Translater

28 دسمبر 2019

!صحافیوں پر سرکاری زیادتی کے بڑھتے واقعات

پیرس میں واقع نگرانی انجمن آر ایس ایف کے مطابق دنیا بھر میں سال 2019میں 49صحافیوں کا قتل ہوا ان میں سے زیادہ تر صحافی یمن ،شام اور افغانستان میں لڑائی کی رپورٹنگ کے دوران مارے گئے یہ ظاہر کرتا ہے صحافت ایک خطرناک پیشہ بنا ہوا ہے انجمن کا کہنا ہے کہ دو دہائی میں اوسطاً ہرسال 80صحافیوں کی جان گئی ۔انجمن کے چیف کرشٹوف ڈیلونئیر نے بتایا جنگ زدہ علاقوں میں اعداد و شمار میں بیشک کمی آئی ہے جو خوشی کی بات لیکن جمہوری ملکوںمیں زیادہ تر ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے جو جمہوریت کیلئے ایک بڑی چنوتی ہے ۔2019میں قریب389صحافیوں کو جیل بھیجا گیا جو پچھلے سال کے مقابلہ میں 12فیصد زیادہ ہے ان میں سے آدھے چین ،مصر اور سعود ی عرب میں قید ہیں ۔بھارت میں بھی صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں صحافیوں کے سرکاری ٹورچر پر پریس کانسل آف انڈیا بھی فکر مند ہے ۔مرزا پور میں بچوں کو مڈے میل میں نمک روٹی ملائے جانے کی خبر دینے پر صحافی کو سرکاری طور پر اذیت دینے پر پریس کانسل کے چیئرمین جسٹس چندر ماولی کمار پرساد نے کہا کہ صرف سرکار کے ذریعے صحافی پر مقدمہ واپس لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس معاملے میں آگے کیا کاروائی ہو سکتی ہے اس پر بھی غور کرنا چاہیے ۔مسٹر پرساد پریاگ راج (الہ آباد ) کے ایک سرکٹ ہاو ¿ س حال میں میڈیا پر تلخ حملے اور صحافت کے پیمانوں کی خلاف ورزی سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کر رہے تھے ۔واضح ہو مرزا نمک روٹی کانڈ میں صحافی پر مقدمہ درج کئے جانے پر پریس کانسل نے پولس حکام پر ناراضگی جتائی اور کہا اگر ایسے میں وہ آئین کی خلاف ورزی کرتے رہے تو صحافی کیسے اپنی ذمہ داری نبھائے گا ۔چئیرمین نے ایک جج کے ریمارکس یاد دلائے جس میں جج موصوف نے کہاتھا کہ اترپردیش میں پولس دستہ جرائم کا ایک سخصی گروہ ہے ایک اخبار نویس نے مرزا پور کے ایک مہرورہ گاو ¿ں میں واقع پرائمری اسکول کے بچوں کو مڈڈے میل میں روٹی نمک دئے جانے کی خبر شائع کی تھی جس پر انتظامیہ نے صحافی پر مقدمہ درج کرا دیا ۔چئیرمین نے بتایاکہ مرزا پورمیں مڈ ڈے میل آندھرا میں پتر کار صحافی کے قتل کے معاملوں کا نوٹس لیکر سماعت کی اور بتایا کہ 45میں سے 40معاملے اترپردیش کے تھے اسلئے پریاگ راج میں سماعت ہوئی ۔جج نے کہا کہ صحافی کے خلاف سیدھا مقدمہ نا لکھا جائے اسلئے پہلے پریس کانسل میں معاملے کی سماعت ہواور اس کے نتیجہ کی بنیادپر ہی مقدمہ درج کیا جائے دیش میں ریاستی حکومتیں اورمرکزی سرکار آج کسی بھی صحافی کے خلاف مقدمہ درج کر دیتی ہے جو اس کے خلاف کوئی بھی نا پشندیدہ رپورٹنگ کرتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں جمہوریت میں رپوٹر کو ایسی رپورٹ دینے کا پورا حق ہے اسلئے پریس کو جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے ۔
(انل نریندر)

!بد فعلی کرنے والوں کےخلاف دیش میں غصہ ایوانوں میں بدفعلی کے ملزمان

دیش بھر میں بدفعلی کے بڑھتے واقعات سے غصہ ہے لوگ سڑکوں پر اتر کرمظاہر ہ کر رہے ہیں اور کینڈل مارچ کر رہے ہیں ۔ایسے میں چونکانے والی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ 19ممبرپارلیمنٹ خواتین کے خلاف جرائم میں ملزم ہیں یہ وہی بدفعلی جیسے گھناو ¿نے جرائم کے الزامات 4ایم پی اور6ممبران اسمبلی پر ہیں۔اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) رپورٹ لوک سبھا ،راجیہ سبھا کے 759ایم پی و 4063ممبران اسمبلی کے چناوی حلف ناموں کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی 2009و 2014میں مہیلا جرائم معاملوں میں دو ملزم ایم پی تھے اس بار جو جیتے ہیں ان کی تعداد 19ہے ۔پچھلے 5برس میں سب سے زیادہ 66ملزمان کو بھاجپا کو ٹکٹ دئے جبکہ کانگریس نے 46بسپا نے 40ترنمول کانگریس نے 7ایسے امید وار چنے ان تینوں پارٹیوں کی چیف عورتیں ہیں :کمیونسٹ پارٹی 15سیو سینا 13سپا 13اور دیگر 8پارٹیوں کے ہیں بی جے ڈی 7اور ٹی آر سی 6ملزمان کوٹکٹ دے چکی ہے ۔572ملزمان کو ٹکٹ ملا تھا اور 19ایم پی اور 126ممبر اسمبلی چناو ¿ جیت کر ایوان میں پہونچے ملزمان کے لوک سبھا ٹکٹ پانے والے ملزمان میں 2009سے 2019میں 231فیصد اضافہ ہوا ہے حالیہ جھارکھنڈ اسمبلی چناو ¿ 81ممبران میں سے44جیت کر آئے ہیں یعنی 54فیصد۔ممبرا ن اسمبلی نے اپنے اوپر ملزمانہ مقدمہ کے بارے میں بتایا ہے ان میں آبر ریزی قتل ،اقدام قتل ،اغوا عورتوں کے اوپر مظالم وغیرہ سے متعلق الزامات شامل ہیں ۔یہ رپورٹ جھارکھنڈ الیکشن واچ اور اے ڈی آر نے مل کر سبھی نئے منتخب ممبران اسمبلی کے حلف ناموں پر کا تجزیہ کرکے رپورٹ جاری کی اس لحاظ سے اس بارممبران کی تعداد میں 68فیصدی کمی آئی ہے اس بار دو ممبر اسمبلی ایسے چنے گئے جو کسی نہ کسی جرم میں قصوروار ثابت کئے جا چکے ہیں ان دونوں کے حلف نامہ کے مطابق قتل کے الزامات ہیں جبکہ 7کے خلاف اقدام قتل کے مقدمہ درج ہیں ۔اس طرح 5ممبران اسمبلی نے جو جانکاری دی ہے ان کے خلاف عورتوں پر ظلم کے مقدمہ چل رہے ہیں ان میں سے دو نے بتایا کہ ان کےخلاف آبر و ریزی کامقدمہ بھی چل رہا ہے ۔جب ہمارے ایم پی اور ممبر اسمبلی خود مجرمانہ نظریہ کے ہوں تو ان سے کسی طرح کی کیاامید کی جاسکتی ہے تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اس معاملے میںساری پارٹیاں اس حمام میں ننگی ہیں۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2019

