Translater

31 مارچ 2012

پاکستان میں، ہندو۔ شیعہ اور عیسائی سمیت اقلیتیں نشانے پر ہیں



Published On 31 March 2012
انل نریندر
پاکستان میں لا اینڈ آرڈرکے حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ بدامنی کا عالم یہ ہے کہ آدمی صبح گھر سے نکلے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کے رات کو واپس وہ صحیح سلامت لوٹ سکے۔ نامعلوم بندوقیچیوں نے منگل کو کراچی شہر میں متحدہ قومی موومنٹ کے لیڈر اور ان کے بھائی کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ اس کے بعد شہر میں تشدد بھڑک اٹھا۔ فسادیوں نے درجنوں گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا اور تین افراد مارے گئے۔ ایم کیو ایم کے لیڈر منصور مختار کے گھر میں گھس کر ان کو گولیوں سے بھونا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر صغیر احمد نے قتل کے لئے امن کمیٹی ذمہ دار مانا ہے جو مبینہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے وابستہ ہے۔مہاجروں اور دیگر اقلیتوں جن میں ہندوستانی نژاد لوگ بھی شامل ہیں، اکثر نشانہ بنتے ہیں۔ ایتوار کی رات کو کراچی کے کلکٹن علاقے میں ایک مشاعرہ ہورہا تھا۔ اس میں ہندوستان کے جانے مانے شاہر منظر بھوپالی اور اقبال اشعر بھی شامل تھے۔ مشاعرے کی جگہ پر نامعلوم بندقچیوں نے حملہ کردیا۔ حملے میں خدا کے شکر سے ہندوستان کے دونوں شاعر بال بال بچ گئے۔ منظر بھوپالی نے بچایا کے جب ایتوار کی رات کو مشاعرے کی جگہ کے باہر وہ کھڑے تھے تب ہی اندر سے گولیاں چلنے کی آواز آنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں دہشت کا ماحول بن گیا۔ لوگ جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انہیں پولیس نے موقعہ واردات سے صحیح سلامت باہر نکالا۔ کراچی کے اس مشاعرے کو ایم کیو ایم کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کی حالت مسلسل خراب ہوتی جارہی ہے اور وہ اپنی سلامتی کو لیکر کافی فکرمند ہیں۔ اپنی 2011ء کی سالانہ رپورٹ میں اس نے بتایا ہے کہ پچھلے سال 389 اقلیتی طبقے کے لوگوں کو مارا گیا ان میں 100 کے قریب شیعہ بھی شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق جن لوگوں کا قتل کیا گیا ان میں سب سے زیادہ شیعہ فرقے کے تھے۔ احمدی فرقے بھی تشدد کا شکار ہورہے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے پاکستان میں اقلیتی فرقہ خاص کر ہندو اپنے آپ کو بہت غیر محفوظ محسوس کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جس میں ہندو فرقے پر تشدد برپا کیا گیا اور انہیں دھمکیاں دی گئیں جبکہ ہندو لڑکیوں کے اغوا اور زبردستی شادی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ہندو فرقے کے 150 سے زائد لوگوں کو بھارت کی پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان ہندوؤں نے بھارت کے حکام سے کہا ہے اگر انہیں پاکستان واپس بھیجا گیا تو ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستانی سماج میں قوت برداشت ختم ہورہی ہے۔ رپورٹ میں ایک مثال بھی دی گئی ہے کے ایک معاملے میں آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ پر شریعت کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا ۔ وہ بھی محض اس لئے کیونکہ وہ ایک لفظ کا مطلب صحیح سے نہیں ادا کر پائی۔رپورٹ میں عزت کے نام پر خواتین کے قتل کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں کہ پچھلے سال قریب943 عورتوں اور لڑکیوں کو عزت کے نام پر قتل کیا گیا۔ مرنے والی عورتوں میں 7عیسائی اور2 ہندو بھی شامل تھیں۔
پاکستان میں انسداد بے حرمتی شرعی قانون کی وجہ سے کئی ایسے لوگ زیادتیوں کا شکار ہیں جنہوں نے دو دہائیوں میں اپنے دیش چھوڑ کر بیرونی ممالک میں پناہ لی ہوئی ہے۔ انہی لوگوں میں ایک شخص جے جے جارج ہے جنہیں ایش نندا قانون کی وجہ سے 2007ء میں پاکستان چھوڑ کر فرانس میں بسنا پڑا۔ وہ ایک کامیاب وکیل تھے اور پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے مختلف امور پر قانونی صلاح دینے کا کام کیا کرتے تھے۔ 2002ء میں جب انہوں نے محمود اختر نام کے ایک قادیانی نوجوان کا مقدمہ لڑا تو انہیں طرح طرح کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان سے کہا گیا کہ وہ یا تو وکالت چھوڑ دیں یا پھرملک چھوڑدیں یا محمود اختر کا مقدمہ چھوڑدیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حالات شروع سے ایسے نہیں تھے۔ 1986ء میں ایش نندا قانون کے بننے کے بعد حالات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ جے جے جارج نے بتایا کہ ایش نندا قانون کی وجہ سے عیسائی فرقے کے لوگوں کو سب سے زیادہ مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ کسی بھی شکایت پر بغیر ثبوتوں کے غورکئے دو لوگوں کی گواہی کی بنیادپر قصوروار ٹھہرادیا جاتا ہے۔ آج پاکستان میں ہندو۔ شیعہ اور عیسائی سمیت دیگر اقلیتیں جتنی غیر محفوظ ہیں وہ پہلے کبھی نہیں تھیں۔
Anil Narendra, Christian, Daily Pratap, MQM, Pakistan, Pakistani Hindu, PPP, Shia, Vir Arjun

