Translater
27 اپریل 2024
بھاجپا کی چالیس دن پہلے ہی بلا مقابلہ جیت !
گجرات کی سورت لوک سبھا سیٹ پر پیر کو بھاجپا کے مکیش دلال بلامقابلہ چنے گئے ۔بسپا امیدوار پیارے لال بھارتی اور چار آزاد امیدوار سمیت آٹھ امیدواروں نے اپنا نام واپس لے لیا تھا ۔گجرات میں پہلی بار کوئی امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوا ہے ۔1984 سے سورت سیٹ پر بھاجپا جیت رہی ہے ۔اس سیٹ پر 7 مئی کو ووٹ ڈالے جانے تھے ۔کانگریسی امیدوار نیلیش کرمانی اور ڈمی امیدوار کا نامزدگی تجویزکاروں کے دستخط میں خامی کے چلتے اتوار کو خارج کر دیا گیا تھا ۔روزنامہ ہندی بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق سورت میںبھاجپا کی بلامقابلہ جیت کے لئے کانگریس امیدوار نیلیش کرمانی نے ہی بھاجپا سے ہاتھ ملا لیا تھا ۔بھاجپا کی جانب سے کومانی کو آپریشن بلامقابلہ اسکرپٹ ملی ۔اس کے مطابق ہی کرمانی نے کانگریس کی پردیش یونٹ کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے پینترے چل دئیے ۔کومانی نے اپنی نامزدگی کاغذ پرتصدیق کنندگان میں کانگریس کیڈر ورکروں کو واقف کروانے کے بجائے اپنے رشتہ داروں اور قریبیوں کو ساتھ رکھا ۔کوبانی نے اپنے پرچہ میں تصدیق کنندہ بہنوئی یکدیپ ساولیہ اور بزنس پارٹر دھامولیا اور رمیش پولرا کو بنایا ۔نیلیش کومانی نے کانگریس پارٹی کے ڈمی امیدوار سریش 45 سالہ کا پرپوزل بھی اپنے بھانجے گھوتک کلہاڑیا کو بنوایا ۔پرچہ داخل کرتے وقت ہی کوبانی کسی بھی پرپوزل کو چناو¿ افسر کے سامنے نہیں لے گئے ۔چاروں تصدیق کنندگان نے دستخط فرضی ہونے کا حلف نامہ دے دیا ۔اور خود روپوش ہو گئے ۔سبھی کو وجہ بتاو¿ نوٹس جاری کرنے کی کاروائی چل رہی ہے کوئی بھی سامنے نہیں آیا اس کے بعد کوبانی اور ڈمی امیدوار سریش کا پرچہ خارج ہو گیا ۔سورت میں بھاجپا کے اس سے آپریشن بلا مقابلہ کا ایپکس سینٹر بنا اور سورت کا 5 اسٹار ہوٹل لی میریڈین یہاں سے 24 گھنٹے تک آپریشن بلا مقابلہ کی کاروائی چلی ۔یہ قواعد بھاجپا کے پردیش صدر سی آر پاٹل کی سیدھی نگرانی میں ہوئی ۔سورت کی جیت 400 پار کے ٹارگیٹ کی پہلی جیت ہے ۔ہم اسے پردھان منتری مودی کو وقف کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ سی آر پاٹل گجرات بھاجپا صدر ادھر کانگریس نیتا راہل گاندھی نے کہا کہ تانا شاہ کی اصلی صورت پھر دیش کے سامنے ہے ۔میں پھر کہہ رہا ہوں کہ یہ چناو¿ دیش اور آئین کو بچانے کا ہے ۔دیش سے اپنا نیتا چننے کا حق چھین لینا بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کو ختم کرنے کی طرف بڑھایا گیا ایک اور قدم ہے ۔راہل گاندھی نے لکھا کہ میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ یہ صرف سرکار بنانے کا چناو¿ نہیںہے یہ دیش کو بچانے کا چناو¿ ہے ۔اور آئین کی حفاظت کا چناو¿ ہے وہیں جے رام رمیش نے کرونولوجی سمجھاتے ہوئے کہا کہ جمہوریت خطرے میں ہے انہوں نے ایکس پر لکھا کہ سورت ضلع افسر نے 7 مئی 2024 کو پولنگ سے تقریباً دو ہفتے پہلے ہی 22 اپریل 2024 کو سورت لوک سبھا سیٹ سے بھاجپا امیدوارکو بلامقابلہ جتا دیا گیا۔
(انل نریندر)
نند - بھابھی کی سیاسی ساکھ داو ¿ پر لگی !
