Translater

03 نومبر 2023

آتنکی خطروں کا خاتمہ نہپں ہوا ہے؟

تمام داغوں کے باوجود جموں کشمیر مےں آتنکی خطروں کا خاتمہ نہےں ہو رہا ہے پچھلے 3 دنو ں مےں تےسرا آتنکی حملہ کسمیر وادی مےں ۔جموں کشمیر کے بارہ مولا ضلع مےں منگل کے روز دہشت گردوں نے اےک پولس ملازم کو گولی مار کر حلاک کر دیا ۔کشمیر وادی مےں پچھلے 3 دنوں مےں ےہ اس طرح کی ےہ تےسری واردات ہے پیر کے روز دہشت گردوں نے گولی مارکر اتر پردوش نے آئے اےک مزدور کو مار ڈالا تھا جبکہ اتوار کو اےک دہشت گرد نے اےک پولس افسر کو نشانہ بناےا تھا ۔منگل وار کو ہوئے حملے کے بارے مےں افسرا نے بتاےا کہ ہیڈ کانسٹبل غلام محمد ڈار کو ان کے گھر کے باہر دہشت گردوں نے گولی مار دی ان کو قرےبی اسپتال لے جاےا گےا جہاں ان کی موت ہو گئی اتوار کو اےک پولس افسر کو گولی مارکر زخمی کیا گےا تھا ےہ واردات جنوبی کشمیر کے پلوامہ کے نوپورا علاقہ مےں ہوئی جب مزدور مکیش کمار سبزی خریدنے بازار جا رہا تھا حکام کا کہنا ہے ےہ مزدور بنائی کارکھانے مےں کام کرتا تھا گولی لگنے سے زخمی ہوئے مزدور کو استال مےں موت ہوئی حملوں مےں اضافہ دےکا جا رہا ہے ۔اس سال مئی مےں اننت ناگ مےں دہشت گردوں مےں اےک سرکس مےں کام کرنے والے شخص کو مار ڈالا تھا اےسے ہی جولائی مےں شوپیا ضلع مےں بہار کے 3 مزدوروں کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا اس درمیان جموں کشمیر کے ڈائرکٹر جنرل پولس دل باغ سنگھ نے بتاےا کہ رےاست مےں سازشوں اور دہشت گردی کے خطروں کا خاتمہ نہےں ہوا ہے اور ےہ وقت امن قائم کرنے کا ہے وہ اپنی الوداعی تقرےب مےں بول رہے تھے سےکےورٹی فورس جموں کشمیر میں کافی حد تک امن قائم کرنے میں کامےاب رہی ہے پولس اور فورس اور دےگر اسٹاف سے خطاب مےں دلباغ سنگھ نے کہا کہ ہم رےاست مےں امن قائم کرنے مےں کافی حد تک کامیاب رہے ہےں لیکن ےہ کافی نہےں ہے ۔اور دہشت گرد کی دھمکیاں نہیں رکی ہےں ہمےں چوکس رہنے کے ساتھ ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا دلباغ سنگھ ستمبر 2018 مےں انترم ڈی جی پی کے طور پر مقرر ہوئے تھے لیکن ان کے کام کی وجہ سے مکمل پولس کا چےف بنا دےا گےا تھا ۔دہشت گردوں کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمےں اپنا خفےہ محکمہ مزےد چست کرنا ہوگا ےہ نشانہ بناکر بڑھتی ہلاکتوں کو روکنے مےں کارآمد رہے گا اگر ہماری مشینری چست نہےں رہی تو ٹارگےٹ کلنگ کو روکا نہیں جا سکتا دہشت گرد اور ان کے آقا ءاپنے پلان کے مطابق چن چن کر نشانہ بنا رہے ہےں اور ہم تمام کوششوں کے باوجود انہےں روکنے مےں فےل ہو رہے ہےں (انل نرےندر)

حماس ،حزب اللہ و اسلامی جہاد بنام اسرائیل!

