Translater

23 اپریل 2016

سعودی عرب کا انتباہ !ہمیں جو9/11 کا قصوروار بتایا

پچھلے کچھ دنوں سے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ دراصل امریکہ نے دو سینیٹروں جان کارمن اور چارلس سیمیٹ نے ایک بل تیار کیا ہے۔ بل میں دہشت گردی کو اسپانسر کرنے کے خلاف انصاف کی بات کہی گئی ہے۔ اس میں ستمبر 2011ء یعنی 9/11 حملے اور دیگر دہشت گردی کے واقعات کے متاثرین کو دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ملکوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت بھی رہے گی۔ امریکہ میں 9/11 کے آتنکی حملہ میں کیونکہ حملہ آوروں میں زیادہ تر سعودی شہری شامل تھے اس لئے سعودی عرب کو اس کے لئے قصوروار ٹھہرایا جارہا ہے۔ اس ریزولیشن کو لیکر سعودی عرب اب امریکہ کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ اور امریکی ممبران پارلیمنٹ کو دھمکی دی ہے اسے 9/11 کے حملوں کے لئے کسی بھی طرح سے قصوروار ماننے کی کوشش نہ کرے۔ اس نے کہا ہے کہ امریکی پارلیمنٹ میں امریکہ میں موجود سعودی عرب کی املاک کو ضبط کرنے کی کوشش کی تو پہلے سے ہی اپنی پراپرٹی کو بیچ دے گا۔ یہ پراپرٹی 750 ارب ڈالر مالیت کی ہے۔
دھمکی کے بعد اوبامہ انتظامیہ امریکی سینیٹروں کی سینیٹ میں ریزولیشن پاس ہونے سے روکنے کی کوشش میں لگ گیا ہے۔ نیویارک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ 9/11 کے حملوں کے متعلق ایک بل پاس کرانا چاہتی ہے۔ اس میں سعودی عرب کو بھی اس کے لئے ذمہ دار و قصوروار ٹھہرایا جانا ہے۔ سعودی عرب کو اندیشہ ہے کہ امریکہ اس دیش میں اس کی پراپرٹی ضبط نہ کر لے۔دوسری طرف اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ میں پراپرٹی بیچنا سعودی عرب کے لئے آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس سے اس کی معیشت کو بھی نقصان ہوگا لیکن پراپرٹی ضبط ہونے سے بچنے میں زیادہ فائدہ ہوگا لیکن اس کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کے رشتوں میں مزید کشیدگی آ جائے گی۔ اوبامہ ممبران پارلیمنٹ کو منانے میں لگے ہیں۔ سعودی عرب سب سے بڑے تیل برآمدات اور امریکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔ اوبامہ انتظامیہ، پینٹاگان اور محکمہ خارجہ نے اپنے سینیٹروں کو خبردار کردیا ہے کہ بل پاس ہونے سے نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب ہوں گئے بلکہ اقتصادی نظام بھی بگڑ سکتا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ زبیر نے پچھلے مہینے امریکی دورہ کے وقت اپنے ملک کی جانب سے امریکی لیڈروں کو دھمکی کی جانکاری دی تھی۔اصل میں اس نئے امریکی قانون کے پاس ہونے کے بعد 9 ستمبر 2011ء کے متاثرین کو سعودی عرب کے خلاف معاملہ درج کرنے کی اجازت ہوگی۔
(انل نریندر)

