Translater

29 فروری 2020

لنگایت مٹھ میں پہلا مسلم پردھان پروہت

ایسے وقت جب راجدھانی دہلی فرقہ وارانہ فسادات کی ضد میں تھی اسی دوران ایک حوصلہ افزا خبرآئی وہ یہ ہے کہ کرناٹک کے لنگایت مٹھ میں ایک مسلمان لڑکے کو اپنا پردھان پروہت چن کر نایاب مثا ل پیش کی ہے ۔33سالہ دیوان شریف ملا 26فروری کو گڑک میں واقع مٹھ میں ذمہ داری سنبھالیں گے ۔لنگایت بارہویں صدی کے سماج سدھارک بسوا کی تعلیمات کو ماننے والا ساو ¿تھ انڈیا کا اہم فرقہ ہے لنگایت گوروو ¿ں کے مطابق ان کے فرقے میں کسی طرح کا امتیاز نہیں برتا جاتا ۔سبھی شہری فرقے کا حصہ مانے جاتے ہیں وہیں شریف نے بتایا کہ وہ بچپن سے آٹا چکی میں کام کرتے کھالی وقت میں بسواکی تعلیم حاصل کرتے تھے اس ترغیب لیکر سماج میں انصاف اور بھائی چارہ بڑھانے کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں شریف شادی شدہ ہیں ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ۔رحیم ملا کو گردھار جیندر کو پھیلانے کےلئے شانتی دھام مٹھ کا پردھان بنایاگیا گڈک کے گاو ¿ں میں مٹھ کا تعلق کل ورگی میں 350سال پرانے کورانیشور مٹھ میں ہے ۔گھجوری کے مٹھ پردھان گرو گجیندر کورانیشورشیوا یوگی نے بتایا بسوا دیو کے نظریات سبھی کے لئے ہیں ان کی عقیدت دونوں میں ذات و مذہب معنی نہیں رکھتی مٹھ کے دروازے سبھی کے لئے کھلے ہیں شریف کا مٹھ پردھان بننا کلیان راجیہ قائم کرنے کا موقع ہے جس کے تحت بسوانے بارہویں صدی میں انصاف و برابری کا تصور کیا تھا ۔

(انل نریندر) 

دہلی تشددنے2002گجرات دنگوں کی یاد دلا دی

دہلی تشد دپر اب سیاست بھی شروع ہو گئی ہے کانگریس کی انترم صدر سونیا گاندھی اوربھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل سیتا رام یچوری نے مرکزی حکومت سے تلخ سوا ل پوچھے ہیں سونیا گاندھی نے بی جے پی کی حکومت اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان سے پانچ سوال کئے ہیں ساتھ ہی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجروال پر بھی سوال کھڑا کیا اور پوچھا دنگوں کے درمیان وہ کیا کررہے تھے ؟کانگریس کی پریس کانفرنس میں سونیا گاندھی نے کہاان دنگوں کے پیچھے ایک سوچی سمجھی سازش ہے جسے دہلی چناو ¿ کے دوران بھی محسوس کیا گیا ۔کیونکہ بھاجپا نیتا ڈر اور نفرت پھیلانے والے بیان دے رہے تھے ایسے ہی پچھلے اتوا رکو بھی بھاجپا نیتا نے ایسا ہی بھڑکاو ¿ بیان دیا تھا اس نے دہلی پولیس کو بھی کہا تھا 30دن گزرنے کے بعد ہمیں کچھ نہیں کہنا سونیا نے مرکز اور دہلی سرکار پرنکتہ چینی کرتے ہوئے کہا :دنگوں کے دوران مرکزی حکومت اور دہلی حکومت کے ذریعے کوئی کاروائی نا کرنے کی وجہ سے 37لوگوں کی موت ہوئی ۔دہلی پولیس کے ہیڈ کانسٹبل اس میں ہلاک ہو گئے ۔کانگریس ورکنگ کمیٹی کا خیال ہے کہ دہلی میں موجودہ صورت حال کے لئے مرکز ی حکومت خاص کر وزیر داخلہ ذمہ دار ہیں اور ان سے استعفیٰ کے مانگ کرتی ہے ۔سونیا گاندھی نے شاہ،کیجروال سے پانچ سوال پوچھے ہیں ۔پہلا :اتوار سے دیش کے وزیر داخلہ کہاں اور کیا کر رہے تھے اور وزیر اعلیٰ کیجروال کہاں تھے کیا کر رہے تھے؟تیسرا :دہلی چنا و ¿ کے بعد خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے کیا جانکاری دی گئی اور اس پر کیا کاروائی کی گئی ؟ اتوار کی رات کتنی پولیس فور س فساد والے علاقوں میں گئی جبکہ یہ پتہ تھا کہ فساد زیادہ پھیل سکتا ہے ؟جب دہلی میں حالات بے قابوہو گئے تھے اور پولیس کنٹرول میں ناکام رہی تھی تب فوراً کاروائی کی ضرورت تھی اس وقت ایڈیشنل سکیورٹی لگانے کی ضرورت تھی تاکہ حالات پرقابو پایا جا سکے امن کمیٹی بنائی جانی چاہئے تھی تاکہ کوئی اور ایسا واقعہ نا ہو ۔سینئر سول سرونٹ ہر ضلع میں لگنے چاہئے تھے تاکہ صورت حال سے نپٹا جا سکے ۔وزیر اعلیٰ کو متاثرہ علاقوں میں جا کر لوگوں سے بات کرنی چاہئے تھی ۔ایسا کیوں نہیں ہوا؟سونیا گاندھی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے بھاجپا نے کہا اب تشدد ختم ہورہا ہے اور سچائی سامنے لانے کے لئے جانچ شروع ہوگئی ہے ایسے میں سبھی پارٹیوں کی ترجیح امن قائم کرنا ہونا چاہئے ساتھ ہی پارٹی نے وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفیٰ کی مانگ کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے ۔بھاجپا کے سینئرلیڈر پرکاش جاویڈکر نے کہا کانگریس کے ہاتھ چوراسی کے دنگوں کے خون سے رنگے ہیں ان کے ذریعے ایسی باتیں کرنا مناسب نہیں ہے ۔جانچ میں یہ بات بھی سامنے آجائےگی کہ کس نے پتھراو ¿ کی تیاری کی کتنی گاڑیوں کو آگ لگائی اور کو ن پچھلے دوماہ سے لوگوں کو اکسا رہا تھا ۔کانگریس سوچ رہی ہے کہ امت شاہ کہاں تھے؟ امت شاہ نے کل سبھی پارٹیوں کی میٹنگ بلائی جس میں عاپ پارٹی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے نیتا بھی شامل تھے مرکزی وزیر نے کہا کانگریس کی ایسی رائے زنی سے پولیس کا حوصلہ گرتا ہے ۔کمیونسٹ لیڈر سیتا رام یچوری نے کہا دہلی کے فساد میں 2002کے گجرات دنگوں کی یاد دلا دی اور دہلی میں امن بحالی میں فوج کو بلانے کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے ۔کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ کے ساتھ اخبار نویسوں سے دعوی ٰ کیا دہلی کے فسادکو پولیس اور ان طاقتوں کی شئے حاصل تھی ۔اس وقت موجودہ وزیر اعظم گجرا ت کے وزیر اعلیٰ تھے جب وہاں دنگے ہوئے اور اس وقت بھی امت شاہ کے رول پر سوال اٹھایاگیا انہوں نے پوچھا کہ اگر این ایس اے کو دہلی پولیس کا انچارج مانا جائے تو وزیر اعلیٰ کا کیا رول ہے؟ کیا سرکار نے یہ مان لیا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ دہلی فساد سے نمٹنے میں ناکام رہے ۔انہوں نے بھاجپا نیتا کپل مشرا پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا ہے ۔امت شاہ اسے خود بھڑکے تشدد کہہ کر ایک سوچی سمجھی سازش کو چھپانا چاہتے ہیں ۔راجا نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس اور بھاجپاکے غنڈوں کے ذریعے قتل عام اور آگ لگانے کی دھمکی کے دوران پولیس تماشائی بنی رہی ۔

