Translater

13 مئی 2017

کلبھوشن معاملہ میں آئی سی جے حکم پاک کیلئے جھٹکا

آخر کارانصاف کی جیت ہوئی،سچائی کی جیت ہوئی اور بھارت کے اخلاقیات کی جیت ہوئی۔ بھارتیہ شہری کلبھوشن جھادو کی پھانسی کی سزا پر تعمیل انٹرنیشنل انصاف عدالت نے عارضی روک لگادی ہے۔ اب پاکستان سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت کرنے پر مجبور ہے۔ جس بے وقوفی اور کٹرتا اور نا سمجھی سے پاکستان جھادو کے معاملہ سے نمٹنے کی کوشش کررہا تھا اس سے ایسا ظاہر ہورہا تھا کہ کہیں جھادو سے نا انصافی نہ ہوجائے۔ بھارت لگاتار پاک کو جھادو کی پھانسی روکنے کے لئے سمجھانے کی کوشش کرتا رہا لیکن پاکستان کو تو بھارت سے اپنی دشمنی نکالنے کا ذریعہ بنانا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے کوئی قانونی یا تکنیکی جواز کم بھارت کے تئیں نفرت زیادہ تھی۔ بھارت نے جھادو کی پھانسی کی سزا روکنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ یہ سزا ملزم بے بنیاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کو ایسا کرنے سے روکا جائے۔ اگرچہ پاکستان اس فیصلے کو منسوخ نہیں کرتا تو انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) کو اسے ناجائز اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اعلان کرنا چاہئے۔ کلبھوشن جھادو کو قید میں رکھنے اور اس پر مقدمہ چلانے اور اسے پھانسی کی سزا دئے جانے کو بھارت نے 8 مئی 2017ء کے ویانا سمجھوتے کی زبردست مخالفت قراردیا تھا اور پاکستان کے خلاف کارروائی کی مانگ کی تھی۔ بھارت کا کہنا تھا کہ جھادو کی گرفتاری کے بعد لمبے عرصے تک بھارت کو اس کی جانکاری نہیں دی گئی اور پاکستان نے ان کے حقوق سے انہیں محروم رکھا۔ بھارت کی بار بار درخواست کے باوجود جھادو کو ڈپلومیٹک روابط کی سہولت نہیں دی گئی جو ان کا حق ہے۔ ہیگ میں موجودہ بین الاقوامی عدالت کے نام سے جانے جانی والی آئی سی جے اقوام متحدہ کی اہم ترین عدلیہ کا حصہ ہے۔ امن بحالی کی زور آزمائش کے بدلے کسی کے ایران سے اغوا کرنے کے بعد بلوچستان سے گرفتاری کا دکھاوا کرنے اور پھر کنگارو کورٹ کا قیام کر پھانسی کی سزا سنانے جیسے کام صرف پاکستان ہی کرسکتا ہے۔ بھارت سرکار کی ڈپلومیسی کی تعریف کرنی ہوگی کہ اس نے اس معاملے میں ہر نقطہ نظر سے اسٹڈی کرنے کے بعد منظم اور سمجھداری کے ساتھ اپنے کام کو انجام دیا۔ بین الاقوامی عدالت میں جانے کا فیصلہ اور صحیح طرح سے عملی جامہ پہنانے کیلئے ہندوستانی وزیر خارجہ اور افسران مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس فیصلے سے یقینی طور پر پاکستان کو جھٹکا لگا ہے۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ جھادو معاملے میں پاکستان اب کیا حکمت عملی اپناتا ہے؟ 
(انل نریندر)

دہلی اسمبلی کا اسپیشل سیشن کرپشن چھوڑ کر سب پر بحث

مبینہ طور پر سچائی کی جیت کے دعوے کے ساتھ بلائے گئے دہلی اسمبلی اسپیشل سیشن میں جو کچھ ہوا اسے غیرصداقت کی مہیمامنڈٹ کرنے کی بھونڈی کوشش کے علاوہ اور کچھ کہنا مشکل ہے۔ امید یہ تھی کہ وزیر اعلی اپنے اوپر لگے کرپشن کے الزامات پر جواب دے کر خود کو پاک صاف کرنے کی کوشش کرتے لیکن اس موضوع پر نہ تو وزیر اعلی اور نہ ہی ان کی سرکار نے کچھ صفائی دی اور کرپشن کے علاوہ دیگر اشو پر بحث کرائی۔جب اپوزیشن نے اس بارے میں کوشش کی تو اسے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ امید کی جارہی تھی کہ اس اسپیشل سیشن میں کپل مشرا کے سنگین الزامات کے جواب دئے جائیں گے لیکن وہاں الیکٹرانک ووٹنگ مشین یعنی ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کا بہت آسان طریقہ بتانے کا کام ہوا۔ سارے ای وی ایم چناؤ کمیشن کے پاس رہتے ہیں اس لئے کیجریوال سرکار کو وہ تو ملنی ہی نہیں تھی ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنے طریقے سے کوئی مشین بنوائی اور اسمبلی میں اس کا مظاہرہ کرکے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس میں ٹیمپرنگ کی جاسکتی ہے۔ وزیر اعلی نے تو یہاں تک دعوی کیا کہ چناؤ کمیشن ای وی ایم دے دے تو وہ 90 سیکنڈ میں اس کا مدر بورڈ بدل دیں گے۔ اسے چھوڑیئے ای وی ایم میں ٹمپرنگ ہوسکتی ہے یا نہیں یہ تو چناؤ کمیشن جانے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرکے عاپ سرکار قاعدوں کی تعمیل کررہی ہے؟ دہلی سرکار نے جو سیشن بلایا تھااسے اسپیشل اجلاس کی تشبیہ دی گئی تھی۔ قاعدے کے مطابق سرکار کے ذریعے بلائے گئے ہنگامی سیشن میں کبھی سنجیدہ موضوعات پر بات ہوتی ہے۔ سابق وزرائے اعلی مدن لال کھرانی، صاحب سنگھ ورما، سشما سوراج کے عہد میں کوئی ایسا سیشن نہیں بلایا گیا۔ شیلا دیکشت نے اپنے 15 سالہ عہد میں 3 بار ایمرجنسی سیشن بلایا تھا جس میں دہلی میں غیر سی این جی بسوں پر روک اور رہائشی علاقوں میں چھوٹے کارخانوں پر پابندی اور مکمل ریاست کا درجہ معاملہ شامل تھا لیکن عاپ سرکار تو اپنے پچھلے سوا دو سال کے عہد میں ایسے کئی سیشن بلا چکی ہے۔ عاپ سرکار اسپیشل سیشن تو بلاتی ہے لیکن اس کا ایجنڈا نہیں بتاتی۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا عاپ سرکار نے ای وی ایم مشین کا ڈیمو دیکر ایوان کے قواعد کو توڑا ہے؟ اسمبلی میں موبائل تک لے جانے کی پابندی ہے پھر ای وی ایم کیسے چلی گئی؟ لوک سبھا و دہلی اسمبلی کے سابق سکریٹری ایس کے۔ شرما کے مطابق قواعد کے مطابق اسمبلی میں کوئی ممبر باہر کی چیز ایوان میں نہیں لاسکتا لیکن اسمبلی اسپیکر نے حکمراں فریق کے ذریعے ای وی ایم جیسی مشین لانے کی اجازت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ممبران ایوان میں اپنا احتجاج ظاہر کرنے کے لئے شراب کی بوتلیں لے آئے تھے تو ان کی ممبر شپ مشکل سے بچی تھی۔ شرما کے مطابق اس طرح کی اجازت دے کر اسپیکر نے غلط روایت کی شروعات کی ہے۔ اب اس معاملہ پر مستقبل میں ہنگامہ ہونے کا امکان بنا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا حکمراں فریق کی طرف سے ای وی ایم مشین کو اپنے حساب سے چلایا گیا۔ ووٹنگ کے بعد اس کا سوئچ آف کیا جانا تھا لیکن آن رہتے ہی ووٹوں کی گنتی کر سرکار نے اپنے اوپر ہی سوال کھڑے کرلئے۔چناؤ کمیشن کی کمیٹی کے سابق مشیر کے۔ جی راؤ نے رائے دی ہے کہ دہلی اسمبلی میں ای وی ایم کا لائیو ڈیمو ڈرامہ ہے۔ یہ لوگ پتہ نہیں کہاں سے ای وی ایم جیسا ڈبہ اٹھا کر لے آئے۔ اس کی پری پروگرامنگ تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ کیجریوال نے چناؤ کمیشن کو دھرت راشٹر بولا ان کو اسے لیکر معافی مانگی چاہئے کیونکہ چناؤ کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ ای وی ایم سے کوئی بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا۔ مشین کو کھولے بنا کوئی بھی چھیڑ چھاڑ ممکن ہی نہیں۔ ای وی ایم کو بیحد محفوظ طریقے سے اسٹرانگ روم میں رکھا جاتا ہے۔ اگر ٹمپرنگ کرنی ہے تو وہ ہمارے سامنے کریں۔ کیجریوال کے ذریعے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ سیشن بلایا گیا تھا۔ ویسے بھی اس حرکت سے ہماری جمہوریت میں چناؤ سسٹم پر ایک طرح کا پروپگنڈہ کرنا ملک کی مفاد میں نہیں ہے۔ چناؤ کمیشن نے آل پارٹی میٹنگ بلائی جس میں چناؤ کمیشن نے تمام پارٹیوں کو صفائی دی ہے کہ اس میں ٹمپرنگ نہیں کی جاسکتی اور وہ آئیں ہمارے سامنے ٹمپرنگ کرکے دکھائیں۔اگر کیجریوال اپنی بات ثابت کرنا چاہتے ہیں تو وہ چناؤ کمیشن میں جاکر کریں۔ جنتا کو بیوقوف بنانا بند کریں۔ ان کی حرکتوں کی وجہ سے ان کی ساکھ صفر ہوتی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

