Translater

23 دسمبر 2023

پاکستان میں چناو ¿ کی الٹی گنتی شروع!

لمبے طویل انتظار کے بعد آخر کار پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام چناو¿ کا پروگرام جاری کر دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔پاکستان الیکشن کمیشن نے جمع کو دیر رات چناو¿ پروگرام جاری کیا ۔اس سے کچھ گھنٹوں پہلے ہی سپریم کورٹ نے عام چناو¿ کیلئے افسروں کو الیکشن افسر کی شکل میں مقرر کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ملتوی کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو خارج کر دیا تھا ۔الیکشن کمیشن کی نوٹیفکیشن کے مطابق امیدوار ۰۲دسمبر تک اپنی نامزدگی داخل کرسکتے ہیں اور پرچہ داخل کرنے والے امیدواروں کے نام 23 دسمبر کو شائع کئے جائیں گے ان کے دستاویزوں کی جانچ 24 دسمبر سے 30 دسمبر تک کی جائے گی ۔پرچوں کو مسترد یا منظور کرنے کے الیکشن آفیسر کے پرچہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کی تاریخ 3 جنوری ہوگی۔امیدواروں کی ترمیم شدہ فہرست 11 جنوری کو جاری کی جائے گی ۔امیدواری واپس لینے کی آخری تاریخ 12 جنوری ہے ۔اور پولنگ 8فروری کو ہوگی ۔بتادیں کہ پاکستان میں نئی حد بندی کے بعد نیشنل اسمبلی میں کل 336 سیٹیں ہوں گی ۔اس سے پہلے ان کی تعداد 342 ہوا کرتی تھی ۔پاکستا ں میں صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے چناو¿ کرانے کی کاروائی کو پورا کرنے میں 54 دن کا وقت لگے گا ۔حالانکہ پہلے کی طرح پاکستان میں چناوی ماحول ٹھنڈا ہے ۔توشہ خانہ معاملے میں سابق وزیراعظم عمران خان کو اگلے پانچ سال کے لئے چناو¿ لڑنے سے نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔پچھلے کچھ مہینوں سے چناو¿ کمیشن نے پی ٹی آئی (تحریک انصاف ) کو اپنے نشانہ پر لے رکھا تھا اور منتر پارٹی چناو¿ کو متنازعہ اعلان کررد کر دیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے ملک کی چناو¿ کرانے کے لئے پارٹی کو 20 دن کا وقت دیا اور وہ بھی اس ہدایت کے ساتھ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ اپنا چناو¿ نشان ہی کیٹ بیٹ کھو دے گی ۔مانا جا رہا ہے کہ عمران خان کی پارٹی ٹوٹ چکی ہے اور شاید ہی وہ چناو¿ میں کھڑی ہو پائے ۔پاکستان کی دو پارٹیاں قانونی مورچہ پر اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہیں۔عمران خان کے علاوہ نواز شریف کو کئی معاملوں میں 2018/19 میں قصوروار قرار دیا جاچکاہے اور وہ اپنی کلین چٹ پانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔صرف حالات بدلے ہیں ۔پچھلی بار نواز شریف فوج کے خلاف کھڑے تھے اس بار نشانہ پر عمران خان ہیں ۔فوج کو پاکستانی سیاست کا اصلی ٹیم میکر ماناجاتا ہے ۔سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ عمران خان کا مستقبل دھندلا ہے جب کہ نواز شریف اگلے وزیراعظم ہو سکتے ہیں ۔اکتوبرمیں جب سے نواز شریف پاکستان لوٹے ہیں کوئی بڑی ریلی نہیں کی ہے ۔چناو¿ سے پہلے وہ اپنے سارے کیس نمٹانے میں لگے ہیں ۔چناو¿ کمیشن لگاتا ر سخت رویہ اپنا رہا ہے ۔اور کہہ رہا ہے کہ چناو¿ طے وقت پر ہی ہوں گے لیکن لگتا ہے کہ لوگوں نے بھروسہ کھو دیا ہے ہم نے پہلے کی پارلیمنٹ معطل ہونے کے 90 دنوں کے اندر چناو¿ کرائے جانے کی میعاد کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے لوگوں کو بھروسہ نہیں ہے ۔ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے اپوزیشن اور سرکار سے لوگوں کا دل ٹوٹ گیا ہے ۔ہوسکتا ہے چناو¿ قریب آتے آتے سیاسی ماحول گرم ہو جائے لیکن فی الحال پاکستان میں چناوی ماحول ٹھنڈا ہے ۔ (انل نریندر)

اپوزیشن سے آزاد پارلیمنٹ!

پیر کو اپوزیشن کے 78 ممبران پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا تھا ،منگل کو ایک بار پھر لوک سبھا سے 49 ایم پی کو معطل کر دیا گیا۔پچھلے ہفتے 14 ایم کو ملا لیں تو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں معطل ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 141 پہونچ گئی تھی ۔ان سبھی ایم پیز کو موجودہ سیشن کی باقی میعاد کے لئے معطل کیا گیا تھا۔سرکار کا کہنا ہے کہ ان ممبران پارلیمنٹ نے اپنی مانگ کی حمایت میں پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا اور کام کاج میں رخنہ ڈالا ۔ہاو¿س میں کام کاج نہ ہونے دینے کی وجہ سے ان ممبران کو معطل کیا گیا۔حالانکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مودی سرکار من مانی پر اتر آئی اور وہ بے حد اہم بلوں کو بغیر بحث کے من مانے ڈھنگ سے پاس کرانا چاہتی ہے اس لئے وہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ممبران کو نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔مودی سرکار اپوزیشن سے آزاد دیش کی بات اس لئے کرتی ہے تاکہ اپنی من مانی کر سکے ۔کانگریس نے اسے پارلیمنٹ اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے ۔اپوزیشن کا کہنا ہے سرکار اپوزیشن سے آزاد پارلیمنٹ چاہتی ہے تاکہ اہم بلوں کو من مانے طریقے سے پاس کرا سکے۔سرکار پارلیمنٹ کی حفاظت کو نظر ا نداز کر لوگوں کی توجہ بھٹکانے کا کام کررہی ہے ۔دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ سرکار تو اہم بلوں کو پاس کرنے سے روکنے کے لئے اپوزیشن کی سوچی سمجھی سازش تھی ۔اپنے اس نے کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین بے عزتی کرنے کا الزام لگایا ۔ترنمول کانگریس کے چیف اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مودی سرکار بے حد من مانہ رویہ دکھا رہی ہے اسے ایوان چلانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں رہ گیا ہے ۔سرکار ڈری ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا اگر ان کے پاس اکثریت ہے تو اپوزیشن سے کیوں ڈر رہی ہے ۔پارلیمنٹ میں ایم پیز کے نہ رہنے پر لوگوں کی آواز کون اٹھائے گا۔سرکار اس طرح کے قدم اٹھا کر جنتا و جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے ۔مودی اور امت شاہ لوگوں کو ڈرا کر جمہوریت کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔سپا سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ ڈمپل یادو کا معاملہ نظیر ہے ۔وہ تو اپنی سیٹ سے بھی ہلی نہیں تھی بلکہ وہاں کھڑی تھی لیکن انہیں بھی معطل کر دیا گیا۔بات اتنی سی ہے کہ اپوزیشن 13 دسمبر کو پارلیمنٹ پر حملے کی برسی پر پھر سے تاریخ دہرائے جانے کی طاق میں ہوئی قواعد پر سرکار سے وضاحت مانگ رہی تھی سرکار جو زبردست اکثیرت میں ہے ۔اسمبلیوں میں بھی جس کی لہر چل رہی ہے وہ پارلیمنٹ میں بات چیت کو لیکر بہت کم فکر میں دکھائی دیتی ہے اسے اپوزیشن سرکار کا ڈرانے والا برتاو¿ کہتی ہے ۔پارلیمنٹ کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی معطلی ہے ۔ایم پی کا سوال سرکار کو مانناہوتا ہے جو اقتدار و اپوزیشن کے تعاون سے ہی ممکن ہوتی ہے لیکن اکثریت کی ذمہ داری اس میں سب سے زیادہ مانی گئی ہے لیکن جس طرح سے منظم طریقے پر کثیر تعدا میں ممبران پارلیمنٹ کی معطلی ہو رہی ہے اس سے یہ ذمہ داری بھاگنا ہی نظر آتا ہے یہ دلیل محدود معنی میں ٹھیک ہو سکتی ہے کہ لوک سبھا اسپیکر نے جب کہہ دیا کہ اس کی جانچ کی جا رہی ہے تو اپوزیشن کو خاموش ہو جانا چاہیے تھا لیکن اس سے سرکار کی جوابدہی ختم نہیں ہو جاتی ۔اگر پارلیمنٹ میں وزیراعظم یا وزیر داخلہ دو لائن کا بیان دے دیتے تو سارا معاملہ ٹل سکتا تھا ۔ (انل نریندر)

21 دسمبر 2023

زبردست شکست سے کوئی سبق لے گی کانگریس!

حالیہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں تین ریاستوں میں ملی زبرست شکست سے کانگریس کچھ سبق لے گی ؟ اس شکست کے بعد کانگریس نے ذمہ داری طے کرتے ہوئے تبدیلی شروع کر دی ہے ،ایسے اشارے آنے لگے ہیں اس کا آغاز مدھیہ پردیش سے ہوا ہے ۔پارتی کے سینئر لیڈر ہار کے اہم ذمہ دار کملناتھ اور دگوجے سنگھ کے دائرے سے باہر نکلتے ہوئے تیز ترار لیڈر جیتو پٹواری کو پردیش کانگریس تنظیم کی زمہ داری سونپی گئی ہے ۔جیتو پٹواری کی گنتی پردیش کانگریس کے ان لیڈروں میں ہوتی ہے جو کمل ناتھ ،دگوجے سنگھ کسی کے خیمے میں نہیں ہے ۔وہ پارٹی کی لیڈرشپ کے بھروسہ مند ہیں اور نوجوانوں کو پارٹی کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں اس کے ساتھ وہ سبھی لیڈروں کو ساتھ لیکر چلنے میں یقین رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے پردیش کانگریس میں نسلی تبدیلی کرتے ہوئے صدر کے عہدے کے لئے جیتو پٹواری پر بھروسہ جتایا ہے ۔مدھیہ پردیش میں بھاجپا کو موہن یادو کو وزیراعلیٰ بنانے کے بعد کانگریس پر تبدیلی کا دباو¿ بڑھ گیا تھا ۔کانگریس نے تبدیلی کے ساتھ ذات برادری کے تجزیوں کا بھی خیال رکھنے کی کوشش کی ہے ۔جیتو پٹواری او بی سی برادری سے ہیں ۔وہی نیتا اپوزیشن کا عہدہ سنبھالنے والے ڈیمنگ سنگر بڑے وفادار لیڈر ہیں ۔اور ڈپٹی لیڈر ہیمنت کراکے براہمن چہرہ ہیں ۔پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے بتایا کہ کانگریس لیڈر شپ کے جس انداز میں مدھیہ پردیش میں تبدیلی کی ہے ،اس سے صاف ہے کہ پارٹی اب گروپ بندی سے باہر نکل کر نئے لوگوں کو موقع دینا چاہتی ہے ۔امید ہے کہ پارٹی راجستھان میں بھی سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت اور سینئر لیڈر سچن پائلٹ کو بھی صاف اشارہ دیتے ہوئے فیصلہ لے گی۔پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھلے ہی بھاجپا بھاری اکثریت سے تین ریاستوں میں جیت درج کرنے میں کامیاب رہی ہو لیکن انتخابات میںکل ووٹ کانگریس کو زیادہ ملے ہیں ۔ہندوستانی الیکشن کمیشن کے اعداد شمار کے مطابق کانگریس کو بھاجپا سے قریب دس لاکھ ووٹ زیادہ ملے ہیں ۔اس کے پیچھے اہم وجہ تلنگانہ میں کانگریس کو ملی شاندار جیت ہونا بھی بتایا جاتا ہے الیکن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجودہ اعداد شمار کے مطابق بھاجپا کو پانچ ریاستوں میں کل چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش،راجستھان ،تلنگانہ ،میزورم میں چار کروڑ اکیساسی لاکھ اڑسٹھ ہزار چھ سو ستاسی ووٹ ملے جبکہ کانگریس کو ان ریاستوں میں کل چار کروڑ بانوے لاکھ چوبیس ہزار ووٹ ملے ۔اس حساب سے کانگریس کو دس لاکھ پچپن ہزار تین سو تیرہ زیادہ ووٹ ملے ۔دراصل چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھاجپا کو زبرست جیت حاصل ہوئی ۔لیکن ووٹوں کا فرق زیادہ نہیں رہا لیکن تلنگانہ میں کانگریس کو زبردست جیت ملی ۔یہاں پر بھاجپا تیسرے نمبر پر رہی ۔یہی وجہ ہے کہ پانچوں ریاستوں میں ملے ووٹوں کو دیکھتے ہوئے کانگریس بھاجپا سے آگے نکل گئی ۔میزورم میں چالیس اسمبلی سیٹوں میں ایک لاکھ چھیالیس ہزار ایک سو تیرہ یعنی 20.82 فیصدی ووٹ پاکر کانگریس کو ایک سیٹ پر جیت ملی ہے ۔جبکہ بھاجپا 35 ہزار 524 یعنی 05.06 فیصدی ووٹ پاکر نمبر دو پر رہی ہے اور جیتنے میں کامیاب رہی ۔ (انل نریندر)

ناخوش سی جی آئی بولے !الزام لگانا آسان ہے!

معاملوں کو درج فہرس کو لیکر پیدا تنازعہ سے ناخوش چیف جسٹس آف انڈیا ڈی ایس چندر چور کا کہنا ہے کے الزام لگانا اور خط لکھنا بہت آسانا ہے انہوںنے صاف کیا بیماری کی وجہ سے جسٹس اے ایس بوپنا کے دستیاب نا ہونے کی وجہ سے منی لانڈرنگ کے معاملے میںعاپ لیڈر ستیندر جین کی ضمانت عرضی کو جسٹس بیلا تریویدی کی بینچ کے سامنے درجہ فہرس کیا گیا 2 سینئر بار کے ممبر دشنت دوبے ،پرشانت بھوشن نے جسٹس چندر چور کو الگ الگ خطوط لکھ کر معاملوں کو سماعت کی فہرس میں مبینہ گڑبڑی کا معاملہ اٹھایا ہے اور ان کہنا ہے کے عرضیوں کو جس بینچ کے ذریعہ سنا جانا مقرر ہے اسے پلٹ کر بھیجا جا رہا ہے اس نا گذیںتنازعہ کے سلسلہ میں چیف جسٹس نے یہ رائے زنی کی ہے انہوںنے جین کی طرف سے پیش ہوئے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کی اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جس میں دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کی ضمانت عرضی ہر جسٹس تریویدی کی بینچ کے ذریعہ کی جانے والی سماعت کو ملتوی کرنے کا درخواست کی تھی چیف جسٹس نے کہا متعلقہ جج ہی فیصلہ لیں گے اور الزام لگانا اور خط لکھنا بہت آسان ہے جسٹس اے ایس بھوپنا کے دفتر سے ایک خط آیا ہے جس میں وہ طبیت خرابی کی وجہ سے وہ عدالت نہیں آئے ہیں بھوپنا کا خد کا کہنا ہے کے وہ ان کے ذریعہ سنے گئے سبھی مقدموں کو جزوی طور پر سنا ہوا کی شکل میں نہیں چھوڑا جانا چاہئے چیف جسٹس نے کہا اس لئے جین کی ضمانت عرضی کو جسٹس تریویدی کو سونپا گیا جنہوںنے آخری بار معاملے کو سنا تھا کیوں کہ یہ انترم ضمانت کی معیاد بڑھانے کے لئے عرضی ہے میں نے سوچا کے کے میں صاف کردوں ۔ جسٹس چندر چور نے تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا بار کے ممبر کا کہنا ہے یہ عجیب ہے کے مجھے یہ خاص جج چاہئے اس لئے عدالت کے کمرے میں موجود سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا ایسے بدنیتی پر مبنی خطوں سے نپٹارے کا واہد طریقہ یہ ہے کے انہیں نظر انداز کر دیا جائے ان پر رائے زنی نہیں کی جانی چاہئے چیف جسٹس نے اس بات کی وضاحت کرنے کے لئے جسٹس بوپنا اور جسٹس بیلا تریویدی کی بیچ کے کچھ پچھلے احکامات کا ہوالہ دیا وہ چاہتے تھے کے جین کے معاملے میں اس کو تزوی طور سے سنے معاملے کو خیالی نا رکھا جائے انہوںنے کہا بار کا کوئی بھی ممبر یہ کہہ رہا ہے کے اس اہم کیس کو جسٹس سنے اور کسی دیگر جج نا سنے ایسا نہیں ہو سکتا جسٹس بوپنا کو میڈیکل چھوٹی پر جانا پڑا جین کے وکیل نے کہا کے عرضی پر جسٹس تریویدی کی بینچ کے ذریعہ مجوزہ سماعت کو ٹال دیا جانا چاہئے کیوں کہ جسٹس بوپنا جسٹس تریویدی کی بینچ نے معاملے میں کافی دلیلیں سنی تھی اب یہ معاملہ بینچ کے سامنے درجہ فہرست ہے ۔جس میں جسٹس بوپنا شامل نہ ہوں جس جسٹس کے پاس یہ معاملہ ہے وہی اس پر فیصلہ لیں گے ۔ (انل نریندر)

19 دسمبر 2023

سمہا کے وزیٹرس پاس پر ہنگامہ !

پرتاپ سمہا کون ہے جن کے پاس سے لوک سبھا میں پہنچے تھے اور رنگین دھنوا چھوڑنے والے ؟بی جے پی ایم پی پرتاپ سمہا کا نام اب بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں ہمیشہ کےلئے درج ہو گیا ہے ۔بدھوار کو پارلیمنٹ میں گھسے 2 لڑکوں سے ملے ان کے پاس پر ایم پی کے ہی دسخت تھے ایک صحافی کی شکل میں چھوٹی عمر سے ہی اپنے خیالات اور اس کے بعد سال 2014 میں میسور کوڈاگو سیٹ سے لوک سبھا چناﺅں چیت کر ایم پی بننے تک انہوںنے کئی کارنامے کئے ہیں گزشتہ 9 برسو کی ایم پی شپ میں سمہا نے نا صرف اپوزیشن بلکہ اپنی پارٹی کے لیڈروں سے بھی ٹکر لی ہے جب کے بی جے پی جےسی ڈسیپلن حامی پارٹی میں ایسا ہونا عام بات نہیں ہے مئی میں بی جے پی کے راجیہ سبھا چناﺅ ہارنے پر پرتاپ سمہا نے بی ایس یدی یورپااور باسو راج بومئی کی سرکار پر انگلی اٹھائی تھی انہوںنے کہا کے پارٹی نے کانگریس کے لیڈروں پر کرپشن کے مبینہ الزامات کی جانچ نہیں کی ان کا الزام تھا کے بی جے پی کی ریاستی حکومت نے کسی معاہدہ کے تحت کانگریس لیڈروں کے خلاف کارروائی نہیں کی بدھ کو پارلیمنٹ میں جو ہوا اس نے پارلیمنٹ کی سکورٹی پر سوال کھڑے کر دئے اب ہر ستح پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور نئے سرے سے پابندیاں لگائی جا رہی ہےں چاہے سکورٹی کا معاملہ ہو یا پھر وزیٹرس پاس کا ہو حالانکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پارلیمنٹ کی سکورٹی انتظام سوالوں کے گھےرے میں ہے ۔پارلیمنٹ میں جانے کا ویزیٹرس پاس کسی بھی ایم پی کے کوٹے کا بنانے کا قائدہ ہے اسی کا فائدہ اٹھاکر دونوں ویزیٹرس گیلری میں پہنچے تھے جہاں سے دونوں لوک سبھا ہاﺅس میں کود گئے اور گرین رنگ کے دھنوے کا استعمال کیا جانچ میں جو باتے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق لوک سبھا میں کودنے والے لڑکوں کے پاس ویزیٹرس پاس تھا جو بی جے پی ایم پی پرتاپ سنہا کے نام سے جاری کیا گیا تھا سمہا نے اس بارے میں اسپیکر سے کہا کے درندازمنورنجن ڈی کے والد اور ان کے واقف کار ہیں اس لئے اسے پاس دے دیا گیا تھا یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کے سبھی ملزم لمبے وقت سے ایم پی میں ہڑدنگ مچانے کا پلان تیار کر رہے تھے سمہا کے دفتر میں بھی یہ اعتراف کیا ہے کے ایک ملزم منورنجن ڈی کے ان کے یہاں ویزیٹرس پاس کے لئے تین مہینے سے چکر لگا رہے تھے اور پاس ویسے لمبے عرصہ سے سوالوں کے گھیرے میں رہا ہے 2001 میں پارلیمنٹ پر آتنکی حملے کے بعد جے پی سی کمیٹی نے بھی ویزیٹرس پاس کو لیکر سوال کھڑے کئے تھے کہا جا رہا تھا کے نیتا جس طرح سے اپنے لوگوں کے لئے پاس جاری کر رہے ہیں وہ خطرناک ہے ہم نے اس کو لیکر سخت قائدے بنانے کی مان کی ہے جے پی سی کی رپورٹ سامنے نہیں لائی گئی ہے لیکن اس وقت ذرائع کے حوالے سے چھپی رپورٹ کے مطابق کمیٹی 3-4 اہم سفارشیں لوک سبھا اسپیکر کو سونپ چکی ہے سوال یہ ہے کے اس پورے معاملے میں پرتاپ سمہا کی کتنی غلطی ہے یا پھر ہے معاملہ لوک سبھا سکورٹی کی کوتاہی کا زیادہ ہے ؟(انل نریندر)

