Translater

14 ستمبر 2023

منظم طریقے سے شادی سسٹم ختم کیا جا رہا ہے !

الہ آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں لیو ان ریلیشن شپ کے ایک معاملے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے شادی کا نظام جو سیکورٹی ،سماجی اقبالیت اور رواج اور بالادستی ایک شخص کو فراہم کر سکتا ہے وہ لیو ان ریلیشن شپ کبھی نہیں لے سکتا ۔ہندوستانی سماج میں لیو ان ریلیشن شپ یعنی شادی کئے بغیر ایک لڑکا ایک لڑکی ایک ساتھ رہنے پر سوال اٹھاتے رہے ہیں جہاں اس کے حمایتی اسے آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق اور پرائیویسی سے جوڑتے ہیں وہیں ایسے رشتوں کی مخالفت کرنے والے مالی اقدار ہندوستانی تہذیب سے اس کو جوڑتے ہوئے اس کو برا کہتے ہیں۔ لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہی ساتھی سے آبروریزی کے ملزم شخص کو ضمانت دیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک تلخ رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں شادی کی نظام کو تباہ کرنے کیلئے ایک منظم سازش کا م کر رہی ہے جو سماج کو کمزور کرتی ہے ۔ اور ہمارے سماج اور دیش کی ترقی میں رکاوٹ ڈالتی ہے ۔ فلمیں اور ٹی وی سیریل اس میں زیادہ مدد دے رہے ہیں۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس سدھارتھ کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ہر سیزن میںساتھی بدلنے کے رواج کو مضبوط اور پائیدار سماج کی پہچان نہیں مانا جا سکتا ۔ عدالت نے زور دیکر کہا کہ شادی نظام کسی شخص کو جو سیکورٹی اور مضبوطی فراہم کرتی ہے لیو ان ریلیشن شپ سے اس کی امید نہیں کی جا سکتی ۔ کورٹ کا کہنا تھا کہ شادی شدہ رشتے میں پارٹنر کے ساتھ بے وفائی اور فری لیو ان ریلیشن شپ کو ترقی پسند سماج کے طور پر دکھایا جا تا ہے اور نوجوان اس کے تئیں راغب ہوتے ہیں۔ بنچ کی رائے زنی کی لیو ان ریلیشن شپ کو اس دیش میں نظام شادی کے غیر رائج ہونے کے بعد ہی اسے صحیح مانا جائے گا۔ جیسا کہ کئی خود ساختہ ترقی یافتہ دیشوںمیں ہوتا ہے ۔ جہاں شادی نظام کی حفاظت کرنا ان کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔ہم مستقبل میں اپنے لئے ایک بڑی پریشانی کھڑی کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ فلموں اور ٹی وی سیرئلوں میں شادہ شدہ رشتوںمیں ساتھی سے بے وفائی اور آزادنہ ساتھ زندگی کو ایک ترقی پسند سماج کی شکل میں دکھایا جا رہا ہے ۔ نوجوان یہ سب دیکھ کر اسی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں ۔ چوںکہ آئندہ کے نتیجوں سے انجان ہوتے ہیں ۔ بنچ کا یہ بھی نظریہ تھا کہ ایسے رشتے بہت پر کشش لگتے ہیں اور نوجوان کو لبھانے لگتے ہیں حالاںکہ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے درمیانہ طبقہ سماجی ،اخلاقی تقاضے نظر آنے لگتے ہیں اور اس کے بعد ایسے جوڑو کو احساس ہوتا ہے کہ ان کا رشتہ ختم ہو چکا ہے ۔ ایسے حال ہی میں کئی معاملے سامنے آئے ہیں جب لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہے جوڑو میں مرد سے ساتھی خاتون کا قتل کر دیا جاتا ہے ۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے سماج کو لیو ان ریلیشن شپ کو تسلیم کرنے میں وقت لگے گا۔ (انل نریندر)

مودی کو دنیا میں قد بڑھا ہے !

