Translater

22 اگست 2015

الہ آباد ہائی کورٹ کا دور رس تاریخی فیصلہ

الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز اترپردیش کے پرائمری اسکولوں کی بدحالی پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے عوامی نمائندوں، حکام اور جج صاحبان کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھانا ضروری کردیا ہے۔ جو نہیں پڑھائیں گے اسے پرائیویٹ اسکولوں کی فیس کے برابر پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرانا ہوگا۔ اتنا ہی نہیں عدالت نے کہا کہ جو لوگ اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں نہیں پڑھائیں گے ان کا پرموشن اور ترقی بھی روک دی جائے گی۔ فیصلہ اگلے سیشن سے لاگو ہوگا۔ عدالت نے اترپردیش کے چیف سکریٹری کو حکم دیا ہے کہ وہ طے کرے کہ سرکاری خزانے سے تنخواہ یا دیگر مراعات یا کسی طریقے سے پیسہ لینے والوں کے بچے ضروری طور سے یوپی بورڈ کے اسکولوں میں ہی پڑھیں۔ عمل پر ریاستی سرکار کو چھ مہینے کا وقت دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاست میں تین طرح کا تعلیمی نظام ہے۔ انگریزی کانوینٹ اسکول، درمیانے طبقے کے پرائیویٹ اسکول اور سرکاری اسکول ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کے گرتے معیار کے بارے میں تو سب کو پتہ ہے لیکن اسے ناسور بننے سے روکنے کے لئے کوئی تیار دکھائی نہیں پڑتا۔ اس حکم کے جواز کو لیکر بحث ہوسکتی ہے کہ آخر یہ سب اتنی جلدی کیسے ممکن ہوگا۔ یا اس حکم کو بنیادی حق سمیت آئینی تقاضوں و اختیارات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ پانچ سال کی مکمل اکثریت والی سرکار چل رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی پر ذمہ داری ہے کہ وہ جوابدہی کا شکنجہ کستا ہے کیونکہ کوئی ووٹ بینک کی خاطر اس کے عہد میں تعلیمی سیکٹر میں ایسے تجربے کئے گئے ہیں، جنہوں نے کم سے کم بنیاد کہلانے والی ابتدائی تعلیم کا تو کچومر ہی نکال دیا ہے۔ 
ٹیچروں کی بھرتی میں لاپرواہی تو عام ہے ۔ سپا نے ووٹ بینک بنانے کیلئے نیم تعلیم یافتہ یا نااہل شکشا متروں کو ہی ٹیچر بنا دیا۔ بہت ممکن ہے کہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج دینے کے لئے قانونی متبادل پر بھی غور کیا جارہا ہو۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ عدالت میں پالیسی سازوں اور سرکاری ملازمین کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ آخر یہ جوابدہی کوئی لینے کو تیار کیو ں نہیں ہوتا کہ سرکاری اسکولوں کی حالت دن بدن خراب کیوں ہوتی جارہی ہے؟ اور یہ حالت صرف اترپردیش کی ہی نہیں بلکہ پورے دیش کے پرائمری اسکولوں کا یہی حال ہے۔2013-14 کی اس ڈائس (ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجو کیشن) کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کس طرح دیش میں پرائمری اسکولوں کا ڈھانچہ چرمرار رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ دیش کے پرائمری اسکولوں کا ہر پانچواں ٹیچر صلاحیت نہیں رکھتا۔ باقی بنیادی سہولیات کی بات چھوڑ دی جائے تو یہ حکم میل کا پتھر ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ وزیر، ایم ایل اے یا عوامی نمائندہ یا سرکاری ملازم کوئی بھی اپنے بچوں کو سرکاری اسکول بھیجنے کیلئے راضی نہیں ہے لہٰذا حالت بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں لے گا۔
(انل نریندر)

حافظ سعید ، آئی ایس آئی نے نوید کو آتنکی سبق پڑھایاتھا

ممکن حملے (26/11) کے ماسٹر مائنڈ اور لشکر طیبہ کا چیف حافظ سعید بھارت کے خلاف آتنکی سازش سے باز نہیں آرہا ہے۔ اودھم پور حملے میں زندہ پکڑے گئے نوید کے مطابق خود حافظ سعید ٹریننگ کیمپ میں دہشت گردی کا سبق پڑھاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دہشت گردوں کو سعید کی زہریلی تقریروں کے ویڈیو بھی دکھائے جاتے تھے۔ دہشت گرد نوید نے کئی باتیں اگلی ہیں۔ اس کے لائی ڈٹیکٹر ٹیسٹ (جھوٹ سچ کی جانچ) سے کئی انکشاف ہوئے ہیں۔ قومی جانچ ایجنسی این آئی اے کے حکام کے مطابق پوچھ تاچھ میں نوید نے قبول کیا ہے کہ وہ ٹریننگ کے دوران آئی ایس آئی کے بڑے افسران سے ملا تھا۔ ان میں ابو طلحہ بھی شامل ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ پوچھ تاچھ میں کشمیر میں اپنے روابط کو لیکر جھوٹ بول رہا تھا۔ یہ پوچھے جانے پر کے لائی ڈٹیکٹر ٹیسٹ میں نکلی کتنی باتیں سچ ہوں گی۔
جانچ حکام نے کہا کہ نوید پاکستان میں اپنے گھر ،خاندان ، لشکرطیبہ اور اسکے دہشت گردوں کے بارے میں صحیح صحیح جانکاری دے رہا ہے۔ اپنے دئے گئے پتے کا ذکر وہ پہلے بھی کرچکا ہے اور اس کے ثبوت بھی مل چکے ہیں۔ ٹریننگ کے دوران سوالوں میں اسے دوہرایا گیا ہے اور سو فیصدی ایک ہی جواب ملا۔ حالانکہ پولی گراف ٹیسٹ کی فائنل رپورٹ کا اب افسران انتظارکررہے ہیں اس کے بعد این آئی اے اور خفیہ ایجنسیوں کے افسران اس سینئے سرے سے پوچھ تاچھ کریں گے۔ لائی ڈٹیکٹر ٹیسٹ سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ وہ پاکستان کے فیصل آباد کا رہنے والا ہے اور لشکر طیبہ کے آتنکی ابو قاسم نے اسے ٹریننگ دی تھی۔ کشمیر میں پکڑے جانے کے دو مہینے پہلے اس نے تین دیگر آتنک وادیوں کے ساتھ سرحد پار کی تھی لیکن کشمیر میں گزارے دو مہینے کے بارے میں وہ کئی باتیں چھپا رہا ہے۔ نوید اور اس کے ساتھیوں نے 6-7 جون کو لشکر طیبہ کے تین دیگر دہشت گردوں کے ساتھ ٹنگ مرگ علاقے کی نوری چوکی سے کشمیر میں دراندازی کی تھی۔ نوید نے بتایا کہ اس نے مرکزی خیبر میں واقع دہشت گرد کیمپ میں تین مہینے تک ٹریننگ لی تھی۔ اس کیمپ میں 20سے25 دہشت گردوں کو ٹریننگ دی گئی۔ یہاں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے افسر انہیں جہاد کے طریقے سکھاتے تھے۔ حافظ سعید کی تقریروں کے ویڈیو بھی انہیں بار بار دکھا کر جہاد کے لئے ترغیب دی جاتی تھی۔ نوید نے بتایا کہ اس کے والد کا نام محمد یعقوب ہے اور وہ پاکستانی پنجاب کی رفیق کالونی ، غلام محمد آباد ، ٹوکیاں والی، ضلع فیصل آباد کا رہنے والا ہے۔ نوید کے مطابق اس کے والدین دہشت گرد بننے سے خوش نہیں تھے لیکن لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے دھمکی دے کر انہیں چھپ کرادیا تھا۔
(انل نریندر)

