Translater

24 اکتوبر 2020

پاک فوج اور سندھ پولس آمنے سامنے !

پاکستان کے صوبہ سندھ کی پولس نے پاکستانی فوج کے من مانے قدم کے خلاف بغاوت کردی ہے ۔ اور حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو سینئر افسروں سے حالات کا جائزہ لینا پڑا اور یقین دلایا کہ اس مشکل گھڑی میں ان کی سرکار پولس کے ساتھ ہے اس ملاقات میں سندھ کے انسپیکٹر جنرل پولس مشتاق چہر بھی شامل ہوئے ۔ یہ معاملہ ان سے ہی جڑاہے دراصل 18اکتوبر کو کراچی میں اپوزیشن کے مہا گٹھ بندھن پی ڈی ایم نے دوسری بڑی ریلی کی تھی ۔ اس درمیان رات کو ہی کراچی پولس نے مریم نواز کے تئیں کیپٹن ریٹائرڈمحمد صفدر کو گرفتا ر کیا تھا ۔ اپوزیشن اور میڈیا نے الزام لگایا تھا پاک فوج کے افسران نے سندھ کے آئی جی مشتاق کو اگوا کرلیا تھا اور ان کا فون بھی بند کردیا گیا اور اس افسوس ناک واقعہ سے سندھ کے سبھی اعلیٰ افسران کے اند ر ناراضگی پیدا کردی ہے ۔ غور طلب ہے صبح سندھ میں بلاول بھٹو کی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ایسے میں ان پر سوال اٹھے وہیں بلاول نے ایک ٹیوٹ کرکے اس واقعے پر فوج اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے صفدر کی گرفتاری کو لیکر سوال پوچھا گیا تو بلاول کا کہنا تھا یہ ایک سازش ہے ۔ جانچ ایجنسیوں نے ہمیں اندھیرے میں رکھا مریم نواز نے کہا کہ وہ صوبہ سندھ پولس کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اور ان کے افسر کے خلاف جو کاروائی کی گئی ہے اس کو عمران سرکار سے اٹھایا جائے گا چونکہ فوج انہیں کے ماتحت کام کرتی ہے ۔ (انل نریندر)

خود بھلا نہیں کرسکتے دوسروں کو دینے کو تیار نہیں !

ناتھ ایم سی ڈی اسپتالوں اور دوسری طبی خدمات کو لیکر سیاست گرما گئی ہے ایم سی ڈی کے پانچ بڑے اسپتال چھ میٹرنٹی ہوم اور 59میٹرنٹی اور چائلڈ کیئر سینٹر چلانے کے لئے ہر سال ملازمین کو تنخواہ ،دوائیاں اور طبی سازوسامان کی خریداری کا بوجھ قریب 650کروڑ روپئے ہے لیکن ایم سی ڈی کے پاس نا تو ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے پیسے ہیں اور نہ ہی سازوسامان کی خرید کے لئے پیسہ ہے ۔ آج تنخوہ کو لیکر ایم سی ڈی کے اسپتالوں کے ملازم ڈاکٹر اور نرس کئی دنوں سے ہڑتال پر ہیں اور مظاہرے کر رہے ہیں ۔ جبکہ دہلی سرکار نے کچھ دن پہلے ان سبھی اسپتالوں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی پیش کش کی تھی ۔ نارتھ ایم سی ڈی کے افسر کے مطابق مارچ 2018میں ایم سی ڈی نے ہیلتھ سرویسز کو دہلی سرکار کو ٹرانسفر کرنے کے لئے ایک پرستاو¿پاس کیا تھا لیکن ایم سی ڈی کی قائمہ کمیٹی نے اس کو پوری طرح مسترد کردیا اس کے بعد کوئی اس مسئلے پر غور نہیں کیا گیا ۔ سینئر افسر کے مطابق تمام اسپتالوں اور میٹرنٹی ہوم وغیرہ کو چلانے کے لئے ملازمین کی تنخواہ کا بوجھ 450کروڑ سے 550کروڑ روپئے ہے۔ اوراس کے علاوہ دوائیاں اور طبی سازوسامان کا خرید ملاکر تقریبا 650کروڑ روپئے کرنا پڑتا ہے ۔ ایم سی ڈی کے طبی خدمات سے سالانہ 52لاکھ مریض فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ سیوائیں ایم سی ڈی سے دہلی سرکار کو منتقل ہوں گی تو لوگوں کو اچھی ہیلتھ سیوائیں مل سکیں گی لیکن قائمہ کمیٹی نے اس تجویز کو مسترد کردیا ۔ عام آدمی پارٹی نے بھی سوال کیا اخر ایم سی ڈی اپنے اسپتالوں کو کیجریوال سرکار کو کیوں نہیں سونپ رہی ہے۔ میئر جے پرکاش نے مرکزی وزیر مملکت مالیات انوراگ ٹھاکر سے ملکر ایم سی ڈی کی مالی حالت کو سدھارنے کے لئے کم سے کم 2ہزار کروڑ روپئے کاقرض مانگا ہے ۔ ان کی دلیل تھی کہ ایم سی ڈی دہلی میں سب سے بڑا بلدیاتی ادارہ ہے اس میں 50ہزار سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں ان کو پچھلے چار مہینے سے تنخواہ نہیں دی جا سکی ۔ (انل نریندر)

پلازمہ تھیریپی ہر گز بند نہ ہو!

