29 نومبر 2014

فلپ ہیوج کی موت سے غم میں ڈوبی کرکٹ دنیا

صرف 25 سال کی عمر میں دنیا کو ا لوداع کہنے والے مایہ ناز کرکٹ کھلاڑی فلپ ہیوج کی موت سے پوری کرکٹ دنیا صدمے میں ہے آسٹریلیا میں ماتم چھایا ہوا ہے آسٹریلیائی ٹیسٹ کرکٹر فلپ ہیوج کو منگل کے روز شوفلڈ شیلڈ اور نیو ساؤتھ ویلرز کے ساتھ میچ میں ایک باؤنسر بال جو کہ ساتھی آسٹریلیائی کھلاڑی سین ایورنے پھینکی جوکہ اس کے سرپر لگی تھی۔ حالانکہ ایورنے ہیلمیٹ پہنا ہوا تھالیکن اس کے باوجود چوٹ اتنی گہری اورخطرناک تھی کہ وہ زندگی اور موت کے بیچ لٹک رہا اور آخر کار ہیوج جمعہ کے روز اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔ ہیوج ساؤتھ آسٹریلیا کی جانب سے سلامی بلے باز کے طور پر اتریں تھے اور انہو ں نے آف سینچری بھی بنائی۔جب وہ 63 رن پر کھیل رہے تھے تو حریف ٹیم نیو ساؤتھ ویلیز کے تیز گیندبازسین ایور نے ایک باؤنسر بال پھینکی جو ہیوج کے سر پر جالگی۔ بال لگنے کے بعد کچھ پل کے لئے ہیوج نے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر لگے اور پھرپیچ پر منہ کے پل گرپڑیں۔ میڈیکل اسٹاف اورکھلاڑی دوڑ کر ان کے پاس پہنچے۔ اورانہیں منہ سے سانس دلانے کی کوشش کی اور 40 منٹ تک علاج کیا۔ کوئی فائدہ نہ ہونے پر ہیوج کو سڈنی کے سینٹ وینسیٹ ہاسپٹل لے جایا گیا اور میچ کووہی روک دیا گیا کیونکہ سبھی سمجھ گئے تھے ہیوج حالت بہت نازک ہے اس کے سر کا آپریشن ہوا لیکن وہ نزع میں چلے گئے اور پھر وہ ہوش میں نہیں آئے اورجمعرات کو آخر کار ہسپتال نے انہیں مردہ قراردے دیا۔ ہیوج کی موت نے پرانی یادیں تازہ کردی ہے۔1998میں بنگلہ دیش میں ایک کلب میچ کے دوران ہندوستانی کھلاڑی رمن لانبا شاٹ لیفٹ پر بغیر ہیلمٹ لگائے فلیڈنگ کررہے تھے اچانک بلے باز کا شاٹ سیدھے ان کے ماتھے پر لگا اور 3دن ہسپتال میں بھرتی رہنے کے بعد 38 سال کی عمر میں ان کا دیہانت ہوگیا تھا۔1962 میں ناری کانکیٹرکیبربائی دورے پر ٹیم انڈیا کے کپتان تھے۔ بیٹنگ کے دوران ویسٹن انڈیز کے تیز گیند باز چارلی گیفیگ کی گیند اس کے سر پر لگی اور وہ 6 دن تک بیہوش رہے ان کو بچانے کے لئے آپریشن بھی کیاگیا لیکن کانڈیکیٹر بچ تو گئے لیکن وہ دوبارہ کرکٹ نہیں کھیل پائے۔ فلپ کی موت پر ساری دنیا کے کھلاڑیوں کے تعزیتی پیغامات آرہے ہیں۔ ان کے موت سے جہاں کرکٹ میں زندگی کو خطرہ کی بحث پھر سے چھڑ گئی ہے وہی ہیلمٹ کی کوالٹی پر سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ فلپ ہیوج کی موت کے بعد کرکٹ فرقے میں ہیلمٹ کی کوالٹی کو لے کر تشویش جٹائی جارہے ہیں۔ یہ ثابت ہوچکا ہے ہیوج نے اچھی کوالٹی کا ہیلمٹ نہیں پہنا ہواتھا۔ کھلاڑی اور کرکٹ سے جڑے تمام لوگ اور کرکٹ شائقین اب اس بات جوڑ دے رہے ہیں کہ فلپ ہیوج کے ساتھ جو کچھ ہوا ایسا واقع دوبارہ نہ ہوئے۔اس کے لئے کیاکرناچاہئے؟ ہم ہیوج کے خاندان کو یہ کہناچاہیں گے اس دکھ کی کھڑی میں وہ اکیلے نہیں ہے تمام دنیا کے کھلاڑی، کھیل شائقین ان کے دکھ میں شریک ہے۔

(انل نریندر)

اداکارہ وینا ملک اس مرتبہ بری پھنسی

پاکستانی اداکارہ وینا ملک ہمیشہ تنازعات یا کنٹروورسی میں چھائی رہی ہے۔ پبلیسٹی کے خاطر وہ اکثر میڈیا میں چھائی رہنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔منگلو ار وہ ایک ایسے ہی معاملے میں پھنس گئی ہے جس سے وہ نہیں نکلی توانہیں 26 سال جیل میں گزارنے ہوں گے۔ پاکستانی میڈیا گروپ کے جیو او ٹی وی کے مالک، وینا ملک اورا س کے شوہر بشیر خاں کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مبینہ طور سے توہین مذہب کے معاملے میں26 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ جیو او ٹی اورپاکستان کے بڑے میڈیا گروپ جنگ کے مالک شکیل الرحمن پر الزامات تھے کہ انہوں نے مئی میں جی او ٹی پر ٹیلی کاسٹ ایک پروگرام میں ویناملک اور بشیر کی ڈرامائی شادی کے دوران ایک مذہبی گیت بجانے کی اجازت دی تھی جج شہباز خان نے وینا ملک اور بشیر کے ساتھ ساتھ پروگرام کے میزبان شائستہ وحیدی کو بھی 26سال کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ملزمان پر 13لاکھ پاکستانی روپے کا بھی جرمانہ کیاہے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اپنے حکم میں جج نے کہا ہے کہ چاروں ملزمان نے مقدس آیات کی توہین کی ہے اور پولیس کو انہیں گرفتار کرلینا چاہئے حالانکہ اس معاملے میں خاص بات یہ ہے کہ عدالت اس حکم کو نافذ نہیں کیاجاسکتا ہے۔ کیونکہ گلگلت پلستسان کو پاکستان مکمل صوبے کا درجہ حاصل نہیں ہے یہاں کی عدالت کے حکم پاکستان کے دوسرے حصوں میں نافذ نہیں ہوتاحالیہ میڈیا رپورٹ کے مطابق کورٹ کی طرف قصوروار ٹھہرائے گئے4 لوگ پاکستان میں نہیں ہے۔ رحمان متحدہ امارات میں رہتے ہیں وہ تین دیگر دہشت گردانہ حملے کی دھمکی کے چلتے بیرونی ملک میں مقیم ہے۔ حالانکہ وحیدی اورجی او گروپ اس معاملے میں معافی بھی مانگ چکا ہے لیکن کٹر پسند افراد اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے چاروں افراد کو گرفتار کرنے کے احکامات دیئے اوراس نے یہ بھی کہا ہے کہ اگررقم جمع نہ کرنے صورت میں پیسے کے لئے ان کی جائیداد فروخت کردی جائے۔ وینا ملک اس فیصلے سے صدمے میں ہے اور انہوں نے صفائی دی ہے کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیاہے۔ ہم اونچی عدالت میں اس فیصلے کے خلاف جلد اپیل دائر کریں گے۔ اس پروگرام کو لے کر وینا ملک اوردیگر کو سزا ہوئی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ وینا ملک اپنے شوہر کے ساتھ ناچ رہی ہے اور بیک گراؤنڈ میں صوفی گلوکار ایک مذہبی گانا بجا رہے ہیں وینا نے کہا ہے کہ یہ گانا سینکڑوں پہلے بھی بج چکا ہے جب تو کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا ہے وینا نے کہا کہ دراصل پاکستان میں ایک میڈیا جنگ چھڑی ہوئی ہے اور یہ مقدمہ بھی اسی کا نتیجہ ہے میں ایک مسلمان ہوں۔میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ اپنے مذہب کسی طرح کا نقصان پہنچانے کے بارے ۔ میرے خلاف کٹر پسندی افراد نے تمام جھوٹے معاملے بنا رکھے ہیں۔ اس شو میں 200 مہمان بھی موجود تھے اکیلے مجھے اور میرے شوہر کو کیسے قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ مجھے پاکستانی عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے اور میں اس معاملے میں بری ہوں گی۔ دیکھیں آگے مقدمہ کیسے آگے بڑھتا ہے؟ کیا وینا پاکستانی آئیں گی اوراپیل کریں گے۔ کیا وینا ملک کو کٹر پسندی نے بلاوجہ نشانہ بنایا ہے یہ کچھ سوالات جن کا شائد جواب آنے والے دنوں میں مل جائے۔
(انل نریندر)

