Translater

20 جولائی 2024

بہار کوملے خصوصی ریاست کا درجہ!



بہار کو خصوصی زمرہ کا درجہ دینے کا مطالبہ گزشتہ کئی سالوں سے ایک اہم سیاسی اور اقتصادی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ مرکزی بجٹ کے قریب آتے ہی یہ مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے۔ نتیش کمار کے قریبی وزیر وجے کمار چودھری نے اپنی پارٹی اور این ڈی اے کے حلقوں کی آواز میں شامل ہوتے ہوئے یہ مطالبہ مظبوطی سے اٹھایا ہے۔ اس سے قبل این ڈی اے میں شامل چراغ پاسوان اور جیتن رام مانجھی نے بھی بہار کو خصوصی درجہ دینے کی وکالت کی تھی۔ کچھ دن پہلے دہلی میں منعقدہ جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کی ایگزیکٹو میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ مرکز سے بہار کے لیے خصوصی ریاست کا درجہ یا خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیا جائے گا۔ جے ڈی (اے) لیڈر نیرج کمار نے کہا کہ ایگزیکٹو میں دو اہم قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ پہلا سیاسی اور دوسرا تنظیمی۔ پارٹی کے قومی صدر اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے راجیہ سبھا میں پارٹی لیڈر سنجے جھا کو ورکنگ صدر بنایا، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بہار کو خصوصی پیکیج دینے کے آپشن پر بھی غور کر سکتی ہے۔ قائم مقام صدر کے عہدے پر اپنی تقرری کے بعد سنجے جھا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ بہار پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہار کو خصوصی درجہ یا پیکیج دینے کا مطالبہ پورا ہو جائے گا۔ جے ڈی (یو) نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ریاستی حکومت ذات پر مبنی ریزرویشن پر ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ اور پارٹی صدر نتیش کمار کی قیادت میں ہم بہار کی ترقی کے لیے خصوصی پیکیج کے لیے مرکز پر دباو ¿ ڈالیں گے۔ خصوصی زمرہ کی ریاستوں کو مرکز سے زیادہ مالی امداد ملتی ہے۔ مرکز ان ریاستوں میں مرکزی اسکیموں کے لیے 90 فیصد فنڈ فراہم کرتا ہے۔ اور صرف 10 فیصد فنڈ ریاست کو دینا ہے۔ دوسری ریاستوں میں یہ تناسب 60:40 ہے۔ خصوصی حیثیت رکھنے والی ریاستوں کو بھی کچھ پروجیکٹوں میں علیحدہ مدد ملتی ہے۔ 14ویں مالیاتی کمیشن نے سماجی زمرہ کی فہرست میں مزید ریاستوں کو شامل نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈیولپمنٹ کے سینئر ماہر معاشیات ڈاکٹر سارتھی اچاریہ کہتے ہیں، بہار میں گزشتہ 3 دہائیوں سے حکمرانی اچھی نہیں رہی ہے۔ جب تک گورننس میں بہتری نہیں آتی، آندھرا پردیش حیدرآباد سے زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کرتا تھا اور اس نے خصوصی درجہ دینے کے بعد خصوصی پیکیج دے کر اپنا راستہ کھو دیا ہے۔ اس لیے اسے خصوصی حیثیت کی ضرورت ہے۔ سینئر ماہر اقتصادیات ابھیجیت مکوپادھیائے کہتے ہیں کہ خصوصی اقتصادی ترقی کے پیمانے پر بہار، بنگال اور اڈیشہ کا مطالبہ جائز ہے، آندھرا پسماندہ نہیں ہے۔ تقسیم کے بعد تلنگانہ کو مزید مدد کی ضرورت ہے۔ مرکز پر زیادہ مالی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ ٹیکس ریونیو میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں مرکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ پسماندہ ریاست کی مدد کرے کیونکہ وہ ہر چیز کا انچارج ہے۔
(انل نرےندر )