کورونا وائرس کے علاج کے لئے کاریگر مانی جارہی پلازمہ (خون )تھیریپی کو لیکر آی سی ایم آر اور دہلی حکومت آمنے سامنے آگئیں ہیں در اصل آئی سی ایم آر کا کہنا ہے کہ اب وہ پلازمہ تھیریپی کو کورونا وائرس کے علاج کے لئے جاری مرکز کی گائڈ لائنس سے ہٹانے پر غور کررہا ہے ۔ اس ادارے کے اس قدم کو لیکر دہلی حکومت نے احتجاج کیاہے دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے بدھ کو اس معاملے میں کہا کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ان کی جان بھی پلازمہ تھیریپی سے ہی بچی تھی ،ایسے میں آئی سی ایم آر کو اسے پروٹوکول سے ہٹانا نہیں چاہئے کیونکہ بہت سے لوگوں کی جان پلازمہ تھیریپی سے ہی بچی ہے اب تک پلازمہ بینک سے 2ہزار سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھاچکے ہیں اور ساتھ ہی کافی لوگوں نے خود پلازمہ کا انتظام کیا ۔ اس لئے پلازمہ تھیریپی کو نہیں ہٹانا چاہئے ستیندر جین نے بتایا امریکہ نے بھی پلازمہ تھیریپی کو کورونا علاج کے لئے کافی کاریگر مانا ہے وزیر صحت نے میڈیا سے بات چیت میں کہا پلازمہ تھیریپی کا سب سے پہلے دہلی نے کیا تھا، اور تجربہ کے بعد خود مرکز ی حکومت اور آئی سی ایم آر سے منظوری لیکر کیا تھا جو نتیجے اب تک سامنے آئیں ہیں وہ تسلی بخش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے 2ہزار مریضوں نے ٹھیک ہونے کے بعد خود تو پلازمہ دیا اور اپنے رشتہ داروں سے بھی دلوارہے ہیں ۔ ادھر پارٹی کے لیڈر راگھو چڈھا نے پلازمی تھیریپی کی حمایت کرتے ہوئے ٹیوٹ کیا ہے کہ وہ آئی ایل بی ایس میں بنے پلازمہ بینک کی نگرانی بھی کر رہے ہیں ۔ ہمارے پاس پلازمہ سے علاج کے علاوہ کوئی متبادل علاج موجود نہیں ہے ۔ در اصل آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل بلرام بھارگو نے میڈیا سے کہا تھا کہ ہماری ایک ریسرچ میں سامنے آیاہے کہ پلازمی تھیریپی سے اموات شرح یا انفیکشن وائرس شرح کم کرنے میں کوئی مدد نہیں مل رہی ہے اس لئے پلازمہ تھیریپی کو کورونا وائرس کے علاج کے لئے پروٹوکول کے لئے مرکزی گائڈلائن سے ہٹایا جا سکتا ہے ۔ اس نے دیش بھر کے 39اسپتالوں میں 1200مریضوں پر پلازمہ تھیریپی کو لیکر ریسرچ کی تھی ہم ستیندر جین عآپ ترجما ن راگھو چڈھا کی بات سے بلکل متفق ہیں میں گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں میرے ملنے والوں میں سے کئی کی جان پلازمہ تھیریپی سے ہی بچی ہے ۔ پھر جب تک آپ کے پاس کورونا علاج کے لئے دوا نہیں آجاتی تو آپ پلازمہ تھیریپی پر پابندی نہیں لگا سکتے ۔فی الحال یہ کورونا انفیکشن سے موت اور زندگی کے درمیان پلازمہ تھیریپی ہی کھڑی ہے ۔ (انل نریندر)

23 اکتوبر 2020

سنجے دت نے کینسر کو ہرایا !

بالی ووڈ اداکار سنجے دت خبروں کے مطابق ٹھیک ہوگیا ہے ان کے قریبی دوست اور کاروباری انچارج راج بنسل نے یہ خبر دی ہے ۔سنجو کی پی ای ٹی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں وہ کینسر سے آزاد پائے گئے ہیں پی ای ٹی اسکین کینسر کی سب سے بھروسے مند جانچ مانی جاتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے متاثرہ کے کینسر سیلس کی کیا حالت ہے اور کینسر سیل نے دوسری سیلس کے مقابلے میٹابولک ریٹ زیادہ ہوتی ہے اور کیمکل ایکٹیوٹی اس ہائی لیول کے سبب کینسر سیلس پی ای ٹی اسکین پر چمکیلے دھبوں کے شکل میں دکھائی دیتے ہیں اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کینسر جسم میں کتنا پھیل چکا ہے ۔ سنجے دت کو 8اگست کو سانس لینے میں پریشانی کے بعد اسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا ۔ اور ان کے کچھ ٹیسٹ ہوئے تھے اس کے بعد 11اگست کو یہ بات سامنے آئی تھی کہ انہیں پھیپھڑوں کا کینسر ہے ۔ حالانکہ انہوں نے یا ان کے خاندان نے تصدیق نہیں کی تھی سنجو کی بیماری کی خبر میڈیا میں آنے کے بعد ان کی بیوی مانیتا نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ افوہوں میں دھیان نہ دیں مانیتانے اپنے پوسٹ میں لکھا تھا میں ان سبھی کی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے سنجو کے جلد ٹھیک ہونے کی دعوائیں مانگی ہیں ۔ سنجو کی صحیح رپورٹ آنے سے بالی ووڈ اور سنجے دت کے چاہنے والوں نے راہت محسوس کی اور اوپر والے کا شکریہ اداکیا۔ (انل نریندر)

پھر پورے یوروپ میں پھیلنے لگا وائرس انفیکشن !