(انل نریندر)

28 فروری 2020

ملک سے بغاوت قانون پر عدالت کا نظریہ

سی اے اے ،این آر سی کے خلاف آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کی ریلی میں گزشتہ جمعرات کو اس وقت ہنگامہ ہوا جب ایک خاتون نے اسٹیج پر پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگائے اس لڑکی کا نام امولیہ بتایا جا رہا ہے اس کے بعد اس لڑکی کو زبردستی اسٹیج سے اتار دیا گیا ۔اس پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج ہو گیا ہے ۔اور اس کو چودہ دن کے لئے جیل بھیج دی گیا ہے وہیں اویسی نے کہا وہ پاکستان زندہ آبا د کے نعروں کی حمایت نہیں کرتے پولیس نے اس لڑکی کے خلا ف آئی پی سی کی دفعہ 124اے کے تحت ملک بغاوت کا مقدمہ درج کیا ہے ۔اس سے ایک بار پھر یہ معاملہ بحث میں آجانا فطری ہی ہے ۔پچھلے دنوں حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ تین سالوں میں الگ الگ ریاستوں میں 313لوگوں پر بغاوت کے الزام میں کارروائی کی گئی ہے ۔شاہین باغ میں جارحانہ بیان دینے کے لئے شرجیل امام کی حمایت میں نعرہ لگانے والی ایک طالبہ پر بھی بغاوت کا کیس درج کر لیا ہے ۔بغاوت کا معاملہ شروع سے ہی تنازعوں میں رہا ہے ۔چا ر سال پہلے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کر کے اس قانون پر سوال اُٹھائے گئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت اس کا بے جا استعمال کر رہی ہے ۔اور آئی پی سی کی دفعہ 124اے کے تحت ملک کی بغاوت کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے ۔سپریم کورٹ نے 1962میں کیدار ناتھ بنام بہار ریاست کے معاملے میں فیصلہ دے رکھا ہے اس کی تعمیل کی جانی چاہیے اور اس کو لے کر سرکار کو حکم دینا چاہیے عرضی میں مہاتما گاندھی کا بھی ذکر کیا گیا کہا گیا کہ جب انہیں ملک سے بغاوت کا ملزم بنایا گیا تھا تب مہاتما گاندھی نے کہا تھا یہ قانون لوگوں کی آواز دبانے کے لئے بنایا گیا ۔اگر کوئی شخص بھارت سرکار کے خلاف لکھ کر بول کر ،یا کسی بھی ذریعہ سے اظہار رائے کے ذریعہ احتجاج کرتا ہے یا فرقوں کے درمیان نفرت کے بیج بوتا ہے ایس کوشش کرتا ہے تو ملک سے بغاوت کا کیس بنے گا ۔اس میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے ۔سپریم کورٹ کے وکیل ایم ایل لوہاٹی بتاتے ہیں کہ آرٹیکل 19 (1)(A)کے تحت دیش کے ہر شہری کو اپنا نظریہ رکھنے و ظاہر کرنے کی آزاد ی ہے لیکن یہ آئینی حق مکمل نہیں ہے بلکہ اس پر روک واجب ہے آرٹیکل 19(2)کے تحت واجب روک کی بات ہے ۔واجب دائرے میں ویسے بیان ہیں جو کسی کی ہتھک عزت کرتے ہوں یا جس سے دیش میں نفرت یا تشدد پھیلے یا تشدد پھیلنے کا خطرہ ہے تو معاملہ ملک سے بغاوت کابن جاتا ہے ۔اظہار رائے کی آزادی ایک طے حد ہے جے این یو میں نعرے بازی کے معاملے میں کنہیا کمار پر ملک سے بغاوت کیس میں چارج شیٹ تو داخل ہے لیکن دہلی سرکار اجازت نہیں دے رہی ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کا دورہ بھارت کے لئے جزوی طور پر مثبت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت سے تجارتی رفتار کے باوجود کئی محاظ پر مضبوط ہوئے ہیں خاص کر کٹر اسلامی دہشتگردی سے لڑنے کا سیدھا عزم دھرایا گیا ہے اور اس معاملے میں دونوں کے درمیان روابط کی نئی مکینزم قائم کرنے کی بات ہوئی ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دہشتگردی نیٹ ورک کو ختم کرنے کی سمت میں مثبت پہل کریں گے دو روزہ دورہ بھارت کو دونوں ملکوں میں ایک نیا دور کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا اس میں کوئی شک نہیں کہ جس مقصد کو لے کر ٹرمپ بھارت آئے اس میں وہ پوری طرح کامیاب رہے اس لئے دونوں ملکوں کے درمیان یہ نئے دور کا آغاز امریکہ کے لئے بہرحال زیادہ فائدہ مند ہوگا ۔امریکہ بھی یہ سمجھ چکا ہے کہ بھارت کے ڈیفنس سیکٹر کا بازار اس کے لئے انتہائی روشن پر مبنی ہے اس لئے وہ بھارت کو جم کر ہتھیار اور دفاعی سازو سامان فروخت کر سکتا ہے ۔وسیع ڈیفنس اور حکمت عملی ساجھیداری پر سمجھوتہ آنے والے دنوں میں ایک طاقتور بھارت کا آغاز ہے ۔دو دن دیش خیر مقدمی موڑ میں رہا کچھ لوگ مانتے ہیں کہ نمستے ٹرمپ ہی دیش کی نیا پار لگائے گا ۔اور کچھ کا کہنا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے طاقتور دیش کے لیڈر کا استقبال تو ہمارا راج دھرم ہے ۔لیکن تیسرے طبقے نے اسے اصلی طور سے سوغات کیا لیکن مذاکرات کی ٹیبل پر اپنے مفاد کے لئے اپنے عزم کا پاس رکھا تیسرا گروپ مودی سرکار کا تھا ۔لہذا سمجھوتے ہوئے کچھ امید کے مطابق اور کچھ مایوس کن لیکن 21ہزار کروڑ ڈالر میں خطرناک اپاچے ہیلی کاپٹر ڈیفنس سودے میں دونوں فریقین کی جیت ہے ڈیفنس سازو سامان کسی بھی مضبوط ملک کی ضرورت ہے خاص کر تب جب پڑوس میں پاکستان اور چین جیسے ملک ہوں یہ دورہ ٹرمپ بنست ہمارے لئے زیادہ فائدہ مند رہا ۔وہ امریکہ ہتھیار بیچنے آئے تھے جس میں کامیاب رہے ۔ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان بات چیت کا فائدہ ٹرمپ کو امریکہ کے آنے والے صدارتی چناﺅ سے مل سکتا ہے ۔ٹرمپ اس سال چناﺅ لڑنے والے ہیں ان کے رشتے پرانے دوستوں سے اچھے نہیں ہیں ۔خاص کر یورپ میں اور وسطی ایشیاءمیں بھی ان کے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں لیکن ایک جگہ ہے جہاں وہ دکھا سکتے ہیں اور عزت دیتے ہیں وہ ہے بھارت ۔دنیا کے بڑے جمہوری دیش میں امریکہ کے لیڈر ہوتے ہوئے بھی انہیں بھارت میں بہت عزت ملی اور امریکہ میں ہندوستانی نژاد امریکیوں نے بھی اس بات چیت کو اور ان کے پروگرام کو دیکھا ہوگا اور امید یہ ہے کہ صدارتی چناﺅ میں ٹرمپ کو فائدہ مل سکتا ہے ۔کشمیر میں ثالثی کو لے کر ٹرمپ اکثر ایسے بیان دیتے رہے ہیں جو بھارت کو نا گوار گزرے ہیں اس بار انہوںنے کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی مسئلہ قرار دیا اور ہندوستانی موقوف کی حمایت کی ۔ٹرمپ کے دورہ ہند سے پہلے لگ رہا تھا کہ امریکہ مذہبی آزادی کا مسئلہ اُٹھا کر بھارت کو پریشانی کی حالت میں ڈال سکتا ہے جیسے وہ پہلے بھی کرتا رہا ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے اس معاملے میں بھارت کو ایک طرح سے کلین چٹ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مذہبی آزادی پر بھارت اچھا کام کر رہا ہے اور دنیا کے دوسرے دیشوں کے مقابلے میں بھارت میں مذہبی آزادی ہے لیکن دونوں ملکوں میں ایچ و ن بی ویزا اشو کو لے کر جو تعطل بنا ہوا ہے اس میں امریکہ سے بھارت کو کوئی ٹھوس یقین دہانی نہ ملنا تشویش پیدا کرتا ہے بھارت اور امریکہ کے درمیان کاروبا ری رشتے تیزی سے فروغ پا رہے ہیں یہ ایک اچھا اشارہ ہے ۔اپنے قیام کے دوران حیدرآباد ہاﺅس میں ٹرمپ اور وزیراعظم مودی سے بات چیت میں افغانستان میں سرگرم طالبان سے بات چیت مغربی وسطی میں اسلامی کٹر دہشتگردی پر روک لگانے اور تیل کو لے کر بن رہے حالات پر بھی تفصیل سے بات چیت ہوئی ظاہر ہے یہ سبھی اشو بھارت اور کے سیاسی اور اقتصادی معاملے میں بے حد اہم ہیں امید کی جانی چاہیے کہ ٹرمپ کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے لئے جغرافیائی حکمت عملی کے حالات مثبت تبدیلی آئے گی ۔