12 مئی 2017

پاک کیلئے ناممکن ہے دہشت گردی ٹھکانوں پر لگام کسنا

دہشت گردوں نے کشمیر میں فوج کے ایک نوجوان افسر کو اغوا کر قتل کردیا۔کلگام کے باشندے 22 سالہ لیفٹیننٹ عمر فیاض منگل کی رات اپنے ماما کی بیٹی کی شادی میں شامل ہونے بساؤپورا گئے تھے جہاں رات10 بجے دہشت گردوں نے انہیں اغوا کرلیا اور رشتے داروں کو خبردار کیا کہ وہ پولیس کو نہ بتائیں۔ بدھوار کو صبح ان کی لاش ملی۔ انہیں قریب سے گولیاں ماری گئیں۔پوسٹ مارٹم میں جسم پر ایسے نشان ملے جن سے ظاہر ہے کہ مرنے سے پہلے انہوں نے دہشت گردوں سے مذاحمت کی ہوگی ۔ بعد میں ان کے جنازے پر بھی پتھر بازوں نے پتھر پھینکے۔ اپنے ساتھی کہ اس طرح کی موت پر کشمیر میں تعینات فوجی بہت ناراض ہیں۔ ان میں غصہ اس قدر ہے کہ وہ چن چن کر بدلہ لینے کی بات کرنے لگے ہیں۔ اس سے پہلے ہندوستانی فوجیوں کی لاشوں کی کاٹ چھانٹ کرنے کا واقعہ ہوچکا ہے۔ کچھ دن پہلے بھی دو فوجیوں کی لاشوں کے سر پاکستانی فوج نے کاٹ دئے تھے۔ یہ واردات پاکستانی فوج و ان کے پالی ہوئی جہادی تنظیموں کے غیر انسانی کرتوت کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ ہندوستانی فوج لڑائی میں شہید ہونے والے ہر فوجی کو وہی عزت دیتی ہے جس کا وہ حقیقت میں حقدار ہے۔ بھلے ہی پاکستانی فوجی ہی کیوں نہ ہو۔ جب پاکستان اپنے فوجیوں کی لاشوں کو واپس نہیں لیں ہندوستانی فوج ان لاشوں کو فوجی سنمان کے ساتھ اور پاک جھنڈے کے ساتھ لپیٹ کر دفنایا ہے۔جنازے کی نماز پڑھانے کے لئے مولوی کو بلایا جاتا ہے۔ امریکہ کے ایک سینئر سینیٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کافی عرصے تک کچھ دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کی اور دوہرا کھیل کھیلتے ہوئے کٹر اور تشدد پسند گروپوں و ان جہادی تنظیموں سے نمٹنا اب ناممکن ہے۔ 
سندھ میں ایک صوفی درگاہ میں ہوئے آتنکی حملہ میں مارے گئے زائرین کے تئیں ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس ممبر پارلیمنٹ بریٹ شریمن نے کہاکہ پاکستانی کی خفیہ ایجنسیوں نے دیگر آتنکی تنظیموں سے مقابلہ کرنے کے دوران کچھ آتنکی تنظیموں کو کافی عرصے تک مدد کی۔ انہوں نے کہا اگر آپ دوہرا کھیل کھیلتے ہیں تو کٹر اور تشدد پسند جہادی گروپ سے نمٹنا ناممکن ہے۔ شریمن نے پاکستان سے آتنکی تنظیموں کے تئیں اپنی پالیسی بدلنے کے لئے اپیل کی ہے۔ شریمن سندھ کاکس کے چیئرمین اور امریکی ایوان کی خارجی معاملوں کی کمیٹی میں ایشیائی پرشانت سب کمیٹی کے رینکنگ ممبر ہیں، ان کا کہنا ہے انہوں نے پاکستان کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے پھیلاؤ کے بارے میں اچھی جانکاری ہے۔ پھیلاؤ کی بات کریں تو پاک مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے پاس سرجیکل اسٹرائک کے بعد کئی نئے آتنکی کیمپ بن گئے ہیں۔ اس وقت 50 سے زیادہ آتنکی کیمپ پی او کے میں چل رہے ہیں۔
(انل نریندر)

