Translater

12 جون 2021

متحدہ عرب امارات میں گرمی کا 7سال کا ریکارڈ ٹوٹا!

متحدہ عرب امارات میں ان دنوں زبردست گرمی پڑ رہی ہے اتوار کو شہر العین میں درجہ حرارت 51.8ڈگری سیلسیس میں پہونچ گیا یہ موسم کا سب سے زیادہ گرم دن تھا اس پر قومی محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتیا کہ مئی کے مقابلے میں جون میں درجہ حرارت 2سے 3ڈگری بڑھ گیا ہے ابھی یہ کہنا جلد بازی ہوگی متحدہ عرب امارات میں اب تک کا سب سے گرم سال ہوگا اس سے پہلے 2002میں 52.1ڈگری پہونچ گیا تھا لیکن تین دن میں دو مرتبہ 51ڈگری پہونچنا نئی بات ہے یو اے ای کے جغرافیائی ماہر سائنسداں حسن الھریری نے کہا اتنی زیادہ گرمی عجب موسم کا ایک واقعہ ہے لیکن اس کو ہر گیارہ سال ہونے والی سورج کی سرگرمیوں سے جوڑ کر کبھی نہیں دیکھ سکتے سال 2020میں سورج اپنے زیادہ حرکت والے دورمیں داخل ہوچکا ہے یہی اس گرمی کا سبب ہے اور اس کا تجزیہ کئے بغیر کچھ کہنا مشکل ہے ھریری کہتے ہیں 70کی دھائی میں یہاں گرمی کے موسم میں بھی ٹھنڈک رہتی تھی 90کی دھائی کے ساتھ گرمی میں مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے اس گرمی کو دیکھتے ہوئے یو اے ای پولس اور انتظامیہ نے بھی تیاری کر لی ہے ابوذھبی پولس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ماں باپ یا والدین نے کسی بھی سبب سے بچوں کو کار کے اندر چھوڑا تو یہ قابل سزا کا جرم ہوگا اور دس سال کی جیل یا دس لاکھ درھم یعنی 2کروڑ روپئے تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے گرمی میں ٹائر پھٹنے کے حادثات کو دیکھتے ثمر سیف ٹریفک کمپین کے تحت ابو ذھبی پولس نے ڈرائیوروں سے گاڑیوں کے ٹائروں کی جانچ کرانے کو کہا ہے تاکہ حادثوں سے بچا جا سکے پولس کی ہدایت کے مطابق ٹائروں کا استعمال اچھی کوالٹی کا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ماہرین کا کہنا ہے اتنی گرمی میں بچوں کو گاڑی میں چھوڑنا جان لیوا ہوسکتا ہے کیونکہ باہر کا درجہ حرارت 40ڈگری ہوتا لیکن دھوپ کے اندر کھڑی گاڑی کا دس منٹ میں درجہ حرارت 60ڈگری تک پہونچ سکتا ہے اس سے ہیٹ اسپریک اور سفوکیشن سے بچوں کی جان جاسکتی ہے سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ہر سال اوسطاً 40بچوں کی موت کاروں کے اندر پیدا گرمی یا گھٹن سے ہوتی ہے سب سے بڑی بات ہے کہ 55فیصد ماں باپ ایسے خطرے سے واقف نہیں ہوتے ۔ (انل نریندر)

درجہ حرارت بڑھنے سے نیچے دبے وائرس سرگرم ہونے کا خطرہ!

تاریخ میں ہمیشہ انسان اور جراثیم و وائرس ساتھ ساتھ رہے ہیں بے بونک پلیگ ، چیچک تک ہم ان کا سامنہ کرتے رہے ہیں لیکن کیا ہوگا اگر اچانک ہمارا سامنہ ایسی تبدیلی آب و ہوا کے سبب ہزاروں برسوں سے جمی مٹی ، چٹان اور برف سے بنی زمین کی پرت پگھل رہی ہے اور قدیم وائرس اور جراثیم باہر آرہے ہیں ان میںسے زیادہ تر کے سرگرم ہونے کا اندیشہ رہا ہے لیکن کچھ سرگرم ہوکر خطرناک طور پر خطرناک شکل لے سکتے ہیں اگست 2016میں سائبریا کے ممل جزیرے میں ایک بارہ سال کے لڑکے کی موت اینتھرکس سے ہوگئی تھی اور بیس دیگر لوگ انفیکشن کا شکار ہوئے ہاں اس کی شروعات 75سال پہلے ہوئی تھی تب اینتھرکس سے ایک ہرن کی موت کے بعد اس کی لاش مٹی اور برف کے نیچے دب گئی تھی 2016کی شدید گرمی سے یہ پرت پگھل گئی اور لاش باہر دکھائی دینے لگی اس کا جراثیم اینتھرکس پانی اور مٹی اور پھر غذائی چیزوں کے ذریعے بچے کے جسم میں پہونچ گیا حالانکہ اینتھرکس کی سب سے پہلے پہچان بارہویں تیرہویں صدی میں کی گئی تھی ۔ یہ اکیلا معاملہ نہیں جیسے جیسے گلوبل وارمنگ بڑھے گی تب پرتیں برف اور مٹی کی پرتیں زیادہ پگھلیں دی تبھی عام حالات میں پرب فراسٹ پرتوں کو پگھلنے کا سبب بن رہی ہے آرٹک سرکل میں درجہ حرارت دنیا کے باقی حصوں کے مقابلے تقربیاً تین گنا تیزی سے بڑھ رہا ہے اس کے پگھلنے اس میں جمع کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھن بھی آب و ہوا میں گھل رہی 2020کی گرمیوں سے سائبریا میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت درج کیا گیا ادھر کچھ برسوں پہلے فرانس اور روس کے سائنسدانوں نے تیس ہزار سال پرانی سائبریا فراسٹ سے نکلے ایک وائرس کو دوبارہ جنم دیا ہے یہ وائرس امیبا کو انفیکٹ کرسکتا تھا انسان کو نہیں لیکن روسی سائنس اکیڈمی کے تحقیق رسانوں ڈاکٹر ایبرجیل اور ڈاکٹر ولے ویری کہتے ہیں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے ہی کچھ وائرس انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں 2005کی ایک اسٹڈ ی میں الاسکا میں جمے تالاب میں 32ہزار سال پرانے ایک جراثیم کو کامیابی کے ساتھ دبارہ زندہ کیا تھا گلوبل وارمنگ سے برف پگھل رہی ہے اور یہ خطرے کا اشارہ ہے ۔ (انل نریندر)

میہول چوکسی کی فلمی کہانی۔۔۔(۲)

