Translater

16 مئی 2020

دعوے روز لیکن پتہ نہیں کب نصیب ہوگی دوا؟

کورونا وائرس انفکشن کو روکنے کے لئے دنیا بھر کے سائنس داں دوا تیار کرنے کے لئے سخت محنت میں لگے ہیں تاکہ اس وبا کو روکا جا سکتے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے سائنسداں کورونا وائرس کے ٹیکے کی ریسرچ کررہے ہیں وہ معمولی بات نہیں ہے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کسی بھی دوا کی ایجاد میں سالوں لگ جاتے ہیں اور کبھی کبھی دہائیاں بھی لگ جاتی ہیں مثال کے طور پر جس ایبولا ویکسین کو منظوری ملی ہے اس کی تیاری میں 16سال لگ گئے یہ بہت عام بات ہے کہ دو اکی ایجاد کئی مراحل سے ہوکر گزرتی ہے پہلا فیز لو برائٹی میں ہوتا ہے اس کے بعد جانوروں پر تجربہ ہوتا ہے اگر تجربہ کے دوران یہ لگتا ہے کہ دوا کا استعمال ٹھیک ہے تو ریسرچ کی صلاحیت دکھائی دینے لگتی ہے اور اس پر انسانوں پر تجربہ کیا جاتا ہے اور ان پر تجربے کی کاروائی تین مرحلوں میں پوری ہوتی ہے پہلے مرحلے میں حصہ لینے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے وہ تندرست ہوتے ہیں دوسرے مرحلے میں تجربے کے لئے حصہ لینے والے لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور کنٹرول گروپ ہوتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ دو اکتنی ٹھیک ہے ؟کنٹرول گروپ کا مطلب ایسے گروپ سے ہوتا ہے جو تجربہ میں حصہ لینے والے باقی لوگوں سے الگ رکھے جاتے ہیں تجربہ کے تیسرے مرحلے میں پتہ لگایا جاتا کہ ویکیسن کی خراک کتنی اثر دار ہوگی ۔فی الحال اچھی بات یہ ہے کہ محض تین مہینے کے اندر کوڈ19-کی ویکسین پر کام کررہی 90ریسرچ ٹیموں میں سے 6اس نتیجے پر پہونچ گئی ہیں جسے بہت بڑا پہلو مانا جاتا ہے وہی انسانوں پر تجربہ موڈرن تھیرو پیٹکس ایک امریکی وایو ٹیکنولوجی کمپنی کووڈ کی دوا کی ایجاد کے لئے نئی ریسرچ حکمت عملی پرکام کررہی ہے سائنسدانوں نے لیب میں کورونا وائرس کا جینٹک کوڈ تیار کیا ہے اس کے چھوٹے سے حصے کو شخص کے جسم میں ڈالے جانے کی ضرورت ہوگئی انہیں امید ہے ایسا کرنے سے شخص کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت انفکشن کے خلاف لڑنے کے لئے ایک ایکش کرے گی امریکی کمپنی نئی حکمت عملی پر کام کررہی ہے اس سے ایسی دوا تیار کی جارہی ہے جس سے مریض کے جسم میںانفکشن سے لڑنے کے لئے اینٹی واڈی ڈولپ ہونے کی امید ہے ۔چین میں اس وقت تین ویکسین پروڈکٹ ایسے ہیں جن میں انسانوں پر تجربہ چل رہا ہے ووہان میں بن رہی ہے ایک اور ویکسین چین کے جس تیسری ویکسین پر کام کر رہا ہے اس میں بیکاروائرس کی دوائی دئیے جانے کی تجویز ہے اس پر ووہان کی وایو ٹیکنیکل پروڈکس انسٹی ٹیوٹ میں کام چل رہا ہے ۔برطانیہ کے اکسفورڈ یونیورسٹی کے جینر انسٹی ٹیوٹ میں میڈوکس 1-ویکسین کی ایجاد پر کام چل رہا ہے ۔13اپریل کو یوروپ میں اس کا پہلا کلینیکل ٹریل شروع ہوگیا ہے بھلے ہی کووڈ19-کی بیماری کا علاج جنگی سطح پر تلاش کیاجارہا ہو لیکن جانکاروں کا کہنا ہے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ان میں سے کوئی ٹیکا اس وائر س کو روکنے میں کامیاب ہوگا یا نہیں ایک با اثر ویکسین تیار کرنا اسے منظوری ملنا محض پہلا قدم ہوگا اس کے بعد اصلی چنوتی اربوں لوگوں کے لئے اس ویکسین کی پیداوار اورضرورت مند وں تک پہوچانے کی ہوگی۔
(انل نریندر)

3لاکھ کروڑ روپئے کی بوسٹر ڈوز!

وزیر اعظم کی بیس لاکھ کروڑ روپئے کے اقتصادی پیکج کے اعلان کی تفصیل پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے امید جتائی ہے کہ کورونا سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم نے بیس لاکھ کروڑروپئے کے جس راحت پیکج کا اعلان کیا ہے وہ در حقیقیت جی ڈی پی کے قریب 10فیصدی کا یہ پیکج معیشت کے لئے سنجیونی ثابت ہوگا اس میں سب سے زیادہ زور درمیانے منجھولی صنعتوں کو مشکل سے نکالنے پر دیاگیا ہے ان چھوٹی صنعتوں کو تین لاکھ کروڑ روپئے کے قرض کی شکل میں بغیر گارنٹی دستیاب کرائے جانے کی بات کہی گئی ہے اس سے 45لاکھ صنعت کاروں کو راحت پہونچے گی حالانکہ 1.7لاکھ کروڑ کا پہلا راحت پیکج اور رزرو بینک کے ذریعے اعلانات بھی پیکج میں شامل ہیں وزیرخزانہ نے جس راحت پیکج کی تفصیل رکھی ہے وہ معیشت کے الگ الگ سیکٹروں کے لئے ہے اس میں بلا شبہ سب سے زیادہ مشکل سے دوچار درمیانی و منجھولی صنعت سیکٹر کے لئے کل 6قدم اٹھائے گئے ہیں ان میں سے 4سال تک تین لاکھ کروڑ روپئے بنا گارنٹی کے قرض جس میں ایک سال تک اصل رقم بھی نہیں لوٹانی پڑے گی اور مشکل میں پھنسے اسMSMEیونٹوں کو بیس ہزار کروڑ روپئے کافاضل قرض شامل ہے ۔اس میں دولاکھ صنعتوں کو فائدہ ہونے کی امید ہے پھر پندرہ ہزار روپئے سے کم تنخواہ پانے والے ملازمین کے پی ایف خاتے میں اگست تک کنٹری ویوشن امپلائر کے بجائے مرکزی سرکار دے گی ایم ایس ایم ای کی تشریع بدلتے ہوئے ان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کی حدود بڑھا دی گئی ہے اس کے علاوہ اقتصادی دباو ¿ جھیل رہی بجلی کمپنیوں کےلئے 90ہزار کروڑروپئے کی مدد پہونچانے کا اعلان کیاگیا ہے ۔بھلے ہی سرکار کے اس قدم خاص کر ایم ایس ایم ای سیکٹر کو راحت ملے گی دراصل مکمل لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے سب سے زیادہ مار ان ہی صنعتوں پر پڑرہی ہے اور تشویش جتائی جانے لگی ہے اگر ان کی صحت سدھارنے کی کوشش نہیں کی گئی تو معیشت کو پٹری پر لانا مشکل ہوگا اس لئے سرکار کی توجہ ان صنعتوں پر دینا وقت کی ضرورت ہے حالانکہ لوگوں کو خیال ہے کہ وزیراعظم کا بیان یقینی طور پر ویسا نہیں تھا جیسا کہ عام لوگوں کے دلوں میں ان سے توقع تھی پی ایم کوڈ19-کو کنٹرول کرنے کے لئے لاگو کئے گئے لاک ڈاو ¿ن تھری کی تفصیل پیش کریںگے اور عام جنتا کی پریشانیاں اوراپنے اپنے جگہوں سے ہجرت کرنے والے مزدوروں کے مسئلوں کا تذکرہ کریں گے وبا کے کنٹرول میں آرہی مشکلات اور امکانی اژالوں پر تبادلہ خیال کریںگے لیکن وزیراعظم نے ایسا کچھ نہیں کیااور وہ جو کیا وہ اندھیرے کا تذکرہ کئے بغیر روشنی کی اہمیت دکھانے جیسا تھا لیکن انہوں نے سب سے اہم بات یہ کہی کہ وبا کے موقع میں بدلنا ہے اور بھارت کو خود کفیل بنانا ہے اس طرح کا ان کا یہ جواب ان سوالوں کی طرف اشارہ تھا جو بار بار اٹھ رہے تھے کہ کورونا کے بعد ہندوستانی معیشت کیا موڑ لے گی جو کروڑوں لوگ کورونا انشداد اقدامات کی ضد میں آکر اپنا کاروبار اور معیشت کھو بیٹھے ہیں ان کا کیا مستقبل ہوگا ۔
(انل نریندر)

