23 نومبر 2013

تہلکہ کے ترون تیج پال قانون سے بالاتر نہیں،قانون اپنا کام کرے!

تفتیشی صحافت میں اپنا نام کمانے والے تہلکہ کے مدیر ترون تیج پال نے ایک ایسی گھناؤنی حرکت کی ہے جس سے تمام میڈیا والے چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ ترون تیج پال جیسا صحافی مدیر ایسی غلط حرکت کرسکتا ہے کبھی سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ الزام ہے تہلکہ کی ساتھی خاتون جرنلسٹ کی تیج پال نے دوبار آبروریزی کی۔ واقع 8 سے 10 نومبر کے درمیان کا تھا۔ تہلکہ یونٹ گوا میں ایک ایوینٹ کے دوران تیج پال نے شراب کے نشے میں ساتھی خاتون صحافی کو ہوٹل کی لفٹ میں کھینچ لیا تاکہ اس کا جنسی استحصال کرسکیں۔ یہ خاتون ترون تیج پال کی بیٹی کی سہیلی بھی ہے اور اس نے تیج پال سے کہا بھی کہ میں آپ کی بیٹی کے برابر ہوں برائے کرم یہ سب نہ کریں لیکن تیج پال نے زور زبردستی کی ۔ ترون تیج پال کا جب یہ راز کھلا تو وہ خود ہی جج بن گئے اور خود ہی اپنے آپ ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کرلیا۔ اپنی کالی کرتوت کے چلتے تیج پال نے ایک ای میل کے ذریعے تہلکہ کی منیجنگ ایڈیٹر شوما چودھری کو لکھا کہ میں اپنا قصور مانتا ہوں اور میں نے متاثرہ سے معافی بھی مانگ لی ہے۔ غیرمتوقع طور پرگروپ سے چھ مہینے کے لئے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ شوما چودھری نے اپنے اسٹاف کو ایک ای میل جاری کرکے اس معاملے کی جانکاری دیتے ہوئے کہا یہ افسوسناک واقعہ ہے۔ پچھلے چھ دنوں سے جاری فلم فیسٹول کے دوران گوا کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں یہ واقعہ ہوا۔اس کے لئے ترون تیج پال نے معافی مانگ لی اور اپنے آپ ہی چھ مہینے کی چھٹی پر رہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ رپورٹر نے بھی انہیں معاف کردیا ہے۔ متاثرہ نے جمعہ کو انتظامیہ کے رویئے پر ناراضگی جتائی کہا کہ میں مطمئن نہیں ہوں۔ میرے معاملے میں مینجمنٹ کے ذریعے سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ نہ شکایت کمیٹی بنی۔ تیج پال کے خلاف پختہ کیس بنانے کے لئے متاثرہ کو پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان دینا ہوگا۔ ایک باقاعدہ شکایت کرنی ہوگی تاکہ اس کی بنیاد پرپولیس ایف آئی آر درج کر کارروائی کرسکے۔ لیکن جہاں تک میڈیا میں چھپی خبروں کے مطابق متاثرہ نے ابھی کوئی باقاعدہ شکایت نہیں درج کرائی۔ ادھر تہلکہ والے معاملے کو رفع دفع کرنے میں لگے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ کبھی کہتے ہیں متاثرہ نے تیج پال کی معافی منظور کرلی ہے اور اسے معاف کردیا ہے سوال محض متاثرہ و تیج پال کا نہیں یہ ایک جرم ہے اور معاملہ سرکار بنام تیج پال بنتا ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ گوا میں رونما ہوا اس لئے گوا پولیس اس معاملے میں حرکت میں آچکی ہے۔ گوا کے وزیر اعلی منوہر پاریکر نے بڑی انتظامیہ اور پولیس افسران کے ساتھ پنجی میں واقعے پر میٹنگ کرکے ابتدائی جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ پولیس نے جس پانچ ستارہ ہوٹل میں یہ واقعہ ہوا اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی مانگے ہیں۔ انہوں نے واقعہ کا خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کو آگے بڑھنے سے انکار نہیں کیا ہے۔ دہلی میں رہنے والی متاثرہ خاتون صحافی کا بیان لینے کا بھی پلان بنا رہی ہے۔ پاریکر نے کہا جانچ شروع کردی گئی ہے اگر ہم تیج پال کے خلاف کچھ ٹھوس ثبوت پاتے ہیں تو معاملہ درج کیا جاسکتا ہے کیونکہ واردات گوا میں ہوئی ہے پولیس رپورٹ کے بعد ہی میں کچھ بولنے کی پوزیشن ہوں گا۔ قومی مہلاکمیشن نے کہا کہ جنسی استحصال کا شکار خاتون کو پولیس کے پاس باقاعدہ شکایت درج کرانی ہوگی۔ کمیشن کی ممبر نرملا پربھاتکر کا کہنا ہے کہ ہم نے جو ای میل پڑھے ہیں اس سے یہ معاملہ عزت چھننے سے بھی بڑا لگتا ہے۔ حالانکہ ان کے میل کی تصدیق ہونی ہے یہ ایک سنگین اشو ہے اور ضابطوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔ میڈیا سے وابستہ تمام انجمنوں نے چاہے وہ ایڈیٹرز گلڈ ہو، پریس کلب آف انڈیا ہو یا وومن پریس کلب ہو سبھی نے سخت الفاظ میں اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور ملزم ترون تیج پال کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے میڈیا میں کام کررہی تمام خاتون صحافیوں کو اس واردات سے مایوس نہیں ہونا چاہئے اور نہ گھبرانا چاہئے یہ اپنے آپ میں ایک منفرد معاملہ ہے۔ اس سے تمام میڈیا غلط نہیں ہوجاتا۔ امید کی جاتی ہے جانچ سچائی تک پہنچے گی اور اس کیس کے سارے حقائق سامنے آئیں گے۔ ان کی بنیادپر قانون اپنا کام کرے گا۔ چاہے ملزم کتنا بڑے اثر والا کیوں نہ ہو، پوزیشن والا کیوں نہ ہو قانون سب کے لئے برابر ہے۔ ہم اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ قصوروار کو قانون کے تحت سزا ملے۔
(انل نریندر)

رام دیو کے جارحانہ تیوروں کو پست کرنے کیلئے 81 کیس درج!

