Translater
03 مئی 2025
کینیڈا میں خالصتانیوں کی کراری ہار!
جسٹن ٹروڈو بھارت کے خلاف سخت مخالف تھے۔ اقتدار کے لالچ میں اس نے کیا نہیں کیا؟ کبھی بھارت پر من گھڑت الزامات لگائے اور کبھی خالصتانیوں کو اہمیت دی۔ جسٹن ٹروڈو کی وجہ سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات تلخ ہو گئے۔ جسٹن ٹروڈو نے خالصتانیوں کے زور پر بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ خالصتانیوں کے مبینہ ماسٹر جگمیت سنگھ نے اس میں بہت مدد کی۔ جسٹن ٹروڈو کی حکومت جگمیت سنگھ کی حمایت پر چل رہی تھی۔ جگمیت سنگھ نے حکومت کی حمایت کے بدلے اپنے خالصتانی ایجنڈے کو پروان چڑھایا۔ لیکن اس کی چالاکی کینیڈا کی نظروں سے نہ بچ سکی۔ جگمیت سنگھ کی پارٹی این ڈی پی یعنی نیو ڈیموکریٹک پارٹی کو کینیڈا میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ این ڈی پی کو کل 343 میں سے صرف 7 سیٹیں ملی ہیں۔ این ڈی پی نے قومی پارٹی کی حیثیت سے بھی اپنی حیثیت کھو دی ہے۔ جبکہ گزشتہ انتخابات میں این ڈی پی 25 سیٹیں جیت کر کنگ میکر بن گئی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے این ڈی پی کی حمایت سے چار سال تک حکومت چلائی۔ این ڈی پی کے سربراہ جگمیت سنگھ اپنی روایتی برنابی سنٹرل سیٹ سے الیکشن ہار گئے۔ جگمیت سنگھ اس سیٹ پر تیسرے نمبر پر رہے، جب کہ گزشتہ الیکشن میں انہوں نے 56 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ یہ سیٹ جیتی تھی۔ لیکن اس بار جگمیت کو صرف 27 فیصد ووٹ ملے۔ جگمیت کی پارٹی نے تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ جیتنے والے پارٹی کے 7 امیدواروں میں سے کوئی بھی ہندوستانی نڑاد نہیں ہے۔ این ڈی پی اپنی سکھ اکثریتی سیٹ بھی نہیں جیت سکی۔ انتخابات میں بھارت مخالف این ڈی پی کے جگمیت سنگھ اور لبرل پارٹی کے رہنما جسٹن ٹروڈو کینیڈا کی سیاست سے باہر ہو گئے ہیں۔ جگمیت نے این ڈی پی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جگمیت نے دہشت گرد ہردیپ سنگھ ننجر کے قتل کے معاملے میں ہندوستان کے خلاف کافی زہر اگل دیا تھا۔ جگمیت نے گزشتہ سال ہائی کمیشن سے ہندوستانی سفارت کاروں کو نکالنے کے کینیڈا کے اقدام کی حمایت کی تھی۔ اس بار کینیڈا میں الیکشن جیت کر ریکارڈ 23 ہندوستانی پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں۔ پچھلی بار 19 بھارتی ایم پیز نے الیکشن جیتا تھا۔ اس بار لبرل پارٹی سے 13 اور کنزرویٹو پارٹی سے 10 ہندوستانی نڑاد ایم پی جیتے ہیں۔ جہاں تک ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات کا تعلق ہے، یہ یقینی طور پر سابق وزیر اعظم ٹروڈو کے دور سے بہتر ہونے جا رہے ہیں۔ ٹروڈو نے کئی معاملات پر بھارت کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا کام کیا۔ نئے رہنما مارک کارنی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مفادات باہمی اعتماد پر مبنی ہوں گے۔ کارنی کا کہنا ہے کہ ہندوستان-کینیڈا عالمی معیشت کے موجودہ مرحلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکمران لبرل پارٹی کی ایک نئی قیادت کارنی کی شکل میں ابھر رہی ہے۔ جگمیت، جس نے ٹروڈو اور لبرلز کی حمایت کی تھی، کو پسماندہ کر دیا گیا ہے۔ کارنی اور امریکی صدر ٹرمپ کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کینیڈا پر بھاری محصولات عائد کیے جس سے کینیڈا کی معیشت متاثر ہوئی۔ ٹرمپ نے کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے جیسی متنازعہ باتیں کہی جس پر کارنی سمیت پورے کینیڈا نے برہمی کا اظہار کیا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ٹرمپ کی ڈینگ مارنے نے لبرل پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانے میں کارنی کی مدد کی۔ -انیل نریندر
01 مئی 2025
فوجی اقتصادی ،ڈپلومیسی دباﺅ بنانے کی ضرورت ہے!
