Translater

06 مئی 2017

وجے مالیہ کیس مضبوط ہے پربرطانیہ کی قانونی عمل طویل ہے

بینکوں کے نو ہزار کروڑ روپے لے کر برطانیہ بھاگے شراب کاروباری وجے مالیا کو حوالگی کرانے کے کوششوں کے تحت سی بی آئی اور ای ڈی کی ٹیم لندن پہنچ چکی ہے. منگل کو انہوں نے شاہی استغاثہ سروس (دیگی) کے حکام سے ملاقات کی. بتا دیں کہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں 17 مئی کو ہندوستانی ایجنسیوں کا طرف دیگی ہی رکھے گی. دیگی کے ترجمان نے بھارتی ٹیم سے ملاقات کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا 246 ہر سی بی آئی حکام نے ہمارے وکلاء سے ملاقات پر بحث کی ہے. سی بی آئی اور ای ڈی کی ٹیم کی کوشش ہے کہ برطانوی عدالت میں مالیا کے خلاف مقدمے پر مضبوطی سے موقف رکھا جائے. بھارتی ٹیم نے لندن میں حکام کو بتایا کہ وجے مالیا پر کتنے کیس ہیں کتنے سنگین الزامات ہیں بھارتی ایجنسیوں کو مالیا کیوں چاہئے اور بھارت نہ آنے کی وجہ سے انصاف کے لحاظ سے کتنا نقصان ہو رہا ہے. بھارت کے لئے مفرور وجے مالیا کو برطانیہ سے حوالگی بہت آسان نہیں ہو گا. کئی افسر مانتے ہیں کہ مہینوں سے شروع کر کئی سال تک بھی لگ سکتے ہیں. سفارتی امور کے ماہر مانتے ہیں کہ مالیا کی گرفتاری کو ہم ایک آغاز فرض کر سکتے ہیں. مالی معاملات میں حوالگی کو لے کر کئی طرح کے قانونی سکرو ہیں. برطانیہ کے ساتھ حوالگی معاہدہ کے باوجود گزشتہ پانچ سال میں صرف ایک ملزم کا ہی حوالگی ممکن ہو پایا ہے. مالیا سمیت 10 کیس اب برطانیہ کے پاس زیر التوا ہیں جبکہ چھ مقدمات کو برطانیہ مسترد کر چکا ہے. اس معاملے میں اچھی بات یہ ہے کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے معاملے کو ذاتی طور پر برطانیہ کی وزیر اعظم کے ساتھ اٹھایا تھا. وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی جانب سے بھی اس پر دباؤ بنایا گیا ہے. اعلی سیاسی سطح پر کوشش ہوئے ہیں. پھر بھی کتنا وقت لگے گا کہنا مشکل ہے. برطانیہ نے بھارت کو حوالگی کے معاملے میں دوسرے درجے کے ممالک میں رکھا ہے. اس کے تحت حوالگی کے عمل سخت اور طویل ہے. پہلی قسم میں برطانیہ نے امریکہ اور یورپی ممالک کو رکھا ہے. گزشتہ سال مارچ میں مالیا کے ملک چھوڑ کر جانے کے بعد سے بھارت مسلسل برطانیہ کے رابطے میں ہے. گزشتہ سال برطانیہ نے مالیا کو بھارت واپس بھیجنے کا مطالبہ ٹھکرا دی تھی. بھارت کو صرف مالیا کا ہی انتظار نہیں ہے، بلکہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو برطانیہ میں رہ رہے ہیں. بی سی سی آئی میں مالیاتی خرابی ملزم سابق آئی پی ایل کمشنر للت للت مودی 2009 سے برطانیہ میں ہیں. دونوں ممالک میں معاملہ چل رہا ہے. سٹیباج زندہ چاولہ میچ فکسنگ معاملے میں جنوبی افریقہ کرکٹر ہینسی ?رون?ے سیکروڑوں روپے کے لین دین کا کیس بھی چل رہا ہے. گلشن کمار کے قتل کی سازش کا ملزم ندیم سیفی بھی لندن میں جمع ہوا ہے. بھارت اس حوالگی کا کیس ہار چکا ہے. ان کے علاوہ راجیش کپور، اتل سنگھ، پرنس پٹیل، جتندر کمار اگشلا، آشا رانی اگرالا، صادق اور اشوک ملک کی حوالگی کی درخواست برطانیہ کے ساتھ زیر التوا ہے. اس کے علاوہ برطانیہ بھارت کی کئی عرضیاں مسترد کر چکا ہے. اس میں انٹیلی جنس معلومات لیک کرنے کے ملزم سابق بحریہ افسر اتوار ش?رن، ریمنڈ وارلے، ویلو بپالن، اجے پرساد ?ھیتان، وریندر کمار رستوگ? اور لطف کمار جین شامل ہیں. مالیا کے معاملے کی سماعت لندن کی عدالت میں جلد شروع ہو سکتی ہے. مالیا کا معاملہ بھارت میں سیاسی موضوع بنا ہوا ہے. اسے لے کر اپوزیشن نے براہ راست پی ایم مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر بھی حملے کئے ہیں. لیکن ذرائع کے مطابق بھارت حکومت اپنی کوششوں میں مصروف ہے. معاملے میں کوئی ڈھیل یا گنجائش نہ باقی، اس کے لئے سی بی آئی اور ای ڈی نے تمام پختہ ثبوت برطانوی افسروں کو دے دیئے ہیں. حکومت بھی آپ کی سطح پر کوشش جاری رکھے ہوئے ہے. داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی وہاں اپنے ہم منصب سے بات کر سکتے ہیں. مقصد مالیا کو جلد سے جلد بھارت لایا جا سکے. لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ وجے مالیا کو بھارت لانے پر طویل قانونی کارروائی مکمل ہونے میں مہینوں ہی نہیں سالوں لگ سکتے ہیں.
(انل نریندر)