جی 20-سمٹ کانفرنس میں پہلی بار بنا کسی تنازعہ کے عام رائے بناکر وزیر اعظم نریندر مودی نے پوری دنیا کے لیڈروں کو نہ صرف تعجب میں ڈال دیا بلکہ عظیم الشان و کامیاب میزبانی اور غیر ملکی و قومی سربراہوں سے شخصی ملاقات کے درمیان ان کی باو¿نڈنگ کے بوتے سے پوری دنیا پی ایم مودی کی قائل ہو گئی ہے۔ یہ مودی کی اپنی ساکھ اور حکمت عملی کا ہی نتیجہ تھا کہ اتنے بڑے انعقاد میں نہ تو امریکہ ناراض ہوا نہ یوروپ اور نہ روس ۔ اتنا ہی نہیں چین جیسے حریف دیش کو بھی گھیرنے میں بھارت کی ڈپلومیسی کامیاب رہی ۔ یہ پہلی بار ہے کہ جب بغیر کسی اعتراض کے جی 20-کا اعلامیہ دستاویز جاری ہوا ۔دنیا کے کئی ملکوں کے میڈیانے جی 20-میٹنگ میں بنی عام رائے کو ایک بڑی کامیابی بتایا ہے ۔ غیر ملکی اخبار بھارت کی قیادت میں ہوئے کانفرنس کو ایک بڑا کارنامہ بتا رہے ہیں۔ اقتصادی کوریڈور کی بات کو بھی اہمیت کی دی گئی ہے ۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ نئی دہلی میں جی20-سمٹ کے مشترکہ ڈکلیئریشن دستاویز میں یوکرین جنگ کو لیکر روس کے جاریحانہ رخ اور اس کے سخت رویہ کی مذمت نہیں کئی گئی ۔ جبکہ گزشتہ برس انڈونیشیا کی بالی شہر میں جی20-کے مشترکہ ڈکلیئریشن دستاویز میں یوکرین پر روسی حملے کے موقف کی ملامت کی گئی تھی۔ اور اس کو اپنی فوج کو یوکرین زمین سے واپس بلانے کی مانگ کی تھی۔ وہیں سعودی اخبار الجزیرہ نے لکھا ہے کہ نئی دہلی جوائنٹ ڈکلیئریشن ایک عام رائے بنانے میں کامیاب رہا ۔ ہندوستانی وزیر اعظم ڈپلومیٹک طورپر گلوبل ساو¿تھ کی ضرورتوں کو جان لینے اور پورا کرنے کیلئے انہیں انوکھے طور سے پیش کیا۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمس نے چینی وزیر اعظم لی کونگ کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی اہم طاقتوں کی درمیان چوٹی کانفرنس منعقد کرنے پر وزیراعظم لی نے جی 20-کے اتحاد اور اشتراک کا تجزیہ کیا ۔ جی20-کے مستقل ممبر کے طور پر افریقی فیڈریشن کااستقبال کیا اور اسے اس میں شامل کیا ۔ یہ ایک پہلا حوصلہ افزا اشارہ ہے جو بڑی طاقتور معیشتوں کے درمیان کے عام رائے کو ظاہر کرتا ہے ۔ پاکستان کی بڑی نیوز ویب سائٹ ڈان نے بھی جی 20-سے جڑی خبر کو اہمیت کے ساتھ شائع کیا ۔ ڈان نے امریکہ ،بھارت ،سعودی عرب اور یوروپی یونین کے درمیان ریل اور شپنگ کوریڈور کے اعلان کی خبر کو اہمیت سے چھاپا ہے۔ یہ سمجھو تہ ایسے اہم ترین وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کو ایک متبادل ساجھیدار اور سرمایہ کار کے طور پر پیش کرکے عالمی بنیادی ڈھانچے پر چین کے بلیٹ اینڈ روڈ کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک زمین ایک خاندان،ایک مستقبل کی مودی کی تمنا کو پوری دنیا نے سراہا ہے ۔یقینی طور سے وزیر اعظم نریندر مودی کی کامیاب جی 20-کانفرنس سے شخصی طور پر ان کا قد بڑھا ہے اور دنیا کے ٹاپ لیڈروں میں ان کا نام شامل ہو گیا ہے۔ (انل نریندر)

12 ستمبر 2023

ایڈیٹرس گلڈ ٹیم کو راحت !