15 مئی 2020

ڈاکٹر بولے فی الحال ہوم ڈلیوری بہترمتبادل ہے

کووڈ19-کے شکار 80فیصد لوگوں میں یا تو ہلکے اثرات ہوتے ہیں یا پھر بالکل کوئی اثر نہیں ہوتا اسے میڈیکلی طور پہ ایمی میومیٹک کہا جاتاہے ۔اندازہ یہ ہے کہ دہلی میں ایسے کوئی لوگ ہو سکتے ہیں جن میں یہ اثرات نہیں آئے ہوں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہیں ایسے میں اگر لاک ڈاو ¿ن سے باہر آنے جانے کی چھوٹ ملتی ہے تو سمجھداری سے اس کی تعمیل کریں کوشش کریں کم سے کم گھر سے باہر جائیں کیونکہ باہر انفکشن کے زیادہ سورس ہوتے ہیں ممکن ہوتو ہوم ڈلیوری کی سہولیتیں ہوں یہ کہنا ہے ڈاکٹروں کا ایک ڈاکٹر نریندر سینی کے مطابق گھر کے باہر کہاں انفکشن ہے کسی کو پتہ نہیں اسی لئے ہوم ڈلیوری سب سے بہتر متبادل ہے اس سے جہاں وقت بچے گا وہیں انجان لوگوں کے درمیان آنے سے اندیشہ کم بچے گا یہ ضروری ہے کہ ہوم ڈلیوری اسٹور اپنے اسٹاف کی صحیح جانچ کرائیں انہیں سینی ٹائز کرکے ہی بھیجے ۔ڈلیوری بوائے بھی صحیح احتیاط برتیں وہیں ایشین ہاسپٹل کے ڈاکٹر بدی راجہ نے بتایا کہ گھر بیٹھے خریدار اس وقت سب سے بہتر ہے جس وقت آپ سامان کی ڈلیوری دے رہے ہوں اس وقت ڈلیوری بوائے سے دوری بنائیں رکھیں ۔جو سامان لے رہے ہیں اس میں سے اگر کسی چیز سے سیناٹائز کر سکیں تو ضرور کریں اگر فوری ضرورت والے سامان نہیں ہیں تو ان کو دوتین دن کے لئے چھوڑ دیں اگر اس میں بائرس ہو تو ختم ہوجائے باہر سے لائے گئے سامان کو فوراً استعمال نا کریں ۔اوراسے فرج میں رکھیں ڈاکٹر ہریش گپتا کا بھی کہنا ہے کہ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ ابھی گھر سے نکلنا انفکشن کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے ابھی جتنا ہو سکے احتیاط برتیں ایسا نہیں گھومنے پھرنے لگیں ۔ابھی ہمیں ہر قدم سنبھل کر اٹھانا ہے ۔ہر ایک شخص کی ذمہ داری زیادہ بڑ ھ گئی ہے اب اپنی سطح پر زیادہ توجہ دینی ہوگی تبھی خاندان انفکشن سے بچ سکتا ہے ۔صرف ڈلیوری لینے کے درمیان ماسک پہننے اور دوری بنائیں ۔گھر میں آتے ہی ہاتھ دھوئیں سامان کو بھی سینا ٹائز کریں اگر دھوپ نکلتی ہے توکچھ سامان دھوپ میں رکھ دیں ۔جسے سینا ٹائز کر سکتے ہیں اس کو گرم پانی سے دھو دیں ۔اس طرح کے قدم اپنانے سے ہم کوڈ19-سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)

بگھیل نے راحت فنڈ کا حساب جنتا کے سامنے رکھا

دیش میں کورونا بحران کے بیچ بڑی تعداد میں لوگ پی ایم کئیرفنڈ میں عطیہ دے رہے ہیں اس درمیان اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے مسلسل یہ مانگ کی جارہی ہے کہ مودی پی ایم کیئرس فنڈس کا حساب دے اور بتائیں کہ اس فنڈ میں مل رہے پیسے کا کس طرح اور کہاں خرچ کیا جارہا ہے ؟لوگوں کی مانگ کے باوجود مرکزی حکومت نے اس عطیہ فنڈ کا اب تک حساب نہیں دیا ہے ۔اس درمیان چھتیس گڑ ھ کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بڑی پہل کی ہے انہوں نے مکھیہ منتری فنڈ کا حساب جنتا کے سامنے رکھ دیا ہے انہوں نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ میں آپ سب کے درمیان وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ کا حساب رکھ رہا ہوں ۔میں بتانا چاہوں گا کہ پچھلے 24مارچ سے لیکر 7مئی تک وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ میں مختلف ڈونل کے ذریعے کل 56کروڑ 4لاکھ 38ہزار 815روپئے کی رقم حاصل ہوئی ہے اس فنڈ سے کورونا کی روک تھام اور ضرورت مندوں کی مدد کے لئے ریاست کے سبھی ضلعوں کو دس کروڑ 25لاکھ تیس ہزار روپئے کی رقم جاری کی جاچکی ہے مشکل کے وقت میں عآ پ سرکار پر اتنا الزام لگا رہے تو فنڈ کے خرچے میں شفافیت کو برقرار رکھنا میرا بھی فرض ہے یقین ہے کہ آپ کا تعاون آگے بھی رہے گا پی ایم کئیر فنڈ س کو لوگوں کی مدد کرنے کے لئے خاص طور پربنایا گیا ہے ۔یہ سوال کیا جارہا ہے کہ جب برسوں سے پی ایم ریلیف فنڈ موجودہے تو پھر ایک نئے فنڈ کی ضرورت کیوں آن پڑی کیا اس فنڈ کا کنٹرول جھارکھنڈ کے ترقیاتی کاموں کے علاوہ ہوگا ۔
(انل نریندر)

