Translater
25 جنوری 2025
ٹرمپ کے خلاف امریکہ میں بغاوت !
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی آناً فانًا میں کئی فیصلے لیے اور اعلان کر ڈالا اس سے فطری طور پر امریکہ میں اور دنیا بھر میں طرح طرح کے سوال کھڑ ے ہونے لگے ۔اور رد عمل بھی سامنے آنے لگا۔امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف ایک طرح سے بغاوتی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامی احکامات کا دیش بھرمیں احتجاج ہو رہا ہے ۔سب سے زیادہ احتجاج ٹرمپ کے اس حکم کا ہورہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں پیدائشی شخص کو خود شہریت نہیں ملے گی ۔اگر ان کی ماں غیر قانونی طور سے دیش میں رہ رہی ہو اور والد شہری یا جائز مستقبل باشندہ نا ہوں ۔صدر ٹرمپ کے ذریعے اس فیصلے پر دستخط کرنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں امریکہ کے ہی بائیس سے زیادہ ڈیموکریٹس کھل کر ٹرمپ کی مخالفت میں اتر آئے ہیں ۔ان کی دلیل ہے کہ ٹرمپ کے خلاف آئینی اختیار ات کو چھیننے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ان میں سے چار معاملوں میں سماعت ہو رہی ہے ۔سب سے بڑی پریشانی ان خواتین کو ہورہی ہے جو امریکہ میں پناہ گزیں یا ناجائز تارکین وطن کی شکل میں رہ رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے کے مستقبل کا کیا ہوگا ؟ ان کا مزید کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ہی بتائیں کہ ان کی کوکھ میں پل رہے معصوم بچے کا کیا کروں ؟ بھارتیہ امریکی ممبران پارلیمنٹ نے امریکہ میں پیدا ہوئے کسی بھی شخص کے لئے خود شہریت کے قواعد میں تبدیلی سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامی حکم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم سے نا صرف دنیا بھر سے آئے ناجائز تارکین وطن متاثر ہوں گے بلکہ بھارت سے آئے طالب علم اور پروفیشنلز بھی متاثر ہوں گے جیسا کہ میں نے کہا کہ اب ڈیموکریٹک پارٹی کے اثر والے وہاں کے 22 ریاستوں نے اس فیصلے کو عدالت میں چنوتی دی ہے ۔ہندوستانی نژاد ایم پی نے بھی اس کی مخالفت کی ہے ۔اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت کام کرنے والی کئی انجمنوں نے بھی اسے عدالت میں چیلنج کیا ہے ۔ظاہر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لئے اس فیصلے پر آگے قدم بڑھانا آسان نہیں رہ گیا ہے ۔پیدائش کے ساتھ شہریت کا قانون امریکی آئین میں تشریح ہے ۔اس لئے اسے بدلنے پر مخالفت ہونے کا اندیشہ پہلے سے ہی جتایا جانے لگا تھا ۔حالانکہ امریکی صدر کو کسی قانون کو نافذ کرنے یا بدلنے کو لے کرلا محدود اختیارات حاصل ہیں لیکن وہاں کے قانون نظام ایسا ہے کہ صدر بھی اس سے بالاتر نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
سیف کے جلد ٹھیک ہونے پر بھی اٹھے سوال!