عشرت جہاں معاملہ میں برے پھنسے چدمبرم

عشرت جہاں معاملہ میں سابق مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی پول کھل گئی ہے۔ یہ بیحد شرمناک ہے۔ اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ہی اس حلف نامے کو پہلے منظوری دی تھی جس میں لڑکی کو دہشت گرد بتایا گیا تھا اور پھر بعد میں اسے واپس لیکر وہ حلف نامہ تیار کرایا گیا تھا جس میں اسے بے قصور مانا گیا تھا۔ تازہ دستاویزات سے واضح ہوا ہے کہ عشرت کو آتنکی بتانے والے پہلے حلف نامہ کو وزیر داخلہ رہتے ہوئے چدمبرم نے ہی ہری جھنڈی دی تھی مگر ایک ماہ بعد دوسرے حلف نامہ میں اسے بے قصور بتایا تھا۔ وزارت داخلہ کی فائل کے مطابق عشرت جہاں کے آتنکی ہونے اور اس کے لشکر کے فدائی دستے کا ممبر ہونے کا دعوی کرنے والے حلف نامے کو خود چدمبرم نے 20 جولائی 2009ء کو ہری جھنڈی دی تھی لیکن ایک ماہ کے اندر نیا حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دے دیا۔ دوسرے حلف نامے میں انہوں نے شخصی طور سے تبدیلیاں کی تھیں۔ اس معاملہ میں گہری جانچ ہونی چاہئے بلکہ اس کی بھی کہ وہ ایسی جعلسازی کیسے کرسکے؟ ایسا اس لئے ضروری ہے کیونکہ اگر دیش کا وزیر داخلہ کسی وزیر اعلی کا سینئرپولیس افسر و سکیورٹی افسروں کا کیریئر تباہ کرنے کے لئے اس حد تک جا سکتا ہے تو پھر دیگر کسی کے خلاف تو وہ ہر طرح کی سازش تیار کرسکتا ہے۔ اس جعلسازی کی وجہ سے بھارت کی دو بڑی جانچ ایجنسیاں آئی بی اور سی بی آئی آمنے سامنے آگئی ہیں۔ اس کی وجہ سے سینئر گجرات پولیس کے ڈی جی ونجارا کو 8 برس تک جیل میں رہنا پڑا۔
ووٹ بینک کی خاطر کانگریس کتنی گر سکتی ہے اس سے پتہ چلتا ہے۔ چدمبرم نے جو کچھ کیا اس میں پارٹی صدر سونیا گاندھی، نائب صدر راہل گاندھی کی رضامندی بھی رہی ہوگی۔ ایک آتنکی کو بے قصور بتانا ایماندار افسروں کو جھوٹ کے پلندے میں زبردستی لپیٹتا چھل کپٹ کے ساتھ ساتھ مجرمانہ قدم بھی ہے۔ کیا اس سے زیادہ شرمناک اور کچھ ہوسکتا ہے کہ حکمراں سرکار اور اس کے سینئر وکیل آئینی وقار کو تار تار کریں؟ چدمبرم نے اتنا ہی نہیں کیا انہوں نے اندھی نریندر مودی مخالفت میں بہہ کر ایک طرح سے آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے من کے مطابق کام کیا کیونکہ وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ عشرت جہاں کو آتنکی کے طور پر نہ جانا جائے۔ چدمبرم کے ساتھ ساتھ میڈیا کے کچھ لوگوں کا بھی اس سازش میں پردہ فاش ہوگیا ہے۔ ان لوگوں نے مل کر پچھلے کچھ برسوں میں بھارت کی ساکھ کو دنیا میں نقصان پہنچایا ہے اب سب کے سامنے ہے۔ کانگریس پارٹی اور چدمبرم اتنا کچھ ثابت ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بے قصور بتا رہے ہیں اس لئے معاملہ کی پوری سچائی سامنے آنی چاہئے۔
(انل نریندر)

22 اپریل 2016

سشما سوراج کاتہران۔ماسکو دورہ

وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج کی ایران اور روسی و چینی لیڈروں سے ملاقاتیں کئی نقطہ نظر سے اہمیت کی حامل ہیں۔ چاہے معاملہ ایران سے تیل کا رہا ہو یا پھر چین سے اظہرمسعود معاملہ اٹھانے کا رہا ہو ، بین الاقوامی پالیسیاں کسی اخلاقیاتی اوراصولی کے بجائے جنگ و سیاسی مفادات پر ہوتی ہیں۔مسعود اظہر کے معاملے میں چین سے پاکستان کے تئیں جھکاؤ کو اسی سلسلے میں دیکھنا ہوگا۔ لمبے وقت سے دہشت گرد سے لڑ رہے بھارت کا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے بین الاقوامی برادری کو اس پر دوہرا روخ ختم کرنا ہوگا۔ روس ، بھارت اور چین کے وزراء خارج کی ماسکو میں ہوئی چوٹی ملاقات میں وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج نے دیش کے اسی موقف کو دوہرایا اور آگاہ کیا کہ دہشت گردی پر دوہرہ رخ ان کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس لئے ہمیں اس بات سے ضرور تشفی حاصل ہوئی ہے کہ سشما جی نے ماسکو میں اکھٹے ہوئے وزراء خارجہ کی میٹنگ سے الگ چین کے وزیر خارجہ وانگ وی سے الگ مل کر اپنا اعتراض درج کرایا۔ مسعود اظہر اور لکھوی کے معاملے میں بھارت کی بین الاقوامی کوششوں کو چین نظرانداز کرتا رہا ہے اور ایسا کرنے کے پیچھے صاف طور پر پاکستان کو حمایت دینا ہے۔جب ممبئی میں 26/11 کا دہشت گرد حملہ ہوا تھا اور بھارت پاکستان کے دہشت گردی کے اڈوں پر نشانہ لگانے کی سوچ رہا تھا تب بھی چین کے نمائندے بغیر بلائے بھارت آئے تھے اور امن اور صبر سے کام لینے کی صلاح دے گئے تھے۔ اسی حملے کے سلسلے میں جب لکھوی کی رہائی کی بھارت نے مخالفت کی تھی تو بھی چین نے پاکستان کی حمایت کی تھی۔ حال ہی میں پٹھانکوٹ میں ہوئے حملہ کے اہم سازشی اور جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی آتنکی ہٹ لسٹ میں ڈالنے کی کوشش کی تو اسے صرف اس لئے ناکام کردیا گیا کیونکہ چین نے اس پر ویٹو کردیا تھا۔ اس لئے یہ اچھا ہے کہ سشما جی نے چین کو بھارت کے نقطہ نظر سے واقف کرادیا ہے۔ ماسکو سے پہلے سشما جی ایران کی راجدھانی تہران گئی تھیں۔ ایران بھارت کے لئے کئی معنوں میں بہت اہم ہے۔ ایران کے نیوکلیائی پروگرام کے خلاف مغربی دیشوں کی اقتصادی پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد ایران کے ساتھ توانائی سیکٹر میں تعلقات کے فروغ کے لئے تیل و گیس سیکٹر سمیت پیٹرو مصنوعات اور کھاد سیکٹر میں ایران کے لئے بہت اہم ہے۔ سشما سوراج نے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی، وزیر خارجہ جواد شریف سے سبھی اشوز پر تبادلہ خیالات کئے۔ بھارت۔ ایران سے تیل کی درآمدات بڑھانے کا بھی خواہشمند ہے جو فی الحال 350000 بیرل فی یومیہ کھپت ہے۔ ایران کی سرحد افغانستان و پاکستان سے لگی ہوئی ہے۔ ایرانی لیڈروں نے علاقائی اشوز خاص طور پر افغانستان اور آتنک واد کی چنوتی پر بھی بھارت کے ساتھ قریبی تبادلہ خیال کی امید ظاہر کی۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے سشما سوراج سے کہا بھارت اور ایران کے درمیان تاریخی طور پر بیحد گہرے کلچرل تعلقات رہے ہیں اس سے دونوں ملکوں کے بیچ سیاحت اور عوام کے درمیان روابط کی بہتر سانجھے داری بڑھانے کا راستہ بن سکتا ہے۔ بھارت اور ایران نے چاؤہار پروجیکٹ کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا۔ بھارت اور ایران میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ اس پروجیکٹ کے لئے کمرشل ٹھیکہ اور چاؤہاربندرگاہ کے لئے 15 کروڑ ڈالر کے مالی خرچ کے طور پر جلد دستخط کئے جائیں گے۔ کل ملا کر چاہے اشو دہشت گردی کا رہا ہو یا بھارت کی توانائی ضرورتوں کا رہا ہو سشما سوراج کا دورہ کامیاب رہا۔ ایران سے بھارت کے رشتے ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں اور کچھ وقت بعد وزیر اعظم کا بھی ایران جانے کا پروگرام ہے۔ سشما جی نے صحیح گراؤنڈ ورک کیا ہے۔
(انل نریندر)

