Translater

04 اگست 2018

کانگریس بھاجپا مکت فیڈرل کے امکانات

ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی دہلی دورہ اتفاقاًنہیں ہے ایسا لگتاہے کہ ممتا دہلی صرف این سی آر کے اشوکی وجہ سے نہیں آئی ہیں ۔ان کا بڑا مقصداین سی آر کے بہانہ اپوزیشن پارٹیوں کو بھاجپا کے خلاف متحد کرنا اور کانگریس بھاجپا سے ہٹ کر ایک الگ فیڈ رل فرنٹ بنا نا جس کی کمان وہ خو د سنبھالیں گی ۔ کانگریس کے بجائے ممتا کے من میں فیڈرل فرنٹ بنے کی قواعد بڑھی ہے۔ آسام میں شہریت رجسٹر میں 40لاکھ لوگوں نے نام نہ ہونے کامعاملہ ابھی فائنل نہیں ہوا ہے۔اس میں ابھی کچھ تبدیلی ہونا باقی ہے ۔پھر چناؤ کمیشن نے یہ صاف کردیا ہے کہ این سی آر میں نام نہ ہونے کی وجہ سے چناؤ میں ووٹ ڈال سکتے ہیں ۔یہ واضح ہوگیا کہ جن 40لاکھ لوگوں کانام شہریت رجسٹر سے غائب ہے وہ اپنی شہریت کاثبوت دیکر رجسٹر میں اپنا نام شامل کرواسکتے ہیں لیکن اس سب کے باوجو د ممتا نے سرکار کو گھیر نے کیلئے بڑا اشو بنالیا ہے اور اس بہانے اپوزیشن اتحاد کروانے میں لگ گئی ہیں اپنی اس مہم میں ممتا 2019کے تیسرے مورچے نیتا کے طور پر دعوے داری کو دھار دینے کی کوشش میں ہے ممتا کو لگ رہا ہے کہ 25019لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو اکیلے روکنے کا دم کانگریس میں دکھائی نہیں پڑرہاہے ۔جسطرح سے علاقائی پارٹیوں نے اکیلے اپنے دم پر بھاجپا کے وجے رتھ کو روکا ہے ۔اس کے بعد دیش کی سیاست نئی شکل اختیار کرنے لگی ہے اس لئے موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھاکر ممتا علاقائی پارٹیوں کا ایک ایسارچہ چاہ رہی ہے جو چناؤ کے بعد بھاجپا کو روکنے کے نام پر کانگریس کو حمایت دینے کیلئے مجبورکرسکے ۔پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جس طرح سے ممتا مختلف پارٹیوں کے نیتاؤ ں کے ساتھ ملاقات کرچکی ہیں اس کے معنی یہی نکالنے جارہے ہیں کہ فیڈ رل فرنٹ رنر کی شکل میں ممتا اپنے آپ کو آگے بڑھارہی ہے مختلف اشوز پر جس جار حانہ طریقے سے ممتا بنر جی بھاجپا کے سامنے کھڑی ہورہی ہیں اس سے وہ اپوزیشن پارٹیوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ان کی رہنمائی میں بھاجپا کو بیحد موثر طریقے سے روکا جاسکتا ہے ۔سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد ممتا نے کہا کہ ہم نے مستقبل میں اتحاد کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا تھا 2019کا لوک سبھا چناؤ انھیں قیادت میں لڑا جائے گا ۔اپوزیش پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کے بارے میں سوال کئے جانے پر ممتانے کہا کہ جو جہاں مضبوط ہے وہاں وہاں چناؤ لڑے ہم سبھی متحد ہیں ۔اور چناؤ میں بھاجپا کو ہرائیں گے اور بھاجپا کے سینئرلیڈر ایل کے اڈوانے سے بھی ملاقات کی تھی ۔ان سے تعلقات برسو ں پرانے ہیں ۔
(انل نریندر )