جنرل وی کے سنگھ کے خط نے کھڑے کئے سوال



Published On 31 March 2012
انل نریندر
زمینی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کے ذریعے وزیر اعظم کو لکھے خط جس میں بتایا گیا ہے کہ ہماری سکیورٹی فورس کے پاس ہتھیاروں کی کمی ہے۔ گولہ بارود وغیرہ کی کمی ہے، نے کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ کیا جنرل کو ایسا خط لکھنا چاہئے تھا؟کیا ریٹائرمنٹ سے پہلے یہ خط لکھنے کا صحیح وقت تھا؟ یہ خط کس سے اور کیوں افشاں کرایا گیا؟ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ ہیں کچھ سوالات جو آج زیربحث ہیں۔ جہاں تک جنرل کا خط ہے تو میں سمجھتا ہوں کے اگر زمینی فوج دیش کے وزیر اعظم کو یہ فوکس کرنا چاہتی ہے کہ ان کی لچر پالیسیوں اور بے قاعدگیوں کے سبب ہماری فوج میں ضروری سامان کی سپلائی نہیں ہورہی ہے اور اگر جنگ ہوتی ہے تو ہم اسے جیت نہیں سکتے، تو اس میں غلط کیاہے؟ کیا فوج کے سربراہ کو یا سیاستدانوں کو بتانا نہیں چاہئے کہ ہندوستانی فوج کی صلاحیت سے سمجھوتہ کیوں کیا جارہا ہے اور اگر اس کمی کو بلا تاخیر دور نہیں کیا گیا تو یہ فوج کے لئے خطرناک ہوگا۔ جہاں تک اس خط کے لکھنے کے وقت کی بات ہے جنرل کی عمر کے تنازعے کے بعد لکھنے سے تھوڑی سی بد نیتی کی بو ضرور آتی ہے۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کیونکہ حکومت نے جنرل کی عمر میں ان کی مخالفت کی تھی اس لئے جنرل نے بدلے کے جذبے سے یہ خط لکھا ہے۔ سب سے اہم سوال جو ہے وہ یہ کہ خط کس نے آؤٹ کیا ہے؟ یہ خط یا تو فوج سے لیک ہوسکتا ہے یا پھر وزیر اعظم کے دفتر سے۔ مجھے نہیں لگتا کہ جنرل نے خود اسے افشاں کیا ہوگا۔ مجھے شبہ پی ایم او پر ہے۔ اکثر پی ایم او سے خفیہ دستاویزات افشاں ہوتے رہتے ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں بھی کئی دستاویزات وزیر اعظم کے دفتر سے لیک ہوئے۔ رپورٹ ہے کہ جنرل نے یہ خط چین کی بڑھتی فوجی طاقت کو لیکر لکھا تھا؟ خط میں سیدھے طور پر چین کی تیاریوں کے مقابلے بھارت کی تیاریوں کو دکھایا گیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی ڈیفنس مشینری کے جدیدی کرن پر نوکرشاہی اڑنگے ڈال رہی ہے۔ جنرل سنگھ نے لکھا ہے مختار تبت علاقے میں چین کھلے عام تعمیرات کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہیں ہندوستانی فوج کی موجودگی تسلی بخش نہیں ہے۔ بھارت کی فوجی تیاریاں کھوکھلی ہیں۔ فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ ہم چین کے سامنے طاقت کے حساب سے کہیں کھرے نہیں اترتے اور پاکستان کو ہم آج بھی ہرانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ویسے فوجی سامان کی سپلائی میں فوجی حکام کا بھی قصور کم نہیں ہے۔ جنرل کے خط سے یہ تو صاف ہوہی گیا ہے کہ کئی فوجوں کے افسر بطور کمیشن ایجنٹ کام کررہے ہیں۔ اب ڈسپلن کی کمی ہے مشقوں میں اتنا گولہ بارود کیوں برباد کیا گیا؟ 1971ء کے بعد سے ہماری فوج نے کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی اس لئے صحیح معنی میں ہمیں اپنی فوجوں کی تازہ حالت کی صحیح معلومات نہیں ہے۔ جنرل سنگھ پچھلے کئی مہینے سے اپنی عمر کے تنازعے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں فوج کی تیاری کی فکر نہیں ہے ، کیا جنرل سنگھ نے یہ مزائل اس لئے تو نہیں داغی کے یوپی اے سرکار ڈیفنس بجٹ پر پوری توجہ دے رہی ہے اور فوجی سازو سامان کی سپلائی کو ترجیح دے۔ جو کچھ بھی ہو لیکن یہ دیش کے لئے اچھا نہیں ہے اور نہ ہی ہماری فوجوں کے لئے اچھے اشارے ہیں کہ ہماری تیاریاں پچھڑ چکی ہیں۔ تازہ جانکاری کا دیش کے دشمن زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سرکار اور فوج کے چیف میں اتنی خلیج بھی دیش کے مفاد میں نہیں ہے اس لئے میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا جنرل سنگھ جھوٹ بول رہے ہیں؟ کیا فوجی سازو سامان کی سپلائی کافی نہیں ہے؟ کیا پی ایم او سے یہ خط افشاں ہوا ہے؟ جواب ہے جزوی طور سے یہ سبھی صحیح نہیں ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, Indian Army, Manmohan Singh, Prime Minister, Vir Arjun

30 مارچ 2012

اور اب ’’طلاق ‘‘بھی فوراً



Published On 30 March 2012
انل نریندر
منموہن سنگھ سرکار کی کیبنٹ نے ہندو شادی ایکٹ قانون میں ترمیم کو منظوری دے دی ہے۔ ہندوؤں میں طلاق لینے کا قانونی عمل اب آسان ہوجائے گا۔اس کے تحت اب ججوں کے لئے طلاق کا فیصلہ دینے سے پہلے18 ماہ کی دوبارہ غور کرنے کی مدت کا وقت ختم ہوجائے گا۔فیصلے کے مطابق سنوائی کے دوران جج کو اگر لگتا ہے کہ شادی بچانا مشکل ہے تو وہ طلاق کا فیصلہ فوراً سنا سکتا ہے۔ابھی موجودہ حالات میں آپسی رضامندی کے طلاق معاملے میں کورٹ 18 ماہ کا وقت پھر سے سوچنے کے لئے میاں بیوی کو دیتا ہے۔ اب یہ وقت دینا جج کے لئے ضروری نہیں ہوگا۔ اور اگر انہیں لگے کے شادی کو بچایا نہیں جاسکتا اور میاں بیوی کے درمیان اتنی گہری درار آچکی ہے جو بھری نہیں جاسکتی تو وہ دوبارہ غور کرنے کی مدت کو ختم کرسکتا ہے۔اسی کے ساتھ ایک اور دور اندیش فیصلہ کیا گیا وہ یہ کہ شادی کے بعد خریدی گئی شوہرکی جائیداد میں عورت کا حصہ طے ہوگا۔شوہر کی جائیداد میں حق دینے کے علاوہ میرج ایکٹ (ترمیم )بل 2010ء کا مقصد گود لئے بچوں کو، والدین سے جنمے بچوں کے برابر حق دلانا بھی ہے۔
دراصل دو سال پہلے راجیہ سبھا میں یہ بل پیش ہوا تھاپھر اسے قانون اور مذہبی معاملوں کی پارلیمنٹری کمیٹی کے پاس بھیجا گیا۔جینتی نٹراجن کی صدارت والی اس کمیٹی کی سفارشوں کی بنیاد پر بل کا مسودہ پھر سے تیار کیا گیا۔ اس کے مطابق طلاق کی صورت میں بیوی کو شوہر کی جائیداد میں حصے داری ملے گی لیکن حصے داری معاملے کی بنیادپر عدالتیں طے کریں گی۔ حالانکہ کیبنٹ کا فیصلہ تبھی لاگو ہوگا جب بل پارلیمنٹ میں پاس ہوگا۔ موجودہ حالات میں شادی کے بعد خریدی گئی جائیداد میں طلاق کے بعد عورت کا کوئی حق نہیں۔ گودلئے بچوں کے بارے میں موجودہ قانون میں گودلئے گئے بچوں کی کسٹڈی پر کوئی واضح حل نہیں ہے۔
ہندو میرج ایکٹ میں نئی بنیاد کو شامل کرنے کے مدعے پر قانون دانوں کی رائے ملی جلی ہے۔ ماہرین کی مانیں تو اس ترمیم سے دیش میں طلاق کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ سینئر وکیل کی ٹی ایس تلسی کے مطابق وقت کے ساتھ قانون میں بدلاؤ ضروری ہوجاتے ہیں۔
آزاد سماج میں جو رشتہ سدھر نہیں سکتا اسے محض قانون کی بندش کی وجہ سے تھونپا جانا بالکل واجب نہیں ہے اس لئے نہیں سدھار سکنے والے رشتوں کو طلاق کو بنیاد بنایا جانا ہی ٹھیک فیصلہ ہے۔وہیں وکیل رچنا شریواستو نے کہا کہ اس بنیاد کا ناجائز استعمال مہلاؤں کے خلاف ہوسکتا ہے۔ اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے والے مرد اس بنیاد کا سہارا لے سکتے ہیں اس لئے یہ ضروری ہوگا کہ ترمیم میں مہلاؤں کے مفاد کا خیال رکھا جائے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہمیں تنازعات بچانے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کے پریوار توڑنے کی۔اس سے سماج میں برا اثر پڑے گا اور شادی کے پاک رشتے کو نقصان پہنچے گا۔دھیرے دھیرے پشچمی دیشوں کی سنسکرتی بھارت میں آرہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Hindu Law, Hindu Marriage Act. Hindu Succession Act, Vir Arjun