21 اگست 2015

بینکاک کے برہما مندر پر آتنکی حملہ؟

تھائی لینڈ کی راجدھانی بینکاک عموماً خاموش رہنے والا شہر شمارہوتا ہے لیکن اس شہر میں پیر کے روز ایک زبردست آتنکی حملہ ہوا۔ بنکاک میں برہما مندر کے سامنے پیر کی شام ہوئے اس خوفناک بم دھماکے میں 27 لوگوں کی موت ہوگئی اور80 سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ دھماکہ ایسے وقت کیا گیا جب بھیڑ سب سے زیادہ تھی۔ بتایا جارہا ہے کہ بم بائیک میں رکھا گیا تھا۔ پولیس نے دو غیر مستعمل بم بھی برآمد کئے ہیں۔ وزیر دفاع وانگ سوان نے بتایا کہ بم مندر کے اندر بھی لگائے گئے تھے۔ سینٹرل بنکاک میں واقع یہ مندر بھگوان برہما کا ہے۔ شام کے وقت مندر کے اندر اور باہر لوگوں کی بھیڑ تھی۔ اچانک پارکنگ میں کھڑی موٹر بائیک میں بم دھماکہ ہوا۔ یہ ریمورٹ کنٹرول سے کیا گیا تھا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ لاشو ں کے ٹکڑے کئی میٹر تک بکھرے پائے گئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق متوفین افراد میں 4 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ دھماکے میں زخمی زیادہ تر لوگ سیاہ ہیں۔ سینٹرل بنکاک میں اس طرح کی پہلی واردات ہے۔ تھائی حکام نے اس مشتبہ بمبار کی تلاش شروع کردی تھی جس پر انہیں بھگوان برہما کے بعد بیحد مشہور مندر میں بم رکھنے کا شبہ ہے وزیر اعظم پربھت مان اویا نے بتایا کہ دھماکہ کی جگہ کے پاس سی سی ٹی وی کیمرے میں ایک مشتبہ شخص نظر آیا ہے۔ سازش کنندگان نے اس واقعے کو انجام دینے کے لئے کئی لوگوں کا استعمال کیا۔ دھماکے میں جو طریقے اپنائے گئے ہیں وہ دیش کے ساؤتھ میں موجودہ مسلم علیحدگی پسندباغیوں کے طور طریقوں سے میل نہیں کھاتا۔ بم حملہ تھائی سرکار کی حالیہ مہم کی مخالفت کا حصہ ہوسکتا ہے۔جس مندر کے سامنے دھماکہ ہوا وہ ایراون شرائن کہلاتا ہے۔ ہندو اور بودھو کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی یہاں آتے جاتے ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تر چینی اور تائیوانی لوگ ہیں۔ کسی ہندوستانی کی اس دھماکے میں موت نہیں ہوئی ہے۔ وزیر دفاع وانگ سوان نے کہا کہ حملے کا مقصد سیاحت اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے لئے جان بوجھ کر غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے اخبار نویسوں سے کہا کہ حملہ آوروں نے غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا تاکہ تھائی لینڈ کی سیاحت اور معیشت کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ حکام نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور کی فوٹو جاری کی گئی ہے۔ تھائی لینڈ میں مسلم کٹر پسند گروپ بھی سرگرم ہے لیکن فی الحال ان کی کارروائی ساؤتھ کے مسلم اکثریتی صوبوں تک محدود رہتی ہے۔ ایسے میں پریشان کرنے والا سوال یہ ہے کہ کیا تھائی لینڈمیں بین الاقوامی دہشت گردی سے جڑے کسی گروپ کا بالواسطہ غیر بالواسطہ اثر تو نہیں بڑھ رہا ہے؟
(انل نریندر)