وبا میں فرشتہ بنی ہندوستانی نرسیں

کورونا وبا سے لڑرہی دنیا میں لوگوں کی جان بچانے کے لئے ہندوستانی نرسیں فرشتہ بن رہی ہیں ۔یوروپ ہو یا امریکہ خلیج کے ممالک ہوں یا افریقہ ہر جگہ خطروں سے مقابلہ آرا ہیں دن رات خدمت میں لگی ہوئی ہیں ۔انفکشن پھیلا ۔کئی ساتھیوں کی موت ہوئی اس کے باوجود ہمت نہیں ہاری ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ہزاروں ہندوستانی نرسیں امریکہ ،برطانیہ اور مشرقی وسطیٰ میں وبا سے لڑرہی ہیں ۔ابھی 4دن پہلے ہیلتھ بحران کا سامنا کررہے ۔دبئی کی مدد کرنے کے لئے 88ہندوستانی نرسوں کی ٹیم وہاں گئی ہے ۔آرگنائزیشن آف ایکانومک کارپوریشن اینڈ ڈولوپمنٹ کے مطابق بھارت سے سب سے زیادہ نرس و ہیلتھ ملازم دنیامیں جاتے ہیں ۔قریب 56ہزار نرسیں تو صرف امریکہ ،برطانیہ ،کناڈا اور آسٹریلیا میں کام کرتی ہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارت سے نرسوں کی کمی پڑ سکتی ہے کیونکہ یہاں سے اچھی نوکری کا موقع پانے کے لئے دیگر ممالک میں ملازمتیں کرنے جا رہی ہیں ۔بھارت میں ایک ہزار لوگوں پر 1.7نرس ہیں ۔جبکہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک ہزار لوگوں پر 3نرس ہونی چاہیے ۔خطرے کے کام میں لگی رہتی ہیں نرسیں اکثر ان مریضوں کے کافی قریب رہتی ہیں جو بہت زیادہ انفکشن کے شکارہوتے ہیں ۔ان کے وائرل لوڈ زیادہ ہونے سے انفکشن پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ہیلتھ ملازم اس کی ضدمیں آرہے ہیں۔اس کے باوجود یہ نرسیں اس وبا کا شکار ہو رہی ہیں کئی نرسیں تو مہینوں سے اپنے گھر نہیں گئیں ۔ہم ہندوستانی نرسوں کی خدمت کو سلام کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)

14 مئی 2020

29دن میں تیسری بار زلزلے کے جھٹکے

دہلی میں اتوار کو آئے آندھی طوفان کے بعد بہت زبردست زلزلے کا جھٹکا محسوس کیا گیا ۔اس کی رفتار3.4رختر اسکیل پر ناپی گئی ہے دہلی میں 29دن میں یہ تیسر ازلزلے کا جھٹکا تھا ۔پہلا 12اپریل کو آیا جس کی رفتار 3.5رختر اسکیل ناپی گئی تھی اس کے بعد اگلے ہی دن دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا جس کی رفتا ر 2.3رختر اسکیل ناپی گئی تھی دہلی میں زلزلے کے جھٹکوں کا مرکز نارتھ ایسٹ دہلی رہا محکمہ موسمیات کے سینئیر سائنس دان جی ایل گوتم کے مطابق اتوار کو آئے زلزلے کا مرکز نارتھ ایسٹ دہلی میں علی پور اور اترپردیش کے سرحد کے پا س تھا اس سے پہلے 12اور 13اپریل کو آئے زلزلے کامرکز نارتھ ایسٹ دہلی مین سونیا بہار کے پاس تھا ۔اس کے علاوہ دہلی ہریدوار رینج کی پلیٹوں میں تبدیلی کی وجہ سے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے دہلی میں آئے تین زلزلوں کے جھٹکوں کے علاوہ آٹھ اپریل کو دادری کے پاس بھی زلزلے کا جھٹکا محسوس کیا گیا تھا یہ تشویش کاباعث ہے ۔دہلی زلزلے کے حساب سے بہت حساس شہر ہے اس خطے میں کبھی بھی بڑا زلزلے کا جھٹکا آنے کا امکان بتایا جارہا ہے توتم پورے ہمالیائی زون کو زلزلے کے سسمک زون 5میں رکھاگیا ہے اس کا مطلب ہے یہ زلزلے کے لئے سب سے زیادہ خطرناک ہے اس زون میںدہلی بھی شامل ہے ۔گوتم کے مطابق ہمالیائی خطوںمیںمسلسل ای جی اے پلیٹس یوریشیا پلیٹس سے ٹکراتی ہیں جس وجہ سے بڑے زلزلے کا امکان بنا رہتا ہے سائنسدانوں نے ان زلزلوں کے بارے میں اپنی تھیوری بیان کی ہے لیکن جیوتشیوں کے مطابق اتنے زلزلے آنا اچھا اشارہ نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ برے ٹائم کے اشارے ہیں اور آگے بھی ایسے ہیں ۔
(انل نریندر)

شراب کی ہوم ڈلیوری کو بیویوں کو اعتراض

گھریلو تشدد کے معاملوں میں اضافے کے اندیشے کو ظاہر کرتے ہوئے لاک ڈاو ¿ن کے دوران شراب کی ہوم ڈلیوری پر کانگریس کے دو نیتاو ¿ں کی بیویوں نے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ سے درخواست کی ہے کہ وہ شراب کی ہوم ڈلیوری کے فیصلے پر پھر سے نظرثانی کریں ان میں سے ایک کیب نیٹ وزیر کی بیوی ہیں واضح ہو پنجاب سرکار نے شراب کی ہوم ڈلیوری کی اجازت دی ہے حالانکہ پنجاب ڈرنک قانون 1914اور اب کے قواعد میں ہوم ڈلیوری کاکوئی تذکرہ نہیں ہے لیکن یہ فیصلہ کوڈ19-وبا کے دوران سماجی دوری یقینی کرنے کے لئے کیا گیا ہے ۔تتکال تخت کے جتھے دار ہرپریت سنگھ نے بھی کہا کہ شراب کی دوکانیں کھلنے سے گھریلو جھگڑے بڑھیںگے سرکار کے اس فیصلے پر ناراضگی جتاتے ہوئے لدھیانہ سے کانسلر اور پنجاب سے وزیر خراک بھرت بھوشن آشو کی بیوی ممتا آشو نے کہا کہ نشیلی چیزوں سے نشے کے خلاف کانگریس کا چناوی وعدہ تھا اس لئے فیصلے پر پھر سے غورکرنے کی ضرور ت ہے ممتا آشو نے ٹوئیٹ کیا کہ مکمل لا ک ڈاو ¿ن دوران گھریلو مارپیٹ کے معاملے بڑھ سکتے ہیں یہاں تک کہ ٹھکیدار بھی شراب کی دوکانیں کھولنا نہین چاہتے ۔کانگریس کی ممبر اسمبلی امرندر سنگھ راجہ کی بیوی امرتا نے بھی ایسی درخواست کی ہے انہوں نے ٹوئیٹ کر ایک اورجہاںسابقہ شریمانی بھاجپا اکالندل سرکار پر کنبوں کو برباد کرنے کاالزام لگایا وہیں دوسری طرف سرکار کے اس فیصلے سے گھریلو مارپیٹ کے کیس بڑھ سکتے ہیں امرتا کے شوہر ممبر اسمبلی امرندر سنگھ راجہ نے بھی دوبارہ ٹوئیٹ کرکے اس مانگ کی حمایت کی ہے ۔وہ وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر کار بھی ہیں ۔
(انل نریندر)

