Translater

24 مئی 2014

آبیل مجھے مار: اروند کیجریوال کا وبال!

عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال نے بدھوارکو جس طرح پٹیالہ ہاؤس میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ گومتی منوچا کی عدالت میں جس طرح کا برتاؤ کیا اس پر ہمیں تو قطعی تعجب نہیں ہے۔ پہلے بتادیں کہ عدالت میں جو کچھ ہوااس سے سبھی باخبر ہیں۔ کیجریوال بدھوار کو ایک ملزم کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔ بھاجپا کے سابق پردھان نتن گڈکری نے ان پر ہتک عزت کا کیس درج کررکھا ہے۔ گڈکری نے الزام لگایا ہے کہ کیجریوال کی بھارت کے سب سے کرپٹ لوگوں میں نام ہونے اور کیجریوال کے جھوٹے بیانوں سے ان کی ساکھ کو ٹھیس پہنچی ہے۔کیجریوال کے وکیلوں نے اپنے موکل کے ذریعے لگائے گئے الزامات کا نہ تو کوئی جواب دیا اور نہ ہی دلیل میں کوئی ثبوت دئے۔ الٹے مجسٹریٹ سے ضمانت مچلکہ پر اڑ گئے۔ مجسٹریٹ گومتی منوچا کی عدالت میں کیجریوال کی طرف سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن و راہل مہرہ نے کہا یہ معاملہ سیاسی ہے اور عام آدمی پارٹی کے اصول کے مطابق ضمانت کے لئے مچلکہ نہیں بھریں گے لیکن اس بات کا حلف نامہ دینے کو تیار ہیں کہ وہ عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہر تاریخ پر عدالت میں حاضر ہوں گے۔ اس پراختلاف کرتے ہوئے گڈکری کی طرف سے پیش ہوئیں سینئر وکیل پنکی آنند و اجے دگپال نے کہا کہ قانون میں حلف نامہ دینے کی کوئی نظیر نہیں ہے اور قانون کسی کے لئے بھی الگ نہیں ہوسکتا۔ یہ بات تب سامنے آئی جب عدالت نے کیجریوال سے ضمانت کے لئے 10 ہزار روپے کے نجی مچلکہ جمع کرانے کے لئے کہا جس پر کیجریوال نے مچلکہ بھرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی مجرم نہیں ہیں کہ مچلکہ بھریں۔ عدالت نے کہا جب آپ ایک آدمی کی بات کرتے ہیں ہم یہ ہی امید کرتے ہیں کہ آپ ایک عام آدمی کی طرح برتاؤ کریں۔عدلیہ کارروائی سب کے لئے یکساں ہونی چاہئے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق اگر کوئی شخص عدالت کی کارروائی کی تعمیل نہیں کرتا تو ان حالات میں عدالت ملزم کو حراست میں بھیجنے پر مجبور ہوتی ہے۔ عدالت نے اپنے تین صفحات پر مبنی فیصلے میں کہا کہ عدالت اس حالت میں خاموش تماشائی بنی نہیں رہ سکتی جب کوئی ملزم کے ذریعے قائم طریقہ کار پر تعمیل نہیں کرنا چاہتا۔ عدالت کا یہ ہی نظریہ تھا کہ مچلکہ بھرنے میں ملزم کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ پیش معاملے میں 10 ہزار روپے کی رقم جمع کرسکتا ہے۔ اس طرح کیجریوال نے مجسٹریٹ کے سامنے کوئی اور متبادل بھی نہیں چھوڑا۔ انہوں نے مجبوراً کیجریوال کو تہاڑ بھیج دیا۔ تھوک کے چاٹنا، پلٹی کھانا اروند کیجریوال کی خاصیت بن چکی ہے۔ یہ نیا اسٹنٹ یا ڈرامہ آخر کیوں ہورہا ہے؟ عام آدمی پارٹی لیفٹیننٹ گورنر کو اسمبلی بھنگ نہ کرنے دئے جانے کے لئے دئے گئے اپنے ایک خط سے چند گھنٹے بعد ہی پلٹی کھا گئی۔ پہلے تو کیجریوال نے دہلی کی عوام سے معافی مانگی اوربولے کہ وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینا ان کی غلطی تھی۔ انہوں نے جنتا سے پوچھے بغیر یہ فیصلہ لینا پر افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ اب اگلے چناؤ کی تیاری کے دوران وہ ریلیوں کے ذریعے لوگوں تک اپنے جذبے کو پہنچائیں لیکن اس سے پہلے کیجریوال نے دوبارہ دہلی میں سرکار بنانے کی حتی امکان کوشش کی۔اس سلسلے میں انہوں نے نجیب جنگ صاحب کو بھی خط لکھ ڈالا۔ دلیل یہ ہے کہ خط کے بارے میں انہوں نے میڈیا کوجانکاری تک نہیں دی ۔ جب وہ لیفٹیننٹ گورنر سے مل کرنکلے تب میڈیا سے بس اتنا کہا کہ یہ ایک خیر سگالی ملاقات تھی لیکن دیر رات لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجا گیاخط لیک ہوگیا تب جاکر کیجریوال کی پول کھلی۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس خط میں مہلت مانگی تھی تاکہ سرکار بنانے کی ان کی کوششیں پروان چڑھ سکیں۔ لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد کیجریوال کو یہ احساس ہوگیا کہ سرکار بنانا ممکن نہیں ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے ہار کر انہوں نے اسمبلی چناؤ کی مانگ کرڈالی۔کئی لوگوں کے ذہن میں سوال اٹھ رہا ہے کہ 40 ہزار روپے مہینے کے مکان میں رہ رہے کیجریوال نے 10 ہزار روپے کا مچلکہ کیوں نہیں بھرا؟ ٹھیک 24 گھنٹے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں جن میں ایک یوگیندر یادوہیں، دفعہ144 توڑنے کے معاملے میں پانچ ہزار روپے کا مچلکہ بھردیا۔کیوں کیجریوال نے جیل جانا منظور کیا؟ حال ہی میں ہوئے لوک سبھا چناؤ میں عام آدمی پارٹی کی کراری ہار ہوئی ہے اور دہلی کے ساتوں سیٹوں پر اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ کیجریوال کی مقبولیت تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ ضمانت نہ لیکر جیل جانا انہوں نے اس لئے چنا ہے کیونکہ پہلی بات تو وہ شہرت کے بھوکے ہیں۔ نریندر مودی نے اسی دن گجرات کے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا لیکن کیجریوال نے ڈرامہ کرکے اپنے آپ کو چینلوں و پرنٹ میڈیا میں چھائے رہنے کا یہ سہارا ڈھونڈا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ جیل جاکر جنتا کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں اورورکروں میں شگوفہ چھوڑ کر جوش بھرنا چاہتے ہیں۔ اروند کیجریوال سیاسی طور سے اتنے برے شاید کبھی نہیں پھنسے ہوں۔ سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچانے والے کیجریوال کو لگا یہ اسٹنٹ کرنے سے دہلی میں چناوی فائدہ ہوسکتا ہے۔کیجریوال نے اپنے وکروں سے کہا کہ وہ یہ پیغام دیں کہ کرپشن کے خلاف لڑائی کی وجہ سے ہی کیجریوال کو جیل بھیجا گیا ہے۔ پارٹی کے نیتا مان رہے ہیں کہ اب وہ پھر سے کرپشن کے اشو پر توجہ دینے میں کامیاب ہوں گے جس طریقے سے آپ کے حمایتیوں نے تہاڑ جیل کے باہر ہلڑ بازی کی اس سے صاف ہے یہ سب پری پلان ڈرامہ تھا۔ کیجریوال شہرت کے اتنے بھوکے ہیں کہ تہاڑ جیل میں رات گزارنے کے بعد صبح اٹھتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اخبار مانگے۔ انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق خود کے جیل جانے اور اس کے بعد کی کوریج دیکھنے کو بے چین تھے۔مزیدار بات یہ ہے کہ لوک سبھا چناؤ میں پنجاب سے چار سیٹیں جیتنے والی عام آدمی پارٹی کے کنوینر کیجریوال کو تہاڑ جیل کی جیل نمبر 4 میں رکھا گیا ہے۔ اسی جیل میں جس میں ان کے گورو انا ہزارے کو2011ء میں رکھا گیا تھا۔ یہ پبلسٹی اسٹنٹ بھی ہوسکتا ہے لیکن کیجریوال نے کئی بار کہا ہے کہ وہ بھارت کے آئینی سسٹم کے خلاف ہیں اور پورا ڈھانچہ بدلنے میں بھروسہ کرتے ہیں۔ جب وہ 49 دنوں کے لئے دہلی کے وزیر اعلی تھے تب بھی انہوں نے دفعہ144 توڑ کر دیش کے قانون و نظم کو چیلنج کیا تھا۔ اب بھی اسی سلسلے میں ضمانت نہ لیکر قانون سے سیدھی ٹکر لی ہے۔ انہوں نے خود کہا تھا کہ میں بد امنی پسند ہوں۔ کیجریوال اپنے طے ایجنڈے پر چل رہے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جنتا میں وہ بری طرح بے نقاب ہوچکے ہیں۔ ان کا بھروسہ اور سیاسی ساکھ زیرو ہوچکی ہے۔ ایک بار انہوں نے دہلی کے عوام کو بیوقوف بنا دیا لیکن بار بار بیوقوف بننے کے لئے جنتا تیار نہیں ہوگی۔ اس ڈرامے سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔جنتا کا ان سے بھروسہ اور کریز ختم ہوچکا ہے۔
(انل نریندر)

