Translater

07 جنوری 2017

پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ : مودی کی پالیسیوں پر ریفرنڈم

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کی تاریخوں کا اعلان ہوگیا ہے۔ ان انتخابات کو اگر 2019ء کے لوک سبھا چناؤ کا سیمی فائنل کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان انتخابات کی نہ صرف دیش بھر میں اپنی اہمیت ہے بلکہ یہ امکانی سیاست کی سمت اور حالات طے کریں گے۔ کچھ لوگ اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کا ریفرنڈم سروے بھی کہہ رہے ہیں۔ یہ کچھ حد تک طے کریں گے کہ مودی کے عہد کا آدھا وقت پورا ہونے پر انہیں کتنی عوامی حمایت حاصل ہے؟ لوک سبھا چناؤ کے ان اسمبلی انتخابات وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے سب سے بڑی چنوتی ثابت ہونے جارہے ہیں۔ دراصل ان انتخابات کے ساتھ نہ صرف مودی کی ساکھ داؤ پر لگی ہے بلکہ ان کے سب سے بڑے فیصلے نوٹ بندی پر بھی ایک طرح سے ریفرنڈم ہوگا۔ اس کے علاوہ ان انتخابات کا اثر 6 مہینے بعد ہونے جارہے راشٹرپتی چناؤ پر بھی دکھائی دے گا کیونکہ اگر ان پانچ ریاستوں میں کم سے کم تین ریاستوں میں بھاجپا کی سرکار نہیں بنتی تو اسے راشٹرپتی چناؤ کے وقت دقتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر جنتا کا فیصلہ سرکار کی امیدوں کے مطابق آیا تو اسے کئی اور بڑے قدم اٹھانے کا حوصلہ ملے گا، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو مستقبل میں مودی سرکار بڑے فیصلے لینے میں شاید ہی قباحت کرے۔ یوپی میں 24سال سے اکثریت کا انتظار کررہی بھاجپا کیلئے یہ خواب کوتعبیر کرنے کا موقعہ ہوگا۔ بہار میں ملی ہار سے مودی کی ساکھ پر لگیدھبے کو بھی یوپی کی جیت سے دھویا جاسکتا ہے۔ یوپی چناؤ میں نہ صرف مودی کی ساکھ داؤ پر ہے بلکہ ریاست کی ایس پی اور بی ایس پی جیسی پارٹیوں کا وجود بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ بھاجپا ایک بار پھر مودی کے کرشمے کے سہارے اترپردیش میں اقتدار پانے کی کوشش کررہی ہے۔ پارٹی مودی کی زیادہ سے زیادہ ریلیاں کراکر مرکز کی پالیسیوں کی بدولت میدان میں اترنے کا ارادہ ظاہر کرچکی ہے۔ اس کی وجہ کوئی مضبوط علاقائی چہرہ نہ ہونا بھی ہے۔ دیش کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں پچھلی تین دہائیوں سے سپا ۔ بی ایس پی کی حیثیت سے علاقائی پارٹیوں کا دبدبہ رہا ہے۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو کا نہ صرف شخصی وقار بھی داؤ پر ہے بلکہ سپا کے سیاسی مستقبل کا بھی سوال بن گیا ہے۔ کنبے کے جھگڑوں کے سبب پارٹی کی ساکھ کو دھکہ لگا ہے۔
اکھلیش کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ اکھلیش پہلے سے زیادہ طاقتور ہوکر ابھرے ہیں اور وکاس کے نام پر چناؤ لڑ کر سائیکل پر سوار ہوتے ہیں یا نہیں یہ بھی ابھی طے ہونا باقی ہے۔ جہاں تک مایاوتی کا سوال ہے بسپا پہلے کی طرح مایاوتی کے اکیلے شو پر منحصر ہے۔ پارٹی دلت۔ مسلمان فارمولے پر جیتنے کی کوشش کرے گی۔ کانگریس کے لئے بھی یہ چناؤ بیحد اہم ہے۔ ان چناؤ کے نتائج پر کانگریس کا مستقبل ہی نہیں وجود بھی ٹکا ہوا ہے۔ پارٹی کے لئے کرو یا مرو والی بات ہے۔ یوپی ، پنجاب، اتراکھنڈ، گووا اور منی پور ان سبھی جگہ کانگریس کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ حالانکہ یوپی کو چھوڑ کر باقی جگہوں پر پارٹی فی الحال ٹھیک ٹھاک پوزیشن میں ہے۔ آنے والے چناؤ میں کانگریس کو اتراکھنڈ میں اپنے قلعہ کو بچانا ہے وہیں پنجاب اور گووا میں اقتدار کی واپسی کی کوشش کرنی ہوگی۔ یوپی کیلئے بڑی چنوتی اپنے کارکردگی کو سدھارنے کی ہے۔ اس سے بھی بڑی چنوتی بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنا ہے۔ منی پور میں جہاں کانگریس کے سامنے نارتھ ایسٹ میں اپنا گڑھ بچانا ہے وہیں بی جے پی کانگریس مکت منی پور کے ٹارگیٹ سے میدان میں اترچکی ہے۔ آسام میں جیتنے کے بعد پہلی بار نارتھ ایسٹ میں اپنے دم پر سرکار بنانے کے بعد بی جے پی کو منی پور میں پہلی بار اچھے امکانات نظر آرہے ہیں۔ گووا میں بھاجپا کو اینٹی کمبینسی سے نمٹنا پڑے گا۔ پارٹی نے کسی بھی وزیر اعلی کو پروجیکٹ نہیں کیا ہے جس سے حریف پارٹیوں کو ان کے موجودہ وزیر اعلی لکشمی کانت پارسیکر کے ذریعے حملہ کرنے کا موقعہ مل گیا ہے۔ فیڈریشن کے باغیوں کی پارٹی کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ یہ پارٹی بی جے پی کو سبق سکھانے اور ہرانے کے مقصد سے ہی بنی ہے۔ عام آدمی پارٹی میں یہاں سابق افسر شاہ ایلوس گومس کو اپنا وزیر اعلی کا امیدوار بنایا ہے۔ 
گومس کو گووا میں ایماندار افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے میدان میں اترنے سے مقابلہ سہ رخی ہوگیا ہے۔ ابھی تک پنجاب کے اقتدار کے لئے اکالی ۔ بی جے پی محاذ اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہوتا رہا ہے۔ عاپ سیدھے اکالیوں کو ٹارگیٹ کررہی ہے اور کانگریس کو مقابلے سے باہر مان رہی ہے۔ عاپ اور کانگریس دونوں کے لئے یہ وجود بچانے کی لڑائی ہے۔ وہیں اکالی دل کو اپنی 10 سال کی ناراضگی سے لڑنا ہے۔ ان پانچ ریاستوں میں سب سے زیادہ اہم یوپی مانا جارہا ہے۔ اس صوبے کی دیش میں اپنی سیاسی اہمیت ہے ساتھ ہی دیش کا سب سے بڑا پردیش ہونے کے سبب یہ بہت حد تک مستقبل کی بنیاد بھی بتائے گا۔ بڑی ریاست ہونے کی وجہ سے اترپردیش کا چناؤ سات مرحلوں میں ہوگا اس وجہ سے چناؤ کا عمل دو مہینے سے بھی زیادہ لمبا ہوجائے گا۔ اس درمیان 26 جنوری ،بسنت پنچمی جیسے تہوار بھی آئیں گے۔ ساتھ ہی مرکزی بجٹ (عام)؟ بھی پیش ہوگا اور جب تک چناؤ کے نتیجے آئیں گے ہولی کی مستی دروازے پر دستک دے رہی ہوگی۔ چناؤ کمیشن کے سامنے سپریم کورٹ کے اس حکم کو بھی عمل میں لانے کی چنوتی ہوگی جس میں مذہب ،نسل، زبان اور ذات کے چناوی استعمال پر روک لگی ہے۔
(انل نریندر)

