Translater

25 جولائی 2020

متحدہ عرب امارات نے عرب دنیا میں تاریخ رقم کی

متحدہ عرب امارات نے پہلے امارات خلائی شٹل کا تجربہ کر عرب دنیا میں تاریخ رقم کر ڈالی پہلے خلائی شٹل کو داغ کر عرب دنیا میں تاریخ رقم کر دی ۔یہ اس کا پہلا بین الا اقوامی لانچنگ ہے ۔یو ای کے اس منگل یان کا نام عمل یعنی ہوپ (امید ہے )جسے جاپان کے ایم ٹو اے راکٹ کے ذریعہ پیر کو صبح 6بج کر 58منٹ پر ساﺅتھ جاپان کے خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا ۔اس کے ساتھ ہی اس خلائی شٹل کی مریخ تک پہنچنے کے لئے سات مہینے کا سفر شروع ہو گیا ہے ۔اور اس کو فروری 2021تک مریخ پر پہنچنا ہے اس وقت متحدہ عرب امارات اپنا 50واں یوم تاتیس منا رہا ہوگا پہلے اسے 15جولائی کو داغا جانا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے لانچگ پانچ دن تک ٹالنی پڑی تھی ۔یو اے ای نے کہا کہ اس کا مریخ عمل تجربے کے بعد ٹھیک ٹھاک کام کر رہا ہے ۔منگل مشن کے پروجکٹ کے ڈائرکٹر اشرف نے کہا کہ خلائی شٹل سے ٹھیک پیغام حاصل ہو رہے ہیں ۔اس مشن کا لائیو فیڈ بھی دکھایا گیا ۔دبئی میں قائم ہندوستانی کونسل خانے نے اس کارنامے پر یو اے ای لیڈر شپ کو مبارکباد دی ۔اس نے ٹوئٹ کیا کہ یہاں رہ رہے سبھی ہندوستانیوں کی طرف سے یو اے ای کی سرکار اور سبھی امارات کے لوگوں کو مبارکباد دیتے ہیں ۔اور کووڈ کے مشکل دور کے وقت بھی عزم سے نہ ہٹنے سائنسدانوں کو سلام کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

8ریاستوں میں 131ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کر چکی ہے ،بھاجپا

راجستھان میں بھلے ہی کانگریس کی اشوک گہلوت سرکار کو گرانے میں بھاجپا چوک گئی ہو لیکن جھاکھنڈ اور مہاراشٹر میں کانگریسوں پر اس کی نظر ابھی بھی لگی ہوئی ہے ۔پارٹیوں میں کمزور لیڈر شپ کا فائدہ اُٹھانے کے فراق میں ہے۔بھاجپا کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ریاستوں میں چنی ہوئی حکومتوں کے ممبران کو کئی طرح کا لالچ دے کر سرکار گرا سکتی ہے ۔عآپ کے راجیہ سبھا ایم پی اجے سنگھ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب بھارت ،چین دیشوں میں سرحد کو لے کر کشیدگی ہے اور دیش میں کورونا وبا کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے ۔سبھی سیاسی پارٹیوں کو متحد ہو کر لڑنا چاہیے ۔لیکن بھاجپا اور کانگریس راجستھان میں ممبران کی خرید و فروخت و جوڑ توڑ کی سیاست میں لگی ہوئی ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ انہیں دیش کی اور عوام کی کوئی فکر نہیں ہے ۔سنجے سنگھ نے کہا کہ ابھی تک 8ریاستوں میں کانگریس کے 131ممبران کو پیسہ اور وزارتی عہد ہ کے لالچ میں بھاجپا کے ہاتھوں بک کر اپنی پارٹی چھوڑ چکے ہیں ۔انہوں نے کانگریس پارٹی کے ممبران کے سلسلے میں کچھ تعداد رکھی یہ وہ لوگ ہیں جو پیسے اور وزارت کے لالچ میں بھاجپا کے ہاتھوں بک کر اپنی پارٹی چھوڑ کر بھاجپا میں شامل ہو گئے انہوں نے کہا کہ چین کی سرحد پر کشیدگی ہے اور جنگ کے حالات بنے ہوئے ہیں ۔چین بھارت کی سرحد میں زبردستی داخل ہو رہا ہے ۔اور ہندوستانی فوجی انہیں منھ توڑ جواب دے رہے ہیں ۔پورا دیش کورونا میں مبتلا ہے ایسی حالت میں دیش کی قومی پارٹیاں بھاجپا اور کانگریس جس طرح سے راجستھان کے اندر خرید و فروخت اور جوڑ توڑ کی سیاست میں لگی ہوئی ہیں یہ اچھی بات نہیں ہے ۔بلکہ سبھی پارٹیوں کو متحد ہو کر دیش کے ساتھ اور فوج جو چین سے لڑ رہی ہے متحد ہوں ان دونوں پارٹیوں کی سیاست کو دیکھتے ہوئے دیش کی جنتا کے دل میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا ان دونوں پارٹیوں کو دیش کی عوام کی کوئی فکر نہیں ہے کیا انہیں چین کے ساتھ جو حالات بنے ہیں اس کی بھی فکر ہے ؟کرونا وبا سے لوگوں کی جان جا رہی ہے ۔بھوکے مر رہے ہیں ،لیکن کیا ان کی کوئی پرواہ ہے ؟ان دونوں پارٹیوں کو اگر فکر ہے تو وہ اقتدار بچانے یا پانے کی ہے ۔ (انل نریندر)