(انل نریندر)

27 فروری 2020

ڈیوٹی پر نکلے رتن کو بیٹی نے کہا تھا بائے پاپا

نارتھ ایسٹ دہلی میں پیر کو ہوئے تشدد میں دہلی پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹبل 42سالہ رتن لال کی موت ہوگئی وہ گوکل پوری اے سی پی آفس میں تعینات تھے وہ شہریت ترمیم قانون کے خلاف بھڑکے تشدد اور آگ زنی کر رہی بھیڑ کے عملے میں شکار ہوئے ۔ان کونازک حالت میں جی ٹی بی اسپتال لے جایا گیا ۔جہاں ڈاکڑوں نے انہیں مردہ قرار دے دیا ۔رتن لال بنیادی طور سے راجستھان کی تحصیل رامگڑھ کے گاﺅں تیہاوالی کے رہنے والے تھے ۔1998میں دہلی پولیس جوائن کی تھی رتن لال اپنے خاندان کے ساتھ براڑی کے امرت وہا رمیں رہتے تھے ۔ان کے خاندان میں بیوی دو بیٹی ایک بیٹا جو این پی ایل میں واقع دہلی پولیس پبلک اسکول میں پڑھ رہے ہیں خاندان والوں نے بتایا کہ رتن لال ڈیوٹی پر نکلے تھے ہر بار کی طرح بچوںنے پاپا کو بائے بولا تھا ڈیوٹی سے جب گھر لوٹتے تو ضرورت کا سامان وغیرہ لاتے تھے اور بچوں کے لئے بھی کچھ ضرور لاتے تھے وہ اپنے بچوں کو ہمیشہ پڑھائی کے لے تلقین کرتے تھے ۔اتوار سے ہی موج پور ،جعفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھڑکے تشدد کے بارے میں پریوار کو رتن لال نے جانکاری دی تھی جب وہ ڈیوٹی پر چلے گئے بیوی نے ان کی خیریت جاننے کے لئے فون کیا تب تک سب کچھ ٹھیک تھا مگر ٹی وی پر خبریں چلتی دیکھ کر رتن کی بیوی پریشان ہو گئی فون ملایا گھنٹی بجتی رہی کچھ ہی وقت میں رتن لال کی موت کی تصدیق ہو گئی ہم شہید رتن لال کو شردھانجلی دیتے ہیں ایک اور سیکورٹی ملازم نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے شہادت حاصل کی ۔

(انل نریندر)