کیا سردیوں کے آنے پر کورونا وائرس کی ایک اور خطرناک شکل دیکھنے کو ملے گی ؟کیا دنیا کو اس وائرس کی دوسر ی لہر کا سامنہ کرنا پڑے گا؟کورونا وائرس کی دوا کب تک آئے گی کتنے لوگوں کو ملے گی؟یہ کچھ ایسے سوال ہیں جن کا کوئی پختہ جواب ابھی نہیں ہے پچھلے تین سال سے چین سے شوع ہوئی کورونا وباءنے پوری دنیا کو ٹھپ کردیا تھا اب ایک بار پھردوسری کورونا لہر کا اندیشہ بڑھ گیا ہے یوروپ میں انفیکشن کے نئے مریضوں میں تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے پھر سے پابندیاں لگا دی گئی ہیں ۔ بیلجیم کے وزیر صحت نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کے معاملے تیزی سے خطرناک حالت میں پہونچ سکتے ہیں ۔اس وجہ سے پابندیاں لگا دی گئی ہیں ۔ اور ہوٹل اور بار چار ہفتوں کے لیے بند کردیئے گئے ہیں ایسے ہی آٹلی میں بھی ہر روز کورونا کے نئے ریکارڈ مریضوں کو دیکھتے ہوئے نئی اور سخت پابندیاںلگا دی گئی ہیں ۔اٹلی کے وزیر اعظم نے کہا یہ پابندی لاک ڈاو¿ن سے بچنے کے لئے لگائی گئی ہے یہاں باہر نکلنے پر فیس پہننے کو ضروری کردیا گیا ہے ۔ ایسے فرانس کے پیرس سمیت 9شہروں میں بھی رات 9بجے صبح6بجے تک کرفیو رہے گا ۔ اور جو باہر نکلے گا اس کے پاس ضروری کاغذ ہونگے اور نہ ہو اتو جرمانہ لگے گا۔ پورے برصغیر میں کورونا انفیکشن کے نئے مریضوں کی شرح سب سے زیادہ ہے یہاں پورے دیش میں مکمل لاک ڈاو¿ن کی تیار ی ہے ۔ جرمنی میں سرکار نے پبلک عمارتوں میں وینٹی لیشن کو سہولت دینے کو 452ملین پاو¿نڈ سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کردیا گیا ہے ۔ جرمنی کی چانسلر مارکیل نے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے اسی طرح سویزر لینڈ اسپین اورنیدر لینڈ ،قاہرہ و پرتگال میں وائرس انفیکشن روکنے کے لئے کئی قدم اٹھائے گئے ہیں یوروپ کے علاوہ امریکہ میں بھی کورونا وائرس انفیکشن کے نئے مریض تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس وجہ سے اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں پچھلے ہفتے سے امریکہ کے 48ریاستوں میں بھی انفیکشن کے مریضوں میں تیزی دیکھی گئی ہے ۔ (انل نریندر)

زرعی قوانین کے خلاف کیپٹن نے کھولا مورچہ !

پنجاب حکومت نے منگل کے روز اسمبلی میں مرکزی حکومت کو سیدھا چیلنج دیتے ہوئے اس کے تینوں زرعی قوانین کے خلاف مورچہ کھولتے ہوئے پرستاو¿ پاس کردیا اس کے ساتھ ہی پنجاب ان مرکزی قانون کی جگہ اپنا قانون بنانے والی پہلی ریاست بن گیا ہے وہیں راجستھا ن کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بھی اسی طرز پر بل لانے کا اعلان کردیا ۔ پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا تینوں زرعی قانون اور مجوزہ الیکٹرینٹی بل کسانوں اور بے زمین مزدوروں کے خلاف ہے ۔ سرکار نے اپنے تین بل پیش کئے جن کے نام فارمرس پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس پروموشن اینڈ کامرس فیسیلیٹیسن،اسپیشل پرویزن اینڈ پنجاب امینڈمینٹ بل ضروری اشیاءوغیرہ بل پنجاب اسمبلی میں اتفاق رائے سے مرکز کے زرعی قوانین اور مجوزہ بجلی بلوں کو مسترد کردیا ان کو لیکر آئے پرستاو¿میں نئے سرے سے آرڈیننس لانے کی بات کہی گئی ہے جس سے کسانوں کو کم سے کم مالیتی قیمت (ایم ایس پی )کی خرید کا آئینی اختیار مل سکے ان مسودے میں کسانوں اور کھیتی کو لیکر مرکز کے سخت اور غیر منظم روے پر افسوس جتایا گیا۔ مالیتی قیمت کی گارنٹی دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ منگل کو چار بل پیش کردیئے ان میں مختلف دفعات میں یہ سہولیت دی ہے کہ زرعی سمجھوتے کے تحت ایم ایس پی سے نیچے قیمت پر دھان یا گیہوں کی خریداری یا فروخت کرنے پر کم سے کم تین سال کی سزا اور جرمانہ ہوسکتا ہے ۔ پنجاب سرکار کے ذریعے زرعی قانون کے خلاف اسمبلی میں پیش کرنے والا پرستاو¿کے لئے پنجاب پہلی ریاست بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ان بلوں سے ریاست کی قانونی لڑائی مضبوط ہوگی اور اس لئے اس کی پوری جانچ کی ضرور ت ہے اگر ان کی سرکار گرتی ہے اگر انہیں استعفیٰ دینا پڑے تو دے دوں گا لیکن کسانوں کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دوں گا۔مرکزی سرکار نے کھیتی کسانوں سے وابستہ تین زرعی قانون بنائے تھے پنجاب سمیت کئی ریاستوں نے اس کی مخالفت کی تھی ۔ان کی دلیل تھی کہ ان بلوں سے کسانوں کو نقصان اور کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ ہوگا اور یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ مرکزی سرکار آہستہ آہستہ ایم ایس پی ختم کردے گی ۔ شرومنی اکالی دل نے تو این ڈی سے ناطہ توڑلیا تھا اور یہ تینوں بل صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد 20ستمبر کو قانون بن گئے تھے اب پنجاب سرکار کا اپنے بلوں کا لیکر کہنا ہے کہ ریاست میں کہیں بھی گیہوں اور دھان طے قیمت سے کم پر نہیں خریدا جا سکے گا کسی کمپنی یا تاجر کو ایسے کرتے ہوئے پائے جانے پر تین سال کی سزا ہوگی ۔ (انل نریندر )

22 اکتوبر 2020

ایسے میں اپنے قرض جال میں پھانستا ہے ڈریگن!