کوٹ لکھپت جیل قبر گاہ بن کر رہ گئی ہے

پاکستان اپنی ناپاک حرکتوں سے شاید ہی کبھی باز آئے۔بس سوال یہی ہے کہ وہ کتنا گر سکتا ہے۔ انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ پاکستان کے برتاؤ میں کوئی مقام نہیں ہے کوٹ لکھپت جیل میں ہندوستانی قیدی کرپال سنگھ کی مشتبہ حالات میں موت کے 10 دن بعد اس نے منگل کے روز اس کی لاش بھیجی۔ 21 سال سے بھارت واپسی کی راہ دیکھ رہے کرپال سنگھ پردیسی نے 11 اپریل کو کوٹ لکھپت جیل میں آخری سانس لی تھی۔بھارت پہنچنے پر کرپال کی لاش کا امرتسر میڈیکل کالج میں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ اس سے پتہ چلا کہ پاکستانی ڈاکٹروں نے لاش سے پہلے ہی دل اور جگر نکال لیا تھا اور لاش کا لاہور میں بھی پوسٹ مارٹم ہوا تھا۔ پاکستان نے کرپال کی موت دل کا دورہ پڑنے سے بتائی تھی جس کے لئے دل اور جگر نکالا گیا۔ اندرونی اعضا کو نکال کر لیب میں بھیج دیا گیا جہاں واضح ہو گا کہ انہیں زہر دے کر تو نہیں مارا گیا؟ مئی2013ء میں پاکستان نے سربجیت سنگھ کی لاش بھی دل اور دونوں گردے نکال کر بھیجی تھی۔ کرپال سنگھ کے بھتیجے اشونی نے دعوی کیا کہ اس کے چاچا کوٹ لکھپت جیل میں سربجیت سنگھ پر ہوئے حملہ کے چشم دید گواہ تھے۔ پاکستان سرکار کو اندیشہ تھا کرپال سنگھ کی رہائی کے بعد سربجیت پر ہوئے حملہ کا سچ سامنے آجائے گا اس لئے ایک سازش کے تحت کرپال سنگھ کا قتل کیا گیا۔ دراصل پاکستان کی کوٹ لکھپت جیل قبر گاہ بن کر رہ گئی ہے۔ یہاں پچھلے تین برسوں میں تین ہندوستانیوں کا بے رحمانہ قتل ہوا ۔جنوری2013 ء میں جموں و کشمیر کے پونچھ کے باشندے جیمل سنگھ کی اسی جیل میں قیدیوں کی پیٹ پیٹ کر ہتیا کردی تھی۔ سربجیت سنگھ کو بھی کوٹ لکھپت جیل میں حملہ کرکے مار دیا گیا تھا ۔ اندیشہ ہے کہ اب کرپال کو بھی جیل میں پیٹ پیٹ کر ہی مارا گیا ہے۔ پاکستان سرکار نے جیمل سنگھ کی موت کے اسباب دل کا دورہ پڑنا بتائے ہیں ۔ اب وہ کرپال سنگھ کی موت بھی دل کا دورہ پڑنے سے بتائی جا رہی ہے۔ لاش کی حالت دیکھ کر کرپال سنگھ کے رشتے داروں نے پاکستان کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ خاندان نے کرپال سنگھ کے قتل کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاش کے چہرے اور جسم پر چوٹ کے نشان ہیں۔ جیل میں مرے کرپال سنگھ کی لاش کے ساتھ آئے سامان میں ایک خط بھی ملا ہے جو اس نے موت سے پہلے اپنے گھر والوں کو لکھا تھا لیکن ڈاک میں ڈال نہیں پایا۔خط میں وہ خاندان سے اپیل کررہا تھا کہ اس سے ملنے آؤ یا اسے یہاں سے نکالنے کے لئے کوئی وکیل کرو۔ وہ بے قصور ہے اور اسے جبراً پھنسایا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