اروند کیجریوال کے الزامات کی توثیق سی اے جی رپورٹ

عام آدمی پارٹی کے کنوینر و دہلی کے وزیر اعلی آج ضرور خوش ہوں گے کہ وہ جو الزام دہلی میں بجلی کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں پر لگایا کرتے تھے ان کی توثیق سی اے جی نے کردی ہے۔ راجدھانی میں بجلی تقسیم کررہیں بجلی کمپنیوں نے پچھلے 12 سالوں میں گراہکوں سے 8 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ وصولی کی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے یہ الزام سی اے جی کی ایک انگریزی اخبار میں رپورٹ ڈرافٹ (آؤٹ ہونے) چھپنے کے بعد لگایا ہے۔ ڈسکام پر جاری رپورٹ میں سی اے جی نے کہا ہے کہ دہلی سیکٹر کی تین پرائیویٹ بجلی کمپنیوں نے گراہکوں سے بقایا وصولی کی رقم کو بڑھا کر8 ہزار کروڑ روپے پیش کیا ہے۔ ڈسکام پر جاری رپورٹ میں سی اے جی نے کہا ہے کہ تین پرائیویٹ بجلی کمپنیوں بی ایس ای ایس، جمنا پاور لمیٹڈ اور بی سی سی ایس راجدھانی پاور لمیٹڈ (انل انبانی ، ریلائنس گروپ کی کمپنیاں) اور ٹاڈا پاور دہلی ڈسٹریبیوشن لمیٹڈ نے صارفین سے متعلقہ اعدادو شمار میں چھیڑ چھاڑ کی اور فروختگی کے ڈرافٹ کو صحیح طرح سے پیش نہیں کیا۔ ساتھ ہی تینوں کمپنیوں نے کئی ایسے فیصلے لئے جو صارفین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے تھے۔ ایسے فیصلوں میں مہنگی بجلی خریدنا، لاگت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، محصول کو دبانا، بغیر ٹنڈر نکالے ہی دیگر پرائیویٹ بجلی کمپنیوں کے ساتھ سودے کرنا اور اپنے گروپ کی کمپنیوں کو غلط طریقے سے فائدہ پہنچانا شامل ہے۔ کمپنیوں کے ذریعے کی گئی سب سے بڑی گڑبڑیوں میں ریگولیٹری اثاثے کو بڑھاچڑھا کر بتانا ۔ اس اثاثے سے پہلے یہ ہوا ایسا اندازہ ہوتا ہے۔ جسے صارفین سے وصول کیا جاسکتا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ دہلی کی سابقہ حکومتیں اپوزیشن اور توانائی محکمے کے حکام کی ملی بھگت سے نجی کمپنیاں پچھلے 12 برسوں سے جنتا کو لوٹ رہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے اس معاملے میں دہلی الیٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ڈی ای آر سی) کے کردار کو بھی مشتبہ بتایا۔ پارٹی نے اس معاملے میں بجلی کمپنیوں کے مالکوں سے اس گڑ بڑ گھوٹالے میں شامل حکام اور سیاستدانوں کے خلاف مجرمانہ معاملہ درج کرنے کی مانگ کی ہے۔ادھر ذرائع کے مطابق دہلی سرکار اس معاملے میں قانونی رائے لے گی اور دہلی ہائی کورٹ سے اپیل کرے گی کہ سی اے جی رپورٹ عام کی جائے۔ رپورٹ عام ہونے کے بعد سرکار اس معاملے میں سخت قدم اٹھا سکتی ہے۔ بتا دیں کہ سی اے جی آڈٹ کے دوران سی اے جی نے کئی بار الزام لگایا تھا کہ بجلی کمپنیاں آڈٹ میں تعاون نہیں دے رہی ہیں جس کی وجہ سے آڈٹ میں دقت آرہی ہے۔کمپنیوں پر یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ کمپنیوں نے سی اے جی کو ضروری رپورٹ جمع نہیں کی۔ ڈسکام نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ یہ قطعی رپورٹ نہیں ہوسکتی۔ سی اے جی آڈٹ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے اور یہ تعجب کی بات ہے کہ بغیر ہائی کورٹ کے حکم کے یہ رپورٹ باہر کیسے آئی؟ بی ایس ای ایس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سی اے جی آڈٹ کی کسی بھی رپورٹ کی اشاعت کی اجازت پر پوری طرح روک لگی ہوئی ہے کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے مزید دلیل دی ہے کہ سی اے جی آڈٹ کی کارروائی پوری ہی نہیں ہوئی ہے کے سی اے جی ڈسکام کے خلاف کسی منفی نتیجے پر پہنچ گئی ہے۔ بتا دیں کہ سیاست میں آتے ہی اروند کیجریوال نے دہلی کی ان بجلی کمپنیوں کے خلاف مہم چلائی تھی۔ بجلی بل میں بڑھتی جاری گڑبڑیوں کے معاملے میں وہ مشرقی دہلی میں کئی دنوں تک بھوک ہڑتال پر بھی بیٹھے تھے۔ سال 2012 میں اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعلی نے بجلی کمپنیوں کے خلاف سی اے جی آڈٹ کا حکم جاری کیا۔ آج یقینی طور سے اروند کیجریوال کی محنت رنگ لائی اور ان کمپنیوں کی دھاندلیوں اور جنتا کو لوٹنے کا گورکھ دھندے کا پردہ فاش ہوا ہے۔
(انل نریندر)