پھر انہوں نے مجھے بات چیت کے بغیر کسی اسپرن اور بنا پیسوں کے چھوڑ دیا انہوں نے میرے خاندان اور وکیلوں کو بھی نہیں بتایا کہ میں کہاں ہوں مجھ سے کہا کہ وہ مجھے ڈومینکا پولس کمشنر کو سونپ دیں گے ۔ چوکسی کے ایک خاتون کے ساتھ ہونے کے بارے پہلا بڑا بیان اینٹیگو ا کے وزیر اعظم گیسٹن براو¿ن کی طرف سے آیا تھا جس میں کہا تھا کہ چوکسی اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ اچھا وقت گزارنے ڈومینکا گئے تھے جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا براو¿ن کا کہنا تھا کہ اینٹیگوا سے نکلنا چوکسی کی سب سے بڑی غلطی تھی اس کے بعد زورو شور سے یہ جاننے کی کوششیں کی گئی کی آخر 23مئی کی شام چوکسی کس لڑکی کے ساتھ تھے؟ کچھ دنوں بعد باربرانام سامنے آیا اور چوکسی کی بیوی نے بتایا کہ وہ کئی مہینوں سے ان سے مل رہیں تھیں چوکسی نے اپنی شکایت میں باربرا کے بارے میں لکھا ہے میں بار برا کو ایک دوست کے طور پر جانتا تھا وہ پہلے جولی ہاربر میںمیرے گھر کے سامنے رہتی تھی لیکن بعد میں کوکابے ہوٹل میں شفٹ ہوگئی میرے اسٹاف کے ساتھ اس کا دوستانہ رشتے تھے ہم با قاعدہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ملتے اور اکثر شام کو واک کرنے جاتے تھے جب اس کے گھر میں مجھے پیٹا جا رہا تھا تو اس نے کچھ نہیں کیا وہ چپ چاپ سب کچھ دیکھتی رہی اور اس نے باہر سے کسی کو بلانے کی بھی کوشش نہیں کی وہ جو کچھ بھی کر رہی تھی اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ پلان کا اہم حصہ تھا چوکسی نے شکایت میں دعویٰ کیا کہ فون پر ایک شخص سے بات کرائی گئی تھی جس نے اپنا نام نریندر سنگھ عرف امریور سنگھ بتایا تھا شکایت کے مطابق اس شخص نے کہا کہ میں تمہارے کیس کا انچارج ہوں وہ مجھ پر دباو¿ ڈالنے لگا کہ میں کہوں کہ میں نے اپنے اغوا کاروں کی مدد کی تھی اور میں خود ان کے ساتھ گیا تھا ۔ میرے منع کرنے کر اس نے مجھے دھمکایا کہ مدد نہ کرنے پر میرا خاندان خطرے میں پڑ جائے گا ۔ چوکسی کے اینٹیگوا پولس کے پاس شکایت درج کرانے کے بعد اینٹیگوا کے پی ایم گیسٹن براو¿ن نے پیر کو کہا چوکسی نے شکایت درج کرائی کہ ان کو اغوا کیاگیا انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے یہ دعویٰ پیش کیا ہے کہ انہیں اینٹیگوا سے اغوا کر کے ڈومینکا لے جایا گیا پولس اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اغوا کی جانچ کی جا رہی ہے وہیں ڈومینکا کے وزیر اعظم کیا کہتا ہے َ؟ سماچار ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ڈومینکا کے وزیر اعظم روزویلٹ اسکریٹ نے اس بارے میں پہلی بار کوئی بیان دیتے ہوئے کہا ہندوستانی شہری چوکسی کے خلاف کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے عدالت طے کرے گی کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا ہم عدالت کے مطابق کام کریں گے ہم اس طرح کے معاملے کے بارے میں کھلے عام بیان دینا پسند نہیں کرتا ہوں ڈومینکا کہ عدالت نے چوکسی پر ڈومینکا میں ناجائز طور پر گھسنے کے مقدمہ چل رہا ہے اس کے جواب میں چوکسی کے وکیلوں نے اپنی دلیل رکھی ہے کہ انہیں زبردستی ڈومینکا لایا گیا ہے اور اس کیلئے چوکسی ذمہ دار نہیں ہے چوکسی کے وکیلوں نے مطالبہ کیا ہے اس کو اینٹیگوا واپس بھیجا جائے جہاں کے وہ شہری ہیں اور یہاں بھی ان کے خلاف دو مقدمے چل رہے ہیں ۔ (ختم) (انل نریندر)

11 جون 2021

چینی ٹیکہ لگوانے والے شہریوں پر پابندی !

اپنے سب سے زیادہ گہرے دوست چین کی ویکسین پاکستان کیلئے درد سر بن گئی ہے سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک نے چینی ٹیکے کو منظوری نہیں دی ہے دوسری طرف اسے لگوانے والے پاکستانیوں کے اپنے یہاں آنے پر روک لگا دی گئی ہے ایسے میں بہت سے خلیجی ملکوں میں پڑھنے یا کام کیلئے جانے والے لوگوں کی امیدوں کو جھٹکا لگا ہے اس سے لوگوں میں غصہ بڑھ رہا ہے او ر وہ وزیر اعظم عمران خان سرکار سے سوال پوچھنے لگے ہیں ایسے میں خود عمران خان کو مارکیٹنگ کیلئے اترنا پڑ رہا ہے اس میں ان کا ساتھ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد دے رہے ہیں عمران خلیجی دیشوں میں اس مسئلے پر بات چیت کر رہے ہیں اور انہیں چینی ٹیکے کے فائدے گنانے میں لگے ہوئے ہیں در اصل چین کی دو ویکسین کو ڈبلیو ایچ او سے منظور مل چکی ہے لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی خلیجی دیش اس کو قبول نہیں کر رہے ہیں اس وجہ سے پاکستانی شہریوں کیلئے بڑا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے چینی مسئلے کو لیکر ناراض پاکستانی عوام اب عمران خان سرکار سے سوال پوچھ رہی ہے ان کا کہنا ہے جب چینی ویکسین کو دنیا کے دوسرے ملکوں میں منظوری نہیں ملی تو تو پاکستان نے کیوں خریدی ہے پاکستان نے کچھ ڈوز روس کے اسپوتنک ویکسین کے ڈوز خریدے ہیں سعودی عرب نے چین کی ویکسین لگوانے والے پاکستانیوں کی انٹری پر روک لگا دی ہے چینی ویکسین والا سر ٹیفیکٹ قبول نہیں ہو رہا ہے بحرین میں 60فیصد لوگوں کو چینی ویکسین لگائی جا چکی ہیں لیکن جب انفیکشن نہیں رکا تو فائزر ویکسین لگائی جا رہی ہے متحدہ عرب امارات نے ان لوگوں کو پھرسے فائزر ویکسین لگ رہی ہے جنہوں نے چینی ٹیکہ لگوا لیا تھا۔ (انل نریندر)

