Translater

30 جون 2018

بھاجپا کو کسی بھی چناؤ میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں ملے

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ نے 2019 کے لوک سبھا چناؤ میں 50فیصد ووٹ حاصل کرنے کا نشانہ طے کیا ہے۔ حالانکہ آج تک کی تاریخ میں بھاجپا اس نمبر کو کبھی نہیں چھو پائی،یہاں تک کہ اسمبلی انتخابات میں بھی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمبلی انتخابات میں گجرات کی عوام نے چار بار کسی پارٹی کو آدھے سے زیادہ ووٹ دئے مگر ہر بار یہ پارٹی کانگریس رہی۔ دراصل وہ کم ووٹ فیصد سے بھی زیادہ سیٹیں لے آتی ہے۔ بھاجپا کو لوک سبھا چناؤ 2014 میں سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے اور یہ کل 30 فیصد تھے جبکہ 1984 میں عام چناؤ میں کانگریس کو 49 فیصد ووٹ ملے تھے۔ 2014 کے بعد 14 ریاستوں میں بھاجپا کا ووٹ شیئر گھٹتا چلا گیا۔ 1996 لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کو 28.80 فیصد ووٹ ملے اور اس کے کھاتے میں 140 سیٹیں آئیں تھیں جبکہ بھاجپا کو 20.29 فیصد ووٹ اور 161 سیٹیں ملی تھیں۔1999 کے چناؤ میں کانگریس کو 28.30 فیصد ووٹ ملے اور 114 سیٹیں ملیں۔ بھاجپا کو 23.75فیصدی ووٹ اور 182 سیٹیں ملیں۔ 2014 کے بعد 14 ریاستوں میں بھاجپا کا ووٹ شیئر گھٹا ہے۔ 19 ریاستوں میں بڑھا جبکہ کانگریس کا ووٹ شیئر 10 ریاستوں میں بڑھا اور 13 ریاستوں میں گھٹا۔ زیادہ ووٹ شیئر کا مطلب زیادہ سیٹیں نہیں۔4.1فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 2014 لوک سبھا چناؤ میں بسپا تیسری پارٹی رہی مگر اسے ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ اس کے 34 امیدوار دوسرے نمبر پر رہے جبکہ3.8 فیصد ووٹ سے پی ایم سی نے 34 اور 2.3 فیصد ووٹ کے ساتھ انا ڈی ایم کے نے 37 سیٹیں جبکہ 1.7 فیصد ووٹ سے بی جے ڈی نے 20 سیٹیں جیتی تھیں۔ حال ہی میں کرناٹک اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو 26 سیٹیں کم ملیں مگر اسے ووٹ چھ لاکھ سے زیادہ ملے۔ 2015 میں بہار میں آر جے ڈی 80 سیٹوں پر جیت کر پہلے نمبر پر تھی مگر ووٹ شیئر 18.4 فیصد تھا۔ سب سے زیادہ ووٹ شیئر 24.4 فیصد بھاجپا کا رہا تھا جبکہ بھاجپا کو 53 سیٹیں ملی تھیں۔ سیٹوں کے معاملے میں بھاجپا تیسرے نمبر پر رہی۔ اسمبلی میں 41 بار پارٹیوں کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ 30 بار کانگریس کو ملے۔ سکم ڈیموکریٹک فرنٹ اور سکم سنگرام پریشد، عام آدمی پارٹی، جنتادل ، نیشنل کانفرنس، جنتا پارٹی، تیلگودیشم کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ بتا دیں کہ قومی پارٹی کی شکل میں منظوری تب ملتی ہے جب لوک سبھا یا اسمبلی کے عام چناؤ میں پارٹی کو 4 یا زیادہ ریاستوں میں 6 فیصد ووٹ حاصل ہوں۔ ریاستی سطح کی پارٹی کی شکل میں منظوری تب ملتی ہے جب پارٹی اسمبلی کے عام چناؤ میں 6 فیصد ووٹ حاصل کرتی ہے اور موٹے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ2019 لوک سبھا چناؤ میں اگر اپوزیشن بھاجپا کو آمنے سامنے کی ٹکر دے سکتی ہے تو وہ جیت سکتی ہے۔ جہاں ایک سے زیادہ اپوزیشن امیدوار کھڑے ہوں تو ووٹ بٹیں گے اور اس صورت میں بھاجپا کامیاب ہوگی۔
(انل نریندر)