یہ لڑائی اب ہندو مسلمان کے درمیان نہیں بلکہ مذہب اور غیر مذہب کے درمیان آر ایس ایس کے صدر ڈاکٹر بھاگوت نے جموں کشمیر پہلگام میں ہوئے آتنکی حملہ پر گہری ناراضگی جتائی ہے ان کا کہنا ہے کے یہ معاملہ ایک گھناﺅنی حرکت تھا ۔،جس میں دہشت گردوں نے نہ صرف بے قصور شہریوں کو مارا بلکہ مذہب کے نام پر بھی قتل کیا ۔ہزاروں فوجیوں یا شہریوں نے کبھی بھی کسی سے ان کا مذہب نہیں پوچھا لیکن دہشت گردوں نے مذہب پوچھ کر لوگوں کا قتل کیا ۔ہندو کبھی ایسا نہیں کرے گا بھاگوت نے اس حملہ پر غصہ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کے راجہ کا فرض ہے عوام کی حفاظت کرنا اور پورا دیش متحد ہے اور جوابی کارروائی کی مانگ کر رہا ہے۔ہمارا خیال ہے کے ہمیں ایسا سخت جواب دینا چاہئے جو دہشت پرست ،پاکستان آتنکوادیوں کو قرارا جواب دے ۔مٹھی بھر آتنکوادیوں یا ان کے کیمپوں کو تباح کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ہمیں اس پاک اسپانسر دہشت گردی کی جڑ تک پہنچنا ہوگااور اسے تباح کرنا ہوگا۔دہشت گرد آتنکواد کی جڑ میں پاکستان کی فوج اور اس کی آئی ایس آئی ہے ہمیں ان کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی ۔اس پاک ملٹری نیٹورک کو ایسا سخت تماچہ مارنا ہوگا کے وہ آگے سے ایسے حملے کروانے سے پہلے 10 بار سوچے ۔سابق فوج کے سربراہ جنرل رائی چودھری (ریٹائرڈ )پہلگام آتنکی حملہ ہماری خفیہ کی ناکامی کے سبب ہوا اور انہوںنے اس کے لئے اعلیٰ ستح پر جواب دیہی طے کرنے کی مانگ کی ۔دیش کے فوج کے سربراہ رہے رائے چودھری نے پی ٹی آئی - بھاشا سے بات کرتے ہوئے کہا کے مجھے خفیہ ناکامی کا شبہ لگتا ہے اور کسی کو تو اس کوتاہی کےلئے جواب دینا چاہئے ۔پہلگام حملے کے پیچھے پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا رول اور لشکر طیبہ کی معاون تنظیم و انٹلیجنس فرنٹ نے حملہ کی ذمہ داری لی ہے ۔یہ پوچھے جانے پر کے کیا پاکستان پر بھارت سرکار ڈپلومیٹک پابندی صحیح ہے تو رائے چودھری نے بتایا ڈپلومیٹک قدم اٹھانا قافی نہیں ہے اس لئے جوابی قدم اٹھانے ہوں گے ۔وہ کس شکل میں سامنے آتے ہیں ،یہ تو ہم پر منحصر کرے گا ۔صرف کھانہ پوری کے قدم کافی نہیں ہے ۔ہمیں بھی اسی طرح کی کارروائی کرنی ہوگی ۔میں اسے صرف اسی طرح دیکھتا ہوں ۔ائیر فورس کے سابق چیف رو پ رہا نے پہلگام قتل عام کے پیش نظر پاکستان نواز دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی بات کہی اور پوری و پہلگام حملوں کے بعد گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کے بھارت نے اس نظریہ کو ختم کردیا کے دو نیوکلیائی کفیل ملک دیش جنگ نہیں لڑ سکتے ۔انہوںنے مزید کہا کے قانونی جیسے کئی کارروائیاں و متبادل ہیں۔سب سے پہلے بھارت کو پاکستان کے تئیں الگ پالیسی اپنانی چاہئے ۔