سڑک سے گلی محلوں تک دنگا

دیش میں ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دورے پر احمدآباد اور احمدآباد ہوتے ہوئے پیر کی رات کو دہلی آئے وہیں دوسری طرف شہریت ترمیم قانون کی آگ ایک بار پھر دہلی کے نارتھ ایسٹ اضلاع میں بھڑک اُٹھی یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ شہریت ترمیم ایکٹ اب کرمنل اینڈ آرمس میں تبدیل ہو چکا ہے ۔لیکن اس مرتبہ آمنا سامنا ہمایتی اور مخالفین کے درمیان ہے ۔دہلی میں پیر کو بھڑکے دنگے کے دوران دہلی پولیس کے ایک حولدار رتن لال شہید ہو گئے ۔بھیڑ کے ذریعہ موج پور اور گوکل پوری میں ہوئے پتھراﺅ و آتش زنی میں ہیڈ کانسٹبل کی موت ہو گئی ۔جبکہ شاہدارہ ضلع کے ڈی سی پی امت شرما پتھراﺅ میں زخمی ہو گئے ۔اس کے علاوہ 60سے زیادہ دیگر پولیس افسران زخمی ہوئے ۔تین دیگر لوگوں جن میں مظاہرین اور دیگر شہری شامل ہیں کی موت ہو گئی مرنے والوں کی تعداد 30سے تجاوز کر گئی ۔شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں مشرقی دہلی کے مختلف علاقوں میں ہوئے تشدد کو منظم بتا رہی ہے ۔پولیس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پیر کو بھارت دورے پر آرہے تھے ۔ایسے میں وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت کی ساکھ دنیا میں خراب کرنے کے ارادے سے اس پورے تشدد کی کہانی لکھی گئی ۔اور ماحول جمعہ سے ہی بنانا شروع ہو گیا تھا ۔پولیس کے مطابق شاہین باغ میں کافی دنوں سے سپریم کورٹ کے مذاکرات کار لوگوں سے بات کر رہے تھے ۔اسپیشل کرائم برانچ کے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ امریکی صدر کے بھارت دورے کو لے کر پہلے سے ہی اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ماحول کو جان بوجھ کر خراب کیا جا سکتا ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس تشدد کے واقعے کے پیچھے باہر ی طاقتیں شامل ہو سکتی ہیں ۔اس کے لئے کم عمر کے لڑکوں کو مہرا بنایا گیا ۔کراول نگر روڈ پر واقع شیر پور چوک پر پیر کی صبح سے ہی لوگ اکھٹے ہونا شروع ہو گئے تھے ۔اور سی اے اے کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے تو دوسری طرف اس کی حمایت میں لوگ اکھٹے تھے ۔ڈی سی پی نارتھ ایسٹ کی طرف سے وید پرکاش کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ دونوں فریقین سے بات کر رہے ہیں تاکہ مظاہرہ کرنے سے روکا جا سکے لیکن بات نہیں بنی اور نتیجہ الٹا ہو گیا ۔اور لوگ آمنے سامنے آگئے ۔اور اس کے نتیجے میں زیادہ خطرناک حالات موجپور میں دیکھنے کو ملے اور نعرے بازی کرتے ہوئے شر پسندوں نے پولیس کے سامنے تلواریں لہرائیں اور پولیس پر پتھراﺅ کیا ۔یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا ۔او رپولیس اس پر قابو پانے میں ناکام رہی ۔پتھراﺅ کی وجہ سے گھروں کے شیشے تو ٹوٹے ہی موجپور میں شر پسندوںنے بڑی تعداد میں دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور یہی حالات چاند باغ میں بھی دیکھنے کو ملے یہاں بھی فسادیوں نے بھجن پورہ میں پیڑول پمپ پر پہلے تو گاڑیوں کو آگ لگائی پھر پیڑول پمپ کو پھونک ڈالا ۔فائر برگیڈ کی دو گاڑیوں کو بھی روکا گیا ۔اور اس کے عملے سے ہاتھا پائی ہوئی یہی حالات بابر پور میں دیکھنے کو ملے یہاں شر پسند منھ رومال سے ڈھکے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر دن بھر ہنگامہ کرتے رہے ۔اور یہ سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا پولیس پتھراﺅ کو دیکھتی رہی او رجس کے نتیجے میں تشدد سڑک سے گلی محلوں میں پھیل گیا ۔لیکن پولیس کے سمجھانے کے باوجود کوئی راستہ نہیں نکلااور ٹکراﺅ چلتا رہا تشدد میں ملوث ہونے والے دونوں ہی گروپوں کے لوگ کیا یہ نہیں سمجھ پائے کہ کیا اگروقت رہتے اس ٹکراﺅ کو ختم نہیں کیا گیا تو یہ خطرناک موڑ لے سکتا ہے ؟اس وقت صبر کی ضرورت ہے کہ مخالف اور حمایت میں کھڑے لوگ اگر ٹکراﺅ اور تشدد کا راستہ نہیں چھوڑتے تو اس کا حاصل کچھ نہیں نکل سکتا ۔پولیس اور سیاسی پارٹیوں کو سب سے پہلے یہ یقینی کرنا چاہیے کہ جس طرح کچھ نیتاﺅں نے وارنگ بھرے لہجے میں تشدد اور غصہ بھڑکانے کی زبان کا استعمال کی اس پر روک لگائی جائے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اگر دونوں فریقین میں کوئی تلخی بڑھ رہی ہے تو اسے بات چیت کے ذریعہ حل تلاش کیا جائے مرکزی سرکار کی ذمہ داری ہے تو اس میں دہلی سرکار کو بھی سرگرم رول ادا کرنا چاہیے اور اس کو دہلی میں جو حالات ہیں ان کو بہتر بنانا اس کی پہلی ترجیح ہے ۔

(انل نریندر)