یہ کنتی بد قسمتی کی بات ہے کہ دیش میں ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کے چیئر مین اور ان کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے ممبران نے اپنی گرفتاری سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ میں دستک دینے پڑے ان کا قصور بس اتنا تھاکہ یہ منی پور گئے اور وہاں جو دیکھا اور لوگوں سے بات کی اور اس کی ایک رپورٹ شائع کردی ۔ خیال رہے کہ منی پور مہینوں سے جل رہا ہے تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ صحافیوں کی انجمن کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل شیام دیوان کی دلیلیں سننے پر معاملے کو ججوں نے اپنی پاس محفوظ کر لیا اور ایڈیٹرس گلڈ کے چار ممبران کو راحت دیتے ہوئے منی پولیس کو 11ستمبر تک کوئی سخت کاروائی نہ کرنے کا حکم دیا۔ معاملے کی تفصیل دیتے ہوئے دیوان نے کہا کہ ایڈیٹرس گلڈ نے اپنے تین تین ممبران کو منی پور میں بھیجنے کے بعد ایک رپورٹ تیار کی تھی۔گلڈ کے ممبران وہاں 7اگست سے 10اگست 2023کے درمیان چار دنوں کیلئے گئے تھے اور انہوںنے ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ میں ایک معمولی سی خرابی تھی جسے 3ستمبر کو ٹھیک کر دیا گیا۔ منی پور میں تشدد کے پیچھے ایک بڑا کردار غلط اور جھوٹی اطلاعات کے مسلسل پھیلانا بھی رہا ۔ مقامی فرقوں کے درمیان خلیج پیدا ہوگئی جسے فیک نیوز ،گمراہکن پروپیگنڈا اور بڑھاتے رہے۔ اس سلسلے میں ایڈیٹرس گلڈ کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے بتایا کہ کیسے دونوں طرف سے مسلسل مخالفانہ منفی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ اس رپورٹ پر منی پور پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی ۔ جو بے تکی اور قابل اعتراض قدم ہے ۔ اس سے زیادہ افسوس ناک یہ ہے کہ خود وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ اس مسئلے پر پریس میں آکر بیان دینا اور شخصی طور پر گلڈ کی رپورٹ کی مذمت کرنا یہ تو حال تب ہے جب این بیرن سنگھ اور ان کی حکومت قانون و نظم بحال کرنے میں ،تشدد کو روکنے میں بالکل ناکارہ ثابت ہوئی ہے۔ آج بھی منی پور میں تشدد تھم نہیں رہا ہے ۔وزیر اعلیٰ رپورٹ سے اپنی عدم اتفاقی رکھ سکتے تھے لیکن مگر وہ صحافیوں کو ملک دشمن اور سسٹم مخالف بتانے لگے تو یہ انتہائی قابل ملامت اور افسوس ناک ہے ۔ ایڈیٹرس گلڈ اپنا کام کر رہی تھی۔ سچائی کو دیکھا رہی تھی اور سچائی دکھانا کب سے ملک دشمنی ہو گیا؟ اقتدار میں بیٹھے نیتاو¿ں کو کڑوا سچ کو نہ صرف سننا ہوگا بلکہ اسے قبول کرنا ہوگا اور اس سے نمٹنا بھی ہوگا۔ این بیرن سنگھ کو چاہئے کہ وہ ایڈیٹرس گلڈ س کے صحافیوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کی کاروائی کے ساتھ اس سمت میں صحیح شروع کر سکتی ہے۔ (انل نریندر)

بھارت جوڑو یاترا سے کانگریس کو ملی سیاسی زمین !

