Translater

28 فروری 2026

مودی کا اسرائیل دورہ اور عرب میڈیا!

وزیراعظم نریندرمودی کا اسرائیل دورہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ ان کے رشتے اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ان کی تقریر ان سب کا تذکرہ عرب میڈیا میں خوب ہورہا ہے ۔عر ب میڈیا اس دورہ کو صرف بھارت -اسرائیل رشتوں کے طور پر نہیں بلکہ بڑے علاقائی سبھی اسباب کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔کئی عرب تبصرہ نگاروں نے ذکر کیا ہے کہ یہاں تاریخی طور سے بھارت ٹو نیشن تھیوری کی بات کہتا ہے اور فلسطینی خطہ میں امن کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے وہیں مودی کی لیڈر شپ میں وہ اسرائیل کے بےحد قریب آچکا ہے ۔عرب میڈیا اس بات پر بھی توجہ دے رہا ہے کہ بھارت کا موجودہ موقف اسرائیل اور فلسطینیوں کے رشتوں میں اس کے روایتی موقف سے الگ سمت میں جارہا ہے ۔جہاں پہلے بھارت کی خارجہ پالیسی میں اس بات پر زور تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی اہمیت اور دونوں سے ہی برابر دوری بنائے رکھے گا ۔وہیں اب بھارت کی خارجہ پالیسی کے مرکز میں مفاد پر مبنی رشتے زیادہ اہم ہو گئے ہیں ۔عرب میڈیا کے مطابق بھارت اپنے پڑوسیوں سے کشیدگی بھرے رشتوں اور اپنی فوجی ضرورتوں کے پیش نظر اب وہ اسرائیل کے زیادہ نزدیک جارہا ہے ۔عرب میڈیا نے وزیراعظم مودی کے اس دورہ کا ذکر کے ساتھ ساتھ غزا میں اسرائیل پر لگے قتل عام کے الزامات کو بھی ہائی لائٹ کیا ہے ساتھ ہی بھارت کے اپوزیشن لیڈروں کی ان تبصروں کو بھی اپنی کوریج میں شامل کیا ہے جن میں وہ اسرائیل پر لگے ان الزامات کے مد نظر پی ایم مودی کے دورہ کی مخالفت کررہے ہیں ۔الجزیرہ کے اسرائیل -فلسطین معاملوں کے واقف کار اعظم عبدالادس کہتے ہیں کہ ہندوستانی وزیراعظم کا یہ دورہ گہرے حکمت عملی تبدیلی کی علامت ہیں ۔بھارت اسرائیل ساجھیداری اس خطہ میں ایک نئے علاقائی پولورائزیشن کو جنم دے گی ۔آنے والے وقت میں مشرقی وسطیٰ اور ایشیا کی سیاست میں بھارت اسرائیل کا اہم رول ہوگا ۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اپنی تقریر میں بھارت کے ساتھ فوجی ساجھیداری کا اشارہ دیا ۔اس سے صاف ہے کہ اس سیکٹر میں پاکستان ،ترکی وسعودی عرب کے امکانی اتحاد کو چنوتی دینے کے لئے بھارت اور اسرائیل اتحادی ملکوں کے ان میں نزدیک آرہے ہیں ۔بھارت اسرائیل کے ساتھ اس گٹھ بندھن کو پاکستان کے ساتھ اپنے علاقائی رشتوں اور ایشیا میں اپنی فوجی ،ڈپلومیسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔وہیں اخبار الجزیزہ نے مودی کے اسرائیلی پارلیمنٹ سینٹ میں دئیے گئے خطاب پر لکھا : غزہ میں اسرائیل پر قتل عام کے سنگین الزام کے باوجود بھارت نے اسرائیل سے یکجہتی دکھائی اور پی ایم مودی نے غزہ میں اسرائیل کے تباہ کن جنگ کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے ۔بھارت نے اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کے لئے مودی سرکار ہندو راشٹر واد کا سہارا لے رہی ہے ۔پی ایم مودی نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں ۔آپ کا دکھ سمجھتے ہیں وجہ کوئی بھی ہو شہریوں کے قتل کو جائز نہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔خلیجی جنگ میں بھارت میں نریندر مودی کے اس دورہ کا جن اپوزیشن لیڈروں نے مخالفت کی ہے اسے بھی کور کیا ہے اور کانگریس نیتا پرینکا گاندھی کے اس بیان کو جگہ دی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ پی ایم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے غزہ میں کئے گئے قتل عام کا بھی ذکر کریں گے ۔لندن ویسٹ اینڈ دی عرب لکھتا ہے کہ مودی ایک کٹر ہندو راشٹر وادی نیتا ہے وہ دنیا میں ان چند لیڈروں میں شمار ہے جنہوں نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سب سے پہلے اسرائیل کے ساتھ اتحاد دکھایا تھا لیکن بھارت ان 100 سے زیادہ ملکوں میں بھی شامل ہے جنہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے محدود اختیارات کو کمزور کرنے کے اسرائیل کی کوششوں کی مذمت کی ہے ۔اسرائیل جنگ کے وقت دورہ کا کیا یہ مطلب نکالاجائے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں بھاری تبدیلی آرہی ہے ۔بھارت کو اب عرب ملکوں کے رد عمل کی کوئی فکر نہیں ہے ؟ (انل نریندر)

