Translater

26 جون 2021

نصرت جہاں کہ مشکلیں بڑھ سکتی ہے!

مغربی بنگال کے بشیر ہاٹ سے ترنمول کانگریس کی ایم پی نصرت جہاں کی مشکلیں بڑھتی نظر آرہی ہیں ان کی شادی کا معاملہ لوک سبھا سکریٹریٹ تک پہونچ گیا ہے بھاجپا کے ایم پی سنگ مترا موریا نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر نصرت کی لوک سبھا ممبر شپ منسوخ کرنے کی مانگ کی ہے ان کا کہنا ہے نصر ت جہاں کا رویہ حیرت انگیز ہے اور متنازعہ ہے شادی کے مسئلے پر انہوں نے عدالتوں کو دھوکے میں رکھا ہے ساتھ ہی پارلیمنٹ کے وقار کو ٹھیس پہونچائی ہے مانگ کی ہے معاملے کو پارلیمنٹ کی ایتھکس کمیٹی میں بھیجا جانا چاہئے جہاں پر نصرت پر ایکشن لیا جانا چاہئے مترا نے لکھا ہے نصرت جہاں نے لوک سبھا ممبر کے ناطے حلف کے دوران اپنا نام نصرت جہاں روحی جین بتا یا تھا لوک سبھا کی ویب سائٹ پر بھی انکے شوہر کا نام متھل جین لکھا ہے ان کی شادی میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی شامل ہوئی تھیں کسی کو بھی نصرت کی ذاتی زندگی میں یا اس کی کسی طرح کی دخل اندازی نہیں کرنا چاہئے لیکن ان کے حالیہ بیان کا مطلب ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر پارلیمنٹ کو غلط جانکاری دی انہوں نے ووٹروں کو بھی دھوکہ دیا ہے ۔ (انل نریندر)

کمزور دیشوں پر قبضے کی چینی چال !

دنیا بھر میں خفیہ شرائط کے ساتھ قرض با ٹ چین کمزور ممالک پر اپنی جغرافیائی سیاست و دبدبہ بڑھانے اور ان کی کفالت میں لگا ہوا ہے ایک رپورٹ کے مطابق پتہ لگا ہے کہ ڈریگن اس وقت سب سے بڑا غیر ملکی قرض دینے والا دیش بن گیا ہے دنیا کے ذریعے انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ نے مشترکہ طور سے دیئے قرضے دنیا کو اور چین کو دے چکا ہے جنوری میں شائع ایک وائٹ پیپر کے مطابق چین عالمی برادری کا حصہ ہونے کے ناطے بین الاقوامی ترقی اشتراک کے تحت قرضہ دینے کا دعوہ کرتا ہے لیکن پچھلے کچھ عرصے میں کئی دیشوں کے ساتھ اس کا برتاو¿ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس تعاون کے نام پر چھل کر رہا ہے اسرائیلی ویب سائٹ پر اپنے بلاگ پوسٹ میں جغرافیائی سیاست کے ماہر فیبین دوشائی نے لکھا ہے عالمی بھلائی کی آڑ میں باٹا جار ہا یہ چینی قرض قواعد و شرائط کی بنیاد پر استحصال والا ہے اس میں ادھا رلینے والے دیشوں کو دبانے کی کئی دفعات ہیں قرض ترقی پذیر ممالک میں چین پر اقتصادی انحصار اور وہاں سیاسی فائدے بڑھانے کا دروازہ کھولا ہے اس کے چلتے کمزور ملکوں کی سرداری پر بھی سنگین خطرہ منڈرانے لگا ہے آئی ایم ایف کے اسرائیلی ترجمان دوشائی کے مطابق زیادہ تر چینی قرض ریاعتی شرحوں کے بجائے کمرشیل شرحوں میں دیئے گئے ہیں ایسا کسی غیر ملکی عالمی مدد میں دیکھنے کو نہیں ملتا ہے ڈیفالٹر ہونے پر لین دین میں اس کی پراپرٹی پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی کی مثال سری لنکا کی بندر گاہ ، لاو¿س میں الیکٹرک گریڈ لیکر ، تزاکستان میں متنازعہ علاقے اور مالدیپ کے حکمت عملی کے طور سے اہم جزیروں پر چینی قبضے شامل ہیں ۔ (انل نریندر)

مودی سے نپٹنے کے لئے اپوزیشن کی گھیرا بندی !

دیش میں تیسرے مورچے کی تشکیل کی قیاس آرائیوں کی درمیان راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے صدر شردپوار کے گھر پر آٹھ سیاسی پارٹیوں کے نیتا جمع ہوئے تھے جس میں حکمراں بھاجپا کے خلاف تیسرے مورچے کی قیام کے قیاس آرائیوں کے درمیان یہ ملاقات ہوئی تھی قریب ڈھائی گھنٹے تک چلی اس ملاقات میں کورونا وبا کنٹرول کرنے والے اداروں پر نقطہ چینی کی گئی ساتھ ہی مہنگائی ، کسان اور بے روزگاری کے مسئلوں پر مودی سرکار کی گھیرا بندی ہوئی ہے اس میٹنگ میں ترنمول کانگریس ، سماج وادی پارٹی ، عام آدمی پارٹی، راشٹریہ لوک دل اور لیفٹ پارٹیاں شامل ہوئی اس میٹنگ کے بعد این سی پی نے یہ صفائی ضرور دی ہے کہ میٹنگ شرد پوار نے نہیں بلکہ راشٹریہ منچ نے بلائی تھی اس میں کانگریس کی طرف سے کوئی لیڈر شامل نہیں ہوا ۔ این سی پی نیتا مزید مینن نے کہا کہ یہ میٹنگ نہ تو بھاجپا کے خلاف پارٹیوں کو متحد کرنے کے لئے بلائی گئی تھی اور نہ ہی کانگریس کا بائیکاٹ کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی انہوں نے کہا ٹی ایم سی نیتا بھگونت سنگھ کو راشٹرمنچ کے تحت دیش کی سیاسی ،اقتصادی اور سماجی اشوز پر غور و خوض کے لئے بلائی گئی تھی اوراس میں کئی مسئلوں پر تفصیل سے غور و خوض ہوا ، پچھلے سال سے قومی سیاست کے میدان میں بلا رکاوٹ دوڑ رہے بھاجپا کے سب سے بڑے نیتا اور وزیر اعظم نریندر مودی کو روک پانا اپوزیشن کے لئے ایک چنوتی بن گیا ہے ۔ بنگال میں بھاجپا کو ملی ہار کے بعد اپوزیشن کو یہ لگنے لگا ہے کہ مودی اور ان کی پارٹی بھاجپا کو تھامنا ان کے لئے مشکل ہے لیکن نا ممکن نہیں ۔ مودی حریفوں کے لئے سب سے بڑی چنوتی مودی کے خلاف ایک جنرل لیڈر شپ کی ہے اپوزیشن پارٹیوں اور اس کے حکمت عملی سازوں کو بھی اب اس کا اچھی طرح سے احساس ہو رہا ہے اس لئے وہ اس ملاقات کو بھاجپا مخالف یا مودی مخالف پارٹیوں کی میٹنگ بتانے سے پوری طرح گریز کر رہے ہیں ۔ گزشتہ چناو¿ میںجب بھی اپوزیشن نے مودی پر جتنے بھی شخصی حملے کئے تب مودی نے اسی کو ہتھیار بنا کر اپنے سیاسی حریفوں کو چت کر دیا ایسے میں اپوزیشن نے پہلی بار اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے مودی کی ساکھ کو انکے کام کاج سے ہی توڑنے کی حکمت عملی بنائی ہے اگر ہم اس میٹنگ کے ایجنڈے اور نیتاو¿ں کے بیانوں پر غور کریں تو یہ بات اپنے آپ سے صاف ہوجاتی ہے مزید مینن نے کہا میڈیا میں کہا جارہا ہے کہ شردپوار کہ رہنمائی میں بھاجپا مخالف پارٹیوں کو متحد کرنے کے لئے شردپوار کی رہنمائی میں میٹنگ ہوئی ہے یہ پوری طرح جھوٹ ہے میں اسے صاف کرنا چاہتا ہوںکہ میٹنگ شردپوار کے گھر پر ضرور ہوئی لیکن انہوں نے یہ میٹنگ نہیں بلائی تھی سپا کے نیتا گھنشیام تیواری نے کہا کہ ہم نے اس بات پر بھی تبادلہ خیالات کئے کہ پیڑول اور ڈیز کے دام کس طرح سے عام آدمی پر بوجھ ڈال رہے ہیں ، خاص کر کسانوں اور درمیانہ کلاس پر راشٹر منچ نے ایک بیان تیار کیا اور سرکار تک اس کے ذریعے پہونچا جا سکتا ہے۔ اگلی میٹنگ اور ان لوگوں کو شامل کرنے پر توجہ دے گی حالانکہ سیوشینا،بسپا ، اور ساو¿تھ انڈیا کے کسی بھی سیاسی پارٹی کو اس میٹنگ میں شامل نہ ہونا اس منچ پر سب سے بڑا سوالیہ نشان کھڑ ا کرتا ہے کوئی بھی مودی مخالف مورچہ بنے گا تو اس میں کانگریس کا بھی شامل ہونا ضروری ہوگا ہوسکتا ہے اس منچ کی اگلی میٹنگ میں تمام مودی مخالف نتیا شامل ہوں ۔ (انل نریندر)

