Translater

07 مئی 2016

دلت خاتون کے بربریت آمیز قتل نے نربھیا واقعہ کی یادیں تازہ کردیں

کیرل کے ارناکولم ضلع میں ایک دلت لڑکی سے بربریت آمیز آبروریزی اور پھر اس کے قتل سے دہلی کے وسنت وہار علاقے میں نربھیا کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔پیرمبدور کی باشندہ ارنا کولم لا کالج میں قانون کے نصاب کے فائنل میں پڑ ھ رہی ھالبہ کے گھر میں گھس کر مجرم نے آبروریزی کی اور بیحد بربریت آمیز طریقے سے قتل کو انجام دیا۔ چاقو سے اس کی آنتیں باہر نکال دیں۔ اس کا تو صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے کہ مجرم کس بربریت اور غیر انسانی نظریئے کا ہوگا اور اس کے دل میں لڑکی کے خلاف کس حد تک نفرت بھری رہی ہوگی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے ساتھ بربریت آمیز مارپیٹ کئے جانے اور آبروریزی کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ پولیس ذرائع نے پوسٹ مارٹم کی جانکاری دیتے ہوئے بدھ کو بتایا کہ اس کے جسم پر 38 چوٹوں کے نشان تھے۔ رپورٹ میں آبروریزی کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ ملپوجھا میڈیکل کالج کے فورنسک شعبے نے پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی ہے۔ اس معاملے میں حالانکہ کافی دن گزر چکے ہیں لیکن اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوسکی ہے۔ 16 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے ریاست میں واردات کو لیکر عوام میں ناراضگی پیدا ہونا فطری ہی ہے۔ جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ اسی درمیان کیرل حکومت نے مقتول کے رشتے داروں کو 10 لاکھ روپئے امدادی معاوضہ رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے متاثرہ کی بہن کو سرکاری نوکری دی جائے گی۔ سرکار متاثرہ لڑکی کے گھروالوں کو مدد دینے کے لئے چناؤ کمیشن سے اجازت لے گی کیونکہ وہاں چناؤ ضابطہ نافذ ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ قریب شام پانچ بجے ہوئی اس واردات کو لیکر آس پاس کے تمام لوگ بے خبر رہے اور کسی نے اس گھر سے نکل کر جاتے شخص کے بارے میں کچھ پوچھنا ضروری نہیں سمجھا۔ جب لڑکی کی ماں 8 بجے گھر آئی اور چیخنے چلانے لگی تب بھی اس خاندان سے کوئی تعلق نہ ہونے کا حوالہ دیکر پڑوسیوں نے مدد کی التجا تک نہیں سنی۔ یہی نہیں انتظامیہ نے پچھلی جمعرات کو ہوئی اس واردات کے معاملے میں تب تک ٹال مٹول والا رویہ اپنائے رکھا جب تک اس نے طول نہیں پکڑ لیا۔متاثرہ خاندان پہلے ہی بیحد غریبی کی حالت میں جی رہا تھا۔ بیٹی اور ماں اکیلے ایک کمرے کے چھوٹے گھر میں رہتے تھے۔ لڑکی ایک معمولی نوکری کے ساتھ پڑھ رہی تھی اور اس کی ماں گھریلو نوکرانی کا کام کیا کرتی تھی لیکن اتنے برسوں تک تکلیف جھیل کر اس مقام پر پہنچ سکی لڑکی اور اس کے خواب کو ایک جھٹکے میں ختم کردیا گیا۔ اگر ایسے جرائم کے تئیں انتظامیہ، پولیس اور سماج کا رویہ اسی طرح بے حسی اور لاپرواہی والا رہا تو ظاہر ہے اس کا شکار کمزور طبقوں کی نربھیا جیسی لڑکیاں ہوتی رہیں گی۔ پتہ نہیں ہم کب سدھریں گے۔
(انل نریندر)

بین الاقوامی قانون کا سنمان تو ہولیکن ماہی گیروں کو انصاف بھی ملے

دو ہندوستانی ماہی گیروں کے قتل کے معاملے میں اقوام متحدہ کی ثالثی عدالت نے منگل کو اپنافیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ اگر معاملہ میں ہندوستانی دائرہ اختیار علاقے میں آنے کی بات ثابت ہوتی ہے تو اٹلی سفارتخانے میں رہ رہے ایک ملزم فوجی سلواتور کو بھارت کو سونپنا ہی ہوگا جبکہ اس سے ایک دن پہلے ہی ہیگ میں واقع اقوام متحدہ کی ثالثی عدالت نے معاملے کے التوا رہنے تک اس اطالوی مرین کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ بتادیں کیرل کے ساحل پر مرین لیانو لاتور اور شیرون نے 2012ء میں 2 ہندوستانی ماہی گیروں کو مار ڈالا تھا۔ 2014ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد لاتور اٹلی چلا گیا تھا جبکہ شیرون اٹلی کے سفارتخانے میں رہتا ہے۔ دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی پر حامی بھری تھی۔ یا پہلی نظر میں تو یہ فیصلہ اٹلی کے حق میں ہے ، کیونکہ اس سے بھارت میں واقع اٹلی کے سفارتخانے میں نظر بند اطالوی مرین کی رہائی کا راستہ صاف ہوسکتا ہے لیکن بھارت نیوی اس میں فی الحال اپنے لئے تسلی ڈھونڈھنے کی تلاش میں ہے۔ اس بنا پر کہ عدلیہ نے معاملے کو ہماری سپریم کورٹ کے جوڈیشیل دائرے میں مانا ہے۔ دو ہندوستانی ماہی گیروں کے مارے جانے سے فطری طور پر بھارت میں کافی تلخ رد عمل ہوا تھا۔ کیرل میں تو یہ عوامی ناراضگی کا ایک خاص اشو بنا ہوا ہے۔ ثالثی عدالت کا انترم فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب کیرل میں اسمبلی چناؤ کا عمل جاری ہے اور وہاں کی کچھ پارٹیاں ان پر ہمیشہ نگاہیں ٹکائی ہوئی ہیں۔ انترم حکم پر اٹلی کا رویہ ایک بار پھر اس کی رائے کو ظاہر کرتا ہے۔ اٹلی کا کہنا ہے کہ اتھارٹی نے سارجنٹ شیرون کو ملک بھیجنے کی اجازت دیکر اس کے حق میں بھی فیصلہ دیا ہے۔ اطالوی مرین بھارت کا مجرم نہیں ہے یہ کہتے ہوئے اٹلی دو اہم حقائق کو نظر انداز کررہا ہے، ایک یہ کہ جب ثالثی کا عمل ابھی بھی التوا میں ہے تو پھر فیصلہ دینے کا سوال ہی نہیں اٹھتا؟ دوسری سچائی یہ ہے کہ اتھارٹی نے سارجنٹ شیرون کی ضمانت کی شرطوں میں چھوٹ دینے کے لئے بھارت اور اٹلی دونوں کو بھارت کی سپریم کورٹ سے رابطہ کرنے کیلئے کہا ہے۔ یہ اب بھارت کی سپریم کورٹ پر منحصر کرے گا کہ وہ کیا فیصلہ دیتی ہے۔ اگر سارجنٹ شیرون کو اٹلی جانے کی اجازت ملتی ہے تو ظاہر ہے اسے بھارت لوٹنے کی جوابدہی بھی اٹلی پر ہوگی۔ ثالثی اتھارٹی نے اپنے عارضی حکم میں کہا ہے کہ اطالوی مرین کو ضمانت دلانے کیلئے دونوں فریقین کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا۔ جوڈیشیل کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی کیونکہ اقوام متحدہ کی اس عدالت میں اس کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ بھارت بین الاقوامی قانون کا احترام کرتا ہے۔ وہ مارے گئے ماہی گیروں کے کنبوں کو انصاف دلانے کے لئے عہد بند ہے۔
(انل نریندر)