تاکہ کورونا کی روک تھا م بھی ہو اور کام دھندہ بھی بڑھے

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں منگل کے روز مطلعہ کر دیا ہے کہ 17مئی کو لاک ڈاو ¿ن ختم ہونے کے بعد چوتھا لاک ڈاو ¿ن شروع ہو جائے گا یعنی ابھی یہ جاری رہے گا ممکن ہے نئی گائڈلائنس میں تھوڑی راحت کچھ جگہوں پرملے ۔نتیجہ یہی ہے کہ ہم لاک ڈاو ¿ن میں کورونا وائرس کے ساتھ جینے کی عادت ڈال لینی پڑے گی لاک ڈاو ¿ن لمبے عرصے تک نہیں رکھا جاسکتا ہے لیکن دوسری جانب ہندوستان میں کورونا کا بحران اعداد و شمار کے حساب سے اس وقت انتہا پر ہے ادندیشہ ہے کہ گراف بڑھنا ابھی جاری رہے گا ادھر قریب ایک درجن سے زیادہ بین الاقوامی رپورٹوں میں کہاگیا ہے کہ انفکشن کے فروغ کی اہم وجہ بند کمروں ،حالوں یا بستیوں میں زیادہ لوگوں کا ایک ساتھ رہنا ہے ظاہر ہے کہ لا ک ڈاو ¿ن کھولنے کی پہلی شرط ہوگی کہ دوری بناتے ہوئے کام پر لگنا دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال و مرکزی سرکار کو یہ علم ہوگیا ہے کہ ہمیں وائرس کے ساتھ جینے کی عادت ڈالنی ہوگی اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک گیر سخت لا ک ڈاو ¿ن درمیان مرکزی سرکار نے پبلک ٹرانسپورٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اب ریل پٹریوں پر مسافر ٹرینیں دوڑنے لگی ہیں اس کی پہلی شرط ہوگی دوری بناتے ہوئے سفرکرنا ہوگا ۔کیا میٹرو ،گاو¿ں کی بسوں ،پسنجر ٹرینوں اور اناج و سامان کی تقسیم اور مذہبی موقعون پر مزہبی مقامات پر لمبے عرصے تک دوری بنائے رکھنا ممکن ہوگا ؟شاید شراب کی لائنیں ہم نے دیکھی ہیں لیکن اس بحران کے دوران سرکار اداروں نے قابل قدر صلاحیت دکھائی ،کل 138کروڑ آبادی والے دیش کو ڈیڑھ مہینے میں لمبے لاک ڈاو ¿ن کے دوران لگاتار رسد سبزی اور دودھ گھی نہیں دواو ¿ں کی بھی سپلائی کرناکوئی معمولی کام نہیں ہے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا سے لیکر نکڑ کی پرچون کی دوکان میں زبردست ہمت دکھائی پچھلے 47دنوں سے اقتصادی اور کمرشل سرگرمیاں پوری طرح ٹھپ ہیں ابھی تک اس کا مثبت اثر روزکمانے اور کھانے والے دیہاڑی مزدوروں پرپڑا ہے لیکن اگر اقتصادی سرگرمیاں آگے بھی پوری طرح ٹھپ رہتی ہیں تو چھوٹے اور درمیانی کاروباری و دیگر نوکری پیشہ والے مختلف درمیانے لوگ بھی متاثرہونے لگیں گے یہ طبقہ ایسا جو اپنی آمدنی کا بہت معمولی حصہ بچا پاتے ہیں مالی تباہی کے سبب جب یہ طبقہ سڑکوں پر اترے گا تو بدامنی پھیلے گی تو سرکار سمجھ چکی ہے کہ بدامنی کے قاعدوں کی سختی سے تعمیل کرتے ہوئے اقتصادی سرگرمیوں کو شروع کرنا چاہیے ۔معیشت کو پٹری پرلانے کے لئے کاروبار شروع کرنے ہوںگے ۔اب تو کروونا وارئرس کے تئیں عام آدمی میں بیداری کا فروغ و کمپین ہوگئی ہے لوگوں سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ احتیاط برتتے ہوئے اپنے کام کاج کو آگے بڑھائیں گے مرکز اور ریاستی حکومتوں کی اگلی اگنی پرکچھا بھی انہیں دنون سے ہوگی کہ وہ کس طرح سے کورونا وبا اور مالی سرگرمیوں کے درمیان تال میل بٹھا پاتی ہیں یا کورونا کی روک تھام بھی ہو یا اقتصادی سرگرمیاں بھی چلتی رہیں یہ ریاستی سرکاروں کے لئے زبردست چنوتی ہوگی نتیجہ سرکار کی انتظامی چستی اور صلاحیت پر منحصر کرے گا ۔
(انل نریندر)

13 مئی 2020

لاو ¿ڈ اسپیکر سے اذان بند ہو

مصنف و نغمہ نگار جاوید اختر کا کہنا ہے کہ لاو ¿ڈ اسپیکر سے اذان دینے کا چلن بند ہونا چاہیے کیونکہ اس سے دوسروں کو چلن ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ اذان مذہب کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن لاو ¿ ڈاسپیکر نہیں اتوار کو کئے گئے ٹوئیٹ میں جاوید نے پوچھا کہ یہ چلن آدھی صدی تک حرام مانا جاتا تو اب (حلال)کیسے اجازت ہوگئی ۔بھارت میں قریب 50سال تک لاو ¿ڈ اسپیکر پر اذان دینا حرام تھا پھر یہ حلال کیسے ہوگیا ۔یہ ختم ہونا چاہیے اذان ٹھیک ہے لیکن لاو ¿ڈ اسپیکر سے اذان دینے سے دوسروں کو پریشانی ہوتی ہے مجھے امید ہے کم سے کم اس دفعہ خود اسے بند کریں گے ۔ٹوئیٹر پر جب ایک شخص نے 75سالہ اختر سے مندروں سے لاو ¿ڈ اسپیکروں کے ذریعے سے بھجن گانے کے استقبال کے بارے میں پوچھا توانہوں نے کہا لاو ¿ڈ اسپیکروں کا استعمال بے تکی بات ہے انہوں نے جواب دیا چاہے مندر یا مسجد اگر آپ کسی تیوہار پر لاو ¿ڈ اسپیکر کا استعمال کررہے ہیں توٹھیک ہے لیکن اس کا استعمال روزانہ ٹھیک نہیں ہے ۔جاوید اختر نے کہا کہ ایک ہزار سال سے زیادہ وقت سے اذان بنا لاو ¿ڈ اسپیکر سے دی جارہی ہے اذان آپ کے مذہب کا اٹوٹ حصہ ہے ۔اس لاو ¿ڈ اسپیکر کا نہیں اس سے پہلے مارچ میں اختر نے کورونا وائر س وبا کے دوران مسجدوں کو بند کرنے کی حمایت کی تھی اور دلیل دی تھی کہ مدینہ تک بند ہے جاوید کے ان خیالات کا کٹر پسند مولوی پتہ نہیں نوٹس لیتے ہیں اور اس پر تنازعہ کھڑا کرسکتے ہیں لیکن جاوید کی اس بات کا کیا رد عمل ہوتا ہے ۔
(انل نریندر)