کیا بھاجپا میں پیڑھی تندیلی کا دور ہے ؟

بھوپال میں بھارتی جنتا پارٹی کے دفتر میں منگل کے روز پھر ایک بار ورکر چونک گئے 11 دسمبر کو بھی وہ اس وقت بھی حیرانی میں پڑھ گئے جب مدھیہ پردیش میں پارٹی نے اپنے وزیراعلیٰ کے عہدے کے امیدوار کا اعلان کیا تھا ۔اس ایک دن پہلے بھی چھتیس گڑھ میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کو لیکر پارٹی اعلیٰ کمان میں سب کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔منگل کو راجستھان کی باری آئی کیوں کہ وہاں پر وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان ہونے والا تھا دفتر کے مہمان خانہ میں لگے ٹی وی پر راجستھان کی خبر آ رہی تھی تبھی وسندھرا راجے سندھیا نے بھجن لال شرما کے نام کا اعلان کر دیا بھوپال میں موجود لیڈر اور ورکروں نے کبھی ان کا نام تک نہیں سنا تھا ۔نیتا لوگ آپس میں سوال کر رہے تھے یہ کون ہے بھجن لال شرما ؟پہلے چھتیس گڑھ میں وشنو دیو کے ساتھ پھر مدھیہ پردیش میں موہن یادو اب راجستھان میں بھجن لال شرما کو وزیراعلیٰ بنا دیا ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے چونکانے والی سیاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اب مہارت حاصل کر لی ہے ۔غیر مقبول چہروں کو بڑے عہدوں پر ذمہ داری سونپنے کا سلسلہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہی شروع کیا ہے وہ سیاسی مبصرین کی سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ پارٹی کے اس قدم کی الگ الگ انداز سے تشریح کی جا رہی ہے سرکردہ لیڈروں کو درکنار کر پارٹی نے ان نیتاﺅ کے ہاتھوں میں ریاستوں کی کمان سونپی ہے جن کے نام کسی لسٹ میں دور دور تک نہیں تھے جو وزیراعلیٰ کی دوڑ میں بھی نہیں رہے راجستھان کو لیکر تو کمال ہی ہو گیا کیوں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے پہلی بار ممبر اسمبلی بننے والے کسی لیڈر کو وزیراعلیٰ بنا دیا جائےگا ۔راجستھان میں پہلی بار ممبر اسمبلی چنے گئے بھجن لال شرما کو وزیراعلیٰ بنا کر بھاجپا نے سارے اندازوں کو ختم کر دیا کہیں سے بھی اشارے نہیں مل رہے تھے کے وہ گدی کو لیکر چناﺅں میں اترے ہیں ۔چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں جنہیں وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے ان کے پاس بہرحال چناﺅں لڑنے کا پہلے سے لڑنے کا تجربہ رہا ہو مگر بھجن لال کے معاملے میں ساری قیاس آرائیاں ختم ہوں گئی جس طرح سے عام طور پر سیاسی پارٹیاں کام کرتی ہیں یا جیسی روایت رہی ہے اب بھاجپا خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی روایت بدلنے کی کوشش میں لگے ہیں ۔پارٹی نئے نئے تجربہ کر دہی ہے اور اس کے کئی فیصلے غیر متوقع بھی ہیں ۔جس کا خطرہ کانگریس نے کبھی نہیں مول لیا ۔وہ خطرہ مودہ ،شاہ لے رہے ہیں کانگریس ہمیشہ سے ہی پرانے لیڈروں پر داﺅ لگاتی رہی پارٹی میں نئے لیڈروں کو اپنی جگہ بنانے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے ۔مثال کے طور پر کمل ناتھ، اشوک گہلوت ،دگ وجے سنگھ مثال ہیں نئے لیڈر شپ اور نئی پیڑی کو ہمیشہ پیچھے رکھا گیا ہے اس لئے بھی جوترادتیہ سندھیہ کو کانگریس کو الوداع کہنا پڑا پچھلے 10 برسو میں بھاجپا نے پیڑی تبدیلی پر کافی زور دیا ہے اور اسی لئے راجستھان ،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں جس طرح وزیراعلیٰ اور نئے وزیراعلیٰ کے ناموں کا اعلان کیا گیا اسے اسی کڑی سے جوڑکر دیکھا جانا چاہئے ۔ایسے چہرے جن کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ہوتا یا جن کے نام ریس میں نہیں ہوتے اگر انہیں اہم ترین ذمہ داری دی جاتی ہے تو ہمیشہ کام کے لئے وہ ہمیشہ عہد مند رہتے ہیں اور انہیں رموٹ سے چلایا جا سکتا ہے اب دیکھنا ہے کے مستقبل کے سینئر لیڈروں کا اس حساب سے کیا مستقبل ہوگا ؟(انل نریندر )

16 دسمبر 2023

کیا وسندھرا ،شیوراج کو نظر انداز کرنا آسان ہوگا؟

مدھیہ پردیش ،راجستھان میں بی جے پی کی مرکزی لیڈر شپ نے جب وزیراعلیٰ عہدے کے لئے نئے چہروں کو چنا تو سوال یہ کھڑا ہوا تھا کہ پرانے چہروں کا اب کیا ہوگا؟ مدھیہ پردیش میں 18 سال سے وزیراعلیٰ رہے شیوراج سنگھ چوہان کے بجائے موہن یادو کو وزیراعلیٰ کے عہدے کے لئے چنا گیا ۔راجستھا ن میں دو بار وزیراعلیٰ رہ چکے وسندھرا راجے کے بجائے بھجن لال شرما کو چنا گیا ۔اس فیصلے کے بعد ان دونوں سینئر لیڈروں کا کیا ہوگا۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن ایڈوانی کے چنے ہوئے شیوراج اور وسندھرا کے مستقبل پر غیر یقینی بنی ہوئی ہے ۔بھاجپا کی مرکزی لیڈشپ نے فی الحال ابھی پتے نہیں کھولے ہیں کہ آخر ان دونوں سابق وزرائے اعلیٰ کے لئے کیا پلان ہے ۔64 سالہ شیوراج اور 70 سالہ وسندھرا اپنی ریاستوں میں اب بھی مقبول ہیں ۔پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں لیڈروں کو پارٹی کے اندر یا مرکزی سرکار میں موقع دیا جا سکتاہے۔ریاست کا اقتدار سنبھالنے سے پہلے شیوراج اور وسندھرا دونوں ہی مرکزی حکومت میں رہ چکے ہیں ۔پارٹی سے جڑے نیتاو¿ں کا کہنا ہے کہ 2014 میں جب بی جے پی اقتدار میں آئی تھی تو وسندھرا کو مرکز کی سیاست میں آنے کو کہا گیا تھا مگر انہوں نے اس سے انکارکر دیا تھا۔مودی شاہ جب پارٹی پر اپنی پکڑ مضبوط کررہے تھے تب وسندھرا راجستھان میں مقامی لیڈروں اور ممبران اسمبلی اور وفاداروں کے درمیان رہ کر ریاست میں بی جے پی کو سنبھال رہی تھی ۔اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج بھی راجستھان میں وسندھرا راجے بی جے پی کا سب سے بڑا چہرہ ہیں ۔حالانکہ 2018 میں اشوک گہلوت کے سامنے اقتدار کھوتی ہیں تو ا علیٰ کمان نے تبھی نئے لیڈر شپ کا آگے لانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔وزیراعلیٰ رہنے کے دوران شیوراج نے اپنا اثر تیزی سے بڑھایا ۔جوتر آدتیہ سندھیا کو کانگریس چھوڑنے ،بی جے پی میں آنے کے بعدشیوراج کی مقبولیت کم نہیں ہوئی اور عورتوں کے لئے شروع کی گئی لاڈلی بہنا اسکیم مدھیہ پردیش میں بھاجپا کی شاندار جیت کا سبب بنی ۔اب جب دونوں ریاستوں میں بھاجپا نے لیڈر شپ بدل دی ہے تو ان لیڈروں کا کیا ہوگا ۔اسے لیکر الگ الگ رائے ہے ۔ایک پارٹی کے لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ نا ممکن ہے کہ وسندھرا اور شیوراج کو کوئی کام نہ دیا جائے ۔ایک دوسرے سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ وسندھرا ،شیوراج بغیر ذمہ داری کے نہیں ہوں گے ۔ان کو کیا ذمہ داری دی جائے گی اسے یہ قبول کرتے ہیں یا نہیں یہ الگ بات ہے ۔شیوراج سنگھ چوہان عرف ماما جی نے تو صاف کر دیاہے کہ وہ مدھیہ پردیش چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے ۔کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ریاست کے چناو¿ میں اکثریت ان دونوں لیڈروں کو ہی ملی ہے ۔حال ہی میں شیوراج سنگھ چوہان نے میڈیا سے کہا تھا کہ میں پوری ایمانداری سے کہتا ہون کہ میں اپنے لئے کچھ مانگنے سے بہتر مرنا پسند کروں گا ۔شیوراج کے اس بیان سے پارتی لیڈر شپ پریشان ہو گیا ہوگا ۔اب اس کا امکان کم ہے کہ انہیں دہلی میں کوئی ذمہ داری دی جائے گی۔بی جے پی نے ریاستی حکومتوں میں جو نئے چہرے چنے وہ اے بی وی پی سے ہیں۔وسندھرا 2003 سے 2008 اور پھر 2013 سے 2018 تک راجستھا ن کی وزیراعلیٰ رہ چکی ہں اور وہ صرف ایک ممبر اسمبلی رہ گئی ہیں ۔اور اب ماما بھی اب صرف ایم ایل اے رہ گئے ہیں۔ (انل نریندر)

نئے وزرائے اعلیٰ پر چلے کئی اور داو ¿ں!

صرف عمر اور ووٹ بینک نہیں ،بھاجپا نے تین نئے وزرائے اعلیٰ سے کئی اور داو¿ں بھی چلے ہیں ۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش ،اور راجستھان میں وزرائے اعلیٰ کے انتخاب سے پہلے ماننا پڑے گا کہ اس نے سب کو چونکا دیا ہے ۔نریندر مودی امت شاہ اور جے پی نڈا کی رہنمائی میں بھاجپا پہلے بھی ایسا کرچکی ہے لیکن سوال ہے کہ آخر بھاجپا ایسا کیوں کرتی ہے ؟ اس سوال کے ساتھ ایک نہیں کئی اور جواب ہیں بھاجپا نے پھر ایم پی چھتیس گڑھ اور راجستھان میں چونکانے والے ایسے چہرے دئیے ہیں جن کے بارے میں کسی کو بھی تصور نہیں تھا اور نہ ہی ان کے ناموں کا کہیں تذکرہ تھا ۔بھاجپا درا صل ایک نہیں کئی ٹارگیٹ پر نظررکھتی ہے ۔سینئر لیڈرشپ اکثر معجزاتی طریقہ سے کام کرتی ہے ۔تین ریاستوں میں وزرائے اعلیٰ کا غیر متوقع انتخاب اس کی مثال ہے ۔چھتیس گڑھ میں ویشنو دیوسائی ،مدھیہ پردیش میں موہن یادو ،راجستھان میں بھجن لال شرما کا انتخاب ان واضح اور حیرت انگیز فیصلوں کے پیچھے ایک پیٹرن نظرآتاہے کہ کیا کسی کوپتہ تھا کہ 2001 میں کیشو بھائی پٹیل کے ممکنہ جانشین کی شکل میں کئی ناموں کا تذکرہ چل رہا تھا ۔تو نریندر مودی جیسے ایک پوشیدہ سنگھ ورکر کو گجرات کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے گا؟ اسی طرح ہریانہ میں منوہر لال کھٹر کے انتخاب میں بھی سب کو چونکایا تھا۔چھتیس گڑھ میں سائی ،ایم پی مین یادو ،راجستھان میں شرما کو شامل کرنے کو اسی حکمت عملی کی شکل میں دیکھا جانا چاہیے ۔ان میں یادو اور شرما کو ٹرائڈ اینڈ ٹسیٹو مقبول دعویداروں جیسے کہ شیوراج سنگھ چوہان ،وسندھرا راجے کو درکنار کرکے گدی سونپی گئی ہے ۔اگر ہم شوشل انجینئرنگ کی بات کریں تو چھتیس گڑھ میں سائی ایک قبائلی ہیں اور ان کے دو ڈپٹی او بی سی اروم ساو¿ اور برہمن وجے شرما اسی فرقہ سے ہیں ۔مدھیہ پردیش میں نائب وزیراعلیٰ راجیش شکلا ،اور جگدیپ دیوڑا بھی برہمن اور درج فہرست ذاتوں کے ہیں ۔جبکہ سی ایم موہن یادو او بی سی سے ہیں ۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو پڑوسی ریاست اتر پردیش کے لئے بھی ایک اشارہ ہو سکتے ہیں جہاںزیادہ تر یادو بھاجپا کو ووٹ نہیں کرتے ۔نریندر سنگھ تومر جو ایک راجپوت ہیں وہ بھی اسمبلی اسپیکر ہوں گے ۔راجستھا ن میں شرما ایک برہمن ہیں ان کے دو ڈپٹی راجپوت اور دلت ہیں ۔حالانکہ مختلف برادریوں کے چہروں کا توازن بٹھانے کا یہ طریقہ انوکھی بات نہیں بلکہ یہ تو منڈل کی سیاست میں شروع ہونے کے بعد شوشل انجینئرنگ کا استعمال کرنے والی پارٹی میں سے ایک ہی ہے ۔حالانکہ بھاجپا کے پاس ایک مصروف طاقت ہے اس کے پاس سرکار اور پارٹی میں عہدوں کے لئے چہروں کی کمی نہیں ہے ۔زیادہ تر پارٹیوں کے پاس امکانی لیڈروں کے تین ذرائع ہوتے ہیں کور ،اندرونی ذرائع ،باہری لوگ اور افسر شاہی یا کاپریٹ سیکٹر وغیرہ ۔ماضی گزشتہ میں سیاست سے دور رہے ہوں ایسے چہرے لئے جاتے رہے ہیں ۔بھاجپا کے پاس ایک اور ذریعہ ہے وہ ہے سنگھ پریوارہے ۔موجودہ وزرائے اعلیٰ عہدوں کے لئے امکانی سینئر دعویداروں پر نظرڈالتے ہیں ۔یوپی میں گورکھپور سے پانچ بار ایم پی رہے یوگی آدتیہ ناتھ بیشک سنگھ سے نا ہوں لیکن پارٹی کیڈر اور سنکھ دونوں میں بے حد مقبول ہیں ۔آسام میں ہیمنت بسوا شرما سبھی کانگریس سے ناراض ،کھٹر دیوندر فڑنویس سنگھ سے ہیں اکثر موجودہ لوگوں کو لانے میں خطرہ رہتا ہے ۔لیکن بھاجپا اعلیٰ کمان کاصاف طور سے ماننا ہے کہ مودی کا جادو راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کسی نقصان کی بھرپائی کر دے گا۔ (انل نریندر)

14 دسمبر 2023

دھیرج ساہو پر کیا بولے گی کانگریس؟

دھیرج ساہو کون ہیں جن کے ٹھکانوں سے مل رہے 350 کروڑ روپے ۔انکم ٹکس محکمہ نے اڈیسہ ،جھارکھنڈ میں کئی جگہوں پر چھاپہ ماری کر کانگریس کے ایک نیتا کے یہاں سے تقریباً 350 کروڑ روپے نقد برآمد کئے ہیں ۔محکمہ انکم ٹیکس نے جھارکھنڈ سے کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی دھیرج ساہو کے یہاں سے رقم برآمد ہوئی ہے ۔اور ان نوٹوں کی مسلسل گنتی ہوتی رہی اور مشینیں بھی تھک گئیں نوٹ گنتے گنتے لیکن گنتے ختم ہونے کے بعد ایس بی آئی کے زونل مینیجر بھگت بہیرا نے اتوار کو بتایا کہ گنتی میں تین بینکوں کے افسران اور چالیس مشینوں کا استعمال کیا گیا ۔انکم ٹیکس محکمہ جلد ہی کمپنی کے پروموٹروں کے بیان درج کرنے کیلئے بلائے گا ۔محکمہ کا خیال ہے کہ بے حساب نقدی کا پورا ذخیرہ دیسی شراب کی نقد بکری سے اکھٹا کیا گیا ہے ۔ساہو کے رانچی سمیت دیگر دفتروں اور گھروں پر چھاپہ مارے گئے تھے ۔ذرائع نے بتایا کہ انکم ٹیکس کی کسی کاروائی میں اتنی بڑی برآمدگی ہے ۔2019 میں کانپور کے عطر کاروباری سے 257 کروڑ روپے کی نقدی پکڑی گئی تھی ۔جولائی 2018 میں تملناڈو اور نرمان دھن سے 163 کروڑ روپے کی نقدی پکڑی گئی تھی اور نقدی کو مختلف بینکوں میں جمع کرانے کیلئے قریب 200 بیگ اور سوٹ کیس کا استعمال کیا گیا ۔176 بیگوں میں برآمد رقم میں زیادہ تر 500 کے نوٹ ہیں ۔2 ہزار روپے کا نوٹ بند ہونے کے بعد 500 روپے کے نوٹ کا چلن سب سے بڑا ہے ۔راجیہ سبھا کی ویب سائٹ کے مطابق 23 نومبر 1955 کو رانچی میں پیدا ہوئے دھیرج ساہو کے والد کا نام رائے صاحب ولدیب ساہو ہے ۔وہ 2009 میں راجیہ سبھا کے ایم پی بنے تھے اور جولائی 2010 میں راجیہ سبھا کے لئے چنے گئے ۔تیسری مرتبہ مئی 2018 میں پھر راجیہ سبھا کیلئے چنے گئے ۔1977 میں دھیرج ساہو نے سیاست میں قدم رکھا تھا اور وہ لوہار باغ ضلع کے یوتھ کانگریس میں شامل ہوئے ۔اتنی کیس کی برآمدگی پر جنتا میں ناراضگی پیدا ہونا فطری ہے اسے دیکھ کر لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ گاندھی پریوار اور اپنے ایم پی دھیرج ساہو پر کیا کہنا چاہے گی ۔اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان پر پارٹی کیا کاروائی کرتی ہے ؟ راہل گاندھی دن رات کرپشن کو ختم کرنے اور اس سے لڑنے کی بات کرتے ہیں اور یہاں تو ان کا اپنا ہی ایم پی اس کرپشن میں بری طرح ملوث ہے ۔اب راہل گاندھی کیا کہیں گے اس پر بھاجپا کا جارحانہ ہونا فطری ہے ۔بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ ہمارا شروع سے ہی خیال ہے کانگریس اور کرپشن اور جرائم کیلئے مانی جاتی ہے ۔یہ کانگریس کی ریتی رواج ہے جس پر کام کرتی ہے ۔آج راہل گاندھی سے بی جے پی پوچھنا چاہتی ہے کہ اس پر ان کا کیا کہنا ہے سونیا گاندھی ،ای ڈی ،انکم ٹیکس پر طنز کرتی رہی ہیں ۔اب وہ دھیرج ساہو پر کیا کہیں گی۔بی جے پی اس موقع کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہے اور سبھی سطح پر مظاہرہ کررہی ہے اور کانگریس پر نشانہ لگا رہی ہے ۔ (انل نریندر)

مایاوتی نے دانش علی کو کیوں نکالا؟

بہوج سماج وادی پارٹی چیف مایاوتی نے ممبر پارلیمنٹ دانش علی کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے ۔دانش علی امروہہ سے ایم پی ہیں لیکن ان کا سیاسی سفر کرناٹک جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس )سے شروع ہوا تھا۔وہ سابق وزیراعظم ایچ دیوے گوڑا کے کافی قریبی تھے ۔بسپا نے 2018 میں جے ڈی ایس کے ساتھ کرناٹک میں اتحاد کیا تھا اس کے بعد دیوے گوڑا کے کہنے پر 2019 میں دانش کو بسپا نے امروہہ سے لوک سبھا کا ٹکٹ دیا تھا اور وہ جیت بھی گئے تھے لیکن وہ سرخیوں میں اس وقت آئے جب بھاجپا ایم پی رمیش بدھوڑی نے لوک سبھا میں ان کے بارے میں غلط باتیں کہیں اس کے فوراً بعد کانگریس نیتا راہل گاندھی ان کے گھر پہونچ گئے ۔دانش نے بھی راہل گاندھی کی کھل کر تعریف کی تھی ان کے علاوہ کئی پارٹیوں کے لیڈروںنے بھی ان کے تئیں ہمدردی ظاہر کی تھی ۔بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے بھی ان کی ملاقات سرخیوں میں رہی ۔کانگریس کے یوپی صدر بننے کے بعد اجے رائے نے بھی دانش علی سے ملاقات کی اور حمدردی ظاہر کی تھی ۔اب ترنمول کانگریس ایم پی مہوا موئترا کی حمایت میں دانش علی کا بیان بھی سرخیوں میں آگیا ۔انہوںنے ایتھکس کمیٹی کی رپورٹ پر اعتراض جتایا اور کہا اکثریت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا جائے ۔موجودہ لوک سبھا کے سیشن میں وہ کانگریس کے لیڈروں کے ساتھ دکھائی دئیے ۔ایسے ہی کئی وجوہات ہیں جو ان کے بسپا سے اخراج کا سبب بنیں ۔اور ایم پی تلاش رہے اور دیگر بھی تنقید کے دائرے میں رہے لیکن بات صرف دانش تک محدود نہیں ہے ۔بسپا کے کئی ایم پی 2024 کے لوک سبھا چناو¿ سے پہلے نیا ٹھکانہ تلاش رہے ہیں حال ہی مین سہارنپور سے ایم پی حاجی فضل الرحمان کی جگہ بسپا نے وہاں سے ماجد علی کو لوک سبھا حلقہ کا انچارج بنا دیا ۔مانا جارہا ہے ان کا ٹکٹ بھی کٹ سکتا ہے ۔بسپا نے ایم پی کنور دانش علی کو پارٹی سے چھ سال کیلئے معطل کرنے سے متعلق ایک خط جاری کر اس کی وجہ بتائی ہے ۔بسپا نے خط میں کہا ہے کہ امروہہ سے ایم پی دانش علی کو کئی بار زبانی طور سے اور اعلیٰ کمان نے پارٹی کی پالیسیوں اور آئیڈیا لوجی اورسرگرمیوں کے خلاف جا کر بیان بازی نہ کرنے کی نصیحت دی تھی لیکن انہوں نے نظر انداز کر دیا ۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2018 تک دانش علی کرناٹک جنتا دل کے بانی ایس ڈی دیوی گوڑا کے ساتھ مل کر کام کررہے تھے اور ان کے کہنے پر ہی دانش علی کو بہوجن سماج پارٹی نے 2019 میں امروہہ سے ٹکٹ دے کر لوک سبھا کا چناو¿ جتوایا تھا لیکن دانش علی مسلسل پارٹی کے احکامات کی عدولی کر پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ۔کیا بسپا ہو یا سپا یا کانگریس میں جائیں گے ؟ کنور دانش علی بسپا سے نکالے جانے کے بعد کانگریس یا سپا کا دامن تھام سکتے ہیں ۔مسلم اکثریتی علاقہ میں دانش علی کی مضبوط پکڑ مانی جاتی ہے ۔امروہہ میں قریب 30 فیصدی آبادی مسلم ہے ۔سوال ہے کہ کیا عمران مسعود کی طرح وہ بھی کانگریس میں جائیں گے یا بی جے پی کو سب سے بڑی ٹکر دینے والی سماج وادی پارٹی کے نیتا اکھلیش یادو کا دامن تھامیں گے ؟ (انل نریندر)

12 دسمبر 2023

راہل گاندھی کو کتنا بڑا جھٹکا!