ایک ساتھ دو سیٹوں پر انتخاب لڑنے کاسوال

الیکشن کمیشن نے مرکزی حکومت سے قانون میں ایسے ترمیم کی سفارش کی جاتی ہے جس میں کوئی شخص ایک ساتھ دو سیٹوں پر انتخاب نہیں لڑ سکے. یا پھر ایسے قانونی انتظامات کئے جائیں جس سے کوئی امیدوار اگر دو سیٹوں پر انتخاب لڑ کر دونوں سیٹوں پر جیت جائے اور پھر اسے قانونی ایک نشست خالی کرنی پڑے. تو ایسی صورت میں وہ خالی کی جا رہی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے مناسب فنڈز سرکاری خزانے میں جمع کرائے. عوامی نمائندگی قانون کسی شخص کو عام انتخابات یا ضمنی انتخاب یا دو سال پر ہونے والے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ دو سیٹوں سے قسمت کی کوشش کرنے کی اجازت دیتا ہے. اگرچہ دونوں سیٹوں جیتنے پر ان میں سے ایس سیٹ پر ہی بنا رہ سکتا ہے. الیکشن کمیشن وقت وقت پر انتخابی اصلاحات سے متعلق تجاویز یا تجویز حکومت کو بھیجتا رہتا ہے. آج ضرورت اس بات کی ہے کہ طویل عرصے سے تبادلہ خیال کا موضوع بنے انتخابات اصلاحات کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھا جائے. یہ ٹھیک نہیں ہے کہ انتخابات اصلاحات پر بحث تو بہت ہو رہی ہے لیکن ان کو اپنانے سے بچا جا رہا ہے. ضروری صرف یہی نہیں کہ جن پر کسی قسم کی عوامی ذمہ داری بقایا ہے انہیں الیکشن لڑنے کے نااہل ٹھہرایا جائے، بلکہ اس کی بھی ہے کہ انہیں بھی الیکشن لڑنے سے روکا جائے جو سنگین فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں. الیکشن کمیشن ایک طویل عرصے سے یہ کوشش کر رہا ہے کہ کم از کم انہیں تو الیکشن لڑنے سے روکا ہی جائے جو کسی سنگین معاملے کے ملزم ہیں اور جن کے خلاف چارج شیٹ بھی دائر ہوچکے ہیں لیکن سیاسی پارٹیاں اس میں بھی آنا کانی کرنے میں لگے ہوئے ہیں. الیکشن کمیشن کا تازہ پیشکش کہ ایک شخص دو جگہ سے الیکشن نہ لڑ سکے صرف حکومت تو چھوڑیئے پورے سیاسی نظام کو قبول کیا ہو گا؟ اس کا جواب ہے، نہیں. اگرچہ یہ دلیل پہلی نظر میں گلے نزول فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک جگہ کا ہی نمائندگی کر سکتا ہے تو پھر اسے دو جگہوں سے لیڈر الیکشن لڑتے ہیں. یہ کسی ایک پارٹی میں نہیں ہوتا ہے کہ باقی پارٹیاں کہیں کہ ہاں الیکشن کمیشن کا یہ تجویز قبول کر لیا جائے. بھارت میں شاید ہی کوئی پارٹی بچی ہو جن لیڈر نے کبھی نہ کبھی دو مقامات سے الیکشن نہ لڑا ہو؟ سیاسی جماعتوں کو انتخابات اصلاحات کے ساتھ ساتھ سیاسی اصلاحات کی سمت میں بھی آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ اس کا کوئی جواز نہیں کہ ہر علاقے میں تو بہتری ہوں لیکن ہر علاقے کومتاثر کرنے والی سیاست پرانے طور طریقوں سے کام ہوتی رہی. سیاسی جماعتوں میں چندے کا وشد مسئلہ ہے. بدعنوانی کا سب سے بڑی وجہ یہ ان ا?اٹیڈ چندہ ہے. پر مجال ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی اس میں کافی ترمیم ??ے اسے شفاف بنانے میں دلچسپی رکھتا ہو؟
(انل نریندر)

05 مئی 2017

مودی کی مقبولیت ساتویں آسمان پر لیکن ان کی حکومت کی ساکھ

وزیر اعظم نریندر مودی و پارٹی صدر امت شاہ کی ٹیم کا اگلا نشانہ لوک سبھا چناؤ 2019ء ہیں ۔ ان چناؤ میں ان کا ٹارگیٹ 400 لوک سبھا سیٹوں پر جیتنے کا ہے اس میں وہ 120 سیٹیں بھی ہیں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے کبھی نہیں کامیاب ہوسکی۔آر ایس ایس کے سورماؤں کی مدد سے امت شاہ کے سپہ سالاروں کے ذریعے ان 120 نئی سیٹوں پر بھی ہل چلا کر بنجر بھومی میں کمل کی فصل اگانے کا مشن 400 کے ٹارگیٹ کو پار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لوک سبھا کی کل545 سیٹیں ہیں ایسے میں 400 سیٹ کا مشن بڑا ٹارگیٹ ضرور ہے۔ پچھلے چناؤ میں 282 سیٹوں پر بھاجپا جیتی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اڑیسہ کی ہاری ہوئی 20 سیٹیں بنگال کی 40 اور کیرل کی 20، تاملناڈو اور پونڈیچری کو ملا کر 120 سیٹوں پر شاہ کی خاص توجہ ہے۔ اس مشن میں کامیابی پانے کے لئے ہماری رائے میں مودی سرکار کو پہلے ان اسکیموں پر غور کرنا چاہئے جہاں ابھی تک اسے کامیابی نہیں ملی۔ اسے یہ جاننے کی کوشش کرنی ہوگی کہ آخر ان اسکیموں کو اب تک کامیابی کیوں نہیں ملی؟ بلیک منی کا خلاصہ ، اسکیم گولڈ بان ،جندھن یوجنا، نیو پنشن اسکیم اور ایف ڈی آئی بڑھانے کی اسکیموں میں توقع کے مطابق کامیابی نہیں ملی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم ان کو لیکر کافی فکرمند بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی چاہتے ہیں کہ ان اسکیموں کی کامیابی پر منتھن ہو تاکہ ان اسکیموں میں تبدیلی لائی جاسکے یا پھر ان کی جگہ نئی اسکیمیں لائی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب وزارت مالیات کے اعلی افسران کے ساتھ ان اسکیموں کا جائزہ لینے جارہے ہیں۔ وزارت مالیات کے حکام کے مطابق سبھی اعلی افسران کو کہا گیا ہے کہ وہ ان اسکیموں اور ان میں خامیوں کی تفصیل لائیں۔ ان اسکیموں کا پورا خاکہ تیار کرنے میں اہم اقتصادی مشیر سے لیکر ریوینیو سکریٹری وزارت کا اہم کردار رہا ہے مگر اس کے باوجود ان اسکیموں کو مارکیٹ اور لوگوں نے ایک طرح سے مسترد کردیا ہے۔ ان کی طرف سے کوئی مثبت رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سرکار کو ان بنیادی حقائق کو جاننا اور سمجھنا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس طرح کی اسکیمیں تیار کرتے وقت ان غلطیوں کو دوہرایا نہ جائے۔ سرکار ک امید تھی کہ بلیک منی ،گولڈ بان اور دیگر اسکیموں سے ٹیکس کلیکشن بڑھے گا ،مگر ایسا ہوا نہیں۔پہلے بلیک منی خلاصہ اسکیم کے تحت 65 ہزار کروڑ روپے بلیک منی کا خلاصہ کیا گیا مگر دوسری بار جب سرکار نے اس اسکیم کو مارکیٹ میں اتارا تو مانا کہ 10 ہزار کروڑ روپے کی بلیک منی سامنے آئی۔ حکومت نے 24 سے28 اپریل کے لئے گولڈ بان جاری کئے۔ پچھلے دو سالوں میں سرکار 7 بار گولڈ بان جاری کرچکی ہے لیکن اس میں لوگوں کا رجحان امید سے کافی کم رہا اور کمال کا تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شخصی طور سے وزیر اعظم نریندر مودی کی ساکھ ساتویں آسمان پر ہے۔ مودی مودی کے نعروں سے پورا دیش گونج رہا ہے لیکن جہاں تک ان کی سرکار کا سوال ہے بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو اس سرکار کی کارگزاری سے خوش نہیں ہیں۔ چاہے معاملہ نکسلیوں کو ہینڈل کرنے کا ہو، چاہے پاکستان پالیسی کا ہو، چاہے کشمیر کے پیچیدہ مسئلے کا ہو سبھی محاذ پر مودی سرکار سے جنتا نہ خوش ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، قانون و نظام و غریبوں کی ترقی کا ہو جنتا کو ابھی تک وہ نتیجے نہیں ملے جس کی انہیں امید تھی۔ خارجہ پالیسی پر بھی اب سوال اٹھنے لگے ہیں کہ مودی کے لئے سب سے فائدے مند ثابت ہورہی ہے کمزور اپوزیشن۔ آج اس سرکار کو صحیح معنی میں چنوتی دینے والی کوئی اپوزیشن نہیں ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے عام لوگوں سے اپنا تال میل اور مضبوط بنانے کی اسکیم بنائی ہے۔ اب وہ سیدھے اسی سے سرکاری اسکیموں کے بارے میں جائزہ لے سکتے ہیں۔ اب آپ کو سیدھے پی ایم کا فون آ سکتا ہے اور آپ سے سرکار کی کارگذاری کے بارے میں پوچھا جاسکتا ہے۔ ہمارے دیش کی سیاست کی بدقسمتی ہے کہ اس میں لیڈر صاحبان تو اونچے اسٹیجیز پر اپنی بات رکھتے آرہے ہیں لیکن جنتا کی آواز تبھی سنی جاتی ہے جب وہ کسی تکلیف سے عاجز ہوکر دھرنا یا مظاہرہ کریں اور کبھی کبھی غصے بھرا کوئی قدم اٹھا لیں ۔اچھا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے دو طرفہ تال میل و بات چیت کی اس ضرورت کو سمجھا ہے۔ اصل میں سیاست کو زمین سے جوڑنے کا یہی ذریعہ ہے۔
(انل نریندر)