مہاراشٹر کی بارامتی لوک سبھا سیٹ پر سیاسی لڑائی دو پارٹیوں میں بٹ چکے پوار خاندان کے بیچ ہے ۔شردپوار کی بیٹی سپریہ سلے تو اجیت پوار کی بیوی سونیترا پوار آمنے سامنے ہیں ۔اسی طرح لوک سبھا چناو¿ میں بارامتی کی جنتا کو رشتے میں نند اور بھابھی لگنے والی دو امیدواروں میں سے کسی ایک کو پارلیمنٹ پہونچنا ہے ۔حلقے میں ایک ہی خاندان کے دو لوگوں کے بیچ کانٹے کی ٹکر میں دوسرے امیدوار بھی مشکل کھڑی کر سکتے ہیں۔چناو¿ لڑنے کیلئے کل 51 لوگوں نے پرچہ داخل کیا تھا اور 46 کی نامزدگی صحیح پائی گئی ایسے میں ووٹروں کا ووٹ بکھرتا ہے تو سیاسی پوزیشن دلچسپ ہو سکتی ہے ۔پوار خاندان کی روایت رہی ہے بارامتی سیٹ پر چناو¿ کمپین کا خاتمہ بارامتی شہر میں موجود کرشچن کالونی کے میدان میں ہوتا تھا یہاں پورا پوار پریوار اکٹھا ہوتا تھا یہی خانہ ہوتا تھا اور اس کے بعد میدان میں بھی موجود بھیڑ کو خطاب کرتے تھے ۔چار دہائی میں ایسا پہلی بار ہوا کہ جب اس چناو¿ میں پوار خاندان کی یہ روایت ٹوٹ گئی ہے ۔اجیت پوار نے ریلی کے لئے میدان کو پانچ مئی کیلئے بک کر لیا ہے ۔وہیں سپریہ سلے ریلی کیلئے نئی جگہ تلاش رہی ہیں ۔سیٹ پر سات مئی کو ووٹ پڑنا ہے اور پانچ مئی کو کمپین کی آخری دن ہے میدان پر چناو¿ کمپین کے آخری دن ریلی کی شروعات شردپوار نے اس وقت کی تھی جب اجیت پوار سیاست میں نہیں آئے تھے ۔پوار خاندان کی کمپین شروعات کان ہیری گاو¿ں سے کرتا ہے۔اس کی شروعات بھی شردپوار نے 1967 میں کی تھی اس بار بھی دونوں گروپ بھی یہی سے شروعات کریں گے ۔شردپوار کے بھتیجے اجیت پوار بارامتی سے ممبر اسمبلی ہیں ۔سیاسی تاریخ کے مطابق شردپوار نے بارامتی سے پہلا لوک سبھا چناو¿ 1884 میں جیتا تھا ۔1991 میں اس سیٹ سے اجیت پوار جیتے تھے لیکن چاچا سے سیٹ سے ایم پی بنانے کیلئے انہوں نے اپنی سیٹ چھوڑ دی تھی ۔اس کے بعد شردپوار 2004 تک یہیں سے کامیاب ہوتے رہے ۔بعد میں والد کی سیٹ کو سپریہ سلے نے 2009 میں سنبھالا اور وہ مسلسل تین بار سیٹ سے ایم پی رہ چکی ہیں ۔چناو¿ کمیشن کے مطابق بارامتی سیٹ پر کل 19 بار چناو¿ ہوئے ہیں اس میںچار ضمنی چناو¿ ہیں ۔شردپوار اس سیٹ سے 6 بار جبکہ ا ن کی بیٹی سپریہ سلے 3 بار ایم پی چنی گئی ہیں ۔شردپوار نے این سی پی کا قیام 10 جون 1990 کو کیا تھا جواب اجیت گروپ کے پاس ہے ۔اس سے پہلے شردپوار کانگریس کے ٹکٹ پر اس سیٹ پر کامیاب ہوتے رہے ہیں ۔1977 کا چناو¿ جنتا پارٹی نے جیتا تھا اس کے بعد سے کانگریس اور این سی پی کا ہی اس سیٹ پر مسلسل راج ہے ۔