14 نومبر 2015

پھر خطرناک موڑ پر آ کھڑا ہوا پنجاب

پنجاب کی سیاست میں ایک خطرناک موڑ آگیا ہے۔ سکھوں کے کئی سنگٹھنوں نے شرومنی گورودوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی)کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ اس لڑائی نے خطرناک موڑ تب لیا جب امرتسر میں سکھوں کے زبردست بھیڑ کے درمیان کئی سنگٹھنوں اور کٹر وادی گروپوں نے امرتسر میں سربت خالصہ(سکھوں کی مہا سبھا) کا انعقاد کر کئی اہم فیصلے لئے۔ اس میں ڈیرہ سچا سودا پرمکھ گورمیت رام رحیم کو معافی دینے والے تین تختوں کے جتھے داروں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ساتھ ہی سابق وزیر اعلی بے انت سنگھ کا قتل کرنے والے اس وقت جیل میں بند جگتار سنگھ ہوارہ کو اکال تخت کا جتھے دار قرار دے دیا گیا۔ سربت خالصہ میں منگلوار کو 13 ریزولوشن پاس کئے گئے جن کا ہزاروں کی تعداد میں موجود سنگت نے ہاتھ اٹھا کر سمرتھن کیا۔ سربت خالصہ نے امریک سنگھ اجنالہ کو تخت کیش گڑھ صاحب اور بلجیت سنگھ ڈڈوال کو تخت دمدما صاحب کا جتھے دار مقرر کردیا۔ اسی دوران آپریشن بلو اسٹار میں شامل رہے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے ایس براڑ اور پنجاب کے سابق ڈی جی پی کے۔ پی ۔ ایس گل کو تنخواہیا (مذہبی طرز عمل میں کمی ہونے کا الزام)قرار دیا گیا۔ دونوں کو 30 نومبر کو اکال تخت کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا۔ اس کے بعد دونوں کے خلاف اگلی کارروائی طے کی جائے گی۔ سربت خالصہ میں پنجاب کے وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل کو دئے گئے دو خطاب ’’فخر قوم‘‘ اور ’’پنچ رتن‘‘ واپس لے لئے۔ انہیں یہ خطاب ان کے لمبے سیاسی کیریئر کیلئے شری اکال تخت صاحب نے2011ء میں دئے تھے اس جمگھٹ میں سال1986 کے سربت خالصہ کا ایک پرستاؤ بھی اپنایا گیا، جس میں سکھوں کیلئے ایک الگ راجیہ خالصتان کے قیام کی مانگ کی گئی تھی۔ ببر خالصہ کے دہشت گرد رہے جگتار سنگھ ہوارہ کو جتھے دار بنانے پر ہنگامہ ہونے کے آثار ہیں۔ بے انت سنگھ قتل کانڈ میں وہ دہلی کی جیل میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ ہوارہ کو جتھے دار بنائے جانے کے پرستاؤ کو شرومنی اکالی دل نے خارج کردیا ہے۔ کانگریس نیتا اور سابق وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ سکھ تنظیموں کے ٹکراؤ کے لئے سی ایم پرکاش سنگھ بادل ذمہ دار ہیں۔ کڑی سرکشا کے درمیان سربت خالصہ اکھنڈ پاٹھ بھوگ کے ساتھ شروع ہوا۔ سماگم میں دیش ودیش کے 150 سے زیادہ سکھ تنظیموں کے نمائندے اور پارٹیوں کے نیتا بھی شامل ہوئے۔ پولیس نے سبھا استھل اور سورن مندر میں کڑے سرکشا کے انتظام کئے تھے۔ پنجاب پولیس کے ڈی جی پی نے خود کمان سنبھال رکھی تھی۔ گزشتہ کچھ دنوں میں پنجاب میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جس سے پنجاب ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ پنجاب کی سرکار کو بڑی ہوشیاری سے تازہ واقعات سے نمٹنا ہوگا نہیں تو انرتھ ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