کمی کا اثر:فٹ بال ورلڈ کپ کی تین کہانیاں

فیفافٹبال ورلڈ کپ آہستہ آہستہ اپنے کلائمکس پر پہنچتا جارہا ہے۔ پوری دنیا میں کروڑوں اربوں لوگ ان میچوں کو ٹی وی پر دیکھ کر مزہ لے رہے ہیں۔ میں بھی ان میچوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا ہوں۔ روس میں اب کی بار اس ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ یہ انعقاد پرفیکٹ چل رہا ہے۔ ا س دوران کئی کھلاڑیوں نے دنیا کی توجہ اپنی طرف راغب کی ہے ، خاص کر تین کھلاڑیوں نے۔ ان تینوں کی کہانی بیحد دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ سب میں ایک بار یکساں ہے ،کمی کا اثر۔ یعنی سبھی نے ہی وسائل کی کمی کو اپنی جیت کا ہتھیار بنایا۔ برازیل کے کھلاڑی گیبریل جیسس فیفا ورلڈ کپ 2018 میں برازیل کے لئے ٹاپ فارورڈ میں سے ایک ثابت ہورہے ہیں۔21 سالہ جیسس چھ سال پہلے تک برازیل کی گلیوں میں گھوم گھوم کر دیوار، سڑک اور ڈیوائیڈر پر پتائی کیا کرتے تھے۔ ایک دن کے 150 سے200 روپے کما لیاکرتے تھے۔ کم عمر ہی تھے جب والد کا دیہانت ہوگیا۔ ماں اور بھائی کے ساتھ انگلینڈ چھوڑ کر برازیل آنا پڑا۔ فٹبال کا شوق 6 سال کی عمر سے ہی تھا۔ پتائی کے بعد جو وقت بچتا تھا وہ میدان پر گزرتا۔ 2013 میں گیبریل کے کوچ نے انہیں کلب جوائن کروایا اور انہوں نے 47 میچ میں 16 گول کئے۔ 2015 میں انہیں برازیل انڈر۔ 23 اور 2016 میں نیشنل ٹیم میں چن لیاگیا۔ 2017 میں مانچسٹر یونائیٹڈ نے انہیں 240 کروڑ روپے کا کانٹریکٹ دیا۔ ابھی ان کی برانڈ ویلیو 350 کروڑ سے زیادہ ہے۔ بلجیم کے روئیلولفاکو نے دو میچ میں 4 گول کرنے اور رونالڈو کی برابر کر لی ہے۔ انگلینڈ کے ہیریکین 5 گول کے ساتھ نمبر ون پر ہیں۔ برانڈ ویلیو 900 کروڑ روپے سے زیادہ ہے لیکن یہ سفر آسان نہ تھا وہ بتاتے ہیں کہ میں اسکول میں تھا تین چار سال تک گھر میں کھانے کے لئے صرف دودھ بریڈ ملا کرتا تھا۔ ماں سے پوچھا کیا ہم غریب ہیں؟ تو ماں نے کہا یہ ہمارا فوڈ کلچر ہے۔ میں نے بھی مان لیا۔ ایک دن ماں کو دودھ میں پانی ملاتے دیکھ کر سمجھ گیا۔ اب تک فٹبال میرا شوق تھا اس دن یہ میرا پیشہ بن گیا۔ جب میں نیشنل ٹیم میں سلیکٹ ہوا تو میرے نانا نے مجھے فون کیا، کہا وعدہ کرو کے اب تم میری بیٹی کا خیال رکھو گے، تو میں نے کہا آپ کی بیٹی میری ماں ہیں بے فکر رہئے، تب سے میں ان سے کیا وعدہ نبھا رہا ہوں۔ آئس لینڈ کے گول کیپر ہانس ہالڈورسن نے ارجنٹینا کے خلاف میچ میں لیونل میسی کا گول روک کر ارجنٹینا کو ڈرا کھیلنے پر مجبور کردیا۔ ہانس ہالڈورسن اپنی ٹیم کی جدوجہد بتاتے ہیں ہمارے دیش کی آبادی ساڑھے تین لاکھ ہے۔کوئی ہمیں سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں تھا۔ ہمارے پاس میدان تک نہیں تھے۔ ایک میدان ملا جہاں دن میں ہم پریکٹس کرتے تھے اور رات میں گھوڑے باندھے جاتے تھے۔ میں گول کیپر تھا ڈائی مارتا تھا تو میدان میں بکھری گھوڑے کی نال وغیرہ ہاتھ پیر میں لگ جاتی تھی۔ ایسے حالات میں ہمارے کھلاڑی مایوس ہورہے تھے۔ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم کچھ ثابت کرنے کے لئے نہیں بلکہ خود کے لئے کھیلیں گے۔ اس بار کے مظاہرہ سے خوش ہوں مطمئن نہیں۔ 2018 میں تو آئے ہیں 2022 میں دم دکھائیں گے۔ ایسی کئی اور کہانیاں بھی ہوں گی لیکن ہمیں ابھی ان تینوں کی کہانی پتہ چلی ہے۔ اگر کچھ کرنے کی مضبوط خواہش ہو تو برعکس سے بھی برعکس حالات بھی اپنی منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتے۔
(انل نریندر)