سپریہ سلے کی پیدائش 30 جون 1969 کو پونے میں ہوئی تھی ۔ممبئی کے جے ہند کالج سے مائیکرو بایولوجی میں بی ایس سی کی ہے ۔اس درمیان 60 سالہ سنیترا پوار اپنی زندگی کا پہلا چناو¿ لڑ رہی ہیں ۔وہ این سی پی کے سابق لیڈر پدم سنگھ پاٹل کی بیٹی ہیں ۔ایک دور تھا جب پاٹل کو شردپوار کا سب سے قریبی مانا جاتا تھا ۔4 جون کو پتہ چلے گا کہ نند بھابھی کی اس لڑائی میں بازی کون مارتا ہے ۔
(انل نریندر)
25 اپریل 2024
ہم آئین بچانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں !
انڈیا اتحاد نے اتوار کو راچی میں منعقد نیائے ریلی میں اپنی طاقت اور اتحاد دکھائی ایک اسٹیچ پر جمع اتحاد کے سینئر لیڈروں نے اس بار کے لوک سبھا چناﺅ کو آئین اور جمہوریت کی لڑائی بتاتے ہوئے مرکز کی موجودہ سرکار کو بدلنے کی اپیل کی ہے ۔کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے نے جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرنے کے لئے بی جے پی لیڈر شپ والی سرکار پر جم کر تنقید کی انہوںنے کہا کی جے ایم ایم لیڈر نے اپوزیشن اتحاد انڈیا سے الگ ہونے کی بجائے جیل جانا پسند کیا اس سے پہلے ستنا کانگریس صدر کھڑگے نے دعویٰ کیا کے اگر مودی شاہ حکومت پھر سے اقتدار میں آئی تو دیش میں جمہوریت ختم ہو جائی گی جھارکھنڈ کی مکتی مورجہ کی میز بانی میں منعقد ریلی میں ہیمنت سورین کی بیوی کلپنا سورن نے اپنے پتی ہیمنت سورین کا جیل سے بھیجا گیا پیغام پڑھا ہیمنت سورین نے اپنے پیغام میں کہا کے انہیں بے بنیاد الزامات میں ڈھائی مہینے سے جیل میں بند کرکے رکھا گیا ہے ۔آزادی کے بعد یہ پہلی بار ہے جب اپوزیشن پارٹیوں کے وزیراعلیٰ کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے لیکن ہم جیل سے ڈرنے والے نہیں ہیں ہم نے مرکز سے اپنا حق مانگا تو اس کے بدلے میں ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوا ۔وہیں دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی بیوی سنیتا کیجریوال نے کہا اپوزیشن اتحاد انڈیا بی جے پی کی تانا شاہی کے خلاف لڑے گا اور جیتے گا سنیتا نے ریلی میں کہا کے وہ میرے شوہر اروندکیجریوال کو مارنا چاہتے ہیں اور کھانے پر کیمرے سے نگرانے رکھی جا رہی ہے انہوںنے دعوی کیا ان کے پتی کو جن سیوا کا کام کرنے کے لئے جیل میں ڈال دیا گیا اور ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکا ۔ہم تانہ شاہی کے خلاف لڑےنگے اور جیتیں گے اور جیل کے تالے ٹوٹےں گے اور اروندکیجریوال اور ہیمنت سورین چھوٹیں گے ۔