06 جنوری 2017

کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو مانیں گی سیاسی پارٹیاں

سپریم کورٹ کے 7ججوں کی آئینی بنچ نے اکثریت سے جو فیصلہ دیا ہے کہ مذہب، نسل اور ذات ، فرقہ اور زبان کی بنیاد پر ووٹ مانگنا یا چناوی عمل کو متاثر کرنا و عوامی رائے دہندگان قانون کے نکات کے تحت کرپٹ طریقہ مانا جائے گا۔ یقینی طور پر ایک تاریخی اور دور رس فیصلہ ہے۔ بیشک ایسے فیصلے آنے میں 21 سال لگے لیکن لائق خیرمقدم اور لائق تحسین ہے۔ اگر عدالت عظمی کے اس فیصلے کو چناؤ کمیشن موثر ڈھنگ سے نافذ کرنے میں کامیاب ہوجائے تو دیش کی چناوی سیاست کے شدھی کرن کی سمت میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے اس کا درپردہ ثبوت کیا ہے؟ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے۔ چناؤ کمیشن کے پاس یہ سنہرہ موقعہ ہے سپریم کورٹ کے حکم کو سختی سے نافذ کرنے کیلئے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ گائڈ لائنس کی طرح کام کرے گا یا پھر رسماّ میں اسے قانونی طور پر نافذ کیا جاسکے گا؟ بیشک یہ اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ نے یہ صاف کردیا کہ ذات، مذہب، فرقہ، زبان کے نام پر ووٹ مانگنے کو کرپٹ چناوی طور طریقہ مانا جائے گا۔ قاعدے سے تو ایسی وضاحت کی ضرورت نہیں پڑنی چاہئے تھی کیونکہ سبھی کو پتہ ہے کہ ذات، مذہب یا زبان اور فرقے کے نام پر ووٹ مانگنا ایک طرح سے ایک طبقے کے خلاف کھڑا کرنا ہے۔ ایسی حرکت سماج کو بانٹنے والی سیاست کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ حالانکہ عوامی رائے دہندگان قانون کے تحت کوئی امیدوار اس طرح سے کسی کو ووٹ دینے کیلئے نہیں کہہ سکتا لیکن سپریم کورٹ کو نیا فیصلہ اس لئے دینا پڑا کیونکہ اسے لیکر غلط فہمی تھی کہ کس کے مذہب ،ذات ، فرقہ یا زبان وغیرہ کا تذکرہ ممنوعہ مانا جائے۔ امیدوار کو یا پھر اس کے حریف کے علاوہ ووٹروں کو؟ اب یہ صاف ہوگیا ہے کہ امیدوار اور اس کے حریف امیدوار کے علاوہ ووٹر کے بھی مذہب وغیرہ کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دیش کو چناوی سیاست میں نفرت کی گلیوں سے نکال کر اتحاد اور سیکولرازم کی آئینی راہ پر لانے والا قدم ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے نیتا اپنی اپنی ذات یا کانفرنسیں بلاتے ہیں جو اپنے امیدواروں کے حق میں ووٹ کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے بھی دلتوں کو پچھڑا اور محروم اور متاثر بتا کر اپنا پروپگنڈہ کرتی ہیں۔ سوال ہے کہ دلت لفظ ذات پر مبنی ہے یا نہیں؟ اس کی تشریح کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اسی طرح ریزرویشن آئینی سہولت ہے، باوجود اس کے اس کے خلاف مخصوص برادریوں کی تحریکیں چلتی رہتی ہیں۔ عزت مآب جج صاحبان نے یہ فیصلہ دیتے ہوئے رابندر ناتھ ٹیگور کے اس نیشنل الزم کا حوالہ دیاجو تمام گمراہیوں سے نکل کر عالمی انسانیت کی وسیع دہلیز کی طرف لے جاتا ہے۔اس فیصلے پر گہرائی سے غور و خوض کر کے اس کو لاگو کیا جائے۔
(انل نریندر)