میں کانگریس کی مصیبت سمجھتا ہوں ۔برسوں سے ایک ہی فیل پروڈکٹ کو بار با ر لانچ کرتے ہیں ہر بار لانچنگ فیل ہو جاتی ہے اب اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ووٹروں کے تئیں ان کی نفرت بھی ساتویں آسمان پر پہونچ گئی ہے ۔دس اگست کو وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کی عدم اعتماد تحریک کے دوران پارلیمنٹ میں کانگریس کے نیتا راہل گاندھی کو لیکر یہ بات کہی تھی ۔دراصل ایسا اس لئے کہا جاتا رہا ہے کیوں کہ راہل گاندھی کے کانگریس صدر رہتے ہوئے پارٹی 2019 کے لوک سبھا چناو¿ میں کوئی خاص کمال نہیں دکھا پائی ۔اس کے علاوہ کئی ریاستوں میں ہوئے چناو¿ میں یا تو کانگریس سرکار جاتی رہی یا اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کوئی خاص کمال نہیں دکھاپائی ۔اس فہرست میں شمالی ہندوستان کی کئی ریاستیں ہیں جہاں حال ہی میں ہوئے اسمبلی چناو¿ اور کانگریس سے کچھ کرشمہ کی امید کی جارہی تھی لیکن راہل گاندھی کی چناوی کمپین اور فیور میں ہوا ہونے کے باوجود کانگریس کی ڈپلومیسی ناکام ہوئی ۔کانگریس پارٹی میں اب راہل گاندھی پارٹی صدر نہیں ہیں لیکن پارٹی تو گاندھی پریوار کے ارد گرد گھومتی رہی ہے ۔راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس اپنی سرکاریں گنوا چکی ہے ۔اور مدھیہ پردیش میں بھی اسے بی جے پی نے بری طرح ہرا دیا ہے ۔وہیں میزورم میں اسے صرف ایک شیٹ ملی ہے ۔حالانکہ تلنگانہ میں اس نے تاریخ رقم کرتے ہوئے بی آر ایس کو ہرا دیا ہے ۔تو اب سوال اٹھتا ہے کہ پانچ اسمبلی چناو¿ میں سے چار میں ملی ہار کیا گاندھی خاندان یا کہیں کہ راہل گاندھی کی ہار ہے ؟ راجستھان ،مدھیہ پردیش،چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں بی جے پی کے چناو¿ کی بات کریں تو اس میں وزیراعظم نریندر مودی آگے تھے جبکہ ریاست کے لیڈر اور دوسرے مرکزی لیڈر پیچھے تھے۔وہیں کانگریس کے چنا و¿ کمپین کی بات کریں تو اس میں ریاست کے مقامی لیڈر آگے تھے ۔اور راہل گاندھی بیک شیٹ پر تھے انہوںنے راجستھان میں تھوڑا کم پرچار کیا لیکن تلنگانہ میں پورا زور لگایا ۔مدھیہ پردیش ،راجستھان اور چھتیس گڑھ میں ساری کمپین کا انتظام کمل ناتھ ،اشوک گہلوت اور بگھیل پر چھوڑ دیا تھا ۔اس طرح دیکھا جائے تو الگ الگ ریاستوں میں کانگریس کے الگ الگ چہرے تھے تو کیا ان ہار کیلئے راہل گاندھی کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔دوسری طرف کانگریس ہاری تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی لیڈر شپ پر لوگوں کا بھروسہ نہیں ہے اور لیڈر شپ کا مطلب ہے گاندھی پریوار ،سبھی ریاستوں میں کانگریس مقامی لیڈر چناو¿ لڑ رہے تھے ۔راہل نے پچھلے سال ستمبر میں جنوبی ہندوستان میں کنیہ کماری سے بھارت جوڑا یاترا شروع کی تھی ۔تقریباً 4ہزار کلو میٹر لمبی 137 دن کی اس یاترا میں انہوں نے ساو¿تھ سے نارتھ انڈیا کی یاترا کی تھی ۔اس یاترا کا اثر کرناٹک اور تلنگانہ میں تو نظرآیا لیکن ہندی زبان بولنے والی ریاستون میں دکھائی نہیں دیا ۔بیشک اس یاترا سے راہل کی شخصی شاکھ بدلی ہے اور لوگ ان کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ وہ ایماندار ہیں لیکن انہیں پی ایم مودی کی ٹکر نہیں مانتے ۔راہل گاندھی کے کئی اشو اڈانی ذات ،پات مردم شماری اوندھے منھ گری ۔اور راہل گاندھی کہتے ہیں کہ وہ محبت کی دوکان چلا رہے ہیں لیکن یہ دوکان مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ ،راجستھا ن میں اجڑ گئی ۔اس کے لئے ان کو ہار کے اسباب پر غور کرنا ہوگا ۔اور ہار کیلئے ذمہ دار سبھی متعلقہ لوگوں پر سخت کاروائی کرنی ہوگی ۔لیکن پارٹی کیلئے یہ بھی ضروری ہے اور اس میں راہل گاندھی کیلئے بھی ۔

گوگا میڈی کا قتل !

راجپوت کرنی سینا کے چیف سکھدیو سنگھ گوگا میڈی کے قتل کے دوپہر جے پور میں گولیا ں برسا کر کر دیا گیا تھا ۔نیائے نگر علاقے میں ان کے گھر ملنے کے بہانے آئے تین حملہ آوروں نے تاوڑ توڑ فائرنگ کی اس واردات میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا ۔سکھدیو سنگھ گوگا میڈی کو نازک حالت میں مانسور کے ایک پرائیویٹ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کو مردہ قرار دے دیا گیا۔راجپوت کرنی سینا سے وابسطہ لوگ جے پور سے لیکر وال میڑ اور دیش کے کئی حصوں میں اس قتل کیخلاف سڑکوں پر اتر آئے ۔واردات کے تین سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئے ہیں جن میں دو حملہ آور حال میں بیٹھے سکھ دیو سنگھ پر گولیاں برساتے نظر آرہے ہیں اس وقت ہوئی تبادلہ فائرنگ میں ایک حملہ آور کی بھی موت ہو گئی ۔متوفی حملہ آور کی نوین سنگھ کے طور پر شناخت ہوئی ہے ۔وہ نزاتی طور پر شاہ پور کا باشندہ ہے اور جے پور میں رہ کر کپڑے کی دوکان چلا رہا تھا ۔جے پور پولیس کمشنر وی جو جار جوظف نے بتایا کہ پوری واردات سی سی ٹی وی میں قید ہو گئی ہے ۔ہم فوٹیج کی بنیاد پر جانچ کررہے ہیں جتنے ثبوت ہمارے پاس ہیں ان کی بنیاد پر ہم جلد ہی حملہ آوروں کو گرفتار کرلیں گے ۔لیکن تازہ اطلاعات کی بنیاد پر دونوں حملہ آور چنڈی گڑھ سے گرفتار کئے گئے ہیں اور ان کو جے پور لایا گیا ۔پنجاب سے لگے ہنومان گڑھ ضلع کے سکھدیو گوگا میڑھی راجپوت سماج کے جارحانہ لیڈر کی شکل میں جانے جاتے تھے ۔سال 2017 میں فلم پدماوت کے خلاف احتجاج کے دوران دیش بھر میں سرخیوں میں چھا گئے ۔فلم پدماوت کی جے پور میں ہو رہی شوٹنگ کے دوران راجپوت کرنی سینا نے فلم کے شیٹ پر زبردست ہنگامہ اور مظاہرہ کیا تھا ۔راجپورت کرنی سینا نے فلم میں شامل کئی مناظر پر بھی اعتراض جتایا تھا ۔اس دوران فلم ڈائرکٹر سنجے لیلا بھنشالی کو تھپڑ مارنے کے واقعات کے بعد سے شکھدیو سنگھ گوگا میڑھی سرخیوں میں چھا گیا ۔راجپوت سماج کی تنظیم کرنی سینا سے وہ کئی برس تک جڑے رہے لیکن لوکیندر سنگھ کالوی کے ساتھ جھگڑوں کے چلتے انہوں نے راجپوت کرنی سینا نام کی تنظیم بنائی ۔کالوی کی موت کے بعد سے سکھدیو سنگھ گوگامیڑی راجپوت سماج کے بڑے لیڈر کی شکل میں ابھر کر سامنتے آئے تھے ۔ان پر کئی مجرمانہ مقدمے درج تھے ۔وہ سیاست میں بھی سرگرم رہے ۔دو مرتبہ بہوجن سماج پارتی کے ٹکٹ پر چناو¿ لڑا ۔حالانکہ جیت نہیں سکے ۔فلم اداکارہ کنگنا رناوت اور شیو سینا نیتا سنجے راوت کے بیچ ہوئی زبانی جنگ کے درمیان گوگامیڑی کنگنا رناوت کی حمایت میں کھڑے نظر آئے تھے۔سکھدیو سنگھ کے قتل کے معاملے میں لگاتا ر نئی نئی جانکاریاں مل رہی ہیں ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پچھلے ڈیڑھ سال میں سکھدیو سنگھ کو کئی مرتبہ جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں ۔سال بھر سے گوگا میڑھی کے مرڈر کی پلاننگ ہو رہی تھی ۔پنجاب پولیس نے اسے لیکر راجستھان پولیس کو الرٹ بھی کیا تھا ۔خود گوگا میڑھی نے کئی بار پریس کانفرنس کرکے اور پولیس کو خط لکھ کر اپنی سیکورٹی کی مانگ کی تھی ۔اس کے بعد بھی پولیس سے کوئی سیکورٹی نہیں دی گئی ۔ایسی اطلاع ہے کہ ایک بار پاکستان سے بھی جان سے مارنے کی دھمکی ملی تھی ۔اس کے بعد بھی پولیس حرکت میں نہیں آئی ۔لگاتار دھمکیوں کے باوجود گوگا میڑھی کو سیکورٹی مہیا کیوں نہیں کرائی گئی ۔اس کے لئے ذمہ دار افسران کا بھی رول طے ہونا چاہیے ۔سرکار نے ایس آئی ٹی جانچ بٹھا دی ہے کچھ لوگ اس معاملے کو لیکر گرفتار بھی ہوئے ہیں ۔جانچ ہونے پر پتہ چلے گا کہ یہ سازش کس نے رچی اور کیسے رچی گئی ۔ (انل نریندر)

09 دسمبر 2023

کڈنی (گردے )بیچنے کا ریکٹ!

ایک بار پھر ناجائز طریقہ سے کڈنی کی خرید فروخت کا معاملہ سامنے آیا ہے اور ایک بار پھر اس معاملے سے اپولو اسپتال تنازعات میں گھر گیا ہے۔حلانکہ کڈنی ٹرانس پلانٹ سسٹم کو فول پروف بنانے کے لئے سخت قانون بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ جال سازی کا سلسلہ جاری ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے غلط کاغز پیش کر جانچ کمیٹی کو چکمہ دیا جا سکتا ہے کیوں کہ غلط کاغزات کو ویری فائی کرنے کا طریقہ سبھی جگہ نہیں اپنایا جاتا اور آج کل یہ اور بھی آسان ہو گیا ہے کیوں کہ فوٹو شاپ کے ذریعہ فرضی دستاویز تیار کرنا آسان ہو گیا ہے ۔صفدرجنگ اسپتال کے کڈنی ٹرانس پلانٹ سرجن ڈاکٹر انوپ کمار کہتے ہیں کے قانون تو بہت سخت ہیں لیکن ایک جگہ جہا پر جال سزی کی جا سکتی ہے وہ ہے فرضی دستاویزارات یہ صحیح ہیں یا نہیں ویری فائی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ہم لوگ بہت سخت طریقہ اپناتے ہیں جو بھی کاغزات پیش کئے جاتے ہیں انہیں آن لائن چیک کرتے ہیں اور ان کی 2-3 مرتبہ جانچ کراتے ہیں آدھار کارڈ سے لیکر بلڈ تک کی جانچ رپورٹ چیک کرتے ہیں ۔اگر مریض ملک سے باہر کا ہے تو اسی سے پوچھتے ہیں اور کراس چیک کرتے ہیں ۔اب اگر امبیسی ہی غلط پیپر دے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔وہیں فوٹیز اسپتال شالی مار باغ کے ےورولوجی اور کڈنی ٹرانس پلانٹ ےونٹ کے ہیڈ ڈاکٹر وکاس جین نے کہا کے غلط دستاویزارات پیش کرتے ہی جھانسہ دیا جاتا ہے اگر کسی مریض کی بہنیں ڈونر ہیں تو پہلے یہ لوگ فرضی بہن کا آدھار کارڈ ووٹر کارڈ پاسپورٹ تیار کرا لیتے ہیں ۔ایچ ایل اے نمونہ ملان کی رپورٹ کی جانچ ہوتی ہے ۔اس لئے رپورٹ مریض کی اسلی بہن کی لگا دی جاتی ہے جس سے لگتا ہے کے ڈونر پہن ہی ہے ۔اب کمیٹی کے پاس کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے جسے وہ ویری فائی کرے ۔حلانکہ انہوںنے کہا کے یہاں تھرڈ پارٹی ایجنسی ہائر کی جاتی ہے اور اس کے ذریعہ ان کاغزوں کو ویری فائی کروایا جاتا ہے ۔یہ مہنگا ہے لیکن ضروری ہے ہر اسپتال یہ کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جین کاکہنا تھا ڈمانڈ اور سپلائی میں بڑا فرک ہے اگر 100 مریض ہے تو کڈنی ڈونر صرف 10% ہیں کوئی بھی سینٹر ایک ضابتے سے کہیں زیادہ ٹرانس پلانٹ کرتا ہے تو اس پر دھیان دےنا چاہئے اور جانچ ہونی چاہئے تاکہ اس طرح کی جال سازیوں پر لگام لگ سکیں بتا دیں لندن کے اخبار دا ٹیلی گراف نے اپولو اسپتال پر انٹر نیشنل کڈنی راکٹ میں شامل ہونے کا الزام لگایا ہے اس نے دعویٰ کیا ہے کے میامار کے غریب لوگوں سے کڈنی خرید کر مریضوں میں لگائی جا رہی ہے اس کا دعویٰ ہے کے اس کے رپوٹر کو میامار کے دلال نے ہیلٹھ کے ساتھ کڈنی اور انسانی عضاءکے ناجائز طور سے خریدکئے جانے کی جان کاری دی ہے فرضی کاغزات اور فوٹو وغیرہ کے ذریعہ یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کے عضاءڈونیٹ کرنے والا مریض کا رشتہ دار ہے ۔قانون کے مطابق بھارت میں عام حالات میں مریض ناواقف سے کوئی عضاءنہیں لے سکتا ہے دہلی سرکار نے پوری معاملے کی جانچ کرانے کی بات کہی ہے ۔ (انل نریندر)

کانگریس کو اپنوں نے ہی ڈبایا !

ٹھیک لوک سبھا چناﺅ سے پہلے کانگریس کو 4 میں سے 3 ریاستوں میں ہار کا منھ دیکھنا پڑا 2024 کے اہم چناﺅ سے پہلے یہ نتیجے معنٰی رکھتے ہیں ۔ہندی بیلٹ کی ریاستوں مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ اور راجستھان میں بھاجپا نے کانگریس کو کراری شکست دی ہے کانگریس کو ایک بار پھر محاسبہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے ہار کے اسباب پر غور کرنے کے لئے پارٹی جلد ریاستی سطح پر جائزہ لینے کی تیاری کر رہی ہے ۔ہار کو لیکر پارٹی کے کے اندر الگ الگ رائے ہے لیکن زیادہ تر لیڈر اس بات پر متفق ہیں کے پارٹی ہندی زبان بولنے والے ووٹروں کی نبض پکڑنے میں نکام رہی ہے اب اس ہار سے اس ہندی بیلٹ میں کانگریس تقریباً ختم ہو چکی ہے ۔شمالی ہندوستان میں پارٹی کی صرف ہماچل پردیش میں سرکار ہے ،ایسا نہیں ہے کہ یہ پہلی بار ہوا ہے ۔سال 1998 میں جب کانگریس صدر کے طور پر سونیا گاندھی نے ذمہ داری سنبھالی تھی تب پارٹی صرف ایک یندی ریاست سمیت 3 ریاستوں میں اختدار میں تھی ۔مدھیہ پردیش اڈیسہ اور میزورم میں اس کی حکومت تھی کانگریس کی ہار کی ایک اہم وجہ سینئر لیڈروں میں گروپ بندی اور تالمیل میں کمی مانی جا رہی ہے ۔ساتھ ہی بھاجپا نے مضبوط تنظیم کے ذریعہ بھی کانگریس کی حکمت عملی کو بے اثر کر دیا ٹکٹ بٹوارے کے بعد کانگریس کے باغیوں نے جو جنوتی پیش کی پارٹی لیڈر شپ اس سے مقابلہ نہیں کر پائی ۔کانگریس ہائی کمان نے مدھیہ پردیش میں پارٹی صدر کمل ناتھ ،چھتیس گڑھ میں وزیراعلیٰ پھوپیش بگھیل اور راجستھا ن میں وزیراعلیٰ اشوک گہلوت کو کھلی چھوٹ دینے پر منمانی کرنے دی ان تینوں ریاستوں میں نتیجوں کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔چھتیس گڑھ کی ہار کی وجہ کانگریس کے ہاتھ سے وہ ریاست نکل گئی ہے جو پارٹی کو وسائل دستیاب کرانے میں سب سے آگے رہتی تھی اور اس کو بھی زیادہ چھوٹ دے دی گئی ۔مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ کی جس کچن کبینیٹ کی وجہ سے وہ پارٹی نیتاﺅ سے دور رہے ہیں یہی ایک وجہ سے ریاست میں پارٹی کو چلا رہی تھی اسی نے امیدواروں کے انتخاب میں بھی دخل اندازی کی اور اپنے ٹھنگ سے تنظیم چلائی جب مرضی ہوئی انچارج بدل دیا ۔کمل ناتھ نے از خود وزیراعلیٰ اعلان کر دیا ۔ہائی کمان چپ رہ کر تماشائی بنا رہا ۔مدھیہ پردیش میں کئی مہینوںسے اختدار مخالف لہر چل رہی تھی لیکن کانگریس اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی ۔کمل ناتھ نے کانگریس کو تو ہر وایا ہے ساتھ ہی راہل گاندھی کو بھی چت کر وا دیا ۔راجستھان میں مفت علاج جیسی راغب کرنے والی اسکیموں کی وجہ سے ہی وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے چناﺅ میں واپسی کی تھی ۔حالانکہ وزیروں اورممبرانے اسمبلی کے خلاف اختدار مخالف شروع سے کانگریس پر بھاری پڑ رہی تھی پھر بھی گہلوت نے اپنے حمایتیوں کو دباﺅ ڈال کر کے ٹکٹ دل وائے ۔جب سونیا گاندھی کانگریس صدر تھی تب ان کی ہدایت پر ڈسیپلن توڑنے والے وزیر شانتی دھاریوال کو پارٹی ٹکٹ نہیں دینا چاہتی تھی لیکن گہلوت نے ذبر دستی دلوایا گہلوت سے راجستھان میں کانگریس کو اپنے ڈھنگ سے چلائے جانے کا الزام ہے انہوںنے باغی لیڈر سچن پائلٹ سے کبھی سلح نہیں کی ۔سچن اور گہلوت میں سمجھوتہ کرواکر راہل نے بہت کوشش کی لیکن یہ دوستی ظاہر ہی تھی لیکن اندر خانے لڑائی جاری رہی ان کے حمائتی کہتے تھے اگر کانگریس چناﺅ میں کامیاب ہو جاتی تو گہلوت کو فائدہ ہوگا اور ہاری تو پائلٹ کو ۔اب دیکھنا یہ ہے کیا کانگریس ہائی کمان ان حالات پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے یا لپا پوتی؟پکی پکائی فسل کو کاٹنے میں ایک بار پھر کانگریس ناکام رہی ۔راہل گاندھی کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا ہے ۔ (انل نریندر)

07 دسمبر 2023

کانگریس کی ہار انڈیا اتحاد کے لئے جھٹکا !

مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان اسمبلی انتخابات کے نتیجے سے اپوزیشن پارٹیاں کے انڈین الائنس اتحاد کے وجود پر سوال اٹھنے لگا ہے ان انتخابات کو 2024 میں لوک سبھا چناﺅں کا سیمی فائنل مانا جا رہا تھا ۔جس میں کامیابی حاصل کرنے اور بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کے ارادے سے 28 پارٹیوں نے اتحاد انڈیا بنایا کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے نے انڈیا میں شامل پارٹیوں کی میٹنگ 6 دسمبر کو بلائی تھی اور اس میں چناﺅ ں نتائج پر غور ہونا تھا اب اس میٹنگ کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے کیوں کہ سوال کھڑے ہو رہے ہیں کے ان نتیجوں کا اس اتحاد اور اس کے مستقبل پر کیا اثر پڑیگا؟ ایسا اس لئے بھی کیوں کہ نتیجوں کے بعد انڈیا کی اتحادی پارٹیوں نے کانگریس کے رویہ پر سوال اٹھائے ہیں ۔نیشنل کانگریس کے لیڈر عمر عبد اللہ نے کانگریس پر تنقید کی ہے اور کہا کانگریس نے چناﺅ کے دوران دو باتیں کی تھی وہ کھوکلی ثابت ہوئی اپوزیشن کو نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا کانگریس صدر نے کہا چلئے 3 مہینے بعد انہیں ہم یاد تو آئے اسی طرح جے ڈی ےو نے بھی کانگریس پر تنز کیا پارٹی کے ترجمان کے سی تیاگی نے کہا ان انتخابات میں اپوزیشن کے طور پر انڈیا کہی بھی نہیں تھا اور نا ہے اور تاریخی طور پر سوشلسٹ پارٹیاں ان ریاستوں میں تھی لیکن کانگریس نے کبھی انڈیا اتحاد کے اپنے دوسرے ساتھیوں سے نا صلح لی اور نا ان سے رائے لی ترنمول کانگریس کے ترجمان کنال گھوش نے کہا ان ریاستوں کے نتیجے بھاجپا کی جیت سے زیادہ بھاجپا کی کامیابی کو کانگریس کی ناکامی کو زیادہ دکھاتی ہیں انہوںنے کہا کے پارٹی صدر ممتا بنرجی کو اپوزیشن اتحاد کا چہرا بنایا جا چاہئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں گھوش کا کہنا تھا کے ٹی ایم سی ہی ایسی پارٹی جو بھاجپا کو ہرا سکتی ہے کچھ ماہرین کی رائے ہے یہ اچھا ہوا کے کانگریس یہ چناﺅ ہاری اس کا اس سے غرور ٹوٹے گا 2024کے لوک سبھا چناﺅ میں سیٹوں کے بٹوارے میں اب کانگریس حاوی ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اسے سیٹوں کا تال میل کرنا ہوگا وہیں جترویدی کا کہنا تھا کے کانگریس کو اس پر غور کرنا چاہئے کے بھاجپا سے سیدھے مقابلے میں سے کمی کہا رہ گئی یہ انڈیا اتحاد کی نہیں بلکہ کانگریس کی ہار ہے کیرل کے وزیراعلیٰ پی وجین کانگریس کے تئیں کچھ زیادہ ہی سخت نظریہ رکھتے ہیں انہوںنے کہا کے کانگریس نے پہلے ہی سوچ لیا وہ جیت چکی ہے اور اسے ہرایا نہیں جا سکتا یہی خیال اس کے زوال کا سبب بنا ۔کانگریس نے ان چناﺅ میں ایک موقع غوایا ہے ان انتخابات میں اپوزیشن پارٹیوں کا ساتھ لینے اور ایک سیاسی تبدیلی کی پہل کی جا سکتی تھی ۔جس سے انڈیا کے مشن کو مضبوطی ملتی ۔اتحاد بننے سے جو سیاسی شکل سامنے آتی وہ نہیں آ پائی ۔مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ اور راجستھان میں اگر کانگریس چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ لیکر اور سیٹوں کا تامل میل کرتی تو اسے یہ دن نا دیکھان پڑتا ۔سوال یہ ہے کیا کانگریس اس ہار سے کوئی سبق لیں گی ۔اور دوسری پارٹیوں کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کرے گی ؟(انل نریندر)

الٹا پڑا داﺅں .....نا خدا ملا نا ویصالے صنم !

رےاست کے اقتدار کی ہیڈ ٹرک لگانے ،قومی سیاست کی خواہشات میں اقلتوں کے ووٹ پانے کے لئے خوش آمدی والی اسکیموں کی بھرمار لگانے اور اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی اے کو ساتھ لینے کے با وجود چندر شیکھر راﺅ کے سی آر کی داﺅ الٹا پڑ گیا یہاں تک کی پارٹی کی نام تلنگانہ راشٹر سمیتی سے بھارت راشٹر سمیتی کرنے کا بھی فائدہ نہیں ملا اور سیٹیں پچھلے چناﺅ کے مقابلے آدھی سے بھی کم رہہ گئی نتیجوں سے صاف ہے کے مسلم خوشامدی کی پالیسی نے کے سی آر کو دوہرا چھٹکا دیا ہے الگ سے آئی ٹی پارک شادی مبارک جےسی اسکیموں کے با وجود مسلم ووٹروں نے قومی سیاست میں کانگریس کو مضبوط کرنے کے لئے بی آر ایس کو اسی طرح کنارے کر دیا جس طرح کرناٹک میں اس نے جے ڈی ایس کو کیا تھا دوسرے خوشامدی کے چلتے اکثریتی ووٹوں میں برابری پولورائزیشن ہوا اور مسلمانوں کے قریب قریب ایک طرفہ حمایت اور بی آر ایس کے مقابلے سب سے مضبوط پارٹی ہونے کا سیدھا فائدہ کانگریس کو ملا ۔کسی بھی چناﺅ میں عوامی بہبود اور ترقی کے اشو اہم اجنڈے کے شکل میں سامنے آتا ہے اکثر اس بات کو لیکر بھی الجھن رہتی ہے کے بہبودی اور ترقی پسندی میں سے کس پر زےادہ توجہ دی جانی چاہئے ۔مگر بدقسمتی یہ ہے کے اس سال ایک شخص ،ان کا خاندان اور ان کے کام کرنے طریقہ 2014 میں بنے بھارت کے 29 وے اسٹیٹ اور سب سے نوجوان ریاست تلنگانہ کا ایک لوتا چناﺅی اشو بن گیا تلنگانہ کا ایک اور عجب پہلو یہ ہے کے یہاں پچھلے کچھ ورشوں میں بی جے پی جو ووٹ بینک بنانے میں کامیاب رہی تھی اب وہ کمزور ہوئی ہے۔ کمل کے بجائے اب کانگریس مضبوط ہو گئی ہے ایم ٹی رامہ راﺅ جنہیں کے ٹی آر بھی کہا جاتا ہے تاکہ ان کے نام کی آواز ان کے وزیراعلیٰ والد کے سی آر کے نام سے میل کھائے نے حال ہی میں جب قومی چینلوں سے بات کی وہ ترقی کی تفصیل کا ذکر کرتے ہیں اور اعداد شمار کا حوالہ دیتے نظر آئے اور ان میں کچھ علاقہ میں ہوئی طرقی کو دکھاتے ہیں لیکن انہوںنے انسانی ترقی کے اشاروں اور خواندگی کا ذکر کرتے ہیں لیکن انہوںنے تلنگانہ میں اقتصادی طور پر مضبوط بنایا ہے لیکن انسانی بہبود کے معاملے میں اس کا رکارٹ خراب ہے تازہ سرکاری رپورٹ کے مطابق ،سیاست میں 3.08 لاکھ سالانہ فی کس آمدنی کے ساتھ دیش میں سب سے اوپر ہے ،پہلی بات جو صاف ہے وہ یہ ہے کے بی آر ایس کو ووٹروں کی دیر پا تھکان کی مار چھیلنی پڑی بہت سے ووٹر کچھ نیا چاہتے ہیں دوسری طرف سب سے اہم بات یہ رہی کے کے سی آر ان کے خاندان کے رویہ۔اپوزیشن نے اسے کے سی آر خاندان کے حکمرانی کے مغرور رویہ کی شکل میں پیش کیا ۔تیسری وجہ بے روزگاری کے سبب نوجوانوں میں بی آر ایس سے مایوسی رہی اس بات کو لیکر سب سے زیادہ نقطہ چینی ہو رہی ہے وہ یہ ہے کے بی آر ایس نے روگار کے موقع پیدا کرنے میں بہت کم توجہ دی ہے ریاست کے سیاسی حالات ایسے تھے جو ووٹر کبھی بی جے پی کی طرف چھکے تھے اب انہوںنے کانگریس کا رخ کر لیا ہے ۔کانگریس نے بار بار الزام لگایا کے بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ملی بھگت ہے یہ پیغام میں ریاست میں تےزی سے بڑے پیمانے پر پھےل گیا جس سے بی جے پی کی مضبوطی ختم ہو گئی ۔(انل نریندر)

05 دسمبر 2023

موت کی سزا پانے والے سابق ہندوستانی فوجیوں کو راحت !

قطر کی ایک عدالت میں ہندوستانی بحریہ کے ۸سابق بحری حکام کو جس طرح موت کی سزا سنائی گئی تھی وہ پہلے ہی سوالوں کے گھیرے میں تھی ۔اس لئے امید کی جا رہی تھی کہ بھارت سرکار کی طرف سے کوئی ٹھوس پہل قدمی کی جائے ۔یا ڈپلومیٹک قدم اٹھائے جائیں گے اسی سلسلے میں بھارت نے قطر کی عدالت میں فیصلے کے خلاف باقاعدہ طور سے اپیل کی تھی اور اس سلسلے میں آئی خبر کے مطابق اب قطر کی عدالت نے بھارت کی اس عرضی کو منظور کر لیا ہے اور اس پر جائزہ لے کر جلد سماعت شروع کی جائے گی ۔جمعرات کو ہوئی سماعت کے دوران قطر کی عدالت میں معاملے میں غور کرنے کیلئے جلد ہی سماعت شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔وزارت خارجہ نے ۹نومبر کو بتایا تھا کہ فیصلہ راز میں بنا ہوا ہے اور اس معاملے میں اپیل دائر کی گئی ہے ۔وزارت خارجہ نے معاملے کی حساسی نوعیت کے سبب سبھی سے قیاس آرائیوں سے بچنے کی درخواست کی تھی ۔وزارت خارجہ کے ترجمان اروندم باغچی نے پہلے کہا تھا کہ قطر کی عدالت نے الدارة کمپنی کے ۸ملازمین سے وابسطہ معاملے میں ۶۲اکتوبر کو فیصلہ سنایا تھا اس کے اگلے ہی دن بھارت نے اپیل دائر کر دی تھی ۔محکمہ خارجہ کے ترجمان باغچی کا کہنا ہے کہ سابق بحری حکام کو قطر کی ایک عدالت نے ان الزاموں میں موت کی سزا سنائی تھی جنہیں ابھی تک سرکاری طور پر سامنے نہیں لایا جا سکا ۔فیصلہ راز میں ہے اور اسے صرف قانونی ٹیم کے ساتھ ہی شیئر کیا گیا ہے ۔ہم اس معاملے میں قطر کے سینئر حکام سے بات چیت کررہے ہیں ۔قطر حکومت نے ابھی تک ۸ہندوستانیوں پر لگے الزامات کو افشاءنہیں کیا ہے ۔حالانکہ ایسا اندیشہ سیکورٹی سے متعلق الزام میں یہ گرفتاریاں ہوئی ہیں ۔بتا دیں ہندوستانی بحریہ کے ۸سابق افسر قطر میں دہرہ گلوبل ٹیکنالوجی اینڈ کنسلٹینسی سروسز نامی کمپنی کے لئے کام کررہے تھے ۔اگست ۲۲۰۲میں ان سبھی کو گرفتار کیا گیا ۔قطر کی حکومت نے بحریہ کی سابق افسروں پر لگائے گئے الزامات کی جانکاری نہیں دی ہے ۔گزشتہ ۶۲اکتوبر ۳۲۰۲کو قطر کی عدالت نے ان سابق افسروں کو موت کی سزا سنائی تھی ۔ادھر ہندوستانی بحریہ کے چیف ایڈمرل آر ہری کمار نے جمعہ کو بتایا کہ حکومت ہند قطر سے ان ۸سابق بحری افسروںکو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے جنہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے ۔ایڈمرل آر ہری کمار نے اخبار نویشوں سے کہا کہ بھارت سرکار ان کی صحیح سلامت واپسی یقینی کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے اس بیچ ۸سابق ہندوستانی بحری فوجیوں کے خاندان جلد راحت کی امید کررہے ہیں ۔قطر میں مقدمہ پر کسی ٹھوس جانکاری میں کمی ہے ۔پریوار والوں کو لگتا ہے کہ اس مسئلے پر مغربی ایشیائی میڈیا میں بہت ساری غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا آٹھوں ریٹائرڈ بحری فوجیوں نے اعلیٰ ترین ایمانداری اور احترام کے ساتھ دیش کی خدمت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس بات نے انہیں زیادہ ٹھیس پہونچائی ہے کہ حراست کے حالات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے ۔ (انل نریندر)

گرفتاری کا ڈر یا سیاسی چال؟

کیا دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو گرفتاری کے بعد استعفیٰ دے دینا چاہیے یا جیل سے ہی سرکار چلانی چاہیے ؟ یہ وہ اہم سوال ہے جس کا جواب جاننے اور اروند کیجریوال کی حمایت میں لوگوں کو متحد کرنے کیلئے عام آدمی پارٹی نے دہلی میں گھر گھر دستک دینے کا فیصلہ کیا اور باقاعدہ دستخطی مہم چلائی جا رہی ہے کیا اس پر بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ کیجریوال گرفتاری سے بچنا چاہیتے ہیں اس لئے عام آدمی پارٹی اس طرح کی مہم چلا رہی ہے ۔پارٹی نے ایک دسمبر سے مے وی کیجریوال سگنیچر کمپین کی شروعات کی ہے ۔پہلے مرحلے میں یہ مہم 20 دسمبر تک چلائی جائے گی ۔اس مہم میں عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی وزراء،کونسلر اور سبھی عہدیداران دہلی کے سبھی ۰۰۶۲ پولنگ اسٹیشن کو کور کریں گے ۔مہم کا دوسر ا مرحلہ ۱۲ سے ۴۲ دسمبر تک چلے گا جس میں جنتا سے بات چیت پروگرام ہوں گے اور اس طرح کے سوالوں کو اس میں اٹھایا جائے گا۔فی الحال پارٹی کے کئی بڑے نیتاو¿ں کیخلاف ای ڈی اور سی بی آئی کی کاروائی چل رہی ہے ۔دہلی میں مبینہ شراب گھوٹالے میں کیجریوال سرکار کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا ،ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ جیل میں ہیں ۔پارٹی کے سینئر لیڈر ستیندرجین بھی ابھی تک جیل سے آزاد نہیں ہوئے لیکن بیماری کے سبب وہ ضمانت پر چل رہے ہیں ۔جو وقتاً فوقتاً سپریم کورٹ سے بڑھائی جا رہی ہے ۔اب پارٹی چیف اور وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی ای ڈی نوٹس دے چکے ہیں ایسے میں پارٹی کی اس مہم کے کیا معنی ہیں ؟ سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ کیا سچ میں گرفتاری کے ڈر سے اس طرح کی تیاری کررہی ہے ؟ ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ یہ مہم اس کے لئے کتنی کارگر ثابت ہو سکتی ہے ۔دہلی سرکار میں وزیراور پردیش کنوینر گوپال رائے کا کہنا ہے کہ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو گرفتار کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ایسے میں دیکھتے ہوئے میں بھی کیجریوال سگنیچر کمپین شروع کی گئی ہے ۔وہ کہتے ہیں،بھاجپا سازش کررہی ہے اور اب کیجریوال کو گرفتار کر دہلی کو ٹھپ کرنا چاہتی ہے ایسی حالت میں دہلی کے لوگوں کی رائے جاننے کے لئے پارٹی کے ورکر ،نیتا گھر گھر جا رہے ہیں انہیں پرچہ دیا جائے اور اس میں ان کی رائے لی جائے گی ۔اس مہم میں مرکز کے ایک صفحہ کی پرچی ہے جس کا عنوان ہے ۔اروند کیجریوال کو کیوں گرفتار کرنا چاہتے ہیں نریندر مودی؟ اروند کیجریوال کی ایک تصویر کے ساتھ ایک پرچہ میں چار سوال اور ان کے جواب لکھے ہوئے ہیں یہ سوال ہے شراب گھوٹالہ فرضی کیسے ہے ؟ مودی جی کیجریوال جی کام کا مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں ؟کیا مودی جی کرپشن کے خلاف ہیں؟ کیا کیجریوال جی کی گرفتاری کے بعد ان کو استعفیٰ دے دینا چاہیے یا جیل سے سرکار چلانی چاہیے ۔اس پورے پرچہ میں عام آدمی پارٹی نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اروند کیجریوال پوری طرح بے قصورہیں۔مرکز کی مودی سرکار انہیں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے اور انہیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے لوک پال آندولن سے دہلی کے اقتدار کی چوٹی پر پہونچنے والے اروند کیجریوال ایک بار پھر جنتا کے بیچ میں ہیں ۔اور اپنے انوکھے انداز میں ایک طرح سے ریفرنڈم یعنی رائے عامہ مانگ رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

03 دسمبر 2023

دشمن بنے آئی ایس آئی اور طالبان !

ہمیشہ ہی آتنکی حکومت کی حمایت کرنے والے اور دنیا میں اپنی فیکٹری سے تیار آتنکی پروڈکٹ کی سپلائی کرنے والا پاکستان آج کھود ہی دہشت گردی سے متاثر ہے اور اس سے لڑ رہا ہے آتنکی سرکار کو پڑھاوا دینے کے لئے جس پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور پاک حکومت نے افغانستان میں آتنکی طالبان حکومت بنانے کے لئے طالبان کو دوست بتاکر ہر طرح سے مدد کی تھی آج اسی دوست کے دیش سے خون کے آنسو بہا رہا ہے طالبان سرکار بننے کے بعد جس پاک حکومت نے جشن بنایا تھا اور مٹھائیا بانٹی تھی آج اسی دوست کے سبب پاکستان میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جی ہاں اس بات کا انکشاف پاک خفیہ آئی ایس آئی کی رپورٹ کے بعد وہا کے حکمراہ گلہ پھاڑ پھاڑ کر یہ کہہ رہے ہیں طالبا کے سبب پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 60 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے یاد کیا جائے 15 اگست 2021 کا وہ دن جب طالبان نے پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی مدد سے افغانستان کی راجدھانی کابل پر قبضہ کیا تھا تب سے پہلے افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان نے کابل پر طالبان کے قبضے کا جشن بنا کر سرکار کا استقبال کیا تھا اس وقت کی عمران حکومت نے تو طالبان کے لڑاکوں کو پاکستان کا دوست بتایا تھا لیکن اب پاکستان اپنے انہیں دوستوں کو اپنا دشمن بتا رہا ہے ،پاک میں ہو رہی دیشت گردی کی وارداتوں کو لیکر آئی ایس آئی نے پاک حکمرانوں کو اپنی رپورٹ دیکر سب کو چونکہ دیا ہے آئی ایس آئی نے حال ہی میں دہشت گردانہ واقعات کے لئے طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا آئی ایس آئی کی رپورٹ کے بعد پاکستان کے حکمران نے کہا کے پڑوسی افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں 60 فیصد اضافہ اور فدائی دھماکوں میں 500 فیصدی اضافہ ہوا ہے کبھی بھارت کے خلاف دہشت پھیلانے والی آئی ایس آئی اب کہہ رہی ہے کے اپنی سر زمین کا استعمال دہشت گردی کے لئے نئی کرنے دیں گے ۔اتنا ہی نگرا وزیراعظم نے دعوا کیا امریکی فوجیوں کے افغانستان چھوڑنے کے بعد اب آتنکی ان کے ہی ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں خاص بات یہ ہے کے آئی ایس آئی اور طالبان کے ملی بھگت کے سبب پاک آتنکی تنظیم لشکر طبیہ و جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی خطرناک آتنکی تنظیموں کے پاس امریکی ہتھیار پہنچ چکے ہیں غور طلب ہے کہ افغانستان کی سر زمین سے آتنکی حملوں میں 2 سال میں 2267 لوگوں موت ہوئی ہے ان حملوں میں 15 افغانی شہری بھی مارے گئے ہیں اس کے علاوہ آتنک واد مخالف کارروائی کے دوران پاکستان کی ایجنسیوں سے لڑتے ہوئے اب تک 10 افغانی شہری بھی مارے گئے ہیں ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے دہشت گرد ان کے دیش کے خلاف امریکی ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں ۔ (انل نریندر )

جانباز ریٹ مائنیرس ٹیم کو سلام!

اتراکھنڈ کی سلکیارا سرنگ میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے والے ریٹ مائنیرس کا کہنا ہے کی مزدوروں کو ان کے مزدور بھائیوں نے ہی آخر کار نکالا 17 دن تک پھنسے ان مزدوروں کو نکالنے کے لئے جب مشینی کوششیں ناکام ہوئی تو آخر میں دہلی جل بورڈ کے ریٹ مائنیرس کو ہی لگایا گیا جن انہوںںے ہاتھ سے کھدائی کرکے سرنگ میں پھنسے مزدوروں کو نکالا ایک اخبار سے بات چیت میں 7 ویں کلاس کے طالم یافتہ اور باغپت کے باشندے 35 سالہ محمد رشید نے یہ بتایا مزدوروں کو مزدور بھائیوں نے ہی نکالا 12 ریٹ مائنیرس کی ٹیم نے 26 گھنٹوں تک بے حد مشکل حالات میں سرنگ میں گھس کر ہاتھ سے کھدائی کی زیادہ تر ریٹ مائنیرس دلت اور مسلم فرقہ سے ہیں اس ٹیم نے 18 میٹر کے ملوے کو ہاتھ سے نکالا اس ٹیم نے 800 ملی میٹر چوڑے پائم میں ہتھوڑی اور چھینی سے کھدائی کی اور اس نے ایک چھوٹی ٹرالی سے ملبے کو پائپ کے ذرےعہ باہر نکالا اور جو کام ان کھدائی ملازمین نے کیا اسے کرنے میں ہائی ٹیک مشینےں بھی فیل ہو گئی ۔ریٹ مائنیرس کا یہ گروپ جان بچانے کے لئے کی گئی اپنی اس محنت کے بدلے کوئی پیسہ نہیں چاہتے تھے حالانکہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ہر ایک ریٹ مائنیر کو 50 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے ۔45 سالہ ریٹ مائینر محمد ارشاد کا کہنا تھا کے میں صرف اترا چاہتا ہوں کے ہر انسان کو انسا ن کا درد سمجھنا چاہئے اور دیش میں پیار بنا رہے میرٹھ کے باشندے ارشاد 2001 سے ریٹ مائینر ہیں کچھ سال پہلے وہ دہلی آئے اور اب ایک پرائیویٹ کمپنی کے لئے کام کرتے ہیں ارشاد ابھی تک اپنے گھر نہیں گئے بھارت میں ریٹ ہال مائیننگ کو خطرناک اور ایک سائنٹیفک تکنیک مانتے ہوئے اس سے لگاﺅ ہے لیکن کوئیلا کھدائی کرنے والے علاقوں میں یہ بھی رائج ہے اور بہت سے لوگوں کے لئے روزگار کا ذریعہ ہے۔35 سالہ ایک اور ریٹ مائینر منا قریشی کہتے ہیں مجھے جب بھی تھکان محسوس ہوئی تب مجھے اپنے 10 سالہ بیٹے فیض کے الفاظ یاد آئے اس نے کہا تھا کہ ان لوگوں کو باہر نکالکر ہی واپس لوٹنا ہے پاپا۔یہ بات یاد کرتے ہوئے منا قریشی کی آنکھیں نم ہو گئیں ایسے ہی ایک اور شخص 24 سالہ جتن کشپ اور ان کے بھائی 21 سالہ سوروو اس ٹیم کے سب سے ینگ ممبر ہیں انہوںنے 13-14 سال کی عمر سے ہی ریٹ مائیننگ کھدائی کا کام شروع کر دیا تھا بلند شہر کے ایک چھوٹے سے گاﺅں سے آنے والے ان لڑکوں نے بھی راحت رسانی و بچاﺅ کام میں حصہ لیا چھوٹے بھائی سورو کا کہنا تھا کیا ہمیں وزیراعظم رہائی اسکیم کے تحت پکہ گھر مل سکتا ہے وہ اپنی بات پوری ہی کر رہے تھے بڑے بھائی نے سرکار سے مدد مانگنے کے لئے ان کی قمر پر ہاتھ مارا 29 سالہ مونو کمار نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کے میرے گاﺅں میں حالاتھ خراب ہے اگر سرکار سڑک بنوا دیں تو اچھا ہوگا ۔جس طرح سے چوہا اپنے بل کے اندر گھس کر مٹی باہر نکالتا ہے اور آگے بڑھتے ہیںاسی طرح سے ریٹ مائینرس نے سرنگ کے اندر کام کیا سی تکنیک کو ریٹ مائیننگ کہتے ہیں ہمیں ناض ہے ان جانباز ریٹ مائینرس پر اور یہیں گنگا جمنی تہذیب ہے۔ (انل نرےندر)

30 نومبر 2023

مہوا موئترا بنام نشکانت دوبے !