بھاجپا حکمت سازوں کی نکمی پلاننگ نے بنٹا دھار کرایا

بہار اسمبلی نتائج سے ایک دو باتیں اور سامنے ابھر کر آئی ہیں۔ مزے دار بات یہ ہے کہ گزشتہ اسمبلی چاؤ (2010 ) کے مقابلے اس چناؤ میں بھاجپا کا ووٹ فیصد بڑھا ہے اور سیٹ کم ہوئی ہیں۔ 2010 ء میں پارٹی کو 16.49 فیصد ووٹ شیئر ملا تھا اور اس کی سیٹیں آئی تھیں 91 اور اس بار ووٹ فیصد بڑھ کر 24.5 فیصد ہوگیا جبکہ سیٹیں گھٹ کر 53 رہ گئیں۔ دوسری جانب جے ڈی یو کو 2010 ء میں 22.58فیصد ووٹ شیئر ملا تھا اور 115 سیٹیں ملی تھیں اس بار اسے 71 سیٹیں ہی ملی ہیں یعنی نتیش کمار ہارے ہیں۔انہیں مینڈیڈ نہیں ملا ہے۔ جیتے ہیں تو وہ لالو پرساد یادو اور کانگریس جیتی ہے۔ لالو کی آر جے ڈی کو 2010 میں 118.84 فیصد ووٹ شیئر اور 22 سیٹیں ملی تھیں جبکہ اس بار اس کا ووٹ شیئر تھوڑا کم 18.40 رہا پر سیٹیں ملیں80 ۔اسی طرح کانگریس کو 2010 ء میں 8.37فیصد ملا تھا اور سیٹیں ملی تھیں 4 جبکہ 2015ء میں اس کا ووٹ شیئر تو گھٹا 6.7فیصد پر سیٹیں ملیں 27 ۔ اس کا مطلب ہے کہ آر جے ڈی ، جے ڈی یو اور کانگریس کا ووٹ شیئر تو گھٹا پر بہتر چناوی حکمت عملی کے بل پر انہوں نے سیٹوں کا بٹوارہ ایسے کیا جس سے ایک دوسرے کے ووٹ کٹیں نہیں اور ٹرانسفر ہوجائیں۔اقلیتوں نے بھی کھل کر ان تینوں پارٹیوں کا ساتھ دیا۔ یہ بھاجپا حکمت سازوں و لیڈرشپ کے غلط اندازے سے ہوا اور اس کے لئے اگر بھاجپا حکمت ساز اور لیڈر شپ ذمہ دار نہیں تو اور کون ہے؟ اب ذرا نظر ڈالیں بھاجپا کی معاون پارٹیوں کی کارگزاری پر۔ بھاجپا نے بہار ہار کی پوری ذمہ داری خود لے لی ہے لیکن نتیجوں کے آنکڑے بتا رہے ہیں کہ کئی دیگر چھوٹی بڑی وجہوں کے بیچ تینوں پارٹیاں بھاجپا کی سیاست کا سب سے بڑا سراخ ثابت ہوئیں۔ سبھاؤں میں کہتے تھے کہ مہا گٹھ بندھن نے کانگریس کوٹے کی40 سیٹیں این ڈی اے کو تھالی میں پروس کر دے دیں لیکن نتیجہ آنے پر پتہ چلا کہ خود این ڈی اے نے اپنے سہیوگیوں کے کھاتے سے82 سیٹیں مہا گٹھ بندھن کی تھالی میں پروس دیں۔ بہار چناؤ میں ہوئی زبردست پٹائی کے باوجود بھاجپا کا اسٹرائک ریٹ قریب35فیصد (53/156 )رہا جبکہ سہیوگیوں کا قریب5 فیصد (5/87 ) رہا۔ ظاہر ہے کہ این ڈی اے کو ملی 58 میں 53 سیٹیں اکیلے بھاجپا کی ہیں۔ تینوں سہیوگی دل تو اپنے پریوار کی ساکھ بھی نہیں بچا سکے۔ پاسوان اور مانجھے کے بیٹے، بھتیجے ، داماد اور بھائی بھی فیل ہوگئے۔ پاسوان کے چھوٹے داماد انل سادھو ضمانت تک نہیں بچا پائے۔ اس پوری لڑائی میں سابق وزیر اعلی جیتن رام مانجھی سب سے کمزور کڑی ثابت ہوئے۔ مانجھی اپنی روایتی سیٹ مخدوم پور کو بھی نہیں بچا سکے۔ دلت اور مہا دلت ووٹروں نے مانجھی کو پوری طرح نکار دیا۔بھاجپا کا تو یہ حال تھا کہ بہت سی سیٹوں پر تو شیو سینا کے امیدوار کو زیادہ سیٹیں ملیں۔جس شخص نے لوک سبھا چناؤ میں نریندر مودی کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا بھاجپا کی لیڈرشپ نے اسے لات ماردی۔ حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے بہار کے اہم چناؤ میں بھاجپا کو کرارا طمانچہ مار کر مہا گٹھ بندھن کو جتا کر حساب برابر کرلیا۔ مہا گٹھ بندھن کی اس زبردست جیت میں چانکیہ کی طرح کام کرنے والے پرشانت کشور اور ان کی ٹیم نے سیٹوں کا بٹوارہ ایسے کیا کہ بھاجپا مخالف ووٹ بٹا ہی نہیں۔ جہاں پر کانگریس کا امیدوار تھا اسے ووٹ دیا جہاں پر جنتا دل (یو) کا تھا اور راشٹریہ جنتادل کا تھا اسے ووٹ ملا۔ کیا یہ بھاجپا حکمت عملی سازوں کی بھاری غلطی نہیں تھی۔ لوک سبھا چناؤ جیتنے کے بعد مودی ، امت شاہ اور ارون جیٹلی پرشانت کشور کو بھول گئے اور اپنی اس اہنکاری غلطی کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑا۔ بہار کی کراری ہار سے ابھرنے کی کوشش کررہی بھاجپا پر اس کے سہیوگی دل شیو سینا نے ایک اور وار کرتے ہوئے کہا کہ راج نیتی میں دھورتتا ہمیشہ کام نہیں آتی۔ اگر وعدے پورے نہیں کئے جاتے تو عام آدمی تو جواب دیتا ہی ہے۔ اس سے پہلے شیو سینا پرمکھ اودھو ٹھاکرے نے کہا تھا کہ آج ایک طرح سے پردھان منتری نریندر مودی ایک کمزور نیتا ہونے کا پرتیک ہیں۔بھاجپا نے نریندر مودی کی لیڈر شپ میں بہار چناؤ لڑا۔ بھاجپا کو اس بات کو قبول کرنا چاہئے یہ ہار ایک نیتا کے کمزورہوتی سطح کو بتاتی ہے۔
(انل نریندر)