بی سی سی آئی پر چلا سپریم کورٹ کا ڈنڈا

سپریم کورٹ نے آخرکار دنیا کے سب سے امیر کرکٹ ادارے بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی ) کو لوڈھا کمیٹی کی رپورٹ نہ ماننے اور اس کو مسلسل نظرانداز کرنے پر سخت سزا دی ہے۔ بی سی سی آئی کے اڑیل رویہ کے سبب اس کے خلاف تلخ تیور اپناتے ہوئے چیئرمین انوراگ ٹھاکراور سکریٹری اجے شرکے کوعہدے سے برخاست کرتے ہوئے انہیں سبق سکھا دیا ہے۔ عدالت عظمی نے ان کے بورڈ سے وابستہ سبھی اختیارات کو بھی واپس لینے کا فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ نہ تو کسی کی جاگیر ہے اور نہ ہی کسی کی نجی وراثت۔ لوڈھا کمیٹی کی سفارشوں کی تعمیل میں رکاوٹ ڈالنے اور جھوٹا حلف نامہ دینے کے معاملے میں انوراگ ٹھاکر کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے اور پوچھا کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلایا جائے؟ انوراگ کو اس معاملے میں اگلی سماعت 19 جنوری کو عدالت میں پیش ہوکر جواب داخل کرنا ہے۔ اگر وہ اس معاملے میں معافی نہیں مانگتے تو انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ عدالت کو اس فیصلے تک پہنچنے کی ضرورت کیوں پڑی اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کروڑوں ہندوستانیوں کا پسندیدہ کھیل کرکٹ کس قدر سٹہ بازی اور کرپشن کے سبب تنازعوں میں گھر گیا تھا یہ دیش دنیا سے چھپا نہیں ہے۔ پھر ان سب میں بی سی سی آئی کوبڑے عہدیداروں و ان کے رشتے داروں کی شمولیت اور اس کے باوجود انہیں بچانے ،چھپانے کی جو کوششیں ہوئیں اسے دیکھتے ہوئے عدالت کی مداخلت لازمی تھی۔ یہ لائق خیر مقدم ہے۔ بی سی سی آئی کے اندر جو کچھ پنپ رہا تھا اس کی شناخت اور علاج کے لئے لوڈھا کمیٹی نے جو سفارشیں دی تھیں بورڈ انہیں نافذ کرنے سے بچنے کے چور دروازے تلاشتا رہا جبکہ 18 جولائی 2016ء کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے صاف صاف کہا تھا کہ لوڈھا کمیٹی کی سفارشیں پوری طرح سے لاگو کی جائیں۔ بھارتیہ کرکٹ کو سیاستدانوں کی اپنی خواہشات کا کھیل ہونے سے بچانے کے لحاظ سے بھی یہ ایک ضروری فیصلہ ہے۔ غور طلب ہے کہ عدالت نے پچھلے سال 18 جولائی کو دئے اپنے فیصلے میں کرکٹ کنٹرول بورڈ نے وزرا ،ایڈمنسٹریٹو افسران اور 70 سال سے زیادہ عمر والے لوگوں کے عہدیدار بننے پر روک لگا دی تھی۔ بی سی سی آئی لگاتار یہ کہتا رہا ہے کہ لوڈھا سمیتی کی کچھ سفارشیں ٹھیک نہیں ہونے کی وجہ سے وہ لاگو نہیں کی جاسکتیں لیکن اس نے کبھی بھی سفارشیں لاگو کرنے کے معاملے میں تعاون کرنے والا رویہ بھی نہیں اپنایا ہے۔ اگر بی سی سی آئی نے اس معاملے میں اڑیل رخ نہیں اپنایا ہوتا تو شاید عدالت سے اس ایک راجیہ ، ایک ووٹ ، ایک رائے جیسی کچھ سفارشوں پر چھوٹ بھی مل سکتی تھی۔ ابھی بی سی سی آئی ہی نہیں تمام کرکٹ ایسوسی ایشنوں میں یہ سفارشیں لاگو ہونا باقی ہیں اس لئے ابھی تمام وکٹ گر سکتے ہیں۔ لوڈھا کمیٹی نے جو سفارشیں دیں ہیں اسے دیش میں صاف ستھرے کھیل کا ماحول کے پس منظر میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ سمیت دیش کے تمام کھیل فیڈریشنوں میں چند سیاستدانوں و حکام کی بالادستی رہی ہے اور یہ دیش میں کھیل دنیا کی درگتی کی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ آخر کچھ ہی دن پہلے ہم نے دیکھا کہ کس طرح انڈین اولمپک ایسوسی ایشن نے سریش کلماڑی کو باکسن فیڈریشن نے اجے چوٹالہ کو اپنا تاحیات چیئرمین چن لیا تھا؟ دیش آج کرپشن کے خلاف ایک فیصلہ کن لڑائی کے موڈ میں دکھائی دے رہا ہے۔ بلیک منی کے خلاف نوٹ بندی کے سرکاری قدم کا جس وسیع پیمانے پر لوگوں نے ساتھ دیا وہ بتاتا ہے کہ وہ اس سے نجات پانے کا درد سہنے کو تیار ہیں۔ بہتر کو اب یہی ہوگا کہ ایڈمنسٹریٹر کی تقرری کی بعد وہ سفارشیں نافذ کراکر جلدسے جلد نئے چناؤ کے ذریعے عہدیداران کو ذمہ داری سونپی جائے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کرکٹ کے اس مشکل دور میں کہیں کھیل کا نقصان نہ ہو۔ اس قدم سے بی سی سی آئی میں صاف ستھرا پن آنا لازمی ہے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اصلاح صرف بی سی سی آئی میں ہی کیوں؟ اس دائرے میں تمام ایسوسی ایشنوں کا بھی آنا اتنا ہی ضروری ہے۔ مستقبل میں اگر ایسا ہو سکا تو ہندوستانی کھیلوں کی شکل اور مستقبل میں بہتری آئے گی۔
(انل نریندر)