کورونا نے جو بدل ڈالی دکھ بانٹنے کی تشریح

کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے انفکشن کے بعد مریضوں کا بہترعلاج اور اموات شرح کو کم کرنا سرکار کی پہلی ترجیح بن گئی ہے حکومت اس بات سے زیادہ فکر مند نہیں ہے کہ مریض کتنے بڑھ رہے ہیں کتنے زیادہ ٹسٹ ہوںگے اتنے ہی متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھے گی لیکن تشویش اس بات کی ہونی چاہیے کہ اس سے موتوں پر کیسے کنٹرول کیا جا سکے ۔فی الحال ہر دن 3ہزار سے زیادہ مریض سامنے آرہے ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ٹھیک ہونے کی بھی شرح بڑھی ہے لاک ڈاو ¿ن 3میں ملی چھوٹ کا اثر اگلے ہفتہ سامنے آنے کے بعد ہر دن مریضوں کی تعداد دوگنا ہونا طے ہے اس لئے ضروری ہے لوگوں کو کورونا کے ساتھ ہی جینا سیکھناہوگا اس کے لئے لاک ڈاو ¿ن کے قواعد کی سختی کی تعمیل ہو سبھی ضروری احتیاط برتیں تبھی کورونا کو انتہا پرپہونچنے سے روکا جاسکتا ہے مریضوں کی تعداد بھلے ہی تیزی سے بڑھ رہی ہو لیکن ٹھیک بھی ہو رہے ہیں کورونا نے زندگی کی تشریح ہی بدل کر رکھ دی ہے اور عیادت اور جذبات کو بھی ظاہر کرنے کے طریقے میںبھی تبدیلی لا دی ہے وقت کے ساتھ حالات کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کیونکہ اگر تھوڑی سی بھی لاپرواہی ہوئی تو صحت کے لئے دشواری پیدا ہو جائے گی ۔دہلی کے راجیوری گارڈن میں ایک ایسا واقعہ ہوا ہے وہاں ایک عورت کے والد کا کناڈا میں دیہانت ہوگیا عورت اور اس کے شوہر کے قریبی لوگوں میں اپنی تعزیت ظاہر کرنے کے لئے جسمانی دوری بنائے رکھنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی مثال پیش کی ہے عورت اپنے گھروالوں کے ساتھ گھر سے باہر کھڑی ہوگئی اسی دورا ن ان کے قریبی رشتہ دار کارمیں آئے اور کار سے ہی اظہار دکھ ظاہر کرکے چلے اور زیادہ تر لوگوں نے سڑک پر اپنی کارمیںہی کاغذ پر اپنی بات لکھ کر عورت کو صبروتحمل سے حوصلہ بڑھایا ۔راجیوری گارڈن کی باشندہ چاندنی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہیں ان کے والد جوگند ر سنگھ آنند ان کی کناڈا میں کورونا سے موت ہوئی تھی اس سے پورا خاندان دکھی ہے ۔انہون نے دوستوں اور رشتے داروں سے کہا کہ اس وقت ملنا نا توآپ کے لئے مفاد میں ہے اور نا میرے لئے لیکن دوستوں کا دل نہیں مان رہا تھا اس کے باوجود آپ سبھی لوگ 7مئی کو میر ے گھر کے پاس کارسے آئیں ہم سبھی گیٹ پر رہیںگے اور آپ بنا کار سے اترے اپنی تعزیت کرکے چلے جائیں کیونکہ یہ وقت کا تقاضا ہے اور ہمیں حکومت کی گائڈ لائنس پر پوری طرح عمل کرنا ہے ساتھ ہی اس بات کی جانکاری بیٹ افسر کودے دی گئی ہے ۔اس طر ح چاندنی کے شوہر رمندیت کے دس دوست اپنی کار میں آئے اورتعزیت کرکے چلے گئے بہر حال اس دوران محکمہ صحت کے سبھی ہدایتوں کی تعمیل کی گئی ۔
(انل نریندر)

ہر حال میںہمیں اپنے گھر جانا ہے

پورے دیش کی سڑکوں پر گھر جانے والے مزدور کہیں سائیکل سے تو کہیں پیدل جاتے دکھائی دے رہے ہیں یہ کسی طرح اپنے آبائی شہر یاگاو ¿ں لوٹنا چاہتے ہیں ۔پولیس کی سختی ،دلالوں کالالچ اور گھر پہونچانے کا سرکاری دعویٰ سب کم پڑھے لکھے مزدوروں کی امیدوں پر پانی پھیر رہا ہے کسی کا پیسہ ختم ہے تو کسی کا راشن ،مزدور مجبور ہوکر سڑکوں پر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں یوپی گیٹ کے پاس غازی پور مندی روڈ پر اتوار کی صبح 11بجے قریب 15سائیکل سوار مزدور بھٹکتے نظر آئے ۔بدایوں جانے کے لئے بارڈر کراس کرنے کی کوشش کررہے تھے لیکن پولیس انہیں واپس بھیج رہی تھی ۔سائیکل سوار مزدور کامت نے بتایا کہ سبھی بدایوں کے ہیں اور دہلی میں مزدوری کرتے ہیں لاک ڈاو ¿ن میں گھر اور رشتے داروں سے پیسے مانگ کر گھر چلارہے تھے گھر جانے کے لئے رجسٹریشن کے بارے میں پتہ نہیں چلا تو سائیکل ہی سے گھر جانے کی سوچی ایسے ہی گورکھپور کا ایک اور باشندہ نملیش لاک ڈاو ¿ن میں 35دن لوری ٹرک لے کر حید رآباد کے پاس ہائی وے پر پھنسا رہا اور راشن ختم ہونے پر ٹرانپوٹر نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئیے ۔وملیش پیدل ہی کرناٹک کے علاقے گل برگہ کے لئے چل پڑا دودن میں کمرے پرپہونچا تو وہاں بچت کے روپئے سے پرانی سائیکل خریدی اور اس سے 18سو کلو میٹر دور اپنے گھر کے لئے نکل پڑا۔نو دن کے جد و جہد کے بعد گورکھپور کے بڑھیل گنج پہونچا جہاں آدھار کارڈ جانچنے کے بعد پولیس نے اسے ایک اسکول میں کوارنٹائن کروایا ۔یہ شخص کرناٹک کے گل برگ میں رہ کر ٹرک چلاتا ہے ۔19مارچ کو وہ گل برگہ سے سیمنٹ سے لدا ٹرک لے کر نکلا تھا تلنگانہ میں حید رآباد کے پاس وہ ٹرک لے کر لاک ڈاو ¿ن میں پھنس گیا اس نے ہائی وے پر ٹرک میں ہی کسی طرح 15دن گزارے اس درمیان گھانے پینے کا سامان اورپیسہ ختم ہوگی اس نے ٹرنسپوٹر کو اس کی جانکاری دی اور پیسے مانگے تو اس نے ہاتھ کھڑے کر دئیے اس کے بعد وہ ٹرک ہائی وے پر ہی کھڑا کرکے پیدل نکل پڑا ۔وملیش نے بتایا کہ جبل پور سے آگے بڑھا تھا کہ رات میں پچھلا ٹائر پنچر ہوگیا اور ہمت جواب دینے پر راستے میں محفوظ جگہ دیکھ کر بیٹھ گیا اور پھر پیدل چلنا شروع کر دیا اور ہائی وے پر پنچر بنانے والی دوکان ملی کافی منت کرنے پر اس نے پنچر جوڑ دیا ۔بہر حال یہ پرواسی مزدور اپنے گھر پہونچنے کے لئے ہر طرح کا خطرہ مول لینے پر تلے ہوئے ہین بس ان کی ایک ہی ضد ہے کہ گھر پہونچنا ہے چاہے جیسے ہی پہونچے ۔
(انل نریندر)