26 فروری 2020

جی ایس ٹی 21ویںصدی سب سے بڑا پاگل پن

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی ڈاکٹر سبرامینم سوامی نے اہم ترین سدھار مانے جانے والے جی ایس ٹی کو بدھوار کو 21ویں صدی کا سب سے بڑا پاگل پن پر مبنی قدم قرار دیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ دیش کو 2030تک بڑی طاقت بننے کے لئے سالانہ دس فیصد اضافی شرح کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا سوامی نے سابق وزیر اعظم پی نرسمھا راﺅ کو ان کے عہد میں کی گئی اصلاحات کے لے دیش کا سب سے بڑا شہری اعزاز بھارت رتن دیے جانے کی بھی مانگ کی سبرامینم سوامی یہاں پرگیا بھارتی کی جانب سے بھارت ورش 2030تک ایک اقتصادی بڑی طاقت کے موضوع پر منعقدہ ایک سمپوزیم سے خطاب کر رہے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ وقت وقت پر حالانکہ دیش نے 8فیصد اقتصادی شرح نمو حاصل کی ہے لیکن کانگریس نیتا کے ذریع آگے بڑھائی گئی اصلاحات میں کوئی بڑی بہتری نہیں دکھائی دی ایسے میں ہم اس 3.7فیصد کو کیسے حاصل کریں گے؟اس کے لئے ایک تو ہمیں ضرورت بد عنوانی سے لڑنے اور دوسرے سرمایہ کاری کرنے والوں کو ایوارڈ دینے کی ضرورت ہے آپ انہیں انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی جو 21ویں صدی کا سب سے بڑا پاگل پن ہے اس کے ذریعہ خوف زدہ مت کیجئے ان کا کہنا تھا کہ جی ایس ٹی اتنا بیچیدہ ہے کہ س کو کوئی کاروباری سمجھ نہیں پا رہا ہے ۔اور کہاں کیسے فارم بھرنا وہ چاہتے ہیں کہ اسے کمپیوٹر پر ڈاﺅن لوڈ کیا جائے سرمایہ کے معاملے میں وسیع پیمانے پر سدھار کے مسئلے پر غور کیا جائے ۔کیونکہ کوئی کاروباری راجستھان،باڑمیر سے آیا ہے ۔اس کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بجلی نہیں ہے ہم کیسے جی ایس ٹی فارم ڈاون لوڈ کریں ؟اس پر میں نے ان سے کہا کہ اسے اپنے ماتھے پر ڈاﺅن لوڈ کر لو اور وزیر اعظم سے کہو انہوںنے کہا کہ بھارت کو اقتصادی بڑی طاقت بننے کے لئے اگلے دس برس تک ہر سال دس فیصد شرح کی اقتصادی اضافہ نمو حاصل کرنی ہوگی ۔اگر موجودہ یہی رفتار رہتی ہے ہم 50سال میں چین کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں اور امریکہ کو پہلے مقام کے لئے چیلنج دینے کی پوزیشن میں آ جائےں گے ۔

(انل نریندر)

ڈونلڈ ٹرمپ کا احمدآباد میں شاندار خیر مقدم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو 11:37پر اپنی اہلیہ ملانیا اور صاحبزادی ایونکا داماد گریڈ کشنر کو لے کر ائیر فورس ون جہاز سے سردار بلھ بھائی پٹیل ہوائی اڈے پر اپنی تاریخی دورے کے آغاز کے لے اترے صدر ٹرمپ نے کالے رنگ کا سوٹ اور پیلے رن کی ٹائی پہنی ہوئی تھی ۔ہوائی اڈے پر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرمپ اور ان کے خاندان کا شاندار استقبال کیا ۔ٹرمپ کے طیارے سے باہر آنے کے بعد مودی ان سے گرمجوشی کے ساتھ گلے ملے اور ملانیا کا بھی خیر مقدم کیا ۔22کلو میٹر کے روڈ شو کے دوران امریکی صدر کے قافلے کا سڑکوں کے کنارے کھڑے لوگوں نے زوردار استقبال کیا ۔اس دوران راستے میں 50اسٹیج بنائے گئے تھے جہاں دیش کے مختلف حصوں سے آئے آرٹسٹوں و گلو کاروںنے اپنی پرفارمینس دی ۔ہوائی اڈے سے ٹرمپ بابائے قوم مہاتما گاندھی سے جڑے اہم ترین مقام سابرمتی آشرم پہنچے اور وہاں وزیر اعظم نے ٹرمپ اور بیوی کو آشرم کی سیر کرائی ۔مودی نے ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کو ہردے کنج بھی دکھایا ۔جہاں گاندھی جی اور ان کی اہلیہ کستوربا رہا کرتی تھیں ۔وہاں سے روانہ ہونے سے پہلے ٹرمپ نے آشرم میں رکھی وزیٹر بک میں لکھا ''میرے اپنے دوست نریندر مودی ''اس شاندار سفر کے لئے آپ کا شکریہ وہاں سے ٹرمپ کا قافلہ احمدآباد میں بنائے گئے موٹیرا سٹیڈیم کی طرف روانہ ہوا ۔22کلو میٹر لمبے اس روڈ شو میں ٹرمپ کا استقبال کرنے کے لئے لاکھوں لوگ جمع تھے ۔اسٹیڈیم میں نمستے ٹرمپ تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر سننے کے لئے ایک لاکھ سے زائد لوگ موجود رہے ۔مہمان صدر ٹرمپ کی تقریر دوپہر ڈیڑھ بجے کے بعد شرو ع ہونی تھی ۔لیکن پوری ریاست سے اسٹیڈیم میں صبح آٹھ بجے سے ہی لوگ پہنچنے لگے تھے ۔گاڑیوں کے لئے پارکنگ اسڈیڈیم سے دور ہونے کی وجہ سے لوگوں کا سیلاب اسڈیڈیم کی طرف امڑتا دکھای دے رہا تھا ۔سب کے سر پر اسپیشل کیپ تھی ۔جس میں ٹرمپ اور مودی کی تصویر چھپی تھی ۔مسٹر ٹرمپ نے نمسٹے ٹرمپ پروگرام میں 27منٹ تک تقریر کی ۔انہوںنے کہا کہ ہم 8ہزار میل دوری طے کرنے کے بعد یہ بتانے آئے ہیں کہ امریکیوں کو بھارت سے پیار ہے ۔پانچ مہینے پہلے امریکہ نے آپ کے عظیم وزیر اعظم کا خیر مقدم کیا تھا ۔آج بھارت نے ہمارا دنیا کے سب سے بڑے اسٹیڈیم میں خیر مقدم کیا ہے ۔یہاں آکر خطاب کرنا میرے لئے باعث فخر ہے ۔بھارت کا ہمیشہ ہمارے دل میں خاص جگہ رہے گی ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی زندگی کے بارے میں اور اس بڑے دیش کے سفر کے بارے میں بھی اپنی رائے رکھی وہ اپنے والد کے ساتھ چائے بیچتے تھے ۔وہ اسی شہر کے ایک کیفٹ ائیرا میں کام کرتے تھے دنیا کی سب سے بڑی جمہوری چناﺅ میں وہ کامیاب ہو کر آئے ہیں ۔آپ صرف گجرات کے لئے باعث فخر نہیں ہیں بلکہ عآپ اس بات کی علامت ہیں کہ ہندوستانی جو چاہیں کیسے اسے پورا کر سکتے ہیں ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر معمولی طریقے سے ترقی کرنے کی ہے ۔یہی بھارت کی بھی کہانی ہے ۔بھارت دنیا بھر میں انسانیت کے لئے ایک امید ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا نایاب ملک ہے موٹیرا اسٹیڈیم میں خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ لوگوں کو ہندی فلمیں دیکھنے اور ان کے ذریعہ سے ہندوستانی تہذیب کو سمجھنے میں بہت مزا آتا ہے ۔اس دیش میں ٹیلنٹ اور تعمیریت کے گڑھ مانے جانے والے بالی ووڈ سے قریب 1سال میں 2ہزار فلمیں بنتی ہیں ۔پوری دنیا میں لوگ ان کے ذریعہ بھنگڑا موسیقی رقص رومانس او ر ڈی ڈی ایل جے اور شولے جیسی شاندار فلموں کا مزا لیتے ہیں ۔اپنے دورے سے پہلے انہوںنے ایک ویڈیو شیئر کیا تھا جس میں ان کے چہرے پر بھارت کی مقبول فلم باہوبلی کے کردار کی تصویر لگا دی گئی تھی ۔انہوںنے 81سیکنڈ کی کلپ کے ساتھ سنیچر کو ٹوئٹ کیا بھارت میں اپنے قابل دوستوں کے ساتھ ملاقات کو لے کر بہت امید لگائے ہوئے ہیں اس سے پہلے ٹرمپ نے آیوشمان کھرانا کی نئی فرم شبھ منگل زیادہ ساودھان کی بھی تعریف کی فلم کے پردے پر سیم لنگ پریم کو دکھانے والی اس فلم کی تریف کرتے ہوئے کہا تھا گریٹ اس سے پہلے سابق امریکی صدر براک اوباما نے بھی بھارت کے دورے پر ڈی ڈی ایل جے کا ذکر کیا تھا ۔اور انہوںنے شاہ رخ خان کے ایک مشہور ڈائیلاگ بڑے بڑے دیشوں میں بھی.......بولا تھا ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت دورے سے پہلے دن وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان کمسٹری دیکھنے کو ملی دونوں نیتاﺅں کی 5مہینے پہلے ہوسٹن می ہاﺅڈی مودی میں ملاقات ہوئی تھی اس بار احمد آباد کے موٹیرا اسٹیڈیم میں نمستے ٹرمپ پروگرام میں ملے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے پروٹوکول توڑ کر ان کا استقبال کی اور گلے ملے اور ٹرمپ اور خاتون اول ملانیا تین گھنٹے تک احمد آباد میں رہے ۔اس دوران مودی ٹرمپ سات بار گلے ملے اور نو بار ہاتھ ملایا ۔اس کے بعد سابرمتی آشرم میں پھر گے ملے ہاتھ ملایا اس کے بعد مودی ٹرمپ الگ الگ موٹیرا اسٹیڈیم میں پہنتے اس پروگرام کے دوران مودی ٹرمپ چھ بار گلے ملے پاچن بار ہاتھ ملایا اس کے بعد ٹرمپ اور ان کے تمام ساتھی احمد آباد ائیر پورت پہنچے جہاں سے وہ آگرہ کے لے روانہ ہو گئے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت دورہ ایک طرح سے کامیاب رہا ۔اور اس دورے سے امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں میں ایک مثبت پیغام جائے گا۔