جس سے پاکستان کو دنیا میں الگ تھلگ کیا جا سکے اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کی تشویشات کو تئیں ہمدردی رکھنے والے ملکوں کے ساتھ اتحات بنائیں تاکہ پاکستان کے خلاف کو دنیا میں مخالف رائے عامہ بن سکے ۔بھارت فوجی طور پر کافی طاقتور ملک ہے ہمیں پی او کے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کے اہم ترین ٹھکانوں میں دہشت گردی کے کیمپوں اور نیٹورک کو تبح کرنا چاہئے حالانکہ ہمیں دیکھنا ہوگا آج پاکستان بہت کمزور ہو چکا ہے اور مالی طور پر دوالیہ بھی ہو چکا ۔افغانستان اور بلوجستان میں ان کے الگ الگ محاذ کھلے ہوئے ہیں ۔بے شق وہ گھبراہٹ میں نیوکلیائی جنگ کی گیدڑ بھبھکی دے رہا ہوں لیکن فوجی ماہرین کا کہنا ہے کے وہ ایسا نہیں کر سکتا اس نے کارگل جنگ کے دوران بھی ایسی دھمکیاں دی تھی کچھ لوگوں کو خطرہ ہے کہیں چین پاکستان کی طرف نہ آ جائے ایسا نہیں ہوگا ۔چین اوپر اوپر سے دھوڑی دھوڑی مدد کرتا رہے گا لیکن وہ بھارت سے بڑھتی تجارت کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا اور بیچ میں بھی نہیں کودے گا ۔کل ملاکر بھارت سرکار کو ٹھوس کارروائی کرنی چاہئے ۔پورے دیش کی یہ مانگ ہے پاکستان کی دہشت گردی کو مٹانے میں سب کی ایک رائے ہے ،متحد ہیں ،بس انتظار ہے فیصلہ کن قدم اٹھانے کا ۔
(انل نریندر)
29 اپریل 2025
دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا!
حالانکہ جموں کشمیر کئی دہائیوں سے دہشت گردی سے متاثر ہے اور اس کا اثر مقامی آبادی پر بھی پڑتا ہے ۔کہا یہ بھی جاتا ہے کے کچھ مقامی کشمیریوں کو بھی ان سڑک پار سے آئے دہشت گردوں کی پوشیدہ حمایت ہے۔شاید یہی سمجھ کر پاکستان نے پہل گام کے سیاحتی مقام بیسرن پر حملہ کروایا دہشت گردوں کے آقاﺅ نے سوچا ہوگا کے بیسرن میں چن چن کر مذہبی شناخت پر بے قصور لوگوں کو مارا جائے تو اس سے بھارت کے اندر ہندو مسلم ٹکراﺅ بڑھےگا اور بھارت میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو جائے گی اور بٹ جائے گا لیکن ہوا اس کے الٹا ۔سارا دیش متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہو گیا ۔تمام سیاسی پارٹیوں نے سرکار کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا ۔اس کا شاید پاکستان نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا ۔وہی بات مذہب کی تو پاکستان کے سامنے جیتی جاگتی مثال آدل حسین شاہ کی ہے اس نے بیسرن میں جب دہشت گردوں نے بے قصور سیاحوں پر حملہ کیا تو آدل حسین ایک دہشت گرد سے بھڑ گیا پہلے تو اس نے اس دہشت گرد سے کہا کے وہ بے قصور سیاحوں پر حملہ کرےں یہ ہماری روزی روٹی کا ذریعہ ہے ہمارے مہمان ہیں لیکن جب وہ آتنکی نہیں مانا تو آدل نے اس سے ٹکر لے لی اور اس کی رائفل چھیننے کی کوشش کی ۔اس لڑائی میں دہشت گرد نے گولی چلا دی اور آدل حسین کے جسم کو چھلی کر ڈالا۔