25 جون 2021

یوگ دنیا کو دی گئی بھارت کی بیش قیمت وراثت!

اقوام متحدہ کے ذریعہ انٹر نیشنل یوگا ڈے پر یوگ کی سائنس پر بحث کرنا ضروری ہوجاتا ہے ہندوستان کے ذریعے دنیا کو دئیے کئی بیش قیمت خزانوں اور وراثتوں میں سے یوگ ایک ہے ۔کم سے کم ہزار برس قبل میں رشی منیوں کے ذریعے یوگ سائنس سکھائی جاتی تھی ۔اور ان کی رہرسل کی جاتی تھی ۔ہزاروں سال پرانے یوگا کو وزیراعظم نریندر مودی کے انتھک اور نیک کوششوں سے یوگ پھر مقبول ہو گیا ہے ۔اور دنیا بھر میں لوگوں کا جھکاو¿ اس طرف ہو رہا ہے سنسکرت لفظ سے پیدا یوگ انسان و پرماتما کو جوڑنے کے لئے ایک سائنسی طور سے تشریح ہے حقیقت میں یوگ جسم و من کو صحت مند اور پرسکون رکھنے کی ایک رہرسل و ٹریننگ ہے وہ لوگ جو اس سفر کو پوری طرح سے طے کرنے کو تیار ہوتے ہیں وہ یوگ کے ذریعے اپنے ضمیر کے اصول میں چھپے اس نایاب پہلو کو پہچاننے میں بھی حرکت میں آتے ہیں ۔اور یہ ایک آستھا کی سمادھی بھی کہلاتی ہے ۔سمادھی کی حالت کے بارے میں مفصل بحث کی شکل سے روحانی فروغ کے خواہشمند کچھ لوگون کے لئے چھوڑتے ہوئے میں اپنا دھیان اس طرف مبذول کرنا چاہتا ہوں جو لوگ روحانیت وضمیر سے متعلق (میرا فضیکل (باتوں میں دلچشپی نہیں کرھتے ،ان کے لئے بھی بہترجسمانی و ذہنی صحت کی طرف جانے کا یہی راستہ ہے ۔جدید سائنس نے بھی یوگ کااعتراف کیا ہے ۔کچھ برس پہلے ہی ڈبلیو ایچ او نے بھی ذہنی طور پر اور فلاحی بہبودی کو انسان کے لئے ہیلتھ کے لئے ایک اٹوٹ حصہ کی شکل میں قبول کیا ہے جبکہ اب اس روایت میں یوگیوں کا یقین ہزاروں برسوں سے رہا ہے ۔یہ سبھی عمر کے لوگوں کے لئے سکون فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ (انل نریندر)

کووڈ کے بعد مریضوں میں دل کے دورہ سے اموات !

بھارت میں بھلے ہی کورونا انفیکشن کی تعداد میں کمی آرہی ہے لیکن کووڈ کے بعد کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے دہلی جھارکھنڈ سمیت دیگر ریاستوں میں کووڈ کے بعد پیدا مسئلے کے ساتھ مریض اسپتال پہونچ رہے ہیں ۔ماہرین کا دعویٰ ہے کہ کووڈ کے بعد زیادہ تر موتیں دل کا دورہ پڑن سے پورہی ہیں ۔دہلی کے سبدر جنگ اسپتال کے کمیونٹی میڈیسن ڈپارٹمنٹ کے چیف ڈاکٹر دگل کشور کے مطابق کووڈ کے بعد مریضو ں میں جو شوگر جیسی بیماریوں سے مبتلا ہیں ان میں خون کا دورہ و خون جمنے کے بعد قلب حرکت رکنے کے امکان زیادہ رہتے ہیں جھارکھنڈ کے رمس سمیت ریاست کے سبھی اسپتالوں میں کووڈ کے بعد پیدا دشواریوں کے ساتھ مریض پہونچ رہے ہیں ۔اور موتیں بھی ہو رہی ہیں ۔ادھر رمس کیئر کے انچارج ڈاکٹر کے پی بھٹا چاریہ نے بتایا کووڈ کے بعد مریضوں میں زیادہ تر اموات دوران خون میں رکاوٹ یا دل کا دورہ پڑنے سے ہو رہی ہیں ۔زیادہ تر مریضوں کے پھیپھڑے خراب ہیں جس سے انہیں سانس لینے میں کافی دکت ہوتی ہے ۔خون کے تھپیڑے سے جگر جام ہو جاتا ہے جو ہارٹ تک پہونچ جاتے ہیں ۔اور دل کا دورہ پڑرہے ہیں ۔رمس میں 29 مریض بھرتی ہیں جن میں یومیہ تین سے چار مریضوں کی موت ہو رہی ہے مرنے والوں کی عمر 35 سے 70 کے درمیان ہے ۔ (انل نریندر)

مذہب تبدیل کرانے والوں کے آئی ایس آئی سے جڑے تار!