28 نومبر 2014

امریکہ کے90شہر وں میں نسلی فسادات!

ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان میں ہی فسادات ہوتے ہیں ان دنوں دنیا کے سب سے خوشحال اور ترقی یافتہ ملک امریکہ میں خوفناک دنگے بھڑکے ہوئے ہیں۔ امریکہ کے میسوٹی صوبے میں 18 سالہ نہتے نوجوان گورے لڑکے کو گولی مار کر قتل کرنے والے پولیس افسر کو بری کئے جانے کے بعد پورے دیش میں فسادات کی آگ پھیل گئی ہے واقعہ کی جانچ کررہی ہے گرینڈ جوری نے ملزم کالے پولیس ملازمین کو چھوڑ دیا ہے اس کے احتجاج میں امریکہ کے قریب 90 شہروں میں آتشزنی اور تشدد بھڑکا ہوا ہے کئی شاپنگ مال جلا دیئے گئے ہیں درجنوں گاڑیاں پھونک دی گئی ہے۔ لوٹ مار کے واقعات بھی ہورہے ہیں۔ معاملہ کچھ یوں بیان کیاجاتا ہے کہ امریکہ کی ریاست فگریوسن میں اٹھارہ سال کے نہتے گورے لڑکے مائیکل براؤن کو ایک سیاہ فام پولیس کانسٹبل ویلسن نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ واقع کی جانچ کررہی گرینڈ جولی نے ملزم پولیس کانسٹبل ویلسن کے خلاف الزام ثابت نہ ہونے پر اسے چھوڑد یا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس کی گولی کی وجہ سے لڑکے مائیکل براؤن کی بلاوجہ گولی مار کر موت کی نیند سلادیا گیا جوری نے اس پر چارج شیٹ نہ لگانے کافیصلہ کیا ہے اس کے بعد پیر کی دیررات نیسوٹی صوبے کے سینٹ لوئی کونٹی کے وکیل رابرٹ میکلوک نے اعلان کیاتھا کہ پولیس افسر دیرر ویلسن کے خلاف کوئی ا مکانی وجہ نہیں ملی ہے جس کی بنیاد پر اس پر مقدمہ چلایا جائے اس لئے فیصلے کے بعد امریکہ کی اس ریاست میں فسادات شروع ہوگئے۔ امریکہ کی گوری آبادی کاالزام ہے کہ گرینڈ جولی میں سیاہ فاموں کا بول بالا ہے۔ اس لئے ملزم کو رہا کردیا گیا ہے۔ اس میں نو سیاہ فام اور تین گورے جج ہے الزام ہے کہ دیرر براؤن نے ایک دکان سے زبردستی سگار کا پیکٹ اٹھالیا تھا وہ اکیلا ایسا قصہ نہیں تھا جب ایک پولیس ملازمین کو غیرسیاہ فام نوجوان کے قتل میں بری کیا گیا ہو۔ فلوریڈا کی ایک عدالت سینٹ فورٹ نے بھی فروری میں 2012 میں 17سال کے نہتے گورے شخص کو ایک پولیس افسر نے سرعام گولی مار دی تھی۔ اس معاملے میں قصوروار پائے گئے پولیس افسر کو بری کردیا گیا تھا۔ فیصلے کی اطلاع ملتے ہی سینکڑوں مظاہرین تھانے کے سامنے جمع ہوگئے جہاں دیرن ویلسن تعینات تھا اور یہی سے فساد شروع ہوا جو اب امریکہ 90شہروں میں اپنی زد میں لے چکا ہے۔ 10ہزار سے زیادہ سیکورٹی فورس کے جوان فسادات زدہ علاقوں میں تعینات کئے گئے ہیں۔ 150 راؤنڈ گولیاں سیکورٹی فورس کے ملازمین پر مظاہرین نے داغی ہے امریکی صدر کے ترجمان نے بتایا کہ صدر اوبامہ نے اپیل کی ہے جو لوگ جولی کے فیصلے پر مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں وہ پرامن کریں مائیکل براؤن کی موت کے بعد امریکہ میں ایک بار پھر نسلی امتیاز کے اشو کو بھڑکا دیا ہے افریقی اور امریکی لوگ ویلسن کاخلاف قتل کامقدمہ چلانے کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گولی چلانے کے وقت مائیکل براؤن نے خود سپردگی کے لئے اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے تھے۔ جب کہ پولیس کی دلیل ہے گولی چلائے جانے سے پہلے پولیس اور لڑکے کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ ویلسن کے خلاف معاملہ مقدمے چلانے کے لئے 12ممبران کی ایک گرینڈ جوری میں سے 9 ممبروں کورضا مندی دینی تھی 12شہریوں نے 6گورے مرد 3 گوری عورتیں اور 1 کالا مرد اور 2کالی عورتیں شامل تھیں۔ فرگوسن تشدد میں بھلے ہی کوئی ہندوستانی زخمی نہیں ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ اقتصادی نقصان انہی کا ہوا ہے۔ یہاں ہندوستان کی آبادی آدھی فیصد سے بھی کم ہے۔ لیکن ڈپارٹمنٹل اسٹور ہوٹل کے کاروبار میں سب سے آگے ہیں۔ جہاں سے تشدد پھیلا ہے اس کے بعد دکان کھولنا دور بلکہ اپنی پراپرٹی بچانے کا بھی تشدد سے ہندوستانی اس لئے ڈریں ہوئے ہیں کیونکہ پولیس نے براؤن کو گولی مارنے کے پیچھے ہندوستانی نثراد این ڈی پٹیل کے ڈپارٹمنٹل اسٹور میں لوٹ مار کی کہانی گھڑی تھی پولیس کا کہنا تھا کہ براؤن نے اپنے دوستوں کے اسٹور سے سگار لیا اور پٹیل کے ذریعے پیسہ مانگنے پر بندوق دکھا کر نکل گئے حالانکہ پٹیل نے خاموشی اختیار کرلی۔ اور جو ویڈیو سامنے آیا ہے اس میں مائیکل براؤن کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں دکھائی دے رہا ہے۔
(انل نریندر)