29 جون 2018

جی ایس ٹی کے سبب وجود کی لڑائی لڑنے پر اخبارات مجبور

وزیر اعظم نریندر مودی نے گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی)کو ایمانداری کی جیت اور کو آپریٹیو فیڈرلزم کی بہترین مثال بتایا اور کہا کہ ہمارے نئے ٹیکس سسٹم کے ایک سال کے اندر ہی استحکام حاصل کرنا دیش کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔ جی ایس ٹی کا ایک برس پورا ہونے کے بعد سرکار دوسرے برس میں مختلف چیزوں اور خدمات پر کم ٹیکس کی شرحیں معقول بنانے پر فوکس رکھے گی۔ مانا جارہا ہے کہ اس سمت میں قدم اٹھاتے ہوئے جی ایس ٹی کونسل کی 19 جولائی کو ہونے والی میٹنگ میں جی ایس ٹی میں شامل کچھ اجناس اور سروسز پر ٹیکس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ایسا ہونے پر اس ٹیکس میں شامل کچھ مصنوعات کی تعداد اور کم ہوسکتی ہے۔ ہم امیدکرتے ہیں کہ اخباروں میں نیوز پرنٹ پر لگنے والے جی ایس ٹی کو ختم کیا جائے گا۔ سبھی کو یہ معلوم ہے کہ دیش کی آزادی میں اخبار ہتھیار بنے تھے۔ آج پریس جتنا آزاد اور جارحانہ دکھائی دیتا ہے آزادی کی جنگ میں اتنی ہی بندشوں اور پابندیوں میں تھا۔ نہ تو اس میں منورنجن کا پٹ تھا اور نہ ہی یہ کسی بھی کمائی کا ذریعہ تھے۔ یہ اخبارات اور میگزین آزادی کے جانبازوں کا ایک ہتھیار اور جنتا سے جوڑے رکھتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب لوگوں کے پاس رائے رکھنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس پر بھی انگریزوں کے مظالم کے شکار لاچار لوگ چپ چاپ سارے ظلم سہا کرتے تھے۔ نہ تو کوئی ان کو سننے والا تھا اور نہ ہی ان کے دکھوں کو سمجھنے والا۔ وہ کہتے بھی تو کس سے اور کیسے؟ ایسے میں اخبارات اور جریدوں کی شروعات نے لوگوں کو ہمت دی، انہیں تسلی دی، یہی وجہ تھی کہ انقلابیوں کے ایک ایک مضمون جنتا میں نیا جوش اور دیش بھکتی کی روح بھرتے تھے۔سن1947 میں جب سے دیش آزاد ہوا تب سے اخباروں میں ہونے والے نیوز پرنٹ (کاغذ) پر کوئی ٹیکس نہیں تھا لیکن موجودہ مودی سرکار نے جی ایس ٹی کے ذریعے سے نیوز پرنٹ پر 5 فیصد جی ایس ٹی لگادیا ہے جس کے سبب نیوز پرنٹ کی قیمت پانچ فیصد بڑھ گئی ہے جبکہ اخبارات کی فروخت اس کی لاگت قیمت کے بہت کم دام پر ہوتی ہے۔ اخبار قومی تعمیر ہی نہیں کرتے بلکہ دیش کی عوام کو تعلیم یافتہ اور بیدار بھی کرتے ہیں۔ سرکار کی پالیسیوں اورکام کاج کی معلومات بھی اخبارات کے ذریعے سے دی جاتی ہے۔ اخباری کاغذ پر جی ایس ٹی لگانا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کے فروغ اور آئینی اقدارکو قائم رکھنے کے لئے دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے اخبارات پر صفر یا بہت معمولی درپردہ ٹیکس ہی لگتا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی کی سرپرست سپریم کورٹ کا بھی ماننا ہے کہ اخبارات میں کوئی بھی ٹیکس خبرکے پھیلاؤ ، خواندگی کی رفتار اور نالج پر حملہ ہے۔اخبارات ملک کی تعمیر ہی نہیں کرتے بلکہ دیش کی عوام کو تعلیم یافتہ اور سرکار کی پالیسیوں، عوام کی شکایتوں کو حکومت تک پہنچانے میں بھی اہم رول نبھاتے ہیں۔ اخباری کاغذ پر جی ایس ٹی لگانا کسی بھی نقطہ نظر سے انصاف پر مبنی نہیں مانا جاسکتا۔ یہ ایک طرح سے معلومات کی نشر و اشاعت پرپابندی لگانے جیسا ہے۔ اخبارات کو چوطرفہ مار پڑ رہی ہے، سرکار کے ذریعے اخبارات میں اشتہارات بھی کم کردئے گئے ہیں۔ اس طرح سے ان کی آمدنی کاسب سے بڑا ذریعہ بند ہوتا جارہا ہے۔ اخبارات کے نیوز پرنٹ پر جی ایس ٹی لگنے اور اشتہارات کم ہونے کے سبب وجود پر بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اخبارات (جن کی تعداد ہزاروں میں ہے) بند ہوگئے ہیں۔ نیوز پرنٹ پر جی ایس ٹی لگنے سے اخبارات پر بہت بھاری بوجھ پڑ گیا ہے۔ اخبار کی فی کاپی کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ ایک اخبار کی کاپی 15-20 روپے میں پڑتی ہے جبکہ اس کی فروخت قیمت 2-5 روپے فی کاپی ہے اس لئے ان کو قومی مفاد میں بچانے کے لئے موجودہ جی ایس ٹی کو نیوز پرنٹ (اخباری کاغذ) سے ختم کردینا چاہئے و ان کو جی ایس ٹی کے دائرہ سے باہر کرنا چاہئے۔ اخبارات کسی بھی صنعت کے زمرے میں نہیں آتے۔ اخبارات ایک صنعت نہیں ہے اور یہ ایک عوامی جذبے سے کام کررہے ہیں۔ اسی وجہ سے بھی جی ایس ٹی ، اخباری کاغذ سے فوراً ہٹانے کی سخت ضرورت ہے۔ اخباری کاغذ کو جی ایس ٹی ٹیکس کے زمرے سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ جب 2014 میں مودی حکومت آئی تھی تو ہمیں اس حکومت سے بہت امیدیں تھیں لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ سرکار نے آتے ہی حکومت ہند کے وزارت اطلاعات و نشریات کے تحت کام کرنے والے ادارہ ڈی اے وی پی نے2016 میں ایک پالیسی بنائی جس کی وجہ سے زیاہ تر چھوٹے و منجھولے اخبارات اشتہارپانے والے اخبارات کی فہرست سے باہر ہوگئے اور ہزاروں کی تعداد میں اخبار بند ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف آر ۔این۔ آئی میں بھی ایسے سخت قواعد بنا دئے گئے ہیں جس میں کئی اخباروں کو ڈی اے وی پی انپینلمینٹ سے باہر کردیا گیا۔ ادھر پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) کسی بھی شکایت پر اخبارات پر پابندی لگانے سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ ابھی پچھلے سال ہی پی سی آئی نے کئی اخباروں پر فیک نیوز کے بہانے پابندی لگائی تھی جس میں کئی اخباروں کو سسپینڈ بھی کیا گیا۔ اخبار کوئی صنعت نہیں ہے جو کہ دیش کو لوٹ رہی ہو۔ آئے دن نئی نئی ایڈوائزری جاری کی جارہی ہے اور ان کو نہ ماننے پر آپ کو ڈی ۔ پینل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ پورے بھارت میں اخبار آج اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ لمبے عرصے تک جمہوریت کے چوتھے ستون اظہار رائے کی آزادی کی نشرواشاعت کرنے والے اخبارات آج خود ہی گھیرا بندی کی حالت میں ہیں۔ زیادہ تر ان اخباروں نے یا تو اپنے کئی ایڈیشن بند کردئے ہیں یا اسٹاف کی تعداد میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں؟ چھوٹے اور منجھولے اخباروں نے پہلے سے ہی ایسا کرناشروع کردیا تھا۔ اخباروں میں چھٹنی کے سبب ان کے ملازمین کو دردر کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں اس سے بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے ۔پچھلی یوپی اے۔2 سرکار کی مجیٹھیا ویج بورڈ کی سفارشوں کے عمل درآمد سے اخباروں پر مزید بوجھ پڑا اور جب پچھلی سرکار نے بورڈ کی رپورٹ منظور کر اخبارات کو 45 سے50 فیصد تنخواہ بڑھانے کے لئے مجبور کردیا تھا تو اس میں کچھ پیمانے پر فورتھ کلاس وغیرہ کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ بھی دیگر صنعت میں کمائی جانے والی تنخواہ سے دوگنا تگنا سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ میں نے اخبارات کو کن حالات میں سروائیو کرنا (بچانا) پڑ رہا ہے اس کو تفصیل سے اس لئے بتایاتاکہ مودی سرکار ہماری مدد کرے اور ہمیں ڈوبنے سے بچائے۔ مودی سرکار کو بنانے میں اخبارات نے بڑا اہم رول نبھایا تھا اور اب جب ہم اپنے وجو د کی لڑائی لڑ رہے ہیں تو سرکار کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہمارے سامنے جو ہنگامی مسائل ہیں ان پر غور کرے اور ان کا حل نکالے۔
(انل نریندر)