ٹرمپ اور ایرانی صدر روحانی آمنے سامنے

ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو لیکر کچھ عرصے سے امریکہ اور ایران میں ٹکراؤ جاری ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کبھی تو سختی کی بات کرتے ہیں او رکبھی نرمی کی ۔دراصل ٹرمپ نے اپنی چناؤ مہم کے دوران ایران کے ساتھ ہوئے نیوکلیا ئی معاہدے کو بے فضول قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔اور اسی سال مئی اس معاہدے سے اپنے دیش کو الگ کردیاتھا اور ایران پر پابندیاں عائد کردی تھی۔ فرانس ،برطانیہ ،روس اور چین بھی اس معاہدے میں شامل رہے ہیں امریکہ دوست ممالک نے ٹرمپ کو اس معاہدے سے الگ نہ ہونے کیلئے دباؤ بھی ڈالاتھا لیکن ٹرمپ نے کسی کی نہیں سنی ۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ ایک بڑی طاقت ہے لہذا جھوٹے دیش اس کے سامنے مخالف نہیں کرپاتے ۔ایران کو برباد کرنی دھمکی دینے کے بعد اب یکطرفہ طور پر صدر ٹرمپ کے موقف میں نرمی آگئی ہے ۔اپنے غیر سنجیدہ مزاج کے مطابق عمل کرتے ہوئے ایران کے تئیں اپنا موقف نرم کرنے کے تازہ اشارے دئے ہیں اب انھوں نے راتوں رات ایرانی صدر حسن روحانی سے بلاشرط بات چیت کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔حالانکہ وہائٹ ہاؤ س میں یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ بھلے ہی صدر ٹرمپ نے ایرانی صدر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی ایران پر لگی پابندیوں کو نرم کرے گا ۔یا دونوں دیشوں کے درمیان سفارتی یاکاروباری رشتے پھر سے قائم ہونگے ادھر ٹرمپ کی بلا شرط ملاقات کی تجویز کو ایرانی لیڈروں وفوجی کمانڈوں نے مسترد کردیا ہے ۔ٹرمپ کے قول وفعل میں فرق ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اس امکانی ملاقات کو محض سپنا بتایا او رکہا امریکی صدر کا 2015میں ہوا نیوکلیائی سمجھوتا توڑنا غیر قانونی فیصلہ رہا ۔ایران کے وزیر خارجہ جواد شریف نے ٹیویٹ کیا کہ تہران سے بات چیت ختم کرنے کیلئے امریکہ کو خود ذمہ دار ہے ۔اور ایرانی فوج کے چیف نے بھی کہا کہ ہم نارتھ کوریا نہیں ہے کہ جو ٹرمپ کی پیش کش کو قبول کرلیں اور نئے سرے سے بات چیت کیلئے ایران پر دباؤ ڈالنے والے ٹرمپ کے اس قدم نے دیش کے کٹر پسندوں اور اصلاح پسندوں کو ایک طرح سے متحد کردیا ہے ۔در اصل ایران کو بر باد کرنے کی دھمکی دینے کے بعد صدر ٹرمپ کے موقف میں آئی نرمی بھی ایران پر دباؤ ڈالنے کی ڈپلومیسی کا حصہ لگتی ہے ۔حقیقت میں امریکہ ایران پر نئے سرے سے نیوکلیائی معاہدہ کرنے کا دباؤ بنارہا ہے ۔ایران کا موقف صاف ہے پہلے امریکہ نیوکلیائی معاہدہ کو قبول کرے پھر بات چیت ہوگی ۔امید کی جاتی ہے کہ تعطل جلد ختم ہو تو او ردونوں دیشوں میں سمجھوتا ہوگا ۔
(انل نریندر)