7 اکتوبر کو حماس مپں غزہ سے اسرائیل پر خطرناک حملہ کیا اس کے بعد کچھ ہی گھنٹوں پر لبنان کی انتہا پسند تنظیم حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے اسرائیل پر گولے داغے جس کا جواب اسرائیل نے زبردستا گولی باری سے دیا حزب اللہ نے کہا کے اس نے فلسطینی لوگوں کے ساتھ یکجہتی دکھاتے ہوئے فیبا فارمرس نے 3 چوکیوں پر راکےٹ داغے اورتوپو ں سے گولے برسائے ۔حزب اللہ کے سےنئر افسر حاشم سفدامی نے بیروت مےں فلسطینبوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ ،ہماری بندوکیں ،ہمارے راکیٹ آپ کے ساتھ ہیں ۔حزب اللہ کے اس بیان کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد پیر کے روز فلسطینی تنظےم اسلامی جہاد نے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کی سرحد پر کئی علاقوں مےں بمباری کرنے کی ذمہ داری لی ہے جوابی کارروائی میں اسرائےل نے بھی اس علاقہ مےں ہوائی حملے کئے ۔یہ بات کسی سے پوشدہ نہیں ہے کہ ایران حماس اور حزب اللہ جیسی شددت پسند تنظیموں کو مالی اور فوجی مدد دےتا رہا ہے اور دے رہا ہے اس لئے ےہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا اےران حماس حزب اللہ اور اسلامی جہاد کے ذریعہ اسرائےل کی گھےرا بندی کرنے کی کوشش کر رہا ہے ؟غزہ سے اسرائیل پر حملے ہونے کے اگلے دن ہی حزب اللہ کا جنوبی لبنان سے اسرائیل پر حملہ کرنا حماس اور حزب اللہ کی اسرائےل کو دو مورچوں پر گھےرنے کی حکمت عملی حصہ ہو سکتا ہے شیا کٹر پسند پر مبنی حزب اللہ کا قےام 1982 میں اسلامی دیش لبنان میں ہوا تھا اسرائیل کے مطابق حزب اللہ مےں قرےب 45 ہزار لڑاکے ہیں جن میں سے 20 ہزار سرگرم رہتے ہیں اور 25 ہزار رزرو ہوتے ہےں۔ہر سال حزب اللہ کو قرےب 70 کروڑ ڈالر سے زےادہ کا پیسا ملتا ہے جس کا اےک بڑا حصہ اےران سے آتا ہے ۔اےران حزب اللہ کو ہتھےار اور ٹرےننگ اور خفےہ مدد دےتا ہے۔حزب اللہ کے اسلا ڈےپو مےں 20 ہزار سے 1 لاکھ 30 ہزار مےزائل موجود ہےں جن مےں لمبی دوری کی بھی شامل ہےں جو پورے اسرائےل تک مارگ کرنے مےں اہل ہے غزہ پر اسرائےل نے ہوئے حملوں کے بعد اےران مےں جشن کا ماحول تھا ۔انگرےزی مےگزےن وال اسٹرےٹ جنرل کی رپورٹ مےں بتاےا گےا ہے حماس اور حزب اللہ کے سےنئر ممبروں کے حوالے سے کہا گےا ہے کہ اےرانی سےکےورٹی افسران نے اسرائےل پر سنیچر کو حماس کے اچانک حملے کی پلاننگ بنانے مےں مدد کی تھی ۔اسرائےل کی کہنا ہے اےران کی رےوو روشنی گارڈ کی برادرس فورس اور ان کے علاقائی نمائندوں کا سب سے بڑا مقصد اسرائےل پر قبضہ کرنا اور تباہی ہے اسرائےل کے مطابق اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اےرانی انتظامےہ نے اسرائےل کی حدود پر حزب اللہ ،حماس اور اسلامی جہاد اور شےا ملیشیا جےسی دہشت گرد تنظےموں کو قائم کرنے کی کوششوں مےں اربوں ڈالر خرچ کئے ہےں حماس اور حزب اللہ اور اسلامی جہاد جےسی دہشت گرد تنظےموں سے خطرے سے نمٹنے کے لئے اسرائےل کو اپنے دوست ملکوں امریکہ سے بھی مدد مل رہی ہے جو آنے والے وقت مےں بڑھتی جائےگی ۔حماس کے حملے مےں سوالےہ نشان کھڑا کر دیا ہے کے فلسطین کا اشو دوربارہ سے فوکس مےں لا دےا ہے اور تشوےشات کھڑی ہو رہی ہےں کہ کیا دنےا کے کچھ عرب دےش اسرائےل کے ساتھ تعلقات بہتر بنا رہے ہےں اےسی حالت مےں حماس ےہ سوچتا ہوگا اگر مسلم دےش اسرائےل کے دوست بن گئے تو پھر فلسطین کا اشو کون اٹھائےگا حماس جانتا تھا کہ جو بھی کارروائی ہوگی اس کے لئے وہ پہلے سے ہی تےار تھا ۔(انل نرےندر)

02 نومبر 2023

گمنامی چناوی بانڈ کا معاملہ!