بھارت جوڑو یاترا کی پہلی سالگرہ کو یاد گار بنانے کیلئے کانگریس پارٹی کی جمعرات کو دیش بھر میں نظرآئی پہل سے صاف ہے کہ پارٹی لمبے عرصے کے بعد پٹری پر لوٹی اپنی سیاست میں اس یاترا کے رول کو مندا نہیں پڑنے دینا چاہتی ۔ راہل گاندھی نے پارٹی کے کئی نیتاو¿ں کے ساتھ قریب 4000کلو میٹر سے زیادہ یاترا کی تھی۔ اس دوران انہوںنے سماج کے مختلف طبقا ت کے لوگوں سے بات کی تھی۔ یہ یاترا پچھلے سال 7ستمبر کو کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی جو اس برس 30جنوری کو سری نگر میں ختم ہوئی۔ یہ یاترا 145دن چلی تھی۔ راہل گاندھی نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ بھارت جوڑو یاترا ایکتا اور محبت کی جانب کروڑو قدم دیش کی بہتر مستقبل کی بنیاد بنے ہیں۔ یاترا جاری ہے نفرت مٹنے تک ،بھارت جوڑنے تک یہ وعدہ ہے میرا راہل گاندھی کی ایک سال پہلے جب بھارت جوڑو یاترا شروع ہوئی تھی تب کانگریس کی محض دو ریاستوںراجستھان اور چھتیس گڑھ ہی اپنی سرکاریں تھیں۔مگر اس کے بعد دو ریاستیں ہماچل پردیش اور کرناٹک میں کانگریس کو بھاری جیت ملی اور کانگریس کی اب چار سرکاریں ہوگئی ہیں۔ ملکارجن کھڑگے سمیت پارٹی کے تمام نیتا مانتے ہیں کہ یاترا سے پورے دیش میں جنتا نے ایک بار پھر کانگریس کی طرف سیاسی تبدیلی کیلئے ایک امید کی شکل میں دیکھنا شروع کرد یا ہے ۔ بھارت جوڑو یاترا کا ایک بڑا اثر یہ ہوا کہ 28پارٹیوں کا اپوزیشن اتحاد انڈیا بنا ۔ یہ راہل کی پد یاترا کی ہی دین ہے اپوزیشن اتحاد کا ایک فائدہ حال کے سات ضمنی چناو¿ میں بھی دیکھنے کو ملا جب مشترکہ اپوزیشن نے سات میں سے چار سیٹوں پر کامیابی درج کی ۔ پچھلے ساتھ ستمبر میں جب راہل نے کنیا کماری سے یاترا شروع کی تھی۔ تو نئے صدر کی تلاش کر رہی پارٹی قیادت گہرے بحران میں تھی ۔کئی بڑے نیتا بغاوت کی راہ پر تھے ۔ غلام نبی آزاد نے تو یاترا سے چند دن پہلے ہی پارٹی چھوڑ دی۔ سیکولر سیاست اور نرم ہندتو کی مشکل میں پھنسی کانگریس کو یاترا نے باہر آنے کا موقع دیا ۔جب راہل گاندھی نے بھاجپا پر نفرت پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے اس پر حملہ شروع کردیا ۔ ساتھ ہی نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے کی رائے دیکر اپنی آئیڈیولوجی پر اٹل رہنے کی راہ طے کردی ۔ کانگریس نے کہا کہ ہندوستان کی فضاو¿ں میں نفرت اور ڈر گھول کر دیش کو ضروری اشو سے بھٹکایا جا رہا ہے ۔ ایسے میں راہل گاندھی آگے آئے اور ذمہ داری اٹھائی ۔یہ ذمہ داری دیش سے نفرت اور ڈر کو مٹانے کی ہے ۔ہندوستان نفر ت کا نہیں محبت کا دیش ہے ہاں اور اسی ذمہ داری کو آج پوری دنیا بھارت جوڑو یاترا کے نام سے جانتی ہے۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...