20 اگست 2015

مرحبا (استقبالیہ) نمو، متحدہ عرب امارات کی کامیاب سفر

مرحبا نمو. ایسے ہوا ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کا جب وہ ابو ظہبی کے مصدر شہر میں گئے. وزیر اعظم نریندر مودی کی دو روزہ امارات کا دورہ کئی طریقوں میں اہم اور تاریخی رہی. ایک بہت طویل عرصے کے بعد بھارت کا وزیر اعظم یو اے ای گیا. وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دو روزہ متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران اس ملک کے ساتھ کاروباری اور دہشت گردی جیسے ضروری مسائل پر تعاون کے علاوہ ہندوستان کو ایک شاندار سرمایہ کاری رسپوٹ کے طور پر سرمایہ کاروں میں پیش کیا. نریندر مودی سے پہلے اندرا گاندھی یو اے ای گئی تھیں. لیکن مودی نے چونکا دیا ظہبی کی شیخ زید مسجد پہنچ کر. وزیر اعظم بننے کے بعد وہ پہلی بار کسی مسجد میں گئے. یہاں ہزاروں لوگ مودی مودی کے نعرے لگا رہے تھے. مودی نے مسجد کے ساتھ سیلفی لی بھی لی. پیر کو مودی سب اونچی عمارت برج خلیفہ گئے. مکہ اور مدینہ کے بعد شیخ زید مسجد دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد ہے. 30 ایکڑ زمین پر 960 ضرب 1380 فٹ کے علاقے میں بنی ہے. اس کی تعمیر 1996 سے 2007 کے درمیان 13 ممالک کے تین ہزار کاریگروں نے پورا کیا. مودی نے مسجد میں 40 منٹ گزارے. انہوں نے تقریبا 54 کروڑ ڈالر کی لاگت سے بنی اس مسجد کی مہمان خصوصی کتاب میں لکھا کہ میں شاندار، بہت بڑا، خوبصورت عبادت گاہ میں آکر پسنن ہوں. وزیر اعظم نریندر مودی کی یو اے ای یعنی متحدہ عرب امارات کا دورہ اس معنی میں زیادہ اہم ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت اور سیکورٹی کے محاذوں پر قریبی تعلقات کے باوجود خارجہ پالیسی اور سفارتکاری کی سطح پر دونوں اطراف کے درمیان طویل خاموشی چھائی ہوئی تھی. قریب ساڑھے تین دہائی پہلے وقت وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جب متحدہ عرب امارات کے دورے کی تھی تب سے عالمی مناظر اور سیاست دونوں میں کافی تبدیلی آ چکا ہے. آج ہندوستان یو اے ای کے ساتھ تیسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور سیاسی لحاظ سے بھی دونوں پرانے دوست ہیں. اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لئے متحدہ عرب امارات بھارت میں آپ کی سرمایہ کاری کے لیے وقف بنیادی ڈھانچہ کے ذریعے بڑھا 75 ارب ڈالر یعنی 5 لاکھ کروڑ روپے تک کرنے کو اتفاق ہو گیا ہے. دونوں ممالک اگلے پانچ ورشے میں دو طرفہ تجارت کو 60 فیصد بڑھانے پر راضی ہونا بھارت کی بڑی جیت ہے. وزیر اعظم مودی اس سفر میں بھی پہلے حکومتوں پر نشانہ لگانے سے نہیں چوکے. پیر کو مصدر شہر میں ان ینے کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے شہر کے کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کو کچھ مشکلات وراثت میں ملی ہیں اور ان کی فوری طور ترجیح سابقہ کی حکومتوں کے فیصلے اور نہ لینے اور سستی کی وجہ سے ملتوی ہوئیں چیزوں کو شروع کرنے ہے. وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے کچھ مسائل وراثت میں ملی ہیں. ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں صرف اچھی چیزوں کو لے لوں اور مسائل کو چھوڑ دوں ... کچھ چیزیں (گزشتہ) حکومتوں کے عدم فیصلے اور سستی کی وجہ سے رک گئی تھیں. ان چیزوں کو شروع کرنا میری ترجیح ہے. ہماری رائے میں بہتر ہوتا کہ غیر ملکی زمین پر مودی جی سابق حکومتوں کی تنقید سے بچتے. وزیر اعظم کی اس سفر کی ایک ہائی لائٹ تھی دبئی سے پاکستان کو سخت پیغام دینا. دبئی کے اسٹیڈیم میں نمو۔نمو کے نعروں کے درمیان 50 ہزار اپواسہندوستانیوں کو خطاب کرتے مودی نے اشاروں میں پاکستان کو بڑی انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی ذہنیت والے ممالک کے خلاف انسانیت میں یقین کرنے والے ممالک کو ایک ہوکر لڑنے کا وقت آ گیا ہے. اچھا دہشت گردی، برا دہشت گردی، اچھا طالبان اور برے طالبان اب نہیں چلے گا. ہر کسی کو طے کرنا ہوگا کہ وہ انسانیت کے ساتھ ہے یا دہشت گردی کے. متحدہ عرب امارات میں 26 لاکھ سے زیادہ تاریکین ہندوستانی کام کرتے ہیں جو ہر سال ملک کو 12 ارب ڈالر کی بڑی رقم بھیجتے ہیں. جہاں یو اے ای کی معیشت میں ہندوستانیوں کی اتنی بڑی بھاگیدارہے وہیں ان کے کام اور روزمرہ کے مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے. بروکرز کی مال ویئر کے شکار پواس مزدوروں کا مسئلہ گہری ہے اور اسے دور کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے. مجموعی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی یو اے ای سفر کامیاب رہی.

(انل نریندر)