03 اگست 2018

مسئلہ ہندو مسلمان کا نہیں ،سوال ان ناجائز بنگلہ دیشیوں کا ہے

آسام میں 40لاکھ لوگوں کو این سی آر سے باہر رکھنے پر سیاسی جنگ تیز ہوگئی ہے ۔سرکار کے خلاف سب سے زیادہ ناراض رہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اس سے دیش میں خوفناک نتائج تک کی دھمکی دے ڈالی ۔ممتا نے جن الفاظ کا استعمال کیا وہ میں یہاں دہرانا نہیں چاہتا ۔بھاجپا صدر امت شاہ نے کہا کہ یہ ووٹ بینک نہیں دیش کی حفاظت کا معاملہ ہے ۔ممتا نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے مل کر پوچھا کے کیا مغربی بنگا ل میں ایسی ہی قواعد کرناچاہتے ہیں؟ابھی کوئی بنگال کی بات کررہا ہے پھر بہار ، مہا راشٹر ،گجرات ،اور یوپی کی بات کریں گے ۔دیش ایسے نہیں چلے گا اس سے خون خرابہ ہوگا ۔ یہ این سی آر آخر ہے کیا ؟اس کے پس منظر میں کیا ہے ؟این سی آر میں ایسے لوگوں کو ہی ہندوستانی شہری مانا جائیگا جن کے آباء واجداد کے نام 1951کے این سی آر رجسٹر میں یا 24مارچ 1971کے ووٹر لسٹ میں موجو ہے ۔اس کے علاوہ بارہ دوسری طرح کے سرٹیفکٹ جیسے برتھ سرٹیفکٹ پاس بک وغیرہ دےئے جاسکتے ہیں ۔اگر کسی دستا ویز میں اس کے کسی آباء اجدادکا نام ہے تو اسے رشتہ داری ثابت کرنی ہوگی ۔آسام دیش کا اکیلا راجیہ ہے جہاں این سی آر کا سسٹم ہے پچھلے تین سال میں ریاست کے 3.29کروڑ لوگوں نے شہریت کے لئے 6.5 کروڑدستاویز بھیجے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سیٹینز (این سی آر )کے فائنل ڈرافٹ پر ہنگامہ مچا ہواہے کانگریس مرکز اور آسام کی حکومت پر سازش کا الزال لگارہی ہے حالانکہ سچائی یہ ہے کہ 80 دہائی میں صوبے میں ناجائز بنگلہ دیشی کے خلاف طلبہ کی پرتشدد تحریک کے دوران اس وقت وزیر اعظم راجیو گاندھی نے طلبہ انجمنوں سے اس مسئلہ سے نجات دلانے کا وعدہ کیا تھا ۔آسام طلبہ انجمنوں کی مفادعامہ کی عرضی پر سرکار کی وعدہ خلاف پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اپناتے ہوئے ناجائز شہریوں کے پہچان کے لئے این سی آر بنانے اور 100ٹرایبونل بنا نے کے احکامات دےئے تھے ۔ اس کام میں سستی پر پچھلی یوپی اے سرکار کو بڑی عدالت سے کئی بار پھٹکا ربھی پڑی ۔2016میں ریاست میں تبدیلی اقتدار سے رجسٹر تیار کرنے کے کام میں تیزی آگئی ۔این سی آر بنانے کا کام اب بی جے پی سرکار کررہی ہے یہ کام اس نے اپنی طرف سے شروع نہیں کیا بلکہ سپریم کورٹ کے حکم پر تعمیل ہورہی ہے ۔یہ بات دیش کو سمجھنی ہوگی کہ یہاں ہندو مسلم کا سوال نہیں بلکہ مسئلہ ہندوستانی وناجائز دراندازوں کا ہے ۔بھارت کی 4ریاستوں آسام ،تریپورہ،مغربی بنگال اور بہار میں سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ بنگلہ دیشیوں کی آمد کا معاملہ دیش کی ووٹ بینک کی سیاست کی پیدوار ہے ۔ ناجائز شہریوں کا سروے نہیں کرانے کے سبب ان کی سرکاری اعداد شما ر پر اختلاف ہے ۔حالانکہ اندازے کے مطابق یہ تعداد3کروڑ ہے 1917میں بھارت پاکستان جنگ کے دوران پاکستان سے بڑی تعداد شرنارتھی بھارت آئے جنگ کے بعد بھی ان کے بھارت میں داخلے پر روک نہیں لگی ۔سرحد کھلی ہونے کے سبب یہ سلسلہ بڑھتا گیا بنگلہ دیشی آسام کے ساتھ دیگر ریاستوں میں بھی پھیل گئے ۔بعد میں سیاسی پارٹیوں نے اس آبادی کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا بھاجپا نے 90دہائی میں اسے سیاسی اشو بنایا 1997میں اس وقت کے وزیر داخلہ اندرجیت گپت نے پارلیمنٹ میں 1کروڑ بنگلہ دیشوں ہونے کا اندازہ بتایاتھا ۔14جولائی 2004میں اس وقت کے وزیر داخلہ پرکاش جیسوال نے 1.2 0کروڑ بنگلہ دیشی ہونے کا اندازہ ظاہر کیا تھا اب یہ تعداد3کروڑ تک پہنچ چکی ہے ۔یہ پہلی دن سے صاف تھا جب این سی آر کا فائنل ڈرافٹ جس دن جاری ہوگا اس دن دیش کی سیاست میں طوفان کھڑا ہوجائے گا ۔آسام گن پریشد کی اس مسئلے پر ایک رائے بنی تھی کہ این سی آر بنے لیکن اس وقت یہ کام نہیں ہوسکا ۔یہ دکھ کی بات ہے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی لوگوں کو ورغلانے کے ساتھ ماحول خراب کرنے کا کام کررہی ہیں ۔پتا نہیں کیا سوچ سمجھ کر ممتا نے یہ سوال داغا اگر بنگالی بہار کے لوگوں سے یہ کہیں وہ مغربی بنگال میں نہیں رہ سکتے یا ساؤتھ انڈین کہنے لگے کہ نارتھ انڈین ان کے یہاں نہیں رہ سکتے ؟کیا یہ بے تکا ورغلانے والا سوال نہیں ؟میں یہ کہتا ہوں کہ سوال بنگلہ دیشیوں کا نہیں مسئلہ ناجائز بنگلہ دیشیوں کا ہے یہ ساری قواعد سپریم کورٹ کے حکم پر ہورہی ہے ۔
(انل نریندر)