جموں وکشمیر میں 70فیصد پولنگ علیحدگی پسندوں کے منہ پر طمانچہ ہے!

جموں و کشمیر میں 5مرحلوں میں ہورہے اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلے میں منگل کے روز 15 انتخابی حلقوں میں علیحدگی پسند تنظیموں کے جانب سے بائیکاٹ کو درکنار کرتے ہوئے اور کڑاکے کی سردی کے باوجود 70 فیصد سے زائد ووٹروں نے اپنے حق کے رائے دہندگی کا استعمال کیا ہے۔ قسط وار کے 69 سالہ علیم الدین کسی بھی قیمت پر پولنگ میں حصہ لیناچاہتے تھے۔ وہ اپنے دوبیٹوں کو آتنکی تشدد میں گنوا چکے علیم الدین کا ووٹ ڈالنے کا مقصد یہی تھا کہ جمہوریت کی جیت ہو تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو ہمیں اس بات سے فرق نہیں پڑھتا ووٹروں نے اپنا ووٹ کس پارٹی کو دیا ہے؟ سب سے اہم تو یہ ہے کہ انہوں نے ووٹ ڈالا ہے۔ اور ایسا کرنے سے یہ صاف اشارہ دیا ہے کہ وہ ریاست میں دہشت گردی سے تنگ آچکے ہیں کشمیر کے ایک اور علاقے کنگن کے باشندے یوسف کے لئے اشو دہشت گردی نہیں اور نہ ہی کشمیر کی آزادی تھا۔ بلکہ وہ گاؤں کے ترقی کے لئے سرکار کے چننے کا مقصد سے آتنکی دھمکی کے باوجود کے پولنگ کے لئے سردی کی پرواہ کئے بغیر پولنگ بوتھ پر آیا تھا۔ پہلے مرحلے کی پولنگ میں شامل ہوئے ووٹروں کی چاہے الگ الگ وجہ رہی ہو لیکن سب کا مقصد ایک ہی تھا وہ سب ہی بغیر خوف کے پولنگ میں شامل ہوئے وہ آتنکیوں اور ان کے آقاؤں اور پڑوسی ملک کے دلوں پر سانپ ضرور لوٹ گیا ہوگا۔ آخری لوٹے بھی کیوں نہ! 25 سال کے آتنک واد سے لڑرہی ریاست کی عوام کو جمہوری عمل سے کوئی بھی دور نہیں رکھ سکیں اب کی بار جموں وکشمیر میں کس پارٹی کی سرکار ہوگی؟مختلف دعوے ہورہے ہیں کہیں اتحادی سرکار کے دعوے ہیں تو کہیں اکثریت حاصل کراپنے دم خم پر سرکار بنانے کے ہے۔ جموں وکشمیر کے علیحدگی پسند لیڈر رہ چکے سجاد لون کی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات اور ان کی تعریف میں قصیدے پڑھنے سے اس ریاست کی سیاست کے تغذیہ میں تیزی سے بدلاؤ آنے کی ا مید ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے ٹوٹنے کے ساتھ ان کے لیڈر اب پارٹیاں بدلنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ریاست میں اقتدار بدلنے کے ساتھ آثار ہے۔ لیکن اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ وزیراعلی عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی ملی جلی حکومت کے دوران زبردست بدعنوانی فیصلوں میں ٹال مٹول اور نکمے پن کے ساتھ ساتھ اس کاجانبدارانہ اور بے احساس ہونا رہا ہے۔ اس کی انتہا ستمبر میں کشمیر میں آئے سیلاب کے دوران دیکھنے کو ملی۔عمر حکومت اور انتظامیہ راحت اور مدد پہنچانے میں ناکام ثابت ہوئے۔ اس کے برعکس وزیراعظم نریندر مودی کا وہاں فورا پہنچنا اور سو کروڑ روپے کی فوری مالی مدد کے ساتھ سیکورٹی فورس اور فوج کے جوانوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر مصیبت زدہ لوگوں کی جان بچائی ہے۔ جموں وکشمیر کے نوجوانوں میں مودی کو لے کر کافی جوش اور امیدیں پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے مرحلے میں 70 فیصدی پولنگ ہوئی۔ ان میں اکثریت نوجوانوں کی تھی دیکھنا یہ ہے کہ وادی میں بھاجپا کو کتنی سیٹیں مل سکتی ہیں؟ جموں اورلداخ میں تو اسے کامیابی ملیں گی ہی لیکن وادی میں کیا ہوتا ہے؟ بہرحال پہلے مرحلے میں 70 فیصد ووٹ ڈال کر عوام نے دہشت گردی پر کراکر طمانچہ مارا ہے۔
(انل نریندر)

27 نومبر 2014

اکھلیش کو ملائم کا 15 دن کا الٹی میٹم!