یوگ گورو بابا رام دیو کی طرف سے یوپی اے سرکار کے خلاف بولنا انہیں بھاری پڑ سکتا ہے۔بابا رام دیو پر کانگریس لیڈر شپ نے قانونی شکنجہ کسنے کی پہل تیزکردی ہے۔ ایک مقصد سے یہ بھی لگتا ہے کہ بابا کو مقدمات میں اتنا پھنسادو کے وہ چناوی مہم میں بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کے ساتھ نہ جاسکیں اور زیادہ واویلا نہ مچا سکیں۔ قابل ذکر ہے کہ طویل عرصے سے بابا رام دیو کانگریس اعلی کمان کے خلاف تلخ حملے کررہے ہیں۔ وہ کھل کرکانگریس صدر سونیا گاندھی اور ان کے صاحبزادے راہل گاندھی کو کرپٹ بتانے میں کوئی قباحت نہیں برت رہے ہیں۔ پچھلے کئی مہینوں سے بابا دیش بھر میں گھوم گھوم کر کالی کمائی اور کانگریس کے خلاف سیاسی مہم چھیڑنے میں لگے ہیں۔ کچھ دنوں سے تو وہ دن رات نریندر مودی کے نام کی مالا جپ رہے ہیں۔ بابا پر لگام لگانے کسنے کے لئے ان کے پتنجلی آشرم کے خلاف اتراکھنڈ سرکار نے قانونی شکنجہ کسنا شروع کردیا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت ہری دوار ضلع انتظامیہ نے بابا رام دیو کے چار ٹرسٹوں دویہ یوگ مندر ٹرسٹ ہری دوار، پتنجلی یوگ پیٹھ ٹرسٹ ،ہری دوار، پتنجلی آیورویدک لمیٹڈ پروڈکٹس ہری دوار اور پتنجلی ولڈ ودیالیہ و یوگ پیٹھ ٹرسٹ کے خلاف 81 مقدمے مختلف دفعات کے تحت درج کئے گئے ہیں۔ ان میں10 کروڑ روپے زمینوں کی خریدو فروخت میں اسٹامپ ڈیوٹی کی چوری کا معاملہ بھی شامل ہے۔ یہ اطلاع دہرہ دون میں وزیر اعلی وجے بہو گنا نے دی۔ پتنجلی ٹرسٹ کے چیف بابا رام دیو ہیں یہ ٹرسٹ بڑے پیمانے پر آیوروید دوائیں بناتا ہے اور اس کا کاروبار سالانہ ایک ہزار کروڑ روپے سے اوپر ہے۔ اتراکھنڈ میں کانگریس کی سرکار ہے۔ وزیر اعلی وجے بہوگنا نے کہا کرپشن اور کالی کمائی کی مہم چلانے والے سوامی رام دیو دودھ کے دھلے نہیں ہیں۔ انہوں نے سابقہ بھاجپا سرکار سے مل کر سرکار کی تمام زمین اپنے ٹرسٹ کے لئے مفت میں ہتیالی تھی۔ ایسی زمینوں کا پتہ لگا کر انہیں پتنجلی آشرم سے آزاد کرا لیاجائے گا جن حکام نے غیر قانونی ڈھنگ سے بابا رام دیو کے کاروبار میں مدد دی ہے ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ پتنجلی ٹرسٹ کے اہم کرتا دھرتا آچاریہ بال کرشن نے کہا کہ سیاسی اسباب سے کانگریس اعلی کمان کے اشاروں پر یہ پریشان کن کارروائی ہو رہی ہے۔ چاہے 81 کی جگہ810 مقدمے درج کرا لیں ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں اور نہ ڈرنے والے ہیں۔ بابا کی بیان بازی سے کانگریساعلی کمان سخت ناراض ہے۔ دگوجے سنگھ جیسے کانگریسی نیتا انہیں کوستے رہتے ہیں۔ دو سال پہلے دہلی کے رام لیلا میدان میں بابا نے یوپی اے سرکار کے خلاف ایک بڑی تحریک شروع کی تھی۔ جب گرفتار کرنے کی نوبت آئی تو بابا گرفتاری سے بچنے کے لئے عورتوں کے کپڑے پہن کر نکل لئے تھے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں مارنے کا پلان تھا اور وہ جان بچانے کے لئے انہوں نے ایساکیا۔ اس رات رام لیلا میدان میں پولیس نے جم کر لاٹھی چارج کیا جس میں ایک عورت کی موت بھی ہوگئی اور ہزاروں بابا حمایتی لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ اس معاملے کے بعد بابا اور کانگریس کے درمیان تلواریں تنی ہوئی ہیں۔ کہا جارہا ہے اتراکھنڈ کی کانگریس سرکار نے ان کے ٹرسٹوں کے خلاف جو قانونی شکنجہ کسا ہے اسکے پیچھے حکمت عملی بابا رام دیو کے جارحانہ تیوروں کو پست کرنا ہے۔رام دیو کے لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا ہے کہ ان معاملوں کی آر میں سرکار یوگ گورو کو گرفتار نہ کرلے۔ آچاریہ بال کرشن کو تو وہ گرفتار بھی کرچکی ہے۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

22 نومبر 2013

مودی کے قتل کیلئے آئی ایس آئی نے داؤد ابراہیم کو دی سپاری!

بھاجپا سے پی ایم ان ویٹنگ امیدوار اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کانگریس صدر سونیا گاندھی اور ان کے نائب راہل گاندھی دہشت گردوں کے نشانے پرہیں یہ وارننگ کئی مرتبہ آ چکی ہے۔ چناؤ کے دوران یہ لیڈر سکیورٹی انتظامات کو نظر انداز کرکے حد پار کرجاتے ہیں۔ ہم پہلے ہی راجیو گاندھی کو کھو چکے ہیں۔ وہ بھی انٹیلی جنس بیورو اور ہندوستانی سراغ رساں ایجنسیوں کی وارننگ کو درکنار کرکے سری پرم بدور میں منعقدہ ریلی میں گئے تھے اور انہیں اپنی جان گنوانی پڑی ۔ اس لئے موجودہ سبھی پارٹیوں کے لیڈروں کو سراغ رساں ایجنسیوں سے تھوڑا تعاون کرکے چلنا چاہئے اگر جان ہے تو جہاں ہے۔ تازہ انتباہ نریندر مودی کو لیکر ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کی اطلاع کے مطابق پاکستان کی بدنام زمانہ ایجنسی آئی ایس آئی نے بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کے قتل کی سپاری داؤد ابراہیم کو دی ہے۔ مودی پہلے ہی سے کئی دہشت گرد تنظیموں کے نشانے پرہیں۔ حال ہی میں ہم نے پٹنہ کے گاندھی میدان ریلی میں دیکھا تھا کہ کس طرح پٹنہ میں سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے۔ میڈیا میں آرہی خبروں کے مطابق انٹیلی جنس بیورو کے آگاہی نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مودی کو صرف بھارت میں سرگرم آتنکی تنظیموں سے خطرہ نہیں بلکہ آئی ایس آئی کے علاوہ سعودی عرب میں سرگرم دہشت گردوں سے بھی ہے۔ نوٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں کام کررہی کٹر پسند اسلامی تنظیموں سے بھی ہے وہ مودی کو قتل کرنے کی سازش رچ رہی ہیں۔ سعودی عرب سے کام کرنے والے ایک شخص شاہد عرف بلال کا اس سلسلے میں خاص طور سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ شاہد نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ ریموٹ کنٹرول سے دھماکے کرنے سے باز آئیں۔ سوسائٹ اٹیک یا فدائی حملہ زیادہ بہتر اور کارگر ہوگا۔ تشویش کا موضوع یہ ہے کہ امکان جتایا گیا ہے کہ دیش کے کچھ سکیورٹی حکام بھی دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرسکتے ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو کے مطابق پابندی شدہ تنظیم سیمی اور دیگر انجمنوں سے بھی تال میل کررہے ہیں اور نریندر مودی پر حملے کے لئے ان تنظیموں سے مدد مانگ رہا ہے۔ حال ہی میں پکڑے گئے سیمی کے کچھ ورکروں سے پتہ چلتا ہے یہ دہشت گرد تنظیم سوسائٹ ونگ کے لئے شاہین کے نام سے ٹریننگ کیمپ بھی چلا رہی ہیں۔ نوٹ میں ایک طرف کے خطرے کی بھی وارننگ دی گئی ہے یہ ہے ماؤ وادیوں سے خطرے کی۔ دہشت گرد تنظیم مودی پرحملے کے لئے کئی متبادل پر کام کررہے ہیں۔ راکٹ لانچرز ،آئی ڈی سے مودی کے قافلے پر گھات لگاکر حملہ یا دھماکوں سے بھاری گاڑی کو اڑانا یا ان کی گاڑی سے بھرا ہوا دھماکوں سامان والی گاڑی کو ٹکرانا بھی ممکن ہے۔ فدائی حملہ بھی ہوسکتا ہے۔ سیمی کے لوگ لشکر طیبہ، حرکت الجہاد اسلامی اور جیش محمد کے رابطے میں ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا چناؤ کے وقت بڑے لیڈروں کے لئے بہت بڑا خطرے کا وقت ہوتا ہے۔ تسلی کی بات یہ ہے کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو ایس پی جی سکیورٹی حاصل ہے اس لئے اگر وہ خود اپنی سکیورٹی میں لاپرواہی نہ برتیں تو وہ بہت حد تک محفوظ ہیں لیکن نریندر مودی کو ایس پی جی سکیورٹی حاصل نہیں ہے۔ زیڈ پلس سکیورٹی اتنی موثر نہیں ہے جتنی ایس پی جی ۔ اس لئے انہیں اپنی سکیورٹی پر خاص دھیان دینا ہوگا۔ کسی بھی طرح کی لاپرواہی سے آنے والے کچھ مہینے بچنے کا وقت ہے۔
(انل نریندر)

اس سڑک چھاپ سیاست سے کسی کا بھلا نہیں ہونے والا!

