ پڑنے سے دیہانت ہوا تھا۔ کھورانہ جی دوستوں کے دوست تھے، ہر ایک کی مدد کرتے تھے۔ ہمارے لئے تو کھورانہ جی کا جانا ایک پریوار کے ممبر کے جانے کے برابر ہے۔ وہ کس قدر مدد کرتے تھے اس کی آپ بیتی سناتا ہوں۔ہمارا اخبار ’’ویر ارجن‘‘ ایک سرکاری مالی ادارہ سے بقایا قرض پر اختلاف ہوگیا تھا۔ یہ بات 90 کی دہائی کی ہے۔ ہماری جائز مانگ بھی وہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ جب کوئی چارہ نہیں بچا تو ہم (میرے پتا سورگیہ کے نریندر) کھورانہ جی سے ملنے گئے۔ ہم نے پہلے سے ہی انہیں اپنا مسئلہ بتا دیا تھا۔ جب کھورانہ جی کے دفتر میں میٹنگ ہوئی تو اس وقت اس مالی ادارہ کے چیف اپنے اسٹاف کے ساتھ موجود تھے۔ ہم نے اپنی بات رکھی اور اس مالی ادارہ کے چیف نے اپنی دلیلیں قائدے قانون پیش کئے۔ کھورانہ جی کو ہماری دلیلوں میں دم نظر آیا اور انہوں نے اس مالی ادارہ کے چیف سے کہا ان کی دلیلوں کے مطابق ان کے حقائق کے مطابق آپ فیصلہ کردیں۔ اس چیف نے ایسا کرنے سے منع کردیا اور اپنی بات پر اڑا رہا۔ جب کھورانہ جی نے سختی سے اسے کہا تو اس نے کہا آپ تحریر میں حکم دے دیں تو تبھی کروں گا۔ کھورانہ جی نے ایک منٹ نہیں لگایا اور اس کی فائل پر تحریری احکامات دے دئے۔ اگر اس دن کھورانہ جی اتنا سخت موقف نہ اپناتے ،اور وہ بھی تحریر میں تو ویر ارجن آج شاید زندہ نہ ہوتا۔ اس بات کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں اور یہ اتفاق دیکھئے کہ کھورانہ جی کا دیہانت بھی 27 اکتوبر کو ہوا جس دن میرے سورگیہ پتا جی کے نریندر کا بھی دیہانت ہوا تھا۔ کھورانہ جی کوہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ پریوار کو اس ناقابل تلافی نقصان سے نکلنے میں ہمت فراہم کرے۔ اوم شانتی۔
(انل نریندر)

دہلی میں غیر محفوظ بزرگ

دہلی کے پشچم وہار میں دو بزرگ بہنوں کا واقعہ سنگین ہے۔ یہ واقعہ قومی راجدھانی میں اکیلے رہنے والے بزرگوں کی سلامتی کو لیکر تشویش کا موضوع ہے۔ اس علاقہ میں پچھلے ماہ بھی گھر میں ایک بزرگ ماں اور بیٹی کو قتل کردیا گیا تھا۔ پشچم وہار علاقہ میں اب دو سگی بزرگ بہنوں کو گھر میں گھس کر بے رحمانہ طور پر قتل کردیا گیا۔ واردات کے بعد ملزم قیمتی زیورا ت اور نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دونوں غیر شادی شدہ بہنیں آشا پاٹھک(70 سال) اور اوشا پاٹھک (75 سال) پچھلے 35 سالوں سے فلیٹ نمبر 97 ،سیکنڈ فلور، آنند ون سوسائٹی اسپورٹس کمپلیکس کے پاس پشچم وہار میں رہتی تھیں۔ اوشا ہاپوڑ کالج میں میوزک ٹیچر جبکہ آشا کرشی بھون میں انڈین کونسل آف ایگریکلچرریسرچ میں لائبریرین رہ چکی تھیں۔ اس بے رحمانہ قتل کا معاملہ سلجھاتے ہوئے پولیس نے محض 24 گھنٹے کے اندر چار بدمعاشوں کو گرفتار کیا جبکہ دو دیگر اہم ملزم اس تحریر کے لکھنے تک فرار تھے۔ دوہرے قتل کا اہم سازشی ایک پلمبر تھا۔ پکڑے گئے بدمعاشوں کے نام اکھلیش یادو24 سال، سلمان شاہ 19 سال، دیپک سینی عرف ببلو 22 سال، راجو یادو 34 سال بتائے جاتے ہیں۔ سبھی ملزمان بنیادی طور سے اترپردیش کے باشندے ہیں۔ اکھلیش پیشے سے پلمبر ہے اور بزرگ بہنوں کے گھر میں ایک دن پہلے پائپ کا کام کرنے گیا تھا۔ اکھلیش سے سازش کے تحت دونوں بزرگ بہنوں آشا پاٹھک اور اوشا پاٹھک کا قتل کروایا اور گھر سے لاکھوں روپے کے گہنے مہنگے سامان اور نقدی لیکر فرار ہوگئے۔ اکھلیش سوسائٹی کا رجسٹرڈ پلمبر نہیں تھا جس کے چلتے اس نے لوٹ مار کی سازِ رچی۔ وہ شام کو سامان کی فہرست بنا کر چلا گیا اور دوستوں سے رابطہ قائم کر لوٹ پاٹ کرنے کی سازش رچی۔ 24 اکتوبر کو اس نے بزرگ بہنوں کے گھر پورے دن کام کیا اس کے بعد سلمان شاہ سمیت دیگر دوسرے ملزم بزرگ بہنوں کے گھر بجلی کے سامان کی مرمت کرنے کے بہانے گئے ۔ واردات کے وقت دو بدمعاشوں کے ساتھ اکھلیش سوسائٹی کے باہر انتظارکررہا تھا۔ اس درمیان سلمان شاہ سمیت دونوں بدمعاشوں نے بزرگ بہنوں کا قتل کر لوٹ مار کی اور وہاں سے فرار ہوگئے۔ پولیس مفرور ملزمان کی تلاش کررہی تھی۔ پولیس کا ماننا ہے اس طرح کی واردات ملزم ان کے واقف کار ہوتے ہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ کوئی گروہ اس طرح اکیلے رہ رہی بہنوں کی ٹوہ لینے میں لگا ہو۔ پولیس کے لئے ایسی وارداتیں روکنا مشکل ہے لیکن اس بلڈنگ کی سوسائٹی زیادہ مدد گار ہوسکتی ہیں۔اگر وہ بلڈنگ میں داخل ہونے والے لوگوں کی سخت جانچ کرے تو ایسے معاملہ روکے جاسکتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دہلی میں عورتیں کتنی محفوظ ہیں۔
(انل نریندر)