یہ پتا پتر کا قصہ ہمیں سمجھ میں نہیں آتا۔ آئے دن پتا ملائم سنگھ یادو بیٹے وزیر اعلی اکھلیش یادو اور ان کی سرکار کے وزرا کو دھمکاتے رہتے ہیں۔ بیشک وزیر اعلی تو اکھلیش ہیں لیکن پارٹی کے چیف کی حیثیت سے نصیحت ملائم سنگھ دیتے رہتے ہیں اور سدھار نہیں کرتے۔ اترپردیش کے وزیر اعلی کی حیثیت سے اکھلیش یادو نے سنیچر کو رامپور میں اپنے والد ملائم سنگھ یادو کی 75 ویں سالگرہ پر بھلے ہی نریندر مودی کو خبردار کیا ہولیکن ان کی سرکار کے کام کاج سے صوبے میں کوئی بھی طبقہ خوش نہیں ہے اور یہ بات خود ملائم سنگھ بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سالگرہ تقریب میں ایک ایک کرکے سب کی خبر لی۔وزیر اعلی اکھلیش یادو ہوں یا پھر افسر کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔ بار بار اس طرح کی وارننگ کے باوجود وزرا کے طریق�ۂ کار میں تبدیلی نہ ہونے سے ناراض ملائم سنگھ نے انہیں 15 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ ایسا رہا تو انہیں ہٹانے کا متبادل کھلا ہے۔ حکومت پر کمزور پکڑ کار حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلی کی منتظمانہ صلاحیت پر بھی انگلی اٹھائی گئی۔ موقعہ تھا وزیر اعلی رہائشگا پر لکھنؤ ۔آگرپ ایکسپریس وے اور دو پلوں کا سنگ بنیاد رکھنے کا۔وزیر اعلی ، چیف سکریٹری الوک رنجن کے ساتھ سینئر افسروں کی موجودگی میں ملائم جب بولنے آئے تو ہر کسی کو بغلیں جھانکنے پر مجبور کردیا۔اب یہاں ان کی سنگ بنیاد رکھنے سے لیکر تعمیر کی تاریخ بتانے کیلئے کہا۔چیف سکریٹری و انفارمیشن سی ای او یوپی ڈی نونیت سہگل نے تعمیراتی کمپنیوں کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے بعد ایس کون انفراسٹکچرکے نمائندے مائک پرآئے انہوں نے دو سال میں کام پورا کرنے کا وعدہ کیا۔ ملائم اتنے سے مطمئن نہیں ہوئے اور بولے اسے دو مہینے پہلے پورا کرائے۔ ملائم کا موڈ دیکھ کر وزرا اور افسروں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ نشانے پر میڈیا بھی تھا۔ خاص طور پر اعظم خاں پر سوالات اٹھانے کی وجہ سے ملائم نے میڈیا کو بھی نا سمجھ قراردیا۔ ملائم پر2017ء کے اسمبلی چناؤ کی پریشانی سر چڑھ کر بولتی نظر آئی۔ جس صوبے میں ایک نہیں چار چار وزیر اعلی ہوں ایک سپر مکھیہ منتری ہو تو وہاں کا حال کیا ہوگا؟ قتل ،ڈکیتی، لوٹ مار، اغوا، آبرو ریزی ،ناجائز وصولی جیسے جرائم کی خبریں صوبے کے اخباروں میں بھری پڑی ہوتی ہیں۔ اس پر اکھلیش گھڑکی دے دیتے ہیں کہ میڈیا کو ان کی سرکار کا اچھا کام کاج کبھی دکھائی نہیں دیتا۔ اچھا ہوتا کہ وہ اپنے والد کی نصیحتوں کو مان لیتے جو کئی موقعوں پر ان کے طریقہ کار کی نکتہ چینی کرچکے ہیں۔ سپا کے لوگوں پر کرپشن اور غنڈہ گردی میں ملوث رہنے کا اپنا درد بھی جتا چکے ہیں۔ پچھلے ہفتے تو ملائم نے یہاں تک کہہ دیا تھا اکھلیش کی لیپ ٹاپ یوجنا نے لوک سبھا چناؤ میں سپا کو ہروادیا۔ جیسا میں نے کہا یہ پتا پتر کے ناٹک کو سمجھنا مشکل ہے۔ کم سے کم ہم تو سمجھ نہیں سکے۔
(انل نریندر)

اڈانی کو کیسے ملا 1 ارب ڈالر کا قرض؟

آسٹریلیا میں اڈانی گروپ کے کوئلہ کھان پروجیکٹ کو قرض دینے کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ نریندر مودی سرکار کے آنے سے جنتا کے بجائے اڈانی جیسے صنعتکاروں کے اچھے دن ضرور آگئے ہیں۔ پارٹی ترجمان اجے ماکن نے اڈانی کو قرض دینے کا ایس بی ایس کا جواز کیا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب پانچ غیر ملکی بینکوں نے پروجیکٹ کے لئے اس گروپ کو قرض دینے سے منع کردیا تھا۔ اڈانی کو اتنا بڑا قرض دینے پر سوال کرتے ہوئے ماکن نے اس بات پر حیرت ظاہر کی۔ آخر ایس بی آئی اس پروجیکٹ کیلئے اڈانی کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے دستاویز کیوں نہیں دکھا رہی۔وزیر اعظم نریندر مودی کے آسٹریلیا دورے کے درمیان ایس بی آئی اور اڈانی گروپ کے درمیان سمجھوتہ ہوا تھا۔ اس کے تحت بینک اڈانی گروپ کو آسٹریلیا میں کوئلہ کھدائی کے لئے16.95 ارب روپے کا قرض دے گا۔ بھارتیہ بینک کے ذریعے بیرون ملک میں کسی پروجیکٹ کیلئے دی جارہی یہ سب سے بڑی قرض کی رقم ہوگی۔ اس پر ماکن نے کہا بینکوں پر اڈانی گروپ کا 72 ہزار کروڑ روپے کا قرض پہلے سے بقایا ہے اور اسے 6 بڑے بینک قرض دینے سے منع کرچکے ہیں۔ پھر ایس بی آئی کس بنیاد پر قرض دینے کو تیار ہوئی؟ بینک کو اس بارے میں پوری جانکاری دینی چاہئے۔ اس پر ایس بی آئی گروپ کے چیئرمین ارودھتی بھٹاچاریہ نے کہا کہ ابھی اڈانی گروپ کے ساتھ بینک کا صرف سمجھوتہ ہوا ہے کوئی قرض منظور نہیں کیا گیا ہے۔ بینک پوری خانہ پوری اور جانچ پڑتال کے بعد ہی رقم منظور کرے گا۔ لیکن ایس بی آئی کو لگتا ہے کہ یہ فائدے کا سوداہے۔ اس پروجیکٹ کے ماحولیات سے جڑے بی ایس لینڈ کے ڈپٹی وزیر اعظم سے بات کی ہے جس میں کوئنس لینڈ کے نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کو ہری جھنڈی ملی ہوئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس طرح وزیر اعظم کو ایک مخصوص صنعت کار کے ساتھ لے جانا اور اسے وہاں (آسٹریلیا میں) قرض دلوانا صحیح نہیں مانا جاسکتا۔ جس گروپ پر پہلے سے ہی قرض نہ لوٹانے کا مقدمہ چل رہا ہے اس سے اس طرح کا جانبدارانہ رویہ اپنانے سے غلط پیغام جاتا ہے۔
پھر یہ پیسہ تو بھارت کی عوام کا ہے اگر کانگریس کہتی ہے کہ مودی عام جنتا کے پیسوں سے صنعتکاروں کی مدد کررہے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے؟ کانگریس نے ایک بڑے غیر ملکی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پروجیکٹ کو دنیا کی کوئی بھی مالیاتی ایجنسی قرض نہیں دے رہی ہے۔ وزیر اعظم پر دیش سے زیادہ بیرون ملک میں رہنے کے الزامات کو دوہراتے ہوئے کانگریس نے کہا نریندر مودی نے اچھے دن لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے سرکار کے قریبی مانے جانے والے صنعتکاروں کے اچھے دن آگئے ہیں۔
(انل نریندر)

26 نومبر 2014

بوفوس گھوٹالہ کے28 سال بعد توپوں کی خرید ہوگی!

