Translater

03 نومبر 2012

کجریوال کے الزامات کی رفتار بڑھتی جا رہی ہے!


انڈیا اگینسٹ کرپشن کے لیڈر اروند کجریوال نے بدھوار کو بھی الزامات کی مزائلیں داغیں۔ اس بار ان کے نشانے پر دیش کے سب سے بڑے صنعت کار مکیش امبانی تھے۔کجریوال نے اس مرتبہ نئی بوتل میں پرانی شراب کے انداز میں کوئی نیا خلاصہ تو نہیں کیا لیکن ہاں اس بار انہوں نے ایسا اشو ضرور اٹھایا ہے جو جانتے تو سب ہیں لیکن بولتا کوئی نہیں۔ امبانی کے ساتھ ساتھ کجریوال نے اس بار وزیر اعظم، صدر اور بھاجپا کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ الزام لگایا کہ مرکز میں چاہے سرکار کانگریس کی قیادت والی ہو یا بھاجپا کی یہ سب بڑے صنعتی گھرانوں کے اشاروں پر ہی چلتی ہیں۔ بدھوار کو اروند کجریوال اور ان کے ساتھی پرشانت بھوشن نے دعوی کیا ہے کہ مکیش امبانی کی ریلائنس گروپ یوپی اے سرکار میں کئی بڑے سیاسی فیصلوں کو اثر انداز کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ کئی وزارتوں میں وزیر اسی صنعتی گروپ کی مرضی سے بنائے جاتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے صنعتی لابسٹ نیرا راڈیا کے دو آڈیو کلپ بھی جاری کئے۔ کجریوال نے وزیراعظم پر چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ دیش منموہن سنگھ نہیں بلکہ مکیش امبانی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے صدر جمہوریہ اور سابق وزیر خزانہ پرنب مکھرجی پر بھی الزام جڑ دئے۔ ان کا کہنا تھا جب وہ کے جی بیسن میں گیس الاٹمنٹ معاملے میں وزارتی گروپ کے چیئرمین تھے تو انہوں نے امبانی کے ساتھ جانبدارانہ رویہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ پرنب مکھرجی نے سرکاری کمپنی این ٹی پی سی کو ریلائنس کی گیس 14 ڈالر میں خریدنے کے لئے مجبور کیا جبکہ یہ معاہدہ14 سال تک کمپنی کو سوا دو ڈالر میں گیس بیچے گی۔ ریلائنس کی اس منمانی سے دیش کو5 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ کرپشن کے اشو پرمحاذ آرا کانگریس پارٹی کو تھوڑی راحت دیتے ہوئے اروند کجریوال نے بھاجپا کوبھی اپنی زد میں لے لیا اور دو آڈیو ٹیپ کی کلپ جاری کی۔ ان میں لابسٹ نیرا راڈیا اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے داماد رنجن بھٹاچاریہ کی بات چیت کے کچھ حصے ٹیپ ہیں۔ اروند کجریوال کے الزامات کا اتنا اثر تو ضرور ہوا ہے کہ عام جنتا کے سامنے دونوں کانگریس اور بھاجپاداغ دار ثابت ہوئی ہیں۔ نتن گڈکری اور رنجن بھٹاچاریہ دونوں اشوز سے بھاجپا کی کرکری ہوئی ہے۔ کچھ وقت پہلے تک کرپشن پر کانگریس کو گھیر رہی بھاجپا کی حالت اس لئے بھی ڈگمگا گئی ہے کیونکہ خود ان کے صدر نتن گڈکری ویسے ہی الزامات کی زد میں آگئے ہیں جیسے الزامات کاسامنا کانگریس کے نیتا کررہے ہیں۔ بھاجپا نے رہی سہی کثر گڈکری کے بچاؤ میں پوری کردی۔ اس وجہ سے سونیا کو یہ کہنے کا موقعہ ملا کہ بھاجپا کرپشن کے خلاف نہیں بلکہ کانگریس پارٹی کے خلاف ہے۔ رہی بات مکیش امبانی اور اروند کجریوال کی تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز کا مرکزی سرکاروں پر خاص دبدبہ رہا ہے۔ اکیلے ریلائنس ہی نہیں تمام صنعتی گھرانوں کی یوپی اے سرکار کے وز را سے قربت ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ منموہن سرکار عام آدمی کے مفادات سے زیادہ ترجیح صنعت کاروں کو دیتی ہے۔ اروند کجریوال ایک الزام کی جھڑی لگنے سے خود بھی ایک طرح سے متنازعہ شخص بنتے جارہے ہیں یہ ایک ساتھ اتنے مورچے کھول رہے ہیں کہ جنتا الجھن کا شکار ہورہی ہے۔ آخر یہ چاہتے کیا ہیں؟ انا ہزارے نے تو کہہ بھی دیا ہے کہ اروند کجریوال سیاسی خواہشات رکھتے ہیں اور اسی سمت میں وہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آئے دن نئے نئے الزام لگانے سے کجریوال کی خود کی شخصیت پر سوالیہ نشان لگتا جارہا ہے۔ ہماری رائے میں اب انہیں نئے الزام لگانے سے بچنا چاہئے۔ جتنے الزام وہ لگا چکے ہیں ا نہیں ہی آگے بڑھائیں یہ ان کے لئے بہتر ہوگا اور بھارت کی عوام کے لئے بھی۔
(انل نریندر)