سپرےم کورٹ کی 5 ججو پر مستمل عائےنی بےنچ پارٹےوں کے سےاسی مالی کفالت کے لئے چناوی بانڈ اسکیم کی جواز کو چےلنج کرنے سے متعلق درخواستوں پر 31 اکتوبر سے سماعت شروع کر دی ہے ۔چناوی بانڈ اسکیم کے 2 جنوری 2018 کو نوٹی فائےڈ کےا گےا تھا اسے سےاسی مالی کفالت مےں شفافےت لانے کی کوششوں کے تحت پارٹےوں کو نقد چندے کی متابدل شکل مےں پیش کیا گےا تھا ۔اسکیم کے تقازوں کے مطابق چناوی بانڈ بھارت کی شہرےت رکھنے والے شہری شخص ےا بھارت مےں قائم تنظےم ہے کے ذرےعہ خرےدے جا سکتے ہےں اسے کوئی شخص اکیلے ےا دےگر افراد کے ساتھ مشترقہ طور سے خرےد سکتا ہے چےف جسٹس ڈی وائی چندر چور کی سربراہی والی بےنچ کانگرےس نےتا نےا ٹھاکر اور مارکس والی پارٹی کے ذرےعہ دائر سمیت 4 عرضےوں پر سماعت کر رہی ہے اس بےنچ مےں دےگر جج سنجےو کھنا اور بی آر گوائی جج جے بی پاردی والا وغےرہ ہے سپرےم کورٹ نے 16 اکتوبر کو کہا تھا کہ اٹھائے گئے اےشو کی اہمےت کے پیش نظر عائےن کی دفعہ 145 (4)کے دائےرے مےں عنوان کو کم سے کم 5 ججو کی بےنچ کے سامنے رکھا جائےگا ۔عدالت نے 10 اکتوبر کو اےک اےن جی او اے ڈی آر کی جانب سے پیش سےنئر وکیل پرشانت بھوشن کی دلیلوں پر غور کیا تھا کہ 2024 کے لوک سبھا چناﺅ کے لئے بانڈ اسکیم شروع ہونے سے پہلے مسلے پر محازبہ کرنے کی ضرورت ہے قرےب 6 سال بعد چناوی بانڈ کا اشو سپرےم کورٹ کے عائےنی بےنچ سن رہی ہے سن 2017 مےں بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت نے اسے فائےنےنشیل ایکٹ کی شکل مےں منی بل کہہ کر پاس کرواےا تھا اس وقت کے وزےر خزانہ نے اس قانون کی مقصد چناوی فنڈنگ کے بارے مےں گمراہی پن کو دور کرنے کے لئے اسے شفافی قدم پتاےا تھا ےہ بل سورگےہ ارون جےٹلی نے پارلیمنٹ مےں پیش کیا تھا دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ مقاصد سے ہٹ کر اس نے الٹا معاملے کو الجھا دےا ہے قانون کے مطابق کوئی بھی شخص ےا ادارہ اےس بی آئی کے ذرےعہ جاری بانڈ خرےد کر پارٹےوں کو دے سکتا ہے نہ تو وجہ بتانی ہوگی کہ اس نے کس پارٹی کو ےہ بانڈ دےا ہے اور نہ ہی پارٹی کا نام بتانے کے لئے مجبور ہے کےوں کہ اےس بی آئی بےنک اسے جاری کرتا ہے لحازہ سرکار کو پتہ رہتا ہے کس کارپورےٹ نے کس پارٹی کو کتنا فنڈ دےا ہے ےعنی نا تو ووٹر کو پتہ چلتا ہے اور نہ ہی کارپورےشن پارٹےوں کو لیکن سرکار سب جانتی ہے کی آر ٹی آئی سے پتہ چلا ہے کہ بھاجپا کو ان 5 برسوں مےں (2018 سے جب بانڈ قانون کا نوٹی فکیشن جاری ہوا )90 فےصد ملے بانڈ اور ان مےں 90 فےصد سے سب سے اوپر کے بانڈ (1 کروڑ روپے فی بانڈ تھے)مطلب کارپورےٹ نے ہی پیسا دےا قانون مےں تبدےلی کر عطےہ حد ختم کر دی گئی جس سے کوئی بھی کمپنی کتنی بھی رقم عطےہ مےں دے سکتی ہے دوسرا بھارت مےں رجسٹرڈ غےر ملکی کمپنیوں کی لا محدود بانڈ خرےد سکتی ہے ۔کیا سپرےم کورٹ ان تمام پہلوﺅ پر بھی دھےان دےگی ؟(انل نرےندر)

جنگ بندی برستاﺅ سے دور رہنا حےران کرنے والا ہے!