ترنمول کانگریس کی ایم پی مہوا موئترا کے خلاف سی بی آئی نے لوک پال کی سفارش پر شروعاتی جانچ کر دی ہے ۔اس کو لیکر مہوا موئترا اور بھاجپا ایم پی نشکانت دوبے کے درمیان سنیچر کو شوشل میڈیا پر زبانی جنگ چھڑ گئی دوبے نے بھی موئترا پر پیسے کے بدلے پارلیمنٹ میں سوال پوچھنے کا الزام لگایا تھا اور جانچ کے لئے لوک پال کا رخ کیا تھا ۔بھاجپا ایم پی دوبے نے ایکس پر لکھا کہ چند پیسوں کے لئے بھارت کی قومی سلامتی کو بیچنے والی ایم پی کا انکم ٹیکس ریٹرن دیکھیے ۔2012 سے لیکر 2015 تک زیرو ،2015 میں 33 ہزاور 2016-17 میں 91 ہزار ،20-21-22 میں ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے ،بغیر پیسے سے ملک و بیرون ملک میں بزنس کلاس میں اور دبئی ،نیپال ،امریکہ ،لندن ،پیرس ،کیسے گھوما جاتا ہے ۔برانڈ کی بیگی پرس گھڑی کیسے لی جا سکتی ہے ؟ اس کے لئے آپ کرپشن کی ملزم ایم پی سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں ۔ترنمول کانگریس کی لیڈر کی ہوائی چپل والی ممتا دیدی پر اب مجھے ترس آتا ہے ۔دوبے نے ایک اور پوسٹ میں لکھا ہے اگر انکم ٹیکس نہیں دیجئے گا دھڑلے سے دوبئی ،امریکہ ،لندن و دیش کے اندر بزنس کلاس سے سفر ،فائیو اسٹار ہوٹل کا استعمال کرئے گا ۔تو کرپشن کی ملزمہ ایم پی جی آپ کے ٹریبل ایجنٹ ،ہوٹل کے بل تو سی بی آئی لوک پال کے کہنے پر مانگیں گے ہی ۔کس نے خرچ کئے ،کتنے خرچ کئے ؟ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ پر دوسروں کو دھونس دیجئے گا تو آپ کو بھی بھاگنا پڑے گا ۔جیسی کرنی ویسی بھرنی !ادھر مہوا موئترا نے ایکس پر لکھا یہ دیکھ کر تعجب ہوا بغیر مکمل چیئرمین کی قیادت والے لوک پال نے میرے معاملے کو سی بی آئی کو کیس کیسے بھیج دیا ؟ تین نومبر 2023 کو آر ٹی آئی کہتی ہے کہ مئی 2022 سے لوک پال کا کوئی چیئرمین نہیں ہے اور 8 سے 3 ممبروں کی جگہ خالی ہے ہو سکتا ہے کہ پٹبل ایسوسی ایشن کی جھارکھنڈ برانچ بھی بھاجپا کے ماتحت لوک پال سمیتی کی شکل میں کام کررہی ہو ۔ساتھ ہی انہوں نے لکھا ہے نا تو لوک پال نے لوک پال ایکٹ کے مطابق ویب سائٹ پر کوئی ریفرل آرڈر اپلوڈ کیا ہے اور نہ ہی سی بی آئی نے کوئی سرکاری جانکاری دی ہے ۔صحافیوں کے ساتھ عام میڈیا سرکل کے مطابق بتا رہے ہیں امید ہے کہ 13 ہزار کروڑ روپے کا اڈانی کوئلہ گھوٹالہ میرے جادو ٹونے سے پہلے سی بی آئی شروعاتی جانچ کی حقدار ہوگی ۔سی بی آئی نے ابتدائی جانچ درج کی ہے جو یہ پتہ لگانے کی سمت میں پہلا قدم ہے ۔کیا الزام پوری طرح جانچ کے لائق ہے ؟ ابتدائی جانچ کے دوران اگر درکار پہلی نظر میں میڈل ملا تو سی بی آئی اسے ایف آئی آر میں بدل سکتی ہے ۔اس معاملے میں لوک سبھاکی ضابطہ کمیٹی نے مہوا موئترا کو ایم پی کے عہدے سے معطل کرنے کی سفارش کی ہے ۔مہوا موئترا نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور اسے سیاسی رقابت بتایا ہے ۔ (انل نریندر)

بنا سائنٹفک تعمیرات کے سبب ہو رہے ہیں حادثے!

اتر کاشی میں سرنگ میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لئے اتوار کو اوپر سے ڈرلنگ کرنے کے کام پر توجہ دی گئی ۔حکام نے بتایا پہلے دن 19.2 میٹر کا حصہ ڈرل سے توڑا گیا ۔اس سے کوئی اڑچن نہیں آئی تو اس راستے سے بہت جلد باہر نکال لیا جائے گا ۔اتراکھنڈ کے اتر کاشی میں زیر تعمیر سرنگ کیوں ڈھہہ گئی اس کی وجہ ابھی تک صاف نہیں ہو پائی ۔لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا ہمالیائی پہاڑوں کی نزاکت اور مار جھیلنے کی صلاحیت کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے ۔دور اندیشی اور بغیر سائنٹفک ڈولپمنٹ کاموں کو انجام دیا گیا ۔انگریزی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق جغرافیائی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ہمالیائی علاقوں میں ہو رہی تعمیرات سائنسی طریقہ سے و سیکورٹی کے قدم اٹھانے کے بجائے اقتصادی اور سماجی و سیاسی فائدوں کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے ۔انڈین اکیڈمی آف سائنس کے جرنل کرنٹ سائنس میں جغرافیائی ماہر نریش پنت اور ایچ ایس سونی نے لکھا ہے جغرافیائی حالات کو نظر انداز کرکے غیر موضوع جگہوں پر بے ترتیب طریقہ سے شہر اور رہائشی عمارتوں کو بنایا جا رہا ہے ۔اتر کاشی میں ہوئے حادثہ کئی مہینے پہلے ہی انہوں نے لکھا تھا ہم زمین کی مار جھیلنے کی صلاحیت اور خطروں کے سلسلے میں سول کنسٹرکشن کے تقاضوں کو لاگو کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ بہت ٹورزم مارکیٹ کی طاقت سیکورٹی قواعد پر حاوی ہو گئی ہے ۔یہ سرنگ جس چاردھام ہائی وے پروجیکٹ کے تحت بن رہی تھی اسے سال 2016 میں شروع کیا گیا تھا ۔اس کے تحت چاروں دھام ،یمنوتری ،گنگوتری،اور کیدارناتھ اور بدریناتھ سال بھر سڑک سہولت سے جوڑے رکھنے کا ٹارگیٹ ہے لیکن اسے لاگو کرنے کے طریقے کئی سائنٹفک اور ماحولیاتی گروپ مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں ۔سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کو حکم دیا تھا کہ اس پروجیکٹ کے ماحولیاتی اتار چڑھاو¿ اور دیگر خطروں کو کم کرنے کے لئے ہائی پاور کمیٹی بنائیں ۔مرکزی وزیر ماحولیات کے ذریعے بنائی گئی اس ہائی پاور کمیٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس پروجیکٹ میں غیر سائنٹفک اور بنا اسکیم کے کام کرنے کے سبب ہمالیا کے ایکو سسٹم کو نقصان پہونچایا ہے ۔کمیٹی نے یہ بھی پایا تھا کہ 889 کلو میٹر کے چار دھام کے چوڑا کرنے کی اسکیم کو چھوٹی 53 اسکیموں میں بدل دیا تھا تھا ۔یہ سبھی حصے 100 کلومیٹر سے چھوٹے تھے جس کے سبب انہیں اب ماحولیاتی قواعد سے ہو کر نہیں گزرنا پڑا ۔جولائی 2020 میں پیش رپورٹ میں کمیٹی نے کہا تھا کہ اس پروجیکٹ کے تحت ڈھلان کا معائنہ کئے بغیر درکار قدم اٹھانے کے بغیر کٹان کی گئی جس سے چٹانیں گرنے کا خطرہ برھ گیا ہے ۔آئی آئی ٹی رڑکی اور جرمنی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک اسٹڈی میں پایا تھا کہ رشی کیش سے بدری ناتھ کے جوشی مٹھ تک تیس کلو میٹر ہائی وے میں ستمبر ،اکتوبر ،2022 میں 309 چٹانیں گری تھیں یعنی تقریباً ہر ایک کلو میٹر پر چٹانیں گریں ۔یہی نہیں کہا جا رہا ہے کہ ہمالیہ سے سڑکیں یا دوسرے پروجیکٹ بننے نہیں چاہیے لیکن وہاں کی جغرافیائی پیچیدگیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے سیکورٹی پر دھیان دینا چاہیے تاکہ خطرہ کم ہو سکے ۔مشکل جگہوں پر اہم اسکیمیں بسائی جا رہی ہیں ۔لیکن مقامی جغرافیائی اور مقامی ماحول کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت کو ذہن میں رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔لاپرواہی کا نتیجہ اب ہمارے سامنے ہے ۔ (انل نریندر )

28 نومبر 2023

میامار کے ہزاروں باشندے بھارت میں داخل ہوئے !

پچھلے کچھ دنوں سے بھارت میامار سرحد کے قریب میامار فوج اور فوجی حکمرانی کی مخالفت کر رہے فورس کے درمیان ہوئی تیز جھڑپوں کی وجہ سے قریب 5 ہزار بے گھر لوگ میامار سے میزورم پہنچے ہیں میا مار فوج کے کے 45 جوانوں نے بھی پولس کے سامنے خود سپردگی کی ہے انہیں ہیندوستانی فوج کو سونپ دیا گیا ہے بعد میں میامار واپس بھیج دیا گیا میزورم پولس کے انسپکٹر جنرل پولس شیو گاتے نے اس کی تصدیق کی ہے انہوںنے کہا کے بارڈر کے قریب دوسری طرف حالات ابھی کشیدہ ہے لیکن ابھی تک بھارت کی طرف سے کوئی جھڑپیں نہیں ہوئی ہیں ۔باغیوں نے کئی جگہ حملے کے کئے ہیں اور فوج کی چوکیوں پر قبضہ کیا ہے جس کے بعد میامار کے فوجیوں کو جنگل میں چھپنا پڑ رہا ہے ۔میامار میں فوج نے فروری2021 میں جمہوری حکومت کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا ۔تب سے ہی وہاں کھانہ جنگی چل رہی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوں گئے ہیں حالیہ دنوں میں چین سے لگے میامار کے شین صوبہ میں کئی مسلہ گروپوں نے متحد ہوکر فوج کے خلاف حملے کئے اور وہ کئی جگہوں پر کامیاب بھی ہوئے اس کے بعد بھارت کے کئی کئی سرحدی علاقوں میں بھی باغیوں نے فوج کے ٹھکانوں پر بڑے حملے کئے ہیں اس کے مطابق سب سے زیادہ بے گھر افراد بھارت کے سرحدی قصبوں میں پہنچے ہیں دراصل میامار میں فروری 2021میں جمہوری ٹھنگ سے چنی گئی آنگ سانگ سو کی حکومت کا تختہ پلٹ کر فوجی حکومت نے لا عین آرڈر بنائے رکھنے کے لئے طاقت کے استعمال کو اپنی پالیسی بنا رکھا ہے جس سبب لاکھوں لوگ اپنے گھر چھوڑنے کو مجبور ہوئے ہیں تب سے آج تک وہاں 4 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور 20 ہزار سے زائد جمہوری نواز جےلوں میں بند ہیں یہ فوجی حکومت کے مزالم کی انتہا ہے پہلی بار جمہوریت نوازوں نے امن کا راستہ چھوڑ کر تشدد کا سہارا لیا بتا دیں کی میزورم اور میامار کے درمیان قریب 500 کلو میٹر لمبی بین الاقوامی سرحد ہے جو زیادہ بند نہیں ہے کیوں کہ میامار کے چن اور میزورم کے شہری رجو خود کو ایک ہی آباہی نسل کی اولاد مانتے ہیں اسی وجہ سے میامار آنے والے بے سہارا لوگوں کو میزورم میں پوری ہمدردی مل رہی ہے خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان کی 4 ریاستوں میزورم ،منی پور،ناگہ لینڈ اور اروناچل پردیش سے یہ سرحد لگتی ہے اسی وجہ سے یہاں لوگوں کی آمدورفت ہوتی رہتی ہے جس کے مطابق لوگ سرحد کے دوں طرف 16 کلومیٹر تک پھیلی زمین تک بسی آبادی میں آ جا سکتے ہیں جیسے بھی دونوں سرحد کے اندر بسی قبائلی لوگوں میں آپسی رشتے داریاں بھی ہیں جس وجہ سے سختی کرنا یا شرنارتیوں کے آنے جانے پر روک لگانا مشکل ہے میامار کے شرنارتھےوں کو پناہ دینا میزورم میں قانون و نظام کو بنائے رکھنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لئے بھی چنوتی ہے بہتر یہی ہے کے میامار میں امن کا قیام کے لئے آشیانہ دینا بغیر تاخیر کئے پہل کریں تاکہ جمہوری بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کا ہل تلاش کیا جا سکے۔(انل نریندر)

بابا رام دیو کی وضاحت!

سپریم کورٹ کی جانب سے پتنجلی کو اپنی دواﺅ ں سے بیمارےوں کا علاج کرنے کے کے بارے میں کرنے کو لیکر دی گئی وارننگ کے بعد بدھ کے روز یوگ گرو سوامی رام دیو نے کہا کے وہ اپنا موقوف رکھنے کے لئے پہلی بار عدالت میں پیش ہوں گے اور اپنی دعوے کے حق میں دلائل کے ساتھ اپنی بات رکھیں گے انہوںنے ہریدوار میں نامور فارمہ کمپنیوں اور ڈرگ مافیہ ،پتنجلی یوگ پیٹھ آریوروید ہندوستانی تہذیب اور سناتن تہذیب کو بدنام کرنے کے لئے مسلسل 30 برسو سے سازش میں لگے ہوئے ہیں ۔وہ ہندوستانی قانون اور عدالت کی کا پورا احترام کرتے ہیں اب اپنی بات عدالت کے سامنے دلائل کے ساتھ رکھیں گے اور آخر میں چیت ہماری ہوگی ۔بتا دیں کے سپریم کورٹ نے پتنجلی کو خبردار کیا تھا کے وہ گمراہ کن اشتہارات بند نہیں کرتے تو وہ ان پر 1 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا جائے گا ۔بابا رام دیو نے کہا کے عدالت میں آخر ہماری ہی جیت ہوں گی انہوں نے انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن کو غیر ذمہ دارانہ انجمن قرار دیتے ہوئے کہا کے سپریم کورٹ اگر ہمیں بھی اس سلسلہ میں اپنا موقوف رکھنے کا موقع دیگا تو میں خود عدالت کے سامنے پورے حقائق ،کلینکل رپورٹیں اور رسرچ دستاویز کے ساتھ پیش ہونے کو تیار ہوں ہم اس بارے میں پوری طرح سے قانونی لڑائی کو تیار ہیں ہم آج بھی اپنے دعوے پر اٹل ہیں اور اگر عدالت جس کے لئے ہمیں کروڑوں روپئے کے جرمانے کے ساتھ پھانسی پر بھی لٹ کائے تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں ۔بتا دیں پتنجلی کا سالانہ کاروبار 45 ہزارکروڑ روپے کا ہے کمپنی نے آنے والے وقت میں 1 لاکھ کروڑ روپئے کا بزنس کا نشانہ تے کیا ہوا ہے ۔کمپنی کے اس نشانے کے عوض میں لاکھوں لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے پتنجلی جلد ہی اپنے دوائیوں کے باریں میں کئی بڑے فیصلے لے سکتی ہے رام دیو کا کہنا ہے پتنجلی یوگ اور آےوروید کے ساتھ لوگوں کی بہتر صحت ،تعلیم سماج اور قوم خدمت کی عوامی تحریک چلا رہا ہے ۔یہاں زاتی مفاد کی کوئی جگہ نہیں ہیں سب کچھ سماج سیوا اور دیش کے لئے ہے ۔اسی طرح سے پتنجلی کو بنایا گیا ہے ۔پتنجلی اور انڈین ایسو سی ایشن کی بہت دنوں سے لڑائی چل رہی ہے اور سب ایلوپیتھی علاج کے خلاف کھل کر بولتے ہیں ڈاکٹروں کے خلاف بھی غلط بولتے ہیں ۔انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن نے پتنجلی کے ذریعہ مختلف خطرناک بیماریوں کو ٹھیک کرنے والے گمراہ کن دعووں کے خلاف سپریم کورٹ میں دستک دی تھی یہ جنگ ابھی جاری ہے ۔دیکھنا ہے کے بابا رام دیو کو ملی چنوتی کا سپریم کورٹ اب کیا جواب دیتا ہے؟(انل نریندر)

23 نومبر 2023

کس طرف لہر ،کانگریسی یا بھاجپا ؟

گورکھپور کے ندی چوک کے قریب چائے ناشتے کی ایک دکان پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں چناﺅ کے تذکرہ ہو رہا تھا موجود لوگوں میں کانگریس اور بھاجپا کو لیکر الگ الگ رائے تھی بھاجپا اور کانگریس کو لیکر بہس ہوتی رہی اور بات اشوک گہلوت اور وسندھرا راجے تک پہنچ جاتی ہے باتوں باتوں میں ان لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کے اگر ان کی پسند دیدہ پارٹی کامیاب ہو جاتی ہے تو وزیراعلیٰ کون ہوگا ایک شخص دویندر بشنوئی کا دعوا تھا کے بی جے پی ہی کامیاب ہوگی اور وسندھرا راجے سندھیا اگلی وزیراعلیٰ ہوگیں ان کے ساتھ بیٹھے دوسرے شخص للت سنگھ کا کہنا تھا کے کانگریس کی حکومت پھر واپسی کریں گی اور اشوک گہلوت ہی وزیراعلیٰ بنیں گے یہاں ےہ بتانا ضروری ہے کہ ریاست میں ووٹروں کے دل میں یہ بات بس گئی ہے کے ہر5 سال میں تبدیلی ہوتی ہے وہ اس سے سرکار کی تمام اچھائیاں اوربرائیاں ٹٹولتے ہیں ۔اشوک گہلوت کی رہنمائی والی کانگریس حکومت اسی سیاسی چرن کو بدلنے کی پوری طاقت چھنوک رہی ہے راج نہیں رواج بندلے گا تھیم پر وہ جارحانہ طرےقے سے چناﺅ مہم میں ہے ایک سال کے دوران ان کی اسکیموں کا صاف اسر دکھائی پڑتا ہے ۔جئے پور جود پور ہائی وے سے لگے گاﺅں چترولی میں ایک خاتون مالتی سنگھ بتاتی ہیں کے زمین پر گہلوت حکومت نے بہت اچھا کام کیا ہے ان کے گاﺅں میں کوئی ایسا خاندان نہیں ہے جسے چرن چیوی کارڈ نا ملا ہو ان اسکیموں کے سبب ممکن ہے کے لوگ کانگریس کو دوبارہ ووٹ دیں لیکن ایک دوسرے شخص مکیش کمار اس دعوے سے متفق نہیں ہے اور مانتے ہیں کے ریاست میں اقتدار بدلے گا بی جے پی کی حکومت بنے گی ریاست کی 200 اسمبلی سیٹوں پر ایک مرحلے میں 25 نومبر کو چناﺅ ہونے ہیں بیشک گہلوت اور وسندھرا کے وزیراعلیٰ بننے پر ان کی پارٹیوں کی طرف سے کوئی بیان نہیں ہے لیکن لوگ اپنے اپنے اندازے لگاتے ہیں ان دونوں لیڈروں کی بدولت ہی ریاست میں دوں پارٹیاں مضبوط ہیں جود پور کے ہمانشو وتث کہتے ہےں کے یہاں کے لوگوں کے لئے کانگریس کو ووٹ دینا ہی گہلوت کو وزیراعلیٰ بنانا ہے وہیں بی جے پی کے لوگ مانتے ہےں اگر بھاجپا کامیاب ہوتی ہے تو وسندھرا وزیراعلیٰ ہوں گی اگر ان کو وزیراعلیٰ نہیں بنایا گیا تو پارٹی کے لئے ان کا ووٹ ختم ہو جائے گا جود پور کے لوگ ابھی خاموش نظر آ رہے ہیں لیکن لڑائی صرف اس بات پر نہیں کے اقتدار میں بھاجپا یا کانگریس آئی گی وزیراعلیٰ کو ہوگا جنتا اس پر بھی اپنی رائے بنائے ہوئے ہے کانگریس نے گہلوت اور بی جے پی میں وسندھرا کو وزیراعلیٰ بنانے کی چاہت رکھتے ہیں لیکن اس مخالفت کرنے والے بھی کم نہیں ہےں جے پور میں ایک شخص ابھیشیک سنگھ صرف کمل کو ووٹ ڈالتے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کے بھاجپا ریاست میں نئی لیڈر شپ دے حالانکہ حمایت اور مخالفت کی آواز وسندھرا اور گہلوت کے ارد گرد زیادہ ہے اس اندازہ لگ جاتا ہے کے ریاست کی سیاست میں ان دونوں پارٹیوں کی کتنی گہری پکڑ ہے یہیں وجہ ہے کہ دونوں کے قد کانگریس اور بھاجپا کو ریاست میں اپنی حکمت عملی طے کرنے میں ایک بہت بڑا فیکٹر رہتا ہے دیکھنا یہ ہے کے اونٹھ کس کروٹ بےٹھتا ہے کانگریس کی جانب ےا بھاجپا کی طرف۔ (انل نریندر)

آسٹریلیا نے ورلڈ کپ جیتا لیکن ٹیم انڈیا نے دل جیتا !