دہلی میٹرو میں سفر کرنا مہنگا ہوا

دہلی میٹرو ریل کارپوریشن ڈی ایم آر سی نے مسافروں کو جھٹکا دیتے ہوئے کرائے میں اضافہ کردیا ہے۔ یہ کرایہ دو مرحلوں میں بڑھے گا۔ پہلا مرحلہ 10 مئی سے جبکہ دوسرے مرحلہ میں اکتوبر سے بڑھے گا۔ پہلا مرحلہ جو لاگو ہوگیا ہے میں اب 10 روپے اور زیادہ سے زیادہ 50 روپے کرایہ ہوگا۔ میٹرو میں 70 فیصدی مسافر اسمارٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہیں۔ اسمارٹ کارڈ سے سفر کرنے والوں کو 10 فیصدی چھوٹ دی جاتی ہے لیکن اب جو لوگ مصروف ترین وقت کو چھوڑ کر میٹرو میں سفر کریں گے انہیں 10 فیصدی مزید چھوٹ دی جائے گی۔ پیر کو منعقدہ پریس کانفرنس میں ڈی ایم آر سی کے فائننس ڈائریکٹر کے کے سبروال نے بتایا کہ کرایہ بڑھانے کے پیچھے بجلی اور دیگر اخراجات کا مسلسل بڑھنا ہے۔ کرایہ بڑھانے کے بعد بھی ہمارا خسارہ کم نہیں ہوگا لیکن اس سے 5 سے6 فیصدی مالی بوجھ کم ہوگا۔ ڈی ایم آر سی نے بتایا کہ سال2009ء کے بعد میٹرو کے کرایہ میں اضافہ نہیں ہوا۔مرکزی سرکار نے مئی 2010ء میں دہلی میٹرو کارپوریشن (رکھ رکھاؤ اور چلانے ) ایکٹ 2002 کے تحت چوتھی مرتبہ کرایہ مقرر کمیٹی بنائی تھی اس کی سفارش پر میٹرو کا کرایہ بڑھایا گیا ہے۔ ادھر دہلی سرکار میٹرو کرائے میں 50 فیصدی تک کٹوتی کرنا چاہتی تھی۔ اس کے لئے دہلی کے اسپیشل ٹرانسپورٹ کمشنر کے ۔ کے۔ دہائیا نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کو جون 2016ء میں خط لکھا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا دہلی میٹرو مصروف ترین اوقات میں 50 فیصدی تک کرایہ کم کرنے پر غور کرے۔ اس سے نہ صرف دہلی والوں کو فائدہ ہوگا بلکہ چھٹی کے دن بھی سفر کرنے میں چک چک نہیں رہے گی لیکن ڈی ایم آر سی نے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا۔
میٹرو نے راجدھانی میں ٹرانسپورٹ کی صورتحال میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں وہیں کہیں بھی آنا جانا پہلے کے مقابلے کافی آسان اور آرام دہ ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے امیر اور غریب ہر طبقہ میٹرو کا استعمال کرتا ہے۔ اس لحاظ سے دہلی میٹرو کو زبردست ہٹ مانا جاسکتا ہے لیکن کوالٹی سروس دیکر اور دہلی کے شہریوں کی زندگی میں اہم جگہ بنا کر بھی دہلی میٹرو اقتصادی محاذ پرزبردست چنوتیوں سے لڑ رہی ہے۔ یومیہ 30 لاکھ لوگوں کو ان کی منزل تک پہنچانے والی دہلی میٹرو کو 2015-16 میں 700 کروڑ روپے سے زیادہ کا گھاٹا ہوا۔ یہ حالیہ ہے جب بالکل نیا سسٹم ہونے کے چلتے اس کی مینٹیننس کاسٹ بہت کم ہے۔ جاپان سے لئے گئے بھاری بھرکم قرض کی ادائیگی ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہے۔ اگر دہلی میں یہ حال ہے تو ناگپور ،جے پور سے لیکر گورکھپور تک جس تیزی سے میٹرو لانے کے اعلانات ہورہے ہیں ان کا کیا حال ہوگا؟ ظاہر ہے راجدھانی میں میٹرو سے سفر کرنے والے اس اضافے سے خوش نہیں ہوں گے۔
(انل نریندر)

11 مئی 2017

بے لگام ججوں سے محاذ آرا ہماری عدلیہ!

ہندوستانی عدلیہ آج کل بہت ہی عجیب و غریب صورتحال سے دوچار ہے۔ بصد احترام سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ جج ایک دوسرے کے خلاف حکم پاس کررہی ہیں۔ بات کررہا ہوں سپریم کورٹ و کولکاتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سی ۔ایم۔ کرنن کے درمیان جاری تنازعے کے بارے میں۔ سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے الزامات کا سامنا کررہے جسٹس کرنن ایک کے بعد ایک حکم پاس کررہے ہیں۔ سپریم عدالت کے سینئر ججوں کی بنچ کولکاتہ ہائی کورٹ کے موجودہ جج سی ۔ ایم۔ کرنن کے خلاف توہین عدالت کارروائی میں ایک کے بعد ایک آرڈر پاس کررہی ہے۔ وہیں جسٹس کرنن عدلیہ و انتظامی کام کاج واپس لئے جانے کے باوجود سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف آرڈر دیتے جارہے ہیں۔ تازہ آرڈر جسٹس کرنن نے جو دیا ہے اس میں انہوں نے چیف جسٹس جسٹس جے ۔ ایس۔ کھیر سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججوں کو ہی پانچ سال کی بامشقت قید کی سزا سنا دی۔ جسٹس کرنن نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ ان 8 ججوں نے ایس سی ایس ٹی مظالم قانون کے تحت قابل سزا جرم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے حکم میں سی جی آئی کھیر سمیت 7 نفری بنچ میں شامل جسٹس دیپک مشرا، جسٹس جے۔ ایس چلمیشور، جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس مدن بی لوکر، جسٹس پناکی چندراگھوش اور جسٹس ارین جوزف کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ جسٹس کرنن نے لکھا ہے 13 اپریل کو میں نے 7 ججوں کی بنچ پر 14 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا تھا۔ یہ حکم ابھی بھی لاگو ہے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو انہوں نے تازہ حکم میں ہدایت دی ہے کہ یہ رقم ججوں کی تنخواہ سے کاٹی جائے۔ وہیں جسٹس بھانومتی پر دو کروڑ روپے کا جرمانہ بھی لگایا گیا۔ جواب میں سپریم کورٹ نے منگلوار کو ایک غیر متوقعہ حکم میں جسٹس کرنن کو عدلیہ کی توہین کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ا نہیں چھ مہینے کی جیل کی سزا سنائی۔ عدالت نے جسٹس کرنن کو فوراً حراست میں لینے کا حکم دیا۔چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیر کی رہنمائی والی 7 نفری آئینی بنچ نے کہا کہ ہمارا اتفاق رائے سے یہ خیال ہے کہ جسٹس سی ایس کرنن نے عدلیہ کی توہین اور عدلیہ کا اور اس کی کارروائی کی توہین کی ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے الزام میں ہائی کورٹ کے کسی موجودہ جج کو جیل بھیجا ہے۔ بنچ نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی جسٹس کرنن کے ذریعے اب پاس کسی بھی حکم کی تفصیل شائع یا ٹیلی کاسٹ کرنے سے روک لگادی ہے۔ جسٹس کرنن 11 جون کو ریٹائرڈ ہونے والے ہیں۔ اگر عدلیہ کسی بھی وجہ سے خود کٹہرے میں کھڑی دکھائی دیتی ہے تو جنتا کے اعتماد کو جھٹکا لگتا ہے۔ 1993ء میں سپریم کورٹ کے جسٹس وی راما سوامی کے خلاف پارلیمنٹ میں مقدمہ چلایا گیا لیکن کانگریس کے ذریعے ایوان سے بائیکاٹ کے چلتے لوک سبھا میں لایاگیا امپیچمنٹ ریزولوشن گرگیا تھا۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پی ڈی دناکرن پر کرپشن کے الزام لگے تھے سپریم کورٹ کالیجیم نے جانچ پوری ہونے تک انہیں لمبی چھٹی پر جانے کی صلاح دی تھی لیکن وہ نہیں مانے تو کرناٹک سے ان کا ٹرانسفر سکم ہائی کورٹ کردیا گیا۔ کولکاتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سمترا سین کو انٹرنل جانچ کمیٹی نے برتاؤ کیلئے قصوروار پایا تو ان سے استعفیٰ دینے کو کہا گیا۔ انہوں نے انکار کردیا۔ ان کے خلاف پارلیمنٹ میں مقدمہ چلایا گیا جو راجیہ سبھا میں تو پاس ہوگیا لیکن لوک سبھا کے ذریعے غور کرنے کیلئے ایک دن پہلے انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ایسے معاملوں میں کئی ایسے ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں جن میں عدلیہ کی پوتر گائے والی ساکھ گری ہے۔ ہمیں معلوم نہیں تازہ معاملے میں کیا آخری فیصلہ ہوتا ہے ہم تو بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ عدلیہ کے ہر جج کو سوچنا چاہئے کہ عدلیہ اس دیش کی آخری امید ہے اور اس کی پاکیزگی کو بچا کر رکھنا اس کا سب سے بڑا فرض ہے۔
(انل نریندر)