06 مئی 2016

تیل اور کٹرتا کا برآمداتی سعودی عرب

پچھلے دنوں میں نے نیویارک ٹائمس کے مسٹر نیکولس کرسٹاف کا ایک آرٹیکل جس کا عنوان تھا ’’تیل اور کٹرتا کا برآمداتی‘‘ پڑھا۔ میں اس آرٹیکل کو قارئین کے سامنے جوں کا توں پیش کررہا ہوں تاکہ قارئین کو سعودی عرب کی اصلیت کا پتہ چل سکے۔ مصنف مسٹر کرسٹاف لکھتے ہیں حال ہی میں کالج کے ایک طالبعلم کو امریکہ میں اس وقت طیارے سے اتار دیا گیا جب وہ طیارے میں سوار ہونے کے بعد اپنے رشتے داروں سے فون پر بات کررہا تھا۔ اس نے اقوام متحدہ کے ایک پروگرام میں حصہ لیا تھا اور وہ اپنی خوشی اپنے خاندان والوں سے شیئر کرنا چاہتا تھا۔ اس کی غلطی صرف یہ تھی کہ وہ عربی میں بات کررہا تھا۔ امریکہ میں اس برس مسلمانوں کو طیارے سے ایسے وقت اتار دینے کا یہ چھٹا واقعہ ہے۔ سیاسی سسٹم میں بھی اسی طرح کے اسلامی فوبیہ(اسلام کا خوف) کو اظہار کرنے سے گریز نہیں کیا جارہا ہے۔ مثلاً صدر کی امیدواری میں شمار ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی کی وکالت کی ہے۔ ہیڈ کروز مسلم پڑوسیوں پر خاص نگرانی کی بات کررہے ہیں۔ ویسے خیال رہے کہ امریکن ایک ہزار مسلم پولیس افسر بھی ہیں۔ تقریباً 50 فیصدی امریکیوں نے پابندی اور خاص نگرانی کی حمایت کی ہے۔ ڈپلومیٹک مشکلات میں الجھے بغیر یہ دیکھنا چاہئے کہ عدم استحکام پھیلانے میں سعودی عرب کس طرح کا خطرناک کردار نبھا رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہیں تو وہ کس طرح اسلامی دنیا کی ساکھ خراب کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ اور کروز کے مقابلے میں سعودی عرب کے لیڈر اسلام کو زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اس لئے ہمیں اس کی کٹرتا کا اسی طرح سے احتجاج کرنا چاہئے جیسا کہ ہم ٹرمپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ 9/11 کے حملہ سے وابستہ جانچ سے متعلق گمشدہ 28 صفحات کولیکر امریکہ پریشان ہے۔ جن میں اس حملے میں سعودی حکام کے ملوث ہونے کی غیر مصدقہ معلومات تھی۔ مگر میں یہ بتا سکتا ہوں کہ جانچ کمیشن کے ایک افسر نے مجھے بتایا تھا کہ 28 صفحات کے یہ مواد گمراہ کرنے والے ہیں اور کمیشن نے یہ پایا تھا کہ اس حملے کی سازش میں سعودی حکومت یا وہاں کے سعودی حکمران کے ذریعے مالی مدد دئے جانے کے بارے میں کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہے۔ سعودی عرب کو لیکر پریشانی اس لئے ہونی چاہئے کیونکہ اس نے کٹرپسندی ،نفرت اور خواتین کی مخالفت اور شیعہ سنی تقسیم کو فروغ دیا ہے۔ یہی تقسیم اب مغربی ایشیا میں خانہ جنگی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ حقیقت میں سعودی عرب کا نام بدل کر’ کنگ ڈم آف بیک ورڈ نیس‘ (پسماندہ ملک) کردینا چاہئے۔ سعودی عرب میں عورتوں کے گاڑی چلانے پر پابندی لگی ہوئی ہے اور کار کی سواری کرنے پر وہ سیٹ بیلٹ نہیں لگا سکتیں ۔ وہاں اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ 19 سالہ لڑکی کو 200 کوڑے مارنے کی سزا سنائی جاسکتی ہے حالانکہ احتجاج کے بعد بادشاہ نے اسے معاف کردیا تھا۔ وہاں عام بحث پر پابندی ہے اور اقلیتی شیعوں کو بھاری اذیتیں جھیلنا پڑتی ہیں۔ سعودی عرب میں اسلام کی شروعات ہوئی تھی اس لحاظ سے مسلم دنیا میں اس کا بہت اثر ہے۔ اسلام پر اس کے نظریئے کو خاص جواز حاصل ہے۔ اس کے مولویوں کی پہنچ دور دور ہے۔ میڈیا ان کے نظریات کو دنیا بھر میں پھیلاتا ہے ۔ یہی نہیں یہ دیش نفرت کے بیج بونے کے لئے غریب ملکوں کے مدارس کو بھاری مالی مدد بھی پہنچتا ہے۔ پاکستان سے لیکر مالی تک سعودی عرب کی مالی مدد سے جگہ جگہ مدرسے بن گئے ہیں۔مذہبی کٹر پسندی کو بڑھاوا دے رہے ہیں اور دہشت گرد پیدا کررہے ہیں۔ وکی لکس کے ذریعے جاری امریکی محکمہ خارجہ کے دستاویزات سے پتہ چلا تھا کہ پاکستان میں ایسے کٹر پسند مدارس غریب خاندانوں کو 6ہزار 500 ڈالر کا انعام دیتے ہیں تاکہ وہ کم سے کم اپنے ایک بیٹے کو وہاں بھیجیں۔ صاف صاف الفاظ میں کہیں تو سعودی عرب اسلامی کٹر پسندی اور عدم رواداری کو دنیا بھر میں جائز قرار دینے کے لئے کام کررہا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے سعودی عرب الٹی سمت میں چل رہا ہے۔ اس نے یمن میں بربریت آمیز جنگ کی شروعات بھی کی تھی۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب ہم سے کہیں زیادہ پیسے والا ہے، یہ اسلامی دنیا میں زہر کا ذریعہ ہے اور اس کی نفرت ہماری کٹرتا کو ہوا دیتی ہے۔
(انل نریندر)