چاقو حملے میں زخمی ہونے کے بعد اداکار سیف علی خان ہسپتال سے ٹھیک ہو کر لوٹ چکے ہیں لیکن اب ان کے اتنی سنگین چوٹوں سے اتنی جلدی ٹھیک ہونے پر ہی سوا ل کھڑے ہونے لگے ہیں ۔لوگ ٹوئیٹ میں اتنے گہرے زخم کے بعد اتنی جلدی کیسے چلنے لگے اور پھر اتنے فٹ کیسے ہوسکتے ہیںسوال پوچھ رہے ہیں؟ سوال کرنے والوں میں مہاراشٹر کے وزیر اور سرکار میں شامل شیو سینا نیتا ہیں۔مہاراشٹر میں فڑنویس سرکار کے وزیر اور بی جے پی نیتا نتیش رانے نے سیف علی خان پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیا ان پر سچ میں چاقو حملہ ہوا تھا پھر وہ صرف ایکٹنگ کررہے تھے ۔اس سے پہلے شیو سینا نیتا سنجے نروپم نے بھی کہا تھا کہ سیف علی خاں پانچ دن میں اتنے فٹ کیسے ہو گئے ؟ سیف علی خان پر حملے کے الزام میں پولیس نے ٹھانے سے ملزم کو گرفتار کیا ہے ۔اس کا نام محمد شریف الاسلام سہزاد بتایا گیا ہے ۔ساتھ ہی پولیس نے ملزم کے بنگلہ دیشی ہونے کا بھی شبہ ظاہر کیا تھا ۔مہاراسٹر سرکار میں وزیر مچھلی وزارت کا ذمہ سنبھالنے والے نتیش رانے نے بدھوار کو ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا دیکھیے بنگلہ دیشی ممبئی میں کیاکررہے ہیں اور وہ سیف علی خاں کے گھر میں گھس گئے ۔پہلے وہ سڑک و چوراہوں پر کھڑے ہو کر جھپٹ ماری کرتے تھے ۔اب یہ لوگ گھروں میں گھسنے لگے ہیں ۔ہوسکتا ہے وہ انہیں (سیف) لے جانے آیا ہو ۔اچھا ہے نتیش رانے نے کہا میں نے انہیں اسپتال سے باہر نکلتے دیکھا۔مجھے شبہ ہوا ان پر چاقو سے حملہ ہوا تھا یا وہ ایکٹنگ کررہے تھے وہ چل رہے تھے ڈانس کررہے تھے ۔جب بھی شاہ رخ خاں یا سیف علی خاں جیسے کسی خاں کو چوٹ آتی ہے تو ہر کوئی ان کے بارے میں بات کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ادھر شیو سینا نیتا سنجے نروپم نے سیف علی خاں کی صحتیابی کے بارے میں سوال کیا کہ کیا میڈیکل سیکٹر میں اتنی ترقی کر لی ہے کہ حملے کے بعد سیف کودتے اور ڈانس کرتے ہوئے گھر پہنچ گئے ۔انہوں نے خبررساں ایجنسی اے این آئی سے کہا کہ جب ان پر (سیف ) حملہ ہوا تھا تب ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ ان کی پیٹھ میں ڈھائی انچ کا چاقو گھس گیا تھا۔ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ چھ گھنٹے تک آپریشن چلا ۔اس کے بعد آٹو والے نے بتایا کہ لہولہان حالت میں یہ اسٹیچر پر اسپتال پہنچائے گئے تھے ۔سنجے نروپم نے پوچھا کہ میڈیکل اتنی ترقی کر گیا ہے کہ چار دن بعدمیں دیکھتا ہوں کہ سیف علی خاں ااپنے گھر لوٹ آئے ہیں ۔میرے من میں خیال آیا کہ سیف علی خاں اتنے فٹ ہیں اس کی وجہ سے اتنا تیزی سے صحتیاب ہو گئے یا وہ ایکٹنگ کرتے ہیں اس لئے ریکور کیا جانا اتنا فاسٹ ؟ یا کوئی اور وجہ ہے ۔نروپم نے کہا گھر والوں کو اس حملے کے بارے میں سامنے آکر سبھی باتیں بتانی چاہیے ۔حملے کے بعد ایسا ماحول بنایا گیا کہ پوری ممبئی میں قانون و نظام فیل ہو چکا ہے ۔جبکہ چار دن بعد سیف علی خاں جس طرح سے گھر سے باہر آئے اسے دیکھ کر ایسا لگا ہی نہیں کہ کچھ ہوا تھا ۔سیف پر حملے میں ممبئی پولیس روز روز بیان بدل رہی ہے ۔اب تک تین ملزمان کے بارے میں یہ کہانی آچکی ہے ۔تازہ مثال شریف الاسلام شہزاد کی ہے ۔اس شخص کی نا تو شکل ہی سی سی ٹی وی میں دکھائے گئے شخص کو 2.32 منٹ پر بھاگتا نظر آیا اس سے ملتی ہے اور نا ہی قد کاٹھی ۔دیکھنے سے تو یہی لگتا ہے کہ سیف اس سے زیادہ فٹ ہیں ۔ممبئی پولیس یا تو سچائی بتا نہیں رہی یا پھر سچائی پر پرد ہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے ۔سیف اور ان کا خاندان کھل کر سامنے نہیں آرہا ہے ۔
(انل نریندر)
23 جنوری 2025
آرجیکر ہسپتال آبروریزی اور قتل کا معاملہ !