جس طریقے سے کانگریس اور بھاجپا کے درمیان انتہائی بھدی سطح کی الزام تراشیوں کا سلسلہ اس چناؤ میں دیکھنے کومل رہا ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا یہ تو سڑک چھاپ سیاست چل رہی ہے۔ یہ سلسلہ گجرات اسمبلی چناؤ کے دوران سے شروع ہوا اور اب آہستہ آہستہ دو قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ کانگریس نے گجرات اسمبلی چناؤ میں نریندرمودی پر شخصی حملے کئے اور انہیں موت کا سوداگر تک کہہ دیا گیا۔ انہیں بندر اور ان کی شادی کو لیکر سوال اٹھائے گئے۔ وہیں گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے فسادات اور تشدد میں ان کے مبینہ رول کو لیکر سوال اٹھائے گئے۔ نریندر مودی نے بھی اسی زبان میں جواب دیا۔ کانگریس قیادت پر شخصی حملے کئے۔ آج عالم یہ ہے کہ آئے دن چناؤ کمیشن میں شخصی حملوں کے معاملوں کو لیکر شکایتیں پہنچ رہی ہیں۔ حالانکہ گذشتہ برس گجرات اور ہماچل پردیش میں کی گئی شکایتوں سے کم ہیں لیکن پولنگ میں ابھی وقت ہے جسے دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ کہیں موجودہ چناؤکا ریکارڈ نہ توڑ ڈالیں۔ اعتراض آمیز بیان بازی کی دور جاری ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے اندور میں ایک ریلی میں یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ 25 اکتوبر کو راہل گاندھی نے مظفر نگر فسادات کے لئے بھاجپا کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ فساد متاثرین میں ایسے 10 سے15 مسلمان لڑکے ہیں جن کے بھائی بہن کو مارا گیا۔ ان خاندانوں سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی رابطے میں ہے اورا نہیں بھڑکا رہی ہے۔ راہل کے اس بیان پربھاجپا سمیت پورے دیش میں سخت رد عمل ہوا۔ مودی نے ایک ریلی کوخطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی پرتلخ حملے کرتے ہوئے کہا کہ میڈم بیمار ہیں تو شہزادے کو باگ ڈور ملنی چاہئے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ چھتیس گڑھ کی طرف سے مرکز کے پیسے کے استعمال کو لیکر راہل گاندھی پر سوال داغ دیا کیا یہ پیسہ ان کے ماما کے گھر سے آیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے ایم پی نریش اگروال نے مودی سے سوال کر ڈالاکہ ایک چائے بیچنے والے کا نظریہ کبھی قومی سطح کا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا جیسے کسی سپاہی کو کپتان بنا دینے پر اس کا نظریہ کپتان جیسا نہیں ہوسکتا وہ کانسٹیبل جیسا ہی برتاؤکرے گا۔ کانگریس نے مودی پرحملہ کرتے ہوئے اسے ’دانو ‘ تک کہہ دیا۔ 7 نومبر کو راج نند گاؤں میں نریندر مودی نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ریاست میں کسی خونی پنجے کا ساتھ نہیں دیں اس لئے وہ کانگریس کو ووٹ نہ دیں۔ اب کانگریس نے صاحب کے جاسوسی کانڈ پر ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسی سڑک چھاپ سیاست سے کس کا بھلا ہورہا ہے؟ کانگریس کی حکمت عملی توسمجھ میں آرہی ہے کہ وہ نریندر مودی کو بلا وجہ کے اشو پر الجھا کر اصلی مدعوں سے بھٹکا رہی ہے۔اصل مسئلے ہیں مہنگائی ،بے روزگاری اور سسٹم، نوجوانوں کا مستقبل، خارجہ پالیسی وغیرہ وغیرہ اس پر تو کوئی بات نہیں کررہا جس سے عام جنتا کا سیدھا تعلق ہے اور فضول کی بحث ہورہی ہے۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ بھاجپا ان اشو پر توجہ کیوں نہیں دیتی؟ اگر کانگریس کو اپنی ساری توجہ ترقی اور بھاجپا حکمراں ریاستوں میں سرکار کی کارگزاری دیکھنی چاہئے۔ نریندر مودی کوجنتا کو یہ بتانا چاہئے کہ وہ مہنگائی اور بدانتظامی ، خارجہ پالیسی میں آئی گراوٹ کو کیسے دور کریں گے؟ اپنی پالیسیاں ، بھاجپا حکمراں ریاستوں میں ترقی، اچھی حکومت اور قانون و نظام پر زیادہ زور دینا چاہئے۔
(انل نریندر)

21 نومبر 2013

اروند کیجریوال پر پیر کو ہوا دوہرا حملہ!

پیر کا دن’آپ‘ آدمی پارٹی کے چیف اروند کیجریوال پر بھاری پڑا۔ پہلا تو سیاہی پھینکنے کا اور دوسرے انا ہزارے کے خط کا حملہ۔ عام آدمی پارٹی کے چیف اروند کیجریوال سمیت ان کی پارٹی کے نیتاؤں پر ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک شخص نے کالی سیاہی پھینک دی۔ یہ حرکت کرنے والے نچکتا واگریکر نے دعوی کیا کہ وہ انا ہزارے کو اپنا گورو مانتے ہیں اور کیجریوال پر الزام لگایا کے انہوں نے انا ہزارے اور جنتا کو دھوکہ دیا ہے۔ اس شخص نے کانفرنس میں کیجریوال اور ان کے ساتھ بیٹھے ساتھیوں منیش سسودھیا، سنجے سنگھ، پرشانت بھوشن اور شانتی بھوشن کی طرف کالے رنگ کا پینٹ کا ڈبہ پھینکا۔ تھوڑا سا پینٹ کیجریوال کے چہرے پر پڑا اور کچھ سسودھیا وغیرہ پر۔ کیجریوال نے کسی پارٹی کا نام لئے بغیر کہا یہ ان لوگوں کا کارنامہ ہے جن کے مفادات کو ’آپ‘ کی بڑھتی مقبولیت سے چوٹ پہنچ رہی ہے۔ آنے والے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا اور کانگریس دونوں کی ہی حالت خراب ہے۔ دوسرا حملہ سماجی کارکن انا ہزارے کا لیٹر بم تھا۔ اس میں انا ہزارے نے تحریک کے نام پر جمع ہوئے پیسے کی تفصیل کیجریوال سے مانگی اور اپنا نام کسی بھی طرح سے استعمال نہ کرنے کی ہدایت دے دی۔ خط میں انا نے تشویش جتائی کے پارٹی فنڈ پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ انا نے تحریک کے وقت اکھٹے پیسے کے بارے میں پوچھا کہ یہ پیسہ چناؤ میں خرچ نہیں کیا جانا چاہئے۔ جن لوک پال اور سسٹم تبدیلی کو پارلیمنٹ کا کام بتاتے ہوئے انا نے کہا یہ کام اسمبلی کا نہیں اس کے جواب میں کیجریوال نے اپنی پارٹی کے کھاتے اور انا ہزارے کو ملے عطیہ کے بارے میں الزامات کی آزادانہ جانچ کرانے کی تشویش پیش کردی۔ پارٹی کے کنوینر نے کہا کہ میں انا جی نے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جسٹس سنتوش ہیگڑے سمیت جس سے بھی چاہیں جانچ کروالیں اور رپورٹ کو 48 گھنٹے کے اندر جنتا کے سامنے لا دیا جائے تاکہ کانگریس اور بھاجپا میں سے کوئی بھی معاملے کو لیکر لوگوں میں غلط فہمی نہ پھیلائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ قصوروار پائے جاتے ہیں تو وہ اپنی امیدواری واپس لے لیں گے اور چناؤ میدان چھوڑدیں گے۔ انا ہزارے اور اروند کیجریوال میں شاید پہلی بار تلخی بھری بات چیت ہوئی ہے۔ حالانکہ دونوں نے ایک دوسرے کے تئیں استعمال لفظوں میں جذباتی رویہ اپنایا پھر بھی یہ خط و کتابت بہت کچھ بیان کر گئے۔ خط کے ذریعے سے ’آپ‘ سے چناؤمہم اورفنڈ سے جڑی باتوں پر کئی سوال کے جواب مانگے ہیں۔ انا نے خط کے آخر میں یہ کہہ کر اروند کیجریوال کو ایک بڑی راحت دے دی کے مجھے پتہ ہے ان ساری باتوں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ اروند کیجریوال کے مطابق یہ خط انہیں ایتوار کو ملا تھا جب انہیں خط سونپا گیا تو ایک مرتبہ لگا کہ انا کا کوئی آشیرواد ہوگا۔ حالانکہ جب خط کا دوسرا پیرا شروع ہوا تو کچھ چونکانے والی باتیں سامنے آئیں۔ خاص بات یہ تھی کہ خط میں انا نے اپنی طرف سے کوئی سوال نہیں کیا انہوں نے جتنے بھی سوال اٹھائے ان کی بنیاد کسی نہ کسی تنظیم کو ملی شکایت رہی ہوگی۔ مثلاً انا کے نام کو چناؤ مہم میں بھنانا، اروند کیجریوال نے کہا کہ وہ ہمیشہ انا کا احترام کرتے ہیں بھلے ہی وہ ساتھ ہوںیا نہیں لیکن ان کا آشیرواد میرے ساتھ ہے۔ سیاہی پھینکنے والے شخص نے جو اروند پر کاغذ پھینکے ان میں کافی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان پر امریکہ کا ایجنٹ ہونے اور انا کا استعمال کرنے اور لوک پال تحریک کا فائدہ اٹھا کر اپنی سیاسی پارٹی بنانے، تحریک کے دوران جنتا کو بھڑکانے جیسے کئی الزام لگائے گئے ہیں۔ ان کی مانگوں میں غیرملکی پیسے پر پابندی لگانے ،شرابی ووٹروں کے ووٹ ڈالنے پرروک لگانے، ووٹ کو ضروری بنانے،فوج کے خفیہ دستاویزات ظاہر ہونے کے معاملے میں کیجریوال کے رول کی جانچ کروانے اور ان کے غیر ملکی دوروں اور انہیں مل رہے غیر ملکی پیسے کی جانچ کرانے جیسے مطالبات اہم ہیں۔
(انل نریندر)