12 مئی 2020

2446جماعتیوں کو گھر جانے کا راستہ صاف

کوارنٹائن کی میعاد پوری کرنے کے بعد نظام الدین تبلیغی مرکز سے نکلے ہوئے لوگوں کے لئے گھر جانے کا راستہ صاف ہوگیا ہے اور نظام الدین مرکزمیں آئے مرکز سے سبھی کوارنٹائن میں رکھے گئے 2446لوگوں کو دہلی سرکار ان کے گھر بھیجے گی اس بارے میں دہلی سرکار نے احکامات جاری کر دئیے ہیں حالانکہ قاعدے توڑنے کے عوج میں جن لوگون پر کیس درج ہیں انہیں دہلی پولیس اپنے ساتھ لے جائے گی دہلی کے رہنے والے جماعتیوں کو چھوڑنے سے پہلے انتظامیہ ان کے پاس بنوا کر دے گی ان میں سے ایک ہزار لوگ کورونا سے متاثر پائے گئے جن کا مختلف اسپتالوں میں علاج کرایا گیا باقی کو نریلا کوارنٹائن سینٹرم یں بھیج دیا گیا ان میں سے 900لوگ دہلی کے ہیں باقی دیگر ریاستوں کے ہیں ۔واضح ہو کہ کوارنٹائن میعادمیں کچھ جماعتیوں نے قاعدوں کی خلاف ورزی کی تھی اور بد نظامی پھیلائی تھی ان کے خلاف کیس درج تھا ایسے لوگوں کو گھر نا بھیج کر دہلی پولیس کے حوالے کیا جائے گا پولیس آگے کی کاروائی کرے گی نظام الدین سے نکلے 576غیرملکی جماعتیوں کو دہلی پولیس کی حراست میں رکھا جائےگا اور ان سبھی کی رہائی وطن واپسی کے لئے وزارت داخلہ کی طرف سے حکم جاری کیا جائے گا اس کے علاوہ ان سبھی جماعتیوں کو نہیں چھوڑا جائے گا جن کو پولیس روکےگی ۔
(انل نریندر)

اب تو قبرستان میں دفن کرنے کےلئے جگہ نہیں بچی

راجدھانی دہلی میں کورونا سے ہونے والی موت اور دہلی سرکار کی رپورٹ الگ الگ تصویر بیان کررہی ہے ۔سرکار کے ہیلتھ بلوٹن کے مطابق دہلی میں 68لوگوں کی کورنا سے موت ہوئی ہے وہیں اکیلے آئی ٹی او دہلی گیٹ قبرستان میں ہی 86ڈیتھ باڈی کورونا پروٹوکال کے تحت دفنائی جا چکی ہیں ایسے میں دہلی سرکار کے ہیلتھ بلوٹن پہ سوال کھڑے ہونا لازمی ہے ۔مرنے والوں میں ہندو بھی ہوںگے اور قبرستان میں تو صرف مسلمانوں کو دفنایا جاتا ہے آئی ٹی اوقبرستان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ وہاں ڈیتھ باڈی دفنانے کے لئے جگہ بہت کم بچی ہے اس قبرستان کے منتظمین کا کہنا ہے سرکار دوسرے قبرستانوں میں ڈیتھ باڈی دفن کرنے کا انتظام کرے ۔قبرستان کی انتظامیہ کمیٹی کے سکریٹری حاجی فیاض الدین کا کہنا ہے کہ قبرستان 1924سے ہے اور 50ایکڑ زمین پر ہے اور یہاں کچھ جگہ کورونا سے مرنے والوں کے لئے رکھی گئی ہے اب تک کورونا سے 86ڈیتھ باڈی دفن کی جاچکی ہیں یہ ڈیتھ باڈی لوک نائک ،صفدرجنگ اسپتال سے لائی گئی تھیں اور یہ سبھی ڈیتھ باڈی کورونا پروٹوکال کے حساب سے دفن کی جارہی ہیں ہمارے پاس سب کے کاغذات ہیں ۔سرکار اب دوسرے قبرستانوں میں بھی دفنانے کا انتظام کرے کیونکہ اب اس قبرستان میں جگہ نہیں بچی ہے انہوں نے بتایا کہ ملینیم پارک میں واقع 14ایکڑ زمین تھی دہلی کے محکمہ صحت کے ایک سینئیر افسرکا کہنا ہے کہ اگر کوئی مریض مشتبہ ہوتا ہے تو اس کی موت ہو جاتی ہے تو اس کی لاش کا انتظام ویسے ہی کیا جاتا ہے جیسے کورونا پوزیٹو کے لئے کیا جاتاہے ۔محمد شمیم (سپر وائزر )نے بتایا کہ آئی سی یو میں بھرتی کئی مریضوں کے رشتہ دار قبرستان آچکے ہیں ایسے میں ایک مریض کے بارے میں بتایا کہ سریتا بہار میں ایک بڑا اسپتال اپولو ہے جہاں 32سالہ خاتون کا جگر ٹرانسپلانٹ ہونا تھا لیکن کورونا کے چلتے اس کی حالت بگڑ گئی ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ۔مہیلا وینٹی لیٹر پہ تھی بکنگ کرانے کے لئے رشتہ دار یہاں پہلے سے آئے ہوئے تھے لیکن قبرستان ایڈوانس بکنگ نہیں کرتا کورونا کے چلتے رشتہ داروں کودور رکھا جا رہا ہے ایسے میں لاشوں کو دفنانے کے لئے جے سی بی قبرستان میں رکھی گئی ہے جو ہر لاش کو اٹھانے اور دفنانے اور مٹی ڈالنے کے چھ ہزار روپئے لیتی ہے اور اس روپئے سے قبرستان انتظامیہ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔
(انل نریندر)