11 نومبر 2015

پٹاخوں پر کم دیوں پر زیادہ توجہ، ہیپی دیوالی

دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس راجیو سہائے اینڈلا کی بنچ نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیوالی خاص طور پر پوجا ہے جس کو دیئے جلا کر منایا جاتا ہے۔ دیوالی میں پوجا ہوتی ہے اور پچھلے کچھ برسوں سے پٹاخے جلانے پر بہت زور ہوگیا۔ جہاں ہم دیوالی اس لئے بھی مناتے ہیں کہ اسی دن بھگوان رام کی گھر واپسی ہوئی تھی وہیں ہم سبھی سے یہ بھی درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں پٹاخوں پر زیادہ توجہ نہیں دینی چاہئے۔ اس کے پیچھے سب سے خاص وجہ تو آلودگی ہے۔ پہلے سے ہی دیوالی کی ہوا اتنی آلودہ ہوچکی ہے کہ اس کے چلتے آنکھ، پھیپھڑے اور سانس سے متعلق تکالیف بڑھ رہی ہیں۔دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں مسلسل بڑھتی آلودگی کو روکنے کیلئے این جی ٹی اور دوسری عدالتوں نے کئی بار حکومتوں کو ہدایت دی ہے ۔جنتا سے اپیل کی ہے مگر دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس پر عمل نہیں ہوپایا۔لڑی، جھالر، روب لائٹ، فینسی لائٹ اور الیکٹرانک سجاوٹی سامان سے دیش کو اتنا فائدہ نہیں ہورہا جتنا ہمارے پڑوسی چین کو ہوتا ہے۔ دیوالی پر چینی سامان پٹاخے نہ صرف آلودگی پھیلا رہے ہیں بلکہ یہ پٹاخے اب ہماری مقامی پٹاخہ انڈسٹری کو بھی بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں اس کی وجہ سے جہاں مقامی پٹاخہ بنانے والے کارخانے خسارہ اٹھانے کو مجبور ہیں وہیں پٹاخے کی قیمتیں بھی 15 فیصد تک پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھ گئی ہیں۔ ایسوچیم کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکار کی پابندی غیر قانونی پیداوار و فروغ پر روک کے بعد بھی پٹاخہ صنعت بحران میں ہے۔ ایسوچیم کی دھن تیرس سے ایک دن پہلے جاری ہوئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چائنیز پٹاخے اور ناجائز کاروبار انڈسٹری کو ہر سال 1 ہزا کروڑ روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے وہیں مزدور کی کمی اور پٹاخوں کی بڑھتی قیمت پٹاخہ صنعت کو ہونے والے فائدے کو بھی متاثر کررہے ہیں۔ اس لئے بڑی مقدار میں جو پٹاخے ہم دیوالی پر چلاتے ہیں اس سے سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہورہا ہے۔ ہمارے تہوار پر چینی مال کے دبدبے کو توڑنے کا ایک اچھا طریقے یہ ہے کہ ہم پٹاخے نہ چھوڑیں تو ایک طرف پٹاخے کے دھوئیں سے آلودگی بڑھتی تو دوسری طرف ہم چین کی مدد کررہے ہیں۔ اس لئے ہم بھی قارئین سے اپیل کرتے ہیں کہ پٹاخوں پر کم دھیان دیں اور چراغوں کا استعمال زیادہ کیا جائے۔ ہم اپنے دینک ویر ارجن ، روزنامہ پرتاپ اور ساندھیہ ویر ارجن کے قارئین کو دیوالی کی نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ روشنی کے اس تہوار سے آپ کے گھروں میں بھی روشنی ہو اور تاریکی کم ہو۔شبھ و سیف دیوالی۔
(انل نریندر)