28 جون 2018

امرناتھ یاترا کے دوران آتنکی حملہ کی وارننگ

امرناتھ یاترا راستے پر آتنکی حملہ کے اندیشے سے پیر کو خفیہ ایجنسیوں نے نیا الرٹ جاری کردیا ہے۔ اس کے پیش نظر وزیر دفاع نرملا سیتا رمن ، فوج کے سربراہ بپن راوت اور جموں و کشمیر کے گورنر ایم این ووہرا نے بالٹال ادھار شور پہنچ کر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔28 جون سے شروع ہورہی امرناتھ یاترا کے لئے جموں سے بالٹال اور ساؤتھ کشمیر کے پہلگام کے درمیان دو آدھارشوروں کے قریب 400 کلو میٹر یاترا مارگ کو محفوظ رکھنے کے لئے فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی 213 مزید کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ہیلی کاپٹر و ڈرون سے بھی نگرانی کی جارہی ہے۔ یاترا کے راستے میں این ایس جی کے کمانڈو و اسنائیپر بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ پیر کو خفیہ ایجنسیوں نے وزارت داخلہ اور ڈیفنس کو الرٹ جاری کیا کہ لشکر طیبہ کے قریب20 آتنکیوں کا گروپ امرناتھ یاترا کے دوران مسافروں کے گروپ امرناتھ یاتریو ں کو نشانہ بناسکتا ہے۔ آتنکیوں کا یہ گروپ دو حصوں میں بٹ کر دراندازی کر چکا ہے۔ پہلے گروپ نے قریب 1113 آتنکی اور دوسرے گروپ میں 6سے7 آتنکی ہیں۔ یہ سبھی بالٹال روٹ پر کنگن نام کی جگہ پر حملہ کا پلان بنا رہے ہیں۔ ترتھ یاتریوں کا پہلا جتھا 27 جون کو بھگوتی نگر آدھارکیمپ سے روانہ ہوگیا ہے۔ اس بار یاترا سے جڑی گاڑیوں میں پختہ انتظام کرنے کے لئے ٹریکنگ چپ لگائی گئی ہیں۔ ہمالیہ پر 3880 میٹر کی اونچائی پر واقع پوتر گپھا امرناتھ کے لئے 60 روزہ یاترا 28 جون سے شروع ہورہی ہے۔ پہلی بار آدھار کیمپ جموں میں بھکتوں کے لئے اے سی ہال بنائے گئے ہیں جبکہ روٹ پر پینے کے پانی کے لئے آراو واٹر کا انتظام کیا گیا ہے۔ بابا کے درشن کے لئے اب دیش بھر میں الگ الگ بینکوں کی 440 برانچوں سے قریب2 لاکھ سے زیاہ بھکت رجسٹریشن کرواچکے ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ جب امرناتھ یاترا کی پہریداری کی ذمہ داری این ایس جی کو ملی ہے۔ شرائین بورڈ کے حکام نے بتایا کہ دونوں روٹوں پر 15 ہزار مسافرو ں کو چھوڑا جائے گا۔ اس کے علاوہ راستے سے جانے والے مسافروں کی گنتی الگ ہے۔تین پرائیویٹ کمپنیوں کے ہیلی کاپٹروں سے بھکتوں کو گپھا تک لے جایا جائے گا۔ دونوں روٹ پر اس بار 120 لنگر بنے ہوں گے۔ یہ دیش بھر سے آئے لنگر کمیٹی کے لوگوں کی طرف سے لگائے گئے ہیں۔ ان کے کھانے پینے کے سامان کی ہرروز جانچ کی جائے گی۔ اس کے بعد ہی بھکتوں کو لنگر میں بھوجن کرنے دیا جائے گا۔ یاترا کے بڑے آدھار شور بھگوتی نگر میں سی آر پی ایف کی ایک مہلا کمپنی تعینات ہوگی۔ ایسا پہلا بار ہورہا ہے۔ ہم پوری امید کرتے ہیں بابا امرناتھ کی پوتر یاترا میں کوئی حملہ نہ ہو۔اوم نمشوائے۔
(انل نریندر)

عورتوں کو ڈرائیوننگ کا حق دینے والا دنیا کا پہلا ملک سعودی عرب

سعودی عرب میں سنیچر ۔ایتوار رات کونظارہ بالکل الگ ہی تھا۔ بڑی تعداد میں عورتیں سڑکوں پر جشن منا رہی تھیں۔ رات12 بجتے ہی عورتیں اپنی اپنی گاڑیاں لے کر سڑکوں پر نکل پڑیں۔ راستے میں لوگ انہیں نیک خواہشات پیش کررہے تھے۔ چیک پوائٹ پر پولیس والوں نے انہیں گلاب کے پھول دیکر ان کا خیر مقدم کیا۔ یہ وہی پولیس والے تھے جو اس سے پہلے انہیں گاڑی چلانے پر جیل بھیج دیا کرتے تھے۔ ان پر آتنک وادیوں سے جڑی دفعات لگاتے تھے۔ اسی کے ساتھ سعودی عرب کا نام 24 جون کو تاریخ میں درج ہوگیا کیونکہ اس دن عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت مل گئی۔ پوری دنیا میں صرف سعودی عرب میں عورتوں پر اس طرح کی پابندی تھی۔ یہ آزادی پانے کے لئے انہیں 28 سال تک جدوجہد کرنی پڑی۔ سعودی عرب میں پہلی بار کسی خاتون کو ڈرائیوننگ لائسنس جاری کیا گیا ہے۔ یہاں کہ 32 سالہ شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان دیش کو جدید دور میں لے جانے کے لئے ویژن2030 کے تحت خواتین کو ہر محاذ پر آگے لانے کی پہل کررہے ہیں۔ عورتوں کو ڈرائیوننگ لائسنس جاری کرنا اسی کڑی کا حصہ ہے۔ اسے دوئم درجے کی زندگی جی رہی وہاں کی عورتوں کے لئے اہم مانا جارہا ہے۔ حالانکہ ابھی بھی کئی ایسے سیکٹر ہیں جہاں عورتوں کو آزادی ملنا باقی ہے۔ شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان دیش میں کئی تبدیلیاں لارہے ہیں۔ پچھلے سال وہاں تفریح کے لئے موسیقی اور رقص کا فیسٹیول انعقاد کیا گیا۔ 25 سال بعد اپریل میں سعودی عرب میں فلم تھیٹر کھلا۔ جلد ہی ویزا جاری کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ دراصل ڈرائیوننگ کرنے پر پابندی کے سبب عورتیں اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے سے لیکر بازار اور دوستوں سے ملنے جانے تک کے لئے اپنے شوہر، بھائی یا ڈرائیور پر منحصر تھیں۔ڈرائیور رکھنا سعودی عرب میں ویسے بھی آسان نہیں ہے۔ ایتوار کو سعودی عرب کی عورتیں بھی دنیا بھر کی خواتین کی طرح اسٹیارنگ ول کے پیچھے بیٹھ کر کہیں بھی آنے جانے کے لئے آزاد ہوگئی ہیں۔ شہزادہ ولی عہد کے ویژن2030 کے پیش نظر دیش میں عورتوں کو کئی اور سیکٹروں میں بھی حقوق دئے جارہے ہیں۔ ڈرائیوننگ کا حق بھی اسے کا حصہ ہے۔ حا ل ہی میں یہاں عورتوں کو کاروبار شروع کرنے کا بھی حق ملنے کے ساتھ ہی اسٹیڈیم میں بھی جانے پر پابندی ہٹا لی گئی ہے۔ کٹر پسند تنظیموں کا کہنا تھا کہ عورتوں کو ڈرائیوننگ کی چھوٹ دینے سے گناہوں کو بڑھاوا ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے عورتوں پر اذیتیں بڑھیں گی اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے سعودی حکومت نے جنسی استحصال معاملو ں میں پانچ سال کی قید کا قانون بھی پاس کردیا ہے۔ بیشک سعودی خواتین کو کار چلانے کی آزادی تو مل گئی ہے لیکن اب بھی ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی کئی ایسی مشکلات ہیں جن پر عبور پانے کے لئے نئے سرے سے میدان میں اترنا ہوگا۔
(انل نریندر)