منوہرپاریکر نے سبھی راجیوں کو راستہ دکھا دیا



Published On 30 March 2012
انل نریندر
وزیر خزانہ نے صاف کہہ دیا ہے کہ دنیا میں ہورہے بدلاؤ اور اقتصادی مندی کے برے اثرات سے دیش بچ نہیں سکتا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی طرف اشارہ بھی کردیا ہے۔بجٹ بھاشن پر بحث کے دوران اپوزیشن کی تنقیدوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پرنب مکھرجی نے کہا کہ بین الاقوامی حالات کی ان دیکھی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے شبہات پر کہا کہ ہم نے جون2011 کے بعد سے تیل کی قیمت نہیں بڑھائی ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر قیمتیں لگاتار بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مجھ میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ میں بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کو باضابطہ کرپاؤں۔ ادھر تیل کمپنیوں نے اشارے دے دئے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں تین سے لیکر پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بین الاقوامی تیل قیمت میں پچھلے دنوں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے امپورٹ کا بل بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سارا بوجھ آپ عوام پر ڈال دیں۔ ہمارے سامنے گووا کے مکھیہ منتری (بھاجپا) منوہر پاریکر کی مثال ہے۔ سوموار کو پاریکر نے اپنے چناوی وعدے کے مطابق گووا کے سالانہ بجٹ میں 11.20 ویٹ گھٹا دیا ہے۔ اس وقت پنجی میں 65.61 پیسے فی لیٹر پیٹرول مل رہا ہے۔ 2 اپریل سے جب سے نئے ریٹ لاگو ہوجائیں گے یہی پیٹرول لگ بھگ55 روپے فی لیٹر ہوجائے گا۔ گووا کے مکھیہ منتری کے ذریعے اس اعلان کے 24 گھنٹے کے اندر راجستھان کے مکھیہ منتری اشوک گہلوت نے راجستھان میں پیٹرول پر ریٹ28.90 سے 26.20 کردیا ہے۔ اس سے راجستھان میں پیٹرول کی قیمت 69.83 روپے سے68.70 روپے ہوجائے گی۔ راجیہ سرکاروں کو پیٹرول اشیاء سے بہت پیسہ ملتا ہے۔
ایک اندازہ ہے کہ تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار کروڑ کی انکم سبھی راجیہ سرکاروں کو پیٹرول اشیاء پر ٹیکسوں سے ہوتی ہے۔آپ دہلی کو دیکھئے کیندریہ سرکار ایکسائز ڈیوٹی و ایجوکیشن سینس سے قریباً14.78 روپے فی لیٹر لے لیتی ہے۔یعنی دہلی میں پیٹرول اگر 65.64 پیسے فی لیٹر بک رہا ہے تو اس میں14.78 روپے فی لیٹر مرکزی سرکار ایکسائز میں لے رہا ہے۔ اگر مرکز و راجیہ سرکاروں کے مختلف ٹیکسوں کا حساب لیا جائے تو 50 فیصد قیمت کا تو ٹیکسوں میں جارہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں سبھی ٹیکسوں کو جوڑا جائے تو آدھے سے زیادہ لاگت تو اس کی ہے۔اگر انہیں ایک منٹ کے لئے ہٹا دیا جائے تو دہلی میں پیٹرول 30 روپے فی لیٹر بکے۔ مرکز اور دہلی سرکار کی جیب میں ہر لیٹر پیٹرول کی دہلی میں ہورہی سیل میں 25.72 روپے فی لیٹر جارہا ہے۔منوہر پاریکر نے راستہ دکھا دیا ہے۔ اگر مرکز اور راجیہ سرکاریں چاہیں تو یہ ایکسائز اور ویٹ وغیرہ گھٹا کر کچے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ایڈجسٹ کرسکتی ہیں۔ویسے بھی ان تیل کمپنیوں کی لاپرواہی اور فضول خرچی نے عام جنتا کی کمر توڑدی ہے۔پہلے سے پس رہی جنتا پر اب پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھا کر نیا بوجھ ڈالنے پر تلی ہوئی ہے کیندریہ اور راجیہ سرکار۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Goa, Vir Arjun

29 مارچ 2012

ایم سی ڈی چناؤ: کہیں یہ وبھیشن کانگریس۔ بھاجپا کو ڈوبا نہ دیں



Published On 29 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر ایک بار پھر سیاست میں گرمی آگئی ہے۔ ٹکٹوں کی مارا ماری سے جہاں کانگریس بری طرح الجھی ہوئی ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں اتنی مارا ماری شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی۔ توقع کے مطابق دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ نامزدگی کے آخری دن مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر ریکارڈ1785 لوگوں نے دہلی کے مختلف حصوں میں بنائے گئے68 مراکز پر اپنی نامزدگی داخل کی۔ ایک دن میں اتنے زیادہ امیدواروں کے ذریعے نامزدگی کا یہ ریکارڈ ہے۔ ایم سی ڈی کے امیدواروں کے انتخاب میں بھاجپا کے سبھی قاعدے قانون تار تار ہوگئے۔ پارٹی نے جہاں کئی سرکردہ لوگوں کو باہر کردیا وہیں پردیش صدر نے باغیوں سے نمٹنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑا۔ خاص بات یہ رہی کہ قریب 55 کونسلروں کو پارٹی نے دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اتارا ہے۔ پارٹی نے اس بار17کونسلروں کو دوسرے وارڈوں سے چناؤمیدان میں اتارا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری امیدواروں کی فہرست میں قریب آدھا درجن اہم کمیٹیوں کے صدور کے نام غائب ہیں۔ ایم سی ڈی چناؤ میں امیدواروں کے انتخاب میں کانگریس کی ماہرین کی کمیٹی نے نہ صرف44 کونسلروں کو جیتنے کے اہل مانا اور ان پر بھروسہ کر چناؤ میدان میں اتارا ہے۔2007ء میں ایم سی ڈی چناؤ میں کانگریس کے67 کونسلروں جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس سلیکشن کمیٹی نے ان 67 میں سے43 کونسلروں کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ ان میں کئی ایسے وارڈ ہیں جہاں تبدیلی ہوئی ہے وہ ریزرو ہوگئے ہیں۔248 نئے چہرے میدان میں اترے ہیں۔ حالانکہ کانگریس پردیش پردھان کا دعوی تھا کہ کسی ایسے شخص کے رشتے دار کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا جس کا وارڈ ریزرو نہ ہو۔ وہیں ایسا بھی شخص ٹک پانے کا حقدار نہیں ہوگا جو2007ء کے ایم سی ڈی چناؤ میں ایک ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارا ہو۔ امیدواروں کے انتخاب میں جو پیمانے پردیش کانگریس کمیٹی نے بنائے تھے وہ بھی پھُس ثابت ہوئے۔ کانگریس کی اسی پالیسی کے چلتے بڑے پیمانے پر لوگوں نے کانگریس سے بغاوت کر دل بل کے ساتھ پرچے داخل کئے ہیں۔ بھاجپا اور کانگریس میں پرانے نیتا اور ورکروں کی وفاداری پر بڑے نیتاؤں کے چہیتوں کے ساتھ رشتے دار بھاری پڑے۔ بڑے برے نیتاؤں نے زمین کے دھندے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہی اپنے رشتے داروں میں ٹکٹ بانٹ دی۔ بھاجپا میں ٹکٹ بانٹنے والوں نے اپنی چلانے کیلئے موجودہ117 کونسلروں کے ٹکٹ کاٹ دئے۔ ان میں سے 22 کونسلر اپنی بیوی یا بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ بھاجپا کے کل ملاکر عہدوں پر جمے 62 لیڈر اپنی اپنی بیوی اور بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ یہ سب ان خاتون ورکروں پر بھاری پڑی ہیں جو طویل عرصے سے پارٹی کا جھنڈا اٹھا رہی تھیں۔ دہلی کی دونوں بڑی پارٹیوں کانگریس اور بھاجپا نے اتنی بڑی تعداد میں سیاسی وبھیشن کردئے ہیں جو امیدواروں کی لنکا اجاڑنے کا کام کریں گے۔ کانگریس میں امیدواروں کی فہرست ہمیشہ آخری وقت پر ہی جاری ہوتی تھی لیکن بغاوت کے چلتے ایک امیدوار کو ٹکٹ دے کر پھر دوسرا امیدوار بدلنا پارٹی کے لئے نئی مصیبت کھڑی کررہا ہے۔ ادھر بھاجپا پارٹی ود دی فیملی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں پارٹی کے ورکروں کو درکنار کر اپنے خاندان کو اہمیت دی گئی ہے۔ بغاوت دونوں ہی پارٹیوں کے لئے ایک نیا درد سر بن گیا ہے۔ کہیں یہ تجزیئے دونوں پارٹیوں کی لنکا نہ جلادیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun

جنرل سنگھ کا الزام نیا نہیں سبھی جانتے ہیں ڈیفنس سودے میں دلالی ہوئی



Published On 29 March 2012
انل نریندر
اپنی ملازمت کے آخری دور میں زمینی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے جاتے جاتے ایک اور تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک ریٹائرڈ فوجی افسر نے گھٹیا گاڑیوں کی سپلائی کے بدلے انہیں 14 کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی تھی۔ جنرل سنگھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی پیدائش کا تنازعہ بھی اس لئے کھڑا کیا گیا کیونکہ وہ فوج کے کرپٹ عناصر کے خلاف تھے۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں کرپشن کا کینسر اتنا پھیل چکا ہے کہ اب چھوٹے موٹے آپریشن سے کام نہیں چلے گا بڑی سرجری کرنی ہوگی۔ جنرل سنگھ کا یہ بیان بیشک سنسنی خیز ہو لیکن بھروسے مند نہیں۔ لیکن سیدھا سوال یہ اٹھتا ہے کہ جنرل صاحب اسے فوراً کیوں سامنے نہیں لائے؟ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ڈیفنس سودوں میں دلالی کے لین دین کی آہٹ پتہ چلتی رہتی ہے۔ یہ ہتھیاروں سازوسامان اور دیگرسامان کی خرید کو لیکر بھی سنائی دیتی رہتی ہے۔ اگر جنرل سنگھ کے نئے الزام کو توجہ سے دیکھا جائے تو ان کا نشانہ حکومت اور وزیر دفاع اے کے انٹونی ہیں۔ وزیر دفاع نے جنرل سنگھ کی یوم پیدائش والے تنازعے میں ان کی حمایت نہیں لی تھی۔ جنرل سنگھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ رشوت کی پیشکش کے بارے میں انہوں نے وزیر دفاع کو واقف کرایا تھا۔ یہ اچھا ہے کہ انٹونی نے معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کا حکم دے دیا ہے کیونکہ یہ سوال برقرار ہے کہ جب فوج کے سربراہ نے اس وقت کے وزیر دفاع کو اس معاملے سے واقف کرایا تھا تو پھر جانچ کرانے کا فیصلہ اب کیوں لیا گیا؟ کیا وزیر دفاع اس کا انتظار کررہے تھے کہ فوج کے سربراہ معاملے کو عوام کے سامنے لائیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ فوج کے سربراہ نے رشوت کی پیشکش کے اس معاملے کو یوں ہی کیوں چھوڑدیا تھا؟ ان سوالوں کا جواب چاہے جو ہو یہ صاف ہے کہ ہماری سرکاری مشینری کرپشن سے نمٹنے میں کوئی قوت ارادی نہیں رکھتی۔ کیا یہ مانا جائے کہ بچولیوں کا کردار صرف دوسرے ملکوں سے کئے جانے والے ڈیفنس سودوں میں ہی ختم ہوگیا؟ یہ بیحد بے عزتی کے مترادف ہے کیونکہ آزادی کے فوراً بعد یعنی1948 ء میں جیپ گھوٹالے سے دوچار ہونے والے دیش کو اب یہ سننے کو مل رہا ہے کہ کسی طرف سے ٹرک گھوٹالے کو انجام دینے کی کوشش کی گئی۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان طور طریقوں کو دور کرنے کیلئے کہیں کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ جس سے گھوٹالوں کو روکا جاسکے۔
سب سے تشویشناک سوال یہ ہے کہ کیسے فوج کے سربراہ کو رشوت کی پیشکش ہوسکتی ہے؟ اس سے رشوت دینے والے دلالوں کی ہمت اور ان کی دیدہ دلیری کا بھی پتہ چلتا؟ کیا ڈیفنس سودہ بغیر دلالی دئے ہوسکتا ہے یا نہیں؟ کیا ممبر پارلیمنٹ اس سے واقف نہیں کے ڈیفنس سودوں میں دلالی ہوتی ہے؟ پھر یہ سب ڈرامہ کیوں؟ کیا سیاسی الزام در الزام سے دلالی رک جائے گی؟ اصل وجہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے آج تک اسے روکنے کا کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ دلالوں پر شکنجہ کسنے کے ساتھ ساتھ انہیں سزا دینے کے موزوں قاعدے قانون کی بھی کمی ہے اور اسی کا دلال فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یا تو یہ کریں کہ ایک یقینی فیصد کمیشن قانونی طور سے کردیں۔ آخر اخبار بیچنے کیلئے بھی تو ہم ہاکر کو کمیشن دیتے ہیں۔ ہاں کمیشن کے عوض میں گھٹیا سودا کم سے کم سکیورٹی سازوسامان میں منظور نہیں۔یہ تو دیش سے دھوکہ ہے اور جس کی کڑی سزا ہونی چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, Manmohan Singh, Vir Arjun