راجیو گاندھی قتل کا وہ اصلی ویڈیو ٹیپ کہاں ہے؟


راجیو گاندھی قتل معاملے کی جانچ کرنے والے سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر نے سنسنی خیز خلاصہ اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اس وقت کے اہم جانچ افسر کے راگھوتھین نے اپنی تازہ کتاب ’کانسپریسی ٹو کل راجیو گاندھی۔۔۔‘ ایڈیشن میں دعوی کیا گیا ہے کہ سی بی آئی کی فائلوں میں بتایا گیا ہے کہ اس بدنصیب دن کو سری پرمبدور میں منعقدہ ایک عوامی ریلی میں قاتلا دھنو کو دکھانے والے ویڈیو کو اس وقت کے آئی بی چیف ایم کے نارائنن نے دبا دیا۔نارائنن اس وقت مغربی بنگال کے گورنر ہوا کرتے تھے۔ مسٹر رومو تھین نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں نارائنن کے ذریعے اس وقت کے وزیر اعظم چندر شیکھر کو لکھے خط میں ویڈیو کا ذکر ہے لیکن اسے کبھی بھی اسپیشل تفتیشی ٹیم کے نوٹس میں نہیں لایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جسٹس ورما کمیشن (قتل کی جانچ کے لئے بنایا گیا تھا) کے ذکر کے بعد ایس آئی ٹی کو ویڈیو کے بارے میں پتہ چلا کیونکہ اسے کبھی بھی اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ منتظمین نے اس دن کی عام ریلی کی ویڈیو گرافی کے لئے ایک مقامی ویڈیو گرافر کی سیوا لی تھی۔ کتاب کے دیباچہ میں شائع نارائنن کے خط میں دعوی کیا گیا ہے کہ ریلی کی جگہ پر بیریکیٹن کمزور تھی اس لئے لوگوں کا مخصوص زون میں پہنچنا ممکن تھا۔ یہ صاف نہیں ہوسکا کہ راجیو گاندھی کے وہاں آنے پر عورت (قاتلا دھنو) خاص طور سے پہنچی یا وہ پہلے سے ہی راجیو گاندھی کاسنمان کرنے والے لوگوں کی قطار میں کھڑی تھی۔ روموتھین کی کتاب میں انکشاف کئے گئے نارائنن کے خط میں کہا گیا ہے کہ میٹنگ کے اس حصے کے ویڈیو کی فی الحال اسکیننگ کر کے عورت کی پہچان کی کوشش کی جارہی ہے۔ روموتھین نے کہا کہ ان کی طرف سے یہ ایک سنسنی خیز نوٹ تھا اگر انہوں نے یہ نہیں لکھا ہوتا تو اس کے بارے میں پتہ نہیں چلتا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسپیشل تفتیشی ٹیم کے اس وقت کے چیف ڈی آر کیرتی کین نے معاملے کو طول نہیں دیا اور نارائنن بچ نکلے۔ روموتھین کے الزام کے بارے میں پوچھنے پر کیرتی کین کا کہنا تھا کہ تبصرہ کرنے سے پہلے وہ اس کتاب کو پڑھنا چاہیں گے۔ ان کا کہنا ہے 22 سال پہلے کا واقعہ ہے اور بھارت و دنیا کے اخبارات و میگزینوں میں لاکھوں صفحے اسی حادثے سے بھرے پڑے ہیں۔ دونوں کمیشنوں نے جانچ کی اور برسوں سے عدالتوں میں مقدمہ چل رہا ہے اور آخری فیصلہ بھی آچکا ہے۔ ویڈیو کے بارے میں پوچھنے پر کیرتی کین کا کہنا ہے کہ یاد نہیں ہے راجیو گاندھی کے قتل کو22 سال ہوگئے ہیں اور گتھی سلجھنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ روموتھین نے یہ بھی الزام لگایا کہ جانچ کے دوران جو ویڈیو دستیاب کرایا گیا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑکی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے اصلی ویڈیو ٹیپ جان بوجھ کر چھپا دیا گیا ہے اور یہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہوسکتا ہے۔ ابھی اس معاملے میں نارائنن کا کوئی بھی رد عمل سامنے نہیں آپایا ہے لیکن اگر روموتھین کا الزام صحیح ہے تو یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس میں سخت جانچ کی ضرورت ہے کیونکہ اس ویڈیو سے پوری سازش کا پردہ فاش ہوسکتا ہے۔ شاید سازش کرنے والے یہ کبھی نہ ہونے دیں۔
(انل نریندر)

02 نومبر 2012

دنیا جھکتی ہے بس جھکانے والا چاہئے


گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کا ستارہ آہستہ آہستہ بلندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تو ان کی بین الاقوامی ساکھ بھی بدلنے لگی ہے اب تو امریکہ بھی کہنے لگا ہے نریندرمودی کا ان کے یہاں خیر مقدم ہے۔ غور طلب ہے کہ سال2002ء میں گجرات میں بھڑکے فسادات کے بعد امریکہ نے 10 سال کے لئے نریندر مودی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ انہیں امریکہ آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یہی حالت برطانیہ کی بھی تھی لیکن پچھلے دنوں برطانوی ہائی کمشنر جیمس بیون نے اچانک نریندر مودی سے ملاقات کی اور ایک چھوٹے سے خیر سگالی وفد کے ساتھ وزیر اعلی سے ملاقات کے لئے صبح 11 بجے بیون گاندھی نگر میں مقامی ریاستی سکریٹریٹ پہنچے۔ ان کے ساتھ کاروبار اور دیگر امورپر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گجرات کے ساتھ ہمیشہ تعاون ریاست میں برطانیہ کے مفادات کو بڑھانے کے لئے صحیح راستہ ہے۔ یہ گجرات کے ساتھ تعاون کا موضوع ہے اور کسی ایک شخص سے وابستہ معاملہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے اگرہم کسی ریاست کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں تو ہمیں ریاست کے وزیر اعلی سے جڑنا ہوگا کیونکہ نریندر مودی گجرات کے مقبول لیڈر بن گئے ہیں۔ وزیر اعلی نے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ’دیر آید درست آید‘۔ مسٹر مودی سے برطانوی ہائی کمشنر کی ہائی پروفائل ملاقات کو کاروباری اور سیاسی سے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ بھارت سرکار کو لیکر بھاجپا نیتاؤں تک سبھی مان رہے ہیں کہ برطانوی حکومت کے رویئے میں تبدیلی بھارت کے سیاسی حالات کے تجزیئے کا نتیجہ ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کے رویئے میں تبدیلی آخر کیوں آرہی ہے؟ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق امریکہ کے رویئے میں تبدیلی کی تین اہم وجوہات ہیں ۔ پہلا مودی بھارت کی بڑی اپوزیشن پارٹی بی جے پی کے سب سے بڑے لیڈر کی شکل میں ابھر رہے ہیں۔ دوسرا نریندر مودی اقتصادی ترقی کو لیکر کافی سنجیدہ لگتے ہیں۔ گجرات میں ان کے عہد میں ہوئی اقتصادی ترقی کو دنیا کے کئی ملکوں نے کھل کر سراہا ہے ۔ تیسری اہم وجہ ہے مودی کی ساکھ ایک ایسے اہم لیڈر کی شکل میں سامنے آرہی ہے جو ریاست کی سیاست سے اوپر اٹھ کر سیدھے طور پر قومی سیاست میں آسکتے ہیں۔ امریکہ میں صدارتی چناؤ مہم زوروں پر ہے۔ چناؤ مہم میں اوبامہ اپنی ہر تقریر میں اس بات کو دوہرانے سے نہیں کتراتے کے انہیں امریکہ کو اقتصادی مندی سے باہر نکالنے کے لئے بھارت جیسے ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔ بیرونی معاملوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی جانتے ہیں کہ امریکہ کے کانگریس کے ساتھ تجزیئے ٹھیک ہیں لیکن بی جے پی کے ساتھ وہ بات نہیں ،ایسے میں امریکی انتظامیہ اس بات کا اشارہ دینا چاہتا ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ تعلقات سدھارنا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں بھارت کے رشتے مزید مضبوط بنانے میں دقت نہ ہو۔ برطانیہ اور امریکہ کے بدلے رویئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس پارٹی میں پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ رہا سوال بی جے پی کا تو پارٹی نے بدلی ہوا کا فائدہ اٹھانا شروع کردیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان بلبیر پنج کا کہنا ہے آخر سچ کی جیت ہوئی اور پوری دنیا کی نظریں اس وقت گجرات چناؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ کانگریس کے سامنے جہاں مودی کے وجے رتھ کو روکنے کی چنوتی ہے وہیں مودی کے سامنے جیت کی ہیٹ ٹرک لگانے کی بھی چنوتی ہے۔ چناوی جنگ کا نتیجہ تو20 دسمبر کو آئے گا لیکن گجرات میں نریندر مودی کا ستارہ اب بھی تیزی سے چمک رہا ہے۔ ایماندار اور ترقی پسند لیڈر کے طور پر مودی ایک بار پھر اگلے ماہ ہونے والے چناؤ میں بھاجپا کی جیت کا جھنڈا لہرا سکتے ہیں۔ مختلف اوپینین پول اس بات پر متفق ہیں کہ گجرات چناؤ میں نریندر مودی جیت رہے ہیں۔ بس دیکھنا تو اتنا ہے کہ بھاجپا کتنی اسمبلی سیٹیں جیت سکتی ہے۔ دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے۔
(انل نریندر)