دیکھیں ان 8کورونا ویکسین میں سب سے پہلے بازار میں کونسی آتی ہے؟

پوری دنیا کورونا ویکسین کی بے صبری سے انتظار کر رہی ہے ،اور ویکسین جلد تیار کرنے کےلئے نامور دوا ساز کمپنیاں اور سائنس داں دن رات محنت میں لگے ہیں ۔ان میں آٹھ ویکسین ہیں جو کورونا پر علیحدہ طریقے سے وار کرتی ہیں اور اس کے مضر اثرات سے بچاتی ہیں ۔ادارے کمزور یا ناکارہ وائرس ،ڈی این اے یا آر این اے ،طرےقے کے ذریعے دوا کا ٹیکہ بنا رہی ہیں ۔ان کا مقصد ایک ہے ۔جسم میں کورونا پر حملہ ہونے پر اسے تباہ کرنا پہلا :آکسفورڈ و ایسٹرونینکا وائرس ویکٹر فارومولا اس میں کورونا کے خطرناک اسپائیک پروٹین کے جنوین کے ساتھ چمپینجی میں ملنے والی ایڈینو وائرس کو ویکٹر کے طور پر استعمال کر جسم میں وائرس کے حملے کو روکنے کی حرکت پیدا کی گئی ہے ۔وائرس سے انفکشن سے روکنے والے اینٹی بواڈی پیدا ہوئے وائرس سے لڑنے والی نسوں ٹی سیل بھی سرگرم ہوتے ہیں ۔ون ٹی سیل کئی سال بعد وائرس کا دوبارہ حملہ ہونے پر بھی حرکت میں آ کر اسے تباہ کر دیتا ہے ۔دو:فائجر اور بایونیٹک ایم:اور این اے ویکسین ،امریکہ جرمنی،میں دوسرے مرحلے میں سیلس کے انفیکشن سے لڑنے والے پروٹین پیدا کرنے کے پیغام دینے والی آ ر این کی ٹیکنیک کا استعمال ایک جولائی کے آخر تک 20ہزار لوگوں پر تیسرے مرحلے تک تھا ۔تجربہ اس پر جسم کی نسوں میں ایسے پروٹین بنے جو وائرس کے پروٹین کی نقل کر سکیں انفیکشن ہونے پر اسے باہری حملہ سمجھ کر لڑنے والی تکنیک نے سرگرمی سے اسے ضائع کر دیا ۔تیسرا ،ویکسینو ،وائرس ویکٹر طریقہ :ویکسینو کا چینی فوج کے ساتھ مشترکہ ریسرچ میں ویکسین کے لئے کمزور ایڈینو 5وائرس کا استعمال ٹیکے کے ذریعے ٹھیک 30منٹ 14سے 18دنو میں اثر دکھائی دیا ۔چوتھا:جوانسن اینڈ جوانسن:وائرل ویکٹر بیت ازرائل ڈی میڈیکل سینٹر ویسٹن کے ساتھ کمپنی نے ایبولا کے لئے تیار اے ڈی 26وائرس کا کورونا ویکسین کے لے استعمال کیا ۔اثر :تجرباتی مکینزم میں وائرس سے لڑنے والی نسوں میں تیزی سے اضافہ تھوڑے وقفے میں ایڈی باڈی کا اثر دکھا ۔پانچواں:روسی ویکسین ٹیکو کا فال روسی فوج گاملیچا انسٹی ٹیوٹ نے کئی ویکسین کا کواکٹیل سے بنا ٹیکہ تیار کیا ۔دوسرے مرحلے کا تجربہ سو فیصدی کامیاب ہونے کا دعوی ۔ساتواں:مواڈنی ایم آئی این اے ویکسین،امریکی کمپنی ،مواڈرن کی ویکسین نے کم وقت اور کم لاگت میں تیار ہونے والی ایم آر این اے تکنیک کو اپنانے سے پہلے تجربہ کامیاب رہا ۔اس پر اینڈی مکینزم کو ویکسین کی کئی مرحلوںکے تیار کورونا کا ٹیکہ استعمال کیا ۔پہلے مرحلے کا تجربہ کامیاب رہا ہندوستان کی دو کمپنیوں کی دعوی داری غیر ملکی کمپنی بائیوٹک آئی سی ایم آر کے ساتھ مل کر انایکٹیوٹی ویٹیڈ ویکسین طریقے سے ٹیکے پر کام کر رہی ہیں ۔اس کا کلینکل تجربہ کامیاب رہا ۔ایٹی باڈی بنا کر انسداد مکینزم کو مضبوط کرنے اور وائرس کو ناکارہ کرنے کے لئے استعمال کیا ۔اس کے جسم میں مضر اثرات کے امکان نہیں دیکھیں کون سی دوا سارے تجربوں اور استعمال کے بعد مارکیٹ میں آتی ہے اور اس خطرناک وبا سے نجات دلاتی ہے ۔ (انل نریندر)

24 جولائی 2020

آہستہ آہستہ مٹ رہا ہے تباہی کا ہر نشان !

2013میں کیدار ناتھ قدرتی آفت نے نا صرف کیدار پوری بلکہ گوری کنڈ اور سون پریاگ میں بھی تباہی مچائی سون پریاگ تو پوری طرح سیلاب میں سما گیا تھا جبکہ گوری کنڈ کا منداکنی سے لگا حصہ زمین دوز ہوگیا تھا لیکن گزشتہ 7برسوں کے دوران دوبارہ تعمیراتی کاموں نے اب دونوں قصبوں کی صورت ہی بدل ڈالی ہے حالانکہ اب بھی کئی کام ہونے باقی ہیں سون پریاگ میں سو سے زیادہ کمرشل ادارے تہس نہس ہو گئے تھے قصبہ کا باقی حصہ پانی میں ڈوب گیاتھا اسی طرح گوری کنڈ میں منداکنی ندی کے کنارے بنے ایک سو پچاس سے زائد ہوتل اور لاج سیلاب کی زد میں آگئے تھے ۔گوری کنڈ سے لیکر سون پریاگ کا جو چھ کلومیٹر کا حصہ ڈہہ گیا تھا اس کی مرمت ہو گئی ہے ۔2015میں امریکی تکنیک سے سون پریاگ میں ایک اوور برج بنایا گیا جس پر 36کروڑ روپئے کی لاگت آئی ہے ۔کیدارناتھ کے اہم پڑاو¿ کی بات کریں تو تباہی کے باوجود گوری کنڈ کو سون پریاگ سے جوڑنے کے لئے پیدل راستہ گوری کنڈ میں ہیلی پیڈ کی تعمیر کی گئی ہے ۔لیکن دورے قدیم کی اس کنڈ کی دوبارہ تعمیر ابھی نہیں ہو پائی آہستہ آہستہ سمٹتا جا رہا ہے ۔2013میں آئی قدرتی آفت سے تباہی کے نشان ۔ (انل نریندر)

چاہ بار پر ایران نے پٹری سے اتاری ریل !