بھارت نے اقوام متحدہ جنرل اجلاس مےں لائے گئے اس برستاﺅ کی ووٹنگ مےں حصہ نہےں لےا جو غزہ مےں شہرےوں کی سےکےورٹی اور قانونی اور انسانی ہمدردی کے اقدامات کو جاری رکھنے کے اہد کرنے کی ہماےت مےں تھا ۔193 ممبری اقوام متحدہ جنرل اجلاس مےں اردن نے ےہ تجوےز رکھی تھی جس کو اسپونسر (شروعاتی ہماےت)بنگلہ دےش ،پاکستان ،مالدےپ ،روس ،ساﺅتھ افرےکہ سمیت 40 ملکوں نے کی تھی اس تجوےز پر ہوئی ووٹنگ مےں بھارت نے حصہ نہےں لیا بھارت کے علاوہ جاپان ،آسٹرےلیا،کےنےڈا،جرمنی،عراق،اٹلی،برطانےہ،ےوکرےن،ساﺅتھ سوڈان،تےونس،فلپین،فےلڈن اور ذمبابوے جےسے ملکوں نے بھی ووٹ نہیں ڈالے تجوےز کے حق مےں 120 ووٹ پڑے جبکہ اسرائےل امریکہ سمےت 14 ملکوں نے اسکے خلاف ووٹ کیا وہیں 45 دےش ووٹےنگ کے وقت غےر حازری رہے فلسطےنی خطہ مےں امن قائم کرنے کے مقصد سے لائی گئی اس تجوےز پر ووٹنگ مےں بھارت کی غےر موجودگی کو لیکر دےش مےں اپوزےن پارٹےوں نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے سی پی آئی اور سی پی اےم نے بھارت کے اس قدم کو چوکانے والا بتاےا جبکہ پرےنکا گاندھی نے کہا وہ بھارت سرکار کے اس فےصلے پر شرمندہ ہےں وہیں شردپوار نے کہا کہ سرکار گمراہی کی حالت مےں ہے لےفٹ پارٹےو نے اےک مترقہ بےان جاری کرتے ہوئے کہاکہ غزہ مےں جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ مےں لائی گئی تجوےز پر بھارت کی غرے موجود گی چوکانے والی ہے ےہ حالت رہی تو بھارت کی خارجہ پالیسی اب امریکی سامراج کے تحت کام کرنے والے اےک چوٹے ماوند کی شکل مےں بدل رہی ہے۔ سےتا رام ےچوری اور ڈی راجا نے کہا کہ غزہ مےں اس قتل عالم کو روکے ےہ فلسطینی مقاصد پر لمبے عرصے سے چلے آ رہے بھارت کی ہماےت کو نظر انداز کرنے کا فےصلہ ہے اسرائےل نے 20 لاکھ سے زےادہ فلسطینی لوگوں کے گھروں کو جانے والے سبھی وسائل بند کر دئے ہےں اقوام متحدہ کی تجوےز کرتے ہوئے وہاں فوراً جنگی بندی کی جائے شرد پوار نے کہا فلسطینی مسلے پر بھارت سرکار ششو پنچ کی حالت مےں ہے ہم فلسطینیوں کی ہماےت کرتے آئے ہےں اسرائےل نے وہاں ہزاروں لوگ مار دئے ہےں بھارت نے کبھی اس کی ہماےت نہیں کی وہیں پرےنکا بولی جب انسانےت کے ساتھ سبھی قوانین کو طاق پر رکھ دیا گےا ہو تو اےسے وقت مےں اپنا رکھ طے نہیں کرنا اور چپ چاپ دےکھتے رہنا غلط ہے مہاتما گاندھی کے الفاظ کو ٹوئٹ کرتے ہوئے پرےنکا گاندھی نے لکھا آنگھ کے بدلے آنگھ پوری دنےا کو اندھا بنا دےتی ہے مےں اس بات سے پرےشان کے ہمارا دےش جنگ بندی کے لئے ہوئی ووٹنگ پر ہوئی غےر حاضر رہا ہمارے دےش کی بنےاد ادم تشدد اور سچائی کے اسولوں پر رکھی گئی جن کے لئے ہمارے مجاہیدےن آزادی نے اپنی زند گی قربان کردی ۔ےہ اصول عائےن کی بنےاد ہے اور ہماری قومیت کی تشرےح کرتی ہے انہوںنے لکھا جب لاکھوں لوگوں کے لئے کھان پانی میڈیکل اور کمےونی کیشن اور بجلی کاٹ دی گئی ہے اور فلسطین مےں ہزاروں مردو عورتوں بچوں کو مارا جا رہا ہے اےسے وقت مےں بھارت سرکار کا موقوف اختےار کرنے سے انکار کرنا اور اسے چپ چاپ ہوتے ہوئے دےکھنا غلط ہے وہیں اتحاد المسلمین کے صدر اصد الدےن اوےسی نے حصہ نہ لےنے پر سخت مذمت کی ہے غزہ کے شہرےوں کی حفاظت اور وہاں قانونی انسانی مدد کے قدم کو کو جاری رکھنے کے ہماےت مےں تھا ےہ حیران کرنے والا ہے کہ نرےندر مودی سرکار اپنے انسانی ہمدردی سمجھوتے اور شہرےوں کی حفاظت کے لئے لئے گئی تجوےز پر ووٹنگ سے دور رہی انہوںنے کہا غزہ مےں اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہےں ان مےں 3000 بچے اور 1700 خواتےن ہےں۔(انل نرےندر)

31 اکتوبر 2023

اور طاقتور ہوئے منوہر لال !