05 جنوری 2017

کیا پریورتن ریلی سے یوپی میں بھاجپا کا بنواس ختم ہوگا

وزیر اعظم پیر کو اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے امبیڈکر میدان میں پریورتن ریلی ہوئی اس میں آئی بھیڑ نے صوبے کی سیاست کو اور گرما دیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے کنبے میں رسہ کشی سے ماحول پہلے سے ہی گرمایا ہوا تھا۔ وزیر اعظم کی ریلی نے اسے اور گرما دیا ہے۔ ریلی میں زبردست بھیڑ تھی۔ خود وزیر اعظم پریورتن ریلی میں آئے ہجوم کو دیکھ کر گد گد ہوگئے۔ انہوں نے کہا اپنی سیاسی زندگی میں دیش میں تمام ریلیوں کو خطاب کر چکا ہوں لیکن آج زندگی کی سب سے بڑی ریلی کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ ٹوئٹر کے ذریعے انہیں 10 بجے سے ہی ریلی میں بڑی تعداد میں بھیڑ آنے کی اطلاع دہلی میں ملنے لگی تھی۔ رمابائی امبیڈکر پارک کو بھرنا آسان کام نہیں ہے۔ پیر کو وزیر اعظم کی ریلی میں 5 لاکھ سے اوپر لوگوں کا آنا بھی اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ نوٹ بندی کے بعد یہ سب سے کامیاب ریلی تھی۔ کیا نوٹ بندی سے آئی دقتوں کو لوگ بھول گئے؟ یا پھر وہ سپا بسپا کی حکومتوں سے تنگ آچکے ہیں اور اقتدار میں تبدیلی چاہتے ہیں؟ اس ریلی کے بعد بھاجپا میں جوش بھرا ہوا ہے۔ دیش کی سب سے بڑی آبادی والے راجیہ اترپردیش میں بھاجپا کو سہ رخی مقابلے کے بجائے اب ریاست کی حکمراں پارٹی سماجوادی پارٹی کے ساتھ سیدھا مقابلہ ہونے کے آثار لگ رہے ہیں۔ اب جبکہ چناؤ کمیشن نے 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کردیا ہے۔ بھاجپا میں خود اعتمادی کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ پارٹی جہاں اپنے آپ میں ریاست میں چاق چوبند ہو چکی تنظیم ہے وہیں باہمی مقابلے کی دوسری بڑی وجہ بسپا کا کھسکتا مینڈیٹ ہے۔ پارٹی کے ایک اعلی نیتا کی مانیں تو بہوجن سماج پارٹی ایک آئیڈیا لوجی تحریک کی اوپج تھی جو کانشی رام کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔ رہی سہی کسر دلت ووٹ بٹنے سے پوری ہوگئی۔ ان کے ماننے والوں نے کانشی رام کی محنت کو تو 10 سال تک بھنایا لیکن مایاوتی نے اسے آگے بڑھانے کے لئے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی۔ اس کے چلتے 2014ء کے عام چناؤ میں ریاست میں وہ اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی۔ ریاست کی 403 اسمبلی سیٹوں میں سے صرف10 فیصدی سیٹیں ایسی ہیں جہاں سپا۔بسپا کا سیدھا مقابلہ ہونا ہے اور 41 سے 42 سیٹیں ایسی ہیں جہاں بھاجپا لڑائی میں نہیں ہے۔ باقی تقریباً 360 سیٹوں پر بھاجپا اہم مقابلے میں ہے اور ان 360 سیٹوں پر اس کی سیاسی حریف یا تو سماجوادی پارٹی ہے یا پھر بسپا یا کانگریس۔ سپا سے یوپی کے چناؤ دنگل میں خود کو اس لئے تھوڑا اوپر رکھ رہی ہے کیونکہ سپا کے پانچ سال کے کام کاج کے چلتے لوگوں میں کافی ناراضگی اور غصہ ہے۔وزیر اعظم نریند ر مودی نے پیر کو اس ریلی میں ایک تیر سے کئی حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کو نشانے پر لیتے ہوئے یوپی کی تقدیر بدلنے کے لئے ووٹروں سے اسمبلی چناؤ میں حمایت کی اپیل کی تو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کو یاد کرکے لکھنؤ سے سیدھے وابستہ ہونے کی بھی کوشش کی ہے۔ کلیان سنگھ، رام پرکاش گپت اور راجناتھ سنگھ کے عہد کی یاد دلاکر یہ ثابت کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہے کہ غیر بھاجپا پارٹیوں کی سرکاروں میں یوپی وکاس کی دوڑ میں پیچھے چھوٹ گیا۔ صوبے میں بھرپور اکثریت کی سرکار بنانے کا بگل بجاتے ہوئے مودی یہ کہنے سے نہیں چوکے کہ پریورتن آدھا ادھورا نہیں ہونا چاہئے۔ مودی نے دعوی کیا اس بار پردیش میں وکاس کے 14 سال کا بنواس ختم ہوگا۔ 14 سال پہلے پردیش کی عوام نے بھاجپا کو یوپی کی سیوا کرنے کا موقعہ دیا تھا۔ بولے یوپی کی تقدیر بدلنے کے لئے صوبے کے لوگوں کو اپنے پرائے، ذات پات سے اوپر اٹھ کر ووٹ کرنا ہوگا۔ دیکھیں کہ چناؤ اعلان سے ٹھیک پہلے ہوئی اس پریورتن ریلی کا یوپی اسمبلی چناؤ پر کیا اثر پڑے گا؟
(انل نریندر)

این پی اے پر کنٹرول معاشی نظام کیلئے انتہائی ضروری ہے

جنتا میں نوٹ بندی کی غیر مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ کچھ کرپٹ بینکوں اور ان کے حکم کا رول رہا ہے۔ کچھ بینکوں کے کرپٹ حکام نے ذاتی فائدے کے لالچ میں نوٹ بندی پر ہی سوالیہ نشان لگوادیا۔ اگر مودی سرکار اپنی اقتصادی اسکیموں کی کامیابی چاہتی ہے تو بینکوں پر کنٹرول کرنا، نگرانی کرنا و سختی کرنا انتہائی ضروری ہے۔ پرانے پھنسے قرض کے بحران سے مقابلہ کرنا سب سے بڑا مسئلہ یا چنوتی ہے۔ بینکوں کے قرض میں پھنسی رقم این پی اے کی ہے۔ دیش کے پبلک سیکٹر کے 27 بینکوں میں سے14 بینکوں نے پچھلے سال کل 34442 کروڑ روپئے کا خسارہ اٹھایا ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران حالات میں زیادہ بہتری نہیں دکھائی دیتی ہے۔ سرکاری بینکوں کے قرض میں پھنسی رقم یعنی این پی اے میں ستمبر 2016 ء کو ختم ہوئی سہ ماہی کے دوران 80 ہزار کروڑ روپئے کے قرض میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ان بینکوں کا جی ڈی پی ، این پی اے ستمبر کے آخر تک 630323 کروڑ روپئے تک پہنچ گیا ہے۔ جون کے آخر میں یہ 550346 کروڑ روپئے پار کر گیا تھا۔ نوٹ بندی کے بعد این پی اے بڑھنے کا امکان ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے ایک کروڑ روپئے تک کہ رہائشی، کار اور ذراعت اور دوسری قرضوں کی قسط واپسی میں 60 دن کا مزید وقت دیا ہے۔ حالانکہ چوتھی سہ ماہی تک اس میں اضافہ کا رخ رہ سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے کہا ہے کہ بینکوں کے لئے اپنی پھنسی املاک کو گھٹانے کی فوری ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہونے پر وہ ہندوستانی معیشت پر بوجھ بن جائیں گے۔ مالیات کے بارے میں سینئر کانگریسی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ویرپا موئلی کی سربراہی والی قائمہ کمیٹی نے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پبلک سیکٹر کے بینکوں کا این پی اے (وصول نہیں ہورہا ہے) کا اشو ناسور بنا ہوا ہے۔ اور یہ بینکوں کے وجود کے لئے ایک بڑی چنوتی ہے۔ دیش کے بینکوں کے 9 ہزار کروڑ روپے لیکر فرار چل رہے وجے مالیا سرخیوں میں ہیں لیکن بینکوں کے پیسے نہیں چوکانے والوں کی فہرست کافی لمبی ہے۔ دیش میں 18176 لوگ ؍ کمپنیاں ایسی ہیں جو ڈیفالٹر ہیں۔ ان سب کا بھارتیہ بینکوں کا دو لاکھ سے اوپر بقایا ہے۔ سبھی 25 لاکھ اور ایک کروڑ سے زیادہ والے بقایا دار ہیں۔ بینکوں سے بھاری بھرکم رقم لیکر واپس نہ کرنے والوں پرکوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ لوک سبھا میں دی گئی جانکاری کے مطابق ستمبر 2015 ء تک 25 لاکھ اور اس سے زیادہ پیسے نہ چکانے والے 1624 بقایا داروں پر ہی ایف آئی آر درج کی گئی ہے جبکہ ان کی تعداد 7265 ہے یعنی قریب 25 فیصدی لوگوں پر ایف آئی آر درج ہوئی ہے جبکہ تین چوتھائی بچ گئے ہیں۔ ان کے پاس بینکوں کے 64434 روپئے بقایا ہیں۔ سرکار نے اعتراف کیا ہے کہ سرکاری بینکوں نے اپریل 2013ء سے جون 2016ء کے درمیان 1.54 لاکھ کروڑ روپئے کے قرض کو بٹے کھاتے میں ڈالا ہے۔ اگر ان بینکوں کی صحت میں بہتری نہیں ہوئی تو دیش شاید ہی ترقی کر سکے۔ مودی سرکار کے لئے یہ چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