بہار چناؤ نتائج سے نئے اتحاد کی بنیاد پڑی

میں اکثر اسی کالم میں یہ اشارہ دیتا رہا ہوں کہ اگر بہار چناؤ میں مودی کی پارٹی بھاجپا ہار جاتی ہے تو اس کا قومی سیاست پر سیدھا اثر پڑے گا۔ آج میں اسی کالم کو آگے بڑھاتے ہوئے قارئین سے اپنے خیالات شیئرکررہا ہوں کہ اس نتیجے کا دوررس اثر کیا ہوگا؟ بہار میں این ڈی اے کی کراری ہار سے مودی سرکار کے خلاف نئے اتحاد کی بنیاد پڑ چکی ہے۔ بنگال، کیرل، اترپردیش اور تاملناڈو میں ایک نئے اتحاد کا امکان اب بڑھ گیا ہے اور نتیش کمار سیاسی طور سے اسے شکل دینے میں لگ جائیں گے ۔ لالو نے بھی قومی سطح پر ساتھیوں کو اکٹھا کرنے کی بات قبول کرلی ہے۔ یہ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ بہار کی چناوی جنگ میں مہا گٹھ بندھن کے سماجی حساب کتاب کے آگے بھاجپا کی رہنمائی والی این ڈی اے کی پوری سیاسی کیمسٹری فیل ہوگئی ہے۔انتہائی پسماندہ طبقات کو سمیٹے رکھنے کے ساتھ نتیش لالو کے گٹھ بندھن نے بھاجپا کے ووٹ بینک مانے جانے والی اعلی برادیوں میں بھی سیند ماری کی ہے۔ بیگو سرائے، جہان آباد ، اورنگ آباد، بھوجپور، بکسر، گوپال گنج، چھپرا ضلعوں و سیوان جیسے اضلاع میں بھاجپا کی کراری ہار دکھاتی ہے کہ گٹھ بندھن کی سوشل انجینئرنگ بھاری پڑی ہے یہی نہ ووٹروں نے پی ایم مودی کے اوبی سی اور پسماندہ طبقے سے ہونے کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔ جنگل راج کا خوف دکھا کر مذہبی پولارائزیشن کے سہارے چناوی نیا پار کرنے کی کوشش میں لگی بھاجپا آر جے ڈی ، جے ڈی یو کے ذات پات کے حساب اور سماجی تجزیئے کے چلتے بری طرح فیل رہی۔ جاریحانہ کمپین کے سہارے جیت حاصل کرنے والی بھاجپا کو آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کی ریزرویشن پالیسی کا جائزہ لینے کی مانگ نے پورے چناؤ کی تصویر ہی بدل ڈالی۔ پتہ نہیں سنگھ پرمکھ نے چناؤ کے ایسے نازک موڑ پر آرکشن کا جائزہ لینے کی مانگ کیوں کی اور کس مقصد سے کی؟ اب یہ مہا گٹھ بندھن کا فارمولہ دیگر ریاستوں میں بھی اپنایا جاسکتا ہے۔ لالو یادو نے کہا کہ مہا گٹھ بندھن کو بہار میں ملی کامیابی کے بعد پورا دیش ہماری طرف دیکھ رہا ہے۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مودی سرکار کو ہٹانے کیلئے آگے بڑھیں۔ سیکولر نظریہ رکھنے والی سبھی پارٹیاں متحد ہوں گی۔ اس کی پہلی جھلک پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں دیکھنے کو ملے گی اور ہم لالٹین کو لیکر بنارس سے تحریک کا آغاز کریں گے۔ ان ریاستوں میں (بہار سمیت) 222 سے زیادہ سیٹیں ہیں ایسے میں مودی سرکار کے خلاف قومی سطح پر گھیرا بندی شروع ہوگی۔ بہار کے ووٹروں نے جہاں نریندر مودی کی لہر پر سوالیہ نشان لگادیا ہے وہیں 2014ء کے مہا نائک مودی کے لئے آگے کی راہ چنوتی بھری ہے۔بہار کے بنے تجزیوں کا سب سے زیادہ اثر اترپردیش میں دکھائی پڑ سکتا ہے۔ پی ایم اور بھاجپا کے لئے 2017ء کے یوپی چناؤ سب سے بڑی چنوتی بن کر سامنے ہوں گے۔ اب نہ تو مودی کا کرشمائی چہرہ ہوگا اور نہ ہی ان کی پارٹی کا کوئی جلوہ۔ مطلب صاف ہے کہ دہلی کی ہار کے بعد بہار کی اس شرمناک ہار کے سبب بھاجپا کو دوہرا جھٹکا لگا ہے۔ بھاجپا کو یوپی میں سماج وادی پارٹی اور نئی حکمت عملی کی تیاریوں کے ساتھ مقابلے کیلئے تیار ہورہی بہوجن سماج پارٹی سے لڑنا ہوگا۔ وزیر اعظم کی آبائی ریاست اور بھاجپا کی بھاری ممبران پارلیمنٹ کی تعداد کے باوجود یہ لڑائی کئی سطحوں پر آسان نہیں رہنے والی ہے۔ پردیش میں حکمراں سپا کے سامنے بھی کم و بیش ایسی ہی پوزیشن رہنے والی ہے۔ میں اگلے آرٹیکل میں اس ہار کا وزیر اعظم اور ان کی پارٹی پر کیا اثر پڑے گا اور کیوں ہارا این ڈی اے ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ اس ہار کے نتیجے سیاست پر جلد سامنے آنے لگیں گے۔
(انل نریندر)