جہیزی اذیت معاملوں میں گھروالوں کو بے وجہ نہ پھنسایا جائے


ہمیں خوشی ہی کہ بصد احترام سپریم کورٹ نے جہیزی معاملوں میں ایک اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔ ہم نے ویر ارجن، پرتاپ اور ساندھیہ ویر ارجن میں جہیز سے متعلق معاملوں میں شوہر کے گھروالوں کو زبردستی پھنسانے کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ ہم نے بتایا تھا کہ لڑکی والوں کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار آگیا ہے کہ وہ شوہر کے پورے خاندان کو جہیز کے معاملے میں جبراً لپیٹ لیتے ہیں۔ اب سپریم کورٹ نے صاف کہا ہے کہ جہیز سے متعلق معاملوں میں شوہر کے گھروالوں کو صرف اس بنیادپر نہیں پھنسادینا چاہئے کہ ان کا نام ایک ایف آئی آر میں درج ہے۔ اگر یقینی طور پر کوئی الزام بنے تبھی ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ ایف آئی آر میں نام ہے لیکن اس میں سرگرم رول نہ ہو تو نوٹس لینا مناسب نہیں ہوگا۔ جسٹس ٹھاکر و جسٹس گیان سدھا مشرا کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ اگر ایف آئی آر میں ملزم کے خلاف یقینی الزامات واضح نہیں ہوں ،خاص کر شریک ملزمان کے خلاف جو ازواجی جھگڑے کے دائرے سے باہر ہوں۔ ایسے میں ایف آئی آر میں ان کا نام شامل کر تکنیکی طور پر مقدمے کے لئے بھیجا جانا صاف طور پر قانون و عدلیہ کی کارروائی کا بیجا استعمال ہے۔ بنچ نے کہا شکایت کردہ بیوی کو جسمانی اور ذہنی اذیت دینے میں پہلی نظر میں ملوث نہ پائے جانے والوں کو بے وجہ مقدمے میں نہ الجھانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے مطابق ایف آئی آر میں رشتے داروں پر لگائے گئے الزامات کے حقائق واضح نہیں ہوں یا شکایت کنندہ کی جانب سے پورے کنبے کو ایک ہی معاملے میں پھنسایا جانا پہلی نظر میں آئے تو عدالتوں کو چوکسی والا رویہ اپنا نا چاہئے کیونکہ چھوٹے مسائل یا گھریلو جھگڑے سے پیدا تنازعے میں اپنے اہم گواہ کے لئے شکایت کنندہ ایسا کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے صاف کہاکہ شریک ملزمان کے خلاف خاص الزام نہ ہونے کے باوجود اگر ان پر مقدمہ چلایا جاتا ہے تو قانونی عمل کا غلط استعمال ہوگا۔ جہیز اذیت کے ایک معاملے میں ملزم شوہر کے بھائی اور بہن کے خلاف چل رہی کارروائی منسوخ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا حالانکہ عدالت نے صاف کہا کہ اس میں شک نہیں کہ یہ قانون عورتوں پر ظلم روکنے کے لئے بنایا گیا ہے لیکن اس کا غلط استعمال نہ ہو یہ احتیاط عدالتوں کو برتنی ہوگی۔ عدالت کو پہلی نظر میں دیکھنا چاہئے کہ کس رشتے دار کا جرم بنتا ہے اور کسے پھنسایا جارہا ہے۔ اس معاملے میں ملزم کے بھائی بہن نے اپیل داخل کی تھی۔ کچھ برس پہلے تہاڑ جیل کے ڈائریکٹر جنرل نے ہمیں تہاڑ میں قیدیوں کی سہولت اور ان کے ذریعے کئے جارہے اچھے کاموں کو دکھانے کے لئے مدعو کیا تھا۔ میں نے تہاڑ کے کئی ایسے کنبے دیکھے ہیں جو جہیزاذیت کی وجہ سے بن تھے۔ ایک خاندان تو ایسا تھا جس کے سارے مرد بند تھے۔ایک خاندان میں ملزم ان کے ماں باپ ،چھوٹی بہن، چھوٹا بھائی بند تھا۔ ایک خاندان نے ہمیں بتایاکہ ملزم شخص کے بھائی، بہنوئی جو دہلی میں رہتے ہی نہیں انہیں بھی اندر کردیا گیا کیونکہ لڑکی والوں نے ان کا نام ایف آئی آر میں لکھوادیا تھا۔ کئی عورتیں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ جیل میں بند تھیں کیونکہ ان بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے لئے جیل کے باہر کوئی کنبے والا بچا نہیں تھا۔ سب سے تکلیف دہ پہلو تو یہ ہے کہ اتنی سخت کارروائی ہونے کے باوجودقتلوں میں کوئی قابل قدر کمی نہیں آئی ہے۔ سماج میں آئی برائیوں کو روکنا ضروری ہے۔ جہیز کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی لیکن موجودہ قانونی سسٹم میں سدھار ہونا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے اس سمت میں صحیح قدم اٹھایا ہے۔
(انل نریندر)

