Translater

28 جنوری 2017

پنجاب :سہ رخی مقابلہ میں نشہ ایک بڑا اشو

پنجاب اسمبلی کی 117 سیٹوں کیلئے 4 فروری کو ہونے والے چناؤ میں کل1146 امیدوار میدان میں ہیں اور عام آدمی پارٹی نے مقابلہ سہ رخی بنا دیا ہے وہیں کئی چھوٹی پارٹیاں بھی اس مرتبہ مضبوطی سے تال ٹھوک رہی ہیں۔ پنجاب میں ابھی تک آمنے سامنے کا مقابلہ روایتی طور پر کانگریس اور شرومنی اکالی دل ، بھاجپا اتحاد میں ہوتا تھا ریاست کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہے جب اکالی دل بھاجپا محاذ کے علاوہ کوئی مضبوط طاقت میدان میں ہے۔ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ نتیجوں کو اسمبلی سیٹوں کے حساب سے دیکھیں تو بڑھت کی صورت یوں بنتی ہے اکالی ۔بھاجپا 46، کانگریس 36، عام آدمی پارٹی 33، لوک انصاف پارٹی 21 یعنی اکالی ۔بھاجپا ۔کانگریس اور عاپ میں تقریباً برابری کا مقابلہ ہے۔ لوک انصاف پارٹی لدھیانہ میں بسے بندھوؤں کی پارٹی ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں وہ دو اسمبلی چناؤ حلقوں میں سب سے زیادہ آگے رہی تھی۔ ایک اسمبلی حلقہ ایسا تھا جہاں لوک انصاف پارٹی اور عاپ کا سانجھہ ووٹ سب سے زیادہ تھا۔ اس مرتبہ لوک انصاف پارٹی اور عاپ کے درمیان اتحاد ہے یعنی دونوں علاقائی پارٹیاں 36 سیٹوں میں مشترکہ طور پر لیڈ کی بنیاد پر اتری ہیں۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی چناؤ کمپین کرنے دنیا بھر سے حمایتی آرہے ہیں۔ رات دو بجے ٹورنٹو سے آئے تارکین نے ہندوستانیوں کی فلائٹ ٹرمنل 3 پر اتری تھی اس میں 150 سے زیادہ عاپ حمایتی موجود تھے۔ تارکین وطن ہندوستانیوں کا خیر مقدم کرنے کے لئے ہوائی اڈے پر دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ ، ڈاکٹر کمار وشواس اورپردیش کنوینر دلیپ پانڈے سمیت پارٹی کے کئی ورکر پہنچے ۔ ایک اور جہاز لندن سے آیا جو سیدھا امرتسر میں اترا۔ دونوں جہازوں میں تقریباً 250 سے300 تک حمایتی بتائے جارہے ہیں۔ عاپ کا دعوی ہے کہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، لندن ، امریکہ، کنیڈا، سعودی عرب و قطر جیسے ملکوں سے ہزاروں تارکین وطن پنجاب پہنچ رہے ہیں۔ پارٹی کواندازہ ہے کہ این آر آئی پنجابیوں کے چناؤ میں کمپین کے لئے اترنے سے پارٹی کی جیت میں 30فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ پرانی کہاوت ہے ہر کامیاب شخص کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ پنجاب اسمبلی چناؤ میں یہ کہاوت کہاں تک کھری اتری تھی۔ پنجاب کے وزیر اعلی کی گدی پر اس بار وہی لیڈر بیٹھے گا جسے خواتین کے ووٹ ملیں گے۔ پنجاب میں نشہ کی لت کے خلاف عورتوں نے جم کر آواز اٹھائی ہے۔ پنجاب میں نشہ نے ہزاروں گھروں کو برباد کردیا ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان وہاں کی عورتوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ لذیذ کھانے کے لئے مشہور پنجاب میں نشہ کا مسئلہ سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔ آج پنجاب کی لاکھوں بیٹیاں رو رہی ہیں۔ ان دنوں پنجاب کی 117 سیٹوں کے لئے کمپین شباب پر ہے اور نشے کا اشو بھی ہے۔ 9 لاکھ تک ڈرگ لینے والوں کی اندازاً تعداد پہنچ چکی ہے۔ تقریباً2.32 لاکھ لوگ ہیروئن و ڈرگ کے عادی بن چکے ہیں۔ سہ رخی مقابلہ میں نشہ بڑا اشو ہے۔
(انل نریندر)