یہ خوشی کی بات ہے کہ مودی حکومت نے دیش کی سلامتی کے لئے ہماری افواج کے لئے ضروری ہتھیارخریدنے کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ یوپی اے حکومت کے عہد میں تو کمیشن خوری کے سبب فوج کے لئے انتہائی ضروری ہتھیار خریدنا ہی بند کردیا گیا تھا نتیجہ یہ تھا کہ ہماری سکیورٹی فورس پرانے ہتھیاروں پر ہی منحصر تھی ۔ جبکہ پڑوسی پاکستان اور چین کی سرکاری انتہائی جدید ہتھیاروں سے اپنی افواج کو مسلح کررہی تھیں۔ مڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ضروری فوجی سازو سامان کی کمی کے سبب ہماری بری فوج لمبی جنگ لڑنے میں معزور تھی۔ وہ صرف 20 دن کی لڑائی لڑ سکتی تھی اور یہ بات پاکستان اور چین دونوں کو معلوم تھی ۔ وزیر اعظم نے ایک نہایت ایماندار اور اچھے منتظم منوہر لال پاریکر کو ڈیفنس وزارت سونپ کر بہت اچھا کام کیا۔ منوہر پاریکر نے ذمہ داری سنبھالتے ہی بڑی توپیں خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بوفورس توپ سودے میں دلالی کے بھوت سے باہر نکلتے ہوئے ڈیفنس وزارت نے 28 سال بعد15750 کروڑ روپے کی مالیت کی توپیں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت سنبھالنے کے بعدمنوہر پاریکر کی سربراہی میں سنیچر کے روز ڈیفنس پرچیز کونسل کی پہلی میٹنگ ہوئی اس میں فوج کیلئے توپوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے 814 توپیں خریدنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ہندوستانی فوج نے 1986 کے بعد سے اب تک کوئی توپ نہیں خریدی ہے۔ مختلف مرکزی حکومتیں توپ سودے میں دلالی سے بچنے کیلئے اس بارے میں فیصلے ٹالتی رہی ہیں۔ تقریباً دو گھنٹے چلی میٹنگ میں توپوں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 155 ایم ایم 92 کیلیبر کی814 توپیں خریدی جائیں گی۔ توپے سودے گھریلو پروڈکشن بڑھانے کی اسکیم کے تحت ہوں گے۔ اس کے تحت پہلے 100 توپیں خریدی جائیں گی اس کے بعد اس تکنیک کو حاصل کر اس کی دیش میں ہی پروڈکشن ہوگی۔ مودی سرکار کا اہم منصوبہ’ میک ان انڈیا ‘ کو آگے بڑھانے کی کارروائی پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ پاریکر نے کہا زیادہ سے زیادہ ڈیفنس سازو سامان دیش میں ہی بنے اس کے لئے قدم اور طریقہ کار تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ماحول کو سرمایہ کاری کے لائق بنایا جائے۔ اس سے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جاسکے گا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ وہ تیزی اور شفافیت سے فیصلہ لینے کی کارروائی جاری رکھیں گے۔ مسٹر پاریکر نے کہا ہم کسی پر حملہ نہیں کرنا چاہتے لیکن ایسے دشمنوں سے حفاظت کرنے کیلئے پوری طرح طاقتور ہونا ہمارے لئے ضروری ہے جو برے ارادوں سے بھارت کو دیکھتے ہیں۔ مودی سرکار کے ذریعے ڈیفنس سیکٹر میں تیزی سے لئے جارہے فیصلوں سے ہماری سلامتی فورسز پر اچھا اثر پڑے گا۔ ان کا گرتا ہوا حوصلہ بھی بڑھے گا۔ یوپی اے سرکار کے عہد میں ہماری تمام سکیورٹی فورسز سرکار کے ٹال مٹول اور غیر حوصلہ افزا پالیسی کی وجہ سے پریشان تھی۔ ان کا حوصلہ گر گیا تھا وہ اب بڑھنے لگا ہے۔
(انل نریندر)

دہلی میں نارتھ ایسٹ کے طلبا پر حملوں کی بڑھتی وارداتیں!

دہلی میں 24 گھنٹوں کے اندر الگ الگ علاقوں میں شمال مشرقی ریاستوں کے 3 طلبا کی موت نے دہلی والوں کو چونکا دیا ہے۔ نارتھ ایسٹ کے طلبا اور دیگر لوگوں کی موت کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پتہ نہیں کیا وجہ ہے ان طلبا کو نشانے پر کیوں لیا جاتا ہے؟شمال مشرقی ریاستوں کے باشندوں پر راجدھانی میں حملوں کے واقعات بڑھے ہیں۔ اس سال جنوری سے21 نومبر تک ان پر حملوں کے بارے میں 666 شکایت پولیس کو ملی ہیں ان میں سے 232 معاملوں میں ایف آئی آر درج ہوئی ہے جبکہ پچھلے سال74 ایف آئی آر درج ہوئی تھیں۔ سب سے زیادہ واردات کے بارے میں مقدمات ساؤتھ دہلی میں درج ہوئے۔ وسنت وہار پولیس تھانے میں سب سے زیادہ معاملے درج ہوئے۔ ہر مہینے نارتھ ایسٹ کے 23 لوگ کسی نہ کسی واردات کا شکار ہوتے ہیں۔غور طلب ہے کہ پچھلے بدھوار کو کوٹلہ مبارک پور علاقے میں واقع کرشنا گلی میں مقیم 32 سالہ منی پوری طالبعلم کاشنگو تگرم کینگو کو گلا گھوٹ کر مار ڈالا گیا تھا۔ جمعرات کو دوپہر کھڑکی ایکسٹینشن کے جے بلاک کے ایک گھر سے رانی نام کی لڑکی کی لاش پولیس نے برآمد کی ہے۔ وہیں جمعرات کو نیب سرائے علاقے میں مشتبہ حالت میں سیڑھیوں سے گرنے کے سبب سونیلین 21 سال کی موت ہوگئی۔ مسلسل لاشیں ملنے سے جہاں دہلی پولیس میں کھلبلی مچی ہوئی ہے وہیں سپریم کورٹ بھی ان واردات پر سخت ناراض دکھائی پڑتی ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق ہرمہینے 23 سے زیادہ نارتھ ایسٹ کے لوگ کسی نہ کسی واردات کا شکار ہوتے ہیں۔ خاص کر وہاں کی لڑکیوں کے ساتھ آئے دن چھیڑ چھاڑہوتی ہے۔ گھناؤنے جرائم کی بات کریں تو30 اکتوبر تک نارتھ ایسٹ کے چار لوگوں کا قتل ہوچکا ہے جبکہ 18 عورتوں کے ساتھ بدفعلی کے معاملے سامنے آچکے ہیں۔ چھیڑ خانی کے 35 اور لوٹ مار کے 13، اغوا کے12 معاملے اب تک سامنے آچکے ہیں۔ انہی لوگوں پر بڑھتی مجرمانہ وارداتوں کے بعد سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد دہلی پولیس نے سبق لیتے ہوئے ان لوگوں کی حفاظت کے لئے اسپیشل ہیلپ لائن شروع کی تھی۔ دہلی پولیس کمشنر بھیم سین بسی نے مارچ کے مہینے میں نارتھ ایسٹ کے لوگوں کی حفاظت کیلئے ہیلپ لائن نمبر 1093 شروع کیا تھا اور یہ بھی احکامات دئے تھے کہ دہلی کے ہر ضلع میں ڈی سی پی سطح کے افسر اپنے علاقے میں رہنے والے نارتھ ایسٹ کے لوگوں کی حفاظت پر خود نظر رکھیں گے۔ خاص کر دہلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس، منریکا، دوارکا،ساؤتھ دہلی میں رہنے والے نارتھ ایسٹ لوگوں کی حفاظت پر خاص توجہ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک جرائم کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ دہلی میں مسلسل نارتھ ایسٹ کے لوگ واردات کا شکار ہورہے ہیں لیکن پولیس ان معاملوں کو سلجھانے میں پھسڈی رہی ہے۔ قتل کے صرف3 فیصدی و بدفعلی کے17 فیصدی ، چھیڑ چھاڑ کے23 فیصدی، لوٹ مار اور اغوا کے3 فیصدی معاملوں کو ہی سلجھایا جاسکا ہے۔ ہم نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ نارتھ ایس کے لوگوں کو دہلی میں کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے؟ وجہ جو بھی رہی ہو ہم مطالبہ کرتے ہیں دہلی پولیس ان وارداتوں پر بلا تاخیر روک لگائے۔ آخر وہ بھی تو ہندوستان کے ہی باشندے ہیں اور انہیں بھی مکمل حفاظت فراہم کرنے کیلئے پولیس عہد بند ہے۔
(انل نریندر)