04 جنوری 2017

استنبول میں نئے سال کے جشن میں آتنکی حملہ

ترکی کے شہر استنبول میں واقع ایک نائٹ کلب میں نئے سال کا جشن منا رہے 600 لوگوں پر دہشت گردوں نے اندھادھند فائرننگ کردی۔اس واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں نے ترکی کو اپنی گرفت میں کتنا لے رکھا ہے۔ حال ہی میں (19 دسمبر ) کو روسی سفیر آندرے کارلوف کو شارے عام گولیوں سے ایک دہشت گرد نے بھون دیا تھا۔ اس سے دو دن پہلے (17 دسمبر) کو فوجیوں کو لے جارہی ایک بس پر آتنکی حملے میں 14 فوجی مارے گئے تھے۔10 دسمبر کو ایک فٹبال میچ کے بعد ہوئے دوہرے بم دھماکے میں 44 لوگ مارے گئے اور 166 زخمی ہوئے ۔ جس میں زیادہ تر پولیس افسر تھے اس کو ملا کر پچھلے ایک سال میں کم سے کم 12 آتنکی حملے ہوئے ہیں۔ نئے سال کا جشن منا رہے 600 لوگوں پر آتنکیوں نے اندھادھند گولہ باری کر غیر ملکی شہریوں سمیت 39 افراد کو مار ڈالا۔ ان میں دو ہندوستانیوں کے بھی مارے جانے کی خبر ہے۔ استنبول کے مقامی گورنر واصف شاہین کے مطابق حملہ آوروں نے (2 نے) سب سے بربریت آمیز طریقے سے بے قصور لوگوں کو نشانہ بنایا۔ کئی لوگ تو گھبراہٹ میں پانی میں کود گئے۔ ڈوگان نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ سینٹاکلاز کی ڈریس پہنے دو بندوقچیوں نے یہ حملہ کیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب نئے سال میں محض15 منٹ تھے، سے پہلے ترکی میں داخل ہوئے تھے۔ حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلے کلب کے داخلہ دروازے پر ایک پولیس ملازم اور ایک شہری کو گولیوں سے بھونا اس کے بعد اندر گھس پر بھیڑ پر تابڑ توڑ فائرننگ شروع کردی۔ ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو نے بتایا کہ حملہ کے بعد حملہ آور بھاگ گئے۔ امید ہے کہ انہیں جلد پکڑ لیا جائے گا۔ مرنے والوں میں 16 غیر ملکی شہری ہیں۔ حملہ آور سینٹا کلازکی ڈریس پہنے ہوئے بندوقچیوں کی پہچان ابھی نہیں ہو پائے۔شاہین نے بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت 1:15 بجے شروع ہوا۔ کچھ چشم دید گواہوں کے مطابق حملہ آور عربی میں بات کررہے تھے۔ نیٹو کے سکریٹری جنرل جانس اسٹولٹین برک نے یہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ استنبول میں 2017ء کی شروعات بری ہوئی ہے۔ جیسا میں نے بتایا کہ 2016ء ترکی کے لئے غیر متوقعہ طور پر خونی برس رہا جس میں سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔ ان حملوں کے لئے کرد دہشت گردوں اور جہادیوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔پچھلے سال ہی ترکی میں خونی تختہ پلٹ کی ناکام کوشش بھی ہوئی تھی۔ نئی دہلی میں وزیر خارجہ سشما سوراج نے دو ہندوستانیوں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ استنبول کے اس حملہ میں ہم نے دو ہندوستانیوں کو کھو دیا ہے۔ متاثرین کے نام ہیں عبیس رضوی، سابق راجیہ سبھا ممبر کے لڑکے اور گجرات کی خاتون خوشی شاہ شامل ہیں۔ عبیس رضوی بلڈرز کے سی ای او تھے اور وہ 2014 ء میں آئی فلم ’دی بائیگرس آف سندر بن‘ سمیت کئی فلموں کے پروڈیوسر تھے۔ وزیر اعظم نے اس حملہ میں ہوئی اموات پر اظہار غم کیا ہے۔ 2017ء کی شروعات ترکی کے لئے خوش آئین نہیں ہوئی۔
(انل نریندر)

نہ تو ان پارٹیوں کے بینک کھاتے ہیں اور نہ ہی چندے کا حساب

سبھی جانتے ہیں کہ یہ سیاسی پارٹیاں دیش میں کالہ دھن کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اگر دیش میں کالہ دھن ختم کرنا ہے تو ان پر شکنجہ کسنا انتہائی ضروری ہے۔ سینٹرل چناؤ کمیشن نے اب ایسی فرضی سیاسی پارٹیوں پر شکنجہ کسنا شروع کردیا ہے۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے کاغذوں پر چل رہیں 255 سیاسی پارٹیوں کو رجسٹریشن کی فہرست سے ہٹادیا ہے اور انکم ٹیکس محکمہ نے بھی ان پر شکنجہ کسنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ ایسی فرضی پارٹیوں کی مشکلیں بڑھنا شروع ہوگئی ہیں جن کو ابھی تک رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں کی شکل میں چندے کی رقم جیسے مالیات میں انکم ٹیکس کی چھوٹ مل رہی تھی۔ پتہ چلا ہے کہ کچھ پارٹیوں کے بانی ممبروں کے دیہانت کے بعد سے یہ بے جان پڑی ہیں تو کچھ نہ نہ تو بینک کھاتے کھلوائے اور نہ ہی چندے کا کچھ حساب کتاب رکھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے کالہ دھن کے خلاف نوٹ بندی کے فیصلے کے تحت چلائی گئی مہم کے دوران جس طرح کالے دھن کوسفید کرنے کے معاملے سامنے آئے ہیں اس میں ایسی کاغذی پارٹیوں کے ذریعے کالے دھن کو ٹھکانے لگانے کا اندیشہ جتایا جارہا تھا۔ دیش میں چناؤ اصلاحات کی کوششوں میں لگے چناؤ کمیشن نے بھی ایسے ہی اندیشے کے تحت 255 غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں کو اپنی فہرست سے ختم کردیا ہے۔چناؤ کمیشن نے رجسٹرڈ فہرست سے الگ کی گئی ان پارٹیوں کی فہرست مالی جانچ کیلئے سی بی ڈی ٹی کو کارروائی کے لئے خط کے ساتھ بھیج دیا ہے۔ سی بی ڈی ٹی کے علاوہ ابھی تک انکم ٹیکس کی چھوٹ کا فائدہ لے رہیں ایسی پارٹیوں کے پاس جمع پیسہ اور چندے کی پڑتال کرنے کے لئے محکمہ انکم ٹیکس نے بھی کمر کس لی ہے جو کالی کمائی اور چندے میں دکھائی گئی رقم کی جانچ کر کے قانونی کارروائی کرے گا۔ دیش میں 1931 سیاسی پارٹیاں ہیں جن میں دہلی میں ہی 245 سیاسی پارٹیوں کے پتے پر رجسٹرڈ ہیں۔ حیرانی کی بات ہے دہلی میں رجسٹرڈ پارٹیوں 67 پارٹیوں کا پتہ چناؤ کمیشن بھی لگانے میں لاچار رہا ہے۔ یہی نہیں 10 فیصدی پارٹیوں نے آج تک چناؤ کمیشن کو اپنی آمد و خرچ کی تفصیل نہیں دی ہے۔ ذرائع کے مطابق دہلی چناؤ کمیشن بھی اس مہم میں لگ گیا ہے اور وہ جلد ہی ایسی مشتبہ سیاسی پارٹیوں کی فہرست تیار کرکے مرکزی حکومت کو بھیجے گا۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی کا بھی کہنا ہے کہ چناؤ کمیشن میں رجسٹرڈ ہوئی سیاسی پارٹی کالے دھن کو سفیدکرنے کا ذریعہ ہوسکتی ہیں۔ زیدی کا کہنا ہے کہ 20 ہزار روپے تک کے چندہ کا اعلان نہ کرنے کی چھوٹ کی رعایت کے چلتے ان پارٹیوں کے چناؤ میں کالے دھن کا ذریعہ ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
(انل نریندر)