جاسوسی پر گرمائی سیاست!

چناؤ میں گڑھے مردے اکھاڑنے کی بات کوئی نئی نہیں ہے۔ اس بار تو کچھ زیادہ ہی ہورہا ہے نشانے پر ہیں گجرات کے وزیر اعلی و بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی۔ مودی ایک نئے تنازعے میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ گجرات کے سابق وزیر مملکت داخلہ یعنی امت شاہ کی جانب سے صاحب کے اشارے پرایک لڑکی کی جاسوسی کرانے کا الزام لگا ہے۔ قابل ذکر ہے کوبرا پوسٹ ڈاٹ کام میڈیا نے پچھلے دنوں ایک اسٹنگ آپریشن کے ذریعے اس معاملے کا انکشاف کیا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ گجرات سرکار کے اس وقت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے احمد آباد میں2008-09 میں ایک آرکٹیکٹ لڑکی کی جاسوسی کروائی تھی۔ اسٹنگ آپریشن میں شاہ اور ایک سینئر پولیس افسر کے درمیان بات چیت کا ٹیپ جاری کیا تھا ۔ حالانکہ اس کی ابھی تصدیق نہیں ہوسکی بس یہیں سے نریندر مودی کے خلاف کانگریس مہلا برگیڈ نے تابڑ توڑ حملے شروع کردئے ہیں۔ کانگریس نیتا گرجا ویاس ،ریتا بہوگنا جوشی اور شوبھا اوجھا نے ایتوار کو ایک پریس کانفرنس بلا کر لڑکی کی جاسوسی پر مودی پر حملے شروع کردئے اور مطالبہ کیا سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جج سے معاملے کی جانچ کرائی جائے اور کہا کہ ایسے شخص کو دیش کی باگ ڈور نہیں سونپنی چاہئے جو عورت کی عزت نہ کرتا ہوں۔ جواب میں بھاجپا کی ترجمان میناکشی لیکھی نے کہا دراصل کانگریس مودی کی مقبولیت سے اتنی ڈر گئی ہے کہ وہ اوچھی سیاست پر اتر آئی ہے۔ لیکھی نے کہا کہ لڑکی کو سکیورٹی دینے کے لئے اس کے والد نے درخواست کی تھی۔ کیا اس معاملے میں لڑکی اور اس کے ماں باپ، بھائی یا شوہر نے کوئی شکایت درج کرائی ہے؟ اگر نہیں تو صاف ہے کہ پورے معاملے میں کانگریس سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے فراق میں ’تو کون میں خوامخواہ‘ کا رول نبھا رہی ہے۔ خود نریندر مودی کا رد عمل تھا ان کے خلاف سازش رچی جارہی ہے کیونکہ اپنے ہوائی قلعے میں بیٹھی حکمراں پارٹی ان کی مقبولیت کو ہضم نہیں کرپا رہی ہے۔ اسی درمیان ایک اور معاملہ روشنی میںآیا ہے۔ نامور سماجی رضاکار ارونا رائے جو سونیا گاندھی کی سربراہی والی قومی مشاورتی کونسل کی ممبر رہی ہیں، الزام لگایا کے یوپی اے سرکار طویل عرصے سے ان کی جاسوسی کروا رہی ہے۔ رائے کا کہنا ہے خود خفیہ بیورو کے افسران نے ہی انہیں اس بارے میں بتایا۔ رائے نے یہ بھی کہا کہ سرکار سے جو بھی اختلافات رکھتا ہے یہ اس کی جاسوسی کرواتے ہیں۔ بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کو کی جاسوسی کا معاملہ ابھی چل ہی رہا ہے۔ کئی پولیس والے معطل ہوچکے ہیں۔ ان کی جاسوسی کون اور کیوں کروا رہا تھا یہ ابھی صاف نہیں ہوسکا۔ احمد آباد کے آرکٹیکٹ کی جاسوسی کے معاملے میں ہماری رائے صاف ہے۔ سب سے پہلے یہ طے کیا جانا چاہئے کہ کیا یہ اسٹنگ آپریشن سے دستیاب ٹیپ صحیح ہے اور اس کی حقیقت کو جاننا چاہئے۔ اگر وہ صحیح ہے تو اس میں شامل قصوروار چاہے کوئی بھی ہو، اس کوقانون کے تحت سزا ملنی چاہئے۔ بہرحال گڑھے مردے کھودنے کا یہ ہی ٹرینڈ بتاتا ہے کہ ہندوستانی سیاست کا معیار کتنا گر گیا ہے۔ اس معاملے میں یہ کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتی ہے کہ ’آل از فیئر ان لو اینڈ وار‘ یعنی محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔
(انل نریندر)

20 نومبر 2013

تاکہ دہلی میں پر امن ، منصفانہ اور شفاف اسمبلی چناؤ ہوں!