بہار انتخابات عام انتخابات حصہ ۔2

نریندر مودی اور بی جے پی اتحاد کو بہار میں شکست دینے کے لئے نتیش کامہاگٹھبندھن بن گیا ہے. بہار میں آر جے ڈی۔جے ڈی یو کانگریس مہاگٹھبندھن نے سیٹوں کا تال میل کر انتخابی بساط بچھا دی ہے. بہار میں پورے ملک کی نظر لگی ہوئی ہے اور بہار انتخابات کے نتائج ملک کے سیاسی مستقبل کی حالت سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے.مہاگٹھبندھن میں ان پارٹیوں کے ساتھ ساتھ الیکشن لڑنے کا راستہ اب مکمل طور پر صاف ہو چکا ہے. جد (یو) اور آر جے ڈی کے رہنماؤں نے یہ فارمولا طے کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا ہے کہ باہمی تنازعات کے لئے ہر ممکن حد تک کم سے کم جگہ چھوڑی جائے. اس فارمولے کے تحت جد (یو) اور آر جے ڈی 100۔100 سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے اور کانگریس کو 40 سیٹیں ملیں گی. اس فارمولے کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں بڑی پارٹیوں کو برابر برابر سیٹیں ملیں گی اور کسی کو یہ ڈر نہیں ہو گا کہ دوسری پارٹی اس پر غلبہ ہو جائے گا. صرف 100 سیٹوں پر لڑنے سے یہ بھی یقینی ہو گیا ہے کہ اگر مہاگٹھبندھن کو اکثریت حاصل ہے تو کوئی پارٹی اتنی طاقتور نہیں ہو سکتی کہ دسری پارٹی کو دھول چٹا سکے. بہار میں مہاگٹھبندھن کی بنیاد رکھے جانے کے دن سے ہی ساتھی جنتا دل (یو) اور اس کے رہنما وزیر اعلی نتیش کمار پر تمام طرح کا دباؤ بنانے کے کھیل رچ رہے راشٹریہ جنتا دل سپمو لالو پساد یادو کی ایک نہ چلی اور سیٹ تقسیم میں انہیں نتیش کے سامنے مکمل لگن کی کرنسی میں دیکھا گیا. جی ہاں، ان دونوں کی شہ مات کے کھیل میں کانگریس کی ضرور لاٹری لگ گئی ہے جس سے اس کی موجودہ حیثیت سے زیادہ سیٹیں لڑنے کے لئے مل رہی ہیں. دوسری طرف بی جے پی کو لگتا ہے کہ مودی لہر کے سہارے وہ بہار میں بھی بازی مار لے گی. اپوزیشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں شروع ہوئی اس بی جے پی مخالف مہم اب کچھ کچھ جڑ پکڑنے لگی ہے اور بہار میں یہ اپنا معجزہ ضرور دکھائے گی. بہر حال بی جے پی کے خلاف بنے سیکولر گٹھبندھن کی ایک چھوٹی سی چوک بھی سیٹ تقسیم کے اعلان کے ساتھ ہی سامنے آ گئی ہے. شرد پوار کی این سی پی کا بہار میں کوئی خاص وجود تو نہیں ہے پر پھر بھی اس گٹھبندھن مذاکرات میں عزت سے بٹھائے جانے کی امید تھی. اس کے لئے بغیر بات چیت کے ہی تین نشستیں چھوڑی گئیں لیکن وہ اس سے مطمئن نہیں ہے اور گٹھبندھن سے الگ ہو کر انتخابات لڑنے کے لئے تال بٹھا رہی ہے. س بار جتن رام ماجھی اور پپو یادو جیسے لیڈر بھی میدان میں ہیں جو کسی بھی خیمے کا کھیل بگاڑ سکتے ہیں. این ڈی اے کی سب سے بڑا چیلنج اپنے اتحادیوں کے عزائم پر کنٹرول لگانا ہے. اوپیندر کشواہا اور رام ولاس پاسوان سے نشستوں کی ڈیل کرنا آسان نہیں ہوگا کیوں کہ ان کی نظر بھی وزیر اعلی کے عہدے پر ہے اور تو اور خود بی جے پی میں کم از کم پانچ لیڈر اس کرسی کے فراق میں ہیں. یہ انتخابات تمام پارٹیوں کے لئے بڑا اہم ہو گیا ہے. بی جے پی نے تاہم داؤ نریندر مودی کی مقبولیت اور لہر پر لگایا ہے پر اس سے انکار وہ بھی نہیں کر سکتی کہ گزشتہ چند ماہ میں مودی کا گراف گرا ہے اور شتروگھن سنہا جیسے پارٹی کے بڑے رہنماؤں کا بھی اثر تو ہوگا ہی. نتیش کمار کی مستقبل کی سیاست ان کے تیسری بار وزیر اعلی بننے پر منحصر ہے. لالو پساد یادو اور راشٹریہ جنتا دل کے لیے دس سال بہار کی اقتدار سے باہر رہتے ہو گئے ہیں. ان کا اقتدار میں آنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر وہ نہیں جیتتے تو ان اور ان کی پارٹی کو بہار میں سیاسی مستقبل چوپٹ ہونے کا خطرہ ہو جائے گا. دونوں ہی اتحاد کو اپنی اپنی پارٹی کے کارکنوں میں تال میل بٹھانا بھی کم چیلنج نہیں ہے. ایسے میں اس انتخاب کو عام پاٹی الیکشن پارٹ۔ 2 کہنا غلط نہیں ہو گا.

(انل نریندر)

19 اگست 2015

شیو راج سنگھ چوہان نے کانگریس کو کرارا جواب دیا

مدھیہ پردیش میں ویاپم گھوٹالے اور اس سے وابستہ قریب49 اموات کے چلتے سیاسی مشکلات کا سامنا کررہے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان کو نگر نگم چناؤ کے نتیجوں نے تھوڑی طاقت دے دی ہے۔ ایتوار کو آئے ان نتیجوں میں بھاجپا نے 10 میں سے8 کارپوریشنوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بھاجپا نے کانگریس سے 8 سیٹیں چھین لی ہی جبکہ کانگریس ایک ہی سیٹ بچا پائی۔ اب ریاست کی16 میونسپل کارپوریشنوں پر بھاجپا کا ہی قبضہ ہے۔ کہنے کو تو یہ 10 کارپوریشنوں کا چناؤ تھا لیکن بھاجپا اسے شروع سے ہی ساکھ کا سوال مان کر چناؤ لڑ رہی تھی۔خاص کر وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان نے چناؤ کی تاریخیں آتے ہی جی توڑ محنت کی اور وہ سبھی جگہ گھومے اور کمپین چلائی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ خود میدان میں ہیں۔ وزرا کی بھی ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔ گھوٹالے پر سیاسی بڑھت لینے کی کوشش میں لگی کانگریس کے حصے میں صرف ایک ہی کارپوریشن آئی ہے۔ ایک آزاد کے قبضے میں چلی گئی ہے۔ یہ چناؤ جمعرات کو ہوئے تھے۔ اجین و مرینا میونسپل کارپوریشن میں پھر بھاجپا کا ڈنکا بجا۔ اس سے پہلے14 کارپوریشنوں میں ہوئے چناؤ میں بھاجپا پہلے ہی جیت چکی ہے۔ اس طرح مدھیہ پردیش کی سبھی 16 کارپوریشنوں میں بھگوا جھنڈا لہراگیا ہے۔اگرچہ کانگریس بہتر نتیجے لے آتی تو وہ اس سے ویاپم گھوٹالے سے جوڑ کر وزیر اعلی کے لئے مشکلیں اور بڑھانے کا کام کرتی اور ان کے استعفے کی مانگ کو تیز کردیتی۔ بہار چناؤ سے ٹھیک پہلے آئے ان نتائج سے بھاجپا کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے مدھیہ پردیش بھاجپا کو جیت کی مبارکباد دے کر اپنے ارادے صاف کردئے ہیں۔ وہیں بہار اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے آئے ان نتائج سے کانگریس کمزور ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دورے پر گئے وزیر اعظم نریندر مودی بھی شیو راج سنگھ کومبارکباد دینا نہیں بھولے۔ اور کہا کہ ریاست کی کارپوریشن چناؤ کے نتیجے خوش کردینے والے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی ، وزیر اعظم اور بھاجپا کا خوش ہونافطری بھی ہے۔ آخر اسی ویاپم گھوٹالے کولیکر کانگریس نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں کوئی کام کاج نہیں ہونے دیا۔ حالانکہ گھوٹالہ سامنے آنے کے بعد شیو راج سنگھ چوہان نے ہی اس کی ایس آئی ٹی سے جانچ کرانے کے احکامات دئے تھے۔ ہائی کورٹ نے بھی مانا تھا کہ ایس آئی ٹی جانچ ٹھیک سمت میں چل رہی ہے اور ا س نے سی بی آئی جانچ کا حکم دینے سے بھی انکارکردیا تھا۔ لیکن کانگریس نے پارلیمنٹ سے لیکرسڑک تک ایسا شور مچایا مانو وزیر اعلی شیو راج سنگھ کرپٹ اور جرائم پیشہ ہیں۔ بغیر ہل حجت کئے شیو راج نے بھی اس کی سی بی آئی جانچ کے احکامات دئے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوسکے۔ ویاپم اور کانگریس اور ان کے نیتاؤں کا ذکر کئے بنا شیو راج نے ٹوئٹ کیا، یہ منفی سیاست کرنے والوں کو جنتا کا پیغام ہے۔
(انل نریندر)