28 مارچ 2012

پینسٹھ فیصدی کسان آج بھی روزانہ 20 روپے نہیں کماتے



Published On 28 March 2012
انل نریندر
ہندوستانی معیشت کی بنیاد زراعت ہے۔ ہندوستان کی جی ڈی پی میں زراعت اور اس سے متعلق اشتراک 2007-08 اور 2008-09 کے دوران بسلسلہ 17.6 اور 17.1 فیصد رہا اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بھارت کا کسان ہی اس کی دھڑکن ہے اور ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر کسان خوشحال نہیں ہوگاتو دیش کبھی بھی خوشحال نہیں ہوسکتا۔ آج کسان کی اقتصادی حالت قابل رحم ہے۔ شہروں میں 28 روپے اور گاؤں میں 22.50 روپے میں خط افلاس تک بھلے ہی حکومت غریبی ہٹانے کا دعوی کرے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ 65 فیصد سے زیادہ کسان کنبے یومیہ20 روپے بھی نہیں کما پارہے ہیں۔ یہ انکشاف خود حکومت ہند کی وزارت زراعت کی جانب سے جاری اعدادو شمار سے ہوا ہے۔ اسے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ گیہوں اور چاول سے لیکر ارہر ،اڑد ، مونگ و گننے سمیت تقریباً ہر فصل کی لاگت کسانوں کو مل رہی کم از کم قیمت سے کافی زیادہ ہے۔ یہ حال صرف ایک ریاست کا نہیں بلکہ درجن بھر سے زیادہ ریاستوں کا ہے۔ دوسری جانب کھیتی کے لئے ضروری کھاد ، بیج و ڈیزل جیسی چیزوں کے دام پچھلی دہائی میں کئی گنا بڑھے ہیں۔
حکومت نے پہلی بار سرکاری طور پر یہ اعدادو شمار جاری کئے ہیں۔ کسی فصل کی فی کوئنٹل پیداوار کی لاگت کتنی آتی ہے۔اعدادو شمار کے مطابق2008-09 میں کسانوں کو ایک ایکڑ ارہر کی کھیتی پر اوسطاً3349 روپے ، مونگ پر 1806 روپے اور اڑد پر 61.36 روپے کا خسارہ ہوا۔ اسی طرح ایک ایکڑ زمین میں گنا بونے پر اوسطاً4704 روپے کا نقصان ہوا۔ ایسے ہی ایک ایکڑ جوار کی کھیتی پر قریب ہزار روپے کا خسارہ ہورہا ہے۔ جہاں تک گیہوں دھان کی بات ہے تو ان کی ایک ایکڑ کھیتی پر کسانوں کو ایک سال میں بسلسلہ 2200 روپے اور 4000 روپے کا اوسطاً منافع ہونے کی بات سرکاری اعدادو شمار میں دکھائی پڑتی ہے۔ گیہوں کی فصل تیار ہونے میں 5 مہینے سے زیادہ کا وقت لگتا ہے۔ اس طرح کسان کنبے کو ماہانہ آمدنی500 روپے سے بھی کم پڑے گی اس طرح دھان کی کھیتی پر بھی 4 مہینے سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ اس کے علاوہ جھارکھنڈ، ہماچل پردیش، مہاراشٹر اور مغربی بنگال ایسی ریاستیں ہیں جہاں 2008-09 میں گیہوں کی تھوک قیمت 1080 روپے تھی بمقابلہ لاگت اس کی زیادہ رہی ہے۔ اس طرح دھان کے معاملے میں ہی مہاراشٹر جھارکھنڈ ،تاملناڈو میں لاگت ایم ایس پی سے زیادہ ہے۔ وزارت کے مطابق دیش میں 65فیصد کسانوں کے پاس ایک ایکڑ سے بھی کم زمین ہے اور ان کی تعداد سوا آٹھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ بدقسمتی سے اس یوپی اے سرکار کی ترجیحات ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ عام بجٹ کے بعد شاید پہلی بار ہوگا جب کھاد اتنی مہنگی ہوجائے گی کے کھیتی کو ہی کھانے لگے گی۔سرکار نے کھادوں پر دی جانے والی سبسڈی میں بھاری کٹوتی کردی ہے۔ اس سے تقریباً سبھی طرح کی کھادوں کے دام بڑھنا طے ہیں۔ کھادوں کی بڑھی مانگ کو پورا کرنے کے لئے باہر سے ہی منگانے کا یہ واحد سہارا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کے بڑھنے سے گھریلو بازار میں کھاد کسانوں کی پہنچ سے باہر ہونے لگی ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں ایک دیش میں کھاد کا کوئی کارخانہ قائم نہیں کیا جاسکا۔ ان حالات میں ہمارے کسان بھائیوں کی حالت اور خراب ہونی ہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Montek Singh Ahluwalia, Poverty, Vir Arjun

ٹیم انا نے ایک بار پھرزوردار انگڑائی لی



Published On 28 March 2012
انل نریندر
انا ہزارے نے ایتوار کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ایک دن کا اپواس رکھ کر جن لوک پال تحریک کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی۔ کرپشن اور مجرمانہ معاملوں کا سامنا کر رہے سیاستدانوں کے خلاف اگست تک ایف آئی آر درج نہ ہونے پر جیل بھرو تحریک شروع کرنے کی بھی دھمکی دی۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت کو خبردار کیا کہ 2014 ء تک لوک پال بل لاؤ یا کرسی چھوڑنے کو تیار رہو۔ ایتوار کو جنترمنتر پر وہی پرانا ماحول نظر آیا جو پچھلے سال اپریل۔ اگست میں رام لیلا میدان میں دیکھنے کوملا تھا۔ ٹیم انا دہلی میں پھر سے عوامی حمایت پانے میں کامیاب رہی۔ کرپشن کے خلاف لڑنے والے لوگوں کی سلامتی کو لیکر ایک روزہ دھرنے کے دوران ٹیم انا نے مضبوط جن لوک پال کی مانگ دوہرائی۔ اس دوران ٹیم انا نے کرپشن کے خلاف لڑ رہے لوگوں کی سلامتی کو لیکر سیاستدانوں پر تلخ تبصرے کئے۔ پارلیمنٹ کی توہین کا الزام جھیل رہے اروند کیجریوال پرلگتا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کے قانونی نوٹس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ بیہڑو میں تو چیتے پائے جاتے ہیں ،ڈکیت تو پارلیمنٹ میں بنتے ہیں۔ حال ہی میں آئی اداکار عرفان خان اور ہدایت کارتگمانشو دھلیا کی فلم'پان سنگھ تومر' کا یہ ڈائیلاگ اروند کیجریوال کو اتنا پسند آیا کہ انہوں نے فلم کو تین بار دیکھا۔ لیکن جب انہوں نے اس بات کو سچائی کے ساتھ کہاتو کچھ نیتاؤں کو برا لگ گیا اور سپریم کورٹ کا سہارا لیکرانہیں مراعات شکنی کا نوٹس دے دیا گیا۔ جب چور ہیں تو چور کہنے سے کیوں ڈرتے ہیں۔ جبکہ سچائی تو یہ ہے کہ جنتا کے ذریعے چن کر پارلیمنٹ کے اندر پہنچنے والے قریب50 فیصدی ایم پی ایسے ہیں جن پر مجرمانہ معاملے چل رہے ہیں، یہ کہنا تھا کیجریوال کا۔ اسمبلی میں تال ٹھونکنے والے ہزاروں ممبران اسمبلی جرائم پیشہ نظریئے کے تھے۔سیڑھی چڑھ کر نیتا گری کا چولا اوڑھنے میں کامیاب ہیں۔ اروند کیجریوال کے مطابق میڈیا سائٹس اور اخباروں کے ذریعے سے اس بات کی وضاحت ہوچکی ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں وقار اور اخلاقیات کی بات کرنے والے قریب162 ممبران پرالیمنٹ پرمجرمانہ معاملے درج ہیں۔ 34 کیبنٹ وزیروں میں سے قریب14 کے اوپر کرپشن کے سنگین الزام لگے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق جن وزراء پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ ہیں پی چدمبرم(ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ) اجیت سنگھ (وکی لکس کے مطابق انہوں نے 10 کروڑ روپے فی ایم پی بانٹے) فاروق عبداللہ (جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے گھپلوں کا الزام) جی کے واسن نے دو لاکھ ایکڑ زمین تاملناڈو میں محض44 کروڑ روپے میں کچھ چہیتی کمپنیوں کو بیچ دی۔ کملناتھ نے ممبران کے ووٹ خریدنے کے لئے پیسہ بانٹا۔ کپل سبل پر ٹو جی گھوٹالے میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ شرد پوار کا نام ٹیلی اسکیم میں اچھلا۔ شری جے پرکاش جیسوال پر 10 لاکھ کروڑ کوئلہ اسکینڈل میں شامل ہونے کا شبہ ہے۔ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں سشیل کمار شنڈے کا نام بھی آیا ہے۔ ولاس راؤ دیشمکھ کا بھی اسی اسکینل میں نام اچھلا ہے۔ ایم کے آلاگیری نے 20 کروڑ روپے کی زمین محض 85 لاکھ روپے میں خریدی۔ ویر بھدر سنگھ پر ایف آئی اے ایس افسر کو رشوت دینے کا معاملہ چل رہا ہے۔ ایس ایم کرشنا کا نام مائننگ اسکینڈل میں آچکا ہے اور پرفل پٹیل پر ایئر انڈیا کو ڈوبانے کا الزام ہے۔ کیجریوال نے آگے کہا کہ 14 ممبران پارلیمنٹ ایسے ہیں جن پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے، وہیں 20 ممبران پارلیمنٹ پر قتل کی کوشش کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ 11 ممبران پارلیمنٹ پر ٹھگی اور زمین ہڑپنے وغیرہ میں شامل کورٹ میں ابھی معاملے چل رہے ہیں۔ 73 ایسے ایم پی ہیں جو اغوا کر زرفدیہ کے معاملے میں مطلوب چل رہے ہیں۔
دیش کی سبھی ریاستوں میں کل ملاکر 4120 ممبر اسمبلی چنے جاتے ہیں۔ ان میں قریب 1176 ممبران اسمبلی ایسے ہیں جن پر مجرمانہ معاملے تھانوں میں درج ہیں۔ 513 ممبران پر اغوا قتل ،اقتدام قتل اور زرفدیہ مانگنے کا مقدمہ فائلوں میں دھول چاٹ رہا ہے۔ کیجریوال نے کہا کے ایک چپڑاسی کی نوکری پارنے کے لئے لوگوں کو کریکٹر سرٹیفکیٹ دینا پڑتا ہے ،اس کے خلاف ایک کیس بھی درج ہوتا ہے تو اسے نوکری نہیں دی جاسکتی۔ ممبئی میں انا تحریک تھوڑی کمزور دکھائی پڑی تو سرکار نے یہ مان لیا کے ٹیم انا اب سرکار کے لئے زیادہ خطرہ نہیں ہوگی لیکن جس طریقے سے جنتر منترپر جنتا آئی، اس سے لگتا ہے کہ ایک بار پھر سرکار میں بے چینی دکھائی دے گی اور کیجریوال کا انتہائی سنگین بیان پر رد عمل ضرور سامنے آئے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Civil Society, Corruption, Daily Pratap, Jantar Mantar, Lokpal Bill, Vir Arjun