اتراکھنڈ میں 77 فیصد ووٹروں کی مرضی کے بغیر بنتی حکومتیں

پچھلے 17 برسوں میں اتراکھنڈ کو دیش کی سیاسی طور پر کمزور ریاست ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ اس دوران یہاں 8 مرتبہ وزیر اعلی بدلے جاچکے ہیں۔ ان وزرائے اعلی میں صرف ایک نارائن دت تیواری ہی اپنی پانچسالہ میعاد پوری کر سکے لیکن ان پانچ برسوں میں بھی ایسے کئی موقعے آئے جب لگا سرکار گرنے والی ہے۔ اتراکھنڈ میں سیاسی عدم استحکام کی شروعات ریاست کے پہلے وزیر اعلی کے ساتھ 2000ء میں جب اتراکھنڈ نئی پہاڑی ریاست بنی تبھی سے ہوگئی تھی۔ سال 2012ء کے چناؤ میں کانگریس اور بھاجپا کو برابر سیٹیں ملی تھیں ۔ اس مرتبہ کے چناؤ میں بھاجپا نے اتراکھنڈ کی سیٹوں کا اعلان کرتے ہی بغاوتی آوازوں کو ابھاردیا ہے۔ یہی رسہ کشی کانگریس میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض کانگریس ورکروں نے دہرہ دون میں پردیش صدر نند کشور اپادھیائے اور وزیر اعلی ہریش راوت کے خلاف جم کر ہنگامہ نعرے بازی اور توڑ پھوڑ کی۔ کانگریس آفس میں یہ سلسلہ دو گھنٹے تک چلتا رہا۔ لگتا یہ ہے کہ اتراکھنڈ میں چناؤ مودی بنام ہریش راوت ہوگا۔ بھاجپا نریندر مودی کے چہرے پر ہی چناؤ لڑنے جارہی ہے۔ بھاجپا کے پاس وہاں وزیر اعلی کے عہدہ کے لئے کئی چہرے ہیں لیکن پارٹی کے حکمت عملی سازوں کا خیال ہے چہرے کا اعلان کرتے ہی پارٹی میں اندر خانے رسہ کشی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس کو دیکھتے ہوئے ہی بھاجپا چناؤ میں کوئی وزیر اعلی امیدوار کا اعلان نہیں کرنا چاہتی۔ یہ بھی صاف ہے کہ اتراکھنڈ میں بھاجپا کی سیدھی ٹکر کانگریس سے ہے اور کانگریس کا چہرہ بھی صاف ہے۔ وہاں ان کے لئے ہریش راوت ہیں۔ حال ہی میں راوت وزیر اعلی بھی ہیں اس سے پہلے بیچ میں وہاں صدر راج بھی نافذ رہا۔ اسے جمہوریت کی بدقسمتی کہا جائے یا کچھ اور دیو بھومی (اتراکھنڈ) میں جو سرکاریں بنی ہیں اب تک انہیں 77 فیصدی ووٹروں کی حمایت نہیں ملتی یا یوں کہیں تقریباً 15 سے33 فیصد ووٹروں کی حمایت پر حکومتیں بنتی رہی ہیں۔ حالانکہ چناؤ درچناؤ ووٹروں کا فیصد بڑھ رہا ہے مگر اب تک جو کامیاب ہے وہ پردیش میں ووٹروں کے کافی چھوٹے حصے کی حمایت پا کر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان نہ کرے اور مودی کے نام پر چناؤ لڑنے سے بھاجپا کو جہاں کچھ فائدے نظر آرہے ہیں وہیں اس کے نقصان بھی ہیں۔بھاجپا کے ایک سینئر لیڈر نے مانا ہے بھاجپا میں نیتا اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ ان کی نجی خواہشات پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہیں۔ وزیر اعلی کے دعویداروں کے آپسی ٹکراؤ سے پارٹی کی دقتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اس لئے کسی ایک کے نام پر چناؤ نہیں لڑنا چاہتی بھاجپا۔ بہرحال کانگریس میں ہریش راوت ہی ایک ایسا چہرہ ہیں جن کے دم پر کانگریس چناؤ لڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)

26 جنوری 2017

پنجاب کے چناؤ میں ان ڈیروں کی خاص اہمیت ہوتی ہے

پنجاب اسمبلی چناؤ میں ہمیشہ سے ہی ڈیروں کی خاص اہمیت رہی ہے۔ پنجاب کی سیاست میں ڈیروں کا بہت اثر ہوتا ہے۔ بیاس ندی کے کنارے چھوٹے سے شہر سے یہ ایسا نظارہ ہے جو آپ کو آسانی سے حیران کر سکتا ہے یہ ہے پنجاب کا سب سے بڑا آشرم ڈیرہ بیاس۔ کئی مربع کلو میٹر میں پھیلا یہ وسیع علاقہ کسی چھاؤنی کی طرح چاروں طرف محفوظ چہاردیواری، زبردست سکیورٹی انتظام، ہریالی اور چوڑی سڑکوں کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں شاندار رہائشی عمارتیں پورے علاقہ کی زینت بڑھاتی ہیں۔ روحانیت ، امن اور ست سنگ کے نام پر چلنے والے پنجاب کے بڑے ڈیروں کا کم و بیش ایسا ہی منظر ہے۔پچھلے400 سال سے جاری پنجاب کی ڈیرہ روایت اب کافی بدل گئی ہے۔ یہاں جگمگاہٹ ہے ، بھیڑ ہے اور ساتھ ہی سیاستدانوں کی قطار بھی ہے۔ موجودہ مذاہب اور ان کی علامتوں اور سسٹم کی مخالفت کر کھڑے ہوئے ان ڈیروں نے اپنی ٹھوس علامت اور روایتوں کو تو بنا ہی لیا ہے اب اقتدار کی ڈور بھی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ان ڈیروں پر مفصل مطالع کرچکے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر رونکی رام کے مطابق پنجاب میں 9 ہزار سے زیادہ ڈیرے ہیں لیکن ان میں تقریباً 10 ہی ایسے ہیں جن میں شردھالوؤں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ حالیہ دنوں میں کانگریس نائب صدر اور عام آدمی پارٹی کے چیف اروند کیجریوال جیسے نیتا ان ڈیروں کے چکر لگا چکے ہیں۔ ان میں اکالی دل کے صدر ریاست کے نائب وزیر اعلی سکھبیر سنگھ بادل بھی شام ہیں حالانکہ اکالی دل اصولی طور سے ایسے ڈیروں کے خلاف ہے۔ سکھ مذہب کسی زندہ گورو کو نہیں مانتا۔ حالیہ برسوں میں اکالی نیتاؤں نے ڈیروں سے کافی اچھے رشتے بنائے ہوئے ہیں۔ ڈیرہ بیاس پرمکھ گوریندر سنگھ گھلوں کے قریبیوں کو اکالی دل نے نہ صرف ٹکٹ دئے ہیں بلکہ سرکار کے اہم عہدوں پر بھی تقرری کر رکھی ہے۔ سکھبیر بادل کے سالے اور کیبنٹ وزیر وکرم سنگھ مجھیٹھیا کی بیوی ڈیرہ پرمکھ کی رشتے دار بھی ہے ایسے میں ڈیرہ بیاس یعنی رادھا سوامی ست سنگ بیاس کا لگاتار فروغ لیتے جانا حیران کن نہیں ہے۔ایسا ہی خاص طور پر شردھالوؤں کی بڑی تعداد ڈیرہ سچا سودا کی بھی ہے۔ یہ ایسا ڈیرہ ہے جس کی باقاعدہ سیاسی شاخیں ہیں اور یہ چناؤ میں کس کی حمایت کرنی ہے فیصلہ کرتی ہیں۔ اس کا ہیڈ کوارٹر بھلے ہی ہریانہ میں ہو لیکن پنجاب کی سیاست میں اس کا بھاری دخل ہے۔ حالیہ برسوں میں اس نے کھل کر بھاجپا کی حمایت کی مگر اس بار پولنگ کے قریب آنے پر ہی یہ اپنے پتتے کھولے گا۔ اسی طرح دلتوں کی درمیان سب سے زیادہ مقبول جالندھر کا ڈیرہ سچے کھنڈ بھی سیاست کو متاثر کرتا ہے۔ اس کا کئی علاقوں میں کافی اثر ہے۔ بھاجپا کے قیام کے وقت سے یہ اس کے قریب رہا ہے۔ بعد میں کچھ اور پارٹیوں سے بھی اس کی قربت رہی ہے مگر اب کھل کر کسی کے حق میں بولنے سے بچ رہا ہے۔ اس کے ماننے والے خود کو سکھ یا ہندو نہیں مانتے بلکہ رویداسیا مانتے ہیں۔ اسی طرح ڈیرہ دویہ جوتی جاگرتی سنستھان کو بھاجپا کے تو نرنکاری کو کانگریس کے قریب مانا جاتا ہے۔ اکالی صرف ان ڈیروں سے جڑے ہیں جو پوری طرح سکھ مذہب کے مطابق چلتے ہیں۔ ایسے ڈیروں میں رائے کوٹ کے نانک سار اور ہوشیار پور کے سنت بابا ہرنام سنگھ ڈیرہ تو ہیں ہی اس کے علاوہ دمدمی ٹکسال سے بھی سیدھے اکالی جڑے ہیں۔ اس کے پرمکھ کبھی جرنیل سنگھ بھنڈراں والا ہوا کرتے تھے۔ ان ڈیروں کی پچھلے کچھ عرصے سے چناؤ میں اہمیت بڑھ گئی ہے اور ساری بڑی پارٹیاں ان کی حمایت حاصل کرنے کی ریس میں شامل ہیں۔
(انل نریندر)