پاکستان اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے میں اہل ہے

سال 2014ء میں پشاور ہے فوجی اسکول پر طالبان دہشت گردوں کے حملے کے بعد ایسی خبر نہیں آئی جس میں کہا گیا ہے کہ وہاں ایک بھی آتنکی تنظیم نہیں بچی جبکہ سچ یہ ہے کہ وہاں دہشت گرد تنظیموں کا دخل نہ صرف پاک فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں تک ہے بلکہ سینئر فوجی افسروں کے کنبوں اور ثالثی کے سطح پر فوجی افسروں کے درمیان اٹھنابیٹھنا ہے۔ اس خطرناک صورت میں دنیا پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کی حفاظت کو لیکر فکر مند ہو تو یہ فطری ہی ہے۔ ان نیوکلیائی ہتھیاروں کی حفاظت یقینی کرنی ہوگی۔ اس کے پہلے دیر ہوجائے۔ امریکہ نامور اخبار ’دی نیویارک ٹائمس‘ میں افغانستان کے سابق سکیورٹی ڈائریکٹر جنرل رحمت اللہ نبیل نے ایک مضمون لکھا ہے میں اس کے اہم حصے پیش کررہا ہوں۔ جیسے ہی کسی آتنکی تنظیم کا تعلق پاکستان سے ہونے کی باتیں سامنے آتی ہیں تو سبھی دیشوں کو ایک ہی فکر ستاتی ہے کہ اس کے یہاں نیوکلیائی ہتھیار بھی ہیں کہیں وہ دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ کچھ دن پہلے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ اگر پاکستان اپنے نیوکلیائی ہتھیارمحفوظ نہیں رکھ سکتا تو امریکہ ان پر اپنا کنٹرول کر لے گا۔وہ کچھ سال پہلے کی بات تھی لیکن موجودہ دور میں بھی ایسا ہی ہے۔ پاکستان میں نواز شریف سرکار کمزور پڑتی جارہی ہے اور پاک فوج اور جہادی تنظیم روز بروز مضبوط ہوتی جارہی ہیں۔ نواز شریف اور پاک فوج کے آپسی تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔ پاکستان عالمی جہاد کا اڈہ بن گیا ہے جہاں سے برائی پنپتی ہے۔ پاکستان وہ دیش ہے جہاں فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیاں علاقائی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے آتنکی تنظیموں کا استعمال کرتی ہیں۔ ان کے افسر یہ دعوی کرتے نہیں تھکتے کہ ان کے نیوکلیائی ہتھیار پوری طرح محفوظ ہیں۔ دنیا کو پتہ ہے پاکستان کے پاس120 سے زیادہ نیوکلیائی ہتھیار ہیں۔ پاکستان پانچواں ایسا دیش ہے جس کے پاس برطانیہ سے بھی زیادہ نیوکلیائی ہتھیار ہیں۔ صرف یہ نہیں پاکستان کی تاریخ رہی ہے ایران اور نارتھ کوریا جیسے ملکوں کو نیوکلیائی تکنیک دینے اور لینے کی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ جب نیوکلیائی عدم پھیلاؤ کو لیکر کوئی پالیسی بنائے تو پاکستان کو ہی اولین ترجیح میں رکھے۔ پاکستان سینکڑوں آتنکی اور کٹر پسند تنظیموں کا اڈہ ہے اور تقریباً دیش کے سبھی راجیوں میں اس کی سرگرمیاں ہیں ،خاص طور پر پنجاب علاقہ جہاں اس کے فوجی ونیوکلیائی سینٹرہیں۔ لشکر طیبہ جیسی آتنکی تنظیموں کے بڑھتے اثر و فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں یہاں تک کہ سینئر فوجی افسروں کے خاندانوں میں ان کا بڑھتا دخل اب دنیا نظر انداز نہیں کرسکتی۔ خود پاک سرکار کی الگ الگ ایجنسیاں بھی تسلیم کرچکی ہیں کہ ان کے نیوکلیائی املاک خطرے میں ہیں۔ کچھ کرنا ہوگا کہیں دیر نہ ہوجائے۔
(انل نریندر)

04 مئی 2017

چوکیاں تباہ کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، سخت کارروائی کی ضرورت ہے