27 جون 2018

امت شاہ کا 400 سیٹیں جیتنے کا نشانہ

مودی حکومت کے اقتدار میںآنے کے چار سال پورے ہونے کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی پوری طرح سے چناوی موڈ میں آگئی ہے ۔2019میں دہلی کے اقتدار پر پھر اپنی دعویداری کرنے کیلئے بھاجپا نے نیا نعرہ دیا ہے ’’صاف نیت صحیح وکاس ‘‘ایک بار پھر مودی سرکار اور پارٹی کی نگاہیں 2019میں ہونے والے لو ک سبھا کی 80ایسی سیٹوں پررہے گی جہاں وہ 2014میں کامیاب نہ ہوسکی تھی ۔بھاجپانے لوک سبھا چناؤ میں 400سیٹیں جیتنے کا ٹارگیٹ طے کیا ہے ۔ مشن 2019کے لئے پارٹی کا خاص فوکس نارتھ ایسٹ کی ریاستوں پر رہنے کی امید ہے ۔امت شاہ نے تنظیمی عہدیداروں کے ساتھ منتھن شیور میں قریب آٹھ گھنٹے تک انہیں 2019لوک سبھاچناؤ میں جیت کا منتر دیا ۔شاہ نے موجودہ ایم پی کا رپورٹ کارڈ تیار کرنے کابھی فارمیٹ دیا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ اسی کی بنیاد پر جنتا سے ممبران پارلیمنٹ کا فیڈ بیک لیکر رپورٹ کارڈ تیار کریں ۔مودی سرکار اور بھاجپا کیلئے 2019کے نشانے کو حاصل کرنے کے راستے میں ابھی کئی اڑچنیں ہیں ۔جیسا کہ کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبر م نے کہاکہ دیش کی معیشت کی حالت ٹھیک نہیں مانی جاسکتی ۔معیشت کے چار ٹائروں میں سے تین ٹائربرآمدات ،پرائیویٹ سرمایہ کاری اور ذاتی استعمال، ان میں سے تین ٹائر پنکچرہوچکے ہیں ۔یہ بھی الزام لگایا کہ سرکار کی پالیسی سازغلطیوں اور غلط قدموں کے سبب پید اہوئیں ہیں ۔زراعت ،جی ٹی پی ،روزگار ،تجارت معیشت کے کچھ دوسرے پیمانیوں کی بنیاد پر مودی سرکار پچھلے چار سالوں میں کھڑی نہیں اتری جی ایس ٹی کو غلط ڈھنگ سے لاگو کرنی وجہ آج بھی کارو بار کو متاثر کررہی ہیں ۔ایک سروے کے مطابق جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے سبب 15لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں ۔کسان الگ پریشان ہے ،کسان سمر تھن ویلوکے مطابق پیدا وار کے دام نہ ملنے پر آندولن کررہے ہیں ریزروبینک کے سروے کے مطابق 48فیصدی لوگوں نے مانا ہے کہ معیشت کی حالت خراب ہوئی ہے ۔ پیٹرول ،ڈیزل کے داموں میں بے تحاشہ اضافہ کے سبب آج مہنگائی آسمان چھورہی ہے ۔ یاد رہے کہ اچھے دن کے وعدے کے تحت 2کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن کچھ ہزارنوکریاں پیدا ہوسکی ۔2015-16ترقی شرح 8.2فیصدی سے گھٹ کر 2018-18میں 6.7فیصدرہ گئی ہے ۔ 
پچھلے چار برسوں میں این پی ائے 263000کروڑ روپے سے بڑھ کر1030'000کروڑ روپے ہوگیا ہے اور آگے مزید بڑھے گا ۔سرکاری بینکو ں کی حالت بد سے بدتر ہورہی ہے ۔این ڈی اے کے ساتھیوں اور بھاجپا کے ناراض نیتا ؤں کا الگ مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ۔شوسینانے ہمیشہ کی طرح بی جے پی کو اپنا نشانہ بنانے کے لئے اپنے اخبار سامنا کو استعمال کیا ہے اس نے اپنے ادارے میں بی جے پی پر تلخ حملہ کرتے ہو الزال لگا یا کہ بد امنی پھیلانے کے بعد بھگوا پارٹی جموں کشمیر میں اقتدار سے باہر ہوگئی ہے ۔اور اس نے جو لالچ دکھایا ہے اس کیلئے تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کریں گی ۔ شیو سینا نے بی جے پی کا موازنہ انگریزوں کے بھارت چھوڑکر جانے سے کیا ہے ۔جب بھاجپا اس شمالی ریاست میں دہشت اور تشدد پر لگا م نہیں لگا پائی تو اس نے اس کا ٹھیکرا پی ڈی پی پر پھوڑ دیا ۔ دیش چلانا بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔بی جے پی نے جموں وکشمیر کے حالات اور اس بے میل اتحاد کی حکومت کے سبب اس کی حالت سا ل 1990کی حالت جیسی تک پہنچ گئی ہے ۔مگر 1990میں جموں کے حالات اتنے خراب نہیں تھے ۔ جموں کشمیری پنڈت جو اپنے ہی دیش میں شرنارتھی بن گئے تھے ۔وہ ان کی پناگاہ گھی لیکن آج جموں کے لوگ بے گھر ہو رہے ہیں ۔ بچوں کو اسکولوں سے نکالنا پڑ رہا ہے اور سرحد پر رہنے والے باشندوں کی طرف سے سرکار اتنی سنگدلی ہوگئی ہے کہ پاکستان کے حملو ں میں مارے گئے لوگوں کو ایمبو لینس تک مہیا نہیں کراپائی ۔سرحدی لوگوں کو اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کو ٹریکٹر وں میں لاد کر لانا پڑا ۔جموں کے لوگوں نے بھاجپا کو دل کھول ووٹ دیا تھا مگر اس نے انھیں بہت ناراض کیا اور جموں کے ہندوؤں کی نظر اندازی کا اثر باقی ہندوستان کے ہندؤوں پر بھی پڑا ہے ۔اتر پردیش میں اور مرکز میں دونوں جگہ بھاجپا کی حکومت ہے لیکن پچھلے چار برسوں میں ایودھیا میں رام مندر بنانے کے وعدے کا کچھ نہیں ہوا جن اشو کو لیکر بھاجپا اقتدار میں آئی تھی وہ سب آج بھی لٹکے پڑے ہیں ۔لو ک سبھا میں پی ڈی پی کا ایک ایم پی ہونے کے سبب بھاجپا پی ڈی پی اتحاد ٹوٹنے سے این ڈی اے پرخاص فرق نہیں پڑے گا ساتھ ہی اب 19ریاستوں میں این ڈی اے سرکار یں بچیں ہیں وہیں پی ڈی پی الگ ہونے کے بعد بھاجپا کے اتحادیوں کو این ڈی اے سے الگ ہونے اور شکایت کا موقع مل گیا ہے ۔انکا الزام ہے کہ این ڈی اے کی اتحادیوں سے سرکار اور بھاجپا اچھا سلوک نہیں کرتی ۔اس وقت این ڈی اے 47ممبر پارٹیاں ہیں لیکن ٹی ڈی پی اور پی ڈی پی کے این ڈی اے سے الگ ہونے کے بعد لوک سبھا میں 45پارٹیاں بچی ہیں ۔ساؤتھ اور نارتھ ایسٹ کی چار پارٹیوں کے پاس محض ایک ایک ایم پی ہے۔میں نے اس ادارے میں ان سب چنوتیوں کا کا ذکر کیا ہے جو بھاجپا کو 2019کے چناؤ میں ان سے نپٹنا پڑ سکتا ہے ۔امت شاہ کو چانکیہ کہا جاتا ہے امید کی جاتی ہے کہ وہ ان چنوتیوں پر بھاری پڑ یں گے اور مودی کو 2019میں پھر سے اقتدار میں لانے میں کامیاب رہیں گے ۔
(انل نریندر)