23 مئی 2014

سنجیدہ،جوابدہ او جذباتی نامزد وزیر اعظم نریندر مودی!

نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اکثریت کے ساتھ دہلی کے اقتدار تک پہنچنے کے دلچسپ اور اس کی تاریخی اہمیت کی بحث ویسے تو 16 مئی کے نتائج آنے کے بعد ہی شروع ہوگئی تھی لیکن اس بحث میں تب ایک شدید اور تناسبی اور بھروسے کی شکل اختیار کرلی جب نریندر مودی باقاعدہ طور سے بھاجپا پارلیمانی بورڈ اور پھراین ڈی اے کے اتفاق رائے سے نیتا چنے گئے۔ حالانکہ ہم نے بڑے بڑے لیڈروں کے منہ سے یہ جملے کئی بار سنے ہیں کہ پارلیمنٹ جمہوریت کا ایک مندر ہے لیکن منگلوار کو جب دیش اور دنیا نے دیکھا بھارت کے نامزد وزیر اعظم پارلیمنٹ کے اندر قدم رکھنے سے پہلے اس کے دروازے پر ماتھاٹیکتا ہے تو اس سے ہندوستانی جمہوریت کے تئیں بھروسے اور عظم کے ایک پائیدار نئے دور کا آغاز ہوگیا۔ پارلیمنٹ کے سنیٹرل ہال میں منگلوار کو امنگ کے چوطرفہ لہراتے جذباتی ترنگوں کے درمیان پارلیمانی پارٹی کا لیڈر چنے جانے کے باوجود نریندر مودی نے حکومت اور سیاست کے اپنے ایجنڈے کو جذباتی لہر میں نہیں بہنے دیا اور اپنے جذبات کو قابو رکھتے ہوئے انہوں نے نہ صرف حکومت کی امکانی تصویر کا خاکہ پیش کیا بلکہ سیاسی اخلاقیات کا نیا پیمانہ طے کرنے اور سیاست کی لائن بدلنے کے اپنے ارادے بھی صاف ظاہر کردئے۔ بھاجپا اور این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کا لیڈر چنے جانے کے بعد اب نریندر مودی کے لئے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لینا باقی ہے۔ صدر سے سرکار بنانے کی دعوت ملنے کے ساتھ ہی وہ نامزد وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ ایک طرح سے مودی کے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ بیشک بھاجپا پارلیمانی پارٹی کا لیڈر چنے جانے کے دوران مودی جس طرح سے جذباتی ہو اٹھے اس سے دنیا نے ان کا ایک نیا چہرہ دیکھا۔ ایک مضبوط حکمراں کی ساکھ والے لیڈر کا ایسا چہرہ دیکھنا ایک نایاب لمحہ تھا۔ ان کی سادگی ان کی تقریر میں صاف جھلکی اور خاص کر تب جب انہوں نے کہا حکومت غریبوں، نوجوانوں اور ان کی عزت و ساکھ کے لئے ترستی ماں بہنوں کو وقف ہے۔ ا س دوران وہ اپنی تقریر میں اپنی ترجیحات کا تذکرہ بھی کرنا نہیں بھولے۔ فی الحال منگلوار کو مودی نے اپنے خاص انداز میں پانچ بڑے سوالوں پر اپنا موقف رکھا۔ سرکار کے پانچ سال کا ایجنڈا اسی دائرے میں نافذ ہوگا۔ انداز میں سنگھ کی آئیڈیا لوجی، واجپائی کا ماڈل اور مودی کا اپنا انداز تینوں شامل ہیں۔ پارلیمنٹ کو نمن۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کے تئیں عام لوگوں کی رائے ٹھیک نہیں ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے اسے لوگوں نے ناکارہ لوگوں کا اڈہ بھی کہا ہے۔ مودی نے پارلیمنٹ کمپلیکس کی سیڑھیوں پر اپنا ماتھا ٹیک کر یہ پیغام دیا کے ان کی سرکار کے لئے پارلیمنٹ صحیح معنوں میں جمہوریت کا مندر ہوگا اور سبھی ممبران پارلیمنٹ کو اس کے تئیں وفاداری رکھنی ہوگی۔ جذباتی۔ مودی جذباتی ہوئے اڈوانی یہ کہہ چکے تھے کہ جو شخص جذباتی ہوتا ہے وہ اپنی تنقید اور زیادہ خوشی سے رو پڑتا ہے۔مودی کی پچھلے 12 برسوں سے مسلسل تلخ نکتہ چینی ہوتی رہی ہے۔ سبھی اپوزیشن پارٹیوں نے ان پر حملے کئے۔ لوک سبھا چناؤ میں شاندار کامیابی کے بعد بھی مودی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو نہیں آئے۔ ایسے میں مودی کی جو پتھر دل ہونے کی ساکھ بنی ہوئی ہے اسے آنسوؤں کے ذریعے انہوں نے دھونے کی کوشش کی ہے۔مودی نے اپنی تقریر میں پچھلی سرکاروں کی نکتہ چینی نہیں کی بلکہ کہا پچھلی حکومتوں نے دیش کو آگے لے جانے کے لئے اپنے اپنے طریقے سے کام کیا۔ وہ (مودی) اپنے طریقے سے کام کریں گے۔اس کے ذریعے نریندر مودی نے صاف کیا کہ ان کی اصلی توجہ ترقی پر ہوگی۔ ان کی سرکار پچھلی سرکاروں کے خلاف اشو کھول کر وقت ضائع کرنے کی جگہ کام پر توجہ دے گی۔ توجہ طلب سیکٹر۔ مودی نے تقریر کے دوران غریب ،نوجوانوں ،خواتین کے لئے حکومت کو وقف کرنے کے جذبے سے کام کرنے کا اعلان کیا۔ چناؤ کے دوران بھول ہونے پر بھی مودی کی توجہ تھی۔ انہوں نے تنظیم اور سنگھ کے لحاذ سے2019 کے لئے ووٹ بینک کا نشانہ طے کرلیا۔ اس میں ذات ،مذہب سے اوپر اٹھ کر غریب نوجوان ، عورتوں سب کو شامل کیا گیا ہے۔ بھاجپا کے اندر اور باہر مودی کے نکتہ چینی کرنے والے ان پر الزام لگاتے رہے ہیں وہ سبھی کے ساتھ کام کرنے کے عادی نہیں ہیں وہ ایک تاناشاہ کی طرح کام کرتے ہیں اس لئے ان کے پی ایم بننے پر بھاجپا کے دیگر لیڈر حاشیے پر چلے جائیں گے جیسا گجرات میں ہوا مودی نے اپنی ساکھ کو یہ کہتے ہوئے صفائی دی کہ این ڈی اے کی ساتھی پارٹیاں ان کے لئے اتنی ہی ابھی بھی اہم ہیں جتنا بھاجپا کو اکثریت نہ ملنے پر ہوتیں۔ اس سے لگتا ہے این ڈی اے کی سبھی29 پارٹیاں سرکار چلانے میں شامل ہوں گی۔پنڈت دیندیال اپادھیائے کو اپنی تقریر کووقف کرتے ہوئے صاف کیا کہ اب ان کے لئے اپنے نظریات کوزمین پر اتارنے کا وقت آگیا ہے۔ دیش کے لئے یہ تسلی کی بات ہے کہ ان کا ہونے والا وزیر اعظم سب کی امیدوں پر کھرا اترنا چاہتا ہے۔ اس پورے خطاب میں نریندر مودی اپنے پر لگے سارے الزامات کے برعکس ایک سنجیدہ نرم گو اور جوابدہ اوتار میں نظر آئے۔ان کا یہ اوتار ہی ہے جو ان کے پرانے نیتاؤں سے انہیں الگ کردیتا ہے۔ وہ بیحد معمولی کنبے سے نکل کر آج اس مقام پر پہنچے ہیں جہاں سے وہ دیش کو ایک نئی سمت دکھا سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