03 جنوری 2017

دی گریٹ سپا پریوار ناٹک کا انٹرویل

پچھلے چار ماہ سے چلا آرہا یوپی میں سماجوادی پارٹی کادی گریٹ سیاسی ڈرامہ کا ایک سین ختم ہوگیا ہے۔ یا یوں کہیں کہ اس ڈرامے کا انٹرویل ہوگیا ہے۔ بچپن میں ٹیپو کے نام سے پکارے جانے والے اکھلیش سنیچروار کو سپا کے سیاسی دنگل میں سلطان بن کر ابھرے۔ وزیر اعلی اپنی طاقت دکھانے میں کامیاب رہے۔ ان کے ذریعے بلائی گئی میٹنگ میں 200 سے زیادہ سپا ممبران اسمبلی کے پہنچنے کے ساتھ ہی ملائم سنگھ اور ان کے بھائی اور یوپی پارٹی کے پردھان شیو پال یادو بیک فٹ پر آگئے۔پارٹی سے 6 سال کے لئے نکالے گئے اکھلیش و رام گوپال یادو کو 18 گھنٹے میں ہی واپس لینے پر مجبور ہوئے ملائم۔ کیا یہ سمجھا جائے کہاب سماجوادی کنبہ کی رسہ کشی ختم ہوگئی ہے یا یہ جنگ بندی ہے؟ تقریباً ایسے ہی حالات اکتوبر میں بھی بنے تھے اور ملائم اس دوران اکھلیش کو اپنی وکاس پرش کی ساکھ سدھارنے کیلئے شیو پال یادو کو خاموش کرانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس سے ایک بار پھر سپا چناوی لڑائی کے اگلے محاذ پر آتی دکھنے لگی تھی۔ یہ قیاس بھی لگائے جا رہے تھے کہ اگر کانگریس یا باقی چھوٹی پارٹیوں سے کوئی تال میل ہوجاتا ہے تو یہ گٹھ جوڑ مضبوط ٹکردینے کی حالت میں آجائے گا۔ حالانکہ پارٹی میں حالات اب بھی ٹھیک نہیں مانے جارہے ہیں۔ اکھلیش نے بیشک212 ممبران اسمبلی کو میٹنگ میں بلا کر اپنی طاقت دکھائی۔ اسی درمیان اعظم خاں ملائم سنگھ سے ملے اور پھر اکھلیش کے پاس پہنچے۔ ممبران اسمبلی کی میٹنگ درمیان میں ہی چھوڑ کر اکھلیش اعظم خاں کے ساتھ ملائم کے گھر چلے گئے اور بعد میں شیو پال کو بھی وہاں بلا لیا گیا۔ قریب ایک گھنٹے چلی میٹنگ کے بعد شیو پال نے دونوں کی معطلی منسوخ کردی۔ بتایا جارہا ہے کہ اکھلیش سے ملاقات کے دوران ملائم جذباتی ہوگئے اور اس سے پہلے ممبران اسمبلی کی میٹنگ میں اکھلیش بھی والد کا نام لیکر جذباتی ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی چناؤ جیت کر وہ پتا جی کو تحفہ دیں گے۔ پچھلے دو تین دنوں کے واقعات میں اکھلیش اور مضبوط ہوکر ابھرے ہیں۔ ایسے میں اکھلیش خیمہ اپنی مانگوں پر اڑ گیا ہے۔ اہم مانگ ٹکٹ بٹوارے میں اکھلیش کا اہم رول اور امر سنگھ کو پارٹی سے نکالنے کی شامل ہے۔ ساتھ ہی شیو پال کے پر کترنے کی بات کہی جارہی ہے۔ اکھلیش چاہتا ہے کہ شیو پال کو پردیش پردھان کے عہدے سے ہٹا کر انہیں قومی صدر بنایا جائے اور ملائم پارٹی کے سرپرست کا رول نبھائیں۔ پچھلے چار ماہ سے چلا آرہا دی گریٹ سماجوادی ڈرامے میں ابھی انٹرویل یعنی وقفہ ہوا ہے۔ اس لئے مانتا ہوں کہ ابھی کھیل باقی ہے دوستوں۔ یہ ساری کوشش اسمبلی چناؤ جیتنے کی ہے اور جنتا کو بیوقوف بنانے کی ہے۔ سرکار اکھلیش کے ہاتھ میں ہے اور پارٹی شیو پال کے۔ سارا جھگڑا فی الحال اپنے اپنے حمایتیوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹیں دلانے کا ہے۔ سرکار اکھلیش کے ہاتھوں میں ہے۔ تمام کوششیں اکھلیش کو وکاس پروش کی شکل میں پروجیکٹ کرنے کی ہورہی ہیں۔ بیشک اکھلیش نے صوبے میں وکاس کیا لیکن کئی سیکٹر میں اس سرکار کے دیگر سیکٹروں میں کارگزاری پرسوال اٹھتے رہتے ہیں۔ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ سینکڑوں دنگے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اکھلیش کی انتظامیہ پرپکڑ نہایت کمزور ہے۔ اس اندرونی یادو پریوار میں چل رہے ڈرامے کا سب سے زیادہ فائدہ بھاجپا کو ہوگا۔ اس میں شبہ نہیں کہ جلد ہی اس ڈرامے کا انت ہوجائے گا۔ چناؤ اعلان کسی بھی دن ہوسکتا ہے۔ سماجوادی پارٹی میں جو دراڑ پڑی ہے یہ چناؤ کے وقت تک بھرجاتی ہے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ کل ملاکر اس ڈرامے سے سماجوادی پارٹی کی ساکھ بگڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)