اتر پردیش کے انسداد آتنکواداسکوائڈ(اے ٹی ایس )دستہ نے لکھنو¿ میں دو مولاناو¿ں کو گرفتار کرکے تبدیلی مذہب کے گھناو¿نے کھیل کا پردہ فاش کیا ہے دہلی کے جامعہ نگر سے کام کررہے یہ گروہ پیسہ ،شادی ،و نوکری کا لالچ دے کر بڑی تعداد میں ہندوو¿ں کا مذہب تبدیل کرا چکا ہے ۔اے ٹی ایس کے پاس ایسے ایک ہزار لوگوں کی فہرست ہے ان میں سے زیادہ تر بہت ہی غریب بے سہارا عورتیں ہیں گروہ کو مدد کے لئے پیسہ بیرون ممالک سے آتا تھا اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا اس معاملے میں تار جڑنے کا لنک آرہا ہے ۔اس کی جانچ پڑتال ہو رہی ہے گرفتار ملزمان کے نام مفتی جہانگیر عالم اور عمر گوتم ہیں ۔ان میں سے عمر خود ہندو سے مسلمان ہوا تھا ۔اے ڈی جے لائن آرڈر پرشانت کمار نے بتایا کہ تین جون کو غازی آباد کے ڈاسنا مندر سے دو مشتبہ لڑکے وپل ،وجے ورگیہ و کاشف کی گرفتاری کے بعد اس گروہ کا پتہ چلا ان کی نشاندھی پر جہانگیر اور عمر گوتم کو پوچھ تاچھ کے لئے لکھنو¿ ہیڈ کوارٹر بلایا گیا تھا اور لمبی پوچھ تاچھ کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا انہوں نے بتایا گروہ میں کئی اور شامل ہونے کی تفتیش جاری ہے ۔تبدیلی مذہب کے بعد کئی لڑکیوں کی شادی بھی کرائی جا چکی ہے ۔یوپی کے علاوہ دہلی ،ہریانہ کیرل ،آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں بھی ان کا جال پھیلا ہوا ہے ۔شروعاتی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ یہ گروہ ایک سال میں 250 سے 300 لوگوں کو مسلمان کرچکا ہے ۔تبدیلی الگ سے باقاعدہ ایک کانفرنس میں ہوتی تھی تاکہ ان کے ذریعے دیگر لوگوں کو مسلمان بنایا جا سکے ان کے پاس سے اے ٹی ایس نے ایک ہزار عورتوں اور بچوں کی فہرست برآمد کی ہے ۔اسلام قبول کرنا اور نکاح وغیرہ کا ثبوتی دستاویز دہلی کے مفتی ،قاضی جہانگیر عالم قاسمی کے ذریعے جاری کئے جاتے تھے اے ٹی ایس کے مطابق تبدیلی مذہب کے بعد عورتوں کی شادی کرائی جاتی تھی ۔دونوں متھرا،وارانسی اور نوئیڈا میں مذہب بدلوا چکے ہیں ۔تبدیلی کرانے والی انجمن اسلامک دعوت سینٹر نے گونگے بہرے بچوں اور عورتوں و غریب طبقہ کے لوگوں کو پیسہ اور نوکری وگیرہ کا لالچ دے کر ان کو اپنا شکار بنایا دیش کی ٹیم گنجان اور دور دراز علاقوں میں گئی جہاں عیشائی مشنریوں پر بھی اس طرح کے الزام لگتے رہے ہیں وہ قبائلیوں کے ہاتھ میں مٹھی بھر چاول دے کر گلے میں کراس کا نشان لٹکا دیتے ہیں ۔یہ صاف ہے کہ بھار میں زبردستی یا لالچ میں تبدیلی مذہب کرانا غیر قانونی ہے ۔ایسی صورت میں تبدیلی مزہب کرانے سے نہ صرف سیدھے سیدھے بھارت کے قانون کو چنوتی دے دی جاتی ہے بلکہ دوسرے مذہب کے جذبات کو بھی ارادتاً تھینس پہونچا دی جاتی ہے زبردستی تبدیلی مذہب کا سیاسی مفاد بھی لگتا ہے اس طرح کے واقعات سے جہاں فرقہ وارانہ ذہنیت کو بڑھاوا ملتا ہے تو ساتھ ہی فرقہ وارانہ پولارائزیشن بھی ہوتا ہے اس لئے دیش کے فرقہ وارانہ بھائی چارے کو بگاڑنے کے لئے اسطرح کے واقعات پر لگام لگنا بہت ضروری ہے اس سلسلے میں مسلم دانشوروں کو بھی آگے آنا چاہیے ایسے قدموں و پروگراموں سے جس سے دوسرے طبقہ کو ٹھینس پہونچتی ہواس کو روکنے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔ (انل نریندر)

24 جون 2021

یوپی میں نہ2017سی ایم کا چہر ہ تھا اور نہ 2022میں ہوگا!

اگلے سال اتر پردیش اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں اس کو لیکر بھارتی جنتا پارٹی میں ابھی سے ہل چل ہونے لگی ہے وزیر اعظم نریندر مودی کے سب سے بھروسے مند شخص ہندوستانی انتظامیہ سروس (آئی اے ایس )سے از خود سروس سے ریٹائر منٹ لیکر بھاجپا میں شامل ہوئے اروند کمار شرما (اے کے شرما)کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں اب شرما کا تنازعہ رک سا گیا ہے اور انہیں بھاجپا تنظیم میں اہم ذمہ داری دے دی گئی ہے یہ ذمہ داری انہیں یوپی بھاجپانائب صدر بنا دیا گیا ہے مانا جا رہا تھا کہ انہیں سرکار یا تنظیم نے کوئی اہم ترین عہد ہ دیا جاسکتا ہے ۔ حال ہی میں انہیں ودھان پریشد کا ممبر بنایا گیا انہیں اگلے سال ہونے والے یوپی اسمبلی چناو¿ سے پہلے یوپی میں وزیر اعلیٰ کے چہرے کو لیکر پیدا غلط فہمی ختم ہونے کانام نہیں لے رہی ہے اتوار کو بھاجپا دفتر میں تنظیم کی میٹنگ میں شامل ہونے آئے سرکار کے وزیر محنت سوامی پرساد موریہ نے یہ کہہ کر اسے اور آگے بڑھا دیا کہ چناو¿ جیتنے کے بعد مرکزی لیڈر شپ ہی یوپی میں وزیر اعلیٰ کا چہرہ طے کرے گی ان کا یہ بیان یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے بیا ن کے بعد آیا ہے کیشو موریہ کہہ چکے ہیں بی جے پی کی روایت رہی ہے کہ مرکزی لیڈر شپ ہی مکھیہ منتری کا چہرہ طے کرتی ہے ہم پہلے صرف چناو¿ جیتنے پر توجہ دے رہے ہیں حالانکہ اس سے الگ یوپی کے بھاجپا پردیش صدر سو تنتر سنگھ صاف کہہ چکے ہیں کہ پردیش میں سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی قیاد ت میں ہی لڑے جائیں گے ان سے زیادہ محنت کش اور ایماندار وزیر اعلیٰ کون ہے ؟ سوامی پرشاد موریا نے صحافیوں کے اس سوال پر کہ بی جے پی کا سی ایم فیس کون ہوگا؟ کہا کہ 2017میں بھی بی جے پی نے سی ایم کا چہر ہ اعلان نہیں کیا تھا 2022میں تنظیم اور مرکز ہی اس بارے میں آخری فیصلہ لیں گے انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے چناو¿ کی تیار کرنی ہے اس کے لئے تنظیم نے حکمت عملی بنانی شروع کر دی ہے ہم اس بار بھی زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیت کر آئیں گے ۔ انہوں نے دوسری پارٹیوں کے نیتاو¿ ں کے بی جے پی میں آنے کی کھلی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ خواہشمند نیتاو¿ں کا بی جے میں خیر مقدم ہے بی ایس میں ہوئی بغاوت کو لیکر سوامی نے تنز کرتے ہوئے کہا کہ اب بی ایس پی میں مایا وتی کے علاوہ کوئی نہیں بچا ہے ۔ (انل نریندر)