(انل نریندر)

25 فروری 2020

سون بھدر میں سونا ،اور یورینیم کا امکان

اترپردیش کی سون بھدر کی ہردی پہاڑیوں میں تین ہزار ٹن سونا ہونے کی خبرآئی تھی اور اس سے سارے دیش میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن یہ خوشی جلد ہی مایوسی میں بدل گئی جب ہندوستانی جغرافیکل سروے آف انڈیا (جی اےس آئی)نے کہا کہ سون بھدر میں تین ہزار ٹن سونا ملنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔جیسا کہ اترپردیش کے معدنیاتی افسر نے دعوی کیا تھا ۔جی ایس آئی کے ڈائرکٹر جنرل ایم سری دھر نے کہا کہ جی ایس آئی کی جانب سے اس طرح کا ڈاٹا کسی کو نہیں دیا جاتا ۔سیکریٹری و ڈائرکٹر ڈاکٹر روشن جے کب نے بتایا کہ جی ایس آئی اترپردیش خطے لکھئنو شہر سون بھدر کے سونا پہاڑی زون میں مہا کوشل گروپ کی گھیلائٹ چٹانوں کے کواٹرز وین کے اندر تقریباََ52806.25ٹن ابرق ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔جس میں تلائی میٹل کی مقدار 3.03گرام جو تقریبا 160کلو سونا کا ذخیرہ ملتا ہے سونے کی ذخیرے کی خبر کے بعد اب سون بھدر میں یورینم ملنے کا امکان جتایا جا رہا ہے اس کے لئے سروے شروع ہو گیا ہے ۔اس کے پیش نظر کدری پہاڑی پر سروے کے لئے کھدائی شروع کر دی گئی ہے جی ایس آئی کی ٹیم ہیلی کاپڑ سے ائیر و میگنٹک سسٹم کے ذریعہ کدری پہاڑی کا تیزی سے سروے کر رہی ہے اس کے علاوہ یہاں سے لگی پڑوسی ریاستوں میں بھی اس کا سروے ہو رہا ہے ۔سروے میں شامل ایک افسر نے بتایا کہ سون بھدر ضلع کے کدری پہاڑی میں کئی ٹن یورینیم ملنے کی امید ہے ۔جی ایس آئی کی ٹیم تینوں جگہ پر نمونے کے لئے کھدائی کر رہی ہے ۔یورینیم کتنی گہرائی میں ہے اس کا پتہ لگانے کی کوشش جاری ہے ۔اس کے لئے نیوکلیائی توانائی محکمے کے حکام کی ٹیم لگی ہوئی ہے ۔سون بھدر ضلع افسر ایس راج لنگم نے بتایا کہ سروے ٹیم کو سونا دو دیگر ٹیمیں تلاش میں لگی ہیں یورینم کا کچھ حصہ ملا ہوگا تبھی سروے تیزی سے چل رہا ہے ۔ابھی نہیں بتایا جا سکتا کہ کتنا یورینیم مل سکتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یورینیم جس دیش میں ہوتا ہے وہ اقتصادی طور پر مضبوط ہوتا ہے ۔توانائی کی کھپت جس دیش میں زیادہ ہوتی اسے ترقی پسند کہا جاتا ہے ۔اس لئے پیٹرولیم مصنوعات کے علاوہ دیگر ذرائع پر توجہ دی جا رہی ہے ۔اگر یورینیم زیادہ مقدار میں مل گیا تو اس دیش کی معیشت کو مضبوطی ملے گی تھوڑا انتظار کریں کھدائی کے کیا نتیجے سامنے آتے ہیں ۔

(انل نریندر)