اگر دہلی میں کوئی سرکار نہیں بنی تو اکتوبر میں اسمبلی چناؤ ممکن!

مودی لہر میں بھاجپا نے مرکز میں پرچم لہرایا تو اب دہلی میں صدر راج کے دن ختم ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ دہلی کی سبھی ساتوں لوک سبھا سیٹوں پر ملی شاندار کامیابی سے خوش بھاجپا 60 اسمبلی سیٹوں پر لوک سبھا میں جیتنے کے بعد بھاجپا کا یہ خیمہ اپنی چھاتی ٹھوک کر چناؤ میدان میں اترنے کی وکالت کررہا ہے جبکہ کچھ لیڈر چاہتے ہیں جنتا کو ایک اور چناؤ میں جھونکنے سے بہتر ہے پارٹی دہلی میں سرکار بنانے کی پہل کرے۔ یہ بات دیگر ہے کہ دہلی اسمبلی کے موجودہ نمبروں کو دیکھتے ہوئے بغیر جوڑ توڑ کئے بھاجپا دہلی میں اپنی سرکار نہیں بنا پائے گی۔ پچھلے سال دسمبر میں ہوئے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا ۔اکالی اتحاد کو 32 ، عام آدمی پارٹی کو28 اور کانگریس کو8 سیٹیں ملی تھیں۔ دوسری طرف جنتادل (یو) کو 1 اور ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔ واضح اکثریت نہ ملنے سے بھاجپا نے سرکار بنانے سے ہاتھ کھڑے کردئے تھے۔ قریب20 دنوں تک چلے سیاسی ڈرامے کے بعد کانگریس کے تعاون سے کیجریوال سرکار بنی اور یہ حکومت 49 دن چل سکی۔ اب جبکہ بھاجپا کے 3 ممبر اسمبلی ڈاکٹر ہرش وردھن، رمیش ودھوڑی، پرویش ورما لوک سبھا چناؤ جیت چکے ہیں صاف ہے بھاجپا۔ اکالی اتحاد کے ممبران کی تعداد29 رہ جائے گی۔70 ممبروں کی اسمبلی میں اب اکثریت کا فیصلہ 66 ممبران کی بنیاد پر ہوگا۔ بھاجپا کو کم سے کم 34 ممبرووں کی ضرورت ہوگی۔ ظاہری طور پر اسے پانچ ممبران کی فوری ضرورت ہے یہ ممبر کہاں سے آئیں گے؟ اس درمیان یہ بھی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ عام آدمی پارٹی کے زیادہ تر ممبر اسمبلی جلد چناؤ کے حق میں نہیں ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر چناؤ ہوگئے تو انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی ڈر کے چلتے عام آدمی پارٹی ٹوٹنے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ’آپ‘ کے کچھ ممبران اسمبلی چاہتے ہیں کانگریس نہ سہی تو بھاجپا سے اتحاد کر لیا جائے اور چناؤ سے بچا جاسکے۔ امکان یہ بھی ہے کہ ممبران کا ایک گروپ اس مسئلے پر پارٹی چھوڑ کر بی جے پی سے ہاتھ ملانے کو بے چین ہے۔ عام آدمی پارٹی سے نکالے گئے لکشمی نگر کے ایم ایل اے ونود کمار بننی کا کہنا ہے دہلی کو اسمبلی چناؤ سے بچانا چاہئے۔ اس کے لئے انہوں نے بھاجپا پردھان ڈاکٹر ہرش وردھن ، اروند کیجریوال کو ایک خط لکھا ہے۔ اگر بھاجپا پہل کرے تو ’آپ‘ کے کئی ممبر ان کی حمایت کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آپ‘ کی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ دیش کی عوام نے ’آپ‘ لیڈر شپ کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ دہلی کے لوگ بھی نہیں چاہتے کہ پردیش میں ’آپ‘ سرکار بنے۔ راجدھانی میں پچھلے دو دنوں سے یہ خبر بھی خاصی گرم ہے کانگریس اور عام آدمی پارٹی مل کر پھر سے راجدھانی میں سرکار بنانا چاہ رہے ہیں۔ لیکن فی الحال دونوں ’آپ پارٹی اور کانگریس لیڈر شپ نے اس امکان کو مسترد کردیا ہے۔ دہلی میں تینوں بڑی پارٹیاں بھاجپا، آپ اور کانگریس کے ذریعے وسط مدتی چناؤ کے متبادل پر اتفاق رائے جتانے کے بعد اب یہ بحث تیز ہوگئی دہلی میں اگر کوئی سرکار نہ بنی تو اسمبلی چناؤ ہی متبادل ہوگا۔ یہ چناؤ کب ممکن ہوگا؟ چناؤ کمیشن کے قواعد کو دیکھتے ہوئے اس کارروائی میں کم سے کم تین مہینے لگ سکتے ہیں اور اکتوبر میں ہریانہ سمیت یگر ریاستوں میں چناؤ کے ساتھ دہلی میں چناؤ کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ دہلی چناؤ کمیشن کے ایک سینئر افسر نے بتایا کے لوک سبھا چناؤ کے بعد کم سے کم 45 دنوں تک الیکٹرانک ووٹنگ مشین کواستعمال نہیں کیاجاسکتا۔ اگلے ڈیڑھ مہینے تک دہلی کے چناؤ کا اعلان ممکن نہیں ہے اتنا ہی نہیں چناوی تیاروں کے لئے کم سے کم دو مہینے کا وقت دیا جانا ضروری ہے اس لئے قاعدوں کی پیچیدگیوں کے پیش نظر جولائی تک چناؤ کرانا ممکن نہیں ہے۔قاعدوں کی مجبوریوں کے دیکھتے ہوئے اب گیند مرکزی سرکار اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے ہاتھ میں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے بھی دہلی اسمبلی کے مستقبل کا فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر کے ضمیر پر چھوڑدیا ہے۔ ایسے میں راج نواس اور مرکز کی نئی حکومت اس گتھی کا حل نکالیں گے۔ دیکھیں بغیر چناؤ کرائے کوئی پارٹی سامنے آتی ہے یاپھر ایک بار پھر دہلی میں اسمبلی چناؤ ہوں گے۔
(انل نریندر)