تین چوتھائی خواتین سنیٹری نیپکین سے دور ہیں

جدیدیت واطلاعات کے تما م متبالوں کے باجود دیش کی تین چوتھائی سے زیادہ تقریبًا 82فیصد عورتیں سینٹری نیپکین کا استعمال نہیں کرتی ۔اور آج بھی ماہواری کے دوران پرانے طور طریقے اپناتی ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سینٹری نیپکین کا استعمال کرنے والی باقی عورتیں بھی پروڈکٹ کے استعمال کو لیکر بید ار نہیں ہیں ۔ دونوں ہی چیزوں کے بارے میں غور کیا جائے تو اس کی اہم وجہ یہی سامنے آتی ہے زیادہ تر عورتیں اس سلسلے میں کھل کر بحث نہیں کرتی اور غیر محفوظ متبادل اپنانے پر مجبو رہتی ہیں ۔اس کا نتیجہ ان کے پیشاب اور بچہ دانی والے حصہ میں انفکشن کے علاوہ ذہنی کشید گی اور بے چینی کی شکل میں آتا ہے ۔حال ہی میں ذہنی ماہواری سوچھتا دوس کا انعقاد ہوا ۔اسکے دوران ایک اہم ترین پانچ سالہ اسکیم بنائی گئی اور اس تحریک کو دہلی میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اس تحریک کو مشہور فلم اداکار اکشے کما رنے بھی اپنی سپوٹ دی ان کی حا ل ہی میں ایوارڈ یافتہ فلم پیڈ مین میں ماہواری سے وابستہ غلط تصورات اور مسائل پر روشنی ڈالی گئی ۔سمپوزیم میں شامل ماہواری سے وابستہ ان غلط فہمیوں پر مباحثہ ہوا جن کے سبب صدیوں سے لڑکیوں اور عورتوں کو ان کی صلاحیت کے صحیح استعمال او رماہواری کے دوران وقار زندگی بسر کرنے سے دور رکھا جا تا رہا ۔ایک خاتون نے کہا مجھے امید ہے کہ ہم ہر شخص کے نائٹ موومنٹ میں کے سا تھ جوڑ نے کیلئے راغب کرسکیں گے اور سبھی مل کر اس سمت میں ایک بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں ۔مسٹر تلسیان کا کہنا ہے کہ اس تحریک کا مقصد لڑکیوں او رعورتوں کو ماہواری کے دوران ہائی جینک چیزوں کے استعمال کا بڑھا وا دینے کیلئے حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ اس نقطہ نظر سے ایک کھلا ماحول بنایا جاسکے ۔دیہی علاقوں میں آج بھی لڑکیاں اور عورتیں ماہواری میں غلط چیزوں کا استعمال کرتی ہیں جس سے ان کی صحت پر اثر پڑتا ہے ۔صحیح چیزوں کااستعمال کے فروخ ہونا چاہئے اور ذاتی کوشش تو ٹھیک ہے لیکن مسئلہ انتا بڑا ہے کہ سرکار سمیت سبھی کو اسے ٹھیک کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔
(انل نریندر)

02 اگست 2018

مودی کا صنعت کارو ں سے یارانہ

وزیر اعظم نریندر مودی کے اس قول کے انھیں صنعت کاروں اور کاروباریوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور دکھائی دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔جنتا ہی اپنے مطلب نکالے گی ۔وزیر اعظم نے کانگریس اور دیگر پارٹیوں پر درپردہ طور پر صنعت کاروں کی حمایت کرنا اور انھیں بڑھاوا دینے کے الزام پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صنعت کاروں سے دوستی او ران کے ساتھ کھڑاہونے سے داغ نہیں لگتے کیونکہ میری نیت صاف ہے ۔لکھنؤ میں اپوزیشن کے الزامات کو مستر د کرتے ہوئے مودی نے کہا دیش کی تعمیر سے کسانوں اور مزدور ں کاریگروں بینکر وں اور سرکاری ملازمین کا جنتا اہم ترین کردار ہوتا ہے ۔اتنا ہی صنعت کاروں کابھی ہوتاہے ۔ہم وہ نہیں جو صنعت کاروں کے ساتھ کھڑے ہونے سے ڈر تے ہیں دراصل کا یہ کہنا اس لئے بھی قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں کانگریس صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا کے مودی سرکار صرف چند صنعت کاروں کیلئے کام کرتی ہے اس سلسلے میں راہل کا باقاعدہ کچھ صنعت کاروں کا نام لیکر انھیں وزیر اعظم کا دوست قرار دیکر ۔یہ کہنا نامناست ہے کہ انھیں غیر ضروری فائدہ پہنچایا جارہاہے ۔انھوں نے سوٹ بوٹ کی سرکا ر والا جملہ اس لئے اچھالا تھا تاکہ سرکار کو صنعت کاروں کے نا مناسب ہتیشی ثابت کیا جاسکے ۔کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی تبصرہ پر اتوار کو سوال اٹھایا جس میں انھوں نے کہا انھیں جھوٹے کاروباریوں کے ساتھ کھڑا ہونے میں پرہیز نہیں ہے ۔کانگریس نے سوال کیا کہ وزیر اعظم کو جن کاروباریوں کے ساتھ کھڑا ہونے پر پرہیز نہیں کیا وہ ہیں ہیں جو بینک گھوٹالوں کے ملزم ہیں ؟کانگریس ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ سوال صنعت کاروں یا کاروباریوں کا نہیں بلکہ اس کو لیکر ہے کہ کس طرح کے کاروباری جن لوگوں نے بینکنگ سسٹم کو نقصان پہنچایا اور این ٹی گوا اور لندن چلے گلے اور وہ اس کے ساتھ تصویر کھینچوانے میں وزیر اعظم سے کسی سرٹیکفٹ کی ضرورت نہیں ہے انھو ں نے ٹیویٹ کیا کہ کانگریس کے ساٹھ برسوں کے درمیان بھارت میں صنعتی پید وار میں 6فیصدکا اضافہ دکھائی دیا مئی 2018میں3.3 فیصدی ہے ۔بے شک اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دیش کی ترقی میں صنعت کاروں کا اہم رول ہوتا ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ پچھلے چار سال سے جب سے مودی سرکار اقتدار میں آئی ہے اس نے کتنی ہی صنعت قائم کی ہیں او رکتنے روزگار پید ا کئے ؟اگر ایسا کیا ہوتا ہے تو آج لاکھوں نوجوان بے روز گار نہیں ہوتے یہاں انھوں نے بیرونی ممالک میں اپنا کاروبار ضرور پھیلا یا ہے او رمودی سرکار نے اسے بیرو ن ملک سے کروڑوں روپے رکھ رکھاؤ کے ٹھیکے ضروردلائے ۔مودی جی کا یہ سندیش جنتا کو کتنا پسند آئے گا یہ سوال الگ ہے ۔
(انل نریندر)