01 نومبر 2012

ووٹ عام آدمی کا اور سرکارصنعت کاروں کیلئے


یہ منموہن سنگھ سرکار دعوی تو کرتی ہے کہ وہ عام آدمی کی سرکار ہے لیکن صنعت کاروں کے لئے کام کرتی ہے اور رہا سوال عام آدمی کا تو اس کا حال تو اس سرکار کے عہد میں جو ہورہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ مہنگائی اپنے شباب پر ہے اور عام آدمی کی تھالی سے دال، سبزی آہستہ آہستہ غائب ہوتی جارہی ہے۔ یہ سرکار صنعت کاروں کی ہے اور ان کے اشاروں پر ناچتی ہے۔تازہ کیبنٹ میں ردوبدل سے یہ ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے۔ منموہن سنگھ کیبنٹ توسیع میں سب سے بڑا جھٹکا سابق مرکزی وزیر پیٹرولیم جے پال ریڈی کو دیا گیا۔ انہیں اس لئے دیا گیا کیونکہ ریلائنس انڈسٹری کے مالک مکیش امبانی سے انہوں نے پنگا لینے کی جرأت دکھائی تھی۔ ان کی وزارت بدل دی گئی ہے اور ان کی تنزلی کی گئی ہے۔ وہ کافی اہمیت کے حامل پیٹرولیم وزارت میں وزیر رہے۔ ردوبدل میں کم اہم وزارت سمجھا جانے والا سائنس اور تکنالوجی وزارت کی ذمہ داری دے دی گئی۔ اپنی وزارت بدلے جانے سے ناراض جے پال ریڈی نئے پیٹرولیم وزیر کا عہدہ سنبھالنے کے وقت بھی وزارت نہیں پہنچے۔ جب نئے پیٹرلیم وزیر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ اس کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکے۔ حالانکہ کانگریس کے بڑے لیڈروں سے بات چیت کے بعد جے پال ریڈی نے سائنس و تکنالوجی وزارت کی ذمہ داری سنبھالنے کی اپنی منظوری دے دی۔ جے پال ریڈی کو پیٹرولیم وزارت سے ہٹانے کے پیچھے کہانی کم دلچسپ نہیں ہے۔ جے پال کے قریبی لوگوں کی مانیں تو ریلائنس کی طرف سے یہ دباؤ بنایا جارہا تھا کہ وہ کے جی ڈی 6 بیسن سے نکلنے والی گیس کی قیمت اپنی طے میعاد سے پہلے بڑھا دیں۔ قابل ذکر ہے ریڈی نے 2011ء میں مرلی دیوڑا سے پیٹرولیم وزارت کی ذمہ داری لی تھی۔ سال2010 ء میں وزرا کے اختیار یافتہ وزارتی گروپ نے ریلائنس کے کے جی ڈی 6 بیسن سے نکلنے والی گیس کی قیمت 2010 تا2014 تک کے لئے طے کردی تھی۔ ریلائنس انڈسٹری کھدائی کی قیمت میں بڑھوتری کا حوالہ دیکر گیس کی قیمت2012ء میں ہی بڑھانے کا دباؤ پیٹرولیم وزارت پر ڈال رہی تھی۔ ریڈی نے ایک طرف تو ریلائنس کے دباؤ میں آنے سے انکار کردیا وہیں دوسری طرف2011-12 کے دوران کمپنی کی پیداوار میں آئی کمی پر کمپنی سے سوال جواب کیا گیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کیونکہ کے جی ڈی بیسن کا یہ علاقہ ایسی جگہ پڑتا ہے جہاں کھدائی مشکل ہے اس لئے پیداوار پہلے کی بہ نسبت کم ہوئی ہے۔ جے پال ریڈی کو یہ دلیل ہضم نہیں ہوئی کیونکہ جس علاقے میں 2010ء میں پیداوار 53-54 ملین کیوبک میٹر گیس تھی وہ اچانک اتنی کم کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ ہی نہیں جے پال نے معاملے کی جانچ سی اے جی سے کرانے کی بھی ہدایت دے دی تھی۔ پیٹرولیم وزارت سے اپنی دال گلتے نہ دیکھ مکیش امبانی نے وزیر اعظم کے دفتر میں اپنے دبدبے کا استعمال کر جے پال ریڈی پر دباؤ بنانے کی کوشش کی تھی۔ ریلائنس کی کوشش سے ناراض جے پال نے ریلائنس پر کم گیس کی پیداوار کے لئے 7 ہزار کروڑ روپے کا جرمانہ ٹھونک دیا اور خرچ میں اضافے کا حوالہ دیکر برٹش پیٹرولیم کو اپنا کچھ شیئر بیچنے کی کوشش میں لگے ریلائنس کو اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس معاملے سے اتنا تو ثابت ہوجاتا ہے کہ اس سرکار پر صنعت کاروں کا کتنا دبدبہ ہے۔
(انل نریندر)