نئے کونسلروں کے سامنے منہ پھاڑتی چنوتیاں

تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں نئے کونسلروں کا کام کاج 15 مئی کے بعد شروع ہوسکے گا۔ ماناجارہا ہے 15 مئی کے بعد ہی نئے کونسلروں کو حلف دلانے کے لئے تینوں کارپوریشنوں کا جنرل اجلاس بلایا جائے گا۔ اسی میٹنگ میں نئے میئر ، ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کا چناؤ کیا جائے گا۔ کارپوریشن میں ریزرویشن کے خاکے کے مطابق پہلے سال کے عہد میں میئرکا عہدہ خاتون کونسلر کے لئے محفوظ ہے اس لئے تینوں کارپوریشنوں میں عورتیں ہی میئرہوں گی۔ راجدھانی میں تینوں کارپوریشنوں میں بھاجپا کو ملی واضح اکثریت کے چلتے میئر ، ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چناؤ میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ آنے کی امید نہیں ہے۔ بھاجپا نے ہیٹرک لگاتے ہوئے تیسری مرتبہ دہلی کارپوریشنوں میں پھر سے اقتدار حاصل کرلیا ہے لیکن اب پارٹی کے سامنے کارپوریشن کا چہرہ بدلنے کی چنوتی ہے تاکہ عام جنتا کے لئے ابھی اس کی منفی ساکھ کو دور کیا جاسکے۔ اس کے لئے کارپوریشن میں پھیلے کرپشن کو ختم کرکے اس کے کام کاج میں شفافیت لانی ہوگی۔ بے پٹری ہوئے صفائی نظام کو بھی پٹری پر لانا ہوگا۔ کارپوریشن کے کام کاج کو بہتر کرنے اور شفافیت لانے کے لئے موضوں سطح پر افسران کی تعیناتی کرنی ہوگی۔ہر ایک وارڈ میں کوڑے کی صفائی پر خاص توجہ دینے ہوگی۔ کارپوریشن کے ماتحت آنے والے اسپتالوں کی حالت بہتر بنانی ہوگی۔ کارپوریشن کے اسکولوں میں پڑھائی کے معیار پر بھی خاص توجہ دینی ہوگی۔ ماڈل اسکولوں کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔ اسکولوں میں صاف پانی اور سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں۔ ریڑی پٹری والوں کو 90 دنوں کے اندر سروے کرا کر پکا رجسٹریشن کرنے کے ساتھ ہی رکشہ ڈرائیوروں کو مالکانہ حق دینے کا وعدہ بھاجپا نے کیا ہے۔ قبضے سے پاک فٹ پاتھ، کسیر منزلہ پارکنگ اور ناجائز کالونیوں کا ڈولپمنٹ اور انہیں ریگولر کرنے کی کوشش کی جائے گی ایسا سنکلپ پتر میں وعدہ کیا گیا ہے۔ بھاجپاکونسلروں سے شہر کے لوگوں کو ڈھیروں امید ہیں۔اگلے کچھ دنوں میں نئے منتخب کونسلر الگ الگ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ان کے سامنے شہر کی صفائی نظام کو بہتر کرنے اور کارپوریشن کو مالی بحران سے نکالنے کی سب سے بڑی چنوتی ہوگی۔ کارپوریشن کے مالی بحران سے پچھلے سال ملازمین کئی مرتبہ ہڑتال پر چلے گئے اس وجہ سے صفائی اور دیگر خدمات متاثر ہوئیں۔ شہر کے صفائی نظام میں وسیع تبدیلی کے لئے گھروں اور بازاروں سے نکلنے والے کوڑے کا اکھٹا کرنا سب سے بڑی ذمہ داری ہوگی۔ اس کے علاوہ دہلی میں الگ الگ ایجنسیوں کے پاس سڑک اور فٹ پاتھ کی صفائی کا انتظام ہے۔ آنے والے دنوں میں سڑک اور فٹ پاتھ چاہے کسی بھی ایجنسی کے پاس ہو اسے صاف کرنے کی چنوتی ہوگی۔ سرکار سے کارپوریشن کو ملنے والے سارے فنڈ اپنے آئینی اختیارکو پانے کے لئے قانونی کوششوں سے لڑائی لڑنی ہوگی وہیں ’سوچھ بھارت ‘ مشن کے تحت نئے ٹوائلٹ بنانا ،صفائی پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ پچھلے کچھ برسوں سے برسات کے دوران یا بعد میں ڈینگو مچھروں سے پیدا بیماریوں کی وبا پھیل جاتی ہے اس سے بچاؤ کے لئے ابھی سے اقدام کرنے ہوں گے۔ مچھر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو ترجیح کے ساتھ دور کرنے کی اس لئے بھی ضرورت ہے کیونکہ چناؤ سے پہلے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ان بیماریوں کے لئے سیدھے طور پر بھاجپا حکمراں کارپوریشن کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ بھاجپا حکمراں کارپوریشنوں کا دہلی کے عام آدمی پارٹی سرکار کے ساتھ رشتے اچھے نہیں رہے ہیں اس لڑائی کا خمیازہ دہلی کی جنتا کو اٹھانا پڑا۔مرکزی شہری ترقی وزیر وینکیانائیڈو ،پردیش بھاجپا پردھان منوج تیواری نے بھی دہلی سرکار سے کارپوریشن کے ساتھ مل کرکام کرنے کی اپیل کی ہے وہیں وزیراعلی اروند کیجریوال نے بھی جیت کیلئے بھاجپا کو مبارکباد دیتے ہوئے کارپوریشن کو پورا تعاون دینے کی بات کی ہے۔ اس سے امید جاگی ہے کہ اس بار ٹکراؤ پر نہیں دہلی کی ترقی پر سیاست ہوگی۔
(انل نریندر)