پاکستانی فوج نے ایک بار پھر ویسی ہی گھناؤنی حرکت کو انجام دیا جو وہ پہلے بھی کرتی آئی ہے اور جس کے لئے وہ بدنام ہے۔ پیر کو صبح 8:25 منٹ پر جموں و کشمیر کے پونچھ علاقہ میں کرشناوادی سیکٹر میں پاک فوج کی 647 وی مجاہد بٹالین نے ہندوستانی چوکی پر اپنی چوکی پپیل سے حملہ کیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ہندوستانی فوج کے پاس ہی ایک دوسری چوکی پر بھی گولہ باری شروع کردی۔ پاکستان کی جانب سے راکٹ مورٹار داغے گئے۔ ان میں سے ہماری ایک چوکی تار بندی کے دوسری طرف تھی۔ عام طور پر تاربندی کنٹرول لائن کے کافی اندر ہوتی ہے۔ ہمارے جوان تار بندی کے پار جاکر بھی پیٹرولنگ کرتے ہیں۔ کرشناوادی کے اس علاقہ میں بھی ایسا ہی ہے۔ اس گولہ باری کے فوراً بعد 10 جوانوں کی ٹکری دونوں چوکیوں کے بیچ کنکٹ پیٹرولم کے لئے روانہ کی گئی لیکن اس سے پہلے پاکستانی گولہ باری کی آڑ لیکر ان کی بارڈر ایکشن ٹیم (بیٹ) ہندوستانی سرحد میں گھس آئی تھی اور گھات لگائے بیٹھی ہوئی تھی۔ پاکستان کی اس بیٹ ٹیم نے ہماری فوج کی گشتی پارٹی پر حملہ بول دیا اس میں دو جوان شہید ہوگئے اور ایک زخمی ہوگیا۔ بیٹ نے ان شہیدوں کی لاشوں کے ساتھ بے حرمتی کرتے ہوئے نہ صرف ان کے جسم سے چھیڑ چھاڑ کی بلکہ ان کے سر کاٹ لئے۔ اس علاقہ میں تعینات فوج کے افسر نے بتایا کہ پاکستان نے اس حملہ کی پلاننگ کررکھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستانی فوج نے حملہ میں راکٹ اور 120 ایم ایم مورٹار بھی داغے۔ عام طور پر ان بڑے ہتھیاروں کا سیز فائر خلاف ورزی میں استعمال نہیں ہوتا۔ یہی نہیں جب گشتی پارٹی تار بندی کے پاس پہنچی تو وہاں بیٹ ٹیم پہلے سے ہی گھات لگائے ہوئے بیٹھی تھی۔ ہندوستانی جوانوں کی لاشوں سے بربریت کی یہ پہلی مثال نہیں ہے۔ 22 نومبر 2016ء کو کشمیر وادی کے ماگھل سیکٹر میں حملہ میں شہید تین جوانوں میں سے ایک کی لاش کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا گیا۔ 28 اکتوبر 2016ء کو پھر ماگھل دہشت گردوں نے شہید سکھ ریجمنٹ کے جوان مندیپ سنگھ کی لاش کے ٹکڑے کئے۔اس سے پہلے 8 جنوری 2013 ء ، جون2008ء اور فروری 2000 ء میں بھی ایسی حرکتیں ہوئیں۔ تازہ واقعہ کیا پاکستان کے ذریعے بھارت کے خلاف تازی کارروائی ایک طرح سے سرجیکل اسٹرائک بھی کہی جاسکتی ہے۔ مورٹار اور راکٹ داغتے ہوئے پاک فوجیوں کا کنٹرول لائن پار کر 250 میٹر اندر گھس آنا معمولی واقعہ نہیں ہے۔پاکستان نے یہ گھناؤنی حرکت کیوں کی؟ اس کی کئی وجہ ہوسکتی ہیں ، کئی دنوں کی شانتی کے بعد پچھلے کچھ دنوں سے لگاتار بے وجہ فائرننگ اور اب ہندوستانی فوجیوں کی لاشوں سے درندگی ؟ کیا یہ پاک پی ایم نواز شریف کے ساتھ تلخ ہوتے فوج کے رشتوں کا نتیجہ ہے؟ نواز شریف سرکار ممکنہ طور پر اپنے عہد کے سب سے چنوتی بھرے دور سے گزر رہی ہے۔ پاکستان میں پہلے سے ہی شریف سرکار اور پاک فوج کے حکام میں نظریاتی اختلافات کی رپورٹیں آرہی ہیں۔ ہندوستانی فوجیوں کی لاشوں کے ساتھ بربریت کرکے پاک فوج دنیا کی نظروں میں نواز شریف کو اور گرانا چاہتی ہے۔ بھارت اور پاک کے درمیان ٹیک 2 بات چیت کے تذکرہ کے درمیان اس حرکت کا سامنے آنا ظاہر کرتا ہے کہ پاک فوج قطعی نہیں چاہتی کہ یہ بات چیت آگے بڑھے۔نواز شریف اور فوج کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے اور مانا جارہا ہے کہ دونوں دیشوں کے درمیان آگے چل کر کسی طرح کی بات چیت شروع نہ ہو پائے اس ارادے سے اس واقعہ کی سازش رچی گئی۔ پاک فوج کے چیف کے اس بیان کہ ہمارا دیش ملازمین کے خود فیصلے کے حق کے سیاسی سنگھرش کو حمایت دیتا رہے گا، بھی اہم ترین ہے۔ پاک فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوا نے حال ہی میں کنٹرول لائن پر واقع پاک چوکیوں کا معائنہ بھی کیا تھا۔ پاک سرحد پر حالات کشیدہ کرکے کشمیر میں گڑ بڑی کو بڑھاوا دینا چاہتا ہے۔ ٹورسٹ موسم کے پہلے وادی میں کشیدگی پھیلانے کی چال بھی ہوسکتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل جا رہے ہیں، ممکنہ طور پر پاک سمجھ رہا ہے کہ بھارت اسرائیلی طریقوں کو اپنے یہاں کنٹرول لائن پر استعمال کرسکتا ہے اس کے پہلے یہ پاک کی بوکھلاہٹ بھی ہوسکتی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ بھارت کا جواب کیا ہونا چاہئے؟ بیشک ہماری فوج نے پاک کی وہ دو چوکیاں تباہ کردی ہیں اور 7 فوجیوں کو بھی مار گرایا ہے لیکن کیا اس سے اس طرح کے حملے رک جائیں گے؟ یوپی کے دیوریا کے بی ایس ایف ہیڈ کانسٹیبل پریم ساگر کی بیٹی کو والد کی موت کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ والد کی شہادت کی جہاں بیٹی کو فکر ہے تو وہیں اس نے سرکار سے اپنے والد کی شہادت کے بدلے 50 پاکستانی فوجیوں کا سر کٹا ہوا مانگا ہے۔ منگل کی صبح سے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کو سب سے کمزور وزیر اعظم بتاتے ہوئے کہا ’ویکسٹ پی ایم ایور‘ کو ٹوئٹر پر ٹرینڈ پوسٹ کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اس ہیش ٹیک کے استعمال سے جوانوں کے ساتھ بربریت پر غصہ ظاہر کررہے ہیں۔ سمی آہوجہ لکھتی ہیں ۔۔۔ بدقسمتی سے ہاں پردھان منتری جی آپ سب سے کمزور پردھان منتری ہیں۔ سنیل باروپل نام کے ایک شخص نے مودی کا موازنہ اندراگاندھی سے کرتے ہوئے لکھا ہے، بیشک مودی نے بھارت کی ترقی کے لئے اچھی پالیسیاں بنائی ہیں لیکن ملک کی سلامتی کے محاذ پر اندراگاندھی بہتر تھیں۔ ایک اور دوسرے شخص نے لکھا کہ وزیر اعظم صرف ہوائی قلعے بنا رہے ہیں،مودی ایک کمزور وزیر اعظم ہیں اور بھارت کیلئے شرم کا سبب ہیں۔ اس درمیان دوبارہ سرجیکل اسٹرائک کی مانگ بھی ہورہی ہے۔ ہمارے نظریئے میں تھوڑا فرق ہے۔ جہاں تک ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم اور ان کی حکومت نے ہندوستانی فوج کو پورا حق دے رکھا ہے کہ وہ پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دے۔ اگر کمی ہے تو وہ ہماری فوج کی طرف سے زیادہ ہے۔ سیاسی قیادت یہ تو نہیں کہتی کہ سرحد پر آپ اپنی حفاظت نہ کریں اور نہ ہی وہ فوج کے حکام کو یہ بتا سکتا ہے کہ دشمن کے حملہ کا آپ کو کیا جواب دینا ہے؟ فوج کے ایک سینئر افسر گراؤنڈ ریالٹیز کو بہتر سمجھتے ہیں۔ بار بار فوجی محاذوں پر پاک حملہ کررہا ہے اور ہندوستانی فوج خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہتی ہے۔ دو چوکیوں کو تباہ کرنا یا 6-7 فوجیوں کو مارنا حل نہیں ہے۔ کیا ہماری فوج اور سیاسی لیڈر شپ اس کے لئے تیار ہے کہ ایک بار سارے آتنکی کیمپوں کو تباہ کردیا جائے؟ اس میں لڑائی بڑھنے کا خطرہ بھی ہے لیکن یہ خطرہ ہمیں مول لینا ہی ہوگا۔ آئے دن مرنے سے تو بہتر ہے کہ ایک بار آر پار کی لڑائی ہوجائے۔ کچھ دنوں کیلئے تو شانتی ملے۔ پاکستان ایسے ماننے والا نہیں بھارت کو اسی زبان سے جواب دینا ہوگا جو وہ سمجھتا ہے۔
(انل نریندر)