پہلے اطلاع کے باوجود آتنکی ایئر بیس میں کیسے داخل ہوئے

دیش کو جھنجھوڑ دینے والے پٹھانکوٹ آتنکی حملہ کا جائزہ لے رہی وزارت داخلہ سے وابستہ پارلیمانی کمیٹی نے اس حملے پر کئی اہم سوال کھڑے کردئے ہیں۔ پختہ خفیہ جانکاری کے باوجود پٹھانکوٹ حملہ روکنے میں ناکام رہی ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کی سرکار کی اس کمیٹی نے جم کر کھنچائی کی ہے۔ منگل کو سامنے آئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں نے بروقت خطرے کو بھانپنے اور اس سے تیزی سے نمٹنے کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں کیا۔ کمیٹی نے مزید کہا 2 جنوری کو آتنکی حملہ معاملہ میں پنجاب پولیس کا کردار سوالوں کے گھیرے میں ہے اور مشتبہ ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش وزارت داخلہ سے وابستہ اس اسٹینڈنگ کمیٹی نے 197 صفحات کی رپورٹ میں کہا کہ وہ اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ آتنکی حملہ کے اندیشے کے بارے میں پہلے سے ہی چوکس کئے جانے کے باوجود دہشت گرد کس طرح سے ہائی پروفائل ایئر بیس میں سکیورٹی گھیرے کو توڑ کر داخل ہونے میں کامیاب رہے اور حملہ کو انجام دیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے یہ تشویش کا باعث ہے کہ اغوا اور بعد میں چھوڑے گئے پٹھانکوٹ کے ایس پی اور اس کے دوستوں سے ٹھوس اور پختہ خفیہ اطلاع حاصل ہونے و آتنک وادیوں اور ان کے آقاؤں کے درمیان ہوئی بات چیت کو الیکٹرانک سرویلنس سے بیچ میں سنے جانے کے باوجود سکیورٹی ایجنسیوں کی تیاری اتنی خراب تھی کہ وہ وقت رہتے خطرے کو بھانپ نہیں سکیں اور اس کا فوراً فیصلہ کن طریقے سے جواب نہیں دے سکیں۔ حالانکہ اپنے آقاؤں سے آتنک وادی بات کررہے تھے کہ وہ ڈیفنس ایئر بیس پر حملہ کرنے والے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بی ایس ایف کی گشت فلڈ لائٹ اور سرحد پر لگے کانٹے دار تار جیسے وسائل کے باوجود دہشت گردوں کی گھس پیٹ نہیں روکی جاسکی۔ کانگریس نیتا پی۔ بھٹاچاریہ سربراہی وائی 31 نفری پارلیمانی کمی نے جانچ میں بھارت کے ذریعے پاک حکومت سے مدد مانگنے اور پاک جوائنٹ ٹیم کو اپنے یہاں آنے کی اجازت دینے پر بھی سوال اٹھایاگیا۔ کہا اس میں دورائے نہیں پاک میں موجود جیش محمد ہی حملہ کے پیچھے ہے۔ ضبط کردہ ہتھیاروں و دیگر سامان پر ’میڈ ان پاکستان‘ لکھا ہوا ہے۔ پاک ایجنسیو ں کی مدد کے بغیر ہتھیاروں سے لیس چار لوگ آسانی سے سرحد پار نہیں کرسکتے۔ پھر بھی مرکز نے انہیں اجازت دے دی۔ سرکار اس فیصلے کا سبب بتائے؟ پاکستان کی جوائنٹ تفتیشی ٹیم نے معاملے کی جانچ کے لئے مارچ کے آخر میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔ ایس پی پٹھانکوٹ کے اغوا ہو کر چھوٹنے کے بعد بھی پنجاب پولیس نے اس نتیجے پر پہنچنے میں کافی وقت لیا کہ یہ عام لوٹ مار کی واردات نہیں تھی بلکہ دیش کی سلامتی کے لئے بڑے خطرے کا اشارہ ہے۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کار دہشت گردوں نے ایس پی اور اس کے ساتھیوں کو کیسے زندہ چھوڑدیا، اس کی این آئی اے کو پوری جانچ کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)