میعاد کے آخر میں اوبامہ نے روس پر کی زبردست کارروائی

20 جنوری کو صدربراک اوبامہ امریکہ کے صدر کے عہدے سے ریٹائر ہورہے ہیں۔ انہوں نے اپنی میعاد کے آخر میں کئی فیصلے ایسے کئے ہیں جن کا دور رس اثر ہوسکتا ہے اور نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے سخت چنوتی ہوگی ان کے نتائج سے لڑنا ۔ تازہ فیصلہ امریکہ اور روس کے آپسی رشتوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اوبامہ نے روس کے 35 حکام کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ روسی سفارتخانہ بند کرنے کے علاوہ 9 اداروں پر پابندی لگائی ہے۔ صدارتی چناؤ کے دوران ’’روسی ہیں کنگ‘‘ کے جواب میں اوبامہ نے یہ قدم اٹھائے ہیں۔ اوبامہ نے روس کے خلاف کارروائی کا اعلان گزشتہ جمعرات کو ہوائی سے کیا جہاں وہ خاندان کے ساتھ چھٹیاں گزار رہے ہیں۔ دراصل معاملہ یہ ہے کہ امریکی صدراتی چناؤ کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کی امیدوار ہلیری کلنٹن پر سائبر حملے ہوئے تھے۔ امریکی حکام کا دعوی ہے کہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچانے کیلئے ایسا کیا گیا تھا۔ امریکی ایجنسیاں اس میں روسی ملوث ہونے کے کامیاب ثبوت ہونے کا دعوی کررہی ہیں۔ خود اوبامہ کہہ چکے ہیں کہ پتن کی شہ پر سائبر حملہ ہوئے۔ امریکی پولیکٹیکل ویب سائٹ اور ای میل کے اکاؤنٹس کو ہیک کر صدارتی چناؤ کو متاثر کرنے کی روسی کوششوں پر امریکہ نے ایک مفصل رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ 13 صفحات پر مبنی یہ رپورٹ داخلی سلامتی وزارت اور ایف بی آئی کے مشترکہ جائزہ پر مبنی ہے۔ یہ کسی دیش یا اس سے جڑے لوگوں کے ذریعے انجام دی گئی ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اوبامہ کی کارروائی کرنے کیلئے روسی صدر سے اسی ڈھنگ سے جوابی کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے لیکن صدر ولادیمیر پتن نے اسے مسترد کردیا۔ لیکن 20 جنوری کو صدر بننے جارہے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے پیش نظر پتن نے فی الحال امریکہ کے خلاف بدلے کی کارروائی نہ کرنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس بدلے کی کارروائی نہیں کرے گا۔ امریکی سفارتکاروں کو کسی طرح کی مشکل نہیں آنے دی جائے گی۔ ادھر ڈونلڈٹرمپ نے جمعہ کی رات ٹوئٹ کیا ہے کہ پتن کے جوابی کارروائی نہ کرنے کے فیصلے کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہمیشہ سے پتہ تھا کہ روسی صدر کافی سمجھدار ہیں۔ ٹرمپ نے چناؤ میں مبینہ طور پر مداخلت کرنے کے معاملے میں روس پر لگائی گئیں پابندیوں پر رد عمل ظاہرکرتے ہوئے دیش سے آگے بڑھنے کی اپیل کی ہے اور ان امریکی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی انہوں نے سخت نکتہ چینی کی تھی۔ 2017ء کا سال امریکہ۔ روس میں ٹکراؤ سے شروع ہوا ہے۔ دیکھیں ٹرمپ کیا کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

01 جنوری 2017

جاتے جاتے 2016 کئی رنگ دکھا گیا:2017 بہتر ثابت ہو

جاتے جاتے2016ء کا سال آخری دنوں میں اپنا رنگ دکھا گیا ہے۔ نوٹ بندی کے اعلان نے سارے دیش کو بینکوں و اے ٹی ایم کی لائنوں میں لگادیا۔سال2017ء بھی غیر یقینی حالات میں شروع ہوا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس سال بھارت کی عوام کو اس اشو پر راحت ملے گی۔ دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا اشو چھایا رہا۔ کنہیا کمار و جے این یو میں ملک دشمن سرگرمیاں اخبارات کی سرخیاں رہیں۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس آپسی جھگڑوں میں برباد ہوگیا۔ لوک سبھا کا 83 فیصد ، راجیہ سبھا کا80فیصد وقت احتجاج اور بحث میں برباد ہوا۔ تاملناڈو کی معجزاتی وزیر اعلی جے للتا کے دیہانت سے تاملناڈو غم میں ڈوب گیا۔2016ء میں ہم نے ہریانہ میں جاٹ آندولن کا تشدد آمیز روپ دیکھا۔ ایسے ہی گجرات میں پارٹی دار آندولن بھی دیکھنے کو ملا۔سال کے آخر میں اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کا گریٹ سیاسی دنگل بھی دیکھنے کو مل گیا۔ سکیورٹی فورس کے لئے 2016ء ملا جلارہا جبکہ وزارت دفاع نے کئی معاہدوں کو منظوری دے کر اس سال اپنے کھاتے میں کئی کارنامے جوڑے۔ رافیل جنگی جہازوں کا سمجھوتہ، امریکہ کے ساتھ فوجی وسائل معاہدہ،ڈیفنس خرید اور بلیک لسٹ کرنے سے متعلق نئی پالیسیاں اور ملک میں تیار نیوکلیائی اہمیت کی حامل آبدوز کو سروس میں شامل کرنا ان میں خاص ہیں۔کنٹرول لائن کے پار دہشت گردو کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فوج کے ذریعے سرجیکل اسٹرائک جہاں لمبے عرصے تک یاد رہے گی وہیں پاکستان کی پراکسی جنگ کی جوابی کارروائی نے اکیلے جموں و کشمیر میں ہی80 سکیورٹی جوان کا کھونا بھاری نقصان رہا۔ پٹھانکوٹ ایئر بیس اسٹیشن اور اڑی و نگروٹا میں فوجی کیمپوں پر دہشت گردانہ حملہ بڑا جھٹکا رہے اور ان میں کئی جانیں گئیں۔ اس سال وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس نائب صدر راہل گاندھی ،بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار سرخیوں میں رہے۔ حال ہی میں کرکٹر محمد سمیع پر سوشل میڈیا میں تنقید کی گئی کیونکہ ان کی بیوی حسین جہاں کی عریاں تصویر فیس بک پر پوسٹ ہوئی تھی جس میں وہ بغیر بازو والی گاؤن پہنے ہوئی تھیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ یقینی کریں کہ ان کی بیوی حجاب میں نظر آئیں۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر کرکٹر محمد کیف اور نغمہ نگار جاوید اختر اور ان کے لڑکے فرحان اختر اور دیگر لوگوں نے سمیع کا بچاؤ کیا۔ اسی طرح بالی ووڈ ایکٹریس کرینہ کپوراور سیف علی خان کے گھر نوزائیدہ بچے کی پیدائش اور اس کا نام ’تیمور‘ رکھنے کا معاملہ سوشل میڈیا میں خوب موضوع بحث رہا۔ 2017ء میں کئی ریاستوں کے اسمبلی چناؤ پر دیش کی نگاہ رہے گی اور اسی سال میں سب کی نظر ملک کے نئے صدارتی چناؤ پر بھی ہوگی۔ اسی سال میں عالمی طاقتوں سے رشتوں میں کئی فیصلہ کن موڑ آنے کی امید ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے حالات پر پوری طرح نظر رہے گی۔ بھارت کو اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان سے نمٹنے کیلئے کوئی دور رس کارگر پالیسی ہو ، چین سے بھی محاذ آرائی کی چنوتی ہمارے سامنے ہوگی۔ خاص طور پر دہشت گرد مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی ممنوعہ دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل کرنے کی بھارت کی کوششوں پر اڑنگا لگانے کی چین کی کوششوں سے نمٹنے کی سمت میں قدم اٹھانے ہوں گے۔ چین اور پاکستان کے درمیان گہری دوستی سے بھی بھارت میں جو تشویش ہورہی ہے اس میں روس کا لنک جڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ سال2017ء میں بھارت کے لئے روس کے موقف کو لیکر بھی ٹھوس حکمت عملی بنانی ہوگی۔ لالو۔ نتیش کی دوستی 2015 ء کے آخر میں شروع ہوئی اور دونوں نے بڑی جیت حاصل کی ،2016 ء میں کچھ دراڑ آنے کے بعد بھی یہ دوستی نہیں ٹوٹی کیا 2017ء میں بھی یہ برقرار رہے گی؟ مودی سرکار کے چوتھے بجٹ سے سب کو جادوئی امید ہے سبھی طبقے سوغات کا انتظار کررہے ہیں، ایسے میں فروری 2017 ء کا دن بہت خاص ہونے والا ہے؟ 2016ء میں سپریم کورٹ اور مرکز ی سرکار کے درمیان کئی موقعوں پر ٹکراؤ ہوا نئے سال کے پہلے ورکنگ ڈے کے دن نئے چیف جسٹس جے ایس کھیر عہدہ سنبھالیں گے۔ ان کی لیڈر شپ میں بگڑتے رشتے کدھر مڑیں گے؟ میں اپنی طرف سے روزنامہ پرتاپ، ویر ارجن اور ساندھیہ ویر ارجن کی جانب سب کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ برس سب کے لئے خوشحالی کا باعث ہو۔
(انل نریندر)