اس کرکٹ ورلڈ کپ میں ایک بار بھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والی ٹیم انڈیا نے دیش واسیوں کے دل میں ورلڈ کپ کی امید کو یقین میں بدل دیا تھا مگر اتوار کو ہوئے فائنل میچ امید کے برعکس رہا ۔شروع کے میچوں میں ہار کو منھ دیکھنے والی آسٹریلیائی ٹیم نے بیشک کپ جیتا ہو مگر ٹورنمنٹ میں ٹیم انڈیا نے دل جیتا ۔مین آد دا ٹونمنٹ کا خطاب وراٹ کوہلی کو ملنا تو یہی بتاتا ہے میں کوئی کرکرٹ ایکس پرٹ نہیں ہوں لیکن میری رائے میں ٹورنمنٹ میں سارے میچ چیتنا ٹیم انڈیا کو بھاری پڑ گیا ۔اگر ایک دو میچ ہار جاتے تو شائد اور یقین اور توجہ سے کھیلتے آسٹریلیائی کھلاڑیوں نے 2 میچ ہار کر جیتنے کا فن سیکھ لیا اور ہم سارے میچ جیتکر بھی فائنل میں ہار گئے ورلڈ کپ سے پہلے ٹیم انڈیا کی پرفارمینس کو لیکر سبھات جتائے جا رہے تھے فلڈنگ سے لیکر بالنگ اور آل راﺅنڈر کھیلاڑیوں کی کمی پر سوال اٹھائے جا رہے تھے ۔حالانکہ ورلڈ کپ میں ایک کے بعد 10 میچ جیت کر ٹیم انڈیا نے بتا دیا کہ وہ سپر پاوور ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے اگر ےہ میچ وان کھڑے اسٹیڈیم میں ہوتا یا ایڈن گارڈن یا فروز شاہ کوٹلہ گراﺅنڈ میں ہوتا تو شائد ٹیم انڈیا کے ہاتھوں میں کپ ہوتا کیا ٹیم انڈیا کے سپورٹنگ اسٹاف نے پچ کو ٹھیک سے دیکھا نہیں ؟وانکھڑے ،ایڈن گارڈن اور فروز شاہ کوٹلا جانی پہچانی پچ تھیں جن کے باﺅنس اور ٹرن سے ٹیم انڈیا پوری طرح سے واقف تھی لیکن سیاست کے چلتے اسے ایک ایونٹ بنانے کے خاطر اسے نریندر مودی اسٹیڈیم میں رکھا گیا جہاں وزیراعظم اور وزیر داخلہ اور تمام اہم شخصتیں پہنچی تھیں کئی ماہرین خامیاں بتا رہے ہیں ۔بے شک روہت شرما نے اچھی شروعات کی ۔لیکن جس طرح سے لانگ شورٹ مارکر آﺅٹ ہوئے وہ مایوس کن تھی شبھمن گل تو آئے اور گئے کے ایل راہل نے اتنی سلو بیٹنگ کی جس سے بھارت اچھے سکور تک نہیں پہنچ سکا ایک میچ پہلے سینچوری بنانے والے سریش ائیر نے بہت ہی گندا شورٹ مارکر اپنی وکٹ گواں دی رشبھ پنت کے زخمی ہونے کی وجہ سے کے ایل راہل کو وکٹ کیپنگ کرنی پڑی اور بیشک انہوںنے پوری کوشش کی لیکن ریگولر وکٹ کیپر کی کمی بھاری پڑی فائنل میچ دیکھنے کے جنون کے سبب احمد آباد کے ہوٹل اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ 30 گنا مہنگے ہو گئے کھیل کی دنیا میں فٹ بال کے بعد کرکٹ کا جنون سب سے زیادہ ہے کھیل میں ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے ٹیم انڈیا نے اس ورلڈ کپ میں بہت شاندار پرفورمنس دی پورے دیش کو ان پر ناز ہے اتوار کو آسٹریلیا بہترین ٹیم سابت ہوئی اور انہوںنے میچ کو پروفیشنل طریقے سے کھیلا لگتا ہے کے انہوںنے احمد آباد پچ کو بہتر ڈھنگ سے پرکھ لیا تھا اور اسی وجہ سے انہوںنے پہلے گیند بازی کو چنا اس بار ٹیم انڈیا کے کپ جیتنے کی بہت امید تھی اور کروڑوں ہندوتانیوں کا دل ٹوٹ گیا۔وزیراعظم نریندر مودی اور آسٹریلیا کے نائب وزیراعظم رچرڈ مارلیس نے بھی اس میچ کا مذا لیا آئی سی سی کی جانب سے سبھی جیتنے والی ٹیموں کے کپتانوں کو بلانے کے سبب یہ موقع یادگار رہا مہیندر سنگھ دھونی کی غےر حاضری ضرور کھلی یہ انتہائی بدقسمت مرحلہ تھا کہ پہلا ورلڈ کپ چتانے والے کپتان کو نظر انداز کیا گےا یہ بتاتا ہے کے کرکٹ میں بھی کتنی سیاست آ گئی ہے ۔ (انل نریندر)

21 نومبر 2023

اب سہارا گروپ کا کیا ہوگا؟

ایک وقت تھا جب سہارا گروپ کے پاس لندن سے لیکر نیویارک تک ہوٹل تھے ،اور اپنی ائر لائنس اور آئی پی ایل سے لیکر بہت کچھ تھا ٹیم تھی یہیں نہیں سہارا گروپ ٹیم انڈیا کو بھی اسپانسر کر تی تھی کمپنی کی پہنچ بلڈنگ تعمیرات سے لیکر مالی سیوائے سٹی ڈولپمنٹ ، میوچیول فنڈ لائف انشورینس وغیرہ سیکٹر تک تھی ۔اس کمپنی کے پاس ایم ڈی ویلی ٹاﺅنس شپ تھی، لکھنو¿ سمیت کئی شہروں میں زمین کی بڑی جائیدایں تھی ،دیش بھر میں ہزاروں ملازم اس کمپنی میں کام کرتے تھے کمپنی کا اپنا میڈیا تھا اپنے شروعاتی دنوں میں سکوٹر پر چلنے والے سہارا شری سبرت رائے سہارا کی پارٹیوں میں سیاسی اور کرکٹر سے لیکر پالی ووڈ سمیت تمام ہستیاں نظر آتی تھی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2009 میں ان کے 2 بیٹوں کی شادی میں 500 کروڑ روپے خرچ کرنے کی بات سنی گئی تھی ان میں 11 ہزار سے زیادہ مہمان شامل ہوئے اور ان کو جہازوں سے لایا گیا تھا ۔وقت بدلتا ہے جب 14 نومبر کو سبرت رائے کی موت ہوئی خبر آئی تب کمپنی کی حالت پہلے سے کافی الگ یعنی کمزور ہے ۔سہارا گروپ اپنی کئی پروپرٹی کو بیچ چکا ہے اور اب کمپنی میں گلیمر نہیں رہا اور کمپنی کی مالی حالت بہت کمزور ہے ابھی یہ صاف نہیں ہے سبرت رائے کے بعد کمپنی کی باگڈور کس کے کندھوں پر ہوگی۔ان کے دونوں بیتے بیرانی ملک میں مقیم ہےں بد کسمتی دیکھئے پتا کی چتا کو مکھ اغنی دینے کے لئے دونوں بیٹے نہیں تھے سنا ہے انہوںنے آنے سے مجبوری ظاہر کر دی تھی اپنے عروج پر چل رہے گروپ سہارا کے 4799 دفاتر اور16 طرح کے کاروبار تھے لیکن نئے ماحول میں گروپ کو بچا پانا مشکل لگتا ہے سبرت رائے نے گورکھپور پالی ٹےکنک سے پڑھائی کرکے ڈپلومہ حاصل کیا تھا سبرت رائے کے والد ایک چینی میل میں کیمیکل انجیئر تھے اور وہ بہت ملن سار شخص تھے ایسا شخص آج کے دور میں ملنا مشکل ہے ۔فائیننس میں آنے سے پہلے سبرت رائے چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے پہلے انہوںنے نمکین کی فیکٹری لگائی اور نمکین کو پیکج کرکے فروخت شروع کی 70 کی دھہائی کے آغاز میں ایک کمپنی بنارس چٹ فنڈ کے ڈائریکٹر گورکھپور آئے تھے جن سے ان کی ملاقات ہوئی تھی اجئے چٹر جی مہانا 15 روپے پر کمپنی کے ممبر بن گئے اور سبرت رائے کو بھی اس کمپنی کا ممبر بناےا اور کچھ عرصے کے بعد یہ کمپنی سبرت رائے کو مل گئی اس طرح سال 1978 میں سہارا کی شروعات ہوئی جب سبرت رائے ویر بہادر اور ملایم سنگھ یادو جیسے لیڈروں کے قریب آئے کئی لوگوں کے پاس پکے گھر تک نہیں تھے لیکن انہیں ایک اچھے مستقبل کی امید تھی اس کی بنیاد پر وہ اپنی محنت کی کمائی کا ایک حصہ بچاکر سہارا کو دیا کرتے تھے ان کے مستقبل کے لئے ضرورتوں شادی پڑھائی وغیرہ کے لئے پیسے جمع کروا رہے تھے واقف کاروں کے مطابق 80 کی دھہائی میں اسی امید کے بھروسے لاکھوں غریب اور محروم لوگ سہارا سے جڑے ،کمپنی پر بھروسہ اس کے فروغ کا بڑی بنیاد تھا ،سبرت رائے کو سرکاری قوائد میں بھروسہ نہیں تھا سہارا کے لئے پریشانی کا دور اس وقت شروع ہوا جب سہارا کی دو کمپنیوں نے 3 کروڑ سرمایا کاروں سے 24 ہزار کروڑ اکھٹے کئے اور بازار میں لگایا سیبی کی نگاہ اس پر پڑی اور اس کی چیئرمین مادھوری پوری نے کہا کے سہارا کے بانی سبرت رائے کے کی موت کے بعد بھی سرمیا بازار ریگوللیٹری گروپ کے خلاف مقدمہ جاری رکھے گی اور سرمایا کاروں کو وارسی کے لئے سیبی نے کہا سبھی سرمایا کاروں سے پیسا واپس دلانے کے لئے کارروائی جاری رہے گی۔ (انل نرےندر)

نتن ےاہو کے خلاف غصہ کیوں بھڑک اٹھا!

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے خلاف جہاں دنیا میں غصہ بڑھ رہا ہے وہیں ان کے اپنے ملک اسرائیل میں بھی ان کے خؒاف زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں ان کے استعفیٰ کی مانگ یروشلم کی سڑکوں پر کی جا رہی ہے ۔کچھ اسرائیلیوں کا الزام ہے کے نتن یاہو نے اپنے سیاسی مفاد کے لئے اسرائیل کو اس جنگ میں جھونکا ہے تو کچھ کا کہنا ہے کہ اسرائیلیوں کا غصہ یرغمالوں کو چھڑانے میں ڈھیل کے خلاف ہے لوگ سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے اسرائیل میں اچانک حملوں سے ملک کو جھجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ساتھ ہی پوری دنیا بھی پریشان ہے اسرائیل اور حماس کی جنگ کی وجہ سے سینکڑوں اسائیلیوں کی موت ہو گئی ہے اور ابھی بھی 200 سے زیادہ لوگ حماس کے قبضے میں ہیں 1 مہینے سے زیادہ ہو گیا ہے جنگ جاری رہتے ہوئے ابھی تک اسرائیل ان یرغمالوں کو جھڑا نہیں پایا ہے اور یرغمال بنائے گئے لوگ اپنے گھر نہیں پہنچ پائے اس کو لیکر لوگوں میں کافی غصہ پایا جاتا ہے اسرائیل میں پچھلے کئی مہینوں سے عوام میں نراضگی چل رہی ہے ۔اس کی وجہ بنجامن نتن یاہو کا ایک فیصلہ ہے ۔وست مشرق میں جتنے بھی ملک ہیں ان میں سے کچھ ہی ہیں جہاں جمہوری نظام ہے ۔اسرائیل کی پہچان ایک جمہوری ملک کے طور پر ہوتی ہے ۔حالانکہ کچھ وقت سے اس کی جمہوری بنیاد ہلی ہوئی ہے وجہ یہ ہے کہ ملک میں آگ لگ گئی ہے لوگ سڑکوں پر اتر کر سرکار کے خلاف مظاہرے کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔اسرائیل ملک کا رگبا ہماری نارتھ ایسٹ ریاست منی پور کے برابر ہے اگر آبادی کی بات کریں تو وہ منی پور سے 3 گنا زیادہ ہے ۔اسرائیل کی آبادی تقریباً93 لاکھ ہے لیکن ملک بھلے ہی چھوٹا ہو مگر مالی اور فوجی طاقت کے لحاظ سے بہت مظبوت ہے ایسے طاقتور خوش حال دیش میں ناراضگی کیوں؟وزیراعظم نتن یاہو سپریم کورٹ میں اصلاح کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے وہ ایک بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرایا گیا؟جنوری میں ہی نتن ہایو نے اشارہ کر دیا تھا کہ سپریم کورٹ میں اسلاح کی جائیگی اسے لیکر لوگوں میں غصہ بھوٹ گیا ہے اور تب سے ہی ملک میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں بل کے پاس ہونے کے بعد لوگ اور بھڑک گئے ۔شائد ہی کوئی ایسا شہر بچا ہو جہاں سرکار کے خلاف مظاہرے نہ ہوئے ہوں واضح ہو نتن یاہو سپریم کورٹ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے پلان کے تحت ایک بل لایا جائے گا جس سے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کیا جائے ۔اسرائیل میں سرکار کی طاقت بنام عدالت کی طاقت کا کھیل چل رہا ہے اسرائیلی سپریم کورٹ کے پاس سرکار کے فیصلوں کو پلٹنے کے اختیارات ہیں ۔سرکار کا کہنا ہے سپریم کورٹ میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیوں کہ ججوں کے پاس منتخب ممبر پارلیمنٹ سے زیادہ طاقت ہے یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ بار بار سرکار کے فیصلوں میں دخل اندازی کر رہی ہے ۔بل کے تحت 3 اہم اصلاحات ہونی ہیں قانون کے جائزہ لینا یا انہیں خارج کرنے کے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور کرنا اس کے لئے پارلیمنٹ میں ایک غےر معمولی اور بہت سے ایسے فیصلوں کو خارچ کرنے کی اختیار دینے کے سسٹم کو بنانا سپریم کورٹ سمیت عدالتوں میں کس جج کو مقرر کیا جائیگا اس کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل کرنا یا آسان زبان میں کہیں کے سرکار کے پاس سارے اختیارات ہیں اور سپریم کورٹ محض ایک ادارہ ہے جو اسے قابو میں رکھتا ہے تاکہ دیش میں تانہ شاہی نہ بڑھے وہیں لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے اختیارات کم کئے گئے تو تانہ شاہی بڑھ جائیگی اسی کو لیکر اسرائیلی عوام وزیراعظم نتن یاہو کے خلاف سڑکوں پر اتری ہوئی ہے۔(انل نریندر)

18 نومبر 2023

اڈانی کی وجہ سے ممتا مہربان!

ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی نے گوتم اڈانی سے دوری بنانے کے لئے ان کی ایم پی مہوا موئترا کے تئیں اپنے رویہ میں نرمی لائی ہیں ۔انہیں ڈسٹرکٹ چیئرمین بنایا گیا ہے اور آگے لوک سبھا کا ٹکٹ پھر سے دے گی ۔اڈانی بنگال میں کول بلاک کے لئے کوشش میں لگے ہیں ۔اس کا مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی اور مقامی تنظیمیں مخالفت کررہی ہیں ۔ویر بھوم ضلع میں دیوچا پچاوی کول بلاک دنیا کی سب سے بڑی کوئلہ کان ہے جس میں تقریباً 1,198 ملین ٹن کوئلہ اور 1400 ملین ٹن سالٹ ہے، اڈانی کی اسی پر نظر ہے ۔اس کوئلہ بلاک سے بڑی تعداد میں قبائلی متاثر ہوں گے ۔ایسے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اڈانی کو ہی کوئلہ بلاک ملے گا ۔اس لئے سیاسی پارٹی اور قبائلی تنظیمیں احتجاج کررہی ہیں ۔ایسے میں ترنمول کانگریس کو لگا اگر وہ مہوا موئترا کے خلاف کاروائی کرتی ہیں تو دیش میں یہ پیغام جائے گا اس نے اڈانی کی مخالفت کرنے والی ایم پی کا ساتھ نہیں دیا ۔مہوا اکثر اڈانی پر حملہ آور رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ترنمول کانگریس نے اڈانی سے دوری دکھانے کے لئے اپنی ایم پی مہوا موئترا کے تئیں نرم رویہ اپنا لیا ہے ۔پارٹی نے انہیں تنظیم میں جگہ دیتے ہوئے کرشنا نگر ضلع کا چیئرمین بنایا ہے ۔آگے لوک سبھا کا ٹکٹ بھی دیں گی ۔ایم پی پارلیمنٹ میں رشوت لے کر سوال پوچھنے کے معاملے میں جب ترنمول ایم پی مہوا موئترا کے خلاف الزام لگتے تھے تو پارٹی نے ان سے دوری بنا لی تھی اس درمیان ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی نے اپنی ایم کے بچاو¿ میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔پہلے ترنمول کانگریس کی لائن یہی تھی کہ جس ایم پی پر الزام لگے ہیں وہی اپنا بچاو¿ کرے ۔اس وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں نے مہو اموئترا سے منھ موڑ لیا ۔اس لئے وہ اکیلی پڑ گئی تھیں ۔لوک سبھا کی کمیٹی نے اسپیکر کو ترنمول کانگریس ایم پی مہوا کی ممبر شپ ختم کرنے کی سفارش کی ہے اس سفارش کو پارٹی اب جانب دارانہ مانتی ہے ۔کمیٹی میں کیپٹن امریندر سنگھ کی بیوی اور معطل ایم پی پرنیت کور نے مہوا کے خلاف ووٹ دیا تھا جس سے اکثر مہوا کے خلاف رہیں ۔مہوا نے اپنی نئی تقرری کے لئے پارٹی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کیا ہے ۔تنظیمی ذمہ داری دینے کے پیچھے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ اس سے یہ پیغام دیا ہے کہ پارٹی مہوا کے ساتھ ہے۔ایک دوسرے طبقے کے مطابق اگر مہوا کو سزا کے طور پر اگلے لوک سبھا چناو¿ میں نہیں کھڑا کیا گیا تو پارٹی ان کا غلط استعمال کر سکتی ہے ۔حکمراں پارٹی نے ایک انتظامی ضلع کے کئی تنظیمی اضلاع میں تقسیم کر دیا ہے اس سے پہلے مہوا نادیہ ضلع کی صدر تھیں ۔لیکن اب ترنمول نے کرشنا نگر رانا گھاٹ میں بھی تقسیم کر دی تو مہوا کو تنظیم کی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی وہ صرف ایم پی کی شکل میں کام کررہی تھیں ۔ترنمول نے ضلع سطح پر بڑی ترمیمی رد وبدل کی ہے ۔ضلعوں کی نئی کمیٹیاں بنائی گئیں اور کئی بڑے لیڈروں کے نام غائب ہیں اور کئی بڑے نام جوڑے گئے ہیں ۔پارٹی نے یہ صاف پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی ایم پی مہوا موئترا کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں ۔ (انل نریندر)

اقتصادی جرائم پیشہ افراد کو ہتھکڑی نہ لگائی جائے !