آپ ممبر اسمبلی الکا لانبہ کو پتھرمارنے کا معاملہ

دہلی کی عام آدمی پارٹی کی ممبر اسمبلی اور تیز طرار لیڈر و ترجمان الکا لانبہ ایک نئے تنازعے میں الجھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ چاندنی چوک سے عام آدمی پارٹی کی ممبر اسمبلی الکا لانبہ گذشتہ ایتوار کی صبح کشمیری گیٹ پر واقع ہنومان مندر کے پاس نشے کے خلاف مہم میں شامل ہوئیں۔ اس مہم کے دوران کچھ لوگوں کے ذریعے پتھر بازی میں وہ زخمی ہوگئیں تھیں۔ الکا نے بتایا کہ ایتوار کی صبح وہ اپنے کچھ ورکروں کے ساتھ ’بھارت چھوڑو‘ آندولن دوس کے موقعے پر آئی ایس بی ٹی (کشمیری گیٹ) ہنومان مندر کے پاس واقع یمنا بازار میں نشے کے خلاف مہم میں شامل ہوئیں تھیں تاکہ لوگوں کو نشے کی لت سے چھٹکارا مل سکے۔ اسی دوران کچھ لوگوں نے ان پر پتھر پھینکے جس سے ان کے سر پر چوٹ آئی۔ آپ نیتا نے الزام لگایا کہ بھاجپا ممبر اسمبلی اوم پرکاش شرما کی دوکان کے اسٹاف نے یہ پتھر پھینکا تھا۔کہا کہ یہ حملہ ایک سازش کے تحت کیا گیا۔ الکا لانبہ کے اس بیان پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ بھاجپا ممبر اسمبلی اوم پرکاش شرما نے الکا پر ڈرکس لینے اور نشیڑی ہونے کا ہی الزام لگادیا۔ شرما نے خبردار کیا کہ اگر الکا اور ان کے حمایتیوں نے دوکانداروں کو پھر سے پریشان کیا تو وہ بچ کر نہیں جا سکیں گی۔ بلکہ انہیں اسٹریچر پر جانا پڑے گا۔ ڈی سی پی نارتھ کے مطابق الکا لانبہ نے صبح آئی ایس بی ٹی کے نزدیک ہنومان مندر کے باہر بنی کچھ دوکانوں کو بند کرانے کی کوشش کی۔ وہ اپنے ساتھ ایم سی ڈی کے ملازمین کو لے کر نہیں گئی تھیں جبکہ یہ کام ایم سی ڈی کا ہے۔ دوکان بند کرانے کے دوران چھت پر کھڑے ایک لڑکے نے انہیں پتھر مار دیا۔ جیسا کہ الکا لانبہ کہہ رہی ہیں۔ پتھر مارنے والے لڑکے کو ہم نے حراست میں لے لیا ہے۔ الکا لانبہ کی شکایت پر ہم اسے گرفتار کر لیں گے۔ علاقے کے تاجروں نے پولیس کے ممبر اسمبلی کی شکایت کر مقدمہ درج کروایا ہے اور ثبوت کے طور پر سی سی ٹی وی فٹیج بھی جاری کیا ہے جس میں ممبر اسمبلی کو دوکان میں توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ممبر اسمبلی کا کہنا ہے یہ فٹیج حملے کے بعد کا ہے۔ علاقے کے 200 سے زیادہ تاجر الکا کی چھاپہ ماری کارروائی کے احتجاج میں لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ سے ملے اور مانگ رکھی کہ معاملے کی جوڈیشیل جانچ ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ محض فوٹو چھپوانے کے لئے صبح6 بجے چھاپہ ماری کی۔ اس دوران انہوں نے جھوٹ بولا کہ وہاں نشے کا کاروبار چل رہا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فٹیج میں وہ خود ہی قصوروار دکھائی دے رہی ہیں۔ اس موقعے پر تاجروں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں ہے۔ یمنا بازار میں پراچین ہنومان مندر کے پاس ایتوار کی صبح کچھ دوکانوں میں توڑ پھوڑ کرنے کے معاملے میں کشمیری گیٹ تھانہ پولیس نے الکا سمیت نامعلوم آپ ورکروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ایف آئی آر میں محض الکا لانبہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ واردات کے آس پاس لگے کئی سی سی ٹی وی کیمروں میں واردات کی تصویریں قید ہوگئی تھیں۔ اسی بنا پر مقدمہ درج ہوا ہے۔ ایک منٹ کیلئے مان بھی لیا جائے کہ حملے کے بعد کی فٹیج ہے تب بھی الکا نے قانون ہاتھ میں لینے اور توڑ پھوڑ اور بدامنی مچائی ہے اور اس کی اجازت قطعی نہیں دی جاسکتی۔ جواب میں بھاجپا ممبر اسمبلی الکا لانبہ کو نشے کی لت اور دیر رات بدامنی کی حرکتوں میں ملوث ہونے کا جو الزام لگا رہے ہیں وہ بھی صحیح نہیں ہے اتنا ہی نہیں دوبارہ علاقے میں دکھائی دینے پر اسٹریچر پر واپس بھیجے جانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ الکا بھی غلط بیانی کررہی ہیں۔ وہ نشے مکتی ابھیان پر نہیں ، ان کی نظروں میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مہم میں گئی تھیں۔ ساکھ کی اس لڑائی میں بھلے دو ممبران اسمبلی میں سے کوئی جیتے ہارے لیکن بے چاری دہلی کی جنتا کو تو ہارنا ہی ہے جس نے بڑی حسرتوں سے انہیں چنا ہے۔
(انل نریندر)