بھارتےہ جنتا پارٹی نے اپنے ہرےانہ ےونٹ مےں تنظےمی رد بدل کرتے ہوئے جمعہ کو پارٹی ایم پی نائب سنگھ سےنی کو پردےش صدر بنا دیا ابھی تک ےہ ذمہ داری کو وہ کھود سنبھال رہے ہےں اوم پرکاش دھنکڑ کو قومی سیکرٹری مقرر کیا ہے بھاجپا کے جاری سرکاری بےام مےں بتاےا ان تقرریوں کا اعلان کیا گےا ہے اور ےہ تقررےاں فوری طور پر عمل میں آ گئی ہےں اس اعلان کے بعد دھنکھڑ نے ایکس پر دئے گئے اےک ٹوئٹ کے ذرےعہ بھاجپا کی مرکزی قےادت سے لیکر بوتھ سطح تک کی لیڈر شپ کو شکرےہ ادا کیا آپ سب نے تنظےمی کام کے لئے نتیجہ کی داغ بےل ڈالی ہے دل کی گہرائےوں سے شکرےہ ،نمن ،آپکی مہنت کو پرنام دھنکھڑ ہرےانہ سرکار نے وزےر بھی رہے ہےں اور کئی اہم محکموں کا کام کاج بھی سنبھال چکے ہےں انہوںنے نئی ذمہ داری کے لئے نائب سنگھ سےنی کو بھی مبارک باد دی سےنی کرکپشےتر سے بھاجپا کایم پی ہےں وہ بھاجپا کے دےگر پسماندہ تبکہ مورچہ کے نائب صدر بھی ہےں ۔پہلی بار اےم پی سینی کی تقرری سے پارٹی کو او بی سی فرقہ کی درمےان اپنی پکڑ مظبوط کرنے مےں مدد مل سکتی ہے ،کیوں کہ جاٹو کی حماےت بڑے پیمانے پر کانگرےس ،جن نائک جنتا پارٹی (جے جے پی )اور انڈےن لوک دل کے درمےان بٹا ہوا ہے۔نائب سےنی تقرری سے صاف ہو گےا ہے کہ وزےراعلیٰ منوہر لال کو بھاجپا ہائی کمان نے اور زےادہ طاقتور بنا دیا ہے ۔وزےراعلیٰ کی پسند کا صبر دےکھ کر ےہ صاف پیغام دیا ہے کہ پارٹی منوہر لال کے کام کاج سے خوش ہے اور وہ ہرےانہ مےں تےسری بار سرکار بنانے کے لئے منوہر لال کو فری ہینڈ دے رہی ہے ۔نائب سےنی کے پردےش صدر بننے کے پر منوہر لال نے دہلی مےں اپنی پکڑ اور مضبوط کر لی ہے اس تقرری سے منوہر لال مخالف نےتاﺅ ں کو سانپ سونگھ گےا ہے۔(انل نرےندر)

ہیرا نندانی کو دیا تھا لاگ ان پاسورڈ!