کوو یکسین بنام کوویشیلڈ :کس میں زیادہ سیکورٹی ؟

کو ویکسین کے مقابلے میں کو ویشیلڈ ٹیکے سے زیادہ بہتر مانی جاتی ہے حالانکہ دونوں ٹیکے انسان کی حفاظت کو مضبوط کرنے میں بہتر ہے دونوں ٹیکوں کی ڈوز لے چکے ہیلتھ ملازمین پر کی گئی اسٹڈی سے یہ بات سامنے آئی ہے اور اسے میڈیسر ایکٹیو پر چھپنے سے پہلے اس اسٹڈی کو جاری کردیا اس اسٹڈی نے 13ریاستوں کے 72شہروں میں 575ہیلتھ ملازمین کو شامل کیا گیا ۔ ان میں سے 305مرد اور 210عورتیں تھیں اسٹڈی میں شامل ہونے والے خون کے نمونوں میںسیکورٹی اوراس کے میعار کی جانچ کی گئی اسٹڈی کے جانے مانے رائٹر اور ڈی جی اسپتال و سگر انسٹی ٹیوٹ ، کولکتہ میں اینڈرو کرائی لوجسٹ اودھیش کمار سنگھ نے ٹویٹ کیا ہے کہ دونوں ڈوز لینے کے بعد دونوں ٹیکوں نے صحت کی گارنٹی کو مضبوط کرنے کا کام کیا حالانکہ کو ویکسین کے مقابلے میں سیرو انفیکشن شرح اور صحت حفاظت میعار کو ویشیلڈ میں زیادہ رہا اپنے اسٹڈی میں رائٹر نے کہا 515ہیلتھ ملازمین میں دونوں ٹیکوں کو لینے کے بعد میں 95فیصد میں سیرو پازیٹیو نظر آئی ان میں سے 425لوگوں نے کو ویشیلڈ اور 90لوگوں نے کو ویکسین کی ڈوز لی تھی اور سیرو پازیٹیو شرح با سلسلہ 98.1اور80فیصد رہی سیرو پازیٹیو کے سلسلے میں کسی شخص کے جسم میں بننے والی اینٹی باڈیز سے ہیں احمدآباد کے بزنس مین اور دوسرے سگر انسٹی ٹویٹ اور اداروں کے ریسرچ کرنے والے اور جے پور میں راجستھان اسپتال اور مہاتما گاندھی اور انڈیا سائنس میڈیکل یونیورسٹی اوراسپتال کے ریسرچ کنندگان نے ریسرچ کی ہے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور آکسفورڈ اسٹروجینکا کے کو ویشیلڈ ٹیکہ بنا رہیں وہیں حیدرآباد کی بائیو ٹیک اور آئی سی ایم آر اور این آئی وی کے ساتھ تال میل سے کو ویکسین بن رہی ہے ۔ اسٹڈی کنندگان نے کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے اور جو لوگ متاثر نہیں ہوئے ان دونوں افراد میں ویکسین کی ڈوز لینے کے بعد نتیجوں کا موازنہ تھا ایسا پایا گیا جو اینٹی باڈیز دونوں ٹیکوں کی پہلی کم سے کم چھ ہفتہ پہلے کوویڈ 19-سے ٹھیک ہو پائے تھے اور بعد میں دونوں نے ڈوز لے لی تھی ان میں سیٹو پازیٹیو شرح سو فیصد رہی اور دوسروں کے مقابلے میں ان میں اینٹی باڈیز کی سطح زیادہ تھی ۔ (انل نریندر)

میہول چوکسی کی فلمی کہانی۔۔۔(۱)

پنجاب نیشنل بینک سے 13578کروڑ روپئے کی دھوکہ دھڑی کے ملزم میہول چوکسی نے کہا ہے کہ انہیں اینٹگوا سے اغوا کرکے ڈومینکا لے جایا گیا ہے انہوں نے دعویٰ کیا ہے ان کے اغوا کاروں نے کہا تھا کہ ڈومینکا میں ان کی بات چیت ایک بڑے وزیر سے کرائی جائے گی ۔ میہول چوکسی نے 2جون کو اپنے وکیلوں کے ذریعے اینٹگوا پولس میں اپنے اغوا کی شکایت درج کرائی تھی اس میںاپنے اغوا کی کہانی بتاتے ہوئے چوکسی کہتے ہیں ، 23مئی کو بار برا جابرکا نے مجھے اپنے گھرسے لینے کیلئے کہا تھا چوکسی کچھ مہینوں سے اسے ایک دوست کے طور پر جانتا تھا اور وہ کچھ دنوں سے ہمارے گھر کے سامنے ہی رہ رہی تھی 23مئی کی شام قریب 5بجے جب میں باربرا جابرکا کے گھر میں داخل ہوا تھا تو کچھ دیر بعد وہاں آٹھ دس موٹے تازے لوگ آئے جو خود کو اینٹگوا پولس کا بتا رہے تھے انہوں نے مجھے بری طرح پیٹا میری کھال پر کرنٹ لگایا جس سے میں جل گیا انہوں نے میرا فون ، رولیکش گھڑی ، اور پیسے لے لئے اور پھر وہ میری آنکھوں میں پٹی باندھ کر مجھے لے جانے لگے ۔ چوکسی کے شکایت کے مطابق جابرکا کے گھر کے پیچھے ایک چھوٹی بوٹ میں لے جایا گیا پھر وہاں سے کہیں اور لے جانے کے بعد انہیں اور بڑی ہاو¿س بوٹ میں رکھا گیا اور پھر آنکھوں سے پٹی ہٹائی گئی چوکسی کے مطابق دوسری بوٹ میں شفٹ کئے جانے پر انہیں احساس ہوا کہ انہیں پولس کے پاس نہیں لے جایا جا رہا ہے بڑی بوٹ میں دو ہندوستانی اور تین کیریبیائی لوگ تھے انہوں نے اب تک جو بھی کیا تھا اس سے لگا کہ دونوں ہندوستانی کرائے کے بد معاش ہیںمجھے مار پیٹ اور ناجائز طریقے سے اغوا کرنے کیلئے انہیں ہائر کی گیا تھا انہیں مرسنری بھاڑے کے لوگ کہا جاتا ہے جو پیسے کے بدلے فوجیوں جیسا کام کرتے ہیں مانا جاتا ہے عام طور پر یہ لوگ اکیلے ہی کام کرتے ہیں سال 2020میں نیٹ فلکس پر آئی فلم ایکس ٹریکشن ایسے ہی کچھ مرسنریز پر مبنی تھی چوکسی کی پانچ صفحات کی شکایت میں لکھا ہے کشتی پر موجود ایک ہندوستانی نے مجھے بتایا وہ پچھلے ایک سال سے مجھ پر نگا ہ رکھ رہے تھے وہ جانتے تھے کہ میں کہاں واک کر نے جا رہا ہوں اور میرا پسندیدہ ریستوراں کونسا ہے دوسرے ہندوستانی نے مجھ سے پیسے اور بینک کھاتے کے بارے میں پوچھا اور میرے پوچھنے پر گول مول جواب دیئے گئے ان میں سے ایک ہندوستانی نے مجھ سے کہا کہ مجھے ایک بڑے ہندوستانی لیڈر کا انٹرویو لینے کیلئے اس خاص لوکیشن پر لایا گیا ہے ڈومینکا میں میری شہریت فکس کرکے مجھے جلد ہی بھارت حوالے کر دیا جائے گا حکومت ہند کی طرف سے اس معاملے میںا بھی کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے چوکسی کی حوالگی کیلئے الگ الگ ہندوستانی ایجنسیوں کے حکام کی جو ٹیم ڈومینکا گئی تھی وہ قریب سات دن کیریبیا ئی دیش میں رہنے کے بعد پچھلے ہفتے بھارت لوٹ آئی ہے چوکسی پچھلے 24مئی سے ڈومینکا میں جوڈیشل حراست میں ہے ان پر ناجائز طریقے سے ڈومینکا میں گھسنے کا مقدمہ چل رہا ہے یہ دعویٰ وہاں کی پولس نے کورٹ میں کیا ہے انہوں نے چوکسی کو 23مئی کی رات 11.30بجے ساحل کے پاس مشتبہ حالت میں گرفتار کیا تھا حالانکہ پولس نے ان پر ناجائز طور سے ڈومینکا میں گھسنے کا الزام 28 مئی کو اپلائی کیا تھا اغوا کے بعد خود کو چھوڑے جانے کو لیکر چوکسی نے شکایت میں لکھا ہے کہ جب ان لوگوں کو احساس ہوا ہے کہ ان کا پلان خراب ہوگیا ہے تو وہ مجھے بے چینی کی حالت میں ان کے پاس بار بار ریڈیو کال آرہے تھے کہ میرا آپریشن ابھی تک پورہ کیوں نہیں ہوا؟انہوں نے پہلے تو مجھ سے پندرہ سو ڈالر مجھے واپس کردیئے لیکن بعد میں انہوں نے پیسہ پھر سے لیکر کشتی والے کو دے دیا (جاری ) (انل نریندر)

10 جون 2021

پاکستان سازش رچنے سے بعض نہیں آرہا ہے !