یوگی پر بڑھتے ہوئے حملے کیا اشارہ دے رہے ہیں؟



لوک سبھا انتخابات میں شرمناک کارکردگی کے بعد اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر مخالفین کے حملے تیز ہو گئے ہیں گزشتہ کئی برسوں سے قیادت تبدیلی کی آس لگائے بیٹھے بی جے پی کے ایک طبقے کو(مرکز کے حکم پر) کے لیے ایک سنہری موقع کی طرح دیکھرہا ہے،وہ ےوکی چوہان کی طرز پرچوطرفہ وار کی مدرا میں ہے حالانکہ یوگی ادتیہ ناتھ اور نہ تو شیو راج سنگھ چوہان کی طرح سے اور نہ ہی وسندھرا راجے کی طرح جو چھپ کر بیٹھتے ہیں اور حملوں کا سامنا کرتے ہیں۔ یوگی خیمہ کی طرف سے اس کا بھر پور مقابلہ کیا جارہا ہے اور لوک سبھا انتخابات میں شکست کا الزام مرکزی قیادت پر ڈالا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ختم ہونے والی ریاستی بی جے پی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے اور اس کے دوران دونوں دھڑوں کے ایک دوسرے پر حملے تیز ہوتے دیکھے گئے۔ یوگی خیمہ کو مظبوطی اتحادیوں سے بھی طاقت مل رہی ہے جو یوگی پر حملہ کرنے کا کوئی موقع ضائع کرتے نظر نہیں آتے۔ شکست کے بعد بی جے پی نے سیٹ وار جائزہ لیا اور ہارے ہوئے امیدواروں سمیت کارکنوں سے بات کرنے کے بعد رپورٹ تیار کی۔ رپورٹ میں کئی دیگر وجوہات کے علاوہ یوگی کے خلاف کئی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں جن میں اندرونی رسہ کشی اور انتظامیہ اور بے لگام نوکر شاہی کے ذریعہ بی جے پی کارکنوں کو نظر انداز کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم بعض اوقات امیدواروں کے انتخاب میں کمزوری اور حکمت عملی کو کارکنوں میں جوش و خروش کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد بھی اتر پردیش میں کسی نے شکست کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی آگے آکر استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔ ریاستی صدر بھوپیندر چودھری، ریاستی امیدوار دھرم پال سے لے کر وزیر اعلیٰ سمیت تمام اعلیٰ افسران اپنی جگہ پر کام کر رہے ہیں اور شکست کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوپی میں بی جے پی کی خراب کارکردگی کے بعد یوگی اپنے ہی لوگوں کے حملوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ بی جے پی اور این ڈی اے کے اتحادی سوال اٹھا رہے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات میں جس طرح امت شاہ نے کمان سنبھالی اور جس طرح یوگی کیمپ ہار کے بعد انہیں ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رشتوں میں کھٹائی بھی بڑھ رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یوگی کو راستے سے ہٹانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مودی کے بعد کس کا راستہ صاف ہو؟ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ دونوں نائب وزیر اعلیٰ، جن کے وزیر اعلیٰ یوگی سے ناخوشگوار تعلقات ہیں، جو امت شاہ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، یا سنجے نشاد، حلیفوں کے اوم پرکاش راج بھر یا دارا سنگھ چوہان، جو حال ہی میں ایس پی سے آئے ہیں اور ضمنی الیکشن ہارنے کے باوجود وزیر بنایا گیا، ان سب کی امیت شاہ سے گرمجوشی سے ملاقات کی تصاویر اکثر گردش کرتی رہتی ہیں۔ بی جے پی کی خراب کارکردگی پر ڈپٹی سی ایم کیشر موریہ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ تنظیم حکومت سے بڑی ہے۔ میں ڈپٹی چیف منسٹر دوسرے اور ورکر پہلے ہوں۔ کیشو کے اس بیان کو یوگی کو پیغام دینے کے سلسلے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سیٹوں میں کمی کے بعد یوگی اور موریہ کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں۔ وہ کسی میٹنگ میں نہیں جا رہے تھے۔ کیشو موریہ کو امت شاہ کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح سے یوگی پر حملے ہو رہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ مرکز اب انہیں ہٹانا چاہتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا دس ارکان اسمبلی کو ضمنی انتخابات سے پہلے ہٹایا جاتا ہے یا بعد میں؟
(انل نرےندر )

18 جولائی 2024

آئین ہتھیا دیوس پر آمنے سامنے !