ایران نے بھارت کو چاہ بار ریل پروجیکٹ سے باہر کر دیا ہے بھارت کے ذریعے پیسہ دینے کی وجہ بتاتے ہوئے ایران نے کہا اب وہ اکیلے ہی اس پروجیکٹ کو پورا کریگا ۔ایران کا یہ فیصلہ فوجی اور حکمت عملی طور پر ایک بڑا جھٹکا ہے ۔وہیں میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کے اس غیر متوقع قدم کے پیچھے چین کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔در اصل ایران اور چین کے درمیان ایک بڑا سود اہونے والا ہے جن میں چین ایران سے سستے داموں میں تیل خریدےگا اور اس کے بدلے ایران میں وہ اربوں ڈالر کی سرامایہ کاری کریگا بتایاجاتا ہے کہ اسی دباو¿ میں آکر ایران نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔2014میں ایران کے دورے پر پی ایم مودی نے چاہ بار سمجھوتے پر دستخط کئے تھے ۔بھارت کی سرکاری کمپنی اکرون اس پروجیکٹ کو پوراکرنے والی تھی اس کے تحت ایران کے چاہ بار بندرگاہ سے لیکر جہدان علاقے تک افغانستان کی سرحد تک کام ہونا تھا ۔بتایا جاتا ہے اس پروجیکٹ کی اہمیت اس لئے بھی بھارت کے لئے اہم تھی کیونکہ اسے چین کے گوادر بندرگاہ پالیسی کے جواب کے طور پر دیکھا جارہاتھا اس کے ذریعے چین ایشیا میں اپنا کاروبار مضبوط کررہا ہے ساتھ ہی اس پروجیکٹ کے پوراہونے سے بھارت کو افغانستان اور دیگر وسطی ایشیائی ملکوں کو ایک متبادل راستہ بھی مل جاتا اس پروجیکٹ سے بھارت کی اقتصادی سرگرمیاں بھی تیز ہو سکتی تھیں ۔لیکن ایران کا یہ قدم بھارت کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے اس قدم سے بھارت چین کے دہائیوں پرانے کاروباری اور خیر سگالی رشتوں میں کھٹاس آسکتی ہے ۔ایران بھارت لمبے عرصہ تک ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں نیویارک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق ایران اور چین کے درمیان 400ارب ڈالر کا بڑا سودا آخری مرحلے میں ہے اس معاہدے کے تحت چین ایران میں بینکنگ ،کمیونیکیشن ،بندرگاہ ،ریلوے اور کئی دیگر سیکٹر میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی موجودگی بڑھائے گا دوسری طرف ایران چین کو 25سال تک اپنا تیل کم قیمت پر فرخت کرتا رہےگا ۔مئی 2008میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہوئے نیوکلیائی سمجھوتے سے امریکہ کو الگ کرتے ہوئے ایران پر سخت پابندیاں لگا دی تھیں۔اس میں ایران کے لئے دوسرے دیسوں کو تیل بیچنا مشکل ہو گیا تھا بھارت ایران سے سب سے زیادہ تیل خریدتا تھا لیکن امریکی پابندیوں کے بعد اس نے کٹوتی کرنی شروع کر دی تھی اب چین کی بھاری بھرکم سرمایہ کاری سے ایران اپنی معیشت کو مشکل سے نکال پائیگا ۔اخبار کے مطابق ایران فوجی مشکوں اور ریسرچ او ر ہتھیاروں کو ڈولپمنٹ اور انٹیلی جینٹس جیسے سیکٹر میں تعاون دیں گے ۔چین وسطی مشرقی ایشیا میں اپنی حکمت عملی اور مضبوط کر پائیگا جہاں دوسری جنگ کے بعد سے امریکہ کا دبدبہ رہا ہے ۔ایران اور چین کے سودے کے پیچھے چینی صدر جنگ پنگ شی کا ہاتھ رہا ہے ۔چین ایک تیر سے کئی شکار کرناچاہتا ہے ۔ (انل نریندر)

بیٹیوں کے سامنے صحافی کا قتل!

غازی آباد کے علاقے وجے نگر کی ماتا کالونی میں پیر کی دیر رات میڈیا ملازم وکرم جوشی کو بدمعاشوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ان کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کی صبح سویرے موت ہو گئی ۔وکرم جوشی کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے 16جولائی کو انہوں نے اپنی بھانجی سے چھیڑ چھاڑ اور اپنے بھائی سے مار پیٹ کرنے کی شکایت پرتاپ وہار تھانے میں کی تھی ۔وکرم پیر کی رات بیٹیوں کے ساتھ بائک پر گھر لوٹ رہے تھے تبھی دس حملہ آوروں نے ان کی موٹر سائیکل کے سامنے آکر بائک روکنے پر مجبور کر دیا اور رکتے ہی وہ وکرم کے ساتھ مارپیٹ کرنے لگے اسی دوران ان میں سے ایک شخص نے وکرم جوشی کے سر پر گولی مار دی ۔بڑی بیٹی نے شور مچایا اور مدد کے لئے چلائی جب کوئی نہیں آیا تو پھوپھی کو جاکر واقعے کی جانکاری دی اس کے بعد وکرم کو ایک پرائیویٹ اسپتال میں بھرتی کرایاگیا ۔جہاں ان کی موت ہو گئی 35سالہ وکرم جوشی ایک مقامی اخبار میں کام کیاکرتے تھے ان کے پریوار میں بیوی د و بیٹیاں اور ماں ہے ۔پولیس نے نو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ آکاش نام کے فرار ملزم کی تلا ش ہے ۔چھیڑ چھاڑ معاملے کی شکایت ملنے کے باوجود کاروائی نا کرنے والے پتہ وہار چوکی انچارج روگھوندر سنگھ کو ایس ایس پی نے معطل کر دیا ہے ۔ساتھ ہی پولیس کی لاپرواہی کو لیکر سی او نے شعبہ ذاتی کاروائی کا حکم دیا ہے ۔جس میں پرتاب وہار چوکی انچارج کی لاپرواہی سامنے آئی ہے ۔گھر والوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں کو وقت رہتے کاروائی ہوتی تو وکرم کی جان بچ جاتی ۔الزام ہے کہ حملہ آور کئی گھنٹوں سے وکرم کا پیچھا کررہے تھے ۔رات 8بجے ملزمان کو دیکھ کر وکرم جوشی نے پرتاپ وہار جوشی کو فون کر دیا اور انہوں نے درکنار کر دیا ۔چوکی انچارج نے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ دیکر پلہ جھاڑ لیا ۔وکرم نے بدمعاشوں کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ۔بدمعاشوں کو متاثرہ خاندان کے ہر سرگرمی کی جانکاری مل رہی تھی ۔خاندان کا کہنا ہے اسی کے سبب وکرم کو راستے میں روک کر پہلے مارپیٹ کی گئی پھر گولی ماری گئی ۔یہ جانکاری تھانے سے ملتی رہی ۔اتر پردیش میں قتل کے آئے دن واقعات عام بات ہو گئی ہے ۔حال ہی میں آبر وریزی کے ایک ملزم نے ضمانت پر چھوٹنے کے بعد گاو¿ں لوٹ کر دہشت پھیلا دی ۔لڑکی اور اس کی ماں کو دن دہاڑے ٹیلر کے نیچے کچل دیا ۔اگر اسے پولیس کا خوف ہوتا تو ایسی گھناو¿نی حرکت کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔وکرم کیس میں ناصرف غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کا الزام لگتا ہے بلکہ پولیس کی غنڈوں کے ساتھ ملی بھگت ثابت ہوتی ہے یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں جرائم پیسہ جب بے خوف ہوتے ہیں تو پولیس انتظامیہ کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور بے قصور صحافی اترپردیش میں جنگل راز کا شکار ہوگیا ۔ہم غمزدہ خاندان کو صبر و تحمل کی نصیحت اور صحافی کو شردھانجلی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں وکرم کے قصورواروں کو سخت سے سخت سز ا ملے ۔ (انل نریندر)