کشمیر وادی میں بھاجپا نیتا راکیش پنڈتا پرہوئے آتنکی حملے سے ہوئی موت نے اسی ماہ شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کہ حفاظت کو لیکر چنوتیاں کھڑی کر دی ہیں ۔لگتا ہے پاکستان اپنے پالتوآتنکیوں کے ذریعے کسی بڑی سازش کو انظام دینے میں لگا ہے جس سے کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی کو دھکہ پہونچے اور وادی کے باہر ہندو¿ں کو یہاں آنے سے روکنا شامل ہے پولس ذرائع کی مانیں تو موجودہ وقت میں اکیلے ساو¿تھ کشمیر میں سو دہشت گرد سر گرم ہیں جو غیر ملکی ہیں پچھلے سال 31دسمبر کو سری نگر کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے ہری سنگھ اسٹریٹ میں دہشت گردوں کے ذریعے پنجابی دہری دکاندار پر حملہ کرکے مار ڈالا گیا تھا در اصل اس جویلرس کے بزرگ ست پال مسچل شرما جو کئی دہائیوں سے یہاں جولری کا کام کرتے تھے نئے جموں کشمیر کے ڈومیثائل پالیسی کو لیکر ڈومیثائیل سرٹیفیکٹ بنوالیا تھا جو دہشت گرد کو برداشت نہیں ہوا وہاں اس سال 17فروری کو انتہائی محفوظ علاقہ مانے جانے والے میں پرانا کرشن ڈھابا کے مالک کے بیٹے آکاش مہرا کو مارڈالا تھا ۔ پاکستان کی سازش مسلسل کشمیر میں سورش پیدا کرنے کی ہے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے کشمیر میں بیٹھے اپنے گروپوں کے ذریعے آتنکی حملے میں تبدیلی کی کوشش کی ہے جس کے تحت کشمیر ی نوجوانوں کو آتنکی بنا کر گوریلا حملے کی طرح سیکورٹی فورس پر حملہ کرکے ان کا اسلحہ چھیننے کے علاوہ آئی ڈی کے ذریعے حملے کے کوششیں جاری ہیں ۔ ان حالات میں امرناتھ یاترا کہ حفاظت کرنا بڑی چنوتی بن گئی ہے ۔ (انل نریندر)

پٹرول سو روپئے پار ہوا!

راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر ، لیہہ اندھر پردیش و تلنگانا ریاستوں کے کچھ حصوں میں پٹرول کے دام سو رروپئے فی لیٹر ہوگئے ہیں ۔ گاڑی کے ایندھن کی قیمتوں میں پھر اضافہ ہوا ہے پبلک سیکٹر کے کمپنیاں پیٹرولیم کمپنیوں نے قیمت کا فرمان جاری کردیا ہے اس کے مطابق پٹرول کے دام 27پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کے دام 28پیسے فی لیٹر بڑھ گئے ہیں ۔ پچھے ایک مہینے میں ایندھن کی قیمتوں میں 18مرتبہ اضافہ ہوا ہے دہلی میں پٹرول 94.76روپئے فی لیٹر پہونچ گیا ہے وہیں ڈیزل 85.46روپئے فی لیٹر ہوگیا ہے قیمتیں ویٹ لگنے اور ڈھلائی بھاڑے کی وجہ سے مختلف ریاستوں میں ایندھن کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں ۔ راجستھان مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے سبھی ضلعوں میں اب پٹرول سو روپئے فی لیٹر سے زیادہ مہنگا ہے پیٹرولیم مصنوعات کے دام بڑھنے کی وجہ عالمی منڈی میں کچے تیل مہنگا ہونا بتایا جا رہا ہے عالمی منڈی میں پچھلے دو سال میں برینٹ کچے تیل کے دام 71ڈالر فی بیرل سے زیادہ پہونچا ہے ممبئی دیش کا پہلا شہر ہے جہاں 29مئی کو پٹرول کے دام سو روپئے فی لیٹر پہونچ گئے تھے جبکہ ڈیزل 92.99روپئے فی لیٹر ہیں ۔ کرناٹک کے بیلاری میں پٹرول 99.83روپئے فی لیٹر بک رہا ہے ا س سال چار مئی کے بعد پٹرول ڈیز ل کے دام میں 19بار اضافہ ہوا ہے اس دوران پٹرول کے دام 4.36روپئے اور ڈیزل کا دام 4.93فی لیٹر بڑھے ہیں ۔ (انل نریندر)

26ہزار بچوں نے ماں باپ میں سے ایک کو کھویا !

کورونا وبا کے قہر سے پورا دیش پریشان ہے لیکن اس کا سب سے برا اثر بچوں پر پڑ رہا ہے ۔ ایک اپریل 2020سے لیکر 5جون 2021کے درمیان 3621بچے کورونا کے چلتے یتیم ہوگئے اتنا ہی نہیں ، دیش میں 26,176بچوں نے ماں باپ میں سے کسی ایک کو کھویا ہے اس سے بچوں پر دکھ کا پہاڑ توٹا ہے یہ جانکاری نیشنل اطفال حقوق سرپرست تحفظ کمیشن نے سپریم کورٹ کو دی ہے وہیں مرکزی سرکار نے کہا کہ وہ پی ایم کیئر فنڈ کے تحت یتیم ہوئے بچوں کیلئے راحت یوجنا کا خاکہ تیار کر رہی ہے کمیشن نے کورٹ کو بتایا کہ ریاستوں اور مرکزی حکمراں پردیشوں سے جانکاری اکٹھی کرنے کے بعد اطفال شیوراج پورٹل پر سنکٹ میں آئے 30071بچوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے یہ وہ بچے ہیں جنہوں نے یا تو اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو کھودیا ہے ۔ اس سلسلے میں مہاراشٹر میں سب سے زیادہ 7084معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ 3172معاملوں کے ساتھ اتر پردیش دوسرے نمبر پر ہے۔ راجستھان میں 2482کیس سامنے آئے ہیں کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالی سیٹر ایم ناگراج نے کہا کہ کورونا سے یتیم ہوئے بچوں کو لیکر مغربی بنگال اور دہلی حکومتوں کا رویہ غیر سنجیدہ ہے کیونکہ ان دونون ریاستوں نے یتیم ہوئے بچوں کے بارے میں پوری تفصیل مہیا نہیں کرائی ہے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کورونا وبا کے تیسری لہر کے اندیشے کے پیش نظر سبھی ریاستوں کو بچوں کا علاج کا پورا سسٹم یقینی کرنا چاہئے ۔ امید کی جاتی ہے بہت جلد یتیم بچوں کی پرور ش کا پختہ انتظام ہوجائے گا ان کو سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے ۔ (انل نریندر)