چین اپنے کثیر المفاد بیلٹ اینڈ روڈ اینیسیٹو (بی آر ائی ) کے ذریعے سری لنکا ، جامبیا ،اور مالدیپ ،پاکستان ، اور کرگستان جیسے کئی ملکوں کو اپنے قرض کے جال میں پھنسا کر شدید مالی خطرے میں دھکیل رہا ہے چین نے بی آر آئی کے ذریعے ان ملکوں میں کافی پیسہ لگایا ہے اور سنہرے سپنے دکھائے ہیں جس سے ان کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی جو انہیں مالی ترقی میں مدد کرے گا بی آر اے پروجیکٹ میں بندرگاہیں سڑکیں ریلوے ہوائی اڈے ، بجلی گھر کے ڈیولپمینٹ شامل ہیں اس کے بعد یہ پروجیکٹ سیکڑوں عرب ڈالر کا ہوگیا ہے ۔ پچھلے سات سال میں اس پروجیکٹ نے 70سے زیادہ دیشوں میں اپنا جال پھیلا ہواہے ۔ چین کو 99سال کی لیز کے بعد قرض میں ڈوبے مندرجہ بالا ملکوں پر پریشانی کے باد ل چھا گئے ہیں ایسے ملکوں کی فہرست لمبی ہے ۔ مالدیپ پر چین کا تقریبا ً1.4عرب ڈالر بقایاہے ۔ چونکہ اس کی جی ڈی پی 5.7بلین ڈالر ہے سی ایم آر مائیکل انسٹیٹیوٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ یہ اعداد شمار صحیح ہیں تو زامبیہ پر کل 14.7بلین ڈالر کا قرضہ ہو سکتا ہے ۔ جس میں چینی قرض 44فیصدی ہے ۔ ادھر پاکستان کی مالی حالت خراب ہے وہاں بی آر ائی کے علاوہ چین پاکستانی مالیاتی کوری ڈور چلا رہاہے۔ایک ایوام کے چیف مالی مشیر ڈی کے سری واستو کہتے ہیں چین زبردست طریقے سے ادھا ردیتا ہے وہ بھی غریب ملکوں کو یہ ان ملکوں کے لئے زیاد ہ پریشانیاں اور چنوتیاں پیدا کرتا ہے جو بی آر آئی میں شامل ہیں سو دیشی جاگرن منچ کے قومی نائب کنوینر اشونی مہاجن کہتے ہیں کہ ہم گہرائی سے جائزر لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ چین کے ذریعے چلائے جار ہے پروجیکٹ سبھی چین پر مرکوز ہے اور یہ کمپنیاں عام طور پر چینی حکومت کی بالا دستی میں ہیں ۔ (انل نریندر)

بہار میں مسلمانوں کی زمینی حقیقت!

چناو¿ میں ووٹ بینک کی سیاستاقلیتوں کی خوش آمدی اور ذات پات اور فرقہ وارانہ تقسیم جیسے الفاظ اکثر سننے کو ملتے ہیں اس لئے ہم بہار کے مسلمانوں کی کیا پوزیشن ہے ۔ اس بارے میں نظر ڈالتے ہیں بہار اسمبلی میں 243اسمبلی سیٹیں ہیں ۔ ان میں سے 203اوپن جمرے کے ہیں جب کہ 38سیٹیں ایس سی ، اور ایس ٹی کے لئے محفوظ ہیں 2011کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 16.87فیصد ہے جو کشن گنج کٹیھار ارریہ ،پرنیہ، میں پھیلی ہوئی ہے ۔ ان میں 35فیصد آبادی ہے تو کہیں مسلمانوں کی 75فیصد آبادی ہے یہ 24اسمبلی سیٹوں میں آتے ہیں دربنگہ اور سیتا مڑی چمپارن میں بھی مسلم آبادی 21سے23فیصد ہے ۔ جو 27اسمبلی سیٹوں پر فیصلہ کن ہیں ۔ ایسے ہی مشرقی چمپارن بھاگل پور مدھوبنی اور سیوان میں بھی مسلم آبادی 19فیصد ہے جو 37اسمبلی سیٹوں پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ اس لئے 243میںسے 88اسمبلی سیٹوں پر مسلم فرقہ فیصلہ کن پوزیشن میں ہے ۔ بہار آفس اور ایشین دیولپمینٹ کی 2017میں رپورٹ کے مطابق بہار میں مسلمانوں کی ایک جگہ آبادی نہیں ہے اور زیادہ تر لوگوں میں تعلیم کی کمی اور دیگر سماجی اور مالی پریشانی میں مبتلا ہیں۔ آج بھی کئی ضلعوں میں فی شخص آمدنی 10ہزار 75روپئے ہے ۔ جب کہ اس کے بر عکس ان بارہ ضلعوں میں فی شخص آمدنی16ہزار 534روپئے ہے جہاں مسلمان کی آبادی کم ہے ۔ مسلمانوں میں تعلیمی شرح 56.3فیصد تھی جب کہ سبھی مذاہب کے لوگوں کے لئے 61.7فیصد تھی اس لئے مسلمانوں اور دیگر فرقوں کے لوگوں میں تعلمی خواندگی کا 5.5فیصد کا فرق ہے ۔ ایسے ہی ایک ادارے سینٹر فار مانیٹرنگ دا انڈین ایکونمی کے ایک حالیہ اسٹڈی کے مطابق بہار میں بے روز گاری قومی سطح پر 23.5فیصد سے زیادہ تھی جو 31.2فیصد سے بڑھ گئی ہے ۔ اور اس کی وجہ لاک ڈاو¿ن ہوسکتی ہے بہار ریاست میں اقلیتی کمیشن کے ذریعے 2001میں بہار کی مسلم سماجی اور اقتصادی پر مببی رپورٹ میں کہا گیا ہے اس میں صاف کہا گیا ہے کہ بہار میں سب سے زیادہ غریبی میں مسلما ن دبے ہوئے ہیں ۔ زیادہ تر ایسے پسماندہ علاقے ہیں جہاں لوگ روز گار میں کم نوکریوں میں لگے ہوئے ہیں جہاں وسائل کے محدود استعمال کے سبب آمدنی پوزیشن خراب ہے ۔ مسلمانوں کی مالی سماجی اور اقتصادی حالت بہتر ہو اس پر سبھی سیاسی پارٹیوں کو توجہ دینی ہوگی ۔ (انل نریندر)

سات گھنٹے کی پوچھ تاچھ کے بعد فاروق بولے 370سے سمجھوتہ نہیں!