ٹی اےم سی نیتا مہوا مےوترا نے مانا کہ انہوںنے ہیرا نندانی کو لاگ ان پاسورڈ دیا تھا انہوںنے اےک انگرےزی اخبار مےں دئے گئے انٹروےو مےں کہا کہ اپنے دوست اور بزنس مےن درشن ہیرا نندانی کو لوگ سبھا کا اپنا لاگ ان پاسورڈ دےا تھا حالانکہ انہوںنے اس بات سے انکار کےا کہ انہوںنے اس کے لئے ان سے کےش ےا مہنگے تحفے لئے تھے اخبار انڈےن اےکسپرےس کو دئے انٹروےو مےں مہوا مےوترا نے کہا کوئی بھی اےم پی اپنا کوئی بھی سوال کھود ٹائپ نہےں کرتا مےںنے انہےں پاسورڈ اور لاگ ان دےا تھا تاکہ ان کے دفتر مےں کوئی ملازم سوال ٹائپ کرکے اپلوڈ کر دے اور سوال اپلوڈ کرتے وقت فون پر اےک او ٹی پی آتا ہے اس کے لئے مےرا فون نمبر دیا گےا ہے اےسے مےں ےہ سوال نہےں اٹھتا کے درشن ےا پھر کوئی اور میری جانکاری کہ بغےر سوال اپلوڈ کر سکتے تھے سی بی آئی کو دی گئی شکاےت مےں سپرےم کورٹ کے وکیل جےا نند نے مہوا مےوترا پر لوک سبھا مےں پیسے لیکر سوال پوچھنے کا الزام لگاےا تھا جیا نند کی شکاےت کی بنےاد پر بی جے پی اےم پی نشکانت دوبے نے مہوا پر الزام لگاےا کہ ہیرا نندانی گروپ کے سی ای او درشن ہیرا نندانی سے کیش اور مہنگے تحفے کو لیکر پالیمنٹ مےں سوال پوچھتی ہےں انہوںنے لوک سبھااسپیکر اول برلا سے مہوا مےوترا کو معطل کرنے کی مانگ کی تھی اس معاملے کو لیکر پارلیمنٹ کی اتھکس کمےٹی جانچ کر رہی ہے مہوا مےوترا نے اتھکس کمیٹی کو اےک خط لکھکر کہا کہ وہ 31 اکتوبر کو کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو پائے گی بلکہ 5 نومبر کو آ سکےں گی۔اڈانی گروپ کو لیکر انہوںنے مانا کہ پارلیمنٹ مےں پوچھے گئے ان کے 9 سوال اڈانی گروپ سے جڑے تھے انہوںنے اخبار کو بتاےا کہ وہ سوال بلکل واجب تھے اور قومی مفاد مےں تھے اڈانی کے خلاف وال پوچھنے کے لئے ہیرا نندانی سے پیسے لےنے کے الزام کے بارے مےں انہوںنے کہا کہ آپ بتائےں کہ پیسے کہا ہےں؟اہم بات ثابت کرنی ہوگی کہ اس مےں آپسی ملی بھگت تھی ،درشن نے اپنے حلف نامے مےں لکھا کہ وہ درےندر مودی کے بڑے فےن ہےں تو بھر انہوںنے اڈانی پر حملہ کےوں کیا؟مےرے سوالوں کو لیکر بدوچندر جو تزےہ پیش کیا ہے وہ مذاق ہے انہوںنے ان کی شکاےت کو پوری طرح سے فرضی بتاےا اور کہا کہ آپنے اپنے زاتی رشتوں مےں ناکام رہے اےل شخص کا استعمال اےک فرضی شکاےت درج کرانے مےں کیا اور مےرے دوست (درشن کے گندھے پر بندوق تانکر ان سے ےہ کرواےا)لیکن چےزے تو میل کھانی چاہئے ےہ کام برا پڑ گےا ہے انہوںنے کہا ہمارے پاس ہیرا نندانی کا ایک حلف نامہ ہے لیکن اس مےں کیش کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ہیرا نندانی سے مہنگے تحفوں کے بارے مےں جہاں تک مجھے ےاد ہے درشن ہیرا نندانی نے میری سال گرہ پر مجھے اےک ہمیس اسکارف دےا تھا میں نے اس سے بابی براﺅن میک اپ سےٹ مانگا تھا لیکن مجھے اےک میک آئی روڈو اور لیبسٹک دےا انہوںنے اےک دوسرے اخبار کو کہا جب بھی وہ ممبئی ےا دوبئی مےں ہوتی تھی درشن ہیرا نندانی کی کار انہیں ائےر پورٹ سے لیکر اور گھر چھوڑتی تھی میں ےہ اقبال کرتی ہوں کی زاتی رشتے چننے کے معاملے مےں مےں نے غلطی کر لوگوں کو میرا ٹےسٹ خراب ہے مےں مانتی ہوں مےں اس کی قصوروار ہوں مجھے اس سے جلد باہر آنا چاہئے ترنمول کانگرےس سے ہماےت نہ ملنے پر مہوا نے جواب دےا کہ مےں پارٹی کی وفادار سےوک ہوں اور مرتے دم تک رہوں گی اور ممتا بنرجی میری ماں کی طرح ہے۔(انل نرےندر)

29 اکتوبر 2023

غزہ میں اسرئیلی فوج کی چنوتیاں !