23 جولائی 2020

ایمس سوسائڈ پوائنٹ کیسے بن گیا؟

دیش بھر میں عمدہ ہیلتھ خدمات کے لئے بڑے مرکز آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف اینڈ سائنسز (ایمس )لگتا ہے کہ خود کشی کرنے والوں کے لئے مفید جگہ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے ۔عالمی بیماری کورونا ہیلتھ کے دوران کچھ مہینوں کے اندر وہاں بھرتی مریضوں کے لئے کی جارہی خود کشی کے معاملے اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔تعجب یہ ہے کہ سنگین طور سے بیمار ایسا قدم ان ناگزیںحالات میں اٹھانے کے لئے مجبور ہو رہے ہیں جب انہیں آئی سی یو میں کھانسی اور دیگر بیماری کے بعد بھرتی کر لیا جاتا ہے اس دوران وہ خود کشی کررہے ہیں ۔اس اسپتال میں سکیورٹی کے نام پر کم سے کم 30سے 35کروڑ روپئے خرچ کئے جاتے ہیں خود کشی کے بڑھتے معاملوں سے ایمس کی ساکھ خراب ہونے لگی ہے ۔پچھلے کچھ دنوں میں ایمس اور اس کے ٹرامہ سینٹر کے اندر چار چار خود کشی کے معاملے سامنے آئے ہیں ۔اس طرح کے واقعات کے بعد ایمس کے ڈاکٹر اور نرس اور باقی اسٹاف بھی کافی فکر مند ہیں خو د کشی کے پچھلے چار معاملوں پر غورکریں تو سب سے پہلے ایمس ٹرامہ سینٹر کے اندر بنے ورن اینڈ پلاسٹک سرجری کی بلڈنگ کی چھت سے ایک شخص کے چھلانگ لگانے کا معاملہ سامنے آیا جس کی پہچان نہیں ہو پائی ۔ابھی اس بلڈنگ کے اندر کووڈ کے مریضوں کا علاج چل رہاہے ۔باوجود سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کوئی مریض اتنی سکیورٹی میں چھت تک کیسے پہونچ گیا اور اسے کسی سکیورٹی گارڈ نے روکا تک نہیں ؟ایسا ہی دوسرا معاملہ آئی سی یو میں بھرتی ایک نوجوان صحافی مریض اپنے وارڈ سے نکل کر اسپتال کی پہلی منزل سے چوتھی منزل تک اور وہاں سے کود کر جان دے دیتا ہے ۔اسے بھی کوئی روک نہیں پایا ایسے ہی تیسرا معاملہ ایمس کے ہاسٹل کا ہے جہاں پر دسویں منزل سے کود کر ایک ریجڈنٹ ڈاکٹر نے جان دے دی ۔اب چوتھا معاملہ بھی ایمس کا ہی ہے جہاں ایک مریض نے خود کشی کر لی ۔ایمس کی ایڈٹ روپورٹ 2018سے لیکر 2020میں ایمس میں تین سطحی سکیورٹی انتظام ہے جس پر سالانہ 30سے 35کروڑ روپئے کا بجٹ رکھا جاتا ہے ۔پہلے ٹائر میں ایمس کے سو سے زیادہ مستقل سکیورٹی ملازم ہیں دوسرے فیس میں پرائیویٹ سکیورٹی ایجنسیوں کے چار سو سے زیادہ گارڈ ہیں اور تیسرے میں دہلی پولیس اور دہلی ہوم گار ڈ کی سیوا لی جاتی ہے ۔اور ہر بلا ک میں سی سی ٹی وی کیمرے ہیں ۔چوبیس گھنٹے میں گارڈ کسی بھی تیمار دار کو پھٹکنے نہیںدیتے باوجود اس کے اسپتال میں خود کشی کے معاملے بڑھ رہے ہیں اس پر ایمس کی ترجمان ڈاکٹر آرتی وج سدا ہما جواب دیتی ہیں کہ ہم مریضوں کی زندگی بچاتے ہیں اگر کوئی خود کشی کرتا ہے تو اس بارے میں دہلی پولیس جانچ کرتی ہے ۔ (انل نریندر)

دیش نے لیبر طاقت کو پہچانا !

لاک ڈاو¿ن کے بعد پیدل ہی ہزاروں کلو میٹر چل کر جانے والے مزدور سارا درد بھلا کر لوٹنے لگے ہیں جنہوں نے کام بند ہونے پر انہیں تنخواہ یا پناہ دینے سے منع کر دیا تھا اب وہی لوگ انہیں 20ہزار روپئے ایڈوانس اور ڈیڑھ گنا مزدوری کے ساتھ لوٹنے کے لئے ائیر کنڈیشن بسیں تک بھیج رہے ہیں یہ ہی نہیں کئی لیبرس کی مانگ ہے کہ انہیں رہنے کے لئے باقاعدہ ایک فلیٹ بھی دیا جائے ۔بہار کے دس اضلاع کے 61دیہات جہاں سب سے زیادہ تارکین مزدور لوٹے ہیں ان کی رپورٹ میڈیا میں چھپی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ان میں 7اضلاع کے ریہات میں اوسطاً 50فیصد سے زیادہ لوگ لوٹے ہیں ۔کئی ایسے ہیں جنہیں گاو¿ں بھی کام نمل گیا ہے ۔اور بہت سے ایسے ہیں جو ابھی کام کی تلاش میں ہیں۔مظفر پور کے تین اور ارہریا کے دو منڈلوں میں پنجاب ہریانہ سے آئی ائیر کنڈیشن بسوں میں لیبر لوٹ چکے ہیں ۔کتنے لوگ لوٹے ہیں اس کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہے لیکن گاو¿ں والے نام ضرور بتاتے ہیں کہتے ہیں بلانے والوں نے 20-20ہزار روپئے ایڈوانس دئیے کسی کو دگنی مزدوری کا لالچ ملا تو کہیں تین مہینے کا ہرجانہ جنہیں اچھا لگا وہ پچھلا سارا در بھول کر گھر سے اپنے کام کی طرف لوٹ چلے ۔زیادہ تر اضلاع میں جاب کارڈ پاکر من ریگا سے مزدوری کرنے والے کہتے ہیں 194روپئے کا کام وہ بھی روزانہ نہیں اس لئے جسے بلاوا آرہا ہے وہ نکل جارہا ہے ۔کشن گنج کے بہادر قصبے سے ملے مزدوروں نے کہا ہاتھوں میں ہنر ہے لیکن کام نہیں بہار کے تو باہر کے لوگ تو کما کر گھر بھیج دیتے تھے ابھی خود بوجھ بنے ہوئے ہیں ایسے ہی لدھیانہ سے لوٹے ایک لیبر سلجیب کا کہنا ہے کہ وہاں روز 6سو روپئے کماتا تھا لیکن یہاں یہ ممکن نہیں ہے کورونا دور میں لوٹے بہاریوں کو بہار سرکار کے پروجیکٹوں میں تو کام ملا رہاہے لیکن دوبارہ لاک ڈاو¿ن اور ہر سال آنے والے سیلاب سے بھی ڈرے ہوئے ہیں ویسے زیادہ تر لوگوں نے ایک آواز میں کہا کہ یہاں سرکار کی کوشش نظر آرہی ہے لیکن پردیش جیسی کمائی یہاں مشکل ہے ۔اب تو فیکٹری مالک اور کھیتی کرانے والے پہلے سے زیادہ پیسہ دے رہے ہیں ۔لوٹنے کا خرچ اور پچھلا بقایا بھی دراصل بغیر دیہاڑی مزدوروں کے پنجاب ہریانہ کے خوش حال کسانوں کی کھیتی خراب ہو رہی ہے وہاں مزدوروں کی قلت ہے ۔دہلی پنجاب ہریانہ گجرات اور مہاراشٹر تلنگانہ کے فیکٹری مالک اپنے پرانے تجربہ کار مزدور بہاریوں کو بلاوے پر پلاوا بھیج رہے ہیں ہر بار ان کی آفر پہلے سے زیادہ ہوتی ہے ۔یہاں کے لیبر کئی برسوں سے ان کی فیکٹریوں اور کھیتوں میں کام کر رہے ہیں انہیں کام کی ایک ایک باریکی کا پتہ ہے اس لئے لیبر کو جانے کے لئے لیبر کو آنے کے لئے بسیں بھی بھیج رہے ہیں حالانکہ کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں ڈر ستارہا ہے کہ وہ جلد نہیں لوٹے تو پرانی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے ۔ایسے ہی کام ملنے پر تھوڑا وقت تو لگے گا لیکن شام سندر کہتے ہیں کہ اس لاک ڈاو¿ن میں پورے دیش نے ہماری طاقت کو سمجھ لیا ہے ۔جہاں سے ہم نکل گئے ان کی ہیکڑی اتری ہوئی ہے ۔سرکار ہمارے ذریعے بہار کی چمک نکھارنے اسی کا انتظار ہے ۔ (انل نریندر)

22 جولائی 2020

چین کی چال :جہاں تک یاک آیا زمین ہماری!