کسان کے ووٹ تو چاہئیں لیکن ان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں

اترپردیش میں سات مرحلوں میں ہونے جارہے اسمبلی انتخابات میں کسان بھاگیہ ودھاتا کے رول میں ہو سکتے ہیں۔ سیاسی پارٹی وکاس اور جن سروکار کے اشوز کو درکنار کر جیتنے والے امیدواروں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کوئی سوشل انجینئرنگ بنام چناؤ میں اول آنے کے چکر میں ہے تو کوئی پارٹی ذات اور مذہب کی بنیاد پر میدان مارنا چاہتی ہے۔ کسی کو اکثریتی ووٹوں کے سہارے لکھنؤ کے تاج تک پہنچانا ہے تو کوئی اقلیتوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے فراق میں ہے۔ کوئی اتحاد کے سہارے تو کچھ ووٹوں کے بٹوارے کے سہارے امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ وکاس ،گڈ گورننگ، تعلیم، مہلا سکیورٹی اور روزگار جیسے برننگ سوال سیاسی پارٹیوں کے چناؤ منشور کی زینت بن رہے ہیں۔ یوپی میں پہلے مرحلہ کی تو پوری سیاست ہی کسانوں پر مرکوز ہے اور اس پر سبھی پارٹیوں کی اتنی توجہ نہیں ہے۔پوروانچل کے پچھڑے پن کی آواز تقریباً ہر اسمبلی سیشن میں اٹھتی رہی ہے لیکن جب گنا کسانوں کی مشکل کی بات ہوتی ہے تو مغربی اترپردیش کے گنا کسانوں پر سیاست گرم ہوجاتی ہے۔ پورب میں گنا بیلٹ کی بدحالی پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ دیوریا، کشی نگر ،گورکھپور، سنت کبیر نگر وغیرہ کے زیادہ تر چینی ملیں بند ہیں۔اس علاقہ کے ہزاروں کسان کنبوں کے لئے گنے کی فروخت ہی مالی ذریعہ ہوتا ہے اب وہاں بدحالی کا عالم یہ ہے کہ آج پیداوار کے معاملے میں یوپی دیش کا ہی نہیں بلکہ ایشیا میں اول ہے اس کے باوجود آلو کسانوں اور کاروباریوں کے لئے پریشانیاں سیاسی پارٹیوں کے چناوی ایجنڈے میں نہیں رہتیں۔ اس بار آلو کی بدحالی کا حال یہ ہے کہ کسانوں نے اسمبلی کے سامنے آلو پھینک کر احتجاج کیا۔ پردیش میں آج بھی بڑی آبادی کھیتی پر منحصر ہے۔ ان کی بہتری کے لئے ہر برس مرکز اور ریاستی سرکار کے بجٹ کا منہ کھول جاتا ہے لیکن جب دھان اور گیہوں کی لاگت کی قیمت اور بیج اور ذرعی کیمیکل کی دستیابی اور گنے کے بقایا رقم کی ادائیگی نہ ہونے اور سنچائی کی سہولت نہ ملنے کے احتجاج میں کسان آندولن کرتا ہے تو سرکار کے مالی دستاویزات کی پول کھلتی نظر آتی ہے۔ سیاسی پارٹیاں یہ تو کہتی ہیں ذراعت ریاست کی معیشت کی ریڑھ ہے لیکن سرکار کی پالیسیوں میں اسے اہمیت کیوں نہیں ملتی یہ اپنی سمجھ سے باہر ہے۔ گنے کی فصل کی ادائیگی وقت پر نہ ہونے کے سبب کسان پریشان ہے۔ لاگت بھی نہیں مل پا رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں بجلی نہ مل پانا بھی ایک بڑی پریشانی ہے۔ نہروں میں پانی ٹیوب ویل تک نہیں پہنچ پاتا۔ بدقسمتی سے ان سبھی پارٹیوں کو کسانوں کے ووٹ تو چاہئیں لیکن ان کی پریشانی پر کسی کوکوئی دلچسپی نہیں ہے۔
(انل نریندر) 