05 مئی 2016

اور اب نوین جندل کٹگھرے میں

کانگریس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اپنے 60 سالہ عہد میں کانگریس کا دامن کرپشن اور گھوٹالوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ کرپشن ،دلالی اور رشوت خوری جیسی چیزیں اس کی پہچان بنتی جارہی ہیں۔ کانگریس کی رشوت خوری و دلالی غلط طریقوں سے پیسہ کمانا اس کا کلچر رہا ہے۔ یوپی اے۔I کی کامیاب حکمرانی کے باوجود یوپی اےII- میں ہوئے ٹو جی، کامن ویلتھ گیمس، کولگیٹ جیسے اسکیم کے چلتے یوپی اے حکومت کو آخر کار جانا پڑا۔ ایک طرف اگستا ہیلی کاپٹر دلالی کا معاملہ چل رہا ہے تو اس پر سرخیوں میں چھائے کول بلاک الاٹمنٹ گھوٹالہ سے جڑے ایک معاملہ میں پٹیالہ ہاؤس کی اسپیشل سی بی آئی عدالت نے گزشتہ دنوں کانگریس لیڈر نوین جندل سمیت14لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کرنے کے احکامات دئے۔ ان 14 لوگوں میں سابق وزیر مملکت کوئلہ دساری نرائن راؤ، جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی مدھوکوڑا، سابق کوئلہ سکریٹری ایچ سی گپتا کے نام بھی شامل ہیں۔ خصوصی سی بی آئی جج بھرت پراشر نے ملزمان کے خلاف آئی پی سی کے دفعہ 120B (مجرمانہ سازش) 420 (دھوکہ دھڑی) ، 409 (سرکاری ملازم کے ذریعے مجرمانہ اعتماد شکنی) و کرپشن انسداد ایکٹ کی دفعہ 13(1)(c) ،13 (1)(d) کے تحت الزامات طے کرنے کے احکامات دئے ہیں۔ عدالت نے136 صفحات کے اپنے حکم میں کہا کہ پہلی نظر میں یہ پتہ چلتا ہے کہ پوری سازش میں نوین جندل نے اہم رول نبھایا، کئی فرضی کمپنیاں بنائی گئیں جو محض ایک چھلاوا تھیں۔ ایسا صرف سابق وزیر مملکت کوئلہ دساری نرائن راؤکو 2 کروڑ روپے دینے کے ناجائز کام کو صحیح دکھانے کے لئے کیا گیا۔عدالت نے کہا جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی مدھو کوڑا نے وزارت کوئلہ سے سرکاری طریقے سے اس بات کو یقینی کیا تھا کہ پورے امرکونڈا مرگ دنگل ،کوئلہ بلاک کا الاٹمنٹ ملزم صنعت کار نوین جندل کے گروپ کی کمپنی کو ملے۔ اس سلسلے میں عدالت نے کہا کہ پہلی نظر میں کوڑا کا برتاؤ جندل اور کوڑا کے درمیان رضامندی ظاہر کرتا ہے تاکہ جھارکھنڈ سرکار کی طرف سے کول بلاک کے الاٹمنٹ کی سفارش ملزم کمپنی جندل اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ گگن اسپان، آئرن پرائیویٹ لمیٹڈ کے حق میں کی جا سکے۔جندل کے علاوہ کس دیگر کو اس سے فائدہ بھی نہیں پہنچایا تھا۔ ان کا استعمال اس طرح سے رقم ٹرانسفر کرنے کیلئے کیا گیا تاکہ دیش کے کسی بھی قانون کے تحت یہ چوری پکڑی نہ جاسکے۔خصوصی سی بی آئی جج پراشر نے کہا مدھوکوڑا کے پاس جھارکھنڈ کے چیف سکریٹری و دیگر افسران نے فائل کو منظوری کیلئے بھیجا تھا۔ وزیر اعلی نے اپنے سیاسی فائدے کے لئے ان کی سفارش کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس میں تبدیلی کرنے کو کہا۔ جب افسران نے تبدیلی کرنے سے منع کردیا تو انہوں نے خود ہی اپنی پسندیدہ کمپنی کا نام لسٹ میں ڈال دیا۔ حالانکہ عدالت نے کہا کوڑا نے اپنے عہدہ کا بیجا استعمال کیا یا نہیں یہ محض مقدمے کے دوران ہی سامنے آسکتا ہے۔ عدالت نے کہا حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ سبھی کرداروں کی کڑی صرف نوین جندل ہی ہیں۔ پورے معاملے میں کانگریس کی ساکھ کو ایک اور دھکا لگا ہے۔ چاہے معاملہ اگستا ہیلی کاپٹر دلالی کا ہو، چاہے کانگریس کی امیج کو دھکا لگ رہا ہے۔ سب سے بڑی مشکل کانگریس کے لئے جنتا کی سوچ کی ہے۔ اگستا دلالی کیس و جندل کیس میں الزام کتنے ثابت ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو بعد کی بات ہے لیکن یہ اصل اشو ہے کہ جنتا کی نظروں میں کانگریس کرپٹ ہے جو کرپشن اور دلالی کو بڑھاوا دیتی ہے۔
(انل نریندر)

براک اوبامہ کا جانشین کون ہوگا

امریکہ میں براک اوبامہ کی میعاد اب آخری مرحلہ میں ہے۔ براک اوبامہ نے حال ہی میں بطور صدر آخری بار خطاب کیا۔ دہشت گردی، امریکی شہری اور اقتصادی اصلاحات کی باتیں ان کی تقریر میں خاص رہیں۔ انہوں نے بیرونی ممالک سے فوج کی واپسی ، نوکریوں میں بہتری لانے کے وعدوں پر پرعزم طریقے سے عمل کیا ہے۔ امریکہ سے باہر کی دنیا کو شاید اتنا نہ پتہ ہو لیکن سچ یہ ہے کہ اوبامہ نے امریکہ اور سیاسی پارٹیوں کو سہنے کے باوجود اپنا مقصد بہت حد تک حاصل کرلیا ہے۔ آج امریکہ میں نئی نوکریاں آنے کی جو اونچی شرح ہے وہ تاریخ میں کبھی نہیں رہی۔ ریپبلکن انہیں اقتصادی پالیسیوں پر نہیں گھیر پارہے ہیں، اس لئے وہ ضرور یاد کئے جائیں گے۔ لوگوں کے درمیان ان کی مقبولیت بہت زبردست ہے۔ براک اوبامہ امریکی تاریخ میں ایک کامیاب صدر مانے جائیں گے۔ اب دنیا بھر میں براک اوبامہ کے جانشین کے چناؤ پر نظریں لگی ہوئی ہیں۔ 8 نومبر کو امریکہ میں نئے صدر کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جون ۔ جولائی میں دونوں پارٹیوں کے امیدوار اعلان ہوں گے۔ آج کل امریکہ کی مختلف ریاستوں میں پرائمری کارروائی جاری ہے۔ امریکہ کے صدارتی چناؤ میں ڈیموکریٹک پارٹی سے ہلیری کلنٹن سب سے آگے دعویدار ہیں جبکہ ریپبلکن پارٹی سے ڈونل ٹرمپ انہیں بڑی ٹکر دے رہے ہیں۔نارتھ ایسٹ امریکہ کی پانچ ریاستوں میریلینڈ، پینلوینیا، ڈیلوائر اور روڈ آئرلینڈ میں کافی اچھی جیت حاصل کر ٹرمپ نے ثابت کردیا ہے کہ ان کی پارٹی میں کسی بھی امیدوارمیں انہیں چنوتی دینے کا معدہ ہے ادھر ہلیری کلنٹن سب سے آگے ہیں۔ حالانکہ ڈیموکریٹک پارٹی میں آخری مرحلہ میں پہنچنے کے باوجود برنی سینڈرس نے انہیں تقریباً ہر جگہ زبردست ٹکر دے رکھی ہے۔ 
بہرحال جون سے شروع ہونے والے اہم مقابلے میں ٹرمپ اور ہلیری ہی آمنے سامنے ہوں گے۔ اس درمیان ایک بات تو یہ طے ہوگئی ہے کہ اس بار چناؤ میں سب سے بڑے آئیڈیالوجی کے حامل چہرے نہیں دکھائی دینے والے ہیں۔ ڈونل ٹرمپ کی ساکھ ایک بڑبولے اور کٹر ساؤتھ پنتھی لیڈر کی بن رہی ہے جبکہ ہلیری کلنٹن کی ساکھ اصلی اشوز سے بھٹک کر پاپولسٹ پولیٹکس کرنے والی، بڑے سرمایہ کاروں سے نزدیکی رشتے بنا کر اپنی چناؤ کمپین چلانے والی ہلکی سیاستداں بن چکی ہیں۔ ہندوستانی نژاد امریکیوں کے ایک گروپ نے ڈونل ٹرمپ کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدارتی چناؤ میں اگر ہلیری کلنٹن چناؤ جیت جاتی ہیں تو وہ امریکی جمہوریت کے 50 سال کی تاریخ میں پہلی امریکی خاتون صدر ہوں گے۔ تازہ ماحول کو دیکھ کر2008 ء میں اپنے پہلے چناؤ کے دوران اوبامہ کا یہ تبصرہ یاد رہا ہے کہ اس بار آپ کو اچھے صدارتی امیدوار میں سب سے اچھے شخص کا چناؤ کرانا ہے۔ چناؤ نتائج جو بھی ہوں لیکن امریکہ میں خراب صدر چنا جانا باقی دنیا کے لئے بھی برے نتیجے لیکر آتا ہے۔
(انل نریندر)