کیا اقتصادی جرائم پیشہ کو ہتھکڑی لگائی جانی چاہیے یہ سوال کئی مرتبہ اٹھ چکا ہے اب پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے کہا ہے کہ اقتصادی جرائم پیشہ افراد کے لئے حراست میں لئے گئے لوگوں کو آبروریزی اور قتل جیسے گھناو¿نے جرائم کے ملزمان کی طرح ہتھکڑی نہ لگائی جانی چاہیے ۔بھاجپا ایم پی برج لال کی صدارت میں داخلی امور سے متعلق قائمہ پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ سفارش کی ہے ۔رپورٹ مجوزہ قانون آئی پی سی (بی این ایس2023- ، ہندوستانی سول سیکورٹی کورٹ )بی این ایس 2020- ، 231 اور آئی پی سی ایکٹ یعنی (بی ایس اے 2023- ) سے متعلق ہے۔گزشتہ 11 اگست کو لوک سبھا میںپیش کئے گئے یہ تین بل قانون بننے پر آئی پی سی کی دفعہ 1860 سزا عمل کوڈ اور ہندوستانی ثبوت ایکٹ ، 1872 کی جگہ لیں گے ۔کمیٹی کی رپورٹ گزشتہ جمعہ کو راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کو سونپی گئی ہے ۔پارلیمانی کمیٹی کے مطابق اسے لگتا ہے کہ ہتھکڑی کا استعمال سنگین جرائم کے ملزمان کو بھاگنے سے روکنے اور گرفتاری کے دوران پولیس حکام و کرمچاریوں کی سیکورٹی یقینی کرنے کے لئے چنندہ گھناو¿نی جرائم تک محدود ہے ۔بہرحال کمیٹی کا خیال ہے کہ اقتصادی جرم کو اس زمرے میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے ۔اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایسا اس لئے ہے کیوں کہ اقتصادی جرم لفظ میں جرائم کی ایک مفصل سیریز شامل ہے ۔اس کٹیگری کے تحت آنے والے سبھی معاملوں میں ہتھکڑی لگانا مناسب نہیں ہو سکتا ۔کمیٹی نے کہا ہے کہ اس لئے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ پارٹ 43(3 ) کو اقتصادی جرم کو لفظ سے ہٹانے کے لئے موضوع طور سے ترمیم کیا جا سکتا ہے ۔بی این ایس ایس کے پارٹ 43(3) میں کہا گیا ہے پولیس افسر جرم کی نوعیت اور سنگینی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی ایسے شخص کو گرفتار کرتے وقت ہتھکڑی کا استعمال کر سکتا ہے جو عادتاً مجرم ہے ۔جو حراست سے بھاگ گیا ہے یا جس نے منظم جرم دہشت گردانہ حرکت جیسے جرم ،نشیلی دباو¿ں سے متعلق جرم کیا ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بیشک برتاو¿ کو دیکھ کر سنگین سے سنگین جرائم میں قصوروار شخص کے تئیں بھی قانون نرمی برتتا رہا ہے ۔اور رویہ اور اس کے برتاو¿ کے تئیں سنجیدگی دکھانے ،قانون کی سماج کے تئیں حساسیت بھی دکھانی پڑتی ہے ۔لیکن یہاں غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ معاملہ صرف رویہ بھر کا نہیں ہے ۔زیادہ تر اقتصادی جرم جان بوجھ کر کیا گیا ہوتا ہے اور منظم طریقے سے انجام دیا جاتا ہے ۔ایسے مجرم کے تئیں نرمی سے الگ ہے ۔اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ ایسے جرم میںزیادہ تر مطلوب افراد دیر سے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔ (انل نریندر)

16 نومبر 2023

لوک سبھا ،اسمبلیوں کے ایک ساتھ چناو ¿ ؟

لوک سبھا اور اسمبلیوں کے چناو¿ ایک ساتھ کرانے کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو الگ 30 لاکھ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کی ضرورت ہوگی ۔اور اس کے لئے ڈیڑھ سال کا وقت لگے گا۔ذرائع نے یہ جانکاری دی ہے کہ دیش میں ایک ساتھ چناو¿ کرانے پر غور و خوض تیز ہونے کے درمیان الیکشن کمیشن نے کچھ مہینوں پہلے لاءکمیشن کو مطلع کیا تھا کہ اسے ای وی ایم کو رکھنے کے لئے درکار اسٹور سہولیات کی ضرورت ہوگی ۔ایک ساتھ لوک سبھا اور اسمبلیوں کے چناو¿ کرائے جانے پر ایک طریقہ پر کام کررہے آئینی کمیشن نے الیکن کمیشن کے ساتھ اس کی ضرورتوں اور چیلنجوں پر بات کی تھی ۔اس بات چیت میں واقف ذرائع نے کہا کہ بہت کچھ اس بات پر منحصر کرے گا ۔کہ اس طرح کی قواعد کب ہوگی۔ایک ملک ،ایک چناو¿ پر سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی سربراہی میں بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی آئین کے تحت موجود ڈھانچے اور دیگر آئینی تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے لوک سبھا ریاستی اسمبلیوں اور میونسپل کارپوریشنوں اور پنچایتوں کے چناو¿ ایک ساتھ کرانے پر غور کررہی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ایک ای وی ایم میں ایک کنٹرول یونٹ کم سے کم ایک بیلٹ (یونٹ)ایک ووٹر ویریول پیپر آڈٹ ٹریل (ریویپیٹ یونٹ ) ہوتا ہے ۔کمیشن کو ایک ساتھ چناو¿ کرانے کے لئے قریب 30 لاکھ کنٹرول یونٹ یعنی تقریباً 43 لاکھ بیلٹ یونٹ اور تقریباً 32 لاکھ وی وی پیڈ کی ضرورت ہوگی۔لوک سبھا اور اسمبلیوں کے چناو¿ ایک ساتھ کرانے کے لئے 35 لاکھ ووٹنگ یونٹ ، بیلٹ یونٹ اور وی وی پیٹ یونٹ کی کمی ہے ۔جب کچھ ریاستوں میں لوک سبھا اور اسمبلی ایک ساتھ ہوتے ہیں تو ووٹر دو الگ الگ ای وی ایم میں اپنا ووٹ ڈالتے ہیں ۔فی الحال لوک سبھا چناو¿ میں 12.50 لاکھ پولنگ مرکز تھے ۔کمیشن کو اب اتنے پولنگ مرکز بوتھ کے لئے تقریباً 15 لاکھ کنٹرول یونٹ ،15 لاکھ وی وی پیٹ یونٹ اور 18 لاکھ بیلٹ یونٹ کی ضروت ہے ۔الیکشن کمیشن نے ایک پروگرام میں اداکار راج کمار راو¿ کو اپنا قوامی آئیکون مقرر کیا ہے ۔عام آدمی کو پولنگ کے لئے وہ راغب کریں گے ۔ (انل نریندر)

ڈیپ فیک ویڈیو کی بھرمار!

بالی ووڈ ایکٹریس رشمیکا مندھانا آج کل شرخیوں میں ہیں اور اس کے ساتھ ڈیپ فیک تکنیک کو لیکر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔پشپا جیسی کامیاب فلموں سے الگ پہچان بنانے والی رشمیکا مندھانا کی چرچا فی الحال ایک وائرل ویڈیو کو لیکر ہو رہی ہے ۔20 فیک ویڈیو کے ذریعے تیار اس میں نظر آرہی ایک عورت کو رشمیکا مندھانا کی طرح دکھانے کی کوشش کی گئی ۔رشمیکا نے اسے لے کر دکھ ظاہر کیا ہے اور جلدی سے جلدی اس کا حل تلاشنے کی اپیل کی ہے ۔جس سے کسی اور کا اور ان کے جیسی تکلیف نہ جھیلنی پڑے ۔رشمیکا نے شوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ایمانداری سے ، ایسا کچھ بھی بہت ڈراونا ہے ۔نہ صرف میرے لئے بلکہ ہم سبھی کے لئے ۔انہوں نے آگے لکھا کہ آج تکنیک کا جس طرح سے بے جا استعمال ہو رہا ہے اس سے نہ صرف انہیں بلکہ تمام دوسرے لوگوں کو بھی بھاری نقصان ہو سکتا ہے ۔آج ایک عورت ایک اداکارہ ہونے کے ناطے میں اپنے پریوار ،دوستوں اور اپنے ہمدردوں کی شکر گزار ہوں جو میرے محافظ ا ور سپورٹ سسٹم ہیں لیکن ایسا کچھ تب ہوتا جب میں اسکول یا کالج میں تھی تو میں سچ میں تصور نہیں کر سکتی ہوں تب میں نے اس کا کیسے سامنا کیا ہوتا ۔وہیں مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ شوشل میڈیا پلیٹ فارم کو یہ یقینی کرنی چاہیے کہ کس انفارمیشن ،ان کے پلیٹ فارم پر شیئر نہ کیا جائے ۔اداکارہ رشمیکا مندانا کا ڈیپ فیک ویڈیو کا فیکٹ چیک کرنے والے ایک شخص نے دی ہے ۔فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوز سے جڑے ایکسپرٹ نے ایکس پر بتایا یہ ویڈیو ڈیپ فیک تکنیک کا استعمال کرکے بنایا گیا ہے اور ویڈیو میں نظر آنے والی عورت رشمیکا مندھانا نہیں ہے ۔ڈیپ فیک کیا ہے ؟ڈیپ فیک ایک تکنیک ہے جس میں اے آئی کا استعمال کرکے ویڈیو ایمیجوں کو اور آڈیو میں ہیر پھیر کیا جا سکتاہے۔اس تکنیک کی مدد سے کسی دوسرے شخص کی فوٹو اور ویڈیو پر کسی اور چہرہ لگا کر اسے بدلا جا سکتا ہے ۔آسان زبان میں کہیں تو اس تکنیک میں اے آئی کا استعمال کرکے ڈیپ فیک ویڈیو بنائی جا سکتی ہے جو دیکھنے میں ریئل لگتی ہے لیکن ہوتی فیک ہے اسی وجہ اس کا نام ڈیپ فیک رکھا گیا ۔رپورٹ کے مطابق اس لفظ کا چلن 2017 میں شروع ہوا جب ایک ریڈر یوزر نے فحش ویڈیو میں چہرہ بدلنے کیلئے اس تکنیک کا استعمال کیا تھا بعد میں ریڈر نے ڈیپ فیک پورن کو بین کر دیا تھا ۔ڈیپ فیک بے حد پیچیدہ تکنیک ہے اس کے لئے مشین لرننگ یعنی کمپیوٹر میں صلاحیت ہونی چاہیے ۔ڈیپ فیک کیرٹ ،ڈیپ فیک ہورر ۲ الگوردم کا استعمال کرکے بنائی جاتی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے ۔ایک ڈکوڈر کہتے ہیں تو دوسرے کو انکوڈر اس میں فیک ڈیجیٹل مواد بناتا ہے اور ڈکوڈر اے یہ پتہ لگانے کو کہتا ہے کہ موجودہ مواد ریئل ہے یا نقلی ۔ہر بار ڈکوڈر کنٹینٹ کو ریئل یا فیک کی شکل میں صحیح ڈھنگ سے پہچانتا ہے پھر وہ اس جانکاری کو انکوڈر کو بھیج دیتی ہے تاکہ اگلے ڈیپ فیک میں غلطیاں سدھار کر اسے اور بہتر کیا جاسکے ۔پورنو گرافی میں اس تکنیک کو کافی استعمال ہوتا ہے ۔ایکسرس اور ایکسٹرینس کا چہرہ بدل کر فحشی مواد پورن سائٹ پر پوسٹ کیا جاتا ہے ۔ڈیپ ڈریس کی رپورٹ کے مطابق 2019 میں آن لائن پائے گئے ڈیپ فیک میں 96 فیصد فحشی مواد کا ڈیپ فیک مواد میں کلرنگ کو دیکھ کر بھی پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ تصویر میں یا ویڈیو میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔اکثر ڈیپ فیک تک کی بنیاد فینس اور سائنس کو پوزیشن میں مات کھاجاتا ہے ۔ (انل نریندر)

14 نومبر 2023

نگرانی کے لئے اسپیشل بینچ بنائے !

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے کے تحت دیش بھر کی ہائی کورٹ سے پبلک نمائندوں کے خلاف زےر التوا مجرمانہ موقدموں کی نگرانی کے لئے ایک اسپیشل بینچ بنانے کی ہدایت دی تاکہ ان مقدموں کا جلد نپٹارا یقینی کیا جا سکے ۔اس حکم کا مقصد نیتاﺅ کے خلاف 5 ہزار سے زیادہ معاملوں میں فوری سماعت ہے بڑی عدالت نے خصوصی عدالتوں سے یہ بھی کہا کہ وہ پیچیدہ اور مجبوری اسباب کو چھوڑ کر ایسے معاملوں کی سماعت ملتوی نہ کریں ۔سپریم کورٹ نے کہا معاملوں کی نگرانی کے لئے اسپیشل بےنچ کی سربراہی ےا تو چیف جسٹس خود کریں یا کسی بینچ کو نامزد کریں ۔ان معاملوں کو لیکر سرکاری خاکہ تیار کریں اور ایک ویب سائٹ بنیں جس میں ضلہ وار حالات اور تفصیل ہو کی وہا کتنے مقدمیں لٹکے پڑے ہیں سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ضلع ججوں سے معاملوں کو نپٹانے کے لئے وقتا فو وقتارپورٹ لیتے رہیں ۔اور کہا اس ویب سائٹ میں ممبر پارلیمنٹ اور ممبر اسمبلی کے خلاف لٹکے معاملوں کی رپورٹ مسلسل ڈالی جائے دراصل ایمپیز ایم ایلیز کے خلاف بڑھتے مجرمانہ معاملوں کو دیکھتے ہوئے سپرےم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ان سبھی ریاستوں میں ایم پی ایم ایل اے کورٹ بنانے کا حکم دیا تھا جہاں پر ان پبلک نمائندوں کے خلاف 65 سے زیادہ معاملے لٹکے پڑے ہیں ۔سنگین جرائم میں الزام طے ہوئے ہی چناﺅ لڑنے پر روک سے متعلق سپریم کورٹ آگے سماعت کرکے حکم جاری کرے گا ۔اب ریاستی حکومتیں ممبر پارلیمنٹ اور ممبر اسمبلی پر چل رہے مجرمانہ کیس خود واپس نہیں لے سکیں گی اس کے لئے ریاستی ہائی کورٹ کی منظوری لینی ہو گی سپریم کورٹ نے یہ فےصلہ اس عرضی پر کیا ہے جس میں یہ بات کہی گئی تھی ۔بےنچ نے ستمبر 2020 کے بعد ایم پی اور ممبران اسمبلی پر کیس واپس لئے گئے معاملے دوبارہ کھلونے کو کہا ہے چےف جسٹس ڈی وائی چندر چور جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشر کی بینچ نے وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی مفاد عامہ کی عرضی پر ایسے کیس جلد نپٹانے کے لئے موت کی سزا والے معاملوں کو ترجحی دینے کے لئے درخواست کی گئی تھی بےنچ نے کہا چیف جسٹس پبلک نمائندوں کے لئے نامزد عدالتوں کے سلسلے میں اب خود نوٹس لیکر مقدمہ درج کریں گے اور معاملوں کو اسپیشل بینچ کے سامنے اندراج کر سکتے ہیں جس میں مقدمہ پر روک کے حکم پاس کئے گئے ہیں تاکہ کیس کی شروعات اور اختتام کے لئے روزانہ کے حکم پاس یقینی ہو ں سکے بڑی عدالت نے بتایا ایسے معاملوں کے لئے دیش بھر کی ٹرائیل عدالتوں کے لئے ےکسہ گائڈ لائنس بنانا اس کے لئے مشکل ہوگا۔ایسے میں حالانکہ نگرانی کے قدم اٹھانے کے ذمہ داری ہائی کورٹ کو دے دی ہے اور اس لئے یہ مناسب بھی ہے کیوں کہ وہیں خانہ پوری اور انتظامی ستح پر ان مقدموں سے نمٹ رہے ہیں اور ہر ضلع عدالتوں میں مقدمات کی پوزیشن کو اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔ (انل نرےندر)

اور اب اسپتالوں پر تابڑ توڑ حملے !

شمالی غزہ میں اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے درمیان اسپتالوں زیرعلاج اور عملے سمیت ہزاروں لوگوں کے لئے خطرہ پیدا ہو گیا ہے ہوائی حملوں کے ساتھ زمینی لڑائی بھی جاری ہے ۔اسرائیلی فوج غزہ کے بڑے اسپتالوں الشفہ القدوس الرینتسی انڈونیشیا اسپتال کے قریب پہنچ گئی ہے ان اسپتالوں میں زخمیوں اور مریضوں اور میڈیکل اسٹاف کے علاوہ ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں جن ہوںنے حفاظت کے لئے یہاں پناہ لی ہوئی ہے ۔جشموں دید نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کے دن اسپتالوں کے پاس سے گولا باری اور دھماکوں کی آوزیں آتی رہی ہیں اور ایک ویڈیوں میں ایک عورت کہہ رہی تھی الرینتسی اسپتال کو اسرائیلی ٹینکوں نے گھیر لیا ہے اور سب کو نکلنے کو کہا ہے۔اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ ویڈیو اس اسپتال کی ہی ہے اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کے ٹینکوں نے الشفہ اسپتال کو بھی گھیر لیا ہے اسپتال کے نیچے بنی سرنگوں سے اپنی کارروائیاں چلانے کا الزام اسرائیل حماس پر لگاتا رہا ہے حماس ان الزامات کو غلط بتا رہا ہے۔ریڈ کراس کی انٹرنیشنل کمیٹی نے خبردار کیا ہے کے شمالی غزہ کے اسپتال کے اس دور میں پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ پہلے کبھی نہیں پہنچ پائے اس وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جان کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔غزہ میں شہر کے چاروں طرف بنے اسپتالوں میں کشیدگی کے حالات بنے ہوئے ہیں غزہ کے ایک شخص خان یونس نے بتایا کہ الشفا اسپتال کے اندر سے موجود لوگوں کو دھماکوں اور گولا بازی کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اسپتال کے ڈائرکٹر کے کہنا ہے کہ اسپتال کے اندر 15 ہزار لوگ ہیں ان میں وہ بھی شامل ہیں جو پاس میں بنے پناہ گوزی کیمپ سے بھاگ کر جان بچانے کے لئے آئے ہوئے ہیں کچھ لوگ اسپتال سے جا چکے ہیں کیوں کہ اب وہ ان کے لئے محفوظ نہیں رہا ہے اسپتال میں وہی لوگ ہیں جو بزرگ اور بیمار ہیں ان کی تعداد زیادہ ہے یہ لوگ جنوبی غزہ کی طرف سے جا سکتے جسے اسرائیل محفوظ پتا رہا ہے زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں برادموں اور فرش پر رکھا ہو اہے غزہ سٹی کے انستر اسپتال کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جس میں بچوں اور بزرگوں سمیت کچھ لوگ سفید جھنڈے دکھاتے ہوئے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اور دھماکہ کی آواز سنائی دےنے پر یہ لوگ پھر واپس اسپتال آ گئے ۔تقرےباً یہ تئے تھا جب اسرائیل فوج جب اسرائیل میں داخل ہوں گی تو ان بڑے اسپتالوں کی طرف بھی رخ کریں گی ایسا اس لئے کیوں کہ اسرائیل پہلے سے ہی حماس پر اسپتالوں سے اپنی کارروائیاں چلانے کا الزام لگاتا رہا ہے ۔اس جنگ کو 35 دن ہو چکے ہیں حما س کے تحت کام کرنے والے وزارت صحت نے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 11 ہزار سے زےادہ لوگوں کی جان گئی ہے اور ہزاروں زخمی ہیں 7 اکتوبر کو ہوئے حماس کے حملے میں 1200 ساہیلیوں کی موت ہو گئی تھی اور 240 لوگوں کو ےلگمار بنا لیا تھا اسرائیلی فوج کا کہنا ہے پچھلے 2 دن میں 1 لاکھ لوگ جنوبی غزہ کی طرف چلے گئے ہیں ۔ (انل نرےندر)

11 نومبر 2023

باربار زلزلے کے جھٹکے !

ایک برس کے اندر نیپال میں آئے 5 زلزلوں سے راجدھانی کے لوگ بھی ڈرے ہوئے ہیں چوکہ ان کی رفتار زیادہ رہی ہے اس کے علاوہ زلزلے کے جھٹکے این سی آر تک محسوس کئے گئے ان میں دو جھٹکے دہلی میں بھی محسوس ہوئے حالانکہ کسی جان مال کا نقصان نہیں ہوا نیشنل زلزلہ مرکز کے مطابق پیر کی شام 4:16 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے اس کا مرکز سطح سے 10 کلو میٹر نیچے نیپال میں تھا اور اس کی رفتار 5.6 رختر اسکیل کی تھی اس میں نیپال میں کافی تباہی ہوئی اور 150 لوگ مرے اب تک 14 زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں یہ چھوٹے چھوٹے رہے لیکن پیر کو دہلی میں بھی 10 سیکنڈ تک چھٹکے آتے رہے نیپال کے لوگوں کے دل میں سال2015 میں آئے زلزلے کی یادیں تازہ ہو گئیں جب 9000 لوگ مارے گئے تھے اور کئی قصبے سدیو پرانے مندر اور دیگر تاریخی عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئی تھی اور 10 لاکھ سے زیادہ مکان نیست نابود ہو گئے تھے۔(انل نرےندر)

ایٹم بم گرانے کی دھمکی

حماس سے جاری جنگ کے درمیان اسرائیل کے وزیر اومی چائی ایلی یاہو نے اتوار کو غزی پٹی پر نیوکلیائی حملے کا مشورہ دیا تھا اور اس کے بعد چو طرفہ نقطہ چینی کے بعد وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے انہیں برخاست کر دیا ایلی یاہو اسرائیل کی حکومت میں کٹر پنتھی اوٹ زمہ یہودی پارٹی کے ممبر ہیں ایک ریڈیو ملاقات میں یروشلم معاملے و وراثت وزیر ایلی یاہو نے کہا غزہ میں کوئی ایسا نہیں ہے جو لڑنہیں رہا ہے تو کیا وہاں نیوکلیائی بم گرانے کا کوئی متابادل ہو سکتا ہے یہ ایک راستا ہو سکتا ہے ان کے اس تبصرے سے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمراءپارٹی کے نیتا بھی ناراض ہو گئے تھے اور انہیں سرکار سے برخاست کرنے کی مانگ ہونے لگی دیش کے وزیر دفعہ معوف غےلنٹ ایلی یاہو کے بیان کو بے بنیاد بتایا اور کہا ایسے لوگ اسرائیلی سیکیورٹی کے ذمہ دار نہیں ہیں اپوزیشن کے لیڈر لپڈ نے بھی ایلی یاہو کے بیان کو غیر ذمہ داران بتایا اور اس سے کنارا کر لیا غزہ کو انسانی مدد ملنے کے خلاف بھی آواز اٹھائی گئی شکر ہے ایلی یاہو کی تجویز کو سبھی فریقین نے مسترد نہیں کیا تو یقینی طور سے تیسری جنگ عظیم چھڑ جاتی۔(انل نرےندر)

عدالت کے فیصلے کو حکومت خارج نہیں کر سکتی!