آدل حسین شاہ گریب خاندان اور بہادر لڑکا تھا ۔اس نے درجنوں ہندوﺅ کی جان بچائی تو اگر وہ نہ ان سے ٹکراتا تو پتا نہیں کتنے لوگ اور شہید ہو جاتے۔آدل ایک مسلمان تھا جس نے درجنوں ہندوﺅ کو بچایا اور کشمیرت کی لاج رکھی ۔پوری کشمیر وادی میں اس بے رہمانہ قتل عام کے خلاف کشمیری سڑکوں پر اتر آئے اور ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے کے جب مقامی کشمیری دہشت گردی کے خلاف سڑکوں پر اترے ہوں ۔آتنکی حملہ کی مخالفت میں جموں کشمیر میں ریاست کے مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد اپنا غصہ جتایا اور پاکستان کے خلاف نارے بازی کی پورے دیش میں مسلمانوں نے اس حملہ کے احتجاج میں مظاہرے کئے ۔سنبھل ،سہارن پور ،بریلی ،ہاپوڑ ،بلند شہر سمیت یوپی کے ضلعوں میں مسلمانوں نے دہشت گردی کی واردات پر مذمت کی اور پاکستان کے خلاف نارے باری لگائی اور سخت کارروائی کی مانگ کی ۔کشمیر کے پہل گام شہر میں بیسرن میں آتنکی حملہ میں 26 لوگوں کی موت ہو گئی تھی جن میں زیادہ تر سیاحہ تھے ۔سنبھل جیسے حساس ضلع کی کئی مساجد میں جمعہ کی نمازادا کرنے کےلئے کالی پٹیا باندھ کر پہنچے اور پاکستان کے خلاف نمازی شاہی جامع مسجد میں نماز پڑھ کر نکلے شاکر حسین نے کہا کے یہ جن غیر مسلح لوگوں کے ساتھ زلم ہوا اور ہماری بہنوں کا سہاگ اجاڑ دیا گیا ۔بے حد کی دکھ کی بات ہے میری سرکار سے گزارش ہے کے ان دہشت گردوں کو ایسا سبق ملے کی آنی والی نسلے بھی یاد رکھے ۔ادھر دہلی میں بازار بند رہے ان میں کناٹ پلیس ،صدر بازار،چاندنی چوک،جیسے دہلی کے مشہور شاپنگ ہب سمیت 900 سے زیادہ بازار جمعہ کو ویران نظر آئے ۔کیوں کے تاجروں نے پہل گام آتنکی حملے کے خلاف دہلی بند کا اعلان کیا تھا ۔کپڑا ،مسالے ،برتن،صرافہ بازار کے مختلف تاجروں کی انجمنوں نے بھی دکانیں بند رکھیں ۔دہلی میں 8 لاکھ سے زیادہ دکانیں بند رہیں ۔اس کے نتیجہ میں دن بھر میں 1500 کروڑ روپے کا تجارتی گھاٹا ہوا ۔جموں کشمیر میں ایسے الزام بھی سامنے آئے کے وہاں دہشت گردی کے حملے کے خلاف عام طور پر احتجاج سخت نہیں نظر آتا مگرپہل گام میں آتنکی نے بربریت کی کی ساری حدیں پار کی دیں اور جس طرح 26 سیاحوں کو مار ڈالا اس کے بعد کشمیری عوام کا غصہ بنا ہواہے ۔خاص کر اننت ناگ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو دہشت گردوں کا گڑمانا جاتا ہے ۔وہاں رہنے والوں میں اس واردات کے خلاف جیسا غصہ سامنے آیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کے کشمیری عوام نے اس حملہ کو لیکر کتنا غصہ ہے ۔پوری کشمیر وادی میں اس حملہ پر مقامی آبادی کے درمیان از خود احتجاج ہوا اور وسیع پیمانے پر لوگوں نے اس واردات کی مزمت کی ،مظاہرہ کیا اور آپسی بھائی چارہ بنائے رکھنے کی اپیل کی ۔جیسا کے میں نے کہا کے ان دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...