!فارمولا ون ،کرکٹ اسٹیڈیم کا پلاٹ الاٹمینٹ کینسل

کریٹر نوئیڈا میں واقع جے پی اسپورٹ سٹی کا الارٹ مینٹ منسوخ کردیا گیا یہ الاٹمینٹ منسوخ کئے جانے کا فیصلہ سنیچر کو یمنا اتھارٹی کے 66ویں بورڈ میٹنگ میں لیا گیا ۔جے پی اسوسی ایٹس پر اتھارٹی سمیت بائرس کا 864کرو ڑ روپیا بقایا ہے جس کے لئے جمنا اتھارٹی نے جے پی اسوسی ایٹس اور اس کی معاون کمپنیوں کو نوٹس دیا تھا ۔جے پی اسپورٹس سٹی میں انٹرنیشنل سرکٹ بھی ہے جس پر گزشتہ تین بار فارمولا ون ریس نکالی گئی تھی اس کے علاوہ یہاں انٹرنیشنل اسٹیڈیم و ہاکی اسٹیڈیم بھی بنانے کی تجویز ہے ۔اتھارٹی نے کمپنی کو ایس ای زیڈ پروجیکٹ کے تحت ایک ہزار پندرہ ایکڑ زمین الاٹ کی تھی جس میں جے پی اور دیگر کمپنیوں کو 1500ایکڑ زمین بیچ چکی ہے ۔کمپنی پر رقم بقایا ہے کئی بار نوٹس جاری کرنے باد بھی کمپنی پیسہ جمع نہیں کر رہی تھی 30جون کو جمنااتھارٹی بورڈ کی میٹنگ میں ایک مہینہ کی مہولت دی گی تھی اور خبر دار کیا گیاتھا ایک ماہ کے اندر پیشہ نا جمع کرنے پر زمین کی الاٹ مینٹ منسوخ کر دی جائے گی اس وارننگ کے باد جے پی گروپ نے 100کروڑ روپئے اتھارٹی میں جمع کرادئے اس کے بعد الاٹ مینٹ منسوخ نہیں کیا گیا تھا ۔ایس ڈی زیڈ کابقایا جمع کرنے کیلئے باقی رقم کیلئے مہولت دی گئی تھی لیکن وہ جمع نہیں کی جس وجہ سے زمین کا الاٹ مینٹ کینسل کر دیا گیا یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ اتنی شاندار اسپورٹس فیسلٹی کا پیشوں کے قلت کے سبب یہ حالت ہو رہی ہے پورے دیش میں ایک ہی فارمولا ون سرکٹ ہے اور یہاں تین بار بین الاقوامی سطح کے ریس فارمولا ون ہو چکی ہے اس بدھ سرکٹ کو میں نے بھی دیکھا ہے امید کی جاتی ہے کہ اس کی دیکھ بھال کا پورا انتظام پروفیشنلی طور پر ہینڈل کیا جائے گا ۔ہمیں ہرحالت میں اسپورٹس کمپلیکس کی اچھے سے دیکھ بھال کرنی ہوگی ۔
(انل نریندر)