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چور نے سنیچر کو کہا کہ آئین سازیہ عدالے کے فیصلے میں خامی کو دور کرنے کے لئے نیا قانون نافذ کر سکتی ہے لیکن اسے سیدھے طور پر خارج نہیں کر سکتی چیف جسٹس آف انڈیا نے راجدھانی میں ایک پروگرام میں کہا کہ جج صاحبان اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ جب وہ مقدموں کا فیصلہ کریں گے تو سماج کیا کہےگا حکومت کی منتخب برانچ و عدلیہ میں یہیں فرق ہے ان کا کہنا تھا کہ ججوں کو جنتا سیدھے طور پر نہیں چنتی یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ عدلیہ کی ایک طاقت ہے یہیں وجہ ہے کہ عدلیہ فیصلہ دیتے وقت انتظامیہ کی طرح جنتا کی ناراضگی کے تینںدیدھے طور پر جواب دے نہیں ہوتی بلکہ آئین کے تینں جواب دہہ ہوتی ہے جج آئینی اقدار کی تعمیل کرتے ہیں اس کی ایک حد ہے کہ عدالت کا فیصلہ آنے پر آئین سازیہ کیا کر سکی ہے اور کیا نہیں کر سکتی اگر کسی خاص اشو پر فیصلہ دیا جاتا ہے تو آئین سازیہ اس خامی کو دور کرنے کے لئے نیا قانون لا سکتی ہے ۔آئین سازیہ یہ نہیں کر سکتی ہمیں لگتا ہے کہ فیصلہ غلط ہے اور اس لئے ہم فیصلے کو خارج کرتے ہیں آئین سازیہ کسی بھی عدالے کے فیصلے کو سیدھے خارج نہیں کر سکتی انہوںنے یہ بھی کہا جج قدموں کو فیصلہ کرتے وقت آئینی اخلاقیات کو ذہن میں رکھتے ہیں نہ کے سماجی اخلاقیات کو ۔اس سال کم سے کم 72 قدموں کا نپٹارا ہوا ہے اور ابھی دےڑھ مہینہ باقی ہے عدلیہ میں ریاستی ستہہ پر کچھ ڈھانچے بندی رکاوٹیں ہےں اگر یکسا موقع پر اور جگہ دستیاب ہوں گی تو زیادہ عورتیں عدلیہ میں آئیں گی ۔دراصل جمہوریت کی تشکیل کے تریقوں میں ہوتا ہے اور دونوں ایک ساتھ ہی جمہوریت کے تیسرے حصہ انتظامیہ کو مل کر اپنی ذمہ داری نبھانی ہوتی ہے اور ذمہ داریوں میں ملن ساری کے ساتھ ہی جمہوری نظام کے ان ستون سے توقعات اور تقازہ بھی سیرے سے ملے ہوتے ہیں ظاہر ہے کہ تینوں حصے ایک ہی سمت میں سوچیں یا ایک ہی آواز میں بولیں اور سرے سے ضروری نہیں اور تینوں ستون کے ایک ساتھ آنے کے پیش نظر ایک ہی نقطے سے بھی دیکھنا نہیں چاہئے چیف جسٹس نے اس طرف اشارہ کیا کے سپریم کورٹ جنتا کی عدالت ہے جس کا مقصد جنتا کی شکایتوں کو سمجھنا ہے اور سماعت کی ترقی کے لئے قانونی اصولوں پر عزم کے ساتھ تعمیل کرنا ہے ججو کو سیدھے جنتا نہیں چنتی یہ عدلیہ کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے اس پر ذمہ داری ہے کے دوسروں کے مقابلے وہ ان کی توقعات کے مطابق نہیں بلکہ اس کے فیصلوں مےں آئین کو جواب دیہی ذےادہ ہے ۔دراصل پچھلے کچھ وقت سے دیکھا جا رہا ہے کے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو پلٹنے کے لئے سرکار نیا قانون بناکر اسے مسترد کرنے کی کوشش کر رہی ہے شاید اس لئے چیف جسٹس چندر چور نے سرکار کو خبردار کیا ہے کے آپ ہمارے فیصلوں کو مسترد نہیں کر سکتے ۔(انل نرےندر)

09 نومبر 2023

جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا!

13 سال پہلے کی بات ہے وراٹ کوہلی ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں سچن تیندولکر ،وریندر سہواگ،یووراج سنگھ اور مہیندر سنگھ دھونی جیسے سرکردہ کھلاڑیوں کے درمیان آہستہ آہستہ اپنی پکڑ بنانے میں لگے ہوئے تھے اس وقت وراٹ کوہلی کی عمر محض 22 سال کی تھی ۔ٹیم انڈیا میں ایک سے بڑھ کر ایک چیمپین کھلاڑی تھے لیکن اس کے باوجود وراٹ کوہلی نے جس طرح سے اپنے کھیل کو نکھارہ اس سے یہ صاف تھا کہ آگے آنے والی دہائی میں ورلڈ کرکٹ پر راج کریں گے اور ایسا ہی ہوا ۔وراٹ کوہلی جب ٹیم انڈیا میں نئے نئے آئے تھے تو انہوں نے ٹوئیٹر (X ) پر لکھا تھا کہ اپنی ٹیم کے لئے وہ بہت سارے رن بنانا چاہتے ہیں ۔وراٹ نے یہ ٹوئٹ 16 مارچ 2010 کو دیا تھا لیکن جیسے ہی اتوار کو انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں 49 ویں سنچری پوری کی تبھی سے ان کا یہ پرانا میسج وائرل ہونے لگا ۔اتوار کو ایڈن گارڈن سے دو کلو میٹر دور سے ہی ہر طرف نیلے رنگ کی جرسی میں ہزاروں ہندوستانی پرستاروں کو ہجوم دکھائی دینے لگا تھا اور ہزاروں مداح وراٹ کے ماسک وراٹ کے نام والی جرسی پہن کر ایڈن گارڈن کی طریف امڈ رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے ۔وراٹ ،وراٹ ،وراٹ،شور بھی سنائی دیا ۔بنگالی مداح پچھلے دنوں سے کہنے لگے تھے کہ سنڈے کو وراٹ کھیلا کرے گا۔وراٹ نے سنچری بنا کر اپنے چاہنے والوں کو برتھ ڈے گفٹ دیا ۔اس سنچری کے ساتھ انہوں نے مہان کھلاڑی سچن تندولکر کے ریکارڈ 49 ون ڈے انٹر نیشنل سنچری کی برابری بھی کر لی ۔وراٹ اپنے انٹر نیشنل کریئر میں جنم دن میں تیسری بار میچ کھیل رہے تھے ۔اس سے پہلے انہوںنے اپنے جنم دن پر انہوں نے محالی ٹیسٹ میچ میں ساو¿تھ افریقہ کیخلاف صرف ایک رن بنایا تھا۔دوسال پہلے اپنے جنم دن پر دبئی میں T20 ورلڈ کپ میچ میں وہ اسکاٹ لینڈ کیخلاف صرف دو رن بنا سکے تھے ۔اپنے جنم دن پر وہ پہلی بار اپنے پسندیدہ فارمیٹ میں کھیلنے اترے تھے اور یہاں انہوں نے اچھا کھیلا ۔اس کے ساتھ ہی ٹیم انڈیا نے ساو¿تھ افریقہ کو 243 رن سے ہرا کر ورلڈ کپ میں لگاتار 8 ویں یکطرفہ جیت حاصل کی ۔بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے پانچ وکٹ پر 326 رن بنائے تھے اس کے جواب میں ساو¿تھ افریقہ کی ٹیم 27.1 اوور میں محض 83 رن بنا کر آو¿ٹ ہو گئی ۔بھارت کے لئے خود کئی بڑی پاریاں کھیلنے اور ریکارڈ بنانے والے راہل دراوڈ نے وراٹ کوہلی کو ایک عظیم کھلاڑی بتایا ۔اب ٹیم انڈیا کے کوچ دراوڈ نے کہا وراٹ سرکردہ کرکٹر ہیں خاص کر ون ڈے کرکٹ میں ۔کھیل کے سبھی فارمیٹ میں وہ جس طرح سے میچ کو ختم کرتے ہیں وہ انہیں خاص بناتا ہے ۔انہوں نے پہلے کچھ برسوں میں اپنی پرفارمنس سے اپنی نسل کے کرکٹروں کے لئے ایک پیمانہ مقرر کر دیا ہے ۔اور آر اشون نے کہا کہ وراٹ نے ہندوستانی کرکٹ کے بارے میں سوچنے کے طریقے کو ہی بدل دیا ہے اور تیاری کرنے کے انداز کو بھی بدل دیا ہے ۔وراٹ کوہلی نے میچ کے بعد کہا کہ بھارت کے لئے کھیلنے کا کوئی موقع ملنا بڑا موقع ہے ۔اپنی سالگرہ پر سنچری لگانے کا سپنا پورا کرنے جیسا ہے ۔مجھے ایسے پل ملے اس کے لئے میں بھگوان کا آبھاری ہوں وراٹ کوہلی آپ پر پورے دیش کو ناز ہے ۔ہم جہاں آپ کو تہہ دل سے بدھائی دیتے ہیں وہیں امید کرتے ہیں کہ آپ ایسے ہی کھیلتے رہیں اور نئے نئے ریکارڈ بناتے رہیں ۔

اس خوفناک جنگ کی قیمت بچے اور عورتیں چکاتیں!

اقوام متحدہ اطفال کوشچر (یونیسیف یونائیٹڈ نیشن ریلیف اینڈ بکچرس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں خواتین اور بچے اور نوزائدہ بچے قبضے والے فلسطینی علاقے میں بڑھتی تباہی کا بوجھ سب سے زیادہ جھیل رہے ہیں ۔فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) اقوام متحدہ جنسی اور و اطفال ہیلتھ ایجنسی (یو این ایف ٹی اے ) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 3 نومبر تک فلسطینی وزارت صحت کے اعداد شمار کے مطابق غزہ پٹی میں 2326 خواتین اور 3760 بچے مارے جا چکے ہیں اور کل زخمیوں کی تعداد 68% ہے ۔جبکہ ہزاروں لوگ ابھی بھی زخمی ہیں ۔اندازہ ہے کہ اب تک غزہ پٹی میں اور مغربی کنارے میں 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کے مرنے کا اندیشہ ہے ۔اس کا مطلب ہے ہر دن 420 بچے مارے جاتے ہیں یا زخمی ہوتے ہیں ان میں سے کچھ تو صرف کچھ مہینوں کے ہوتے ہیں ۔بمباری سے تباہ شدہ اور ہیلتھ خدمات بڑے پیمانے پر تباہ ہوگئی ہیں ۔پانی اور بجلی کی سپلائی میں گراوٹ کے ساتھ ساتھ کھانے اور دباو¿ں تک کی محدود پہونچ ہے ۔نو زائدہ یا حمل میں بچے سنگین طور پر دوچار ہیں ۔غزہ پٹی میں ایک اندازہ کے مطابق 50 ہزار حاملہ عورتیں جن میں سے 180 سے زیادہ روزانہ بچے کو جنم دیتی ہیں ان سے 15 فیصد کو زچگی یا پیدائش سے متعلق پریشانیوں کا احساس ہونے کا سامنا ہے اور انہیں مزید ہیلتھ میڈیکل اور دیکھ بھال کی سخت ضرورت ہے ۔یہ خواتین محفوظ طریقے سے بچے کو جنم دینے اور اپنے نوزائدہ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ضروری ایمرجنسی میٹرنٹی خدمات تک پہونچنے میں لاچار ہیں ۔اور 14 اسپتالوں 45 ڈسپنسریوں اور دیگر زچہ بچہ سینٹرس کے بند ہونے کے سبب کچھ عورتوں کو اپنے ہی گھروں یا پناہ گزیں کیمپوں میں یا سڑکوں پر ملبے کے بیچ زچگی کو مجبور ہیں ۔اور ہیلتھ سہولیات میں بچے کو جنم دینا پڑ رہا ہے ۔ہیلتھ سہولیات کی کمی جہاں صفائی کے حالات دن بدن بگڑ رہے ہیں ۔انفیکشن اور طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔ہیلتھ سروسز بھی بمباری کی زد میں آرہی ہیں ۔نومبر میں الہلا اسپتال کی ایک اہم ترین میٹرنٹی بلاک ہے پر گولہ باری کی گئی ۔یو این آر ڈبلیو اے کے جائزہ کے مطابق 4600 بے گھر حاملہ عورتوں کو اور 380 نوزائدہ بچوں کو میڈیکل اور دیکھ بھال کی سخت ضرورت ہے ۔تیزی سے زچگی کے دوران انفیکشن کے 22500 سے زیادہ کیس اور دستوں کی بیماری کے 12000 کیس پہلے سامنے آچکے ہیں جو غزائیت کی کمی شرح کو دیکھتے ہوئے خاص طور سے تشویشناک ہے ۔7 اکتوبر کے بعد غزہ پٹی میں بہت ہی کم ایندھن آیا ہے ۔اسپتالوں ،آبی کارخانوں اور بیٹیوں کو مدد جاری رکھنے میں اہل ہونے کے لئے امدادی ایجنسیوں کو فوراً ایندھن دستیاب کرانا چاہیے اور تکلیف کو کم کرنے اور مایوس کن حالات کو تباہ کاری میں بدلنے سے روکنے کے لئے فوراً انسانی مدد کی ضرورت ہے ۔جنگ کے سبھی فریقین کو بین ا لاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کرنی چاہیے ۔سبھی یرغمالوں کو بغیر کسی شرط کے رہا کیا جانا چاہیے ۔خاص طور سے سبھی فریقین کے بچوں اور عورتوں کو نقصان سے بچایا جانا چاہیے ۔بچے اور عورتیں جنگ کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں (انل نریندر)

07 نومبر 2023

زہریلے نشے کا کھیل !

کون ہے ےوٹیوبر ایلوش یادو یوٹیوبر اور بگ باس او ٹی ٹی کے ونر ایلوش یادو سمیت 4 لوگوں پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے سماچار ایجنسی اے این آئی کے مطابق یہ ایک آئی آر رےو پارٹی میں سانپ کا زہر فراہم کرانے کے الزام میں درج کی گئی ہے ۔پولس کی چھاپہ ماری میں موقع سے 9 سانپ بھی ملے ہےں ایف آئی آر وائلڈلائف پروٹیکشن ایکٹ ،1972 کے تحت درج کرائی گئی ہے ایف آئی آر بی جے پی کی لیڈر مینکا گاندھی کی ایف اے آرگنائیزےشن کی شکایت پر درج ہوئی ہے ایف آئی آر میں مینکا گاندھی کی تنظیم کی طرف سے بتایا گیا ہمیں اطلاع ملی تھی کے ےوٹےوبر ایلوش یادو کے نام کا ایک ےوٹیوبر سنیک وینم (سانپ کا زہر)اور زندا سانپوں کے ساتھ نوئیڈا میں واقع فارم ہاﺅس میں اپنے گینگ کے دوسرے ممبر یوٹیوبر کے ساتھویڈیو شوک کر وا رہے ہیں اور ریو پارٹی کراتے ہیں اس پارٹی میں غیر ملکی لڑکیوں کو بلاکر ان کی خاتر تواضع میں نشیلی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے ۔ایف آئی آر ہونے کے بعد ایلوش یادو نے خد پر لگے الزامات کو خارچ کر دیا اور کہا کہ وہ یوپی پولس کے ساتھ معاملے میں پورا تعاون دینے کو تیار ہےں ۔مینکا گاندھی نے ایک پرائیویٹ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جال ہم نے بچھایا تھا۔11 پائیتھن اور کوبرا موقع سے ملے ہیں ۔5 لوگوں کے یہ ریو پارٹی کرتا تھا اور اس پارٹی میں یہ زہر نکال کر بےچتا تھا جو لوگ یہ زہر لیتے ہیں وہ ان کو نقصان کرتا ہے مینکا گاندھی نے کہا اگر میڈیا زور لگائیگی تو اس پر روک لگے گی وہ چاہتی ہےں کہ رےو پارٹی رکے یا نہ رکے یہ میرا کام نہیں ہے میرا کام ہے جو لوگ جنگل سے سانپ لاتے ہیں اور ان کا زہر نکالتے ہیں اور وہ مر جاتے ہیں ۔ایسے لوگوں کو پکڑنا چاہئے پولس کو چاہئے کہ ہماری ٹیم نے ہی یوٹیوب پر اسے دیکھا ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ایلوش یادو نے اپنی صفائی کے لئے سوشل میڈیا پر شےئر ویڈیو میں کہا میں صبح اٹھا میں نے دیکھا کے میرے خلاف خبر چل رہی ہے کے الوش یادو نشیلی چیزوں کے ساتھ پکڑے گئے ہیں اور میرے خلاف جو خبریں پھیل رہی ہے یہ سارے الزام فرضی اور بے بنیاد ہےں ان میں ایک فیصد بھی سچائی نہیں ہے میں یو پی پولس اور انتظامیہ اور وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ سے اپیل کروں گا کہ اگر اس میں 99% بھی میں شامل ہوں تو میں ساری ذمہ داری لینے کئے لئے تیار ہوں میڈیا سے گزارش ہے کے جب تک پختہ سبوت نہ مل جائے جب تک میرا نام خراب نہ کریں اور جتنے بھی الزام لگے ہیں ان سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ایلوش یادو ایک مشہور مقبول یوٹیوبر ہے اور سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہے یوٹیوب میں ان کے 16 ملین فالور ہےں تو انسٹا گرام پر ان کے 13 ملین سے زیادہ فین ہےں یوٹیوب پر ایلوش یادو کے 2 چےنل ہےں اےک کا نام ہے ایلوش یادو اور دورسرے کا ایلوش یادو بلاگس ۔وہ یوٹیوب پر مضائیہ ویڈیو بناتے ہیں اپنی ہریانوی بولی اور خاص انداز کے سبب وہ لڑکوں میں خاصے مقبول ہیں ۔وہ گاتے بھی ہےں اور اکٹنگ بھی کرتے ہیں اور کاروں کے شوقین ہیں اور کئی لگزری کاروں کے مالک ہیں ۔(انل نرےندر)

انڈےا الائنس مےں پڑتی درارےں!

جب 26 اپوزےن پارٹےوں کا اتحاد انڈےا الائنس بنا تھا تو لوگوں کو ےہ لگا کی شاید یہ اتحاد 2024 کے لوک سبھا چناﺅ میں بی جے پی کو ٹکر دے ایک اتحاد کے تمام لیڈروں نے بھی لبے جوڑے دعوے کئے اور انہوںنے عوام کو یقین دیالا تھا کہ آپسی اختلافات دور کرکے ہم مرکز میں بھاجپا کا متبادل پیش کریں گے لیکن جو ہی اتحاد کا پہلا امتحان آیا انکے آپسی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے کہنے کو تو اتحاد کے لیڈر یہ کہ سکتے ہیں کہ ہمارا اتحاد لوک سبھا چناﺅ کے لئے ہے اسمبلی چناﺅ کے لئے نہیں لیکن اسمبلی چناﺅ میں بھی یہ نیتا ایک دوسرے کے لئے تھوڑی سی قربانی کرنے کو تیار نہیں ہوئے تو آگے چل کر ان سے کیا امید لگائی جا سکتی ہے؟اپوزیشن اتحاد انڈیا میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے یہ شروعات میں اس اتحاد میں خاص کردار نبھانے والے نتیش بابو نے پچھلے دنوں سی پی آئی کے ایک پروگرام میں جو رائزنی کی ہے وہ ان کی بیچینی ہی دکھاتی ہے ان کاکہنا تھا کہ کانگریس اس وقت 5 ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ میں مصروف ہے اسے انڈیا الائنس کی کوئی فکر نہیں ہے ۔جس طرےقے سے مدھیہ پردیش میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی میں سیٹیوں کی تقسےم کو لیکر سر پھٹول ہو رہا ہے وہ کسی سے جھپا نہیں اکھلیش یادو کھل کر کانگریس نیتا کمل ناتھ کے خلاف اب بول رہے ہیں ۔جمعہ کو اکھلیش یادو نے مدھیہ پردیش کے بندیل کھنڈ میں چناﺅ مہم کے دوران کانگریس کے سینئر لیڈر کمل ناتھ کے بارے میں کہا جن کے ناتھ کمل ہوں ان سے کیا امید کر سکتے ہیں ؟وہ یہیں نہیں رکے انہوںنے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ (کمل ناتھ )بھاجپا کی زبانی بولیں گے دوسری زبان نہیں بولیں گے یہ ایک طرح سے سپا کے اتحاد نہ کرنے پر کمل ناتھ کے اس بیان کا جواب ہے جس میں انہوںنے کہا تھا چھوڑو بھائی اکھلیش - وکھلیش ۔اکھلیش یادو اور سپا لیڈر رام گوپال یادو نے اس پر کمل ناتھ کو پہلے بھی برا بھلا کہا تھا لیکن اس بار چناﺅ ریلی میں اکھلیش یادو نے کمل ناتھ کا موازنہ بھاجپا سے کر دیا ہے چناﺅ میں ایسی باتوں سے کانگرےس کو نقصان ہو سکتا ہے اکھلیش نے 2 دن پہلے بیان دیا کہ یہ تو اچھا ہوا کہ اکانگریس نے ہمیں ابھی دوکھا دے دیا اگر بعد میں دیا ہوتا تو ہم کہیں کے نہیں رہتے ۔بے شک سیٹوں پر تال میل خاص طور پر اگلے عام چناﺅ کے لئے ہونا تھا پھر بھی اتحادی گروپ پارٹیوں کے درمیان اسمبلی سیٹ بٹوارے کو لیکر تھوڑی بہت تلخی ضرور پیدا ہوئی ہے چناﺅ کے موجودہ پس منظر میں جو کی کانگریس ہی اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی ہے اس سے کچھ ناراضگیاں سامنے آئی ہےں ان سب کے باوجود حریف اتحاد این ڈی اے اور اس کے لیڈر بھاجپا ،انڈیا کی چنوتی کو کمزور پڑتا مان کر کوئی راحت شائد ہی لے سکتے ہیں۔الٹے اسمبلی چناﺅ کے موجودہ چکر میں یہ اور خاص طور پر 3 ہندی زبان والی ریاستوں میں انڈیا انہیں برابر کی ٹکر دیتی نظر آ رہی ہے اور اس چکر کے ایک لوتے رازدرباری اور نورتھ ایسٹ ریاستوں میں این ڈی اے خاص اہم مقابلے سے بھی باہر ہی نظر آ رہی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ ان 5 رےاستوں کے چناﺅ نتائج آنے کے بعد اتحاد انڈیا کس سمت میں جا رہا ہے یہ اور واضح ہو جائیگا ۔(انل نرےندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...