09 جون 2021

اسرائیل کی نئی حکومت کے دو الگ الگ وزیر اعظم ہوں گے

بنجامن نیتن یاھو اسرائیلی سیاست سے رخصت ہوگئے ہیں۔ نفتالی بینیٹ ملک کے نئے وزیر اعظم ہوں گے۔ اسرائیل میں حزب اختلاف کی آٹھ جماعتیں حکومت بنائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی ، بنجامین نیتن یاہو کی 12 سالہ وزیر اعظم شپ ختم ہوگئی۔ اپوزیشن اتحاد کی جماعتیںملکر سرکار بنا ئیںگی اس سے متعلق معاہدے پر پہنچ گئیں۔ اس کے مطابق ، دو مختلف جماعتوں کے قائدین بدلے میں وزیر اعظم ہوں گے۔ پہلی دائیں بازو کی یاسینا پارٹی کے رہنما نفتالی بینیٹ (49) وزیر اعظم ہوں گے۔ ان کی مدت 2023 تک رہے گی۔ اس کے بعد سنٹرسٹ ہاں ہاں آٹیڈ پارٹی کے رہنما میٹ لیپڈ (57) وزیر اعظم بنیں گے۔ ان کی مدت 2025 تک رہے گی۔ لیپٹ نے کہا کہ نئی حکومت اسرائیلی معاشرے کو متحد رکھنے کی کوشش کرے گی۔ عرب اسلامی پارٹی رام بھی اس اتحاد میں شامل ہے۔ اس کے رہنما منصور عباس نے کہا کہ ہمارے درمیان بہت سے اختلافات تھے لیکن معاہدے تک پہنچنا ضروری تھا۔ ادھر ، وزیر اعظم بنجامن نیتن یاھو نے کہا کہ وہ جدوجہد کے بغیر اقتدار نہیں چھوڑیں گے۔ ممبران پارلیمنٹ خطرناک بائیں بازو اتحاد کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ادھر اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں نے جشن منانا شروع کردیا ہے۔ صدر سوین ریولن نے پارلیمنٹ کے اجلاس کا حکم دیا ہے۔ اس میں نئی حکومت کو اپنی اکثریت ثابت کرنا ہوگی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے پاس 120 ووٹ ہیں۔ اکثریت کو 61 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اتحاد اپنی اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے تو دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے۔ نیا اتحاد دائیں بازو ، بائیں بازو اور مرکز پسند جماعتوں پر مشتمل ہے۔ لیکن انہوں نے نیتن یاہو کے اقتدار کو ختم کرنے کے لئے متحد ہوکر رہ گئے ہیں۔ اسرائیل میں دو سالوں میں چار بار انتخابات ہوئے ہیں۔ مستحکم حکومت نہیں ہوسکی ہے۔ دیکھیں کہ کیا نئی حکومت اپنی اکثریت ثابت کر سکتی ہے اور اسرائیل کو کچھ استحکام فراہم کرسکتی ہے؟ (انل نریندر)

ذاتی استعمال کےلئے آکسیجن کنسنٹریٹر پر جی ایس ٹی غیر آئینی

سپریم کورٹ نے درآمد شدہ آکسیجن کنسٹریٹر پر ذاتی استعمال کے لئے جی ایس ٹی (انٹیگریٹڈ گڈس سروس ٹیکس) کے حکم کو منسوخ کردیا ہے۔ یہ حکم دہلی ہائی کورٹ نے دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے اس طرح کے درآمد شدہ آکسیجن کنسٹریٹر پر جی ایس ٹی لگانا غیر آئینی قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑکی سربراہی میں بنچ نے نوٹس جاری کیا۔ اس کے تحت ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے والے درخواست گزار کی طرف سے جواب طلب کیا گیا تھا۔ بنچ نے کہا ، "ہم دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر قائم ہیں۔ اس سے قبل اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ جی ایس ٹی کونسل کی 8 جون کو میٹنگ ہوگی ۔ اس میں ، آکسیجن کنسٹریٹر سمیت کورونا سے متعلق ضروری اشیاءپر چھوٹ دینے پر غور کیا جائے گا۔ مرکزی وزارت خزانہ نے اس سلسلے میں یکم مئی کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کہ ذاتی استعمال کے لئے درآمد شدہ آکسیجن کنسٹریٹر 12 فیصد آئی جی ایس ٹی کولاگو کرے گی۔ چاہے بطور تحفہ یا کسی اور طرح سے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس نوٹیفکیشن کو منسوخ کردیا تھا۔ ہائیکورٹ نے کہا تھا کہ ذاتی استعمال کے تحائف کے طور پر درآمد شدہ آکسیجن حراستی پر جی ایس ٹی لگانا غیر آئینی ہے۔ یہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی خلاف ورزی ہے۔ مرکز نے اس حکم کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل دائر کی تھی۔ (انل نریندر)

اندرونی رسہ کشی ،اتحاد ،بے قیادت کانگریس کی ہار کا سبب!