یوپی کے سابق وزیراعلیٰ اور سپا چیف اکھلیش یادو نے کہا کے اس بار جنتا تانا شاہی طاقتوں کے خلاف ووٹ ڈالیں گی ہیمنت سورین اور اروندکیجریوال کے ساتھ مرکزی سرکار نے نا انصافی کی ہے ۔اس ناانصافی کا بدلہ جنتا ایک ایک ووٹ سے لے گی انہوںنے چناﺅ کو جمہوریت اور آئین کی لڑائی بتایا بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے کہا مرکز کی سرکار بہار سے لیکر جھارکھنڈ اور دہلی تک اپوزیشن کے لیڈروں کو جیل میں ڈال رہی ہے ۔جمو کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا کے بابا صاحب امبیڈ کر اور پنڈت جواہر لال نہرو نے جو آئین بنایا تھا آج اس پر خطرہ منڈرا رہا ہے ۔بھلگلان ریلی میں اسٹیچ پر 2 کرسیاں کھالی رکھی گئیں تھی ہیمنت سورین اور کیجریوال کے لئے ۔اس کا تذکرہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے بھی کیا انہوںنے کہا یہاں ریلی میں جہاں تک نظر جا رہی ہے عوامی سیلاب نظر آ رہا ہے انہوںنے کہا یہ بھیڑ بتا رہی ہے جھارکھنڈ میں تبدیلی کا من بنالیا ہے بھاجپا بھگاﺅ دیش کی جمہوریت بچاﺅ ۔
(انل نریندر)
سپا اور بسپا کیا موقع تلاش رہی ہے؟
مغربی اتر پردیش میں بی جے پی کے خلاف ٹھاکر برادری کے لیڈروں کا غصہ نظر آ رہا ہے ۔پارٹی نے اس برادری کے امیدواروں کو امید سے کم ٹکٹ دئے ہیں اس سے ٹھاکروں میں ناراضگی کی خبریں آ رہی ہیں انگریزی اخبار دی انڈین اکسپریس نے اس پر مفصل رپورٹ شائع کی ہے اخبار لکھتا ہے کے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو اس ناراضگی میں اپنے لئے موقع نظر آ رہا ہے اور وہ اونچی برادریوں کے امیدواروں سے رابطہ بڑھانے کی کوشش میں لگ گئیں ہیں ۔خبر کے مطابق اتوار کو غازی آباد میں مایا وتی نے ایک ریلی میں بی جے پی پر چھتریے (ٹھاکر راجپورت)کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور کہا کے ان کی پارٹی نے ٹکٹ تقسیم میں ہر فرقہ کو نمائندگی دینے کی کوشش کی ہے اخبار آگے لکھتا ہے کے غازی آباد کے بی ایس پی امیدوار نند کشور پنڈیر ٹھاکر ہیں جبکہ باغ پت کے بی ایس پی کے امیدوار پروین بنسل گوجر ہیں مایا وتی نے کہا یو پی کی بڑی برادریوں میں ٹھاکر اور راجپورت فرقہ کے لوگوں کی آبادی کافی زیادہ ہے اور یہ دیکھنا مایوس کن ہے کے اس برادری کو حمایت دینے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی نے اترپردیش خاص کر مغربی یوپی میں انہیں کافی کم ٹکٹ دئے ہیں۔ انہوںنے کہا غازی آباد میں ہم نے چھتریہ امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے ۔پہلے ہم نے پنجابی امیدوار کو اتارا تھا لیکن پھر ہمیں لگا کے ان کی تعداد لکشمی کھیری میں زیادہ ہے اس لئے وہاں ہم نے پنچابی سکھ امیدوار کو ٹکٹ دیا مایا وتی نے کہا کے وہ چھتریہ برادری کی ان مہاپنجایتوں کی حمایت کرتی ہے جو ان پارٹیوں کی حمایت کرنے کی بات کر رہی ہے جو ٹھاکر امیدوار اتار وہی ہیں مایا وتی کا یہ بیان سپا چیف اکھلیش یادو کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوںنے اپنی ریلیوں میں ٹھاکروں کی موجودگی پر تبصرہ کیا تھا ۔انہوںنے نوئیڈا کی ایک ریلی میں کہا تھا کے ان کے سر پر سمان کی پگڑی دیکھ رہا ہوں جو لوگ رویاتی طور سے دوسری پارٹیوں کے لئے ووٹنگ کرتے تھے آج یہاں ہیں میں ان کی سیاسی بیداری کے تئیں شکر گزار ہوں ۔اس بار وہ سائیکل کی حمایت کرنے جا رہے ہیں ۔بی ایس پی میں گوتم بدھ نگر میں چھتریہ فرقہ کے راجندر سنگھ سولنکی پر داﺅ لگایا ہے سولنکی نے کہا اس سیٹ پر ساڑھے چار لاکھ ووٹر ہیں ۔بی ایس پی ان سے جڑنے کی پوری کوشش کر رہی ہے پچھلے جمعہ کو یوپی کی جن 8 سیٹوں پر ووٹ پڑے ان میں صرف ایک ٹھاکر امیدوار کنور سرویش سنگھ کو مرادآباد کی سیٹ سے بی جے پی نے ٹکٹ دیا تھا پولنگ کے بعد ان کا دیہانت ہو گیا تھا 26 اپریل کو جن 8 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیگے ان میں بی جے پی کی طرف سے کوئی بھی ٹھاکر امیدوار نہیں ہے ان امیدواروں میں 2 برہمن ،2 ویشہ 1 گوجر اور 1 جاٹ برادری کے امیدوار ہیں مغربی اترپردیش میں ٹھاکر برادری کے جس بڑے نیتا کو اس بار بی جے پی کی طرف سے ٹکٹ کاٹا گیا ان میں بھارتیہ سینا کے سابق صدر جنرل وی کے سنگھ شامل ہیں بی جے پی کے ایک بڑے نیتا نے بتایا کے پارٹی کے پیچ ناراضگی کا ماحول ہے ۔پارٹی کے کئی سینئر لیڈر ٹھاکروں کو منانے میں لگ گئے ہیں تاکہ ٹھاکروں کے ووٹوں کا نقصان کم سے کم ہو۔
(انل نریندر)
23 اپریل 2024
پپو یاد ونے مقابلے کو دلچسپ بنادیا!
پپو یادو کی بطور آزاد امیدوار موجودگی نے پورنیا چناو¿ کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔پیر کو نام واپسی کی آخری تاریخ تھی لیکن پپو یاد ونے اپنا پرچہ واپس نہیں لیا اب اپنے چناو¿ نشان کینچی کو لیکر گھوم رہے ہیں ۔کہتے ہیں کہ اسی کی دہار سے مہا گٹھ بندھن اور این ڈی اے امیدواروں کی جیت کو کاٹوں گا ۔پورنیا کی دیو تلے جنتا بطور آزاد امیدوار ایک بار پھر ایم پی چنے گی۔