26 فروری 2026

ٹرمپ کی دھمکی ،رمضان کی رونق !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حملے کی مسلسل دھمکیوں کے درمیان ایران میں رمضان کو لے کر جوش میں کوئی کمی نہیں نظر آرہی ہے ۔مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ایران کے اندر عام زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے ۔ادھر ایران سے ملحق علاقے میں امریکی فوج کی مسلسل بڑھتی تعیناتی اب صرف اشارہ دینے تک محدود نہیں لگتی بلکہ یہ حقیقت میں جنگ کے واضح اشارے ہیں ۔امریکی جنگی بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس زیرلڈ فورڈ کے ایرانی آبی خطہ کے پاس پہنچنے سے حالات سنگین بنے ہوئے ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں امریکی فائٹر جیٹ و دیگر ساز وسامان بھی اس علاقہ میں پچھلے کچھ دنوں سے لائے گئے ہیں ۔اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ -اسرائیل یہاں کئی سطحوں پر فوجی کاروائی کے لئے متبادل تیار کررہا ہے ۔ایران میں یہ نظریہ مضبوطی ہوتا جارہا ہے کہ ٹرمپ اپنی بات منوانے کے لئے فوجی دباؤ بنا رہا ہے ۔جنگ کی آہٹ کے باوجود ایران میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر آرہا ہے ۔مساجد میں خصوصی نماز و افتار پارٹیاں ، تراویح صدقہ و فطرہ اہمیت سے بٹ رہا ہے ۔اسلای رپبلکن نیوز ایجنسی نے رمضان کے موقع پر صدر مسعود زیششکین کا پیغام نشر کیا ہے ۔انہوں نے اس مہینے کو آتم چنتن اور اتحاد کا وقت بتایا ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی طاقتیں ہمیں اپنا سر جھکانے کے لئے سازش کررہی ہیں ۔۔لیکن وہ ہمارے لئے جو بھی پریشانیاں پیدا کریں ، ہم اپنا سر نہیں جھکائیں گے ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو اس سے مغربی ایشیا میں ایک علاقائی جنگ چھڑسکتی ہے۔ ساری کشیدگی اور زیادہ بڑھ سکتی ہے ۔خامنہ ای نے کہا کہ ایران اکسانے کی پالیسی نہیں اپناتا لیکن انہوں نے صاف کیا کہ ایرانی ملک پر اگر کوئی حملہ یا اذیت پہنچائی گئی تو ایران ایسا سخت جواب دے گا جس کا امریکہ -اسرائیل کو اندازہ نہیں ۔ہم پر کوئی بھی شرارت ہو چاہے وہ لمٹڈ اسٹرائک ہی کیوں نہ لیکن اس کا پوری طاقت سے جواب دیں گے ۔وسطی مشرق کی تمام امریکی فوجی ساز وسامان سمیت ان کے جنگی بیڑے بھی محفوظ نہیں رہیں گے ۔اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اپنی شرطیں بدل رہے ہیں پہلے انہوں نے تین شرطیں رکھی تھیں : ایران اپنا نیوکلیائی پروگرام ختم کرے ، اپنی میزائلوں کی پروڈکشن اور صلاحیت کم کرے اور تمام اپنے پروکسیوں کی حمایت بند کرے ۔ایران سے امریکہ کی اس سلسلے میں دو بار جین ورب والی بات چیت ناکام ہو چکی ہے ۔اب تیسری اور آخری دور کی بات ہورہی ہے ۔ا س درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے اب کہا ہے کہ ایران میں اقتدار تبدیل سے بہتر کچھ ہو ہی نہیں سکتا ۔امریکہ ان چاروں طریقوں سے ایران کو گھیرنے کی جنگی پالیسی پر کام کررہا ہے ۔جنگی جہازوں کی تعیناتی بحر عرب میں تعینات امریکہ کے بڑے جنگی بردار بیڑوں کو گھیرنے کی ہے ۔پہلے بڑی تعداد میں ڈریکس سے جہازوں کی حفاظت سسٹم کو الجھائیں گے ، تاکہ میزائل کو روکنے میں کامیاب رہیں : دوسری خلیج کے ملکوں میں موجود امریکی 19 اڈوں پر قریب 50 ہزار فوجی کسی بھی وقت حملے میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ حالانکہ یہی فوجی ایران کے نشانہ پر بھی ہوں گے ۔تیسرا تیل سپلائی روکنا امریکہ اس کوشش میں ہے کہ ایران کسی بھی دیش کو اپنے یہاں سے تیل کی سپلائی نہ کر سکے تاکہ اس کی مالی حالت بگڑے ۔اس نے بھارت پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ بھارت ایران سے تیل لینا بند کرے ۔اس درمیان اسرائیل سے ایک غیر مصدقہ خبر سوشل میڈیا میں چل رہی ہے کہ اسرائیل نے اب وارننگ دی ہے کہ اگر اس کے وجود پر خطرہ ہوا تو وہ ایسے ہتھیار چلائے گا جو ابھی تک استعمال نہیں ہوئے ۔اشارہ صاف ہے کہ نیوکلیائی بم کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔ کل ملا کر بڑی دھماکہ خیز حالت بنی ہوئی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ جنگ ٹلے کیوں کہ یہ اگر ہوتی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑ سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