25 جنوری 2017

سپا کانگریس اتحاد سے لڑائی سہ رخی بن گئی ہے

آخر کار ٹوٹتے ٹوٹتے سماجوادی پارٹی و کانگریس کا اتحاد ہوہی گیا ہے۔ دراصل سنیچر کے دن 11 بجے تک اتحاد ہو گا یا نہیں ہوگا کو لیکر شش و پنج کی صورتحال بنی ہوئی تھی اور ایتوار کی صبح 11 بجے تک اتحاد پر فائنل مہر لگ گئی۔ اس درمیان لکھنؤ سے دہلی کے درمیان سپر سسپنس سیاسی تھلر کی طرح پورا معاملہ چلا۔ سپا نے کانگریس کو105 سیٹیں دی ہیں اور وہ خود298 سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ دراصل اتحاد کرنا ایس پی اور کانگریس دونوں کی مجبوری تھی۔ سپا کیلئے اس لئے ضروری ہوگیا تھا کیونکہ کنبے کے جھگڑے کے بعد یہ خیال بننے لگا تھا کہ وہ مقابلے سے باہر ہوگئی ہے۔ ایسے میں تمام مسلم ووٹ بسپا میں شفٹ ہونے کے امکانات دکھائی دینے لگے۔ اس سے سپا کا بھٹہ بیٹھ جانے کا خطرہ تھا۔ اتحاد سے سماجوادی پارٹی میں مسلمانوں کو یہ سندیش دینے کی کوشش کی ہے کہ ایک قومی پارٹی اس کے ساتھ ہے اور دونوں ملکر بھاجپا کو ہرا سکتی ہیں۔ اس سے مسلم ووٹ اس کی جھولی سے کھسکنے سے بچ گیا ہے؟ یہ ضرور ہے کہ جہاں اتحاد کا امیدوار کمزور ہوگا وہاں مسلم ووٹ بہوجن سماج پارٹی کے پالے میں جاسکتا ہے۔ گٹھ بندھن نہ ہونے پر مسلمان ایک طرفہ بی ایس پی کی طرف جا سکتے تھے۔ دوسری جانب کانگریس کے پاس کچھ کھونے کو نہیں ہے۔ کانگریس کی حالت قابل رحم بن گئی ہے۔ راہل گاندھی کے ایک مہینے کے دورے کے باوجود پارٹی نے ایک دم چھوٹے سانجھے دار کی شکل میں سمجھوتہ کیا ہے تو اس کا کچھ تو مطلب ہے۔ حقیقت میں کانگریس تاریخ میں سب سے کم سیٹوں پر اترپردیش میں چناؤ لڑنے جارہی ہے۔ 1996ء میں بسپا کے ساتھ اس کا اتحاد ہوا تھا تب بھی وہ 125 سیٹوں پر چناؤ لڑی تھی۔ اتنی کم سیٹوں پر لڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس اترپردیش میں کس کمزور پوزیشن میں ہے۔ اتحاد کے بعد کانگریس ۔ سپا دونوں خیموں کے لیڈروں نے راحت کی سانس لی ہے۔ دونوں کے درمیان غلط فہمی دور کرنے میں پٹنہ سے ممبئی تک کے لوگ ثالثی کررہے تھے۔ لالو پرساد یادو نے اکھلیش کو نرم کیا تو احمد پٹیل کو بھی سمجھایا۔ نغمہ نگار جاوید اختر بھی دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کو منانے میں لگے رہے۔ عمر عبداللہ نے بھی کانگریسی لیڈروں کو اتحاد کی صلاح دی۔ ایتوار کی رات اکھلیش یادو اور پرشانت کشور ملے اس کے بعد احمد پٹیل نے پرینکا اور راہل گاندھی سے بات کی۔ صبح سویرے3 بجے پرینکا گاندھی اور اکھلیش کی بات کرائی گئی۔ اس کے بعد اکھلیش نے صبح کانگریس کے لیڈروں کو بلایا اور وہاں بات فائنل ہونے کے بعد پارٹی لیڈر شپ کو فائنل ڈرافٹ بھیجا گیا جس پر دونوں پارٹیوں نے رضامندی دے دی۔ سپا اور کانگریس کے درمیان اتحاد ہونے کے بعد اب یوپی میں چناوی لڑائی سہ رخی ہونا بالکل صاف ہوگیا ہے۔ ووٹروں کے سامنے خاص طور سے تین متبادل ہوں گے۔ بی جے پی، بی ایس پی اور سپا ۔کانگریس اتحاد اب پہلے جیسی پوزیشن شاید نہ ہو۔ اگر سماجوادی پارٹی اکیلے چناؤ لڑتی تو تقریباً دو تہائی مسلم اس کے ہاتھ سے نکل جاتا اور وہ شاید بی ایس پی کو چلا جاتا۔ اب مسلم ووٹروں کی پہلی ترجیح بی جے پی کو ہرانے کی ہوگی جہاں اسے سپا ۔کانگریس اتحاد کا امیدوار مضبوط دکھائی دے گا اسے ووٹ کریں گے اور جہاں بسپا کا ہوگا اسے ووٹ دیں گے۔یعنی جہاں بی ایس پی جیت رہی ہوگی وہاں بی ایس پی کے ساتھ اور جہاں اتحادی امیدوار کامیاب ہوتا دکھائی دے گا وہاں وہ اس امیدوار کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اس میں بھی ایک پینچ ہے کچھ سیٹوں پر ایس پی ۔کانگریس اتحاد اور بی ایس پی دونوں نے مسلمان امیدوار اتار دئے ہیں۔ یہاں مسلم ووٹ کٹنے کا خطرہ ہے۔ مسلمانوں کے درمیان غلط فہمی ہوگی کہ کس کو ووٹ دیں۔اتحاد نہ ہونے پر مسلمانوں کے بی ایس پی کے ساتھ ایک طرفہ جانے سے بھاجپا کی اقتدار میں واپسی کی لڑائی بیحد مشکل ہوجاتی۔ دلت ۔ مسلم تجزیہ سب پر بھاری پڑتا ہے۔ بی جے پی مسلم ووٹوں میں بکھراؤ بنائے رکھنے کی حکمت عملی کے تحت شروع سے ہی اپنی لڑائی سماجوادی پارٹی سے بتاتی آرہی ہے۔ وہ بی ایس پی کو کبھی اہم لڑائی میں مانتی نہیں ہے۔ اب مقابلہ سہ رخی ہونا ہے۔
(انل نریندر)