دہلی اسمبلی چناؤ ہرطریقے سے صاف اور تشدد سے پاک اور آزادانہ چناؤ ہوں یہ چناؤ کمیشن کے لئے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس بار2008 ء کے مقابلے دہلی چناؤ زیادہ دلچسپ اور چیلنج بھرے ہونے جارہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے ذریعے دہلی کی سبھی 70 اسمبلی سیٹوں پر امیدوار اتارنے کی وجہ سے پچھلی بار کے مقابلے اس مرتبہ امیدواروں کی تعداد کافی زیادہ ہوگئی ہے۔ حالانکہ چناؤمیدان میں آخری مقابلہ کس سے ہونا ہے یہ تو کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد پتہ لگے گا اور پرچے بدھوار کی شام یعنی آج واپس لئے جاسکیں گے لیکن سنیچر کی شام پرچے داخل کرنے کی میعاد ختم ہونے کے بعد یہ صاف ہوگیا ہے اس مرتبہ چناؤ میدان میں پہلے سے زیادہ امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ دہلی کے چیف چناؤ افسر وجے کمار دیو کے مطابق سنیچر کو 781 امیدواروں نے پرچے داخل کئے تھے۔ اب تک 1150 امیدواروں نے 1800 نامزدگیاں داخل کی ہیں جو 2008ء کے مقابلے زیادہ ہیں۔ پچھلے اسمبلی چناؤمیں1134 امیدواروں نے اپنے پرچے داخل کئے تھے۔ چناؤکمیشن کے لئے اتنی کثیر تعداد میں امیدواروں کے چناؤکی تیاریاں ایک بڑا چیلنج ہوں گی۔ چناؤ میں ہر قیمت پر ووٹ ڈلوانے کے لئے عورتوں کو گھر سے باہر نکالنے کیلئے بھی ایک بڑی آزمائش ہوگی۔ آج بھی بڑی تعداد میں ایسی سیٹیں ہیں جہاں تمام کوششوں کے باوجود ووٹ فیصد بڑھ نہیں پا رہا ہے۔ پچھلے چناؤ میں دہلی چھاؤنی، جنگ پورہ، کستوبا نگر، پٹیل نگر، مٹیا محل، موتی نگر، چاندنی چوک، صدر بازار، مہرولی، تغلق آباد سمیت دیگر سیٹوں پر سب سے کم ووٹ فیصد رہا۔ ایسے اسمبلی حلقوں میں جہاں ذات پات فیکٹر زیادہ ہوتا ہے یا کرائم گراف زیادہ ہو انہیں حساس زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر حساس اور انتہائی حساس پولنگ بوتھوں کو بنایا جاتا ہے۔ اور سیاسی دباؤ کے درمیان یہاں ووٹروں کوووٹ کے لئے لاناایک بڑا چیلنج ہوگا۔ دبنگوں کو کو روکنے کے لئے پختہ انتظام کرنے ہوں گے۔ چناؤ دفتر میں دہلی پولیس کے ساتھ مل کر یوپی ہریانہ کے دبنگ لوگوں کی پہچان کی گئی ہے جو چناؤ کے دوران دہلی پہنچ کر چناؤ میں گڑ بڑ پھیلا سکتے ہیں۔ دہلی اسمبلی چناؤ کو پرامن اور منصفانہ اور ٹھیک ٹھاک طریقے سے انجام دلانے کیلئے ان دبنگی لوگوں پر دن رات نظر رکھنی ہوگی۔ دہلی کی کچھ سیٹیں ہریانہ اور اترپردیش سرحد سے لگی ہوئی ہیں۔ اس کے چلتے سیٹوں پر سب سے زیادہ جعلی ووٹ پڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایسی سیٹوں میں اوکھلا، ترلوک پوری، کونڈلی، پٹ پڑ گنج، وشواس نگر، شاہدرہ، سیما پوری، گوکل پوری، کراول نگر وغیرہ شامل ہیں۔ پرانے دھرندر لیڈروں کو چناؤ ضابطے کی وجہ سے ان کے حوصلے آہستہ آہستہ پست ہوتے جارہے ہیں لیکن چناؤ میں اترنے والے نئے لیڈروں کو ضابطہ سمجھانا چناؤ کمیشن کے لئے ایک بڑی مشقت ہوگی کیونکہ جو امیدوار پہلی بار میدان میں ہوں گے ان کے لئے گڑ بڑی کا امکان زیادہ ہوگا۔ اس کے علاوہ چناؤ کمیشن نے کئی ضابطے پہلی بار لاگو کئے ہیں۔ پرامن طریقے سے ووٹ ڈلوانے کے لئے 11 ہزار سے زیادہ پولنگ بوتھ پر سکیورٹی جوان تعینات کرنے جارہے ہیں۔ ڈیوٹی کی جگہ سے ملازمین ووٹ نہیں ڈال پاتے ان کا ووٹ پانے کے لئے چناؤ کمیشن نے اس بار پہلے ہی بیلٹ بھروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے ووٹ فیصد بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس بار لیڈروں نے مہینوں پہلے ہی سوشل میڈیا کے ذریعے چناؤمہم چھیڑ دی ہے۔ اس طرح اگر کسی کے کھاتے میں کوئی ووٹ کٹتا ہے تو یہ چناؤ کمیشن کیلئے پریشانی پیدا کرسکتا ہے۔ چناؤ کی بڑی مہم تو آسانی سے پکڑ میں آسکتی ہے اس کی نگرانی کے لئے کئی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ عالیشان کالونیوں میں مسلسل ووٹ فیصد اور ووٹروں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ ان علاقوں میں ووٹ فیصد بڑھانا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ان علاقوں میں نئی دہلی، چاندنی چوک، دہلی چھاؤنی وغیرہ وغیرہ کئی سیٹیں شامل ہیں۔ چناؤکمیشن کیلئے ایک بڑی چنوتی ہے جعلی ووٹر۔ چناؤ کمیشن نے لمبی جانچ کے بعد دہلی بھر میں 14 لاکھ فرضی ووٹروں کی تلاش کی تھی۔1.57 فیصد ڈپلیکیٹ اور8500 ادھورے کارڈ ملے تھے۔ یہ ووٹر پھر سے سرگرم نہیں ہوں اس بار سخت نظر رکھنی ہوگی۔ ان پر نگرانی کمزور پڑی تو فرضی ووٹ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ دہلی میں پولنگ فیصد کو بڑھانے کیلئے چناؤ کمیشن ایک کے بعد ایک پہل کررہا ہے۔ اس بار اس کا نشانہ عورتیں ،لڑکے ،لڑکیاں اور سرکاری ووٹروں کی رائے پانا ہے۔ اس کے لئے خاص مہم چلائی جارہی ہے لیکن اس کا کتنا اثر پڑتا ہے یہ تو پولنگ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ آخر میں پہلی بار ان انتخابات میں ووٹر کو زیادہ حق ملے گا۔ اسے کوئی امید اگر پسند نہیں ہے تو NOTA بٹن دبا سکتا ہے۔ حالانکہ یہ حق پہلے ووٹر کے پاس تھا لیکن ووٹنگ مشین میں اس کی سہولت نہیں تھی۔ اس حق کے استعمال کے لئے ووٹر کو چناؤ افسر کے پاس جانا ہوتا تھا۔ پہلے یہ پانچ اسمبلی چناؤ میں نافذ کئے جانے کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ نے چناؤ کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ پرچی سسٹم لاگو کرے۔ ووٹر نے کس کو ووٹ دیا ہے اس کے ثبوت میں پرنٹ آؤٹ دینا ہوگا۔ پتہ نہیں اس کی تیاری کتنی ہورہی ہے لیکن منصفانہ شفاف چناؤ کے لئے یہ ضروری ہے ۔ امید کی جاتی ہے چیف الیکٹرول آفیسر جو ایک قابل اور اچھے منتظم ہیں اس بار دہلی میں ایسے چناؤ کروا لیں گے۔
(انل نریندر)