21 اپریل 2016

نتیش کمار کا سنگھ ۔بھاجپا مکت نعرہ

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے پارٹی صدر بننے کے بعد اپنے پہلے پبلک پروگرام میں دیش کو آر ایس ایس اور بھاجپا سے نجات دلانے کا نعرہ دیا ہے۔ دراصل نتیش دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اب صرف بہار کے وزیر اعلی نہیں بلکہ ایک قومی لیڈر کے طور پر ابھر رہے ہیں اور وزیر اعظم بننے کے لائق ہیں۔ ابھی تک اپوزیشن پارٹی کانگریس کو نشانے پر رکھ کر الگ مورچہ بنانے کی بات کیا کرتے تھے لیکن اب وہ تجزیہ بدل گیا لگتا ہے۔ حالانکہ نتیش نے یہ اشارہ تو ابھی نہیں دیا کہ کن پارٹیوں کو ایک جھنڈے کے نیچے لانے کی کوشش ہونی چاہئے لیکن ظاہر ہے کہ ان کی مراد سماجوادی آئیڈیالوجی میں یقین کرنے والی اور کچھ بڑی علاقائی پارٹیوں کو جوڑنے میں ہوگی۔ ویسے بتادیں کہ یہ پہلا موقعہ نہیں کہ جب الگ مورچہ بنانے کی بات اٹھی ہو۔ کئی بار ایسی کوشش ہوچکی ہے۔ کچھ موقعوں پر تو ایسے اتحادوں کو مرکزی اقتدار سنبھالنے کا موقعہ بھی ملتا مگر حقیقت یہ ہے کہ نظریہ اور برتاؤ میں اتنی کامیابی نہیں ہوسکی۔ دراصل پہلے لوک سبھا چناؤ کے وقت ملائم سنگھ یادو نے بھی تمام چھوٹی پارٹیوں کو چھوڑ کر بھاجپا اور کانگریس کے سامنے تیسرا مورچہ کی شکل میں ایک طاقتور چیلنج پیش کرنے کی پہل کی تھی لیکن وہ سرے نہیں چڑھ سکی۔اب نتیش کمار بھاجپا کا ہوا دکھا کر سبھی پارٹیوں کو جوڑنے کی بات کررہے ہیں۔یقینی طور سے اس کے پیچھے دو بڑی وجہ ہوسکتی ہیں۔ پہلے بہار اسمبلی چناؤ میں بنے اتحاد کا اثر اور دوسرا بڑے سیاستداں پرشانت کشور ۔ گزشتہ برس مشن بہار میں نتیش کمار کو این ڈی اے پر بڑی بڑھت دلانے والے حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے اب بہار کے وزیر اعلی کے لئے مشن 2019 کی کہانی لکھنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اگلے لوک سبھا چناؤ میں تین سال باقی ہیں لیکن امکانی چناؤ جنگ کو نتیش بنام مودی میں تبدیل کرنے کی تیاری ابھی سے شروع ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں نتیش بھاجپا کے راشٹرواد کے جواب میں مذہب اور سیکولرازم اور سماجی انصاف کی پچ پر بیٹنگ کرتے دکھائی دیں گے۔ اس کے لئے پچھلے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دینے والے پرشانت نے نتیش کو سنگھ مکت اور بھاجپا مکت بھارت کا نعرہ دیا ہے۔ پہلی بار جب جنتا دل (یو) کی کمان سنبھال کر مرکز کی سیاست میں مودی مخالف سیاست کا مرکز بننے کی کوششوں میں لگے نتیش 5 ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے بعد بھاجپا مخالف طاقتوں کو متحد کرنے کی مہم چھیڑیں گے ایسے میں سوال کھڑا ہورہا ہے کہ بھاجپا مکت دیش کی بات کرنے والے نتیش کمار کے ساتھ آئے گا کون؟ اگلے سال بہار کے پڑوسی راجیہ اترپردیش میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں نتیش کی نظر یہاں کے چناؤ پر لگنی فطری ہی ہے۔ یہاں بھاجپا کے خلاف دو پارٹیاں ہیں سپا اور بسپا۔ یہ دونوں پارٹیاں نتیش کی اپیل پر ایک اسٹیج پر آئیں گی یہ ممکن نہیں لگتا۔ یہی صورتحال لیفٹ پارٹیوں کی ہے۔ وہ کئی ریاستوں میں مضبوط تو ہیں لیکن وہاں ان کی مخالفت بھاجپا و علاقائی پارٹیوں کے ساتھ ہے۔ بنگال میں ممتا بنرجی اور لیفٹ پارٹیاں آمنے سامنے ہیں۔ جے للتا اور کروناندھی ایک دوسرے کے کٹر حریف ہیں۔ کیرل میں تو نتیش کی ساتھی پارٹی کانگریس اور لیفٹ پارٹیاں بالکل آمنے سامنے ہیں۔ ایسے میں ممکن نہیں لگتا کہ بھاجپا کی مخالفت کے نام پر نتیش کے ساتھ آ پائیں گی۔ پھر یہ بھی ہے کہ ہر علاقائی پارٹی یا پھر کانگریس ۔ بھاجپا سے الگ پارٹی کے اپنے تجزیئے ہیں۔ سب نے ذات ،علاقائیت ،طبقات وغیرہ کے وجود کے نام پر اپنا مینڈیٹ بنا رکھا ہے اس لئے جب وہ ایک ساتھ ہوتی ہیں تو ان کے مفادات ٹکرانے لگتا ہیں۔ نتیش کمار خد اس سے پہلے بھاجپا کے تعاون سے اقتدار میں رہ چکے ہیں۔ ایسے میں متبادل سیاست کا نظریہ تب تک ہی مستقل حیثیت نہیں لے سکتا جب تک اپوزیشن پارٹیاں اپنے سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر ایک بڑے اصول کے لئے عہد بند نہیں ہوتیں۔
(انل نریندر)