شراب بندی، نشہ بندی کے خلاف بہار کا سخت سندیش

جب بہار کی راجدھانی پٹنہ میں سنیچر کو دوپہر 12.15 منٹ سے ایک بجے تک 3 کروڑ سے زیادہ لوگ ایک دوسرے سے جڑے تو 11400 کلو میٹر لمبی دنیا کی سب سے بڑی انسانی چین تو بن گئی ہے ساتھ ہی بہار نے دنیا کو شراب بندی کیلئے بیحد مضبوط سندیش بھی دیا ہے۔ بہار کی آبادی کے حساب سے ہر چوتھا آدمی شراب اور نشے کے خلاف منعقدہ اس انسانی چین میں شامل ہوا تھا۔ راجدھانی پٹنہ سمیت ریاست کے سبھی اضلاع میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان نجی اور سرکاری اسکولوں کے بچے، اساتذہ ، سیاستداں، تاجر سمیت سماج کے سبھی طبقوں کے لوگ نشے سے نجات کا پیغام دینے کیلئے 12.15 بجے سے 1 بجے تک ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کرکھڑے ہوکر دنیا کی سب سے بڑی انسانی چین کا ریکارڈ بنادیا ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے دعوی کیا ہے یہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی انسانی چین ہے بلکہ بڑی سماجی تبدیلی کی حمایت میں پہلی بار اتنے لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ اس میں 2 کروڑ لوگ حصہ لیں گے مگر اس سے بھی زیادہ لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کے لئے تمام عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا شامل ہونا اس کی علامت ہے کہ بہار کے باشندے شراب بندی، نشہ بندی کے زبردست حمایتی ہیں۔ اس شاندار انسانی چین اور اس کی کامیابی لوگوں کے جذبات کا اظہار بھی ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار ، آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو، ودھان پریشد کے چیئرمین اودھیش نرائن سنگھ ، ودھان سبھا کے اسپیکر وجے کمار چودھری، نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد یادو، وزیر صحت تیج پرتاپ یادو، وزیر تعلیم اشوک چودھری، چیف سکریٹری انجنی کمار سنگھ، ڈی جی پی کے ۔ٹھاکر وغیرہ پٹنہ کے گاندھی میدان میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر 50 منٹ تک قطار میں کھڑے رہے۔ راجدھانی پٹنہ سے لیکر ریاست کے دور دراز علاقوں میں بڑے جوش خروش سے لوگوں نے اس انسانی چین میں شرکت کی۔ اپنے شہر اور دیہات میں لوگ سڑک پر آئے اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر نشے سے نجات دلانے کی حمایت میں اتحاد دکھایا۔ اونچ نیچ اور چھوٹے بڑے کی کھائی اس انسانی چین نے بھر دی ہے۔ سبھی طبقے کے لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اس سماجی مہم میں نوجوان، بزرگ، بچے ،بچیاں ،عورتیں ، مزدور اور کاروباری، ڈاکٹر اور دیگر پیشہ ور اور ہر طبقے سے وابستہ سبھی مذہبوں میں عقیدت رکھنے والے لوگوں نے زبردست جوش کے ساتھ شرکت کی۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار ہی اس مہم کیلئے مبارکباد کے مستحق ہیں۔
(انل نریندر)