نہ گواہ ملتے ہیں نہ شکایت کنندہ،آسانی سے جھوٹ جاتے ہیں نیتا

سپریم کورٹ نے دسمبر 2017 میں 12ریاستوں میں فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا حکم دیا تھا ۔تاکہ عوام کے نمائندوں (ایم پی ،ایم ایل اے )کے خلاف التوا معاملوں کوایک سال میں ہی نپٹایاجاسکے۔اس کے بعد ایک مارچ2018کو پٹیالہ ہاؤ س کورٹ میں دوایسے فاسٹ ٹریک کورٹ شروع ہوئی پتہ چلاہے دہلی میں ان عوام کے نمائندوں کے خلاف کل 202مقدمات ہیں یکم مارچ سے 12اپریل 2018تک یعنی 43دن میں ان دونوں عدالتوں نے11مقدمات نپٹائے لیکن ایک بھی مقدمہ میں سزا نہیں ہوئی ۔چونکہ 8معاملے ایسے تھے جن میں 3سال بعد بھی پولس کوئی ثبوت اکٹھا نہیں کرسکی اس وجہ سے ملز م برے ہوگئے ۔باقی تین مقدمات میں ملزمان نے معافی مانگ لی تو مقدمات ختم ہوگئے ۔اس رفتار سے کام ہوتو سبھی مقدمے دوسال مں میں نپٹ جائیں گے ۔سپریم کورٹ نے صاف کہا ہے کہ سبھی کیس ایک سال میں ختم ہوجانا چاہیں بتادیں کہ 4896ایم پی ،ایم ایل اے کے خلاف مقدمہ درج ہیں ۔1765عوام کے نمائندوں پر مقدمات چل رہے ہیں جبکہ 3045معاملے عدالتوں میں التوا میں ہے سب سے زیادہ اترپردیش میں ہے جہاں 248ممبران اسمبلی وممبران پارلیمنٹ پر 539فوجداری کے مقدمات التوا میں پڑے ہیں ۔تامل ناڈودوسرے اور بہار تیسرے نمبر پر ہے وہیں دہلی ساتویں نمبر پر ہیں ۔10ریاستوں میں اور فاسٹ ٹریک عدالتیں بنیں گی جن میں مدھیہ پردیش ،بہار ،یوپی او رمغربی بنگال وغیر ہ شامل ہیں ۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ہتک عزت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا نے کے مقدمات جلد ہی نپٹا ئے جاسکتے ہیں ۔جو کرپشن اور آمدنی سے زیادہ اثاثہ جمع کرنے کے الزامات کے مقدمات میں گواہ نہ ملنے کے سبب یا فریق کے طرف سے کوتاہی کے سبب سے معاملے نپٹانے میں وقت لگتا ہے ۔چناؤ کے دوران درج مقدمات کی جانچ میں پولس کی لاپرواہی پر ایک ماہر وکیل نے کہاکہ چناؤ کمیشن ضابطہ کے تحت مقدمات درج تو درج کروادیتی ہے لیکن ایسے معاملوں میں کوئی گواہ سامنے نہیں آتا اور نا کو ان معاملوں میں کوئی شکایت کنندہ ہوتا ہے ۔چناؤ کمیشن مقامی ایس ڈی ایم او رپولس کے ساتھ موقع پر جاکر جانچ کرتا ہے او رمقدمہ درج کرلیا جاتا ہے اس کے علا وہ چناؤ کمیشن کے پاس سزا دینے کے متعلق کوئی پاور نہیں ہے کوئی ایک پارٹی اقتدار میں آجاتی ہے پھر پولس بھی ایس معاملوں کے جانچ میں لاپرواہی برتتی ہے پختہ ثبوت نہ ہونے پر ملزم بری ہوجاتاہے ۔
(انل نریندر)