25 نومبر 2014

ممتا بنرجی کا مرکز کو کھلا چیلنج!

کروڑوں روپے کے شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے میں ترنمول کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ کی گرفتاری سے تلملائی ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے مرکزی سرکار پراپنی بھڑاس نکالی ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس صدر سونیا گاندھی کوس سرکار کا ڈر ہے اس لئے وہ چپ ہیں لیکن میں کسی سے نہیں ڈرتی اور چپ نہیں رہوں گی۔ انہوں نے کہا مجھے جیل بھیجنے دیجئے میں اسے بھی دیکھوں گی اور یہ بھی دیکھوں گی کہ وہ کتنی بڑی جیل ہے۔ پارٹی کے ایک اجلاس میں کہا کہ اگر ہم پر حملہ ہوتا ہے تو ہم بھی جواب دیں گے۔ ہم سبھی چیلنج کو قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی ورکروں سے کہا کہ وہ بھاجپا سے ڈریں نہیں اور بھگوا پارٹی کی سازشوں کے خلاف متحد ہیں۔ انہوں نے مرکز کو ریاست میں صدر راج لگانے کا بھی چیلنج کیا ہے۔ مودی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا دیش کی باگ ڈور سنبھال رہے شخص نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پچھلے چھ مہینوں کے دوران ہندوستان میں کتنا وقت گذارا ہے؟ ایسا ظاہر ہوتا ہے ان کا پتہ اب بیرون ملک میں ہے۔ ممتا نے راجیہ سبھا ایم پی سنجوائے بوس کی گرفتاری کو سیاسی رقابت پر مبنی قدم بتایا۔ کہا پچھلے دنوں بھاجپا کے اپوزیشن کانگریس پروگرام نہرو کانفرنس میں شرکت کر انہوں نے بھاجپا سے بدلہ لیا ہے۔ انہوں نے بردوان میں دھماکے کاالزام بھی مرکز پر منڈھ دیا۔ دراصل شاردا گھوٹالے میں جمعہ کو سی بی آئی نے ترنمول بوس کو پوچھ تاچھ کیلئے بلایا تھا اور کئی سوالات کا صحیح جواب نہ ملنے پر جانچ ایجنسیوں نے ممبر پارلیمنٹ کو گرفتار کرلیا۔ مغربی بنگال کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی نے دوسری طرف ایم پی کی گرفتاری کو صحیح مانا ہے اور کہا کہ سی بی آئی کے پاس درکار ثبوت ہیں اور وجوہات ہوں گی تبھی کو سنجوائے بوس کو گرفتار کیا گیا ، ان کی گرفتاری جائز ہے لیکن ابھی اس معاملے پر کچھ کہنا جلد بازی ہوگی۔گھوٹالے میں گرفتاری سنجوائے بوس کروڑوں روپے کی املاک کے مالک ہیں۔ بنگلہ روزنامہ کے مدیر ہونے کے ساتھ ان کا جہاز میں مال بھیجنے کا بھی کاروبار ہے۔ کیٹرنگ و دوبئی میں دو زبانوں میں ریڈیو نیٹورک بھی ہیں اور بین الاقوامی معیار کا ریکارڈنگ اسٹوڈیو بھی ہے۔ 
سنیچر کو علی پور عدالت میں بوس کو پیش کیا گیا جہاں انہیں26 نومبر تک حراست میں بھیج دیا گیا۔سنجوائے بوس نے سی بی آئی پوچھ تاچھ میں اپنا سارا الزام ترنمول سے معطل کنال گھوش پر منڈدیا اور کہا کہ انہوں نے ہی شاردا چٹ فنڈ کے چیف سدیپت سین سے ان کا تعارف کرایا تھا۔ لیفٹ فرنٹ کے چیئرمین ومن بوس نے ممتا کے مرکز سے بدلہ لینے کے بیان کی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان پر الزام لگایا کہ وہ ماضی گذشتہ میں بھاجپا اور کانگریس کے بیچ پالہ بدلتی رہی ۔ ممتا کے پاس 45 ایم پی ہیں (لوک سبھا اور راجیہ سبھا) انہوں نے مرکزی سرکار کو خبردار کیا کہ اگر وہ سوچتی ہے کہ ہم بیمہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی لانے کی تجویز پاس کرنے میں ان کی مدد کریں گے تو وہ شاید خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کے ایم پی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں کئی اشو اٹھائیں گے جن میں بلیک منی کا اشو بھی شامل ہے۔
(انل نریندر)

اوبامہ نے چلا بڑا سیاسی داؤ!

امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنی حریف ریپبلکن پارٹی کی اکثریت والی پارلیمنٹ کو درکنارکرتے ہوئے امیگریشن اشو پر صدر کے طور پراپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک بڑی سیاسی چال چلی ہے۔جہاں گورے فرقے کے لوگوں نے اسے سراہا ہے وہیں ریپبلکن لیڈروں نے اوبامہ کے اس قدم کو غیر قانونی اور تارکین وطن کو معافی دینے جیسا بتایا ہے۔ اوبامہ کے حکم سے ان44 لاکھ لوگوں کو ان کے آبائی وطن واپس بھیجنے کے خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو امریکی شہریوں کے سرپرست ہیں اور بغیر قانونی دستاویزوں کے وہاں رہ رہے ہیں۔اس سے 2.7 لاکھ ان بچوں کو بھی راحت ملے گی جنہیں ان کے ماں باپ غیر قانونی طریقے سے امریکہ لے آئے تھے۔1986ء میں اس وقت کے صدر رونالڈ ریگن کی پہل کے بعد امریکی امگریشن پالیسی میں یہ اب تک کی سب سے بیش قیمت تبدیلی مانی جارہی ہے۔ کالوں پر ڈیموکریٹک پارٹی کی پکڑ مضبوط کرتے ہوئے اوبامہ نے ریپبلکن لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ ان کی اسکیم کو روکنے کا کام نہ کریں اور دوبارہ تالا بندی جیسے حالات پیدا نہ کریں۔ اوبامہ نے صاف کیا کہ امریکی کانگریس میں طویل عرصے سے امیگریشن بل لٹکنے کے بعد انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔ انہیں اعتراض ہے کہ نیابل لے کر آئے اوبامہ کے اس دعوے سے 2016ء کے صدارتی چناؤ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اچھے امکانات کو تقویت ملے گی۔ اوبامہ کے فیصلے کے بعد امیگریشن کے اشو پر گیند اب ریپبلکن پارٹی کے پالے میں ہے۔ امریکی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان ،سینیٹ اور ایوان نمائندگان اکثریت کے باوجود وہ اوبامہ کے فیصلے کو پلٹنے کی سیاسی قوت شاید ہی دکھا پائیں۔ ریپبلکن کے پاس سینیٹ میں امیگریشن خرچ پر روک لگانے کا متبادل ہے لیکن اس سے انہیں کالے لوگوں ، خاص کر دوسرے ملکوں کے تارکین وطن کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اپوزیشن پارٹی سینیٹ میں اوبامہ کی کوشش کی نئی تقرریوں کو منظوری پر بھی رخنہ ڈال سکتی ہیں لیکن اس سے زبردست ہار جھیلنے والی ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈروں کو ان پر حملے کا بڑا ہتھیار مل جائے گا۔ صدر اوبامہ کے اس اعلان سے ہندوستان سے گئے ساڑھے چار لاکھ لوگوں کو بھی فائدہ ہونے کی امید ہے جو وہاں ناجائز طریقے سے رہ رہے ہیں۔اپنے مخصوص اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اوبامہ کے ذریعے اٹھایا گیا یہ قدم کافی اہم مانا جارہا ہے۔ اس سے یہاں تکنیکی سیکٹر میں کام کررہے ہندوستانیوں کی ایک بڑی آبادی کو راحت ملے گی۔ خاص کر ان لوگوں کے لئے تو یہ اور بھی اہم ہے جن کے پاس H1V ویزا ہے۔ ان قدموں سے بغیر جائز دستاویزات والے اندازاً1.10 کروڑ ملازمین سے50 لاکھ کرمچاریوں کو فائدہ ملنے کی امید ہے۔ اوبامہ کے اس قدم سے تقریباً امریکہ میں 4.5 لاکھ ناجائز بھارتیوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ پچھلے ہفتے جاری ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی 50 میں سے28 ریاستوں میں بھارت کا مقام کافی اوپر ہے۔ میکسیکو کے بعد ان پانچ دیشوں میں بھارت شامل ہے جہاں امریکہ میں بھاری تعداد میں غیر قانونی طریقے سے لوگ رہ رہے ہیں۔
(انل نریندر)

23 نومبر 2014

بڑے بے آبرو ہوکے تیرے کوچے سے ہم نکلے!

ریٹائرمنٹ سے ٹھیک12 دن پہلے جمعرات کے روز سپریم کورٹ نے سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا کو خود ان کے محکمے کی طرف سے جاری ٹوجی اسپیکٹرم معاملے کی جانچ کارروائی سے الگ کیا تو یقیناًپہلا ایسا موقعہ تھا کہ جب کسی ایجنسی کے سربراہ کو اپنے ہی محکمے کے کسی معاملے میں مداخلت سے ہٹایا گیا ہو۔ سپریم کورٹ کے حیرت انگیز فیصلے نے سنہا کو 1.76 لاکھ کروڑ روپے کے ٹوجی گھوٹالے کے ملزمان کی مدد کرنے کا الزام عدالت نے پہلی نظر میں صحیح پایا ہے۔ سی بی آئی کے چیف کیلئے اس سے زیادہ شرمندگی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے انہیں اس جانچ سے ہٹا دیا گیا۔ رنجیت سنہا نے خوابوں میں بھی امید نہیں کی ہوگی کہ عدالت اتنا تلخ تبصرہ اور کارروائی کرے گی۔ دراصل رنجیت سنہا شروع سے ہی تنازعات میں گھرے رہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کی حیثیت سے تقرری پر بھی تنازعہ برقرار رہا۔ یوپی اے سرکارنے کلونیم سسٹم کے عمل میں آنے سے ٹھیک پہلے سینٹرل ویجی لنس کمیشن کی سفارشوں کو درکنار کر ان کا انتخاب کرلیا۔ بی جے پی نے تب اس پر کافی ہنگامہ مچایا تھا بعد میں صفائی دی گئی تھی کہ سی بی آئی کو بغیر ڈائریکٹر کے زیادہ دنوں تک تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹوجی گھوٹالے کی جانچ سے ہٹائے جانے کے فیصلے پر سنہا صاحب کہہ رہے ہیں انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہے۔یہ اگر خود اعتمادی ہے تو بیحد عجب قسم کی ہے اور اس سے ان کا زیادہ مذاق اڑنا طے ہے۔ ان کے ریٹائرمنٹ میں محض12 دن بچے ہیں ایسے میں یہ ہی بہتر ہوگا کہ وہ اپنے تھوڑی بہت بچی عزت کی خاطر سی بی آئی چیف سے استعفیٰ دے دیں کیونکہ انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہے اس لئے وہ ایسا شاید ہی کریں۔ جو انہوں نے اپنے برتاؤ سے خود کے ساتھ ساتھ سی بی آئی پر بھروسہ اور وقار دونوں کو داؤ پر لگادیا ہے یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ وہ ایسے سی بی آئی چیف کے طور پر جانے جائیں گے کہ جو نہ صرف محض مشتبہ قسم کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے تھے بلکہ گھوٹالے بازوں کی مبینہ طور پر مددکے لئے تیار رہتے تھے۔ سینئروکیل پرشانت بھوشن نے اپنے الزام کے حق میں سنہا کے گھر ایسے کئی انتہائی بارسوخ لوگوں کے بار بار آنے جانے کے ثبوت پیش کئے جو ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کے ملزم تھے۔ ان کے نام آنے جانے والوں کی ڈائری میں درج تھے۔ سنہا نے اپنے بچاؤ میں تمام دلیلیں دیں اور اپنے ہی ایک افسر پر خفیہ دستاویز کو آؤٹ کرنے کا الزام لگادیا۔ عدالت نے ان کی تمام دلیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کو مانا کہیں نہ کہیں ان الزامات میں دم ہے۔ پہلے بھی عدالت انہی معاملوں میں سی بی آئی کو پنجرے میں بند ’’طوطا‘‘ سے تشبیہ دے چکی ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں دیش کی یہ سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی اتنا ہی کام کرتی ہے جتنا اسے مرکزی سرکار سے اشارہ ملتا ہے۔ یہ سیدھے وزیر اعظم کے ماتحت کام کرتی ہے۔ عدالت کا یہ حکم اس معاملے میں تاریخی اس لئے ہے کیونکہ پہلی بار کسی ڈائریکٹر کو اتنی اہم جانچ سے الگ کیا گیا ہے۔ سنہا اپنی عہدہ میعاد میں بہت متنازعہ افسر رہے ہیں۔ سنہا کی ضد کے سبب عشرت جہاں کانڈ میں سی بی آئی اور آئی بی دونوں آمنے سامنے آگئیں تھیں۔یہاں تک کہ آئی بی کے ایک افسر کے خلاف شخصی طور پر سامنے آکر وہ اس کی گرفتاری پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اتنے ذمہ دار عہدے پر بیٹھے کسی افسر کے لئے اتنا بے چین ہونا ٹھیک نہیں ہوتا۔ عام زندگی میں ایماندار ہونا جتنا ضروری ہے اتنا ہی ایمانداری دکھانا بھی تاکہ لوگوں کو انگلی اٹھانے کا موقعہ نہ مل سکے۔ اگر رنجیت سنہا پر لگے الزامات میں ذرا بھر بھی سچائی ہے تو وہ ٹوجی گھوٹالے میں شامل کچھ لوگوں کو بچانے کی کوشش کررہے تھے تو پھر صرف اتنے پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا کہ انہیں اس معاملے کی جانچ سے ہٹایا جائے بلکہ ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے کیونکہ وہ ایک طرح سے دیش کے بھروسے کا قتل کررہے تھے۔ آخر ایسے لوگ کیسے بڑے عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں اس سوال کا جواب بھی یوپی اے سرکار سے لینا چاہئے۔
(انل نریندر)