ایک اور کورونا وارئیر لڑتے لڑتے شہید ہوگیا

ساراشہر اس وقت صدمہ میں آگیا جب خبر آئی کہ جانباز نوجوان دہلی پولیس کا کانسٹبل امت کمار شرما کورونا وبا کا شکار ہوگیا اس جانباز سپاہی کی موت ہو جانے سے ان کے آبائی وطن سونی پت کے گاو ¿ں میں ماتم چھا گیا ان کی بیوی پوجا اور تین سالہ بیٹے ریان کا اپنے والد اور شوہر کو یا دکرکے برا حال ہے امت کمار کے سالے روی نے بتایا کہ امت کی موت ہوجانے کی خبر بہن کو دودن بعد یعنی شوموار کی رات کو دی گئی ۔پوجا اور امت کی شادی چار سال پہلے ہوئی تھی ۔پوجا دہلی میں کونٹرکٹ ٹیچر ہے لاک ڈاو ¿ن کے چلتے وہ گاو ¿ں میں رہ رہی تھی ۔امت بے حد اچھے انسان تھے سب کو اپنا دوست مانتے تھے ۔امت نے اتوار کو اپنے گھر والوں سے بات کی تھی اور یقین دلایاتھا کہ میں پوری طرح تندرست ہوں امت نے کچھ دن پہلے ہی اپنے تین سالہ بیٹے کا اسکول میں داخلہ کرایا تھا اور ان کی تمنا تھی کہ ان کابیٹا بڑا افسر بنے ۔پیر کو طبیعت خراب ہونے کے بعد امت نے گھر پر بیوی کو بتایا کہ انہوں نے کورونا کی جانچ کرانے کی بات کہی حالانکہ گھر کے کسی فرد کو امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی وائرس ان کی جان لے لیگا ۔سپاہی امت کے رشتہ دار سالے و دوستوں نے ان کے علاج پر سوال کھڑے کئے ہیں اورکہنا تھا کہ اگر وقت رہتے امت کو بھرتی کرلیا جاتا تو وہ شاید آج زندہ ہوتے ان کے ساتھ ہی نوین نے ان کا علاج کرانے کے لئے دس سے زیادہ اسپتالوں کے چکر لگائے ۔لیکن کسی اسپتال نے انہیں بھرتی نہیں کیا نوین نے جب کسی پولیس افسر کو فون کی تو انہوں نے آرایم ایل میں بھرتی کرانے کی بات کہی لیکن اس سے پہلے ہی ان کی موت ہوگئی اس سارے معاملے کی جانچ ہونی چاہیے ۔کیا امت کمارکا وقت رہتے علاج نہیں ہو سکا اس کا ذمہ دار کون؟امت کی موت کے بعد دہلی پولیس کمشنر ایس این سریواستو نے بڑے سطح پر جوانوں کی حفاظت کے لئے تبدیلیاں کیں ہیں تاکہ اس وبا کے دوران سڑکوں پر مورچے سنبھالے دہلی پولیس کے کسی بھی یودھا کے ساتھ ایسا نا ہو اگر پولیس کرمچاری کو ایسا لگتا ہے کہ اس کی طبیعت بگڑ رہی ہے تو وہ اپنے پولیس کمشنر یا یونٹ میں خبر کریں گے ۔ڈی سی پی کو جانکاری دیں گے۔ڈی سی پی ایسے معاملوں کی جانکاری نوڈل افسر کو دینی ہوگی اگر کسی پولیس ملازم کو ایسا لگتا ہے کہ اس میں کورونا کے اثرات ہو سکتے ہیں توا س کے سینٹر دہلی میں ایک پورا ہوٹل بک کیاگیا ہے جہاں جاکر پولیس ملازم خود کو کوارنٹائن کر سکتے ہیں جانچ کے لئے حیدر پورمیں دہلی سرکار کے تعاون سے ایک ٹسٹنگ سینٹر کھولا گیا ہے یہ اچھی بات ہے کہ دہلی کے مکھیہ منتری اروند کیجریوال نے امت کے خاندان کو ایک کروڑ روپئے رقم دینے کا اعلان کیا ہے ۔ہم امت جانباز کو سلام کرتے ہیں ۔جے ہند۔
(انل نریندر)

10 مئی 2020

ای رکشا ڈرائیوروں کو دو وقت کی روزی روٹی نصیب نہیں

دلشاد کالونی میں رہنے والے رام پرساد ای رکشا چلاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے گھر چلانا مشکل ہوگیا ہے ۔کہتے ہیں جب وہ میٹرو دلشاد گارڈن اسٹیشن سے اور جھلمل سے سواری لیتا تھا او ر جی ٹی وی و سیما پوری شالی مار گارڈن پہونچاتا تھا انہوں نے رکشا خریدنے کے لئے اپنے پیسا ادھار لیاتھا لیکن اب تالابندی کے چلتے باہر نکلنا مشکل ہے جس وجہ سے گزر بسر ہونا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ کام بند ہے بہت سے ای رکشا ڈرائیوروں کا بھی یہی حال ہے ان کا کہنا ہے جو ان کے پاس پیسہ جمع تھا وہ ختم ہو گیا ہے اور وہ ادھار لیکر گزارا کررہے تھے لیکن اب قرضہ کافی بڑھ گیا ہے ۔تغلق آباد علاقے کے رہنے والے رکشا ڈرائیور ہیمنت کمار کی بھی یہی کہانی ہے ان کاکہنا ہے کہ وہ سرکار سے مالی مدد کی امید لگائے ہوئے ہیں 12گھنٹے ای رکشا چلانے پر 400سے500کی بچت ہوتی تھی ۔اب ای رکشا نا چلانے کی وجہ سے بیٹری و دیگر سامان خراب ہونے کا ڈر ستا رہا ہے ۔پہلے سے ہی بیٹری کی قسط جمع نہیں ہو رہی ہے اگر خراب ہو گئی تو 30000ہزار کا بوجھ بڑھ جائیگا ۔ایسے ہی بہت سے رکشا چالک بھی اسی پریشانی کا شکارہیں اور بہت سوں نے تو ای رکشا کا دھندہ چھوڑ کر دوسرا کام شروع کردیا ہے ۔حالا ت بہت خراب ہیں سرکار کو ان کی طرف تو جہ دینی چاہیے روزانہ کمانے خانے والوں کی لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے کافی مالی حالت خراب ہے ۔
(انل نریندر)