معاوضہ نہیں دے سکتے !

سپریم کورٹ نے پیر کو مرکزی حکومت سے سوال کیا وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والے این ڈی ایم اے نے کوویڈ 19-سے مرنے والوں کے کنبوں کو چار لاکھ ایکس کریشیا رقم دینے کا فیصلہ کیا تھا بڑی عدالت نے کہا فائدہ اٹھانے والوں کے دل میں کسی بھی طرح کا ملال دور کرنے کے لئے یکساں معاوضہ اسکیم تیار کرنے پر غو ر کیا جا سکتا ہے کورونا انفیکشن سے مرنے والے لوگوں کے ورثا کو چار چارلاکھ روپئے کا معاوضہ مل پانا اب ممکن نہیں ہوگا مرکز کا کہنا ہے کہ کورونا کے سبب کئے جا رہے انتظام اور و ٹیکس محصول میں کمی کے سبب مرکز اور ریاستی حکومتیں شدید مالی قلت کے دور سے گزر رہی ہیں اور کورونا انفیکشن سے مرنے والے سبھی لوگوں کے ورثا کو معاوضہ دینے سے سرکاری خزانے کے وسعت سے باہر کی بات ہے ۔ حالانکہ مرکز نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ سرکار کے پاس پیسہ نہیں ہے مرکزی حکومت نے کہا کہ ہم ہیلتھ سروس سسٹم بنانے اور سبھی کو کھانا یقینی کرنے و پوری آبادی کو ٹیکہ لگانے اور معیشت کو مالی فروغ پیکیج دستیاب کرانے کے لئے رکھے گئے فنڈ کے بجائے دیگر چیزوں کے فنڈ کااستعمال کر رہے ہیں جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایم آر شاہ کی ویکیشن بنچ نے سوالی سیٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ آپ (مرکز صحیح صفائی دے رہا ہے )کیونکہ مرکز کے پاس پیسہ نہیں کہ دلیل دینے سے وسیع مضر اثرات ہونگے مرکز نے مانا کہ کورونا سے اب تک 3.85لاکھ لوگوں کی جان جا چکی ہے اس لئے ان کے لئے 22,184کروڑ روپئے کا معاوضہ دیا گیا تو اسٹیٹ ڈیجاسٹر رسپانس فنڈ کم پڑ جائے گااور دیگر آفات سے نمٹنے کے لئے پیسہ نہیں بچے گا۔ مرنے والوں کی تعداد ابھی بھی بڑھنے کا اندیشہ ہے یہ تو ماننا پڑے گا کہ سرکار کے پاس محدود ذرائع ہیں ان پر فاضل بوجھ آپ ویلفیئر و ہیلتھ اسکیموں کے فنڈ کو کم کر دے گا مرکز نے سپریم کورٹ میں دیئے گئے حلف نامے میں کہا کہ تشریح کرنا کہ ایکس گلیشیا رقم سے ہی کسی متاثر کی مدد کی جا سکتی ہے یہ پرانا اور دکیا نوس نقطہ نظر ہوگا ۔ مرکزی حکومت نے کہا کورونا وبا زلزلہ یا سیلاب کہ طرح ایک وبا نہیں ہے جس کے لئے متاثرہ کو صرف پیسے سے معاوضہ دیا جاسکتا ہے مرکز نے کہا آفت قانون کے تحت ضروری معاوضہ صرف قدرتی آفات جیسے زلزلہ ، سیلاب وغیرہ پر ہی نافذ ہوتا ہے ۔ لمبی میعاد کی کسی بھی آفت کو مہینوں اور برسوں تک چلے میں ایکس گریشیا رقم دینے کا کوئی سابقہ مثال نہیں ہے حقیقت میں بھارت جیسے بہبودی دیش میں سرکاروں کا اصل امتحان قدرتی آفات اور ضرورتوں کے وقت ہی دینی ہوتی ہے اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ وبا سیلا ب یا زلزلے جیسی آفت نہیں ہے اور ڈیڑھ سال گزر جانے کے با وجود ابھی یہ وبا ختم نہیں ہوئی ہے بے شک دیش میںدوسری لہر کا اثر کا اب کم ہوگیا ہے نتیجتاً انفیکشن کے نئے میرض پچاس ہزار سے کم ہوگئے ہیں مگر دوسری اور اب تک کے 3.85لاکھ لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں متاثرہ کنبوں میں بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جن کے لئے زندگی گزر بشر کا مشکل گھڑی ہوگئی ہے ایسے میں مرکز اور ریاستی حکومتیں کم سے کم ایسے خاندانوں کی پہچان کر کے ان کے لئے کوئی انسانیت کے ناطے ہمدردانہ پہل ضرور کی جانی چاہئے ۔ (انل نریندر)

23 جون 2021

کٹر پسند ابراہیم رئیسی ایران کے نئے صدر ہوں گے !