!چناو ¿ کا ذکرکئے بغیر دہلی کو بھانپ گئے مودی

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ دہلی میں سی بی ایس ای کے امتحان کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی یہ بھی طے ہوجائےگا کہ دہلی کے اسمبلی چناو ¿ 15فروری سے پہلے ہی ہو سکتے ہیں ۔واضح ہو کہ 15فروری سے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحان ہونے جارہے ہیں سیاسی گلیاروںمیں قیاس آرائیاںشروع ہو گئی ہیں ۔چناو ¿ کمیشن امتحان کے درمیان میں کبھی بھی کرواسکتی ہے دلیل یہ بھی ہے کہ چناو ¿ کے شور و غل میںبچے پڑھائی سے پریشان ہوتے ہیں ایسے میںطے ہے چناو ¿ امتحان سے پہلے ہی ہوںگے امکان ہے چناو ¿ کمیشن جنوری کے پہلے ہفتہ میں دہلی اسمبلی چناو ¿ کی تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے بھاجپا نے چناو ¿ مہم شروع کردی ہے وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو رام لیلا میدان میں اپنی ریلی میں ایک طرح سے اسمبلی چناو ¿ کیلئے چناو ¿ مہم کا آغاز مانا جارہا ہے مودی نے پارٹی کاایجنڈہ بھی طے کر دیا ہے وہ ہے ناجائز کالونیوں کے پکہ کرنے کا معاملہ دہلی کے چالیس لاکھ لوگوںسے جڑاہے اورپارٹی ان میںووٹ ملنے کی امید لگائے ہوئے ہے اس کے ساتھ ہی شہریت ترمیم قانون اور اسے لیکر مخالف پارٹیوں کے روئیے کو بھی چناوی اشو بنانے کے اشارے ہیں۔ان دونوں اشوز کو رفتار دینے کے ساتھ دہلی میں آلودہ پانی کا مسئلہ بھی پارٹی زور و شور سے اٹھائے گی اور انہوںنے ریلی میں بھی اس کا ذکر کیاتھا اور شہریوں کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی تھی۔شہریت قانون پر بولتے ہوئے مودی نے کئی بار دہلی کے اشوز پر بات کی اور کچی کالونیوں کو مالکانہ حق دینے کے ساتھ دہلی میں آلودگی ،پانی ،میٹرو اور ٹرانسپورٹ پر اپنی بات رکھی ۔وزیر اعظم نے اشاروں اشاروں میں دہلی سرکار اور اروندرکیجریوال پر بغیر نام لئے نکتہ چینی کی انہوں نے دہلی کے اہم اشو ز کو تو اٹھایا لیکن کیجریوال کا نام نہیں لیا دہلی اسمبلی چناو ¿ میں بھاجپا کی امیدیں اپنی مرکزی لیڈر شپ پر منحصر ہیں 21سال سے بھاجپا دہلی کے اقتدار سے باہر ہے لمبا بنواس ختم کرنے کیلئے بھاجپا نے دہلی کی سیاست میں کچی کالونیوں کا داو ¿ چلا ہے ۔انہوں نے اسمبلی چناو ¿ پر کوئی بات نہیں کی صرف پانی ،ٹرانسپورٹ جیسے معاملے اٹھا کر دہلی کے شہریو ں کی نبض پر ہاتھ رکھا انہوں نے دہلی پولس کے جوانوں کی بھی تعریف کی اور جس سے جوانوں کا حوصلہ بڑھ گیا کئی پولس ملازمین نے تقریر کے کچھ حصے واٹسپ کے ڈی پی میں بھی لگادئے ۔بحرحال دہلی میں مودی کی ریلی سے ایک طرح سے دہلی اسمبلی کے چناو ¿ کیلئے بھاجپا کی درپردہ چناو ¿ مہم کا آغاز مانا جاسکتاہے۔
(انل نریندر)

26 دسمبر 2019

ہریانہ میں ڈینٹ ،مہاراشٹر میں ڈیمج اور جھارکھنڈ میں ہار

کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبر م نے ضمانت کے باد جھارکھنڈ میں میڈیا سے بات چیت میںدعویٰ کیا تھا ہریانہ میں ہم نے ڈینٹ دیا مہاراشٹر میں ڈیمج کیا اور جھارکھنڈ میں یقینی طور پر بھاجپا کو ہرا دیا اب چناو ¿ نتائج میں چدمبرم کی اس بڑی پیش گوئی کو صحیح ثابت کر دیا ہریانہ میں بھاجپا نے جوڑ توڑ کر سرکار ضرور بنا لی لیکن اس شچ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پچھلے دو ماہ میں تین ریاستوں میں ہوئے چناو ¿ نتائج نے بھاجپا کو بڑا جھٹکا دیا ۔جھارکھنڈ کے چناو ¿ نتائج کا جھٹکا دہلی تک صاف محسوس کیا اب مانا جا رہا ہے کہ دہلی میں اگلے برس ہونے والے چناو ¿ پر بھی اس کا سیدھا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے جھارکھنڈ میں بھاجپا نے اپنی پوری طاقت جھونک دی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کی متعدد ریلیوں کے ساتھ ساتھ تمام وزراءنے ایک ماہ جھارکھنڈ میں اپنا کیمپ آفس بنایا ہوا تھا لیکن نتائج توقع کے مطابق نہیں آئے پانچ مرحلوں میں ہوئے چناو ¿ میں بھاجپا نے تقریباً ہر اسٹیج پر جموں کشمیر سے 370ہٹانے تین طلاق ایودھیا میں وشال مندر بنانے کی تعمیر کا ذکر کرنے کے ساتھ آخری دو مرحلوں میںشہریت ترمیم قانون کو اشو بنایا لیکن وہ کام نہیں آیا اس کا جواب یہ ہوا کہ ان بھاری بھرکم اشو نے جھارکھنڈ کے مقامی اشوز کو دبا دیا وکاس کے اجنڈے سے شروع ہوئی لڑائی کا موضوع تبدیل ہونے کا منفی اثر دیکھا گیا ۔جنتا نے تبدیلی کو چنا 2017کے باد سے جھارکھنڈ ساتویں ایسی ریاست ہے جو بھاجپا کے ہاتھو ں سے نکلی ہے ۔دسمبر 2017میں بھاجپا و این ڈی اے کی ان ریاستوںمیں سرکار تھی تب 72سے 75فیصدی ہندوستان پر بھگوا جھنڈا لہرا رہا تھا دسمبر 2019آتے آتے 15ریاستوں میں ہی بھاجپا این ڈی اے کی سرکاریں بچی ہیں حالانکہ کرناٹک میجورم تری پورہ ،میگھالیہ میں حکومت بنائی تھی ان میں کرناٹک بڑی ریاست ہے ۔بھاجپا کا مشن پھیل ہونے کے کئی اسباب رہے ہیں ان میں رگو بھر داس سے لوگوں کی ناراضگی اور غیر قبائلی چہرہ مسترد ہوا ۔سریو رام جیسے نیتاو ¿ں کو نظر انداز کیاگیا اندر کھانے دل بدل لیڈروں پر بھی بھروسہ ۔آجسو سے بیس سال پرانی دوستی ٹوٹنا اپوزیشن کا توڑ نہیںنکال پائے مقامی اشو وکاس کے قومی نعرے پر بھاری پڑے زمین اکیوائر و کاشت کاری قانون پر حکومت کا لچر رویہ ۔رام مندر شہریت قانون کی مخالفت بھاجپا کو بھاری پڑی جے ایم ایم ،آر جے ڈی و کانگریس اتحاد نے متحد ہو کر چناو ¿ لڑا بھاجپا اکیلی پڑ گئی نریندر مودی کا کرشمہ کام نہیں آیا غرور اور زیادہ ہی اعتماد بھاجپا کو لے ڈوبا۔
(انل نریندر)