26 جون 2018

کس نے دی ان ہزاروں پیڑوں کو کاٹنے کی منظوری

ہرے پیڑوں کی کٹائی کے احتجاج میں دہلی میں’’ چپکو‘‘ آندولن شروع ہوگیا ہے۔ دراصل ساؤتھ دہلی میں سرکاری رہائشی کالونیوں کی بساوٹ اوردوبارہ ترقی کے لئے16500 پیڑ کاٹے جانے ہیں۔مقامی لوگ و ماہر ماحولیات اور آرٹسٹوں کے علاوہ عاپ بھی لوگوں کے ساتھ آندولن میں اتر آئی ہے۔ سروجنی نگر میں سنیچر کو پیڑ کاٹنے کے احتجاج میں مقامی لوگوں و نوجوانوں نے پیڑ سے چپک کر اسے بچانے کی اپیل کی ہے۔ دہلی میں 16500 پیڑ کاٹنے کی منظوری کس نے دی ہے اس پر شش و پنج برقرار ہے۔ حال ہی میں اطلاعات حق سے مانگی گئی ایک عرضی کے جواب میں محکمہ جنگلات ، دہلی پالوشن کنٹرول کمیٹی، دہلی جل بورڈ، ڈی ڈی اے ،سینٹرل زمینی پانی اتھارٹی ،سی پی ڈبلیو ڈی سبھی نے ایک دوسرے پر اس سوال کو ٹال دیا ہے اس لئے این جی ٹی میں بھی عرضی داخل کی گئی۔ این جی او چیتنا کی طرف سے داخل عرضی میں یہ مانگ کی گئی ہے کہ متعلقہ محکمے بتائیں کہ کس کی طرف سے پیڑوں کو کاٹنے کی منظوری دی گئی۔ دراصل سینٹرل اربن ڈولپمنٹ وزارت نے ساؤتھ دہلی میں واقع سات سرکاری رہائشی کالونیوں کے دوبارہ ڈولپمنٹ کی تجویز تیار کی تھی۔سرکار کی کیبنٹ اس ری ڈولپمنٹ پلان کو سال2016 میں ہی منظوری دے چکی ہے۔ اس کے تحت ہی ساؤتھ دہلی میں واقع قدوائی نگر میں 1123، نیتا جی نگر میں 2294، نروجی نگر میں 1454، محمد پور میں 363 اور سروجنی نگر میں 11000 سے زیادہ پیڑ کاٹے جانے ہیں۔ نروجی نگر میں پیڑوں کی کٹائی شروع ہوچکی ہے اب پیڑوں کی کٹائی کی مخالفت بھی شروع ہوگئی ہے حالانکہ مرکز کا کہنا ہے جتنے پیڑ کاٹے جائیں گے اس سے دگنے پودے لگائے جائیں گی۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے پیڑ نہ صرف ہریالی بڑھاتے ہیں بلکہ آلودگی پر بھی کنٹرول رکھتے ہیں۔ دہلی میں پالوشن حد انتہا پر پہنچ چکی ہے ایسے میں پیڑوں کو بچانے، پودے لگانے کی مہم چلانا چاہئے یا ہزاروں کی تعداد میں پیڑ کاٹ کر دہلی کے شہریوں کی کمبختی بڑھائی جائے؟بڑے پروجیکٹوں کے لئے پیڑوں کو کاٹنے کے بجائے متبادل اسکیمیں بننی چاہئیں۔2 برس پہلے سینٹرل روڈ و ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہ وزارت نے یہ پالیسی بنائی تھی کہ پروجیکٹوں کے دوران پرانے پیڑوں کو کاٹنے کے بجائے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پرغور کیا جائے۔ نیشنل گرین ٹربونل نے بھی 2014 میں اپنے حکم میں کہا تھا کہ پیڑوں کی کٹائی سے پہلے ان کی جگہ بدلنے پر غور کیا جانا چاہئے۔ پیڑوں کو جڑ سمیت اکھاڑنے اور شفٹ کرنے کے لئے ایک مخصوص مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن دہلی میں یہ مشین موجود نہیں ہے۔ پیڑوں کی کٹائی ویسے بھی غیر قانونی ہے۔ یہ ہمارے ماحولیات کے لئے خطرناک ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کو بلا تاخیر ان کی کٹائی روکنی چاہئے۔
(انل نریندر)