چین کے علاقے اقصائی چن میں لگے ہندوستانی خطے میں لگے قبضہ کرنے کے لئے فوج کے علاوہ جانوروں کو بھی استعمال کرتاہے ۔گرمیوں میں تبتی پٹھار سے جانوروں کو گھاس چرنے کے لئے لداخ کی طرف بھیج دیا جاتا ہے ۔جہاں تک یاک دیکھیں چین وہیں تک اپنا دعویٰ کر لیتا ہے پھر تنازعہ فوجی سطح پر پہونچتا ہے ۔نادم کمانڈ کے چیف رہے لیفٹننٹ جنرل سنجے کلکرنی نے بتایا گھاس چرانے کے لئے چین کی طرف سے یاک( سانڈوں)پر رنگ لگا کر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے یاک جہاں بھی گھاس دیکھتا ہے چرنے کے لئے پہونچ جاتا جیسے ہی برف پڑنی شروع ہوتی ہے تو وہ واپس اپنے گھر کو لوٹ جاتے ہیں ۔تین چار مہینے تک یہ ایسے ہی گھومتا رہتا ہے ۔جیسے ہی یہ سانڈ انٹری کرتے ہیں تو ویسے ہی فوجی پہونچ جاتے ہیں کہ یہ یاک ہمارا ہے ۔اور یہ ہمارا علاقہ ہے پھر ہندوستان فوجیوں سے دھکہ مکی کرنے لگتے ہیں لداخ اور اس سے جڑے تبتی علاقے کولڈ یعنی ٹھنڈا ریگستان یہاں پر کوئی کھانے پینے کی چیز پیدا نہیں ہوتی وہاں درجہ حرارت جہاں کم ہوتا ہے ۔وہاں تھوڑی سی گھاس یا دیگر چیزیں اگ آتی ہیں ۔اس بات کی تصدیق لداخ کے ایم پی شئیرنگ نام نہال نے کی ہے ۔راہل گاندھی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ٹوئیٹ پیغامیں لکھا کہ ہاں ٹیم نے ہندوستانی علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے یہ 1962سے 37244مربع کلو میٹر کا قبضہ ہے ۔2008میں پی ایل اے نے ڈیم جوک کے جاراوارڈ قلعے کو ڈھاکر اپنی چوکی بنا لی تھی اور 2012میں ڈیم جوک نے نئی کالونی بنائی 2009کے دوران چین نے بھارت کے تجارتی راستے ڈوم ییلی جوکہ ڈنگتی اور ڈیم جوک کے بیچ میں تھے کو ہڑپ لیا ہے چین کی چال ہے جہاں تک یاک آیا زمین ہماری ۔ (انل نریندر)

3گھنٹے کی بارش نے دہلی کی بری حالت کر دی !

بارش کو ترس رہی دہلی میں اتوار کو جم کر بادل برسے اور منگل کے روز بھی بارش ہوئی بے شک اس نے دہلی کے باشندوں کو گرمی اور امس سے راحت سے ضرور دلائی ہو لیکن یہ ساتھ میں آفت بھی لے آئی ۔چار الگ الگ واقعات میں آٹھ سالہ بچے سمیت چار لوگوں کی مو ت ہو گئی ساتھ ہی آئی ٹی یو کے پاس واقع انا نگر میں ایک درجن سے زیادہ جھگیاں بہہ گئیں ۔اور تھانے میں بھی پانی بھر گیا ۔کناڈ پلیس سے لیکر پرانی دہلی تک مختلف بازاروں کی دوکانوں اور گھروں میں پانی اندر داخل ہو گیا وہیں پرانی دہلی کے حوض قاضی علاقے میں ایک قدیمی مسجد کا گنبد آسمانی بجلی گرنے سے ڈہہ گیا ۔اتوار کو صبح چار بجے کے آس پا س شروع ہوئی موسلہ دھار بارش نے تین گھنٹے میں ہی دیش کی راجدھانی پانی کے نکاس کے سسٹم کی پول کھول دی اس دوران سرکاری سڑکوں پر پانی بھر گیا منٹوں روڈ پر پانی بھرنے سے ڈی ٹی سی کی ایک بس آدھی سے زیادہ ڈوب گئی حالانکہ فائرمحکمے نے بس میں پھنسے ڈروائیور اور کنڈیکٹر کو محفوظ نکال لیا ۔خوش قسمتی تھی کہ بس میں مسافر نہیں تھے ایسے ہی کئی آٹو پھنس گئے ۔ان کے ڈرائیوروں کو محفوظ نکالا گیا ۔اس درمیان منی ٹرک میں پانی بھر جانے سے اس کی ڈرائیور کندر سنگھ عطر کی موت ہو گئی یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ ہر سال بارش کے دوران پانی بھرنے کی دکتیں آتی ہیں لیکن سیاسی نیتاو¿ں کی تو تو میں میں کی وجہ سے یہ مسئلہ بنا رہتا ہے ۔اس مرتبہ بھی حکمراں عام آدمی پارٹی اور اپوزیشن بھاجپا اور کانگریس کے درمیان دہلی میں پانی بھرنے کو لیکر ایک دوسرے پر الزام تراشی کا دور شروع ہو گیا مگر سچائی یہ ہے کہ اقتدار میں بنے رہنے کے دوران ہر سیاسی پارٹی اس مسئلے سے آنکھیں چراتی رہی ہے ۔واقعی یہ شرم کی بات ہے کہ صرف 74ملی میٹر بارش سے دہلی دریامیں تبدیل ہو گئی ہے ۔سیدھے طور پر یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ بارش سے پہلے اپنی تیاریاں پوری کرتی یہ بتانا کافی ہے کہ تمام بلدیاتی اداروں پی ڈبلیو ڈی کارپوریشن نے اس بات کی ضرورت نہیں سمجھی موسلہ دھار بارش سے آنے والی دکتوں سے کیسے قابو پایا جا سکتا ہے ابھی دہلی میں پوری طرح مانسون نہیں آیا ہے اور جب آئیگا تو بھگوان ہی دہلی کا مالک ہے اوپر والے کی دہری مار پڑ رہی ہے ایک طرف کورونا اور دوسری طرف پانے کے بھراو¿ کا معاملہ ۔ (انل نریندر)

بھاجپا جانچ ایجنسیوں کابیجااستعمال کر سکتی ہے تو ہم بھی ...!