04 مئی 2016

خبردار!جو کسی مذہبی گروپ نے اقتدار کو چیلنج دیا

چین کے صدر شی جنگ پنگ نے دیش کے اقتدار پر اپنی پکڑ مضبوط کرلی ہے۔ آئے دن وہ نئے نئے اعلان کررہے ہیں، وارننگ دے رہے ہیں۔ حال ہی میں شی جنگ پنگ نے افسروں سے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر بہت سے لوگ چین میں گھس رہے ہیں۔افسروں کو چاہئے کہ ان پر نظر رکھیں۔ لوگ اپنے مذہب کو مانتے رہیں لیکن اقتدار یا حکمراں کمیونسٹ پارٹی کو چیلنج دینے کی کوشش نہ کریں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق جگ پنگ نے یہ وارنگ ایک میٹنگ میں دی۔ دنیا کے سب سے بڑی آبادی والے دیش میں مذہب کا مینجمنٹ کیسے کریں؟ موضوع پر یہ میٹنگ بلائی گئی تھی۔ صدر نے اس سلسلے میں بودھ اور عیسائی سمیت سبھی مذاہب کو ماننے والوں کے لئے گائڈ لائن بھی جاری کی تھی۔ جنگ پنگ نے کہا کہ سبھی مذہبی گروپوں اور فرقوں کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کی پہلی کا ہی اقتدار تسلیم کرنا ہوگا۔ انہیں اسی سماجی اور سماجوادی سسٹم اور پارٹی کی مذہبی پالیسی کو اپنانا ہوگا۔ جنگ پنگ نے کہا کہ سبھی مذہبی فرقوں کو چین کی تہذیب ،قوانین اور قاعدوں کی تعمیل کرنی ہوگی۔ خود کو چین کی ترقی اور سماجوادی جدیدیت میں لانا ہوگا۔ حالانکہ انہوں نے مذہبی آزادی، مذہبی معاملوں میں دخل نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنی سماجوادی ساکھ کو ترک کرتے ہوئے اصلاحاتی اقتصادی پالیسی اپنائی ہے پھر بھی ناستک آئیڈیالوجی کو ترجیح دیتی ہے اس کا خیال ہے کہ مذہب کی ترویح اور فروغ دیش کے مستقبل کے لئے خطرہ ہے۔ جنگ پنگ کی وارننگ کواس نظر سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ عیسائیوں کی دراندازی کے بعد پولینڈ جیسے ملکوں میں کمیونسٹ اقتدار کا زوال ہوا ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں سے چین میں عیسائی مذہب تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہاں قریب 6.5 کروڑ لوگ اسے مانتے ہیں۔ عیسائی گروپوں نے حال ہی میں الزام لگایا ہے کہ کئی گرجاگھروں سے کراس کا نشان حکومت ے ہٹوادیا ہے۔ شاید اسی مقصد سے چین نے ایک نیا قانون بنا کر غیر ملکی سرکاری انجمنوں (این ڈی او) پر شکنجہ کس دیا ہے۔ اب انہیں ہر وقت پولیس کی نگرانی میں رہنا ہوگا۔ انہیں ملنے والے فنڈ کا ذریعہ بھی بتایا ہوگا۔ تنقید نگاروں نے اسے این جی او پر سرکاری پابندی بتایا ہے جبکہ چینی حکومت نے کہا ہے کہ ایسا کرنا لمبے عرصے سے زیر غور تھا۔ چین میں 7 ہزار سے زیادہ غیر ملکی این جی او کام کررہی ہیں۔ اس پر امریکہ نے کہا کہ اس سے سول سوسائٹی کو جگہ ملنا اور کم ہوگا اور امریکہ کے درمیان تبادلہ میں بھی رکاوٹ آئے گی جبکہ بیجنگ کا کہنا ہے کہ لمبے عرصے سے چین میں غیر ملکی انجمن بنا کسی کنٹرول کے کام کررہی تھی۔ اس نئے قانون نے ان کے برتاؤ کی حدود طے ہوگئی ہیں۔ بھارت میں بھی یہی مسئلہ طول پکڑ رہے ہیں۔ ہماری لیفٹ پارٹیاں خود ساختہ سیکولرسٹوں کا چین کی تازہ سختی پر کیا کہنا ہے؟
(انل نریندر)

کیا گمراہ کرنے والے اشتہارات پر سیلیبریٹی کو قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے

پچھلے کچھ عرصے سے یہ تنازعہ زوروں پر جاری ہے کہ کیا اشتہارات کے لئے سیلیبریٹی کو قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ پارلیمنٹ کی اسینڈنگ کمیٹی کی جانب سے گمراہ کرنے والے اشتہارات والے برانڈ کی پبلسٹی کرنے کے لئے جانی مانی ہستیوں کے خلاف سخت سزا دینے والی کارروائی کی سہولت کے درمیان صنعتی دنیا کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے لئے صرف سیلیبریٹی پر ہی الزام مڑھ دینا مناسب نہیں ہوگا۔ کنزیومرس معاملوں پر پارلیمانی کمیٹی نے صارفین، تحفظ بل 2015 پر اپنی سفارشتوں میں اس طرح کے امور میں پانچ سال تک کی جیل کی سزا کے علاوہ50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ کرنے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے صلاح دی ہے کہ پہلی بار کی غلطی کے لئے سیلیبریٹیز پر 10 لاکھ روپے جرمانہ 2 سال کی سزا یا دونوں ہونی چاہئیں۔ دوسری بار ایسا کرنے پر 50 لاکھ روپے جرمانہ 5 سال کی جیل سزا کی سہولت ہونی چاہئے۔ پچھلے سال غذائی ریگولیٹری کمیشن کی جانب سے میگی نوڈلس پر پابندی کے بعد برانڈ امبیسڈروں کی جوابدہی طے کرنے کو لیکرکافی آوازیں اٹھی تھیں۔ دیش میں جانی مانی ہستیوں کا اشتہار بازار قریب 5 ہزار سے 7ہزار 500 کروڑ کا ہے اور تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ غلط اشتہارات کے لئے سیلیبریٹی برانڈ امبیسڈر کو ذمہ دار ٹھہرانے کا برانڈ گوروؤں نے احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیلیبریٹی کے پاس پروڈکٹ کی کوالٹی جانچنے کی سہولت نہیں ہوتی اس لئے انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جانا چاہئے۔ پچھلے سال میگی پر پابندی لگانے پر تب برانڈ انڈوز کرنے والوں کی ذمہ داری طے کرنے کی مانگ کی تھی۔ میگی کے ساتھ امیتابھ بچن، مادھوری دیکشت اور پریٹی زنٹا جیسی ہستیاں جڑی تھیں۔ ایم ایس دھنی کو حال ہی میں امرپالی برانڈ کا امبیسڈر کا عہدہ چھوڑنا پڑا جب خریداروں نے سوشل میڈیا پر مہم چھیڑی تھی۔ ایڈ ایجنسی میڈیسن ورلڈ کے چیئرمین سیم بلسارا نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ سیلیبریٹی کو اشتہار کی تھوڑی ذمہ داری دینی چاہئے لیکن پروڈکٹ یا اشتہار کے لئے انہیں قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔ یہ تکنیکی مسئلہ ہوتا ہے۔ ٹیلنٹ مینجمنٹ ایجنسی کوان کے ایم ڈی انربان داس نے کہا دیپکا پاڈکون یا رنبیر کپور جیسے بالی ووڈ اسٹار جس پروڈکٹ کو بڑھاوا دیتے ہیں ان کی کوالٹی کے بارے میں انہیں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ اشتہار کی کوالٹی کو جانچنے کے لئے سیلیبریٹی کے پاس ٹیسٹ لیب نہیں ہوتے۔ حالانکہ سبھی اشتہاروں میں ایک کونٹریکٹ ہوتا ہے اور اس میں کوئی غلط دعوی نہیں کیا جاتا اگر غلط دعوی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سیلیبریٹی بھی دھوکہ دھڑی کا شکار ہے اس لئے انہیں سزا دینا غلط ہے۔ بنیادی ذمہ داری اشتہار دینے والی کمپنی کی ہے۔ حالانکہ برانڈ امبیسڈر کنسلٹنٹ ہریش بجور اسے کمپنی کی طرف سے سیلیبریٹی دونوں کی ذمہ داری مانتے ہیں۔ ان کے مطابق ہستیاں اپنے کرشمے کا استعمال پروڈکٹ کی بکری بڑھانے میں کرتی ہیں اس لئے انہیں احتیاط برتنی چاہئے خاص کر کھانے پینے اور اسکن کیئر جیسی چیزوں کے معاملے ہیں۔ کچھ لوگوں کو مثال کے طور پر اجے دیوگن کا گٹکھا اشتہار کرنے پر اعتراض ہے کیونکہ یہ صحت کے لئے نقصاندہ ہے۔ بتادیں کون کونسا سیلیبرٹی اشتہار کرنے کے لئے ایک دن کا کتنا پیسہ لیتا ہے۔ عامر خان5.7 کروڑ، سلمان خان 3.5 سے 5کروڑ ، شاہ رخ خان، 3.5 سے 4 کروڑ، رنبیر کپور 3 کروڑ اور امیتابھ بچن 2.5 کروڑ ، ٹاٹا موٹرس کا انٹرنیشنل فٹبال کھلاڑی لیون میسی 60 کروڑ رپے لیتا ہے۔ آخر میں بتادیں ملائیکا اروڑہ نے تنازعہ پر کہا کہ اب میں نے طے کیا ہے کہ میں کبھی شراب، سگریٹ یا رنگ گورا کرنے والے پروڈکٹس کا اشتہار نہیں کروں گی اس سے لوگوں پر برا اثر پڑتا ہے۔
(انل نریندر)

03 مئی 2016

ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں الزام درالزام کا دور

اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں رشوت خوری معاملے میں اٹلی کی عدالت کے فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف کانگریس اور بی جے پی میں نوک جھونک بڑھ گئی ہے وہیں سی بی آئی بھی گھوٹالہ کی جانچ میں سرگرم ہوگئی ہے۔ ایجنسی نے 3600 کروڑ روپے کی دھاندلی کو لیکر ملزمان سے دوبارہ پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔ اس سلسلے میں سنیچر وار کو اس وقت کے ڈپٹی ایئرفورس چیف جے ایس گجرال سے پوچھ تاچھ کی اور اس کے علاوہ چیف ایس پی تیاگی کو طلب کیا گیا ہے۔ تیاگی کے بھائیوں کو اس ہفتہ پوچھ تاچھ کے لئے حاضر ہونا ہے کیونکہ ان پر بھی گھوٹالہ میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ فی الحال سی بی آئی کی توجہ گھوٹالہ کے اہم دلال کرسچن مشیل کو بھارت لانے پر ہے۔ اس کے خلاف ریڈ کورنرز نوٹس جاری ہے۔ اس کا تازہ ٹھکاہ پتہ لگایا جارہا ہے۔ سی بی آئی کی اٹلی سے چارج شیٹ (ایل آر ) کا پچھلے دسمبر میں ہی جواب مل چکا ہے۔ اس میں گھوٹالہ سے متعلق اہم دستاویز شامل ہیں۔ برطانیہ و برطانوی ورجن آئی لینڈ اور تیونیسیا نے بھی ایل آر کے کچھ حصہ کا جواب دیا ہے۔ دیگر ملکوں سے ایل آر کے جواب کا انتظار ہے۔ رشوت کی رقم کے لین دی کی پوری کڑی کو جوڑنے کے لئے ان دیشوں سے ایل آر کا جواب ضروری ہے۔ بھاجپا نے اس گھوٹالہ کو لیکر تلخ سوال داغنے شروع کردئے ہیں۔ وزیر دفاع منوہر پریکر نے کہا ہے کہ سابقہ یوپی اے سرکار کو اس بابت جواب دینا ہوگا کہ اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں کس نے مبینہ طور پر رشوت حاصل کی ہے۔ 
تنازعہ کا سوال یہ ہے کہ اگستا ہیلی کاپٹر سودے میں کس نے پیسہ لیا؟ اطالوی عدالت نے صاف طور سے کہا کہ 125 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اس نے کچھ ناموں کا بھی خلاصہ کیا تھا۔اس وقت کی حکومت کو جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اگستا سودے میں کرپشن کو لیکر بھاجپا پردھان امت شاہ نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر سیدھا تلخ حملہ کیا ہے۔ کرپشن کے لئے سونیا گاندھی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بعد جمعہ کو پھر سے شاہ نے چار سوال داغے اور کہا بہانہ بنانے کے بجائے سونیا کو سامنے آکر جواب دینا چاہئے نہ کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی طرز پر بھاجپا سوال اٹھائے۔ شاہ نے سونیا نے پوچھا کہ کس کے اشارے پراوریجنل سازو سامان نہیں رہنے کے باوجود اگستا ویسٹ لینڈ کو ٹنڈر بھرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے لئے ٹنڈر کی شرطوں سے چھیڑ چھاڑ کی گئی؟ کس کے کہنے پر شرائط میں ردو بدل ہوئی ہے؟ کس کے اشارے پر سودے کو روکنے میں دوری ہوئی؟ کانگریس نے بھاجپا کے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ مانتے ہوئے اس کے خلاف سڑک پر تحریک چھیڑنے کی دھمکی دی ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا جھوٹ کا سامراجیہ کھڑا کرکے پارٹی کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ الٹے انہوں نے مودی حکومت پر گھوٹالے کرنے والی کمپنی ’فن میکینیکا‘ کو آفر دینے اور سابق ایئر فورس ایس پی تیاگی کو بچانے کا الزام لگادیا۔ سرکار کے ساتھ ٹکراؤ بڑھنے کے درمیان کانگریس نے بڑا اعلان بھی کیا ہے۔ پارٹی میں سنیچر کو 6 مئی کو پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس گھیراؤ کرنے والے جتھے کی رہنمائی پارٹی صدر سونیا گاندھی، نائب صدر راہل گاندھی کریں گے۔ بھاجپا ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا کہ سونیا گاندھی ، احمد پٹیل اس گھوٹالہ کے کرتا دھرتا ہیں۔ کئی ثبوت ایسے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سودے کی منظوری دلانے کا کام کانگریس کی سینئر لیڈر شپ نے کیا۔ بھاجپا کے مطابق پورے سودے کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ دلالی کی موٹی رقم ملے۔ وزارت دفاع نے 12 ہیلی کاپٹروں کی خرید کے لئے 4800 کروڑ روپئے بنیادی رقم رکھی تھی۔ حالانکہ اگستا ویسٹ لینڈ نے اس سے کم قیمت پر ہیلی کاپٹر دینے کی تجویز دی تھی اور قیمت زیادہ رکھنے کا مقصد بھی تھا کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکے اور کمپنی کو منمانی رقم دی جاسکے۔ ٹنڈر شرائط کو اس طرح سے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تاکہ صرف ایک ہی کمپنی اس کے لئے کوالیفائی کرسکے۔
(انل نریندر)