!ہماری سبھی آندولن کاریوں سے نرم گو اپیل

شہریت قانون و این آرسی کے خلاف احتجاج کی جو شکل دیکھنے کو مل رہی ہے وہ احتجاج تو نہیں ہے جس سے پبلک پراپرٹی کو جلایا جا رہا ہے ،نقصان پہونچایا جا رہا ہے وہ آپ کی اور ہماری گاڑھی کمائی سے ہی نہیں ہے بلکہ ایک اچھا دیش بنانے کیلئے ہے اس لعنت سے باہرنکلنے ،پرا من احتجاج بنائے رکھنے صبر سے کام لینے اور شورش پشند عناصر کے تشدد کے ارادوں کو ہراناہوگا ۔جمہوریت میں اختلافات ظاہر کرنا یا سرکار کے کسی فیصلہ کی مخالفت کرنا عوام کا بنیادی حق مانا جاتا ہے لیکن دیش میں کئی حصوں میں ہو رہے تشدد کے واقعات تو خوف پیدا کرنے والے ہیں ہی لیکن ملکی مفاد اور جمہوری اقدار کےخلاف ہیں جمہوریت میں اگر ہمیں نا اتفاقی ظاہر کرنے کا حق ملاہے تو اس کے ساتھ ذمہ داریوں سے بھی بندھا ہوا ہے بغیر ذمہ داری کے حق خطرناک ہوجاتا ہے ۔آخر یہ کون سی تحریک ہے جس میں پولس چوکیاں جلائی جارہی ہیں اینٹ پتھروں سے حملے ہو رہے ہیں ،پٹرول پمپ پھینکے جارہے ہیں ،گاڑیاں جلائی جارہی ہیں ؟اس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ہمت کرنےوالے کون ہیں ؟اس کے پیچھے کون سازش رچ رہے ہیں؟ان سوالوں کا جواب موٹا موٹا سب کو معلوم ہے لیکن انہیں سامنے لانا سرکاروں کا کام ہے ۔سپریم کورٹ کی گائڈ لائن صاف ہے پبلک پراپرٹی کے نقصان ہونے کی صورت میں ساری ذمہ داری نقصان کرنے والے ملزم کی ہوگی ۔ملز م کو خوداپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے تک کورٹ اس کو ذمہ دار مانے گی ۔نریمن کمیٹی نے کہا تھا کہ ایسے معاملوں میں بلوائیوں سے پبلک پراپرٹی کو نقصان کا ہرجانہ وصولے گی جمہوریت میں انتظامیہ کو ماضی گزشتہ میں غچا دے کر دھرنا مظاہرے سے کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن اس کے جواز پر سوال ضرور اٹھے گا لیکن آگ کے شعلے ،آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دھویں ،سڑکوں پر بکھرے اینٹ پتھر ،ٹوٹے ہوئے شیشہ کے ٹکڑے اور گاڑیوں سے کہیں کہیں قابل اعتراض نعرے یہ دوسرے ہی اشارے دے رہے ہیں ۔احمدآ باد میں جس طرح بھیڑ چار پانچ پولس والوں پر اندھا دھند پتھر برسا رہی ہے ۔دہلی کے سیلم پور میں پولس والوں کو بھگا بھگا کر پیٹا گیا وہ کسی مہذب تحریک کی تصویر پیش نہیں کرتی ۔صاف ہے کہ کچھ غیر سماجی عناصر اس کے پیچھے ہیں تشدد کی پوری تیاری پہلے سے ہی کرلی گئی تھی ہوسکتاہے کچھ دیش مخالف عناصر بھی وقت کا فائدہ اٹھانے کی سازش رچ رہے ہوں جو لوگ آندولن کے نام پر آگ زنی اور تشدد کررہے ہیں ان کے ساتھ قانون ویسا ہی برطاو ¿ کرے گا جیسا جرائم پیشہ سے کیا جاتا ہے ۔ہم سبھی آندولن کاریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پر امن مظاہرہ اور دھرنا دیں تشدد کا سہارا نا لیں اپنی بات سنجیدگی سے کہیں تاکہ سرکار آپ کی بات سننے پر مجبور ہوں۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2019