27 مارچ 2012

القاعدہ کے جہادی نے یہودی بچوں کو بھون ڈالا



Published On 29 March 2012
انل نریندر
جمعرات کے روز فرانس کے دولوج شہر میں ایک ڈرامائی پروگرام کے تحت مقامی پولیس نے القاعدہ کے ایک مشتبہ آتنک وادی کو جس عمارت میں وہ چھپا ہوا تھا ،اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اس نام نہاد القاعدہ کے جہادی نے جب اپنے آپ کو چاروں طرف سے گھرا پایا تو اس نے بالکنی سے تابڑ توڑ گولیاں چلانا شروع کردی۔ اس نے30 سے زیادہ فائر کئے۔ آخر میں وہ پولیس کی فائرنگ میں مارا گیا۔ اس طرح پچھلے چار مہینوں سے جاری یہ خوفناک کانڈ ختم ہوگیا۔ مارا گیا جہادی محمد معراج تھا۔اس کا الزام تھا کہ اس نے تلوج کے یہودی بچوں کے اسکول کے باہر اندھا دھند فائرنگ کی اور تین یہودی بچوں سمیت 4 لوگوں کو مار ڈالا۔ محمد معراج بنیادی طور سے الجزائر کا باشندہ تھا۔ ان یہودی بچوں کی عمر 4 سے7 سال کی تھی۔ معراج نے فرانس کے تین فوجیوں کو بھی موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ پولیس نے کہا معراج کے اس ہتیا کانڈ کرنے کے پیچھے کئی وجوہات تھیں۔ اس نے مرنے سے پہلے کہا تھا فرانس میں عورتوں کو پردہ نہ کرنے کے سرکاری فیصلے اسے بالکل قابل قبول نہیں۔ پولیس کو معراج کے گھر سے کئی ویڈیو ملے ہیں ان میں سے ایک میں اس نے فرانس کے ایک فوجی کو مارنے سے پہلے کہا 'تم میرے بھائی کو مارو میں تمہیں مار ڈالوں گا'۔ ایک اور ویڈیو میں وہ فرانسیسی فوجیوں کو مارنے کے وقت 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگاتارہا۔
معراج نے پولیس کو مرنے سے پہلے بتایا کہ اس نے وزیرستان کے کوئٹہ شہر میں القاعدہ ٹریننگ کیمپ میں ٹریننگ لی تھی اور اس نے کئی اور حملوں کا بھی پلان بنا رکھا تھا لیکن بدھوار 21 مارچ کو تولوس پولیس کے 300 جوانوں نے اس عمارت کو گھیر لیا جس میں معراج یہودی اسکول میں فائرنگ کرنے کے بعد چھپ گیا تھا۔تینوں بچوں کو یروشلم میں دفنا دیا گیا ہے۔ اگرچہ تولوس کا یہ حملہ ایک ٹریجڈی تھی لیکن یہ پوری طرح سے غیر متوقع نہیں تھا۔ فرانس میں یہودی طویل عرصے سے اس دیش میں عرب باشندوں سے دشمنی کا سامنا کررہے ہیں اور اب تو نوبت یہ آگئی ہے کہ فرانس میں مقیم یہودی فرانس سے اسرائیل ہجرت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ یہودی بچوں کو اسکول جاتے وقت سمجھایا جاتا ہے ان پر طعنے کسے جاتے ہیں۔ تولوس اور آس پاس کے علاقوں میں گذشتہ تین دنوں کے اندر فائرننگ میں تین واقعات ہوچکے ہیں جن میں 7 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے قومی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے میں آتنک وادیوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ قت ہے جب پورا دیش متحد رہے۔ اس سے پہلے فرانس کے وزیر داخلہ کلاڈے گیر نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مشتبہ کے بارے میں فرانسیسی ڈی سی آر آئی گھریلو خفیہ ایجنسی کو جانکاری تھی اور اسے پاکستان۔ افغانستان سرحد پر متنازعہ علاقے میں گھومتے دیکھا گیا۔ اس واقعے سے ایک اور بات ثابت ہوتی ہے کہ نئی دہلی ، بینکاک، جارجیا میں یہودیوں پر حملے یا حملوں کی کوشش ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہی کیگئی تھی جس میں فرانس کا تولوس شہر بھی شامل ہے۔ ویسے کوئی بھی مذہب بے قصور بچوں کو مارنے نہیں دیتا۔
Al Qaida, Anil Narendra, Daily Pratap, France, Jehadi, Shooting, Vir Arjun