دہشت گردوں کی تیزی سے بنتی پناہ گاہ: سعودی عرب


پچھلے کچھ دنوں سے لگتا ہے کہ سعودی عرب دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنتا جارہا ہے۔ حال ہی میں گرفتار انڈین مجاہدین کے فصیح محمدکو بھی سعودی عرب سے حوالگی کے بعد دہلی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ابو جندال، اے رئیس اور فصیح محمد لشکر و انڈین مجاہدین کے تین بڑے چہروں کے سعودی عرب سے حوالگی کے بعد بھارت کی سکیورٹی ایجنسیوں کی نظریں اب وہاں پناہ لئے دیگر دہشت گردوں پر لگ گئی ہیں۔ ایجنسیوں کی نشانہ لسٹ میں پہلا نام فیاض کاغذی کا ہے۔اس کے علاوہ قریب آدھا درجن دیگر شہرے بھی شامل ہیں جن کے بارے میں مانا جارہا ہے کہ وہ دیش چھوڑ کر سعودی عرب بھاگ چکے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کی مانیں تو مکہ میں ’’خدمت‘‘ کے بہانے بھارت سے لڑکے سعودی عرب جاکر وہاں موجود انڈین مجاہدین کے دہشت گردوں سے ملتے ہیں۔ پولیس کے ذرائع بتاتے ہیں ملک چھوڑ کربھاگے انڈین مجاہدین اور لشکر طیبہ کے دہشت گرد سعودی عرب میں سرگرمیاں چلا رہے ہیں۔ اس کام کے لئے انہیں پیسہ اور دیگر وسائل پاکستان میں بیٹھے انڈین مجاہدین کے چیف ریاض اور اقبال بھٹکل کے ذریعے مہیا کرائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب سے حوالگی کراکر لایا گیا ممبئی حملوں کا بنیادی ملزم ابوجندال بھی سعودی عرب میں رہ کر دہشت گردوں کی نئی پود تیار کررہا تھا۔ جندال نے انکشاف کیا تھا کہ دعوت کے بہانے جہادی ذہنیت والے لڑکوں کو متحد کیا جاتا ہے۔ تنظیم کے ممبروں کی معرفت ایسے لڑکوں کو کھانے پر بلاکر وہاں مذہبی مباحثے کراکر انہیں جہاد کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ جو لڑکے نظریاتی طور پر جارحانہ دکھائی پڑتے ہیں انہیں آگے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس دعوت میں انڈین مجاہدین اور لشکر طیبہ سے جڑے لوگ موجود رہتے ہیں۔ کیرل میں غیر مستعمل دھماکوں سامان کی برآمدگی کے معاملے میں ملزم رئیس کو بھی سعودی عرب سے لایا گیا تھا۔ آئی ایم کے بہار ماڈیول کو دہشت کے لئے پیسہ فراہم کرنے والے انجینئر فصیح محمد کو بھی رئیس کے ساتھ لایا گیا۔ فیاض مہاراشٹر کے بیڈ کا رہنے والا ہے اور ابو جندال کا بچپن کا دوست ہے۔ ابوفیاض کاغذی کی گرفتاری پر جانچ ایجنسیوں نے نظریں لگا رکھی ہیں۔ فصیح محمد سے ایجنسیاں فیاض کے بارے میں پوری جانکاری لینے میں لگی ہوئی ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو فیاض کے بارے میں جندال سے بھی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ پنے دھماکے کے ملزم اسد خان اور عرفان تو فیاض سے کئی بار مل چکے ہیں۔ فیاض نے دونوں کو اپنی ای میل آئی ڈی بھی دے رکھی تھی جس کی مدد سے وہ ان کے رابطے میں رہتا تھا۔ جانچ ایجنسیاں یہ تمام معلومات سعودی انتظامیہ کو سونپنے کی تیاری میں ہیں جس سے فیاض کو بھی بھارت بلایا جاسکے۔ یہ اچھی بات ہے پچھلے کچھ دنوں سے سعودی حکومت اور اس کی انتظامیہ بھارت کے ساتھ ان دہشت گردوں کی حوالگی میں تعاون کررہے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ایسے دہشت گردوں کو اپنے دیش میں داخل ہونے پر بھی سختی کرے۔ ہر آتنکی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کے چلو سعودی عرب ایک ایسا دیش ہے جہاں ہمیں پناہ مل سکتی ہے۔ سعودی عرب کا محکمہ خفیہ کو بھی بھارت کی خفیہ ایجنسیوں سے مزید بہتر تال میل قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

31 اکتوبر 2012

امریکہ کا صدارتی چناؤ آخری مرحلوں میں ادھر ہیریکین سینڈی طوفان


ایسے وقت جب امریکہ سیاسی طوفان سے گذر رہا ہے کوئی موسمی طوفان آکھڑا ہو تو فکر مند ہونا لازمی ہے۔ امریکہ کے صدارتی چناؤ کو مشکل سے 7-8 دن بچے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی دوڑ کے لئے 6 نومبر کو ووٹ پڑنے ہیں۔ اس وقت دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان کانٹے کی ٹکر چل رہی ہے۔ آخری ہفتے میں سارے دیش کی توجہ سیاست کے اس انتہائی اہمیت کے حامل آخری دور سے ہٹ کر سمندری طوفان ہیریکین سینڈی سے بچاؤ کی طرف لگ گئی ہے۔ ایک طرف ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی تازہ سروے میں قومی سطح پر معمولی بڑھت بنائے ہوئے ہیں تو وہیں صدر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار براک اوبامہ الیکٹرول ووٹ میں معمولی طور پر بڑھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سروے پر نظر رکھنے والے کوئی بھی نجومی پیشگوئی کرنے سے کترارہے ہیں۔ القاعدہ کو کمزور کرنے ،صحت اصلاحات اور معیشت میں چھائی مایوسی کو دور کرنے کی سمت میں اوبامہ کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے ایک بڑے امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمس ‘ نے ان کی حمای کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اخبار نے اپنے اداریہ میں یہ بات کہی ہے کہ امریکی صدارتی چناؤ کی ٹکر کانٹے کی ہے۔ کوئی بھی پارٹی دعوے سے نہیں کہہ رہی ہے کہ وہ جیت رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے امریکہ کے صدارتی چناؤ میں سونگ اسٹیٹ ہمیشہ فیصلہ کن کردار نبھاتے آئے ہیں۔ اب تک ان ریاستوں میں زیادہ الیکٹرول ووٹ حاصل کرنے والا ہی چناؤ جیتتا آیا ہے۔ امریکہ کل 50 صوبوں میں سے 13 سونگ اسٹیٹ مانے جاتے ہیں، سونگ اسٹیٹ ان صوبوں کو کہا جاتا ہے جہاں ووٹر کس کے حق میں ووٹ کرے گا یہ طے نہیں ہوتا۔ نیویارک ٹائمس کے مطابق اس طرح کے صوبوں میں تقریباً 95 الیکٹرول ووٹ ہیں۔ان ریاستوں پر امیدوار دوسری ریاستوں سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ رومنی اور اوبامہ دونوں نے ہیں ان ریاستوں میں زیادہ مہم چلائی ہے۔ اصل میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن میں جاری جنگ کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کو ایک خوفناک طوفان سے ٹکر لینی پڑ رہی ہے جس کا نام ہیریکین سینڈی ہے۔ کیربیائی جزیروں میں 66 جانیں لینے والا سینڈی قریب 75 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے امریکہ میں سب سے گھنی آبادی والے مشرقی ساحلی ریاستوں میں بڑی تباہی لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ میں گذری دہائیوں میں آئے طوفانوں کے مقابلے ہیریکین سینڈی سب سے زیادہ تباہ کاری مانا جارہا ہے۔ نیشنل ہیریکین سینٹر کے مطابق ہیریکین سینڈی قریب 75 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ڈر ہے طوفانی ہوائیں بجلی کے تاروں کو گرا سکتی ہیں۔ ساتھ ہی سمندر کی بڑھتی آبی سطح جرنیٹروں اور دوسرے سازو سامان کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ محکمہ موسم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طوفان تیز ہوائیں اور بارش کے علاوہ برفباری بھی لا سکتا ہے۔ ہیریکین سینڈی کی وجہ سے 11 فٹ اونچی لہریں اٹھیں گی۔ یہ نیویارک ،باسٹن اور نیوجرسی میں کافی تباہی مچائے گا۔ اس سے 18 ارب ڈالر (تقریباً10 کھرب) روپے کی املاک کا نقصان ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ اسی درمیان پتہ نہیں صدارتی چناؤ کا کیا ہوگا؟ ہم پرارتھنا کے ساتھ امید کرتے ہیں امریکہ کو اس قدرتی آفت کے قہر سے بچائے، جتنا ممکن ہوسکے اور جان مال کا نقصان کم ہوگا۔
(انل نریندر)