دہلی کی عوام نے بھروسہ جتایا ،اب بھاجپا لیڈر شپ کی باری

بیشک دہلی میونسپل کارپوریشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے شاندار جیت درج کی ہو لیکن زمینی سچائی یہ بھی ہے کہ وہیں اسے یہ بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ اس کا ووٹ شیئر گھٹا ہے۔ دراصل پچھلے ایم سی ڈی چناؤ کا موازنہ کریں تو اس میں کمی درج کی گئی ہے۔ سال2012ء میں ہوئے کارپوریشن کے چناؤ میں بھاجپا کو 36.74 فیصدی ووٹ ملے تھے۔اس بار اسے 36.08 فیصدی ووٹ ہی مل پائے۔ بھاجپا کے حکمت عملی ساز بھلے ہی اس پر کھلے طور سے بولنے سے بچ رہے ہوں لیکن حقیقت میں اس کی جیت غیر بھاجپا ووٹوں کے عام آدمی پارٹی (عاپ) اور کانگریس میں تقسیم ہونے سے ہو پائی۔نتیجوں میں سب سے بڑا صدمہ عاپ کو لگا۔ اسے اسمبلی چناؤ میں 54.02 ووٹ ملے تھے اور اس چناؤ میں اسے محض 26.33 فیصدی ووٹ مل پائے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ، پارٹی صدر امت شاہ اور دہلی بھاجپا چیف منوج تیواری کی اب ذمہ داری ہے کہ دہلی میں ایم سی ڈی چناؤ کا نظام اور ساکھ دونوں ہی بہتر کریں۔ بھاجپا نیتا بھلے ہی کوئی بھی دعوی کریں، لیکن یہ سچ ہے کہ پچھلے 10 سال کے دوران کارپوریشنوں میں حکمراں کونسلروں کے کام لائق تعریف تو نہیں رہا۔ ایم سی ڈی کو کرپشن کا سب سے بڑا اڈہ مانا جاتا ہے۔بغیر پیسے کے کوئی کام کروانا آسان نہیں۔ ابھی تک کا تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ ایم سی ڈی کے چناؤ میں بلڈروں کا بڑا کردار رہا ہے۔ درجنوں بلڈر پیسے کے دم پر کونسلر بن گئے اور جو دوسرے نیتا چن کر اقتدار میں پہنچے وہ بھی بلڈر بن گئے۔ کل ملا کر مقصد رہا پیسہ کمانا اور اپنا اور اپنے کنبے کا وکاس کرنا۔یہی وجہ تھی کہ کچھ عرصے پہلے تک ایم سی ڈی میں عام آدمی پارٹی کی پوزیشن کافی مضبوط اور بی جے پی کو تیسرے نمبر پر مانا جارہا تھا لیکن وزیر اعلی اروند کیجریوال کے بڑبولے پن، ہٹلری اسٹائل و اترپردیش کے نتیجوں نے ماحول کو بدل دیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی یوپی کے وزیر اعلی کے طور پر تاجپوشی اورا ن کے کام کاج پر دہلی میں بی جے پی جیت کی پوری کہانی لکھ دی۔ ووٹروں میں چناؤ میں سب کچھ بھول کر مودی اور یوگی کو یاد رکھا۔ اس لئے یہ اہم ہے کہ دہلی کی جنتا نے جو بھروسہ مودی اور شاہ و تیواری پر جتایا ہے اسے قائم رکھنا ہوگا۔ چاہے ایسا کرنے کے لئے کیوں نہ پارٹی لیڈر شپ کو خود دہلی کے معاملوں میں دخل دینا پڑے تو دیں۔ انہیں دہلی میونسپل کارپوریشنوں میں کوئی ایسا نیتا دینا ہوگا جو صحیح معنوں میں جنتا کا ہمدرد ہو اور جو صحیح معنوں میں کرم یوگی ہو ایسا نیتا جو دہلی کو دیش کی راجدھانی کو اچھی طرح سنوار سکے اور دہلی اسمبلی میں بھاجپا کے اقتدار میں آنے کا راستہ صاف کرے۔
(انل نریندر)

03 مئی 2017

’مین آف ایکشن ‘یوگی آدتیہ ناتھ

اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کو اقتدار سنبھالے ابھی تقریباً 30 دن ہوئے ہیں اور یوگی نے دکھا دیا ہے کہ وہ ’مین آف ایکشن‘ ہے۔ انہوں نے 30 دن میں وہ کام کردکھائے جن کو مہینوں اور برسوں لگ جاتے تھے۔ یوگی نے حلف برداری کرتے ہی اپنے چناوی وعدے پورے کرنے شروع کردئے ہیں۔ ریاست کے گنا وکاس راجیہ منتری سریش رینا نے بتایاکہ قریب ایک مہینے میں گنا کسانوں کو پانچ ہزار کروڑ روپے کی بقایا ادائیگی کردی گئی ہے۔ پردیش میں 116 میں سے 56 ملوں نے 14 دن میں بقایا جات ادا کردئے ہیں۔ اب تک 83 فیصد گنے کا پیسہ ادا ہوچکا ہے۔ باقی چینی ملکوں کو ہر حال میں 120 دن میں 100 فیصد پیسے کی ادائیگی کرنے ہوگی اور تاخیر سے ادا کرنے والی ملوں جو 15 فیصدی سود بھی دینا ہوگا۔ وزیر اعظم آدتیہ ناتھ یوگی نے سرکار کے کام کاج اور رفتار تیز کردی ہے۔ وزرا اور افسروں کو بڑی ذمہ داری و جوابدہی سے باندھا گیا ہے۔ وزرا ء کو اب اپنے اپنے محکموں کے کام کاج پر وائٹ پیپر و تین مہینے بعد پیشرفت رپورٹ دینی ہوگی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ کرپٹ ملازمین کو نہ صرف وراننگ دیں بلکہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر سخت کارروائی کریں۔ وزیر اپنے اپنے دائرہ اختیار والے اضلاع کا دورہ کرکے مرکز و ریاستی سرکار کی یوجناؤں پر عمل کا جائزہ لیں گے۔ وزراء سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلع اسپتالوں ،بارات گھروں اور پرائمری ہیلتھ سینٹروں کا دورہ کر ڈاکٹروں کی حاضری طے کریں۔ وزیر اعلی نے کہا افسران 9 سے6 بجے تک دفتر میں رہیں۔ کسی بھی وقت وزیر اعلی آدتیہ ناتھ انہیں کال کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ رشوت خور بابوؤں کو سیدھے جیل بھیجا جائے گا۔ ریاستی حکومت کے وزیر شری کانت شرما نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی رہنمائی والی حکومت اپنے 100دنوں کے عہد کی رپورٹ کارڈ جنتا کے سامنے رکھے گی۔ شری کانت نے یہ بھی کہا کہ ایک وزیر روز لکھنؤ میں بی جے پی دفتر میں جنتا کے مسائل سنے گا۔ شرما نے کہا کہ یوپی سرکار کرپشن پر زیرو ٹالرینس کے تحت کارروائی کرے گی۔ ہر ضلع افسر کو صفائی پر خاص توجہ دینے کو کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر گاؤں میں بجلی کی سپلائی کو لیکر بھی سرکار کی ہدایات صاف ہیں۔ ہر گاؤں میں صبح 7 بجے سے لیکر شام 5 بجے تک بجلی رہے گی ۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ضلع افسر تحصیلوں اور ایس ایس پی تھانوں میں رکیں اور وہاں کے کاموں کا جائزہ لیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے حکام کو خبردار کیا ہے کہ 15 جون سے پہلے صوبے کی سڑکوں کو گڈھوں سے آزاد کرادیا جائے اور اس طرح کے درجنوں کام ہورہے ہیں۔ میں نے صرف کچھ کاموں کا ذکر ہی کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یوگی آدتیہ ناتھ ’مین آف ایکشن ‘ ہیں تو غلط نہ ہوگا۔
(انل نریندر)