کیا بجرنگ بلی عآپ پارٹی کے نئے علامت بن گئے ہیں ؟

کیا بجرنگ بلی دیش کے اندر سیاست کے نئے علامت بن گئے ہیں ؟کیا جس طرح بھگوان رام کے ارد گرد سیاسی تانا بانا بنا گیا اسی طرح اب ہنومان جی بھی قومی دھارا کی سیاست میں موضوع بحث رہیں گے؟یہ سوال تب اُٹھے جب دہلی اسمبلی چناﺅ کے دواران چھائے رہے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی نے اکثریت کے باوجود بجرنگ بلی کو آگے لے جانے کی کوشش کی دہلی میں بھلے ہی عآپ اپنی کام کی سیاست کے بل پر پھر سے برسر اقتدار آنے میں کامیاب رہی لیکن پارٹی کے چیف اروندکجریوال و دیگر حکمت عملی ساز جانتے ہیں کہ صرف کام کی سیاست سے قومی سیاست اور مودی شاہ کی جوڑ ی کو چنوتی پیش نہیں کی جاسکتی اس کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی بھاجپا کے کٹر ہندتو کی کاٹ کی تھیوری اپنائے مانا جا رہا ہے کہ عام آدمی پارٹی سافٹ ہندتو اور قومیت کی سیڑھی چڑھ کر دیش میں اپنے فروغ کے پلان پر چل رہی ہے کجریوال و اس کے دیگر حکمت عملی ساز جانتے ہیں کہ دیش کی جنتا دھر م اور آستھا کو لے کر بے حد حصاس ہے ایسے میںیہ اس کے دل میں جگہ بنانے کے لئے کام کا ماڈل کافی نہیں ہے ۔عآپ نیتا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دہلی میں ہر مہینے کے پہلے منگلوار کو سندر کانڈ کا پارٹ الگ الگ علاقوں میں کیا جائے گا ۔اس کا آغاز بھی پچھلے منگلوار سے شروع ہو گیا ہے اس کے پیچھے عآپ نیتا دلیل دے رہے ہیں کہ بجرنگ بلی دہلی کے شہریوں کی مشکل دور کریں گے چناﺅ کے دوران بھی اروند کجریوال نے خود کو ہنومان بھگتی شکل میں پیش کیا اور کئی ٹی وی انٹر ویو میں ہندومان چالیسا پڑھ کر سنایا ۔کجریوال وا ن کے دیگر حکمت عملی ساز جانتے ہیں کہ دیش کی جنتا دھرم و آستھا کو لے کر بے حد حصاس ہے ۔ایسے میں اس کے دل میں جگہ بنانے کے لئے صرف کام کا ماڈل کافی نہیں ہوگا ۔بھاجپا کی طرز پر ہی عآپ بھی قومی سیاست میں اپنی پہنچ بڑھانے کے لئے نر م ہندتو کا سہارا لینے کی تیاری میں ہے جس طرح بھاجپا نے رام کے نام کی آڑ میں آہستہ آہستہ قومی سیاست میں اپنے پیر جمائے ۔ویسے ہی عآپ ہندومان جی کی بھگتی اور شکتی اور راشٹرواد کے سہارے اپنی توقعات کو پر دینے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے ۔عام آدمی کو بھروسہ ہے کہ سافٹ ہندتو او ر راشٹر واد دو ایسے اشو ہیں جن پر سوار ہو کر آنے والے دنوں میں نہ صرف قومی سیاست میں اپنی جگہ مضبوط کی جاسکتی ہے اس کے ذریعہ بھاجپا کے ہندتو کی دھا ر کو بھی کند کیا جا سکتا ہے ۔عآپ نیتا نے چناﺅ کے دوران چناﺅ بعد اپنے ارادوں کے اشارے دے دیے ہیں ۔ہندومان جی کی بھگتی و ندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے عآپ کی آنے والی سیاست کا ٹریلر ہیں ۔کیونکہ اب قومی سیاست میں انہیں بھاجپا کا سامنا کرنا ہے ۔جس کے لئے ضروری ہے کہ بھاجپا کی کمزور نس پر ہاتھ رکھ دیا جائے یہ تبھی ممکن ہے جب سافٹ ہندتو کا سہار ا لیں ۔

(انل نریندر)

23 فروری 2020

جرمنی کے حکہ باروں میں فائرنگ ،فرانس میں اماموں پر پابندی

پچھلے کچھ عرصے سے یورپ القاعدہ اور اسکے حمایتی جنگجوﺅں کے نشانے پر ہے ۔اکثر خبریں آتی رہتی ہیں کہ یورپ کے فلاں شہر میں دہشتگردانہ حملہ ہوا ہے ۔لندن میں آتنکی حملہ ہوا تھا اس کے بعد جرمنی کے ہنوءشہر میں حقہ باروں کو نشانہ بنا کر فائرنگ میں نو لوگوں کو مار ڈالا گیا ۔جرمنی میں ہوئی دو فائرنگ کے واقعات کے مشتبہ بندوق دھاری کی موت ہو گئی ہے ۔غور طلب ہے کہ مقامی وقت رات دس بجے کے آس پاس ہنوءمیں دو الگ الگ جگہوں پر فائرنگ کی وارداتیں ہوئیں ۔ایک خبررساں ایجنسی سنہوا کی رپورٹ کے مطابق ایک گہرے رنگ کی جیکٹ پہنے جرائم کی جگہ سے آتنکی بھاگ گیا ۔پہلا حملہ ہنو شہر کے درمیان میں ایک سنٹر میں مڈ نائٹ حقہ بار میں ہوا ۔دوسرا ائیرنا بار کے پا س ہوا ۔ایک گاڑی کو پہلے حملے کی جگہ پر تقریبا دس بجے کھڑا کیا گیا تو دوسری طرف ایک اور گولی کی واردات ہوئی ہنو کے میئر کلس کونسکی نے ایک انگریزی اخبار کو بتایا کہ یہ ایک خوفناک واردات تھی اور اس سے پیدا خوف عرصے تک پریشان کرتا رہے گا ۔بڈ اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ ایک بندوق دھاری نے دروازے پر گھنٹی بجائی اور لوگوںپر گولی چلا دی ۔اِدھر احتیاطی قدم اُٹھاتے ہوئے فرانس حکومت نے غیر ملکی امام اور مسلم اساتذہ کو ملک میں آنے پر روک لگا دی ہے ۔فرانس کے صدر امائنل میکرو نے جمعہ کو کہا تھا کہ سرکار کا یہ فیصلہ کٹر پسند اور علیحدگی پسندی کو روکنے کے لے لیا گیا ہے ۔اور سبھی اماموں کو فرانسیسی زبان سیکھنا ضروری کر دیا گیا ہے ۔اور فرانس کے رہنے والوں کو قانون کی سختی سے تعمیل کرنی ہوگی ۔صدرمیکرو نے فرانس کے مسلم اکثریتی مول ہاﺅس شہر کا دورہ کیا ۔اور کہا کہ ہم غیر ملکی اماموں اور مسلم اساتذہ کے ملک میں آنے پر پابندی لگا رہے ہیں ۔ان کی وجہ سے دیش میں کٹر پسندی او رعلیحدگی پسندی کا بڑا خطرہ ہے اس وقت فرانس کی کل آبادی 6.7کروڑ ہے اس میں قریب 65لاکھ مسلمان ہیں ۔فرانس کا 1997میں چار ملکوں سے سمجھوتہ ہوا تھا جس کے تحت الجزائر ،توئنس اور مراقش اور ترکی فرانس میں امام اور مسلم اساتذہ بھیج سکتے تھے ۔ہر سال 300امام تقریبا80ہزار مسلم طلباءکو تعلیم دینے فرانس آتے ہیں ۔سال 2020کے بعد یہ سمجھوتہ ختم ہو جائے گا۔سرکار نے حکم دیا ہے کہ اماموں کو مقامی زبان سکھائیں او ر کسی پر اسلامی مضمون نہ تھوپے جائیں ۔