22 مئی 2014

ہار کے سبب نہیں سونیا ۔راہل کو بچانے کیلئے بلائی گئی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ!

جیسا کے امید تھی کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس محض ایک خانہ پوری اور گاندھی کنبے کو بچانے کے لئے بلایا گیا تھا اور یہ ہی ہوا بھی۔ لوک سبھا چناؤ میں اب تک کی سب سے بری ہار کے بعد دیش بھر میں کانگریس میں اٹھ رہے ناراضگی کے تیوروں کو دیکھتے ہوئے پیر کو ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کی خاص اہمیت تھی۔لوک سبھا چناؤ میں اب تک کی سب سے بڑی شکست جھیلنے کے بعد کانگریسی ورکر پوری طرح صدمے میں ہیں اور جگہ جگہ ان میں ناراضگی کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ جن 13 ریاستوں میں کانگریس کا کھاتہ نہیں کھلا ہے وہاں زیادہ گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ لیڈر اور ورکر ناراض ہیں۔ دہلی ، جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، راجستھان، گجرات، گووا، اڑیسہ، جھارکھنڈ، تریپورہ ، سکم، ناگالینڈ، تاملناڈو میں پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں مل سکی۔سرخیوں میں کیسے رہیں یہ کانگریس کے کچھ بڑے نیتاؤں کو اچھی طرح سے آتا ہے۔ چناؤ کے بعد الہ آبادمیں ہرطرف بھاجپا کا تذکرہ چھایا ہوا تھا اسی درمیان کچھ کانگریسیوں نے سول لائن میں واقع سبھاش چوراہے پر متنازعہ بینر لگا کر نئی بحث شروع کردی ہے۔ شہر کے دو کانگریسی عہدیداروں نے بینر کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ راہل گاندھی اس چناؤ میں کانگریس کی نیا پار لگانے میں بری طرح ناکام رہے اس لئے پارٹی کی کمان پرینکا گاندھی کو سونپ دی جائے۔ شہر کانگریس کے سکریٹری حسیب احمد ،شری رام چندر دوبے کی طرف سے لگائے گئے بینر میں کہیں بھی راہل کی فوٹو نہیں اور نہ کوئی تذکرہ کیا گیا۔ لیکن بینر کے ذریعے پرینکا گاندھی کو پارٹی کی کمان سونپے جانے کا مطالبہ کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کانگریسیوں کو اب راہل گاندھی کی لیڈر شپ قبول نہیں۔ بینر پر سونیا اور پرینکا کی تصویر ہے۔ اس پر لکھا ہے ’جنتا کا پیغام سنو اور گراؤنڈ زیرو سے شروعات کرو‘ کانگریس ایک انقلاب کا رتھ مییا دو آدیش، پرینکا بڑھائے کانگریس کا قد، یوپی میں اگنی پتھ ،اگنی پتھ۔۔۔اگنی پتھ ، آجاؤ پرینکا ۔چھا جاؤ پرینکا‘۔ الہ آباد کا یہ بینر کم و بیش پورے دیش کے کانگریسیوں کی آواز ہے۔ پیغام سے صاف ہے کہ راہل فیل ہوگئے ہیں لیکن ورکنگ کمیٹی میں ہار کے اسباب کا تجزیہ کرنے کے بجائے سونیا اور راہل گاندھی کی طرف سے استعفے کی پیشکش کو جس طرح مسترد کیا گیا اس سے تو یہ ہی پتہ چلتا ہے تجزیئے کے نام پر خانہ پوری کی گئی ہے۔ میٹنگ میں جس طرح ہار کے سبب جاننے کے لئے کمیٹیا ں بنانے کے اشارے دئے گئے اس سے یہ صاف ہے کہ کانگریس اپنی سب سے بڑی ہار کے اسباب سے منہ چھپا رہی ہے۔محض خانہ پوری کرکے پیغام دے دیا گیا کہ ہار کے لئے نہ توچھان بین کی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش ہو کہ آخر پارٹی عرش سے فرش تک کیسے آپہنچی۔ ہم سبھی جانتے ہیں چناؤ سونیا اور راہل گاندھی کی قیادت میں لڑے گئے۔ انہوں نے جیسی پالیسی اپنائی وہی چلی۔ جہاں کانگریس تنظیم بری طرح فیل ہوئی وہیں منموہن سرکار کے ناکام انتظامیہ نے بھی پارٹی کی لٹیا ڈوبادی۔ ایک کے بعد ایک گھوٹالے اور انہیں نہ روکنے کی کوشش میں جنتا نے یہ پیغام دیا کہ نہ تو منموہن سنگھ اور نہ ہی کانگریس لیڈر شپ کو اسے روکنے میں کوئی دلچسپ ہے۔ بار بار آگاہ کرنے کے باوجود کانگریس لیڈر شپ اور سرکار پر کوئی اثر ہوا کے جنتا مہنگائی سے بری طرح پریشان ہے۔ نوجوان چلاتے رہے ہمارا مستقبل ادھر میں لٹکا ہوا ہے لیکن نہ تو منموہن سنگھ اور نہ سونیا گاندھی اور نہ راہل گاندھی نے ان کی آوازیں سنیں۔میٹنگ میں راہل گاندھی نے کہا انہیں لگتا ہے کہ پارٹی میں کام کاج کو لیکر کوئی جوابدہ نہیں ہے۔ اس چناؤ کے دوران لیڈر شپ کرنے میں کھرے نہ اترنے کا حوالہ دیتے ہوئے خود سے جوابدہی کی شروعات کرنے کا اعلان کیا۔اسی سلسلے میں استعفے کی پیشکش کی۔ کانگریس صدر اور نائب صدر کے بارے میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا جتنی محنت کی اور تنظیم کو چلانے کا بوجھ اٹھایا یہ غیر معمولی کام ہے اور اس کا حل استعفیٰ نہیں ہے۔ کانگریس سکریٹری جنرل جناردن دویدی نے بتایا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں ایک آواز سے استعفے کا ریزولیشن خارج کردیا۔ کل ملاکر ہار کے اسباب جاننے کے بجائے نتائج سے سبق لیتے کانگریس اب خود ہی اپنا مذاق اڑوانے میں لگ گئی ہے۔ مینڈیٹ کو قبول کرنا کانگریس کے لئے کتنا مشکل ہورہا ہے اسے پارٹی صدر کے بیان سے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ سونیا نے کہا دیش میں جس طرح کا ماحول بنایا گیا اور سماج میں پولارائزیشن کیا گیا وہ قابل تشویش ہے ساتھ ہی انہوں نے بھاجپا کے جارحانہ پرچار اور میڈیا میں زیادہ کوریج کو لیکر کہا کہ ہمارے حریفوں نے محدود وسائل کا استعمال کیا۔ حالانکہ انہوں نے مانا کہ کچھ کمی تنظیمی سطح پر بھی رہی ہے اور یہ کہہ سن کر ہو گیا ہار کے اسباب کا جائزہ۔
(انل نریندر)