10 نومبر 2015

کثیر شادیوں کے لئے قرآن پاک کی غلط تشریح نہ کریں:سپریم کورٹ

ایک بار پھر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قواعد کو لیکر بحث چھڑی ہوئی ہیں چاہے سپریم کورٹ ہو یا گجرات ہائی کورٹ ہو۔ مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز کی سماعت کرنے کے لئے عزت مآب سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے چیف جسٹس سے ایک با اختیار بنچ بنانے کو کہا ہے یہ بنچ طلاق کے معاملے کو یا شوہرکی دوسری شادی کرنے کے سبب خواتین کے ساتھ امتیاز کی سماعت کرے گی۔ جسٹس انیل آر ۔دوے اور اے کے گوپال کی بنچ نے مسلم خواتین کے مطابق مسئلوں کے حل کے لئے ایک مفاد عامہ کی عرضی کو سماعت کے لئے داخل کرنے اورمعاملے کو نئی بنچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ بنچ نے نشاندہی کی ہے کہ یہ صرف پالیسی ساز معاملہ نہیں ہے بلکہ آئین کے تحت ملے خواتین کو بنیادی حقوق کے متعلق ہے۔ یہ اشو ہندو جانشینی حق( ترمیم) ایکٹ سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران اٹھا بنچ نے کہا ہے کہ جنسی امتیاز ایک اہم اشو ہے، حالانکہ یہ اس اپیل سے سیدھے وابستہ نہیں ہے لیکن وکیلوں نے مسلم خواتین کے حقوق کے مسئلے کو اٹھایا ہے بنچ نے کہا ہے کہ آئین میں تشریح اختیارات باوجود مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز ہورہا ہے۔ بنچ نے کہاہے کہ من مانی طلاق اور شوہروں کی پہلی شادی کے وجود میں رہنے کے دوران ہی دوسری شادی کرلینے کے خلاف کوئی تحفظ کے لئے قدم نہ ہونے کے چلتے مسلم خواتین کو سیکورٹی اور عزت نہیں مل پاتی۔ اس مقصد کے لئے پی آئی ایل ا لگ سے داخل کی جائے۔ چیف جسٹس کے ذریعہ موضوع بنچ کے سامنے معاملے کو پیش کیاجائے۔ ساتھ ہی بنچ نے اس مسئلے پر مرکز سے اپنے تجاویز دینے کو کہاہے 1985کے مقبول شاہ بانو کیس میں مسلم خاتون کے قانونی طلاق کے بھتے کو لے کر ایک سیاسی تنازع اٹھا تھا۔ مدھیہ پردیش کے شہر اندور کی باشندہ 5بچوں کی ماں 62 سالہ مسلم خاتون شاہ بانو کو اس کے شوہر محمد خاں نے 1978میں طلاق دے دی تھی۔ شاہ بانو نے گزارہ بھتہ پانے کے لئے عزت مآب سپریم کورٹ میں فوج داری معاملہ داخل کیا تھا۔ اس نے شوہر کے خلاف مقدمہ جیت لیا لیکن فیصلے پر سیاست شروع ہوگئی۔ فیصلے کو مسلم سماج نے مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ کے ذریعے طلاق اور شوہروں کی کئی شادیوں کے معاملے میں مسلم خواتین کے ساتھ ہونے والے امتیاز کے محاسبہ کو دیوبندی علماء نے مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مداخلت قرار دیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کاکہنا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کواس طرف توجہ دینی چاہئے۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی بنارسی نے کہا کہ اس مسئلے میں مسلم پرسنل لاء بوڈر کی توجہ مرکوز کرنی چاہئے انہوں نے کہا ہے کہ طلاق کو اسلام نے بھی نہ پسند کیا ہے اگرعورت شوہر سے پریشان ہے تواسلام میں شرعی عدالت کے ذریعے نکاح ختم کرانے کا حق دیا گیا ہے۔