کم عمر نوجوان پئیں شراب تو لائسنس منسوخ ہو

سڑک سکیورٹی کے تئیں سنجیدہ مرکزی حکومت قومی شاہراہوں سے اسپیڈ بریکر ہٹانے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ ریاستی حکومتوں اور بھارتیہ قومی شاہراہ اتھارٹی کو اسپیڈ بریکر ہٹانے کیلئے اسے جنگی سطح پر کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ قومی شاہراہوں پر بنے اسپیڈ بریکر ہٹانے اور اس کی جگہ رمبل اسٹرپ بنانے کے لئے نشان زد مقامات کی تفصیل 10 دنوں کے اندر دستیاب کرائیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اسی مہینے سبھی ریاستی حکومتیں ہندوستانی قومی شاہراہ اتھارٹی اسپیڈ بریکر سے متعلق اپنی رپورٹ مرکزی سڑک ، ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہ وزارت کو سونپ دیں گے۔غور طلب ہے کہ قومی شاہراہوں پر بنے اونچے اور خطرناک اسپیڈ بریکر تیز رفتار سے آنے والی گاڑیوں کے لئے حادثے کا سبب بنتے ہیں۔ رات میں اسپیڈ بریکروں پر چمکدار پینٹ نہ ہونے کی صورت میں اکثر گاڑیاں حادثے کا شکار ہوجاتی ہیں جس میں جان مال کا نقصان ہوتا ہے۔ لہٰذا انڈین روڈ کانگریس کی منظوری کے بعد قومی شاہراہ پر اونچے اسپیڈ بریکر کی جگہ رمبل اسٹرپ بنانے کی شروعات ہوگئی ہے۔ کچھ برسوں سے مرکزی سرکار کی طرف سے مسلسل کوشش کی جارہی ہے کہ قومی شاہراہوں پر رمبل اسٹرپ بنائی جائے لیکن اس پر عمل نہیں ہوپایا ہے۔ کچھ مقامی اتھارٹی کی طر ف سے قومی شاہراہ پر اسپیڈ بریکر بنانے کی وجہ سے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔سڑک سکیورٹی کی بات کررہے ہیں تو دہلی اور دیش کے دیگر شہروں میں کم عمر کے بچوں کے ذریعے شراب پی کر گاڑی چلانے کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ بار، ریسٹورنٹ، لانچ کو نشیڑی ڈرائیونگ کی خوفناک صورتحال سمجھ رہے ہیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر جنتا کے تئیں اپنی ذمہ داری تو ایسے بار، ریسٹوران، لانچ نگرانی کی سخت ضرورت ہے جہاں 25 برس کی عمر سے کمر نوجوانوں کو شراب پلائی جاتی ہے۔ اگر بار اور ریستورانوں میں 25 برس کے لڑکوں کو شراب پیتے پایا جاتا ہے تو ان کے لائسنس منسوخ کردئے جانے چاہئیں۔ یہ رائے زنی دہلی کی ایک عدالت نے ایک 19 سالہ لڑکے کے شراب پی کر گاڑی چلانے کے معاملے میں سماعت کرتے ہوئے کی تھی۔نوجوان کو مجسٹریٹی عدالت نے تین دن کی سزا سنائی۔عرضی19 سالہ نوجوان گرمیت سنگھ کی طرف سے دائر کی گئی تھی گرمیت سنگھ جب گاڑی چلا رہا تھا تو اس کے جسم میں کم از کم مقرر مقدار سے 9 گنا زیادہ شراب موجود تھی۔
(انل نریندر)