18 اگست 2015

Pakistan: Out of Control

Internal situation in Pakistan is getting out of control. This can be gauged by the fact that it couldn't even save its own state home minister. It's shocking news that provincial Home Minister of Pakistani Punjab Shuja Khanzada was killed in a bomb blast in his very home. Two suicide bombers exploded themselves at the patriarchal residence of Pakistani Provincial Home Minister Shuja Khanzada in Attock district on Sunday in which 15 people including Khanzada were killed. Khanzada was known as a strong opponent of Taliban. Pak officials said that 15 people including Khanzada (71) and a DSP were assassinated in a suicide bomb attack at his political office in his patriarchal village Shadi Khan. The explosion was so powerful that 15 people were killed and many more were injured. Khanzada was a retired colonel and was holding a Jirga (meeting) at his farmhouse at Shadi Khan, almost hundred kilometers away from Islamabad, attackers succeeded in entering his house and exploded the bomb. Deputy Commissioner of Police Shaukat Shah was also among the deceased. It can easily be made out that how unmanageable the internal situation of Pakistan is?  Nobody cares for civil administration. In Pakistan, army and ISI are on one side and these Jehadi organization on the other, that really matters.  Presently these are the real powers in Pakistan. Pakistan is incessantly firing on LoC in J&K. Pakistan has crossed the J&K LoC 35 times in the month of August alone.  Defence spokesperson Colonel Manish Mehta told that Pak army is attacking with mortars at advance Indian posts and nearby villages in sector 5 of Punch district since Monday morning. Indian Army is also responding.  Even the funeral of the deceased couldn't take place due to this incessant firing from across the border. Many a people have started migrating from the border villages due to incessant firing. Indian Army has taken strict attitude over Pak firing. India and Pakistan NSA propose having peace talks. In such a situation where neither the internal situation of Pakistan nor the Pakistan Army is under control, what is the use of having dialogues with Pakistani civil and political group?  These talks should be cancelled and no dialogues with Pakistan be held until it stops its nefarious adventure. What can Pakistan ultimately give to India? Whenever there is dialogue with Pakistani Government and Army, it is known that these non-state actors spoil the broth. Are these non-state actors ultimately your kids? Don't they attack from your territory?  Whenever India extends the friendship hand towards Pakistan, it only get 26/11 or Gurdaspur in return. At present, we should avoid dialogue with Pakistan. Let the situation be normalise, before we think of a dialogue. At present Pakistan is out of control.

-        Anil Narendra

پاکستان کے حالات بے قابو اور کنٹرول سے باہرہوئے

پاکستان کی اندرونی صورتحال بے قابو ہوتی جارہی ہے۔ اس کے اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی پنجاب صوبہ کے وزیر داخلہ کو بھی محفوظ نہیں رکھ سکتی۔چونکانے والی خبر آئی ہے کہ پاکستانی صوبہ پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کو ان کے گھر ہی میں بم دھماکے سے سے اڑادیا گیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے اٹک ضلع میں ایتوار کو وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کے آبائی مکان میں دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو بم سے اڑالیا جس میں خانزادہ سمیت15 لوگوں کی موت ہوگئی۔ خانزادہ طالبان کے کٹر مخالفت کے لئے جانے جاتے تھے۔ پاک حکام نے بتایا کہ خانزادہ کے آبائی گاؤں شادی خان میں ان کے سیاسی دفتر پر خودکش حملہ آوروں کے حملے میں خانزادہ 71 سال اور ایک ڈی ایس پی سمیت15 لوگوں کی موت ہوگئی۔ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ پورا گھر ڈھے گیا۔ خانزادہ ایک ریٹائرڈ کرنل تھے اور اسلام آباد سے قریب100 کلو میٹر دور گاؤں شادی خان میں اپنے گھر پر جرگہ(میٹنگ) کررہے تھے۔ حملہ آور وہاں گھسنے میں کامیاب رہے اور خود کو بم سے اڑالیا۔ مرنے والوں میں پولیس ڈپٹی کمشنر شوکت شاہ بھی شامل ہیں۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے پاکستان کے اندرونی حالات کتنے بے قابو ہیں۔ پاکستان میں شہری انتظامیہ کو تو کوئی پوچھتا ہی نہیں ایک طرف پاکستانی فوج و آئی ایس آئی تو دوسری طرف جہادی تنظیمیں ہیں اصل اختیارات انہی کے ہاتھوں میں ہیں۔ ایک طرف پاکستان میں حالات خراب ہیں تو دوسری طرف جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاک فوج کئی دنوں سے مسلسل گولہ باری کررہی ہے۔ ماہ اگست کے مہینے میں 35 مرتبہ جموں و کشمیر کنٹرول لائن پر پاکستان جنگ کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ ڈیفنس ترجمان کرنل منیش مہتہ نے بتایا کہ پاک فوج ایتوار کی صبح سے ہی پونچھ سیکٹر میں محاذی چوکیوں پر و آس پاس کے دیہات پر گولیوں اور مورٹاروں سے حملہ کررہی ہے۔ بھارتیہ فوج بھی اس کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ سرحد پر مسلسل ہورہی فائرنگ کے سبب مارے گئے لوگوں کا انتم سنسکار بھی نہیں ہوسکا۔ سرحد کے پاس واقع دیہات سے کئی لوگوں نے گولہ باری سے متاثر ہوکر ہجرت شروع کردی ہے۔ ہندوستانی فوج نے بھی پاک گولہ باری پر سخت رخ اپنایا ہے۔ وزیر دفاع منوہر پاریکٹر اور قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال سے بھی اس مسئلے پر بات چیت کریں گے۔ ان حالات کے چلتے جہاں پاکستان کے اندرونی حالات بھی قابو میں نہیں ہیں اور نہ ہی پاکستانی فوج کنٹرول میں ہے۔ پاکستان کی سول و سیاسی جماعت سے بات چیت کا جواز کیا ہے ؟ 23-24 اگست کو این ایس اے سطح کی بات چیت منسوخ ہونی چاہئے اور پاکستان سے تب تک بات چیت نہیں ہونی چاہئے جب تک وہ اپنی حرکتیں بند نہیں کرتا۔ آخر کار پاکستان ہندوستان کو دے کیا سکتا ہے؟ پاک حکومت اور فوج سے جب بھی بات ہوتی ہے وہ ہمیشہ یہ بہانا بنا دیتا ہے کہ یہ نان اسٹریٹ ایکٹر ماحول بگاڑ رہے ہیں۔ یہ نان اسٹریٹ ایکٹر آخر ہیں کیا، آپ ہی پیدائش ہیں اور آپ کی سرزمین سے ہی تو یہ حملہ کرتے ہیں۔ جب جب ہندوستان نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے جواب میں کارگل ،26/11 و گورداس پور حملہ ملا ہے۔ ہمیں پاکستان سے فی الحال کوئی بات چیت نہیں کرنی چاہئے۔پہلے حالات ٹھیک ہوں پھر بات چیت کے بارے میں سوچا جائے ابھی تو پاکستان کے حالات ہی بے قابو ہیں و کنٹرول سے باہر ہیں۔
(انل نریندر)