کس کو صحیح مانیں پی ایم یا وزیرداخلہ کو ؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے رام لیلا میدان میں اتوار کے روز ایک بڑی ریلی سے خطاب میں ایک تیر سے کئی نشانے لگائے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لوگوںمیں ڈر پھیلانے اور شہریت ترمیم قانون پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں لگی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت نے اسکیموں میں کبھی مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا گیا شہریت قانون اور این آرسی کا ہندوستانی مسلمانوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔وزیر اعظم اپنے خطاب میں ایک ایسی بات کہہ گئے جس سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے انہوں نے ریلی سے خطاب میں لوگوں سے کہا کہ ان کی سرکار میں این آرسی کو لیکرابھی کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کیو نیٹ میں اس کا کوئی ذکرآیا ہے اورنہ ہی اس کا کوئی خاکہ تیار ہوا ہے اسلئے بھارت میں مسلمانوں کو اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔وزیر اعظم کا یہ بیان وزیر داخلہ کے بیانات سے بالکل الٹ ہے ان کا یہ بیان اسلئے بھی اہم ہے کیونکہ امت شاہ اور کچھ سینئر وزیر کئی موقعوں پر پورے دیش میں این آر سی لاگو کئے جانے کی بات کہہ چکے ہیں ۔یہاں تک کہ صدر خطاب میں بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے یعنی بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی یہ اشو اٹھ چکا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کس کی بات صحیح مانی جائے ۔یا وزیر اعظم کی جو ایک چناو ¿ ریلی میں بھی یہ کہہ چکے ہیں یا پھر وزیر داخلہ کے پارلیمنٹ میں دئے گئے بیان کو ؟مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی نے این آر سی کے مجوزہ ملک گیز سطح پر لاگو کرنے پر پبلک طور سے وزیر داخلہ کے موقف سے بالکل برعکس بیان دیا ہے انہوں نے کہا شہریت ترمیم ایکٹ اور این آر سی پر امت شاہ اور مودی کے بیانات سب کے سامنے ہیں اور بھارت کی جنتا طے کرے کون صحیح ہے کون غلط ؟شہریت ترمیم قانون اور شہریت رجسٹریشن (این آر سی ) کے خلاف اتوار کو دئے گئے مودی کے بیان پر سیتا رام یچوری نے این آر سی سے وابستہ پی ایم کے بیان پر سوال کھڑا کیا جب این آر سی کیبنیٹ میں کوئی اشو نہیں ہے تو پھر وزیر داخلہ امت شاہ اسے لاگو کرنے کا بیان کیوں دے رہے ہیں ؟کانگریس نے بھی پی ایم پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ کا بیان خوف اور بے یقینی کا ماحول بنا رہا ہے۔کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے کہا کہ امت شاہ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سی اے اے کے بعد پورے دیش میں این آر سی لاگو کرنے کا بیان دیا تھا اسی طرح بھاجپا کے کئی وزیر اعلیٰ اور سینئر مرکزی وزراءنے این آر سی کو پورے دیش میں لاگو کرنے کی بات کہی انہوں نے کہا پی ایم کانگریس پر الزام لگا رہے ہیں تو پھر سرکار اس کا جواب کیوں نہیں دے رہی آسام سمیت نارتھ ایسٹ کی ریاستوںمیں اتنا خطرناک احتجاج کیوں ہو رہا ہے وہاں تو بھاجپا کی سرکاریں ہیں ؟
(انل نریندر)

24 دسمبر 2019

!ڈونالڈ ٹرمپ پر پارلیمنٹ میں چلے گامقدمہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر مقدمہ چلانے کی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ہاو ¿س آف نمائندگان سے منظوری مل گئی ہے اب ایوان بالا سینٹ میں ٹرمپ پر مقدمہ چلایا جائےگا ۔امریکہ کی تاریخ میں ٹرمپ ایسے تیسرتے صدر ہونگے جن کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی گئی ہے ۔ڈونالڈ ٹرمپ پر الزا م ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر وولوڈی میر جلنستھی پر 2020میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امکانی امید وار جوئیب بریڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف کرپشن جانچ کیلئے دباو ¿ بنایا تھا بوئیڈن کے بیٹے یوکرین کی ایک بجلی کمپنی میں بڑے افسر ہیں ۔اب رپبلکن پارٹی کی اکثریت والی سنٹ میں صڈر ٹرمپ کے خلاف جانچ شروع ہوگی یہ جانچ نیتاو ¿ں کے چھوٹے چھوٹے گروپ یعنی کمیٹیاں کریں گی ایک کمیٹی کو معاملہ سے جڑے کسی ایک چیز کو سمجھنے کی مہارت حاصل ہے۔جیسے خارجی امور کی کمیٹی اقتصادی امور کی کمیٹی انصاف کمیٹی شامل ہیں اس معاملے میں کھلے طور پر گواہوں کو بلایا جائے گا ۔امریکہ اور یوروپ کے لوگ جہاں کرشمس کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں مالس اور دکانیں روشنیوں سے جگمگا رہی ہیں اور اسی درمیاں دنیا کے سب سے طاقتور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف نچلے ایوان میں مقدمہ چلانے کی تحریک پاس ہو گئی ہے ایوان میں اپوزیشن ڈیموکریٹو پارٹی کی اکثریت ہے اس لئے تجویز کا پاس ہونا یقینی تھا حالانکہ کانگریس کے طاقتور دوسرے ایوان سینٹ میں رپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے ۔امریکی آئین کے تقاضوں کے مطابق ایوان بالا میں تہائی ووٹوں کی بنیادپر ہی مقدمہ کی آخری منزل تک پہونچایا جا سکتا ہے سینٹ میں نمبروں کی طاقت بھلے ہی ٹرمپ کے حق میں ہے اسلئے وہ پوری طرح سے اس کے ناکام ہونے کیلئے مطمئن ہیں ۔اس سے پہلے صدر اینڈریو جانشن پر 1868اور بلکرنٹن پر 1998میں مقدمہ چلایاگیا تھا سینٹ کے ان دونوں کی تجویز کو نامنظور کر دیا گیا تھا رچرڈ نکسن نے 1974میں مقدمہ کی کاروائی شروع ہونے سے پہلے ہی استعفیٰ دیدیا تھا جبکہ بل کرنٹن نے اپنی غلطی پر معافی مانگ لی تھی لیکن ڈونالڈ ٹرمپ اپنی غلطی نہیں مانتے کہ انہوں نے کچھ غلط کیا ہے جب پارلیمنٹ میں ٹرمپ پر مقدمہ پر ووٹنگ چل رہی تھی تب وہ کسی جگہ بیٹل کریک میں ریلی کو خطاب کر ہے تھے جہان انہوں نے کہا تھا کہ ہم لوگوں کیلئے نوکریاں پیدا کر رہے ہیں مشیگن کے لوگوں کیلئے لڑ رہے ہیں وہیں کٹر پشند اورلیفٹ کانگریسی میرے خلاف نفرت اور غرور سے بھری آنکھ سے دیکھ رہے ہیں میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ڈیموکریٹس کو پتہ ہے کہ ایوان بالا میں تحریک گر جائے گی اور پھر بھی آنے والے صدارتی چناو ¿ میں ذہنی اور اخلاقی بڑھت بنانے کیلئے ٹرمپ کےخلاف مقدمہ چلانے کی کاروائی ہوئی ہے ویسے بھی دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان ایک صحت مند جمہوری مقابلہ اور حریف کی سیاست میں بدل گیا ہے ۔
(انل نریندر)