مرکزی سرکار کی جانب سے25 جون کو ہر سال آئین ہتھیا دیوس کے طور پر منانے کا فرمان جاری ہونے کے بعد سیاسی ٹکراو¿ ہونا فطری تھا ۔ایک طرف بھاجپا نیتاو¿ں نے اس کے ذریعے کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا تو وہیں کانگریس نے اس پر جوابی وار کرتے ہوئے مرکز کے اس قدم کو سرخیاں بٹورنے کی قواعد قرار دیا ۔اپوزیشن کے کچھ دیگر پارٹیوںنے بھی اس پر سوال اٹھائے بھاجپا نے جمعہ کو کہا کہ ہر سال 25 جون کو آئین ہتھیا دیوس کی شکل میں منائیں گے اور لوگوں کو کانگریس کی تاناشاہی اور ذہنیت کے خلاف لڑنے والوں کی قربانی اور شہادت کی یاددلائیں گے۔بھاجپا کا یہ رد عمل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ذریعے 25 جون کو آئین ہتھیا دیوس کی شکل میں منانے کے سرکار کے فیصلے کا اعلان کے بعد آیا ہے ۔بھاجپا چیف اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے اپنے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ 25 جون 1975 وہ کالا دن تھا جب اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کی تانا شاہی ذہنیت نے آئین میں شامل جمہوریت کی ہتھیا کر دیش میں ایمرجنسی تھوپ دی تھی ۔انہوں نے کہا یہ دیوس ہمارے سبھی مہا پرشوں کی قربانی اور شہادت کی یاد دلائے گا۔ جو کانگریس کی تاناشاہی کا شکار ہوئے تھے وہیں کانگریس نے مرکزی سرکار کے اس فیصلے کو سرخیوں میںآنے کی قواعد قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی رہنمائی میںسال 2014 سے 24 کے درمیان ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی لگی ہوئی ہے ۔پارٹی کا دعویٰ ہے کہ 4 جون 2024 کا دن تاریخ میں مودی مکت دیوس کی شکل میں درج ہوگا۔ پارٹی ترجمان جے رام رمیش نے کہا کہ وزیراعظم ایک بار پھر ہیڈ لائن بنوانے کی کوشش کررہے ہیں وہیں کانگریس جنرل سکریٹیری پرینکا واڈرا نے سنیچر کو کہا کہ مرکزی حکومت اور بھاجپا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ آئیں اور جمہوریت کا قتل کرنے والے جمہوریت کی آتما پر حملہ کرنے والے لوگ اب سنویدھان آئین ہتھیا دیوس منائیں گے ۔انہوں نے اپنے ایکس پر کہا کہ بھارت کی مہان جنتا نے تاریخی لڑائی لڑ کر اپنے آئیں کو حاصل کیا ہے ۔انہوں نے آئین بنایا جن کی آئین میں آستھا ہے وہ آئیں کی حفاظت کریں گے ۔انہوں نے بھاجپا کے اپنے فیصلوں اور کرتوت سے بار بار آئیں اور جمہوریت کی روح پر حملہ کیا وہ منفی سیاست والا آئیں ہتھیا دیوس منائیں گے ہی اس میں تعجب کیسا؟ پارٹی کا کہنا ہے کہ 4 جون 2024 کا دن تاریخ میں مودی مکت دیوس کے طور پر یاد کیا جائے گا۔انہوں نے شخصی سیاسی اور اخلاقی ہار مان لینے سے پہلے دس برس تک غیر اعلانیہ ایمرجنسی لگائی تھی ۔پارٹی نے یاد دلایا لوک سبھاچناو¿ کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے اب کی بار 400 پار کا نعرہ دیا تھا ۔انہی کے ممبران پارلیمنٹ و لیڈروں نے کہا تھا کہ ہمیں 400 سیٹیں اس لئے چاہیے کہ ہم آئیں بدلنا چاہتے ہیں وہی لوگ آج آئیں ہتھیا دیوس منانے کا ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں ۔اگر آئیں بچانا ہی تھا تو آئیں ہتھیا دیوس کی جگہ سے آئیں تحفظ دیوس یا آئیں بناو¿ دیوس کا نام ددینا شاید بہتر ہوتا ۔آئیں ہتھیا دیوس ہماری رائے میں ٹھیک نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

ایودھیا کے بعد بدری ناتھ ہار!