01 اگست 2018

بھاجپا480سیٹوں پر اکیلے چناؤ لڑسکتی ہے

جیسے جیسے 2019کا لوک سبھا چناؤ قریب آتا جارہا ہے سیاسی درجہ حرات بڑھتا جارہا ہے بھاجپا اور کانگریس دونوں میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے ۔اور اپنے اپنے ایجنڈے کو آگابڑھانے میں لگی ہوئی ہیں اگلے لوک سبھا چناؤ میں جہاں کانگریس کی حکمت عملی جہاں275۔250سیٹوں پر چناؤ لڑنے کی چل رہی ہے وہیں بھاجپا نے 450-سے 480سیٹوں پر چناؤ لڑ نے کا نشانہ طے کیا ہے ۔پارٹی اعلی کمان کی واضح ہدایت ہے کہ بھاجپا کہیں بھی ٹیم بی بن کر چناؤ نہیں لڑے گی یعنی جہاں اتحاد ی سرکار ہے وہاں بھی پارٹی اتحادی پارٹی سے زیادہ یا برابر سیٹوں پر چناؤ لڑے گی بھاجپاکے قومی صدر امت شاہ نے اپنی جانی پہچانی صاف گوئی اور خو داعتمادی کے ساتھ پولارائیزیشن او رہوا میں تبدیلی سمیت پارٹی کی تمام تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وکاس کا جس طرح کا لمبا چوڑا پروگرام ہمارے پاس ہے اس کے بل پر نریندر مودی کی رہنمائی والی بھاجپا سرکار 2019میں چناؤ میں اپنی شاندار کارگردگی پیش کرے گی ۔امت شاہ نے کہا سیاسی فائدہ کے لئے مذہبی بنیاد پر کسی طرح کا پولارائزیشن بھاجپا کے ایجنڈے میں نہیں ہوگا ہماری طرف سے کوئی ایسی کوشش نہیں ہوگی جس سے سیاسی ماحول اور فرقہ وارانہ رنگ نہ لے ساتھ ہی انھوں نے کہاکہ یہ میڈ یا ہے جو اشوکو اچھالتا ہے حال ہی میں بھاجپا عہد یداران کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں شاہ نے صاف کیا کہ 450سے 480سیٹوں پر چناؤ لڑا جاناہے ۔2014میں پنجاب میں 13سیٹوں میں سے 3سیٹو ں پربھاجپا لڑی تھی ۔یہ سیٹیں امر تسر،ہوشیار پور اور گورداس پور تھی اب پارٹی آنند پور صاحب جالندھر،لودھیانہ سیٹوں پر بھی دعوے کا من بنارہی ہے ۔ اترپردیش میں سیٹیں بڑھانا چنوتی ہوگی ۔یوپی میں ایک بار لوک سبھا کی 74جیتنے اور 51فیصدی ووٹ حاصل کرنے کیلئے سرجیکل اسٹرائیک کی طرح جارحانہ تیور اپنا نے کی وکالت کررہے ہیں ۔امت شاہ ،بہار میں لوک جنشکتی پارٹی نیتا رام ولاس پاسوان تو اپنی سیٹوں کو لیکر مطمئن ہیں لیکن راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے نیتا اوپندر کشوا ہا دباؤ بنا رہے ہیں کہ ان کو کم سے کم 3سیٹیں ملنی چاہئے ۔ورنہ وہ اتحاد چھوڑ سکتے ہیں وہیں بھاجپا جہاں کم سے کم 20سیٹوں پر چناؤ لڑنا چاہتی ہے باقی 20 سیٹیں جے ڈی یو ،ایل جے پی ،اور آر ایل ایس کو دینا چاہتی ہے ۔بھاجپا اور شیو سینا کا اتحاد اسمبلی چناؤ کے وقت ٹوٹ گیا تھا مگر چناؤ کے بعد دونوں پارٹیاں ایک ساتھ آگئیں پھر دونوں الگ الگ چناؤ لڑنے کی بات کررہی ہیں۔آندھرا رپردیش میں خصوصی ریاست کے اشو پر ٹی ڈی پی نے بھاجپا کا ساتھ چھوڑ دیا ہے وہ اکیلے چناؤ لڑے گی بھاجپا نے بھی وہاں تنظیم مضبوط کرنا شروع کردی ہے ۔پارٹی کے سکریٹری جنرل رام مادھوکو انچارج کے طور پر معمور کیا ہے ۔میڈیا کی مانے تو بڑی تعدا د میں موجودہ ایم پی کے ٹکٹ کٹنے کا امکان ہے امت شاہ نے یہ اشارہ حال ہی میں اتر پردیش کے دورے کے درمیان دیا تھا ۔کیونکہ وہ اپنے ایم پی کے کام کاج سے ناراض ہیں بھاجپا صدر میں اس تنقید کو بھی مسترد کردیا کہ ان کی پارٹی اتحاد کے تئیں دوستانہ رخ نہیں رکھتی حالانکہ انھوں نے چناؤ سے پہلے نئے اتحادوں کے امکانات کے اشارے بھی دےئے تھے او رکہا تھا کہ یہ فطری ہے کہ کسی بھی اتحاد میں کچھ جوڑ وٹکراؤ تو رہتا ہی ہے ۔
(انل نریندر)