جموں کشمیر میں 5اگست 2019سے پہلے کی آئینی پوزیشن بحالی کے لئے پیپلز آلائینس بنانے والے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اکثر بے تکے بیان دیتے آئے ہیں ان کا تازہ بیان کی وہ کشمیر کو چین کے ذریعے آزاد کرا کر آرٹیکل 370لگوائیں گے ۔ ان کے اس بیان نے سب کو حیر ت میں ڈال دیا ہے ۔ پچھلے سال جموں کشمیر سے خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے فیصلے کے بعد نظر بندی سے آزاد ہوئے فاروق نے 15اکتوبر کو اس کو لیکر کور گروپ بنانے کے لئے اتحاد کے طور پر اپنے گھر میں آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی جس میں محبوبہ مفتی ، سجاد لون ،دیگر علاقائی پارٹیوں نے ملکر آواز اٹھائی تھی کی مرکزی سرکار جموں کشمیر اور لداخ کے لوگوں کو وہ سبھی آئینی اختیارات لوٹائے جائیں جو پچھلے سال 370ہٹانے کے ساتھ چھن گئے تھے اس درمیان فاروق عبداللہ ایک نئے تنازع میں پھنس گئے ہیں ۔ جموں کشمیر کرکٹ اشوشیشن میں 43.69کروڑ روپئے کے گھوٹالے کے معاملے میں اینفورسمینٹ ڈائریکٹریٹ نے فاروق عبداللہ سے پیر کے روز سری نگر میں پاچھ تاچھ کی تھی ۔سال 2012میں یہ گھوٹالہ سامنے آیا تھا جب جے کے سی اے کے اس وقت کے افسر منظور وزیر نے سابق جنرل سیکریٹری محمد سلیم خان اور سابق خزانچی اکثر احسان مرزا کے خلاف پولس میں شکایت درج کرائی تھی ۔ جے کے سی اے میں اس گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کی بنیاد پر ای ڈی نے منی لاڈرنگ کا مقدمہ درج کیا تھا سی بی آئی نے قریب تین سال بعد 2018میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ و دیگر کے خلاف جارچ سیٹ داخل کی جس میں ایجنسی نے بتای کی جموں کشمیر میں کرکٹ سرگرمیوں کو فروغ کے لئے 20.11کے دوران کروڑوں روپئے کی گرانٹ د ی گئی تھی اسی میں سے 43.69کروڑ روپئے کی گھپلے بازی گئی ۔ ای ڈی کے سری نگر کے دفتر میں سات گھنٹے کی پوچھ تاچھ کے بعد فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں کشمیر میں 370سے سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس کے لئے مرتے دم تک لڑوں گا۔ میں آرٹیکل 370کی بحالی کے اپنے موقف پر قائم ہوں اور ریاست کا ہر آدمی میرے ساتھ کھڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو تفتیش مجھ سے کی گئی اس کو لیکر میں بلکل فکر نہیں لیکن اس بات کی افسوس ہے کہ پوچھ تاچھ کے دوران مجھے بھوکا رکھا گیا ہے خیر ہمارے پاس ایک سیاسی لمبی لڑائی ہے اور اسے لڑنا ہے ۔ ہمار عظم برقرار ہے جو کبھی نہیں ٹوٹے گا چاہے مجھے پھانسی دے دی جائے فاروق کے بعد ان کے بیٹے عمر عبداللہ نے والد سے پوچھ تاچھ کو رقابت کی سیاست بتایا۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا سرکار صوبے کی بڑی پارٹیوں کے متحد ہونے سے گھبرا گئی ہے ۔ سیاسی رقابت سے ہماری لڑائی رکنے والی نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

20 اکتوبر 2020

چلو بلاواآیا ہے ماتا نے بلایا ہے!

شاردیہ نوراترے کا آغاز سنیچر سے ہوگیا ہے ۔شہر کے سبھی بڑے مندروں میں دیویوں کی پوجا ارچنا جاری ہے کورونا انفیکشن کی وجہ سے شردھالو مندروں میں ماسک پہن کر آرہے ہیں اور بغیر ماسک کے مندروں میںاجازت نہیں ہے مندر انتظامیہ کی طرف سے تعینات سیوا دار بغیر ماسک پہنے شردھالوو¿ں کو منع کرتے ہوئے انہیں باہر سے ماسک خرید کر لگا کرا ٓنے کی صلاح دے رہے ہیں ۔اس کے علاوہ مندرں کے دروازوں پر سینی ٹائزر کا انتظام کیا گیا ہے ۔ماتا کے درشن کے لئے ایک ایک آدمی کو اندر جانے دیا جارہا ہے ۔اور اس کے بعد جب وہ پراتھنا کرکے لوٹتا ہے تو وہ دوسرے دروازے سے باہر نکل جاتے ہیں مندروں کے دروازے صبح 4بجے سے کھولے جا رہے ہیں جس وجہ سے شردھالوو¿ں کو دیوی کے درشن میں کوئی دکت نا آئے ۔مندروں کے انتظامیہ نے شردھالوو¿ں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا انفیکشن کے چلتے ماتا کے درشن کے لئے بچوںکو ساتھ نا لائیں ۔شری ماتا ویشنو دیوی مندر کے پردھان جگدیش بھاٹیا کے مطابق مندر میں صبح 8بجے سے ماتا کی جوتی پرچنڈ کر دی جاتی ہے اس کے علاوہ ہماچل پردیش کے جوالہ دیوی کے مندر سے جوتی منگائی گئی ہے ۔مورتی کے آگے لگی اسٹیل کی گرل کے اندر کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی ایسے ہی مہا کالی مندر کے پردھان راکیش کمار کے مطابق مندر کے اندر کسی طرح کی بھجن وغیرہ نہیں ہوںگے کیوں کہ نوراتر کا پرو ہے اس لئے مندر میں 30سے 35لوگ ہی ماتا کی چوکی میں شامل ہوں گے لیکن انہیں بھی شوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھنا ہوگا مندر میں کسی طرح کا ان بھوگ نہیں لگے گا ایسے ہی سدی پیٹھ مہاکالی مندر کے پردھان راکیش کمار اور ارکون پارک میں شری ماتا ویشنو دیوی کے مندر میں بغیر ماسک کے انٹری نہیں ہے ۔ماسک و شوشل ڈسٹنسنگ کرکے پوری احتیاط کے ساتھ شردھالو درشن کریں۔جے ماتا دی (انل نریندر)

بہار میں پچھڑی اور انتہائی پسماندہ برادری فیصلہ کن فیکٹر ہوں گی!