نکسلیوں کے خلاف بڑی لڑائی کی تیاری

چھتیس گڑھ کے سکما ضلع میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے 25 جوانوں کے شہید ہونے کے بعد اب وقت آگیا ہے نکسلیوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ مرکزی سرکار و ریاستی سرکاروں کو مل کر اس پیچیدہ مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا، کب تک ہم جوانوں کی شہادت دیکھتے رہیں گے؟ خبر ہے کہ سکما حملہ کے بعد ریاست کے ساتھ مرکزی حکومت نے بھی اپنے بھروسے مند مشیروں و افسروں کو اتاردیا ہے۔ پاک مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد سرخیوں میں آئے سکیورٹی مشیر اجیت ڈوبھال نے سیدھے چھتیس گڑھ اور بستر کے افسروں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نکسل آپریشن کی بات کی ہے۔ اسی درمیان نکسلیوں کے گڑھ میں فورس نے جوائنٹ آپریشن شروع کردیا ہے۔ خطرناک نکسلی علاقوں میں اس کے ساتھ ہی سڑک تعمیر و دیگر ڈیولپمنٹ کام کو روک کر وہاں مزدوروں کی سلامتی میں تعینات جوانوں کو بھی ہٹا لیاگیا ہے۔ سرکار کی طرف سے سخت کارروائی کے حکم ملنے کے بعد سکیورٹی فورس کی طرف سے حملہ کرنا کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ سکیورٹی فورس کے جنگلوں کے درمیان نکسلیوں کے گڑھ تک پہنچنے اور ان کی طرف سے امکانی خطرات کے پیش نظر اس سے مقابلہ کرنے کے لئے قطعی عملی شکل دی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، وزیر اعلی ڈاکٹر رمن سنگھ سے اس بارے میں پوری طرح سے بات چیت ہوگئی ہے اور نکسلیوں کو سنگین اندرونی چنوتی مانتے ہوئے ان کو بڑا جواب دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے اس کے لئے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کو پوری حکمت عملی پر نظر رکھنے کو کہا گیا ہے۔ ڈوبھال متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔ نکسلیوں کے خلاف کارروائی کے بارے میں وزیر اعلی نے سکیورٹی اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے جانکاری دینے سے منع کردیا ہے لیکن کہا کہ نکسلواد کے خلاف ہماری پالیسی بالکل صاف ہے۔ ہم نے پالیسی ساز فیصلہ لیا ہے پہلے تو یہ کہ نکسلواد سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا ہے۔ جمہوریت کی حفاظت کے لئے آخری دم تک لڑائی جاری رکھیں گے۔ دوسرا اس علاقہ کو ڈولپ کرنا نکسلی چاہے کتنا بھی روکنے کی کوشش کریں؟ پچھلے کچھ مہینوں سے خالی پڑے چیف کے عہدے پر تقرری کردی گئی ہے۔ چھتیس گڑھ کے سکما میں 25 جوانوں کی شہادت کا بدلہ لینے کیلئے مرکز نے جانباز ریٹائرڈ آئی پی ایس کے وجے کمار کو چنا ہے۔ بتادیں یہ وہی وجے کمار ہیں جنہوں نے تین ریاستوں کے جنگلوں میں خوف کی علامت رہے چندن اسمگلر ورپن کو مار گرانے میں اہم رول نبھایا تھا۔ مشن کو انجام دینے کیلئے وجے کمار سنیچر وار (29 اپریل کو) ہی سکما پہنچ گئے ہیں۔ نکسلیوں کے کور ایریا میں بڑا جوائنٹ آپریشن چل رہا ہے۔ افسر لگاتار متاثرہ علاقوں میں پڑاؤ ڈالے ہیں۔ نتیجے ایک دو دن میں آنے لگیں گے ایسی امید کی جاسکتی ہے۔
(انل نریندر)

02 مئی 2017

کیا آپ کو پورا پیٹرول مل رہا ہے

پیٹرول پمپ پر ایندھن بھرواتے ہوئے آپ بھلے ہی میٹر پر نظر جمائے رکھیں لیکن تیل کی چوری کرنے والے آپ کی ناک کے نیچے ہی تیل چرا رہے ہیں۔ حال ہی میں لکھنؤ میں ایک تکنیک کے بوتے پیٹرول کی چوری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کھلے عام ہونے والی اس لوٹ کو روکنے کی سمت میں ہماری تیل کمپنیاں اتنی سنجیدہ نہیں دکھائی دیتیں جتنی ہونی چاہئیں۔ خلاصہ ہوا ہے کہ لکھنؤ میں چپ سے گھٹ تولی کرنے والے پیٹرول پمپ مالک ہر مہینے 200 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی ناجائز طریقے سے کررہے تھے۔ یہ اعدادو شمار اس سے چار گنا زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ ایس ٹی ایف کے افسروں نے اندازہ لگایا ہے کہ ہر ایک ضلع میں ہر تیسرا شخص کم تولی کا شکار ہوا ہے۔ ایس ٹی ایف کے مطابق لکھنؤ میں آدھے سے زیادہ پیٹرول پمپ کم تول کر پیٹرول بیچ رہے ہیں۔ اکیلے لکھنؤ میں ہی 182 پیٹرول پمپ ہیں۔ریمورٹ ڈیوائز سے پیٹرول ۔ڈیزل کی چوری کرنے والے لکھنؤ کے ساتوں پیٹرول پمپوں کے لائسنس معطل کر دئے گئے ہیں۔ گراہوں سے تو پوری قیمت وصولی جاتی ہے لیکن پیٹرول ۔ ڈیزل کم ڈالا جاتا ہے۔ محض تین ہزارروپے کی ایک چپ مشین میں لگاکر پیٹرول پمپ والے ہر روز 40 سے 50 ہزار روپے تک کی اوپری کمائی کرتے تھے۔ مہینے میں یہ تعداد 12 سے15 لاکھ روپے تک بنتی ہے۔ چپ سپلائی کرنے والے ماسٹر مائنڈ رویندر کے مطابق 1000 سے زیادہ پمپوں پر ایسی چپ لگائی گئی ہیں۔ رویندر نے اعتراف کیا ہے کہ یہ چپ پمپ کی ڈسپنسنگ مشین میں لگتی ہے اور ریموٹ سے مشین میں نکلنے والا تیل 6 فیصد کم ہوسکتا ہے۔ ایک لیٹر کی جگہ 940 مربع گرام پیٹرول ملتا ہے یعنی ہر لیٹر پر 60 ملی لیٹر کا نقصان پیٹرول پمپ کی گرین سرکٹ میں چپ لگا کر دھاندلی سے کیا جارہا تھا۔ یہ دو طرح کی ہیں ایک ریموٹ سے اور دوسری چپ کورڈ نمبر سے چلتی ہے۔ گرین سرکٹ سے چپ لگاکر کھیل کرتے تھے۔ چپ 200 میٹر دوری سے بھی ریموٹ سگنل پکڑتی ہے۔ دھاندلی میں 2 سے3 لوگ شامل ہوتے تھے۔ پمپ پر ایک شخص تیل ڈالتا تو دوسرا کیش بیگ کے ساتھ ریموٹ بھی رکھتا تھا ریموٹ کے بٹن دبتے ہی تیل گرنا بند ہوجاتا تھا لیکن مشین کے ڈسپلے پر تیل اور پیسے کا میٹر پوری رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ چپ چالو ہوتے ہی پیٹرول ڈلیوری کی رفتار بڑھا دیتی ہے جس سے مشین کے میٹر پر پیٹرول سپلائی اور ریٹ تو دکھائی دیتا ہے لیکن اصل میں پیٹرول کم پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ گورکھ دھندہ صرف لکھنؤ میں ہی چل رہا ہے؟ دیش کے دیگر حصوں میں بھی تو یہ چلتا ہوں گا۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس نہ تو کوئی مشینری ایسی ہے نہ ہی کوئی محکمہ جو ایسی چوری کو پکڑ سکے۔ اب امید کی جائے کہ شاید سرکار اور تیل کمپنیوں کی آنکھیں کھلیں گی اور صارفین کو چوری سے بچایا جاسکے۔
(انل نریندر)