نتیش کا ڈرامہ، مودی کی تنقید بھاری پڑی!

عام چناؤ میں مودی لہر نے جن پارٹیوں کے خواب چکنا چور کردئے ان میں جنتادل یو بھی شامل ہے۔ اسے صرف دو سیٹیں مل سکی ہیں جبکہ پچھلی لوک سبھا میں اس کے پاس20 ایم پی تھے۔ان پٹی ہوئی پارٹیوں میں آج کل استعفے کا دور چل رہا ہے۔ دراصل نتیجوں کی شکل میں آئے مینڈیٹ میں مودی کے تئیں زیادہ عوام میں بھروسہ بڑھا ہے۔ اس سے زیادہ اشارے ان طاقتوں کو مسترد کرنے کے ہیں جو سیکولرازم کی آڑ میں مودی کو دیش کے لئے خطرہ بنا کر پیش کررہی تھیں اس لئے اتنے وسیع مینڈیٹ کے پاس اب ان کے پاس دلیل گڑھنے کے لئے بھی کوئی مسالہ نہیں بچا ہے۔ مودی کی مخالفت والے نتیش کمار بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے ہار کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے بہار کے وزیر اعلی کی کرسی چھوڑدی ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں تو نتیش کی جو بھد پٹی وہ تو ہوئی اسمبلی کی پانچ سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ میں بھی جنتادل (یو) کو محض ایک سیٹ مل سکی۔ دراصل بھاجپا سے رشتہ توڑنے کے اپنے فیصلے کے سبب لمبے عرصے سے وہ پارٹی کے اندر تنقید کے گھیرے میں تھے۔ سرکار چلانے کے لئے جن آزاد ممبران کی نتیش کمار نے حمایت لی تھی وہ بھی وزارت نہ ملنے سے ان سے ناراض تھے۔ بتایا جاتا ہے پارٹی کا ایک طبقہ بھاجپا کے ساتھ مل کر پھر سرکار بنانے کا خواہش مند ہے۔ رہی صحیح کثر پارٹی صدر شرد یادو نے نتیش کمار کی تنقید کرکے پوری کردی۔استعفے کو بہار کے بھاجپا نیتاؤں اور ان کی ساتھی پارٹی ایل جے پی نے نتیش کمار کے استعفے کو پہلے سے تیار ڈرامہ بتایا۔ یہ صرف جنتادل (یو) نے اپنی لیڈر شپ بچانے کے لئے رچا ہے۔ رام ولاس پاسوان نے دعوی کیا کہ جنتادل( یو) سرکار جلد گر جائے گی اور بہار میں آنے والے مہینوں میں پھر سے چناؤ ہوں گے۔ یہ استعفیٰ ایک ڈرامہ ہے بہار میں لوک سبھا چناؤ میں جنتادل (یو) کے صفائی کے بعد نتیش حکومت خطرے میں تھی۔نتیش کمار ایک اچھے اداکار اور ناٹک باز ہیں۔ وہ لوگوں کا استعمال کرنے کے بعد انہیں الگ کردیتے تھے وہ بغیر اقتدار کے اسی طرح ہوجاتے جیسے بغیر پانی کے مچھلی؟ سوال اٹھتا ہے کہ وہ (نتیش) پارٹی کے صدر نہیں تھے اور چناؤ لوک سبھا کے تھے پھر انہیں یہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ دراصل نتیش کمار پہلے بھاجپا سے اتحاد توڑنے کا فیصلہ پارٹی کے اندرکئی لوگوں کو پسند نہیں آیا تھا۔ مودی کے خلاف اتنا کچھ بولنے کے بعد اب بطور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پردھان منتری مودی کے سامنے کیا منہ لیکر جاتے اس لئے انہوں نے استعفیٰ دیا اور جتن رام مانجھی کو بہار کا وزیر اعلی بنوادیا۔ بھاجپا نے اتحاد ٹوٹنے کے بعد جنتا دل (یو) کی سرکار نازک اکثریت کے سہارے ٹکی ہے ایسے میں پارٹی لالو پرساد یادو کی درپردہ حمایت کو ترجیح دے سکتی ہے۔ دراصل یہ دونوں کی مجبوری ہوگی کیونکہ ابھی دونوں چاہیں گے کہ اسمبلی چناؤ کی نوبت نہ آ پائے۔ بہار میں کراری ہار کے بعد اپنی سرکار گرنے کے ڈر سے نتیش کمار کے استعفیٰ دینے کے پیچھے ان کاگیم ہے۔ ایک ایسے صوبے کا وزیر اعلی ہونا جو اقتصادی اور سماجی طور سے پسماندہ ہے اس کے لئے پریشانی کا سبب بن گیا ہے ان کو مسلسل مرکز کی طرف منہ کھلے کھڑا ہونا پڑتا اور وہ ایسا اس شخص کے آگے نہیں کرنا چاہتے تھے جسے انہیں ووٹ بینک کے سبب بے عزت کیا گیا مطلب پردھان منتری نریندر مودی۔
(انل نریندر)

20 مئی 2014

مودی کا خوف دکھانے والی سیاسی پارٹیوں کو مسلم نوجوانوں کا کرارا طمانچہ!