حال ہی میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں دہلی کی شکست کے تجزیہ کے لئے تشکیل دی گئی کانگریس کمیٹی نے اپنی رپورٹ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو پیش کی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی اشوک چوان کررہے تھے اور اس میں سلمان خورشید ، منیش تیواری ، ونسنٹ کالا اور جوشی مینا جیسے ممبران شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس کی اپنی رپورٹ میں کانگریس ،کی ہار کی خاص وجہ امیدواروں کے انتخاب میں اندرونی رسہ کشی ، اتحاد اور خامیوں کو بتایا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ آسام سمیت کوئی بھی ریاست اندرونی لڑائی سے اچھوتی نہیںہے ، جبکہ داخلی لڑائیوں میں کیرالا سرفہرست ہے ، جہاں عمان چانڈی اور رمیش چنیتھتلا کی سربراہی میں دو گروپوں کی وجہ سے آمنے سامنے تھے۔ آسام میں بہت سے لوگوں نے اے آئی یو ڈی ایف کے ساتھ اتحاد کیلئے ریورس پولرائزیشن کا حوالہ دیا ، جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ اے آئی یو ڈی ایف کے ساتھ اتحاد فائدہ مند تھا لیکن پارٹی کے کچھ رہنماو¿ں نے ریاست کے انچارج جتیندر سنگھ کو ریاستی رہنماو¿ںکو اعتماد میں ہے نہ لینے کا الزام لگایا۔ انتخابی مہم اور اتحاد کے بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپر آسام کے معاملات کو نظرانداز کیا گیا ہے کانگریس پینل کو کیرالہ میں متعدد نئے چہروں کے بارے میں بتایا گیا ، جس کی وجہ سے ریاست میں پارٹی کی ناقص کارکردگی کا سامنا ہوا ، جبکہ مغربی بنگال میں اتحاد بہت طویل تاخیر کا شکار رہا اور بی جے پی اور ٹی ایم سی کے مابین پولرائزیشن ریاست میں پارٹی کی شکست کا باعث بنی۔ . کانگریس قائدین مشاورت کے بغیر جس طرح سے ریاستی صدر نے سلوک کیا اس سے ناراض تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ کانگریس کی میڈیا مینجمنٹ بھی اچھی نہیں تھی۔ کانگریس پینل نے پانچ ریاستوں میں آئندہ ہونے والے ریاستی انتخابات کے لئے کچھ سفارشات بھی پیش کیں۔ یہ کمیٹی 11 مئی کو عبوری کانگریس کے صدر سونیا گاندھی نے تشکیل دی تھی تاکہ حالیہ اختتام پذیر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شکست کی وجوہات کا تجزیہ کیا جاسکے۔ کانگریس کے عبوری صدر سونیا گاندھی نے سی ڈبلیو سی اجلاس میں کہا کہ ہمیں واضح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیرالہ اور آسام میں موجودہ حکومتوں کو کیوں ختم کرنے میں ناکام رہے اور ہمیں مغربی بنگال میں ایک بھی سیٹ کیوں نہیں ملی؟ دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس کمیٹی کی رپورٹ کو عام کیا گیا ہے یا نہیں ، کیوں کہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں شکست کی وجہ معلوم کرنے کے لئے تشکیل دی گئی اے کے انٹونی کمیٹی کی رپورٹ نہیں ہو سکی ہے۔ ابھی تک عوامی سطح پر لایا گیا ہے اور یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔یہ نہیں کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں شکست کی وجہ معلوم کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تھی یا نہیں۔ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دو سال گزرنے کے بعد بھی کانگریس قیادت کا معاملہ کیوں حل نہیں کر سکی؟ کیا وجہ ہے کہ سونیا گاندھی کے عبوری صدر بننے کے بعد بہت طویل عرصہ ہوچکا ہے اور اس کے باوجود پارٹی نئے صدر کا انتخاب کرنے کی ضرورت کو سمجھنے سے قاصر ہے؟ کیا پارٹی میں دھڑے بندی نئے صدر کے انتخاب کی راہ میں آرہی ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ قیادت کی ناکامی کی وجہ سے کسی بھی پارٹی میں دھڑے بندی پنپتی ہے۔ یہ دھڑا دھڑ شروع میں صرف ریاستی سطح پر تھا لیکن اب یہ مرکزی سطح پر بھی ابھرا ہے۔ 23 عدم مطمئن دھڑوں ، اگر وجود میں ہیں تو ، قیادت کی کمی کی وجہ سے ہیں۔ یہ افسوسناک ہے کہ جب ملک کو سخت اپوزیشن کی اشد ضرورت ہے ، کانگریس دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے اور وہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔ اگر قیادت کا معاملہ جلد حل نہیں ہوتا ہے تو کانگریس مزید منتشر ہوجائے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کانگریس کی قیادت خود اس کی ذمہ دار ہوگی۔ انل نریندر

08 جون 2021

بھاجپائیوں کو سامان فروخت نہ کریں!

مغربی بنگال میں مغربی مدنا پور ضلع کے کیش پور پولیس اسٹیشن علاقے میں بی جے پی کارکنوں کے ساتھ مبینہ طور پر سماجی بائیکاٹ کرنے کے الزام میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ذریعہ جمعہ کے روز ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ اس میں یہ کہا جارہا ہے کہ دکانداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بی جے پی کارکنوں کو کوئی سامان فروخت نہ کریں ورنہ انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس حکم نامے کے بعد کولکتہ سے دہلی تک کی سیاست گرم ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن ، بی جے پی کے قومی ترجمان سمبیت پاترا ، راجیہ سبھا کے ممبر سوپن داس گپتا نے ٹویٹ کرکے اس کی مذمت کی ہے۔ دوسری طرف ، ترنمول کے مقامی (پاٹال) ایم پی سدیپک ادھیکاری نے کہا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں پارٹی قائدین اور علاقے کے کارکنوں سے بات کی ہے۔ ایسی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔ دوسری جانب تھانہ کیش پور پولیس نے معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔ معلومات کے مطابق ، مغربی میدنا پور ضلع کے مہیشدہ گاوں میں ایم سی کی مقامی یونٹ کے ذریعہ علاقے میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس میں بی جے پی کے 18 کارکنوں کے نام لکھے گئے ہیں۔ اسی وقت ، بی جے پی کی ریاستی قیادت نے بنگال میں انتخابی نتائج کے بعد پارٹی کارکنوں پر ہونے والے تشدد اور مظالم کے درد کو بانٹنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس کے تحت ، ریاست کے ممتاز قائدین کچھ دنوں سے ورچوئل میڈیم کے ذریعے مختلف ریاستوں کے اپنی پارٹی رہنماو¿ں سے ملاقات کرکے تشدد کا درد بانٹ رہے ہیں۔ بی جے پی کے سینئر رہنماو¿ں نے اس آمرانہ حکم کی مذمت کی ہے۔ (انل نریندر)

گھر گھر راشن اسکیم پر ٹکراﺅ!

دہلی میں گھر گھر راشن اسکیم پر تنازعہ اور گہرا ہوگیا ہے۔ دہلی حکومت نے ہفتے کے روز دعوی کیا ہے کہ مرکز نے دارالحکومت میں 72 لاکھ راشن کارڈ ہولڈروں کو فائدہ اٹھانے والی مہتواکانکشی راشن اسکیم کو روک دیا ہے اور اس اقدام کو "سیاسی طور پر دانستہ" قرار دیا ہے۔ تاہم مرکزی حکومت نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ مرکزی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ دہلی حکومت جس طرح چاہے راشن تقسیم کرسکتی ہے اور اس نے دہلی حکومت کو ایسا کرنے سے نہیں روکا ہے۔ بیان کے مطابق ، وہ کسی اور اسکیم کے تحت بھی ایسا ہی کرسکتا ہے۔ حکومت ہند اس کے لئے مطلع شدہ نرخوں کے مطابق راشن فراہم کرے گی۔ یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ مرکزی حکومت کسی کو بھی کچھ کرنے سے روک رہی ہے۔ تاہم ، واقعات کے قریب ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر نے دہلی حکومت کی پیش کردہ اس تجویز کو مسترد نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی فروخت کنندگان کے توسط سے نافذ کی جانے والی اسکیم کے نوٹیفکیشن سے متعلق فائل لیفٹیننٹ گورنر نے دوبارہ غور کرنے کے لئے وزیر اعلی کو بھجوا دی ہے۔ چیف منسٹر آفس کے مطابق ، 24 مئی کو ، ایل جی نے یہ کہتے ہوئے فائل کو منظوری کے لئے واپس کردیا ہے کہ یہ اسکیم شروع نہیں کی جاسکتی ہے۔ سال 2018 میں ، جب اس اسکیم کو شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ، تو چھ مرتبہ معلومات لکھ کر مرکز کو دی گئیں ، تب انہوں نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ اس اسکیم کے تحت ، ہر فائدہ اٹھانے والے کو چار کلو آٹا ، ایک کلو چاول اور چینی گھر پر ملے گی ، جبکہ فی الحال مناسب قیمت کی دکان سے چار کلو گندم ، ایک کلو چاول اور چینی دستیاب ہے۔ عام آدمی پارٹی (آپ) کی حکومت کا دعوی ہے کہ ایل جی نے فائل واپس کرنے کے پیچھے دو اہم وجوہات بتائیں۔ پہلے ، اس کو مرکزی حکومت نے منظور نہیں کیا ہے اور دوسرا ، اس سے متعلق ایک معاملہ عدالت میں چل رہا ہے۔ راج بھون نے اس کی تردید کی ہے۔ راج بھون ذرائع نے آپ حکومت کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم پر قانونی انداز میں مرکز کی رضامندی ضروری ہے کیونکہ یہ فوڈ سیکیورٹی ایکٹ کی دفعات کو تبدیل کررہی ہے۔ یہ تنازعہ بڑھتا جارہا ہے۔ مرکزی حکومت اور دہلی حکومت دونوں اپنے اپنے موقف پر کھڑے ہیں۔ دیکھو ، حل کیا ہے؟ (انل نریندر)

غلام دور کا یہ ملک بغاوت قانون ختم ہونا چاہئے!