کولکاتہ کے آرجیکر ہسپتال میں ٹرینی لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ آبروریزی اور قتل میں کورٹ نے سنجے رائے کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔عدالت نے سنیچر کو سنجے رائے کو اس معاملے میں قصوروار قرار دیا تھا ۔کولکاتہ کی سیالدہ کورٹ نے سنجے رائے کو سزا سنائی اور کہا کہ اس کی موت ہونے تک جیل میں ہی رہنا ہوگا ۔اس کے علاوہ سنجے رائے پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی ٹھونکا ہے ۔جج ارون داس نے ملزم کو موت کی سزا نہیں دی ھالانکہ انہوں نے مانا کہ ریئرسٹ آف ریئر معاملہ ہے ۔جج نے ریاستی سرکار کو متاثرہ خاندان کو 17 لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا ہے ۔پچھلے سال اگست میں اس واردات نے پورے دیش و مغربی بنگال میں ایک جن عوامی غصہ کی لہر کو جنم دیا تھا ۔9 اگست 2024 کو 31 سالہ لیڈری ٹرینی ڈاکٹر کا اسپتال کی کانفرنس حال میں لاش ملی تھی ۔جانچ میں پتہ چلا کہ اس ڈاکٹر سے پہلے آبرو ریزی ہوئی اور پھر اس کو مار ڈالا گیا تھا ۔اس واردات کے بعد کولکاتہ میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور دو ماہ سے بھی زیادہ وقت تک ریاست میں طبی خدمات ٹھپ رہی تھیں ۔18 جنوری کو کولکاتہ کی سیالدہ کورٹ نے اس معاملے میں فیصلہ سنایا تھا ۔کورٹ کے اسپیشل جج ارونداس نے کہا کہ سی بی آئی نے جنسی استحصال آبروریزی کے جو ثبوت پیش کئے ہیں اس کا جرم ثابت ہوتا ہے یہ فیصلہ پچھلے سال نومبر میں شروع ہوئی سماعت کے تقریباً دو ماہ بعد اور اس جرم کے 162 دن بعد سنایا گیا ہے۔سیشن جج نے ملزم سنجے رائے کو بولنے کا موقع دیا ۔اس کا دعویٰ ہے کہ اسے پھسایا گیا ہے۔اور اس کے متوفی کے ماں باپ نے اسے قصوروار ٹھہرانے پر خوشی ظاہر کی مگر دہرایا کہ وہ اکیلا نہیں تھا ۔اس کے ساتھ اور بھی لوگ تھے ۔جنہیں سزا ملنے تک وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گے ۔متوفی کے والد نے کہا کہ ابھی بہت سوالوں کا جواب باقی ہے کیوں کہ جانچ کے دوران خلاصہ ہوا تھا کہ واردات کتنی بے رحمانہ تھی ۔اس میں دیگر لوگ بھی شامل تھے ۔حالانکہ اسپتال سے وابستہ تمام دیگر گھوٹالوں اور اقتصادی گھپلوں کا بھی پتہ چلا ۔جس پر اب تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ریاست کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پر قصورواروں کی حمایت لینے جیسے سنگین الزامات کے بعد اسپتال انتظامیہ نے معمولی خانہ پوری کی کوشش بھلے ہی ہوئی ہے مگر مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش ہوتی نظر نہیں آئی ۔