مودی کی ہوا جس کو نظر نہیں آئی اس کے پاؤں مودی کے آندھی میں اکھڑ گئے۔ یہ سب سے زیادہ فٹ اترپردیش پرہوتا ہے۔ یہ ہی ملائم اور مایاوتی دن رات مودی کوکوستے نہیں تھکتے تھے۔ مودی کی ایسی سونامی آئی کہ مایاوتی کی پارٹی کا تو صفایا ہی ہوگیا اور گھر میں ہی تھم گئے سائیکل کے پہئے۔ مودی کی لہر اور سونامی پر اٹھے سوالات نے اتنا خوفناک بنادیا کہ اپوزیشن کے لئے کنبے کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔ اترپردیش میں شاندار کامیابی سے لوٹی خود بی جے پی نے بھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ رام لہر اور اٹل جی کی کویتائیں بھی یوپی میں جنتا میں جوش پیدا نہیں کرسکی تھیں جو مودی کی سونامی نے کر ڈالا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھاجپا نے ان سیٹوں پر بھی اس مرتبہ بھگوا پرچم لہرادیا جن کو جیتنا اس کے لئے خواب سے کم نہیں تھا۔ نریندر مودی کی آندھی میں مودی کے خلاف مسلم ووٹروں کو منظم کرنے کی اپوزیشن پارٹیوں کی سیاست اس مرتبہ پوری طرح فیل ہوگئی۔ اترپردیش ، بہار جیسی ریاستوں میں مسلم ووٹروں کا سیاسی طور سے پولارائزیشن کرنے والی سیاسی پارٹیاں اور اقلیتی ووٹوں کے سوداگر مودی لہر میں کیوں بہہ گئے یہ کافی دلچسپ ہے۔ایسا مانا جارہا ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے بھاجپا اور مودی کا ڈر دکھا کر ووٹ مانگنے والوں کو مسلم ووٹروں خاص کر نوجوانوں نے اس بار پوری طرح مسترد کردیا ہے۔ اترپردیش اور بہار میں کئی پارلیمانی سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹروں کی حمایت سے ہی نمائندے چنے جاتے رہے ہیں۔ سیکولر پارٹیوں نے اس بار بھی بھاجپا اور مودی کے خلاف مسلم ووٹروں کوبانٹنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کے باوجود مغربی اترپردیش میں فساد متاثرہ علاقوں کو چھوڑ کر کسی بھی حلقے میں مسلمانوں کا کسی بھی پارٹی کے ساتھ پولارائزیشن نہیں دکھا۔ مغربی اترپردیش میں بھی فسادات کے لئے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ سماجوادی پارٹی سے خفا تھا۔ مودی کا ڈر دکھانے کے باوجود مسلم نوجوانوں کاایک طبقہ مودی کے ترقی کے نعرے سے کافی متاثر تھا اور ایک بار مودی کو آزمانے کے لئے اس نے بھاجپا کو ووٹ دیا۔ اترپردیش میں بھاجپا نے 1991,1996 اور 1998 کا اپنا ریکارڈ توڑتے ہوئے 71 سیٹیں اپنی جھولی میں ڈال لیں۔ بھاجپا نے ان سیٹوں پر بھی بھگوا پرچم لہرادیا جو مسلم اکثریتی والی سیٹیں مانی جاتی تھیں۔ ان سیٹوں میں اعظم خاں کے اثر والی رامپور اور مراد آباد ، علیگڑھ، فیروز آباد جیسی مشکل سیٹیں مانی جاتی ہیں۔ ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ پورے پردیش میں ایک بھی مسلمان ایم پی منتخب ہوکر 16 ویں لوک سبھا نہیں پہنچا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مظفر نگر فسادات کے بعدبنے فرقہ وارانہ ماحول کا مغربی اترپردیش میں بھاجپا کو پورا فائدہ ملا۔ پہلے مرحلے کی سبھی سیٹوں مظفر نگر، کیرانہ، بجنور، میرٹھ، باغپت، علیگڑھ، سہارنپور، غازی آباد، گوتم بودھ نگر، بلند شہر لیکن سہارنپور کو چھوڑ کر باقی سیٹوں پر جیت کا فرق 2 لاکھ سے زیادہ تھا۔ غازی آباد میں تو جنرل وی کے سنگھ نے 5 لاکھ تو بلند شہر سے4 لاکھ، مظفر نگر میں جیت کا فرق4 لاکھ سے زیادہ تھا۔ صرف پولارائزیشن کے کھیل کو امت شاہ نے نہیں ہی توڑا بلکہ دلتوں کے پکے ووٹ بینک والی بسپا کو بھی منہ کی کھانی پڑی۔ مودی کی سونامی میں ہاتھی کے پاؤں پوری طرح اکھڑ گئے اور لوک سبھا میں برسوں بعد بسپا کا ایک بھی ایم پی موجود نہیں ہوگا۔ مودی لہرنے پارٹی کی سوشل انجینئرنگ فارمولے کو تہس نہس کردیا۔ دلت ووٹوں کی دیوار ڈھے گئی۔ 15ویں لوک سبھا میں بسپا کے20 ایم پی تھے۔پچھلی لوک سبھا میں 27.42فیصد ووٹ پانے والی بسپا کا ووٹ بینک گھٹ کر اب 20 فیصدی کے آس پاس رہ گیا ہے۔ صاف ہے ووٹ بینک کے گھٹنے سے بہن جی کی پارٹی18 برس پہلے کی پوزیشن میں آ گئی۔ امید تھی جس سائیکل کو عوام نے دو سال پہلے زبردست اکثریت سے ریاست میں اقتدار کی باگ ڈور سونپی تھی اسی کے پہئے 16 ویں لوک سبھا چناؤ میں گھر کے اندر ہی تھم گئے۔ پسماندہ ووٹوں کے بکھراؤ و براہمن ووٹوں کی بے رخی نے سپا کو خود اپنی ٹیلی میں سب سے نیچے کے پائیدان پر لادیا۔ اس بار سماجوادی پارٹی کی جیت ملائم سنگھ یادو کے کنبے تک سمٹ کر رہ گئی۔ خود ملائم ،بہو ڈمپل دو بھتیجوں اور کل ملاکر5 سیٹوں پر جیت درج کی۔
(انل نریندر)

اتراکھنڈ کی کانگریس سرکار کا مستقبل ادھر میں لٹکا!

لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کی انتہائی خراب پرفارمینس کے سائیڈ ایفکیٹ جلد ہی دکھائی دینے لگے ہیں۔آسام کے وزیر اعلی ترون گگوئی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ادھر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بھی اپنا عہدہ چھوڑدیا ہے۔اب اتراکھنڈ میں کانگریس حکومت کا مستقبل تھوڑا ڈانواڈول لگ رہا ہے۔ کانگریس چھوڑ بی جے پی میں آئے پی ڈی گڑھوال کے ایم پی رہے سرکردہ لیڈر ستپال مہاراج نے کہا کہ اب جلد ہی دہرہ دون میں بھی کمل کھلے گا۔ ان کا کہنا ہے اتراکھنڈ کانگریس کے ممبران اسمبلی اور وزرا کا بھی بی جے پی میں خیر مقدم ہے۔ ستپال نے لوک سبھا چناؤ کے عین وقت پر کانگریس کا دامن چھوڑ کر بھاجپا میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ وزیر اعلی ہریش راوت اسی دن سے اپنی حکومت بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ستپال مہاراج کی اہلیہ امرتاراوت خود کانگریس سرکار میں وزیر ہیں۔سرکار میں ستپال کے قریبی اب بھی چار پانچ ایم ایل اے ہیں۔ جب دو مہینے پہلے ستپال نے کانگریس چھوڑ کر بھاجپا کا دامن تھاما تھا تبھی سے سرکار پر خطرہ منڈلا رہا تھا لیکن اس وقت عام چناؤ کو دیکھتے ہوئے بی جے پی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی تھی جس سے چناؤ پر اثر پڑے۔ ابھی 70 ممبران اسمبلی والی اتراکھنڈ اسمبلی میں کانگریس کے 33 ایم ایل اے ، بھاجپا کے30، یوکے ڈی، بی ایس پی اور آزاد کو ملا کر 7 ایم ایل اے ہریش راوت کی کانگریس سرکار کو حمایت دے رہے ہیں۔ اگر بی جے پی انہیں سرکار سے ہاتھ کھینچنے کے لئے منا لیتی ہے تو اسمبلی میں کانگریس کو اکثریت ثابت کرنا مشکل ہوگی۔پھر ستپال مہاراج کے حمایتی بھی پالا بدل سکتے ہیں۔ حالانکہ انہیں دل بدلو قانون کا خیال رکھنا ہوگا۔ چناؤ نتیجوں سے ہریش راوت کو شخصی طور پر جھٹکا لگا ہے وہ صوبے کی چاروں سیٹیں ہار گئے ہیں۔ حد تو تب ہوئی جب ہری دوار سے ان کی بیوی بھی ہار گئیں۔ ستپال مہاراج اتراکھنڈ کے سرکردہ لیڈروں میں سے ایک ہیں۔ روحانی گورو ہونے کی وجہ سے ان کا ریاست میں ہی نہیں بلکہ ریاست کے باہر بھی اچھا خاصہ اثر ہے۔ چناؤ نتیجوں کے بعد اتراکھنڈ سرکار پر امکانی خطرے کو دیکھتے ہوئے کانگریس کافی چوکس ہوگئی ہے۔ بتایا جاتا ہے سرکار کو بھاجپا سے نہیں بلکہ اپنوں سے زیادہ خطرہ ہے۔اندر خانے جانچ جاری ہے کہ کانگریس کے کون کون سے ایم ایل اے سرکار کو کمزور کرنے میں رول نبھا سکتے ہیں۔ ہریش راوت خیمہ کانگریسی ممبران اسمبلی پر نظر رکھ رہا ہے ساتھ ہی جوابی حملے کے لئے بھاجپا ممبران اسمبلی میں سے بھی کمزور کڑیوں کی تلاش کی جارہی ہے یعنی وزیر اعلی ہریش راوت اور ان کا خیمہ پوری طرح سے امکانی سیاسی سنکٹ سے نمٹنے میں لگ گیا ہے۔ اتراکھنڈ کی سرکار کے وجود کو درپیش اندیشے کو لیکر کانگریس میں اندر خانے ہلچل مچی ہوئی ہے۔بیشک اوپری طور پر کانگریس کے لیڈر سرکار پر کسی طرح کے خطرے کو سرے سے مستردنہ کررہے ہوں لیکن سرکار اور تنظیم کے سیاسی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لوک سبھا چناؤ میں اپوزیشن پارٹی بھاجپا نے ریاستی سرکار کی مضبوطی کو اشو بناتے ہوئے کہا کہ ہریش راوت سرکار کانگریسیوں کی اندرونی رسہ کشی سے خود بخود گر جائے گی۔
(انل نریندر)

18 مئی 2014

حیرت انگیز، ناقابل یقین اور تاریخی ٹرننگ پوائنٹ ہے یہ چناؤ!