دہلی کے 21 ویں لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کا خیر مقدم ہے

دہلی کے 21 ویں لیفٹیننٹ گورنر شری انل بیجل کا خیر مقدم ہے۔ 70 سالہ بیجل تھنک ٹینک وویک آنند فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو کونسل میں تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس ادارے سے وابستہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال سمیت کئی رخصت پذیر حکام کو اہم عہدوں پر مقررکیا ہے۔ شری انل بیجل دہلی کے 21 ویں گورنر بنے ہیں۔ وہ 2006ء میں وزارت شہری ترقی میں سکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ وہ ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے ساڑھے تین سال کی میعاد پوری کرکے 22 دسمبر کو اچانک استعفیٰ دے دیا تھا۔ شری بیجل کو عہدہ سنبھالتے ہی کئی چیلنجوں سے جنگ لڑنی پڑے گی۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی زبان کا سامنا کرنے کے لئے نجیب جیسا تحمل برتنا تو ان کے لئے چنوتی ہوگی ہی ساتھ ہی جن اسباب سے نجیب جنگ نے اپنی راج گدی چھوڑی ہے ان اسباب کو تلاش کر مرکزی سرکار اور راج نواس کے درمیان توازن کی کڑی بنائے رکھنا بھی ان کے لئے ایک بڑی آزمائش ہوگی۔ ایک بڑی چنوتی شنگلو کمیٹی کی رپورٹ سامنے لانے اور اس پر کارروائی کو لیکر بھی انل بیجل کو دو چار ہونا پڑے گا۔ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی دہلی کے راج نواس میں بھی ایک نئی شروعات ہوگی۔ دہلی سرکار اور افسروں کے درمیان تال میل قائم کرنا نئے لیفٹیننٹ گورنر کے لئے بڑا چیلنج ہوگا۔ حکام سے بنے ٹکراؤ کے حالات سے سرکاری کام کاج میں بھی رکاوٹیں آرہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی اور بھاجپا کے درمیان ٹکراؤ کے حالات بنے رہے ہیں، معاملے میں عاپ لیڈر کہہ چکے ہیں کہ بھاجپا ایسے شخص کو اس عہدے پر لائے گی جو سیدھے طور پر بھاجپا سے جڑا ہو، اس غلط فہمی کو دور کرنا ہوگا۔ ویسے دہلی کے کام کاج سے انل بیجل پوری طرح سے واقف ہیں۔ وہ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے جب وائس چیئرمین ہوا کرتے تھے تو سینئر افسران کی مانیں تو بیجل نے اپنے عہد کے دوران ڈی ڈی اے میں شفافیت لانے میں کامیابی حاصل کی تھی اور جنتا کے تئیں ملازمین اور افسران کی جوابدہی طے کی تھی ۔وہ ہر معاملے کے تئیں سنجیدہ تھے۔ اپنے طریقہ کار کے لئے مقبول رہے ہیں۔ شری بیجل کو جاننے والے بتاتے ہیں کہ سمجھوتہ کرنا ان کی عادت نہیں ہے۔ قاعدے قانون کے تحت کام کرنے والے بیجل جن عہدوں پر بھی رہے ہیں وہاں انہوں نے کام کاج کے ڈھنگ میں کئی مثبت تبدیلیاں کی ہیں۔ 1969ء بیج کے آئی اے ایس افسر انل بیجل اٹل بہاری واجپئی کی سرکار میں ہوم سکریٹری بنائے گئے تھے لیکن تقرری کے تقریباً چار مہینے بعد ہی جون 2004 ء میں آئی یوپی اے حکومت نے انہیں عہدے سے ہٹا کر شہری ہوا بازی وزارت میں بھیج دیا تھا ۔ اس کے بعد بیجل کئی وزارتوں میں فرائض منصبی انجام دیتے رہے ہیں۔ اس لحاذ سے 70 سالہ انل بیجل کافی تجربہ کار ہیں۔ ہم شری بیجل کا خیر مقدم کرتے ہیں اور نئی ذمہ داری کے لئے نیک خواہشات بھی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...