24 فروری 2026

فیصلہ ٹرمپ کےٹیرف منسوخ کرنے کا !

ماننا پڑے گا کہ امریکہ میں آج بھی جمہوریت زندہ ہے ۔آئین بالاتر ہے ۔امریکہ کی سپریم کورٹ نے دکھا دیا کہ وہ آئین کی حفاظت کرنے میں کسی کے سامنے نہ تو جھکنے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی دباؤ میں آئے گی چاہے وہ امریکہ کے صدر کیوں نہ ہوں ۔امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز فیصلہ سنایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ورلڈ ٹیرف غیر آئینی ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جون رابرٹرس نے فیصلہ 6/3کی اکثریت سے دیا یعنی 6 ججوں نے ٹیرف کو ناجائز بتایا اور 3 اس سے غیر متفق تھے ۔ٹرمپ امریکی ٹریڈ معاہدوں کو نئے سرے سے کرنے کے لئے دنیا بھر میں ٹیرف کا دباؤ بنانے کے لئے استعمال کررہے تھے۔ یہ پہلی بار ہے جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے دوسرے عہد کی کسی پالیسی کو فیصلہ کن طور سے منسوخ کیا ہے ۔دیگر سیکٹروں میں عدالت کے کنزرویٹو اکثریت نے اب تک ٹرمپ کو نگراں پاور س کے وسیع استعمال کی چھوٹ دی تھی ۔اس بار سپریم کورٹ میں چھ ججوں کی اکثریت تین کنزرویٹو اور تین لبرل نے کہا کہ بغیر کانگریس (امریکی پارلیمنٹ ) کی واضح اجازت کے اتنے وسیع ٹیرف لاگو کر ٹرمپ نے حد پار کی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ 1977 کا قانون انٹرچنجنل ایمرجنسی اکنامک پاور س ایکٹ ، درپردہ طور سے ٹیرف کی اجازت دیتا ہے ۔جسٹس رابرٹس نے کہا کہ صدر جس اختیار کا دعویٰ کررہے ہیں وہ کسی بھی پیمانہ پر حد سے باہر کا تھا ۔چیف جسٹس نے فیصلے میں لکھا ہے ،اگر کانگریس ٹیر ف لگانے جیسی غیر معمولی اختیار دینا چاہتی ہے تو وہ صاف طور سے کر سکتی ہے ۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو قانونی دلیلوں کو قبول کرنا اور ٹریڈ پالیسی پر ایگزیکٹو اور آئین سازیہ کے لمبے اشتراک کو ختم کر صدر کو بے کنٹرول طاقت دینا ہوگا ۔ٹرمپ کے ٹیرف کو ناجاز بتانے کے فیصلے سے تین کنزرویٹو جج کلیرش تھامس ،سیموئل الیٹو اور بریٹ کیدنو نے رضامندی جتائی ۔