اب بینک آف مہاراشٹر میں 3 ہزار کروڑ کا گھوٹالہ

سرکاری بینکوں میں جس طرح گڑ بڑیاں اور گھوٹالوں کی خبریں آرہی ہیں وہ سبھی کے لئے زبردست تشویش کا باعث ہے۔ یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پی این بی میں ہوئے گھوٹالہ کے بعد آنے والے دنوں میں بینک گھوٹالہ ہوں گے یا نہیں یہ تو نہیں کہا جاسکتا لیکن جس طرح سے پرانے بینکنگ گھوٹالہ سامنے آرہے ہیں اس سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ ابھی کئی اور گھوٹالہ سامنے آئیں گے۔ 83 برس پرانے بینک آف مہاراشٹر کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر رویندر مراٹھے و ایگزیکٹو ڈائریکٹر راجندر گپتا اور سابق سی ایم ڈی سشیل بھنوت سمیت کئی لوگوں کو پنے کی ڈی ایس کے گروپ کو فرضی طریقے سے قرض دینے اور سرمایہ داروں کے ساتھ دھوکہ دھڑی کے الزام میں گرفتاری بینک سسٹم کی تنظیمی سرپرستی کو ہی بتاتی ہے۔ اس معاملہ میں ڈیولپر ڈی ایس کلکرنی اور ان کی بیوی کو پہلے گرفتار کیا گیا ہے لیکن یہ تو پولیس اور اکنامک برانچ کا کام ہے جس نے گڑبڑی سامنے آنے اور شکایت درج ہونے کے بعد کارروائی کی۔اصل اہم ترین سوال تو یہ ہے کہ جو بینک چھوٹے سرمایہ کاروں کے گھر اور گاڑی قرض یا طالبعلم لون وغیرہ کے لئے درجنوں چکر لگواتے ہیں، طرح طرح کی خانہ پوریاں کرواتے ہیں وہ ایک بلڈر کو کیسے کئی ہزار کروڑ روپے کا قرض نہ صرف دیتے ہیں بلکہ بغیر چکائے صاف نکلنے کا طریقہ بھی بتاتے ہیں۔ تشویش کا موضوع یہ ہے کہ آخر ریزرو بینک، سرکاری بینکوں کے ریگولیٹری اتھارٹی ان گڑبڑیوں اور دھوکہ دھڑی کو روکنے میں ناکام کیسے ہو رہی ہے؟ ڈوبتے قرض کے سبب بینکوں کی حالت خستہ حال ہوتی جارہی ہے اور اس کے چلتے 21 پبلک سیکٹر بینکوں میں سے 11 کو ریزرو بینک نے فوراً اصلاحاتی کارروائی سسٹم کے تحت رکھا ہے۔ اس کے علاوہ بینک کی طرف سے بڑھائی گئی پروویژنگ بھی اس کی وجہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بینک اپریل، مئی، جون میں بھی ڈوبے قرض بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ پبلک سیکٹر بینکوں کا اجتماعی خالص خسارہ مالی برس 2017-18 میں بڑھ کر 85370 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ گھوٹالہ کی سب سے زیادہ مار پنجاب نیشنل بینک جھیل رہا ہے جبکہ آئی ڈی بی آئی بینک اس معاملہ میں دوسرے پائیدان پر ہے۔ صارفین اپنے پیسوں کو بینکوں میں محفوظ مانتا ہے لیکن اس خسارہ سے بینکوں کا بھروسہ لگاتار گھٹ رہا ہے۔ اس سے دوہرا نقصان ہورہا ہے پہلے کہ لوگ اپنا پیسہ بینکوں کے بجائے گھر میں رکھنا بہتر مانتے ہیں اور وسرے پیسوں کی کمی کی وجہ سے یہ پیسہ سسٹم میں نہیں آتا اور اقتصادی ترقی متاثر ہورہی ہے۔ لوگوں کا بھروسہ کم ہونے سے بینک میں جمع سرمایہ کے چلن میں کمی آرہی ہے۔این پی اے سے ڈرے بینک لون لینے میں بھی اب ہچکچاتے ہیں اس سے مہنگائی بڑھنے کا بھی خطرہ ہے۔
(انل نریندر)