اتراکھنڈ کے جنگلوں میں فروری سے لگی ہوئی ہے آگ

اتراکھنڈ کے جنگلوں میں گرمی کی وجہ سے بھڑکی آگ تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے۔ اتراکھنڈ کے پہاڑوں میں پچھلے 1 ماہ سے آگ سے دہک رہے جنگلوں نے ریاست میں تقریباً دو دہائی پہلے جنگلوں میں لگی اسی طرح کی آگ کی یادیں تازہ کردی ہیں۔13 میں سے 11 اضلاع آگ سے متاثر ہیں۔ آگ کاربیٹ ریزرو کے پاس تک پہنچ گئی ہے۔ رام نگر میں صبح 11 بجے پارک سے لگے ون وکاس نگم کے ڈپو کے پاس جھاڑیوں میں آگ لگنے سے کھلبلی مچ گئی ہے۔ کاربیٹ پارک کے بجرانی زون، رام نگر ، ترائی ویسٹ جنگلات اور پاولگڑھ کنزرویشن کے جنگلوں میں آگ سے بھاری مقدار میں جنگلاتی وراثت جل کر خاک ہوگئی ہے۔ جنگلی جانور بھی اس آگ کے خطرے کی زد میں ہیں اور یہ آگ قدرتی آفت کی شکل لے چکی ہے۔ اس خوفناک آگ کو بجھانے کے لئے حکومت اور انتظامیہ نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ بے قابو آگ کو کنٹرول کرنے کے لئے اب ایئرفورس کو بھی مورچے پر اتار دیا گیا ہے۔ ایئرفورس کے ایم آئی 17 پانی کی بوچھار کر آگ بجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ہیلی کاپٹروں نے بھیم تال سے اپنا آپریشن شروع کیا اور یہ بھیم تال جیل سے پانی لیکر متاثرہ علاقہ میں چھڑکا جارہا ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر ایک بار میں 5 ہزار لیڈر پانی اٹھا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق ریاست کے الموڑہ، پوڑی اور گوچر میں آگ کا اثر زیادہ ہے۔ یہاں این ڈی آر ایف کی ایک یونٹ لگائی گئی ہے۔ ہر ایک یونٹ میں 45 جوان شامل ہیں۔ چیف سکریٹری شتروگھن سنگھ نے بتایا کہ ریاست کے کماؤ اور گڑھوال دونوں زون میں قریب 2269.29 ایکڑ جنگلاتی علاقہ آگ کی زد میں آچکا ہے۔ وہیں چیف جنگلات نگراں بی پی گپتا نے بتایا کہ ریاست میں فروری میں آگ لگنے کا آغاز ہوا تھا۔ اس سال یہاں کہ جنگلوں میں آگ لگنے کی 1082 وارداتیں ہوئیں ہیں۔ بہرحال دھنویں سے لوگ بیمار بھی پڑنے لگے ہیں اوردم گھٹنے کی پریشانی کی شکایت کو لیکر 200 لوگ ہسپتال میں پہنچ چکے ہیں۔ فروری سے دہک رہے جنگل اور زمینی پانی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہوسکتے ہیں۔ اس سے قدرتی ذرائع کے سوکھنے میں تیزی آئے گی جس سے گاؤں سے بھی لوگوں کی ہجرت بڑھ سکتی ہے۔ جنگلوں سے لگے رہائشی علاقے بھی آگ کی زد میں آرہے ہیں جس سے دیہات میں دہشت کا ماحول ہے۔ آگ کے خوفناک شکل کو دیکھ کر ریاست کے دیہی علاقوں پر کئی اثرات ہوسکتے ہیں۔ اتراکھنڈ کے جنگلوں میں لگی آگ کے بارے میں وزیر اعظم کے دفتر نے گورنر سے مفصل رپورٹ مانگی ہے۔ پی ایم نے اتراکھنڈ کو ہر ممکن مدد کا بھروسہ دلایا ہے۔ اب تک قریب6 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ امید کریں کہ جلد سے جلد اس خوفناک آگ پر قابو پالیا جائے گا۔ اتراکھنڈ میں کوئی نہ کوئی قدرتی آفت آتی ہی رہتی ہے۔
(انل نریندر)