بہار چناو¿ میں کوئی پارٹی کتنا بھی زور لگا لے لیکن جب تک پسماندہ اور انتہائی پسماندہ برادریوں کے ووٹ بینک میں سیندھ نہیں لگائے گی اس کے لئے اقتدار حاصل کرنا مشکل ہے ریاست میں ان دونوں برادریوں کی آبادی قریب 52فیصدی ہے اس لئے چناو¿ میں ان پر سب سے زیادہ توجہ رہتی ہے دیگر ریاستوں کے مقابلے ذات پات کے تجزیہ چناو¿ کو کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں کیوں کہ انتہائی پسماندہ اور پسماندہ برادریوں کے لوگوں کی آبادی بہت زیادہ ہے ۔51فیصدی کے اس ووٹ بینک پر سب کی نظر رہتی ہے وہ بھی کانگریس اور بھاجپا جیسی قومی پارٹیاں ان کے ووٹ پانے کے لئے کوشش میں رہتی ہیں کچھ حد تک کامیابی ملتی ہے ۔اوبی سی اور ای بی سی کے ووٹ بہار کی سبھی علاقائی پارٹیوں میں بٹ جاتے ہیںلیکن اس میں سے ایک بڑاحصہ جس کے حق میں ووٹ دیگا اس کے لئے اقتدار کی راہ آسان ہوگی کہنے کی ضرورت نہیں پچھلے اسمبلی چناو¿ میں ان ووٹوں کا بڑا حصہ مہا گٹھبندھن کے حصہ میں گیا تھا اسی وجہ سے این ڈی اے کی سرکار آگئی لیکن اس مرتبہ حالات بدلے ہوئے ہیں جے ڈی یو اور بھاجپا کے ساتھ ہونے اور ایل جے پی کے تنہا چناو¿ لڑنے مسلم دلت رجہان والی پارٹیوں جیسے بی ایس پی ،اوراویسی کی جماعت اے آئی ایم آئی ایم وغیرہ اتحاد اگر ان ووٹوںکو اتحاد کے ذریعے ان ووٹوں کو تقسیم کرنے کا خطرہ کھڑا کر دیا ہے واقف کاروں کا خیال ہے کہ قومی پارٹی کے ساتھ سبھی پارٹیاں ذات پات کی سیاست کرتی ہیں انہوں نے اسی بنیادپر سیٹوں پر ایسے امیدوار اتارے ہیں جو ان دونوں ذاتوں کو متاثرکرتے ہیں اس لئے جو پارٹی ان ذاتوں میںزیادہ پکڑ قائم کر پائے گی اسے اکثریت ملے گی ریاست میں او بی سی ،ای بی سی کی آبادی 26فیصد ہے جبکہ او بی سی 14فیصد یادو 4فیصدکرمی 8فیصد ہیں اس کے علاوہ پارٹیوں کو 14فیصد دلت مہا دلت اور 17فیصد مسلم ووٹروں اور 15فیصد برہمن ووٹوں کے لئے بھی الگ سے جد و جہد کرنی پڑے گی۔ (انل نریندر)

24آتنکی حملے جھیل چکے بہادر بلوندر سنگھ کا قتل!

پنجاب میں دہشت گردی کے دور میں آتنک وادیوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے شوریہ میڈل ونر بلوندر سنگھ مکھیونڈ کو صبح جمع کے دن گھر پر دو نامعلوم نقاب پوشوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ان پر 42بڑے آتنکی حملے ہوئے تھے 1990میں تو 200دہشت گردوں نے اجتماعی طور پر حملہ کیاتھا ان پر کئی ٹیلی فلمیں بھی بنی تھیں ۔جمع کی صبح 7بجے بائک سوار دو نوجوان ان کے گھر کے باہر رکے ان میں سے ایک گھر میں داخل ہوا اور پستول سے فائرنگ کر دی جس سے بلوندر سنگھ کی موت موقع پر ہی ہوگئی یہ واردات گھر میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گئی ایک سال پہلے بلوندر پر حملہ ہواتھا ان کے بھائی رنجیت سنگھ نے بتایا بار بار درخواست کے باوجود پولیس نے انہیں سکیورٹی نہیں دی ۔بلوندر سنگھ ،رنجیت سنگھ دونوں کو 1993میں راشٹریہ پتی نے شوریہ میڈل سے نوازاتھا ۔یہ دیش اور دنیا کا پہلا خاندان ہے جس کے چار افراد کو شوریہ میڈل ملا رنجیت سنگھ بتاتے ہیں کہ بلویر اور میں میرا خاندان سردار ہونے کے باوجود ہندو¿ں کے ساتھ بھائی چارے کی طرح رہتے تھے اس لئے کٹرپشندوں کی آنکھوں میں ہم کھٹکتے تھے ۔بلوندر سنگھ اور ان کے پریوار پر کٹر پشندوں نے 20حملے کئے اس لئے ہم نے اپنے گھر کی چھت پر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بوریوں سے بنکر بنا لئے تھے ۔پریوار پر سب سے بڑا حملہ 30ستمبر 1990کی رات میں ہوا اور 8بجے بار بار فائرنگ شروع ہو گئی ۔میں اور میرے بھائی بلوندر کے علاوہ دونوں کی بیوی اور بچے اس وقت چار رشتہ دار تھے ۔آتنکی وادی گولی باری کے ساتھ خالستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے آواز سے ہمیں اندازہ ہوا کہ حملہ آور کافی تعداد میں ہیں اس لئے ہم چاروں پریواروں نے بغیر ڈرے مورچہ سنبھالنے کا فیصلہ لیا چونکہ ہم چھت پر تھے اس لئے آتنک وادیوں کے لئے ہمیں نشانہ بنانا مشکل ہو رہاتھا ہماری گولیاں دہشت گردوں کو لگ رہی تھیں گولیوںسے جب بات نا بنی دہشت گردوں نے گھر پر دستی گولے پھینکیں اور وہ دیوار بھی نہیں توڑ پائے ۔اتنا بڑا حملہ ہونے کے باوجود آدھا کلو میٹر دوری پر واقع تھانہ پولیس نہیں آئی اور نا ہی فوج کے ہیڈ کوارٹر سے مدد پہونچی مڈبھیڑ اتنی لمبی چلی کہ صبح کہ 4بج گئے صبح ہوتے ہی آتنکی فرار ہو گئے صبح گاو¿ں والوں نے بتایا کئی دہشت گردوں کی موتیں ہوئی ہیں۔کئی زخمی ہوئے جنہیں آتنکی اپنے ساتھ لے گئے دہشت گردوں نے راستوں پر اڑچنیں کھڑی کر دی تھیں تاکہ پولیس بچانے آتی تو اس کو بارود سے اڑادیا جائے ۔اس واردات کے تین سال بعد 1993میں سورگیہ راشٹر پتی شنکر دیال شرما نے شوریہ چکر سے نوازا تھا ایسے بہادر شخص کی موت پر بڑا دکھ ہوا ۔اس کے ساتھ پولیس کے رول پر بھی سوالیہ نشان اٹھتا رہا یہ واردات ہمیںیاد دلاتی ہے کہ پنجاب میں اب بھی دہشت گرد سرگرم ہیں۔ (انل نریندر)