19 اپریل 2016

کیااس مرتبہ کامیاب ہوگی تمباکو پر پابندی

راجدھانی میں تمباکو ،گٹکھا، پان مسالہ یا کوئی بھی چبانے والی تمباکو مصنوعات بیچنے ،رکھنے یا بنانے پر اگلے ایک سال تک پابندی کو مزید بڑھا دیا ہے۔دہلی کے فوڈ سکیورٹی کمشنر نے نوٹیفکیشن جاری کرکے یہ اطلاع دی ہے۔ فوڈ سکیورٹی محکمہ کے ذریعے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمباکو کسی بھی طرح کا ہو لوگوں کی صحت کو خراب کرتا ہے اور آنے والی پیڑھیوں کی انسانی نشو ونما کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ دہلی کے وزیرصحت ستندر جین نے کہا کیونکہ گٹکھا اور تمباکو سے کینسر وغیرہ جیسے خطرناک امراض ہوتے ہیں اس لئے حکومت نے لوگوں کے مفاد اور اچھی صحت کے لئے یہ فیصلہ لیا ہے۔ راجدھانی میں حالانکہ تمباکو مصنوعات پر پابندی ایک سال سے ہے لیکن اس کا کوئی خاص اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ سرکاری پابندی کے باوجود دکانوں پرتمباکو اسی طرح سے بک رہا ہے جیسے کوئی فرمان جاری ہی نہیں ہوا۔یہ پابندی اس بار بھی بنیادی حقیقت بن پائے گی یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن دہلی حکومت کی یہ کوشش اگر کامیاب رہی تو یقینی طور سے اس کا سیدھا اثر عام لوگوں کی صحت پر ہوگا۔ پچھلے مارچ میں حکومت نے ایک سال کے لئے تمباکو پر پابندی لگائی تھی جس کے خلاف تمباکو مصنوعات بنانے والی کمپنیاں کورٹ چلی گئی تھیں اور حکم پر اسٹے لے لیا تھا۔ پچھلے مہینے یہ اسٹے ختم ہوگیا اور حکومت نے پھر سے پابندی لگانے کے لئے آرڈر جاری کردیا۔ ان نوٹیفکیشن کی بنیاد پر کسی بھی طرح کے چباکر کھانے والے تمباکو گٹکھا ،کھینی وغیرہ پر تو پابندی لگ گئی ہے لیکن اس نوٹیفکیشن میں سگریٹ ، بیڑی پر ابھی پابندی نہیں ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے چباکر کھانے والے تمباکو پر پابندی لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن یہ کامیاب نہیں رہی۔ ہندوستان میں تمباکو کینسر کی بڑی وجہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 90فیصدی منہ کے کینسر کی وجہ تمباکو ہی ہے اور دیگر کینسر میں بھی 40 فیصد تمباکو سبب بنتا ہے اور اس پر علاج کی شکل میں ہر سال 1 لاکھ کروڑروپے خرچ ہوتا ہے۔ ان نوٹیفکیشنوں کے بعد یقینی طور سے تمباکو بنانے والے عدالت کی پناہ میں جائیں گے جو لوگ تمباکو مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کھانا یا نہ کھانا یہ ان کا شخصی فیصلہ ہے اور اس میں کوئی سرکاری دخل اندازی نہیں ہونی چاہئے۔ ان کا خیال ہے کہ سرکار کا کام بس اتنا ہے کہ وہ ان مصنوعات کے استعمال سے ہونے والی نقصانوں کو بتائے اور پابندی نہ لگائے۔ پھر سرکار کے پاس ایسی نہ تو مشینری ہے اور نہ ہی مین پاور جو اس پابندی کو لاگو کرا سکے۔ پھر بھی دیکھیں کہ اس بار اس پابندی کیا اثر ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