اس سے آر جے ڈی اور کانگریس دونوں کے نیتاو¿ں میں کشیدگی ہے ۔پپو یادو کہتے ہیں کہ پورنیا سے مجھے گہرا پیار ہے ۔اور مجھے ایک بچے کی طرح پورنیا کے لوگ دیکھتے ہیں یہاں ہندو ،مسلمان میں کوئی امتیاز نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ سبھی مجھے بے حد پیار کرتے ہیں اور میرے دل میں بھی پورنیا بسا ہوا ہے ۔یہاں سے انڈیا اتحاد کی بھارتی نے پرچا بھرا ہے وہ آر جے ڈی امیدوار ہیں ،پانچ دہائی سے ممبر اسمبلی رہی ہیں ۔بہار میں وزیر رہی ایشا بھارتی اس دفع یہ سپولی کی ممبر اسمبلی جنتادل یونائٹڈ کے ٹکٹ پر جیتی تھیں اس سے استعفیٰ دے کر آر جے ڈی کی لال ٹین تھام لی اور آر جے ڈی نے سیٹ بٹوارے کے پہلے ہی انہیں چناو¿ نشان دے دیا ۔یہ بھی چناوی د نگل میں ڈٹی ہیں ۔ان کے پرچے داخل کرانے تیجسوی یادو خود آئے تھے ۔بتاتے ہیں کہ حالانکہ لال پرساد اور راہل گاندھی کے سمجھانے پر بھی آزاد امیدوار کے طور پر پپو یادو نے پرچہ داخل کر دیا ۔اب دقت یہ ہے کہ کانگریسی نیتا راہل گاندھی کو بیمابھارتی کے لئے کمپین کے لئے پبلک ریلی کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔کیا راہل آر جے ڈی امیدوار کے حق میں پرچار کرنے آتے ہیں یا نہیں یہ دیکھنا ہے ۔ان دونوں کا مقابلہ جنتا دل یونیفائڈ امیدوار و موجودہ ایم پی سنتوش کمار سے ہے ۔پورنیا کے ووٹر انہیں پھر منتخب کرتے ہیں یا نہیں ؟ لیکن مقابلہ تکونا ہونے کا امکان ہے ۔ویسے 1999 والی پوزیشن بھی پورنیا دہرا سکتا ہے ۔اس چناو¿ میں پپو یادو بطور آزاد امیدوار کامیابی حاصل کئے تھے ۔ویسے بیما بھارتی کے شوہر ابھدیش منڈل مجرمانہ ساکھ کے ہیں ۔ان کے خلاف کئی تھانوں میں ایک درجن مقدمے درج ہیں وہیں پپو یادو کی ساکھ بھی دبنگ لیڈر کی رہی ہے لیفٹ پارٹی ایم ایل اے اجیت سرکار کے قتل معاملے میں سزا ہونے کی وجہ سے 2009 کا چناو¿ نہیں لڑ سکے تھے ۔2013 میں اپر عدالت سے یہ بری ہو گئے تھے ۔پپو یادو کے میدان میں رہنے سے پورنیا کا مقابلہ دلچسپ ہو گیا ہے ۔سب سے زیادہ پریشانی کانگریس کو ہے جس نے پپو کو یہاں سے لڑانے کے لئے وعدہ کیا تھا یہی نہیں پپو یاد و نے اپنی پوری پارٹی کو کانگریس میں شامل کر لیا تھا ۔آر جے ڈی کو بھی کانگریس کی مجبوری سمجھنی چاہیے تھی اور پورنیا کی سیٹ کانگریس کے لئے چھوڑ دینی چاہیے تھی ۔خیر جو ہونا تھا سو ہوگیا اب دیکھیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟
(انل نریندر)
راج واپس لانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں دگّی راجہ!