بڑھتی جارہی ہے لا پتہ بچوں کی تعداد: معصوموں کی فکر کسے؟


دیش میں بچے لاپتہ ہونے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں یہ سبھی کے لئے باعث تشویش ہونا چاہئے۔ ایک ویلفیئر اسٹیٹ اور مہذب سماج کے لئے اس سے زیادہ شرم کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ دیش بھر میں ہر سال 90 ہزار بچے غائب ہوجاتے ہیں۔ راجدھانی میں اس سال 10 مہینے کے اندر 100-50 نہیں بلکہ1040 بچے لاپتہ ہوئے ہیں۔ آخر یہ بچے کہاں گئے؟ یہ اس لئے غائب ہورہے ہیں کیونکہ یہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ماں باپ ان کے لئے اچھی غذا، کپڑا اور تعلیم کا انتظام نہیں کرسکتے۔ ان میں سے زیادہ تر بچے قصبوں سے آتے ہیں۔ انہیں بہلا پھسلا کر سبز باغ دکھا کر نوکری کے بہانے میٹرو شہروں میں لایا جاتا ہے۔ ایسے بہت سے بچوں کو بھیک مانگنے یا کسی خطرناک کام میں لگادیا جاتا ہے یا پھر جسم فروشی میں جھونک دیا جاتا ہے۔کچھ خوش قسمت لڑکیاں اس جہنم سے نکل جاتی ہیں باقی تمام عمر اسی جہنم میں زندگی میں بسرکرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ راجدھانی دہلی کے کئی علاقوں میں معصوم بچوں کا اغوا کر جنسی استحصال کرنے کے بعد ان کو مار دینے کے واقعات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ یہ واردات جہاں ایک طرف آوارہ گھومنے والے نشیڑیوں کی دھڑ پکڑ کے تئیں انتظامیہ کے بے توجہی کا اشارہ کرتی ہے وہیں یہ بچوں کی سلامتی کے تئیں پولیس انتظامیہ کے لاپرواہ روئے کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ 
جمعرات کو دہلی میں پولیس نے بچوں کو اغوا کر جنسی استحصال کے بعد ان کو قتل کردینے کے واقعات کو انجام دینے والے گروہ کوایک بچے کی مدد سے بے نقاب کرنے کا دعوی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کیا۔ دونوں کی گرفتاری سے کھجوری علاقے کے بھائی بہن کا قتل ،بھجن پورہ علاقے میں تین سالہ بچی کو بدفعلی کے بعد کوڑے دان میں پھینکنے کی واردات کا سنسنی خیز خلاصہ ہوا ہے۔ گرفتار ملزمان نشے کے عادی ہیں۔ نشے کے بعد وہ حیوان بن جاتے ہیں اور بچوں کو کچھ لالچ دے کر اغوا کرلیتے ہیں۔ قابل غور ہے 1974ء میں پارلیمنٹ نے بچوں کے لئے ایک قومی پالیسی پر مہر لگائی تھی جس میں انہیں دیش کا قیمتی ورثہ اعلان کیا گیا تھا۔ آئی پی سی کے دفعہ372 میں نابالغ بچوں کی خریدو فروخت پر 10 سال کی سزا قید کی سہولت ہے لیکن اس معاملے میں سزا دئے جانے کی شرح بیحد کم ہے۔ سرکاری مشینری کے ڈھیلے پن کو دیکھتے ہوئے کچھ مہینے پہلے سپریم کورٹ نے اس اشو پر مرکز اور ریاستی حکومتوں سے جواب مانگا تھا۔ آج ملزمان کے کئی گروہ بچوں کو غائب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ خود سرکار نے 900 ایسے منظم گروہ کی پہچان کی ہے۔ ان کا جال کئی ریاستوں میں پھیلا ہوا ہے۔ بچوں کی سلامتی خاص کر دہلی میں پولیس انتظامیہ کے لئے ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔ بچوں کے غائب ہونے اور اغوا یا قتل کردئے جانے کے واقعات آئے دن درج ہوتے رہتے ہیں۔ اسی برس اب تک راجدھانی میں ایک ہزار بچوں کے غائب ہونے کے معاملے ظاہر کرتے ہیں کہ دہلی کس حد تک بچوں کے لئے غیر محفوظ ہوتی جارہی ہے۔ ایسے معاملوں میں سختی سے نمٹنا ہوگا۔ اس کیلئے مختلف ریاستوں کی پولیس کے درمیان بہتر تال میل کرنا ہوگا۔ بچوں کی سلامتی کو لیکر والدین کو مزید بیدارکرنے اور اس کے لئے مخصوص بیداری مہم چلانا ہی بہتر رہے گا۔
(انل نریندر)