(انل نریندر)

راکیش ماریہ کے سنسنی خیز انکشافات

ممبئی پولیس کے سابق کمشنر راکیش ماریہ کی کتاب سے سیاست گرما گئی ہے ۔انہوںنے اپنی کتاب لیٹ سی اٹس ناﺅ میں سنسنی خیز حقائق اجاگر کئے ہیں ۔پاکستان ہمایتی آتنکی لشکر طیبہ نے ممبئی 26/11حملے کو ہندو دہشتگردی کی شکل میں پیش کرنے کی سازش تیار کی تھی کتاب میں دعوے کے مطابق اجمل قصاب کو ہندو دہشتگرد دکھانے کی کوشش کی تھی اور اسی سبب اجمل قصاب کے داہنے ہاتھ میں ہندو کلاوا پہنایا گیا تھا ۔اور باقی سبھی حملہ آوروں کو ہندو ثابت کرنے کے لئے ان کے ساتھ فرضی شاختی کارڈ بھی تھے کتاب میں ماریہ نے 26/11حملے میں واحد پکڑے گئے زندہ دہشتگرد اجمل قصاب کے بارے میں بڑا انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر قصاب زندہ نہیں پکڑا جاتا تو یہی لگتا کہ یہ حملہ ہندو دہشتگردوں نے کیا ہے کیونکہ سبھی دہشتگردوں کے پاس ہندو نام کے فرضی شناختی کارڈ تھے کتاب کے مطابق لشکر نے پاکستانی آتنکی اجمل قصاب کے ہاتھ میں کلاوا باندھ کر بھیجا تھا ۔اور اس کے پاس بینگلورو کے باشندے سمیر چودھری نام سے شناختی کارڈ بھی تھا سازش کے مطابق جوابی کارروائی میں قصاب مارا جاتا تو اسے آسانی سے ہندو دہشتگرد کا نام دے دیا جاتا ۔لیکن ممبئی حملے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہاں کے کچھ لوگ بھی اسی سازش کا حصہ تھے جن کی کوشش تھی کہ ممبئی حملے کے تار آر ایس ایس سے جوڑ دیے جائیں اس کڑی میں ایک اردو اخبار نے غلط ثبوت کی بنیاد پر پوری کتاب لکھ ڈالی تھی ۔اور اس کتاب کا اجراءکانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے کیا تھا اس طرح کی سازش نہ تو پہلے تھی اور نہ ہی آخری ۔بھارت میں ایک طبقہ ایسا ہے جو پاکستان کے بھارت مخالف سازش کا حصہ بن جاتا ہے ۔یہ طبقہ آر ایس ایس مخالف ہے اور یہ تنظیم کو جھوٹا ثابت کرنے پر آمادہ ہے کہ ہندو آتنکوادی آتنکوادی نہیں ہو سکتا ۔دیش میں دو تین دہشتگردانہ وارداتیں ہوئیں جس سے ہندو تنظیموں کے نام جڑے ہوئے ہیں حالانکہ ایک معاملے سے جڑے ملزمان پر مقدمہ چل رہا ہے باقی معاملوں کے سبھی ملزم بری ہو گئے ہیں ۔راکیش ماریہ کے انکشاف کے بعد مہاراشٹر پردیش جنرل سیکریٹری و ممبر اسمبلی اتل ماتکھلکر نے معاملے کی دوبارہ جانچ کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو خط لکھا ہے جس میں انہوںنے کہا ہے کہ 26/11کی جانچ کے لئے سابق سیکریٹری رام پردھان کمیٹی کی رپورٹ کو فوراََ اس وقت کی کانگریس این سی پی سرکار نے اسمبلی کے ایوان میں پوری طرح سے نہیں رکھا تھا ۔اس وقت کانگریس کے نیتاﺅں نے کہا تھا کہ 26/11آتنکی حملے میں شہید اس وقت کے اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے پولیس افسر اشوک کامٹ کو اجمل قصاب نے ہی مارا تھا اس درمیان 26/11حملے میں سرکاری وکیل رہے اجول نکم کا کہنا تھا کہ ممبئی حملے میں مارے گئے 10دہشتگردوں میں سے 9کے پاس ہندو شناختی کارڈ تھے ممبئی کے سابق پولیس کمشنر ماریہ نے ممبئی کرائم کی دنیا سے جڑا ایک اور بڑا انکشاف کیا ہے ۔یہ کیسٹ کنگ گلشن کمار کے قتل سے ہے ۔ماریہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہیں پہلے ہی خبری سے ٹپ مل گئی تھی کہ شیو مندر میں گلشن کمار کا قتل ہونے والا ہے 26/11حملے کی جانچ کے لے تشکیل رام پردھان سمیتی کو مقامی کنکشن کے بھی سراغ ملے تھے جنہوںنے دہشگردوں کی مدد کی تھی ۔آتنکی حملے کے دس سال بعد 26نومبر 2018کوایک انٹر ویو میں رام پردھان نے اعتراف کیا اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے مقامی کنکشن کی رپورٹ میں ذکر کرنے سے روکا تھا ۔اس لئے رپورٹ میں مقامی کنکشن کا ذکر نہیں کیا گیا تھا ۔راکیش ماریہ کے سنسنی خیز انکشافات میں کتنی سچائی ہے یہ کہنا مشکل ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اپنی کتاب کو پرموٹ کرنے کے لئے یہ سنسنی خیز انکشافات کئے گئے ہیں ۔

(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...