دہلی میں راہل کی فلاپ ہوئی دوسری ریلی سے اعلی کمان کو چنتا؟

راجدھانی میں کانگریسی بے چین ہیں اور اس بے چینی کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ راہل گاندھی کی چناؤ ریلی میں زیادہ بھیڑ نہ اکھٹی ہونا۔ دہلی میں کانگریس نائب صدر کی یہ دوسری ریلی ہے جہاں بھیڑ کم رہی۔ پہلے منگولپوری میں اور پھر ایتوار کو دکشن پوری میں ہوئی ریلی میں کوئی جوش نظر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی ماحول۔ دکشن پوری میں بمشکل میدان میں لگی کرسیاں ہی بھر پائیں۔ ان سے پہلے ریلی میں جب وزیر اعلی شیلا دیکشت خطاب فرمارہی تھیں تو کچھ عورتیں جانے لگیں۔ ایسے میں شیلا جی کو ہاتھ جوڑ کر کہنا پڑا’ آپ لوگ کم سے کم راہل جی کی آواز تو سنتے جائے‘۔ ریلی کا وقت صبح10 بجے مقرر تھا لیکن 12 بجے تک آدھے سے زیادہ میدان خالی تھا۔ جب راہل گاندھی کے آنے کا وقت قریب آیا میدان پوری طرح بھرا ہوا نہیں تھا۔ اسٹیج سے وزیر اعلی شیلا دیکشت نے پولیس ملازمین سے ریلی میں آنے والوں کو نہ روکنے کی درخواست کی۔اتنی تیز دھوپ میں پانی نہ ملنے کی شکایت بھی سنی گئی تو شیلا جی نے پولیس ملازمین کو سکیورٹی کے نام پر پانی لانے سے روکنے کو منع کیا جبکہ حقیقت یہ تھی پانی اور حمایتیوں کی کمی کے سبب پارٹی لیڈروں کی بد انتظامی تھی۔وراٹھ سنیما میدان کی یہ ریلی ایتوار کو دوکانداروں کے لئے بھی تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ سکیورٹی اسباب سے نہ صرف مقامی دوکانوں کو بند رکھا گیا تھا بلکہ ایتوار کو لگنے والے ہفتہ واری بازار بھی لگانے کو منا کیا گیا تھا۔ پارٹی کے نیتا سامنے آکر بولنے کو تیار نہیں لیکن ایک نیتا نے کہا کہ سرکار اور تنظیم میں تال میل کی کمی کا نتیجہ ہے کے ریلی میں لوگ کم آئے۔ حالانکہ یہ ماننے کو پارٹی تیار نہیں ہے کہ ریلی میں کم بھیڑ جٹانا کانگریس کی کمزوری کی علامت ہے۔ ریلی ختم ہونے کے بعد ایک نامہ نگار نے علاقے کے باشندوں سے ان کی رائے پوچھی تو لوگوں نے یہ ضرور کہا کہ وہ روایتی طور سے کانگرس کے حمایتی ہیں لیکن روزمرہ کی چیزوں کے بڑھتے دام نے ان کا بجٹ بگاڑ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق منگولپوری کی ریلی پی ڈبلیوڈی وزیر راجکمارچوہان نے اکیلے دم پر آرگنائزڈ کرائی تھی۔ اس کے لئے انہیں تنظیم کی طرف سے کوئی خاص تعاون نہیں ملا۔ راہل گاندھی کی ریلیوں میں بھیڑ نہ ہونے سے پارٹی نیتاؤں اور چناؤ لڑ رہے امیدوار سکتے میں آگئے ہیں۔ وہ اپنے اعلی کمان سے گزارش کرنے میں لگے ہیں کہ ان کے علاقے میں کسی بڑے نیتا کی چناؤ ریلی نہ کرائی جائے۔ گھبرانے کی وجہ صاف ہے کہ اگر ان ریلیوں میں پھر سے بھیڑ کا بحران کھڑا ہوا تو انہیں چناؤ میں خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کانگریس پریشان ہے راہل اور دیگر بڑے نیتاؤں کی ریلیوں کے مقابلے بی جے پی کے اسٹار کمپینر نریندر مودی سے مقابلہ ہونا ہے۔ جس سے پارٹی کے خلاف بحث میں تقویت ملے گی۔بیچارے راہل گئے توسچن کو آخری ٹیسٹ میں بھی چیئرکرنے کیلئے ممبئی کے وانکھڑے اسٹیڈم میں جیسے ہی راہل کی تصویر بڑی اسکرین پردکھائی گئی مودی مودی کے نعرے لگنے لگے۔ منگولپوری اور دکشن پوری دونوں کانگریس کے گڑھ مانے جاتے ہیں اس کے باوجود بھیڑ اکھٹی نہ ہوپانا کانگریس اعلی کمان کے لئے پریشانی کا سبب ہونا چاہئے۔ اب کانگریس صدر سونیا گاندھی اکیلی کانگریس لیڈر بچی ہیں جو بھیڑ اکھٹی کرسکتی ہیں۔ سونیا جی کو لگتا ہے ان کو خود ہی مورچہ سنبھالنا پڑے گا۔
(انل نریندر)

19 نومبر 2013

اعتراض سچن کو سمانت کرنے کا نہیں، کانگریس کے سلیکشن کے رویئے پر!

ایتوار کی رات کو میں چینل ون پر گیا ہوا تھا۔ چرچا کا موضوع تھا بھاجپا کا اٹل جی کو بھارت رتن ایوارڈ دینا۔گرما گرم بحث ہوئی میرے ساتھ بھاجپا اور کانگریس کے اسپیکر بھی تھے اور ایک راج نیتک جانکاربھی۔ میں نے اس چرچا میں یہ مدعا رکھا کے اعتراض اس بات پر نہیں کہ سچن کو بھارت رتن کیوں دیا گیا اور اس بات پر بھی نہیں کہ اٹل جی کو کیوں نہیں دیاگیا۔مدعا یہ ہے کہ یہ راشٹریہ سنمان ہے یابرسر اقتدار کانگریس پارٹی کا نجی سنمان؟ کیا دیش کانگریس پارٹی کی نجی جاگیر ہے جس میں جسے چاہے ، جب چاہئیں سنمانت کردیں؟یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مجھے سچن کو بھارت رتن دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے،انہیں ملنا بھی چاہئے۔ اعتراض اس بات کا ہے کہ سچن سے پہلے اس سنمان کے کئی حقدار ہیں۔ انہیں پہلے کیوں نہیں دیا گیا؟ میں نے میجر دھیان چند کی مثال دی۔ بات15 اگست 1936ء کی برلن اولمپک کی ہے۔ ہاکی کے فائنل میچ بھارت بنام جرمنی تھا۔ اسٹیڈیم میں ہٹلر خود موجود تھے۔ فائنل کے اس میچ میں دھیان چند کی ٹیم نے جرمنی کو 9-1 سے ہرایا۔ میچ ختم ہونے کے بعد ہٹلر نے دھیان چند کو بلوایا اور ان سے کہا کہ آپ جرمنی آجائیں، منہ مانگے پیسے دیں گے۔آپ ہماری ٹیم کو اپنا جادو سکھائیں۔ دھیان چند نے دو ٹوک جواب دیا میں اپنے دیش کے لئے ہی کھیلتا ہوں ۔اس وقت جب ہٹلر دنیا کے سب سے طاقتور انسان تھے انہیں اس طرح سے دو ٹوک جواب دینا معنی رکھتا تھا۔ پہلی بار انترراشٹریہ کھیلوں میں بھارت کا ترنگا لہرایا۔ دھیان چند نے تین گولڈ میڈل لگاتار جیتے۔ کیا دھیان چند کو’ بھارت رتن‘ سنمان نہیں ملنا چاہئے تھا۔کھیل منترالیہ نے چھ مہینے پہلے اس کی سفارش بھی کی تھی۔دوسرا اعتراض ٹائمنگ پر تھا۔حال ہی میں سچن کو راجیہ سبھا کاسانسد بنایا گیا۔ اب اسے راتوں رات بھارت رتن دے دیا گیا۔ اب اس سے چناوی پرچار کرانا ایسے وقت جب چناؤ کلائمکس پر چل رہے ہیں اس طرح سے سنمان دینا کیا کانگریس کے لئے صحیح ہے؟ اگر اپوزیشن اس پر ہنگامہ کررہی ہے تو غلط کیا ہے ، اگر بھارت رتن پدم ایوارڈ راشٹریہ ایوارڈ ہے تو ہم مانگ کرتے ہیں کہ اس میں سلیکشن کے لئے ایک کمیٹی بنے۔ جس میں سبھی اپوزیشن کے پرتیندھی ہوں۔ عام سہمتی یا بہومت کے آدھار پر پورا کر پانے والوں کا سلیکشن ہو۔ آپ اپنے سابق پردھان منتریوں کو تو سنمان دیتے رہے ہیں پر سبھاش چندر بوس کے لئے نہیں دیتے کیونکہ وہ کانگریس وچار دھارا سے الگ رائے رکھتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو برسراقتدار پارٹی کی گڈ لک میں نہیں ہے اسے یہ سنمان نہیں ملے گا۔ پدم ایوارڈ کی تو حالت یہ ہے کہ کانگریسی نیتا اپنے رشتے داروں کے نام کسی بھی ایسے ایرے غیرے کا نام دے دیتے ہیں اور اسے ایوارڈ دے دیا جاتا ہے۔ صحافیوں کے کوٹے کا تو یہ حال ہے کہ دو برس پہلے پورے بھارت میں برسر اقتدار پارٹی کو ایک بھی صحافی ایسا نہیں ملا جو اس انعام کا حقدار ہو۔ کانگریس پارٹی نے تو ان سنمانوں کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ان انعاموں کے سلیکشن کا طریقہ بدلیں اور جو اصل میں اس سنمان کا حقدار ہے اسے چنا جائے۔ کل کو اگر این ڈی اے اقتدار میں آتی ہے تووہ بھی ماپ ڈنڈ رکھے گی تو ہم اس کی بھی مخالفت کریں گے۔
(انل نریندر)