ون رینک ون پنشن پرسرکار جلد فیصلہ کرے

جس طرح سے ایک عہدہ ایک پنشن کے مطالبے کو لیکر سابق فوجیوں کو دہلی پولیس نے زبردستی جنتر منتر سے ہٹانے کی کارروائی کی ہے وہ قابل مذمت ہے۔61 دن سے دھرنا دے رہے سابق فوجیوں کو جمعہ کے دن دہلی پولیس نے ہٹانا چاہا۔ پولیس نے 15 اگست کے سکیورٹی انتظامات کے چلتے یہ قدم اٹھایا لیکن جس طرح زبردستی ہٹانا چاہا اس سے ہنگامہ کھڑا ہونا فطری ہی تھا۔آپ سابق فوجیوں سے اس طرح کا برتاؤ نہیں کرسکتے۔ جمعہ کی صبح این ڈی ایم سی اور دہلی پولیس کے ذریعے چلائی گئی سانجھہ کارروائی کی ان سابق فوجیوں نے جم کر مخالفت کی۔ اس دوران کئی فوجیوں کو شدید چوٹیں بھی آئی ہیں۔ سابق فوجیوں کے احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے بعد میں فوجیوں کو جنتر منتر پر دھرنا جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ اس واقعہ کا سیاسی فائدہ اٹھانے جب کانگریس نائب صدر راہل گاندھی جنتر منتر پہنچے تو انہیں ’’گو بیک‘‘ کانعرہ سننا پڑا۔ ’’راہل واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگے۔ کچھ سابق فوجیوں نے راہل پر سیاست کرنے کا الزام لگانے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مسئلے کو کبھی بھی پارلیمنٹ میں کیوں نہیں اٹھایا؟ راہل کی جب مخالفت ہونے لگی تو کچھ وقت کے لئے تھوڑے سے پریشان ہوگئے اور بمشکل 15 منٹ ہی رکے۔ حالانکہ اسٹیج کے نیچے بیٹھے کچھ سابق فوجیوں نے راہل کا خیر مقدم کیا۔ بعد میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا۔ انہوں نے ون رینک ون پنشن لاگو کرنے کو لیکر وزیراعظم سے صحیح تاریخ بتانے کی مانگ کی۔ ادھر وزیر دفاع منوہر پریکر نے کہا کہ سرکار ون رینک ون پنشن لاگو کرنے کے لئے عہد بند ہے لیکن کچھ تکنیکی رکاوٹتیں ہیں۔ سرکار اپنے عہد میں اور جلد لاگو کرنے کی کوشش کرے گی۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے اپنی یوم آزادی تقریر میں کہا کہ سرکار یکساں رینک پر ایک جیسی پنشن کو بہت جلد پورا کرے گی۔ دہائیوں پرانی مانگ پر سرکار اصولی طور سے متفق ہے۔ بس اسے لاگو کرنے کے لئے ڈرافٹ تیار ہورہے ہیں۔ سابق فوجیوں کی اس مانگ پر سنیچر کے روز پی ایم نے کہا میرے فوج کے جوانوں اصولاً ون رینک ون پنشن ہم نے منظور کرلی ہے لیکن کچھ انجمنوں سے اس مسئلے پر بات چیت چل رہی ہے اور یہ آخری دور میں ہے۔ جس بھروسے کے ساتھ بات چیت جاری ہے اس کے اچھے نتائج کی توقع رکھتا ہوں۔ ’ ون رینک ون پنشن‘ کے اشو پر سابق فوجیوں نے وزیر اعظم کے زبانی وعدے سے ایک قدم آگے بڑھ کر تحریری یقین دہانی پر زور دیا ہے۔ جنتر منتر پر مظاہرہ کررہے سابق فوجیوں نے کہا کہ مودی نے16 ماہ پہلے ’ون رینک ون پنشن‘ لاگو کرنے کا بھروسہ دیا تھا۔ اس بار تحریری یقین دہانی کے ساتھ وہ ابھی تک اٹھائے گئے قدموں کی جانکاری چاہتے ہیں۔سابق فوجی ستویر سنگھ نے کہا کہ15 اگست پر وزیر اعظم کے وعدے سے امید تو جاگی ہے۔ لیکن اسے لاگو کرنے کے وقت پر ابھی شش و پنج ہے۔ ہم ون رینک ون پنشن کا مکمل سنمان کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اسے جلد سے جلد لاگو کیا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...