10 مئی 2017

نہ تھمتا عاپ میں طوفان سوال تو گرتے اعتماد کا ہے

میں نے اسی کالم میں کچھ دن پہلے لکھا تھا کہ مئی کا مہینہ عام آدمی پارٹی سرکار و تنظیم کے لئے بھاری پڑنے والا ہے۔ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں کیجریوال سرکار اور خود وزیر اعلی تنازعات میں گھرتے جارہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ فلاں الزام صحیح ہے یا نہیں سوال تو اس حکومت و اس کے اعتماد کا ہے۔ عام آدمی پارٹی اپنے ہی باغیانہ تیوروں کے چلتے بہت کم وقت میں آسمان پر پہنچ گئی تھی۔ سرکار کے قیام کے محض دو سال میں دہلی کی 70 میں سے66 سیٹیں پا کر ناقابل یقین حمایت کے ساتھ اقتدار میں آئی عاپ نے دیش اور دنیا کو چونکا دیا تھا مگر اسی حساب سے عاپ کا زوال ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سرکار بنتے ہی پارٹی میں تضاد کا دور شروع ہوگیا ہے۔ اس نے ٹکراؤ کا راستہ اپنانا بہتر سمجھا۔ وہ چاہے مرکزی سرکار یا لیفٹیننٹ گورنر یا پھر دہلی سرکار میں کام کررہے افسران سے رہا ہو ۔ حالانکہ عاپ سرکار بار بار یہ دعوی کرتی رہی ہے کہ انہوں نے اگر ٹکراؤ کیا ہے تو مفاد عامہ کیلئے مول لیا ہے انہوں نے اپنے لئے ٹکراؤ نہیں کیا۔یہ ٹکراؤ کئی بڑے سوال کھڑے کررہا ہے جس کا آج دہلی کی جنتا جواب مانگ رہی ہے۔ پارٹی کی پوزیشن آج یہ ہوگئی ہے کہ اگر آج اسمبلی چناؤ ہوجائیں تو سرکار بنانے لائق بھی ممبر اسمبلی شاید جیتیں۔ اس کے لئے نہ تو جنتا قصوروار ہے اور نہ ہی مرکزی سرکار۔ اس کے لئے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے غلط لوگوں کو پارٹی کے ساتھ لیا ہوا ہے۔ آہستہ آہستہ عاپ سے کئی سینئر ساتھی الگ ہوگئے ہیں جن میں شانتی بھوشن، پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، اننت کمار سے لیکر کئی دیگر نام شامل ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ زمینی ورکر الگ ہوگئے ہیں۔ دہلی میں عاپ سرکار بننے کے دو سال کے دوران چار وزرا کو ہٹایا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ممبران اسمبلی پر الزام لگے ہیں۔ اس فہرست میں سب سے بڑا نام وزیر آبی وسائل و ٹورازم و کلچر کپل مشرا کا ہے۔ پھر نام آتا ہے مہلا و اطفال ترقی و سماج کلیان وزیر سندیپ کمار کا۔ حال ہی میں ماحولیات وغذا و سپلائی ایک اسٹنگ آپریشن میں پھنسنے کی وجہ سے ہٹے۔ جتیندر تومر فرضی ڈگری کیس میں پھنسنے کی وجہ سے ہٹے۔ جہاں تک عاپ ممبران اسمبلی کا سوال ہے تو شاید شرد چوہان، نریش یادو، امانت اللہ، سومناتھ بھارتی، منوج کمار، پرکاش جاٹوالے، دنیش موہنیہ، جگیدیش سنگھ، مہندر یادو، اکھلیش ترپاٹھی اور سریندر سنگھ پر کیش درج ہوئے ہیں اور یہ ضمانت پر باہر ہیں۔ آئیڈیا لوجی کے ٹکراؤ کو لیکر عاپ میں اٹھے طوفان کے درمیان چکرویو میں پھنسے کپل مشرا کی بھلے ہی وزیر کی کرسی چلی گئی ہو مگر یہ طوفان ابھی تھما نہیں ہے۔ ستیندر جین کے عہدے پر بنے رہنے کا شاید ہی عاپ میں ہنگامہ ختم ہو۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال اور سرکار کے ایک طاقتور وزیر ستیندر جین کے خلاف سرکار کے ہی وزیر کپل مشرا کے ذریعے لگائے گئے کرپشن کے بڑے الزامات کے بعد سرکار کی ساکھ پر گہرا سنکٹ کھڑا ہوگیا ہے۔ پہلے سے ہی سی بی آئی چھاپوں اور کرپشن کے الزمات سے گھری سرکار بیشک مشرا کے الزامات کو بے بنیاد بتا رہی ہو لیکن بار بار اخلاقیت کا راگ رٹنے والے صاف اور کرپشن سے پاک حکومت کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے کیجریوال کے لئے خو د کو بے داغ ثابت کرنا اب بڑی چنوتی ہے۔ دہلی سرکار کے وزرا اور ممبران اسمبلی پر تمام الزامات پہلے بھی لگتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب سیدھے وزیر اعلی اروند کیجریوال پر انگلی اٹھانے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا ہی بھروسے مند کیبنٹ وزیر کپل مشرا ہے۔ کرپشن مخالف تحریک کے بل پر جن نائک بن کر ابھرے کیجریوال کے سامنے اب ان الزامات سے نکلنا خود کو پاک صاف ثابت کرنا ہوگا۔ لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ دہلی سرکار کے جن 7 معاملوں کی فائل سی بی آئی جانچ کے لئے ٹرانسفر کر گئے ہیں ان میں سے سابق سکریٹری ڈاکٹر ترون کے خلاف تیسری ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چار دیگر معاملوں میں اب تک ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ دہلی سرکار کے سابق سکریٹری ڈاکٹر سیم سے پہلے دہلی سرکار کے وزیر صحت ستیندر جین کے او ایس ڈی کے طور پر کام کررہے سینئر ریزینڈینٹ ڈاکٹر نکونج اگروال کی تقرری کو لیکر سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ الزام یہ بھی ہے کہ امانت اللہ خاں نے وقف بورڈ کے چیئرمین کے عہدے کا بیجا استعمال کرتے ہوئے 30 لوگوں کی تقرری کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ ان 3 ایف آئی آر کے علاوہ’ ٹاک ٹو اے کے ‘ ، وزیرصحت ستیندر جین کی لڑکی سمیا جین کا مہلا کلینک میں تقرری کا معاملہ، فیڈ بیک یونٹ اور پی ڈبلیو ڈی ٹھیکہ معاملہ میں ابتدائی جانچ کے معاملے بھی درج کئے جاچکے ہیں۔ تازہ الزامات کے بعد کیجریوال کے سامنے اپنی اور اپنے وزرا اور ممبران اسمبلی کی ساکھ بچائے رکھنا بڑی چنوتی ہوگی۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ عام آدمی پارٹی کی اندرونی رسہ کشی ابھی رکنے والی نہیں ہے۔ عام آدمی پارٹی کے کچھ بڑے نیتا کیجریوال کو گھیرنے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں ایسے میں کیجریوال کے سامنے پیدا بحران اور الزامات کے بعد سرکار و پارٹی کے سامنے پیدا مشکلیں مستقبل قریب میں کم ہوتی نہیں دکھائی دے رہی ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ مئی کا مہینہ کیجریوال کے لئے چنوتی بھرا رہے گا۔
(انل نریندر)