وجے مالیہ پر کستا شکنجہ

9400 کروڑ سے زیادہ کے قرض کے ڈیفالٹر وجے مالیہ پر حکومت نے آخر کار شکنجہ کسنا شروع کردیا ہے۔ جمعہ کو مالیہ کا ڈپلومیٹک پاسپورٹ چار ہفتے کے لئے معطل کردیا گیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی صلاح پر وزارت خارجہ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ وجے مالیہ کو باقاعدہ ایک ہفتے کا نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے جس میں پوچھا گیا ہے کہ کیوں نہ ان کا پاسپورٹ ضبط کرلیا جائے یا منسوخ کردیا جائے؟ مالیہ کے خلاف کارروائی اس لئے بھی کی گئی ہے کیونکہ حکومت جان بوجھ کر قرض نہ چکانے والوں اور دھوکے بازوں کی طرف سے بینکوں کا پیسہ ہڑپنے کے اشو پر اب فکر مند دکھائی پڑتی ہے۔اس سال فروری تک کنگ فشر ایئر لائنس پر 9432 کروڑ روپئے کا قرض ہے اور اس نے جان بوجھ کر 13 بینکوں کا قرض چکا پانے میں اپنی لاچاری ظاہر کی تھی۔ ایئر لائنس کے اہم فیصلے لینے میں اہم رول نبھانے والے وجے مالیہ سیدھے طور پر ذمہ دار ہیں۔پیسے کا خرچ اور روک تھام قانون کے تحت جانچ افسران کے بار بار سمن جاری کرنے کے باوجود مالیہ کا پیش نہ ہونا جان بوجھ کر اسے ناکامی بتانے کے برابر ہے اور اس میں جانچ کی کارروائی جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے کی منشا نظر آرہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مودی سرکار جان بوجھ کر قرض نہ چکانے والو ں پر مقدمہ چلانے اور ان سے جنتا کا پیسہ وصولنے کے لئے عہد بند ہے۔
قرض کے اس معاملے میں مجرمانہ سازش اور کرپشن انسداد قانون کی دفعات کے تحت سی بی آئی جانچ کررہی ہے جبکہ سنگین دھوکہ دھڑی جانچ آفس قانونی کمپنی کی خلاف ورزی کی جانچ کررہا ہے۔اس کے علاوہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ پی ایم ایل اے کے تحت معاملہ کی تفتیش کررہا ہے۔ بحران میں پھنسے وجے مالیہ کی دقتیں اس وقت اور بڑھ گئیں جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کو ممبئی کی خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں عرضی دائر کرکے 900 کروڑ روپئے آئی ڈی بی آئی قرض دھوکہ دھڑی معاملہ میں ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے کی مانگ کی تھی۔ مانا جاتا ہے وجے مالیہ ان دنوں برطانیہ میں ہیں۔ ممبر پارلیمنٹ ہونے کے ناطے مالیہ نے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے سہارے 2 مارچ کو بھارت چھوڑ دیا تھا۔ اگر مالیہ کا پاسپورٹ منسوخ یا ضبط کیا جاتاہے تو انہیں بھارت لوٹنا ہوگا۔ اگر وہ نہیں لوٹے تو حکومت برطانیہ میں ان کو ڈیپوٹ کرنے کی کارروائی شروع کرسکتی ہے۔ مالیہ حالانکہ برطانیہ عدالت میں اپیل کرسکتے ہیں اگر برطانوی عدالت حکم دیتی ہے تو انہیں بھارت کو حوالگی سے روکا جاسکتا ہے۔ وجے مالیہ کی مشکلیں لگاتار بڑھ رہی ہیں لیکن للت مودی کی طرح وہ بھی برطانیہ میں لمبے عرصے تک رہ سکتے ہیں۔ سارا دارومدار اب وجے مالیہ پر ہے کہ اگر وہ کبھی بھی بھارت لوٹنا چاہتے ہیں تو انہیں جانچ ایجنسیوں کو تعاون دینا ہوگا۔
(انل نریندر)

17 اپریل 2016

کشمیر میں فوج کو بلا وجہ بدنام کرنے کی سازش

جموں و کشمیر کے علاقہ ہندواڑہ میں چار شہریوں کی موت کے بعد بھڑکے تشدد کی آگ میں پورا کشمیر اب جھلسنے لگا ہے۔ ہندباڑہ میں تشدد کے واقعات کے بعد سے حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ احتیاطاً انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے۔ وہیں لوگوں کی آمدورفت پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔ کپواڑہ ضلع کے ہندواڑہ میں ہوئی فائرنگ میں چار لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ غور طلب ہے کہ ہندواڑہ کے ایک جوان پر مبینہ طور سے ایک طالبہ کے ساتھ چھیڑ خانی کا الزام لگا تھا۔ اس کے بعد ناراض لوگوں نے جم کر ہنگامہ کیا جس کے چلتے فوج کو فائرننگ کرنی پڑی تھی۔ اس میں ایک ابھرتے ہوئے کرکٹر سمیت چارلوگوں کی موت ہوگئی تھی، جس کے بعد معاملہ نے طول پکڑ لیا۔ کچھ لوگوں نے ایک پولیس چوکی کو آگ لگادی۔ پہلے این آئی ٹی کے تنازعہ نے وادی اور جموں کے درمیان ذہنی خلیج کو اور بڑھایا ہی ہے اسی طرح ہنڈواڑہ کے واقعات کے مرکز کے تئیں لوگوں میں ناراضگی کم ہونے کے بجائے اور بڑھی ہے۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ حال کے واقعہ نے گمراہ کن پروپگنڈہ کی اصلیت سامنے لادی ہے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ وہاں بے روزگاری کے اشو کو لیکر پاکستان سرکار کے خلاف جم کر مظاہرے ہورہے ہیں۔ وہ بے روزگاری کے اشو کو لیکر پاکستان سرکار کو جم کر کوس رہے ہیں کیونکہ وہاں جو بھی تھوڑی بہت سرکاری نوکریاں نکلتی ہیں ان میں بھی پاکستان کے دیگر علاقوں سے بے روزگاروں کو بھردیا جاتا ہے۔ ان مظاہروں نے مقبوضہ کشمیر کی بدحال زندگی کی حقیقت اجاگر کردی ہے۔ ادھر ہندواڑہ میں ہوا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ فوج کو بے وجہ ویلن کے طور پر پیش کرنا کتنا آسان ہے۔ فوج کی طرف سے جاری ویڈیو سے ایک بات تو صاف ہے کہ افواہ پھیلانے والی مشینری نے بنا کسی بات کے ایک بات کا بتنگڑ رچ دیا ہے۔
خود متاثرہ کا کہنا ہے فوج کے کسی جوان نے اس کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی تھی۔ اس کا کہنا تو یہ ہے ایک مقامی لڑکے نے اس کا بیگ چھیننے کی کوشش کی اور اس کے ساتھیوں نے ہی اسے چوٹ پہنچائی تھی۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ’کوئی کرے کوئی بھرے‘ چار بے قصور اس جھوٹ کا شکار ہوئے اور فوج کو بلا وجہ ویلن بنا دیا گیا۔ کشمیر میں یہ علیحدگی پسند جن کو پاکستان سے پوری مدد ملتی ہے ایسی افواہیں پھیلا کر ہندوستان کے خلاف ماحول بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ اب جب محبوبہ مفتی نے جموں کشمیر کی کمان سنبھالی ہے امید کی جاتی ہے کہ وہ ان علیحدگی پسندوں اور افواہ پھیلانے والوں کو کنٹرول کریں گی۔ویسے بھی یہ معاملہ صوبے میں لاء اینڈ آرڈر سے وابستہ ہے۔
(انل نریندر)