بھارت کی بڑھتی طاقت سے پڑوسی پاک و چین میں بوکھلاہٹ!

ایتوار کا دن بھارتیہ نو سینا کے لئے ایک اتہاسک دن تھا۔ بہت ہی نامی گرامی اور بہت ہی اہم ویمان ’واہک پوت INS وکرماادتیہ‘ کو بھارتیہ نو سینا میں شامل کرلیا گیا۔ 45 ہزار ٹن کے اس جنگی ویمان واہک جسے انگریزی میں’ایئر کرافٹ کیریئر‘ کہتے ہیں ۔وکرماادتیہ کے شامل ہونے سے بھارتیہ نیوی بیسوک ڈھنگ سے بننے کی حالت میں آگئی ہے۔ دو تین ارب ڈالر کی لاگت والے پوت کا وزن 44.500 ٹن ہے۔اس جنگی جہاز کو پہلے 2008 میں سونپا جانا تھا لیکن بار بار دیری ہوتی رہی۔ پوت پر روس کے جھنڈے کو اتارا گیا اور اس کی جگہ بھارتیہ نو سینا کا جھنڈا لگایا گیا۔ بھارتیہ رواج کے مطابق پوت پر ایک ناریل پھوڑا گیا۔ اسے یودھک پوتوں کے ساتھ ایک سمہو کی نگرانی میں دو مہینے کی یاترا کے بعد بھارت پہنچایا گیا۔ اسے عرب ساگر کے کروار ٹٹ پر لایا جائے گا۔ آئی این ایس ورکرما ادتیہ اچ شرینی کا ویمان واہک پوت ہے۔ اسے ’باکو‘ کے نام سے1987ء میں روس کی نو سینا میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد میں اس کا نام ’ایڈمرل گورس کابے‘ کردیاگیا اور بھارت کو پیشکش کئے جانے سے پہلے 1995ء تک روس کی سیوا میں رہا۔ 284 میٹر لمبے یدھ پوت پر ایم آئی جی 29 کے نو سینا کے یدھک پوت کے ساتھ ہی اس پر کویوب 31 اور کویو ب28 پنڈبی روپھی یدھک اور سمندری نگرانی ہیلی کاپٹر تعینات ہوں گے۔ ایم آئی جی 29 ویمان بھارتیہ نو سینا کو مہتو پورن بڑھت دلائے گا۔اس کی رینج 700 ناٹیکل میل ہے اور بیچ ہوا میں ایندھن بھرنے سے اس کی رینج 1900 ناٹیکل میل تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس پر پوتر رودھی میزائل کے علاوہ ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل بم اور راکٹ تعینات ہوں گے۔ قریب9 برسوں کے سمجھوتے کے بعد پوت کے دوبارہ مرمت کے لئے1.5 ارب ڈالر کا سمجھوتہ ہوا اور 16 ایم آئی جی 29 کے ایول کے یو وی ٹینک آدھارکت جنگی جہازوں کے سودے پر دستخط ہوئے۔ بیچ میں کوئی کھٹاس بھی آئی پھر دوبارہ سمجھوتہ ہوا جس میں بھارت اس کے دوبارہ مرمت پر زیادہ قیمت دینے کو راضی ہوا۔ اس سے حلقوں میں مانا جارہا ہے کہ بھارتیہ نو سینا میں اس وکرم واہک پوت کے شامل ہونے سے بھارت کی طاقت کافی بڑھ جائے گی۔روس سے بھارت کے طرف اسے لانے میں سرکشا کے لئے خاص چوکسی کی ضرورت ہے۔ اس لئے پورے راستے نو سینا کے پانچ جنگی پوت کا قافلہ اسے روس سے لیکر روانہ ہوگیا ہے۔ اس وششٹھ ویمان واہک پوت میں تکنیکی مدد کے لئے روس کے 180 تکنیکی جانکار بھی اس میں سوار ہیں۔ نو سینا کے ذرائع کے مطابق خاص تکنیک والے وکرما ادتیہ سے پڑوسی دیس پاکستان اور چین کا الرٹ ہونا لازمی ہے۔ ابھی تک نو سینا کے پاس سب سے بڑا ویمان واہک پوت کے روپ میں این ایس وراٹھ ہی رہا ہے۔ اب وکرما ادتیہ کے شامل ہوجانے سے سمندر میں کسی بھی بڑی نو سینا کے ساتھ چنوتی کرنے کے لئے بھارتیہ نو سینا پہلے سے زیادہ طاقتور ہوجائے گی۔اب اسے بھارت کی طرف آنے میں سمندری گرم پانی کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایسے میں وکرما ادتیہ کی کئی تکنیکی پرنالیوں میں بدلاؤ کی بھی چنوتی ہے۔ وکرماادتیہ جب یہاں حفاظت کے لئے تعینات ہوگا تو اس میں پنڈبی ،ہیلی کاپٹر بھی تعینات ہوں گے جو پانی کے اندر گھات لگاکر بیٹھے کسی بھی پنڈبی کو ڈوبا دینے میں اہل ہوں گے۔ وکرما ادتیہ کی سطح فٹبال کی طرح گراؤنڈ کے برابر ہے اور یہ21منزلہ پوت ایک چھوٹے شہر کے روپ میں سمندر کی سطح پر دکھتا ہے۔ بھارتیہ نو سینا کے لئے یہ ایک اتہاسک لمحہ ہے۔
(انل نریندر)

17 نومبر 2013

اقتدار کی خاطر الزام درالزام سے گرتا معیار تشویشناک!