آنے والے دن عاپ پارٹی کیلئے نہایت اہم

آنے والے دن دہلی میں عام آدمی پارٹی سرکار کے لئے سخت چیلنج بن سکتے ہیں۔ بیشک اب وزیر اعلی اروند کیجریوال کو یہ احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ انہوں نے غلطیاں کی ہیں جس کا خمیازہ دہلی کی جنتا کی طرف سے انہیں ایم سی ڈی چناؤ میں کراری ہار سے بھگتنا پڑا ہے۔پنجاب، گووا اور ایم سی ڈی کی ہار کے بعد عام آدمی پارٹی میں اروند کیجریوال کے خلاف اٹھی آوازیں تیز ہوتی جارہی ہیں۔ پارٹی کے بانی ممبران میں کمار وشواس نے جمعہ کو کیجریوال پر غلط لوگوں کو ٹکٹ دینے کا الزام لگادیا اور دو ٹوک کہا کہ چناؤ میں ای وی ایم میں نہیں جنتا نے ہرایا ہے۔کمار وشواس کے علاوہ کیجریوال کے قریبی رہے سابق عاپ لیڈر مینک گاندھی نے تو کیجریوال کو اقتدار کا لالچی تک قراردے دیا ہے۔ پارٹی کے پنجاب انچارج سنجے سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ پارٹی لیڈر شپ ورکروں سے کٹ گئی ہے۔ وہیں پارٹی کے ایم پی بھگونت مان سمیت کئی اور لیڈروں نے کیجریوال کو پارٹی میں بہتری لانے کی نصیحت دی اور بڑھتی ناراضگی کی وجہ سے وزیر اعلی و پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے ٹوئٹر پر جاری خط میں کہا کہ پچھلے دو دنوں سے میں نے کئی والنٹیئروں اور ووٹروں سے بات کی ہے۔ اصلیت تو یہ ہے کہ ہم نے غلطیاں کی ہیں، ہم ان غلطیوں کا محاسبہ کریں گے اور انہیں سدھاریں گے۔ خط میں لکھا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو ٹھیک کریں اور ان پر کارروائی کی ضرورت ہے بہانے بنانے کی نہیں۔ کیجریوال نے اب اپنے ممبران کو پارٹی میں متحد رہنے کی نصیحت دی ہے تبھی تو انہوں نے جمعرات کو ایم سی ڈی میں جیتنے والے پارٹی کے کونسلروں سے کہا کہ آپ کو بھگوان کا واسطہ ہے کہ آپ پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔ اگر آپ لوگ اس پارٹی کو چھوڑدیں گے تو لوگ کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں عام آدمی پارٹی کی پریشانیاں بڑھیں گی اور طرح طرح کی مانگیں ہورہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو اپنے بیانوں اور نظریات کو لیکر اکثر اخباروں میں بنے رہتے ہیں انہوں نے کہا عاپ سرکار کو راشٹرپتی برخاست کریں۔ انہوں نے کہا راشٹرپتی کے پاس پورا اختیار ہے کہ وہ دہلی کی عام آدمی پارٹی کو برخاست کردیں۔ اپنی بات کو قانونی عملی جامہ پہنانے کیلئے کاٹجو نے ایک کیس کا بھی حوالہ دیا۔ اسٹیٹ بینک آف راجستھان بنام یونین بینک آف انڈیا کیس میں کورٹ نے یہ رائے دی تھی کہ اگر کوئی پارٹی چناؤ میں بری طرح ہار جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ پارٹی لوگوں کی خواہشات کو نہیں پوری کرتی۔ وہیں سوراج انڈیا کے یوگیندر یادو نے بدھوار کو عاپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیجریوال بار بار ’ رائٹ ٹو ری کال‘ کو یاد کریں۔ دہلی کے شہریوں نے کیجریوال کے خلاف ریفرنڈم دیا ہے۔ وہیں کانگریس کی ترجمان شرمشٹھا مکھرجی کا کہنا ہے کہ آئین میں اس کی کوئی شق نہیں ہے لیکن اس معاملہ میں ہوا دینے والے سی ایم کو اخلاقی بنیاد پر خود سے سوال کرنا چاہئے ۔ 21 ممبران اسمبلی کا معاملہ چناؤ کمیشن میں لٹکا ہوا ہے۔ چناؤ کمیشن ان کو کسی بھی وقت نا اہل قرار دے سکتا ہے۔ ایسے میں کیجریوال کے لئے آنے والے وقت میں سخت چنوتی ہوگی۔ اگر فیصلہ آیا تو عاپ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں مگر مستقبل قریب میں ان 21 سیٹوں پر چناؤ ہوتاہے تو موجودہ حالات میں کیجریوال کی پارٹی کو کتنی سیٹیں ملیں گی اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ویسے ایم سی ڈی چناؤ نتائج کے بعد محاسبہ اور تنظیم مضبوط کرنے میں لگی عاپ کے لئے ایک اور چنوتی بھی ہے۔ دہلی میں ابھی تین جگہ چناؤ ہونے ہیں ا ن میں سے ایک سیٹ اسمبلی کی ہے جبکہ دو ایم سی ڈی وارڈ ہیں۔ تین جگہ بہتر کارکردگی سنجیوگی کے برابر ثابت ہوگی۔ بوانا اسمبلی اور ایم سی ڈی کے موجپور اور سرائے پیپل تھلا وارڈ میں ہونے والے چناؤ کی جیت کیجریوال کے لئے بیحد ضروری ہے۔ بتادیں بوانا سے ممبر اسمبلی وید پرکاش نے ایم سی ڈی چناؤ سے ٹھیک پہلے ممبر اسمبلی کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا اور بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے وہیں ایسٹ ایم سی ڈی کے موجپور اور نارتھ ایم سی ڈی کے سرائے پیپل تھلا وارڈ میں ایک ایک امیدوار کی موت کی وجہ سے چناؤ منسوخ ہوگئے تھے۔
(انل نریندر)