اسرائیلی فوج نے پچھلے بدھوار کو غزہ پٹی کے شمالی حصو ں میں گھس کر کچھ جگہوں پر حملہ کیا ۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ کئی گھنٹوں تک چلی اس مشن میں ان کا ایک بھی فوجی زخمی نہیں ہوا ہے ۔اسرائیلی فوج اس طرح کے زمینی حملے کے لے لئے پچھلے کئی دنوں سے تیاریاں کررہی تھی ۔ہم اس سلسلے میںپچھلے کئی دنوں سے غزہ پٹی سے لگتی سرحد پر اسرائیلی فوجی اور فوجی ساز و سامان اکٹھا ہوتے دیکھا ہے ۔اسرائیل کے زمینی حملے کو لیکر مسلسل خدشات بڑھ رہے ہیں ۔حالانکہ اس سے ایک بے حد خطرناک اور بے یقینی بھری مہم بتایا جا رہا تھا ۔بی بی سی عربی سروس سے مل رہی تفصیلات نے بتایا کہ مشرقی وسطیٰ کئی اشوز کو لیکر کمر کس رہا ہے ۔انہوں نے پچھلے کئی موقعوں پر غزہ سے رپورٹ کی ہے ۔حماس نے سرنگوں کا ایک وسیع نیٹورک بنانے کے لئے غزہ پٹی کی زمین کو ہی قبضہ کر لیا ہے ۔حماس کی طرف سے کھودی گئی سرنگوں سینکڑوں کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ان سرنگوں کے ذریعے حماس غزہ کی گنجان اور گھنی آبادی والی سڑکوں کے نیچے سے سامان لے جاتے ہیں یہ کام پکڑ میں نہیںآپاتا ۔اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد حماس کو کچلنے اور ختم کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔اس حملے میںاب تک 1500 سے زیادہ اسرائیلی مارے جا چکے ہیں ۔حماس کے وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فوج کے ہوائی حملوں میں اب تک قریب 7000 لوگ مارے جا چکے ہیں ۔بدھوار کو ہی ان حملوں میں 500 لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔حماس کے ہتھیار غزہ پر اسرائیل کو زمینی حملے کے بعد یہ سرنگیں حماس کی جنگی حکمت عملی کا ایک اہم ترین حصہ بن جائیں گی ۔زمینی حملے کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے حماس کھانا پانی اور ہتھیار جمع کررہا ہوگا۔مانا جاتا ہے کہ حماس کی کئی سرنگیں اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں ۔حماس کے لڑاکے ان کے ذریعے اسرائیل پر گھات لگا کر حملے کر سکتے ہیں ۔اسرائیل کا خیال ہے کہ حماس کے تیس ہزار فوجی آٹو میٹک رائفل اور دستی بم اور اینٹی ٹینک ،میزائل چلانے میں ماہر ہیں ۔حماس کو فلسطینی اسلامی جہاد اور چھوٹے اسلامی گروپوں جیسے دیگر گروپوں کی حمایت حاصل ہے ۔یروشلم میں عراقی سیکورٹی فورس اور آئی ایس کے لڑاکوں کے درمیان لڑائی قریب 9 مہینے چلی تھی ۔حالیہ تاریخ نے ہمیں یہ دیکھایا ہے کہ شہری علاقوں میں لڑائی کتنی خطرناک ہوسکتی ہے ۔اس کا ایک بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ نشانہ بازوں جو شہر کی عمارتوں اور ملبے کے نیچے دبے چھپے رہتے ہیں اور دشمن کے فوجی کو چن چن کر نشانہ بناتے ہیں ۔اسرائیلی فوج کو حماس کے تربیت یافتہ نشانہ بازوں سے لڑنے کا بھاری خطرہ اٹھانے یا یا انہیں روکنے کے لئے عمارتوں سے پوری طرح برابر کرنے کے متبادل کا سامنا کر نا پڑسکتا ہے ۔ملت شہر میں لوگوں کی طرف سے بھی سامان بھیجنے کے لئے سودے کئے گئے ہیں ۔سال 1982 میں فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن لبنان کی راجدھانی بیروت چھوڑنے پر متفق ہوا تھا ۔جہاں اسے اسرائیلی فوج نے تین مہینے سے گھیرا ہوا تھا ۔وہ الگ الگ ملکوں میں جانے پر راضی ہوئے تھے ۔اس طرح کا حل غزہ میں بھی نکالنا پڑے گا اور شہری اموات کو کم کرنے کا ایک راستہ ہو سکتا ہے ۔لیکن یہ دیش پوری مٹی کے ایک ملبے کی طرح مٹی میں مل رہا ہے اور یہ سیاسی طور سے کیسے عمل میں لایا جا سکتا ہے ۔فلسطینی لوگ اپنا وطن اور زمین چھوڑنے پر کبھی تیار نہیں ہوںگے اس لئے فلسطین کی لڑائی جاری رہے گی ۔ (انل نریندر)

8 سابق بحری فوجیوں کو جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا!