30 اکتوبر 2012

ایف۔1 انڈین گراپری کے کچھ یادگار لمحے


ایتوار کو میں نے اپنی زندگی کی پہلی فارمولہ 1 گرا پری موٹر ریس دیکھی۔ گریٹر نوئیڈا میں خاص طور سے بنے بودھ انٹرنیشنل سرکٹ کو بھی دیکھنے کا موقعہ ملا۔ میں پورے علاقے میں ہوئی ترقی کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ بودھ انٹرنیشنل سرکٹ بنا کر جے پرکاش ایسوسی ایٹڈ نے ایسا کام کیا جس سے ہر ہندوستانی کھیل پریمی کا سر فخر سے اٹھ گیا۔ بین الاقوامی سطح کے اس سرکٹ کو بنانے ۔ بھارت میں ایف۔1 گراپری کروانا آسان کام نہیں تھا۔ کھیل کی دنیا میں یہ سب سے بڑا ایونٹ کراکر ایک بار پھر ہندوستان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دنیا میں کسی سے کم نہیں ہے۔ پہلے ریس کے بارے میں میں تھوڑا بتاتا ہوں۔ انڈین گراپری کے انعقاد کی جگہ بودھ انٹرنیشنل کا ٹریک (چکر) کل 5.14 کلو میٹر لمبا ہے جبکہ انڈیا گراپری کل 60 لیپ والی ریس ہے۔ لیپ کا مطلب ہے5.14 کلو میٹر کا ایک گھیرا یا چکر یا ٹی ڈرائیوروں کو 5.14 کلو میٹر ٹریک کے کل60 چکر لگانے ہوتے ہیں۔ سب سے آگے رہنے والا ڈرائیور یعنی جس نے سب سے کم وقت میں 60 ٹریک پورے کئے ہوں ،ریس کا ونر مانا جاتا ہے۔ نامور 10 ڈرائیوروں کو اور ٹیموں کو نمبر حاصل ہوتے ہیں۔BIC بھارت میں ایف1- ریس کا انعقاد کرتا ہے۔ اس کا مالکانہ حق جے پی گروپ کے پاس ہے جبکہ دنیا میں ساری ایف1- ریسوں کو منعقد کرانے کا اختیار انٹر نیشنل آٹو موبائل فیڈریشن کو ہے ۔ یہ ایف1- کی سپریم باڈی ہے جس کے سروے سروا برنی ایکلیٹن ہیں۔ ایتوار کو ریس دیکھنے کے لئے کئی فلمی ستارے بڑی شخصیتیں موجود تھیں۔ ان میں اجے دیوگن ،سوناکشی سنہا، یووراج سنگھ، ثانیہ مرزا ان کے شوہر شعیب ملک قابل ذکر تھے۔ ایف1- کاروں کی اتنی آواز ہوتی ہے کہ ناظرین کوخاص کر کانوں کے پلگ دئے جاتے ہیں اور آپ اگر اپنے کانوں کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں لگانا ضروری ہوتا ہے۔ ایف1- کاروں کی آواز کا تجربہ انوکھا ہوتا ہے۔ میں نے کبھی کہیں اور اس طرح کی آواز نہیں سنی۔ گاڑیاں اتنی تیزی سے جاتی ہیں جب میں نے فوٹو ،ویڈیو بنانے چاہے تو میں جب تک اپنا موبائل اس اسپاٹ پر لے جاتا تو گاڑیاں جا چکی ہوتیں۔ گاڑیاں 250 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے زیادہ تیز دوڑتی ہیں۔200 کلو میٹر پر تو یہ موڑ لیتی ہیں۔ میرے ساتھ میرے دوست ڈاکٹر مکل شریواستو بھی تھے انہوں نے بتایا کہ ہرریس میں ہر ڈرائیور کا کم سے کم 4-5 کلو وزن کم ہوجاتا ہے۔ ان کے ہیلمٹ میں پانی کی پائپ بھی لگی ہوتی ہے کیونکہ پانی گرتا رہتا ہے اور اتنا پانی جسم سے گریوٹی کی وجہ سے نکلتا ہوگا جس کا وزن4-5کلو ہوجاتا ہے تو آپ خود ہی اندازہ لگالیں کہ کتنا پانی نکلتا ہوگا۔ انڈین گراپری ریس میں حصہ لینے والی خاص ٹیمیں ہیں ۔ریڈ بل ۔ ریڈ بل نام سے انرجی ڈرنک بنانے والی آسٹین کمپنی کی ٹیم کے پاس دو مرتبہ ورلڈ چمپئن سے بیسٹین ویٹل اور مارک ویبر کی شکل میں دو بہترین ڈرائیور ہیں۔ پچھلی تین ریسوں میں ویٹل نے ٹریک پر تہلکہ مچاتے ہوئے ریڈ بل ٹیم کو خطابی دوڑ سے کافی آگے رکھا تھا۔ جرمنی کے سیبسٹین ویٹل نے اس بار گراپری جیتی ہے۔ دوسری ٹیم فراری ایف1- سرکٹ کی سب سے پرانی ٹیموں میں سے ایک ہے۔290 پوائنٹ سمیت ٹیم چمپئن شپ میں دوسرے مقام پر چل رہی ہے۔ 1950 کی افتتاحی ریس سے لیکر اب تک تقریباً ہر ریس میں فراری کی ٹیم نے حصہ لیا۔ ان کے ڈرائیور ہیں فرنانڈو اولانسو (اسپین) اور فلپ ماسا(برازیل) میکلاٹین مرسٹیز فارمولہ1 میں سب سے زیادہ بار ورلڈ خطاب جیتنے والی ٹیم ہے۔ فراری کے بعد ایف1- کی دوسری سب سے پرانی ٹیم ہے ان کے ڈرائیور ہیں لوئس ہیسلٹن( گریٹ برطانیہ) اور جینسن وٹن (گریٹ برطانیہ) چوتھی ٹیم لوٹس کی ہے رونالڈ کی سابق ٹیم لوٹس نے 15 سال بعد ملیشیائی کمپنی کی مدد سے 2010ء میں ایف1- سرکٹ میں واپسی کی۔ کیمی رائکون(فن لینڈ) رومن گریس زین (فرانس) ان کے ڈرائیور ہیں۔ ایک ٹیم مرسٹیز پیٹوناز کی ہی ٹیم کے پاس ایف1- ریس سب سے کامیابی کے ساتھ 7 بار ورلڈ چمپئن مائیکل مویاکر(جرمنی) کے ہیں۔ دوسرے ڈرائیور ہی جرمنی کے نکوروس برگ ،7 بار کے ورلڈ چمپئن مائیکل جمعہ کومایوس کن دور انڈین گراپری میں بھی جاری رہا۔ وہ 55 ویں لیپ پر پٹ کر گر گیا تو پھر ٹریک پر واپس نہیں اترا۔ وہ ریس پوری بھی نہیں کرسکا۔ بھارت کے واحد فارمولہ 1 ریسر نارائن کیرتی کین سب سے آخری 21 ویں مقام پر رہے لیکن ہمیں خوشی یہ ہے کہ کم سے کم ایک ہندوستانی ڈرائیور ایف1- ریس کے قابل تو نکلا۔ ایتوار کی ریس میں ریڈ بل کے سبیسٹین ویٹل نمبر ون پررہے۔ انہوں نے شروع سے ہی لیڈ لے لی تھی اور آخر تک اپنی لیڈ کو برقرار رکھا۔ انہوں نے5.125 کلو میٹر کے بودھ انٹرنیشنل سرکٹ کے 60 چکر لگاتے ہوئے 360.294 کلو میٹر کا پورا چکرطے کرنے میں ایک گھنٹہ 31 منٹ ،10.744 سیکنڈ کا وقت لیا۔ اس دوران ان کی اوسط رفتار 202.183 کلو میٹر فی گھنٹہ رہی اور بیسٹ لیب وقت 1 منٹ 28.723 سیکنڈ رہا۔
(انل نریندر)