24 جنوری 2017

جوانوں کو گھٹیا کھانا اور ملزمان کی اتنی ٹھاٹ

دہلی ہائی کورٹ نے کنٹرول لائن پر جوانوں کو دیئے جانے والے غذائی سامان کی مبینہ گھٹیا صورتحال پر رپورٹ کی مانگ کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے رائے مانگی ہے۔ بی ایس ایف کے ایک جوان نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرکے کھانے پینے کی کوالٹی کو لیکر سوال اٹھائے تھے۔ چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل نے جوانوں کو دئے جانے والے کھانے کے گھٹیا پن کا نوٹس لیا ہے۔ بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف ، سی آر پی ایف اور سی آئی ایس ایف اور بھارت تبت بارڈرپولیس سے بھی اپنا موقف رکھنے کو کہا ہے۔ بنچ نے بی ایس ایف کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ اس کے سامنے جانچ رپورٹ رکھے اور یہ بتائے کہ انہوں نے بی ایس ایف کے جوان تیج بہادر یادو کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے سلسلے میں کیاقدم اٹھائے ہیں۔ آپ کے پاس جو بھی رپورٹ ہے اسے 27 فروری کو عدالت کے سامنے پیش کریں۔ تیج بہادر یادو کی شکایت کے بعد سے جوانوں کے کھانے سے متعلق شکایتوں کا سیلاب سا آگیا ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ جوانوں کی شکایتوں میں کتنا دم ہے یا نہیں لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ بھارت کی جیلوں میں قیدیوں کو بھی سرحد پر تعینات جوانوں سے بہتر کھانا ملتا ہے۔ صبح کی شروعات دودھ، بریڈ اور انڈے کے ساتھ اور کھانے میں موسمی ہری سبزی رات کو سونے سے پہلے کبھی کھیر کبھی مٹھائی؟ یہ کسی اچھے ہاسٹل یا جم جانے والے نوجوانوں کی غذا نہیں ہے بلکہ یہ ان بدقسمت ملزمان کا کھانا ہے جو اس وقت دیش کی تمام جیلوں میں بند ہیں۔یہ بات الگ ہے کہ اس وقت سرحد پر تعینات جوان کھانے کی کوالٹی کو لیکر فکر مند ہیں اور اس بارے میں دیش میں لمبی چوڑی بحث اورجانچ ہورہی ہے۔ اس درمیان ہم نے یہ بھی پتہ کرنے کی کوشش کی کہ تہاڑ جیل اور مختلف ریاستوں کی سینٹرل جیل سے پتہ کیا کہ آخر قیدیوں کو کیسا کھانا دیا جارہا ہے۔ اس میں سامنے آیا کہ جیل میں بند قیدیوں میں کئی معنوں میں عام آدمی سے بھی زیادہ اچھا کھانا ملتا ہے۔ تہاڑ جیل کے انسپکٹر جنرل مکیش پرساد کہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ جیل میں مینول کے حساب سے قیدیوں کو کھانا دیتے ہیں۔ راجستھان میں سزا یافتہ قیدیوں کو یومیہ 600 گرام آٹا دیا جاتا ہے۔ تہاڑ میں فی قیدی 400 گرام آٹا یومیہ دیتے ہیں اور فی قیدی کو ایک دن میں 200 گرام سبزی ملتی ہے۔ بی ایس ایف میں قریب 240 گرام سبزی عام آدمی تو ایک دن میں قریب 150 گرام سبزی ہی کھاتا ہے۔ تہاڑ جیل میں 90 گرام دال دی جاتی ہے۔ کئی جیلوں میں تو ساتوں دن الگ الگ دالیں ملتی ہیں۔ تہاڑ جیل میں ہفتے میں ایک دن کھیراور خاص موقعوں پر چھولے پوری ، مٹھائی وغیرہ ملتے ہیں۔ہریانہ کی جیلوں میں منگلوار کو کھیر بنتی ہے۔ چھتیس گڑھ میں ایتوار کو حلوہ بنتا ہے۔ہریانہ کی سینٹرل جیلوں میں عام قیدیوں کو صبح 250 گرام دودھ 100 گرام بریڈ ہوتی ہے۔ چھتیس گڑھ میں صبح قیدیوں کو خاص طور سے 100 گرام بھنے چنے دئے جاتے ہیں۔ چھتیس گڑھ میں 60 سال سے عمر سے زیادہ کے قیدیوں کو 500 گرام دودھ ایک انڈہ دیا جاتا ہے۔بیمار قیدیوں کو تو جوس اور دوسرے طاقتوں غذائیں بھی ملتی ہیں۔ اب آپ خود بتائیں کیا سرحد پر اپنی جان کو داؤ پر لگانے والے ہمارے بہادر سپاہیوں کو پیٹ بھر گھٹیا کھانا دیا جاتا ہے اور ان ملزمان کو اتنا اچھا کھانا دیا جاتا ہے؟ کتنا غلط ہے اور کتنی نا انصافی ہے؟
(انل نریندر)

مغربی اترپردیش میں جاٹ لینڈ کی اہمیت

اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کی شروعات مغربی اترپردیش سے ہوگی۔ یہاں پہلے دو مرحلوں میں 136 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انہی سیٹوں سے ریاست میں اقتدار کے قریب پہنچنے والی پارٹی کی کافی حد تک قسمت طے ہوگی۔ 2012ء میں میرٹھ ، مراد آباد ،سہارنپور، بریلی، آگرہ اور علی گڑھ علاقے کی 136 سیٹوں میں سے سب سے زیادہ 58 سیٹیں پانے والی سماجوادی پارٹی کو اکثریت ملی تھی۔ 2012ء میں اس علاقے میں سپا کو 58 ، بسپا کو 39 اور بھاجپا کو 20 اور کانگریس کو8 اور آر ایل ڈی و دیگر کو 10 سیٹیں اور ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔ 2013ء کے مظفر نگر فسادات اور 2014ء میں مودی لہر نے اس پورے علاقے کا تجزیہ ہی بدل دیا تھا۔ ذات پات کے حساب سے اس علاقہ میں سب سے زیادہ 26 فیصدی مسلمان ہیں۔ اس کے بعد دلت 25 فیصد، جاٹھ 17 فیصد ،یادو 7فیصد ووٹر ہیں۔ کچھ سیٹوں پر مسلم ووٹروں کی تعداد30 فیصد سے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پورے علاقے میں مسلمان ، دلت ،جاٹھ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں مسلم ووٹوں کی۔ سائیکل سمبل اکھلیش یادو کو ملنے کے بعد سے بھی یہ تصویر صاف نہیں ہے کہ پورا مسلم ووٹ سپا کو ہی ملے گا۔ بگڑے قانون و نظم کے حالات اور مظفر نگر دنگے کا درد اور بنتے بگڑتے سیاسی تال میل سے اترپردیش کا جاٹھ لینڈ انتظامیہ بیحد خفا ہے۔ چناؤ پر اس کا سیدھا اثر پڑ سکتا ہے۔ چودھری چرن سنگھ کی مضبوط وراثت کو ان کے لوگ سنبھال نہیں پائے اس کے چلتے پورے جاٹھ لینڈ کی پہچان کے لئے بحران پیدا ہوگیا ہے۔ فرقہ وارانہ بھائی چارگی کو کیا نظر لگی سماجی تانا بانا ہی بگڑ گیا۔ نئے سیاسی ماحول میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے تئیں اترپردیش کے جاٹھ لینڈ کا ایک ایسا بھروسہ جاگا کہ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں دیگر پارٹیوں کا اس پورے علاقے میں صفایا ہوگیا۔ یہاں کے ووٹروں میں پولارائزیشن سال در سال اور بڑھا ہے جو چھوٹی پارٹیوں کے لئے سنکٹ پیدا کرنے والا ثابت ہوسکتا ہے۔ جاٹھ لینڈ میں سپا کمزور ہے تو بسپا کے دلت بکھر گئے ہیں۔ آر ایل ڈی کا جاٹھ مسلم فارمولہ فرقہ وارانہ دنگے کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ کانگریس یہاں اپنا وجود تراش رہی ہے۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ ہم تو وکاس چاہتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ہم کس کو وٹ دیں؟ وہ اکھلیش یادو کے کام کی تعریف ضرور کرتے ہیں لیکن بسپا بھی ان کی من پسند پارٹی ہے وہ چاہتے ہیں کہ سبھی سیکولر پارٹیاں ایک ساتھ آکر چناوی اکھاڑے میں اتریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسلم ووٹوں کا بکھراؤ نہ ہو۔ ایک باشندے کا کہنا تھا کہ سبھی سیاسی پارٹی ہر چناؤ میں نوجوانوں کو روزگار دینے کا دھلاسا دیتی ہیں لیکن چناؤ کے بعد وہ اپنے وعدے سے مکر جاتی ہیں۔ اس لئے وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس بار وہ بسپا کو اقدار میں لانا چاہتے ہیں۔ خلیل آباد کے باشندے بدی العظمیٰ نوٹ بندی کو لیکر بیحد پریشان ہیں۔ اس کے اثر نہیں ان کے کاروبار کو چوپٹ کردیا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کس کو ووٹ دوں؟ سپا کو یا پیس پارٹی کو۔ یہ مشکل بنی ہوئی ہے۔محمد صدیق کہتے ہیں میرا بھروسہ سبھی سیاسی پارٹیوں سے اٹھ گیا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سبھی اپنے من کی کرتی ہیں۔ میں تو آزادی کے بعد سے ہی سبھی پارٹیوں کو آزماتا آرہا ہوں لیکن کسی نے مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ کانگریس ہو یا سپا بسپا یا بھاجپا سبھی حمام میں ننگے ہیں۔ صرف مسلم ووٹوں کو حاصل کرنے کے لئے وہ سیکولر کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں اور پھر وہی کرتی ہیں جو انہیں کرنا ہے۔ مہدی خان چاہتے ہیں کہ مسلم ووٹوں کا بکھراؤ روکنے کے لئے سبھی سیکولر پارٹیوں کا مہا گٹھ بندھن بننا چاہئے لیکن تازہ تصویر سے صاف ہورہا ہے کہ ایسا گٹھ بندھن بننا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ آج کی تاریخ میں مسلمانوں کا جھکاؤ کسی ایک پارٹی نہیں بلکہ کئی پارٹیوں کی طرف نظر آرہا ہے۔
(انل نریندر)