دگوجے سنگھ دیش کے ان گنے چنے لیڈران میں سے ہیں جو سیاست میں پانچ دہائی سے زیادہ وقت گذار چکے ہیں ۔سیاست میں دگّی راجہ کے نام سے مشہور دگوجے سنگھ 77 برس کے ہیں ۔اس عمر میں بھی راج گڑھ لوک سبھا سیٹ سے بطور کانگریس امیدوار پیدل گاو¿ں گاو¿ں کمپین کررہے ہیں ۔ان کی فٹنس کا صرف وہی حمایتی نہیں ہے بلکہ مخالف بھی تعریف کرتے ہیں ۔2014 سے یہ سیٹ بھاجپا کے پاس ہے ۔راگھو گڑھ کے راج پریوار میں پیدا ہوئے دگوجے سنگھ کے والد راجہ بل بھدر سنگھ کو ہندو مہاسبھا کا قریبی مانا جاتا تھا کہ دگوجے سنگھ جنگ سنگھ میں اپنی سیاسی پاری شروع کریں گے لیکن انہوں نے کانگریس کا انتخاب کیا ۔صرف 22 سال کی عمر میں راگھو گڑھ نگر پریسد کونسل کے چیئرمین کے عہدے سے سیاست کی شروعات کرنے والے دگوجے سنگھ کو جن سنگھ میں شامل ہونے کی کئی پیشکش ملیں لیکن وہ ہمیشہ جن سنگھ کی ان آفر کو مسترد کرتے رہے ۔دگوجے سنگھ کے والد کی پردیش کانگریس نیتا گووند نارائن سنگھ سے دوستی تھی اس لئے دگوجے سنگھ کا رجحان کانگریس کی طرف چلا گیا اور وہ 1977 میں پہلی بار جیت کر اسمبلی پہونچے تھے ۔اس کے بعد وہ مسلسل چار بار ایم ایل اے رہے اس بیچ میں انہیں یوتھ کانگریس صدر کی ذمہ داری دی گئی ۔سال 1980 میں چناو¿ جیتنے کے بعد وہ ارجن سنگھ کیبنیٹ میں وزیر بنے ۔1984 اور 1991 میں راج گڑھ سیٹ سے چناو¿ جیت کر لوک سبھا پہونچے ۔اپنے بیانوں کی وجہ سے عموماً سرخیوں میں چھائے رہنے دگّی راجہ 1993 سے 2003 تک مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ رہے ۔اس کے بعد پارٹی کو پردیش میں اقتدار تک پہونچانے کے لئے پورے 15 سال تک انتظار کرنا پڑا ۔2018 کے چناو¿ میں کملناتھ وزیراعلیٰ بنے لیکن پارٹی میں بغاوت کے سبب 2020 میں اقتدار ایک بار پھر بھاجپا کے ہاتھ آگیا ۔اس درمیان دگوجے سنگھ کانگریس تنظیم میں کئی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے ۔2014 میں پارٹی نے انہیں راجیہ سبھا میںبھیج دیا ۔راج گڑھ سیٹ پر دگوجے سنگھ کا مقابلہ 2014 اور 2019 میں جیت درج کرچکے شیٹھ مل ناگرسے ہے ۔2019 میں ناگر کو 65 فیصدی ووٹ ملے تھے جبکہ کانگریس کی مونا سستانی صرف 31 فیصدی ووٹ حاصل کر پائی تھیں ۔دگوجے سنگھ اس سے پہلے اس سیٹ سے 1984 ، 1989 اور 1991 میں چناو¿ لڑ چکے ہیں ۔1989 کا چناو¿ وہ بھاجپا کے پیارے لال کھنڈیل وال سے ہار گئے تھے ۔سال 1994 میں وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا اس کے بعد ضمنی چناو¿ میں دگوجے سنگھ کے چھوٹے بھائی لکشمن سنگھ چناو¿ جیت کر پارلیمنٹ پہونچے تھے ۔پورے 33 سال بعد راج گڑھ سے لوک سبھا چناو¿ لڑنے کی دگوجے سنگھ کی کہانی بھی دلچسپ ہے ۔و ہ اس بار چناو¿ لڑنے کے حق میں نہیں تھے لیکن جب پارٹی نے طے کیا کہ سبھی سینئر لیڈروں کو چناو¿ میدان میں اترنا ہوگا تو دگوجے سنگھ نے پارٹی کا فیصلہ قبول کرنے میں دیری نہیں کی ۔وہی مدھیہ پردیش کانگریس کے کئی سینئر لیڈروں نے چناو¿ میںہار کے ڈر سے اپنے ہتھیار ڈال دئیے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...