اترپردیش کی فتح کے بعد اب ملائم سنگھ کی نظریں دہلی پر لگیں



Published On 27 March 2012
انل نریندر
اترپردیش کا اقتدار حاصل کرنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو کی نظر اب دہلی کے تخت پر لگ گئی ہے۔ اب ملائم نے وسط مدتی چناؤ کبھی بھی ممکن کی بات کہہ ڈالی۔ اس سے پہلے ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی نے بھی وسط مدتی چناؤ کے لئے تیار رہنے کی بات کہی تھی۔ ممتا۔ ملائم کے سر میں سر ملاتے ہوئے بھاجپا کی سشما سوراج نے بھی دیش میں وسط مدتی چناؤ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ دیواس (مدھیہ پردیش) ضلع میں ویجی لینس و نگرانی کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کرنے آئی سشما نے میڈیا سے کہا کہ دیش کی سیاست ہر دن بدل رہی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے وسط مدتی چناؤ کا امکان ہے۔ سشما نے کہا کہ مرکز کے لئے 272 کا جادوئی نمبر نہیں رہ گیا ہے اور وہ محض 227 ممبران پر ٹکی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہامرکز میں سرکار اقلیت میں آنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے بھاجپا وسط مدتی چناؤ کیلئے پوری تیار ہے۔ ملائم کا نشانہ وزیر اعظم بننے کا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو سماجوادی نظریئے کے بانی ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی 102 ویں جینتی پر لکھنؤ میں اپنے ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب لوک سبھا میں وسط مدتی چناؤ کیلئے کمر کس لی ہے کیونکہ لوک سبھا چناؤ کبھی بھی ہوسکتے ہیں اس سال یا پھر اگلے سال ، اس لئے سارے ورکر پوری طاقت ابھی سے لگادیں۔ یوپی میں شاندار کامیابی کے بعد اب ریاستی ورکر سبھی 80 لوک سبھا سیٹیں جیتنے کیلئے نشانہ مقرر کرلیں۔ دراصل شری ملائم سنگھ یادو نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے وقت جب سماجوادی پارٹی کا موقف کانگریس کے تئیں نرم ہوتا نظر آرہا تھا اور ممتا بنرجی کی بھرپائی کے لئے سپا کو مرکز میں جگہ ملنے کی قیاس آرائیاں تیز ہورہی تھیں تبھی ملائم نے وسط مدتی چناؤ کی بات کہہ کر کانگریس کی ہوا نکال دی۔ ایک طرف انہوں نے کانگریس کے تئیں نرم ہونے کا اپنے نظریئے کی درپردہ طور سے تردید کردی ہے۔ وہیں دوسری طرف اپنے ورکروں کو کانگریس کے خلاف سرگرم ہونے کا پیغام دے دیا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے اپنے بیٹے اور وزیر اعلی اکھلیش سنگھ کو یہ بتادیا ہے کہ ان کی سرکار کے کام کاج پر ہی لوک سبھا چناؤ لڑے جائیں گی۔ بھلے ہی وزیر اعلی کے عہد کی میعاد پانچ سال کی ہو لیکن ان کی کسوٹی پر ہونے والے کام کاج کی اگنی پریکشا ایک سال کے اندر ہی ہوجائے گی۔ ملائم سنگھ کو وسط مدتی چناؤ اس لئے بھی سوٹ کرتے ہیں کیونکہ ابھی انہوں نے نہ صرف اپنے بھائی (مسلم یادو) تجزیئے کو ٹھیک سے باندھ رکھا ہے بلکہ سماج وادی حکمت عملی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے سبھی ذاتوں کے ووٹ بینک ہتھیانے کا کرشمہ دکھایا ہے ۔ جس طرح اکھلیش نے اپنی پہلی ہی میٹنگ میں لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور بے روزگاری بھتہ جیسے وعدے چناؤ منشور میں خاص طور پرشامل تھے، کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ اس سے یہ قیاس آرائیاں بھی مسترد ہوگئیں کہ آخر سپا کی ان اہم اسکیموں کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ وسط مدتی چناؤ کی صورت میں ملائم سنگھ کو یہ فائدہ ہونے کی امید ہونی چاہئے کہ سال بھر تک لوگ کم سے کم مایاوتی راج کی یادیں تازہ ہی رکھیں گے۔ مایاوتی کے تئیں ناراضگی کا فائدہ بھی سپا کو لوک سبھا میں ضرور ملے گا۔
اترپردیش کے نظریئے سے دیکھا جائے تو وسط مدتی چناؤ بسپا چیف کے لئے بھی کم مفید نہیں کہا جاسکتا۔ چناؤ میں ہار کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بہن جی نے امید ظاہر کی تھی کہ سپا کے لوگوں کو بد امنی انہیں پھر سے اگلے چناؤ جیتنے کا موقعہ دے گی۔ حالانکہ مایاوتی کے لئے سپا کے عہد میں جتنے دنوں بعد چناؤ ہوں وہ مفید ہی رہیں گے کیونکہ انہوں نے امید پال رکھی ہے کہ سپا کی غلطیوں سے ان کی پارٹی کو فائدہ ملے گا۔ ویسے ان کی یہ امید بے معنی نہیں ہے کیونکہ پہلی بار اگر ملائم سنگھ یادو بسپا کے ساتھ مل کر چناؤ نہیں لڑتے تو اترپردیش میں پاؤں پھیلانے کا موقعہ بسپا کو اتنی جلدی نہیں ملتا۔ یہ ہی نہیں گیسٹ ہاؤس کانڈ نہیں ہوتا تو بھی بھاجپا مایاوتی کو وزیر اعلی نہ بنانے کی غلطی کرتی۔ ملائم سرکار کے تیسرے عہد میں سپا ورکروں کی غنڈہ گردی نے ہی مایاوتی کو 2007ء میں مکمل اکثریت سے سرکار بنانے کا موقعہ دیا۔ ایسے میں مایاوتی کی خوش فہمی واجب ہے لیکن جس طرح سپا سرکار چل رہی ہے اس کے پیش نظر ضرور اسے بے معنی کہا جائے گا۔ بسپا کے بانی کانشی رام اپنی تقریروں میں صاف طور پر کہا کرتے تھے کہ کمزور سرکار اور بار بار چناؤ ان کی پارٹی کے لئے فائدے مند ہیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Delhi, MCD, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