18 اکتوبر 2020

کیا اپوزیشن پارٹیاں عمران کو ہٹانے میں کامیاب ہونگی ؟

20ستمبر کی تاریخ کو جب پاکستان میں مسلم لیگ (نواز)پاکستان پیپلز پارٹی ،جمعیت علماءاسلام،اور دیگر کچھ دوسری پارٹیاں اسلام آباد میں ایک فرنٹ کے تلے جمع ہورہیں تھی تو پاکستانیوں کی رائے یہ اپوزیشن پارٹیوں کا فلاپ شو ہوگا یہ تمام پارٹیاں عمران خان کی سرکار کو بڑی چنوتی دینے کا دعویٰ تو کرتی ہیں لیکن وہ مشترکہ حکم عملی بنانے میں ناکام رہیں ہیں اور لیکن عام آدمی کی رائے اس وقت بدل گئی جب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لندن سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اپوزیشن پارٹیوں کے اجتماع میں شمولیت کی تھی ۔ بتا دیں پاکستانی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو کرپشن کے لئے قصور وار مانا تھا اوران پر زندگی بھر کے لئے سیاست کرنے پر پابندی لگا دی ہے ۔ نواز ان دنوں لندن میں قیام پذیر ہیں اس سے پہلے وہ 2019نومبر میں لندن جانے سے پہلے جیل میں تھے ۔نواز شریف نے اپوزیشن کی میٹنگ سے اپنی تقریر میں کہا کہ میری لڑائی عمران خان سے نہیں بلکہ ان سے ہے جنہوں نے ان کو کرسی پر بٹھا یا ہے انہوں نے اشاروں اشاروں میں پاکستانی فوج پر ، سیاسی وسماجی اور اقتصادی معاملوں مداخلت کا الزام لگایا ان کا کہنا تھا پاکستان میں ایک اسٹیٹ کے اوپر بھی ایک اسٹیٹ ہے یہی یکساں حکومت ہماری ساری برائیوں اور پریشانیوں کی جڑ ہے اور اس کو ہٹانا ہماری سب سے بڑی ترضیح ہونی چاہئے ۔ سرکار کو کٹ پتلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے چناو¿ میں گڑبڑی کی گئی تھی۔ کانفرنس میں اپوزیشن پارٹیوں نے ایک 26نکاتی پرستا و پاس کیا جس کو میڈیا کے سامنے مولانا فضل الرحمان نے پڑھا جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کی اس حکومت کو ہٹا نے کے لئے سرکار کے خلاف تحریک عدم اہتمام لانے اور مناسب وقت پر سینیٹ اور ریاستی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفیٰ دینے اور سب ملکر سیاسی اور جمہوری آئینی طریقے کو اپنائیں گی ۔ سرکار کو دیش کی سرداری اور اداروں کے لئے خطرہ بتایا گیا پاکستان مسلم لیگ(نواز) کے نیتا محمد زبیر نے نواز اور ان کی بیٹی مریم نواز کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے فوج کے چیف سے خفیا ملاقات کی اور سات ستمبر کو بھی ایک اور میٹنگ ہوئی تھی جس میں سرکارکے مختلف محکموں آئی ایس آئی کے چیف سمیت اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے قانونی معاملے عدالتوں سے ہی حل ہوں گے اور ان کے سیاسی معاملوں کا حل پارلیمنٹ تلاش کرے گی اور فوج کو ان سب معاملوں سے الگ رکھا جائے لیکن تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ خفیا ملاقاتوں کے جنتا کے سامنے لاکر فوج یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اس پر سیاست میں دخل دینے الزام بے بنیادہیں کیونکہ سیاست داں فوج کو خود ہی سیاست میں گھسیٹتے ہیں ۔ عمران خان نے ایک بار کہا تھا سابق وزیر اعظم نواز شریف نے فوج پر سیاست میں مداخلت کا الزام لگا کر خطر ناک کھیل کھیل رہے ہیں نواز اپنی باتیں پھیلانے کے لئے بھارت کا سہارا بھی لے رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

بائیڈن کیلئے ایک رات میں اکٹھا ہوئے 24کروڑ روپئے !