آتنکی کمانڈروں کو چن چن کر ماریں گے

جموں کشمیر میں پچھلے کچھ عرصے سے جاری دہشت گردی کی سرگرمیوں کا کرارا جواب دیتے ہوئے ہماری سکیورٹی فورسز نے حزب المجاہدین کے بڑے کمانڈر اور پوسٹر بوائے ریاض نائیکو سمیت کچھ دہشت گردوں کو جس طرح مار گرایا ہے وہ واقعی ایک بڑی کامیابی ہے دراصل کوڈ19-کے خلاف لڑائی میں بھارت کی مصروفیت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش میں پڑوسی پاکستان نے صرف جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رکھی ہے اور اس نے دہشت گردوں کی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں اتوار کو ہندواڑا میں آتنکیوں سے لوہا لیتے ہوئے کرنل آسو توش سرما سمیت پانچ جوان شہید ہو گئے تھے اس کا صحیح جواب دیتے ہوئے ہمارے سکیورٹی جوانوں نے ریاض ناکو کو ٹھکانے لگا کر حزب المجاہدین کی کمر توڑ دی ہے یہ ایسا کارنامہ ہے جس کا اثر کشمیر میں پڑے گا دیش میں آتنکباد میں لگام کسنے میں مدد ملے گی ۔برہان وانی گروپ کا سرغنہ نائیکو جولائی 2017میں حزب الکے سینئیر لیڈر شپ کے رول میں تھا برہان وانی کی طرح ہی دہشت گردوں کیلئے پوسٹر ٹوائے بنا تھا آیڈیو ویڈیو میں اپنی بات رکھنے کے اس کے طریقوں میں نوجوان دہشت گردی کی طرف راغب ہوتے تھے اسوجہ سے اس نے اپنے درپردہ و برائے راست حمایتیوں کی فوج بنا لی تھی وہ ایک ایسا دہشت گرد تھا جس نے پولیس والوں کے خاندانوں کو اغوا سے لیکر ان کے قتل کو اپنی اہم حکمت عملی اپنائی تھی اس نے اپیل کی تھی جموں کشمیر کے لوگ پولیس کی نوکری چھوڑ دیں ایسا نہ کرنے پر ایک باقاعدہ مہم بھی چلائی تھی یہی وجہ ہے کہ اس موت ریاست کی پولیس کے لئے راحت کی سانس لینے و جشن منانے کا سبب بن گئی ہے ۔جس طرح سے اس کے آبائی گاو ¿ں میںہی گھیر کر ماراگیا اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ سکیورٹی فورس کا خفیہ مشینری بھی پہلے سے بہت ہوئی ہے ۔چیف ڈیفنس چیئرمین جنرل وپن راوت نے کہا سکیورٹی فورس کی ترجیح ہے آتنکی کمانڈروں کو چن چن کر ختم کرنا ہے بیشک یہ ہماری سکیورٹی فورس کی زبردست کامیابی ہے اور کرنل آشوتوش شرما وان کے ساتھیوں کا بدلہ بھی ہے لیکن ہماری چوکسی پہلے سے زیادہ ہونی چاہیے ۔برف پگلھنے لگی ہے اور گھس پیٹ بڑھے گی اس شاندار کارنامے پرسکیورٹی فورسز کو مبار ک باد۔
(انل نریندر)

دم گھٹا ۔۔جوجہا ںتھا وہیں گر گیا

آندھرا پردیش کے وینکٹ پورم گاو ¿ ں میں قائم ایل جی پولیور کے کیمیکل کارخانے سے گیس اخراج جتنا تشویش ناک ہے اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے گیس اخراج سے لوگوں کی موت نے ایک بار پھر بھوپال گیس ٹریجڈی کی یاد تازہ کر دی ہے بدھوار کو دیررات کارخانے سے گیس کا اخراج شروع ہوا اس وقت جو لوگ کارخانے میں تعینات تھے ان پر تو اثر ہواہی بلکہ آس پاس قریب 3کلو میٹرکے دارئرے میں اس کا اثر دیکھاگیا دم گھٹنے سے لوگ دہشت میں تھے کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا بھاگ کر جائیںتو کہاں جائیں ۔ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو اندھیرے میں جاگرے کچھ کی سانس چل رہی تھی موت آنکھوں کے آگے کھڑی تھی چاروں طرف افرا تفری کا ماحول تھا لوگ دہشت میں آگئے کہ کہیں کورونا ہوا میں تونہیں پھیل گیا ۔رات کے اندھیرے میں یہی لوگ جہاں جیسے تھے وہاںسے بھاگ کھڑے ہوئے اور 4کلومٹر کے دائرے میں جاپہونچے وہاں افرا تفری مچ گئی ۔راستے میں ہی کچھ لوگ گرتے جا رہے تھے کئی جگہ پر لوگ بے ہوس پڑے تھے اور بہت سے جانور مرے ہوئے نظر آئے ۔بچوں کاندھوں پر ڈال کر لوگ اسپتال کی طرف بھاگ رہے تھے ۔بھرتی مریضوں میں بڑی تعداد میںبچے بھی شامل تھے اور حادثہ کی جگہ تک پہونچے میں کافی دشواری ہوئی ۔بہت سے لوگوں کو کارخانے کے دروازے توڑ کر نکلنا پڑا ۔گیس کے پلانٹ سے گیس رسا ہونے کی وجہ سے 8سال کے بچے سمیت 11لوگوں کی موت ہو گئی اور بہت سے لوگ ابھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں 20لوگ وینٹی لیٹر سپورٹ پر ہیں ریاستی حکومت نے واقعہ کی جانچ کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی ہے ۔وساکھا پٹنم پولیس نے کارخانے کے خلاف مجرمانہ لاپرواہی کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس میں غیر ارادی قتل اور لاپرواہی موت سے متعلق کئی دفعات لگائی گئی ہیں آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے خود اس کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی اور مرکزی سرکار کو نوٹس جاری کئے ہیں ایسے انڈسٹریل حادثہ کی وجہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں یوں تو انتظامیہ نے کارخانہ منجمنٹ کے خلاف ایف آئی آردرج کرا دی ہے اور انتظامیہ اپنے حق میں معمولی چوک اور انسانی بھول جیس دلیلیں دے کر بچنے کی کوشش کر سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ صنعتی سکیورٹی کے تقاضوں کے معاملے میں لاپرواہی پر لگام کیوں نہیں لگتی ؟جن کارخانوں میں زہریلی گیسوں کا استعمال یا پیدا وار ہوتا ہے وہاں سکیورٹی کولیکر زیادہ ہوشیاری کی ضرورت ہے ۔بھوپال گیس ٹریجڈی کے تجربات کودیکھتے ہوئے اس کے لئے سخٹ گائڈ لائنس طے ہوئی تھیں مگر کارخانہ انتظامیہ اکثر معمولی پیسہ بچانے کے لئے لوگوں کی سکیورٹی اور انتظامات کو نظر انداز کرتا رہا ہے جہاں ایسی خطرناک گیسوں کا استعمال یا پیداوارہوتی ہے وہاں گیس اخراج وغیرہ کی صورت میں وارننگ سسٹم جو آٹومیٹک ہوں لگانا ضروری ہے پھر وشاکھا پٹنم کارخانہ میں گیس کا وسیع پیمانے پر اخراج ہو گیا کیسے انتظامیہ کو اس کی بھنک تک نہیں لگ پائی ؟آخر لوگوں کی جان کی قیمت پر ایسی لاپرواہی ہو اور من مانی کو کب تک نظر انداز کیا جاتا رہے گا ؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...