لالو ۔ شہاب الدین کے مبینہ ٹیپ سے آیا نیا سیاسی طوفان

ایک پرائیویٹ چینل (انگریزی) پر سنیچر کو آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو اور جیل میں بند سابق ایم پی محمد شہاب الدین کے درمیان مبینہ ٹیپ سامنے آنے سے سیاسی ابال آگیا ہے۔ لالو پرساد یادو اور شہاب الدین کے درمیان تقریباً ایک منٹ کا ٹیپ جاری کر نیوز چینل ریپبلک نے دعوی کیا ہے کہ جیل میں بند شہاب الدین پولیس افسروں کی تعیناتی اور انتظامیہ کے کام کاج کو لیکر لالو پرساد یادو نے فون پر بات کررہے تھے اور دباؤ بناتے تھے۔ شہاب الدین کے بارے میں بتایا گیا کہ لالو سے سیوان کے ایس پی کی شکایت کرتے ہوئے ایک شخص کہتا ہے کہ آپ کا ایس پی ختم ہے بھائی۔ سب کو ہٹایا نہیں تو ایک دن دنگے کروا دوں گا۔لالو کی پارٹی آر جے ڈی بہار کی نتیش سرکار میں بڑی اتحادی جماعت ہے۔ لالو یا ان کے خاندان سے کوئی بھی اس اشو پر کچھ بولا نہیں۔ دوسری طرف چینل کے دعوے پر بھاجپا نے نتیش سرکار پر نکتہ چینی کی اور گورنر سے شکایت کردی۔ بہار سے لیکر دہلی تک بھاجپا نے وزیر اعلی نتیش کے استعفے کی مانگ شروع کردی ہے۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے سنیچر کو آڑ جے ڈی صدر اور جیل میں بند دبنگی شہاب الدین کے درمیان ہوئی بات چیت پر اپنی رائے دیتے ہوئے اسے سیاسی و جرائم کا گھناؤنا گٹھ جوڑ کی مثال بتایا۔ انہوں نے سیدھے طور پر قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بہار کے وزیر اعلی سے پوچھا کہ کیا وہ لالو پرساد پر مجرمانہ کارروائی کرنے جارہے ہیں۔ پرساد نے اس موقعہ پر بھاجپا کے خلاف متحد ہونے کی کوشش میں لگی اپوزیشن پارٹیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کہیں سیکولر گٹھ بندھن کے لئے اس طرح کے گھناؤنے جرائم سے سمجھوتہ تو نہیں کرلیا جائے گا۔ اس ٹیپ کے عام ہونے کے بعد مقامی پولیس چوکس ہوگئی ہے۔ ایس پی سورو کمار شاہ نے چینل کے مالک سے بات چیت کا آڈیو ٹیپ دستیاب کرانے کو کہا ہے تاکہ اس کی جانچ کرائی جاسکے۔ ایس پی نے کہا کہ آج کل کسی کی بھی آواز نقل کرنے والے اداکار ہیں لہٰذا بغیرجانچ کے کچھ بھی کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ جیل سے بات ہونے کا دعوی کیا جارہا ہے اس لئے یہ معاملہ سنگین ہے۔ ٹیپ کو سنا جائے گا پھر لالو پرساد یادو اور شہاب الدین کی آواز کا نمونہ لیکر ماہرین کے ذریعے جانچ کرائی جائے گی۔ جانچ میں اگر ٹیپ صحیح ثابت ہوجائے گا تو پھر ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ ادھر سورگیہ رپورٹر راجدیو رنجن کی بیوی آشا رنجن نے کہا کہ لالو یادو اور شہاب الدین کا رشتہ دنیا کے سامنے ہے۔ جب جیل سے شہاب الدین اپنی فوٹو وائرل کر سکتا ہے تو فون سے بات چیت کیوں نہیں کرسکتا۔ دیکھیں یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے۔
(انل نریندر)

09 مئی 2017

نربھیا کے خاطیوں کو موت اور بلقیس کیس میں عمر قید

سپریم کورٹ نے نربھیا آبروریزی معاملہ میں لمبی سماعت کے بعد چاروں خاطیوں کی پھانسی کی سزا برقرار رکھ کر اس جرم کی حیوانیت کو تو مانا ہی بلکہ اپنے فیصلے کے ذریعے عدالت نے یہ بھی صاف کردیا ہے کہ جرم کے ایسے گھناؤنے معاملے میں سزائے موت کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں ہے۔ عدالت نے کہا قصورواروں نے بربریت اورظلم کے ٹرینڈ کی سبھی حدیں پار کردیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کہانی کسی دوسری دنیا کی ہے جہاں انسانیت کی کوئی قدر نہیں ہے۔ جانوروں کی طرح اپنی ہوس اور مزے کے لئے لڑکی کو تفریح کا ذریعہ بنادیا۔ مجرموں نے جو کیا اس نے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ واردات حیران کن اور صدمے کی سونامی کی طرح ہے۔ انہوں نے اپنی ہوس کے لئے لڑکی کے جسم کو تار تار کیا اور سنک میں اسے کومہ میں دھکیل دیا۔ جاڑے کی رات میں اسے دوست کے ساتھ بنا کپڑوں کے سڑک پر پھینک دیا۔ ان پر بس چڑھانے کی بھی کوشش کی۔ لڑکی کے جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں تھا جہاں اسے دانتوں سے نہ کاٹا ہو اور لوہے کی چھڑ کو اس کے پرائیویٹ پاٹ میں ڈالا گیا جس سے اس کی آنتیں تباہ ہوگئیں۔ قصورواروں کی حرکتیں ان کے ذہنی پاگل پن کو اجاگر کرتی ہیں جو تصور سے پرے ہے اور بربریت کی حد پار کرتا ہے۔ سخت سزا سے ہی سماج میں بھروسہ بنے گا۔ ایسے جرم میں موت کی سزا کے علاوہ کوئی اور کسوٹی نہیں ہوسکتی۔ عمر، بچے، بوڑھے اور ماں باپ کی دلیل بھی نہیں ۔ نربھیا معاملے کو اس انجام تک پہنچانے میں دہلی پولیس اور آئینی ثبوتوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ دہلی پولیس کے افسر اس فیصلے کو لائق تلقین مانتے ہیں۔ یہ فیصلہ پوری دہلی پولیس کی جیت ہے۔ پوری ٹیم نے نہ صرف بہتر طریقے سے جانچ کی بلکہ سبھی ثبوتوں کو بہتر طریقے سے پیش کیا۔ بیشک اس فیصلے کا خیرمقدم ہے اور ہم سپریم کورٹ کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا اس سے ریپ کے معاملے رکیں ہیں یا کم ہوئے ہیں؟ نہیں ۔ آج بھی آبروریزی کے معاملے میں دہلی سب سے اوپر ہے۔ کرائم رپورٹ بیورو کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ نربھیا کانڈ کے بعد بھی دہلی میں فی لاکھ کی آبادی پر 28 عورتوں پر ظلم ہو رہے ہیں۔ دہلی میں فی لاکھ کی آبادی پر 23.7 فیصد عورتوں سے آبروریزی ہوئی ہے۔ دہلی میں 2199 عورتوں کے ساتھ آبروریزی کے واقعات درج ہوئے ہیں۔ یہی حال تقریباً دیش کے دیگر حصوں میں بھی ہے۔ ہمارے دیش کا جوڈیشیل سسٹم ایسا ہے کہ ایسے معاملوں میں بھی برسوں لگ جاتے ہیں۔ یہ واردات 16 دسمبر 2012ء کی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو آنے میں تقریباً ساڑھے چارسال لگ گئے ہیں اور ابھی بھی پھانسی دینے میں وقت لگے گا۔پھانسی سے بچنے کے لئے ابھی بھی قصورواروں کے پاس تین موقعہ ہیں۔ قصور وار فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی عرضی داخل کرسکتے ہیں۔ اس کی سماعت کے لئے سزا دینے والی بنچ سے زیادہ ججوں کی بنج بنانی ہوگی۔ اگر قصورواروں کو نظرثانی عرضی میں بھی راحت نہیں ملی تو ملزمان کیوریٹیو پوٹیشن ڈال سکتے ہیں اس میں فیصلے میں اصلاح کے لئے درخواست کی جاتی ہے۔کیوریٹیو پوٹیشن میں بھی پھانسی برقرار رہی تو صدر کے سامنے رحم کی عرضی دائر کرسکتے ہیں۔ جوڈیشیل سسٹم کی بات کریں تو اس فیصلے کے ایک دن پہلے ممبئی ہائی کورٹ نے بلقیس بانو اجتماعی آبروریزی کیس پر فیصلہ سنایا تھا۔ مارچ 2002ء میں حاملہ بلقیس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی گئی تھی۔ اس نے کہا کہ ایک عورت اور ایک ماں پر بیحد بربریت طریقے سے ظلم ڈھایا گیا اور اس فیصلے نے سچائی کی تصدیق تو کی اور عدلیہ نے ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔ بلقیس بانو سے گھناؤنے جرم کے معاملے میں قصورواروں کو پھانسی کی سزا کیوں نہیں دی گئی؟ یہ کارروائی عدالت کی چنندہ ہونے کے ٹرینڈ کو لیکر ہے جس کے چلتے بلقیس بانو سے گھناؤنے جرائم کے قصورواروں کو سزائے موت نہیں دی گئی حالانکہ قاعدے کے مطابق فیصلے جذبات سے نہیں حقائق اور ثبوتوں کی بنیاد پر قانون کے دائرے میں کئے جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر نربھیا اور بلقیس معاملہ پر کئے گئے فیصلوں میں فرق کیوں ہے؟ گودھرا کانڈ کے بعد 2002ء میں ہوئی اس واردات میں اپنے خاندان کے ساتھ ٹرک سے محفوظ ٹھکانے پر جا رہی پانچ ماہ کی حاملہ بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ہوتی ہے۔ ٹھیک نربھیا کی طرح اس کے پانچ سال کی بیٹی اور ماں اور بھتیجے سمیت 14 لوگوں کو بے رحمانہ طور پر قتل کردیا جاتا ہے۔ ان کے پیٹ پر ترشول سے جے شری رام تک لکھ دیا جاتا ہے کیا یہ بھی ریئرایسٹ آف ریئر کرائم کے زمرے میں نہیں آتا؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نربھیا کانڈ کے بعد ہر سطح پر تبدیلی لانے کی کوشش ہوئی ہے، سماج کا نظریہ کم و بیش بدلہ ہے، لیکن عورتوں کے خلاف جرائم کم ہوگئے ہوں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ رات میں دہلی کی سڑکیں عورتوں کے لئے آج بھی اتنی محفوظ نہیں ہیں۔ بیشک حالات پہلے سے تھوڑا بہتر ضرور ہوئے ہیں۔ ایسے میں دور دراز علاقوں میں کیا حالات ہوں گے اس کا شاید ہی تصور کیا جاسکتا ہے۔ نربھیا کے قاتلوں کو عدالت نے سزا دے دی ہے لیکن ہم نربھیا کو سچی شردھانجلی تبھی دے پائیں گے جب لڑکیاں، عورتیں بے خوف ، بے روک ٹوک آ جاسکیں گے۔ عدلیہ نے اپنی ذمہ داری نبھائی اب باقی سماج کے سامنے ذمہ داری نبھانے کا وقت ہے۔ جب تک ہمارے سماج کی سوچ میں تبدیلی نہیں آتی نربھیا کانڈ سے شاید ہی ہم بچ سکیں گے۔
(انل نریندر)