تمام سخت قانون کے بعد بھی دیش میں عورتوںمیں یومیہ عدم تحفظ کا ماحول سے شکار ہونا پڑتا ہے ۔بڑے بڑے وعدوں کے علاوہ انہیں مزید کچھ نہیں ملتا ۔آرجیکلر ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا کہ ابھی ہمارا احتجاج ختم ہونے والا نہیں اب بھی واردات میں شامل کئی لوگ انصاف کے کٹھگھرے سے دور ہیں ۔پورا انصاف ملنے تک مظاہرہ جاری رہے گا ۔جونیئر ڈاکٹر مہتو نے کہا کہ سنجے رائے کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے لیکن دیگر قصورواروں کو قصوروار کیوں نہیں ؟ یہ اکیلے اس جرم کو کیسے انجام دے سکتے ہیں ۔انہوں نے پوچھا کہ ضمنی الزام عائد کیا ہے ۔ضمنی چارج شیٹ کہاں ہے ؟ سی بی آئی نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی ایک چارج شیٹ داخل کرے گی ۔ریلی کے دوران ڈاکٹروں نے معاملے میں 20 اہم سوال اٹھائے جن کا جواب ابھی تسلی بخش نہیں مل پایا ۔سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے معاملے میں سی بی آئی نے صرف سنجے رائے کو ہی ملزم بنایا ہے ؟
(انل نریندر)
دہلی میں مفت ریوڑیوں کی دوڑ !
دیش کی راجدھانی دہلی میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ کے لئے سیاسی پارٹیاں پوری طاقت کے ساتھ چناو¿ کمپین میں لگی ہوئی ہیں ۔ان انتخابات میں عآپ ،بی جے پی اور کانگریس تینوں ہی مفت کی کئی اسکیموں کے ذریعے ووٹروں کو لبھانے کی کوشش میں لگی ہیں ۔دہلی میں 5 فروری کو اسمبلی چناو¿ کے لئے ووٹ ڈالے جانے ہیں ۔ان انتخابات میں دہلی کے اقتدار کو بچائے رکھنا عام آدمی پارٹی کے لئے بے حد اہم ہے تو وہیں تین دہائیوں سے ریاست کے اقتدار پر قابض ہونے کے لئے بی جے پی بھی جی توڑ محنت میں لگی ہوئی ہے ۔جبکہ کانگریس پارٹی بھی دہلی میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین کو دوبارہ پانے کے لئے کوشش میں ہے ۔اور تینوں ہی بڑی پارٹیوں کے لئے لبھاونے وعدے اور چناو¿ کمپین کا ایک حصہ بنتے نظر آرہے ہیں ۔دیش میں فلاحی اسکیمیں پرانے وقت سے جاری ہیں ۔دیش کے کئی علاقوں میں پھیلی غربت اور لوگوں کی ضرورت کے لئے اسے کافی ضروری بھی مان لیا گیا ہے ۔ایسی اسکیموں میں غریبوں کے لئے راشن اور پینے کا صاف پانی اور بے سہارا بزرگوں کے لئے پنشن میڈیکل سہولت جیسی کئی اسکیمیں شامل ہیں ۔تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ اگر مفت کہی جانے والی ان ریوڑیوں سے ووٹ ملتا ہے تو اس کا سیدھا مطلب ہے کہ وہ دیش میں وہ غریبی موجود ہے جو لوگوں کو دکھ دیتی ہے ۔