قطر کی ایک عدالت نے جمعرات کو بھارت کے 8 سابق بحری فوجیوں کو موت کی سزا سنایا جانا حیران کن اور بے چین کرنے والا فیصلہ ہے ۔ان سبھی کو پچھلے سال اگست میں اسرائیل کے لئے ایک آبدوش پروگرام پر جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔حالانکہ قطر انتظامیہ کی طرف سے ان پر لگے الزامات کو کھلے طور پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔الدھرہ کمپنی کے لئے جن سابق بحری فوجیوں کو سزا سنائی گئی ہے ان میں کیپٹن نبتیش سنگھ گل ،کیپٹن سوربھ وششٹھ ،کمانڈر پرنیندو تیواری ،کیپٹن بریندر کمارورما ،کمانڈر سگوناکر پچھالا ،کمانڈر سنجیو گپتا ،کمانڈر اسیت نواور ناوک راجیش شامل ہیں ۔الدھرہ ایک مانی شہری اور رائل امبانی ایئر فورس کے سابق افسر کی ملکیت والی ڈیفنس سروس فراہم کرنے والی کمپنی ہے ۔ہندوستانی بحری فوجیوں کو موت کی سزا سنائے جانے کی جانکاری وزارت خارجہ کی طرف سے دی گئی ہے ۔وزارت نے بتایا کہ ہمارے پاس ابھی ابتدائی معلومات ہیں ۔کہ قطر کی عدالت نے اس بارے میں سزا سنائی ہے ۔قطر کی کوئین آف ریسسٹنٹ نے اس معاملے میں سزا سنائی ہے ۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ ہندوستانی فوجیوں کو پھانسی کی سزا سے ہم حیرت زدہ ہیں اور مکمل تفصیل کا انتظار کررہے ہیں ان 8لوگوں کو پچھلے سال اکتوبر میں قطر میں گرفتار کیا گیا تھا ۔26 اکتوبر 2023 کو انہیں موت کی سزا سنائی ہے ۔مقامی میڈیا میں آرہی رپورٹوں کے مطابق یہ لوگ اسرائیل کے لئے قطر کی پنڈبی پروگرام کی جاسوسی کرنے کا الزام ہے ۔حالانکہ ابھی تک قطر نے اس پر کوئی رائے زنی نہیں کی ہے ۔نا تو بھارت نے اور نہ ہی قطر نے ان لوگوں پر لگے الزمات کے بارے میں تفصیل دی ہے ۔پچھلے سال 25 اکتوبر کو نیتو بھارگو نام کی ایک خاتون نے ایکسپر پوسٹ کرکے بتایا تھا کہ ہندوستانی بحری فوج کے 8سابق افسروں کو دوحہ میں پچھلے 57دنوں سے رکھا گیا ہے ۔انہوں نے بھارت سرکار سے اس معاملے پرجلد کاروائی کی مانگ کی تھی ۔میتو 67 سالہ کمانڈر (ریٹائرڈ ) پنندو تیواری کی بہن ہیں ۔قطر انتظامیہ نے اگست 2022 کو ان فوجیوں کو حراست میں لیا تھا ۔لیکن مہینوں تک یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس الزام میں بند کیا گیا ۔وزارت خارجہ کی پہل پر یہ معاملہ سرخیون میں چھاگیا ۔تب قطر نے ان پر اسرائیل کے لئے جاسوسی کا الزام مڈھ دیا گیا ۔ہندوستانی شہریوں پر لگے جاسوسی کے الزام کی اس لئے کوئی اہمیت نہیں ہے کیوں کہ وہ قطر میں جس کمپنی کے لئے کام کررہے تھے وہ امان کے ایک شہری کی تھی ۔قطر کا بھارت مخالف رویہ کوئی نیا نہیں ہے ۔بھارت اور قطر کے رشتوں میں حال فی الحال میں خوشگواری کم دیکھنے کو ملی ہے ۔دونوں دیشوں کے رشتوں کے بیچ خاص صورتحال اس وقت دیکھی گئی جب پچھلے سال بی جے پی کی نیتا نوپور شرما نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں رائے زنی کی تھی ۔قطر پہلا دیش تھا جس نے اس کی تنقید کی تھی ۔اس دوران ہندوستانی سفیر کو قطر حکومت کی طرف سے سمن بھیج کر طلب کیا تھا ۔اس نے دوحہ میں فٹبال ورلڈ کپ کے دوران بھارت سے بھاگے جہادی مبلغ ذاکر نائک کی خاصی تعریف کی تھی اور نوپور شرمار کے معاملے کو بھی بہت طول دیا تھا ۔اب ضروری یہ ہے کہ بھارت سرکار کسی بھی طرح ان یرغمال بحری فوجیوں کو بچائے ۔ڈپلومیسی کوششوں کے ساتھ ساتھ قانونی چارہ جوئی کا بھی استعمال کیا جانا چاہیے ۔ہو سکے تو وزیراعظم نریندر مودی کو بھی اس معاملے میں سیدھے مداخلت کرنی چاہیے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...