یہ تو کمال ہی ہوگیا جنہیں مودی کی ہوا نہیں دکھی اب مودی کی آندھی میں ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔ دیش واسیوں نے تشٹی کرن، جاتیواد اور سماجک سمی کرنوں کو نکارتے ہوئے ایک جٹ ہوکر وکاس کے لئے، بہتر مستقبل کیلئے نریندر مودی کو ووٹ دیا۔ایگزٹ پول بھی غلط ثابت ہوئے۔ جتنی سیٹیں عام طور پر بھاجپا کو دکھائی جارہی تھیں اس سے بھی زیادہ آئیں۔ ٹائمس ناؤ جیسے ٹی وی چینل جس نے بھاجپا کو 249 ، کانگریس کو148 اور دیگر کو 146 سیٹوں کی بھوشوانی کرکے جنتا کو گمراہ کیا انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ سب سے قریب ایک بار پھر نیوز24 ٹوڈے چانکیہ ثابت ہوا جس میں بھاجپا 340، کانگریس کو70 اور دیگر کو133 سیٹیں دی گئی تھیں۔ نومبر کے دہلی اسمبلی انتخابات کے وقت بھی ان کا ہی سروے صحیح ثابت ہوا تھا۔عام طور پر سوائے ٹائمس ناؤ۔ او آر جی کے باقی سبھی سروے صحیح ثابت ہوئے۔تین دشک بعد نریندر مودی کی لہر پر سوا بھاجپا نے اکیلے دم پر 272+ سیٹوں سے آگے پہنچنے کا کرشمہ کردکھایا۔ پردھان منتری امیدوار کے طور پر مودی نے بڑودہ سیٹ پر 5لاکھ70 ہزار ووٹ سے جیت کر بھارتیہ چناؤ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔وارانسی سے بھی ان کی جیت شاندار رہی انہوں نے اپنے قریبی امیدوار اروند کیجریوال کو3 لاکھ 70 ہزارسے زیادہ ووٹوں سے ہرایا۔ پی ایم امیدوار کے طور پر پی وی نرسمہا راؤ نے ناندیال سیٹ سے5 لاکھ80 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہرایا تھا وہ عام چناؤ نہیں بلکہ اُپ چناؤ تھے۔ دیش کی سب سے پرانی پارٹی کانگریس آدھا درجن راجیوں میں تو کھاتہ ہی نہیں کھول سکی اور اس کے زیادہ تر بڑے لیڈر چناؤ میدان میں ہار گئے۔ خود راہل گاندھی کو اپنی سیٹ جیتنے میں پسینے چھوٹ گئے اور اب تک کے سب سے خراب پردرشن میں کانگریس کو اہم مخالف پارٹی کی حیثیت بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔عالم یہ ہے کہ اب تک سرکاریں گٹھ بندھن سے بنتی تھیں لیکن پہلی بارحسب اختلاف کو شکل دینے کے لئے گٹھ بندھن کی ضرورت پڑے گی۔گٹھ بندھن کی بات کریں تو 30 سال بعد پہلی بار بھارت کی جنتا نے کسی ایک دل کو صاف اکثریت دی ہے۔ انہوں نے گٹھ بندھن کی راجنیتی کے نقصان دیکھ لئے ہیں اس لئے بڑی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے انہوں نے بھاجپا کو صاف اکثریت دی ہے تاکہ اس کو گڈ گورننس میں کوئی دقت نہ آئے۔اس چناؤ میں جاتی اور سماجک بنیاد پر بنے کئی قلعہ بھی گر گئے ہیں۔ بسپا، درمکھ اور رالود جیسے دل تو اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکے۔ ’آپ‘ پارٹی جو بہت کود رہی تھی، کو مشکل سے 4 سیٹیں ملی ہیں اور ووٹ فیصد بھی2.2 ہے جس سے اس کا قومی پارٹی کا سپنا بھی چکنا چور ہوگیا۔ دہلی میں جہاں نومبر میں کیجریوال اینڈ کمپنی کو شاندار جیت ملی تھی ،کو اس بار دھول چاٹنی پڑی اور ساتوں سیٹوں پر اس کا سوپڑا صاف ہوگیا۔وہیں بڑبولے کمار وشواس تو اپنی ضمانت تک نہیں بچا سکے۔ کیجریوال اینڈ کمپنی کے سیاسی مستقبل پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ نریندر مودی نے ایک ہی جھٹکے میں دونوں کانگریس اور ’آپ‘ پارٹی کو اس کی اوقات دکھادی۔ عام چناؤ کے دوران پوری سیاست کو خود پر مرکوز رکھنے میں کامیاب رہے مودی نے قومی سطح پربناکسی دباؤ میں آئے آگے بڑھنے کے اپنے پرشاسن کے ایجنڈے کا سنکیت بھی دے دیا ہے۔ اپنے سخت فیصلوں اور کسی کے دباؤ میں نہ آنے کی پہچان والے مودی کوجنادیش بھی کھل کر کام کرنے کا ملا ہے۔ اپنے نام کے بوتے پر اکثریت سے قریب ایک درجن زیادہ سیٹیں یعنی 282 لیکر آئے مودی کے لئے نہ پارٹی میں کسی سے جھکنے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی گٹھ بندھن کی حمایت کا ان پر دباؤ ہوگا۔ ’اب کی بار مودی سرکار‘۔’یہ دل مانگے مور‘ اور ’کانگریس مکت بھارت‘ جیسے نعروں کو ووٹروں نے حقیقت میں بدل دیا ہے۔پورے دیش کی امید اور توقعات کا پہاڑ مودی کے لئے چنوتی ہے۔ عام جنتا صرف اتنا چاہتی ہے کہ بجلی، پانی، سڑک، تعلیم، صحت اور معاشی ترقی پر ٹھوس نیتیاں ہوں۔دیش کے نوجوان طبقے نے جم کر مودی کو ووٹ دیا ہے۔ ان کو اپنے بہتر مستقبل کی امید ہے۔انہیں روزگار ملنے کی امید ہے۔ معاشی ترقی کے نام پرگذشتہ10 سالوں سے بے روزگاری اور مہنگائی کی تکلیف پر جھوٹے وعدے ، مہنگائی کم کرنے کے لئے تاریخ پر تاریخ دیتی آرہی یوپی اے سرکار نے نوجوانوں میں مایوسی کا ماحول بنادیا تھا۔ اب انہیں اس ماحول میں امید کی ایک کرن دکھائی دے رہی ہے۔ مودی نے اپنے پرچار میں مہنگائی، بے روزگاری ، بھرشٹاچار، وکاس، جیسے مدعوں پر فوکس کیا جس کی بنیاد پر عوام نے ریکارڈ ووٹنگ کی۔ عوام اس بات کیلئے بھی بدھائی کے حقدار ہیں کے انہوں نے تیسرے مورچے کے آدھار کو نکاردیا ہے۔اگنی پریکشا میں ہمیں امت شاہ کی محنت کور نہیں بھولنا چاہئے۔گذشتہ سال جب مئی میں امت شاہ کو یوپی کا پربھاری بنایا گیا تھا تب بھاجپا پوری طرح خیموں میں بٹی ہوئی تھی۔ 2009ء میں بھاجپا کی اترپردیش میں کل 10 سیٹیں تھیں۔ شاہ نے نہ صرف گاؤں گاؤں میں زمینی کاریہ کرتاؤں کی فوج کھڑی کی بلکہ یوپی میں صحیح وقت پر اثر دار مدعے اٹھائے۔
مثال کے طور پراعظم گڑھ کو آتنکی گڑھ، پشچمی اترپردیش میں اپمان کا بدلہ لو بٹن دباکر، نے اپنا رنگ دکھا دیا۔کانگریس کی حکومت والے راجیوں میں بھی مودی کی لہر چلی۔ ہریانہ ، کرناٹک و پشچمی بنگال جیسے راجیوں میں بھاجپا کی جیت شاندار ہے۔ کانگریس کی اینٹی انکمبینسی ووٹ جو ’آپ‘ کو ملنا تھا وہ اس بار بھاجپا کو مل گیا۔موجودہ لوک سبھا میں بھاجپا کے116 ممبر ہیں اور اس کی ووٹ کی حصہ داری 18.8 فیصد تھی۔ کانگریس 28.53 فیصد ووٹ حاصل کر206 ممبروں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی تھی۔اس بار بھاجپا کو 31.4 فیصد ووٹ اور 282 سیٹیں ملیں جبکہ کانگریس کو صرف 19.5فیصد ووٹ ملا اور وہ44 سیٹوں پر سمٹ گئی۔کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی نے ہار کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ جن آدیش کانگریس کے خلاف ہے۔
آج سے ایک سال پہلے تک شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ گجرات کے ایک عام سے قصبے میں جنم لینے والے نریندر دامودر داس مودی جو کہ بچپن میں چائے بیچتے تھے ایک دن ہندوستان کی جمہوریت میں ایک نئی تاریخ لکھیں گے۔ جیسے نتیجے آئے ہیں اس کے لئے الفاظ کی کمی ہے۔ بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں شاندار، ناقابل یقین اور تاریخی۔ لگتا ہے اچھے دن آگئے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...