 (انل نریندر)

توکیا بم دھماکہ تھا روسی جہاز حادثے کاسبب

مصر کے جزیرے سینائی میں پچھلے ہفتے حادثے کا شکار ہوا روسی جہاز کے بلیک باکس کے ملنے سے حادثے کے اسباب کا ہوسکتا ہے۔ روسی جہاز کمپنی کوگالی ماویہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل الیگزیندر سیمرناف نے حادثے کے بعد کہا تھا کہ باہری اسباب چلتے جہاز کے ہوا میں 2 ٹکڑے ہوگئے ہوں گے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ تکنیکی وجوہات سے اس اے 326 طیارے کاحادثہ ہوا لیکن بلیک باکس کے ڈاٹا سے اشارہ ملا ہے کہ طیارہ کو بم سے اڑایا گیا۔فلائٹ ڈاٹا اور وائس ریکارڈ نے طیارے کے پروازکرنے کے 24منٹ کے بعد کام کرنا بند کردیا تھا۔ گزشتہ 31اکتوبر کو طیارے نے مصر کے شہر شرم الشیخ سے روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کے لئے اڑان بھری تھی۔ یہ سینائی بحیرہ روم میں حادثے کاشکار ہوگیا۔ طیارے میں سوار سبھی 224 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ قاہرہ اور ماسکو نے ابتدا میں آئی ایس کے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا کہ طیارے کے اس کے لوگوں نے گرایا ہے لیکن اب جو ثبوت سامنے آئے ہیں اس نے پتہ چلتا ہے کہ ایئر بس اے 326پر آئی ایس نے حملہ کیا تھا۔ روسی صدر ولادیمیر پتن نے مصر کو جانے والے سبھی طیاروں کی پروازوں کو روک دیا ہے جہاں یہ حادثہ روس کے ذریعہ قرار دیا گیا وہی مصر کو بھی اس کاخمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مصر کے ٹورازم صنعت پہلے ہی بدحالی میں چل رہی ہے۔ اس سے اور نقصان ہوگا ادھر امریکہ نے مصر میں ہوئے روسی طیارے کے حادثے کے بعد احتیاط کے طورپر دیش بھر میں ہوائی اڈوں کی سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ گھریلو سیکورٹی وزیر جیب جانسن نے کہا ہے کہ احتیاط کے طور پر امریکی سرکار نے کہا ہے کہ خطہ میں سبھی ہوائی اڈوں کی سیکوریٹی بڑھا دی جائے۔ اور اس کے لئے بہت سے قدم اٹھائے گئے ہیں یہ روسی طیارہ پتہ نہیں کس دیش کے سامان سے بنے بم سے اڑایا گیا ہے۔آئی ایس نے اپنی تازی لڑائی ایک نیا باب جوڑ دیا ہے لیکن سبھی جانتے ہیں کہ آئی ایس کے لئے انسانیت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اس کے لئے انسانی قدر کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ بے شک اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے بے قصور بچوں و خواتین کو موت کے گھاٹ کیوں نہ اتارنا پڑے۔ لیکن ولادیمیر پتن طیارہ حادثے کے بارے میں چپ بیٹھنے والے نیتا نہیں ہے وہ اس بزدلانہ حملے کا ضرور جواب دیں گے۔
(انل نریندر)