سپریم کورٹ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ حکومت پر سوال اٹھاناملک سے بغاوت نہیں ہوتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملک بغاوت کی سنگین شقوں کے تحت قانونی چارہ جوئی کا رجحان غلط ہے اور اس پر روک لگنی چاہئے۔ اس معاملے میں ہر صحافی کو تحفظ حاصل ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومتیں اس کو سمجھتی ہیں یا نہیں۔ معزز سپریم کورٹ نے صحافی ونود دعا کے یوٹیوب پروگرام پر شملہ میں جمعرات کو درج بغاوت کے مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1962 کا فیصلہ ہر صحافی کو تحفظ کا حق دیتا ہے۔ ایک بار پھر سپریم کورٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شہری کو حکومت اور اس کے عہدیداروں کے اقدامات یاطریقوں پر تنقید کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے کا پورا حق ہے۔ یہ حق اس وقت تک ہے جب وہ لوگوں کو حکومت کے خلاف تشدد کا ارتکاب کرنے یابدنظمی پھیلانے کے ارادے سے نہیں اکساتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بڑی عدالت نے ہماچل میں سینئر صحافی ونود دعا کے خلاف درج بغاوت کا مقدمہ منسوخ کردیا۔ عدالت نے کہا کہ تمام صحافی ،بڑی عدالت کے ذریعے کیدرناتھ سنگھ کیس میں سال 1962 میں عدالت عظمی کے ذریعہ دیئے گئے فیصلے کے تحت محفوظ ہیں۔ تب بغاوت قانون کا دائرہ طے کیا گیا تھا۔ دعا پر گذشتہ سال لوک ڈاﺅن میں تارکین وطن مزدوروں کی ہجرت کے بارے میں اپنے یوٹیوب پروگرام میں حکومت پر تنقید کرنے پر ملک بغاوت کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ جسٹس یو یو للت اور ونیت شرن کی بنچ نے کہاکہ جب الفاظ یا اظہار رائے میں عوامی بدنظمی یا قانون و نظام امن و امان کو خراب کرنے کا خطرناک نظام یا نیت ہو تی ہے تو پھر صرف ہندوستانی تعزیرات ہند کی دفعہ -124 اے کے تحت ایک مقدمہ بنتا ہے ۔ بنچ نے کہا کہ دعا کے بیانات کو بہترین طور پر حکومت اور اس کے حکام کے اقدامات کو ناگوار ہونے کا اظہار کہا جاسکتا ہے ، تاکہ انھیں موجودہ صورتحال سے جلد اور موثر انداز میں نمٹنے کے لئے اشارہ کیا جاسکے۔ اپنے حکم میں ، بنچ نے کہا کہ ونود دعا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانا ناانصافی ہوگی۔ بنچ نے کہا کہ دعا کے خلاف کوئی جرم نہیں بنتا۔ ایسے میں مقدمہ چلانا بولنے و اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہوگی۔ جمعہ کے روز ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ونود دعا کے خلاف بغاوت کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ اور سخت اور فرسودہ بغاوت کے قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک بیان میں ، گلڈ نے آزاد میڈیا اور ہماری جمہوریت پر بغاوت کے قوانین کے سخت اثرات پر سپریم کورٹ کے خدشات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گلڈ ان سخت پرانے قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے جن کا کسی بھی جدید جمہوریت میں کوئی مقام نہیں ہے۔ گلڈ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے دعا کے خلاف نہ صرف فوجداری شکایت کو ختم کیا بلکہ صحافیوں کو ملک بغاوت کے معاملوںسے صحافیوں کی حفاظت کر نے کی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ہمیں یقین ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے صحافیوں پر لٹکتی تلوار سے نجات مل جائے گی۔ یہ توقع کی جاتی ہے کہ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار عدالتوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنا ، وزیر اعظم یا وزیروں یا ان کے عہدیداروں پر منفی تبصرے کرنا بغاوت کا باعث نہیں ہے۔ حکومت اس دفعہ کو مسلط کرکے بار بار صحافیوں کو ہراساں کرتی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ حکومتیں یہ سمجھتی ہیں یا نہیں؟ (انل نریندر)

06 جون 2021

پرموشن گریڈ دینے کا کرائٹیریا کیا ہوگا ؟

سپریم کورٹ نے سی بی ایس ای اور سی آئی ایس سی ای کی بارہویں کے امتحان منسوخ کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر تشفی ظاہر کی ہے اور کہا کہ اب اس مسئلے پر کاروائی میں اور دیر نہ کی جائے ۔معاملے میں جلد سے جلد رزلٹ ڈکلیئر کئے جائیں تاکہ بچے آگے پڑھائی کر سکیں عدالت نے دونوں اداروں سے پوچھا کہ بارہویں کے طالب علم و طالبہ کے نمبروں کا تعین کیسے کریں گے ۔انہیں نمبر یا گریڈ دینے کا کیا کرائیٹیریا ہوگا ؟ بڑی عدالت کے جسٹس اے ایم خان ولکر اور دنیش مہشوری کی بنچ نے اس معاملے میں دائر عرضی پر جمعرات کو سماعت کی کورٹ نے سی بی اسی ای و سی آئی ایس سی آئی کو دو ہفتہ کی مہلت دی ہے ۔اس طے میعاد میں دونوں اداروں کو نمبروں کا تعین وغیرہ کے بارے میں کاروائی تک کی عدالت میں حلف نامہ پیش کرنا ہوگا اس سے پہلے مرکزی سرکار کی طرف سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے بتایا کورونا کے قہر کے دیکھتے ہوئے دونوں اداروں کے بارہویں کے امتحان منسوخ کرنے کافیصلہ کیا ہے اس پر جج صاحب نے کہا ہمیں خوشی ہے کہ حکومت نے بچوں کی صحت کو ترجیح دی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو وزارت تعلیم کے ذریعے منعقد سی بی ایس ای کے طلبہ کے ورچول شیشن میں جڑ کر سبھی کو چونکا دیا اس بار وہ اچانک طلبہ کی ورچول ملاقات سے جڑ گئے اور ان سے بات کرنے لگے ۔طلبہ کو یقین نہیں ہو رہاتھا پی ایم ان سے بات کررہے ہیں ۔ (انل نریندر)

سماعت میں گونجے جوہی چاولا کے فلمی گیت !