13 سیٹوں کے ضمنی چناو¿ نتائج میں بھاجپا کو اتراکھنڈ کی بدری ناتھ اسمبلی سیٹ کو نا جیت پانا پارٹی کے لئے ایک بڑا سندیش ہے اس سے پہلے لوک سبھا چناو¿میں بھاجپا ایودھیا (فیض آباد ) ہار گئی تھی ۔حال ہی مین ہوئے لوک سبھاچناو¿ میں بھاجپا کی سیٹیں 303 سے گھٹ کر 240 رہ گئی تھیں ۔سب سے چونکانے والا فیصلہ فیض آباد لوک سبھا حلقہ کے ووٹروں نے سنا دیا جب وہاں سے بھاجپا امیدوار ہار گئے تھے یہ دنیا بھر میں بحث کا موضوع بنی ۔اس طرح اب بھاجپا نے اتراکھنڈ کی بدری ناتھ اسمبلی سیٹ بھی گنوا دی ہے ۔ایودھیا اور بدری ناتھ بھگوان بشنو کے سوروپ ہیں ۔دونوں سیٹیں ہارنے کے بعد بھاجپا ہندوتو کے ایجنڈے کو بھاری دھچکا لگا ہے ۔دراصل 2022 کے اسمبلی چناو¿ میں بھی بدری ناتھ اسمبلی سیٹ کانگریس نے ہی جیتی تھی لیکن کانگریس کے اسمبلی ممبرراجندر سنگھ بھنڈاری کو توڑ لیا گیا تھا پارٹی نے انہیں ہی امیدوار بنایا لیکن بدری ناتھ کی جنتا نے دل بدل کو قبول نہیں کیا اور پھر سے کانگریس پر ہی بھروسہ جتایا ۔کہہ سکتے ہیں کہ کانگریس نے اپنی سیٹ واپس لے لی اور یہاں ہار نہیں ہوئی اسی طرح اتراکھنڈ کی منگلور سیٹ بھی بسپا کے پاس تھی جو اب کانگریس نے جیتی ہے اس لئے کہا جاسکتاہے کہ اتراکھنڈ میں بھاجپا کو زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے لیکن ایودھیا میں رام مندر تعمیر سے دیش بھر میں بھاجپا کے حق میں ماحول بنانے کی جو کوشش کی گئی تھی اس کا کوئی اثر جنتا نے نہیں دکھایا یہ چناوی اشو نہیں بن سکا ۔آدھے ادھورے مندر کی تعمیر کروا کر چناوی فائدہ اٹھانے کی بھاجپا کی حکمت عملی الٹے منہ گری ہے اور اب رہی سہی کسر بدری ناتھ میں ہارنے پوری کر دی اس سے راہل گاندھی کی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ہندوتو پر بھاجپا کا کوئی ٹھیکہ نہیں ہے اگر ہندوتو کا ڈھنڈورہ دن بدن پیٹنے والی بھاجپا ایودھیا بدری ناتھ نہیں جیت سکے تو اس سے نتیجہ نکالا جاسکتا ہے ۔اتراکھنڈ کی دونوں سیٹوں پر ملی ہار بھاجپا کے سینئروں کے لئے ایک بڑا سبق دے گئی ہے ۔پارٹی کے حکمت عملی ساز اگر ابھی نہیں جاگے تو مستقبل میں اس کے لئے چناو¿ مشکل ہو جائے گا ۔کاڈر کے بجائے باہر سے آئے نیتاو¿ں پر داو¿ لگانے سے ورکروں میں ناراضگی کو بھاجپا لیڈر شپ بھاو¿ نہیں دے پائی اسی وجہ سے بدری ناتھ میں کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا عام طور پر جب بھی لوک سبھا یا اسمبلی ضمنی چناو¿ ہوتے ہیں تو زیادہ تر جنتا کا مفاد حکمراں پارٹی کے حق میں رہتا ہے ۔ایسا اس لئے بھی کیوںکہ ہر کوئی چاہتا ہے ان کا نمائندہ حکمراں پارٹی کا ہوگا تو علاقہ میں زیادہ ترقیاتی کام ہوں گے ۔اتراکھنڈ میں اس سے پہلے 15 ضمنی چناو¿ ہو چکے ہیں ان میں 14بار حکمراں پارٹی کی جیت ہوئی تھی ۔بھاجپا سرکار اور اس کی تنظیم دونوں اس ضمنی چناو¿ میں جیت مان کر چل رہے تھے ۔لیکن جنتا کے دل کو وہ ٹٹول نہیں پائے ۔جب تین ماہ پہلے جب لوک سبھا چناو¿ ہوا تھا تو بدری ناتھ سے بھاجپا امیدوار نے 8454 ووٹ سے بڑھت بنائی تھی اتنی کم میعاد میں جنتا کے مزاج میں کیسے تبدیلی آگئی کہ اسمبلی کے ضمنی چناو¿ میں بھاجپا امیدوار کو مار کھانی پڑی یہ بھگوان شیو اور بھگوان وشنو کا سندیش تو نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

16 جولائی 2024

سنگھ :کسانوں اور نوجوان و عام آدمی ہتشی ہو بجٹ!