01 مئی 2016

ترپتی کی حاجی علی کی درگاہ میں گھسنے کی کوشش

مہاراشٹر کے شینگاپور اور کیشور مندر میں عورتوں کو داخلہ دلانے میں کامیاب رہیں بھوماتا برگیڈ کی چیف ترپتی ڈیسائی اب اپنی مہم کو لیکر ممبئی کی مشہور حاجی علی درگاہ پہنچ گئی ہیں۔ جمعرات کو جب ترپتی ممبئی میں واقع حاجی علی کی درگاہ میں پہنچی تو ان کی مخالفت کرنے کے لئے سینکڑوں لوگ موجود تھے۔ سخت پولیس حفاظت کے درمیان تقریباً5 بجے جب درگاہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو مخالفین نے انہیں گھیر لیا۔ احتجاج کرنے والوں میں اے آئی ایم آئی ایم اور سماجوادی پارٹی کے رضاکار بھی شامل تھے۔ کچھ دیر بعد پھر ترپتی نے آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ پہلی کوشش میں تو احتجاج اتنا زبردست تھا کہ ڈیسائی کار سے بھی نہیں اتر سکیں۔ سکیورٹی کے لحاظ سے پولیس نے انہیں کار میں ہی بیٹھے رہنے کو کہا۔ کچھ وقت رک کر وہ لوٹ گئیں۔ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ پبلسٹی اسٹنٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر محصول و اقلیتی امور رام ناتھ کھنڈسے نے کہا کہ ریاستی حکومت کا کردار صاف ہے کہ عورتوں کو حاجی علی کی درگاہ میں داخلہ ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بامبے ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس کی تعمیل ہونی چاہئے۔ مہاراشٹر حکومت نے فروری میں ہی صاف کردیا تھا کہ وہ حاجی علی کی درگاہ میں عورتوں کو داخلہ دینے کی حمایت کرتی ہے۔ حکومت نے ہائی کورٹ میں بھی کہا کہ اس نے عورتوں پر داخلے کی پابندی نہیں لگائی ہے۔ بتادیں کہ پیر حاجی علی شاہ بخاری کی یاد میں ممبئی کے ورلی سمندر کنارے پر ایک چھوٹے سے ٹاپو پر حاجی علی کی درگاہ واقع ہے۔ دیش دنیا سے مسلم اور بڑی تعداد میں ہندو زائرین یہاں زیارت کے لئے آتے ہیں۔1431 ء میں صوفی سنت کی یاد میں اس درگاہ کو بنایا گیا تھا۔ حاجی علی ازبکستان کے شہر بخارہ سے بھارت آئے تھے۔ ترپتی ڈیسائی نے حاجی علی درگاہ میں عورتوں کے داخلے کے مسئلے پر بالی ووڈ ستارے شارہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان سے بھی حمایت مانگی ہے۔ 2011 ء میں ٹرسٹ نے حاجی علی درگاہ میں عورتوں کے داخلے پر پابندی لگائی تھی۔ کچھ اور درگاہ ہیں جہاں عورتوں کے داخلے پر پابندی ہے اس میں قابل ذکر ہیں حضرت نظام الدین اولیا ؒ (دہلی)، سرہند شریفؒ (پنجاب) عورتوں کے قبرستان جانے پر بھی روک ہے۔ دوسری طرف خواجہ معین الدین چشتی ؒ (اجمیر) اور کلیر شریف (رڑکی) میں عورتو ں کے داخلے پر کوئی روک نہیں ہے۔ اس سے پہلے ترپتی ڈیسائی نے حال ہی میں احمد نگر ضلع میں واقع شنی شنگنا پور اور ناسک میں بھدیو کیشور مندر میں عورتوں کے داخلے کے لئے کامیاب کمپین چلائی تھی۔ بہت ساتے لوگوں کا نظریہ تھا کہ یہ دھارمک معاملہ ہے اور عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ اس میں علما کی منظوری ضروری ہے۔
(انل نریندر)

مائی لارڈ!سبرت رائے شایدپوری گرمی جیل میں نہیں جھیل پائیں گے

سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے کو بدھوار کو بھی سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ اس معاملے میں سبرت رائے اور ان کے گروپ کے دو ڈائریکٹر 4 مارچ 2014 ء سے جیل میں ہیں۔ 19 جون 2015ء کو سپریم کورٹ نے سبرت رائے کی ضمانت عرضی کو مشروط منظوری دی تھی۔ کورٹ نے کہا تھا کہ رہائی کے لئے انہیں 5 ہزار کروڑ روپے کی بینک گارنٹی اور اتنی ہی رقم نقد جمع کرانی ہوگی۔ سہارا گروپ پر الزام ہے کہ اس نے سرمایہ کاروں کے 24 ہزار کروڑ روپے نہیں لوٹائے۔ یہ رقم سہارا نے ایس آئی آر ای سی ایل و ایم ایچ ایف سی ایل کمپنیوں کے ذریعے 2007-08 میں سرمایہ کاروں سے اکھٹا کی تھی۔ سود لگانے کے بعد سہارا پر سرمایہ کاروں کی بقایا رقم36 ہزار کروڑ روپے ہوچکی ہے۔ سماعت کے دوران سبرت رائے کے وکیل راجیو دھون نے کہا دہلی میں تیز گرمی پڑ رہی ہے اس کا اثر تہاڑ جیل میں بھی دکھائی پڑ رہا ہے۔
سبرت رائے کی طبیعت مسلسل بگڑتی جارہی ہے ایسی حالت رہی تو وہ پوری گرمی جیل میں جھیل نہیں پائیں گے اس لئے انہیں پیرول پر ہی صحیح لیکن جیل سے چھوڑ دیا جائے۔ جواب میں چیف جسٹس ٹی۔ ایس ٹھاکر کی سربراہی والی تین نفری بنچ نے کہا کہ ہمیں بھی کسی کوجیل میں بند کرنے سے خوشی نہیں ملتی ہے۔ سبرت رائے کو بھی ہم جیل میں نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں چھوڑنے میں کوئی دقت نہیں ہے بشرطیکہ سرمایہ کاروں کو پیسہ واپس مل جائے۔ حالات بدلنے چاہئیں۔ ہمارے حکم کی تعمیل ہوتے ہوئے بھی دکھائی دینی چاہئے لیکن ہمیں ایسا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ نہ ہی سرمایہ کاروں کو ان کا پیسہ واپس ملا ہے۔ اس سے پہلے وکیل نے کہا کہ سہارا نے کورٹ کے حکم پر 66 املاک کے کاغذات سیبی کو سونپ دئے ہیں۔ بیچ کر ضمانت کے پیسے اکھٹے کئے جاسکتے ہیں۔ اس بنیاد پر ہم پیرول مانگ رہے ہیں۔ جواب میں جج نے کہا کہ رہائی تبھی ممکن ہے جب پراپرٹی بیچنے کا سیبی کا پلان کامیاب ہوجائے گا۔ سیبی کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ وہ سہارا کی پراپرٹی بیچ کر ضروری رقم وصول کر پائے گی یا نہیں؟ اس کے ساتھ کورٹ نے کہا 66 املاک کو بیچ کر اکھٹے کئے گئے پیسے سے تو ضمانت مل سکتی ہے لیکن اس سے سرمایہ کاروں کے پورے پیسے نہیں لوٹائے جاسکتے ہیں اس لئے سہارا اپنی پراپرٹیوں کی تفصیل بند لفافے میں 11 مئی تک کورٹ کو سونپے تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ سہارا گروپ سرمایہ کاروں کے پورے پیسے لوٹانے کی پوزیشن میں ہے بھی یا نہیں؟ اس سے پہلے سیبی نے سہارا کی پراپرٹی نیلام کرنے کی کارروائی کی اسٹیٹ رپورٹ پیش کی ۔ اس نے بتایا کہ سہارا کی 66 املاک بکری کے لئے تیار ہیں۔ اگلے ہفتے ان کی کارروائی شروع کردی جائے گی۔ اسے 4 ماہ میں پورا کرلیا جائے گا۔ اگلی سماعت اب11 مئی کو ہوگی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...