!اب عدالتوں میں جج بھی محفوظ نہیں

اتر پردیش میںقانون و نظم اتنا خراب ہو گیا ہے کہ اب تو عدالتوں میں جج تک محفوظ نہیں ہیں بجنور عدالتی کمپلیکس میں سی جی ایم کورٹ میں گولیاںچلیں جج محترم کو اپنی جان بچانے کیلئے میزکے نیچے چھپنا پڑا نجیب آباد کے حاجی احسان اور شاداب قتل کانڈ میں ملزم شاطر بدمعاش شاہ نواز اور جبار جلال آباد بجنور دہلی کی تہاڑ جیل سے پیشی پر بجنور لایا گیا تھا عدالت میں پیشی کے دوران حاجی احسان کے بیٹے ساہل اور اقرار ،کرت پور اور سمیت (شاملی )نے گولیاں برساں کر شاہ نواز کر مار ڈالا گولیاںبہت قریب سے چلائی گئیں ایک سینے میں لگی اور ایک سر پر اور نو گولیاں پیٹ میں لگیں ۔الہ آباد ہائی کورٹ نے بجنور کی سی جی ایم عدالت میں ملزم کے قتل کی واردات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے از خود نوٹس لیا ہے ۔چیف جسٹس کی ہدایت پر تشکیل اسپیشل بنچ نے معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ایک دہائی سے ریاست کی ضلع عدالتوں میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں ۔آتنکی حملے بھی ہوئے ہیں اس کے باوجود سرکار نے ٹھوس قد م نہیں اٹھائے ۔عدالتوں میں سب سے ناکارہ پولس والوں کو تعینات کیا جاتا ہے ۔یہاں تک کہ عدالتوں میں آج جج بھی محفوظ نہیں ہیں چونکہ وارداتیں کورٹ روم میں ہو رہی ہیں ۔عدالت نے ضلع جج بجنور اور و سی جی ایم کی رپورٹ پر نوٹس لیکر ڈائرکٹر جنرل پولس کو اور اپر چیف سکریٹری ہوم کو طلب کیا ہے ۔جسٹس سدھیر اگروال اور جسٹس سمیت کمار کی بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت سے عدالت کی حفاظت کیلئے اٹھائے گئے قدموں کی جانکاری بھی مانگی ہے حقیقت میں یہ واردات سنگین اور چونکانے والی ہے ۔کچھ برسوں سے ایسے کرائم کے واقعات مظفر نگر ،آگرہ ضلعوں کی عدالتوں میں ہو چکے ہیں ایک دہائی سے زیادہ وقت سے عدالتوں میں مجرمانہ اور 2008میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں جن میں کئی لوگوں کی جان جا چکی ہے ایسے معاملوں میں قدم اٹھانے کا یہ موزوں وقت ہے ۔ہم اس معاملے کو اور نہیں ٹال سکتے وقت آگیا ہے پختہ قوت ارادی سے ایسے معاملوں کو نپٹایا جائے ۔بجنور کے سی جی ایم کورٹ میں قتل کے معاملے میں پولس کی لاپرواہی اجگر ہوتی ہے ایس پی بجنور نے پولس چوکی انچارج سمیت 18پولس والوں کو معطل کر دیا ہے پی ایس سی کے جوان اوردہلی پولس کے کرم چاریوں کے خلاف اعلیٰ حکام کو شکایت کا خط بھیجا گیا ہے۔سپریم کورٹ کئی بار کہ چکی ہے کہ اتر پردیش میں جنگل راج ہے ۔
(انل نریندر)