08 نومبر 2015

27 سال کے انتظار کے بعد بھارت لوٹا چھوٹا راجن

27 سال سے جس کا انتظار پورے دیش کی خفیہ ایجنسی و پولیس کررہی تھی آخر وہ دہلی پہنچ ہی گیا۔ میں انڈرورلڈ ڈان چھوٹا راجن کی بات کررہا ہوں۔ چھوٹا راجن کو شکروار علی الصبح سی بی آئی افسر انڈونیشیا کے بالی شہر سے لیکر دہلی پہنچے۔ چھوٹا راجن عرف راجندر سداشیونکھلجے پر دہلی اور ممبئی میں کئی مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ انڈین ایئرفورس کے گلف اسٹریم۔ 3 پلین سے انڈونیشیا کے بالی سے یہاں آنے کے فوراً بعد راجن کو کڑی سرکشا کے درمیان صبح5.30 بجے دہلی ایئرپورٹ کے پالم ٹیکنیکل ایریا سے نکالا گیا۔ کئی گاڑیوں کے قافلے میں راجن کس گاڑی میں تھااس کے بارے میں میڈیا تک کو بھی پتہ نہیں چل پایا۔ کیمرہ مین و فوٹو گرافر راجن کی ایک جھلک پانے یا قید کرنے میں ناکام رہے۔ بالی میں انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا راجن کے لچر سرکشا انتظام کے ٹھیک الٹ دہلی میں راجن کو بھاری بھرکم سکیورٹی کور دیا گیا۔ پولیس افسروں نے بتایا کہ چھوٹا رجن کے آنے سے دو دن پہلے ہی اس کی سرکشا کا بلو پرنٹ تیار ہوچکا تھا۔ دہلی پولیس، پیراملٹری فورس اور آئی بی کے 150 کرمچاریوں کو ایئرپورٹ سے سی بی آئی ہیڈ کوارٹر تک کی سرکشا کا ذمہ سونپا گیا۔ انہیں تین ٹیموں میں بانٹا گیا تھا۔ شکروار صبح 5.45 بجے چھوٹا رجن کو بالی سے لیکر آئے خصوصی جہاز کی لینڈنگ ہوتے ہی ان تین ٹیموں نے ڈان کو اپنے سرکشا گھیرے میں لے لیا۔ تینوں ٹیموں کے تین قافلے ایئرپورٹ سے ایک ساتھ باہر نکلے۔ تینوں قافلوں میں کالے شیشوں والی گاڑیاں تھیں۔ تینوں قافلے کے راستے الگ الگ ہوگئے۔ پہلا قافلہ گولف لنک کی طرف چلا گیا۔ اس میں چھوٹا راجن کی جگہ اسی کی قد و قامت کا ایک پولیس والا بیٹھایا گیا تھا۔ اس قافلے کے لیڈر ایک جوائنٹ کمشنر تھے جن کے ساتھ یہ گاڑیاں گولف لنک کی طرف سے سی جی او کمپلیکس نے سی بی آئی ہیڈ کوارٹر پہنچیں۔ دوسرا قافلہ صفدر جنگ مدرسے سے لودھی روڈ ہوتے ہوئے سی بی آئی دفتر پہنچا اس میں دہلی پولیس کی ایڈیشنل ڈی سی پی سوار تھے۔ 10 منٹ بعد آئے تیسرے قافلے میں چھوٹا رجن موجود تھا اس کے ساتھ گاڑی میں ڈی سی پی رینک کے ایک افسر تھے۔ اس کا قافلہ سب سے بعد میں آیا۔ اس دوران کسی نے بھی وائرلیس سیٹ کا استعمال نہیں کیا۔ پورا راستہ20 منٹ میں کور ہوگیا۔ چھوٹا راج کی سرکشا کا یہ عالم ہے کہ میڈیکل چیک اپ کے لئے اسے ہسپتال نہیں لے جایا گیا بلکہ ڈاکٹروں کی ٹیم ہی سی بی آئی ہیڈ آفس پہنچی۔ اب راجن آگیا ہے دیکھیں کہ وہ کیا کیا جانکاری دیتا ہے۔ فی الحال میں سمجھتا ہوں کہ راجن کو دہلی میں ہی رکھا جائے۔ ممبئی نہ لے جایاجائے۔ ممبئی میں اس کی جان کا زیادہ خطرہ ہے۔
(انل نریندر)