رابرٹ واڈرا کو کلین چٹ پر اٹھے سوال


یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کو ہریانہ حکومت کی جانب سے جلد بازی میں دی گئی کلین چٹ پر سوال کھڑے ہونا فطری ہی ہے۔ اس معاملے میں خلاصہ کرنے والے سیاسی ورکر اروند کجریوال ہی نہیں بلکہ بھاجپا اور ہریانہ کے سابق وزیراعلی اوم پرکاش چوٹالہ نے بھی اسے ریاستی حکومت کی جانب سے واڈرا کو بچانے کی کوشش قراردیا ہے۔ کجریوال نے جمعہ کو کہا کیا لوگوں کو بتایا جائے گا کہ کونسے قانون کی کس دفعہ کے تحت جانچ کی گئی اور کس نے یہ جانچ کی؟ سارے دیش میں ان کا کرپشن صاف نظر آیا لیکن ہریانہ حکومت نے انہیں کلین چٹ دے دی۔ کجریوال نے کہا کہ سرکار سے ان کو یہ ہی امید تھی۔ معاملہ سامنے آنے کے کچھ گھنٹوں کے اندر ہی سرکار کے سبھی وزیروں نے انہیں صحیح بتادیا تھا کہ ایسے میں غیر منصفانہ جانچ ہوہی نہیں سکتی تھی۔ ایسے میں بااثر لوگوں کی جانچ کے لئے دیش میں کوئی ایجنسی ہی نہیں ہے اس لئے غیرجانبدارانہ لوکپال بنانا ضروری ہے۔ بھاجپا کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے اسے ’’از خود سرٹیفکیٹ‘‘ مانتے ہوئے کہا کہ ہریانہ سرکار کی جانچ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے وڈرا کے اس دعوے کی بھی جانچ کی مانگ کی جس میں انہوں نے کارپوریشن بینک سے 7.94 کروڑ روپے کا اوور ڈرافٹ لینے کی بات کہی ہے جبکہ کارپوریشن بینک نے اس کی تردید کی ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر راجناتھ سنگھ نے اس معاملے کی سپریم کورٹ سے جانچ کرانے کی مانگ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہی ڈپٹی کمشنروں نے زمین الاٹ کی تھی تو وہ کیوں کہیں گے غلط ہوا؟ اس لئے سچائی تبھی سامنے آئے گی جب واڈرا کی زمین کے سودوں کی منصفانہ جانچ ہو۔ شری اوم پرکاش چوٹالہ نے اس معاملے کی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا سرکار ہی بے ایمانی کرے اور وہی جانچ کرے اس کے سامنے کیا رہ جاتا ہے۔ بہرحال کانگریس پارٹی کے ترجمان سندیپ دیکشت نے کہا کہ سرکار حقائق کی بنیادپر کام کرتی ہے۔ آپ بتائے کن قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ بغیر جانچ کے کوئی افسر بیان نہیں دیتا۔ ادھر ہندی اخبار روزنامہ امر اجالا میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے فرید آباد، گوڑ گاؤں، میوات اور پلول کے ڈپٹی کمشنروں نے سرکار کے پاس ادھوری رپورٹ بھیج کر واڈرا کو کلین چٹ دے دی ہے۔ رپورٹ میں واڈرا یا ان کی کمپنی نے کتنی زمین کس نام سے خریدی یہ جانکاری تو دے دی گئی ہے لیکن واڈرا یا ان کی کمپنیوں نے زمین بیچی یا نہیں یہ معلومات نہیں ہے۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری محصول کو میوات کے ڈپٹی کمشنر نے 23 اکتوبر پلول اور فرید آباد کے ڈپٹی کمشنروں نے 25 اکتوبر کو رپورٹ بھیج کر کہا ہے کہ اسٹامپ ڈیوٹی یا رجسٹریشن فیس میں سرکاروں کو نقصان نہیں ہوا۔ گوڑ گاؤں کے ڈپٹی کمشنر نے رپورٹ ہی نہیں بھیجی انہوں نے 16 اکتوبر کو معلومات فراہم کی تھیں کہ واڈرا نے ڈی ایل ایف کو جو 3.5 ایکڑ زمین بیچی تھی اس میں اسٹامپ ڈیوٹی کا کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ رجسٹری بھی ٹھیک تھی اور داخل خارج بھی صحیح تھا۔ ایک اور بات رابرٹ واڈرا کو بچانے کے لئے ہریانہ کی ہڈا سرکار نے اپنا قانون ہی بالائے طاق رکھ دیا۔ چکبندی ایکٹ کے تحت جہاں ایک شخص ، کمپنی ، خاندان، ایسوسی ایشن یا کوئی دیگر ادارہ ہریانہ میں زیادہ سے زیادہ دو فصل دینے والی سنچائی کے لائق زمین 18 ایکڑ اور غیر سنچائی والی زمین زیا دہ سے زیادہ 54.5 ایکڑ زمین رکھتی ہے وہیں واڈرا اور ان کی کمپنیوں کے نام پر دسمبر2010 ء تک قریب 148 ایکڑ زمین ہریانہ میں تھی باوجود اس کے کسی ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے نہ تو ان کی زمین فاضل اعلان کی اورنہ ہی لینڈسلنگ ایکٹ کے تحت کوئی کارروائی کی تھی۔ سلنگ قانون کے مطابق واڈرا نے خرید میں اس قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور فرید آباد، گوڑ گاؤں، میوات، پلول کے ڈپٹی کمشنروں نے نہ صرف ادھوری تفصیلات دیں بلکہ ریاست کے قانون کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرکزی اور ہریانہ کی کانگریسی حکومتیں رابرٹ واڈرا کے سودوں کو دبانے میں کامیاب رہتی ہیں یا پھر معاملوں کی صحیح اور منصفانہ جانچ ہوگی؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...