!بیشک احتجاج سی اے اے پر ہے اصلی ڈرتو این آر سی کا ہے

دیش میںجو حالات جموں کشمیر سے دفعہ 370ہٹانے اور تین طلاق ختم کرنے کے قانون سے لیکر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ایودھیامیں رام مندر کے فیصلہ سے نہیں پیدا ہوئے تھے وہ آج شہریت ترمیم قانون (سی اے اے )نے کچھ دنوں میں ہی کر دئے ہیں احتجاج کو بھلے چوکے کی تلاش میں اپوزیشن پارٹیاں ہو ا دے رہی ہوں لیکن اقلیتیں اسے اپنے وجود کی لڑائی مان کر لڑنے کیلئے بے چین ہیں ۔اقلیتوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو اس ناراضگی کو ہوا دے رہا ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ وہ طبقہ ہے جو مودی کو برداشت نہیں کرتا آج سے نہیں بلکہ 2002سے جاری رکھے ہوئے ہے وہ ہر ایسے موقع کی تلاش میں رہتاہے کہ کب مودی حکومت کی مخالفت ہو نوجوان طبقہ اسلئے سڑکوں پر اترا کیونکہ اسے اپنا مستقبل تاریک دکھائی پڑتا ہے ۔اسے موجودہ معیشت سے معاشی حالات سے مایوسی ہے اور ان کا سارا غصہ سرکار پر اتارنے کا موقع بنا رہتاہے وہیں اکثریتی طبقہ میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے جو ووٹ بینک کی سیاست کرتا ہے اور اکثریتی اور اقلیتیوں میں زہر گھولنے کے فراق میں رہتا ہے خاص طور پہ جب چناو ¿ قریب ہو آسام میں لڑائی کا اشو الگ ہے نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں آسام کو چھوڑ کر اشو الگ ہیں اقلیتوں کو پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے مسلمانوں کو شہریت نادینے سے زیادہ پریشانی اس کے بعد دیش بھر لاگو ہونے والی این آر سی سے ہے مسلمان مان رہے ہیں کہ انہیں بھارت سرکار شہریت ثابت کرنے کے نام پر پریشان کرنے والی ہے اس کے احتجاج سے بھاجپا کا ایک طبقہ بھلے ہی خوش ہو رہا ہو لیکن بھاجپا کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے حکمت عملی ساتھ ہی احتجاج سے پریشان ہے انہیں اتنا بھاری احتجاج ہونے کا اندازہ نہیں تھا ۔احتجاج اکثریتی ،اقلیتی علاقوں میں ہو رہے ہیں اس تحریک کی رہنمائی کو سیاسی رنگ دئے جانے سے پریشان ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ تحریک ان علاقوں میں بھی پہونچ جائے جہاں اقلیتی آبادی نہیں ہے دہلی کے ایک نیتا نے کہا ایسا نہیں ہوا تو بھاجپا کی سیاست کامیاب ہو جائے گی 5بار سیلم پور سے ممبراسمبلی رہے چودھری متین احمد نے بتایا کہ یہ ان پڑ مسلمانوں میں ہی پڑھے لکھے لوگوں میں بھی زیادہ پھیل رہی ہے کہ مرکزی سرکارکی پوری تیاری این آر سی کے نام پر اقلیتوں کی شہریت ختم کرنے کے یا کسی بہانے سے پریشان کرنا ہے ۔دیش کے وزیر داخلہ امت شاہ اور امت شاہ پارلیمنٹ میں اور بھاجپا کے نگراں صدر جی پی نڈا جمعرات کو ایک پروگرام میں بول چکے ہیں کہ این آر سی دیش بھر میں لاگو کیا جائے گا اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہے آسام کے تجربہ سے لوگ پریشان ہیں پچاس سال سے دیش کے شہری ہونے کا ثبوت مانگا گیا ہے اس کیلئے لاکھوں شہریوں کی شہریت روکی گئی اس میں بڑی تعداد میں اقلیتیں ہیں شہری لوگوں کے پاس ابھی تو تازہ ثبوت مل جائیں گے لیکن برسوں پرانے ثبوت کس کے پا س محفوظ ہوںگے ؟اسی طرح مصطفی باد کے ممبر اسمبلی رہے آل انڈیا ہائی کمیٹی کے نائب صدر حسن احمد پوچھتے ہیں کہ وہ دہلی میں سی اے اے کے خلاف احتجاج میں ہنگامہ ہونے کے وقت سے ہی امن مارچ نکالنے اور جگہ جگہ بھائی چارہ میٹنگیں کر رہے ہیں لیکن کچھ لوگ جان بوجھ کر بھائی چارہ بگاڑنے کا کام کر رہے ہیں ۔اس مسئلے کو لیکر لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے سوال پید اہیں ۔مرکزی سرکار کی اس مسئلے پر جواب دہی بنتی ہے وہ لوگوں کے اس شبہ کودور کریں یہ کیسے ممکن ہے کہ جو اپنا گاو ¿ں برسوں پہلے چھوڑ چکے ہیں اپنے اس دیش کے بنیادی شہری ہونے کا ثبوت دیں بیشک احتجاج سی اے اے کو لیکر ہو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ اصل احتجاج این آر سی کیلئے ہے ۔اسلئے نہیں لگتا کہ شہریت ترمیم قانون کا احتجاج جلد ختم ہونے والا ہے ۔
(انل نریندر)

23 دسمبر 2019

ایل او سی پر کسی بھی وقت حالات بگڑ سکتے ہیں!

ایل او سی پر حالات دھماکہ خیز بنے ہوئے ہیں فوج کے سربراہ جنرل راوت نے بھی کہا ہے ایل او سی پر کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔پاکستان سے ملحق ایل اوسی پر دونوں طرف سے گھماسان کبھی بھی ہوسکتاہے یہ اندیشات اس لئے ہیںکیونکہ ہندوستانی فوج نے اپنے فیلڈ کمانڈروں کو پاک فوج کے ذریعے جنگ بندی کا منھ توڑ جواب دینے کی خاطر اپنی سطح پر فیصلہ لینے کو کہا ہے اس میں فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کا یہ بیان بھی تڑکا لگا رہا ہے کہ حالا ت صحیح نہیں ہیں نتیجتاً ایل او سی کے ساتھ لگے علاقوں میں مقیم سرحدی باشندوں میں دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے ہندوستانی فوج نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا منھ توڑ جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ایک بریگیڈ ہید کوارٹر کو اڑا دیا ہے اس میں پاک فوج کے درجن بھر فوجی بھی مارے گئے لیکن ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن ملی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ا س نقصا ن سے پاک فوج تلملا اٹھی ہے اور وہ کسی بھی وقت ایل اوسی پر دیگر سیکٹروں میں مورچہ کھول سکتی ہے ضلع کپواڑہ میں کنٹرول لائن سے ملحق علاقے تنگ دھار میں پاکستان کی بلا اشتعال گولا باری کے جواب میں ہندوستانی فوج نے پاکستانی فوج کو زبردشت نقصان پہونچایا ہے ۔پاک فوج کے ذریعے راجیوری ضلع کے سندر بن سیکٹر میں بیٹھ حملے اور کنٹرول لائن کے ساتھ لگے علاقوں میں مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے پیش نظر فوجی انتظامیہ نے سبھی فیلڈ کمانڈروں کو دشمن کو منھ توڑ جواب دینے کا حکم دیا ہے ۔پاک فوج کے ذریعے گزشتہ ایک ماہ میں سمانگ کے پونچھ و راجیوری میں ہر تیسرے دن ایل اوسی پر پاکستانی فوج کی طر ف سے گولا باری کی جارہی ہے ۔فوجی حکام نے بتایا کہ فوجی انتظامیہ اور وزارت دفاع مسلسل ایل او سی پر حالات کی نگرانی کر رہے ہیں ۔پاکستانی فوج کے ذریعے بیٹھ حملے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی رپورٹیں ہیں اس وقت پاکستانی فوج کا پورا وقت ایل اوسی پر کسی طرح جنگ کے حالات پیدا کرکے خود بخود ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں کو جموں کشمیر میں ڈھکیلنے پر امادہ ہے انہوں نے بتایا ان دونوں سرحدی علاقوں میں مسلسل کہرہ پڑنے سے حالات اور خراب ہو رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