ایران کو نیا صدر مل گیا ہے ۔چناو¿ میں کٹر پسند لیڈرابراہیم رئیسی کوبھاری ووٹ سے کامیابی ملی ہے وہ اگست میں موجودہ صدر حسن روحانی کی جگہ لیں گے رئیسی دیش کے سپریم لیڈر آیت اللہ علیٰ خامنئی کے قریبی اور چیف جسٹس ہیں ۔انسانی حقوق خلاف ورزی کو لیکر امریکہ نے ان پر پابندی لگا رکھی ہے ۔ایٹمی پروگرام کو لیکر امریکی پابندیوںسے دوچار ایران کے صدر کے عہدہ کے لئے ووٹنگ کرائی گئی اس میں چھ کروڑ ووٹروں میں سے 2.90 کروڑ ووٹروں نے ووٹ ڈالے چناو¿ افسران کے مطابق رئیسی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں ۔رئیسی امریکہ و یوروپی ممالک کٹر تنقید کرنے والے ہیں ۔انہوں نے چناو¿ کے دوران سیاسی یا معاشی مسئلوں پر بحث نہیں کی لیکن ایٹمی سمجھوتہ کی بحالی کی پیروی کی یہ نیوکلیائی سمجھوتہ 2015 میں ایران اور امریکہ سمیت چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ہوا تھا ۔سال 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدہ سے اپنے دیش کو الگ کر لیا تھا اور ایران پر سخط پابندیاں لگا دیں تھیں ۔ایم این ایس ٹی انٹرنیشنل نے ایران کے نئے منتخب صدر رئیسی کے خلاف جانچ کی مانگ دہرائی ہے ۔امریکہ ان پر الزام لگاتا رہا ہے کہ گزشتہ آٹھویں دہائی میں سیاسی قیدیوں کو پھانسی دینے میں ان کا اہم رول رہا ہے ۔ (انل نریندر)

کورونا کے سبب دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی !

جو اپنے چلے گئے ان کا مستقل غم اور خود کے مرنے کے خوف کے درمیان لگتا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر بھی نکل گئی ہے ۔مریض کم ہونے لگے ہیں شیئر بازار میں سرمایہ کاری بڑھتی جارہی ہے لاک ڈاو¿ن کھلنے سے پھر زندگی کی جد و جہد میں شریف ہونے لگے ہیں ۔یعنی رات بھر کے برے سپنے سے جاگے ہوں ۔یہ بھی سچ ہے کہ دیش میں وبا سے اب تک ہوئی موتوں کی شرح 60 فیصد لیکن پچھلے 6 ہفتوں میں درج ہوا ہے اور وہ بھی جب بھار ت میں موتوں کی اصلی ٹیلی سرکاری نمبروںسے کئی گنا زیادہ مانی جاتی ہے ۔ادھر مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔تسلی تو ہوئی ہے تازہ خبر ہے کہ برطانیہ برازیل ،جاپان ،اگلی لہر کے زد میں ہیں ۔جبکہ بھارت میں تیسری لہر کا اندیشہ ہر سائنسداں اپنے اندازے میں بتا رہا ہے ۔کہا جاتا ہے ڈیلٹا اسٹرین جو سب سے پہلے بھارت میں پایا گیاتھا ۔اس کے کیسز بھارت میں بڑی تعداد میں پائے گئے زیادہ انفیکشن ہیں اور ویکسین اس میں پوری طرح کارگر نہیں ہے ۔دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کبھی ایسے حالات پیدا ہوئے ہوں جب آدمی جینے کی آس اور موت کے اندیشہ کی کھائی کے درمیان محض ایک چھوٹی پکھڈنڈی پر چلنے کو مجبور ہو ۔سماجی سائیکلوجسٹ کے لئے بھی شاید ایسا کوئی دوررہا ہوگا ۔لہذا اسے بھی دیکھنا ہوگا کہ اتنے لمبے دور تک اتنے دباو¿ کے درمیان انسانی نسل میں اور تمام انسانی اداروں میں کیا تبدیلی آتی ہے ۔ادھر اسپتال میں آکسیجن یا دوا کی کمی نے دم توڑ چکے بہت سے لوگ ہیں ان کا تو ریاست اور اس کے اداروںسے بھروسہ اٹھ چکا ہے ان کنبہ ذاتی رشتوں کی کیا شکل ہوگی جن میں ڈر کے مارے نئی روح بھرنے کے پروگرام بھی شامل ہونے سے گریز کرنے لگے کورونا ختم ہو یا بنا رہے لیکن یہ دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی ۔شخصی ،تنظیمی کنبہ ذاتی اور اجتماعی رشتے زندگی کی بنیاد پر بنیں گے نہ کہ اخلاقی رشتوں پر ۔ (انل نریندر)

بائیڈن اور پوتن ایک دوسرے کو گھری گھری سنانے سے نہیں چوکے !

امریکہ اور روس کے رشتوں میں کشیدگی کے پش منظرمیں جوبائیڈن اور ولاد میر پوتن کے درمیان جینوا میں ہوئی چوٹی ملاقات دونوں ملکوں میں کشیدگی کم کرنے کا اہم ترین قدم ہے ۔بیشک اس میں متنازعہ اشوز اٹھے یاد رہے کہ پچھلے مارچ میں بائیڈن نے ایک انٹر ویو میں پوتن کو جب قاتل کہہ ڈالاتھا ، تب آپسی کشیدگی کے درمیان دونوں ملکوں میں اپنے اپنے سفیر واپس بلا لئے تھے ۔بات چیت کے دوران بھی کھانا پوری اور سادگی سے دونوں گروپ نے رضامندی کی گنجائش کم دکھائی دی ۔چاہے وہ امریکہ میں سائبر حملوں کے پیچھے انجان روسیوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں امریکہ کی شکایت ہو یا روس نے اپوزیشن کے لیڈر نولینی کی گرفتاری اور یوگرین کے مشرقی ساحل پر روسی فوج کی موجودگی پر امریکہ کی تشویش ہو ۔دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان ہوئے چوٹی مذاکرات میں روسی صدر ولاد میر پوتن اور امریکی صدر جوبائیڈن نے اعتراف کیا دنیا میں ایٹمی جنگ کبھی نہ ہو ۔لیکن دونوں نے کشیدگی کم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو کھری کھری سنائیں ۔بائیڈن نے روس میں اپوزیشن لیڈر ناولنی کے جیل میں بند ہونے پر کہا کہ اگر ایلکسی کی قید میں موت ہوئی تو نتیجے تباہ کن ہوں گے ۔پوتن نے امریکہ میں سیاہ فاموں سے نا انصافی اور چھ جنوری کو کیپٹل ہل میں ہوئے واقعہ پر سوال اٹھائے ۔دونوں دیشوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں مسلسل کشیدگی کے بیچ دونوں فریقین مین جینوا ملاقات میں پانچ گھنٹہ تک چلنے کا امکان جتایاتھا لیکن یہ ایک ہی گھنٹہ میں ختم ہو گئی ۔دونوں فریقین کے مشترکہ بیان کے مرکز میں نیوکلیائی عد م توسیع اشو رہا ۔جس میں کہا گیا کہ نیوکلیائی جنگ کبھی نہیں جیتی جا سکتی ۔اور کبھی نہ ہونی چاہیے اس درمیان جوبائیڈن نے پوتن کے ساتھ ہوئی ملاقات میں انسانی حقوق کے اشو پر بھی زور دیا ۔الیکسی کو جیل میں رکھنے کا اشو اٹھاتے ہوئے ان کی موت کی صورت میں خطرناک نتیجے ہونے کا بھی اشارہ دے ڈالا۔پوتن نے اس دوران کیپٹل ہل میں حملے فسادیوں کی گرفتاری کے جواز پر بھی سوال کھڑے کئے ۔سال 2018 میں پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہیلنسیکی میں ہوئی چوٹی ملاقات میں جینوا بات چیت کا موازنہ کریں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ 2016 میں امریکی چناو¿ میں روسی دخل کے الزام سے انکار پر ٹرمپ تب پوتن کے آگے جھک سے گئے تھے ۔جبکہ بائیڈن نے پوتن کے ساتھ جوائنٹ پریس کانفرنس سے منا کرکے ناراضگی کا ثبوت دیا تھا اس کے باوجود ٹرمپ کے مقابلے میں بائیڈن کے وقت امریکہ روس کے رشتہ بہتر ہونے کی امیدہے تو اس لئے بائیدن نے ایک سنجیدہ لیڈر ہیں اور امریکہ کی ذمہ داریوں سے واقف ہیں ۔دونوں دیش نہ صرف سفیروں کو دوبارہ بحال کرنے پر راضی ہو گئے ہیں بلکہ ایٹمی جنگ کے اندیشہ ختم کرنے کے ساتھ متنازعہ اشو پر مسلسل بات چیت جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔صدر جوبائیڈن نے کی یہ پہلی بین الاقوامی اہمیت کی بات چیت تھی جس میں ایک انہوں نے ایک سنجیدہ سیاست داں ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ (انل نریندر)