مسٹر 56کے دوست کوٹیکس دہندگان دیں گے ایک لاکھ کروڑ :راہل گاندھی

رافیل جہاز سودا الجھتا جارہا ہے رافیل جنگی جہاز سودے میں مبینہ بے ضابطگی کو لیکر کانگریس نریندر مودی سرکار پر مسلسل تنقید کرتی جارہی ہے کانگریس نے دعوی کیا ہے کہ اس جنگی جہاز سودے کے سلسلے میں مسٹر ۔56کے دوست کو بھارت کا ٹیکس دہندگان ایک لاکھ 30ہزار کروڑ روپے دیں گے ۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے سنیچرکو دعوی کیا کہ 36جنگی جہازوں کے رکھ رکھاؤ کے لئے اگلے 50برسوں میں دیش کے ٹیکس دہند گان کو ایک پرائیویٹ ہندوستانی گروپ کے جوانٹ وینچر کمپنی کو ایک لاکھ 30ہزار کروڑ روپے دینا ہونگیں ۔راہل نے پی ایم مودی کا درپر دہ طور سے حوالا دیتے ہوئے ٹیوٹ کیا تھا جس میں مند درجہ بالا دعوی کیا گیا ہے انھوں نے پرائیویٹ کمپنی سے متعلق دستاویزات شےئر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن ہمیشہ کی طرح کانفرنس کو خطاب کریں گی اور اس سے انکا رکریں گی لیکن میں جو دستاویزات سامنے رکھ رہا ہوں اس میں حقائق موجود ہے غور طلب ہے کہ کانگریس نے معاملہ پر پی ایم مودی اور وزیردفاع نرملا سیتا رمن کے خلا ف لوک سبھا میں مخصوص اختیار عدولی کا نوٹس دیا ہوا ہے ۔پارٹی کے ترجمان سورج والا نے الزال لگا کہ سرکار اس اشوپر دیش کو دھوکہ دی رہی ہے خطرناک سرمایہ داری اس کے ڈی این اے میں ہے رافیل سودے کا ڈیفنس آفسٹ معاہدہ جنگی جہاز بنانے میں نا تجربہ کار کمپنی ریلائنس کو سونپاہے ۔وزیر اعظم نے 10اپریل 2015کو فرانس سے چھتیس رافیل جنگی جہاز خریدنے کا اعلان کیا تھا اس کے 12دن پہلے ہی ریلائنس ڈیفنس کمپنی بنی تھی اور اس کے پاس جنگی جہاز بنانے کا لائسنس بھی نہیں تھا جو وزارت دفاع نے 22فروری 2016لائسنس دیا گیا ۔انھوں نے دعوی کیا کہ اس سودے کو نرملاسیتا رمن نے منظوری بھی نہیں دی ہے جو قواعد کے خلاف ورزی ہے بھاجپا نے کانگریس کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے پارٹی کے ترجمان سودھانشو ترویدی نے کہا کہ مرکزی وزیر اور فرانس کی سرکار کانگریس کے الزامات کو جھوٹا ثابت کرچکی ہے اب لوگ مایوسی میں الزام لگا رہے ہیں ۔سچ کیا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا ؟
(انل نریندر)

29 جولائی 2018

نیرو،میہول چوکسی اور نیا بھگوڑا قانون

بینکوں کو کروڑوں روپے کی چپت لگا کر بیرون ملک پہنچنے والے بھگوڑوں کو لیکر دیش میں کافی وقت سے ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ اب بھگوڑا اقتصادی جرائم بل 2018 پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کئے جانے سے ایسے بھگوڑوں پر سخت کارروائی کی جا سکے گی۔ حالانکہ ایسے قانون پہلے سے بھی ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ آج کی صورتحال میں جب ایسے بھگوڑوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو بینکوں کی پہنچ اور عدالتوں کے دائرہ اختیار سے بچ کر بھاگ رہے ہیں اس کے لئے مخصوص قانون کی ضرورت محسو س کی جارہی تھی۔ مودی حکومت نے پہلے اسے آرڈیننس کی شکل میں لاگو کیا، اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کرا لیا گیا۔ کرپشن انسداد (ترمیم) بل 2018 کا لوک سبھا میں ایک آواز سے پاس ہونا قابل خیر مقدم ہے کیونکہ راجیہ سبھا اسے پہلے ہی پاس کرچکی ہے اس لئے اب صدر کے دستخط کے ساتھ یہ قانون بن جائے گا۔ اس سے رشوت لینے والوں کے ساتھ ساتھ دینے والے کو بھی سزا کی سہولت ہے اور کرپشن سے وابستہ معاملوں کے دو سال میں نمٹانے کی بھی قید رکھی گئی ہے جو لوگ خود کالی کمائی کے لئے رشوت دیتے ہیں ان کو لینے والے کے برابر قصوروار ماننے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن عام آدمی کو کئی بار رشوت مجبوری میں دینا پڑتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو چھوٹے چھوٹے کاموں کی تکمیل مشکل ہوجاتی ہے۔ اس میں رشوت دینے والے کے لئے زیادہ سے زیادہ 7 سال کی سزا یا جرمانہ رکھا گیا ہے جبکہ رشوت لینے والے کے لئے کم از کم 3 سال اور زیادہ سے زیادہ7 سال کی سزا و جرمانہ رکھا گیا ہے۔ یہ سہولت تھوڑا خوفزہ ضرور کرتی ہے کہیں سزا نہ ہوجائے اس ڈر سے رشوت دینے والے بہت سے لوگ شکایت ہی نہ کریں؟ حالانکہ اس کے بچاؤ کے لئے بھی ایک سہولت ہے۔رشوت دینے والے کو یہ بتانا ہوگا کس وجہ سے اور کن حالات میں رشوت دی گئی۔ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ اسے رشوت دینے کیلئے مجبور کیا گیا تو وہ سزا سے بچ سکتا ہے۔ اس بل کا بنیادی مقصد ایسے مالی کرمنلوں کو واپس لاکر سزا دینا اور بینکوں کی ساری رقم وصولنا اور امکانی بھگوڑوں کو روکنا ہے۔ قانون پر عمل ہونے کے بعد نہ صرف ایسے بھگوڑوں کی املاک ضبط ہوسکیں گی بلکہ انہیں بیرونی ملک لانا آسان ہوگا۔ اب قانون کی طاقت ہاتھ میں آنے کے بعد جانچ ایجنسیوں کے لئے کام کرنا آسان ہوجائے گا۔ اب جرائم پیشہ کی املاک آسانی سے ضبط ہوسکتی ہے۔ ایسے جرائم پیشہ جس نے دوسری دیش کی شہریت لے لی ہے ان کو واپس لانا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے ہی ایک بھگوڑے میہول چوکسی کے بارے میں خبر آرہی ہے کہ اس نے اینٹی گووا کی شہریت لے لی ہے۔ ظاہر ہے اسے واپس لانے میں پریشانیاں تو آئیں گی لیکن قانون کے خاکہ کو اس دیش کے حکام کے سامنے رکھ کر بتایا جاسکتا ہے کہ اس پر جو الزام ہیں ان کے لئے عدالت کو اس کی ضرورت ہے۔ ایسے قانون بھی مالی غبن کرکے بیرون ملک بھاگنے کی منشا رکھنے والوں کو خوفزدہ کریں گے۔ ہم چاہے جہاں چلے جائیں ہماری خیر نہیں ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی اپیل پر ہیرا کاروباری نیرو اور ان کے ماما میہول چوکسی کو اس قانون کے تحت بھگوڑا مجرم اعلان کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ انہیں25-26 ستمبر کو پیش ہونے کے لئے سمن جاری کئے گئے ہیں۔ دیکھیں نئے قانون کے تحت ہمارے افسران ان دونوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کتنے کامیاب رہتے ہیں؟
(انل نریندر)