آئی سی یو میں بھارت کی معیشت

سابق چیف اقتصادی مشیر اروندسبرا منیم نے بدھ کو رائے زنی کی ہے کہ بھارت گہری اقتصادی سست روی میں ہے اور بینکو ں اور کمپنیوں کے حساب کتا ب کے جڑوا بحران کی دوسری لہرکے سبب معیشت آئی سی یو میں جا رہی ہے سپرم منیم نے مودی سرکار کے پہلے عہد میں چیف اقتصادی مشیر رہے ہیں انہوں نے پچھلی سات اگست کو استعفیٰ دے دیا تھا انہوں نے بین الاقوامی کرنسی ذخیرے کے بھارت آفس کے سابق چیف جوئے فیلمن کے ساتھ لکھے گئے ایک نئی تحقیقی دستاویز میں کہا کہ بھارت اس وقت بینک،بنیادی ڈھانچہ اور غیر بینکنگ مالی کمپنیاں اور ریل اسٹیٹ ان چاروں سیکٹروں کی کمپنیوں کے حساب و کتاب کے بحران کاسامنا کر رہا ہے اس کے علاوہ بھارت کی معیشت سرا سود اور اضافے کے منفی فرق میں پھنس گئی ہے جس میں خطرے سے بچنے کے ٹرینڈ کے سبب بیاض شرا بڑھتی جاتی ہے اس کے سبب ترقی شرح گھٹتی ہے اور اس کے سبب خطرے سے بچنے کے جذبہ اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ معیشت میں یہ کوئی عام سستی نہیں ہے ۔یہ بھارت کیلئے بہت بڑھا سلو ڈاو ¿ن ہے سبرا منیم نے کہا کہ معیشت کو پہلے جھٹکا دوہری بیلن شیٹ کے مسئلے سے الگ اس سے بینک اور ڈھانچہ بند کمپنیاںشامل تھیں یہ جھٹکاتب لگا جب سال 2000کے بعد کی دہائی کے وسط میں انوسٹمنٹ بون کے دوران شروع کی گئی ڈھانچہ بند اسکیمیں ڈیفالٹ کرنے لگیں اس کے بعد این بی سی کی رہنمائی میں زیادہ قرض دئے جانے سے غیر ضروری طور سے ریل اسٹیٹ پروجیکٹ کی باڑ آگئی یہ غبارہ 2019میں پھٹا اس کیوجہ سے کھپت بھی گھٹی اور ترقی شرح میں گراوٹ آگئی ان سب اسباب سے بھارت اب چار بیلن شیٹ چنوتیوں کا سامنا کر رہا ہے۔سابق چیف اقتصادی مشیر اروندسبرا منیم نے بدھ کو رائے زنی کی ہے کہ بھارت گہری اقتصادی سست روی میں ہے اور بینکو ں اور کمپنیوں کے حساب کتا ب کے جڑوا بحران کی دوسری لہرکے سبب معیشت آئی سی یو میں جا رہی ہے سپرم منیم نے مودی سرکار کے پہلے عہد میں چیف اقتصادی مشیر رہے ہیں انہوں نے پچھلی سات اگست کو استعفیٰ دے دیا تھا انہوں نے بین الاقوامی کرنسی ذخیرے کے بھارت آفس کے سابق چیف جوئے فیلمن کے ساتھ لکھے گئے ایک نئی تحقیقی دستاویز میں کہا کہ بھارت اس وقت بینک،بنیادی ڈھانچہ اور غیر بینکنگ مالی کمپنیاں اور ریل اسٹیٹ ان چاروں سیکٹروں کی کمپنیوں کے حساب و کتاب کے بحران کاسامنا کر رہا ہے اس کے علاوہ بھارت کی معیشت سرا سود اور اضافے کے منفی فرق میں پھنس گئی ہے جس میں خطرے سے بچنے کے ٹرینڈ کے سبب بیاض شرا بڑھتی جاتی ہے اس کے سبب ترقی شرح گھٹتی ہے اور اس کے سبب خطرے سے بچنے کے جذبہ اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ معیشت میں یہ کوئی عام سستی نہیں ہے ۔یہ بھارت کیلئے بہت بڑھا سلو ڈاو ¿ن ہے سبرا منیم نے کہا کہ معیشت کو پہلے جھٹکا دوہری بیلن شیٹ کے مسئلے سے الگ اس سے بینک اور ڈھانچہ بند کمپنیاںشامل تھیں یہ جھٹکاتب لگا جب سال 2000کے بعد کی دہائی کے وسط میں انوسٹمنٹ بون کے دوران شروع کی گئی ڈھانچہ بند اسکیمیں ڈیفالٹ کرنے لگیں اس کے بعد این بی سی کی رہنمائی میں زیادہ قرض دئے جانے سے غیر ضروری طور سے ریل اسٹیٹ پروجیکٹ کی باڑ آگئی یہ غبارہ 2019میں پھٹا اس کیوجہ سے کھپت بھی گھٹی اور ترقی شرح میں گراوٹ آگئی ان سب اسباب سے بھارت اب چار بیلن شیٹ چنوتیوں کا سامنا کر رہا ہے شروع میں دو طرح کی بیلن شیٹ کے مسئلے تھے جن میں این بی ایف سی اور ریل اشٹیٹ بھی شامل ہو گئے مسئلے کے حل پر سبرا منیم اور شیل مین نے کہا کہ کوئی ایک سیدھا قدم دکھائی نہیں پڑتا 2010کے بعد کے برسوںمیںترقی کا پیٹرن دیکھنے کے بعد معیشت میںطویل سستی اور اس کے بعد ا چانک گراوٹ کی کوئی ایک تشریع نہیںکی جا سکتی ہمارے تزیہ میں ڈھانچہ بند اور بے یقینی دونوں وجوہات دکھائی پڑتی ہیں ان دونوں میں مالیات کا اشو یکساںطور سے موجود ہے کرنسی پالیسی بہت کارگر نہیں ہے کیونکہ بینکوں کی سود شرعوں میں اس کی پورعی منتقلی نہیں ہو پا رہی ہے اگر بڑی مالی راحت دی جاتی ہے تو اس سے پہلے ہی اونچی سود شرعوں میں اور اضافہ ہوگا جس کے سبب ترقی کو تیز کرنے والے پہلوو ¿ں پر برااثرپڑے گا ۔اور معیشت میں استحکام میں تیزی لانے کیلئے بیلنس شیٹ مسئلے کا حل کرنا ضروری ہے ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...