22 جنوری 2017

پنجاب میں سہ رخی مقابلہ میں ہر ووٹ بیش قیمتی ہے

اسمبلی چناؤ میں ہر ایک ووٹ ضروری ہوتا ہے اس بات کو چناؤ لڑنے والے نیتاؤں سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ آنے والے اسمبلی چناؤ میں اگر ایک فیصدووٹ بھی سوئنگ ہوا تو کئی درجن اسمبلی سیٹوں کی سیاسی تصویر بدل سکتی ہے۔ اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ اور منی پور میں کئی ایسی سیٹیں ہیں جہاں 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں ہارجیت کا فرق 1 فیصد سے بھی کم تھا۔ ان سیٹوں پر ہار جیت کا فیصلہ 100 یا 1000 میں نہیں بلکہ چند ووٹوں کے فرق سے ہوا تھا۔ پنجاب کی 17 سیٹوں میں سے 12 سیٹیں ایسی تھیں جہاں 2012ء چناؤ میں ہار جیت کا فرق 1 فیصد سے بھی کم تھا۔ پنجاب کے بارے میں خاص بات یہ ہے کہ ان سیٹوں پر ہار جیت کا فرق اتنا کم رہا کہ اس میں سے زیادہ تر ریزرو سیٹیں ہیں۔ پنجاب میں ایک ہی دن یعنی 4 فروری کو ووٹ پڑیں گے۔ اس بار پنجاب کا مقابلہ دلچسپ ہوگیا ہے۔ کانگریس بنام اکالی۔ بھاجپا اتحاد بنام عام آدمی پارٹی سہ رخی مقابلہ ہے۔ کئی سرکردہ بھاجپا لیڈر آپس میں محاذ آرا ہوں گے۔ لمبی اسمبلی سیٹ کا مقابلہ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ یہاں پہلی بار وزیر اعلی اور سابق وزیر اعلی آمنے سامنے ہیں۔ یہ وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل کی روایتی سیٹ ہے۔ وہاں سے کبھی نہیں ہارے۔ پہلی بار کانگریس کے سابق مہاراجہ اور وزیر اعلی رہ چکے کیپٹن امرندر سنگھ بادل کو ان کے گھر میں ہی چنوتی دے رہے ہیں۔ عاپ نے بھی یہاں سے دہلی کے ممبر اسمبلی جرنیل سنگھ کو اتارا ہے۔ پنجاب چناؤ میں یہ سب سے اہم ترین مقابلہ ہے۔ پٹیالہ کیپٹن امرندر سنگھ کی روایت سیٹ رہی ہے۔ پچھلے چناؤ میں کیپٹن کی اہلیہ پرنیت کور یہاں سے جیتی تھیں۔ اس بار شرومنی اکالی دل نے یہاں سے فوج کے سابق جرنل جے جے سنگھ کو اتارکر چناوی لڑائی کو دلچسپ بنادیا ہے۔ اب مقابلہ فوج کے جنرل اور کیپٹن کے درمیان ہے۔ آپ نے یہاں سے ڈاکٹر بلبیر سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ جلال آباد کی سیٹ نائب وزیر اعلی سکھبیر سنگھ بادل آسانی سے جیتتے رہے ہیں لیکن اس بار عام آدمی پارٹی نے بھگونت مان کو میدان میں اتارا ہے۔ کانگریس نے اپنے نوجوان ایم پی رونیت بٹو کو امیدوار بنایا ہے۔ امرتسر ایسٹ پر نوجوت سنگھ سدھو تال ٹھوک رہے ہیں۔ ابھی تک یہاں سے ان کی بیوی ڈاکٹر نوجوت کور سدھو چناؤ لڑتی آرہی ہیں۔ بھاجپا نے ان کے مقابلہ راجیش ہنی کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ عاپ نے سربجیت سنگھ کی بیوی کو امیدوار بنایا ہے۔دہلی کے وزیر اعلی اروندکیجریوال دعوی کررہے ہیں ان کی پارٹی 100 سے زیادہ سیٹ جیتنے والی ہے ۔ دیہی علاقوں میں ان کے مطابق عام آدمی پارٹی کا زور ہے۔ کیجریوال نے جمعرات کو فیروز پور، فاضلکا و بھٹنڈہ میں ریلی کے دوران بادلوں اور کانگریس پر جم کر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا پنجاب میں 40 لاکھ نوجوان نشے کی گرفتار میں ہیں۔سرکار بنتے ہی پہلے مجیٹھیا کو جیل بھیجیں گے پھر گاؤں گاؤں میں نشہ مکت کیندر کھول کر نوجوانوں کو نشے کے جال سے باہر نکالیں گے۔ دوسری طرف جس ڈرگس نیٹورک کو انورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 6 ہزار کروڑ روپے کا بتایا پولیس کی اسپیشل سیل انویسٹیگیشن ٹیم اسے 60 کروڑ کا مان چکی ہے۔ جن تین اسمگلروں کی وجہ سے پورے ڈرگ ریکٹ میں کیبنٹ منسٹر وکرم سنگھ مجیٹھیا کا نام آیا ہے۔ ایس آئی ٹی رپورٹ میں ان تینوں میں کہیں بھی مجھٹھیا کا ذکر نہیں ہے۔مجیٹھیا کا نام آتے ہی اپوزیشن نے اسے سب سے بڑا اشو بنا لیا تھا۔ وکرم مجیٹھیا نے کہا میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا ان معاملوں سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔یہ صرف سیاسی رنجش کے چلتے پلانٹ کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ الزام لگانے والے لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔
(انل نریندر)