منریگا میں 200 دن روزگار پر کیا بات بنے گی ؟آر ایس ایس نے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو دئے کسان مزدوروں کو لیکر یہ تجاویز رکھی ہیں آر ایس ایس جیسی تنظیموں و بھارتیہ کسان فیڈریشن اسمال صنعتیں اور بھارت سودیشی جانگرن منچ کے نمائندوں نے اور عہدےداران نے پچھلے 2 ہفتے کے دوران وزیر خزانہ کو اپنی رائے سونپی ہے وزارت مالیات بجٹ سے پہلے مختلف سیکٹروں و تنظیموں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہا ہے ۔مرکز میں نریندر مودی کی سرکار اب پوری طرح سے سر گرم ہے ۔اور نئی حکومت کے بعد لوک سبھا راجیہ سبھا کے اجلاس بھی شروع ہو چکے ہیں ۔اب سبھی کی نگاہیں آنے والے مرکزی مالی بجٹ پر ہیں جو 23 جولائی کو پیش کیا جانا ہے ۔اس سے پہلے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن مختلف تنظیموں کے نمائندوں سے بات چیت کر رہی ہیں ۔اسی سلسلہ میں آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں نے وزیر خزانہ کو سال 2025-25 کے بجٹ میں پی ایم کسان سمان ندھی کے مد میں پیسہ بڑھانے سمیت کئی دیگر تجویز پیش کی ہیں ۔ان تنظیموں نے درمیانے طبقہ کو بھی راحت دینے کے لئے شخصی طور پر انکم ٹیکس گھٹانے اور جی ایس ٹی سسٹم میں بھی بہتری لانے کی درخواست کی ہے ان تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کے آرٹیفیشئل انٹیلیجنس کے سبب نوکری گوانے والے لوگوں کو زیادہ ہنر مند بنانے کے لئے بجٹ میں پیسے کا ازافہ کیا جائے دیگر جاگرن منچ کے نمائندوں نے پچھلے ہفتہ وزیرخزانہ کو اپنی تجویزیں پیش کی تھی ۔انہوںنے یہ بھی کہا کے ایم ایس اے ای کو بھی اسمال سیکٹر میں شامل کیا جانا چاہئے ۔اس قدم سے دیش میں روزگار کے زیادہ پیدا کرنے میں مدد ملے گی مہاجن نے کہا کے آئیندہ ڈفینس گلیاروں میں ایم ایس ایم ای سیکٹروں کے لئے بھی جگہ ہونی چاہئے۔وہیں مزدوروں کی تنظیم ڈی ایم ایس کے ممبرو نے کہا دیگر ٹریڈ فیڈریشنوں کے ساتھ وزیر خزانہ کو میمورنڈم دیا تھا اور اس تنظیم نے منریگا میں کام کی دنوں کی تعداد سال میں بڑھاکر 200 دن کرنے کی تجویز رکھی ہے بی ایم ایس نے کہا کے اس روزگار یوجنا ذراعت و دیگر فیکٹریوں میں ہونے والے کام بھی شامل کئے جانے چاہئے۔اور پرانی پینشن یوجنا بہال کرنے کی تجویز رکھی اور مرکزی سرکار میں سبھی خالی اسامیوں کو بھرنے کےلئے تیز تر قدم اٹھانے کی مانگ کی ۔بھارتیہ کسان فیڈریشن نے پی ایم کسان ندھی رقم 6000 روپے سے بڑھانے کی مانگ کی ہے ۔یہ اسکیم 2018-19 میں شروع کی گئی تھی جس کا مقصد کسانوں کو بڑھتی لاگت سے نمٹنے میں مدد کرنا ہے ۔فیڈریشن نے کہا مرکز کو سنچائی آب پاشی کی مد میں پیسہ بڑھانے کے ساتھ آب و ہوا کے مضر اثرات جو دیکھتے ہوئے ندھیوں کو جوڑنے کے لئے رقم کا بھی انتظام کرنا چاہئے ۔اور یہ بھی دیکھنا ہے کے سنگھ سے جڑی تنظیموں کی تجاویز پر وزیر خزانہ کتنا عمل کرتی ہیں ۔ (انل نریندر)

بڑے کسان آندولن کی تیاری!