22 جون 2021

کیوں بھائی چاچا ہاںبھتےجا!

لوک جن شکتی پارٹی میں بغاوت کے بعد اب پارٹی کے بانی سورگئے رام ولاس پاشوان کے بیٹے چراغ پاسوان اور ان کے چاچا پشو پتی کمار پارس کی جانب سے پارٹی پر بالادستی کو لیکر شروع ہوئی لڑائی اب قانونی داو¿ں پیچ میں الجھ گئی ہے دونوں ہی فریق اپنی بالادستی قائم رکھنے کےلئے چناو¿ کمیشن پہونچ گئے ہیں پشو پتی فریق کی طرف سے بلائی گئی قومی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد اب چراغ کے فریق نے 20جون کو پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلائی ہے ایل جے پی میں جس طرح کی آپسی لڑائی شروع ہوئی ہے وہ جلد رکتی نظر نہیں آرہی ہے ایل جے پی کے بانی رام ولاس پاسوان کے بھائی و ایم پی پشو پتی کمار پارس کی قیادت میں پارس سمیت پارٹی کے پانچ ممبران پارلیمنٹ کی بغاوت کے بعد ایل جے پی میں بالا دستی کی لڑائی دن بدن تیز ہور ہی ہے پشو پتی پارس کو پارٹی کا قومی صدر چن لیا گیا ہے اس سے پہلے لوک سبھا سکریٹریٹ انہیں پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی ڈکلیئر بھی کر چکا ہے چاچا پشو پتی پارس کی طرف ایک کے بعد ایک جھٹکا جھیل رہے ان کے بھتیجے چراغ پاسوان کے تیور بھی اب جارحانہ لگتے ہیں انہوں نے پارٹی پر اپنا قبضہ قائم رکھنے کے لئے فیصلہ کن لڑائی چھیڑ دی ہے چراغ پاسوان اپنے کچھ پارٹی لیڈروں کے ساتھ چناو¿ کمیشن سے جا کر ملے اور پارٹی کے جھنڈے اور چناو¿ نشان پر اپنا دعویٰ پیش کیا اور چناو¿ کمیشن سے مانگ کی کہ پشو پتی پارس گروپ کو پارٹی کے چناو¿ نشان اور جھنڈے کے استعمال سے روکا جائے جو پانچ ایم پی ان کے چاچا پارس کے ساتھ ہیں انہیں پارٹی سے نکالا جا چکا ہے اس لئے اب وہ آزاد ایم پی ہیں ۔ (انل نریندر)

بٹوارے سے بلندیوں تک ۔۔آسان نہیں تھاملکھا سنگھ کا بننا!

پاکستان کے گوند پورہ میں پیدا ہوئے ملکھا سنگھ کی زندگی جدو جہد سے بھری رہی بچپن سے ہی بھارت پاکستان بٹوارے تک درد اور اپنوں کو کھونے کا غم انہیں عمر بھر ستاتا رہا بٹوارے کے دوران کی ٹرین مہیلا بوگی وا سیٹ کے نیچے چھپ کر پہونچے سرنارتھی کینپ میں رہ رہے اور ڈھابوں میں برتن صاف کر انہوں نے زندگی کو پٹری پر لانے کی کوشش کی پھر فوج میں بھرتی ہوکر ایک ایتھلیٹ کی شکل میں پہچان بنائی انہوںنے 80بین الاقوامی دوڑوں میں سے 77جیتیں لیکن روم اولمپک کا میڈل ہاتھ میں نہ آنے کا غم انہیں زندگی بھر رہا ان کی آخری خواہش تھی وہ اپنے جوتے کی کسی ہندوستانی کھلاڑی کے ہاتھوں میں اولمپک میڈل دیکھیں لیکن افسوس ان کی آخری خواہش زندہ رہتے پوری نہ ہوسکی حالانکہ ملکھا سنگھ ہر کارنامے تاریخ میں درج ہونگے ویسے تو ملکھا سنگھ نے اپنی زندگی میںسب کچھ حاصل کر لیا لیکن ان کا ایک سپنا ادھورا اور وہ اس ادھورے سپنے کے ساتھ کے زندگی کو الوداع کہہ گئے فلائنگ سکھ پدم شری ملکھا سنگھ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے روم اولمپک میں جانے سے پہلے دنیا بھر میں کم سے کم 80ریس میں حصہ لیا تھا جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ وہ بتاتے تھے کی ساری دنیا نے امیدیں لگا رکھی تھی کہ اولمپک میں چار سو میٹر کی دوڑ ملکھا ہی جیتیں گے لیکن اپنی غلطی کی وجہ سے وہ میڈل نہیں جیت سکے میں اتنے برسوں سے انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی دوسرا ہندوستانی یہ کارنامہ دکھائے جسے کرتے کرتے میں چوک گیا تھا 1960میں اس ریس کو پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان بھی دیکھ رہے تھے ملکھا سنگھ کے گلے میں میڈل پہناتے ہوئے پنجابی میں کہا تھا ملکھا سنگھ جی، تو سی پاکستان دے بچ آکے دوڑے نہیں ، تو سی پاکستان سے دے بچ اڑے ہو آج پاکستان تو ہاں نوں فلائنگ سکھ کا خطاب دے رہا ہے اس کے بعد سے وہ ملکھا سنگھ فلائنگ سکھ کے نام سے مشہور ہوگئے ۔ پاکستان میں ان کا مقابلہ ایشیا کا طوفان نام سے مشہور پاکستانی ایتھلیٹ عبد الخالق سے مقابلہ تھا ریس شروع ہونے سے پہلے ہی کچھ مولوی آئے اور ہر ایک سے کہا خدا آپ کو طاقت دے جب وہ جانے لگے تو ملکھا سنگھ نے کہا روکئے ہم بھی خدا کے بندے ہیں تب مولوی نے انہیں بھی کہا خدا آپ کو بھی طاقت دے ریس میں جو ہو ا وہ تاریخ بن گیا ملکھا سنگھ ایسے دوڑے کہ فلائنگ سکھ کا خطاب ہمیشہ کے لئے مل گیا ملکھا سنگھ کی سوانح حیات پر راکیش اوم پرکاش مہرا نے فلم بنائی بھاگ ملکھا بھاگ ۔ فلم بنانے کے اجازت کے بدلے پروڈیوشر راکیش اوم پرکاش مہرا سے ملکھا سنگھ نے محذ ایک روپئے لیا اس ایک روپئے کہ خاص بات یہ تھی کہ ایک روپئے کا یہ نوٹ سال 1958کا تھا جب ملکھا نے کامن ویلتھ کھیلوں میں پہلی بارآزاد بھارت کے لئے گولڈ میڈیل جیتا تھا ایک روپئے کا یہ نوٹ پاکر ملکھا جذباتی ہوگئے تھے اور یہ نوٹ ان کے لئے ایک قیمتی یاد کی طرح تھا اس فلم میں ادا کار فرحان اختر نے ملکھا سنگھ کا رول نبھایا تھا اس میں دکھایا گیا تھا کہ ملکھا نے اپنی زندگی میں کتنی جدو جہد کی یہ فلم دیش کے نوجوانوں کو میڈل جیتنے کے لئے تلقین کرتی ہے ۔ (انل نریندر)