مسلح فوجی ٹربونل کا دوررس و تاریخی فیصلہ

ایک طرف جہاں فوج اور پیرا ملٹری فورسز میں امتیاز برتنے کے کئی اشو اچھل رہے ہیں وہیں ایک تاریخی فیصلے نے مسلح افواج ٹربونل لکھنؤ نے ایک فوج کے افسر کے کوٹ مارشل کو منسوخ کرکے تہلکہ مچادیا ہے۔ مسلح فوج ٹربونل نے سیکنڈ لیفٹیننٹ رہے ایس ایس چوہان کا کوٹ مارشل منسوخ ہی نہیں کیا بلکہ 5 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی لگادیا ۔ چوہان کو بحال کر سروس کے سبھی فائدے دینے کا بھی حکم دیا۔ جرمانے کی رقم میں سے 4 کروڑ متاثرہ کو بطور معاوضہ دیا جائے گا جبکہ ایک کروڑ روپے فوج کے سینٹرل بہبودی فنڈ میں جمع کئے جائیں گے۔ راجپوت ریجمنٹ سے سیکنڈ لیفٹیننٹ شتروگھن سنگھ چوہان سری نگر میں تعینات تھے۔ 11 اپریل 1990ء کو بٹمالو مسجد کے لنگڑے امام کے یہاں سے سونے کے 147 بسکٹ برآمد کئے گئے تھے۔ کرنل کے آر ایس پوار اور سی او نے چوہان پر دباؤ ڈالا کے وہ انہیں دستاویزوں میں نہ دکھائیں۔ باقی افسر بھی خاموشی اختیار کرگئے۔ تبھی یامی نے معاملہ پارلیمنٹری کمیٹی کو بھیجا۔ فوج کے ہیڈ کوارٹر نے جانچ کرائی اور کوٹ آف انکوائری کے احکامات دے دئے گئے۔ جانچ کے دوران ہی ٹینٹ میں سوتے وقت فوج کے افسروں نے کمبل اڑا کر یامی کو پیٹ کر ادھ مرا کردیا۔ 1991ء میں شروع ہوئے کوٹ مارشل میں انہیں 7 سال کی سزا سنائی گئی۔ مسلح افواج ٹربونل لکھنؤ نے اپنے فیصلے میں کئی اہم اور سنگین ریمارکس دئے۔ بنچ نے کہا کے فوج نے کوٹ مارشل کی کارروائی کے دوران چوہان کے ذریعے پیش ثبوتوں کو نظر انداز کیا تھا۔ ٹربونل نے کہا کہ کوٹ مارشل کے دوران چوہان کی باتوں اور ثبوتوں پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا۔ ایسا کرنا ثبوت ایکٹ کے خلاف تھا۔ چوہان کو کوئی موقعہ نہیں دیا گیا۔ یہ فوج کے قاعدے قوانین کے خلاف ہے بلکہ انہیں پاگل بتایا گیا۔ چوہان پر کئی بار جان لیوا حملے بھی ہوئے لیکن شکایت کے باوجود افسران نے کوئی توجہ نہیں دی۔ ٹربونل نے کہا کہ لیفٹیننٹ چوہان کے ذریعے دئے گئے ثبوتوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ اس معاملہ میں جلد ٹرائل کی بھی ضرورت ہے۔ سچ جھوٹ کی لڑائی میں آخری جیت چوہان کی ہوئی۔ اس لڑائی میں انہیں 21 سال لگ گئے۔ اتنے برسوں میں چوہان اور ان کے پورے خاندان نے بہت کچھ کھویا ہے عزت اور وقار لوگوں کی دھتکار اور نہ جانے کیا کیا سہا۔ ایس ایس چوہان کی کہانی فلم ’چک دے انڈیا‘ کے ہیرو شاہ رخ خان سے کافی ملتی جلتی ہے جو اپنے وقار کو پانے کیلئے 26 سال تک لڑائی لڑتا ہے۔ ایس ایس چوہان کے والد بھی فوج کے کیپٹن تھے۔ ہر والد کی طرح ایس ایس چوہان کے والد کا بھی خواب تھا کہ وہ بڑا ہوکر دیش کی سیوا کرے۔ یہ ایک تاریخی اور دور رس فیصلہ ہے۔ فوج میں جس سے بھی ناانصافی ہوئی ہے یہ فیصلہ ان کے لئے بھی راستہ کھولتا ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...