5 جی نیٹورک سے ریڈیئیشن سے نقصان پر اداکارہ جوہی چاولا کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ سماعت کر رہی تھی کہ اچانک ایک شخص گھونگھٹ کی آڑ سے دلور کا ........لال لال ہونٹوں پر گوری کس کانام ہے ........جیسے گیت گانے لگا ۔جوہی چاولا کی فلمون کے ان گیتوں سے ورچول کورٹ روم میں سماعت بدھ کے روز تین بار رکی ۔آخر کار ہائی کورٹ نے ناراض ہو کر کورٹ روم لاک کرنے کا حکم دیا جس میں سبھی شامل پارٹیاں خاموش ہو گئیں اور سماعت پوری ہوئی ۔عرضی پر ہائی کورٹ نے اپنا حکم محفوظ کر لیا ۔جوہی چاولا خود بھی ورچول کورٹ میں ساو¿تھ افریقہ سے شامل ہوئی تھیں ۔وہیں آذان نام سے لاگ ان شخص نے گانا شروع کردیا اس پر سبھی دعویدار بھونچکے رہ گئے اور اسے فوراً ورچول کورٹ نے باہر کر دیا ۔لیکن اس نے منیشا کوریلا کے نام سے کورٹ روم پھر جوائن کیا ۔اس بار لال ہونٹوں پر گوری گانا گانے لگا پھر اسے کورٹ سے باہر نکالا گیا ۔وہ شخص نہیں مانا تیسری بار جہانگوی نام سے جڑ گیا اور اس بار میرے بچوں کی آئے گی بارات پر ڈھول بجاو¿ گنانا گانے لگا جس پر جسٹس جے آر ندھا اتنے خفا ہوئے انہوں نے شخص کی پہچان کر توہین نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے اور آئی ٹی محکمہ کو اس شخص کی پہچان کرنے کے ساتھ دہلی پولیس کو بھی اس کی جانکاری دینے کا حکم دیا ۔ہائی کورٹ نے اداکارہ سے پوچھا وہ 5 جی کو لیکر سرکار سے رابطہ قائم کئے بغیر معاملے کو دہلی ہائی کورٹ کیوں آگئی ہیں ۔جب اسٹریٹ کے خلاف کوئی مقدمہ کورٹ میں داخل کیا جاتا ہے تو 60 دن پہلے سرکار کو نوٹس دیا جاتا ہے لیکن جوہی کے وکیل نے کہا یہ معاملہ بھارت کی جنتا سے جڑا ہوا ہے اس معاملے میں شیکشن 80 کو کورٹ سماعت کے دوران غور نہ کرے بتا دیں اداکارہ ماحولیاتی رضاکار جوہی چاولا نے دیش میں 5 جی وائر لیس نیٹ ورک قائم کرنے کے خلاف پیر کو دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی بدھوار کو سماعت میں جوہی چاو¿لا بھی شامل ہوئیں جیسے ہی وہ شامل ہوئیں کسی نے ان کی فلم کا گانا گنگنانا شروع کردیا اس پر جسٹس میدھا نے کہا کہ برائے کرم اسے خاموش کریں ۔عدالت موکل جیا کی جانے والی عدالت فیس کے مسئلے پر سماعت کررہی تھی ۔تبھی کسی دوسرے بالی وڈ گیت گاکر عدالت کی کاروائی میں رکاوٹ ڈال دی اس پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ عرضی میں طے قواعد کی تعمیل نہیں کی گئی ہے ایسا لگتا ہے عرضی صرف میڈیا پبلسٹی کے لئے داخل کی گئی ہے ۔یہ ٹھیک ہے بھی یا نہیں جوہی چاولا نے دیش میں 5 جی وائرلیس نیٹورک قائم کرنے کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی میں عام لوگوں سے جانوروں اور نیچر اور جنگلی جانوروں پر مضر اثرات سے متعلق مسئلہ اٹھایا ان کی دلیل تھی ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری کی پلاننگ پوری ہوتی ہیں تو زمین پر کوئی بھی شخص ،جانور پرندرہ ،چرندہ ،کیڑے مکوڑے کوئی بھی پودہ اس کے مضر اثر سے بچ نہیں سکے گا ۔ان 5 جی اسکیموں سے انسانوں پر سنگین اور ناقابل تبدیل اثر اور زمین کے سبھی قدرتی وسائل کو مستقل طور پر نقصان پہوچنے کا خطرہ ہے دہلی ہائی کورٹ نے جمع کو جوہی چاولا کی عرضی کو نہ صرف خارج کر دیا بلکہ عدالت نے جوہی پر 20 لاکھ کا جرمانہ بھی ٹھوک دیا اور کہا یہ عرضی قانونی کاروائی کا بیجا استعمال ہے ۔ (انل نریندر)

ویکسین کے مضر اثرات پر ہم ذمہ دار نہیںہونگے!

ویکسین سپلائی کو لیکر مرکزی سرکار کے لئے اب آگے اور بھی کئی چیلنج کھڑے ہو سکتے ہیں ۔فائزر ماڈرنا ،کے بعد سیرم ، بھارت بائیو ٹیک ، ڈاکٹر ریڈی جیسی ملکی کمپنیوں نے بھی معاوضہ نہ دینے کی مانگ رکھنا شروع کر دی ہے جسے لیکر نیشنل ٹاسک فور س بھی اب شش و پنج کی حالت میں ہے ۔بھارت میں کووڈ ویکسین کویشیلڈ بنانے والی کمپنی شیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے حکومت سے قانونی کاروائی سے سکورٹی کی مانگ کی ہے اس نے ایسے وقت میں یہ مانگ کی ہے جب ماڈرنا اورفائزر نے اس شرط کے قبول ہونے کے بعد ہی بھارت میں ویکسین سپلائی کی بات کہی ہے سرکار کی جانب سے اس بارے میں شرط قبولنے کے بعد ویکسین بنانے والی کمپنی کو مضر اثر کی صورت میں قانونی کاروائی کے خلاف سکورٹی سرپرسی مل جائے گی ۔حالانکہ ابھی تک ویکسی نیشن میں ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن دیش میں ویکسین کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سرکار کافی حد تک فائزر اور ماڈرنا کمپنی کی شرط ماننے کو تیار ہے ۔جس کا سرکاری اعلان کا ابھی انتظار ہے ۔شیرم انسٹی ٹیوٹ نے قانونی کاروائی سے چھوٹ کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماڈرنا اور فائزر کو قانونی کاروا ئی سے رعایت ملتی ہے تو اسے یہ چھوٹ حاصل کرنے کا حق ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے ممکنہ طور پر سیرم انسٹی ٹیوٹ کو یہ اندازہ ہے کہ سرکار کی طرف سے دونوں کمپنیوں کو اس سلسلے میں چھوٹ دے دی جائے گی ۔اس لئے سیرم انسٹی ٹیوٹ نے ایسی ہی مانگ کی ہے ۔ہیلتھ وزارت کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگی اس مسئلے پر غور کررہے ہیں ابھی تک کسی کمپنی کی شرط ماننے کافیصلہ نہیں لیا ہے یہ مشکل وقت ہے اور جلد بازی میں ہم کوئی فیصلہ لینا نہیں چاہتے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...