ایسا دیکھنے کو کم ملتا ہے جب کانگریس سرکار نے جانچ ایجنسیوں کا استعمال اپنے سیاسی حریفوں پر کیا ہو نہیں تو بھاجپاایسا کرتی رہتی ہے آپ اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف سی بی آئی ،آئی بی اور ای ڈی کا استعمال کرتی ہے ۔راجستھان میں بی جے پی کی مرکزی سرکار نے کانگریسی ممبران کو توڑنے اور ڈرانے دھمکانے کے لئے پی ڈی کے چھاپے ڈلوائے جب کہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے کانگریس کی اشوک گہلوت سرکار نے راجستھان میں سرکار گرانے کی سازش میں ممبران کی خرید و فروخت سے وابسطہ آیڈیو سامنے آنے کے بعد جمع کو سخت کاروائی کی پانچ بڑے واقعات ہوئے جمعہ کو پہلا پولیس میں آیڈیو کی بات چیت کی بنیا دپر گجیندر سنگھ ،دلال سنجے جین اور کانگریس ممبر اسمبلی بھنور لال شرما پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا ۔گجیندر سنگھ کو ن ہے اس بارے میں صاف نہیں لکھا کانگریس نے دعویٰ کیا کہ آڈیو میں آواز مرکزی وزیر گجندر سنگھ سکھاوت کی ہے جبکہ ان کی طرف سے کہا گیا یہ آواز فرضی ہے ۔کانگریس ممبر اسمبلی وشوندر سنگھ اور بھنور لال شرما کو معطل کر دیا گیا ہے ۔جبکہ تیسرا :دلال سنجے جین کو گرفتار کر لیا گیا ہے چوتھا ایس او جی کی ٹیم ہریانہ کے مانیسر میں ٹھہرے پائلٹ گروپ کے ممبران سے پوچھ تاچھ کرنے پہونچی لیکن ہریانہ پولیس نے اسے اندر جانے نہیں دیا ۔ڈیڑھ گھنٹے بعد جب انٹری ملی تب تک ممبر اسمبلی ندارد ہو گئے ۔پانچواں : ہائی کورٹ نے اسمبلی اسپیکر کی طرف سے سچن پائلٹ اور دیگر 18ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دئیے جانے کے نوٹس پر منگل تک کاروائی پر روک لگا دی تھی ۔کانگریس ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ مرکزی وزیر گجیندر سنگھ جانچ کو متاثر کر سکتے ہیں اس لئے انہیں بھی گرفتار کیا جائے ۔بھاجپا 25سے 35کروڑ روپئے میں ایک ایک ممبر اسمبلی کو خریدنا چاہتی تھی اور کوشش بھی کی اب تک نو آڈیو ٹیب سامنے آئے ہیں اور مزید آسکتے ہیں ۔اس لئے ضروری ہے کہ سچن پائلٹ سامنے آئیں اور بھاجپا کو کانگریس ممبران کی لسٹ دینے کے الزام پر صفائی دیں ۔گجیندر سنگھ شکھاوت نے کہا آڈیو نکلی ہے میں مارواڑی بولتا ہوں جبکہ آڈیو میں جھنجھنو ٹیب ہے جس گجیندر کا ذکر ہے اس کے عہدے اور جگہ کا کوئی ذکر نہیں اوریہ آڈیو جوڑ توڑ کر تیار کیا گیا ۔کانگریس نے جمعہ کی صبح کانفرنس کر کچھ آڈیو جاری کئے تھے اور اس میں ممبران کی خرید میں بھاجپا کے شامل ہونے کا ثبوت بتایا تھا ۔ممبران کی خرید کیلئے لین دین اور راجستھا ن کی سرکار گرانے کی سازش صاف ظاہر ہو رہی ہے ۔کانگریس کے چیف وہیف مہیش جوشی نے اس کی شکایت کی جس پر راجستھان پولیس کے ایس او جی نے گجیندر سنگھ سنجے جین ،بھون لال شرما پر ملک سے بغاوت مجرمانہ سازش کی دفعات میں ایف آئی آر درج کی ہے ۔کانگریس کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے تمام اپوزیشن سرکاروں کو راستہ دکھایا ہے ۔اگر بی جے پی اپنے حریفوں کے خلاف جانچ ایجنسیوں کا استعمال کرتی ہے توہم بھی یہ کھیل کھیل سکتے ہیں ۔ (انل نریندر)

21 جولائی 2020

ایک اور پاکستانی آتنکی انٹرنیشنل دہشت گردقرار!

دنیا کے سامنے پاکستان ایک بار پھر بے نقاب ہوا ،شرمندہ ہوا وہاں پھل پھول رہے دہشت گر د تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرغنہ نور ولی مسعود کو اقوام متحدہ نے انٹر نیشنل دہشت گرد ڈکیلئیر کر دیا ہے اس بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی نے جمعہ کو اس کا اعلان کیا اس میں بتایا گیا ہے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم اور القاعدہ سے جڑی تنظیموں کے لئے پیسہ اکھٹا کرتا رہا ہے وہ دہشت گردانہ حملوں کی سازش رچنے اور حملہ کرنے میں بھی شامل رہا اقوام متحدہ نے پاکستانی شہری پر ہتھیار رکھنے سے لیکر صفر تک پر روک لگا دی ہے اب اس کی پراپرٹی ضبط کی جانی ہے ۔جون 2018میں ٹی ٹی ٹی پی سرغنہ مولانا فضل اللہ کی موت کے بعد مسعود کو تنظیم کی کمان سونپی گئی تھی اس نے پاکستان میں کئی بڑے حملے کرائے اور جس کے چلتے امریکہ نے القاعدہ سے وابسطہ تحریک طالبان پر پابندی لگا دی امریکہ نے اب مولانا فضل اللہ پر پابندی لگائے جانے کا خیر مقدم کیا ہے ۔مسعد نے امریکہ میں بھی دھامکے کی سازش رچی تھی 2011میں پشاور میں واقع امریکی کونسل خانے پر ہوئی اسی نے حملہ کیاتھا مسعود کو پچھلے سال ہی امریکہ عالمی دہشت گرد قرار دے چکا ہے دیکھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے اس فیصلے پر کامل کرتا ہے ؟ایسی پابندیاں پہلے بھی کئی دہشت گرد سرغناو¿ں پر لگ چکی ہیں لیکن آج بھی وہ پاکستان میں کھلے عام گھو م رہے ہیں اور آتنکی سازشیں رچ رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

کووڈ19-کے چلتے دیگر امراض پر بے توجہی !