سوئس بیک میں جمع پیسے پر وائٹ پیپر لائیں!

کچھ دیشوں نے اپنے یہاں دنیا بھر کی بد عنوانوں اور ٹیکس چوروں کے لئے خفیہ کھاتوں کا انتظام کیا ہوا ہے سوئٹزلینڈ ان خفیہ کھاتوں کے لئے مشہور ہے یہاں کے بینکوں میں دنیا کا کوئی بھی شخص اپنا کھاتا کھلوا سکتا ہے اور اس میں جتنا چاہے پیسہ جمع کر وا سکتا ہے وہاں کا کوئی بھی بینک اپنے گراہکوں سے نہ تو یہ پوچھتا ہے کہ اس نے جو پیسہ جمع کیا ہے وہ کہاں سے آیا ہے اور کیسے کمایا ہے ؟اکاو¿نٹ ہولڈروں کو ایپ کووڈ نمبر دے دیا جاتا ہے جس سے یہ بھی نہیں پتہ چلتا ہے کہ اکاو¿نٹ ہولڈر کا نام کیا ہے امریکہ دوسرے ملکوں کے دباو¿ میں اب یہ بینک اتنا بتاتے ہیں کہ کس دیش سے کتنی رقم وہاں کے بینکوں میں جمع کرائی گئی ہے ۔ اس سال کے اسکے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے ایک سال میں جب کورونا وبا کے دوران دیش اقتصادی مندی کے دور سے گزر رہا تھا تب ہندوستانی کمپنیاں اورشہریوں نے سوئس بینکوں میں سب سے زیادہ پیسہ جمع کرایا ۔ 2020میں یہ اعداد و شمار 20700کروڑ روپئے تک پہونچ گیا جو پچھلے سال کے مقابلے میں دو سو بارہ فیصد یعنی 3.12گنا زیادہ ہے یہ جانکاری سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک کے ذریعے جاری سالانہ ڈیٹا میں دی گئی ہے کانگریس نے سوئس بینکوں میںجمع ہندوستانی شہریوں کے انفرادی پیسے اور مالی کمپنیوں کے نام جمع رقم 2021میں بڑھ کر 20700کروڑ روپئے ہوجانے کو لیکر جمع کو مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس رقم کے بارے میں باقاعدہ وائٹ پیپر لاکر دیش کے شہریوں کو بتائیں کے یہ پیسہ کن کا ہے اور غیر ملکی بینکوں میں جمع کالی کمائی کو واپس لانے کے لئے کیا قدم اٹھائے جا رہے ہیں؟ پارٹی کے ترجمان گورو بلب نے الزام لگایا اقتدار میں آنے سے پہلے بھاجپا کالی کمائی واپس لانے اور لوگوں کے کھاتوں میں پندرہ پندرہ لاکھ روپئے جمع کرنے کا وعدہ کر چکی تھی لیکن مرکز میں اس کی حکومت کو سات سال گزر جانے کے باوجود اس نے اپنے وعدے کو پورہ کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا انہوں نے بتایا کہ سال 2020میں سوئس بینکوں میں کچھ جمع رقم سال 2019کے مقابلے میں 286فیصد ہوگئی کچھ جمع رقم 13سال میں سب سے زیادہ ہے جو سال 2007کے بعد سب سے اونچی سطح پر ہے عجب یہ ہے کہ ایک طرف دیش کی معیشت خستہ حالت میں پہونچ گئی ہے اور دوسری طرف ٹیکس چور ی یا کرپشن کے ذریعے جمع کی گئی اتنی بڑی رقم سوئس بینکوں کے کالے تہہ کھانوں میں کیسے پہونچ گئی ؟ بھارت سمیت پوری دنیا پچھلے سال سے کورونا وبا سے تباہ ہو رہی ہے لیکن سوئس بینکوں میں ریکارڈ رقم جمع ہو رہی ہے؟ (انل نریندر)

20 جون 2021

دنیا کے سب بے بڑے خاندان کا مکھیا چلا گیا!

دنیا کے سب سے بڑے خاندان کا مکھیا نہیں رہا ہفتے ست چل رہے بیمار رہنے کے بعد زیوناکا اتوار کو مائیزول کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا ان مکی عمر 91سال تھی انہوں نے 38شادیاں کی تھیں جس کے نواسی بچے پیدا ہوگئے میزورم کے وزیر اعلیٰ زورم تھنگا نے ٹوٹر پر ان کے دیہانت کی جانکاری دی انہوں نے لکھا ہے میزورم کا وکر بام ترنگنم گاو¿ں سیاحوں کے درمیان بہت مقبول ہوگیا تھا اس کا سہرہ زیونا اور ان کے خاندان کو جاتا ہے زیونا کے پریوار میں180سے زیادہ افراد موجو د ہیں اس خطے میں زیونا اور ان کے پریوار کو جاتا ہے زیونا کے پریوار میں اسمیں 38بیویاں اور 89بچوںک ے علاوہ 14بہوئیں 33پوتے اور پوتیاں و ایک پڑ پوتا شامل ہے یہ خاندان گنیز بکس ورلڈ آف ریکارڈس میں دنیا کے سب سے بڑے خاندان کے شکل میں درج ہے 17سال کی عمر میں زیونا نے پہلی شادی رچائی تھی اس فرقے میں 1سے زیادہ شادی رچانے کی روایت ہے زیونا کا پورہ پریوار سو کمرے کے مکان میں رہتا ہے زیونا کے گھر میں روز 45کلو چاول 25کلو دال 30سے 40مرغے اور تیس درجن انڈے ،60کلو سبزی اور بیس کلو پھل کی کھپت ہوتی ہے مطلب یہ سب پریوار اپنے کھیتوں میں پیدا کرتے ہیں اور اس پریوار کا پولٹری فارم بھی ہے ۔ (انل نریندر)

تیزی سے بڑھا رہے ہیں ایٹمی احتیاط !