اور ان ریوڑیوں سے انہیں کہیں نا کہیں مالی فائدہ ہوتا ہے ۔حالانکہ کچھ کا خیال یہ بھی ہے کہ ان اسکیموں کا بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگ آج کے چھوٹے سے فائدے کے لئے آنے والے کل کا بڑا نقصان کررہے ہیں ۔لوگوں کو سہولت دینے کے معاملے میں سیاسی پارٹیوں میں ایسی دوڑ دیکھی جارہی ہے کہ اگر عام آدمی پارٹی نے خواتین کے لئے 2100 روپے دینے کا وعدہ کیا ہے تو بھاجپا نے 2500 کا کیا ہے ۔عآپ 200 یونٹ بجلی مفت دیتی ہے تو کانگریس نے اسے بڑھا کر 300 یونٹ کا وعدہ کیا ہے ۔آپ سرکا رنے خواتین کو مفت بس سفر اور کچھ طبقوں کو 200 یونٹ فری بجلی دی ہے ۔بی جے پی اپنے سنکلپ پتر میں ہر غریب عورت کو ہر مہینے 2500 روپے دینے کا وعدہ کیا ہے ۔اس میں سینئر بزرگ شہریوں کو ملنے والی پنش 2000 سے بڑھا کر 2500 روپے کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔بی جے پی نے اپنے وعدوں کے علاوہ ہر حاملہ عورت کو 21000 روپے کی مالی مدد اور چھ پیریڈ کٹس دینے کا وعدہ کیا ہے ۔اس میں ہر غریب پریوار کی عورت کو 500 روپے میں ایل پی جی گیس سلنڈ اور ہولی دیوالی پر ایک ایک نئے سلنڈر مفت دینے کا عہد کیا ہے ۔دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اور عام آدمی کے کنوینر بی جے پی کے سنکلپ پترپر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی نے کھلے طور پر اعتراف کیا ہے کہ دہلی میں کیجریوال کی ڈھیروں فلاحی یوجنائین چل رہی ہیں جس کا فائدہ بی جے پی والوں کے پریواروں کو بھی مل رہا ہے ۔ہمیں راجنیتی کرنی نہیں آتی کام کرنا آتا ہے اور کام ایسے کرتے ہیں کہ ہمارے مخالف بھی اس کی تعریف کرتے ہیں ۔عام آدمی پارٹی کی سرکار دہلی میں مفت بجلی پانی علاج ،تعلیم عورتوں کو مفت بس سفر بزرگوں کو مفت تیرتھ یاترا یوجنا چل رہی ہے ۔اس نے اب اسے ایک اور بڑھانے کا وعدہ کیا ہے جس میں ہر عورت کو ہر مہینے 2100 بزرگوں کے علاج کا پورا خرچ کا وعدہ کیا ہے ۔اور پجاریوں کو ہر مہینے 18000 سمان رقم اور طلباءکو بھی بسوں میں مفت سفر جیسے کئی وعدے کئے ہیں ۔عآپ نے دہلی میٹرو میں طلباءکو 50 فیصدی چھوٹ دینے کا بھی وعدہ کیا ہے ۔کانگریس نے عورتوں کے لئے پیاری دیدی یوجنا ،ہیلتھ سیکٹر کے لئے جیون رکشا یوجنا ،نوجوانوں کے لئے یوتھ اڑان یوجنا ،اور مہنگائی مکتی یوجنا جیسے وعدے کئے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ دہلی کے ووٹروں کو کونسی ریوڑیاں لینی پسند ہیں ۔
(انل نریندر)
21 جنوری 2025
اسرائیل غزہ جنگ ختم کب ہوگی!
اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اگر واقعی ہو گئی ہے تو یہ پوری دنیا کے لئے راحت دینے والی خبر ہے ۔بتایاجاتاہے اسرائیلی کابینہ نے جنگ بندی کی فائنل منظوری دے دی ہے ۔اب 470 دنوں کے بعد خطہ میں امن کی بحالی ہوگی ۔دونوں فریقین کے بیچ جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کے چہروں پر خوشیاں لوٹنے لگی ہیں ۔حالانکہ ابھی دونوں طرف سے مان منول کی ضرورت بھلے پڑے سمجھوتہ پر عمل شروع ہو جائے گا ۔اس رضامندی کے درمیان امریکہ کا رول تو ہے ہی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس میں ذاتی دلچسپی لینا خاص اہم ترین ثابت ہوئی ہے ۔انہوں نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا ان کی حلف برداری سے پہلے یرغمال چھوڑ دیے جانے چاہیے ۔اور رضامندی کے اعلان بھی سب سے پہلے ٹرمپ نے ہی کیا ہے ۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کا اعلان یقینی طور پر ایک بڑا کارنامہ ہے ۔لیکن جب تک یہ حقیقت میں زمین پر نہیں اترے گی جب تک پھر سے جنگ کا اندیشہ بنارہے گا ۔پچھلے برس مئی کے بعد کئی بار وقتی اور عارضی جنگ بندی کو لے کر پہل ہوئی تھی لیکن کچھ دنوں بعد حملوں میں لوگوں کے مارے جانے کی خبریں آتی رہیں ۔ظاہر ہے یہ کچھ دنوں کے لئے بھی جنگ بندی بنے رہنے کو لیکر عزم میں کمی اور بحالی امن کے تئیں توقع کا ہی ایک نظریہ ہے کہ اب اسرائیلی حملوں سے فلسطینی لوگوں کے مارے جانے کی خبریں آرہی ہیں ۔فی الحال سمجھوتہ کا جو مسودہ سامنے آگیا ہے ۔اس کے مطابق حماس کی جانب سے مرحلے وار طریقہ سے اسرائیلی یرغمالوں اور اسرائیل میں سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی یقینی کی جائے گی ۔ساتھ ہی غزہ میں بے سہارا لوگوں کے واپس لوٹنے کی بھی اجازت دی جائے گی ۔اس کے علاوہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسان کی ضروریات ،امداد پہچانے کا انتظام بھی ہوگا ۔یہ امن کی اچھی خاصی قیمت دینے کے بعد حاصل ہو رہی ہے ۔7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کئے گئے آتنکی حملے سے یہ جنگ شروع ہوئی تھی اس میں 1200 لوگ (اسرائیلی ) مارے گئے تھے اور 250 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔اس کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 46 ہزار لوگ مارے جاچکے ہیں ۔غزہ کی 90 فیصدی آبادی بے گھر ہو چکی ہے ۔لبنان ،شام ،یمن ،عراق تک اس لڑائی کی زد میں آچکے ہیں ۔اس بات کا ڈر لگتا ہے کہ کہیں اسرائیل اور ایران میں سیدھی جنگ نا چھڑ جائے ۔سیز فار 42 دن تک چلے گا لیکن اس معاہدہ میں اس بات کا بھی ذکر نہیں ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا ۔کیا جنگ ہوگی ؟ یا ہمیشہ کے لئے رک جائے گی ۔یہ بھی صاف نہیں ہے ۔اسرائیلی فوج کب تک بفر زون میں رہے گی ؟وہیں کون کون سے یرغمال افراد زندہ ہیں اور کون سے مر چکے ہیں اس کو لے کر بھی کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن جو کچھ بھی ہے اگر جنگ رک سکتی ہے چاہے کچھ ہی وقت کے لئے ہی سہی یہ غزہ کے لوگوں کے لئے بڑی راحت ہے ۔انہیں اپنی زندگی پھر سے جینے کا وقت ملے گا اور بربادی کے وقت سے راحت ملے گی ۔ہم اس جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
سیف علی خاں پر جان لیوا حملہ!