راشٹرپتی چناؤ پر فرانس کے ساؤتھ پنتھی اور حریفوں کی نظریں لگیں

فرانس میں صدارتی چناؤ کو لیکر قیاس آرائیاں تیز ہوتی جارہی ہیں۔ وہاں کا اگلا صدر کون ہوگا یہ تو 7 مئی کو ہوئے دوسرے راؤنڈ کی ووٹنگ کے بعد آنے والے نتیجوں سے صاف ہوگا لیکن ایتوار کو اس دور پر دنیا بھر کے ساؤتھ پنتھیوں اور ان کے حریفوں کی نظریں لگی رہیں۔ وہاں ساؤتھ پنتھی لیڈر ماری لی پین طاقتور امیدوار بن کر ابھری ہیں لیکن ان کی ہار کی امیدیں کئی لوگ لگائے بیٹھے ہیں۔ پہلی نظر میں دیکھیں تو فرانس کا یہ چناؤ پوری دنیا کی سیاست پر اثر ڈال سکتا ہے۔ دنیا کے کئی دیشوں کو گھیرنے کی سازش بڑی سطح پر چل رہی ہے۔ دہشت گردی بڑے اشو کی شکل میں فرانس کے اس اہم ترین چناؤ میں ابھرکر سامنے آیا ہے، دوسرا مسجدوں کو بند کرنے اور مسلمانوں کو دیش سے باہر نکالنے کے نعروں کے ساتھ صدارتی عہدے کے لئے ساؤتھ پنتھی امیدوار لی پین مضبوط چنوتی کی شکل میں ابھری ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جن تاریکین وطن کے خلاف لی پین نے اپنی سیاسی بساط بچھائی ہے، چناؤ لڑنے سے پہلے انہی کے مقدمے لڑا کرتی تھیں۔ یوروپ میں سب سے زیادہ 50 لاکھ سے زیادہ مسلمان فرانس میں رہتے ہیں۔ پہلے دور کی ووٹنگ میں نمبر ون رہے مینول میکرواور لی پین کے درمیان ووٹوں کا فرق صرف دو فیصدی کا ہے۔ اب 7 مئی کو پہلے دور کا چناؤ کا عمل شروع ہوگیا ہے جس میں صرف میکرو اور لی پین آمنے سامنے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ میکرو کو پین کے سبھی سیاسی حریفوں کا ووٹ ملے گا۔ پین کو فرانس کی زیادہ تر پارٹیاں فرانسیسی اقدار کے لئے خطرہ مانتی ہیں۔ اگر پین ہاریں تو سب سے زیادہ راحت یوروپی یونین کو ملے گی۔ بریگزٹ کے ذریعے برطانیہ کے یونین سے الگ ہونے کی کارروائی کے ساتھ فریکزٹ کے طور پر فرانس کے بھی الگ ہونے پر بحث شروع ہوچکی ہے۔ پین نے یوروپی فیڈریشن کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے اگر وہ کامیاب ہوتی ہیں تو فریگزٹ طے مانا جارہا ہے۔ فریگزٹ کے بعد یونیا میں صرف جرمنی ہی بڑی طاقت رہ جائے گا۔ خاص بات یہ ہے کہ جرمنی میں بھی اسی سال چناؤ ہونے ہیں۔ صدارتی امیدوار پین نے نیٹو کو چھوڑنے کی بھی بات کہی ہے۔ اس سے آئی ایس کے خلاف جنگ شام کی خانہ جنگی اور دوسرے سکیورٹی امور پر بے یقین اور بڑھے گی۔ میکرو اور پین کا مقابلہ کانٹے کا ہے اگر میکرو کامیاب ہوتے ہیں تو وہ اس عہدے پر پہنچنے والے اب تک کے سب سے کم عمر (39 برس) کے شخص ہوں گے۔ اگر لی پین صدر بنیں تو وہ فرانس کی پہلی خاتون صدر ہوں گی۔ 7 مئی کی ووٹنگ کے بعد ہی طے ہو جائے گا کہ فرانس کے تاج کو کون حاصل کرے گا۔
(انل نریندر)