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ پچھلے تین مہینوں سے کتنے لوگوں کی کووڈ کے علاوہ دیگر اسباب سے موت ہوئی ہے ؟اس کی اہم وجہ ہے کہ مریضوں کو ناتو ڈاکٹر سے مشورہ کرنے اور نا ہی اسپتالوں میں علاج کرانا مشکل ہو رہا ہے ۔کیونکہ سبھی کی توجہ اس منہوس کورونا وائرس پر لگی ہوئی ہے ۔دہلی کے پرائیویٹ اسپتال میں ڈائرکٹر انا کولوجی،ڈاکٹر انل ڈی کروج اور نو سینئر مشیر سرجن ڈاکٹر ارون پرساد نے بتایا کہ پچھلے تین ماہ سے ہماری ہیلتھ سکیورٹی مشینر ی کی پوری توجہ کورونا سے نمٹنے میں لگی ہوئی ہے لیکن بدقسمتی سے اسی چکر میں ہم دیگر امراض خاص کر کینسر کو نظر انداز کرنے میں لگے ہیں پچھلے دو ماہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کورونا کے 15سے 20فیصد انفیکشن کو ہی خاص توجہ دی جارہی ہے اسپتال کورونا متاثرین سے بھرے پڑے ہیں جبکہ غیر کورونا متاثر مریضوں کو نظر اندازی جھیلنی پڑ رہی ہے ۔بڑی تعداد میں کینسر کے مریضوں کا علاج ایک طرح سے رکا پڑا ہے ۔اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر کے ہونے کے ناطے ہم کینسر کے مریض کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔کورونا کی صورتحال سنگین ہونے کے باوجود ہم دیگر کوئی بیماری سے متاثر لوگوں کے علاج سے منھ نہیں موڑ سکتے ۔کورونا کے ساتھ دیگر بیماریوں کو بھی اسی دیکھنے کی ضرورت ہے ہماری سرکار ڈبلیو ایچ اوو دیگر اداروں نے کورونا کے تئیں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اب جانے والی نہیں ہے دنیا کو اس کے ساتھ رہنا پڑیگا ۔ایسے میں کینسر اور دیگر بیماریوں کو بھی نظرا نداز کرنا ایک طرح سے غیر افراطی برتاو¿ ہے اس سے مریض اور خاندانوں پر اس سے مضر اثر پڑتا ہے کووڈ 19-کی وجہ سے دیگر مریضون کو نظر اندازنہیں کیا جانا چاہے ۔ضرورت اس بات کی ہے دیگر مریضون کیلئے اسپتال امید کی کرن بنیں تاکہ انسانیت کے لئے انصاف ہو سکے ۔ (انل نریندر)

مسلسل غلطیوں سے دیش کمزور ہوا ہے !

سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف پچھلے کچھ دنوں سے ٹوئٹر وار چھیڑ رکھی ہے انہوں نے کہا کہ 2014سے وزیر اعظم مسلسل بڑی غلطیاں کر رہے ہیں جن سے دیش کمزور ہوا ہے لوگ پریشانی میں آگئے ہیں کانگریس نیتا نے کہا کہ اسے سمجھنے کے لئے آپ کو الگ الگ فریقین کو سمجھنا ہوگا ۔دیش کی حفاظت کسی ایک پوائنٹ پر نہیں ٹکی ہوتی بلکہ یہ کام کئی طاقتوں کے ملنے سے ہوتا ہے ۔اور یہ تال میل سسٹم کا ہوتا ہے ۔دیش کی حفاظت ،خارجی رشتوں سے ہوتی ہے ۔معیشت سے ہوتی ہے اور جنتا کے جذبات سے ہوتی ہے ون س بھی علاقوں میں بھارت کو نقصان ہوا ہے ۔اور مشکل بڑھی ہے ۔راہل گانھی نے خارجہ پالیسی پر کہا ہمارے رشتے دنیا کے کئی ممالک سے اچھے رہے ہیں خاص کر امریکہ سے میں اس حکمت عملی ساجھیداری کہوں گا جو کافی اہم ہے ۔ہمارے رشتے روس سے تھے پی ایم اور بھوٹا ن جیسے دیشوں سے تھے اور یہ سبھی ہمارے ساتھی تھے آج ہمارے خارجی رشتے موقع پرست ہو گئے ہیں امریکہ سے بھی موجودہ رشتے لین دین پر مبنی ہیں ۔روس سے بھی رشتہ بگڑا ہوا ہے یوروپی ممالک سے بھی رشتے مطلب کے رہ گئے ہیں ۔نیپال پہلے ہمارا قربی دوست ہوا کرتا تھا آج وہ بھی ہم سے ناراض ہے ۔وہاں کے لوگ غصے میں ہیں سری لنگا نے تو چین کو اپنی بندرگاہ بھی دے دی ۔مالدیپ اور بھوٹان بھی پریشان ہیں اس طرح ہم نے اپنے قریبی غیر ملکی پارٹنروں سے رشتے بگاڑ لئے ہیں ہماری ایسی خوبیاں تھیں جن کی دنیا بھر میں تعریفیں ہوتی تھیں اور لوگ ان پر فخرکرتے تھے ابھی معیشت پچھلے پچاس سال میں سب سے برے دور میں ہے ۔کوئی نظریہ نہیں ہے معیشت برباد ہو گئی ہے ۔بے روزگاری پچھلے چالیس پچاس سال کے مقابلے سب سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ہماری مجبوری اچانک کیسے کمزور بن گئی ؟ہم نے سرکار سے کئی بار کہا دھیان دیجئے اس بات کو سمجھئے کہ ہم آئے دن غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں ہم نے سرکار سے کہا بھگوان کیلئے معیشت سنبھالنے کے لئے پیسہ خرچ کیجئے ۔چھوٹے کاروباری آج بے چین ہیں اسے بچانے کے لئے فورا ً ایسا کچھ کیجئے کیونکہ ہمارا دیش اقتصادی بحران میں ہے خارجہ پالیسی خطرے میں ہے ۔پڑوسیوں سے رشتے خراب ہیں اس لئے چین نے بھارت کے خلاف ہمت کرنے کا یہ وقت چنا ہے ۔راہل نے آخر میں تین سوا ل پوچھے ہیں چین نے قبضہ کیلئے یہ وقت کیوں چنا ؟دوسرا بھارت کی پوزیشن میں ایسا وقت ہے جس نے چین کو جارحانہ ہونے کا موقع دے دیا ؟اور تیسرا اس وقت ایسی خاص بات کیا ہے جس سے چین کو یہ یقین ہوا کہ وہ بھارت کے خلاف ہمت کرسکتا ہے ؟ (انل نریندر)

19 جولائی 2020

چار دور بات چیت :نہیں ہٹ رہا چین وہیں کا وھیں!