اداکار سیف علی خاں پر جان لیوا حملے نے سبھی کوحیرت میں ڈال دیا ہے ۔گھر میں گھس کر وہ بھی جو انتہائی محفوظ ترین علاقہ میں مانا جاتا ہے کوئی عام واردات نہیں مانا جاسکتا ۔ممبئی میں اگر اس سطح کی بڑی ہستیاں بھی محفوظ نہیں ہیں تو پھر عام شہری کس طرح خود کو محفوظ مانیں ۔سیف علی خاں باندرا کے عالی شان علاقہ میں رہتے ہیں ۔اسی علاقہ میں شاہ رخ خاں بھی رہتے ہیں اور سلمان خاں بھی رہتے ہیں ۔اسی علاقہ میں حال ہی میں بابا صدیقی کاقتل ہوا ۔سیف پر حملے نے کئی سوال کھڑے کر دئیے ہیں مثال کے طور پر حملہ آور سیف کے گھر ستگورو شرن بلڈنگ میں گھسنے میں کیسے کامیاب رہا ۔جہاں سیف اور ان کا پریوار رہتا ہے ؟ ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت میں سیکورٹی سے متعلق خامیوں کا حل کیوں نہیں کیا گیا ؟ کیا سیکورٹی ملازمین کی لاپرواہی تھی یا انہیں ٹھیک سے ٹرینینگ نہیں دی گئی تھی ؟ کیا سیکورٹی سسٹم جیسا کہ سی سی ٹی وی کیمرے یا انٹرکام خراب تھا یا پھر ان کی دیکھ بھال ٹھیک سے نہیں کی جارہی تھی ؟ حملہ آور کے چلے جانے کے بعد بھی سی سی ٹی وی فوٹیج کا نا ہونا سنگین سوال کھڑے کرتا ہے حملہ آور کس وقت سیف کے گھرمیں گھسا وہ اب تک پتہ نہیں چل سکا ۔کہا جارہا ہے کہ وہ دو گھنٹے پہلے سے ہی سیف کے گھر میں گھسا ہوا تھا ۔اس علاقہ میں عام طور پر پولیس سخت نگرانی رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے ۔ہم حملہ آور بلڈنگ میں گھسنے کی کوشش کررہا تھا تب ممبئی پولیس کی رات میں گشت کرنے والی ٹیمیں کیا کررہی تھیں ؟ یہ سوال سنگین ہے یہ بھی سچائی ہے کہ حملہ آور بنا کسی روک ٹوک کے عمارت میں گھس گیا ۔سیکورٹی اور نگرانی میں یہ کوتاہی کا اشارہ دیتا ہے ۔سیف علی خاں کے گھر کے افراد جن میں گھریلو نوکرانی بھی شامل ہیں ۔حملہ آور پر قابو پانے میں اتنا وقت کیوں لگا ؟ یہ عمارت کے اندرونی سیکورٹی پر سوال کھڑے کرتا ہے ۔پولیس بار بار اپنا بیان بدل رہی ہے جس شخص کو صرف ہم شکل کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا تھا اسے بعد میں چھوڑ دیا گیا ۔اب کسی بنگلہ دیشی کو حراست میں لینے کی بات ہو رہی ہے ۔ممبئی پولیس یا تو اصلیت کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے یا حقائق کو دبانے کے لئے غلط کہانیاں بنا رہی ہے ۔اگر حملہ آور چوری کرنے کے مقصد سے آیا تھا تو اس نے کیمرے میں سامنے پڑی کرینہ کی ڈائمنڈ جویلری کیوں نہیں اٹھائی۔یہ بیان خود کرینہ نے دیا ہے ۔کیا یہ محض اتفاق ہے کہ کچھ دن پہلے ہی بینڈ اسٹینڈ علاقہ میں شاہ رخ خان کے بنگلہ منت کے اندر دیکھنے کی کوشش کررہا تھا ۔یا ایک شخص قد کاٹھی کے معاملے میں سیف پر حملہ کرنے والے کرمنل جیسا ہی لگ رہا تھا ۔پہلے سلمان خاں کے گھر کے باہر فائرنگ ۔پھر ان کے قریبی بابا صدیقی کا قتل پھر شاہ رخ خاں کے گھر کے باہر ٹوہ اور اب سیف علی خاں پر قاتلانہ حملہ کیا کوئی چن چن کر خانوں پر حملہ کررہا ہے تاکہ بالی ووڈ میں ایک بار پھر دہشت کا دور لوٹ آئے ۔کیا ممبئی پھر انڈرورلڈ کے قبضہ میں آرہی ہے ؟مہاراشٹر کی ڈبل انجن کی سرکار کیوں خاموش تماشا دیکھ رہی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...