سڑک پر بھیک مانگتے مجبور بچے!

دہلی کے مصروف ترین چوراہے آئی ٹی او پر کھڑی پانچ سالہ معصوم بچی ریشمہ کو نہیں پتہ کہ بال دیوس کیا ہوتا ہے؟ اسے صرف اتنا پتہ ہے کہ اگر شام تک بھیک مانگ کر50 روپے جمع نہیں کئے تو اسے بھوکے پیٹ سونا پڑے گا۔ دہلی گیٹ کے چوراہے پر پھول بیچنے والی ریکھا کہتی ہے کہ اسکول کی بسوں کو جاتے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کاش ہم بھی پڑھ پاتے لیکن کھانے کو دو وقت کی روٹی نہیں ہے پڑھائی کیسے کریں؟ یہ کہانی محض ان دو بچوں کی ہی نہیں بلکہ این جی او کے اعدادو شمار کی مانیں تو پانچ لاکھ اسٹریٹ چلڈرن دہلی کی سڑکوں پر جینے کو مجبور ہیں۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ حکومت بچوں کی ترقی پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کا دعوی کرتی آئی ہے لیکن راجدھانی سمیت پورے دیش میں کوئی سرکاری تفصیلات دستیاب نہیں ہیں کہ کتنے بچے سڑکوں پر در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہیں۔ دریاگنج چوراہے پر کھڑی ایک لڑکی نرملا کہتی ہے کہ روزانہ پھول بیچ کر 100 ڈیڑھ سو روپے مل جاتے ہیں۔ جس دن پھول نہیں بک پاتے اس دن اس کو بھوکے پیٹ سونا پڑتا ہے۔ ہاں پاس کے اسکول میں بچوں کو جاتے دیکھ کر پتہ چلتا ہے ہم کتنے بدقسمت ہیں۔ نظام الدین چوراہے پر درگاہ کے تمام بکھاری بچوں ببلو، سمن، نظام، حیدر سب کا یہی کہنا ہے کہ ہمیں تو یہ پریشانی ہے کہ اب سردیاں آگئیں ہے گرمیاں تو سڑک پر کٹ جاتی ہیں لیکن سردیوں میں کیسے گزارا ہوگا؟ کناٹ پلیس کے ہنومان مندر احاطے کے آس پاس درجنوں بچے روزانہ چوراہے پر بھیک مانگتے دکھائی پڑجاتے ہیں ان میں سے بہت سے بچے نشے کے عادی ہوچکے ہیں۔ حالت تو یہ ہے کہ ان بچوں میں تمام طرح کی بیماریاں پیدا ہوچکی ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز میں کروڑوں روپے خرچ کرکے کناٹ پلیس کو خوبصورت تو بنادیا گیا لیکن بچوں اور یہاں موجود بکھاریوں کی فوج کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ بچوں کی بکھاری فوج دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ دوسری طرف بچوں کے تئیں جرائم کا گراف بھی بڑھ رہا ہے۔ ان واقعات میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔2011ء میں33098 معاملے بچوں کے تئیں جرائم کے درج کئے گئے جبکہ 2010ء میں یہ تعداد26694 تھی۔ سب سے زیادہ اترپردیش (16.6 فیصد) دوسرے نمبر پر مدھیہ پردیش (13.2 فیصد) دہلی (12.8 فیصد) مہاراشٹر میں (10.2 فیصد) بہار (6.7 فیصد) آندھرا پردیش میں بھی یہی تعداد ہے۔ آبادی کے مطابق 1991ء میں دیش میں جہاں11.28 فیصد ملین بچے مزدور تھے وہیں 2001 میں ان کی تعداد 12.66 ملین تک پہنچ گئی۔ پان ،بیڑی، سگریٹ پینے کی شرح فیصد 21 ہے جبکہ ان کا ازالہ(17 فیصد) رہا۔کھڈیوں میں کٹائی بنائی کرنے والے مزدور بچوں کی تعداد11 فیصد میں سب سے زیادہ ہے۔ بتایا جاتا ہے بچے دیش کا مستقبل ہوتے ہیں ان اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کی اصلیت کیا ہے۔ ان میں سے کافی تعداد میں بچے بڑے ہوکر بدمعاش بن جاتے ہیں۔ ہم نے نربھیا کانڈ و دوسرے واقعات میں دیکھا ہے نابالغ بچے کتنے بڑے بڑے جرائم کر بیٹھتے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان بچوں کو بچانے کیلئے ایک پائیدار پالیسی بنائے تاکہ ان کا مستقبل بہتر ہو اور ان کی مجبوریاں بھی ختم ہوں۔
(انل نریندر)