24 جون 2018

نظام بدلتے ہی بھول گئے پتھر بازی،آتنکیوں کی اب خیر نہیں

نظام بدلتے ہی کشمیروادی میں تبدیلی دیکھنے کوملی ہے۔ گورنر راج میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے بند کی پہلی اپیل پر جمعرات کو پوری وادی میں کہیں بھی پتھر بازی کا واقعہ سامنے نہیں آیا۔ اتنا ہی نہیں علیحدگی پسندوں کے گڑھ ڈاؤن ٹاؤن میں پابندیاں بھی نہیں رہیں۔عموماً بند کے دوران سکیورٹی فورس پر پتھر بازی کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ بم بم بھولے جے گھوش کے ساتھ 28 جون سے شروع ہورہی امرناتھ یاترا کے لئے الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ جموں و کشمیر کے اینٹری گیٹ لکھن پور سے پوتر گپھا تک یاترا کی تیاریوں کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ بیس کیمپوں سمیت دیگر یاترا ٹریک پر سکیورٹی فورس نے ڈیرا ڈال دیا ہے ۔ سرکاری طور پر روایتی پہلگام اور بالٹال ٹریک سے یاترا 28 جون سے شروع ہوکر دو ماہ چلے گی۔ اب تک دو لاکھ سے زیادہ مسافروں نے رجسٹریشن کرالیا ہے۔ جموں و کشمیر میں گورنر راج لاگو ہونے کے بعد سے دیش کے کچھ سب سے مشہور افسروں کو ریاست میں بحال کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری بی دی سبرامنیم کو گورنر نے چیف سکریٹری اور سابق آئی پی ایس افسر وجے کمار کو گورنر کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ سبرامنیم کا شمار دیش کے قابل حکام میں ہوتا ہے اور انہیں نکسل متاثرہ علاقوں میں امن بحال کرنے کے لئے خاص طور پر جانا جاتا ہے۔ خطرناک چندن اسمگلر ویرپن کو اکتوبر2004 میں ایک مڈ بھیڑ میں مارنے والی ٹیم کی قیادت انہوں نے ہی کی تھی۔ منموہن سنگھ کے خاص افسران میں بھی سبرامنیم کا نام تھا۔ انہیں یوپی اے ۔I میں منموہن سنگھ نے اپنا پرائیویٹ سکریٹری مقرر کیا تھا وہیں گورنر ایم این راؤ کے صلاح کار مقرر کئے گئے سابق آئی پی ایس افسر وجے کمار جنگل میں انتہا پسندی انسداد آپریشن چلانے میں ماہر مانے جاتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں آتنکیوں کا خاتمہ کرنے کی ذمہ داری اب بلیک کیٹ کے نام سے مشہور نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی ) کے کمانڈوکو سونپی جائے گی۔ 51 این ایس جی کے قریب 24 کمانڈو کا دستہ و ہفتے پہلے سرینگر کے پاس حمہمہ بی ایس ایف کیمپ پہنچ چکا ہے۔ مقامی ماحول میں ڈھلنے کے لئے کمانڈو یہاں سخت ٹریننگ لے رہے ہیں۔ حکام کے ذرائع کے مطابق ماحول مناسب ہوتے ہی کمانڈو آتنکیوں کے خلاف آپریشن میں اترجائیں گے۔ جلد ہی یہاں 100 کمانڈو پہنچ جائیں گے۔ ادھر ہڑتال کی اپیل کے درمیان مظاہرے نا کام کرنے کے لئے جمعرات کو بڑے سطح پر علیحدگی پسندوں کی گرفتاریاں ہوئیں، احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کرنے جا رہے جے کے ایل ایف کے چیئرمین یاسین ملک کو بھی گرفتار کیا گیا۔ حریت کانفرنس کے کٹرپنتھی گروپ کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی و علیحدگی پسند لیڈر میر واعظ فاروق ، محمد اشرف سہرائی کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد بھی بند کردی گئی ہے۔ میر واعظ فاروق کے گڑھ میں اس مسجد میں کوئی نماز کے لئے نہیں جا سکا۔ صحافی شجاعت بخاری کے قتل اور سکیورٹی فورس کے ساتھ جھڑپوں میں لوگوں کی موت کے احتجاج میں علیحدگی پسندوں نے جمعرات کو ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ جموں و کشمیر میں امن و خوشحالی کا راستہ لمبا ہے پاکستان اور ان کے خیر خواہ اتنی آسانی سے ماننے والے نہیں، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ صدر راج کے پہلے دن ساؤتھ کشمیر کے پلوامہ ضلع میں سرینگر۔ جموں قومی شاہراہ پر بدھ کی شام کو آتنک وادیوں نے پولیس کی ایک گاڑی پر فائرننگ کی۔ اس میں ایک جوان شہید ہوگیا جبکہ دو زخمی ہوگئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گھروں میں چھپ کر فائرننگ کرکے جنگلوں میں بھاگنے والے آتنک وایوں سے صحیح ڈھنگ سے نمٹنے میں بلیک کیٹ کمانڈو زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ آتنکی افسر گھنی آبادی والے علاقوں میں گھروں میں چھپتے ہیں۔ ایسے میں سکیورٹی فورس کے سامنے چیلنج بنا رہتا ہے کہ عام لوگوں کو کم سے کم نقصان ہو۔ ایسے میں شہادتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ وادی پہنچے کمانڈو ہٹ اینڈ ان یعنی ہاؤس انٹرکشن ٹیم کا حصہ ہیں۔ وادی کے بدلے سیاسی حالات کے درمیان امرناتھ یاترا پر بھی کسی بڑے حملے کی خبر ہے۔ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کمانڈو کو تیار رہنے کے موڈ میں رکھا گیا ہے۔
(انل نریندر)

صحیح معنوں میں یودھا ہیں عرفان خان

فلم اداکار عرفان خان ان دنوں لندن میں ایک عجب قسم کے کینسر نیورو انڈروکرائم سے زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عرفان ایک ہیرو کی طرح اس بیماری سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے پہلی بار اپنی بیماری کا درد خط کے ذریعے سے ظاہر کیا ہے۔ ٹوئٹ پر شیئر پیچ میں عرفان نے کہا انہوں نے نتیجے کی چنتا کئے بغیر برہمان شکتی میں بھروسہ کرتے ہوئے درد ، خوف اور بے یقینی کے ذریعے اپنی لڑائی لڑی ہے۔ عرفان کا کہنا ہے انہیں اس بات کی جانکاری ملی تھی کہ بیماری عجب قسم کی ہے، علاج سے متعلق غیر یقینی اور کچھ معاملوں کی اسٹڈی کے بعد علاج کا سامنا کرنے کے لئے تیار تھے۔ اس دور میں ایسا محسوس ہوا کہ وہ تیز رفتارٹرین سے سفر کررہے ہوں اور اچانک کسی نے یہ اشارہ دیتے ہوئے ٹرین سے اترنے کو کہا وہ منزل تک پہنچ چکے تھے۔ ایک ہیرو کی طرح عرفان اپنی زندگی کے الگ الگ پڑاؤ پ الگ الگ حالات سے لڑنے کے عادی ہیں۔ وہ جنگ چاہے اپنے اندر کے اداکار کو دنیا تک پہنچانے کی ہو یا چکنے چپڑے ہیرو پر مرمٹنے والی انڈسٹری میں ہیروازم کی نئی تشریح گھڑنے کی رہی ہو، عرفان ہر با ر لڑے اور جیتے بھی۔ عرفان کی جس اداکاری کی آج دنیا دیوانی ہے اسے لوگوں تک پہنچانے کے لئے بھی انہوں نے لمبی لڑائی لڑی تھی۔ تب چھوٹے پردے سے بڑے پردے تک کی کھائی کو مٹا پانا ان کے لئے بڑی جدوجہد بن چکی تھی۔ میرا نایر کی فلم آسکر تک پہنچی ’سلام بامبے‘ میں انہیں وہ موقعہ ملا بھی لیکن ہنر لوگوں کو تب بھی نہیں پہنچا پائے۔ فلم میں ان کے چھوٹے سے رول پر ایڈیٹنگ کے دوران قینچی چل گئی اور عرفان کا انتظار کچھ لمبا ہوگیا۔ پھر حاصل ’مقبول‘ جیسی فلموں میں انہیں شہرت ملی۔ پھر کیا تھا عرفان نے بالی ووڈ میں ہیرو کی تشریح ہی بدل ڈالی۔ وہ چکنے چپڑے، چاکلیٹ یا ماچو ہیرو جس پر لڑکیاں لٹو ہوجائیں اس امیج کو عرفان نے اپنی شاندار پرفارمینس سے بدل دیا۔ آج بالی ووڈ کی سب سے رومانی فلم ’لنچ باکس‘ کے نائک ہیں۔ اس زمرے میں لائف ان میٹرو، پیکو، قریب قریب، سنگل، ہندی میڈیم جیسی فلموں کا نام لیا جاسکتا ہے۔ وہیں ان کا ہیروازم دیکھنا ہو تو پان سنگھ دیکھ لیجئے۔ عرفان کے خط میں ہمیں امید دکھائی دے رہی ہے۔ آج بالی ووڈ سے لیکر عرفان کے لاکھوں فین ان کے صحت یاب ہونے کی دعا کررہے ہیں۔ ہم بھی ان کی سلامتی کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وہ جلد اس منحوس بیماری سے فتح پائیں اور گھر لوٹ آئیں۔

(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...