07 مئی 2017

ہالی ووڈ فلموں سے بھی بہتر ہے ’باہو بلی ۔2‘

ان دنوں دیش کے کونے کونے میں اگر کسی ہندی فلم کا تذکرہ ہے تو وہ ہے ’باہو بلی ۔2 ‘ کا۔ اس فلم کا اتنا شور تھا کہ میں اسے دیکھنے گیا۔ میں فلموں کا اتنا شوقین تو نہیں ہوں لیکن انگریزی کی فلم ٹی وی سیریل دیکھنے کا بہت شوقین ہوں۔ تقریباً ہر رات میرا یہی منورنجن ہے۔ میں نے سینکڑوں فلمیں اور ٹی وی سیریل دیکھے ہوں گے لیکن میں یہ دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ بالی ووڈ اور ہندوستانی سنیما میں اتنی تکنیکلی ساؤنڈ فلم شاید ہی بنی ہوں۔ یہ فلم ہالی ووڈ کی فلموں کو مات دیتی ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ فلم ہندوستانی کلچر اور ثقافت کے میدانوں کو اتنا اچھی طرح دکھاتی ہے کہ ہر ہندوستانی کا سر فخر سے اٹھ جاتا ہے۔ بالی ووڈ تو اب مغربی کلچر کو زیادہ دکھانے لگا ہے۔ یہ فلم ایسی ہے کہ آپ اپنے بچوں سمیت پورے خاندان کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ باہو بلی ۔2 نے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ بزنس اور منورنجن کے لحاظ سے اس کی کامیابی ناقابل بیاں ہے۔ اس کا سارا سہرہ ایس ایس راج مودی کو جاتا ہے۔ وہ اس کے قابل ہیں لیکن اس فلم کی غیر متوقعہ مقبولیت میں باہو بلی بنے اداکار پریاس کا بھی بڑا رول ہے۔ ہندی فلموں میں سلمان خان، اکشے کمار اور عامر خان (دنگل) کی طرح ہم پریاس کی شانداراداکاری پر فخر کرسکتے ہیں۔ ہندی فلموں میں کسی فلم کی کامیابی کا سہرہ عام طور پر ہم اس فلم کے کلکشن اور ہیرو کو دیتے ہیں۔ اس فلم نے ابھی تک 1 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کرلیا ہے۔ 250 کروڑ روپے کی لاگت سے بنی باہو بلی۔2 تقریباً ایک ساتھ ہندوستان کے 6500 سنیماؤں میں لگی ۔ اگر ہم اس کے کلکشن اور دیگر کامیاب ہندی فلموں سے ملائیں تو اتنی زیادہ کلکشن کسی دوسری فلم نے نہیں کی۔ فلم ’سلطان‘ نے تقریباً 392 کروڑ کا بزنس کیا جبکہ سلمان کی ’بجرنگی بھائی جان ‘ نے 320 کروڑ روپے، عامر خاں کی پی ۔ کے نے 340 کروڑ کا کاروبار کیا۔ اس فلم کی فلم بندی اتنی پرفیکٹ ہے کہ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا یہ فلم ہندی میں نہیں بنی ہے۔ سال 2002ء میں تیلگو فلموں سے آئے فلم کے ہیرو پریاس نے پچھلے پانچ سال باہو بلی کو دئے۔ ان پانچ سالوں میں انہوں نے کوئی اور فلم نہیں کی۔ فلم ہی نہیں بلکہ 10 کروڑ روپے کا اشتہار بھی ٹھکرادیا۔ باہو بلی کے پانچ برسوں میں ایسا وقت آیا جب پریاس کی آمدنی سکڑگئی اور انہیں ضرورت کے مطابق پیسوں کے لالے پڑ گئے۔ ایسے وقت میں بھی وہ نہیں ہلے اور ان کی چھوڑی ہوئی فلمیں ان کے حریفوں کو ملیں اور وہ فلمیں بھی ہٹ ہوئیں۔ یہ راج مودی کا بھروسہ تھا اور پریاس کی اپنی خوداعتمادی بھی تھی کہ وہ ڈٹے رہے ۔ پانچ سالوں تک باہوبلی کو جیتے رہے۔ فلم ٹریڈ ایکسپرٹ کے مطابق اگر ڈب فلموں کی بات کی جائے تو رجنی کانت ہی اکلوتے ایسے اسٹار ہیں جن کی فلمیں ہندی کی ہیں وہ اچھا بزنس کرتی ہیں۔ باہو بلی۔2 کی بمپر کلکشن کے اعدادو شمار کو اگر دیکھیں تو اگلے سال کی شروعات میں انہیں آنے والی رجنی کانت، اکشے کمار اسٹارر کروڑوں کے بجٹ سے بنی فلم ’روبرٹ‘ کے سیکوئل 2.6 کے لئے باہو بلی کے ان اعدادو شمار سے آگے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔ اس شاندار کلکشن نے تو دیگر ستاروں کے سامنے ایسی دیوار کھڑی کردی ہے جسے لانگنا آسان نہیں ہوگا اور یہ چنوتی بھی رہے گی آخر وہ آگے کیسے نکلیں؟
(انل نریندر)

چین بھارت کو ہر سیکٹر میں گھیرتا جارہا ہے

چین کے بڑھتے اثر سے بھارت کا فکر مند ہونا فطری ہی ہے۔ نریندر مودی حکومت کی ایسٹ پالیسی کے تحت بھارت نے ان مشرقی ایشیائی ملکوں سے پچھلے تین برسوں میں انفرسٹرکچر اور دیگر پروجیکٹ پر کام کیا ہے لیکن غیر ملکی معاملوں میں نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ون بیلٹ ،ون روڈ یا اوبی اے آر پروجیکٹ کے تحت چین کی زبردست سرمایہ کاری میں ان ریجن میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے ، جس کا اثر بھارت پر پڑے گا۔ کمبوڈیا اور لاؤس جیسے ملکوں میں چین کے انویسٹمنٹ کا مقصد ریجنل کنکٹوٹی کے ساتھ ہی اپنا اثر بڑھانا ہے۔ چین کی طرف سے 14-15 مئی کو او بی او آر پر منعقد کی جارہی میٹنگ میں کمبوڈیہ ، لاؤس، انڈونیشیا اور میانمار حصہ لینے جارہے ہیں۔ ادھر چین نے کشمیر پر ثالثی کی بھی خواہش ظاہر کی ہے۔ اب تک وہ اس مسئلے کا حل بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کے ذریعے کرنے کی نصیحت کرتا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے گزرنے والے پاک ۔چین اکنامک گلیاری میں قریب 50 ارب ڈالر (قریب 3210 ارب ) کی بھاری بھرکم سرمایہ کاری میں بیجنگ کو اپنا رخ بدلنے کے لئے مجبور کیا ہے۔ اس گلیاری کی تعمیر بھارت کے اعتراضات کو درکنار کیا جارہا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمس نے کہا ہے کہ علاقے میں بڑا رول نبھانے میں چین کے درپردہ مفادات ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ون بیلٹ، ون روڈ میں آنے والے ملکوں میں چین میں بھاری بھرکم سرمایہ کاری کی ہے۔ ایسے میں اب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر تنازعہ سمیت دیگر علاقائی تنازعہ حل کرنے میں مدد کرنا چین کے مفاد میں ہے۔ گزشتہ مہینے امریکہ نے بھی کشمیر کو ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ بھارت نے اسے خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملہ میں کسی تیسرے فریق کا دخل منظور نہیں ہے۔ اس معاملے میں دخل دینے کی پاک کی مانگ کو اقوام متحدہ بھی کئی موقعوں پر ٹھکرا چکا ہے اور اسے بھارت کے ساتھ بات چیت کا حل تلاشنے کو کہہ چکا ہے۔ بتادیں مقبوضہ کشمیر سے گزرنے والا چین ۔ پاک اقتصادی گلیارہ چین کے شنگ زیانگ کو پاک کے گوادر بدرگاہ سے جوڑے گا۔ اس علاقہ میں چینی فوج کی موجودگی کی خبریں کئی بار آچکی ہیں۔ حالانکہ چین کا دعوی ہے کہ امکانی مدد دستیاب کرانے کے لئے ہمارے فوجی مقبوضہ کشمیر میں ہیں۔ چین بھارت کو ہر سیکٹر میں گھیرتا جارہا ہے۔نیپال سے لیکر سری لنکا و پاکستان کو ہر ممکن مدد کرکے بھارت کے اثر اور آپسی رشتوں کو نقصان پہنچانے میں لگا ہوا ہے۔ بھارت سرکار کو چین کی اس بڑھتی سرگرمیوں کی کاٹ کرنے کیلئے ٹھوس پالیسی بنانی ہوگی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...