اس مرتبہ امریکی صدارتی چناو¿کے معاملوں میں انوکھا ہے بھلے ہی امریکی آبادی میں ہندوستانیوں کی حصہ داری 10فیصد ہے لیکن ان کا سیاسی اور مالی دبا و¿ کہیں زیادہ پچھلے سال صدارتی چناو¿ کے لئے کمپین سے اب تک ہندوستانیوں نے صدارتی امیدواروں کے لئے 43کروڑ عطیہ میں دیے ہیں ٹرمپ کو کمپین کے لئے 7.32کروڑ روپیے ملے ہیں جب کی 2016میں ہندوستانیوں نے ٹرمپ کے لئے 29کروڑ روپیے 2016میں دیے تھے ۔ اور ان میں ہاوڈی مودی ایونٹ کرانے والے بزنس مین رالم کمار نے سب سے زیادہ 10کروڑ روپیے دئیے تھے ۔ وہیں کملا ہیرس ہیں کو اپنا ڈپٹی چننے کے بعد ڈیمو کریٹک امیدوارجوائے بائیڈن کے لئے حمایت اور مالی مدد میں اچھال آیا ہے حالیہ سروے کے مطابق 72فیصد سے زیادہ تارکین وطن ہندوستانی بائیڈن کے لئے ووٹ ڈالیں گے ۔ ہندوستانیوں نے ان کے لئے ایک ہی رات میں ورچول ایونٹ کے ذریعے 24کروڑ روپیے اکٹھا کئے اور اس رقم کے چیک بائیڈن اور ہیرس کمپین کے لئے دیئے فنڈ اکٹھا کرنے والے ایک شخص سورج اروڑا کہتے ہیں ٹرمپ ،وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنی دوستی کو بے حد مضبوط بتاتے ہیں لیکن وہ ہندوستانی امریکیوں سے نمک اکٹھا کرنے میں فنڈ اکٹھا کرنے اور ان کو اپنی طرف راغب کرنے میں پیچھے ہیں ٹرمپ کی پالیسیاں ہندوستانیوں اور ہندوستانی تجا رت کے لئے نقصاد دہ ہے انہوں نے اینٹی ایمیگرینٹ پالیسی سے ہندوستانیوں کو نقصان پہونچایا ۔ اور متعدد پابندیاں لگائیں اس کی جگہ جوائے بائیڈن نے ہندوستانی نزاد کملا ہیرس کو نائب صدر کے عہدے کا امیدوار بنا کر ہندوستانی امریکیون کا دل جیت ہے ۔ پچھلے سال جب کملا ہیرس صدارتی چناو¿ کے عہدے کی نیت جوڈ سے ہٹیں تو انہوں نے اس وقت تک ہندوستانیوں سے 2.83کروڑ روپیے اکٹھا کئے تھے ۔ امریکہ میں ٹرمپ ہٹا و¿، امریکہ بچاو¿،امریکہ کا نیتا کیسا ہو،جوائے بائیڈن جیسا ہو آپ کو یہ نعرے ہندی میں سنائی دیں تو حیرت میں پڑ جانا فطری ہے ۔ لیکن نومبر میں ہونے والے صدارتی چناو¿ میں ہندوستانی امریکی لوگوں کو لبھا نے کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے ورکروں نے ہندی سمیت 14زبانوں اسی طرح کی کمپین کی شروعات کی ہے چناو¿ میں بس توڑے دن ہی بچے ہیں دیکھیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ (انل نریندر )

سات مہینے بعد سنیما ہالوں میں فلم شو شروع ،فلموں کی لگی قطار!

سنیما گھر سات مہینے کے بعد بیشک کھل گئے لیکن فلم دیکھنے والے ناظرین دور ہیں کافی انتظار کے بعد سنیما گھروں میںرونک لوٹ آئی ہے جمعہ کو پہلا دن تھا دہلی کے ملٹی پلیکش میں کورونا سے بچاو¿ اور فلم ناظرین کی تسلی کے لئے اپنی صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا زیادہ لوگ تو نہیں آئے مگر امید ضرور جاگی ۔ دہلی میں 105سنیما گھر و ملٹی پلیکس ہیں۔ابھی کچھ ہی نے شروعات کی ہے 11مارچ کو حکومت نے کورونا انفیکشن پھیلنے کے بعد بچاو¿ کی کوشش میں تما م سنیما گھروں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا ابھی دہلی میں pvr (پی وی آر )سنیما میں صرف 19کو شروع کیا گیا ہے سنیما میں کورونا یودھاو¿ں کے لئے ان کی خدمات پر ایک اشپیشل فلم دکھا ئی گئی جس میں ڈاکٹر نرسیں سول ڈیفینس ملازم، آشا ورکرکے علاوہ پی وی آر سنیما کے ملازم بھی شامل تھے نئی دہلی انتظامیہ کی طرف سے یہ درستاویزی اسپیشل فلم دکھائی گئی ۔ اس میں ایس ڈی ایم ،نتن و اڈیشنل ایس ڈی ایم پیوش روہنکر اور شروتی اگروال موجود رہے۔اس موقع پر ایس ڈی ایم نے لوگوں کو کورونا وباءسے بچا نے کے لئے کورونا یودھاو¿ں نے بہت محنت کی ہے جب سنیما ہا ل شروع ہوگئے ہیں تو ان لوگوں کا کچھ ذہنی کشیدگی کو دور کرنے کے لئے سنیما ہال کھولے گئے تاکہ وہ یہاں سنیما دیکھ سکیں ۔ حالانکہ دیش کے کئی سنیما گھرون کے مالکوں کا کہنا ہے کہ وہ پرانی فلموں کی نمائش کر کے اپنے سنیما گھر کھول رہے ہیں ۔ بالی ووڈ میں بھی فلمی شوٹنگ شروع ہونے کے اعلان کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں بڑھنا فطری ہیں اور اب تمام پروڈیوسر فلموں کی ریلیز کی حکمت عملی بنا رہے ہیں ۔ اس کے تحت اکچھے کمار کیٹرینا کیف کی فلم شوریا ونسی جو 15اکتوبر یا دیوالی پر ریلیز ہونے کی باتیں ہورہیں تھیں اب 26جنوری پر ریلیز ہوگی سنیما گھر کھلتے ہی فلموں کی لائن لگ گئی ہے ۔ ایک مہینے تک کسی پروڈیوسر اپنی فلم ریلیز کرنے کی ہمت نہیں کی بالی ووڈ میں جہاں فلموں کی شوٹنگ شروع ہوچکی ہے وہیں نامی گرامی پروڈیوسر اور اداکاروں کی لیسٹ پے لئے کی فلمیں ریلیز کے لئے تیار ہیں ۔ اور اداکاروں فلموں کے لئے مانگ بڑھنے لگی ہے خریداروں نے فلموں کے لئے معاہدے شروع کردئے ہیں ۔ ابھی تو پورے سنیما گھر تو کھلے ہی نہیں لیکن آہستہ آہستہ لائن پٹری پر آرہی ہے ۔ (انل نریندر )

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...