چین آبادی بڑھا رہا ہے، بھارت میں غیر متوازن ہوتی جارہی ہے

بھارت کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور چین کی آبادی تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں چین کی۔ قریب 3 کروڑ مردوں کو کبھی بیویاں نہیں ملتیں تو کبھی بزرگ لوگوں کا توازن چین میں بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سال 2014ء میں اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں 37 لاکھ کم لوگ کام کاجی عمر کے تھے۔رد عمل کے طور پر ایک سخت قانون کو چین ختم کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ یہ قانون تھا ’’ایک بچے کی نیتی‘‘ چین نے اب ہر پریوار میں دو بچے ہونے کا قانون بنایا ہے لیکن دو بچوں کی حد ہے۔ دوسری جانب برٹین ، بھارت جیسے ملک ہیں جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ برٹین میں آبادی کا بڑھنا وہاں کی سرکار کیلئے فکر کا موضوع بن گیا ہے۔
ادھر اپنے ملک میں آبادی بڑھنے اور آبادی میں توازن نہ ہونے پر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے تشویش ظاہر کی ہے۔آر ایس ایس نے دیش میں آبادی میں اضافے سے متعلق غیر توازن پر تشویش جتاتے ہوئے اس سنگین سمسیا کے مد نظر راشٹر کی آبادی کی نیتی پھرسے مقرر کرنے کی ضرورت جتائی اور کہا کہ نئی نیتی سبھی پر مساوی طور سے لاگو کی جانی چاہئے۔ رانچی میں منعقد تین روزہ اکھل بھارتیہ کاریہ کاری منڈل کی بیٹھک کے بعد علاقے کے سنگھ چالک اشوک سوہنی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران آبادی میں اضافے سے متعلق پاس کئے گئے پرستاؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دیش میں دستیاب وسائل ، مستقبل کی ضروریات اور آبادی میں غیرتوازن کی سمسیا کو دھیان میں رکھ کر نئی آبادی نیتی کا تعین کیا جانا ضروری ہے اور یہ سبھی پر مساوی طور سے لاگو ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سرحد پار سے ہورہی گھس پیٹھ پر پوری طرح سے لگام لگانے کی مرکزی سرکار سے مانگ کی گئی ہے۔ سال2011 ء کی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر کئے گئے تجزیئے سے فرقوں کی آبادی کے تناسب میں جو تبدیلیاں سامنے آئی ہیں اس کے مد نظر آبادی نیتی پر دوبارہ غور کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ شری سوہنی نے پرستاؤ کے حوالے سے کہا کہ سال1991 سے2011ء کے درمیان آبادی کے اضافے میں بھاری فرق کی وجہ سے آبادی میں جہاں بھارت میں پیدا ہوئے مذاہب کے ماننے والوں کا تناسب 98 فیصد سے گھٹ کر 83 فیصد رہ گیا ہے وہیں مسلم آبادی کا تناسب لگ بھگ 10 فیصد سے بڑھ کر14 فیصد کو پار کر گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیش کے سرحدی راجیوں ، آسام، پشچمی بنگال اور بہار کے سرحدی ضلعوں میں تو مسلم آبادی کا اضافہ قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے اور یہ بنگلہ دیش سے غیر قانونی گھس پیٹھ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نارتھ ایسٹ ریاستوں میں بھی ایک خاص پنتھ کے لوگوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ بڑھتی آبادی ایک سنگین سوال ہے اس پر فوراً غور وفکر کر کوئی ٹھوس نیتی تیار کرنی ہوگی۔
(انل نریندر)