25 مارچ 2012

ضمنی چناؤ نتائج کانگریس اور بھاجپا کیلئے تشویش پیدا کرتے ہیں



Published On 25 March 2012
انل نریندر
تازہ ضمنی چناؤ نتائج اگر کانگریس کے لئے تشویش کا باعث ہیں تو آندھرا پردیش کی 7 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ میں اس کا صفایا ہونے کی خبر تو پارٹی کے لئے اچھااشارہ نہیں ہے۔ یہ ضمنی چناؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے بھی اچھے اشارے نہیں دے رہے ہیں۔ گجرات کو بھاجپا اپنا گڑھ مانتی ہے اور کرناٹک میں بھی وہ قریب چار سال سے اقتدار میں ہے لیکن ان ریاستوں میں اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس اور بھاجپا ہی خاص حریف ہیں۔ اس لئے بھی یہ ہار بھاجپا کیلئے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ کرناٹک کی اڈوپی ۔چکمگلور سیٹ وزیر اعلی سدانند گوڑا کی تھی، وزیر اعلی چنے جانے کے بعد انہوں نے ہی اس سیٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ظاہر ہے اس سیٹ کو برقراررکھنا بھاجپا کے لئے وقار کا سوال تھا۔ مگر یہاں اسے کانگریس کے ہاتھوں 45 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے مات کھانی پڑی۔ صاف ہے کہ اقتدار کے خاطر پارٹی کے اندر جاری جوڑ توڑ اور رسہ کشی اور کرپشن کے الزامات اور اسمبلی میں فحاشی ویڈیو دیکھے جانے کے واقعہ سے ساکھ خراب ہوئی اس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑا ہے۔ ڈسپلن کا دم بھرنے والی بھاجپا کے لئے آج ڈسپلن شکنی ہی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
گجرات میں منسا اسمبلی سیٹ بھاجپا کے ہاتھ سے نکل کر کانگریس کی جھولی میں آنا وزیر اعلی نریندر مودی کے لئے بھی جھٹکا ہے۔ غورطلب یہ بھی ہے کہ منسا اسمبلی سیٹ گاندھی نگر لوک سبھا حلقے میں آتی ہے۔ جس کی نمائندگی لال کرشن اڈوانی کرتے ہیں لیکن یہ پہلا موقعہ نہیں جب بھاجپا کے اس گڑھ میں سیند لگانے میں کانگریس کو کامیابی ملی ہے۔ پچھلے سال نومبر میں میونسپل انتخابات میں بھی بھاجپا کی درگتی ہوئی تھی اس سال کے آخر میں ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لئے منسا کی ہار جہاں نریندر مودی کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے وہیں کانگریس ضرور اس سے خوش ہوگی۔ آندھرا پردیش کانگریس کے لئے سب سے بڑا گڑھ رہا ہے۔ 2009ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس یہاں 95 فیصدی سیٹیں جیت کر سیاست کے پنڈتوں کو چکمہ دے گئی تھی لیکن اس کے کرشمائی لیڈر سورگیہ راج شیکھر ریڈی سے اچانک موت اور ان کے صاحبزادے جگنموہن ریڈی کے کانگریس سے الگ ہونے کے بعد اس کا اثر شروع ہوگیا۔ اس کے بعد ریاست میں 17 اسمبلی اور 2 لوک سبھا سیٹوں پرضمنی چناؤ ہوچکا ہے، جس میں حکمراں کانگریس کا پوری طرح صفایا ہوگیا ہے۔ جہاں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی وہیں بھاجپا جیسی پارٹی جس کا صوبے میں زیادہ اثر نہیں ہے ، وہ بھی تین سیٹیں جیت چکی ہے۔ مرکزی سرکار میں بڑے گھوٹالوں کے انکشاف کے بعد کانگریس کو مہاراشٹر، راجستھان اور دہلی میں ہوئے ضمنی چناؤ میں بھی زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں اس کی حکومتیں ہیں یہاں بھی ممبئی میونسپل چناؤ میں بھی اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ یعنی ہر اس جگہ سے کانگریس کو بری خبر مل رہی ہے جہاں اس کے پاس اچھی طاقت ہے۔ کیرل میں ہوئے ضمنی چناؤ میں کانگریس کی ساتھی پارٹی کانگریس(جیکب) نے اپنی سیٹ برقرار رکھی ہے۔ یہ نتیجہ کانگریس کے لئے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ریاست میں اس کی قیادت والی یوپی اے سرکار معمولی اکثریت پر ٹکی ہے۔ تملناڈو اور اڑیسہ میں بھی ایک ایک اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی چناؤ حکمراں پارٹی کے حق میں گئے ہیں۔ ویسے ضمنی چناؤ نتائج کو ہر حال میں عوامی رجحان کا اشارہ تو نہیں مانا جاسکتا لیکن کئی ریاستوں سے وہاں کے ووٹروں کے مزاج کا ضرور اشارہ ملتا ہے اور یہ اشارے نہ تو کانگریس کے لئے اچھے ہیں اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, By Poll, Karnataka, Andhra Pradesh, Gujarat, Modi, BJP, Congress,

کیا کہتی ہے یوپی کی ہار پر کانگریس کی خفیہ رپورٹ؟



Published On 25 March 2012
انل نریندر
حال ہی میں اختتام پذیر اترپردیش اسمبلی چناؤ میں کانگریس کی کراری ہار پارٹی لیڈر شپ ہضم نہیں کرپارہی ہے۔ باوجود سخت مشقت کے پارٹی کو کراری ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ پارٹی کو سب سے زیادہ تشویش سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے اور یووراج راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے میں ہار کی ہے۔ اس ہار کے اسباب کو جاننے کیلئے پارٹی نے کئی رپورٹ تیار کرائی ہیں۔ راہل گاندھی کے کرشمے کا فائدہ نہ مل پانے کے لئے جہاں کانگریس لیڈر شپ کمزور تنظیم، ٹکٹو کی غلط تقسیم مان رہی ہے بلکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ پارٹی صدر سونیا گاندھی کی رہنمائی میں سینٹرل الیکشن کمیٹی کے لئے بنی ایک خاص رپورٹ میں کہا گیا ہے پارٹی کے یووراج راہل گاندھی کی منڈلی بھی ہار کے لئے ذمہ دار ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایک دوسرے سے بیحد تعصب رکھنے والے لوگوں کے چھوٹے لیکن بااثر گروپ اور سیاسی پارٹی کے دم خم میں کمی والے امیدواروں کو ٹکٹ دئے جانے سے چناؤ کے نتیجے پارٹی کے لئے مایوس کن رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ذات پات اور سینئر لیڈروں کا غرور بھی ہار کا سبب مانا گیا ہے اس کی وجہ سے بنیادی ورکر چناؤ میں پوری طاقت لگانے کے بجائے علیحدہ رہا۔ کانگریس کی اس ہار کا پوسٹ مارٹم سے متعلق اس پہلی رپورٹ میں صوبے کی 33 سیٹوں پر توجہ دی گئی ہے۔ ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کی کارکردگی خراب رہی ہے جہاں راہل گاندھی کے قریبیوں نے مداخلت کرکے اپنی مرضی کے امیدواروں کو ٹکٹ دلائے تھے۔ ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کے مبصرین کے ذریعے چنے گئے امیدواروں اور مقامی ورکروں کو نظرانداز کیا گیا۔ فیروز آباد میں سسرا گنج سیٹ کی مثال سامنے ہے جہاں کانگریس امیدوار ہری شنکر یادو محض 4 ہزار 224 ووٹ لیکر پانچویں مقام پر رہے۔ مبصرین اور مقامی ورکروں کی پہلی پسند ٹھاکر دلبیرسنگھ تومر تھے۔ راہل نے خاص زور دیکر یادو کو ٹکٹ دلوایا۔ اسی طرح ایٹہ ضلع میں علی گنج سیٹ پر پارٹی کے امیدوار رنجن پال سنگھ 8 ہزار160 ووٹوں کے ساتھ پانچویں مقام پررہے۔اس سیٹ پر پارٹی کے آبزرور نے بزنس مین سبھاش ورما کو ٹکٹ کی وکالت کی تھی۔وہ اس اسمبلی حلقے میں لودھ فرقے سے واحد امیدوار تھے جو 27 ہزار لودھ ووٹوں کے زیادہ تر ووٹ حاصل کرسکتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس ورکروں کو نظرانداز کرنے سے انہوں نے پارٹی امیدوار کے خلاف ہی کام کیا اور اسے ہروانے میں لگ گئے۔ ریاست کے ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ نے کہا جو رپورٹ اب مل رہی ہے ہم لوگوں کو تو پہلے ہی اس بارے میں پتہ تھا۔ راہل گاندھی کو بھی اشارہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ مسلم لیڈر کی شکل میں صرف سلمان خورشید کو آگے برھایا گیا جبکہ مسلم انہیں اپنا لیڈر مانتے ہی نہیں ہیں۔ اس لئے راہل گاندھی نے سماجوادی پارٹی سے آئے رشید مسعود بینی پرساد ورما کو اہمیت دی۔ جبکہ یہ لوگ دوسری پارٹیوں سے آئے تھے اور اسی وجہ سے کانگریس ورکر اس چناؤ سے دور رہا۔ ریاست کے کئی ایم پی اور نیتا یہ ہی چاہتے ہیں کہ ہار کے ذمہ دار لوگوں کو سزا دی جائے جن لوگوں نے اس چناؤ میں درجہ فہرست ذاتوں، پسماندہ ذاتوں اور اقلیتوں والی سیٹوں کو جیتنے کے لئے لگایا تھا ان پر کارروائی کی جانی چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Congress, Uttar Pradesh, State Elections, Elections, Rahul Gandhi, Bahujan Samaj Party, Ajit Singh, Samajwadi Party,

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...