مشرکی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی )پر تعطل ختم کرنے کے لئے منگل کے روز بھارت اور چین کے درمیان کور سطح کے کمانڈروں کی 14گھنٹے میٹنگ چلی ذرائع کے مطابق اس میں دونوں ملکوں نے اپنے اپنے فوجیوں کی تعیناتی کم کرنے کے لئے اپنی اپنی شرطیں رکھیں ۔ جہاں بھارت کی طرف سے صاف کہا گیا کہ چین کو پینگ گانگ علاقے میں فیگر ۔8سے پیچھے جانا ہوگا جس پر چین مطفق نظر نہیں آیا یہ میٹنگ منگل کے روز دو مرحلوں میں ہوئی یہ چوتھی کور کمانڈروں کی میٹنگ تھی اور اب تک کی سب سے لمبی مانی گئی ۔فوجیوں کی تعیناتی کم کرنا آسان کاروائی نہیں ہے اس میں دونوں ملکوں کے بیچ بے حد گہری بات چیت ہوئی ہے جس کی وجہ میٹنگ اتنی لمبی چلی ہے اس میٹنگ میں ناردن آرمی کمانڈر اور کور کمانڈر اور آرمی چیف جنرل ایم این نروانے کو بتا یا انہوں نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو میٹنگ کی تفصیل سے آگاہ کیا ۔چائنا گروپ کو بھی دیر شام تک بریف کیا گیا جہاں نئی دلی میں ہائی سطح پر چلی میٹنگ وہیں پیچنگ میں بھی اس پر بات چیت ہوئی میٹنگ میں دونوں ملکوں کی طرف سے شرطوں کو لیکر کس ملک کا کیا موقف رہا۔ اور کس بات پر عام رائے بنی اس پر اعلیٰ سطح پر غور خوض کے بعد ہی بنیادی سطح پر کچھ کیا جائے گا ۔ سینئر آفسر کے مطابق اگر ضرورت پڑی تو ایک دور کی بات چیت ہو سکتی ہے۔ اور اہستہ اہستہ اگلے قدم کے بارے میں طے کیا جا سکتا ہے پینگ گانگ میں چینی فوجی پیچھے ہٹنے سے پہلے مرحلے میں چلی فگر فورس سے فگر پانچ کی طرح پیچھے گئے لیکن ریج لائن پر یعنی پہاڑی چوٹی پر وہ اب بھی موجود ہے جب کی بھارت کو بھی فیگر فور سے پیچھے فیگر تین پر آنا پڑ ابھار ت کی طرف سے صاف کیا گیا کہ چینی فوجیوں کو پرانی پوزیشن میں لوٹنا ہوگا یعنی فیگر 8 سے پیچھے ہٹنا ہوگا ۔خیال رہے کی ایک اے سی کے دونوں طرف ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو طے نات کیا گیا اور ساتھ ہی جنگی سطح پر توپ ٹینک و جنگی جہاز وغیرہ لگائے ہوئے ہیں ان سب کو پیچھع کرنے میں ٹائم لائن پر بات ہوئی ہے ۔دونوں ملکوں کے فوجیوں کو بس آمنے سامنے سے ہٹا کر ایک بفر زون بنانا ہوگا لیکن اب فیز2کی کروائی کافی مشکل لگ رہی ہے اسمیں کئے مہینے لگ سکتے ہیں ۔ (انل نریندر)

چین نے پی ایم اولی کے کھاتے میں 48کروڑ روپیے جمع کرائے !

نیپا ل کے وزیر اعظم کے پی اولی شرما کے اثاثے میں کافی بھاری اضافہ ہوا ہے بیرونی ملک میں بھی انکے کھاتوں کا پتہ چلا ہے ۔اس کرپشن میں چینی سفیر انکے بڑے مدد گار ہیںیہ چین کی کوئی نئی چال تو نہیں ہے۔وہ نیپال جیسے کمزور معیشت والے ملکوں میں گھس کر اور وہاں کرپٹ نیتاو¿ں کا استعمال کرتا ہے۔یہ بات گلوبل واچ انالسس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسکے پیچھے چین کے دو مقصد ہیں پہلا اس دیس میں چینی کمپنیوں کو آگے بڑھانا اور دوسرا اس دیس کی پالیسیوں کو متاثر کرنا اولی کا جنیو ا کے ایک بینک میں بھی کھاتا ہے اور اس میں 5.5ملین ڈالر (48کروڑ) کا سرمایہ جمع کیا ہو اہے اس کے علاوہ انکی بیوی رادھکا کو سالانہ قریب ساڑھے تین کروڑ روپیے کا منافع ملتا ہے اولی کے بے تکے فیصلوں کی وجہ سے نیپال میں سیاسی کشیدگی جاری ہے انکے اپنی پارٹی کے لوگ انہیں عہدہ سے ہٹانا چا ہتے ہیں انکی چین پرستی سے نیپال کی جنتا پریشان ہے ۔ (انل نریندر)

فلم ،ٹی وی شوٹنگ جاری رکھنے کا سوال !

لاک ڈاو¿ن کھلنے کے بعد تمام پرڈوسر وں نے ٹی وی سو ز ک شوٹنگ شروع کردی ہے اب فلم شاز شوٹنگ شروع کرنے کے مونڈ میں ہیں لیکن حال ہی میں اتنے فلم ٹی وی اسٹا رکو کورونا پازیٹیو ہونے کے بعد لاگ شوٹنگ پر پھر سے غور کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ممبئی میں تو کورونا وائرس کا قہر پہلے سے ہی زیادہ ہے لیکن اب فلمی ستارے بھی اس سے پریشان نظر آرہے ہیں امیتاب بچن،ابھیشیک بچن اور پورے گھر والوں کو کورونا کے اثرات پائے جا چکے ہیں اسی دن انوپم خیر نے بھی ٹیوٹ کرکے بتایا انکے دوست ماں بھائی چاچی اور بھتیجی کی کورونا رپورٹ پازیٹیو آئی ہے اور انوپم کھیرکی ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹو آئی ہے ۔اسکے بعد ریکھا کے بنگلے کے سیکورٹی گارڈ کو بھی کورونا ہو گیا اس کے علاوہ ریکھا نے بھی خود کو کورن ٹائم کرلیا ہے اسے کے بعد ایکٹریس سارا علی خان نے بھی شوشل میڈیا پر خبر دی کی ان کے ڈرائیور کی رپورٹ بھی کورنا پازیٹیو آئی ہے اور ٹیسٹ نیگیٹو آیا ہے حالانکہ سارا علی خان کی نیگیٹو آئی انہوں نے خود کو کورن ٹائم کرلیا ہے اس طرح سے بہت سے فلمی ستاروں کے اسٹاف اور کئی کو کورونا پازیٹیو ہونے سے فلم اور ٹی وی والوں میں کھل بلی مچی ہوئی ہے کئی آرٹسٹوں نے فلم کرنے سے بھی انکار کردیا ہے مرکزاور مہارشٹر سرکار کے تمام کوششوں کے بعد بڑی مشکل سے فلم اور ٹی وی والوں پابندیوں کے ساتھ شوٹنگ کی اجاز ت ملی ہے اس لئے اب فلم پروڈیوسرفلم کی شوٹنگ کے مونڈ میں نظر آنے لگے ہیں انڈیان فلم این ٹی وی ڈائریکٹرایسوسی ایشن نے انڈسٹری میں کورونا کے بڑھتے مریضوں کو دیکھتے ہوئے سیٹ پر زیادہ احتیاط برتنے کو کہا ہے لیکن کام بند کرنا کوئی متبادل نہیں ہے۔لاک ڈاو¿ن کے دوران تمام فلم ٹی وی ستارے کافی پریشانیوں کا سامنا کر رہے تھے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...