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نے سیاسی پارہ کافی بڑھا دیا ہے۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ،دہلی و راجستھان میں بھاجپا اور کانگریس کے درمیان کانٹے کی چناؤمہم چل رہی ہے۔ چھتیس گڑھ میں توایک دور کی پالنگ ہوچکی ہے باقی جگہوں پر چناؤکمپین انتہا پر پہنچی ہوئی ہے۔ ایک دوسرے پر نیتا تنقید کرنے اور ان کی حقیقت کی ہوا نکالنے میں کوئی بھی پارٹیاں کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ اگر کانگریس کے نشانے پر نریندر مودی ہیں تو مودی کے نشانے پر سونیا گاندھی و راہل ہیں۔ کانگریس کو نریندر مودی سے اتنی الرجی ہے کہ وہ مودی پر حملہ کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔ الرجی کا یہ حال ہے کہ اگر لتا منگیشکر مودی کی تعریف کردیں تو کانگریسی ان سے بھارت رتن تک واپس لینے کی مانگ کر ڈالتے ہیں۔ جیسے کہ بھارت رتن اور دیگر ایوارڈ کانگریس کی جاگیر ہوں۔پدم ایوارڈ کس طرح سے بانٹے جاتے ہیں وہ سبھی کو معلوم ہے۔ لتا منگیشکر سمیت ہر ایوارڈ ونر کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق ہے۔ 
حکومت نے کسی کو ایوارڈ دیا تو اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ وہ حکمراں پارٹی کا غلام بن گیا ہے۔ آج لتا جی کو کسی سنمان کی ضرورت نہیں وہ تو ان سے بہت اوپر اٹھ چکی ہیں۔ یہ محض کانگریس کی کھوکھلی ذہنیت کی علامت ہے۔ جمعرات کو بھاجپا کے پی ایم ان ویٹنگ امیدوار نریندر مودی نے چھتیس گڑھ میں پانچ ریلیوں سے خطاب کیا۔ ہرجگہ نشانے پر رہا گاندھی پریوار۔ سونیا کا نام لئے بغیر بولے ’’میڈم آپ تو بیمار ہیں اپنے بیٹے کام دے دو۔ایک ریاست کی ذمہ داری دو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ 24 گھنٹے بجلی دے پاتے ہیں یا نہیں؟‘‘ مودی نے رائے پور میں کہا کہ چھتیس گڑھ کی جنتا کانگریس پرمہربانی کرے۔ پرانی فلموں میں لڑکے والوں کو خوبصورت لڑکی دکھاتے تھے منڈپ میں ڈیفیکٹو لڑکی بٹھا دیتے تھے۔ اب یہ فلموں کی بات نہیں چلے گی۔ کانگریس کو بتانا ہوگا کہ اس کا وزیر اعلی کون ہے۔ کانگریس بہروپیہ ہے وہ اپنا نام و نشان ،نعرہ سب بدلتی ہے صرف نیت نہیں بدلتی۔ کبھی وہ اندراکانگریس تھی، اب اٹلی کانگریس ہوگئی ہے۔ اشاروں اشاروں میں سونیا کے غیر ملکی نژاد کا اشو بھی اٹھایا۔ راہل سے پوچھا کے چھتیس گڑھ کے لئے مرکزی مدد کیا آپ اپنے ماما کے گھر سے لائے تھے۔
مودی نے ریلیوں میں کہا کہ آج کل دہلی سے کافی لوگ آرہے ہیں اور میڈیم آئی تھیں ،شہزادے آئے تھے، وہ کہہ رہے ہیں کہ اتنے ہزار کروڑ روپے چھتیس گڑھ کو دئے۔ میں پوچھتا ہوں کیا آپ چھتیس گڑھ کی جنتا کو بھیک کا کٹورہ لیکر کھڑے ہیں۔پیسے دئے کہہ رہے ہو؟ماما کے گھر سے لاکر دئے کیا؟ آپ مالک نہیں ہیں ،یہ جنتا کا پیسہ ہے۔ مودی نے کہا کانگریس مرکز میں اقتدار میں اپنے کام کی بنیاد پر نہیں بلکہ سی بی آئی کی مد د سے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کا استعمال اپنے ساتھیوں کو دھمکانے کے لئے کرتی ہے۔ سی بی آئی دوا ہے کانگریس کے سبھی مرضوں کی۔ چھتیس گڑھ کی ریلیوں میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کی صحت سے جوڑ کر کیا گیا مودی کے تبصرے پر کانگریس نے بہت تلخ اعتراض جتایا۔ کانگریس سکریٹری جنرل شکیل احمد نے مودی کو انسانی بھیس میں ’دانو ‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ انہیں ذہنی طور سے بیمار کردیاہے۔ چھتیس گڑھ میں مودی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کی بیماری کے بہانے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی پر یہ کہتے ہوئے نشانہ لگایا کہ فوڈ سکیورٹی بل کے سلسلے میں راہل نے سونیا کی بیماری کا تذکرہ کیا ہے۔اسی پر مودی نے چٹکی لی تھی اگر میڈیم بیمار ہیں تو جس میں دم ہے انہیں کام دے دیں اور وہ کچھ کر کے دکھائیں۔ اس پر شکیل احمدنے کہا صرف مانو کے بھیس میں کوئی دانو ہی کسی کی جسمانی بیماری پر طنز کرسکتا ہے۔
اس سے ظاہر ہے کہ وہ ذہنی طور سے بیمار ہے۔ مودی چھتیس گڑھ میں کانگریس پر حملے کا جواب کانگریس صدر سونیا گاندھی نے مدھیہ پردیش کی کھرگون ریلی میں دیا۔ بھاجپا سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ آپ نے بھاجپا کو اس پردیش میں ایک نہیں لگاتار بار بار سرکار بنانے کا موقعہ دیا لیکن ترقی کے نام پر وہ صرف باتیں ہی بناتی رہی۔ باتوں اور وعدوں سے کسی کا پیٹ نہیں بھرتا۔
سونیا نے کہا مدھیہ پردیش میں فاقہ کشی سے بچوں کی موت ہوئی ہے۔ عورتوں پر ہر طرح کے مظالم بڑھے ہیں۔ درجہ فہرست ذات و قبائل کے مفادات پرعمل نہیں ہوا اور کسانوں کی حالت بدسے بدتر ہوتی چلی گئی۔ انہوں نے بھاجپا نیتا کا نام لئے بغیر چٹکی لی کے یہ لوگ آپس میں ہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہیں۔ بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیتے ہیں۔ پچھلے مہینے راہل گاندھی نے اندور اور الور کی چناؤ ریلیوں میں مظفر نگر فسادات کے معاملے میں آئی ایس آئی والا متنازعہ تبصرہ کیاتھاجس میں دعوی کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی مظفر نگر کے فساد متاثرین مسلم لڑکوں کے رابطے میں ہے اور انہیں بھڑکانے میں لگی۔ معاملہ چناؤ کمیشن تک گیا اور راہل کو خبردار کیا گیا کہ مستقبل میں اس طرح کے تبصرے سے بچیں۔ بہرائچ کی ریلی میں مودی نے کانگریس کو کوستے ہوئے کہہ ڈالا کہ یوپی سرکار انہیں پھنسانے کے لئے طرح طرح کے جال بن رہی ہے۔ یہاں تک کہ کانگریسیوں نے ان کے پیچھے ’آئی ایم‘ انڈین مجاہدین کولگادیا ہے۔ معاملہ چناؤ کمیشن تک پہنچا ۔ چھتیس گڑھ ریلی میں مودی نے کانگریس کے چناؤ نشان ہاتھ کو ’خونی پنجہ‘ قراردیا اور اس ظالم پنجے کے سائے سے بچنا چاہئے۔ تو لوگ کمل کے بٹن کو دبائیں۔ مودی بنام باقی یہ چناؤلڑا جارہا ہے۔
کانگریس تو سیدھے حملے کررہی ہے، نتیش کمار بھی پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے بھی صاف کہہ دیا بم دھماکوں کی وجہ سے مودی کی پٹنہ ریلی میں بھیڑ آئی ہے۔ اب سپا کے قومی سکریٹری جنرل نریش اگروال نے مودی کے سلسلے میں تبصرہ کردیا کہ وہ ایک غریب خاندان سے سیاست میں آئے اور ایک دور میں وہ ٹرینوں میں چائے بیچنے تھے اور چائے بیچنے والے کا کبھی قومی نظریہ نہیں ہوسکتا جیسے ایک سپاہی کو کپتان بنا دیا جائے تو وہ کبھی کپتان کا کام نہیں کرسکتا۔ مودی نے رائے گڑھ ریلی میں اس کا جواب دے دیا اور کہا کہ ان لوگوں کے مقابلے میں چائے بیچنے والا زیادہ اچھا ہے جو دیش بیچتے ہیں۔ انہوں نے طنز کیا کیا دیش کو بیچنے والے حکمراں بن سکتے ہیں؟ الزام در الزام کا دور جاری ہے اور حملوں کا معیار گرتا جارہا ہے۔ یہ ٹرینڈ جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہے۔
(انل نریندر)