چوائنٹ کسان مورچہ (ایس کے ایم )نے جمعرات کو اعلان کیا کے وہ کم از کم مارچنل پرائز (ایم ایس پی )کی قانونی گارنٹی اور ذراعت قرض معافی سمیت دیگر التوا مطالبات کو لیکر پھر سے آندولن شروع کریں گے اور وزیراعظم نریندر مودی و لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو ایک میمورنڈم سونپیں گے ۔سال 2020-21 کے کسان آندولن کی قیادت کرنے والے ایس کے ایم نے اپنی ایک جنرل میٹنگ کے ایک دن بعد یہ اعلان کیا ہے ۔اس بار شاید تنظیم دہلی کوچ نہیں کریں گی ۔ایس کے ایم نے الگ الگ کسان تنظیمیں شامل ہیں ۔تنظیم کے لیڈروں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کے وزیراعظم اپوزیشن لیڈر اور راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے ممبران سے ملاقات کرنے انہیں کسانوں کی مانگوں سے متعلق میمورنڈم سونپیں گے۔اس کےلئے 16 سے 18 جولائی کے درمیان کا وقت مانگا جائے گا۔یہ پوچھے جانے پر کیا کسان پھر سے دہلی کوچ کریں گے کسان لیڈروں نے کہا کے اس بار وہ ملک گیر مظاہروں پر توجہ دے رہے ہیں ،خاص طور سے مہاراشٹر ،جھارکھنڈ ،جموں کشمیراور ہریانہ شامل ہیں ۔جہاں اسمبلی چناﺅ ہونے ہیں ۔انہوںنے کہا ہر بار احتجاج کا طریقہ استعمال کرنا ضروری نہیں ہے ۔ہم پورے دیش میں احتجاجی مظاہرے کریں گے ۔ایس کے ایم لیڈروں نے دعویٰ کیا کسان آندولن کا ہی اثر ہے کے حالیہ لوک سبھا چناﺅ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مختلف ریاستوں میں 159 دیہاتی علاقوں میں پارلیمانی سیٹوں میں ہار سامنا کرنا پڑا پریس کانفرنس کے بعد جاری بیان میں ایس کے ایم نے کہا کے جنرل میٹنگ میں بھارت سرکار اور محکمہ ذراعت کے سیکریٹری کے ذریعہ دستخط شدہ 9 دسمبر 2021 کے معائدہ لاگو کرنے اور کسانوں کی زندگی کو گزر بسر کو متاثر کرنے والی دیگر اہم مطالبات کو لیکر تحریک پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اور اپنی مانگو کی حمایت میں دیش بھر میں مظاہرے کرکے بھارت چھوڑو دیوس کو کارپوریٹ بھارت چھوڑو دیوس کی شکل میں منائیں گے ۔ایس کے ایم نے مانگ رکھی ہے کے بھارت کو ڈبلیو ٹی او سے باہر آنا چاہئے اور کثیر ملک کی کارپوریشنوں کوذراعت سیکٹر میں انٹری کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ایس کے ایم نے یہ بھی کہا 2020-21 کے مظاہروں کے دوران مرے لوگوں کے احترام میں دہلی کے ٹکری اور سنگھو بارڈر پر میمورئل بنائے جانے چاہئے۔ان بارڈروں پر آندولن کارریوں میں ایک سال سے زیادہ وقت تک ڈیرہ ڈالا تھا ساتھ ہی 2021 میں اترپردیش میں لکھیم پور کھیری میں ہوئے تشدد میں مارے گئے کسانوں کے ورثا ءکو معاﺅضہ دلانے کے لئے بھی دباﺅ ڈالا تھا۔بدھوار کو پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ نے ہریانہ سرکار کو شمبھو بارڈر کھولنے کا حکم دیا ہے۔ہمارا خیال ہے کے ہم ذرعی دیش ہےں اس لئے کسانوں کی ضرورتوں اور مانگو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔مگر انہیں بھی مشتعل احتجاج سے بچنا چاہئے اور اڑیل رویہ دکھانے کے بجائے سرکار کو بھی چھوٹے کسانوں کے مفاد کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہیں برتنی چاہئے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...