ذرا سی بارش آخر کیوں بن جاتی ہے تباہی کا سبب

ہمارے دیش میں پانی کا مسئلہ تشویش کا باعث ہے کہیں تو پینے تک کا پانی نہیں ہوتا تو کہیں سیلاب سے تباہی ہورہی ہے۔ دہلی این سی آر میں جمعرات کی صبح محض تین گھنٹے کی موسلادھار بارش نے عام زندگی کو ٹھپ کردیا۔ لوگوں کی صبح نیند کھلی تو کئی علاقوں میں دیکھتے دیکھتے سڑکیں اور پارکنگ تالاب بن گئے۔ موسلادھار بارش سے دہلی سمیت ہریانہ کے گوروگرام ، پلول، فرید آباد، اترپردیش، غازی آباد، گوتم بودھ نگر، ہاپوڑ کے کئی حصہ زیر آب ہوگئے۔ وسندھرا میں وارتالوک اور پرگیا کنج سوسائٹی کے پاس سڑک دھنسنے سے سینکڑوں جانیں آفت میں پڑ گئیں۔ آناً فاناً میں اپارٹمنٹ کے قریب80 فلیٹ خالی کرائے گئے۔ اندرا پورم کے شپرا این سی ٹی کے پارک کے کونے میں رکھے بجلی کی تار سے جمع پانی میں کرنٹ آگیا۔ اس سے ایک شخص کی موت ہوگئی۔ یوپی میں تو 25 سے زیادہ افراد کے مرنے کی خبر آئی ہے۔ جب کہیں بھی تیز بارش ہوجاتی ہے ، پانی بھرنے کے سبب ایک طرح سے زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ بارش کے پانی کے سبب ہی نہیں بلکہ شہروں کے کمزور ڈھانچہ کے سبب حالات پیدا ہوتے ہیں۔ بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کے سبب محض سڑکوں پر پانی نہیں بھرتا لوگوں کے گھروں میں بارش اور کبھی کبھی سیور تک کا پانی گھس جاتا ہے۔ اکثر جائز اور ناجائز طریقے سے بنی خستہ عمارتیں گرنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ بارش کے سبب ٹریفک کے ساتھ کئی سسٹم بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ کہیں بجلی کی سپلائی لمبے عرصہ تک ٹھپ ہوجاتی ہے تو کہیں پانی کی سپلائی بند ہوجاتی ہے۔ یہ سال درسال ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ کسی قومی بحران سے کم نہیں جب شہروں کو سنوارنے کے علاوہ انہیں اسمارٹ سٹی میں بدلنے کی بڑی بڑی باتیں ہورہی ہیں اور قسم قسم کی اسکیمیں بھی چل رہی ہیں تب بارش کے دوران پانی کی نکاسی کا بنیادی مسئلہ کی طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی؟ یہ سارا بحران لاپراوہی اور مقرر ایجنسیوں کی دیکھ ریکھ کا ہے جنہوں نے کالونی بساتے وقت ان سہولیات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔بسنے کے بعد نوئیڈا جیسے علاقہ میں پچھلے دنوں کئی عمارتیں جس طرح زمیں دوس ہوئی ہیں وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ یہ اس لاپرواہی کا نتیجہ ہے جو محض وصولی کے نام پر سرگرم رہتی ہیں اور آنے والے کل کے لئے مصیبت کھڑی کرتی ہیں۔ ایسی مشینری صرف اپنا موجودہ حال دیکھتی ہیں سماج کا مستقبل نہیں۔ اپنے دیش میں یہ ایجنسیاں بدحالی کا نمونہ بن گئی ہیں۔ کیا اب بھی سدھار ہوگا؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...