نیوکلیائی ہتھیاروں کی ریسرچ کرنے والے ادارے سپلی نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کے پاس تین سو پچاس اور پاکستان کے 165اور بھارت کے پاس 156نیوکلیائی ہتھیار ہیں سپٹا کا کہنا ہے یہ تینوں دیش تیزی سے اپنے ایٹمی ہتھیار بڑھا رہے ہیں اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ پچھلے سال چین کے پاس 320پاکستان کے پاس 160اور بھارت کے پاس 150نیوکلیائی ہتھیار تھے پچھلے ایک برس میں چین نے 30پاکستان نے پانچ ایٹمی ہتھیار بنائے ہیں ادارے کا یہ بھی تجزیہ ہے کہ پوری دنیا کا 90فیصدی نیوکلیائی ہتھیار امریکہ روس کے پاس ہیں اس وقت پورے دنیا میں 13080ایٹمی ہتھیار ہیں ان میں سے 2ہزار وری استعمال کیلئے تیار رکھے ہوئے ہیں رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے سعودی عرب بھارت اور پاکستان اور اسٹریلیا اور چین پانچ بڑے ہتھیار د ر آمد کرنے والے دیش بن گئے ہیں مگر ہتھیار منگوانے میں سعودی عرب کا حصہ11فیصدی ہے جبکہ بھارت کا 9.5فیصدی ہے اور چین اور پاکستان کے پاس بھارت سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں کیا ہم خطرے میں ہیں ؟بھارت کے دو پڑوسی ملک جن سے رشتے پورے طرح قصیدہ رہتے ہیں ان کے پاس نیوکلیائی ہتھیار زیادہ ہونا باعث تشویش ضرور ہے لیکن بھگوان نہ کرے کہ اتنے ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں پڑے گی ایک دو نیوکلیائی بم ہی کافی ہیں ۔ (انل نریندر)

بالی ووڈکا بائیکاٹ کلچر !

اداکار کارتک آرین اور فلم میکر کرن جوہر کی دوستی ٹوٹنے کے ساتھ ہی کارتک کے ہاتھ سے ایک کے بعد ایک کئی فلموں کے نکلنے کی خبروں نے ہمیں سوشانت سنگھ راجپوت کا قصہ یا د دلا دیا ہے کیسے سوال اٹھ رہے ہیں کہ کہیں کرن سے تنازع کے بعد کارتک بالی ووڈ کلچر کا شکار تو نہیں ہورہے ہیں بالی ووڈ کے ابھرتے ستارے کارتک آرین پچھلے کچھ عرصے سے ایک کے بعد ایک فلمیں گنوانے کو لیکر سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں کارتک کو پروڈیسر کرن جوہر نے اپنی فلم دوستانہ ٹو کو سے قریب بیس دن کی شوٹنگ کے بعد الگ کر دیا وہیں کچھ دن بعد کرن کے قریبی دوست سارخ خاں کے بینر کی فلم فریڈی سے بھی کارتک آو¿ٹ ہوگئے یہی نہیں حال ہی میں کارتک کے آنند رائے کی گینگسٹر ڈرامہ فلم کا حصہ نہ بنے رہنے کی بھی خبریں آئی ہیں ایسے میں لوگوں کے ذہن میں یہی سوال آیا کہ آخر کارتک کے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے ایک طرف کارتک پر اسکرپٹ میں نقطہ چینی کرنے کے الزام لگ رہے تو فینس کے مطابق کرن کے ساتھ کنٹرورسی کے بعد انڈسٹری کی ایک لابی کارتک سائٹ لائن کر رہی ہے اس درمیان فلم میکر انو بھو سنہا کارتک کی سپورٹ میںآگے آئے ہیں انہوں نے ٹویٹ کیا کہ کارتک آرین کے خلاف جو کمپین چلائی جا رہی ہے اسے لیکر میں فکر مند ہوں اور یہ بہت ہی نا مناسب ہے اور میں کارتک کی خاموشی کا احترام کرتا ہوں جب فلم بزنس کے جانکار ایسا نہیں مانتے ان کا کہنا ہے فلموں میں ایکٹرس کا رپلیس منٹ کوئی نئی بات نہیں ہے حالانکہ بالی ووڈ میں یہ بائیکاٹ کلچر بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ایکٹر وویک اوبرائے سے لیکر اور مصنف اور نغمہ نگار جاوید اختر تک اس کا شکار ہوچکے ہیں پچھلے سال سورگیہ ادا کار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ان کے ان کے پرستاروں نے کرن جوہر اور آدتیہ چوپڑا جیسے بڑے پروڈیسر کے اوپرسوشانت کو کنارے کرنے کام چھیننے جیسے الزام لگائے ہیں آدتیہ چوپڑانے سوشانت سنگھ کے ساتھ تین فلموں کا کنٹریکٹ سائن کیا تھا ا ن میں سے دو فلمیں اصل ریموس اور مکیش بخشی بڑی فلمیں ہیں لیکن سوشانت ایک اداکار ایک اہم فلم پانے سے آدتیہ چوپڑا نے ایک سال انتظار کے بعد ہاتھ کھینچ لیا تھا سوشانت نے اس فلم کے چکر میں کئی فلمیں کرنے سے منع کیا تھا ایسے میں آدتیہ چوپڑا سے تلخی کے بعد سوشانت نے کنٹریکٹ توڑ دیا اور پھر فلم دھونی کے سپر ہٹ ہونے کے باوجود سوشانت کو انڈسٹری والوں کی ویسی واہ واہ نہیں ملی وہیں کئی فلموں کی پہلی چوائز ہونے کے با وجود سوشانت کو رپلیس کر دیا گیا یہی نہیں کرن جو ہر کے شو پر کئی بار ان کا مذاق بھی بنا فینس نے ان سب کو ان کے خلاف لابنگ قرار دے کر احتجاج جتایا آخر کار سوشانت سنگھ نے خود کشی کر لی پروڈیوسر کرن جوہر پر نیپوٹزنم کو بڑھاوا دینے کا الزام لگانے والی اداکارہ کنگنا رنوت بالی ووڈ میں گروپ بندی و باہری اداکاروں کو بلی کرنا اور بھائی بھتیجہ واد کے چلن کے خلاف بار بار آواز اٹھا چکی ہے کنگنا کھلے عام انڈسٹرے کے اس پاور گیم کے خلاف بگل پھونک چکی ہیں اس کلچر کے شکار کئی ہوچکے ہیں خاص ہیں وویک اوبرائے جاوید اختر اور پرینکا چوپڑا وغیرہ ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...