ٹرمپ نے ان تینوں ججوں کی تعریف بھی کی ہے ۔کیدنونے کہا کہ کئی قانون صدور کے ٹیرف اور درآمدات پر پابندی لگانے کی اجازت دیتے ہیں ۔ان کے مطابق 1977 کا قانون نیشنل ایمرجنسی کے دوران غیر ملکی خطروں سے نمٹنے کے لئے صدر کو اجازت دیتے ہیں ۔اِدھر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں فیصلے کو خطرناک اور مضحکہ خیز بتایا اور کہا کہ وہ عدالت کے کچھ ممبران سے شرمندہ ہیں ۔انہوں نے کہا یہ فیصلہ غلط ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، کیوں کہ ہمارے پاس بہت طاقتور متبادل موجود ہے ۔ٹرمپ کے پاس دو بڑے متبادل ہیں ۔پہلا: ٹرمپ امریکی کانگریس یعنی نمائندہ ہاؤس اور سینٹ میں ٹیرف کی تجویز کو پاس کرانے کے لئے رکھ سکتے ہیں ۔435 ممبری ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی رپبلکن 218 جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹ 213 ممبران ہیں جبکہ 100 کی سینٹ میں رپبلکن 53 اور ڈیموکریٹ 47 ہیں ۔ٹیرف کے خلاف سینٹ میں دیکھا جائے تو ٹرمپ کو پارلیمنٹ میں اکثریت ہے اور ٹیرف کو رکھنے سے شاید پرہیز کریں ۔دیگر تقاضے لاگو کر سکتے ہیں ۔لیکن لمبی کاروائی ہوگی ۔ٹرمپ امریکی آئین کی دفعہ 301 کے تحت ٹیرف قانون کو لاگو کر سکتے ہیں ۔صدر سیکورٹی کے تحت ٹیرف کو جائز ٹھہرایاجاتا ہے ۔ٹرمپ نے چین اور کنیڈا اور میکسیکو پر انہیں تقاضوں کے تحت ٹیرف لگایا تھا حالانکہ انہیں تقاضوں کو بھی کورٹ میں چنوتی دی جاسکتی ہے ۔ٹرمپ نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔جمعہ کی رات انہوں نے کہا دیگر قانونی اختیارات کی بنیاد پر کیا 10 فیصد ورلڈ ٹیرف لگانے کے حکم پر دستخط کر دئیے ہیں ۔ٹرمپ نے کہا ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم اور زیادہ پونجی اکٹھا کریں گے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ۔ساری دنیا میں اب ریفنڈ کی مانگ اٹھنی شروع ہو گئی ہے ۔آگے آگے دیکھتے ہیں ہوتا ہے کیا ؟ (انل نریندر)

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...