یکا یک سودیشی نعرہ دوسرے کاجیوک سہارا ،باباؤں کی موج

دیش میں پیک شدہ فوڈ سیکٹر میں 2015 میں ہماری ایسی دیسی کمپنیاں غیر ملکی ملٹی نیشنل فوڈ کمپنیوں پر بھاری پڑی ہیں ۔ مارکیٹ ریسرچر یورومانیٹر کے ایک سروے کے مطابق2015 میں امول، مدر ڈیری، برطانیہ، روچی سویا، پارلے پروڈیکٹس جیسی ملکی کمپنیوں کا دبدبہ رہا جبکہ سوئٹزرلینڈ کی بڑی کمپنی نے نیسلے اوور آل رینکنگ میں پانچویں پائیدان نیچے گر گئی ہے۔ مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے صرف 3 کثیر ملکی کمپنیاں مونڈلیج ،نیسلے اور پیپسی ہی ٹاپ 10 کمپنیوں میں جگہ بناسکی ہیں۔ملک کی بڑی کمپنیوں نے ڈسٹریبیوشن بڑھانے ، دیہی علاقوں میں پہنچ بنانے اور کم قیمت پر چھوٹے پیک اتارنے کا فائدہ اٹھایا ہے۔ یورو میٹر کے مطابق دیش کا پیکیج فوڈ مارکیٹ پچھلے کلنڈر ایئر میں 2572 ارب روپے کا تھا۔ 2014 ء سے اس میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جب ہم ملکی کمپنیوں کی بات کرہی رہے ہیں تو بزنس مین بابا دھرم ادھیاتم اور یوگ کے ساتھ کاروبار میں اترے باباؤ ں کیلئے بھارت کے اندر ایک بڑا بازار کھلا ہے۔ یوگ گورو بابا رام دیو ’’سو دیشی اپناؤ ‘‘ اور سنت گرمیت رام رحیم کا زہر ہٹاؤ، جیوک لاؤ ‘ کے نعرے بہت کام آرہے ہیں۔ ان برانڈ باباؤں کے لئے ہریانہ میں کاروباری حالات بھی بہتر ہیں۔ ہریانہ رام دیو کا آبائی وطن ہے تو راجستھان کے گنگا نگر میں پیدا رام رحیم کا کام کا علاقہ ہے۔
بھکتوں کے اس کھیل اور کاروبار کا سیاسی کنکشن بھی مضبوط ہے۔ دونوں کے بھکتوں کی بڑی تعداد انہیں کاروبار بڑھانے میں مدد گار ہورہی ہے۔ پتنجلی کے ایک سینئر افسر کہتے ہیں کہ 2006ء میں شروع ہوئی پتنجلی کے آج دیش میں 5 ہزار خوردہ اسٹور ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 1 ہزار ہریانہ میں ہیں۔ پتنجلی اکیلے ہریانہ میں700 کروڑ روپے کا سالانہ کاروبار کررہی ہے۔ اگلے سال 5 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کر کاروبار10 ہزار کروڑ تک پہنچانے کا ٹارگیٹ ہے۔ ایف ایم سی جی کمپنیوں کے مقابلے میں پتنجلی اور ایم ایس جی کے زیادہ تر پروڈیکٹس کی قیمت15فیصد تک کم ہے۔ ایم ایس جی برانڈ (رام رحیم) کے ترجمان کے مطابق ہریانہ میں 250 سے زیادہ برانڈ اسٹور کھل چکے ہیں۔ 300 سے زیادہ ڈیلر بن چکے ہیں ان کا نشانہ دیش میں 1500 اسٹور کھولنے کا ہے۔ بابا کے بھکتوں کے ساتھ عام لوگ بھی پروڈکٹس کا استعمال کررہے ہیں۔ پتنجلی کی تو پبلسٹی بھی ملکی جذبات کی بنیاد پر رہی ہے۔ ان میں جڑی بوٹیوں ڈجیوک فصلوں، گائے بھیس کے دودھ شامل کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے۔ پتنجلی کے 800 پر وڈکٹس کی لسٹ ہے۔ مانگ بڑھنے کے بعد سپلائی کے لئے آؤٹ سورسنگ کا سہارا بھی اب لیا جارہا ہے۔ خبر ہے کہ شری شری روی شنکر بھی شری شری پروڈکٹس کے نام سے جلد بازار میں اترنے جارہے ہیں۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...