30 اپریل 2017

چار ماہ میں 15 دہشت گردانہ حملوں سے تھرایا کشمیر

کنٹرول لائن کے محض 10 کلومیٹر دور جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں جمعرات کی صبح دہشت گردوں نے فوجی کیمپ پر جو حملہ بولا وہ ایک طرح سے اڑی حملے کا رپیٹ تھا. پاکستانی دہشت گردوں نے اڑی کی طرز پر اس فدائین حملے میں ایک بھارتی کیپٹن سمیت تین جوان شہید ہو گئے. جبکہ پانچ جوان زخمی ہوئے. جوابی کارروائی میں فوج نے جیش محمد کے دو دہشت گردوں کو مار گرایا. تیسرے کی تلاش جاری ہے. اڑی حملے کی طرح اس بار بھی صبح چار بجے کا یہ حملہ اسی طرح گھات لگا کر کیا گیا. فرق صرف اتنا ہے کہ اوڑی کے حملہ جاڑے اور برفباری شروع ہونے سے پہلے کیا گیا تھا اور اس بار حملے کے لئے برفباری ختم ہونے اور موسم گرما کے آغاز موسم منتخب کیا گیا.سرجیکل اسٹرائک اور نوٹ بندی کے بعد یہ دعوی کیا گیا تھا کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے اور مستقبل میں پاکستان 10 بار سوچے گا کوئی حملہ کرنے کی. پر یہاں تو الٹا ہو رہا ہے. دہشت گرد بار بار فوجی کیمپوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہم صرف اپنی کی حفاظت کرنے میں لگے ہوئے ہیں. گزشتہ چار ماہ میں وادی میں 15 دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں اور بھارت انہیں روکنے میں بری طرح فیل ہو رہا ہے. چاہے چھتیس گڑھ کا سکما حملہ ہو یا وادی میں یہ حملہ ہو آخر کب رکے گی ہمارے جوانوں کی شہادت؟ یہ ٹھیک نہیں کہ دہشت گرد بار بار فوجی کیمپوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں. ہماری فوج کیا کر رہی ہے؟ ہر عیب مرکز یا ریاستی حکومت کے متھے مڑھنا ٹھیک نہیں ہے. آخر فوج کو تو اپنی کی حفاظت کا انتظام خود کرنا ہوتا ہے. ملٹری انٹیلی جنس کیا سورہی ہے. بار بار یہ فدائین جب چاہے جہاں چاہے فوجی کیمپوں پر حملہ کر دیتے ہیں اور ہم صرف اپنا دفاع کرنے سے خوش ہو جاتے ہیں. سب سے زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ وہ تقریبا ایک جیسے طریقے سے فوجی کیمپوں اور فوجیوں کو قافلے پر حملہ کرنے کے قابل ہیں. کپواڑہ میں بھی دہشت گردوں نے صبح فوجی کیمپ پر دھاوا بولا. وہ سیکورٹی کی پہلی دیوار اس لئے بھیدنے میں کامیاب رہے، کیونکہ ایک تو صبح کا دھندلکا تھا اور دوسرے شاید سیکورٹی کے انتظامات اتنے نہیں تھے جتنے ہونے چاہئے تھے. یہ تو تحقیقات سے ہی پتہ چلے گا کہ سیکورٹی میں کس سطح پر چوک ہوئی، لیکن اس کا جواب دینا ہی چاہئے کہ آخر چوکسی میں کمی کی صورت بار بار کیوں سامنے آ رہے ہیں؟ یہ توشکر ادا کریں رشی کمار کا جس نے بیحد جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو مار گرایا جبکہ تیسرے کو زخمی کر دیا.آرہ (بہار) کے رشی کمار گنر سنتری کی ڈیوٹی پر تھے. وہ فیلڈ آرٹلری رجمنٹ میں آٹھ سال سے گنر کے عہدے پر تعینات ہیں. وہ کیمپ کے پچھلے گیٹ پر تعینات تھے. تصادم کے بعد دہشت گرد جب پیچھے کے دروازے سے بھاگنے لگے تو رشی ان کے انتہائی قریب تھے. دہشت گردوں کی نظر جیسے ہی رشی پر پڑی انہوں نے گولیوں کی بوچھار کردی. رشی پر دہشت گردوں نے فائر کیا پر وہ بلٹ پروف ہیلمٹ کی بدولت گولی سے تو بچ گئے لیکن وہ زمین پر گر پڑے. دہشت گردوں نے سمجھا کہ ان کا کام تمام ہو گیا، پر رشی نے فورا سنبھل کر دو دہشت گردوں کو ڈھیر کر دیا. فائرنگ کے دوران ہی رشی کی گولیاں ختم ہو گئیں. ایسے میں تیسرے دہشت گرد سے بچتے ہوئے بنکر کی طرف دوڑے. وہاں سے انہوں نے دوسری رائفل اٹھائی. انہیں ہاتھوں اور پیروں میں کئی مقامات پر چوٹیں لگی ہوئی تھیں. زخمی ہونے کے باوجود رشی نے تیسرے دہشت گرد پر فائر کیا. تیسرے دہشت گرد کو بھی گولی لگنے کی خبر ہے.کشمیر میں موجودہ صورت حال کے لئے سرحد پار کی حمایت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ باہر سے زیادہ اندرونی دہشت گردسرگرم ہوئے ہیں اور کارروائیوں کو انجام دے رہے ہیں. لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ صورت حال 1989 کی سمت میں جا رہی ہے تو غلط نہیں ہوگا. جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے دہلی کے دورے اور تین ماہ کا سامان مانگنے کے بعد مرکز کی سرگرمی تو بڑھی ہے پر حکومت کی کشمیر نیتی آخر ہے کیا؟ 80 ہزار کروڑ کا پیکج دینے سے معاملہ سلجھنے والا نہیں. وادی کے اندر علیحدگی پسندوں اورپتھربازوں کا راج چل رہا ہے اور سرحد پار سے دہشت گردوں کا. کشمیر میں جیسے حالات ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہی نہیں بلکہ لازمی ہے کہ دہشت گردانہ حملوں سے آئے دن دو چار ہو رہے جوانوں کو ہر حال میں محفوظ بنانے کے پختہ انتظامات کئے جائیں. اس سب کے علاوہ پتھربازوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے. بدقسمتی سے کپواڑہ میں بھی یہی ہوا. یہی سمجھنا مشکل ہے کہ جب آرمی چیف بھی یہ مان رہے ہیں کہ پتھرباز دہشت گردوں کے مددگار ہیں تب پھر ملک کی سیاسی قیادت تمام بات کو ایک آواز سے دہرا کیوں نہیں پا رہے ہیں؟ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ دہشت گردوں کے مددگار پتھربازوں کی مذمت۔تنقید کرنے کے بجائے الٹا فوج اور حفاظتی دستوں کے لیے تحمل برتنے کاسبق پڑھایا جا رہا ہے. مسئلہ کا حل کچھ ڈرامائی اور جادوئی کارروائیوں اور ٹی وی کی بحث سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مسئلہ ٹھوس نیتی ،اقدامات سے ہی قابو کیا جاسکتا ہے جس کا ابھی تک مودی حکومت نے مظاہرہ نہیں کیا ہے.
(انل نریندر)

نو سال بعد معصوم ثابت ہوئی سادھوی پرگیہ

بالآخر مالیگاؤں دھماکے اسکینڈل میں ملزم سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو بامبے ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی. اس کے چلتے نو سال بعد سادھوی پرگیہ سے بالآخر انصاف ہوا. ضمانت ملنے کے بعد جیل سے باہر آئیں سادھوی پرگیہ ٹھاکر نے کانگریس اور اے ٹی ایس پر سنگین الزام لگائے ہیں. سادھوی کا الزام ہے کہ کانگریس نے انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی سازش رچی تھی. سادھوی ضمانت ملنے کے بعد جمعرات کو بھوپال میں صحافیوں سے روبرو ہوئیں. سادھوی نے کہا کہ اے ٹی ایس نے انہیں 10 اکتوبر 2008 کو سورت سے ممبئی لے کر گئی تھی. وہاں انہیں 13 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا اور مرد اے ٹی ایس کے اہلکاروں نے انہیں خوب اذایتیں دیں جس کی وجہ سے اب وہ بیمار ہیں، کینسر سے جوجھ رہی ہیں. سادھوی کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر ٹوٹ چکی ہیں لیکن خود اعتمادی کی وجہ سے لڑ رہی ہیں. شاید ہی آزادی سے پہلے کسی عورت کے ساتھ ایسا ہوا ہو. انہوں نے ممبئی حملے کے شہید ہیمنت کرکرے سمیت کئی اے ٹی ایس اہلکاروں پر تشدد کے الزام لگائے. ان کا کہنا ہے کہ بھگوا دہشت گردی کی کہانی کانگریس نے رچی تھی. حقیقت یہ تھی کہ مالیگاؤں دھماکے کے بارے میں سادھوی نے کہا کہ دو لوگوں کو مجرم مان کر سزا دی گئی ہے، لیکن عدالت ایشور نہیں ہے. اپنے بارے میں وہ بولیں کہ میں معصوم ہوں اور تھی. پرگیہ ٹھاکر نے کہا کہ وہ تمام الزامات سے بری الزماں ہوئی ہیں، اب علاج کرانے جائیں گی. بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس رنجیت مورے اور شالکنی دھنسلکر جوشی کی بینچ نے منگل کو اپنے 78 صفحے کے حکم میں کہا کہ 44 سالہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر ایک ایسی خاتون ہیں جو سال 2008 سے جیل میں ہیں اور کینسر میں مبتلا ہیں. بتا دیں کہ 29 ستمبر 2008 کو ناسک ضلع کے مالیگاؤں قصبے میں ایک موٹر سائیکل میں بم لگا کر دھماکہ کیا گیا تھا. اس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور قریب 80 زخمی ہوئے تھے. اس صورت میں سادھوی پرگیہ اور پروہت سمیت 11 افراد گرفتار کئے گئے تھے. سادھوی پر الزام تھا کہ دھماکے میں استعمال موٹر سائیکل سادھوی کی تھی. ساتھ ہی وہ کٹرہندووادی تنظیم ابھینو بھارت کی بھوپال اور پھرفرید آباد کے اجلاسوں میں شامل ہوئی تھیں. دونوں ہی الزام بے بنیاد پائے گئے. چونکہ وہ موٹر سائیکل 2004 میں ہی بیچی جا چکی تھی. سادھوی کو بغیر ٹھوس ثبوتوں کے نو سال جیل میں رکھا گیا. ہم سادھوی کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں. امید کی جاتی ہے کہ گزشتہ نو سالوں میں جو ان سے برتاؤ ہوا ہے اور کینسر جیسی بیماری نے انہیں پکڑ لیا ہے اب وہ ٹھیک طرح سے اپنا علاج کرا سکیں گی. جو وقت گزر گیا اس کا تو اب کچھ نہیں ہو سکتا.
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...